Baaghi TV

Category: بلاگ

  • قدیم چولستان : سرائیکی تہذیب  کے منفرد رنگ،تیسری قسط

    قدیم چولستان : سرائیکی تہذیب کے منفرد رنگ،تیسری قسط

    قدیم چولستان : سرائیکی تہذیب کے منفرد رنگ
    تحقیق و تحریر:ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    altafkhandahir@gmail.com
    قارئین کرام !اس مضمون میں قدیم چولستان کی وادی ہاکڑہ اور سرائیکی تہذیب کی منفرد جھلکیوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ یہ چار اقساط پر مشتمل سلسلہ سرائیکی ثقافت کی گہرائیوں، رسوم و رواج اور تاریخی ورثے پر روشنی ڈالے گا۔اس کی تیسری قسط ملاحظہ فرمائیں

    سرائیکی رسوم و رواج،کلام فرید میں روہی کی منفرد رنگینی،تہوار اور روایات
    قسط کا خلاصہ:
    چولستان کی شادمانی،خوشی و غمی تقریبات ثقافتی رنگوں سے مزین رسم و رواج سے بھرپور ہیں۔جن میں جھمر رقص،اجرک اور چنئی کے رنگ،رات کی چاندنی کے لطیف جذبوں کی محفل موسیقی،سرائیکی مہان کلاسک اول و آخر قادر الکلام شاعر خواجہ فرید کی کافیوں میں راگوں کی پر ترنم سوز گائیکی کے میلے،کھیلوں سے جنون کی حد تک لگاو،ثقافتی قدیمی تہذیبی تہوار مقامی ثقافت کی دلکش مضبوطی کو ظاہر کرتی ہیں۔دلہن کی رخصتی،دولہا کی سہرا بندی اور صدقہ و خیرات کی روایات آج بھی برقرار ہیں۔گویاچولستانی روہیلا فطرت سے جڑی خوشی میں ایسے رقص جھمر کرتا ہے۔جیسے بارش رم جھم مینہ برساتی ہے۔ریت ناچتی ہے اور کترن کی خوشبو بن کر کالے ہرن کی طرح آزاد دوڑتی روہی کو محبت و پیار کا گیت سناتی ہے۔

    تیسری قسط
    انسان نے خوشیوں کے ایک ایک کے لمحے کو رسم و رواج کا نام دے کر زندگی میں دکھوں سے لڑنے کی حکمت عملی بنائی ہے۔بارات کے لیے اونٹوں کے کچاوے کی رسم بھی چولستان روہی تھل کا اظہار مسرت و شادمانی ہے۔شادی بیاہ کے موقع پر بارات کو خاص انداز میں اونٹوں کے ذریعے لے جایا جاتا ہے۔جدید فیشن و رواج کی سہولت ٹریکٹر ٹرالی پر جنج کا منظر اپنا رنگین ثقافتی جہاں رکھتا ہے۔اونٹوں کو روایتی زیورات،چمکدار کپڑوں اور کچاوے سے سجایا جاتا ہے۔

    پہلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    دوسری قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    یہ منظر نہایت دلکش اور ثقافتی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ پورے علاقے میں خوشی اور مسرت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ سرائیکی دیوان خواجہ غلام فرید روہی چولستان سرائیکی سماجیات کا خوبصورت خزانہ ہے۔جس میں فطرت سے عشق کا فلسفہ ہے۔روہی عاشق کے لیے وصال یار بہشت ہے۔روہی حسین جمیل خوبصورت نازک نازو جٹی جنت کی حور عین بشارت ہے۔رات کی روح صبح صادق سے شام تک صحرائے چولستان کی تپتی ریت پر محبت کے گیتوں سے روہی کے سبزہ سیراب مال مویشی کے سفید دودھ سے مکھن اور لسی اپنے نرم نازک ہاتھوں سے اپنے محبوب کی پیاس کی شدت کو مساوی کرتی ہے۔ان کے کلام آفاقیت میں حسن وجمال روہی واضح ہے۔

    اے روہی یار ملاوڑی وے
    شالا ہووے ہر دم ساوڑی وے
    ونج پیسوں لسڑی گاوڑی وے
    گھن اپنے سوہنے سئیں کنوں

    وچ روہی دے راہندیاں
    نازک نازو جٹیاں
    راتیں کرن شکار دلیں کوں
    ڈینہیاں ولورڑن مٹیاں

    ریت مٹی کی عبادت کی رسم چولستان کے صحرائی لوگوں کی زندگی میں سختیوں کے باوجود اس کی خوبصورتی اور قدرتی وسائل کا احترام کرنے کے مترادف ہے۔ریت کی عبادت ایک علامتی رسم ہے۔جس میں دعا اور شکرانے کے کلمات شامل ہوتے ہیں۔دھرتی ماں سے محبت و عقیدہ کا استعارہ ہے۔رات کا شکار یہ ایک پرانی روایت ہے جس میں مقامی لوگ مکمل تاریکی میں شکار کرتے ہیں۔اس فن میں مہارت حاصل کرنے کے لیے صبر،چالاکی اور ٹیم ورک کی ضرورت ہوتی ہے۔

    منفرد چولستانی وسائل سے اشیاء بنانا روایتی فنون لطیفہ سے عشق کا قصہ ہے۔اونٹ کی کھال پر نقش و نگار فن کا کمال حیرت انگیز مظہر ہے۔اونٹ کی کھال پر ہاتھ سے بنائے گئے نقش و نگار چولستان کی خاص دستکاری ہے۔ان کھالوں سے جوتے، تھیلےاور دیگر اشیاء تیار کی جاتی ہیں۔ریتیلا گلدان بھی جھوک فرید روہی کے خوبصورت حسن کی عکاسی ہے۔صحرا کی ریت کو مٹی کے ساتھ ملا کر منفرد گلدان بنائے جاتے ہیں۔یہ گلدان اپنے مخصوص ڈیزائن اور استحکام کے باعث بہت پسند کیے جاتے ہیں۔

    کھجور کے پتوں سے مخصوص طریقے سے بُن کر مضبوط رسی تیار کی جاتی ہے۔ جو زراعت اور روزمرہ زندگی میں استعمال ہوتی ہے۔ریت کے مصوری والے چراغ بھی کمال ہنر کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔یہ چراغ مٹی اور ریت کے مرکب سے بنائے جاتے ہیں۔ ان پر مختلف پھولدار مناظر اور نقش و نگار ہاتھ سے بنائے جاتے ہیں۔یہ چراغ نہ صرف روشنی بلکہ ثقافتی خوبصورتی کا ذریعہ بھی ہیں۔چولستانی خوشبو جس میں قدرتی جڑی بوٹی کترن کو دنیا بھر میں بہت پسند کیا جاتا ہے۔

    روہیلے چولستانی اپنی ثقافتی زندگی میں ریت، ریت کی مٹی سے جڑی ہر خوشی اس کے وادی جنت نظیر کشمیر ہے۔روہی کی روح پانی مینہ بارش ہے۔خواجہ فرید سئیں نے روہی کی دلکش سرزمین کو اپنے لازوال کلام آفاقیت سے خوبصورت تخلیق کیا ہے۔سردی ہو یا گرمی صحرائے ریگستان کے سادہ،خلوص و نفیس مٹھاس بھرے لوگوں کے لیے موسم برسات،ساون کا مہینہ دراصل موسم بہار سہاگ ہے۔عید کا سماں ہے۔خواجہ فرید کا سرائیکی روہی رنگ ملاحظہ فرمائیں۔

    ساون ڈینہہ سہاگ دے
    ہر دم مینگھ ملہار
    رل کر ساتھ گزاروں
    جوبھن دے دن چار

    ساون وقت سہاگ دے
    رم رجھم برسن بادل
    بٹھ پئے ہجر دے ڈینہڑے
    عمر گزاروں رل رل

    ساون مینگھ ملہاراں
    ترس پووی پنل آ موڑ مہاراں

    اغن پپہیے کرن بلارے
    رس کوئل کوک سنائی
    ملک ملہیر وسایم مولا
    سبھ گل پھل خنکی چائی
    رل مل سیاں ڈیون مبارک
    مد بھاگ سہاگ دی آئی
    مدتاں پچھے رانجھن ملیا
    رب اجڑی جھوک وسائی

    چولستان وادی ہاکڑہ تہذیب وتمدن چھ ہزار سال قدیم تاریخی ثقافتی ورثے کی محفوظ ہے۔چند میڈیا رپورٹس پر سات ہزار سال پرانی سرسوتی تہذیب وتمدن بھی کہا جارہا ہے۔اس پہلی مرتبہ 1975ء میں ڈائریکٹر آثارقدیمہ ریسرچر ڈاکٹر رفیق مغل نے کھدائی کے دوران انکشاف کیا۔چولستان کا قدیم ترین قومی ورثہ،آج کا فنون لطیفہ،روہیلوں کی ہنرمندی چولستان کی مال مویشی پال منڈی پاکستان کی معاشی خوشحالی میں اہم کردار ادا کررہی ہے۔

    روہی میں طرح طرح کی جڑی بوٹیوں اور اونٹ کے دودھ کے ذریعے تیار کی جانے والی خوشبو مقامی لوگوں کی روایت کا حصہ ہے۔یہ خوشبو نہ صرف منفرد ہے بلکہ اسے شفا بخش بھی سمجھا جاتا ہے۔چولستان کے روایتی کمبلوں پر صحرا کے مناظر، اونٹ اور مقامی زندگی کے عکس بُنائی کے ذریعے پیش کیے جاتے ہیں۔خواجہ فرید سئیں روہی میں اپنی رہائش گاہ کے لئے گوپہ جھوپڑی کے لیے کھکھ کانے، لائی،لانڑے،کھپ کا استعمال کررہے ہیں۔مقامی روایتی ثقافتی دستکاری کی افادیت بتا رہے ہیں۔

    جھوپڑ جوڑ بنیسوں کھپ دے
    تھل دے صاف پساڑ تے

    یہ دستکاری روایتی فنون کی عکاسی کرتی ہے۔ریت سے بنے گیم بورڈ روہی کھیلوں میں خاص اہمیت کے حامل ہیں۔صحرا کی ریت اور مٹی سے تیار کردہ شطرنج اور لڈو کے بورڈ منفرد فن کا شاہکار ہیں۔یہ نہ صرف کھیل کے لیے استعمال ہوتے ہیں بلکہ خوبصورت آرائشی اشیاء کے طور پر بھی پسند کیے جاتے ہیں۔اونٹنیوں کی گود بھرائی تہوار ایک منفرد اور دلکش ثقافتی رسم و روایت ہے جس میں اونٹنیوں کو شادی بیاہ کی طرز پر سجایا جاتا ہے۔اس میلے میں خاص طور پر اونٹنیوں کی زینت کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ جنہیں رنگ برنگے کپڑوں،جھالر دار گھنٹیوں اور خوبصورت زیورات سے آراستہ کیا جاتا ہے۔میلہ مقامی لوگوں کے لیے نہ صرف تفریح کا باعث ہوتا ہے بلکہ یہ اونٹوں کے مالکان کے لیے اپنی مہارت اور اونٹوں کی خوبصورتی کا مظاہرہ کرنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔

    یہ میلہ مختلف ثقافتی سرگرمیوں،موسیقی، روایتی کھانوں اور اونٹوں کی دلچسپ مقابلوں کے ساتھ منایا جاتا ہے۔جہاں دیہاتی اور شہری افراد بڑی تعداد میں شرکت کرتے ہیں۔اس قسم کے میلے دیہی ثقافت کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ سیاحت کو فروغ دینے کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔اونٹ کے دودھ کا پاؤڈر روایتی طریقے سے اونٹ کے دودھ کو خشک کرکے پاؤڈر بنایا جاتا ہے جو مقامی لوگ غذائی اور طبی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ پاؤڈر معدے کی بیماریوں کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے۔پانی سے سبزہ لہلہاتی چہل پہل زندگی خوبصورت وادی ہے۔اگر پانی نہیں ٹوبھے خشک اور قحط سالی کا بیاباں منظر ہوتاہے۔خواجہ فرید سئیں کے لیے روہی چولستان کی زندگی ایک طرف خوشی کا اسباب ہے تو دوسری طرف وچھوڑے مونجھ ملال غموں کا خوبصورت جہاں ہے۔تخیلاتی قوت کا رنگ نہایت عمدہ ہے۔

