Baaghi TV

Category: بلاگ

  • باغی ٹی وی، ہمارا محسن

    باغی ٹی وی، ہمارا محسن

    باغی ٹی وی، ہمارا محسن
    تحریر: حیدر علی صدیقی
    haidersiddiqui276@gmail.com
    سب سے پہلے تو باغی ٹی وی کے سی ای او اور میدانِ صحافت کی نڈر شخصیت جناب مبشر لقمان صاحب کو سالگرہ مبارک۔ اللہ ﷻ ان کی عمر دراز فرمائے۔امن و استحکام، حقوقِ انسانی اور علم و ادب کے لیے کوشاں پاکستان کے سب سے بڑے ڈیجیٹل نیٹ ورک باغی ٹی وی کو اپنی بہترین خدمات کے ساتھ 13 ویں سالگرہ مبارک۔

    باغی ٹی وی کے ساتھ میرا رشتہ اگست 2021ء میں ایکس (سابقہ ٹوئٹر) کے راستے سے قائم ہوا، جب باغی ٹی وی پر میرا پہلا کالم 9 اگست 2021ء کو شائع ہوا۔ تب سے میں اس فورم کے ساتھ جڑ گیا۔ بعد ازاں باغی ٹی وی کے پلیٹ فارم سے میرے کئی کالم شائع ہوتے رہے ہیں۔ میں دیگر باتوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے آج باغی ٹی وی کے حوالے سے بات کروں گا۔

    باغی ٹی وی پاکستان کا سب سے بڑا اور ملک گیر ڈیجیٹل نیٹ ورک ہے لیکن بایں ہمہ یہ پاکستان کے ہر ایک شہری کی توانا آواز ہے۔ امن و استحکام، حالاتِ حاضرہ، سائنس و ٹیکنالوجی، علم و ادب، جمہوریت و سیاست، ملکی و بین الاقوامی خبریں جیسے کثیر موضوعات باغی ٹی وی کا حصہ ہیں۔ باغی ٹی وی کی نشریات کئی زبانوں میں ہیں، جن میں اردو، پشتو، انگریزی، دری اور چینی شامل ہیں۔

    یہ پلیٹ فارم لکھاریوں کے لیے کتنا زبردست اور بہترین ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ آج کل نو آموز قلمکاروں اور لکھاریوں کے لیے کسی جریدے یا ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر اپنے خیالات اور تخلیقات شیئر کرنے کا موقع نہیں ملتا، لیکن باغی ٹی وی اس حوالے سے سب سے الگ ہے۔ اس نے ہر ایک کا خیرمقدم کیا اور اس کی آواز کو بلند کیا۔

    باغی ٹی وی نے نئے آنے والوں کو مایوس نہیں ہونے دیا بلکہ ان کو امید دلائی، ان کی حوصلہ افزائی کی، اور انہیں اپنے خیالات اور تخلیقات شیئر کرنے کا موقع فراہم کیا۔ یہ باتیں میں جذبات میں آ کر نہیں کہہ رہا بلکہ میں خود اس صورتحال سے گزر چکا ہوں۔ جب میرا پہلا کالم باغی ٹی وی پر شائع ہوا تھا تو اس وقت کی خوشی دیدنی تھی، جسے اب میں الفاظ میں بیان کرنے سے قاصر ہوں۔ باغی ٹی وی اور اس کی انتظامیہ کی یہی وسیع ظرفی تھی جس نے راقم کو حوصلہ دلایا۔ تب سے باغی ٹی وی اور اس کی انتظامیہ کو میں اپنے محسنوں میں شمار کرتا ہوں۔

    باغی ٹی وی درست اور سچ مواد شریک کرنے کا ملک کا سب سے بڑا ڈیجیٹل اور عوامی پلیٹ فارم ہے۔ نو آموز قلمکار حضرات اپنی صحیح اور درست مواد عوام سے شیئر کرنے کے لیے باغی ٹی وی کا رخ کریں اور اپنی آواز کو توانا بنائیں۔

    باغی ٹی وی کی بات چلی تو اس موقع پر باغی ٹی وی کے ایڈیٹر جناب ممتاز حیدر اعوان صاحب کے بارے میں کچھ نہ کہنا زیادتی اور نا انصافی ہوگی۔ ممتاز حیدر صاحب ایک ملک گیر فورم کے ایڈیٹر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک سادہ، انسان دوست اور ملنسار انسان ہیں۔ ایک بڑے ڈیجیٹل نیٹ ورک کے ایڈیٹر ہونے کے ناطے آپ ان کی مصروفیات کو سمجھ سکتے ہیں، لیکن بایں ہمہ آپ بہترین اخلاق و صفات کے مالک انسان ہیں۔ ہماری نہ کبھی ملاقات ہوئی ہے، نہ ہمارے درمیان باغی ٹی وی کے علاوہ کوئی رشتہ ہے۔ لیکن ایک جونیئر کالم نگار ہونے کی حیثیت سے اگر باغی ٹی وی کے حوالے سے کوئی بات پیش آئی، کوئی سوال پیش آیا، تو ممتاز صاحب نے انتہائی محبت اور سنجیدگی کے ساتھ رہنمائی فرمائی۔

