Baaghi TV

Category: بلاگ

  • گوادر کا جدید ہوائی اڈہ، پاک چین دوستی ،عالمی تجارتی نیٹ ورک میں اہم اضافہ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    گوادر کا جدید ہوائی اڈہ، پاک چین دوستی ،عالمی تجارتی نیٹ ورک میں اہم اضافہ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ٹرمپ انتظامیہ کی بھرپور توجہ معیشت پر ہے اور فسٹ امریکہ پر ہے۔ پاکستان نے نیو ائیر پورٹ گوادر کا افتتاح کردیا ہے۔ اس بڑے منصوبے کی تکمیل میں جمہوری حکومتوں اور پاک فوج جملہ اداروں کا بہت بڑا کردار ہے۔ پاکستان کی معیشت کو لے کر مستقبل میں معاشی مستحکم پاکستان کا خواب پورا ہوتا نظر آرہا ہے۔ آج اس منصوبے کے مکمل ہونے پر میری بات نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ہوئی جنہوں نے خدا پاک کا شکریہ ادا کیا ۔

    قارئین، پاکستان کو معاشی مستحکم کرنے میں نواز شریف اور اسحاق ڈار جو نواز شریف کے دور حکومتوں میں وزیر خزانہ رہے۔ معیشت کو مستحکم کرنے میں کردار ادا کیا مگر سازشوں نے نواز شریف کو اپنی مدت پوری نہیں کرنے دی ،ہر بار کوئی نہ کوئی سازش تیار کی گئی، کبھی جلا وطنی ، کبھی اٹک قلعہ ،کبھی اڈیالہ جیل ، کبھی کوٹ لکھپت جیل بند کردیا گیا ۔ بدقسمتی سے سیاسی جماعتیں ان سازشوں کا حصہ رہیں۔ ملک کے اس عظیم الشان منصوبے سے بہت سے ممالک کے پیٹ میں مروڑ اُٹھ رہے ہیں ۔ نیو ائیر پورٹ کے منصوبے یعنی گوادر پورٹ بھارت سمیت دنیا کے کئی ممالک نے خوفناک سازش کی تاہم پاک فوج اور جملہ اداروں نے ان بین الاقوامی سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ اس منصوبے کو ناکام بنانے کے لئے کس کس سازش کا نام لوں۔ اب اس کے فعال ہو جانے سے دبئی پورٹ اور ایران کی بندر گاہ عباس کی پہلے جیسی اہمیت نہیں رہے گی ۔ کاروباری لحاظ سے یہ بہت بڑی منڈی ہے۔ چین کو کم سے کم سمندری اور کم سے کم زمینی فاصلے کی ضرورت تھی ۔ گوادر پورٹ چین کی اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے نہایت اہم روٹ ہے۔ چین نے اس منصوبے میں دل کھول کر سرمایہ کاری کی ہے۔ چین موجودہ دور دور کا اقتصادی سپر پاور ہے ۔ اس سے تجارت اور سیاحت کو فروغ ملے گا ۔ پاکستان کی معیشت کو نمایاں فائدہ ہوگا۔ بین الاقوامی ہوائی کمپنیوں کے لئے ایک بہت بڑا مرکز بن جائے گا۔

    گوادر کا یہ بین الاقوامی ہوائی اڈہ پاکستان کے ایوی ایشن انفراسٹرکچر کو بڑھانے اور گوادر کو علاقائی اور عالمی تجارتی نیٹ ورکس میں مربوط کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ جنوبی ایشیائی قوم کے لئے ترقی کا ایک نیا باب کھولے گا۔ چین اور پاکستان کے درمیان ٹھوس دوستی کی علامت ہے۔ نیو گوادر ائیر پورٹ جدید ترین ٹیکنالوجی اور تعمیراتی منصوبے سے لیس ہے۔ اگر پاکستان فسٹ پر عمل کرتا رہا تو ایک دن پاکستان بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے چھٹکارا حاصل کرلے گا

  • نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم.تحریر:اعجازالحق عثمانی

    نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم.تحریر:اعجازالحق عثمانی

    2025 کا آغاز پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک نیا موڑ لے کر آیا ہے۔ وہی سیاست جو "ووٹ کو عزت دو” کے نعروں سے گونج رہی تھی، آج نعروں کی گونج سناٹوں میں بدل کر اک نیا رخ اختیار کر چکی ہے۔ نواز شریف کی واپسی کے بعد ن لیگ جن خوابوں کا تانا بانا بُنتی نظر آتی تھی، اندھے کے وہ خواب بہت بڑا سوالیہ نشان بنے بیٹھے ہیں۔ نواز شریف کے جلسے، ایئرپورٹ پر عدالتی کارروائیاں، اور مینارِ پاکستان پر سرکاری جلسے کے مناظر کسی بڑی سیاسی حکمت عملی کا عندیہ تو دیتے تھے، مگر یہ حکمت عملی خود ن لیگ کی سیاست کے لیے کتنی کامیاب رہی؟ اس کا جواب کھلی کتاب کی طرح سامنے آچکا ہے۔

    پی ٹی آئی کی کہانی بھی کچھ کم دلچسپ نہیں۔ 2023 کے انتخابات کے بعد جس طرح پی ٹی آئی کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی، وہ نہ صرف بانی تحریک انصاف کے بیانیے کو تقویت دے گئی بلکہ اس نے عوام کی حمایت کو بھی ایک نئی سمت دی۔ آج وہی پی ٹی آئی جو کبھی اپنی شناخت کے بحران سے گزر رہی تھی، ایک بار پھر ملک کی سب سے بڑی اور مقبول سیاسی جماعت بن چکی ہے۔

    نواز شریف کی وطن واپسی کی شرائط جن میں نیب قوانین میں تبدیلیاں، کیسز کا خاتمہ، اور عدلیہ پر کنٹرول شامل تھے، ایک طرف عوام کو حیران کرتی رہیں تو دوسری جانب ان کی سیاسی حکمت عملی اور سیاسی نظریات کو بھی کمزور کرتی رہیں۔ دوسری جانب تحریک انصاف، جو ہر طرح کے دباؤ اور مشکلات کے باوجود اپنی جگہ برقرار رکھنے میں کامیاب رہی، اب حکومت کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھی ہے۔ لیکن یہ مذاکرات کیا نتیجہ خیز ہوں گے؟ یا یہ بھی سیاسی داؤ پیچ کا ایک حصہ ہیں؟

    یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ آج پاکستان کی سیاست ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑی ہے۔ بانی پی ٹی آئی کا غیر متزلزل بیانیہ کہ وہ کسی قسم کی "ڈیل” نہیں کریں گے، ان کے حامیوں میں نئی امید پیدا کرتا ہے۔ لیکن پس پردہ جو کچھ چل رہا ہے، وہ عوام کے ذہنوں میں سوالات کو جنم دیتا ہے۔

    ن لیگ کے دعوے اور پی ٹی آئی کے جوابی بیانیے نے سیاست میں ایک دلچسپ کشمکش کو جنم دیا ہے۔ یہ کشمکش صرف سیاسی جماعتوں کی بقا کی جنگ نہیں بلکہ عوامی شعور اور مستقبل کی سیاست کی سمت کا تعین بھی کرے گی۔ کیا تحریک انصاف کے مطالبات حکومت مان لے گی؟ کیا ن لیگ ایک بار پھر اپنی کھوئی ہوئی عوامی مقبولیت و حمایت واپس حاصل کر سکے گی؟۔ قبل از وقت کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ مگر بقول ماما پھلا، جلد ہم نواز شریف یہ کہتے پائے گے،”نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم”