    میڈا خوشیاں دا اسباب وی توں
    میڈا سولاں دا سامان وی توں

    جاری ہے

  • قدیم چولستان : سرائیکی تہذیب کے منفرد رنگ،دوسری قسط

    قدیم چولستان : سرائیکی تہذیب کے منفرد رنگ،دوسری قسط

    قدیم چولستان : سرائیکی تہذیب کے منفرد رنگ
    تحقیق و تحریر:ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    altafkhandahir@gmail.com
    قارئین کرام !اس مضمون میں قدیم چولستان کی وادی ہاکڑہ اور سرائیکی تہذیب کی منفرد جھلکیوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ یہ چار اقساط پر مشتمل سلسلہ سرائیکی ثقافت کی گہرائیوں، رسوم و رواج اور تاریخی ورثے پر روشنی ڈالے گا۔اس کی دوسری قسط ملاحظہ فرمائیں

    سرائیکی ثقافت کی بنیادیں،زبان،موسیقی اور شاعری

    روہی چولستان کے روایتی رسوم میں شادی خوشی کی ریتیں،روہی چولستان امن فرید میلے،جیپ ریلی اور اونٹوں کی ریس جیسی تقریبات میں جھمر رقص،لوک موسیقی اور چولستانی دستکاریوں کی نمائش ثقافت کی روح ہیں۔خواتین کی مہندی کی رسم اور روحانی عقیدت کے مراکز جیسے چنن پیر درگاہ نے مقامی رسوم و رواج کو صدیوں تک زندہ رکھا۔ روہی کے روایتی فنون لطیفہ میں لوک گائیکی، دستی خوبصورت رنگین پنکھوں اور مٹی کے برتنوں،ہینڈی کرافٹ اشیاء کی تیاری نمایاں ہیں۔

    لفظ چولستان کی ایٹمالوجی
    (اشتقاقیات) لسانیات پر غور کریں تو لفظ خالص سرائیکی زبان کی شناخت،ادب ودانش،شعور،فنون لطیفہ،اخلاقی اقدار،تہذیب وتمدن
    ،روایات،رہن سہن رسوم و رواج اور تاریخ کی مکمل ڈکشنری ہے۔سرائیکی میں "چول” کا مطلب ہل چل،چلنا پھرنا،ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونا،ستان سے مراد "جگہ” ہے۔گویا چولستان ریت کے ٹیلوں کی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی ہے۔ریت کے پہاڑ کو سرائیکی وسیب میں روہی کہا جاتاہے۔روہی چولستان وسیع عریض الفاظ کی مضبوط ترین لغت ہے۔

    پہلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

    قدیم چولستان، سرائیکی تہذیب کے منفرد رنگ
    جو سرائیکی سماجیات کا خوبصورت اظہار،امن و رواداری کا قیمتی خزانہ ہے۔پندھ پندھیرو افراد کے لیے روہی چولستان کا سفر سحر انگیز سرمایہ اور جادونگری ہے۔سرائیکی مہان روہیلا کلاسک شاعر حضرت سفیرؔلشاری سئیں روہی چولستان سرائیکی لوگوں اور اپنے صحرائی ماحول کو شاندار ثقافتی و تمدنی رنگوں میں حسین لفظوں سے زندگی کا خوبصورت روپ دیا ہے۔ان کے مجموعے کلام میں سرائیکی مزاحمتی مزاج، محبت اور دھرتی سے بے پناہ عقیدت کافیوں،نظموں،لوک گیتوں اور ڈوہڑوں کی شکل میں نظر آتی ہے۔ان کے شاندار کلام آفاقیت میں خوبصورت چولستان روہی کے منظر کا نمونہ ملاحظہ فرمائیں۔

    روہی وُٹھڑی مینگھ ملہاراں،سانول موڑ مہاراں
    چھمبھڑ،بندھ تے ݙہریں پاݨی،ٹوبھے تار متاراں

    بکھڑا،ݙودھک،مونیاں،چھپری،ڳنڈھیل،الیٹی
    لمب،اوئیݨ تے دھامݨ،سٹھ پئی نال وساہ ولھیٹی
    ہلڑا،بھرٹ،مرٹ،سٹ لاٹھی،کترݨ،لائین بہاراں

    لاݨے،پھوڳ تے لاݨیاں،کھپوں،کنڈیاں مکاں لایاں
    شاں شاں کرتے شوکن مورے،پینگھے جھوٹن لایاں
    گندلاں وانگوں سیٹوں نکتن،کُھمبیاں غیر شماراں

    وڳ ݙاچیاں دے ،دھݨ ڳائیں دے،بھیݙاں،ٻکریاں چھانگاں
    لیلے ، گابے کھیوے سمدن،ہرن مریندن چھانگاں
    بے فکرے تھی مستیاں دے وچ،ٹُُردن جوڑ قطاراں

    ٹٻیاں تے چڑھ ٻہندن چھیڑو،ونجھلی دے سُر لیندن
    سورٹ،جوگ،پہاڑی ڳاندن،جھوک ݙو مال ولیندن
    اگلاں مار ملاکاں جوجھن،بونگن گھنڈ تنواراں

    ݙیکھݨ لائق نظارا ہوندےمال اچ پوندی ݙوبھی
    کیڑاں نال سݙیندن چھیڑو،اڑی آ ۔۔ ندی ،ٹوبھی
    ناں دی کو تے نند شوکیندن ،کھیر دیاں وہندن دھاراں

    پاݨی وانگوں ݙدھ ورتاون،بچدے جاڳا لاون
    سہجوں سنگ سہیلیاں رل مل ول چا راند مچاون
    کئی پیاں کھیݙن پیر گساواں،کئی رل ڳاون واراں

    دھمی ویلے وقت سہیلے جاڳن سگھڑ سیاݨیاں
    سُتھرے بھانڈے ݙہی پلہارن بہندن گھت مندھاݨیاں
    حق ہو،حق ہو گھومے ݙیون پڑھ پڑھ استغفاراں

    سائیاں ٻاجھوں مال ݙوہیلا ،کئی نی ہتھ پھریندا
    کیندی ٻکری،کون سنبھالے ،ہر کوئی ہے درکیندا
    اپݨی آپ سنبھال سفیرا ،لہہ رل ڳئی دیاں ساراں

    رنگ برنگی رسمیں اور اشیاء چولستان روہی کی شاندار تہذیبی،ثقافتی قدیمی آرٹ اینڈ آرکیالوجی کے نقش و نگار کو اجاگر کرتی ہیں۔پاکستان کے دلکش کلاسک کلچرل ورثے کا اہم سرمایہ اور سرائیکی شناختی حوالہ ہیں۔الگ پہچان کی مشہور ریاست بہاولپور روہی چولستان کی سادہ مٹھاس بھری رسومات،رواج ریتیں اصل میں روایتی ثقافتی ورثےکی شناخت کا زیور ہیں۔اونٹنیوں کی گود بھرائی کا میلہ دراصل روہی کے باسیوں کی آپس میں اتحاد ویکجہتی اور محبت و یقین کا اظہار اور میل میلاپ ہوتا ہے۔یہ رسم چولستان کے مقامی لوگوں کی اونٹنیوں سے گہری وابستگی کو ظاہر کرتی ہے۔گائے،بھیڑ بکریوں اور اونٹ کے مال مویشی کو روہیلے اپنی روزی روٹی کے ذرائع آمدن اور مالی خوشحالی کی ضمانت سمجھتے ہیں۔شادی بیاہ کی طرز پر اونٹنیوں کو مختلف زیورات اور رنگ برنگے کپڑوں سے سجایا جاتا ہے۔اس موقع پر لوک گیت گائے جاتے ہیں اور خواتین خصوصی رقص جھمر پیش کرتی ہیں۔پانی سبزہ اور زندگی کی رونق و شادابی کی علامت جانا جاتا ہے۔پانی کی تقسیم کی رسم میں چولستان صحرائے ریگستان کی اہم ریت رواج اس وجہ سے ہے کہ پانی کی منصفانہ تقسیم سے ہی تمام روہی گلزار بن جاتی ہے۔دلوں میں محبت و پیار کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔صحرائی علاقوں میں پانی کی کمی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ یہاں پانی کی تقسیم ایک مخصوص طریقۂ کار کے تحت کی جاتی ہے۔ جس میں ہر خاندان کے لیے مساوی حصہ مختص کیا جاتا ہے۔ اس رسم میں برادری کی یکجہتی اور باہمی احترام کو اجاگر کیا جاتا ہے۔

    چاندنی رات کا دلفریب منظر لوک سر سنگیت کی محفل روہیلوں کےلئے نئی امنگ اور خوشی کا سماں پیدا کرتی ہے۔مکمل چاند چودھویں کی رات کو مقامی لوگ کھلے صحرا میں جمع ہوتے ہیں۔اس موقع پر روایتی سازوں جیسے رباب،ہارمونیم اور ڈھول کے ساتھ لوک گیت گاتے ہیں۔ یہ راتیں مقامی ادب،موسیقی اور ثقافت کو زندہ رکھنے کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔ریت کی مٹی کی خوشبو ماں کی ممتا کو سلام تحیسن پیش کرتی ہے۔کچی زمین پر نئے بچے کی مالش کی رسم رسم دراصل ریت سے بےپناہ محبت کا اظہار ہے۔یہ رسم نوزائیدہ بچوں کی صحت اور جسمانی مضبوطی کے لیے کی جاتی ہے۔مقامی خواتین گرم ریت یا زمین پر بچے کی مالش کرتی ہیں جو ان کے روایتی علاج کا حصہ بھی جانا جاتا ہے۔اونٹ سجانے کے مقابلے روہی علاقے کی سب سے خوبصورت اور منفرد قدیم تاریخی رسم ہے۔خوبصورت اونٹنی کا انتخاب الگ ریت رواج کی پہچان ہے۔چولستان صحرائے ریگستان کا ہوائی جہاز بھی اونٹ کو کہا جاتا ہے۔اونٹوں کو زیورات رنگین کپڑوں اور مہندی سے سجایا جاتا ہے۔جیتنے والے اونٹ کے مالک کو انعامات دیے جاتے ہیں۔

    شادی خانہ آبادی مبارک بیاہ کی ثقافتی رسموں،ریت و رواج کو صدیوں سے منایا جارہا ہے۔آج بھی شادی کی خوشیوں کے رنگ میں منفرد رسمیں نمایاں ہیں۔گنڈھییں پہلی رسم ہے جس میں دونوں خاندانوں میں دلہن کنوار ،دولہا گھوٹ کے والدین بزرگوار شادی کی تاریخ طے کرتے ہیں۔دولہے کی والدہ کی طرف سے دلہن کو لال چنئی ڈوپٹہ پہنایا جاتا ہے۔اس کے بعد دعاخیر پتاسے کی رسم ادا کی جاتی ہے اور خوشی کےگیت گائے جاتےہیں۔کانڈھا شادی کی اہم رسم ہوتی ہے جو دور حق ہمسائے رشتے داروں کو نائی کے ذریعے سنہیا پیغامات دیےجاتےہیں۔اج کل واٹس ایپ پر خوبصورت کارڈ بھیجے جاتے ہیں جس پر مہندی،جاگا، دولہے کی سہرا بندی کی رسم، بارات روانگی اور ولیمہ کی تواریخ درج ہوتیں ہیں۔اس کے بعد دول نغارے،جاگے،بین بانسری شرنا کی رسمیں شروع ہو جاتیں ہیں۔تقریبا ایک ہفتہ پورا بوا،چاچی،ماسی،مامی کی طرف سے رات کو جاگے سجائے جاتے ہیں۔دن کو شادی کے گھر کو روشنائی رنگین بتیوں سے سجایا جاتا ہے۔

