Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پیکاایکٹ، کیا آزادی صحافت کو دبانے کی کوشش ہے؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    پیکاایکٹ، کیا آزادی صحافت کو دبانے کی کوشش ہے؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    پیکا او پیکا تیری کون سی کل سیدھی۔ پارلیمنٹ ہائوس میں جمہوریت کے علمبرداروں نے مشترکہ طور پر پہلے قومی اسمبلی ،پھر سینٹ میں ایک قانون پاس کرکے صدر ہائوس بھجوایا۔ اب وہ قانون بن گیا ۔ ملک بھر کے صحافی سراپا احتجاج ہیں۔ التجا ہی کی جا سکتی ہے کہ لکھنے والے اور بولنے والوں کو نہ ستائیں ۔ ہر صحافی فروخت کنندہ نہیں۔ گو کہ صحافیوں کی صفوں میں بھی ایسی مخلوق داخل ہو چکی ہے جو قومی فریضہ سے کوسوں دور ہیں۔ا یسے لوگوں کی اکثریت سوشل میڈیا پر نظر آتی ہے۔جانبداری میڈیا کے لئے زہر قاتل ہے۔ میڈیا کاکوئی فرد جب وہ جانبدار بن گیا تو وہ ختم ہو گیا، یعنی اس نے اپنی حیثیت اور وقار کو ختم کردیا ۔ میڈیا کی آزادی کے لئے ماضی میں بڑی قربانیاں دی گئی ہیں ۔ماضی میں قومی مسائل اور تحریکوں میں میڈیا کا کردار بہت اہم رہاہے۔ لیکن جب پیسہ بولنے اور لکھنے لگتا ہے تو پھر سوالیہ نشان میڈیا پر آتا ہے۔ آج میڈیا کو لکھنے اور بولنے کی آزادی ہے ۔

    قربانیو ں کی لمبی کہانی ہے ایک ا یسا وقت بھی آیا ان پر کوڑے برسائے گئے۔ جیلوں میں بند کردیا گیا۔ اظہار رائے کی آج جو آزادی ہے اس کا کریڈٹ ماضی کے اُن صحافیوں کو جاتا ہے جنہوں نے قربانیاں دیں۔ اُن صحافیوں کی ایک لمبی کہانی ہے ۔ پیکا قانون بنانے والوں کو یاد رکھنا چاہیئے میڈیا آپ کا اُس وقت تک کچھ بگاڑ نہیں سکتا جب تک آپ خود اپنے بگاڑ پر آمادہ نہ ہوں۔یہ بھی حقیقت ہے صحافت کا گلہ دبانے والے خود اپنے پھندے تیار کررہے ہوتے ہیں۔

    نئے امریکی صدر ٹرمپ اور اُن کی انتظامیہ کی طرف سے آنے والے دنوں میں بھارت کے لئے اچھی خبریں نہیں ہیں ۔ روسی صدرپیوٹن جو برکس کی میٹنگ بلائی تھی اس میں بھارت بھی شامل تھا۔ اُ س میٹنگ کا مطلب امریکہ کو ایشیا سے باہر نکالنا تھا یعنی ڈالر کو ختم کیا جائے ۔ روس کو کامیابی تو حاصل نہ ہوسکی تاہم مودی کی لومڑی کی چال امریکہ اور خاص طور پر ٹرمپ یہ جان چکے ہیں کہ مودی امریکہ اور یورپ کو روس کے ساتھ مل کر کمزورکرنے میں شامل رہا۔ ٹرمپ کے آنے سے امریکہ کو ایشیا سے دورکرنے والا روس خود دور جاتے دکھائی دینے لگا ہے۔ چین نارتھ کوریا کا حال دیکھ کر امریکہ کے خلاف کسی بھی سازش میں جانے کا ارادہ نہیں کرے گا۔ افغانستان اور ایران کو لے کر پاکستان کا کردار اہم ہوگا۔ ویسے بھی سعودی عرب امریکہ میں ٹرمپ کے کہنے پر 6 سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔ پاکستان اور سعودی عرب کے مستحکم تعلقات ہیں۔ صدر ٹرمپ لاطینی امریکہ یورپ اور مشرق وسطٰی کے نقشوں میں تبدیلی کرکے دنیا کو چونکا دے گا۔ صدر ٹرمپ صدارتی کرسی پر بیٹھ کر گھوم گھوم کر فائلیں دیکھ رہے ہیں۔ اور امریکہ فسٹ اور امریکہ گریٹ بنانے کا نعرہ لگا رہے ہیں

  • دوسروں کیلئے بنایا گیا پھندہ، اپنے ہی گلے میں آگیا

    دوسروں کیلئے بنایا گیا پھندہ، اپنے ہی گلے میں آگیا

    دوسروں کیلئے بنایا گیا پھندہ، اپنے ہی گلے میں آگیا
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    پاکستان کے سیاسی منظرنامے میں حالیہ تبدیلیوں نے ایک نئی سمت اختیار کرلی ہے اور ایک طرف جہاں سیاسی استحکام کی علامات دکھائی دے رہی ہیں تو وہیں دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) اور اس کی قیادت کی سیاسی مشکلات اور چیلنجز میں مزید اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اس تمام تر صورتحال میں ایک دلچسپ پہلو یہ سامنے آ رہا ہے کہ وہ پھندہ جو کبھی پی ٹی آئی نے حکومت میں ہوتے ہوئے سیاسی مخالفین کے لیے تیار کیا تھا اوروہی پھندہ اب پی ٹی آئی اور اس کے بانی کے لیے خطرہ بنتا جا رہا ہے۔

    اس وقت جب پاکستانی معیشت کے بارے میں مثبت خبریں آ رہی ہیں اور امریکی سرمایہ کاروں کے ایک وفدنے پاکستان میں اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کی خواہش ظاہر کی ہے تو یہ ایک ایسا موقع ہے جس کا فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کے ساتھ ملاقات کے دوران جینٹری بیچ کی قیادت میں امریکی سرمایہ کاروں نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے شعبوں کی نشاندہی کی ہے جن میں مصنوعی ذہانت، توانائی، معدنیات اور رئیل اسٹیٹ شامل ہیں۔

    جینٹری بیچ نے اس بات کو واضح کیا کہ پاکستان کی موجودہ قیادت اور نئی امریکی انتظامیہ کی سوچ میں ہم آہنگی ہے اور پاکستان میں امریکہ کی سرمایہ کاری کی بڑھتی ہوئی دلچسپی نئی سیاسی حقیقت کا مظہر ہے۔یہ تبدیلی نہ صرف اقتصادی لحاظ سے اہم ہے بلکہ اس نے پاکستانی سیاسی جماعتوں کے لیے بھی نئے سوالات پیدا کیے ہیں۔ پی ٹی آئی کی قیادت نے امریکی انتخابات کے بعد ٹرمپ انتظامیہ سے بہت سی سیاسی توقعات وابستہ کی تھیں، لیکن جینٹری بیچ کے اس دورے نے ان تمام امیدوں کو ختم کر دیا ہے .

    امریکہ کے اس نئے رخ سے پاکستان کی اقتصادی ترقی اور سرمایہ کاری کی نئی راہیں کھل جائیں گی ۔ لیکن شہبازشریف کی حکومت سے ٹرمپ انتظامیہ کے روابط سے پاکستان تحریک انصاف کے لیے یہ ایک نیا چیلنج بن گیا ہے۔پی ٹی آئی کی قیادت اس وقت ایک دائرے میں پھنس چکی ہے جہاں اس کے لیے دو آپشن ہیں، دونوں ہی سیاسی طور پربہت مشکل ہیں۔ اگر وہ حکومت کے ساتھ کسی معاہدے یا ڈیل کی طرف بڑھتے ہیں تو اس کا نتیجہ سیاسی موت کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ دوسری جانب اگر وہ ڈیل سے انکار کرتے ہیں توعمران خان اور ان کی اہلیہ کو طویل عرصہ جیل میں گزارنا پڑ سکتا ہے۔

    یہ وہ پھندا ہے جو پی ٹی آئی نے اپنے مخالفین کے لیے تیار کیا تھا اور اب یہ ان کے اپنے گلے میں آچکا ہے کیونکہ پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان مذاکراتی عمل میں پیچیدگیاں آ چکی ہیں اور مذاکرات تقریباََ ختم ہوچکے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف نے 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن نہ بنائے جانے پر مذاکراتی عمل ختم کرنے کا اعلان کر دیا، منگل کے روز حکومتی مذاکراتی ٹیم انتظار کرتی رہی مگر پاکستان تحریک انصاف کے اراکین نہ پہنچے۔ پاکستان تحریک انصاف کے وفد نے مذاکراتی عمل کا حصہ بننے کی بجائے مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی اور گرینڈ الائنس بنانے پر مشاورت شروع کی۔لیکن اس کے باوجود یہ صورتحال پی ٹی آئی کے لیے مزید مشکلات پیدا کر رہی ہے۔

    یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی انتشاری سیاست جو ہمیشہ مخالفین کو دبا ئومیں رکھنے اور اپنی حکومت کی طاقت دکھانے کے لیے استعمال کی گئی، اب وہی سیاست عمران خان اور ان کی جماعت کے لیے ایک بھاری بوجھ بن چکی ہے۔ دوسروں کے لیے بنایا گیا پھندہ اب ان کے اپنے گلے میں آچکا ہے اور ان کے سامنے ایک سنگین سیاسی بحران ہے۔ یہ وہ پھندہ ہے جو انہوں نے اپنے مخالفین کے لیے تیار کیا تھا، لیکن اب یہ ان کی سیاسی تقدیر کا فیصلہ کرنے والا ثابت ہو رہا ہے۔

    پاکستان کی موجودہ سیاسی اور اقتصادی صورتحال میں عمران خان اور ان کی جماعت کو اپنی سابقہ حکمت عملی پر نظرثانی کرنا ہوگی۔ اگر وہ اسی روش پر چلتے ہیں تو ان کے لیے مشکلات اور چیلنجز میں مزید اضافہ ہوگا اور اگر وہ مذاکرات یا معاہدے کی طرف قدم بڑھاتے ہیں، تو ان کے لیے سیاسی موت کے دروازے کھل سکتے ہیں۔ ان کے لیے یہ وقت ایک فیصلہ کن لمحہ ہے، جہاں ان کی سیاست کا مستقبل ان کے اپنے ہاتھ میں ہے اور یہ وقت ہی بتائے گا کہ وہ اس پھندے سے کیسے نکلتے ہیں اور اپنے سیاسی وجود کو کس طرح بچاتے ہیں۔

  • انسداد پولیو مہم کی کامیابی .تحریر: جان محمد رمضان

    انسداد پولیو مہم کی کامیابی .تحریر: جان محمد رمضان

    ستمبر 2024 سے اب تک پاکستان میں پولیو کے کیسز میں ایک نمایاں کمی آئی ہے، جو کہ انسداد پولیو مہم کی کامیاب حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔ اس مثبت تبدیلی کا اثر پورے ملک میں دیکھا جا رہا ہے، اور اس نے عوامی سطح پر پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے حکومت کے عزم اور کوششوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔پولیو ایک مہلک وائرس ہے جو بچوں کو عمر بھر کے لیے معذور کر سکتا ہے۔ پاکستان جیسے ممالک میں جہاں پولیو کا پھیلاؤ ایک سنگین مسئلہ رہا ہے، وہاں اس وائرس کی روک تھام کے لیے کئی سالوں سے کوششیں کی جا رہی ہیں۔ لیکن 2024 کے آخری حصے میں پولیو کیسز میں کمی نے انسداد پولیو مہم کی مؤثریت کو ثابت کیا ہے۔پاکستان کے مختلف صوبوں میں، خاص طور پر بلوچستان، سندھ اور جنوبی خیبر پختونخوا میں پولیو کیسز میں نمایاں کمی دیکھنے کو ملی ہے۔ اس کمی کا تعلق ان علاقوں میں انسداد پولیو مہم کی بھرپور کاوشوں سے ہے جہاں پہلے پولیو کے کیسز زیادہ ریکارڈ ہوئے تھے۔

    پاکستان کے وزیراعظم نے پولیو کے کیسز میں کمی اور پولیو کی بروقت شناخت کے لیے تمام صوبوں کی انتظامیہ کی کاوشوں کو سراہا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پولیو کیسز میں یہ کمی ملک بھر میں حکومت کے عزم، انتظامیہ کی محنت، اور عوام کی حمایت کا نتیجہ ہے۔ اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں پولیو کا مکمل خاتمہ صرف وفاق اور صوبوں کے باہمی تعاون سے ہی ممکن ہو گا۔پولیو کیسز میں کمی کو صوبوں کی انتظامیہ کی انتھک محنت کا نتیجہ قرار دیا گیا ہے۔ مختلف صوبوں کی حکومتوں نے انسداد پولیو مہم کو اپنے اپنے علاقوں میں بھرپور طریقے سے جاری رکھا اور بچوں تک ویکسین پہنچانے کے لیے ہر ممکن تدابیر اختیار کیں۔ صوبوں نے اپنی نگرانی کے نظام کو مضبوط بنایا اور پولیو کے وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے موثر اقدامات کیے۔

    پاکستان میں انسداد پولیو مہم کے تمام پہلوؤں کی نگرانی کے لیے ایک جدید آئی ٹی ڈیش بورڈ کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس ڈیش بورڈ کے ذریعے حکام پولیو مہم کی ترقی، ویکسینیشن کی شرح اور کیسز کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھتے ہیں۔ اس کا مقصد مہم کی ہر سطح پر بہتر کارکردگی کو یقینی بنانا اور فوری طور پر کسی بھی چیلنج کا حل تلاش کرنا ہے۔سال 2025 کے آغاز میں پولیو سے متاثرہ اضلاع میں پولیو کیسز میں مزید کمی دیکھنے کو ملی ہے۔ خاص طور پر بلوچستان، سندھ اور جنوبی خیبر پختونخوا میں پولیو کیسز میں واضح کمی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ انسداد پولیو مہم کی حکمت عملی کامیاب جا رہی ہے۔ اس کامیابی کے پیچھے حکومتی عزم اور عوامی تعاون کا بڑا ہاتھ ہے۔

    پاکستان میں پولیو کے کیسز میں کمی ایک مثبت قدم ہے اور یہ پاکستان کے عوام، حکومت اور بین الاقوامی اداروں کی محنت کا نتیجہ ہے۔ انسداد پولیو مہم کی مؤثریت کی بدولت پاکستان پولیو کے خاتمے کے قریب پہنچ رہا ہے۔ تاہم، اس کے مکمل خاتمے کے لیے ابھی مزید محنت کی ضرورت ہے اور عوام کو مسلسل آگاہی فراہم کرنا ضروری ہے۔پاکستان کے تمام حصوں میں پولیو کے خاتمے کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان تعاون کی اہمیت واضح ہو چکی ہے۔ ہم سب کی اجتماعی کوششوں سے ہی پولیو کو پاکستان سے مکمل طور پر ختم کیا جا سکتا ہے۔

    jaan

  • "نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن’.تحریر اعجازالحق عثمانی

    "نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن’.تحریر اعجازالحق عثمانی

    پاکستانی سیاست میں جو نظر آتا ہے، وہ حقیقت نہیں ہوتی، اور جو حقیقت ہوتی ہے، وہ نظر نہیں آتی۔ آج کل ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے، اسے دیکھ کر بس یہی کہا جا سکتا ہے کہ یہ بازی عشق کی بازی ہے، جو ہارے گا، وہ جیتے گا، اور جو جیتے گا، وہ ہارے گا۔
    عمران خان جیل میں ہیں، ان کی جماعت کٹی پھٹی حالت میں ہے، عدالتوں میں مقدمے، پارٹی میں بغاوتیں، اور مخالفین کا دباؤ۔۔۔۔۔۔لیکن پھر بھی وہ ملکی سیاست کے سب سے بڑے کھلاڑی ہیں۔ سیاسی میدان میں سب سے زیادہ اسکور اس وقت بھی ان کے بیانیے کا ہی ہے۔چاہے عدالتوں کے فیصلے ان کے خلاف آئیں، چاہے پارٹی پر پابندیاں لگیں، عوام کے دلوں میں ان کی جگہ اب بھی قائم ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا وہ اپنی اس مقبولیت کو بچا پائیں گے؟ یا پھر اس کہانی کا انجام وہی ہوگا، جو اسٹیبلشمنٹ چاہتی ہے؟
    دوسری طرف، وہی پرانا کھیل جاری ہے۔ مذاکرات کی خبریں گرم ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ بات چیت ہو رہی ہے، کوئی درمیانی راستہ نکالا جا رہا ہے، لیکن سب جانتے ہیں کہ حکومت محض ایک مہرہ ہے۔ اصل فیصلہ کہیں اور ہوگا۔ جنہیں مذاکرات کرنا ہیں، وہ ٹیبل پر نہیں بیٹھے، اور جو بیٹھے ہیں، وہ اصل فیصلے کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ سب کچھ طے شدہ ہے، بس اسکرپٹ پر عمل ہو رہا ہے۔ اور سنا ہے رائیٹر اب سکرپٹ بدلنے لگا ہے۔