    خیر! بات لمبی چوڑی ہوتی جا رہی ہے۔ اللہ کرے کہ باغی ٹی وی کی خدمات اور کامیابی کا یہ سفر تا دیر جاری و ساری رہے۔ آمین۔
    سالگرہ مبارک باغی ٹی وی۔

  • چولستانی گندی: ثقافت اور کفایت شعاری کا شاہکار

    چولستانی گندی: ثقافت اور کفایت شعاری کا شاہکار

    چولستانی گندی: ثقافت اور کفایت شعاری کا شاہکار
    ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    altafkhandahir@gmail.com
    چولستان اور سندھ کی ثقافت کا ایک نمایاں پہلو "چولستانی گندی” ہے، جو نہ صرف کفایت شعاری بلکہ خوبصورت روایتی ہنر کا بہترین نمونہ ہے۔ یہ گندی، جو کپڑے کے اضافی ٹکڑوں سے بنائی جاتی ہے، نہ صرف گھریلو ضروریات کو پورا کرتی ہے بلکہ مقامی ثقافت اور روایات کی دلکش علامت بھی ہے۔ چولستانی گندی کو بنانے کا عمل ان خواتین کی ہنر مندی اور محنت کا عکاس ہے جو اپنے محدود وسائل میں بے مثال تخلیقی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ گھروں میں بچ جانے والے کپڑوں کے ٹکڑوں کو بڑی مہارت سے جوڑ کر یہ گندی تیار کی جاتی ہے، جو نہ صرف خوبصورت ہوتی ہے بلکہ پائیداری کی ایک عمدہ مثال بھی پیش کرتی ہے۔

    روہی چولستان کی خواتین اپنی محنت، لگن اور کفایت شعاری کی علامت ہیں۔ وہ گھروں میں استعمال شدہ اضافی کپڑوں کو ضائع کرنے کے بجائے انہیں خوبصورت شاہکار میں تبدیل کرتی ہیں۔ یہ گندیاں نہ صرف چارپائیوں پر بچھانے کے کام آتی ہیں بلکہ مہمانوں کے لیے زمین پر قالین کی جگہ استعمال کی جاتی ہیں۔ ان گندیوں کی تیاری کا عمل نہ صرف گھریلو معیشت کو مستحکم کرتا ہے بلکہ خواتین کی تخلیقی صلاحیتوں کو بھی نکھارتا ہے۔ شادی بیاہ اور دیگر خوشی کے مواقع پر یہ گندیاں تحفے کے طور پر دی جاتی ہیں، جو محبت، خلوص اور ثقافتی ورثے کی علامت ہوتی ہیں۔

    چولستانی ثقافت کا یہ پہلو ماضی کی جھلک بھی پیش کرتا ہے، جب خاندانوں میں اتحاد اور محبت کا اظہار ان گندیوں کے ذریعے کیا جاتا تھا۔ نورپور نورنگا کی پرانی یادیں اس بات کی گواہ ہیں کہ دادی اماں اور بوا اماں نئی دلہنوں اور نومولود بچوں کے لیے خوبصورت گندیاں تیار کرتیں۔ یہ عمل نہ صرف محبت اور خلوص کو فروغ دیتا تھا بلکہ خواتین کی ہنرمندی اور اتحاد کی علامت بھی تھا۔ خواتین رل مل کر دلہنوں کے جہیز میں گندیاں شامل کرتیں، جو ان کے خلوص اور کفایت شعاری کا بہترین ثبوت ہوتا تھا۔

    چولستانی گندی کی اہمیت نہ صرف گھریلو زندگی تک محدود ہے بلکہ یہ مقامی معیشت کے لیے بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اگر حکومت وقت اس ہنر کی سرپرستی کرے اور ڈیراور قلعے جیسے مقامات پر خواتین کے لیے تربیتی ادارے قائم کرے، تو یہ نہ صرف مقامی معیشت کو مضبوط کرے گا بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کے ثقافتی ورثے کو اجاگر کرے گا۔ اس اقدام سے مقامی خواتین کو اپنے ہنر کو بہتر بنانے اور اپنی آمدنی میں اضافے کے مواقع ملیں گے۔

    سرائیکی قدرتی حسین و جمیل خوبصورت روہی چولستانی خطے کی گندی نہ صرف رنگوں سے محبت کی علامت ہے بلکہ یہ کفایت شعاری اور گھریلو معیشت کو بہتر بنانے کا ایک موثر ذریعہ بھی ہے۔ اس کے ذریعے خواتین نہ صرف اضافی کپڑوں کا بہترین استعمال کرتی ہیں بلکہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا بھی مظاہرہ کرتی ہیں۔ ان گندیوں کی تیاری سے خواتین کے اندر کفایت شعاری اور خود انحصاری کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، جو کہ ایک خوشحال معاشرے کی بنیاد ہے۔

