Baaghi TV

Category: بلاگ

  • جنوبی بھارت میں باڈی بلڈرز،جسموں‌کو فخر سے پیش کرنے والی خواتین

    جنوبی بھارت میں باڈی بلڈرز،جسموں‌کو فخر سے پیش کرنے والی خواتین

    بھارت کی ساحلی ریاست کیرالہ میں، جہاں قدرتی مناظر اور پرسکون ماحول کا راج ہے، فوٹوگرافر کیرتھنا کناتھ نے ایسی تصاویر لی ہیں جن میں طاقتور اور مضبوط خواتین اپنے جسموں کو فخر سے پیش کر رہی ہیں۔ یہ خواتین سمندر کی لہروں، کھجور کے درختوں یا چٹانوں کے درمیان بائسپس کو جمانے، ٹانگوں کو سٹریچ کرنے یا شانوں کو بڑھانے کے دوران اپنے باڈی بلڈنگ کی مہارتوں کا مظاہرہ کر رہی ہیں، اور جِم کی مخصوص وردی کے بجائے زریں سبز لباس یا خواتین کے روایتی چیکرڈ بیکنی ٹاپ اور اسکرٹ میں جلوہ گر ہو رہی ہیں۔

    تاہم کیرالہ میں، جہاں کیرتھنا کناتھ کا تعلق ہے، خواتین کے لئے باڈی بلڈنگ اب بھی ایک ممنوعہ موضوع ہے، کیونکہ یہاں خواتین سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ روایتی نسوانی اصولوں پر عمل کریں۔ ایک باڈی بلڈر کی انسٹاگرام پروفائل کو دیکھنے کے بعد، کناتھ نے ان خواتین سے متاثر ہو کر باڈی بلڈنگ کی دنیا کا جائزہ لیا جو اس کھیل کے لئے اپنی زندگی وقف کر چکی ہیں اور سماجی روایتوں کے ساتھ ساتھ اپنے خاندانوں کی خواہشات کو بھی نظرانداز کر چکی ہیں۔

    کناتھ نے سی این این کو فون کال میں بتایا، "جہاں ہم رہتے ہیں، یہ بہت عام بات نہیں ہے۔ میں اسے کمیونٹی کہوں گی بھی نہیں، کیونکہ یہ ابھی تک ایک نیا رجحان ہے اور صرف چند لڑکیاں ہی اس میں دلچسپی رکھتی ہیں۔”

    بھارت میں خواتین کا باڈی بلڈنگ کی طرف بڑھتا ہوا رجحان
    بھارت بھر میں، حالیہ برسوں میں خواتین کا ایک بڑھتا ہوا رجحان باڈی بلڈنگ میں شامل ہو رہا ہے اور بہت سی خواتین نے بین الاقوامی فٹنس اینڈ باڈی بلڈنگ فیڈریشن سے پیشہ ورانہ حیثیت حاصل کی ہے۔ 2016 میں، دیپیکا چودھری نے پہلی بھارتی خاتون باڈی بلڈر بن کر اس میدان میں ایک سنگ میل قائم کیا۔

    کییرتھنا نے ابتدائی طور پر کیرالہ میں جنسی لحاظ سے غیر جانبدار مارشل آرٹ "کالاری پائٹ” پر تحقیق کرنے کا ارادہ کیا تھا، لیکن جب انہوں نے باڈی بلڈنگ پر فوکس کرنے والی خواتین کا پتہ چلایا تو ان کی توجہ اس طرف مرکوز ہو گئی۔ کناتھ کی فوٹوگرافی کی سیریز میں شامل خواتین باڈی بلڈرز ایک دوسرے کو براہ راست نہیں جانتی تھیں، مگر سوشل میڈیا اور مقابلوں کے ذریعے ان کے درمیان ایک انجان سی پہچان تھی۔

    بھو میکا کمار، جو 22 سال کی ہیں اور کیرالہ کے شہر کوچین سے تعلق رکھتی ہیں، نے بچپن میں اپنی جسمانی سرگرمیوں کو محدود رکھنے کے باوجود باڈی بلڈنگ میں دلچسپی پیدا کی۔ اپنے والدین کے سخت رویے کی وجہ سے انہیں بچپن میں کھیلنے کی آزادی نہیں مل سکی تھی، مگر بالغ ہونے کے بعد یوٹیوب ویڈیوز کے ذریعے ورزش کا آغاز کیا اور پھر خاندان کے ساتھ بحث و تکرار کے بعد جِم میں شامل ہو گئیں۔ آج وہ مس کیرالہ اور مس ارناکولم جیسے مقامی مقابلوں میں گولڈ میڈل جیت چکی ہیں۔کمار اور دیگر باڈی بلڈرز کی کہانیاں ایک ہی جتنی ہیں، جنہیں اپنے خاندانوں سے تنقید اور دباؤ کا سامنا رہا کہ وہ اپنے جسموں کو دکھا کر غیر روایتی دنیا میں کیوں قدم رکھ رہی ہیں۔
    india
    خواتین باڈی بلڈرز کا عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کا عزم
    کیرتھنا کناتھ کی فوٹوگرافی میں شامل ایک اور خاتون، 25 سالہ سینڈرا اے ایس ہیں جو 4 سال سے باڈی بلڈنگ کر رہی ہیں اور اب باڈی بلڈنگ کے نئے کھلاڑیوں کو تربیت بھی دیتی ہیں۔ ان کا مقصد خواتین کے لئے باڈی بلڈنگ کے میدان میں رکاوٹیں توڑنا اور بین الاقوامی سطح پر پیشہ ورانہ طور پر مقابلہ کرنے کے لیے ضروری کوالیفیکیشن حاصل کرنا ہے۔

    کیرتھنا نے اپنی فوٹوگرافی کے دوران بھارتی دیویوں کی تصاویر سے متاثر ہو کر خواتین کے ہیروک پورٹریٹس بنائے ہیں۔ انہوں نے مقامی اسٹائلسٹ ایلتن جان کے ساتھ مل کر ایسی تصاویر تخلیق کیں جو جسمانی طاقت کو نرمی اور حسن کے ساتھ پیش کرتی ہیں۔ فوٹوگرافر کے مطابق، "یہ خواتین انتہائی مضبوط، پراعتماد اور طاقتور ہیں، لیکن پھر بھی ان میں ایک نرمائی ہے۔”

    کیرتھنا نے اپنی سیریز "نات واٹ یو سو” کے ذریعے ان خواتین کے عزم اور محنت کو اجاگر کیا ہے جو باڈی بلڈنگ کے میدان میں مردوں کے غلبے کو توڑنے کے لئے مسلسل محنت کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے، "انہوں نے اپنے لئے یہ جگہ بنائی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ ان کی کہانیاں جشن منانے کے قابل ہیں۔”

    یوکرین اور روس کے ایک دوسرے پر بڑے ڈرون،میزائل حملے

    سعودی عرب معاہدے کے تحت 570 پاکستانی قیدیوں کی واپسی کی لیے رضامند

  • چولستانی گوپے میں چھپی روہی کی دلکش ثقافت،پہلی قسط

    چولستانی گوپے میں چھپی روہی کی دلکش ثقافت،پہلی قسط

    چولستانی گوپے میں چھپی روہی کی دلکش ثقافت
    تحریر: ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    altafkhandahir@gmail.com
    قسط کا خلاصہ
    چولستانی ثقافت اور روہی کی خوبصورتی کو بیان کرنے والے اس آرٹیکل کی پہلی قسط میں، چولستان کے لوگوں کی زندگی، خواجہ غلام فرید اور دیگر سرائیکی شاعروں کے کلام کے ذریعے بیان کی گئی ہے۔ خواجہ فرید کی شاعری میں چولستان کی روحانی اور ثقافتی اہمیت کا ذکر کیا گیا ہے، جو عشق، تصوف، اور انسانیت کے اہم موضوعات کو بیان کرتی ہے۔ چولستان میں "گوپے” کی اہمیت پر بھی بات کی گئی ہے، جو کہ نہ صرف رہائش کے لئے بلکہ ثقافت اور قدیم روایات کی عکاسی کرتے ہیں۔ گوپے کی تعمیر میں مٹی اور درختوں کی چھال کا استعمال، اور اس کے اندر رہنے والے افراد کی محنت اور محبت کی مثال دی گئی ہے۔

    پہلی قسط کا موضوع ،روہی کی دلکش ثقافت اور سرائیکی ادب
    چولستان کے لوگ پانی کو زندگی کی علامت اور سب سے بڑی نعمت سمجھتے ہیں۔ روہی کے صحرا کا ہر منظر عشق حقیقی اور مجازی کی کہانی سناتا ہے، جو کلاسیکی سرائیکی ادب میں نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔ خواجہ غلام فریدؒ نے چولستان کے ریت کے ٹیلوں اور ٹوبھوں کو اپنی شاعری کا مرکز بنایا، جہاں تصوف اور سادگی کا حسین امتزاج موجود ہے۔ان کے کلام میں عشق، تصوف، اور انسانی جذبات کی گہرائی کو ریت کے ٹیلوں کی صورت میں پیش کیا گیا۔ مثال کے طور پر:
    اتھ درد منداں دے دیرے
    جتھ کرڑ کنڈا بوئی ڈھیر اے

