Baaghi TV

Category: بلاگ

  • او سب دی ماں تے سرکاری میراثی

    او سب دی ماں تے سرکاری میراثی

    او سب دی ماں تے سرکاری میراثی
    تحریر: اعجازالحق عثمانی
    اقتدار کی کرسی ایک عجیب نشہ ہے جو حکمران کو حقیقت سے دور کر دیتی ہے۔ مگر اس نشے کو دوام دینے کا سہرا ان سرکاری میراثی نما خوشامدیوں کے سر جاتا ہے، جو اپنے ذاتی مفادات کے لیے حکمرانوں کے گرد ایسے گھیرا ڈال لیتے ہیں جیسے مکھی شہد پر۔ آج پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کے گرد یہی میراثیوں کا ٹولہ واردات ڈالنے میں مصروف ہے، اور عوامی مسائل سے ان کی توجہ ہٹانے اور اپنے مفاد کے لیے اوچھے حربے آزما رہا ہے۔

    مریم نواز کے اقتدار کا آغاز امیدوں اور خوابوں کے ساتھ ہوا تھا، مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ خود ان سرکاری میراثیوں کی گرفت میں آ چکی ہیں، جو صرف تعریفوں کے پل باندھنے میں ماہر ہیں۔ ان کے لیے حکومت کا مطلب عوامی خدمت نہیں بلکہ خوشامد کا ایسا کھیل ہے جس میں جیت صرف ان کی چاپلوسی کے ناپاک ہتھکنڈوں کی ہوتی ہے۔

    حال ہی میں پنجاب میں "کھیلتا پنجاب گیمز” کی تقریبات پر بھاری رقم خرچ کی گئی، جبکہ سپورٹس بورڈ کے ملازمین کو تین ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ ایسے حالات میں خوشامدی ٹولے نے وزیر اعلیٰ کو ایک شاندار تقریب کے ذریعے عوامی ہیرو بنا کر پیش کرنے کی ناکام کوشش کی۔ لیکن ان "میراثیوں” کی منصوبہ بندی اتنی کمزور تھی کہ یہ تقریب مریم نواز کے لیے بدنامی کا سامان بن گئی۔

    انہیں لگتا ہے کہ خوشامدی شاعری اور تقریبات کے ذریعے عوام کو مطمئن کیا جا سکتا ہے۔ حال ہی میں ایک تعلیمی دورے میں ایک طالبہ نے نظم پڑھی، جس میں مریم نواز کو "سب دی ماں” قرار دیا گیا۔ نظم کا انداز ایسا تھا کہ سننے والے ہنسنے پر مجبور ہو گئے، اور سوشل میڈیا پر خوب میمز بنی۔ یہ صرف ایک مثال ہے کہ کس طرح سرکاری میراثی مریم نواز کی سیاست کو کھیل تماشا بنا رہے ہیں۔

    یہ میراثی وہی لوگ ہیں جو سابق حکمرانوں کے گن گاتے تھے، اور آج مریم نواز کی خوشامد میں مصروف ہیں۔ ان کا کام صرف یہ ہے کہ حکمران کو عوامی مسائل سے دور رکھیں اور جھوٹے خواب دکھائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ عوام مہنگائی، بے روزگاری، اور ناقص گورننس سے تنگ آ چکے ہیں، مگر وزیر اعلیٰ کے گرد موجود یہ میراثی انہیں بتاتے ہیں کہ سب کچھ "ٹھیک” ہے۔

    مریم نواز کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ سرکاری میراثیوں کے گھیرے اور ٹک ٹاک کی دنیا سے باہر نکلنا ان کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ خوشامدیوں کے فریب میں آ کر اگر وہ عوامی مسائل کو نظرانداز کرتی رہیں، تو ان کی حکومت کے دن گنے جا سکتے ہیں۔ پنجاب کے عوام کو لیپ ٹاپ، کارڈ سکیم یا تقریبات نہیں چاہیے؛ انہیں روزگار، انصاف اور بنیادی سہولیات چاہیے۔

    اقتدار میں آنے والے حکمرانوں کو تاریخ صرف اسی وقت یاد رکھتی ہے جب وہ عوامی فلاح کے لیے کام کرتے ہیں۔ مریم نواز کو چاہیے کہ وہ ان سرکاری میراثیوں کو پہچانیں اور ان سے چھٹکارا حاصل کریں۔ عوام کے مسائل حقیقی اقدامات کے ذریعے حل ہوں گے، نہ کہ خوشامدی نظموں اور مصنوعی تقریبات سے۔ ورنہ ایک دن ایسا آئے گا کہ یہ میراثی بھی کسی اور کی خوشامد میں مصروف ہوں گے، اور عوام مریم نواز کو تاریخ کے ایک اور ناکام کردار کے طور پر یاد کر رہی ہو گی۔

  • پاکستانی ایٹمی قوت کے بانی: ڈاکٹر عبدالسلام

    پاکستانی ایٹمی قوت کے بانی: ڈاکٹر عبدالسلام

    پاکستانی ایٹمی قوت کے بانی: ڈاکٹر عبدالسلام
    تحریر: ریحانہ صبغتہ اللہ
    ڈاکٹر عبدالسلام 29 جنوری 1926ء کو موضع سنتوک داس، ضلع ساہیوال میں پیدا ہوئے۔
    ابتدائی تعلیم جھنگ سے حاصل کرنے کے بعد گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم ایس سی میں ٹاپ کیا اور کیمبرج یونیورسٹی سے اسکالرشپ پر اعلیٰ تعلیم کے لیے لندن چلے گئے، جہاں انہوں نے نظری طبیعیات میں پی ایچ ڈی کی۔
    1951ء میں ڈاکٹر عبدالسلام وطن واپس آئے اور گورنمنٹ کالج لاہور اور پھر پنجاب یونیورسٹی میں تدریسی فرائض انجام دینے لگے۔ 1954ء میں وہ انگلستان چلے گئے اور وہاں بھی تدریس سے منسلک رہے۔ اس کے علاوہ، پاکستان اور متعدد ملکی و غیر ملکی کالج و یونیورسٹیز میں تدریس کا سلسلہ جاری رہا، جن میں امپیریل کالج لندن، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور، سینٹ جونز کالج، بین الاقوامی مرکز برائے نظریاتی طبیعیات، جامعہ شکاگو، جامعہ کیمبرج، جامعہ کولمبیا، جامعہ کراچی، یونیورسٹی آف ہیوسٹن، اور جامعہ پنجاب شامل ہیں۔

    1964ء میں ڈاکٹر عبدالسلام نے اٹلی کے شہر ٹریسٹ میں انٹرنیشنل سینٹر برائے طبیعیات کی بنیاد رکھی۔
    ڈاکٹر عبدالسلام نے علم طبیعیات کے میدان میں ایک نظریہ پیش کیا جو اس قدر اہمیت کا حامل ہے کہ اسے نصاب میں شامل کیا گیا۔ ان کا نظریہ الیکٹرو ویک تھیوری کہلاتا ہے، جسے بعد میں "ڈاکٹر عبدالسلام-وینبرگ تھیوری” کہا گیا۔ اس نظریے کی جدید شکل کو آج سٹینڈرڈ ماڈل کے نام سے جانا جاتا ہے۔ سٹیون وینبرگ، جو ایک امریکی سائنس دان تھے، نے 1979ء میں اس نظریے پر ڈاکٹر عبدالسلام اور شیلڈن لی گلاشو کے ساتھ نوبل انعام برائے طبیعیات حاصل کیا۔

    ڈاکٹر عبدالسلام نوبل انعام حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی تھے۔
    1970ء سے 1986ء تک وہ پاکستان کی وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے سائنسی مشیر رہے۔ اس دوران انہوں نے پاکستان کے سائنسی ڈھانچے کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔

    ڈاکٹر عبدالسلام نے پاکستان میں نظریاتی اور ذراتی طبیعیات کے متعدد ترقیاتی منصوبوں میں حصہ لیا۔ ان میں ایک اہم کام بنیادی ذرات کی دریافت تھی جو اس وقت تک دیکھے نہیں گئے تھے۔ یہ ذرات پندرہ سال بعد یورپی ادارہ برائے ایٹمی تحقیق میں دریافت کیے گئے۔
    ڈاکٹر عبدالسلام سپارکو
    (Space and Upper Atmosphere Research Commission)
    کے بانی ڈائریکٹر اور نظریاتی گروپ کے قیام کے ذمہ دار تھے، اسی لیے انہیں اس پروگرام کا "سائنسی باپ” کہا جاتا ہے۔