    سارا دن میوزک موسیقی سہرے گیت گائے جاتےہیں۔رات کو محفل موسیقی کی رسم میں موہن بھگت جیسے گلوکاروں کی طرف سے فن گائیکی سے لوگوں کے دلوں کو خوب لطف اندوز کیا جاتاہے۔نٹوں کا تماشہ بھی ایک ثقافتی لحاظ اہم رسم سمجھی جاتی ہے۔ڈرامہ تھیٹر کا انعقاد امیر لوک اپنے دیروں پر کرتےہیں،مختلف روایتی پکوانوں و کھانوں کی دعوتیں شادی کی رسومات میں سب سے اہم سمجھی جاتی ہے۔ونوا،کھارے پر چڑھنے کی رسم قدیم زمانے سے رائج ہے۔اس کا مقصد دلہن والوں اور وس وسیب کو یقین دلانا ہوتا ہے کہ دولہا جسمانی طور پر کارآمد ہے۔ روزی روٹی کما کر اپنی دلہن کو خوشیاں دے سکتا ہے۔روحانی مرشد سید سے خصوصی دعائیں کی رسم بارات روانگی سے پہلے بھی اور واپسی خیر سلامتی سے کےلیے ہوتی ہے۔رسم نکاح اہم سنت رسول ہے۔

    مسلم روہیلے کمیونٹی نکاح پہلے یا پھر دلہن کی طرف جاکر مسجد میں ادا کی جاتی ہے۔مٹھائی یا چھووراے پتاسے تقسیم کیے جاتے ہیں۔کپڑے پھاڑنے کی رسم دولہا کے دوست ادا کرتے ہیں۔نہانے سے پہلے پرانے کپڑوں کو پھاڑ دیا جاتا ہے۔نئی صاف ستھرائی پوشاک دولہا لباس پہنایا جاتا ہے۔سہرا پہنانے کی رسم ادا کی جاتی ہے۔والدین سمیت قریبی رشتہ دار دوست پھلوں اور پیسوں والے ہار اور مالا پہناتے ہیں۔اسی طرح دلہن والے گھر بھی خوشیوں کی رسمیں روایتی ثقافتی انداز میں ادا کیں جاتیں ہیں۔مینڈھی کی رسم میں دلہن کو مہندی لگائی جاتی ہے، رخصتی سے تقریبا سات دن پہلے دولہن الگ تھلگ کمرے میں رہتی ہے۔اس دوران کنوار دلہن کو چیکو ابٹن کی رسم سے گزارا جاتا ہے۔گھڑی گھڑولا کی رسم دولہے کی بہنیں ادا کرتیں ہیں۔خوشیوں کے گیت سہرے گاتیں ہیں۔بارات روانگی سے پہلے دو نفل شکرانہ مسجد میں ادا کئے جاتے ہیں۔صدقہ خیرات رتول کی رسم ادا کی جاتی ہے۔ہندو روہیلے مندر کی زیارت کرت ہیں۔

    سرائیکی ثقافتی جھمر رقص کی رسم شادی بیاہ کی روح ہوتی ہے۔یہ عمل پوری شادی کی ہر رسم ورواج خاصہ ہوتا ہے۔گانا پہنانے کی رسم کے موقع پر دولہے گھوٹ کو دائیں ہاتھ کی کلائی پر خوبصورت رنگین ثقافتی گانا باندھا جاتا ہے۔گھوٹ والوں کی طرف سے وڑھی ڈاج جہیز کی رسم ادا کی جاتی ہے۔جس میں دلہن کو دی جانے والی سوئی سے لے کر بیڈ روم تک ہر چیز وسیبی عورتوں کو دکھائی جاتی ہے۔گھوٹ دولہا کے معمولات کو سنبھالنے اس کی ہر ممکن حکم کی تعمیل کے لیے سبالا سنبھالے کا انتخاب عموما ہوشیار مسات،ملیر،سوتر میں سے ہوتا ہے۔ ویہانہ جوتی چوری کی رسم بھی رخصتی کے موقع پر سالیاں ادا کرتیں ہیں۔دولہا منہ مانگی رقم دے کر روانہ ہوتا ہے۔پھل چنائی کی رسم میں پھولوں سے گھوٹ کنوار کا خوبصورت شاندار استقبال کیا جاتا ہے۔

    دودھ کھیر پلائی کی رسم میں دولہے کا باقی دودھ دولہن کو پلایا جاتا ہے۔تاکہ اللہ پاک کی رحمت سےجوڑی سلامت رہے اور محبت آخر تک قائم و دائم رہے۔ہاتھ کی مٹھی کھلائی کی رسم میں اکثر دولہن اپنے دولہے کی عزت رکھتی ہے۔دولہن کی گھنڈ کھلائی چہرہ شیشہ دکھائی کی رسم نئے گھر میں ساس (سس)،(سوہرا) سسر قیمتی تحائف سے ادا کرتے ہیں۔لاواں کی رسم میں دولہا دولہن دونوں کے سروں کو پیارے سے آپس میں ملائے جاتے ہیں۔دروازہ پکڑنے کی رسم میں دولہن خود سے نئے گھر آنے سے پہلے ادا کرتی ہے۔اس موقع پر سسسر اپنی نئی دولہن کو کوئی جانور یا کوئی قیمتی چیز پیش کرتا ہے۔

    ولیمہ کی رسم میں تمام برادری کو شاندار پکوان پیش کیے جاتےہیں۔گانا کھولنے کی رسم تیسرے دن ادا کی جاتی ہے۔ستوواڑہ کی رسم میں دولہن سات دن بعد کچھ دن پرانی یادوں کو تازہ کرنےکےلیے اپنے میکے چلی جاتی ہے۔پھر ہفتہ گزارنے کے بعد گھر واپس آکر اپنی ساسوں ماں سے گھریلو زندگی ہاتھ بٹانا شروع کر دیتی ہے۔اس شادی بیاہ کی روایتی رنگوں سے بھری رسمیں ختم ہوجاتیں ہیں۔پھر اللہ پاک کے حکم سے عورت کو بچے کی تخلیق کی خوشخبری ملتی ہے۔پھر گود بھرائی کی رسم ادا کی جاتی ہے۔اس طرح یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔
    جاری ہے

  • پنجاب میں سُلگتی نفرت،سازش یا حقیقت؟

    پنجاب میں سُلگتی نفرت،سازش یا حقیقت؟

    پنجاب میں سُلگتی نفرت،سازش یا حقیقت؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    پنجاب، پاکستان کے وجود کا اہم حصہ یعنی دل ہے جو اس وقت ایک غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے، جہاں قوم پرستی اور سازش کے بیج بوئے جا رہے ہیں۔ خواجہ غلام فرید کے مزار پر منعقد ہونے والی "روہی انٹرنیشنل پنجابی کانفرنس” کے تناظرمیں سامنے آنے والے نفرت انگیز بیانات نے ایک خطرناک صورت حال پیدا کر دی ہے۔ یہ تنازع صرف سرائیکی اور پنجابی عوام کے درمیان نفرت کو ہوا دینے کی کوشش نہیں بلکہ یہ پاکستان کی قومی یکجہتی کو کمزور کرنے کی ایک سوچی سمجھی چال بھی ہو سکتی ہے۔

    سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز نے اس تنازع کو مزید گمبھیر بنا دیا ہے۔ ان ویڈیوز میں کانفرنس کے منتظمین کی جانب سے سرائیکی عوام کو "پناہ گزین” کہہ کر انہیں پنجاب چھوڑنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ یہ بیانات ایک منظم سازش کا پتہ دیتے ہیں، جن میں پنجابی اور سرائیکی عوام کے درمیان نفرت کی دیوار کھڑی کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان میں استعمال کی جانے والی زبان نہ صرف اشتعال انگیز ہے بلکہ ایک خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتی ہے، جس کا مقصد عوام کو تقسیم کرکے قومی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانا ہے۔

    یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ تنازع کس کے مفاد میں ہے؟ کون اس صورتحال سے فائدہ اٹھا رہا ہے؟ اگر ماضی میں جھانک کر دیکھا جائے تو پاکستان دشمن عناصر نےمختلف علاقوں میں بدامنی اور تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کی ہے، جیسے بلوچستان میں علیحدگی پسند تحریکوں کو ہوا دینا، خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کا فروغ اور سندھ میں قوم پرستی کو ابھارنے کی کوشش۔ ان تمام سازشوں کے ناکام ہونے کے بعد اب پنجاب کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

    یہ صورتحال اس وقت زیادہ سنگین ہو جاتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر بغیر تصدیق کے نفرت انگیز بیانات اور مواد وائرل ہو رہے ہیں۔ یہ پلیٹ فارمز ایک اہم ذریعہ بن چکے ہیں، جن کے ذریعے لوگ جذباتی ہو کر غلط معلومات پھیلا رہے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ عوام میں اشتعال بڑھ رہا ہے اور تقسیم کی خلیج گہری ہو رہی ہے۔

    پنجاب ایک ایسا صوبہ ہے جہاں مختلف قومیتیں، ثقافتیں اور زبانیں محبت اور ہم آہنگی کے ساتھ رہتی آئی ہیں۔ پنجابی، سرائیکی، بلوچی اور پختون عوام کے درمیان نہ صرف سماجی تعلقات ہیں بلکہ رشتہ داریاں بھی ہیں۔ ایسے میں اس تنازع کو ہوا دینا دراصل ان تمام تاریخی رشتوں اور روایات کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے جو صدیوں سے قائم ہیں۔

    اس مسئلے کے حل کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس تنازع کو سنجیدگی سے لے اور ان عناصر کے خلاف سخت کارروائی کرے جو نفرت پھیلانے میں ملوث ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف جنہوں نے پنجابی کانفرنس کرانے کی اجازت دی،جس کی آڑ میں پاکستان کی سالمیت کے خلاف سازش پروان چڑھ رہی ہے ، وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام کو ایک مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کرنا ہوگا تاکہ ایسے واقعات کا اعادہ نہ ہو۔اور صدرپاکستان محمدآصف علی زرداری جب محترمہ بےنظیر بھٹوشہید ہوئی تھیں تو اس وقت بھی پاکستان میں نفرت کا بیج بونے والوں کو "پاکستان کھپے ” کا نعرہ لگا کر منہ توڑ جواب دیا تھا ،آج بھی اسی نعرے "پاکستان کھپے "کی اشد ضرورت ہے

    میڈیا پر بھی ایک بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرے اور صرف وہ مواد نشر کرے جو عوام کو جوڑنے اور قومی یکجہتی کو فروغ دینے میں معاون ہو۔ صحافیوں اور میڈیا ہاؤسز کو چاہیے کہ وہ ایسی خبروں کو نشر کرنے سے گریز کریں جو مزید اشتعال پیدا کریں۔

    عوام کو بھی اپنی ذمہ داری کو سمجھنا ہوگا۔ جذباتی ہونے کے بجائے حقائق پر مبنی معلومات کو اپنانا ہوگا۔ تعلیم کے ذریعے رواداری اور بھائی چارے کے پیغام کو فروغ دینا ہوگا۔ علماء، اساتذہ اور سماجی رہنما اور سیاستدان بھی عوام کو اتحاد و یکجہتی کی اہمیت سے آگاہ کرنے میں کردار ادا کریں۔

    سب سے اہم بات یہ ہے کہ حکومت نفرت انگیز بیانات دینے والوں کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ، سوشل میڈیا پر نفرت پھیلانے والے اکاؤنٹس کو بند کیا جائے اور اس قسم کے مواد پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔

    یہ تنازع صرف پنجاب تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ پاکستان کی سالمیت کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ ہمیں مل کر ان عناصر کو ناکام بنانا ہوگا جو ہماری قومی وحدت کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ یاد رکھیں کہ پاکستان کے دشمن ہمیشہ مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے ملک میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ ان سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے ہمیں قومی سطح پر اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

    اگر آج ہم نے اس چنگاری کو بجھانے میں تاخیر کی تو کل یہ ایک ایسی آگ میں تبدیل ہو سکتی ہے جس پر قابو پانا ناممکن ہو جائے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم سب مل کر پاکستان کی قومی یکجہتی اور سلامتی کو مضبوط کریں تاکہ یہ ملک ہمیشہ ترقی، خوشحالی اور امن کی راہ پر گامزن رہے۔

  • انسانیت کا عملی مظاہرہ: فیصل آباد کا خاموش مسیحا

    انسانیت کا عملی مظاہرہ: فیصل آباد کا خاموش مسیحا

    انسانیت کا عملی مظاہرہ: فیصل آباد کا خاموش مسیحا
    تحریر:شاہد نسیم۔چوہدری
    فیصل آباد کی گلیاں اور سڑکیں ہر روز لاکھوں افراد کی زندگیوں کا مشاہدہ کرتی ہیں۔ کہیں خوشیاں ہیں، تو کہیں مسائل کے پہاڑ۔ لیکن انہی ہجوموں میں کچھ ایسے افراد بھی ہیں جو خاموشی سے انسانیت کی خدمت میں مصروف ہیں، اور انہی میں سے ایک ہے میاں رحمان علی، ایک نوجوان جس نے اپنے چھوٹے سے اقدام سے انسانیت کا حقیقی مفہوم پیش کیا ہے۔

    رحمان علی فیصل آباد کا ایک عام سا لڑکا ہے، جو اپنی زندگی کو لوگوں کی مدد کے لیے وقف کر چکا ہے۔ روزمرہ زندگی میں وہ ایک موٹر سائیکل پر سفر کرتے ہوئے ان افراد کی مدد کرتا ہے جن کے موٹر سائیکل کا پٹرول ختم ہو جاتا ہے۔ وہ کسی اجنبی کو سڑک پر پریشان دیکھ کر رک جاتا ہے، ان کی مدد کے لیے پٹرول فراہم کرتا ہے، اور خاموشی سے آگے بڑھ جاتا ہے۔اس کے علاوہ، سردیوں کے سخت موسم میں وہ ان لوگوں کے لیے جیکٹ، جوتے اور جرابیں فراہم کرتا ہے جو ان سہولیات سے محروم ہیں۔ سب سے اہم بات یہ کہ وہ اپنی شناخت چھپائے رکھتا ہے۔ نہ کسی سے داد کی طلب، نہ کسی سے شاباشی کی خواہش۔ یہی خاموشی اور خلوص اس کے کام کو مزید خاص بناتا ہے۔

    انسانیت کی خدمت: ایک عظیم مشن ،انسانیت کا حقیقی مطلب یہی ہے کہ دوسروں کے مسائل کو اپنا مسئلہ سمجھا جائے اور بلا کسی غرض کے ان کی مدد کی جائے۔ رحمان علی کا یہ عمل ہمارے معاشرے کے انفرادی کرداروں کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ جہاں لوگ اکثر مدد کرنے سے پہلے ذاتی فوائد پر غور کرتے ہیں، وہاں ایسے افراد کسی روشنی کے مینار کی طرح ہوتے ہیں جو تاریکی میں رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔
    معاشرتی مسائل اور حل
    ہمارے معاشرے میں بے شمار افراد غربت، بے گھری، اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔ ایسے افراد کی مدد کرنا حکومت اور اداروں کی ذمہ داری ضرور ہے، لیکن انفرادی سطح پر بھی ہم میں سے ہر شخص کچھ نہ کچھ کر سکتا ہے۔میاں رحمان علی جیسے افراد کا عمل ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ بڑے بڑے منصوبے بنانے کے بجائے چھوٹے مگر مؤثر اقدامات سے بھی دنیا کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

    احساس اور قربانی کی اہمیت :رحمان علی کی کہانی ہمیں احساس دلاتی ہے کہ انسانیت کا حقیقی جوہر دوسروں کی تکلیف کو محسوس کرنا اور اسے کم کرنے کی کوشش کرنا ہے۔مدد کا جذبہ: بغیر کسی لالچ کے دوسروں کے لیے کچھ کرنا ایک نادر صفت ہے۔قربانی کا جذبہ: اپنی ذات کی پرواہ کیے بغیر دوسروں کی مدد کے لیے آگے بڑھنا معاشرے کی خوبصورتی کو نمایاں کرتا ہے۔خود اعتمادی: اپنے عمل کو کسی شہرت کے بغیر انجام دینا اس بات کی علامت ہے کہ انسان اپنی نیت میں سچا ہے۔ایسا معاشرہ کیسے بنایا جائے؟ہم سب کی یہ ذمہ داری ہے کہ ہم ایسے افراد کے کاموں سے سیکھیں اور ان کی پیروی کریں۔ اگر ہر شخص اپنے اردگرد کے لوگوں کے مسائل پر تھوڑا سا دھیان دے اور اپنی استطاعت کے مطابق مدد کرے، تو یہ دنیا ایک بہتر جگہ بن سکتی ہے۔

    رحمان علی جیسے لوگ ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ سماجی تبدیلی صرف بڑے منصوبوں سے نہیں بلکہ چھوٹے چھوٹے اعمال سے بھی ممکن ہے۔خلوص اور عاجزی کا درسرحمان علی کا عمل ہمیں عاجزی اور خلوص کا درس دیتا ہے۔ اپنی نیک نیتی کے ساتھ کسی کی مدد کرنا اور اس کا کریڈٹ نہ لینا ایک عظیم کام ہے۔ اس عمل سے ہمیں یہ سیکھنے کو ملتا ہے کہ خدمت خلق کے لیے نیت اور عمل کافی ہے، نہ کہ تشہیر اور ستائش۔فیصل آباد کے اس خاموش مسیحا کی کہانی معاشرے کے ہر فرد کے لیے ایک سبق ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ انسانیت کا حقیقی حسن دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے میں ہے۔آئیے، ہم سب مل کر اپنے اپنے طور پر انسانیت کی خدمت کریں اور اس دنیا کو ایک بہتر اور پرسکون جگہ بنائیں۔رحمان علی جیسے افراد کی کہانیاں ہمیں امید اور حوصلہ فراہم کرتی ہیں کہ نیکی اور خلوص کی شمع ہمیشہ جلتی رہے گی، چاہے دنیا میں کتنی ہی مشکلات کیوں نہ ہوں۔
    یہی انسانیت ہے، یہی اصل زندگی کا مقصد۔

  • قدیم چولستان، سرائیکی تہذیب  کے منفرد رنگ

    قدیم چولستان، سرائیکی تہذیب کے منفرد رنگ

    قدیم چولستان، سرائیکی تہذیب کے منفرد رنگ
    تحقیق و تحریر:ڈاکٹر محمد الطاف ڈاہر جلالوی
    altafkhandahir@gmail.com
    اس مضمون میں قدیم چولستان کی وادی ہاکڑہ اور سرائیکی تہذیب کی منفرد جھلکیوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ یہ چار اقساط پر مشتمل سلسلہ سرائیکی ثقافت کی گہرائیوں، رسوم و رواج اور تاریخی ورثے پر روشنی ڈالے گا۔

    پہلی قسط . قدیم وادی ہاکڑہ کی تمدنی اقدار،تاریخ کے گمشدہ راز
    چولستانی وادی ہاکڑہ کا تاریخی پس منظر ہزاروں سال پرانا ہے۔جہاں انسانی تخلیقیت نے مادری زبان،روحانیت،ادب، اور ثقافت کے ذریعے تمدنی و تہذیبی اقدار کو پروان چڑھایا۔روہی چولستان کے منفرد رسوم و رواج اور دستکاریوں نے عالمی سطح پر سرائیکی ثقافت کو الگ پہچان دی۔ قدیم آثار جیسے گنویری والا اور قلعہ ڈیراور آج بھی اس خطے کی تہذیبی تاریخ کی گواہی دیتے ہیں۔

    فلسفہ امن و بقائے انسانیت اور فکر معاش نے انسانی تخلیقی خوبیوں اور صلاحیتوں کو پروان چڑھایا۔خلیفہ خداوندی حیوان ناطق انسان نے ہمیشہ مادری زبان کے در سے علم وادب کی روشن خوبصورت قلم مشعل اور شعور کی آگاہی سے منفرد انداز میں آرٹ،کلچر اور سوسائٹی کی بدولت عظیم سمندروں،دریاؤں،ندیوں،چشموں اور ٹوبھوں کے کناروں پر نئی تہذیبوں اور تمدنوں کو تخلیق کیا۔ہزاروں سال پرانی وادی ہاکڑہ سرسوتی کی سرائیکی خطے روہی چولستان کی ثقافت اپنے مخصوص رسم و رواج اور دستکاریوں کی بدولت پاکستان سمیت اقوام عالم میں الگ خاص حیثیت رکھتی ہے۔

    کرہ ارض پر مجبور انسان نے اپنے دکھ سکھ کے اظہار کے لیے ہی رسوم و رواج کی روایات کو فروغ دیا۔صحرائی علاقے بہاولپور کے گلزار صادق روہی چولستان کے کنارے وادی ہاکڑہ سرسوتی تہذیب وتمدن کی آغوش میں پلنے والی مضبوط رواج ریتیں اور رسوم نے روہیلوں کی زندگی میں نئی راہیں تلاش کیں۔قدیم آثارقدیمہ کا حامل شہر گنویری والا،موج گڑھ،قلعہ مروٹ،پتن منارہ،قلعہ ڈیراور جیپ ریلی مرکز چولستان کے ساتھ دیگرچولستانی پرانے گمشدہ محلوں اور قلعوں کے کھنڈرات دراصل آج کے گوپوں میں زندہ جاوید روایات اور رسموں کی گواہی ہیں،روہی کی قابل استعمال اشیاء کا ذکر اور خوبصورت منظر نگاری اپنی نوعیت میں انوکھی ہیں۔

    چولستان اور روہی سرائیکی وسیب کی عالمگیر تہذیب وتمدن،تصوف اور ثقافت اپنی قدیم روایتوں اور منفرد انداز کے باعث بہت مشہور ہے ۔یہاں کی ثقافتی رسموں و رواج اور اشیاء کا نمایاں ذکر سرائیکی وسیب کی بین الاقوامی سطح پر امن و محبت،تصوف،علم وادب،رواداری،خلوص،وفا،
    ،ہمدردی،صبروتحمل،برداشت،دیانت، شرافت،امانت،اتحاد،احترام آدمیت کے فلسفے کی علامات ہیں۔

    مشہور ثقافتی مقامی و انٹرنیشنل چولستانی میلہ، چنن پیر میلہ، جھوک فرید امن میلہ، قلعہ ڈیراور فرید امن میلہ،چولستان جیپ ریلی کے سالانہ تہواروں میں روایتی رقص جھمر،مخصوص چولستانی لباس،موسیقی اور علاقائی دستکاریوں کی نمائش ہر عام خاص سیاح کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔

    اونٹوں کی دوڑ کا ثقافتی تہوار چولستان روہی کے لوگوں بڑے جوش و خروش سے مناتے ہیں۔اس ریس میں نوجوان طاقتور صحرائی ہوائی جہاز خوبصورت نقش و نگار سے مزین اونٹ ہر ایک کو دوڑتے ہوئے بھاتے ہیں۔لوک موسیقی روہی چولستان کی روح ہے۔فنون لطیفہ میں شاعری کی تاثیر کو موسیقی کے سازوں سے مزین کیا جاتا ہے۔