    شاہد عالم شاھد لشاری کی شاعری بھی روہی کی ثقافت کو ایک منفرد انداز میں پیش کرتی ہے۔ گوپے، مٹی کی جھونپڑیوں کا ذکر، سرائیکی ثقافت کا اہم حصہ ہے۔ گوپے نہ صرف رہائش کی ضرورت پوری کرتے ہیں بلکہ چولستان کے لوگوں کی محنت اور ثقافتی خوبصورتی کی عکاسی کرتے ہیں-

    پہلی قسط
    پانی اور زندگی کی رونق چولستان کے لوگوں کے لیے خواب حسن کی حقیقت ہے۔روہی اگر عاشق کے لیے ایک طرف وصال بہشت ہے تو دوسری طرف وچھوڑے مونجھ ملال کی وحشت کربلا بھی ہے۔عشق مجازی سے عشق حقیقی کے سفر کا آغاز بھی چولستان روہی تھل کے ریت کے ٹیلوں سے ہوتاہے۔نگری مظہر جلال کی روحانی روہی کے کلاسک سرائیکی شاعر خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ کا زیادہ تر عرصہ چولستانی ٹوبھوں اور ریت کے ٹیلوں کے ذروں کے ساتھ گزرا ہے۔سادگی،تصوف اور خالص پیلھوں جیسی خوبصورت مٹھاس ان کے کلام آفاقیت کا خاص موضوع ہے۔گوپے میں روہی کی ثقافت کا قصہ 271 کافیوں پر مشتمل سرائیکی دیوان فرید دراصل سرائیکی سماجیات کا آئینہ ہے۔

    روہیلے کے لیے روہی کشمیر جنت نظیر ہے۔دھوپ کی تپش اس کے لیے برف کی طرح سفید لباس ہے۔خواجہ فرید کا خوبصورت عکس روہی دراصل سرائیکی علم وادب،عرفان وحکمت،تصوف،تہذیب وتمدن اور ثقافت کا سچا قصہ ہے۔سرائیکی مہان شاعر خواجہ فرید کو سرائیکی روحانی شاعر کا مقام حاصل ہے۔ان کے آفاقی فلسفہ میں روہی کا رنگ سب سے نمایاں ہے۔عشق حقیقی،تصوف،محبت،احساس، ہمدردی،کائنات کاحسن،احترام آدمیت،امن جیسے عظیم موضوعات ان کا حاصل کلام ہے۔

    اتھ درد منداں دے دیرے
    جتھ کرڑ کنڈا بوئی ڈھیر اے

    لانڑے، پھوگ اساڈے مانڑے
    ٹبڑے،بھٹڑے، ڈاہر، ٹکانڑے

    سرائیکی زبان و ادب کے جدید کلاسک شاعر شاہد عالم شاہد لشاری نے خوبصورت انداز میں روہی روپ کے قصے کو گوپے میں بیٹھ کر شاندار لفظوں کے تخیل سے تصویر کشی کی ہے۔الفاظ کی کاری گری ملاحظہ فرمائیں۔

    گوپے دیوچ اجرک ویڑھ تے ٹکڑانویں گندی تے
    بڈھا پاندھی ٹوری بیٹھے رلئے مال دے قصے

    مینہ دا زم زم وٹھے بلدی روہی اتے مال چردا ودے
    ساولیں جم پیاں ایجھا امرت ڈھٹے مال فردا ودے


    سرائیکی کلاسیکل مہان شاعر ڈاکٹر اشولال نے روہی چولستان کی چھ ہزار سال کی وادی ہاکڑہ سرسوتی تہذیب وتمدن کے مرکزی شہر گنویری والا اور قلعہ ڈیراور کی عظمت کو اپنے لازوال انداز کلام میں یوں بیان کیا ہے۔

    ساڈے اندروں وگدی اے سرسوتی
    ساڈے اندروں ہاکڑا وگدا اے
    اے گلیاں یار ڈیراور دیاں
    ساکوں ڈیکھ کے اینویں لگدا اے
    جیویں ہنڑیں ہنڑیں کوئی ویندا پئے
    جیویں ہنڑیں ہنڑیں کوئی ول آسی


    خواجہ فرید سئیں نے روہی تھل کے منظر کو باغ بہشت قرار دیا ہے۔

    روہی راوے تھیاں گلزاراں
    تھل چترانگ وی باغ بہاراں
    گھنڈ تنواراں بارش باراں
    چرچے دھاونڑ گاونڑ دے
    چاندنی رات ملہاری ڈینہ ہے
    تھڈڑیاں ہیلاں رم جھم مینہ ہے
    سوہنی موسم لگڑا نینہہ ہے
    گئے ویلھے غم کھاونڑ دے


    چولستان روہی کے صحرا کی اپنی خاموش خوبصورتی،ٹوبھےگوپے،قلعوں کا ثقافتی تاریخی تہذیبی ورثہ اور سخت زندگی کے سچے قصے بہت مشہور ہیں۔ محلاں کی سابق سرائیکی دھرتی ریاست بہاولپور میں واقع قلعہ ڈیراور چولستان کی پہچان ہے۔اس سے جڑی بستیوں میں آج بھی روہیلے مٹی اور درختوں کی چھال سے بنے روایتی رنگین "گوپوں” میں رہتے ہیں۔یہ گوپے صرف رہائش کے لیے گھر نہیں بلکہ روہی کی دلکش ثقافت اور یہاں کے لوگوں کی صدیوں پرانی عملی جدوجہد کی عکاس ہیں۔

    گوپے مٹی اور درختوں کی چھال سے بنائے جاتے ہیں اور انہیں خاص مہارت سے تعمیر کیا جاتا ہے۔سرائیکی جدید کلاسک شاعر شاہد عالم شاہد لشاری کے شاعری مجموعہ کا نام بھی "گوپے دے وچ قصہ” ایک منفرد اعزاز ہے۔گوپے کی دیواروں پر مٹی کا لیپ اور باریکی سے کی گئی صفائی ستھرائی اور رنگینی چولستانی دیہی فن کا مظہر ہے ۔شدید گرمی یا سردی کے موسم میں ان گوپوں کو شاپر یا شیٹ سے ڈھانپ دیا جاتا ہے۔ تاکہ اندر رہنے والوں کو موسم کی شدت سے بچایا جا سکے۔

    گوپے نہ صرف روہیلوں کی رہائش کی ضرورت کو پورا کرتے ہیں۔ بلکہ مہمانوں کے لئے آرائش و آرام اور محبت کا اعلی نمونہ بھی ہیں۔ان کی تعمیر اور سجاوٹ چولستانی فنکارانہ ذوق کی گواہی دیتی ہے۔کانے سے بنے گوپے،پتلیں،چکیں اور موڑھوں کے علاوہ سر اور کانہاں ( سرکنڈے ) سے بنی چولستانی چنگیریں و دیگر ہاتھ سے بنی اشیاء کو چولستانی و روہی واسیوں کے ہاتھوں کی ہنرمندی اور شاہکار کاریگری کی جادو گری بھی کہا جاسکتا ہے..جاری ہے

  • مولے نوں مولا نہ مارے تے مولا نئیں مردا , مولاجٹ کے پروڈیوسر کا انتقال, ایک عہد کا خاتمہ

    مولے نوں مولا نہ مارے تے مولا نئیں مردا , مولاجٹ کے پروڈیوسر کا انتقال, ایک عہد کا خاتمہ

    مولے نوں مولا نہ مارے تے مولا نئیں مردا،مولاجٹ کے پروڈیوسر کا انتقال، ایک عہد کا خاتمہ
    تحریر:شاہد نسیم چوہدری
    پاکستانی فلم انڈسٹری کا ایک روشن باب، محمد سرور بھٹی، 13 جنوری 2025 کو لاہور میں انتقال کر گئے۔ ان کی وفات سے نہ صرف فلمی دنیا بلکہ ان کے مداحوں میں بھی ایک گہرا خلا پیدا ہوا ہے۔ سرور بھٹی وہ نام ہیں جو 1979 کی شہرہ آفاق فلم مولاجٹ کے پروڈیوسر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ان کی فلمی خدمات نے پاکستانی سینما کو بین الاقوامی سطح پر روشناس کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔مولاجٹ پاکستانی سینما کا شاہکار،سرور بھٹی کی پروڈیوس کردہ فلم مولاجٹ پاکستانی فلمی تاریخ کا وہ شاہکار ہے جس نے فلم انڈسٹری کو ایک نئی شناخت دی۔

    مولاجٹ، پاکستانی سینما کا شاہکار
    سرور بھٹی کی پروڈیوس کردہ فلم مولاجٹ، پاکستانی فلمی تاریخ کا وہ شاہکار ہے جس نے فلم انڈسٹری کو ایک نئی پہچان دی۔ گنڈاسا کلچر پر مبنی اس فلم میں سلطان راہی، مصطفیٰ قریشی، اور عالیہ جیسے معروف اداکاروں نے کام کیا۔ اس فلم کے مکالمے، خاص طور پر "مولے نوں مولا نہ مارے تے مولا نئیں مردا”، آج بھی زبان زد عام ہیں۔