    ڈاکٹر عبدالسلام کی مزید کامیابیوں میں ڈاکٹر عبدالسلام ماڈل، مقناطیسی فوٹون، ویکٹر میسن، گرینڈ یونیفائیڈ تھیوری، سپر سمیٹری پر کام، اور سب سے اہم الیکٹرو ویک تھیوری شامل ہیں، جس پر انہیں نوبل انعام دیا گیا۔ انہوں نے کوانٹم فیلڈ تھیوری اور امپیریل کالج لندن میں ریاضی کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا اور اپنے شاگرد ریاض الدین کے ساتھ مل کر نیوٹرینوز، نیوٹرون، ستاروں، اور بلیک ہولز کے جدید نظریات پر شراکتیں کیں۔

    ڈاکٹر عبدالسلام کا دعویٰ تھا کہ کائنات میں موجود چار بنیادی قوتوں میں سے دو، یعنی ویک فورس (کمزور نیوکلیائی طاقت) اور الیکٹرو میگنٹزم (برقی مقناطیسیت)، بنیادی طور پر ایک ہی قوت کی دو شکلیں ہیں۔ انہوں نے ان دونوں قوتوں کو متحد کیا اور اسے "الیکٹرو ویک فورس” کا نام دیا۔

    ڈاکٹر عبدالسلام نے نظری طبیعیات کے میدان میں 300 سے زائد مقالات تحریر کیے، جن میں سے چند کتابی مجموعوں کی صورت میں شائع ہوئے۔ وہ تیسری دنیا کے ممالک میں سائنس کی ترقی کے لیے وکالت کرتے رہے۔

    ڈاکٹر عبدالسلام مختصر علالت کے بعد 21 نومبر 1996ء کو لندن میں انتقال کر گئے۔ (انا للہ و انا الیہ راجعون)۔
    21 نومبر 2024ء کو ڈاکٹر عبدالسلام کو ہم سے بچھڑے 28 برس بیت گئے، لیکن وہ اپنے کام اور نام کی وجہ سے ہمیشہ زندہ رہیں گے، ان شاء اللہ۔

  • گنویری والا: ہڑپہ و موہنجودڑو سے بھی قدیم سرائیکی تہذیب کا مرکز (پہلی قسط)

    گنویری والا: ہڑپہ و موہنجودڑو سے بھی قدیم سرائیکی تہذیب کا مرکز (پہلی قسط)

    گنویری والا: ہڑپہ و موہنجودڑو سے بھی قدیم سرائیکی تہذیب کا مرکز
    تحقیق و تحریر:ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    altafkhandahir@gmail.com
    خلاصہ :یہ آرٹیکل سرائیکی خطے کی قدیم تہذیب و تمدن، خاص طور پر گنویری والا شہر کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ گنویری والا، جو ہڑپہ اور موہنجودڑو سے قدیم ہے، وادی ہاکڑہ کے کنارے واقع ایک عظیم تاریخی مرکز رہا ہے۔ آرٹیکل میں علم آثار قدیمہ کی اہمیت بیان کی گئی ہے، جو قدیم تہذیبوں اور تمدن کے مطالعے کا ذریعہ ہے اور یہ آرٹیکل تین اقساط پر مشتمل ہے .

    پہلی قسط کا خلاصہ
    سرائیکی وسیب کی قدیم تہذیب و تمدن، خاص طور پر گنویری والا شہر، تاریخی، ثقافتی، اور آثارِ قدیمہ کے حوالے سے غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے۔ گنویری والا، جو ہڑپہ اور موہنجودڑو سے بھی قدیم ہے، سرائیکی خطے کے تاریخی ورثے کی شناخت کا مرکز ہے۔
    آرٹیکل میں علم آثار قدیمہ کی اہمیت، سرائیکی وسیب کے تاریخی پس منظر، گمشدہ شہروں کی دریافت، اور ان کی ثقافتی و تمدنی اقدار کو اجاگر کیا گیا ہے۔ وادی ہاکڑہ اور گنویری والا کی کھدائی سے حاصل ہونے والی معلومات نہ صرف ماضی کی تہذیب کی عکاسی کرتی ہیں بلکہ اس خطے کی موجودہ شناخت اور ترقی کے لیے تحقیق اور تحفظ کی ضرورت پر بھی زور دیتی ہیں۔
    یہ قسط علم، تحقیق، اور ورثے کی حفاظت کی اہمیت پر روشنی ڈالتی ہے، جبکہ سرائیکی وسیب کے امن، محبت، اور ثقافتی اقدار کو اجاگر کرتی ہے۔

    پہلی قسط

    علم آثارقدیمہ کی ریسرچ تھیوری سے سرائیکی قدیم تہذیب وتمدن کا تاریخی پس منظر اور اہمیت
    تحقیق کا مطلب عشق و محبت کی وہ قیمت ہے جو قدیم بوسیدہ کتابوں کے اوراق پر چھپی مٹی کی خوشبو، نیند کی قربانیوں اور صحرائے چولستان کی نہ ختم ہونے والی تپتی ریت پر پوشیدہ قیمتی خزانوں کی تلاش میں ادا کی جاتی ہے۔ غور و فکر اور فلاح انسانیت کا فلسفہ تمام مذاہب کا مشترکہ پیغام ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کے بے شمار راز آسمان و زمین میں پوشیدہ رکھے ہیں اور علم ان رازوں کو سمجھنے کا اعلی ترین ذریعہ ہے۔علم کے تین حروف میں "ع” عشق، "ل” لطافت اور "م” محبت کی علامت ہیں۔

    قرآن مجید رب العالمین کا زندہ معجزہ ہے جو علم وعرفان اور حکمت کا سرچشمہ ہے۔اللہ تعالیٰ کے پاک فرمان کا مفہوم یہ ہے کہ علم کی طلب رکھنے والے اور اس سے منہ موڑنے والے برابر نہیں ہو سکتے۔علم کے متلاشی زندہ دل ہیں جبکہ علم سے غافل افراد گویا مردہ ہیں۔نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے: "علم مومن کی گمشدہ میراث ہے، جہاں سے ملے اسے حاصل کرو۔” یہ فرمان اپنی بےمثال جامعیت اور حکمت کے سبب رحمت العالمین کی عظمت کا واضح ثبوت ہے۔

    "آثار قدیمہ” یا "آرکیالوجی” وہ علم ہے جو بطنِ زمین میں دفن قدیم تہذیبوں، گمشدہ شہروں اور ان کے آثار کو منظر عام پر لاتا ہے۔ آثار قدیمہ کے مطالعے سے ہمیں ماضی کی تہذیب، تمدن،تاریخ،ادب،فنون، رہن سہن،وصیت نصحیت، پالیسی، عملی حکمت و دانش،زبان، روایات اور رسم و رواج کا علم ہوتا ہے۔ ان دریافتوں میں سکّے، کھنڈرات، مٹی کے برتن، پتھروں کی تختیاں، مخطوطات، ہڈیاں، مجسمے، زیورات، اوزار، اور دیگر قیمتی نوادرات شامل ہیں۔ اسی لیے آرکیالوجی کو تمام علوم کی ماں کہا جاتا ہے۔

    سرائیکی وسیب میں روہی چولستان کی وادی ہاکڑہ جو ہزاروں سال پرانی تہذیب اور تمدن کا مرکز رہا ہے، ایک اہم آثار قدیمہ کی جگہ ہے۔ گمشدہ شہر "گنویری والا” اسی وادی کا ابتدائی حصہ ہے، جو قدیم دریائے سرسوتی کے میٹھے پانی سے سیراب ہوتا تھا۔ معروف محقق اور دانشور سید نور الحسن ضامن بخاری احمدپوری نے اپنی کتاب معارف سرائیکی میں اس جگہ کو قرآن مجید کی سورۃ الفرقان میں مذکور "اصحاب الرس” کے مقام سے منسلک کیا ہے۔

    قرآن مجید میں ذکر کی گئی مختلف اقوام کے عروج و زوال کے قصے آج بھی ہمیں حقیقت کی طرف لے جاتے ہیں۔ گنویری والا، جو اب خاموشی سے زمین کے نیچے دفن ہے، قلعہ ڈیراور سے تقریباً 55 کلومیٹر جنوب مغرب کی جانب واقع ہے۔یہ مقام اپنی تاریخی تہذیبی،تمدنی اور ثقافتی اقدار کے خزانے کے ساتھ آج بھی تحقیق کا منتظر ہے اور موجودہ چولستانی جیپ ریلی کا مرکز ہونے کی وجہ سے دنیا کی توجہ کا محور بنتا جا رہا ہے۔