    عمران خان جانتے ہیں کہ اگر وہ جیل سے باہر آتے ہیں تو عوام یہ سمجھے گی، کہ یہ کسی معاہدے کا نتیجہ ہے، تو ان کا سارا بیانیہ برباد ہو جائے گا۔ وہ اب تک ایک مزاحمت کار، ایک نظریاتی لیڈر، اور "حقیقی آزادی” کی علامت بن چکے ہیں۔ لیکن اگر یہی شخص ایک دن خاموشی سے باہر آتا ہے، کیسز ختم ہو جاتے ہیں، اور سیاست میں نرمی آ جاتی ہے، تو کیا یہ سب اتفاق ہوگا؟ نہیں! یہ وہی سیاست ہوگی، جو سالہا سال سے چل رہی ہے۔

    لیکن کھیل صرف عمران خان کے گرد نہیں گھوم رہا۔ اسٹیبلشمنٹ بھی ایک امتحان میں ہے۔ اگر عمران خان کو مکمل دیوار سے لگا دیا جاتا ہے، تو ملک میں بے چینی بڑھے گی۔ اگر انہیں کھلی آزادی دی جاتی ہے، تو وہ پہلے سے زیادہ طاقتور بن کر ابھریں گے۔ اس صورتحال میں درمیانی راستہ نکالنا سب سے ضروری مگر ایک مشکل کام ہے۔ اسٹیبلشمنٹ چاہتی ہے کہ عمران خان باہر بھی آ جائیں، لیکن یہ تاثر بھی نہ جائے کہ وہ جیت گئے ہیں۔ دوسری طرف، عمران خان یہ چاہتے ہیں کہ وہ باہر آئیں، لیکن ایسا نہ لگے کہ وہ کسی ڈیل کے تحت آئے ہیں۔
    یہ وہ مقام ہے جہاں سیاست اور طاقت کا اصل کھیل شروع ہوتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں کچھ فیصلے پس پردہ کیے جاتے ہیں، اور عوام کو ایک اور کہانی سنا دی جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس بار یہ کہانی کس کے حق میں لکھی جائے گی؟ کیا عمران خان ایک نئے انداز میں سیاست میں واپسی کریں گے؟ یا یہ ایک اور سبق ہوگا، جو پاکستانی سیاست کی کتاب میں شامل کر دیا جائے گا؟

    یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ اگر واقعی ایک "سیاسی مفاہمت” ہونے جا رہی ہے، تو اس کے پیچھے محرکات کیا ہیں؟ کیا عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ دونوں ایک دوسرے کے بغیر نہیں چل سکتے؟ یا پھر پس پردہ کوئی ایسا دباؤ ہے جو ان دونوں کو دوبارہ کسی نہ کسی شکل میں اکٹھا کر رہا ہے؟ کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ عمران خان کو دیوار سے لگانے کی حکمتِ عملی مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ عوام کا ردعمل، عدالتی فیصلے، اور بین الاقوامی دباؤ، سب نے مل کر ایک ایسی فضا بنا دی ہے جہاں عمران خان کو سیاست سے مکمل طور پر بے دخل کرنا ممکن نہیں رہا۔ دوسری طرف، اسٹیبلشمنٹ یہ بھی نہیں چاہتی کہ عمران خان پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر سامنے آئیں۔

    عمران خان کی سیاست میں ایک چیز واضح ہے کہ وہ ایک مقبول لیڈر ہیں، لیکن ان کی مقبولیت ان کی حکمتِ عملی کے ساتھ جُڑی ہوئی ہے۔ اگر وہ اپنے حامیوں کو یہ یقین دلا پاتے ہیں کہ وہ بغیر کسی ڈیل کے باہر آئے ہیں، تو ان کی سیاست مزید مضبوط ہو گی۔ لیکن اگر عوام کو ذرا سا بھی یہ تاثر گیا کہ عمران خان نے کسی ڈیل کے نتیجے میں اپنی مشکلات کم کی ہیں، تو ان کے لیے اپنی موجودہ مقبولیت کو برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ یہی وہ توازن ہے جسے عمران خان اور ان کے قریبی ساتھی سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    دوسری طرف، اسٹیبلشمنٹ کے لیے بھی یہ ایک نازک موڑ ہے۔ اگر عمران خان بغیر کسی واضح سمجھوتے کے باہر آتے ہیں، تو ان کا بیانیہ مزید مضبوط ہو گا۔ لیکن اگر انہیں کسی شرط کے ساتھ ریلیف دیا جاتا ہے، تو عوام میں یہ تاثر جائے گا کہ یہ بھی وہی پرانی سیاسی بساط ہے، جہاں سب آخر میں ایک ہی میز پر آ کر بیٹھ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پس پردہ بہت کچھ چل رہا ہے، اور عوام کو صرف اتنا دکھایا جا رہا ہے جتنا ضروری سمجھا جا رہا ہے۔ یہاں ایک اور سوال بھی پیدا ہوتا ہے: اگر عمران خان واقعی باہر آ جاتے ہیں، تو کیا وہ دوبارہ اُسی انداز میں سیاست کر سکیں گے؟ یا پھر ان کے لیے ایسے حالات بنا دیے جائیں گے جہاں وہ محدود ہو کر رہ جائیں؟ کیا ان کی جماعت کو مکمل طور پر بحال ہونے دیا جائے گا؟ کیا انہیں الیکشن میں آزادانہ حصہ لینے دیا جائے گا؟ یا پھر وہ ایک کنٹرولڈ سیاست کا حصہ بننے پر مجبور ہو جائیں گے؟ یہ تمام سوالات اس وقت پاکستانی سیاست کے گرد گھوم رہے ہیں، لیکن ان کے جوابات آنے والا وقت ہی دے سکتا ہے۔

    کھیل جاری ہے، اسکرپٹ پر کام ہو رہا ہے، کردار اپنے اپنے ڈائیلاگ یاد کر رہے ہیں۔ بس پردہ اٹھنے کی دیر ہے، دیکھتے ہیں کہ اس بار پردے پر کون ہیرو بن کر آتا ہے

  • گنویری والا: ہڑپہ وموہنجودڑو سے بھی قدیم سات ہزار سالہ سرائیکی تہذیب کا مرکز(دوسری قسط)

    گنویری والا: ہڑپہ وموہنجودڑو سے بھی قدیم سات ہزار سالہ سرائیکی تہذیب کا مرکز(دوسری قسط)

    گنویری والا: ہڑپہ وموہنجودڑو سے بھی قدیم سات ہزار سالہ سرائیکی تہذیب کا مرکز
    تحقیق و تحریر:ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    altafkhandahir@gmail.com
    خلاصہ :یہ آرٹیکل سرائیکی خطے کی قدیم تہذیب و تمدن، خاص طور پر گنویری والا شہر کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ گنویری والا، جو ہڑپہ اور موہنجودڑو سے قدیم ہے، وادی ہاکڑہ کے کنارے واقع ایک عظیم تاریخی مرکز رہا ہے۔ آرٹیکل میں علم آثار قدیمہ کی اہمیت بیان کی گئی ہے، جو قدیم تہذیبوں اور تمدن کے مطالعے کا ذریعہ ہے اور یہ آرٹیکل تین اقساط پر مشتمل ہے .اس سلسلے کی دوسری قسط ملاحظہ فرمائیں

    سرائیکی قدیم چولستان کے تاریخی تمدنی مرکزی شہر گنویری والا کی دریافت اور کھدائی

    دوسری قسط کا خلاصہ
    زمین میں دفن شہر گنویری والا چولستان کی ایک سات ہزار سال پرانی سرائیکی تہذیب وتمدن کا مرکز ہے۔1970ء تا 1975ء میں ڈاکٹر رفیق مغل کی قیادت میں اس کی کھدائی کے لیے ابتدائی کاوشیں سامنے آئیں۔جس سے ثابت ہوا کہ یہ شہر مقامی سرائیکی تہذیب و ثقافت اور زبان کا آئینہ کا ہے۔یہاں کی قدیم دستکاری،زیورات اور مٹی کے برتن دنیا بھر میں گئے۔ تحقیق سے چولستان کی تہذیب کو پانچ ادوار میں تقسیم کیا گیا، قبل از ہڑپائی، ہاکڑہ دور، ابتدائی ہڑپائی دور، عروج یافتہ ہڑپائی دور اور متاخر ہڑپائی دور۔ گنویری والا شہر وادی سندھ تہذیب وتمدن کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔اس وجہ سے وادی ہاکڑہ سرسوتی تہذیب وتمدن کو وادی سندھ کی تہذیب وتمدن کی ماں مانا گیا۔اور اس کی اہمیت عالمی سطح پر تسلیم کی گئی ہے۔