    مولاجٹ صرف ایک فلم نہیں بلکہ پاکستانی ثقافت کی عکاسی اور عوامی جذبات کی نمائندگی تھی۔ اس نے معاشرتی اور ثقافتی مسائل کو منفرد انداز میں پیش کیا، جس کی بدولت یہ فلم پاکستان سمیت بیرون ملک بھی مقبول ہوئی۔

    دیگر کامیاب فلمیں
    سرور بھٹی نے مولاجٹ کے علاوہ بھی کئی کامیاب فلمیں پروڈیوس کیں، جن میں شیر خان، وحشی جٹ، اور چن وریام شامل ہیں۔

    شیر خان: سلطان راہی اور مصطفیٰ قریشی کی شاندار اداکاری سے بھرپور یہ فلم شائقین کی دل پسند ثابت ہوئی۔
    وحشی جٹ: مولاجٹ کی طرح ایک یادگار فلم، جس میں گنڈاسا کلچر کی منفرد عکاسی کی گئی۔
    چن وریام: دیہی پنجاب کی ثقافت اور تعلقات کی پیچیدگیوں پر مبنی یہ فلم عوام میں بے حد مقبول ہوئی۔

    سرور بھٹی، فلم انڈسٹری کے محسن
    سرور بھٹی کا شمار ان فلم سازوں میں ہوتا ہے جنہوں نے پاکستانی سینما کو بین الاقوامی معیار کے قریب لانے کی بھرپور کوشش کی۔ ان کی فلموں کا موضوع معاشرتی مسائل، دیہی ثقافت، اور انسانی جذبات پر مبنی ہوتا تھا۔ ان کا وژن پاکستانی فلم انڈسٹری کے لیے ایک تحریک ثابت ہوا۔

    مولاجٹ کا اثر، فلم انڈسٹری میں انقلاب
    مولاجٹ نے پاکستانی سینما کے لیے نئی راہیں ہموار کیں۔ اس کی کامیابی کے بعد گنڈاسا کلچر پر مبنی کئی فلمیں بنائی گئیں، لیکن سرور بھٹی کی فلموں کا معیار اور گہرائی نمایاں رہی۔

    نماز جنازہ اور خراج عقیدت
    سرور بھٹی کی نماز جنازہ داتا دربار میں ادا کی گئی، جہاں فلمی دنیا کی معروف شخصیات اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ان کے انتقال پر فلمی صنعت کے مشہور ناموں نے افسوس کا اظہار کیا اور انہیں خراج تحسین پیش کیا۔

    یادگار خدمات
    سرور بھٹی کی وفات پاکستانی سینما کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔ ان کی فلمیں نہ صرف ماضی کی یادگار ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک مشعل راہ بھی ہیں۔ ان کا نام ہمیشہ پاکستانی سینما کے سنہری صفحات پر جگمگاتا رہے گا۔

    "مولے نوں مولا نہ مارے تے مولا نئیں مردا” کا فلسفہ شاید سرور بھٹی کی زندگی کی حقیقت بن گیا، کیونکہ ان کے فن کے ذریعے وہ ہمیشہ زندہ رہیں گے۔

    اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ان کی مغفرت فرمائے اور ان کے اہل خانہ کو صبر جمیل عطا کرے۔

  • مظلوم مسلمانوں کی قنوت نازلہ اور لاس اینجلیس

    مظلوم مسلمانوں کی قنوت نازلہ اور لاس اینجلیس

    مظلوم مسلمانوں کی قنوت نازلہ اور لاس اینجلیس
    از قلم غنی محمود قصوری
    7 جنوری 2025 سے امریکی ریاست کیلیفورنیا کا علاقہ لاس اینجلیس جنگلی آگ لگنے سے جھلس کر راکھ ہو چکا ہے۔جنگل میں لگی آگ آبادی تک پہنچی اور آبادی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔لاس اینجلیس جو کہ ہالی وڈ کا مرکز ہے جہاں فلم انڈسٹری سمیت بہت سے وی آئی پی لوگ رہتے ہیں، اس وقت قابل رحم بنا ہوا ہے۔ اس وقت لاس اینجلیس اور اس کی ہمسایہ کاؤنٹیز میں 7 مختلف مقامات پر شدید آگ لگی ہوئی ہے جو تاحال بھڑک رہی ہے۔

    سب سے پہلے ایٹون لاس اینجلیس میں 7 جنوری کو شام 6:18 بجے آگ بھڑکی اور پھر لاس اینجلیس سٹی میں رات 10:15 بجے آگ لگنا شروع ہوئی۔ یہ آگ ہرٹس فائر میں 10:30 بجے پہنچی اور پیلیسیڈز کے علاقے میں رات 10:38 بجے تک پہنچ گئی۔

    کیلیفورنیا، لاس اینجلیس میں 1 اکتوبر سے جنوری تک اوسطاً 10 فیصد سے بھی کم بارش ہوئی، جس کے باعث خشک سالی پیدا ہوئی۔ اسی دوران 7 جنوری 2025 بروز منگل کو سمندری ہوائیں چلیں جو جنگلات میں پہنچ کر آگ لگنے کا سبب بنیں۔

    سب سے زیادہ پیلیسیڈز میں آگ لگی جس نے تقریباً 23,000 ایکڑ رقبہ جلا کر راکھ کر دیا ہے۔پیلیسیڈز اور ایٹون میں آگ پر قابو پانے کی کوششیں کی گئیں، تاہم 60 سے 100 میل فی گھنٹہ چلنے والی تیز ہواؤں نے آگ کو مزید بھڑکا دیا ہے، جس پر ان علاقوں میں آگ اور زیادہ تیز ہونے کا خدشہ ہے۔آگ مشرق میں واقع برینٹ ووڈ میں گیٹی سینٹر آرٹ میوزیم کی طرف بڑھ رہی ہے، جس سے قوی امکان ہے کہ وہ بھی جل کر راکھ ہو جائے گا۔شدید آگ کے باعث محض ایٹون میں 12,000 گھر جل کر خاکستر ہو گئے ہیں اور 14,000 ایکڑ رقبہ جل چکا ہے۔

    لاس اینجلیس میں آگ سے اب تک 24 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق اصل تعداد تب سامنے آئے گی جب آگ مکمل طور پر بجھ جائے گی۔ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد ہزاروں میں ہو سکتی ہے۔اب تک اس آگ کے باعث 2 لاکھ سے زائد لوگ نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے ہیں، جبکہ ایک محتاط اندازے کے مطابق 15,000 مکانات جل کر خاکستر ہوئے ہیں اور 275 بلین ڈالر کا نقصان ہوا ہے، جس کے بڑھنے کا خدشہ ہے۔اس آگ میں امریکی صدر جو بائیڈن سمیت کئی نامور لوگوں کے گھر جل کر راکھ کا ڈھیر بن گئے ہیں۔

    یہاں یہ بات واضح کرتا چلوں کہ لاس اینجلیس میں بہت زیادہ لوگ ہائی ایلیٹ کلاس ہیں، اور ان میں سے بیشتر وہ لوگ ہیں جو امریکی فوج کو باقاعدہ طور پر فنڈنگ کرتے ہیں تاکہ امریکی سامراج کو برقرار رکھا جا سکے اور امریکہ سپر پاور بن کر دنیا پر راج کرے۔مگر یہ لوگ شاید بھول گئے کہ دنیا بھر میں لوگ امریکہ کے خلاف قنوت نازلہ کرتے ہیں۔

    غزوہ خندق کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عصر کی نماز قضا ہوئی تو آپ نے کفار پر بددعا کرتے ہوئے فرمایا:
    مَلَأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ نَارًا
    اللہ تعالیٰ ان کافروں کی قبروں اور گھروں کو آگ سے بھر دے۔(صحیح البخاری: 6033)

    شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کفار پر آفات کا ٹوٹنا مقام شکر ہے، چاہیے کہ ان کے خاتمے کے لیے دعا کی جائے۔
    (الشرح الصوتي لزاد المستقنع: 1660/1)

    قنوت نازلہ نبی رحمت سے ثابت اور سنت ہے۔ آج اس سنت پر دنیا بھر کے مظلوم مسلمان عمل کرتے ہیں، خاص کر مسجد اقصیٰ میں جب بھی فلسطینی نماز پڑھتے ہیں، قنوت نازلہ لازم پڑھتے ہیں۔
    اللہ نے ان معصوم نہتے مظلوم و مجبور مسلمانوں کی دعا قبول کی اور امریکہ پر آگ کا عذاب مسلط کیا ہے۔یہاں قنوت نازلہ کی دعا معہ ترجمہ رقم کر رہا ہوںامیر المؤمنین خلیفۃ المسلمین جناب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ قنوتِ نازلہ میں یہ کلمات کہتے تھے:

    "اللَّهُمَّ عَذِّبِ الْكَفَرَةَ، وَأَلْقِ فِي قُلُوبِهِمُ الرُّعْبَ، وَخَالِفْ بَيْنِ كَلِمَتِهِمْ، وَأَنْزِلْ عَلَيْهِمْ رِجْزَكَ وَعَذَابَكَ، اللَّهُمَّ عَذِّبِ الْكَفَرَةَ أَهْلَ الْكِتَابِ الَّذِينَ يَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِكَ، وَيُكَذِّبُونَ رُسُلَكَ وَيُقَاتِلُونَ أَوْلِيَاءَكَ.”