    گنویری والا شہر کے حوالے سے یہ معلومات قابل ذکر ہیں کہ اس کا پہلی بار ذکر آرکیالوجسٹ سر آئرل سٹین نے 1941ء میں کیا۔انہوں نے موہنجوداڑو، ہڑپہ،رحمان ڈھیری، پتن منارہ، قلعہ ڈیراور، بی بی جند وڈی کا مقبرہ، قلعہ بل اوٹ، سوئی وہاڑ، جلیل پور، مہرگڑھ، اوچ، ملتان اور پاکستان بھر کے آثار قدیمہ کی ابتدائی کھدائی کے پراجیکٹس میں حوالہ دیا۔

    سرائیکی خطے کے قدیم چولستانی حکمران راجپوت قبائل کے بارے میں ایک کہاوت عام ہے جس میں آٹھ قوموں کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ قومیں آج بھی دریائے سندھ کے دونوں کناروں اور روہی میں آباد ہیں۔تاریخی کتب میں درج ہے کہ سکندر مقدونی کو ملتان میں "خونی برج” کے مقام پر سرائیکی ملہی قوم کے ایک بہادر سپہ سالار نے زہریلے خنجر یا تیر سے شدید زخمی کیا، جس کے نتیجے میں وہ ہلاک ہوا۔

    سرائیکی وسیب آج بھی صوفی ازم، امن، اور زراعت کے لحاظ سے مالا مال ہے۔اس کی معاشی خوشحالی حملہ آوروں کے لیے قبضہ گیری اور قتل گاہ ثابت ہوئی۔ ملتان شہر کی تاریخی تہذیب کے حوالے سے سرائیکی کہاوت مشہور ہے: "جئیں نہ ڈٹھا ملتان نہ او ہندو نہ او مسلمان۔” اردو کی ایک مشہور ضرب المثل بھی ملتان کی اہمیت بیان کرتی ہے: "آگرہ اگر، دلی مگر، ملتان سب کا پدر۔”

    روہی چولستان، دمان، تھل اور راوا جیسے علاقے سرائیکی وسیب کی چھ سے سات ہزار سال پرانی تہذیب کی گواہی دیتے ہیں۔امن، محبت،اتحاد،عدم تشدد،تصوف،خلوص،فطرت سے پیار،احترام آدمیت،مٹھاس،برداشت،صبروتحمل،فنونِ لطیفہ سے عشق،دستکاری اور ہنر مندی اس خطے کے اہم موضوعات اور نمایاں خصوصیات ہیں۔

    سرائیکی قدیم چولستانی حکمرانوں کے حوالے سے ایک مشہور کہاوت کا نمونہ ملاحظہ کریں"جہاں اتحاد، بہادری اور خلوص ہو، وہاں عظیم قومیں جنم لیتی ہیں۔”

    سنگلی جنہاں دی ڈاڈی سوڈھی جنہاں دی ماء
    ملہی جنڑے پنج پتر ڈاھر،بھٹہ،لنگاہ،نائچ، شجراء

    آج کا روہی چولستان سرائیکی وسیب ایک مرتبہ پھر دنیا کو امن و رواداری،معاشی خوشحالی،تعمیر نو اور ترقی کی ضمانت دینے کا خوبصورت گیت گا کر سنا رہا ہے۔روہی چولستان گنویری والا شہر کی بنیادی تہذیب وتمدن سرائیکی وسیب کی اپنی ہے۔یہ تہذیب باہر سے آکر آباد نہیں ہوئی ہے۔
    جاری ہے۔

  • کشمیر اور بھارت کا نام نہاد جمہوری چہرہ .تحریر: جان محمد رمضان

    کشمیر اور بھارت کا نام نہاد جمہوری چہرہ .تحریر: جان محمد رمضان

    بھارت اپنے آپ کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے طور پر پیش کرتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کا جمہوری چہرہ دن بدن زیادہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ یہ صرف ایک دھوکہ ہے۔ بھارت میں جمہوریت، سیکولرازم اور انسانی حقوق کی دعوے صرف لفظوں تک محدود ہیں اور ان دعووں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور اقلیتوں کے ساتھ بدترین سلوک نے بھارت کے جمہوری دعووں کو ایک کھلا جھوٹ ثابت کر دیا ہے۔مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ کئی دہائیوں سے بھارت کی فورسز کشمیریوں پر ظلم و ستم ڈھا رہی ہیں۔ 7 دہائیوں سے کشمیری عوام بھارت کی حکمرانی کے تحت نہ صرف اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں بلکہ ان کے انسانی حقوق کی بدترین پامالی بھی کی جا رہی ہے۔ ہر روز کشمیری عوام کو بھارتی فورسز کی جانب سے طاقت کا استعمال، گرفتاریوں، جبری گمشدگیوں اور تشدد کا سامنا ہے۔

    ان تمام مظالم کے باوجود کشمیری عوام نے کبھی بھی اپنی آزادی کی جدوجہد سے پیچھے قدم نہیں اٹھایا۔ بھارت نے انہیں اپنے حقِ خودارادیت سے محروم کیا ہے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کو مسلسل نظرانداز کیا ہے جو کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیتی ہیں۔جب بھارت یومِ جمہوریہ مناتا ہے، تو یہ دن کشمیری عوام کے لئے یومِ سیاہ بن چکا ہے۔ بھارت کی جمہوریت کا دعویٰ کشمیری عوام کے لئے ایک مذاق بن چکا ہے، کیونکہ بھارت نے ان کے جمہوری اور انسانی حقوق کو مسلسل غصب کر رکھا ہے۔ کشمیری عوام نے تیسری نسل تک اپنی آزادی کی جدوجہد کو جاری رکھا ہے اور اس دوران بے شمار جانوں کی قربانی دی ہے۔

    کشمیری عوام کا ایک ہی مطالبہ ہے: اپنے حقِ خودارادیت کا حق حاصل کرنا۔ اس حق کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت تسلیم کیا جا چکا ہے، لیکن بھارت نے مسلسل اس مطالبے کو نظرانداز کیا ہے۔ اقوام متحدہ اور عالمی برادری پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بھارتی مظالم کا نوٹس لیں اور کشمیریوں کو ان کا حق دلانے کے لئے فوری اقدامات کریں۔کشمیری عوام کی یہ جدوجہد عالمی سطح پر ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ بھارت کی جانب سے جاری ظلم و ستم کو روکنا اور کشمیری عوام کو ان کے حقوق دینا عالمی برادری کی اولین ترجیح ہونی چاہئے۔

    بھارت کا جمہوریت اور سیکولرازم کا دعویٰ صرف ایک دکھاوا ہے، جو کشمیری عوام اور بھارت کی اقلیتوں کے حقوق کو پامال کرنے کے عمل کو چھپانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ یومِ جمہوریہ کا دن کشمیری عوام کے لئے ایک لمحہ افسوس ہے کیونکہ اس دن بھارت اپنی جمہوریت کے دعوے کے بجائے کشمیریوں کی آزادی کو نظرانداز کرتا ہے۔ عالمی برادری کو بھارتی مظالم کے خلاف آواز بلند کرنی ہوگی اور کشمیریوں کو ان کا حقِ خودارادیت دلانے کے لئے بھارت پر دباؤ ڈالنا ہوگا۔

    jaan

  • پیکا ایکٹ کیا ہے۔۔ کیوں ضروری ہے؟ تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    پیکا ایکٹ کیا ہے۔۔ کیوں ضروری ہے؟ تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    وفاقی حکومت نے پیکا ایکٹ میں ترمیم کا بل قومی اسمبلی میں پیش کر دیا جس کا مسودہ منظر عام پر آگیا ہے۔
    مجوزہ ترمیم کے تحت حکومت ڈیجیٹل رائٹس پروٹیکشن اتھارٹی قائم کرے گی، ڈی آر پی اے کو سوشل میڈیا مواد کو ’ریگولیٹ‘ کرنے کا اختیار ہوگا۔