  • مفروضوں پر مبنی بیانیے کا جادو کب تک سر چڑھ کر بولے گا،تجزیہ:شہزاد قریشی

    مفروضوں پر مبنی بیانیے کا جادو کب تک سر چڑھ کر بولے گا،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پی ٹی آئی کے مفروضوں پر مبنی بیانیے کا جادو کب تک سر چڑھ کر بولے گااور حکومتی حلقوں کی سچائیوں کو شکست ہوتی رہے گی۔ وفاقی و صوبائی وزارت اطلاعات کو خواب خرگوش سے جاگنا ہوگا۔ پی ڈی ایم اور بالخصوص (ن) لیگ کے ترجمانوں کو اپنی منجھی تلے ڈانگ پھیرنی ہوگی۔ گذشتہ کئی سالوں سے القادر یونیورسٹی ٹرسٹ کی تحقیقات اور اس میں مبینہ کرپشن کئی سالوں سے اس میں کرپشن کی داستانوں پر فیصلے کا انتظار کرنے والے صاحبان اقتدار خصوصی وفاقی وزیراطلاعات و نشریات اور ان کے مقرر کردہ ترجمان آئے روز ٹی وی مباحثوں میں نوازشریف کے بیانیے کو برتری نہ دلوانے میں اپنی گردنیں جھکائے رکھتے ہیں جبکہ پی ٹی آئی کے دور حکومت کی ناکامیاں اور کرپشن کو بانی پی ٹی آئی کے سرخرو ہوتے دیکھتے رہتے ہیں۔ القادر یونیورسٹی پر قائم پی ٹی آئی کے بیانیے کوکسی بھی ترجمان کسی بھی حکومتی وزیر نے اس بنیاد پر چیلنج نہ کیا کہ یہ تو سوہاوہ کے نزدیک سنگلاخ چٹانوں پر بے آب زمین پر قائم ہونے والے غیر مکمل عمارت میں موجود ایک یونیورسٹی ہے ہی نہیں بلکہ یہ تو ایک ڈگری درجے کا کالج ہے جس کی باقاعدہ رجسٹریشن بطور گریجویٹ کالج محکمہ تعلیم کالجز کے ڈائریکٹوریٹ راولپنڈی کے ذریعے ڈی پی آئی کالجز پنجاب کے دفتر میں ہوئی ہے ۔ اور اتنے بڑے نام نہاد پراجیکٹ کے لئے 458 کنال زمین حقیقی مالکان سے کس بھائو خریدی گئی ہے اور بعد میں کس بھائو ٹرسٹ کے نام منتقل ہوئی ۔

    ستم یہ ہے کہ اس کالج کی زمین کے نیچے سنگلاخ چٹانوں میں قابل استعمال زیر زمین پانی بھی میسر نہیں ۔ ادھر وفاقی وزارت خارجہ اور وزارت ہوا بازی نے یورپ میں پی آئی اے کی پروازوں کا دوبارہ آغاز کروایا جو کہ ایک تاریخ ساز کامیابی ہے لیکن وزارت اطلاعات اور پی آئی اے کی پبلسٹی ونگ کی غفلت نے سوشل میڈیا پر حکومتی کامیابی کو جھوٹے اوربے بنیاد بیانیے کے ہاتھوں شکست دلوائی۔ آخر کیوں اور کب تک حکومت اور بالخصوص (ن) لیگ کوا پنی ابلاغیات کی جنگ میں نئی صف بندی کرنی ہوگی ایسے کہنہ مشق اور آزمائے ہوئے مخلص اذہان کو آزمانا ہوگا ۔ جو دلیل مکالمے اور ڈائیلاگ کے کرشمے سے جھوٹ کو جھوٹ اور سچ کو سچ ثابت کرنے کا کمال رکھتے ہوں۔ نواز شریف کی قربانیاں اور مریم نواز کی انتھک محنت اورا ن کی مخلص ٹیم کی کارکردگی جھوٹے نعروں کے بیانیے میں دب جائے گی۔

  • قیدی نمبر 804 کو 14 سال سزا، عدلیہ کا بڑا فیصلہ

    قیدی نمبر 804 کو 14 سال سزا، عدلیہ کا بڑا فیصلہ

    قیدی نمبر 804 کو 14 سال سزا، عدلیہ کا بڑا فیصلہ
    تحریر: شاہد نسیم چوہدری
    کہا جاتا ہے کہ انسان جو کچھ بوتا ہے، بالآخر وہی کاٹتا ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ کے ایک غیرمعمولی موڑ پر، سابق وزیرِاعظم عمران خان کو 190 ملین پاؤنڈ چوری کیس میں 14 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ یہ فیصلہ نہ صرف پاکستان کی سیاست میں ہلچل کا باعث بنا بلکہ اس نے اخلاقیات اور سیاست کے گرد ایک بار پھر سوالیہ نشان لگا دیا۔ 190 ملین پاؤنڈ کی رقم، جو برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی کی تحقیقات کے دوران برآمد ہوئی، کو پاکستانی حکومت کو واپس کر دیا گیا تھا۔ عمران خان پر الزام تھا کہ انہوں نے اس رقم کو قومی خزانے کے بجائے اپنے ذاتی اور سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا اور یہ رقم دوبارہ ملک ریاض کو دے دی۔ اسی رقم کو ایک فلاحی ادارے کے طور پر رجسٹرڈ القادر یونیورسٹی کے لیے زمین کے حصول میں استعمال کیا گیا۔

    عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی پر الزام ہے کہ انہوں نے اس رقم کے بدلے بحریہ ٹاؤن کے مالک سے قیمتی زمین حاصل کی، جو القادر یونیورسٹی کے نام پر منتقل کی گئی۔ احتساب عدالت کی جانب سے عمران خان کو 14 سال قید اور ان کی اہلیہ کو 7 سال قید کی سزا نے ملک کے سیاسی اور سماجی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ یہ فیصلہ جہاں ان کے سیاسی کیریئر پر سنگین اثر ڈالے گا، وہیں ان کے چاہنے والوں کے لیے ایک دھچکے سے کم نہیں۔ عمران خان، جو خود کو ہمیشہ کرپشن کے خلاف ایک مضبوط آواز کے طور پر پیش کرتے رہے، آج اسی کرپشن کے الزامات میں سزا یافتہ ہیں۔

    عمران خان کی سیاست کا محور ہمیشہ انصاف، شفافیت، اور بدعنوانی کے خلاف جنگ رہا ہے۔ وہ دوسروں پر سخت تنقید کرتے ہوئے یہ دعویٰ کرتے رہے کہ ان کا دامن صاف ہے اور وہ "نئے پاکستان” کے معمار ہیں۔ لیکن آج ان پر لگنے والے الزامات اور ان کی سزا نے ان دعووں کو متنازع بنا دیا ہے۔ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا عمران خان واقعی وہ رہنما ہیں جن کا دامن صاف تھا، یا وہ بھی اس نظام کا حصہ بن چکے تھے جسے وہ بدلنے کا وعدہ کرتے رہے؟

    عمران خان کے حامیوں کے لیے یہ فیصلہ ایک بڑا صدمہ ہے۔ وہ اسے سیاسی انتقام قرار دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ عمران خان کو سیاست سے باہر کرنے کے لیے یہ سب کچھ کیا گیا۔ دوسری طرف، ان کے مخالفین اس فیصلے کو انصاف کی فتح قرار دیتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا ہے، جہاں دونوں فریقین اپنی اپنی دلیلیں پیش کر رہے ہیں۔ اس فیصلے کے بعد عمران خان کی جماعت تحریک انصاف ایک نئی آزمائش سے گزر رہی ہے۔ قیادت کا خلا، حامیوں میں مایوسی، اور احتجاجی حکمت عملی کے سوالات نے پارٹی کو ایک مشکل صورتحال میں ڈال دیا ہے۔ حکومت نے اس فیصلے کو عدلیہ کی آزادی اور قانون کی بالادستی کا مظہر قرار دیا، لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ اس میں سیاسی عنصر غالب ہے۔

    یہ کیس پاکستان کے سیاسی کلچر کے لیے ایک اہم سبق ہے۔ اقتدار کے نشے میں اکثر سیاستدان یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ اپنے اعمال کے جواب دہ ہیں۔ یہ فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ احتساب کا عمل شروع ہو چکا ہے، لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ یہ عمل غیر جانبدار اور شفاف ہو۔ اگر عمران خان پر لگے الزامات درست ہیں، تو یہ ان کی ناکامی کا نتیجہ ہے، اور اگر یہ انتقامی سیاست ہے، تو یہ ہمارے نظام کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔

    عمران خان کی 14 سال قید کی سزا نہ صرف ان کی ذاتی زندگی اور سیاسی کیریئر پر اثر ڈالے گی، بلکہ یہ پاکستان کی سیاست کے لیے بھی ایک فیصلہ کن لمحہ ہے۔ عوام، سیاستدان، اور عدلیہ کو اس موقع سے سبق لینا ہوگا۔ آج جو کچھ عمران خان کے ساتھ ہوا، وہ کل کسی اور کے ساتھ ہو سکتا ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم خود احتسابی کریں اور ایک ایسا نظام تشکیل دیں جو واقعی انصاف اور شفافیت پر مبنی ہو۔