    اے اللہ، کافروں کو عذاب دے، ان کے دلوں میں ڈر بٹھا دے، ان کی صفوں میں پھوٹ ڈال دے، اور ان پر اپنا قہر اور عذاب نازل فرما۔ اے اللہ، اہلِ کتاب کافروں کو عذاب دے جو تیرے راستے سے روکتے ہیں، تیرے رسولوں کو جھٹلاتے ہیں اور تیرے دوستوں سے لڑائی کرتے ہیں۔

    اللہ دعائیں سنتا ہے اور مظلوموں کی مدد کرتا ہے۔ اللہ ظالموں کو بھی مہلت دیتا ہے تاکہ وہ ظلم سے باز آ جائیں اور اگر حد سے بڑھ جائیں تو پھر رب کی پکڑ بڑی شدید ہے۔

    امریکہ کو معصوم و مظلوم مسلمانوں کی بددعائیں لے بیٹھی ہیں اور امید ہے امریکہ کے نقصان میں مزید اضافہ ہوگا، ان شاءاللہ۔

  • اک شجر سایہ دار تھا، نہ رہا

    اک شجر سایہ دار تھا، نہ رہا

    اک شجر سایہ دار تھا، نہ رہا
    تحریر:حبیب اللہ قمر
    پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی رحمہ اللہ بھی اس دنیائے فانی سے رخصت ہو گئے۔ ان کی وفات پراسلام اور پاکستان سے محبت رکھنے والوں کے دل غمگین اور آنکھیں اشکبار ہیں۔ ایسے محسوس ہوتا ہے کہ دلوں پر اداسی کی ایک چادر سی تن گئی ہے۔بلاشبہ وہ ایسے خوش نصیب لوگوں میں سے تھے جو دنیا میں اس طریقے سے زندگی گزارتے ہیں کہ پیچھے رہ جانے والوں کے لیے ایک مثال بن جاتے ہیں۔ آج ہر کسی کی زبان پر ان کی دینی خدمات اور جرأت مندانہ کردار کے تذکرے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے موت ایسی قابل رشک دی کہ کلمہ شہادت پڑھتے ہوئے اپنی جان جان آفریں کے سپرد کر دی۔ وہ جب تک زندہ تھے ہر مجلس کی جان ہوا کرتے تھے۔ لوگ انھیں سننا چاہتے تھے۔ وہ تنظیمی و تحریکی سرگرمیوں میں سستی و غفلت پر سرزنش بھی کرتے تو زبان سے نکلے لفظوں کے موتی اتنے خوب صورت ہوتے کہ سننے والوں کی طبیعت پر گراں نہیں گزرتا تھا۔

    انہوں نے اپنی پوری زندگی کتاب و سنت کی ترویج و اشاعت، مظلوم مسلمانوں کی عزتوں و حقوق کے تحفظ اور امت کی رہنمائی کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ وہ دلوں کو جوڑنے اور باہم اتحادویکجہتی کا ماحول پیدا کرنے والے عظیم رہنما تھے۔ ان کی وفات سے علم کا ایک دروازہ بند ہوا ۔ ان کی باتیں علم و حکمت سے آراستہ ہوتیں تو کردار میں عاجزی و انکساری کی جھلک دکھائی دیتی تھی۔ وہ تحریک پاکستان کے سرکردہ لیڈراور معروف عالم دین پروفیسر حافظ عبداللہ بہاولپوری رحمہ اللہ کے بڑے صاحبزادے تھے۔ وہ اس خاندان کے چشم و چراغ تھے جو قیام پاکستان کے وقت اپنے گھر بار، زمینیں اور جائیدادیں وغیرہ سب کچھ چھوڑ کر محض اللہ کی رضا اور اسلام کی محبت میں ہجرت کر کے پاکستان پہنچا۔حافظ عبداللہ بہاولپوری رحمہ اللہ نے اولاد کی تربیت کرتے وقت بچپن سے ہی ان کے ذہنوں میں یہ بات پختہ کی تھی کہ دین کی خاطر ہر قربانی دے دینا لیکن اس پر عمل میں کوئی کمزوری نہیں آنی چاہیے۔ حافظ عبدالرحمن مکی رحمہ اللہ نے اپنے والد کے اس سبق کو خوب اچھی طرح یاد کیا اور آخر دم تک نبھانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔

    حافظ عبدالرحمن مکی کی خداداد صلاحیتوں کا اندازہ آپ یوں لگا سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں محض سات سال کی عمر میں قرآن مجید حفظ کرنے کی توفیق سے نواز دیا۔ پروفیسر حافظ عبداللہ بہاولپوری رحمہ اللہ جو کہ ایس ای کالج بہاول پور میں پروفیسر تھے، نے ایک استاد کی ڈیوٹی لگا رکھی تھی کہ ان کے صاحبزادے کو پڑھا دیا کریں۔ یعنی سکول کی تعلیم وہ اس استاد سے حاصل کرتے اور گھر میں دینی تربیت ان کے والد خود کیا کرتے تھے۔ پروفیسر حافظ محمد سعید جنہوں نے خود اپنے ماموں حافظ عبداللہ بہاولپوری رحمہ اللہ کے پاس رہ کر تعلیم حاصل کی، وہ بتایا کرتے تھے کہ میں دوسرے بچوں کی طرح سکول میں جا کر پڑھا لیکن عبدالرحمن مکی رحمہ اللہ نے گھر میں پڑھ کر ہی میرے ساتھ میٹرک کا امتحان دیا اور اچھے نمبروں میں پاس ہو گئے۔ اس کے بعد پھر کالج اور یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے تک پروفیسر حافظ محمد سعید اور حافظ عبدالرحمن مکی ساتھ ساتھ رہے۔

    عبدالرحمن مکی اسلامی جمعیت طلباء کے بہت فعال اور متحرک رکن تھے۔ جماعت اسلامی کے بانی امیر مولانا مودودی رحمہ اللہ ان کے ساتھ بہت محبت کرتے تھے اوروہ بھی ملاقات کے لیے اکثر ان کے گھر جایا کرتے تھے۔ بنگلہ دیش نامنظور تحریک چلی تو پروفیسر حافظ محمد سعید کے ہمراہ عبدالرحمن مکی رحمہ اللہ نے بھی اس میں سرگرم کردار ادا کیا۔ اسی طرح بھٹو دور میں تحریک نظام مصطفی شروع ہوئی تو اس میں بھی وہ پیش پیش رہے۔ وہ اپنے جرأتمندانہ کردار کی بدولت وقت کے حکمرانوں کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹکتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انھیں جھوٹے مقدمہ میں گرفتار کرکے بدنام زمانہ شاہی قلعہ کے ٹارچر سیل میں ڈال دیا گیا۔ اس دوران ان پر انتہائی بہیمانہ تشدد کیا گیا، رولر پھیرے گئے اورپلاس سے ناخن کھینچے جاتے لیکن ظلم کرنے والے ایک پل کے لیے بھی انھیں جھکا نہیں سکے اور ان کے پایہ استقامت میں لمحہ بھر کے لیے بھی لغزش نہیں آئی۔

    حافظ عبدالرحمن مکی رحمہ اللہ اپنی زندگی کے چھپے گوشوں سے پردہ اٹھاتے تو ان کی باتیں سن کر بندہ ششدر رہ جاتا کہ انھیں اپنی زندگی میں کس قدر آزمائشوں کا سامنا رہا ہے ۔ قیدوبند کی صعوبتوں کے دوران جب ان کا کیس زیر سماعت تھا تو ایک مرتبہ سرکار کاایک وکیل عدالت میں بڑے تکبر سے کہنے لگا کہ میرے ہوتے ہوئے تم جیل سے باہر نہیں آ سکتے۔ اس پر مکی صاحب نے بھری عدالت میں اس کی خوب خبر لی اور کہا کہ ابھی جب کیس زیر سماعت ہے تو تم میرا فیصلہ کرنے والے کون ہوتے ہو۔ بہت جلد میرا اللہ مجھے چھڑائے گا اور تم کچھ بھی نہیں کر سکو گے،کچھ عرصہ بعد پھر یہی ہوا بھٹو کا تختہ الٹ گیا اور عدالت نے بھی کیس کو جھوٹا قرار دے کر انھیں رہاکر دیا۔ عبدالرحمن مکی رحمہ اللہ کی رہائی میں مولانا مودودی رحمہ اللہ نے بھی کوششیں کیں اور اس حوالے سے ان کا بھی کردار رہا۔