    اتھارٹی پیکا ایکٹ کے تحت شکایات کی تحقیقات اور مواد تک رسائی کو ’بلاک‘ یا محدود کرنے کی مجاز بھی ہوگی۔
    پیکا ترمیمی بل2025 کے مسودے کے مطابق اتھارٹی کے پاس سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو مواد ہٹانےکی ہدایت کا اختیار ہوگا۔نظریہ پاکستان کے خلاف کوئی بھی مواد ہٹانے کا اختیاراتھارٹی کے پاس ہوگا، عوام کو قانون،اداروں، ریاست کیخلاف اُکسانے والی پوسٹ ہٹانے کا اختیار ہوگا۔،اس کے علاوہ دہشت، خوف پھیلانے والی پوسٹ رکھنے والوں کیخلاف کارروائی کااختیاراور اسمبلی میں حدف شدہ الفاظ کہیں پوسٹ یا نشر کرنا قابل سزا جرم ہوگا۔آج کے ڈیجیٹل دور میں، جہاں انٹرنیٹ نے انسانی زندگی کو بے حد آسان بنایا ہے، وہاں اس نے چیلنجز اور مسائل کا ایک نیا باب بھی کھول دیا ہے۔ انٹرنیٹ کے بے تحاشہ استعمال کے ساتھ ساتھ جرائم کی نئی شکلیں بھی سامنے آئی ہیں، جن میں آن لائن ہراسانی، جعلی خبروں کی تشہیر، سائبر بُلنگ، اور ڈیجیٹل فراڈ شامل ہیں۔ ان تمام مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے، حکومتِ پاکستان نے پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 (پیکا ایکٹ) متعارف کروایا۔ اس قانون کا مقصد انٹرنیٹ پر ہونے والے جرائم کی روک تھام اور ان کے سدباب کو یقینی بنانا ہے۔

    پاکستان میں انٹرنیٹ کے استعمال میں پچھلے چند سالوں میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، آن لائن شاپنگ، اور ای میلز کے ذریعے معلومات کا تبادلہ روزمرہ کی زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ لیکن اس تیزی سے بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل ماحول میں جرائم پیشہ افراد نے بھی اپنی سرگرمیاں بڑھا دی ہیں۔ اسی صورتحال کو قابو میں لانے کے لیے پیکا ایکٹ متعارف کروایا گیا تاکہ سائبر کرائمز سے نمٹا جا سکے اور شہریوں کے ڈیجیٹل حقوق کا تحفظ کیا جا سکے۔پیکا ایکٹ کے تحت مختلف جرائم کی وضاحت اور ان کی سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔ ان میں سے چند اہم شقیں درج ذیل ہیں:
    اگر کوئی شخص انٹرنیٹ کے ذریعے کسی کو ہراساں کرتا ہے، تو اسے سزا دی جائے گی۔
    فرقہ وارانہ یا مذہبی منافرت پھیلانے والے مواد کی اشاعت پر سخت کارروائی کی جائے گی۔ جعلی خبریں: جھوٹی معلومات یا افواہیں پھیلانے پر سخت سزا کا تعین کیا گیا ہے۔
    غیر اخلاقی مواد: فحش مواد کی تشہیر یا کسی کی نجی زندگی میں مداخلت قابل سزا جرم ہے۔
    ڈیجیٹل فراڈ: آن لائن مالی دھوکہ دہی یا ہیکنگ جیسے جرائم پر سخت سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔
    ڈیٹا چوری: کسی کے ذاتی یا کاروباری ڈیٹا کو چرا کر غیر قانونی استعمال کرنا جرم ہے۔

    پیکا ایکٹ کیوں ضروری ہے؟پیکا ایکٹ کی ضرورت اور اہمیت کو کئی حوالوں سے سمجھا جا سکتا ہے:انٹرنیٹ کی دستیابی اور آسان رسائی کے باعث سائبر کرائمز کی شرح میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان میں لوگ روزانہ جعلی اکاؤنٹس، مالی دھوکہ دہی، اور آن لائن ہراسانی جیسے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ پیکا ایکٹ ان مسائل کا قانونی حل فراہم کرتا ہے۔ڈیجیٹل دنیا میں لوگ اکثر اپنی پرائیویسی کے حوالے سے غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ پیکا ایکٹ شہریوں کی ذاتی معلومات کے تحفظ کو یقینی بناتا ہے اور ان کے ڈیجیٹل حقوق کا دفاع کرتا ہے۔سوشل میڈیا پر جھوٹی خبریں اور افواہیں نہ صرف معاشرتی انتشار پیدا کرتی ہیں بلکہ سیاسی اور مذہبی کشیدگی کا بھی سبب بنتی ہیں۔ پیکا ایکٹ کے ذریعے ان جرائم کا سدباب ممکن ہے۔پیکا ایکٹ نفرت انگیز مواد اور فرقہ واریت پھیلانے والے افراد کے خلاف کارروائی کرتا ہے، جو کہ ایک پرامن معاشرے کے قیام کے لیے ضروری ہے۔پاکستان میں ای کامرس اور ڈیجیٹل کاروبار کی ترقی کے لیے ایک محفوظ آن لائن ماحول ضروری ہے۔ پیکا ایکٹ کے ذریعے کاروباری افراد اور صارفین کو اعتماد ملتا ہے کہ ان کے مالی لین دین محفوظ ہیں۔پیکا ایکٹ کی افادیت کے باوجود، اس پر تنقید بھی کی جاتی ہے۔ بعض حلقے اس قانون کو آزادیٔ اظہارِ رائے کے خلاف قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق، حکومت اس قانون کا استعمال مخالفین کو دبانے کے لیے کر سکتی ہے۔ مزید یہ کہ، قانون کے نفاذ میں بعض اوقات تفتیشی ادارے اپنی حدود سے تجاوز کر جاتے ہیں، جس سے شہریوں کی نجی زندگی متاثر ہوتی ہے۔

    پیکا ایکٹ کو مؤثر بنانے کے لیے درج ذیل اقدامات ضروری ہیں:
    1. شفافیت کو یقینی بنانا: قانون کے استعمال میں شفافیت اور غیرجانبداری کو یقینی بنایا جائے۔
    2. تربیت یافتہ عملہ: سائبر کرائمز کی تحقیقات کے لیے تربیت یافتہ افراد کو تعینات کیا جائے۔
    3. آگاہی مہمات: عوام کو ان کے ڈیجیٹل حقوق اور سائبر کرائمز سے بچاؤ کے طریقوں سے آگاہ کیا جائے۔
    4. عدالتی نظام میں بہتری: سائبر کرائمز کے مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے عدالتوں میں خصوصی سیل قائم کیے جائیں۔پیکا ایکٹ ایک ایسا قانونی فریم ورک ہے جو ڈیجیٹل دور میں شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ اگرچہ اس قانون پر تنقید اور خدشات موجود ہیں، لیکن ان کو دور کر کے اسے ایک مؤثر اور منصفانہ قانون بنایا جا سکتا ہے۔ انٹرنیٹ کے بڑھتے ہوئے استعمال کے پیش نظر، پیکا ایکٹ کا نفاذ پاکستان کے معاشرتی اور اقتصادی استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔ اس کے ذریعے نہ صرف شہریوں کے حقوق کا تحفظ ممکن ہے بلکہ ایک پرامن اور محفوظ ڈیجیٹل معاشرہ بھی تشکیل دیا جا سکتا ہے

  • مافیا کی مفت بجلی، عوام پر بوجھ، ذمہ دار کون؟

    مافیا کی مفت بجلی، عوام پر بوجھ، ذمہ دار کون؟

    مافیا کی مفت بجلی، عوام پر بوجھ، ذمہ دار کون؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    پاکستان میں توانائی بحران ایک دیرینہ مسئلہ چل رہا ہے لیکن گذشتہ روز میڈیا کے ذریعے سامنے آنے والی خبر کے انکشافات نے اس بحران کی جڑوں کو مزید عیاں کر دیا ہے۔ قومی اسمبلی میں پیش کی گئی دستاویزات کے مطابق ہر سال پبلک اور کارپوریٹ سیکٹر کے دو لاکھ ملازمین کو 44 کروڑ 15 لاکھ یونٹس مفت بجلی فراہم کی جاتی ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ حاضر سروس ملازمین کے لیے 30 کروڑ 82 لاکھ یونٹس اور ریٹائرڈ ملازمین کے لیے 13 کروڑ 32 لاکھ یونٹس مختص کیے گئے ہیں۔

    یہ مراعات ایک ایسے وقت میں دی جا رہی ہیں جب ملک کو توانائی کے شدید بحران کا سامنا ہے اور عوام مہنگے بجلی بلوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔واپڈا، جینکو، ڈیسکوز اور این ٹی ڈی سی جیسے ادارے اپنے لاکھوں ملازمین کو یہ سہولت فراہم کر رہے ہیں۔ ان دستاویزات کے مطابق ڈیسکوز کے 1 لاکھ 49 ہزار ملازمین، جینکو کے 12 ہزار ملازمین، واپڈا کے 12 ہزار 700 ملازمین، پی آئی ٹی سی کے 159 ملازمین اور این ٹی ڈی سی کے 20 ہزار ملازمین شامل ہیں۔ یہ مراعات ریٹائرڈ ملازمین کو بھی فراہم کی جا رہی ہیں، جس سے قومی خزانے کو سالانہ اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔

    سوال یہ ہے کہ کیا ایک معاشی بحران سے دوچار ملک ایسے اخراجات کا متحمل ہو سکتا ہے؟واپڈا کے ملازمین کو ان کی خدمات کے بدلے میں مختلف مراعات حاصل ہوتی ہیں جن میں مفت بجلی بھی شامل ہے۔ تاہم اس مراعت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے بہت سے واپڈا کے کرپٹ ملازمین بجلی کی چوری میں بھی ملوث پائے گئے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق واپڈا کے ہزاروں ملازمین کو مفت بجلی فراہم کی جاتی ہے، یہ تعداد اتنی زیادہ ہے کہ اس سے قومی خزانے کو کافی نقصان پہنچ رہا ہے۔ اس کے علاوہ واپڈا کے ریٹائرڈ ملازمین کو بھی مفت بجلی کی سہولت حاصل ہے۔

    پاکستان میں بجلی چوری ایک ایسا مسئلہ ہے جو نہ صرف عام بلکہ منظم سطح پر کیا جا رہا ہے۔ ہر سال کروڑوں روپے کی بجلی چوری ہوتی ہے جو اب اربوں روپے تک جا پہنچی ہے۔ بجلی چوری کے طریقے جیسے غیر قانونی کنکشن، میٹر میں گڑبڑ اور ٹرانسفارمرز سے بجلی لینا عام سی بات ہوچکی ہے ،اس ساری چوری اور کرپشن کی کڑیاں واپڈا ملازمین سے جاملتی ہیں۔ اس سے بھی زیادہ تشویش ناک بات یہ بھی ہے کہ بجلی چوری میں صرف عام افراد ہی نہیں بلکہ بااثر سیاسی شخصیات، صنعتکاراور بڑے تاجر بھی ملوث ہیں۔ ان افراد کا سیاسی اثر و رسوخ اور سرکاری اہلکاروں سے گٹھ جوڑ انہیں قانون کے شکنجے سے بچا لیتا ہے۔

    حکومت بجلی چوری کے مسئلے کو حل کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے۔ بجلی ڈسٹری بیوشن کمپنیاں اور نیپرا اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے تاکہ بجلی کے گردشی قرضے ادا کیے جا سکیں جو اصل میں چوری شدہ یا مفت فراہم کی گئی بجلی کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں۔

    یہ مسئلہ عوام کے لیے مزید مشکلات کا سبب بن رہا ہے کہ کم آمدنی والے افراد پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پسے جاچکے ہیں اور بجلی کے بڑھے ہوئے بلوں نے ان کی زندگی کو مزید اجیرن بنا کر رکھ دیا ہے۔ کرپشن میں ڈوبی واپڈا کی افسر شاہی نے سردیوں میں بجلی کے کم استعمال کا فائدہ بھی عوام کو نہ اٹھانے دیا۔ جن شہریوں کے میٹرز پر بجلی کا معمولی استعمال ہوا ، انہیں بھی بجلی چوری کا ڈیٹکشن بل بھیج کر ایک نئی پریشانی میں مبتلا کر دیا گیا۔

    دوسری طرف رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیاکہ سرکاری دفاتر میں ایئر کنڈیشنرز اور دیگر آلات کا غیر ضروری استعمال بجلی کے ضیاع کا ایک بڑا سبب ہے۔عوام حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ بجلی چوری کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں اور مفت بجلی کی فراہمی ختم کی جائے۔بجلی کی قیمتوں میں اضافے کو روکا جائے، شفافیت اور احتساب کو یقینی بنایا جائے اور سرکاری اداروں کو مفت بجلی کی غیر ضروری مراعات ختم کی جائیں۔

    بجلی چوری کے خلاف سخت قوانین نافذ کیے جائیں، بجلی چوری میں ملوث افراد کو سخت سزائیں دی جائیں اور قانون کی گرفت مضبوط بنائی جائے۔ واپڈا اور دیگر اداروں میں شفافیت لانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل میٹرنگ کا نظام متعارف کرایا جائے اور ان سے بھی بل وصول کئے جائیں۔

    ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان میں توانائی کا بحران کرپشن اور ناقص انتظام کا شاخسانہ ہے،مافیا کی مفت بجلی اور عوام پر اضافی بوجھ ایک ایسے نظام کی عکاسی کرتا ہے جو کرپشن اور نااہلی کا شکار ہے۔ حکومت کو فوری طور پر مفت بجلی کی مراعات ختم کر کے قومی وسائل کو بچانے کے لیے مئوثر اقدامات کرنے چاہئیں۔ بجلی چوری پر سخت قوانین نافذ کیے جائیں اور شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔

    عوام پر بوجھ ڈالنے کے بجائے توانائی کی منصفانہ تقسیم اور پائیدار نظام قائم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ یہ وقت کا تقاضا ہے کہ مافیا کے اثر و رسوخ کو ختم کر کے عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کیا جائے۔

  • پاکستان میں انسانی سمگلنگ: وزیراعظم  کیلئے ایک سنگین چیلنج ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    پاکستان میں انسانی سمگلنگ: وزیراعظم کیلئے ایک سنگین چیلنج ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    پاکستان میں انسانی سمگلنگ کا مسئلہ ایک ایسا موضوع ہے جس نے گزشتہ کئی دہائیوں سے حکومتوں، سوسائٹی، اور بین الاقوامی سطح پر توجہ کا مرکز بن رکھا ہے۔ انسانی سمگلنگ ایک سنگین جرم ہے جس کا شکار بیشتر افراد غربت، بے روزگاری، اور کمزوری کے شکار ہوتے ہیں، اور اس کے نتیجے میں نہ صرف ان کی زندگیوں کا مستقبل تباہ ہو جاتا ہے، بلکہ پورے معاشرتی نظام میں انتشار پیدا ہوتا ہے۔ انسانی سمگلنگ کا تدارک حکومت کے لیے ایک چیلنج بن چکا ہے، اور اس کے خاتمے کے لیے مؤثر حکمت عملی کی ضرورت ہے۔پاکستان میں انسانی سمگلنگ کے شکار افراد کی اکثریت خواتین اور بچوں پر مشتمل ہوتی ہے، جنہیں یا تو جنسی استحصال، جبری مشقت، یا دیگر غیر قانونی مقاصد کے لیے اغوا کیا جاتا ہے۔ انسانی سمگلنگ کا یہ عمل سرحدوں کے اندر اور بین الاقوامی سطح پر بھی ہوتا ہے، جہاں پاکستانی شہریوں کو دوسرے ممالک میں غیر قانونی طور پر منتقل کیا جاتا ہے اور انہیں مختلف قسم کی غیر انسانی سرگرمیوں میں ملوث کیا جاتا ہے۔پاکستان کے مختلف حصوں سے انسانی سمگلنگ کے شکار افراد کو اغوا کیا جاتا ہے اور انہیں غیر قانونی طریقوں سے بیرون ملک بھیجا جاتا ہے۔ ان افراد کو ٹریفکنگ، جبری مشقت، اور جنسی زیادتی جیسے جبر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ، سمگلرز ان افراد کو انسانی اعضاء کی تجارت یا دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں بھی ملوث کرتے ہیں۔غربت اور بے روزگاری: پاکستانی معاشرہ ایک ایسی صورتحال کا سامنا کر رہا ہے جہاں معاشی حالات بہت زیادہ خراب ہیں۔ زیادہ تر افراد خاص طور پر دیہاتوں میں غربت کے باعث بہتر زندگی کے لیے کسی بھی خطرے کو گوارا کر لیتے ہیں۔ ایسے لوگ انسانی سمگلروں کے جال میں پھنس جاتے ہیں، جو انہیں بہتر زندگی کا وعدہ کر کے اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔تعلیمی کمی اور آگاہی کی کمی: پاکستان میں تعلیمی شرح کم ہونے کی وجہ سے بہت سے لوگ انسانی سمگلنگ کے خطرات سے واقف نہیں ہوتے۔ اس کمی کی وجہ سے لوگ آسانی سے سمگلروں کے جھانسے میں آ جاتے ہیں اور اپنی زندگیوں کو داؤ پر لگا دیتے ہیں۔ پاکستان میں انسانی سمگلنگ کے خلاف مؤثر قوانین کی کمی اور ان پر عمل درآمد میں مشکلات ہیں۔ بیشتر سمگلروں کے خلاف کارروائیاں ناقص رہتی ہیں، اور یہ جرائم بااثر افراد کی پشت پناہی کی وجہ سے اجتناب پاتے ہیں۔انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے ذریعے سمگلنگ کے واقعات میں تیزی آئی ہے۔ نوجوانوں کو آن لائن اشتہارات اور جھوٹے وعدوں کے ذریعے بہکایا جاتا ہے اور انہیں غیر قانونی راستوں پر بھیجا جاتا ہے۔انسانی سمگلنگ کے اثرات نہ صرف متاثرہ افراد پر بلکہ پورے معاشرتی ڈھانچے پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ ان افراد کی زندگیوں کو تباہ کر دیا جاتا ہے، اور ان کے جسمانی، ذہنی اور جذباتی صحت پر طویل مدتی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ان کی آزادی چھین لی جاتی ہے اور انہیں جبری مشقت، جسمانی تشدد، اور جنسی استحصال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    علاوہ ازیں، انسانی سمگلنگ پاکستان کی عالمی شہرت کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔ اس کے باعث دنیا بھر میں پاکستان کی تصویر ایک غیر محفوظ ملک کے طور پر ابھرتی ہے، جو بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی معیشت اور سماجی صورتحال پر منفی اثرات ڈالتی ہے۔حکومت کے لیے چیلنج پاکستان میں انسانی سمگلنگ کا تدارک حکومت کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے مختلف سطحوں پر اقدامات کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے حکومت کو کئی شعبوں میں مؤثر حکمت عملی اپنانا ہوگی۔