    آج کا عمل کل کا نتیجہ طے کرتا ہے۔ انسان جو کچھ کرتا ہے، وہی اس کی تقدیر میں شامل ہو جاتا ہے۔ اچھے اعمال انسان کے لیے خوشیوں اور سکون کا سبب بنتے ہیں، جبکہ برے کام دکھ اور پشیمانی کا۔ قدرت کا قانون یہی ہے کہ انسان کو وہی لوٹایا جاتا ہے جو وہ دوسروں کو دیتا ہے۔ اگر ہم دوسروں کے لیے اچھائی کریں گے، تو کل ہمیں اچھائی ہی ملے گی۔ برائی کا انجام ہمیشہ برا ہوتا ہے۔ اس لیے ہمیں سوچ سمجھ کر اپنے اعمال کو چننا چاہیے، کیونکہ آج کا فیصلہ کل کی زندگی کا عکس بنے گا۔ "جس” نے جو کچھ بویا تھا، آج اس کی فصل تیار ہو چکی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم سب، بحیثیت قوم، اپنے اعمال کی فصل کاٹنے کے لیے کب تیار ہوں گے؟

  • چورچور کے نعرے لگانے والا خود ہی چور نکلا.تحریر:حنا سرور

    چورچور کے نعرے لگانے والا خود ہی چور نکلا.تحریر:حنا سرور

    190 ملین پاؤنڈ کے کیس کے فیصلے نے عمران خان کی ایمانداری،ریاست مدینہ کی دعویداری کو نہ صرف بے نقاب کیا ہے بلکہ اس فیصلے کے ذریعے عمران خان کو "سرٹیفائیڈ چور” قرار دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ ایک اہم سبق دیتا ہے اور ہمارے معاشرتی اور اخلاقی اصولوں کے لحاظ سے بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ اس فیصلے نے عمران خان کو بے نقاب کیا ہے جو دوسروں پر الزام لگانے اور جھوٹے دعوے کرنے میں ماہر تھا، مگر خود اس کے اندر اتنی اخلاقی گراوٹ تھی کہ وہ عدالت میں اپنی بے گناہی کے ثبوت بھی پیش نہ کر سکا۔

    اس کیس کے مرکزی کردار عمران خان نے ہمیشہ اپنی تقاریر اور دعووں میں "ریاست مدینہ” کے خیالات اور اصولوں کی بات کی تھی۔ اس نے اپنے آپ کو ایمانداری، سچائی اور انصاف کا علمبردار ظاہر کیا۔ لیکن 190 ملین پاؤنڈ کے کیس کے دوران عدالت میں جو کچھ سامنے آیا، وہ اس کے دعووں کی حقیقت کو عیاں کرتا ہے۔ عمران خان نے ریاست مدینہ کے اصولوں کا دعویٰ کیا، مگر اپنی حقیقت میں اس کے عمل اس دعوے سے کہیں زیادہ متضاد تھے۔سب سے زیادہ افسوسناک بات یہ تھی کہ عمران خان نے اکثر دوسروں پر چور، ڈاکو اور بدعنوان ہونے کے الزامات لگائے۔ یہ الزامات وہ ایسے موقعوں پر لگاتا تھا جب اس کے اپنے مفادات کو خطرہ لاحق ہوتا تھا۔ اس نے خواتین کو اسپتال سے گرفتار کرانے جیسے ناپاک عمل کو بھی روا رکھا، تاکہ وہ اپنی چوری چھپانے اور دوسرے لوگوں کو بدنام کر سکے۔آج عمران خان کے پاس عدالت میں اپنی بے گناہی کا کوئی ثبوت نہ تھا۔ بشریٰ بھی اس کی معاون تھی،یہ اس بات کا واضح اشارہ تھا کہ اس نے اپنی چوری چھپانے کے لیے جھوٹ بولنے اور دوسروں پر الزام لگانے کے سوا کچھ نہیں کیا۔ جب اسے اپنے اعمال کا جواب دینا پڑا، تو وہ سب کچھ سامنے آ گیا جو اس نے چپکے سے چھپایا تھا۔

    190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ دراصل مکافات عمل کی ایک شاندار مثال ہے۔ جب انسان دوسروں کو دھوکہ دینے اور جھوٹ بولنے کی کوشش کرتا ہے تو ایک نہ ایک دن سچائی سامنے آ ہی جاتی ہے۔ اس کیس نے ثابت کیا کہ جھوٹ اور منافقت کا انجام ہمیشہ رسوائی اور ذلت ہوتا ہے۔ آج عمران خان اسی مقام پر پہنچا ہے جہاں اس کے جھوٹ اور منافقت کا پردہ چاک ہو چکا ہے، اور اسے "سرٹیفائیڈ چور” قرار دیا گیا ہے۔190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ انصاف اور سچائی کی راہ ہمیشہ مشکل ہوتی ہے، مگر بالآخر سچ کا سامنا جھوٹ سے ہوتا ہے۔ وہ شخص جو دوسروں پر الزام لگا کر اپنی چوری چھپاتا تھا، آج وہ خود اپنے جرائم کا شکار ہو چکا ہے۔ یہ ایک سبق ہے کہ انسان کو اپنے عمل کی بنیاد پر جینا چاہیے، نہ کہ جھوٹ بول کر دوسروں کو نیچا دکھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔یہ فیصلہ سب کے لیے ایک انتباہ ہے، بلکہ معاشرتی سطح پر بھی ایک پیغام ہے کہ جھوٹ اور بدعنوانی کا آخرکار حساب لیا جاتا ہے اور سچائی ہمیشہ غالب آتی ہے۔

    1980 کی دہائی میں ساحل پرلی گئی تصویر،40 برس بعد3 بہنوں نے دوبارہ بنا لی

    بے حس سناٹے میں گم ہوتی ہوئیں معصوم زہرہ کی چیخیں

  • بے حس سناٹے میں گم ہوتی ہوئیں معصوم زہرہ کی چیخیں

    بے حس سناٹے میں گم ہوتی ہوئیں معصوم زہرہ کی چیخیں

    بے حس سناٹے میں گم ہوتی ہوئیں معصوم زہرہ کی چیخیں
    تحریر: اعجازالحق عثمانی
    چاچو میں نہیں جاؤں گی! یہ چار سالہ زہرہ کی وہ آخری چیخ تھی، جو سرائے عالمگیر کے ایک گلی کوچے میں کیمرے کی آنکھ نے محفوظ کی۔ یہ چیخ اس معصوم کی تھی، جو تیرہ سال کے انتظار کے بعد جنید اور اس کی بیوی کی جھولی میں خوشی بن کر آئی تھی۔ لیکن افسوس، پانچ جنوری کی وہ شام ان کی زندگی کا سب سے بڑا دکھ لے آئی۔ زہرہ کو پہلے اغوا کیا گیا، پھر وحشیانہ انداز میں ریپ اور قتل کے بعد ایک بے جان لاشہ بنا کر چھوڑ دیا گیا۔

    زہرہ کے کیس کی تفصیلات دل دہلا دینے والی ہیں۔ میڈیکل رپورٹ کے مطابق، اس کے جسم پر کئی گہرے زخم تھے۔ معصوم کے وجائنل پارٹس کو بری طرح نقصان پہنچایا گیا۔ یہ مناظر صرف زہرہ کے لیے نہیں، بلکہ ہر اس انسان کے لیے شرمناک ہیں جو خود کو مہذب کہتا ہے۔
    یہ کوئی پہلی کہانی نہیں۔ 2018 میں قصور کی زینب کا واقعہ یاد کریں، جس نے پورے ملک کو جھنجوڑ کر رکھ دیا تھا۔ زینب کے قاتل کو پکڑا گیا، سزا دی گئی، پھانسی پر لٹکایا گیا، لیکن کیا اس کے بعد قصور میں یا ملک میں بچیوں کے ساتھ ہونے والے ریپ کے واقعات ختم ہو گئے؟ ہرگز نہیں!