    حافظ عبدالرحمن مکی رحمہ اللہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد یونیورسٹی میں بطور لیکچرر بھرتی ہو گئے۔ یہ جنرل ضیاء الحق کا دور تھا اور وہ ملک میں مختلف حوالے سے اصلاحات کی کوششیں کر رہے تھے۔ اس دوران جنرل ضیاء نے علماء کی مشاورت سے فیصلہ کیا کہ پاکستان میں قانون اور شریعہ کے ماہر ایسے علماء اور محقق تیار ہونے چاہئیں جو ملک میں نفاذ اسلام کے حوالے سے کردار ادا کر سکیں۔ اس سلسلہ میں کچھ لوگوں کواعلیٰ تعلیم کے لیے سعودی عرب بھجوانے کا بھی فیصلہ ہوا جن میں عبدالرحمن مکی رحمہ اللہ کا نام بھی شامل تھا۔ حافظ عبداللہ بہاولپوری رحمہ اللہ کو پتا چلا تو پہلے تو انہوں نے انکارکیا کہ وہ بیٹے کو خود سے دور نہیں کرنا چاہتے تھے لیکن جنرل ضیاء الحق جنھیں وہ دعوتی و اصلاحی خطوط لکھتے رہتے تھے، انھوں نے علماء کے ذریعے پیغام بھیجا اور بعض دوسرے احباب نے بھی اصرار کیا تو حافظ عبداللہ بہاولپوری رحمہ اللہ اس کے لیے آمادہ ہو گئے۔ یوں عبدالرحمن مکی رحمہ اللہ سعودی عرب کی ام القریٰ یونیورسٹی میں پڑھنے لگے اور علم الحدیث میں اعلیٰ ڈگری حاصل کی۔

    وہ شیخ ابن باز رحمہ اللہ کے خاص شاگردوں میں سے تھے اور ان کا بیشتر وقت ان کے دارالافتاء میں گزرتا تھا۔ اسی عرصہ میں پھر جنرل ضیاء الحق وفات پا گئے اور عبدالرحمن مکی رحمہ اللہ بھی سعودی عرب میں دعوتی و تبلیغی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ نجی سطح پر کاروباری سرگرمیوں میں مصروف ہو گئے۔حافظ عبدالرحمن مکی رحمہ اللہ اردو کی طرح عربی اور انگریزی بھی بہت روانی کے ساتھ بول لیتے تھے۔ عربی زبان میں ان کی گفتگو اتنی شان دار ہوتی کہ عرب لوگ بھی سن کر رشک کرتے تھے۔ جب تک وہاں پابندیوں کے حالات نہیں تھے ان کے پروگرام مختلف عرب ملکوں میں ہوتے اور وہ ہزاروں کے مجمع سے خطاب کیا کرتے تھے۔ میں نے اکثر اہل علم کی زبان سے یہ بات سنی ہے کہ شورش کاشمیری اور علامہ احسان الہٰی ظہیر کے بعد آج کے دور میں سحر انگیز خطابت کسی میں دیکھنے کو ملی ہے تو وہ حافظ عبدالرحمن مکی رحمہ اللہ ہیں۔ تاریخ کے موضوع پر یوں بات کرتے کہ جیسے صدیوں کی باتیں پوری طرح حفظ کر رکھی ہوں۔ وہ جس موضوع پر گفتگو کرتے علم کے موتی بکھیر دیتے اور سامعین میں سے ہر کوئی ہمہ تن گوش ہو جاتا۔ کتاب و سنت اور عصر حاضر کے علوم و فنون پر اتنی گہری نظر رکھنے والا اس وقت کوئی دوسرا دکھائی نہیں دیتا۔

    حافظ عبدالرحمن مکی رحمہ اللہ اسلام کے فریضہ جہاد سے بہت محبت رکھتے تھے۔ نوے کی دہائی میں جب کشمیر کی تحریک نے عروج پکڑا اور حافظ محمد سعید نے سعودی عرب جا کر انھیں دعوت و جہاد کی تحریک میں حصہ لینے کے لیے پاکستان آنے کا کہا تو انھوں نے فورا حامی بھر لی۔ اگرچہ سعودی عرب میں رہتے ہوئے انھیں ہر قسم کی آسائشیں اور سہولیات میسر تھیں لیکن دین اور جہاد کی خاطر محض دو سے تین دن میں اپنے سارے معاملات سمیٹے اور اہل خانہ کے ہمراہ پاکستان آ گئے۔ وطن واپس لوٹنے کے بعد وہ ایک دن کے لیے بھی آرام اور سکون سے نہیں بیٹھے اور اپنی پوری زندگی کشمیر کی آزادی اور تحریک دعوت و جہاد کے لیے کھپا دی۔ جہاد کے موضوع پر ان کے خطابات خاص طور پر دلوں کو گرما دینے والے ہوتے۔ ہزاروں نوجوان ان کی تقریریں سن کر عملی میدان میں اترے اور پھر ایسی لازوال قربانیاں پیش کیں کہ جنھیں تاریخ میں سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔

    عبدالرحمن مکی رحمہ اللہ جوانی کے ایام میں تھے تو حافظ عبداللہ بہاولپوری رحمہ اللہ کو اس بات کی فکر رہتی تھی کہ ان کا بیٹا جلسوں اور عوامی اجتماعات سے خطاب میں دلچسپی کم لیتا ہے۔ وہ بہت دعائیں کرتے کہ میرے بیٹے سے دین کا کام لے، اس کا سینہ فراخ کر دے اور زبان و بیان میں قوت پیدا کر دے۔پھر آسمان والے رب نے ان کی یہ دعا اس انداز میں قبول کی کہ اسی بیٹے کو خطابت کا ایسا شہسوار بنایا کہ دنیا ان کی گفتگو سننے کو ترستی تھی۔ یہی عبدالرحمن مکی جب تقریر کرتے تو گھنٹوں بولتے چلے جاتے اور لمحہ بھر کے لیے بھی چہرے پر تھکاوٹ کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے تھے۔ ان کے دل میں جہاد کی تڑپ اتنی تھی کہ کہا کرتے تھے کاش میرے ہاتھ سے میدان جہاد میں ایک ہندو فوجی مارا جائے اور میں اپنے رب سے کہہ سکوں کہ میں نے فلاں غاصب ہندوستانی فوجی کو قتل کیا ہے جبکہ دوسری طرف اپنے مسلمان بھائیوں کے لیے دل میں نرمی بھی انتہا درجے کی تھی۔کشمیری شہداء کے جنازے پڑھاتے توآبدیدہ ہو جاتے۔ کشمیریوں سے یہی والہانہ محبت اور لگاؤ تھا کہ ان کی وفات پر پورے مقبوضہ کشمیر میں غم کی کیفیت رہی اور حریت قیادت سمیت سبھی کشمیری قائدین نے تعزیتی پیغامات میں کہا کہ آج ہم کشمیریوں کے حق میں بات کرنے والی ایک مضبوط اور توانا آواز سے محروم ہو گئے ہیں۔

    امریکی جیل گوانتا ناموبے میں قرآن مجید کی بے حرمتی ہوئی تو عبدالرحمن مکی تڑپ اٹھے اور پروفیسر حافظ محمد سعید کی ہدایات پر مولانا امیر حمزہ اور محمد یعقوب شیخ کے ہمراہ فوری ملک گیر تحریک منظم کرنے کی کوششیں شروع کر دیں۔ مغرب میں گستاخانہ خاکے شائع ہوئے تو تحریک حرمت قرآن کی طرح تحریک حرمت رسولؐ میں بھی پیش پیش رہے۔ اسی طرح تحریک تحفظ قبلہ اول ، دفاع پاکستان کونسل اور سرزمین حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے چلائی گئی تحریکوں میں بھی قائدانہ کردار ادا کیا اور فتنہ تکفیر اور خارجیت کے رد کے لیے ملک کے کونے کونے میں جا کر لوگوں کی تربیت کی کہ مسلمانوں سے لڑائی تو دور کی بات ان کی طرف ہتھیار کا رخ کرنا بھی اسلام میں حرام ہے۔ ان کی تحریکی سرگرمیوں پر مبنی خدمات اتنی زیادہ ہیں کہ اس کے لیے الگ سے مکمل کتاب لکھی جا سکتی ہے، یہاں میں صرف اتناکہوں گا کہ صحت کو درپیش مسائل کے باوجود انھوں نے ملک کا کوئی کونہ نہیں چھوڑا جہاں وہ دعوت دین کی آواز بلند کرنے کے لیے نہ پہنچے ہوں۔

    ایک ایسا شخص جسے ڈاکٹروں نے صاف کہہ دیا ہو کہ آپ کے دل کا مسئلہ اتنا پیچیدہ ہے کہ ہم بائی پاس نہیں کر سکتے، یونہی دوائیوں کے ذریعے ہی علاج جاری رکھنا پڑے گا، اس نے اپنی زندگی میں کئی برسوں تک کبھی اپنی بیماری کو محسوس تک نہیں ہونے دیا۔ عبدالرحمن مکی رحمہ اللہ صبرواستقامت کا پہاڑ ثابت ہوئے۔ ان کے دو بیٹے اور ایک بیٹی جوانی کے ایام میں کینسر کی وجہ سے فوت ہوئے ۔ دوسرا بیٹا کینسر کے سبب شوکت خانم ہسپتال میں داخل ہوا تومیں اور برادرم یحییٰ مجاہدجن کے ساتھ مکی صاحب کا بہت پرانا اور گہرا تعلق تھا، ایک جگہ پر ان کے ساتھ موجود تھے۔ وہاں ایک بھائی نے ان سے کہہ دیا کہ آج کل تو آپ بیٹے کی بیماری کی وجہ سے بہت مصروف ہوں گے۔ وہ کہنے لگے میں نے ساتھیوں سے سختی سے کہا ہے کہ ملک میں کسی جگہ بھی طے کردہ میرا کوئی پروگرام کینسل نہیں کرنا، میں ہر جگہ جاؤں گا اور خطاب کروں گا۔ مجھے یقین ہے کہ میرے پروگراموں پر جانے سے جتنی زیادہ کتاب و سنت اور جہاد کی آواز بلند ہو گی میرا اللہ ہم پر رحم کرے گا اور میرے بیٹے کے لیے بھی آسانی پیدا کرے گا۔