    قانونی اصلاحات اور ان کا مؤثر نفاذپاکستان میں انسانی سمگلنگ کے خاتمے کے لیے سب سے اہم اقدام قانون سازی ہے۔ حکومت کو ایسے قوانین بنانے کی ضرورت ہے جو سمگلنگ کے حوالے سے سخت سزائیں اور مؤثر تحقیقات کو یقینی بنائیں۔ اس کے علاوہ، ان قوانین پر سختی سے عمل درآمد کیا جانا چاہیے تاکہ سمگلروں کو کسی بھی قسم کی پناہ نہ مل سکے۔ عوامی آگاہی اور تعلیم عوامی آگاہی بڑھانے کے لیے مختلف میڈیا پلیٹ فارمز کا استعمال کیا جانا چاہیے۔ عوامی شعور کو بڑھانے کے لیے حکومتی اداروں اور غیر سرکاری تنظیموں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ تعلیمی اداروں میں اس موضوع پر سیمینارز، ورکشاپس اور آگاہی پروگرامز چلائے جا سکتے ہیں تاکہ لوگ اس مسئلے کی نوعیت اور اس کے خطرات سے آگاہ ہوں۔

    معاشی ترقی اورروزگار کے مواقع اگر حکومت معاشی ترقی کی طرف قدم بڑھائے اور روزگار کے مواقع فراہم کرے، تو لوگوں کو اپنی زندگی کی بہتر حالت حاصل کرنے کے لیے غیر قانونی راستوں کا سہارا نہیں لینا پڑے گا۔ معاشی ترقی کے ذریعے لوگوں کے لیے جائز روزگار کے مواقع فراہم کیے جا سکتے ہیں، جس سے انسانی سمگلنگ کے واقعات میں کمی آ سکتی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر تعاون ،پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر انسانی سمگلنگ کے خلاف تعاون کو مزید بڑھانا ہوگا۔ مختلف ممالک کے ساتھ مل کر مشترکہ حکمت عملی تیار کی جا سکتی ہے، تاکہ سمگلنگ کے نیٹ ورک کو عالمی سطح پر ناکام بنایا جا سکے۔ ٹیکنالوجی کا استعمال انسانی سمگلنگ کے خلاف جنگ میں اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ جدید نگرانی سسٹمز، ڈیٹا بیس، اور دیگر ٹیکنالوجیز کے ذریعے سمگلنگ کے نیٹ ورک کو پکڑنے اور ان کے خلاف کارروائی کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔انسانی سمگلنگ ایک سنگین مسئلہ ہے جس کا تدارک حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ اس کے خاتمے کے لیے مؤثر قوانین، عوامی آگاہی، معاشی ترقی اور بین الاقوامی تعاون کی ضرورت ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف حکومت کو اس مسئلے کے تدارک کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانے ہوں گے تاکہ انسانی سمگلنگ کی لعنت کو ختم کیا جا سکے اور پاکستان کو اس سنگین مسئلے سے نجات دلائی جا سکے۔

    shahid naseem

  • قدیم چولستان : سرائیکی تہذیب  کے منفرد رنگ،چوتھی قسط

    قدیم چولستان : سرائیکی تہذیب کے منفرد رنگ،چوتھی قسط

    قدیم چولستان : سرائیکی تہذیب کے منفرد رنگ
    تحقیق و تحریر:ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    altafkhandahir@gmail.com
    اس مضمون میں قدیم چولستان کی وادی ہاکڑہ اور سرائیکی تہذیب کی منفرد جھلکیوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ چار اقساط پر مشتمل اس سلسلے میں سرائیکی ثقافت کی گہرائیوں،رسوم و رواج اور تاریخی ورثے پر روشنی ڈالی گئی ۔
    اس سلسلہ کی چوتھی اور آخری قسط

    چولستان کے چیلنجز،ماحولیاتی مسائل اور ثقافتی بقا
    سرسبز گرین پاکستان کا حسین خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے روہی چولستان کی انسانی،حیوانی اور نباتاتی خوشحالی اور تعمیر نو سے سرائیکی مقامی آبادی معاشی ترقی حاصل کرے گی۔چولستانی دستکاریوں میں اونٹ کی کھال سے تیار کردہ اشیاء،کھجور کے پتوں کی بُنائی سے خوبصورت قابل استعمال گھریلو چیزیں اور ریت سے بنے گلدان شامل ہیں۔مقامی فنون میں چراغوں پر مصوری اور شطرنج کے بورڈز خاص اہمیت رکھتے ہیں۔پانی کی تقسیم اور اونٹنیوں کی گود بھرائی جیسے منفرد تہوار اس علاقے کے عوامی اتحاد اور ثقافت کی عکاسی کرتے ہیں۔

    سرائیکی سابق خوشحال ریاست بہاولپور کا خوبصورت روہی چولستان کا رقبہ تین اضلاع بہاول نگر،بہاولپور اور رحیم یار خان موجود بہاولپور ڈویژن پر مشتمل ہے۔روہی چولستان کا کل رقبہ تقریبا ننانوے لاکھ 9900000 میں قابل استعمال رقبہ 25 فیصد ہے۔باقی 75 فیصد رقبہ ناقابل کاشت ہے۔صحرائے چولستان کو دو بڑے حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔چھوٹی روہی اور بڑی روہی کے نام سے جانا جاتاہے۔

    سرسبز گرین پاکستان اور خوشحال چولستان کے لیے مقامی سرائیکی روہیلوں کی مستقل دیرپا رہائش اور قدرتی وسائل و اثاثہ جات کی حفاظت کے لیے مستقل بنیادوں پر حکمت عملی بنانا ہوگی۔چند گزارشات سے روہی چولستان دھرتی کو سرسبز قابل استعمال بنایا جا سکتا ہے۔

    1۔بڑی روہی سے چھوٹی روہی کے درمیان سڑکوں کا جال بچھانا ہوگا۔مقامی سطح پر ثقافتی ورثے کے تحفظ کیلئے اقدامات اٹھانا ہوں گے ۔
    2۔مقامی سرائیکی روہیلوں کو مالکانہ حقوق دینا ہوگے۔
    3۔فوڈز انڈسٹری قائم کرنا ہوگی۔
    ویٹرنری شفاخانہ ویکسین کی بروقت فراہمی یقینی بنانا ہوگی۔
    4۔چکنی مٹی والے ڈاہروں پر نئے پختہ ٹوبھے تعمیر کرنا ہوں گے۔
    5۔چولستان کا زیر زمین کڑوا سمندری پانی میں ماہی پروری کو فروغ دینا ہوگا۔

    6۔قیمتی جڑی بوٹیوں اور معدنیات کے وسائل سے فوائد حاصل کرنے کے لیے چولستان ترقیاتی ادارہ، اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور چولستان ریسرچ ادارہ، بارانی ریسرچ سنٹر،ایگری ریسرچ سنٹر سب کی ایک مشترکہ ریسرچ ورک کونسل قائم کرنا ہوگی۔
    7۔سبز چارہ کے لیے اور حیوانات کی بقاء کے لیے جدید ٹیکنالوجی ادارے قائم کرنا ہوں گے۔
    8۔موسم حریف میں جوار، باجرہ،گوار،تل،سوہانجناہ،ماش دال،پیاز،مرچ،بیر،پیلھوں،پنڈ کھجور اسپغول کو جبکہ موسم ربیع میں سرسوں،رایا،توڑی کی فصلوں کو فروغ دیا جائے تاکہ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہو۔