    قصور آج بھی پیڈوفائلز کا گڑھ ہے۔ الجزیرہ کی ایک ڈاکیومنٹری نے یہ تلخ حقیقت بے نقاب کی کہ زینب کے والد کی بے بسی آج بھی زندہ ہے، کیونکہ اس علاقے میں کئی اور بچیاں اب بھی جنسی استحصال کا شکار ہو رہی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ان معصوموں کے والدین کو انصاف ملے گا؟
    ہمارا معاشرہ خواتین اور بچیوں کو محض "سیکس آبجیکٹ” کے طور پر دیکھتا ہے۔ طاقت، برتری اور جنسی تسلط جیسے تصورات کئی صدیوں سے مردوں کے ذہن میں بیٹھے ہیں۔ مذہبی بیانیے ہوں یا معاشرتی روایات، عورت کو اکثر "عزت” اور "غیرت” سے منسلک کیا جاتا ہے لیکن عملی طور پر اسے تحفظ فراہم کرنے کے لیے کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھایا جاتا۔

    قارئین کرام!پاکستان میں ریپ کے کیسز کی رپورٹنگ بھی از خود ایک چیلنج ہے۔ بہت سے والدین خوف یا سماجی دباؤ کی وجہ سے مقدمہ درج نہیں کراتے۔ جو مقدمے درج ہو بھی جائیں، ان میں سے کتنے اپنے انجام کو پہنچتے ہیں؟ عدالتوں کی سست روی، پولیس کی نااہلی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی غیر سنجیدگی ایسے واقعات کے بڑھنے کی بڑی وجوہات ہیں۔

    یہاں ایک اہم سوال یہ ہے کہ جب پنجاب کی حکومت ایک عورت کے ہاتھ میں ہے تو کیا وہ ایسے واقعات کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھا رہی ہیں؟ زینب الرٹ بل، جس کا بہت شور اور کریڈیٹ لیا گیا تھا۔کیا وہ صرف کاغذی قانون بن کر رہ گیا ہے؟

    زہرہ کی کہانی ہمارے معاشرے کے لیے ایک آئینہ ہے۔ یہ آئینہ ہمیں ہماری ناکامیوں کا چہرہ دکھاتا ہے۔ اگر ہم نے اب بھی ان مسائل کو سنجیدگی سے نہ لیا تو نہ جانے کتنی زہرائیں اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں گی۔

    قارئین محترم آئیے! ہم خود سے سوال کریں کہ کیا ہم اپنے بچوں کے لیے محفوظ معاشرہ بنا سکتے ہیں؟ اگر ہاں، تو کب؟ اگر نہیں، تو کیوں؟

  • چولستانی گوپے میں چھپی روہی کی دلکش ثقافت،تیسری قسط

    چولستانی گوپے میں چھپی روہی کی دلکش ثقافت،تیسری قسط

    چولستانی گوپے میں چھپی روہی کی دلکش ثقافت
    تحریر: ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    altafkhandahir@gmail.com
    تیسری قسط کا خلاصہ:
    تیسری قسط میں چولستان کے ماحولیاتی چیلنجز جیسے موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے بارشوں کی بے قاعدگی اور زمین کی زرخیزی میں کمی کو بیان کیا گیا ہے۔اس قسط میں چولستانی خواتین کے مسائل اور ان کے حقوق کے حوالے سے بھی بات کی گئی ہے۔خاص طور پر صحت،تعلیم اور روزگار کے حوالے سے روہی چولستان کے نوجوانوں کی مشکلات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔شہروں کی طرف روزگار کے حصول کے لیے ہجرت کرنے،ذریعہ معاش کے مواقع کی کمی کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔گوپے میں چھپی چولستانی ثقافت اور اس کے ورثے کی اہمیت کو بھی بیان کیا گیا ہے۔ اور اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ حکومتی اور غیر سرکاری اداروں کی بروقت پلاننگ اور پروجیکٹس سے چولستان کے مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے۔ تاکہ مقامی لوگوں کی زندگی کو بہتر اور خوشحال بنایا جا سکے۔

    تیسری و آخری قسط
    چولستان کی ثقافت اور ترقی کے امکانات
    چولستان کی ثقافت اور ترقی کے امکانات پر نظر ڈالیں تو یہ خطہ اپنے اندر بے شمار تہذیبی، لسانی اور ادبی خزانے سموئے ہوئے ہے۔ یہاں کی مادری زبانوں کا لٹریچر، صوفی ازم، امن و رواداری کا پیغام اور آثار قدیمہ کے نایاب نمونے، سبھی چولستان کے منفرد تشخص کو اجاگر کرتے ہیں۔

    چولستان کی ریتلی زمین میں تخلیقی کہانیاں اور نظمیں پروان چڑھتی ہیں، جن کی بنیادیں علم، ادب، دانش اور خوشحالی کے گہرے اصولوں پر استوار ہیں۔ سرائیکی خطہ جو سات دریاؤں کی سرزمین ملتان کا حصہ ہے، ہمیشہ سے شاعری، صوفیانہ خیالات اور ثقافتی رنگوں کا گہوارہ رہا ہے۔

    اسلم جاوید چودھری جیسے سرائیکی وسیب کے شاعر، جو اپنی نظم "میکوں آکھ نہ پنج دریائی” کے ذریعے سرائیکی ثقافت اور عوامی جذبات کی نمائندگی کرتے ہیں، اس خطے کے ادبی سرمایہ میں اہم مقام رکھتے ہیں۔ ان کا کلام عام فہم ہونے کے باوجود گہری معنویت لیے ہوتا ہے، جو ہر طبقے کو متاثر کرتا ہے۔

    پہلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    چولستانی گوپے میں چھپی روہی کی دلکش ثقافت
    دوسری قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    چولستانی گوپے میں چھپی روہی کی دلکش ثقافت
    چولستان کی ثقافتی اہمیت کو سمجھتے ہوئے، اس خطے میں ترقی کے بے پناہ امکانات موجود ہیں۔ سیاحت، آثار قدیمہ، اور مقامی آرٹ و دستکاری کو فروغ دے کر نہ صرف یہاں کے لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی اس علاقے کی شناخت کو اجاگر کیا جا سکتا ہے۔

    میں تسا،میڈی دھرتی تسی
    تسی روہی جائی
    میکوں آکھ نہ پنج دریائی


    ان کے فلسفۂ شاعری کی رفعت اور نقطۂ عروج کا خلاصہ دراصل سرائیکی وسیب کی علیحدہ شناخت، نئے صوبے کی منزلِ مقصود کا سچا خواب، خود مختاری، خود اعتمادی، تعمیرِ نو اور ثقافتی ورثے کا حسین امتزاج ہے۔ روہی، چولستان، راوا، تھل، دمان اور کوہِ سلیمان کی جاذب بےبسی اور امید کا خوبصورت اظہار ایسے ہے جیسے دریا کو کوزے میں بند کیا گیا ہو۔

    روہی کے باسی اپنی گائیں، بھیڑ بکریوں اور اونٹوں سے عشق کرتے ہیں۔ ان کے خالص دودھ اور مکھن سے دیسی گھی تیار کیا جاتا ہے۔ تاہم، چولستان میں پانی کی عدم دستیابی اور خوراک کی قلت ایک بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ یہاں کے زیادہ تر لوگ مال مویشی پال کر روزی کماتے ہیں، لیکن چارے کی کمی اور بیماریوں کے خطرات ان کی آمدنی کو محدود کر دیتے ہیں۔ جانوروں کی افزائش اور صحت کے مسائل کے حل کے لیے جدید ویٹرنری خدمات اور چارے کی دستیابی میں اضافہ ضروری ہے۔

    تعلیم کے فقدان نے بھی چولستان کے لوگوں کو ترقی سے محروم رکھا ہوا ہے۔ علاقے میں تعلیمی اداروں کی کمی، موجودہ اسکولوں کی خستہ حالی اور عوام میں تعلیم کے حوالے سے شعور کی کمی نے بچوں کو تعلیمی مواقع سے محروم کر دیا ہے۔ خاص طور پر لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے مسائل اور معاشرتی رکاوٹیں زیادہ سنگین ہیں۔ ان مسائل کے حل کے لیے حکومت اور غیر سرکاری تنظیموں کو مل کر تعلیمی سہولیات کو بہتر بنانا ہوگا۔

    صحت کی سہولیات کی کمی بھی چولستان کے باسیوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ ہسپتالوں اور طبی مراکز کی غیر موجودگی، صحت کی بنیادی خدمات کا فقدان اور طبی عملے کی کمی نے لوگوں کو معمولی بیماریوں کے علاج کے لیے بھی طویل فاصلے طے کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ نتیجتاً، کئی لوگ بروقت طبی امداد نہ ملنے کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