    سرائیکی چولستانی لوک گلوکارجیسے مرحوم فقیرا بھگت کا بیٹا موہن بھگت،اوڈ بھگت، مجید مچلا،مٹھو چولستانی اپنی سریلی گائیکی کے ذریعے علاقائی رنگ پیش کرتے ہیں۔ڈھول ناچ کی رسم کو شادی بیاہ اور دیگر خوشی کے مواقع پر ڈھول کی تھاپ پر رقص جھمر مخصوص دائرہ میں سرائیکی اجرک و چنئی کے رنگوں سے رسم ادا کی جاتی ہے۔

    چولستانی مہندی کی مخصوص رسم شادیوں میں خاص قسم کی مہندی سے ادا کی جاتی ہے۔رسم کی دلکشی صدیوں پرانی انسانی جذبات کی ترجمانی کرتی ہے۔روہی چولستان میں روح کی روحانی تسکین کے لیے پیر سید کی درگاہ کی حاضری لازمی جز زندگی ہے۔

    چادر پوشی کی خاص مذہبی اور ثقافتی رسم عقیدت اوراحساسات کی عملی سکون واطمینان قلب کا خوبصورت جہاں سے جڑی ہوتی ہے۔چولستانی مسلم و ہندو کمیونٹی حضرت سید شیر شاہ جلال الدین حیدر سرخ پوش بخاری رحمتہ اللہ علیہ،مہان سرائیکی شاعر حضرت خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ،قلعہ ڈیراور پر موجود اصحاب کی قبور حضرت چنن پیر رحمتہ اللہ علیہ اور حضرت روحل فقیر (سکھر روہڑی) کو اپنا روحانی مرشد کامل حقیقی مانتے ہیں۔مسجد مندر میں اپنی روحانی تقریبات ادا کرتے ہیں۔چادر پوشی کی رسم روہی چولستان میں بہت اہمیت رکھتی ہے۔

    مشہور ثقافتی اشیاء میں چولستانی کڑھائی کے کپڑے،ہاتھ سے کڑھی بنی ہوئی شال،دوپٹے،کنگن،چوڑیاں، شیشے اور دھات کے بنے خوبصورت زیورات،مٹی کے برتن،خاص طور پر مٹی کے گھڑے اور صراحی،اونٹ کے بالوں سے بنی اشیاء میں رسی،قالین اور دیگر دستکاریاں میں چولستانی لوئی اور کمبل، اون اور روئی سے بنی گرم اشیاء،چاکی ہنر میں لکڑی سے بنی روزمرہ استعمال کی اشیاء جیسے کھجور کے پتوں سے بنی ٹوکریاں،سرائیکی بلوچی چپل جو منفرد ڈیزائن کی بدولت مخصوص علاقائی پہچان رکھتی ہے۔

    یہ رسمیں اور اشیاء چولستان اور روہی کی شاندار تہذیبی،ثقافتی قدیمی آرٹ اینڈ آرکیالوجی کے نقش و نگار کو اجاگر کرتی ہیں۔ پاکستان کے دلکش کلاسک کلچرل ورثے کا اہم سرائیکی شناختی حوالہ ہیں۔الگ پہچان کی مشہور ریاست بہاولپور روہی چولستان کی سادہ مٹھاس بھری رسمیں روایتی ثقافتی ورثےکی شناخت کا زیور ہیں۔

    سوئی کم کریجے
    جہیں وچ اللہ آپ بنڑیجے
    مار نغارا انا الحق دا
    سولی سر چڑھیجے
    وچ کفر اسلام کڈاہاں
    عاشق تاں نہ اڑیجے
    جاری ہے ۔

  • پیراڈائز ہوٹل ٹوبہ ٹیک سنگھ میں انوکھی شادی

    پیراڈائز ہوٹل ٹوبہ ٹیک سنگھ میں انوکھی شادی

    پیراڈائز ہوٹل ٹوبہ ٹیک سنگھ میں انوکھی شادی:دین،معاشرے اور اخلاقیات کا زوال
    تحریر:شاہد نسیم چوہدری
    ٹوبہ ٹیک سنگھ میں شورکوٹ روڈ پر واقع دی پیراڈائز ہوٹل میں ایک انوکھی شادی سرانجام پائی ۔۔۔جو ،معاشرے اور اخلاقیات کی پستی کا واضح ثبوت ہے،ارباز نامی لڑکے کی خواجہ سرا میڈم دعا سے سرعام شادی نے پورے علاقے میں ایک ہلچل مچا دی۔ اس شادی کی تقریب میں نہ صرف روایتی رسومات جیسے دودھ پلائی اور رخصتی ادا کی گئیں، نکاح نہیں کرایا گیا۔ رقص و سرود کی محفل بھی سجائی گئی جس میں نوٹ نچھاور کیے گئے اور علاقے بھر کے خواجہ سراؤں نے شرکت کی۔

    یہ واقعہ ہمارے معاشرتی، دینی اور اخلاقی رویوں کا آئینہ ہے جو ایک سنجیدہ بحث کا تقاضا کرتا ہے۔اسلامی اصولوں کی خلاف ورزی :دین اسلام نکاح کو پاکیزگی اور نسل انسانی کی افزائش کے لیے مقرر کرتا ہے، اور اس کے اصول واضح ہیں۔ قرآن و سنت کے مطابق مرد کا مرد سے، عورت کا عورت سے اور مرد کا خواجہ سرا سے شادی کرنا جائز نہیں۔یہ اصول اس لیے ہیں کہ اسلامی معاشرت کی بنیاد خاندانی نظام پر ہے جو نکاح کے دائرے میں رہ کر نسل انسانی کو آگے بڑھاتا ہے۔ خواجہ سرا کی جنس ایک الگ موضوع ہے، لیکن اس شادی نے نہ صرف ان دینی اصولوں کو پامال کیا بلکہ اسلامی اقدار کو بھی مجروح کیا۔شادی کی تقریب میں نکاح کا سرے سے کوئی ذکر نہ ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ شادی ایک غیر سنجیدہ اور شرعی اصولوں کے برعکس عمل تھا۔ جب اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے واضح احکامات کو نظرانداز کیا جاتا ہے، تو یہ اللہ کے عذاب کو دعوت دینے کے مترادف ہوتا ہے۔

    معاشرتی پہلو: تضاد اور زوال ،یہ واقعہ صرف دینی اصولوں کی خلاف ورزی نہیں بلکہ ہمارے معاشرتی زوال کی بھی ایک بڑی علامت ہے۔شادی کی تقریب کے دوران رقص و سرود اور نوٹ نچھاور کرنا خواجہ سراؤں کو تفریح کا ذریعہ بنانے کا مظہر ہے۔ ہم بحیثیت معاشرہ ان کے ساتھ ہمدردی کے بجائے انہیں تماشہ بنا رہے ہیں۔خواجہ سراؤں کے رقص کو سرعام دیکھنا اور اس پر خوشی کا اظہار کرنا اخلاقیات کے زوال کی نشاندہی کرتا ہے۔اور پھر اس سے شادی کے نام پر ساتھ لے جانا سر عام زناکاری کے زمرے میں آتاہے، یہ رویہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ہم اپنی روایات اور اقدار کو نظرانداز کر چکے ہیں۔

    معاشرتی طور پر خواجہ سراؤں کو اب تک نہ تو برابری کا درجہ ملا ہے اور نہ ہی ان کے حقوق کی فراہمی ممکن ہو سکی ہے۔ اس کے باوجود ایسے تماشوں میں انہیں مرکز بنا کر پیش کرنا ہمارے دوہرے معیار کو ظاہر کرتا ہے۔شریعت اور خواجہ سرا بارے اگر غور کیا جائے تواسلامی تعلیمات خواجہ سراؤں کے ساتھ انصاف اور احترام کا درس دیتی ہیں۔ قرآن و سنت میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ہر انسان کے ساتھ عدل و انصاف کیا جائے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ شرعی اصولوں کو توڑ کر اپنی عیش و عشرت کیلئے ان کے لیے علیحدہ قوانین بنائے جائیں۔خواجہ سراؤں کو ان کے حقوق دینا ضروری ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ معاشرتی اور دینی اصولوں کو پس پشت ڈال دیا جائے۔

    ارباز اور دعا کی شادی نہ صرف شرعی اصولوں کے خلاف ہے بلکہ یہ ایک خطرناک مثال بھی قائم کرتی ہے جو معاشرتی انتشار کو جنم دے سکتی ہے۔اس جیسے اعمال دین اسلام کی نظر میں سخت ناپسندیدہ ہیں۔اس تقریب میں یہ عمل سرعام کیا گیا، جو کھلم کھلا گناہ ہے۔نکاح، شادی کی بنیاد اور ایک مقدس معاہدہ ہے، لیکن یہاں نکاح کو نظرانداز کر دیا گیا۔ یہ عمل معاشرتی اقدار کی پامالی ہے۔

    خواجہ سراؤں کو ایسے مقاصد کیلئے تقریبات میں استعمال کرنا شرعی اور اخلاقی طور پر غلط ہے۔ان کی عزت نفس کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔ معاشرے کی ذمہ داری ہے،یہ وقت ہے کہ ہم بحیثیت قوم اپنے اعمال کا جائزہ لیں اور اصلاح کی طرف بڑھیں۔معاشرے میں دینی تعلیمات کو فروغ دینا اور اسلامی اصولوں پر عمل پیرا ہونا ضروری ہے۔ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے قانون سازی کی جائے اور ان پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔

    خواجہ سراؤں کے حقوق:خواجہ سراؤں کو ان کے شرعی اور قانونی حقوق فراہم کیے جائیں تاکہ وہ معاشرے میں باعزت زندگی گزار سکیں۔معاشرے کو خواجہ سراؤں کو انسان سمجھنا اور ان کے ساتھ برابری کا سلوک کرنا سیکھنا ہوگا۔ارباز اور دعا کی شادی نے دینی اور معاشرتی اصولوں کو توڑ کر ہمیں ہمارے زوال کا آئینہ دکھایا ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور اپنے اعمال کا جائزہ لیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے احکامات پر عمل کرنے کا حکم دیا ہے، اور ان سے انحراف کرنا صرف دنیاوی نقصان ہی نہیں بلکہ اخروی عذاب کا بھی سبب بن سکتا ہے۔اللہ ہمیں ہدایت دے کہ ہم اپنے اعمال درست کریں، خواجہ سراؤں کو ان کے جائز حقوق دیں، اور دینی اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے معاشرتی اصلاح کی طرف بڑھیں۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنی روایات اور اقدار کو زندہ کریں اور ایسے اعمال سے باز رہیں جو اللہ کے قہر کو دعوت دیں۔

    نوٹ : دی پیراڈائز ہوٹل ٹوبہ ٹیک سنگھ کے ذمہ دار عاصم سے اس شادی بارے معلومات لینے کیلئے فون کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ بات بالکل ٹھیک ہے،یہ واقعہ ایسے ہی ہے۔جب ان سے سوال کیا گیا کہ یہ تقریب کس نے،کس تاریخ کو،کتنے لوگوں کے لئے بکنگ کروائی اور بل کتنا بنا۔۔تو انہوں نے فون بند کردیا اور بارہا رابطہ کرنے پر بھی فون اٹینڈ نہیں کیا۔۔۔۔،

  • مریم نواز کا سکالرشپ پروگرام اعزاز یا مذاق؟

    مریم نواز کا سکالرشپ پروگرام اعزاز یا مذاق؟

    مریم نواز کا سکالرشپ پروگرام اعزاز یا مذاق؟
    تحریر: اعجازالحق عثمانی
    زمانۂ حال کی سیاست میں خیرات، امداد اور فلاحی سکیمیں عوامی مقبولیت کے حصول کا مجرب نسخہ سمجھی جاتی ہیں۔ انہی سکیموں میں، سوشل میڈیا تشہیر سے بھرپور ایک مریم نواز کا سکالرشپ پروگرام بھی شامل ہے، جسے بظاہر غریب اور مستحق طلباء کی تعلیم کے فروغ کے لیے ایک سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ لیکن اس پروگرام کی تفصیلات میں جب گہرائی سے جھانکا جاتا ہے تو حقائق کے پردے ہٹتے ہیں اور اس سکیم کے مضمرات ایک عجیب تمسخر کی شکل میں سامنے آتے ہیں۔