    دوسری قسط
    احمدپور شرقیہ کی ہردلعزیز بردبار روحانی شخصیت بڑے بھائی دوست ماہر فلکیات و کلینکل سائیکالوجیسٹ جام اسد عباس لاڑ جن کی علم فلکیات پر شاندار کتاب”علم نجوم بحیثیت رہبر وجوہ نفسیاتی عوارض”سال 2024ء منظر عام پر آئی ہے۔ایک دن دوران گفتگو اُن سے سوال کیا کہ گنویری والا چولستان کی تاریخی،تمدنی،تہذیبی اور ثقافتی حیثیت آپ کے علم کے مطابق کیا ہوسکتی ہے؟ اس سوال کے جواب میں دھیمے لہجے میں جناب اسد لاڑ نے کہا کہ قدرت اب صحرائی علاقوں کو دوبارہ عروج یافتہ بنائے گی۔میرا ماننا ہے کہ دنیا کے تمام ریگستان ہزاروں سال پہلے دریاؤں کی گزر گاہ رہ چکے ہیں۔مجھے میرا علم بتا رہا ہے کہ سرائیکی روہی چولستان میں قدیم آٹھ ہزار سال تہذیب وتمدن کے آثار لازمی ہوں گے۔واللہ اعلم بالصواب۔باقی میرا اللہ پاک بہتر جانتا ہے۔اب اس حوالے سے تحقیقاتی آرکیالوجی تھیوری سے عملی حقائق تلاش کرنے کی سعی کرتے ہیں۔

    گنویری والا چولستان کی باقاعدہ کھدائی کے لیے عملی اقدامات سابق ماہر آثار قدیمہ ڈائریکٹر جنرل آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر رفیق مغل کی دن رات محنت سے 1970ء سے 1975ء کے دوران سامنے آئے۔ اس کا نتیجہ مارچ 2024ء میں سرکاری فنڈز کی مد میں 20 ملین یعنی 2 کروڑ روپے کی لاگت سے کھدائی کا تاریخی مرحلہ دیکھنے کو ملا ،جب ڈاکٹر رفیق مغل اپنی آرکیالوجی ٹیم سابق کمشنر بہاولپور ڈویژن ڈاکٹر احتشام انور کے ساتھ مل کر سرائیکی وسیب کی عالمگیر قدامت کا گہوارہ شہر گنویری والا کی کھدائی کا آغاز کیا۔

    راقم الحروف نے اپنے آرکیالوجسٹ دوست اعجاز الرحمن بلوچ اور جام غلام یاسین لاڑ کے ساتھ 2022ء میں اس مقام کا دورہ کیا۔جہاں برجی گنویری والا کی مخصوص شکل کو دیکھا گیا۔ڈاکٹر رفیق مغل نے اپنے تھیسس کے ذریعے ثابت کیا کہ گنویری والا شہر روہی چولستان کی اپنی مقامی تہذیب کا حصہ ہے اور یہ تمدن باہر سے نہیں آئی بلکہ مقامی طور پر پروان چڑھی۔

    روہی چولستان کے قدیم تاریخی تمدنی سات ہزار سالہ شہر گنویری والا کی عظمت کی بنیاد پر ہی وادی ہاکڑہ سرسوتی تہذیب و تمدن کو وادی سندھ تہذیب و تمدن کی ماں مانا گیا ہے۔دنیا کی اہم تہذیبوں میں وادی نیل کی مصری اہرامی تہذیب وتمدن اور وادی دجلہ و فرات کی میسوپوٹیمیا سمیرین تہذیب وتمدن کو وادی سندھ تہذیب وتمدن کا ہم عصر مانا جاتا ہے۔

    پہلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    گنویری والا: ہڑپہ وموہنجودڑو سے بھی قدیم سات ہزار سالہ سرائیکی تہذیب کا مرکز(پہلی قسط)
    تاہم بیل گاڑی،مہریں،مٹی کے برتن،ایک سینگ والے جانور کی مورتیاں
    ،زیورات،زراعت کے اوزار اور دستکاریوں کے قدیم تاریخی شواہد نے سرائیکی علاقے روہی چولستان کے بہاولپوری ثقافتی شہر گنویری والا کو سات ہزار سال پرانا شہر تسلیم کیا ہے۔

    مختلف میڈیا رپورٹس اور ادارہ آرکیالوجی پاکستان کی پریس ریلیز کے مطابق گنویری والا سات ہزار سال پرانا شہر ہے۔پاکستان کے مایہ ناز پہلے آرکیالوجسٹ ڈاکٹر رفیق مغل کی ریسرچ کے مطابق وادی سندھ تہذیب و تمدن کی بنیاد ابتدائی ہڑپائی تمدن (2500 سے 3200 قبل مسیح) کے ساتھ دریائے ہاکڑہ سرسوتی تہذیب و تمدن کے شہر گنویری والا پر پروان چڑھی۔

    آرکیالوجی تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ قدیم افغانستان سے ملنے والے انسانی زیورات اور گنویری والا سے دریافت ہونے والے نمونے ایک جیسے ہیں۔اس عظیم تہذیب کے لوگوں کی دستکاریوں کے قدیم شاہکار تجارت کے ذریعے دنیا کے کونے کونے تک رسائی حاصل کی۔

    چولستان روہی اور سرائیکی وسیب کی اس منفرد تہذیب کے وارث شہر کو قدیم تہذیبی ارتقاء کے اعتبار سے ابنِ حنیف کی کتاب "سات دریاؤں کی سرزمین” (فکشن ہاؤس لاہور، اول 1997ء، دوم 2017ء) میں نمایاں مقام دیا گیا ہے۔اس کتاب کے صفحہ نمبر 27 پر ڈاکٹر رفیق مغل کی 1974ء سے 1977ء کے دوران موسم سرما میں چولستان وادی ہاکڑہ سرسوتی تہذیب کے چار دوروں کا ذکر موجود ہے۔

    رگ وید سنسکرت زبان میں دریائے سرسوتی ندی کی عظمت کا خوبصورت تذکرہ موجود ہے،جو اس تہذیب کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتا ہے۔رگ وید میں مقدس سرسوتی سرائیکی ندی کی شان میں بھجن، جسے سرائیکی شاعر و محقق ڈاکٹر نصراللہ خان ناصر نے اپنی کتاب "سرائیکی شاعری دا ارتقاء” کے صفحہ نمبر 28 پر درج کیا۔اس طرح ہے:

    سرسوتی امدی ہے شور و غل کریندی ہوئی
    غذا گھن تے اساڈے کیتے حصن حصین ہے۔

    آریہ قوم نے سنسکرت زبان میں مقدس ویدک لٹریچر جیسے رگ وید میں مقدس ندی دریائے سرسوتی کے علاوہ دریائے سندھ، ستلج، چناب، بیاس، راوی، جہلم، گنگا، جمنا دیوتاؤں اور دریاؤں کی شان میں قصیدے لکھے۔

    ڈاکٹر رفیق مغل نے چولستان میں 424 قدیم بستیاں دریافت کیں۔بیٹی وادی سندھ تہذیب و تمدن جو دراصل ماں وادی ہاکڑہ سرسوتی گھارا، گھاگھرا تہذیب و تمدن کی کوکھ سے پیدا ہوئی، اس کی آغوش میں پلی بڑھی۔ ہاکڑہ چولستان تمدن کو 3000/4000 قبل مسیح کا عہد کہا گیا ہے اور اسے پانچ ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے.
    1۔ قبل از ہڑپائی دور (3000/2500 ق م)
    2۔ ہاکڑہ دور (3000/3500 ق م)
    3۔ ابتدائی ہڑپائی دور (2500/3200 ق م)
    4۔ عروج یافتہ ہڑپائی دور (2000/2500 ق م)
    5۔ متاخر ہڑپائی دور (1800 ق م)