    زندگی کے آخری ایام میں بھی ان کی حالت یہ تھی کہ شوگر کی وجہ سے پاؤں پر زخم آ گئے تھے اور ان سے چلا نہیں جاتا تھا لیکن وہ پاؤں پر پٹیاں باندھ کر پورے ملک میں پروگرام کر رہے تھے۔ انھی دنوں میں جب تکلیف زیادہ بڑھی تو انھیں قائل کر کے ہسپتال داخل کروایا گیا، اسی دوران ان کے پاؤں کا ایک انگوٹھا کاٹنا پڑا۔ ابھی علاج جاری تھا کہ جمعہ کے دن فجر کے بعد اچانک دل کی تکلیف ہوئی اور وہ قریب موجود ساتھیوں کو گواہ بنا کر کلمہ پڑھتے ہوئے دنیا سے رخصت ہو گئے۔

    حافظ عبدالرحمن مکی رحمہ اللہ کی یہ بہت بڑی خوبی تھی کہ وہ کسی ایک جماعت یا کسی مسلک کے نہیں بلکہ پوری امت کے نمائندے تھے۔ وہ تحریک دعوت و جہاد کے عظیم انقلابی رہنما تھے۔ ان کی وفات یقینا موت العالم موت العالم کے مصداق ہے۔ ان کی نماز جنازہ ان کے بھانجے پروفیسر حافظ طلحہ سعید نے پڑھائی۔ گورنمنٹ ایجوکیشنل کمپلیکس ننگل ساہداں مریدکے کے وسیع و عریض گراؤنڈ میں ادا کی گئی نماز جنازہ میں جید علماء کرام، شیوخ الحدیث اور دینی مدارس کے اساتذہ و مہتتم حضرات سمیت مختلف مکاتب فکر اور شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ان کی شخصیت، علم و تقویٰ اور دین کے لیے قربانیوں نے ان کے جنازے کو ایک عظیم الشان منظر بنا دیا۔ لوگ ان کے علم، اسلام و پاکستان کے لیے قربانیوں اور ان کی ثابت قدمی کو یاد کر کے زاروقطار روتے رہے۔ شدید سردی اور بارش کے موسم کے باوجود جس طرح لوگ دور دراز کے علاقوں سے سینکڑوں کلومیٹر کا سفر کرکے جنازے میں پہنچے یہ منظر اس بات کی گواہی تھا کہ اللہ تعالیٰ نے دین اسلام کے لیے کی جانے والی ان کی کاوشوں اور ان کے صبر کا بہترین صلہ عطا فرمایا ہے۔ حقیقت ہے کہ جو شخص اپنے رب کی رضا کے لیے زندگی گزارتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی محبت لوگوں کے دلوں میں ڈال دیتا ہے اور اس کے دنیا سے جانے کے بعد بھی عزت عطا فرماتا ہے۔ اپنے بہترین دیرینہ ساتھی کی وفات پر پروفیسر حافظ محمد سعید نے جس صبر کا مظاہرہ کیا ہے وہ بھی اپنی مثال آپ ہے۔

    انھوں نے کارکنان کو خاص طور پر نصیحت کی ہے کہ یہ وقت غم کا ضرور ہے لیکن ہمیں صبر کرنا ہے اور اپنی زبان سے وہی الفاظ ادا کرنے ہیں جن سے اللہ راضی ہو۔ ہمیں عبدالرحمن مکی رحمہ اللہ کی خدمات کو یاد رکھتے ہوئے اس بات کا عزم کرنا ہے کہ ہم ان کی پیش کردہ دعوت کو ملک کے کونے کونے میں پھیلائیں گے اور امت کی بھلائی کے لیے اسی اخلاص اور محنت کے ساتھ کام کریں گے جس کے لیے وہ زندگی بھر کوشاں رہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ عبدالرحمن مکی رحمہ اللہ کی دین اسلام کے لیے قربانیوں کو قبول کرتے ہوئے ان کی قبر کو منور فرمائے۔ آمین۔

  • چڑیا نہیں …..شیرنی ! تحریر:ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

    چڑیا نہیں …..شیرنی ! تحریر:ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

    ہم نے پانچویں کلاس سے پبلک ٹرانسپورٹ یعنی بس سے سکول جانا شروع کیا ۔شروع میں آپا ساتھ ہوتیں کہ ان کا کالج سکول کے ساتھ ہی تھا لیکن ان کا بی اے ختم ہوگیا تو ہم اور ہماری چھوٹی بہن ۔
    بس میں بہت رش ہوتا ، بیٹھنے کو جگہ نہ ملتی اور ہم عورتوں کے بیچ سینڈوچ بن کر کھڑے ہوتے ۔اچھت پہ لگے ڈنڈے کو تو ہمارا ہاتھ نہ پہنچتا سو ہم کسی نہ کسی سیٹ کو تھام لیتے ۔

    عام طور پہ سواریاں بس جس طرف کو چل رہی ہوتی ، اسی طرف منہ کر کے کھڑی ہوتیں ۔ایک بار ایسا ہی رش تھا اور ہم سیٹ کو تھامے کچھ یوں کھڑے تھے کہ ہمارا منہ دوسری سمت میں تھا ۔ ہمارے بالکل سامنے ایک عورت ، کالے برقعے میں ملبوس ، ایک ہاتھ سے سائیڈ پر لٹکا ہوا بچہ اور دوسرے ہاتھ سے بس کا ڈنڈا تھامے ہوئے ۔

    ہمارا قد اتنا تھا کہ بمشکل عورت کی چھاتی تک پہنچتا تھا۔ ہم اپنے خیالوں میں گم کہ ہم نے عورت کو کسمساتے محسوس کیا ۔ سر اٹھا کر دیکھا تو ایک مردانہ ہاتھ عورت کی چھاتی پہ ۔ عورت بار بار کسمساتی ، ایک لحظے کو ہاتھ پیچھے جاتا ، مگر دوسرے ہی سیکنڈ دوبارہ سے چھاتی پہ مصروف عمل ہو جاتا ۔
    ہم نے عورت کی سائیڈ سے منہ نکال کر پیچھے دیکھنے کی کوشش کی کہ یہ آخر چکر کیا ہے ؟
    عورت کے بالکل پیچھے ایک کریہہ الصورت شخص کھڑا تھا جو یہ کھیل کھیلنے میں مصروف تھا ۔
    سوچئیے گیارہ بارہ برس کی لڑکی نے کیا کیا ہو گا ؟
    ترکیبیں سوچنے میں ماہر تو تھے ہم سو بستے میں سے پرکار نکالی اور تیار ہو گئے ۔
    اب ہاتھ جونہی آگے آیا اور چھاتی پکڑی ، ہم نے پوری قوت سے پرکار کی نوک اس ہاتھ میں گھسا دی ۔ بجلی کی سی تیزی سے ہاتھ واپس گیا اور پھر چراغوں میں روشنی نہ رہی ۔
    گھر پہنچنے پہ آپا کو اپنا کارنامہ سنایا ، آپا ہنسیں تو سہی مگر کچھ خوفزدہ بھی ہوئیں … اگر وہ مرد تمہیں پکڑ کر مارتا تو ؟
    ایسے ہی … اتنا شور مچاتے کہ دنیا اکھٹی کر لیتے ۔
    یہ واقعہ یوں یاد آیا کہ کل کسی نے کمنٹ لکھا کہ کمپنی ھذا کیا کرسکتی ہے ؟
    سو بہنو اور بھائیو ، تھوڑی سی ہمت ، تھوڑی سی عقل اور تھوڑا سا اعتماد آپ کی بیٹی کو ایساانگارہ بنا سکتا ہے جو دوسروں کو جلا کر راکھ کر دے ۔
    چڑیا نہیں بننے کا …… شیرنی بنو شیرنی !