    سکالرشپ کی مد میں یونیورسٹیوں میں طلباء کے لیے قریباً 50 سے 90 لاکھ روپے تک کے وظائف فراہم کیے جا رہے ہیں۔ یہ اعداد و شمار بظاہر متاثر کن ہیں اور عوامی ذہن میں یہ گمان پیدا کرتے ہیں کہ ان وظائف کی مدد سے مستحق طلباء کے تعلیمی مسائل حل ہو جائیں گے۔ مگر جب اس رقم کو 200 سے 300 طلباء کے درمیان تقسیم کیا جاتا ہے تو ہر طالب علم کو محض 15,000 سے 20,000 روپے ہی میسر آتے ہیں۔یہ رقم جو سننے میں تو کسی "اعزاز” سے کم نہیں لگتی، حقیقتاً ایک مذاق کے مترادف ہے۔ موجودہ تعلیمی حالات میں، جہاں یونیورسٹیوں کی ایک سمسٹر کی فیس 50,000 سے ایک لاکھ روپے تک پہنچ چکی ہے، وہاں یہ رقم طالب علم کی ضرورتوں کا ایک چھوٹا سا حصہ بھی پورا نہیں کرتی۔ نتیجتاً، نہ تو یہ وظائف تعلیمی بوجھ کو کم کرنے میں معاون ثابت ہو پاتے ہیں اور نہ ہی مستحقین کو کسی حقیقی ریلیف کی امید دلاتے ہیں۔

    اس سکالرشپ پروگرام کے ساتھ جو ایک اور سنگین مسئلہ جڑا ہوا ہے، وہ مریم نواز کے یونیورسٹیوں کے دوروں کے دوران پیدا ہونے والی صورتِ حال ہے۔ ان کے دوروں کی وجہ سے اکثر یونیورسٹیوں میں کرفیو جیسی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ تقریباً 95 فیصد طلباء کو چھٹی دے دی جاتی ہے، اور بعض اوقات تو یونیورسٹیاں اپنے جاری امتحانات تک کو منسوخ کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔یہ صورت حال ان دوروں کا مقصد تعلیمی مسائل کو حل کرنا نہیں، بلکہ کسی اور طرف کو اشارہ کرتی ہے۔ طلباء کی پڑھائی اور ان کے تعلیمی معمولات کو تہ و بالا کر کے ایسے دورے تعلیمی اداروں کی خودمختاری پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کرتے ہیں۔

    طلباء کسی بھی قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں۔ ان کی عزت اور حوصلہ افزائی ہر معاشرے کی ترجیح ہونی چاہیے۔ مگر اس سکالرشپ پروگرام میں طلباء کو دی جانے والی معمولی رقم اور اس کے ساتھ کی جانے والی تشہیر طلباء کے وقار کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔ ایک طرف سیاسی رہنما عوامی فنڈز سے وظائف دے کر خود کو "عوام کا مسیحا” ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تو دوسری طرف طلباء کو ان کی بنیادی تعلیمی ضرورتوں سے محروم رکھا جاتا ہے۔بوسیدہ تعلیمی نظام، انفراسٹرکچر اور دیگر کئی مسائل میں ہماری جامعات گھری ہوئی ہیں۔ مگر یہ خان اور شریف ہمیں چند ہزار کے پیچھے لگائے رکھیں گے۔ تاکہ ہم اصل مسائل کو بھولے رہیں۔

    یہ وقت کی ضرورت ہے کہ ہم ایسے پروگراموں کے حقیقی اثرات کو سمجھیں اور ان میں اصلاحات کے ذریعے تعلیم کے میدان میں حقیقی انقلاب برپا کریں، نہ کہ محض سیاسی فوائد کے حصول کے لیے عوامی وسائل کا استحصال کریں.

  • کر مریم اینی وفا گئی اے۔۔۔غریب دا بوجھ ونڈا گئی اے

    کر مریم اینی وفا گئی اے۔۔۔غریب دا بوجھ ونڈا گئی اے

    ”کر مریم اینی وفا گئی اے۔۔۔غریب دا بوجھ ونڈا گئی اے”
    وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کا دورہ ڈی جی خان
    تحریر: محمد جنید جتوئی،ڈپٹی ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز،ڈی جی خان
    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے ڈیرہ غازی خان ڈویژن میں اسکالرشپ تقسیم کرکے پورے پنجاب کے 30 ہزار طلباء کو تعلیمی وظائف ان کے گھروں کے نزدیک خود پہنچا دیے ہیں۔ اب وہ ایک لاکھ بائیکس اور جدید لیپ ٹاپ لے کر دوبارہ آنے کا وعدہ بھی کر گئی ہیں۔ ڈی جی خان کے دورے پر طالبہ شاعرہ نے کیا خوب کہا کہ:
    "او سب دی ماں آگئی اے”
    "کر اپنا فرض ادا گئی اے”
    "کر مریم اینی وفا گئی اے”
    "او غریب دا بوجھ ونڈا گئی اے”


    واقعی وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے غریب طالب علموں کے اسکالرشپ کی شکل میں تعلیمی اخراجات اٹھا کر اپنا حق ادا کر دیا ہے۔ اب بچوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ محنت کو شعار بنائیں اور تعلیم و تحقیق مکمل کرکے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کو ان کی محبتوں کا مثبت جواب دیں۔

    ڈیرہ غازی خان کے دورے پر وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے ہونہار اسکالرشپ پروگرام کا پہلا مرحلہ مکمل کیا۔ غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان میں منعقدہ تقریب میں وزیر اعلیٰ نے طلباء میں چیک تقسیم کیے اور نئے جدید لیپ ٹاپ کی رونمائی کی۔ تقریب کے دوران ایک طالبہ شاعرہ نے وزیر اعلیٰ کو منظوم خراج تحسین پیش کیا۔ وزیر اعلیٰ نے خود اسٹیج پر آکر اسکالرشپ کے چیک تقسیم کرکے ڈیرہ غازی خان ڈویژن میں ہونہار اسکالرشپ کا آغاز کیا۔

    تقریب میں وزیر اعلیٰ کو شیشہ کاری سے مزین روایتی شال اور بلوچی لباس کا تحفہ پیش کیا گیا۔ طلباء نے وزیر اعلیٰ کو محمد نواز شریف اور دیگر پورٹریٹ بھی پیش کیے۔ روایتی بلوچی لباس میں ملبوس کوہ سلیمان کی ایک طالبہ نے بلوچی زبان میں خوش آمدید کہا۔ وزیر اعلیٰ نے تلاوت قرآن پاک اور ملی نغمے پیش کرنے والے طلباء سے اظہار شفقت کیا۔ "رسول مدنی را، نازک بدنی را” جامی کی نعت پیش کرنے والی طالبہ کو ازراہ شفقت گلے لگا لیا۔ "نفرتوں کے دروازے بند رکھیں گے، یہ پرچم سربلند رکھیں گے” کے ملی نغمے پر پنڈال تالیوں سے گونج اٹھا۔

    وزیر اعلیٰ کی آمد پر طلباء نے جوش و خروش کا مظاہرہ کیا۔ وزیر اعلیٰ نے اسمبلی اراکین کی نشستوں پر جا کر خیریت دریافت کی اور طالبات کے درمیان بیٹھ کر ان سے بات چیت کی۔ وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر طلباء کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ پنجاب پولیس کے چاق و چوبند دستے نے طلباء کو جنرل سلامی دی۔ پولیس وردی میں ملبوس ایک ننھی بچی کو وزیر اعلیٰ نے پاس بٹھا کر پیار کیا۔

    ڈیرہ غازی خان ڈویژن کے 1250 طلباء میں 3 کروڑ 14 لاکھ روپے مالیت کے اسکالرشپ تقسیم کیے گئے۔ میر چاکر خان رند یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے 35 طلباء کو 13 لاکھ 80 ہزار روپے، یونیورسٹی آف لیہ کے 292 طلباء کو 72 لاکھ 94 ہزار روپے، اور غازی یونیورسٹی کے 100 طلباء کو 49 لاکھ 35 ہزار روپے کے اسکالرشپ دیے گئے۔

    وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ کوئی اہل، محنتی اور میرٹ پر آنے والا طالب علم فیس نہ ہونے کی وجہ سے اعلیٰ تعلیم سے محروم نہیں رہے گا۔ انہوں نے نوجوانوں کو نصیحت کی کہ وہ اپنے والدین سے دعائیں لیں اور ہمیشہ محنت اور تعلیم کو اپنا نصب العین بنائیں۔۔ میرچاکر خان رند یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے 35 طلبہ کو 13 لاکھ 80 ہزار روپے سکالرشپ ملے۔یونیورسٹی آف لیہ 292 طلبہ کیلئے 72لاکھ94ہزار روپے کے ہونہار سکالر شپ فراہم کیے گئے۔غازی یونیورسٹی کے 100طلبہ کو 49لاکھ 35ہزار روپے کے ہونہار سکالر شپ سے نوازا گیا۔ڈیرہ غازی خان،لیہ،مظفر گڑھ اور راجن پور کے سرکاری کالجز کے 526طلبہ کو 80 لاکھ 96ہزار روپے کے ہونہار سکالر شپ مل گئے۔

    غازی یونیورسٹی ڈی جی خان میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے خیبرپختونخواہ اور بلوچستان کے طلبہ کوبھی ہونہار سکالرشپ دینے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف نے غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان میں انکوبیشن سینٹر قائم کرنے کا اعلان کیا اور غازی یونیورسٹی کے طلبہ کی ضروری تعلیمی ضروریات پوری کرنے کی ہدایت کی ہے۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ڈی جی خان میں ہونہار سکالر شپ کی تقریب سے تاریخی خطاب میں کہا ہے کہ اہل،محنتی اور میرٹ پر آنے والا بچہ،فیس نہ ہونے کی وجہ سے اعلیٰ تعلیمی ادارے کی تعلیم سے محروم نہیں رہے گا۔ ہم نو مئی والے نہیں ہیں 28مئی والے ہیں، پاکستان والے ہیں اور پاکستان کی عزت کے رکھوالے ہیں۔ہماری زبان تذلیل کی نہیں تدریس کی ہے۔ ہم ڈنڈا بردار نہیں ہم علم، امن اور ترقی کے علمبردار ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ بچے اپنے والدین سے دعائیں لیں، غصہ آبھی جائے تو جواب نہ دیں۔میرے بیٹے اور بیٹیوں بڑوں کا لحاظ کرو، بدتمیزی نہ کرو اور لائن کراس مت کرو۔ کبھی نہیں چاہوں کہ آپ کسی کو گالی دو،ماں اپنے بچوں کو ترغیب نہیں دے سکتی۔پاکستان کو جہاں پر اور مسائل کا سامنا ہے وہاں پر فیک نیوز کا بھی سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچے بغیر تحقیق کے سوشل میڈیا کی پوسٹ پر یقین نہ کیا کریں۔ سچ ابھی تسمے باندھ رہا ہوتا ہے، جھوٹ پوری دنیا کا چکر لگاکر آجاتا ہے۔انہوں نے چار سال کام کچھ نہیں کیا،اختتام پر یہی کہا یہ چور وہ چور،اسے پکڑ لو، آگ لگادو۔ وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف نے کہا کہ بچے کوئی بھی فیصلہ کرتے وقت پاکستان کو سامنے رکھیں۔