    روہی چولستان کے قدیم تہذیبی و تمدنی باقیات اولین انسانی شعور کی بنیادیں ہیں۔ڈاکٹر رفیق مغل کے تحقیقی کام کو غیر ملکی ماہرین آثارِ قدیمہ میں پنسلوانیا یونیورسٹی آف امریکہ کے لوئی فیم،ڈیلز،شیفر، مارشیا،میڈو، لیمبرگ اور کارلووسکی نےقدر کی نگاہ سے دیکھا ہے۔مصنف صدیق طاہر کی روہی چولستان کی قدامت پر "وادی ہاکڑہ اور اس کے آثارِ قدیمہ” کے نام سے ایک بہترین کتاب الگ پہچان رکھتی ہے۔

    سرائیکی خطے کی قدیم تہذیب و تمدن میں کھلے گھر،نکاسی آب کا انتظام، لباس و زیورات کا شوق، واش رومز اور دیگر دستکاریوں کا ہنر ان کی روزمرہ زندگی گزارنے کا مضبوط ثقافتی اور تاریخی شاندار قصہ ہے۔مجسمہ سازی، کوزہ گری،کانسی کے بت چولستانی تمدنی ثقافتی اقدار کے عروج کی گواہی دیتے ہیں۔

    سابق خوشحال ریاست بہاولپور کے نواب سر صادق محمد خان عباسی پنجم رحمۃ اللہ علیہ کی اولاد میں پرنس میاں عثمان داؤد خان عباسی (سابق ڈپٹی اسپیکر صوبائی اسمبلی پنجاب) کا کہنا ہے کہ انہوں نے خود 1974ء میں چھ ہزار سال قدیم روہی چولستان، گنویری والا سمیت چولستانی تہذیب و تمدن کے آثار کی کھدائی کے لیے پراجیکٹ منظور کرایا۔ لیکن بعد میں وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کے عہد میں چولستانی قدیم تاریخی تہذیب و تمدن کی کھدائی کے منصوبے بند کر دیے گئے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ چولستان سے کچھ قیمتی قدیم نوادرات،جن میں مٹی کے برتن،ہار سنگھار کے نقش،مہریں،سکے وغیرہ شامل ہیں،میرے ایک دوست فرنچ ماہرِ آثارِ قدیمہ نے چولستانی پرانے تہذیبی مقامات سےحاصل کیے۔پھر چند ماہ بعد رپورٹ بھجوائی، جس کے مطابق ان اشیاء کی قدامت 6000 چھ ہزار سال قدیم بتائی گئی۔

    میں نے خود (راقم الحروف)ان سے اپنے تھیسز بعنوان مقالہ پی ایچ ڈی شعبہ سرائیکی اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور (پاکستان)”سرائیکی لوک قصے اتے چولستانی قصے دے اثرات ” عید الفطر کے موقع پر سال 2021ء میں ملاقات کے دوران معلومات حاصل کیں۔مقامی روہیلے چولستانی کہتے ہیں کہ شدید بارش کے موسم میں قلعوں اور قدیم کھنڈرات میں سے لوگوں کو قیمتی اشیاء ملتی ہیں۔ریسرچ رپورٹ کے مطابق ایک سینگ والے جانور کی مورتیاں بھی ملی ہیں۔

    گنویری والا شہر 80 ہیکٹر پر پھیلا ہوا ہے۔روہیلے اس اجڑے ٹھیڑھ کو کالا پہاڑ بھی کہتے ہیں۔جو ایک وقت میں دریائے سرسوتی ندی کے کنارے آباد تھا۔ یہ شہر ہڑپہ سے بڑا ہے۔مگر موہنجو داڑو سے چھوٹا ہے۔ دونوں قدیم شہر کے درمیان کا شہر گنویری والا چولستان لگ بھگ ہڑپہ سے 260 کلومیٹر جب کہ موہنجو داڑو سے 340 کلومیٹر دور ہے۔

    جو قومیں اپنے قدیم تاریخی تہذیبی ورثے کی حفاظت کرتی ہیں۔وہی دنیا میں ترقی یافتہ قومیں تصور کی جاتیں ہیں۔ چولستان روہی سرائیکی ڈویژن بہاولپور میں تقریباً 500 قدیم تاریخی آرکیالوجی سائٹس ہیں۔ سرائیکی ریاست بہاولپور جس کو محلوں کا خوبصورت شاندار جدید تاریخی شہر بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے ریگستان چولستان میں 19 تاریخی بوسیدہ قلعے اپنے وارثوں کو اپنی تزئین و آرائش اور بقاء کے لیے مٹی کے بوسیدہ در و دیواروں سے فریاد کر رہے ہیں۔
    جاری ہے

  • دنیا بدل رہی پاکستان میں مذاکرات کا کھیل ختم نہیں ہورہا۔ تجزیہ: شہزاد قریشی

    دنیا بدل رہی پاکستان میں مذاکرات کا کھیل ختم نہیں ہورہا۔ تجزیہ: شہزاد قریشی

    بھارت افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف
    ٹرمپ کے آنے سے امریکی پالیسیاں بد ل گئیں،پاکستان کو بھی سٹینڈ لینا ہوگا
    امریکی صدر نے غزہ جنگ بند کراکر امن کا پیغام دیدیا،ہمیں بھی آگے بڑھنا چاہیے
    تجزیہ،شہزاد قریشی
    بھارت اور افغانستان کی دوستی ،سیاسی اور اقتصادی تعلقات کون نہیں جانتا،ان تعلقات کے نتائج کیا نکلیں گے،یاد رہے تادم تحریر کسی بھی ملک نے طالبان حکومت کے ساتھ باضابطہ سفارتی تعلقات قائم نہیں کئے، طالبان پورے ملک پر قابض نہیں ہیں ، حزب اختلاف کی مختلف تحریکیں ہیں جو طالبان کے خلاف مسلح تصادم کو بحال کرنے میں مصروف ہیں، پاکستان کی وزارت خارجہ اور قومی سلامتی کے اداروں کو چوکنا رہنے کی ضرورت ہے،دنیا بدل رہی ہے، دنیا کی پالیسیاں تبدیل ہو رہی ہیں، ماضی کیا تھا اُسے بھول جائیے ،مستقبل کے بارے سوچئے، ہمیں امریکہ کے ساتھ بات چیت جاری رکھنا ہوگی، پاکستان کی مدد اور حمایت کے بغیر امریکہ خطے میں امن قائم نہیں کر سکتا،پاکستان خطے کا اہم لک ہے،افغانستان کی موجودہ حکومت امریکہ سمیت دنیا کے لئے ایک سوالیہ نشان ہے ؟ بھارت نے ماضی میں بھی افغان سرزمین دہشت گرد ی اور دہشت گردوں کی پشت پناہی کے لئے استعمال کی جس کے ثبوت پاکستان کے پاس موجودہیں ، ٹرمپ انتظامیہ کو پاکستان کے مسائل مشکلات نئے حالات میں سمجھنا ہوگا، افغانستان کو لے کر امریکہ ایک بار پھر پاکستانی مدد کا خواہاں ہوگا جبکہ ایران کے معاملات طے کرنے کے لئے امریکہ کو پاکستان کی ضرورت پڑے گی، بھارت جتنی مرضی افغانستان میں سرمایہ کاری کا دعویٰ کرے ،ٹرمپ انتظامیہ افغانستان کے ساتھ معاملات پاکستان کے ذریعے ہی حل کرنے کی کوشش کرے گا، پاکستان امریکہ کا اتحادی رہا ہے امریکہ کی کوشش ہو گی کہ اس خطے میں پاکستان کا کردار تعمیری ہو۔ ملک کی موجودہ صورت حال اورٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ مستقبل میں تعلقات کی نوعیت کیا ہوگی،

    پاکستان آج کی بدلتی صورت حال میں اُس مقام پر پہنچ چکا ہے جہاں پر امریکہ اور دوسری عالمی قوتوں کے تعلقات میں اپنے مفادات کو سامنے رکھ کر بات کر سکتا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی فسٹ امریکہ پالیسی اور گلوبل امن کا نعرہ یقینا قابل تحسین ہے، ٹرمپ کے آنے سے امریکہ بدل گیا ہے اس کی پالیسی بدل گئی ہے نئی پالیسی کے اثرات دنیا پر بھی پڑیں گے،ٹرمپ کے آنے سے غزہ میں جنگ بندی کا ثبوت ہے، روس اور یوکرین کی جنگ کا خاتمہ بھی قریب نظر آرہا ہے، ٹرمپ کی بھرپور توجہ معیشت پر ہے، وہ دنیا کو پیغام دے رہا ہے کہ جنگوں سے نکل کر معیشت پر توجہ دیں، اپنے اپنے ممالک میں عوا م کے بنیادی مسائل حل کریں، اپنے اپنے ممالک اور عوام پر توجہ دیں، ملک کی تمام سیاسی جماعتیں مذاکرات مذاکرات کے کھیل سے باہر نکل کر دنیا کی بدلتی صورت حال پر توجہ دیں اور پاکستان کو درپیش مسائل کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