    روہی کے لوگ اپنی روحانی تجلیات کے منبع کو حضرت سید شیر شاہ جلال الدین حیدر سرخ پوش بخاری علیہ الرحمہ (اوچ شریف) سے منسوب کرتے ہیں اور چنن پیر رحمتہ اللہ علیہ کی درگاہ پر اپنی اولاد کی سلامتی کے لیے اللہ پاک سے دعائیں مانگتے ہیں۔

    روہی کی مشکلات کو حسین پیرائے میں کمال خوبصورت اشعار کی شکل میں شاعر نے نفیس لفظوں کا کمال حیرت انگیز رنگ اس طرح دیا ہے۔شاعری لطیف جذبوں کا خوبصورت اظہار اور قصہ ہے۔کیا کمال کاری گری سے قدیم تہذیب وتمدن وادی ھاکڑہ سرسوتی کی کہانی اور پیار کا گیت ہے۔
    شاہد عالم شاہد کی شاعری کا حسن ملاحظہ فرمائیں۔

    ریشم ریشم ہوٹھیں اتے رہ گئے اصلوں جندرے
    اکھیں نال کریندا رہ گئے یار کمال دے قصے
    کیا شہزادیاں کیا پریاں کیا دیہہ کیا محل منارے
    بکھے بالیں کوں تاں بھاندن روٹی دال دے قصے

    کونجاں روہی لنگھ ویندیاں ہن راتیں کوں
    بٹا کھو وی فجریں تونڑیں واہندا ہا

    روزگار کے محدود مواقع چولستان کے نوجوانوں کو بڑے شہروں کی طرف ہجرت پر مجبور کر رہے ہیں۔مقامی سطح پر روزگار کے مواقع نہ ہونے کے سبب بہت سے لوگ محنت مزدوری کے لیے شہروں میں جا کر اپنی زندگی بسر کرتے ہیں، جس سے ان کے خاندان مزید مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ہنر سکھانے والے مراکز اور زرعی منصوبے چولستان میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں معاون ہو سکتے ہیں۔

    صحرائی ماحول میں خواتین کو بھی بے شمار چیلنجز کا سامنا ہے۔گوپوں میں رہنے والی خواتین پانی لانے،کھانے کی تیاری اور گھر کے دیگر کاموں میں اپنی زندگی کا بڑا حصہ صرف کرتی ہیں۔ان خواتین کو صحت،تعلیم اور روزگار کے بروقت مواقع فراہم کرنا حکومت وقت فوری ذمہ داری ہے۔تاکہ وہ اپنی زندگی کو بہتر بنا سکیں۔ماحولیاتی مسائل بھی چولستان کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

    موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے بارشوں کی بے قاعدگی اور صحرائی علاقوں میں پھیلتی ہوئی خشکی نے یہاں کی زمین کو مزید بنجر اور غیر زرخیز بنا دیا ہے۔جنگلات کی کٹائی اور مویشیوں کی تعداد میں اضافے نے ان مسائل کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنے کے لیے درخت لگانے اور پانی ذخیرہ کرنے کے جدید طریقوں کو اپنانا ہوگا۔

    ثقافتی لحاظ سے چولستان کے باسی منفرد روایات اور طرز زندگی رکھتے ہیں۔ لیکن ان کی ثقافت بھی ان مشکلات سے متاثر ہو رہی ہے۔ مٹی کے گوپے،جو ان کی رہائش کا مرکز ہیں۔سخت گرمی اور سردی کے موسم میں رہنے کے لیے ناکافی ثابت ہوتے ہیں۔ان کے رہائشی مسائل کو حل کرنے کے لیے جدید لیکن ثقافت کے مطابق مکانات فراہم کیے جا سکتے ہیں۔

    چولستان کے مسائل کو حل کرنے کے لیے حکومتی اقدامات، غیر سرکاری تنظیموں کی شمولیت، اور مقامی لوگوں کی شراکت داری ضروری ہے۔پانی کی فراہمی کے نظام کو بہتر بنانے، تعلیم اور صحت کے مراکز قائم کرنے،اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔صرف ان اقدامات سے ہی چولستان کے باسیوں کی زندگی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے اور ان کے خوابوں کو حقیقت کا روپ دیا جا سکتا ہے۔

    حسین و جمیل روہی کے سرائیکی گوپے کے ثقافتی اور تہذیبی ورثے کے حقیقی قصے نئی اور پر امید نسل تک پہنچانے میں چولستان کے قصہ گو، فنکار، اور شعراء اہم کردار ادا کر رہے ہیں، تاکہ نوجوان طبقہ اپنے محفوظ ورثے کی منفرد شناخت پر فخر کر سکے۔ ہمیں تو پرامن چولستان کا ہر موسم بہار جیسا محسوس ہوتا ہے، جہاں باغوں میں ہر قسم کے چرند پرند اپنی دھن میں گاتے ہیں۔ کونج کا دلکش نغمہ سرائیکی خطے کے ریت کے ٹیلوں کی دلنشینی میں مزید اضافہ کرتا ہے۔

    کونجاں وانگوں ول ول اساں ریت اتوں پئے بھوندے
    شاہد کل سرمایہ ساڈا ہن صحرا دے موسم

    تاہم، روہی اور چولستان کے باسیوں کے خوابوں کی تکمیل اور انہیں ضروریاتِ زندگی کی فراہمی کے ساتھ ترقی کے دھارے میں شامل کرنے کے لیے حکومت کو فوری اقدامات کرنا ہوں گے، تاکہ یہ خوبصورت گوپے ہمیشہ آباد رہیں۔ ان میں خوشیوں کے گیت گائے جائیں اورچولستان ، روہی کی سرزمین ہمیشہ خوشحال اور پررونق رہے۔

  • معاشرتی برائیوں کے خلاف دھرنا ہوا نہ لانگ مارچ،کیوں؟تجریہ۔ شہزاد قریشی

    معاشرتی برائیوں کے خلاف دھرنا ہوا نہ لانگ مارچ،کیوں؟تجریہ۔ شہزاد قریشی

    ضبط کرتا ہوں تو گھٹتا ہے میرا دم،،آہ کرتا ہوں تو صیاد خفا ہوتا ہے
    قانون کی حکمرانی کا نعرہ سنتے سنتے کان پک گئے،رکھوالے آج بھی مافیازکےزیر اثر
    جھوٹ،نفرت،غیبت،ملاوٹ عام،ملک خاک ترقی کرے گا،جمہوری تماشے بند،محاسبہ ضروری
    تجزیہ،شہزاد قریشی
    ضبط کرتا ہوں تو گھٹتا ہے میرا دم،،آہ کرتا ہوں تو صیاد خفا ہوتا ہے،سمجھ سے باہر ہے،امن وامان کو لے کر اسلام آباد راولپنڈی کو کس کی نظر لگی ہے، ملک میں قانون کی حکمرانی کا نعرہ سنتے سنتے عمر بیت گئی، معاشرے میں پائی جانے والی برائیوں کے خلاف کسی نے نہ دھرنا دیا نہ لانگ مارچ کیا نہ کسی نے درس دیا، آج اگر معاشرے میں برائیاں سر اُٹھا رہی ہیں تو اس کے ذمہ دار ہم سب ہیں،معاشرے کو سدھارنے کے لئے کچھ نہیں کیا،بحیثیت مسلمان ہماری ایمانداری ، نیکی ،تقویٰ،دیانت داری ، پاکیزگی کا یہ عالم ہے ملاوٹ شدہ خوراک ، جعلی ادویات فروخت کرنے میں کوئی ندامت نہیں،قتل وغارت ،عریانی ،بے حیائی ایک دوسرے کو کافر قرار دینا، جھوٹ، نفرت ، غیبت ،ملاوٹ کرنے میں ذرا بھر خوف نہیں آتا،ہم سب کی غفلت اور لاپرواہی کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے، پورا ملک لینڈ مافیا کے قبضہ مافیا کے یارانے محلات میں رہنے والوں کے ساتھ ہیں، لینڈ اور قبضہ مافیا نے پورے ملک میں قانون کے رکھوالوں کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے،