    9۔سیلاب کے دوران پانی کی رسائی کو چولستان تک پہنچاکر پانی کے میٹھے ذرائع میں بے پناہ اضافہ کیا جاسکتا ہے۔
    10۔خشک سالی کے دوران ٹینکرز کے ذریعے پانی کی بروقت فراہمی سے روہیلوں اور ان کے جانوروں کی زندگی کو بچایا جا سکتا ہے۔
    11۔سخت دھوپ سے سولر انرجی چولستان کے وسیع میدانوں سے حاصل کی جاسکتی ہے۔
    12۔چولستانی روہی کی ریت سے بہترین سلیکا حاصل کیا جاسکتا ہے۔

    13۔چھ سے سات ہزار سال قدیم تہذیب وتمدن وادی ھاکڑہ سرسوتی کے آثار قدیمہ سے قیمتی خزانوں سے مالامال نوادرات کو حاصل کرکے اقوام متحدہ اداروں کی توجہ اور معاشی امداد حاصل کی جاسکتی ہے۔
    14۔قلعہ ڈیراور،گنویری والا،پتن منارہ،دیگر پرانے گمشدہ محلوں اور قلعوں کی تزئین و آرائش سے سیاحت کو فروغ دے کر زرمبادلہ میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

    خواجہ فرید سئیں کی خوبصورت روہی کی خوشحالی کے لئے ٹوبھوں کی تعمیر نو کی شدید خواہش دراصل سرائیکی وسیب میں معاشی ترقی کا خواب حقیقت کا ادراک نئے صوبے کا قیام ہے۔

    پہلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    قدیم چولستان، سرائیکی تہذیب کے منفرد رنگ
    دوسری قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    قدیم چولستان، سرائیکی تہذیب کے منفرد رنگ
    تیسری قسط قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    قدیم چولستان، سرائیکی تہذیب کے منفرد رنگ
    سرائیکی علاقے کی معاشی خوشحالی پاکستان کی بقائے معیشت ہے۔دیوان فرید سرائیکی دراصل سرائیکی خطے راوا،تھل دمان پہاڑ اور روحانی روہی چولستان سے بھریل لسانی و سماجی ورثے کا خوبصورت خزانہ ہے۔سرائیکی قوم کے صحیفے کی حیثیت رکھتا ہے۔روہی سرائیکی قوم کے لیے پریم نگر ہے۔کلام فرید میں حسین رہتل ثقافتی رنگوں کے منفرد نمونے ملاحظہ فرمائیں۔

    ٹوبھا کھٹا ڈے سوہنی جا تاڑ تے
    اوجھا نہ ہووے ساری ماڑ تے

    سوہنے یار باجھوں میڈی نئیں سردی
    تانگھ آوے ودھدی، سک آوے چڑھدی

    پورب للہاوے تے پتالوں پانی آوے

    کیسر بھنڑی چولی چنری
    ول ول مینہہ پساوے
    پورب ماڑ ڈکھن دے بادل
    کوئی آوے کوئی جاوے

    روہی رنگ رنگیلی
    چک کھپ ہار حمیلاں پاوے
    بوٹے بوٹے گھنڈ سہاگوں
    گیت پرم دے گاوے

    پردیسی یارا وا پورب دی گھلے
    ساون مینہ برسات دی واری
    پھوگ پھلی کھپ پھلے
    گاجاں گجکن بجلیاں لسکن
    ذوقوں دلڑی چلے
    چتر سہاگ دا جھلے
    جئے تیئں پانی پلہر نہ کھٹسی
    کون بھلا سندھ جلے

    درد فرید ہمیشہ ہووے
    سارے پاپ دوئی دے دھووے

    تھل چترانگ اندر میں سسی
    بیلیں بیٹیں ہیر

    ساون مینگھ ملہاراں
    سہجوں تھلڑیں مال نہ ماوے
    پیسوں پانی دھاروں دھاری
    ڈیسوں جھوک تراوے

    بدلے دردوں روون
    بجلی اکھ مارے مسکاوے

    کن من کنیاں رم رجھم بادل
    بارش برکے برکے وو!
    کر یار اساں ول آون دی
    اج سہج کنوں اکھ پھرکے وو!

    پریم نگر ہے دیس تمہارا
    پھرتے کہاں اداسی رے

    چولستان روہی کی شاندار رنگ رنگیلی تہذیبی منفرد رسمیں اور اشیاء نہ صرف ان علاقوں کی ثقافتی پہچان ہیں۔بلکہ قدیم سرائیکی ڈیراوری باسیوں کی تخلیقی اختراعات،صلاحیتوں،خوبیوں،صبر و استقامت،امن ومحبت،الگ شناخت کی اعلی مثالیں بھی ہیں۔ان قدیم رسوم و رواج،ریت و روایات اور دستکاریوں کو محفوظ بنانے اور فروغ دینے سے پاکستان کے ثقافتی ورثے کو مضبوطی ملے گی اور فنون لطیفہ کے ہیرٹیج سٹی میں بھی بلند مقام حاصل ہوگا.

    اقوام متحدہ کے آرٹ اینڈ کلچر،آرکیالوجی اداروں کو سرائیکی وسیب کی چھ ہزار سال قدیم تہذیب وتمدن وادی ھاکڑہ سرسوتی کے اہم ثقافتی ورثے کے پاسبان شہر گنویری والا جو وادی سندھ تہذیب وتمدن کے ہڑپہ و موہنجوداڑو کے درمیان کا شہر ہے۔یہاں میوزیم قائم کرنے سے روہی کے قلعہ ڈیراور سمیت قلعوں سے جڑی ثقافتی ورثے کی حفاظت ممکن ہوگی۔نئی نسل اپنے قومی ورثے سے محروم ہونے سے بچ جائے گی۔

    آئے مست ڈیہاڑے ساون دے
    وہ ساون دے من بھاون دے
    بدلے پورب ماڑ ڈکھن دے
    کجلے بھورے سو سو ونڑ دے
    چارے طرفوں زور پونڑ دے
    سارے جوڑ وساونڑ دے
    (خواجہ فرید)

  • بی ایل اے،بی ایل ایف،بلوچستان کی ترقی کی دشمن.تحریر: جان محمد رمضان

    بی ایل اے،بی ایل ایف،بلوچستان کی ترقی کی دشمن.تحریر: جان محمد رمضان

    دہشت گرد تنظیمیں، جیسے بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف)، نہ صرف پاکستان کے امن و سکون کے لیے ایک سنگین خطرہ ہیں، بلکہ یہ تنظیمیں بلوچستان کی ترقی کی دشمن بھی ہیں۔ ان تنظیموں کی دہشت گردانہ سرگرمیاں اور ان کے حملوں نے نہ صرف بلوچستان کے عوام کو شدید مشکلات میں مبتلا کیا ہے بلکہ پورے پاکستان میں خوف و ہراس پھیلایا ہے۔ ان تنظیموں کے وحشیانہ حملوں کی حقیقت اب روز روشن کی طرح واضح ہو چکی ہے۔

    9 نومبر 2024ء کو کوئٹہ میں ہونے والے حملے میں 2 معصوم شہریوں کی شہادت نے ایک بار پھر بی ایل اے اور بی ایل ایف کے وحشیانہ عزائم کو بے نقاب کیا۔ ان شہریوں کے بھائیوں کی آہ و پکار اور دل دہلا دینے والے حقائق نے بلوچستان میں جاری دہشت گردی کے اسباب کو واضح کیا۔ ان حملوں کی حقیقت نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کے عوام کے سامنے آ چکی ہے کہ یہ دہشت گرد تنظیمیں صرف انسانیت کے دشمن ہیں۔

    29 ستمبر 2023ء کو مستونگ میں ایک مسجد کے قریب ہونے والے دھماکے میں 50 سے زائد افراد شہید ہوئے۔ اس دھماکے میں شہید ہونے والی ایک کمسن بچی کا والد اپنی بیٹی کی تصویر ہاتھ میں لیے غم سے نڈھال تھا۔ بی ایل اے نے اس حملے کی ذمے داری خود قبول کی، جو ان کے دہشت گردانہ عزائم کو مزید واضح کرتا ہے۔ اس حملے نے یہ ثابت کر دیا کہ یہ تنظیمیں انسانیت کے خلاف ہیں اور اپنے سیاسی مقاصد کے لیے بے گناہ انسانوں کو نشانہ بناتی ہیں۔