  • گداگری ایک لعنت

    گداگری ایک لعنت

    گداگری ایک لعنت
    تحریر: ریحانہ صبغتہ
    گداگری کے لفظی معنی ہاتھ پھیلانا، منگتا، سوالی اور بھکاری کے ہیں،یوں تو ہمارے ملک میں بےشمار مسائل ہیں، لیکن جس طرح گداگری نے ملک کو بری طرح سے اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے، وہ ناقابلِ یقین ہے۔گداگری ایک ایسا سماجی رویہ ہے جس میں معاشرے کا کمزور اور پسا ہوا طبقہ اپنی ضروریاتِ زندگی کو پورا کرنے کے لیے دوسروں کی مدد کا محتاج ہوتا ہے۔

    گداگری ہمارے ملک میں باقاعدہ ایک پیشہ بن گیا ہے اور لوگ جوق در جوق اس میں شامل ہو رہے ہیں، بلکہ پاکستان میں گداگری ایک مافیا کی شکل اختیار کر چکا ہے جو کہ معاشی، معاشرتی اور اقتصادی طور پر معاشرے کو پستی اور ذلت کا شکار کر رہی ہے، جس سے عزتِ نفس اور محنت کی عظمت کے تمام خیالات و نظریات بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔

    گلیوں، بازاروں، مزاروں، اسپتالوں، شاپنگ مالز، سگنلز، بس اسٹاپ، شادی ہال اور ہر جگہ گداگروں کی بڑھتی تعداد، جس میں بچے، بوڑھے، جوان، خواتین اور بچیاں سب ہی آپ کو ہاتھ پھیلاتے نظر آئیں گے۔یہ درست ہے کہ بعض لوگ بھوک اور افلاس سے مجبور ہو کر بھیک مانگنا شروع کر دیتے ہیں، لیکن ایسے بھکاریوں کا کیا علاج ہے جو اپنے آپ کو مجبور ظاہر کر کے بھیک مانگتے ہیں؟ ان گداگروں نے بھیک مانگنے کے نئے طریقے ایجاد کر رکھے ہیں۔

    کچھ لوگ بھیک کی آڑ میں لوگوں کی جیبیں کاٹتے ہیں۔کچھ لوگ ملنگ اور فقیروں کا روپ دھار کر خواتین سے بڑی بڑی رقمیں بٹورتے ہیں۔اکثر لوگوں کا یہ ذہن ہوتا ہے کہ اگر اس گداگر کو خالی ہاتھ واپس بھیجا تو ہو سکتا ہے آسمان گر پڑے۔بعض لوگ بھیک کو پیشہ بنا لیتے ہیں کیونکہ انہیں بغیر محنت کے بہت کچھ مل جاتا ہے۔بعض لوگ روزی کمانے کے لیے اپنے بچوں سے بھیک منگواتے ہیں، اس طرح یہ مسئلہ دن بدن بڑھتا چلا جا رہا ہے، اس لیے کوئی بھی یہ نہیں چاہتا کہ بھکاریوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔تقریباً آدھے سے زیادہ گداگر کام کرنے کے قابل ہوتے ہیں لیکن انہوں نے گداگری کو اپنا پیشہ بنا لیا ہے۔

    گلی کوچوں میں گداگروں کا صدا لگانا، سڑکوں پر بھیک مانگنا، ہر جلسے اور عبادت گاہ کے دروازے پر ان کا وجود قوم کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔
    گداگری نہ صرف ملک و قوم کے لیے بدنامی اور ذلت کا سبب ہے بلکہ یہ بہت سے جرائم کو بھی جنم دیتی ہے، جن میں ناجائز منافع خوری، ڈکیتی، لوٹ مار، قتل، انسانی اسمگلنگ، بھتہ خوری، چوری، فراڈ، دھوکہ دہی اور راہزنی قابلِ ذکر ہیں۔

    ملک میں بڑھتے ہوئے گداگری کے مسئلے نے سنگین نوعیت اختیار کر لی ہے لیکن اشرافیہ خوابِ خرگوش کے مزے لے کر میٹھی نیند سو رہی ہے، اور اس مسئلے کی طرف ان کی کوئی توجہ ہی نہیں ہے۔جوں جوں گداگروں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے، ملک میں غربت زیادہ ہوتی جا رہی ہے۔

    اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ گداگری کا خاتمہ ہو تو سب سے پہلے اس کی وجوہات جیسے غربت، افلاس، بھوک، بے راہ روی، بیماری، ذہنی توازن، اغواء برائے تاوان، بھتہ خوری، منشیات، جسمانی کمزوری اور جہالت جیسے سنگین جرائم کا خاتمہ کرنا ہوگا، لیکن افسوس کہ پاکستانی اعلیٰ حکام کی ابھی اس طرف کوئی توجہ ہی نہیں ہے۔
    غلط اور فرسودہ نظام کے ذریعے پیدا ہونے والی برائیوں کے مقابلے اور خاتمے کے لیے منظم جدوجہد کرنا ہوگی۔

    الغرض معاشرے میں گداگری کی وجوہات کچھ بھی ہوں، گداگری ایک لعنت ہے، جس کا مستقل حل یہ ہے کہ:

    بے روزگاری کو ختم کیا جائے۔
    بھکاریوں کو خیرات، عطیات یا کھانا دینے کی بجائے انہیں محنت کرنے کا درس دیا جائے کہ وہ اپنے وسائل کو بروئے کار لا کر سب کچھ کر سکتے ہیں۔
    حکومت معذور افراد کے لیے ایسی مہارتیں فراہم کرے تاکہ وہ معذور ہونے کے باوجود اپنے آپ کو ناکارہ نہ سمجھیں۔ضعیف اور نادار لوگوں کے لیے مضبوط پناہ گاہیں اور شیلٹر ہومز بنائے جائیں جو حکومت کی زیرِ سرپرستی ہوں۔گداگری کو قانوناً جرم قرار دینا چاہیے تاکہ کوئی بھی مانگنے سے پہلے سو بار سوچے۔حکومتِ وقت کو گداگری کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے سخت سے سخت اقدامات کرنے چاہئیں، اور عوام الناس بھی حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کرے۔

    اگر ان سخت اقدامات سے گداگری کی لعنت کو ختم کیا جا سکتا ہے تو ہمیں مل جل کر اپنے اپنے حصے کی شمع روشن کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، تاکہ ملکِ پاکستان کی تعمیر و ترقی میں کلیدی کردار ادا کر سکیں۔اگر ہم نے وقت پر گداگروں کا سدِباب نہ کیا تو ہو سکتا ہے کہ ہمارا معاشرہ زوال کا شکار ہو جائے، اور ہمارے پاس پچھتاوے کے علاوہ کچھ نہ بچے۔

  • چین کا نیا قمری سال، ترقی کا جشن،تحریر:جان محمد رمضان

    چین کا نیا قمری سال، ترقی کا جشن،تحریر:جان محمد رمضان

    چین کا نیا قمری سال، جو دنیا بھر میں خوشی، امید اور ترقی کی علامت کے طور پر منایا جاتا ہے، ایک خاص موقع ہے۔ اس دن کو چین کے عوام اپنے روایتی طریقوں سے جشن مناتے ہیں اور اسے خاندانوں، دوستوں اور عزیزوں کے ساتھ گزار کر نئی امیدوں کے ساتھ ایک نیا آغاز کرتے ہیں۔ پاکستان کے عوام اور حکومت کی جانب سے چین کے عوام، قیادت اور حکومت کو نئے قمری سال کی دلی مبارکباد پیش کی جاتی ہے۔چین کا نیا سال نہ صرف چین کے لیے خوشی کا موقع ہوتا ہے بلکہ پوری دنیا میں اس کے اثرات اور اہمیت کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ یہ تہوار چین کی تاریخ، ثقافت اور روایات کی گہری جڑوں کی عکاسی کرتا ہے اور ہر سال یہ موقع چین کے عوام کی محنت، کامیابیوں اور ان کی مسلسل ترقی کا جشن منانے کا ہوتا ہے۔