  • کب تک گھر بیٹھی رہو گی؟ یہ حل نہیں، تحریر: حناسرور

    کب تک گھر بیٹھی رہو گی؟ یہ حل نہیں، تحریر: حناسرور

    آج کے دور میں لڑکیوں کو مختلف معاشی، سماجی اور نفسیاتی مسائل کا سامنا ہے، لیکن ان مسائل کا تقابل لڑکوں کے مسائل سے کرنا بے جا نہیں ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ لڑکیوں کو اس معاشرتی دائرے میں لڑکوں کی نسبت مختلف قسم کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، خاص طور پر جب بات کام، تعلیم اور خودمختاری کی آتی ہے۔لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کے مسائل ہمیشہ زیادہ پیچیدہ اور سوشیل ہیں۔ ایک لڑکی جو کہ بیروزگار ہے، اس کے لیے یہ طعنے سننا کہ "کب تک گھر بیٹھی رہو گی؟” ایک عام بات ہو سکتی ہے، لیکن اگر یہی سوال ایک لڑکے سے کیا جائے تو شاید وہ اتنی تنقید کا شکار نہ ہو۔ لڑکیوں کے لیے معاشرتی دباؤ ہمیشہ زیادہ ہوتا ہے، کیونکہ ایک لڑکی پر گھر والوں کی طرف سے یہ توقعات رکھی جاتی ہیں کہ وہ اپنے کام اور زندگی کو ایک مخصوص طریقے سے گزارے، اور اگر وہ ایسا نہ کرے تو اسے "ایفشل” یا "بیکار” سمجھا جاتا ہے۔

    یہ بات بھی اہم ہے کہ ایک لڑکی پر خاندان، دوستوں اور معاشرتی ماحول کی طرف سے بہت زیادہ دباؤ ہوتا ہے کہ وہ جلد سے جلد اپنے قدموں پر کھڑی ہو اور ایک مستحکم زندگی گزارے۔ اگر کوئی لڑکی گھر بیٹھے رہ جائے تو اسے معاشرتی طور پر ناپسندیدہ سمجھا جا سکتا ہے، حالانکہ اس کے لیے ضروری نہیں کہ وہ فوراً نوکری یا کاروبار میں مشغول ہو۔ ہر فرد کا سفر مختلف ہوتا ہے، اور ہر کسی کو اپنی زندگی کی رفتار کے مطابق فیصلہ کرنے کا حق ہونا چاہیے۔اگر ہم لڑکیوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں، تو سب سے اہم چیز جو انہیں دی جا سکتی ہے وہ ہے تعلیم اور ہنر۔ ایک لڑکی کو ایسا ہنر سکھانا، جو اسے خودمختار اور مضبوط بنائے، اس کے لئے زندگی کے مختلف پہلوؤں میں کامیاب ہونے کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔ اگر ایک لڑکی تعلیم حاصل کرے اور کسی ہنر میں ماہر ہو، تو وہ نہ صرف اپنی زندگی کی بہتر منصوبہ بندی کر سکتی ہے، بلکہ اگر کل کو اس کی زندگی میں کوئی بھی ناخوشگوار تبدیلی آئے، جیسے طلاق یا بیوہ ہونا، تو وہ خود کو مالی طور پر سنبھالنے کے قابل ہو گی۔

    خودمختاری اور معاشرتی آزادی،یہ بات نہ صرف لڑکیوں کے حق میں ہے بلکہ پورے معاشرے کے فائدے میں ہے کہ لڑکیاں اپنے قدموں پر کھڑی ہوں۔ ان کو اس بات کا احساس دلایا جائے کہ وہ معاشرتی اور اقتصادی لحاظ سے اپنے فیصلے خود لے سکتی ہیں اور انہیں ہر معاملے میں مردوں کے شانہ بشانہ قدم بڑھانے کا موقع دیا جائے۔ ان کا ہنر اور تعلیم کبھی ضائع نہیں جائے گا۔ ان کے پاس اگر سکلز ہوں گے تو وہ معاشرتی، مالی اور نفسیاتی طور پر مضبوط رہیں گی۔اس دور میں جب دنیا بھر میں لڑکیاں مردوں کے ساتھ برابر قدموں پر چل رہی ہیں، تو ضروری ہے کہ ہم اپنے معاشرتی دائرے میں بھی ان کو وہ مواقع فراہم کریں جو وہ حق دار ہیں۔ ان کی تعلیم، ہنر اور خودمختاری کا تحفظ کرنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔ لڑکیاں جب اپنے حقوق کے بارے میں آگاہ ہوں گی اور ان کے پاس وسائل اور ہنر ہوں گے، تو وہ نہ صرف خود کو بلکہ اپنے خاندان اور معاشرے کو بھی بہتر بنا سکیں گی۔لہذا، لڑکیوں کو تعلیم دیں، ہنر سکھائیں، اور ان کی کامیابی کے راستے کو ہموار کریں تاکہ وہ نہ صرف اپنے لیے بلکہ پورے معاشرت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں۔

  • دی ایجوکیٹرز فیصل آباد کا فیملی فیسٹیول 2025

    دی ایجوکیٹرز فیصل آباد کا فیملی فیسٹیول 2025

    دی ایجوکیٹرز فیصل آباد کا فیملی فیسٹیول 2025
    تحریر:شاہد نسیم چوہدری
    دی ایجوکیٹرز فیصل آباد ریجن کی جانب سے 25 جنوری 2025 کو شاندار فیملی فیسٹیول کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ یہ فیسٹیول بچوں، والدین، اور دیگر فیملی ممبرز کے لیے ایک یادگار دن ہوگا۔ اس تقریب کی قیادت فیصل آباد ریجن کے ایڈمنسٹریٹر عدنان احمد خان شیروانی کر رہے ہیں، جنہوں نے اپنے معاونین بشارت، فراز، اور مس ماہم کے ساتھ مل کر بہترین انتظامات کیے ہیں۔

    فیسٹیول میں رنگا رنگ سرگرمیاں شامل ہیں جن میں بچوں اور بڑوں کے لیے تفریح اور تعلیم کا امتزاج ہوگا۔ جناح باغ میں ہونے والے اس ایونٹ میں فوڈ کورٹ، اسپانسرڈ اسٹالز، جادوئی میجک شو، اور دلچسپ کھیلوں کے مقابلے شامل ہوں گے۔ بچوں کے لیے پلے ایریا، جھولے، اور باؤنس سینڈ جمپنگ کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔

    تقریب میں تمام کیمپسز کے طلبا رنگارنگ ٹیبلو اور ڈرامے پیش کریں گے، جو پاکستان کی ثقافت، حب الوطنی، اور دیگر اہم موضوعات پر مبنی ہوں گے۔ فیسٹیول کے اختتام پر ایک میوزیکل کنسرٹ بھی ہوگا، جس میں مقامی گلوکار اور طلبا اپنی گائیکی کے جوہر دکھائیں گے۔

    تعلیمی سرگرمیوں کے تحت جدید ٹیکنالوجی، ورکشاپس، اور عملی مظاہروں کا بھی اہتمام کیا گیا ہے، جو بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو جلا بخشیں گے۔

    عدنان احمد خان شیروانی نے اپنے پیغام میں تمام طلبا اور ان کے اہل خانہ کو اس تقریب میں بھرپور شرکت کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیسٹیول نہ صرف تعلیمی معیار کو بلند کرے گا بلکہ طلبا میں معاشرتی ہم آہنگی، ٹیم ورک، اور قیادت کی صلاحیتوں کو بھی فروغ دے گا۔

    آئیے، مل کر اس دن کو یادگار بنائیں اور تعلیم و تفریح کے اس حسین امتزاج سے لطف اندوز ہوں۔

  • حافظ عبدالرحمان مکی  کی شان و جلالت اور بھارتی میڈیا،تحریر:قاضی کاشف نیاز

    حافظ عبدالرحمان مکی کی شان و جلالت اور بھارتی میڈیا،تحریر:قاضی کاشف نیاز

    حافظ عبدالرحمان مکی رحمہ اللہ کی شان و جلالت اور بھارتی میڈیا
    تحریر: قاضی کاشف نیاز
    میں اس کے مقام کا کیا اندازہ لگاؤں جس کی موت پر دشمن بھی بڑھ چڑھ کر خوشیاں منا رہا ہو۔ ایسے عظیم شخص کے مقام کی حد کو میں پا ہی نہیں سکتا۔ ذرا دیکھیں تو سہی کہ کفر کے ایوانوں میں کس قدر شادیانے بج رہے ہیں۔ انڈیا کا شاید ہی کوئی چینل ہو جو مکی رحمہ اللہ کو اپنا سب سے بڑا دشمن قرار دے کر بغلیں نہ بجا رہا ہو۔ این ڈی ایم انڈیا نیوز سے لے کر زی نیوز، نیوز نیشن، بھارت 24، ہندوستان ٹائمز، سنسکرتی ایاز (Iuyas Sanskrit) رتام انگلش نیوز (Ritam English News) اور انڈیا ٹوڈے تک، انڈیا کے تقریباً سبھی نیوز چینلز حافظ عبدالرحمان مکی رحمہ اللہ کی وفات کو ایک بہت بڑی خبر اور اس دن کی سب سے بڑی بریکنگ نیوز بنا کر چیخ چیخ کر، چلا چلا کر اور گلا پھاڑ پھاڑ کر دنیا کو بتاتے رہے کہ ہمارا ایک سب سے بڑا دشمن، 26/11 کا ماسٹر مائنڈ، ہماری جان چھوڑ چکا۔

    خیر، یہ تو اس کی ایک اور بہت بڑی غلط فہمی ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ اس طرح اس کی جان چھوٹ گئی ہے۔ اسے اندازہ ہی نہیں کہ ایک مکی رحمہ اللہ کے جانے سے اس کی جان نہیں چھوٹی بلکہ مکی رحمہ اللہ کی موت تو پہلے سے بھی کئی گنا زیادہ "مکی” پیدا کر چکی ہے۔ پہلے صرف ایک جماعت اور اس سے وابستہ لوگ ہی مکی رحمہ اللہ کو جانتے تھے۔ اب پاکستان کا شاید ہی کوئی طبقہ ہو جو مکی رحمہ اللہ کی شان میں رطب اللسان نہ ہو۔