    حکومتوں کی تبدیلی ،سیاسی گٹھ جوڑ میں بڑے بڑے پراپرٹی ٹائیکون ملوث ہیں، سیاسی گلیاروں میں پراپرٹی ٹائیکون جب سے داخل ہوئے ہیں،سیاست اورجمہوریت کسی تماشے سے کم نہیں، حکمران ،سیاسی قائدین ،علماء کرام،گدی نشین ، پیر خانے ،اور عوام اپنا محاسبہ کریں تو ملک افراتفری ،نفسانفسی سے باہر نکل سکتا ہے،ضروریات زندگی سے زیادہ دولت نے انسانوں کو انسانیت سے دور کردیا ہے، ملک کی سول بیورو کریسی ، سول انتظامیہ ، بیوروکریٹ ، پولیس افسروں سمیت ملک کے تمام ادارے اپنا اپنا محاسبہ کریں، تب ایک اچھا معاشرہ تشکیل پائے گا، وی آئی پی کلچر سے باہر نکل کر سوچیں ، موت کو یاد رکھیں ، قرآن وحدیث کا مطالعہ کریں اور عمل کریں ، امریکہ اورمغربی ممالک کی ترقی کا راز علم اور عمل ہے، قانون کی حکمرانی ہے، انصاف ہے،جمہوریت ہے، ملکی مفاد کو مدنظر رکھ کر سیاست کی جاتی ہے،ہماری سیاست اورجمہوریت سے جمہوریت کی پری بھی مکھڑا چھپا رہی ہے،جعل سازی ،جھوٹ اور فریب جیسی سماجی برائیاں ،سماجی اقدار بن رہی ہیں، ملکی سیاست میں بڑھکوں ،دھمکیوں اور ہلڑ بازی کا شدت اختیار کرتا رحجان بے سبب ہیں اس سے معاشرتی نظام تنزلی کا شکار ہوتا ہے خدارا بس کیجئیے معاشرے کو سدھارنے پر توجہ دیں

  • تلہ گنگ کے ٹال ٹیکس اوراس عہد کے سلطان کی بھول

    تلہ گنگ کے ٹال ٹیکس اوراس عہد کے سلطان کی بھول

    تلہ گنگ کے ٹال ٹیکس اور اس عہد کے سلطان کی بھول
    تحریر:فیصل رمضان اعوان
    گزشتہ روز بلکسر سے مظفرگڑھ جانے والے سنگل روڈ پر بلکسر اور ترحدہ کے مقام پر دو عدد نئے ٹال ٹیکس لگا دیے گئے۔ تلہ گنگ و لاوہ سے کچھ دوستوں نے اس ٹال ٹیکس کو بنیاد بنا کر سوشل میڈیا پر مسلسل احتجاج شروع کر رکھا ہے۔ ہم براہ راست اس احتجاج میں شامل تو نہ ہو سکے یعنی سوشل میڈیا پر اپنا حصہ نہ ڈال سکے، لیکن اس دوران بار بار خیالات میں کھوئے رہے اور ماضی کے وہ کالم، جو اس سڑک کے بننے سے پہلے لکھے تھے، سب یاد آنے لگے۔

    ہم نے بارہا اس روڈ پر آئے روز حادثات پر بہت لکھا، یوں بالآخر کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے۔ ہم سب کی سنی گئی، روڈ بن گیا۔ بلکسر سے میانوالی تک اس سڑک کے ارد گرد دیہی آبادیاں ایک طویل عرصے تک ایک اذیت ناک صورتحال سے دوچار رہیں۔ سڑک پر چلتی ٹریفک سے اڑتے گرد و غبار سب برداشت کیے گئے۔ ان دنوں اس روڈ کو خونی اور قاتل روڈ کہا جاتا تھا۔ حادثات میں بے شمار لوگ جانوں سے گئے، زخمی اور معذور افراد کی بھی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔

    ابھی ہم نئے ضلع کے قیام کی خوشیاں منا ہی رہے تھے، جو ابھی مکمل بھی نہیں ہے، کہ ہمارے ان دیہی علاقوں میں پیلے رنگ کے وہ ٹال ٹیکس کے ڈبے پہنچا دیے گئے جنہیں ہم اپنی ترقی بھی سمجھتے ہیں۔ ہم ایک دم سے ترقی پذیر علاقوں سے نکل کر ترقی یافتہ دور میں داخل ہو گئے۔ ایم ٹو موٹروے بلکسر انٹرچینج سے باہر نکلتے ہی تلہ گنگ کی جانب ایک اور ٹال پلازہ دیکھ کر ہم تو خوشی سے نہال ہو گئے، بلکہ مارے خوشی کے نڈھال بھی ہوئے۔

    اتنی تیز ترین ترقی! قارئین کرام، اتفاق سے اس نئی پیش رفت کے دوران ہمارا یہاں سے گزر ہو چکا ہے۔ بلکسر انٹرچینج سے بلکسر ٹال پلازہ اور پھر اپنے ترحدہ کو تصور میں لے کر آگے بڑھتے رہے کہ اب تو ماشاءاللہ ترحدہ بھی بارونق ہو گیا ہوگا۔ چشم تصور میں ہم کچھ زیادہ ہی آگے بڑھ گئے جبکہ ٹال پلازہ ترحدہ چوک پر نہیں بلکہ تلہ گنگ کی جانب اتنی دور ہے کہ چوک سے نظر ہی نہیں آتا۔

    یہاں پہنچ کر ہمیں کچھ رنج ضرور ہوا اور ایک خواہش پیدا ہوئی کہ وہ پیلے ڈبے عین ترحدہ چوک میں ہوتے تو مزہ دوبالا ہو جاتا۔ لیکن چلیں خیر ہے، وہ ڈبے اتنے دور بھی نہیں ہیں۔ اپنی اس خواہش کو ہم یوں ہی راضی کر لیتے ہیں۔ ان ٹال ٹیکس سے ہم غریب لوگ تو براہ راست متاثر ہی نہیں ہیں۔ ہم نے کون سا پیدل گزر کر ٹیکس ادا کرنا ہے۔ پیدلوں کا ٹال ٹیکس کہاں ہوتا ہے؟ باقی فراٹے بھرتی گاڑیوں والے بھلا ساٹھ روپے کو کیا مشکل سمجھتے ہیں۔ وہ تو ساٹھ روپے کی قدر و قیمت ان دیہی علاقوں کے غریبوں سے جا کر پوچھیں، جو ان ٹال ٹیکس پلازوں کے قیام کے بعد دال، آٹا، چینی میں ٹال ٹیکس دیں گے۔

    ان پسماندہ علاقوں کو شروع سے ہی نظر انداز کیا جاتا رہا ہے اور مزید پستیاں ہمارے کھاتے میں ڈالی جا رہی ہیں۔ ہکلہ راولپنڈی سے ڈی آئی خان تک بننے والے سی پیک M14 نے اس روڈ کی حالت ویسے بھی پتلی کر دی ہے۔ پہلے اس بین الصوبائی روڈ پر بے تحاشا رش تھا، اب وہ بھی نہیں رہا۔ یہاں صرف مقامی، علاقائی لوگوں کی آمد و رفت رہتی ہے۔ یہاں سے گزرنے والی ایک بڑی تعداد اب ہماری شمالی پٹی، جو سی پیک M14 کا مغربی روٹ کہلاتا ہے، وہاں سے گزر جاتی ہے، جو بدقسمتی سے ہمارے عقب میں ہے، سامنے نہیں۔ ہم اس شمالی بین الاقوامی سڑک سے مکمل استفادہ بھی حاصل نہیں کر سکتے۔

    ہیوی ٹرانسپورٹ، جس سے بہت سے لوگوں کا روزگار منسلک ہوتا ہے، وہ دو حصوں میں بٹ گئی ہے۔ ایک حصہ سی پیک اور دوسرا حصہ ایم ٹو موٹروے سے فیصل آباد M4 سے ملتان اور آگے کراچی کی طرف۔ اب میانوالی سے تلہ گنگ، چکوال اور چکوال سے تلہ گنگ، میانوالی بس یہاں یہی کچھ رہ گیا ہے۔

    اس علاقے کی بدقسمتی دیکھیں کہ یہاں کوئی مضبوط اور توانا آواز بھی نہیں ہے، جو بول سکے، جو اپنے لوگوں کی مشکلات کا ذکر کر سکے۔ اور اس سے آگے والوں سے کیا توقع کی جا سکتی ہے؟ یہاں کے کسی مقامی رہنما نے شاید اپنی نسل کا تو ضرور سوچا ہوگا، لیکن ان غریبوں کی نسل کا کون سوچے گا؟ ان علاقوں کی خاطر خواہ ترقی کے لیے آج تک کچھ کیا گیا؟ کچھ بھی نہیں۔