    پاکستان اور چین کی دوستی ایک مثال ہے جو دنیا بھر میں ہر طرف سراہا جاتا ہے۔ ہماری یہ دوستی صرف ایک سفارتی تعلقات تک محدود نہیں بلکہ ایک گہری برادرانہ وابستگی پر مبنی ہے جس میں اعتماد، تعاون اور مشترکہ ترقی کا عزم شامل ہے۔ چین کی قیادت نے ہمیشہ دنیا کے سامنے ایک نئی مثال پیش کی ہے جس میں استقامت، محنت اور لگن کی بدولت وہ ترقی کی راہوں پر گامزن ہے۔ چین نے اپنے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے جس طرح کے اقدامات کیے ہیں، وہ قابل تحسین ہیں اور پوری دنیا کے لیے ایک مشعل راہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔پاکستان اور چین کے درمیان یہ شراکت داری نہ صرف سیاسی اور اقتصادی لحاظ سے مضبوط ہوئی ہے بلکہ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان ایک گہرا ثقافتی تعلق بھی قائم ہو چکا ہے۔ ہم ہمیشہ چین کی ترقی اور کامیابیوں کا دل سے احترام کرتے ہیں اور اس امید کا اظہار کرتے ہیں کہ یہ تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔

    چین کی غیر معمولی ترقی اور کامیابیوں کو دیکھتے ہوئے، ہم دعا گو ہیں کہ یہ نیا قمری سال چین اور پاکستان کے لیے خوشحالی اور ترقی کا باعث بنے۔ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، ثقافتی اور سفارتی تعلقات میں مزید گہرائی آئے، اور دونوں کے عوام کے درمیان محبت، احترام اور تعاون کا سلسلہ جاری رہے۔پاکستان اور چین کے درمیان جاری تعاون کا سلسلہ ایک روشن مستقبل کی نشاندہی کرتا ہے اور ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ آنے والے سالوں میں دونوں ممالک کے درمیان یہ رشتہ مزید مضبوط ہو گا۔

    چین کے نیا قمری سال نہ صرف چین کی کامیابیوں کی عکاسی کرتا ہے بلکہ یہ دونوں ممالک کی گہری دوستی اور تعاون کی داستان کو بھی مزید نکھارتا ہے۔ اس موقع پر پاکستان کی طرف سے چین کے عوام اور قیادت کو نیک تمناؤں کے ساتھ نئی امیدوں اور کامیابیوں کا پیغام پہنچایا جاتا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون، محنت اور عزم کے ذریعے ہم ہر چیلنج کو کامیابی میں تبدیل کر سکتے ہیں۔

    jaan

  • پہچان پاکستان میگا ادبی فیسٹیول2025 .تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    پہچان پاکستان میگا ادبی فیسٹیول2025 .تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    اردو ادب کی ترویج و ترقی کا عظیم الشان اجتماع
    »» ایک ایسا ادبی جشن، جہاں لفظ بولیں گے اور تحریر گواہی دے گی!”
    »» ادب کے چراغ روشن کرنے کا عظیم الشان اجتماع!”
    »» نئےقلمکاروں کی خدمات کا اعتراف، اردو زبان کی ترقی کا سنگ میل!”

    پہچان پاکستان نیوز گروپ کا یہ میگا ادبی فیسٹیول "لفظوں کی دنیا میں ایک تاریخ ساز لمحہ ہوگا،جہاں اردو ادب کی کہکشاں کے درخشاں ستارے ایک جگہ! پر ہونگے،”ایک یادگار لمحہ ہوگا، جب ادب کے معمار ایک دوسرے سے اپنے تجربات شیئر کریں گے!”
    اردو ادب کی تاریخ میں مختلف ادوار میں ایسے ادبی اجتماعات منعقد ہوتے رہے ہیں، جنہوں نے ادب کی ترویج و ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ لاہور، جو ہمیشہ سے علم و ادب کا گہوارہ رہا ہے، ایک بار پھر ایک شاندار ادبی تقریب کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔ پہچان پاکستان نیوز گروپ کی جانب سے میگا ادبی فیسٹیول 24 فروری 2025 کو الحمرا ہال نمبر 3، لاہور میں منعقد ہو رہا ہے، جس میں ملک بھر سے نامور ادیب، شاعر، کالم نگار، اور اردو ادب کی مختلف اصناف سے وابستہ لکھاری شرکت کریں گے۔

    یہ فیسٹیول محض ایک تقریب نہیں بلکہ اردو ادب سے جڑے افراد کے لیے ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں ان کی خدمات کا اعتراف کیا جائے گا اور انہیں عزت و توقیر سے نوازا جائے گا۔ اس پروگرام میں نمایاں ادبی شخصیات کو میڈلز، سرٹیفکیٹس اور شیلڈز دی جائیں گی، تاکہ ان کے ادبی سفر کو سراہا جا سکے اور آئندہ نسلوں کے لیے ادب کے فروغ کی راہیں مزید ہموار کی جا سکیں۔
    اردو ادب کی تاریخ میں ہمیشہ ایسے پروگرامز کی ضرورت محسوس کی گئی ہے جو ادیبوں، شاعروں اور لکھاریوں کی حوصلہ افزائی کریں۔ پہچان پاکستان میگا ادبی فیسٹیول ایک ایسا ہی عظیم الشان ایونٹ ہے، جو نہ صرف اردو ادب کے فروغ میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ ادب سے وابستہ شخصیات کو ایک دوسرے کے قریب لانے کا بھی ذریعہ بنے گا۔یہ فیسٹیول نوجوان لکھاریوں کے لیے ایک سنہری موقع فراہم کرے گا کہ وہ سینئر ادیبوں اور شاعروں سے سیکھ سکیں اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے مفید مشورے حاصل کریں۔ ادب کی قد آور شخصیات کی موجودگی اس تقریب کو مزید باوقار بنا دے گی اور ادبی ذوق رکھنے والے افراد کے لیے ایک یادگار دن ہوگا۔

    اس فیسٹیول میں پاکستان کے مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے نامور ادیب، شاعر، نقاد، کالم نگار، اور محققین شرکت کریں گے۔ یہ ایک سنہری موقع ہوگا جب اردو ادب کے قدآور ستون ایک جگہ اکٹھے ہوں گے اور اپنے خیالات کا تبادلہ کریں گے۔تقریب میں مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والے ادبی شخصیات کو ایوارڈز دیے جائیں گے، تاکہ ان کی کاوشوں کو تسلیم کیا جائے اور ان کی محنت کو سراہا جا سکے۔ یہ نہ صرف ان کے لیے ایک اعزاز ہوگا بلکہ ادب کی ترویج کے لیے بھی ایک مثبت قدم ہوگا۔
    نوجوان ادیبوں اور شاعروں کے لیے ایک پلیٹ فارمادب سے جڑے نوجوان تخلیق کاروں کے لیے یہ ایک نادر موقع ہوگا کہ وہ اپنے پسندیدہ ادیبوں اور شاعروں سے ملاقات کریں، ان سے گفتگو کریں اور ان کے تجربات سے سیکھیں۔تقریب میں مختلف ادبی سیشنز منعقد کیے جائیں گے، جن میں اردو ادب کے مسائل، اس کی ترقی کے امکانات، جدید ادب کے رجحانات، اور دیگر موضوعات پر مباحثے ہوں گے۔ اس پروگرام میں مختلف کیٹیگریز میں نمایاں شخصیات کو اعزازات دیے جائیں گے، جن میں درج ذیل شامل ہوں گےبہترین ادبی خدمات کے اعتراف میں نمایاں ادبی تحقیق پر بہترین شاعری، نثر، اور کالم نویسی پر سرٹیفکیٹ ،شیلڈز ،گولڈ میڈل دئیے جائیں گے۔اس تقریب میں اردو ادب کے فروغ کے حوالے سے مختلف تجاویز بھی پیش کی جائیں گی، تاکہ ادب کی ترقی کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جا سکیں۔یہ فیسٹیول اردو ادب کو نئی جہتیں فراہم کرے گا اور ادیبوں و شاعروں کو ایک دوسرے سے جُڑنے اور سیکھنے کا موقع دے گا۔ اس کے ممکنہ اثرات درج ذیل ہو سکتے ہیں:نوجوان نسل میں اردو ادب کا شوق بڑھے گا اس تقریب سے نئی نسل میں اردو ادب سے دلچسپی بڑھے گی اور وہ اس کی مختلف اصناف میں تخلیقی صلاحیتوں کو آزمانے کی کوشش کریں گے۔ایوارڈز اور سرٹیفکیٹس ملنے سے ادیبوں اور شاعروں کی حوصلہ افزائی ہوگی اور وہ مزید جوش و جذبے سے ادب کی خدمت کریں گے۔اس فیسٹیول میں ہونے والے مذاکروں سے اردو ادب کے موجودہ مسائل اجاگر ہوں گے اور ان کے حل کے لیے نئی راہیں تلاش کی جائیں گی۔پہچان پاکستان نیوز گروپ کا میگا ادبی فیسٹیول2025ایک ایسا ادبی اجتماع ہوگا جو اردو ادب سے جُڑے تمام افراد کے لیے ایک یادگار لمحہ بنے گا۔ الحمرا ہال 3، لاہور میں ہونے والی یہ تقریب ادب کے فروغ کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔یہ فیسٹیول نہ صرف اردو زبان و ادب کی خدمت کرنے والے افراد کو عزت و تکریم دینے کا موقع فراہم کرے گا بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک ترغیب کا باعث بنے گا۔ اس طرح کے ادبی فیسٹیولز کا انعقاد وقت کی ضرورت ہے، تاکہ اردو زبان کی ترویج و ترقی کو مزید تقویت دی جا سکے۔