    2024ء میں 33 بلوچوں کی شہادت،گزشتہ برس بھی بی ایل اے اور بی ایل ایف کے دہشت گردوں نے 33 معصوم بلوچوں کی زندگیوں کا خاتمہ کیا۔ بلوچ عوام، طلبہ اور روتی ہوئی مائیں ان دہشت گرد تنظیموں کی درندگی کی شدید مذمت کر رہی ہیں۔ ان واقعات نے بلوچستان کے عوام کو یہ سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ ان تنظیموں کی حقیقت کیا ہے اور وہ کس مقصد کے لیے یہ جانی نقصان کروا رہے ہیں۔

    4 جنوری 2025ء کو تربت میں ہونے والے بس حملے میں ایک نوجوان کی شہادت ہوئی۔ اس حملے کی ذمے داری بھی بی ایل اے نے قبول کی۔ اس نوجوان کی والدہ نے اپنی آہ و پکار کے ذریعے یہ سوال اٹھایا کہ ’’بی ایل اے کے دہشت گردوں نے میرے بیٹے کو بے دردی سے کیوں مارا؟‘‘، اس سوال نے اس بات کو مزید تقویت دی کہ یہ دہشت گرد تنظیمیں بے گناہ انسانوں کی زندگیوں سے کھیل رہی ہیں۔

    بی ایل اے کے دہشت گرد بشیر نے حال ہی میں گرفتاری کے بعد اپنی تنظیم کے بارے میں انکشافات کیے ہیں۔ اس نے بی ایل اے کی حقیقت کو بے نقاب کرتے ہوئے بتایا کہ اس تنظیم کا مقصد صرف تباہی اور خونریزی ہے۔ بشیر کی گواہی نے ان دہشت گرد تنظیموں کے خلاف عوامی شعور کو مزید بیدار کیا ہے اور یہ ثابت کر دیا ہے کہ بی ایل اے اور بی ایل ایف کی کارروائیاں کسی بھی طور پر بلوچ عوام کی خدمت نہیں کر رہیں، بلکہ یہ ان کے خون سے کھیل کر اپنے مقاصد پورے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    پنجاب یونیورسٹی لاہور کے طالب علم، طلعت عزیز، کو بھی بی ایل اے کے دہشت گردوں نے جھانسا دے کر پہاڑوں میں لے گئے۔ ان دہشت گردوں نے اس معصوم طالب علم کی زندگی کو خطرے میں ڈالا اور اس کا اغوا کیا۔ اس واقعے نے اس بات کو مزید اجاگر کیا کہ یہ تنظیمیں صرف بلوچوں کے حقوق کی بات نہیں کر رہیں، بلکہ ان کا مقصد عوامی تعلیم اور ترقی کو بھی روکنا ہے۔

    11 جنوری 2025ء کو بی ایل اے نے تمپ میں 2 بے گناہ شہریوں کو بے دردی سے قتل کیا۔ اس حملے میں 15 سالہ معراج وہاب کی موت نے پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا۔ معراج کے والدین نے اس قتل کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور بی ایل اے کے ’’ریاستی ڈیتھ سکواڈ‘‘ جیسے جھوٹے الزامات کی تردید کی۔ اس واقعے نے یہ ثابت کر دیا کہ ان دہشت گرد تنظیموں کی کارروائیاں بے بنیاد الزامات اور جھوٹ پر مبنی ہیں۔

    ان تمام واقعات کے بعد بلوچستان کے عوام کا عزم مزید مضبوط ہوا ہے کہ وہ ان دہشت گرد تنظیموں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے۔ بلوچ عوام اب خاموش نہیں رہیں گے اور اپنی سرزمین کو دہشت گردوں سے آزاد کرنے کے لیے جدوجہد کریں گے۔ سکیورٹی فورسز بھی اب پوری قوت سے ان دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں اور انہیں انجام تک پہنچائیں گی۔دہشت گرد تنظیمیں بی ایل اے اور بی ایل ایف نے جس طرح بلوچستان اور پاکستان کے دیگر حصوں میں معصوم عوام کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالا ہے، اس کی حقیقت اب پوری دنیا کے سامنے آ چکی ہے۔ ان دہشت گردوں کے وحشیانہ حملے بلوچ عوام کی ترقی اور خوشحالی کے دشمن ہیں، اور ان کی بربریت کا جواب دیا جائے گا۔ سکیورٹی فورسز اور عوام کا عزم مضبوط ہے، اور وہ ان دہشت گردوں کے خلاف اپنا حق چھیننے کے لیے لڑیں گے۔آخر میں، یہ ضروری ہے کہ ہم سب مل کر ان دہشت گرد تنظیموں کی سازشوں کا مقابلہ کریں اور ایک پرامن اور خوشحال پاکستان کی تعمیر کے لیے متحد ہو جائیں۔

    jaan

  • جیل میں قید”مرشد”،ملک ریاض کی پارسائی،حقیقت یا فریب؟.تجزیہ:شہزاد قریشی

    جیل میں قید”مرشد”،ملک ریاض کی پارسائی،حقیقت یا فریب؟.تجزیہ:شہزاد قریشی

    جیل میں قید مرشد پارسا، مرشد کے دوست پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض بھی پارسا،لینڈ مافیا اور قبضہ گروپوں کی پشت پناہی کرنے والے سیاستدان، بیورو کریٹ، بیورو کریسی، اعلیٰ ترین پولیس افسران، سول انتظامیہ اور محکمہ مال کے افسران بھی پارسا، لاہور، کراچی، راولپنڈی میں بطور گفٹ پلاٹ اور کوٹھیاں لینے والے بھی پارسا۔ تمام ادارے پارسا پارسائی کے تمام دعوے دار پھر پاکستان عالمی اداروں کا مقروض کس نے کیا؟ عام آدمی نے؟ پیرخانے بھی مالدار، گدی نشین بھی مالدار، عام آدمی غریب کیوں ہے؟
    کہاں میں اور کہاں یہ آب کوثر سے دھلی خلقت
    میرا تو دم گھٹ رہا ہے ان پارسائوں میں

    کیا ہم کو تسلیم کر لینا چاہئے ملک ریاض نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔ جیل میں قید مرشد سے تو خطا ہو ہی نہیں سکتی۔ بقول شاعر۔
    مجروع قافلے کی مرے داستاں یہ ہے
    رہبر نے مل کر لوٹ لیا راہزن کیساتھ

    سیاسی گلیاروں میں عجب بے معنی شور ہے مشکلات میں گھرے عوام اور پاکستان کو اس بے معنی شور نے اس مقام پر لاکھڑا کیا ہے جس کی توقع نہیں تھی۔ سیاسی گلیاروں میں چمچہ گیری، چاپلوسی اور واہ ہی واہ کرنے والوں اور اپنے ہی سیاسی قائدین کی مخبری کرنے والوں میں اضافہ ہو چکا ہے ذرا سوچئے! ہم کن راہوں پر چل نکلے ہمارا کیا بنے گا؟ وطن عزیز اور اس کے اداروں کی ناقدری نہ کریں غیروں کی سازشوں کا آلہ کار نہ بنیں۔ گھر کے سیاسی جھگڑوں کو لندن اور امریکہ کی پارلیمنٹرین کے سامنے اپنے وطن عزیز اور اداروں کو بدنام کر کے ہم کون سا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں؟ بلوچستان میں پاکستان مخالف قوتیں بالخصوص بھارت مکروہ کھیل میں شریک ہے۔ افغانستان کے راستے پاکستان میں دہشت گردی، پاک فوج اور جملہ ادارے وطن عزیز اور عوام کی سلامتی کے لئے شہید ہو رہے ہیں۔ برطانیہ اور امریکہ میں موجود مرشد کے عاشقان مرشد سے التجا ہے کہ وطن عزیز اور اس کی حفاظت پر مامور اداروں کے خلاف پروپیگنڈہ نہ کریں قوم کب تک محو تماشا رہے گی تاریخ آپ کو کوڑے دان میں پھینک دے گی۔ انہی حرکتوں کی وجہ سے ہم آج تک ترقی پذیر ہیں صدق دل سے وطن عزیز کی ترقی میں ہر آدمی اپنا اپنا کردار ادا کرے ترقی پذیر ممالک یک ترقی کا راز علم، عمل اور قانون کی حکمرانی ہے انصاف ہے۔ قوم کو اپنی پاک فوج اور جملہ اداروں کیخلاف پروپیگنڈہ کرنے والوں کو منہ توڑ جواب دینا ہوگا۔ افغانستان میں موجود دہشت گرد بھارت کی توجہ کا مرکز ہیں پاک فوج ہی جس نے قربانیاں دے کر ان کا راستہ روکا ہوا ہے