    آج تو بڑے بڑے لبرل دانشور اور اے این پی جیسی لبرل سیاسی جماعتوں کے قائدین بھی ان کی عظمت بیان کر رہے ہیں اور بڑے بڑے وفود کی صورت میں تعزیت کے لیے ان کے در پر پہنچے ہیں۔

    واہ مکی رحمہ اللہ! تیرے کیا کہنے۔ تو جب تک زندہ رہا، دعوت و جہاد اور انبیاء علیہم السلام کی سیاست کے مشن کو آسمان تک پہنچایا اور مرا بھی تو اس طرح کہ اس مشن کو اوجِ ثریا تک پہنچا گیا۔ وہ رخصت ہوئے تو یہ کہتے ہوئے کہ وقت بہت کم ہے اور پھر کلمہ پڑھتے ہوئے یہاں تک بتا گئے کہ فرشتے ان کی روحِ سعید کے استقبال کو اور لینے کو آ پہنچے ہیں۔

    اسی قابل رشک موت کی وجہ سے ہی آج کفر کا ہر ایوان مکی رحمہ اللہ کی گونج سے لرز رہا ہے۔ ان کی خوشیاں بتا رہی ہیں کہ اندر سے یہ بزدل کفار حافظ عبدالرحمان مکی رحمہ اللہ سے کس قدر خوفزدہ اور دہشت زدہ تھے۔ وہ تھی ہی ایسی شخصیت۔

    ان کے ہم عصر ساتھی بتاتے ہیں کہ اپنے طالب علمی کے زمانے میں بھی وہ سرخوں اور ملحدوں کے لیے ہمیشہ دہشت کی علامت رہے۔ جب اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستہ تھے اور سرخوں سے مقابلہ ہوتا تو انہیں ہی سب سے آگے کیا جاتا۔

    ایک دفعہ سرخوں کا پورا جلوس اپنی مار دھاڑ دکھا رہا تھا تو اسلام پسندوں کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ ان سے کیسے نمٹا جائے۔ آخر مشورہ ہوا کہ کسی طرح حافظ عبدالرحمان کو لایا جائے تو وہ ان کا آسانی سے توڑ کر لیں گے۔ چنانچہ وہ آئے تو پھر اس طرح شیر کی طرح آئے کہ اکیلے ہی اپنے موٹر سائیکل پر سوار پوری تیزی سے سرخوں کے جلوس کی طرف رخ کر لیا۔

    کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے
    رن تو رن ہے، چرخ کہن کانپ رہا ہے

    کا مصداق بن کر جوں ہی موٹر سائیکل ان کی طرف چڑھائی، سرخوں کا سارا جلوس ہی آناً فاناً تتر بتر ہو گیا۔

    پھر باقی ساری زندگی بھی کفر کا ہر ایوان ان سے یوں ہی لرزتا رہا اور آج تک لرز رہا ہے۔ اپنی موت سے بھی انہیں ایسا لرزایا اور ڈرایا کہ وہ اسے کبھی بہت بڑا دہشت گرد کہتے ہیں، کبھی بہت بڑا انتہا پسند، اور کبھی 26/11 کا سب سے بڑا سرغنہ قرار دے رہے ہیں۔

    یہ دراصل مکی صاحب رحمہ اللہ کے لیے وہ خطابات ہیں جو انہیں کفر کے ایوانوں سے مل رہے ہیں اور یہ خطابات انہیں جس قدر مل رہے ہیں، اسی قدر یہ خطابات ان کے لیے اعزاز بن کر اللہ کی بارگاہ میں جرأت اور بہادری کے تمغوں میں ڈھلتے جا رہے ہیں۔

    اللہم اغفر لہ وارحمہ وعافہ واعف عنہ واکرم نزلہ ووسع مدخلہ وادخلہ الجنہ الفردوس۔ آمین ثم آمین!

  • آغا نیاز مگسی اب ہم میں نہیں رہے

    آغا نیاز مگسی اب ہم میں نہیں رہے

    اناللہ وانا الیہ راجعون
    آغا نیاز مگسی اب ہم میں نہیں رہے دعائے مغفرت کی درخواست ہے

    سلسلہ پذیرائی ۔
    ادبی دیوان بلوچستان( ادب )پاکستان
    تحریر _ ڈاکٹر عبدالرشید آزاد
    شخصیت – آغا نیاز مگسی
    بلوچستان کے ادب کا اک روشن ستارہ پانچ زبانوں میں اظہار کرنے والے آغا نیاز مگسی ،معروف شاعر / کالم نگار/ ادیب / اور نثر نگار
    آغا نیاز مگسی 2 اپریل 1967کو شہدادکوٹ کے قریب بانڑی وانڈو میں پیدا ہوئے ان کے والد کا نام محمد حسن ہے اور ان ک تعلق بلوچ قوم کے مگسی قبیلے سے ہے ۔انہوں نے ابتدائی تعلیم گوٹھ سخی نذر محمد کٹوہر پرائمری سکول میں حاصل کی پھر ایک سال بعد نقل مکانی کرنی پڑی پھر 1975 میں اپنے چچا کے مدرسے میں داخل ہوئے جہاں سے عربی اور سندھی کی تعلیم حاصل کی اس کے بعد 1981 میں گورنمنٹ بوائز ہائی سکول قبوسعید خان میں جماعت ششم میں داخلہ لیا جہاں دو سال تعلیم حاصل کی۔
    1986 میں میٹرک کیا اور گورنمنٹ انٹر کالج شہدادکوٹ میں داخل ہوئے ۔
    1985 میں سندھی زبان میں شاعری کا آغاز ایک سندھی گیت سے کیا پھر 1988 کو غربت کی وجہ سے سیکنڈ ائیر میں تعلیم کو خیر آباد کہہ دیا ۔
    1989 میں اپنے مرحوم بھائی کی جگہ محکمہ ہیلتھ میں ڈسپینسر بھرتی ہوئے انہوں نے نصیر آباد کی تاریخ میں پہلی مرتبہ 1991 میں ریلوئے گراؤنڈ ڈیرہ مراد جمالی مشاعرے کا انعقاد کیا جس سے باقاعدہ ادبی سرگرمیوں کا آغاز ہوا
    1994 میں آغا نیاز مگسی نے کالم نگاری کی ابتداء کی اور ان کے تعلقات سیاست میں نواب اکبر خان بگٹی ،میر ظفر اللہ جمالی، سردار یار محمد رند، سردار زادہ شیر محمد رند ،میر ظہور حسین کھوسہ،رازق بگٹی ،میرجان محمد جمالی ،میر فائق جان جمالی ،میر خان محمد جمالی ،میر صادق عمرانی ،بابو محمد امین عمرانی ،میر مراد ابڑو ،سید فضل آغا ،میر اظہار حسین کھوسہ ،میر سلیم خان کھوسہ ،مولانا عبداللہ جتک ، صاحب زادہ سکندرسلطان ،میر احمدانی خان بگٹی ، سردار چنگیز خان ساسولی ،میر طارق حسین مسوری بگٹی ،میر ماجد ابڑو ،میر نظام لہڑی ،دریحان بگٹی سے ہوئے ۔بعد میں آپ نے 2018 میں کالم نگاری بھی چھوڑ دی ۔

    اسی طرح ادبی دنیا میں بھی ان کے روابط معروف ادبی شخصیات جن میں احمد فراز ،امجد اسلام امجد ،تابش دہلوی،نور محمد پروانہ ،راغب مراد ابادی ،محسن بھوپالی،عطاالحق قاسمی ،عطا شاد ،سلیم کوثر ،ذکیہ غزل ،رانا ناہید ،گلنار آفرین ،ڈاکٹر طاہر تونسوی،منظر ایوبی،احمد خان مدہوش ،اوریا مقبول جان ،رفیق راز ،ناگی عبدالرزاق خاور ،سید شرافت عباس ناز ،صلاح الدین ناسک ،عرفان احمد بیگ ،عابد شاہ عابد ،عرفان الحق صائم ،بیرم غوری کے ساتھ مشاعرے پڑھنے کا اعزاز بھی حاصل ہے ۔
    ان کے چھ بچے ہیں جن میں تین بیٹے اور تین بیٹیاں شامل ہیں آپ اردو ،سندھی،بلوچی ،براہوئیی ،اور سرائیکی یعنی پانچ زبانوں میں شاعری کرتے ہیں لیکن افسوس کہ ان کا ابھی تک کوئی شعری مجموعہ شائع نہیں ہو سکا کیونکہ غربت کی وجہ سے اتنے وسائل نہیں ہیں اور اتنے بڑے کنبے کے واحد کفیل ہیں ۔

    آغانیاز مگسی باغی ٹی وی میں بھی لکھتے رہے ہیں، باغی ٹی وی کے سی ای او مبشر لقمان سمیت ٹیم نے آغا نیاز مگسی کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے اور مرحوم کے لئے دعائے مغفرت کی ہے، لواحقین کے لئے صبر جمیل کی دعا کی ہے