    یہ ٹال ٹیکس کا تحفہ بھی ہمارے نصیب کے کھاتے میں ڈلوا کر خاموشی اختیار کر لی گئی ہے۔ یہ مقامی دیہی آبادی کے ساتھ ظلم و زیادتی ہے۔ ساغر صدیقی کا ایک شعر یاد آ گیا:
    جس عہد میں لٹ جائے فقیروں کی کمائی
    اس عہد کے سلطان سے کچھ بھول ہوئی ہے

    یہاں سلطان کی کچھ بھول نہیں ہے، بلکہ سلطان سب بھول گیا ہے۔ وسائل سے محروم ان علاقوں کی صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات کا بحران ایک طرف اور ٹال ٹیکس کے اضافی بوجھ کے یہ "خوبصورت ترقی کے ضامن” (میرے نزدیک) پیلے ڈبوں کا تکلیف دہ تحفہ یہاں کے باسیوں کے لیے ایک نئی مشکل کا سبب بنے گا۔

    بنیادی طور پر یہاں ایک مشکل زندگی پائی جاتی ہے۔ لوگ حلال روزی کے لیے دن بھر محنت مزدوری اور مشقت کرتے ہیں۔ اس سے اپنے بچوں کا پیٹ پالا جاتا ہے۔ ایسی غریب بستی والوں کے دکھوں میں اضافہ ایک رہزن کی سوچ تو ہو سکتی ہے، کسی مسیحا کی نہیں۔

    اس عہد کے سلطان سے گزارش ہے کہ رعایا پر رحم کیا جائے اور مزید پسماندگی میں دھکیلنے کا پروگرام منسوخ کیا جائے۔ یہ ٹال ٹیکس وسائل سے محروم ان پسماندہ ترین علاقوں سے ختم کیے جائیں۔

  • چولستانی گوپے میں چھپی روہی کی دلکش ثقافت،دوسری قسط

    چولستانی گوپے میں چھپی روہی کی دلکش ثقافت،دوسری قسط

    چولستانی گوپے میں چھپی روہی کی دلکش ثقافت
    تحریر: ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    altafkhandahir@gmail.com
    قسط کا خلاصہ:
    دوسری قسط میں چولستانی گوپوں کی ثقافت،فنون لطیفہ اور روہیلوں کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ شاعر شاہد عالم شاہد لشاری کی شاعری اور چولستانی معیشت، جیسے مویشیوں کی پرورش اور روزگار کی کمی کے مسائل کو بیان کیا گیا ہے۔ چولستان کے لوگوں کی زندگی کی سب سے بڑی آزمائش پانی کی کمی اور قحط سالی کے اثرات ہیں۔ بارشوں کی کمی اور "ٹوبھوں” میں پانی کا ذخیرہ کرنے کی مشکلات نے ان کی روزمرہ کی زندگی کو متاثر کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، تعلیم کی کمی اور صحت کے مسائل بھی اہم موضوعات ہیں جن پر حکومتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

    دوسری قسط، چولستان کی زندگی کے چیلنجز
    چولستان کے باسیوں کے لیے پانی کی قلت سب سے بڑا چیلنج ہے۔ ٹوبھوں میں جمع کیا جانے والا پانی ان کے لیے زندگی کا سہارا ہے، لیکن بارش کی کمی ان ذخائر کو ناکافی بنا دیتی ہے۔ گرمیوں میں درجہ حرارت پچاس ڈگری سے تجاوز کر جاتا ہے، جس کے باعث لوگ اور ان کے مویشی ہجرت پر مجبور ہو جاتے ہیں۔تعلیم اور صحت کی سہولیات کی کمی نے چولستان کے لوگوں کو مزید مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ لڑکیوں کی تعلیم اور مقامی اسکولوں کی خستہ حالی جیسے مسائل فوری توجہ کے متقاضی ہیں۔ صحت کی بنیادی سہولیات کے بغیر لوگ معمولی بیماریوں کے علاج کے لیے دور دراز علاقوں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں، جو کئی بار جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔

    چولستان کی دلکش سرزمین اپنے دھرتی جائے کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔سرائیکی وسیب کے لوگ سیدھے سادے، ریت کی طرح نرم و نازک ہیں۔نرم مزاجی،صوفیانہ امن پسند رنگ اور کلچرل روایات سے جڑے ہوئے ہیں۔اپنی دھرتی کی ہر چیز سے بےپناہ محبت کرتے ہیں۔عالمی مشہور شاعر شاہد عالم شاہد لشاری جن کی گزرگزران روہی رہتل ہے۔سرائیکی وسیب کی بین الاقوامی شہرت یافتہ روہی ان کی روح ہے۔ریت اور روایت، تہذیب وتمدن،ثقافت،فنون لطیفہ میں خطاطی، موسیقی،مصوری، شاعری سب انسان کی چھپی امیدوں اور خواہشات کا خوبصورت اظہار ہے۔شاعر اپنی شاعری سے اپنے علاقے کی تاریخ،ادب اور شعور کے خزانوں کو دنیا میں اجاگر کرتاہے۔

    کسی خطے کی رنگین شاعری میں جتنا بڑا کینوس ہوگا، وہ دھرتی اتنی جاندار،شاندار اور عرفان وحکمت کی بلندیوں کو چھوہے گی۔یہ کمال اللہ پاک نے سرائیکی وسیب کے شعراء کرام کو بہت زیادہ دان کیا ہے۔پاکستان کے خوبصورت حسین مادری زبانوں کے گلدستے میں سب سے زیادہ کتابیں شاعری سرائیکی زبان و ادب کی ہیں۔ سرائیکی عہد جدید کا خوبصورت کلاسک شاعر شاہد عالم شاہد کا عالم شاعری میں کمال خوبصورتی جھلک رہی ہے۔

    پاتے گھگھرا چولی چنی بولا بینسر
    روہی دی ہک حور ٹری ہےریت نچی ہے

    گوپے دیوچ پوہ دی رات کوں قصہ ٹر پئے
    ڈھلدیں ڈھلدیں رات ڈھلی ہے ریت نچی ہے
    کنگن والے بھاء دے مچ تے بہہ تے شاہد
    "موہن” کافی جو آکھی ہے ریت نچی ہے

    اجڑے گوپے کوں مٹی دے گھبکار مہکار وانگوں لگے
    بھرے ٹوبھے دے چودھار ڈیکھوں جڈے مال چردا ودے

    اج تاں کترن دی خوشبو نے جھمر مچائی ہے پرے تھل تلک
    نین سادے مرادے کھڑن ڈیکھدے مال چردا ودے

    سرائیکی ادبی فورم "فکر فرید” بانی صاحبزادہ شیر میاں خان عباسی کے دیرے روہی چولستان کنگن آلے بنگلے پر ٹھنڈی ٹھار راتوں میں بھاہ کے مچ کے اردگرد سرائیکی مشاعرہ و موسیقی کی وجد بھری آواز کی دھن سے دوشیزہ محبوبہ حسین دلربا منظر میں چنگاری بن کر ریت پر خوب رقص جھمر کرکے عاشقوں کے دلوں کو خوب بھاتی ہے۔اس کا رنگ و چہرہ غزل کا روپ ہے۔

    پہلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    چولستانی گوپے میں چھپی روہی کی دلکش ثقافت
    ککڑ،بیر،شرینہہ،جال پیلھوں کا درخت بھی ان کا ایک قسم کا اوپن گوپہ ہوتاہے۔جہاں ٹوبھے کے پانی کی چاہت،وہاں بیٹھ کر ککھ کانوں سے گھریلو آسائشی سامان میں موڑے بنانا، پتلی باریک لکڑی سے گوپہ تیار کرنا وغیرہ روہی کے باسیوں کے لیے ذریعہ معاش اور گزر گزران کے اوزار نعمت خداوندی سےکم نہیں ہیں۔ کانوں سے گوپے بھی تیار ہورہے ہیں۔پرانے نئے قصے بھی آشکار ہورہے ہیں۔راتوں کو جاگ کر مستی بھری یادیں تازہ کی جاتیں ہیں۔شاعر نے ایک ایک لمحہ محفوظ کرکے اپنے طلسماتی فکری صلاحیتوں سے شاعری کا نیا جہاں گوپہ تشکیل دے دیا ہے۔شاعر نے اچھوتے انداز میں اپنی بات کو اس طرح بیان کی ہے۔

    کنگن آلے دے گھاٹے شرینہاں تلے رات ٹردی پئی اے
    نال قصے دے قصہ پیا جاگدے مال چردا ودے