    پاکستان ہماری ماں ہے اور ماں کے ساتھ وفاداری کی جاتی ہے غداری نہیں۔میری حکومت ہونہ ہولیکن پاکستان میرا ہے۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ میری حکومت نہ ہوتو پاکستان کو جلاؤ دوں، اس ملک کو ماں کی مانند سمجھنا ہے۔ نوجوانوں آپ کا ہر فیصلہ ہونہار سکالر شپ کی طرح 100فیصد میرٹ پر ہونا چاہیے۔نوجوانوں کے ہاتھ میں فیصلے کی قوت ہے، نوجوان ہی میری ہمت ہیں اکیلے کچھ نہیں کر سکتی۔ گالی گلوچ، پگڑیاں اُچھالنے اپنے ملک کے خلاف قدم اٹھانے والا آپ کا دوست نہیں ہے۔ پاکستان ہماری ریڈ لائن ہے، شہداء، رینجرز اور پولیس ہمارے اپنے ہیں۔

    ہونہار سکالر شپ کے حوالے سے پروپیگنڈہ وہ کررہے ہیں جنہوں نے سکالر شپ کی بجائے بچوں کے ہاتھ میں پٹرول بم دیا۔انہوں نے کہا کہ ہونہار سکالر شپ حاصل کرنے والے بیٹے اور بیٹیوں کو دل اتھاہ گہرائیوں سے بہت بہت مبارکباد۔ گھر جاکر میری طرف سے والدین اور گھر والوں کو بھی مبارکباد دینا۔ والدین سے کہنا جتنا آپ کو فخر ہے اس سے زیادہ مجھے آپ پر فخر ہے۔اپنے بیٹوں سے بھی اتنا ہی پیا ر کرتی ہوں جتنا اپنی بیٹیوں سے کرتی ہوں۔ہر ڈویژن میں خود گئی اور بچوں کو خود جاکرہونہار سکالر شپ دیئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ میں خود چل کرہونہار سکالر دیئے اور بچوں کے مسائل ان کی زبانی سنے، محسوس کیے۔بچوں کی ہر بات دل سے سنتی ہوں، جو نہیں کہتے وہ بھی سنائی دیتی ہے۔ ماں اور بچوں کا جور شتہ قائم کیا ہے یہ میری زندگی کا حاصل ہے۔

    ہرڈویژن سے بچوں کی طرف سے بہت محبت ملی وہ میری زندگی کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف نے کہا کہ دنیا میں ہر رشتہ ٹوٹ سکتا ہے لیکن ماں اور بچوں کا رشتہ ٹوٹ نہیں سکتا۔ نوجوانوں کی محبت، احترام اور اعتماد میرے لئے بہت بڑا اعزاز ہے۔لیپ ٹاپ اور ای بائیکس لیکر جلد آپ کے پاس دوبارہ آؤں گی۔ چاہتی ہوں میرے بیٹے اور بیٹیاں فیس کے پریشرسے آزاد ہوکر اپنی تعلیم حاصل کریں۔ بچوں کو جدیدٹیکنالوجی لیس کرنے کے لئے لیپ ٹاپ دے رہے ہیں تاکہ اپنی ریسرچ اور انسینمنٹ جاری رکھیں۔ بچوں کی طرف جو رسپانس مل رہا ہے، مخالفین کو سمجھ نہیں آرہی کہ یہ کیا ہوگیا ہے۔ مخالفین کوئی وجہ تلاش کررہے ہیں، بچوں کے ساتھ جو رشتہ قائم ہوگیا ہے اس کا کیا کریں۔

    مخالفین ہونہار سکالر شپ کو ڈرامہ کہتے ہیں ان کوپتہ ہی نہیں کہ سچی محبتیں کیا ہوتی ہیں۔ جھوٹ میں آنکھ کھولی، جھوٹ میں پلنے والوں کیا پتہ پیار اور اعتماد کا رشتہ کیا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں نے یہ محبت دی تو اس سے میری کندھوں ذمہ داری اورمحنت کابوجھ بڑھ گیا ہے۔ بیٹے اور بیٹیوں کی محبت کا جواب اور زیادہ محبت سے دوں گی اورزیادہ سکیم لاکراس پیار کا جواب دوں گی۔ میرے کندھوں پر بچوں کے خواب کوپورا کرنے، مستقبل کو بہتر بنانے کا بوجھ ہے جس کو اچھے طریقے سے اس فرض کو ادا کرنا چاہتی ہوں۔ حقیقت یہی ہے کہ ہرروز بچوں کی زندگیوں اورتعلیم کو بہتر بنانے کیلئے دن رات محنت کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں۔ بہت عاجزی اور بچوں کی گواہی کے ساتھ کہتی ہوں کہ 30ہزار سکالر شپ میں سے ایک بھی کسی سفارش پر نہیں دیا گیا۔ ہر بچہ یہ گواہی دے سکتا ہے کہ ایک بھی سکالر شپ میرٹ کی خلاف ورزی پر نہیں دیا گیا۔

    اگر کو کہہ دے کہ کسی ایک بچے کو کسی منسٹر، ایم این اے یا ایم پی اے کی سفارش پر سکالر شپ ملا ہے تو استعفیٰ دے کر گھر چلی جاؤں گی۔اللہ تعالیٰ کا شکر اور احسان ہے کہ بچوں کا ان کاحق دینے کی توفیق دی۔ بچے ہونہار سکالر شپ پر شکریہ بولتے ہیں تو مجھے تکلیف ہوتی ہے،یہ آپ کا حق تھا جو آپ کو ملا ہے۔ وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف نے کہا کہ سکالر شپ کو پانے کیلئے بچوں نے محدود وسائل میں رہ کر زبردست محنت کی یہ آپ کی محنت کا ثمر ہے۔ میرے بیٹے اور بیٹیاں آپ ہیروز نہیں ہوں بلکہ سوپرہیروز ہیں۔ہونہار سکالر شپ میرے بچوں کی بہت بڑی اچیومنٹ ہے اللہ تعالیٰ نے آپ کو آپ کی محنت کا صلہ دیا ہے۔ بچے سر اٹھا کر چلیں کہ انہیں ہونہارسکالر شپ ملا ہے۔

    پاکستان بہت سے وسائل سے مالا مال کیا ان وسائل میں 65فیصد یوتھ بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگلے چند سالوں میں یہی یوتھ پاکستان کو لیڈ کرے گی۔ کوئی بچہ اپنے آپ کو چھوٹا یا بڑے نہ سمجھے بلکہ آپ ہی پاکستان ہو۔ بچوں کو جلد لیپ ٹاپ اور ایک لاکھ ای بائیکس فراہم کریں گے۔جس طرح میں اپنے بچوں کی ماں ہوں اسی طرح قوم کے بچوں کی ماں ہوں۔ اس سال 30ہزار سکالر دیئے ہیں اور اگلے سال50ہزار تک سکالر شپ دے رہے ہیں۔ بہت جلد سیکنڈ اور تھرڈ ایئر بچوں کے لئے بھی سکالر شپ لیکر آرہے ہیں۔

    وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف نے کہا کہ کے پی کے بچوں کی طرف سے بھی درخواستیں آرہی ہے ہمیں بھی سکالر شپ دیئے جائیں۔چاہتی ہوں کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے بچوں کو سکالر شپ دوں۔ ہونہار سکالرشپ کے بدلے میں مریم نواز کچھ نہیں مانگتی بلکہ یہ کہتی ہوں کہ اپنے والدین کا فخر بنو۔ جس بچے کو ماں باپ کی دعا ہوتی ہے وہ کسی میدان میں بھی ناکام نہیں ہوتا۔ جس بچے سے والدین راضی اس سے رب راضی۔ آج اللہ تعالیٰ نے وزارت اعلیٰ کی کرسی دی ہے، اللہ کے فضل کے بعد والدین کی دعا سے ملی۔

    انہوں نے کہا کہ پنجاب سے تعلق لیکن پنجابی سے پہلے پاکستانی ہوں، جیسے ہم پر ماں باپ کے فرض لازم ہیں ایسے ہی پاکستان کے لازم ہیں۔ میں کبھی نہیں کہوں گی کہ میٹرو بس اور موٹرویز جلاؤ دو۔ محمد نوازشریف نے پاکستان کو جوڑنے کے لئے موٹرویز بنائی،انہوں نے پنجاب پر کے پی کے سے حملہ کرنے کے لئے استعمال کیں۔ میٹرو بس کو آگ لگادی میں میٹروبس میں نہیں بیٹھتی، عوام بیٹھتے ہیں۔وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف نے کہا کہ انتشار پھیلانے والوں نے نوجوانوں کو ورغلاکر جیل میں پہنچا دیا اب ان کو کوئی پرسان حال نہیں۔ انتشاریوں نے پاکستان کے بچوں کا مستقبل تباہ کر دیااور ان کے بچے ملک سے باہر بیٹھے ہیں۔بدترین مخالف کی حکومت رہی جیل میں ماں کی وفات اور باپ کی بیماری کی خبر سنی لیکن کسی کو نہیں کہا جاکر ملک جلاؤ دو۔ حکومت کسی کی بھی ہوسکتی ہے پاکستان تو میرا ہے۔

    ایک طرف ہم ہیں چاہتے ہیں کہ بچے پڑھیں، ترقی کریں اور دوسری جانب انتشاری بچوں کو جیل بھجوانے کے منتظر ہیں۔ اپنے بچوں کو یورپ رکھنے والے اور ملک کے بچوں کو جیل بجھوانے والے ہمدرد نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ چار سال پہلے 38فیصد مہنگائی تھی آج وہی مہنگائی چار فیصد پر آگئی ہے۔ روٹی 30روپے کی تھی آج وہی روٹی 12روپے کی ہے۔ روٹی غریب کھاتا ہے روٹی سستی ہوگی تو غریب کے بچہ کا پیٹ بھرے گا۔ ہر رات سونے سے پہلے روٹی کی قیمت چیک کرکے سوتی ہوں۔ایک طرف دہشت گردی پھیلانے والے ہیں دوسری طرف امن وامان اور ترقی لانے والے ہیں،بچوں امن کا راستہ چننا۔وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف نے کہا کہ ایک طرف مدینہ منورہ میں قومی کی بیٹیوں پر آوازیں کسنے والے اور دوسری طرف اخلاقیات درس دینے والی ماں ہے۔ اپنے بیٹوں کونصیحت کرتی ہوں کہ قوم کی خواتین کی عزت کی حفاظت آپ کی ذمہ داری ہے۔
    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف خصوصی طیارہ کے ذریعے ڈی جی خان ائیر پورٹ پر پہنچیں۔کمشنر ڈاکٹر ناصر محمود بشیر اور آر پی او کیپٹن ریٹائرڈ سجاد حسن خان اور دیگر نے ائیر پورٹ پر وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف کو خوش آمدید کہا۔وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف ہیلی کاپٹر کے ذریعے غازی یونیورسٹی میں بنائے گئے پنڈال میں پہنچیں۔صوبائی وزیر انفارمیشن عظمی بخاری،مشیر وزیر اعلیٰ ثانیہ عاشق،چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ہمراہ تھے۔صوبائی وزیر سردار شیر علی گورچانی اور ایم پی اے سردار احمد خان لغاری بھی وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ہمراہ پنڈال میں آئے۔ڈیرہ غازیخان ڈویژن کے اراکین اسلمبی،ٹکٹ ہولڈرز،ورکرز،کارکن،طلباء وطالبات،والدین اور شہری تقریب موجود تھے۔ اراکین اسمبلی محمد حنیف پتافی،سردار احمد خان لغاری،سردار اسامہ فیاض لغاری،سردار علی یوسف لغاری،پارلیمانی سیکٹری ہائیر ایجوکیشن محمد اجمل چانڈیہ،ایم پی اے محمد اصغر گورمانی،سردار شیر افگن گورچانی،سردار عبدالعزیز جگن دریشک،سردار خضر حیات مزاری،عون حمید ڈوگر،سابق صوبائی وزیر ملک قاسم ہنجرا،سابق اراکین اسمبلی صاحبزادہ فیض الحسن سواگ، مسز شہناز سلیم،سید عبد العلیم شاہ،نجمہ ارشد،احمد یار ہنجرا اور دیگر موجود تھے۔