    پہچان پاکستان میگا ادبی فیسٹیول 2025 کے انعقاد پر پہچان پاکستان نیوز گروپ ,چیف ایڈیٹر زکیر احمد بھٹی اور ڈپٹی چیف ایڈیٹر آمنہ منظور کو دلی مبارکباد! یہ ادبی فیسٹیول اردو ادب کے فروغ میں سنگ میل ثابت ہوگا، جہاں ملک بھر سے نامور ادیب، شاعر اور کالم نگار ایک چھت تلے جمع ہوں گے۔ آپ کی کاوشوں سے ادب سے وابستہ شخصیات کی خدمات کا اعتراف کیا جا رہا ہے، جو قابلِ تحسین ہے۔ امید ہے کہ یہ سلسلہ جاری رہے گا اور اردو ادب کو مزید ترقی کی راہ پر گامزن کرے گا۔ ادب دوست اقدامات پر آپ کو خراجِ تحسین!یہ محض ایک تقریب نہیں، بلکہ ادب کی ترویج کا ایک نیا سفر ہے! ،اردو ادب کی خدمت کا یہ تسلسل ہمیشہ جاری رہے گا!،یہ فیسٹیول ایک یادگار لمحہ ہوگا،اور اس کا اختتام نہیں، بلکہ نئے ادبی سفر کی شروعات ہوگی! کیونکہ پہچان پاکستان نیوز گروپ ـــ ادب کی پہچان اور تخلیق کی زبان ہے۔۔

  • آہ! مصور منیر مرحوم

    آہ! مصور منیر مرحوم

    آہ! مصور منیر مرحوم
    تحریر:فیصل رمضان اعوان
    ڈھرنال گاؤں ضلع تلہ گنگ کی مغربی سمت میں میانوالی روڈ کے جنوب میں میال اور ترحدہ کے قریب کچھ ہی فاصلے پر واقع ہے۔ تلہ گنگ اور لاوہ کی مضافاتی دیہی آبادیاں اپنے ماضی کی اعلیٰ اقدار اور شاندار روایات آج بھی زندہ و سلامت رکھے ہوئے ہیں، اور یہاں کے باسی اپنے شاندار ماضی کو آج تک نہیں بھولے۔ دلیری، ایمانداری اور غیرت مندی یہاں کے لوگوں میں بالکل اپنے آباؤ اجداد کی طرح آج بھی زندہ ہے۔ یہاں کئی طلسماتی کردار کی حامل کچھ شخصیات بھی گزری ہیں جن کی اولادیں انہی علاقوں میں مستقل رہائش پذیر ہیں۔

    ڈھرنال گاؤں کی اصل وجہ شہرت بھی ایک طلسماتی کردار کی حامل شخصیت ہے جن کا نام مرحوم محمد خان ڈھرنال ہے۔ محمد خان ڈھرنال قتل و غارت گری اور اپنی دشمنیوں کی وجہ سے مشہور ہوئے۔ بہادری میں ان جیسا کردار شاید ہی ہمیں کہیں سننے کو ملا ہو۔ بچپن میں والد مرحوم جب ان کی بہادری کے قصے سناتے تو وہ بڑا پرلطف، بامزہ، پراسرار اور عجیب و غریب لگتا، لیکن خیر سے محمد خان ڈھرنال کا زمانہ غیرت اور دلیری کے واقعات کا تھا۔ بہرحال ہمیں بھی وہی سبق سکھایا جا رہا تھا۔ جو ان کے اردگرد ہوتا تھا، آنکھوں دیکھا حال بھی سنایا جاتا تھا۔ اس کا اثر میرے خیال میں لوگوں کو خوف و ہراس میں مبتلا نہیں کرتا تھا بلکہ غیرت سے جینے کا ہنر اور وقار سے مرنے کا درس ملتا تھا۔ ڈھرنال کی اصل وجہ شہرت تو مرحوم محمد خان ڈھرنال کی وجہ سے تھی۔

    اسی سرزمین پر علم و ادب کا ایک بڑا نام مصور منیر مرحوم کا بھی ہے۔ انہوں نے فن مصوری میں وہ مقام پایا جو کسی تعریف کا محتاج نہیں۔ یہاں چونکہ دو مختلف سوچوں کے لوگ پائے جاتے ہیں، جیسا کہ تحریر کے شروع میں میں نے محمد خان ڈھرنال کی وجہ شہرت کا ذکر کیا، ان کے کردار، بغاوت اور دلیری پر بات کی۔ یہ سوچ یہاں ایک بڑی تعداد میں موجود ہے۔ دوسری طرف ایک فن میں ماہر، ایک بڑا نام۔۔۔ ایک عظیم فنکار، مصور منیر مرحوم کا نام ہے۔ بدقسمتی سے یہ حلقہ یہاں کافی کم تعداد میں پایا جاتا ہے، لیکن الحمدللہ جو لوگ بھی علم و ادب کی خدمت کر رہے ہیں، بلاشبہ وہ قابلِ تحسین ہیں اور ان کا کردار ہمیشہ سے مثالی رہا ہے۔ لیکن یہ عزت و شہرت وہ ہے جو رب تعالیٰ کسی کسی کے نصیب میں لکھتا ہے۔

    مصور منیر اپنے فن کے استاد تھے۔ دنیا بھر میں ان کے فن پاروں کی نمائشیں ہوتی تھیں اور ان کو ایوارڈز سے نوازا جاتا۔ کئی گولڈ میڈل بھی حاصل کیے۔ گزشتہ روز جب ان کے اچانک انتقال کی خبر ملی تو تادیر ان کے جانے کا غم رہا۔ ایک ایسے عظیم انسان کی جدائی نے مغموم کر دیا کہ اب ان جیسی شخصیت کا نعم البدل کہاں!

    تلہ گنگ شہر میں منعقدہ ایک ادبی تقریب میں تقریر کے فوراً بعد ان کی طبیعت اچانک بگڑ گئی اور حرکت قلب بند ہونے سے وہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ اللہ تعالیٰ ان کی تمام منازل آسان فرمائے اور ان کی کامل مغفرت فرمائے۔ مصور منیر مرحوم ایک ایسی نادر شخصیت تھے جن کی انتھک محنت نے ان کو اپنے فن کے عروج تک پہنچایا اور وہ دنیا میں وطن عزیز پاکستان کی ایک قومی شناخت بنے۔

    آج مصور منیر ہمارے درمیان نہیں رہے۔ یہ باب اب ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند ہوگیا۔ وہ ایک عظیم علمی و ادبی شخصیت کے طور پر جانے پہچانے جاتے تھے۔ ان کی علمی، ادبی اور فنی خدمات نے ہمارے علاقے کو دنیا بھر میں اور پیارے وطن میں ایک منفرد پہچان دی۔ ان کے اچانک چلے جانے سے یہ خلا اب ہمیشہ خالی رہے گا۔

    بارگاہِ الٰہی میں ان کے لیے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو اور ان کی کامل بخشش فرما دے۔ آمین ثم آمین۔