    ساڈی نبھ ویسی زندگی ریت اچ
    دفن تھی ویسی ہر خوشی ریت اچ
    ساڈے جیونڑ دے آسرے سارے
    ساڈے سکھ وی عذاب وی ریت اچ
    او جو وچھڑے تاں ول تے نی آیا
    مونجھ رل گئی ہے بلکدی ریت اچ
    میڈی روہی تے مار ڈیوو میکوں
    رت میڈی رل ونجے میڈی ریت وچ

    سرائیکی جگ مشہور شاعر اسلم جاوید کا اپنے خوبصورت مزاحمتی شعری مجموعے طبل کلہاڑی میں دل بھاتے انداز میں روہی اور تھل کے صحرائی ماحول کو شاندار رنگوں میں اپنا مدعا بیان کیا۔سرائیکی وسیب میں تھل اور چولستان روہی گوپوں میں چھپا ثقافتی ورثہ حقیقت میں سادہ سماجی روایات،چاہت،خلوص، امن و رواداری کا درس ہے۔سرائیکی دھرتی روحانیت سے مالامال ہے۔یہاں کا ہر زبان بولنے والا فرد ہماری تہذیبی زمینی میٹھے پھل آم،کھجور اور شہد کی مٹھاس کا خوبصورت اظہار ہے۔ہر وسیبی کا کردار گھاٹے درخت کی چھاں ہے۔ہمارا سفر عشق مجازی سے عشق حقیقی کی طرف ہے۔اسلم جاوید چودھری کا قصہ اپنی روہی چولستان کی چھ ہزار سال قدیم تہذیب وتمدن سے عشق کی لازوال داستان ہے۔سرائیکی شعراء کرام نے لفظ روہی کو بطور استعارہ محرومی،دہشت،وحشت، کرب وبلا، جنت،بہشت،خوشی،سنگلاخ مشکلات،ترقی،خوشحالی،،بے بسی، امن،محبت،الگ شناخت،وچھوڑا،وصل،وادی عشق، مونجھ، ڈکھ، ہمدردی،خلوص،برداشت، صبر وشکر، بے نیازی،خود اعتمادی،خواہشات کا لامتناہی روحانی سفر،تحمل،امید،آس،ملال استعمال کیا ہے۔جس نے روہی کا جو پہلو یا رنگ دیکھا اس نے وہی بیان کردیا۔
    تھل، روہی چولستان الفاظ سرائیکی جہانوں کا نیا عجیب عالم حیرت ہے۔

    تھل ہے قصہ مونجھ دا ۔۔۔۔۔۔۔ روہی عشق دا ناں
    اکھ بھالی دا میلہ ڈیکھاں ڈھولی نال کراں

    چولستان دے رنگ ہزاراں جال کرینہہ دی چھاں
    کیڑھا نندروں ٹردا ویندے آرھ ارینہہ دی چھاں
    جتھاں میکوں کندن ملدی اتھ شرینہہ دی چھاں

    پیلوں پکیاں چݨ تے اکھیاں ڈولی ڈھاک ہے ساوی
    پیلوں پکیاں لب اچ مکھیاں مونہہ مسواک ہے ساوی
    پیلوں پکیاں میں نہ چکھیاں ساڈی ٻاک ہے ساوی

    چولستان میں حسن وجمال بھری حیات بشریت،حیوانات اور نباتات کی بقاء کا سب سے اہم ذریعہ پانی ہے۔صحرائی علاقے میں بارش نہ ہونے کی صورت میں پانی جمع کرنے کے لیے "ٹوبھے” بنائے جاتے ہیں۔جو گوپوں کے نزدیک چھوٹے تالابوں کی صورت میں موجود ہوتے ہیں۔ٹوبھوں کا پانی مقامی لوگوں اور ان کے جانوروں کی زندگی کا سہارا ہے۔جب بارش کی پھلواڑی کی پہلی پھنوار چولستان کی ریت پر پڑتی ہے تو خوشبو ہر سوں پھیل جاتی ہے۔نئی دلہن ریت بن کر خوب گنگناتی ہے۔رقص جھمر کھیلتی ہے۔تمام روہیلوں کے چہرے مسلسل خوشی اور شادی مانی کے نہ تھمنے والے احساسات کی رم جھم برسات شروع ہوجاتی ہے۔ہر طرف کھلا کھلا چہرہ نظر آتاہے۔عاشق اپنی محبوبہ کے ملن کے متلاشی نظر آتے ہیں۔برسا موسم سے پہلے ریت خوب دھمال کرتی ہے۔ابھا،لما،پوادھ پچادھ ہر طرف سریلی آوازیں آنا شروع ہوجاتیں ہیں۔شاعر خود اگر روہیلا ہو تو اس کا تخیل کمال حسین نظر آتا ہے۔نمونہ کلام مادری زبان میں ہو تو ابلاغ بہت ہی عمدہ ہوتا ہے۔

    ابھے توں بدلی اسری ہے ریت نچی ہے
    مینہ دی پہلی پھینگ ڈھٹی ہے ریت نچی ہے

    جال اتوں پیلھوں چنڑدے نازک ہھتیں توں
    مہندی دی خشبو نکتی ہے ریت نچی ہے

    ٹوبھے اتے لتھین کونجاں اصلوں مونجھاں
    ول سانول دی گالھ چلی ہے ریت نچی ہے

    تاہم مینہ بارش کی کمی کے باعث ٹوبھے اکثر خشک ہو جاتے ہیں اور قحط سالی کا بیاباں منظر عام بات ہے۔گرمیوں میں جب درجہ حرارت 50 ڈگری سے تجاوز کر جاتا ہے تو گوپوں میں رہنے والے روہیلے ہجرت پر مجبور ہو جاتے ہیں۔پانی کی قلت نہ صرف ان کی روزمرہ کی معاشی و سماجی زندگی کو مشکل بناتی ہے بلکہ جانوروں،چرند پرند اور سرسبز پودوں کی زندگی کو بھی خطرے میں ڈال دیتی ہے۔چولستان روہی کے سادہ نفیس،یقین کامل کی طاقت سے مالامال باشندے صحرائی علاقے میں زندگی بسر کرتے ہوئے صدیوں سے شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ان کی زندگی کی سب سے بڑی آزمائش پانی کی کمی ہے۔مگر قدرتی بارش عظیم نعمت خداوندی اور خوشحالی کی ضمانت ہے۔

    بارشوں کا نہ ہونا صرف ان کی روزمرہ کی زندگی بلکہ ان کے مستقبل پر بھی گہرے اثرات ڈالتی ہے۔ کیونکہ چولستان کا بیشتر انحصار بارشوں پر ہوتا ہےجو سال بھر میں چند بار ہوتی ہیں۔اور یہی پانی "ٹوبھہ ” نامی ذخائر میں جمع کیا جاتا ہے۔تاہم، بارش کی کمی اور ذخیرہ شدہ پانی کی محدود مقدار کی وجہ سے یہ وسائل ناکافی ثابت ہوتے ہیں۔ٹوبھے کے میٹھے پانی خوبصورت وادی پر انسان،حیوان،شجر، چرند پرند سبھی خوشی خوشی زندگی گزارتے اور رب العزت جلال کا شکر ورد کرتے ہیں۔مگر بارش کی کمی اور ٹوبھوں کی خشکی جیسے سخت حالات میں لوگ اپنے جانوروں اور خود اپنی بقا کے لیے دوسرے علاقوں کی طرف ہجرت پر مجبور ہو جاتے ہیں۔اپنی چولستان دھرتی پر بارش ہونے کی شدید تمنا نے کلاسک شاعر شاہد عالم شاھد لشاری کیا خوب تخیل تخلیق کیا ہے۔صبح سے شام تک صحرائے چولستان کے چٹیل ڈاہروں وسیع میدانوں میں سارا دن مال مویشی چرانے والے بکر وال کی گھر کی طرف واپسی سفر کو اپنے شاندار لفظوں کی رنگین چادر پہنائی ہے۔خوبصورت نظارہ کہ سارا دن چرواہا نے دعائیں مانگیں کہ ہماری طرف بارش ہوگی۔مگر پتہ چلا ابر رحمت ہماری طرف نہ آیا بلکہ پہاڑوں پر خوب برسا۔شاعر کا حسین کلام توجہ طلب ہے۔

    سجھ کوں گھر تیئں پجا تےولداپئے
    کوئی بکریاں چراتے ولدا پئے

    ریت رل گئی ہے سر تے پھینگ نی پئی
    جھڑ پہاڑیاں پسا تے ولدا پئے

    جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