    طلباء وطالبات نے موبائل فون کی ٹارچ آن کرکے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کو خوش آمدید کہا۔وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف خود چلکر طالبات کے پاس پہنچیں۔طالبات نے وزیر اعلیٰ پنجاب کو اپنے ہاتھوں سے پنسل ورک کا مریم نواز شریف اور میاں نواز شریف کے پورٹریٹ پیش کئیے ،وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے طالبات کو گلے لگایا۔غازی یونیورسٹی اور کوہ سلیمان کی طالبہ نے بلوچی میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کو خوش آمدید کہا۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بچیوں کے ساتھ ملکر قومی ترانہ پڑھاوزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف،طلبا و طالبات کو پنجاب پولیس کے چاق و چوبند دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا۔صوبائی وزیر ہائیر ایجوکیشن رانا سکندر حیات نے سٹیج سیکرٹری کے فرائض انجام دئیے۔پنڈال وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف،میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کے نعروں سے گونجتا رہا۔وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف تالیاں بجا کر بچوں کے نعروں کا جواب دیتے رہیں۔پنڈال کو وزیر اعلیٰ مریم نواز کے پنجاب میں کئے گئے اقدامات کے پوسٹرز سے سنوارا گیا تھا۔پنڈال میں ہونہار سکالر شپ کے سفر سے متعلق ڈاکومنٹری بھی دکھائی گئی۔ڈی جی خان شہر کو وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کو خوش آمدید کہنے کے بینرز سے سجایا گیا تھا۔

  • تلہ گنگ دھرتی کا قابلِ فخر سپوت

    تلہ گنگ دھرتی کا قابلِ فخر سپوت

    تلہ گنگ دھرتی کا قابلِ فخر سپوت
    تحریر: شوکت علی ملک
    ویسے تو راقم افسران کی قصیدہ گوئی کا سخت ترین ناقد ہے مگر کچھ فرض شناس عوام کے حقیقی خادم اور اپنی ڈیوٹی کو جہاد سمجھ کر بخوبی سرانجام دینے والے افسران جوکہ اپنے کام کی وجہ سے ایک منفرد پہچان رکھتے ہوں انکی قصیدہ گوئی بھی عین فرض ہوجاتی ہے کہ ان پہ قلم کشائی کرکے ان کی حوصلہ افزائی کی جائے۔

    آج ایسے ہی ایک قابلِ فخر سپوت کا آپ سے تعارف کروانا عین فرض سمجھتا ہوں جن کا تعلق شہیدوں اور غازیوں کی سرزمین تلہ گنگ کے نواحی گاؤں متھرالہ سے ہے میری مراد "ملک حاکم خان” ہیں جوکہ اس وقت اسسٹنٹ کمشنر سٹی راولپنڈی تعینات ہیں اور اپنی ذمہ داریاں بطریق احسن سرانجام دے رہے ہیں۔

    اسسٹنٹ کمشنر سٹی راولپنڈی ملک حاکم خان نے مختصر وقت میں قبضہ مافیا اور تجاوزات مافیا کو جو نتھ ڈالی ہے وہ اپنی مثال آپ ہے، یہی وجہ ہے کہ راولپنڈی کا ہر شہری ملک حاکم خان کے نام سے نہ صرف واقف ہے بلکہ ان کے کام کی کھل کر تعریف کرتا ہے، تاجر برادری ہو یا عام شہری وہ ملک حاکم خان کو راولپنڈی شہر کےلیے فرشتہ تصور کرتے ہیں۔

    ٹائم کی پابندی، وقت پر آفس آنا اور شہریوں کے مسائل کو بذات خود سننا اور موقع پر احکامات جاری کرنا ان کے معمول کا حصہ ہے، آفس ورک کے بعد روزانہ کی بنیاد پر تجاوزات کیخلاف آپریشن ہو، صفائی ستھرائی کے معاملات ہوں یا پھر سنگل یوز پلاسٹک پر پابندی کے حوالے سے 75 مائیکرون سے کم پلاسٹک بیگز کیخلاف کریک ڈاؤن ملک حاکم خان رات گئے تک عملے کے ہمراہ خود فیلڈ میں موجود رہتے ہیں۔

    ویسے تو راقم کی ملک حاکم خان سے کوئی اتنی پرانی شناسائی نہیں مگر پہلی ملاقات میں ہی ان کی عاجزی انکساری اور انسانیت دوست رویے نے اپنا گرویدہ بنا لیا، ملک حاکم خان ینگ ہیں انرجیٹنگ ہیں ان کے اندر کام کرنے کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے، ان کی ایمانداری اور فرض شناسی کے باعث راولپنڈی کا ہر شہری ان کو اپنا محسن اور حقیقی خدمتگار سمجھتا ہے۔

    گزشتہ دنوں راقم بن بتائے ملاقات کےلیے ان کے آفس پہنچا تو حسب معمول باہر بیھٹے عملے سے جب دریافت کیا کہ اے سی صاحب تشریف فرما ہیں تو انہوں نے تعارف پوچھا جس پر راقم نے کہا اور تو میرا کوئی تعارف نہیں، ہاں البتہ تلہ گنگ سے ہوں جس پر عملے نے بلاحیل و حجت دروازہ کھول کر کہا تلہ گنگ والوں کو تو کوئی رکاوٹ نہیں ہے آپ اندر چلے جائیے۔

    راقم جب اندر پہنچا تو ملک حاکم خان صاحب حسب معمول عوامی مسائل سننے میں مشغول تھے، تلہ گنگ والوں کےلیے خصوصی آفر پر راقم نے کہا "واؤ بھائی ماشاءاللّٰہ تلہ گنگ والوں کیساتھ اتنی محبت کہ ان کےلیے بغیر رکاوٹ ہمہ وقت دروازے کھلے ہیں” کہنے لگے بھائی میرا اصل مقصد ہی عوامی خدمت ہے پھر راولپنڈی والے ہوں یا تلہ گنگ والے ہر خاص و عام کےلیے میرے دفتر اور دل کے دروازے ہر وقت کھلے ہیں پر تلہ گنگ والوں سے تو خصوصی محبت ہے۔

    دھرتی تلہ گنگ سے تعلق رکھنے والے قابلِ فخر سپوت ملک حاکم خان اسسٹنٹ کمشنر سٹی راولپنڈی کی اپنی دھرتی تلہ گنگ اور اہلیانِ تلہ گنگ سے محبت نے گویا دل موہ لیا ہے، دعا ہے رب تعالیٰ ہمارے قابلِ فخر بھائی، فرزند تلہ گنگ، فخر تلہ گنگ، دھرتی تلہ گنگ کے قابلِ فخر سپوت "ملک حاکم خان” کو مزید عزم و ہمت سے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے، ان کو مزید کامیابیوں سے ہمکنار فرمائے اور یونہی ایمانداری اور لگن کیساتھ انسانیت کی خدمت جاری رکھنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین

  • سگریٹ،جان و مال کا دشمن،تحریر: حنا سرور

    سگریٹ،جان و مال کا دشمن،تحریر: حنا سرور

    پاکستان میں مہنگائی کی صورتحال دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے۔ لوگ اپنی روزمرہ کی ضروریات پوری کرنے کے لئے سخت محنت کرتے ہیں، لیکن پھر بھی اکثر انہیں مہنگائی کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے باوجود پاکستانی قوم میں ایک حیرت انگیز تضاد پایا جاتا ہے: ایک طرف مہنگائی کا رونا رویا جاتا ہے اور دوسری طرف عوام اپنی جیب سے پیسہ نکال کر ایسی چیزوں پر خرچ کر رہے ہیں جو نہ صرف صحت کے لئے مضر ہیں بلکہ ان کی مالی حالت پر بھی منفی اثرات مرتب کرتی ہیں۔ ان میں سب سے بڑی چیز سگریٹ نوشی ہے۔

    سگریٹ نوشی ایک ایسی عادت ہے جو نہ صرف فرد کی صحت کو تباہ کرتی ہے بلکہ اس سے معاشرے پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ سگریٹ میں موجود کیمیکلز اور زہریلے مادے انسان کے پھیپھڑوں، دل اور دیگر اعضاء پر حملہ کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں کینسر، دل کی بیماریوں اور سانس کی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس کے باوجود پاکستانی قوم بڑی تعداد میں سگریٹ پینے کی عادت میں مبتلا ہے۔پاکستانی عوام اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ سگریٹ نوشی صحت کے لئے کتنی خطرناک ہے، لیکن پھر بھی وہ اسے ترک کرنے میں ناکام ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ سگریٹ نوشی ایک نشے کی عادت بن چکی ہے، جس سے چھٹکارا حاصل کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اپنی صحت کے ساتھ ساتھ اپنی مالی حالت کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں۔

    پاکستان میں جہاں لاکھوں خاندان بنیادی ضروریات جیسے کھانا، تعلیم، اور علاج معالجے کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں، وہیں ایک بڑی تعداد ایسی بھی ہے جو سگریٹ نوشی کی عادت میں مبتلا ہے۔ یہ صورتحال انتہائی افسوسناک ہے کہ کچھ لوگ اپنے بچوں کو کھانا نہیں دے پاتے لیکن سگریٹ خریدنے کے لئے پیسہ نکال لیتے ہیں۔ کچھ والدین اس بات کی شکایت کرتے ہیں کہ ان کے پاس اپنے بچوں کی فیس جمع کرنے کے لئے پیسے نہیں ہیں، لیکن وہ سگریٹ کے لئے رقم نکالنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ اس طرح وہ اپنی صحت، دولت اور بچوں کے مستقبل کو برباد کر رہے ہیں۔

    یہاں پر حکومت کا کردار بہت اہم ہے۔ اگرچہ حکومت نے کئی بار سگریٹ پر ٹیکس بڑھانے کی کوشش کی ہے، لیکن یہ اقدام ابھی تک اس حد تک مؤثر ثابت نہیں ہو سکا جتنا متوقع تھا۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ سگریٹ کی قیمتوں میں مزید اضافہ کرے تاکہ یہ غریب آدمی کی پہنچ سے دور ہو جائے۔ اگر عوام کو یہ سمجھ آ جائے کہ سگریٹ نوشی کی عادت ترک کرنا صرف صحت کے لئے نہیں بلکہ مالی فائدے کے لئے بھی ضروری ہے، تو شاید وہ اس عادت کو ترک کرنے میں کامیاب ہو سکیں۔

    حکومت کو چاہیے کہ وہ سگریٹ نوشی کے نقصانات کے بارے میں عوام میں آگاہی پیدا کرے۔ اس کے لئے میڈیا اور اسکولوں میں تعلیمی پروگرامز منعقد کیے جا سکتے ہیں۔سگریٹ کی قیمتوں میں اضافہ کیا جائے تاکہ غریب لوگ اس کی خریداری سے گریز کریں۔ مذہبی اداروں اور سماجی تنظیموں کو اس بات کا شعور دینا چاہئے کہ سگریٹ نوشی نہ صرف صحت کے لئے نقصان دہ ہے بلکہ یہ معاشرتی طور پر بھی غلط ہے۔

    پاکستانی قوم کو اپنے معاشرتی اور صحت کے مسائل کے بارے میں سوچنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم نے سگریٹ نوشی جیسے مضر صحت عادات کو ترک نہ کیا تو یہ نہ صرف ہماری صحت بلکہ ہمارے ملک کی معیشت کے لئے بھی خطرناک ثابت ہو گا۔ ہمیں اپنی عادات کو بہتر بنانا ہوگا اور ایسی چیزوں پر خرچ کرنے کی بجائے جو ہماری زندگیوں کو تباہ کر دیں، ہمیں اپنی زندگیوں کو بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہئے۔