    مذہب اسلام سمیت تمام مذاہب سادہ اور آسان زندگی کو خوشحالی کا راز سمجھتے ہیں۔ چولستانی گندی اسی اصول کی عملی مثال پیش کرتی ہے۔ یہ خواتین اپنی محدود آمدنی کو بڑی حکمت اور مہارت سے استعمال کرتی ہیں اور اپنی زندگیوں کو خوشحال بناتی ہیں۔ اگر حکومت ان ہنر مند خواتین کو مراعات دے اور ان کی بنائی ہوئی مصنوعات کو عالمی منڈی تک رسائی فراہم کرے، تو نہ صرف ان کی زندگیوں میں بہتری آئے گی بلکہ پاکستان کی معیشت کو بھی فائدہ ہوگا۔

    چولستانی گندی نہ صرف کفایت شعاری بلکہ ثقافتی استحکام کی بھی ایک مثال ہے۔ ہمیں اس خوبصورت ہنر پر فخر کرنا چاہیے اور اس کی ترقی کے لیے بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔ کیونکہ کفایت شعاری اور سادگی ہی کامیاب زندگی کی اصل کنجی ہیں۔ چولستان کی رنگین ثقافت اور اس کے باسیوں کی محنت کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ یہ ورثہ ہمیشہ زندہ رہے اور نئی نسلوں کے لیے مشعل راہ بنے۔

  • الحمد للہ رب العالمین 2024.تحریر:قرۃالعین خالد(سیالکوٹ)

    الحمد للہ رب العالمین 2024.تحریر:قرۃالعین خالد(سیالکوٹ)

    ہر صبح ایک نئی امید لے کر آتی ہے۔ جب سے یہ کائنات معرضِ وجود میں آئی ہے امید بھی تبھی سے وجود میں آئی ہے۔ مومن اپنے رب کی ذات سے کبھی مایوس نہیں ہوتا۔ وقت کبھی بھی کسی کے لیے نہیں رکتا وقت کا کام تو بس چلنا ہے اور وہ چلتا ہی رہتا ہے۔ حالات کے تھپیڑے ہوں یا مشکلات کی آندھیاں چلیں، خوشیوں کی بارات ہو یا غموں کی برسات ہو، وقت کا پہیہ گھومتا رہتا ہے۔ کیلنڈر کے صفحات کی طرح ماہ و سال بدلتے رہتے ہیں۔ سال 2024 بچھڑ گیا اور سال 2025 کا کیلنڈر دیواروں کی زینت بن گیا۔ یہ دنیا اور اس کی ہر شے فانی ہے۔ نہ غم ذیادہ دیر کہیں ٹھہر سکتا ہے نہ خوشیاں کہیں مستقل بسیرا کر سکتی ہیں۔ دن رات کا بدلنا، موسموں کا تغیر اس بات کی دلیل ہے کہ گزرا وقت کبھی واپس نہیں آتا۔ پر سکون زندگی کا ایک راز یہ بھی ہے جو گزر گیا اس پر شکر ادا کریں اور جو آنے والا ہے اس کی امید اچھی رکھیں۔

    سال 2024 کو اگر پیچھے مڑ کر دیکھوں تو بہت کچھ کھویا بہت کچھ پایا۔ زندگی کی تلخ حقیقتوں میں سے یہ حقیقت ویسے ہی ہے جیسے فلک پر چمکتا چاند اور روشن ستارے کہ دکھوں کا ساتھی رب العزت کے سوا کوئی نہیں ہوتا اور خوشیوں کے ساتھی سبھی ہوتے ہیں۔

    میں قرۃالعین خالد آپ کو اپنے غموں کے قصے نہیں سناؤں گی کیونکہ میں چاہتی ہوں کہ آپ میرے ساتھی رہیں۔ 7 جنوری 2024 کو میری عیشتہ الراضیہ کی پاکٹ سائز کتاب "فرسٹ ایڈ باکس” میرے ہاتھوں میں آئی۔ فروری میں لاہور ایکسپو سینٹر بچوں کے ساتھ کتب میلہ گئی اور وہاں بہت سے نئے افراد سے ملنے کا موقع ملا۔ اللّہ رب العزت نے ایک نیا جہاں میرے لیے آباد کر دیا۔ پیاری عیشہ نے نئے جہاں میں قدم رکھا نیا اسکول نئے دوست بنے۔ بلیک کاسٹل سے کڈز کلب کا سفر اگرچہ عیشہ کے لیے دشوار تھا مگر رب کی رحمت سے یہ سفر بھی آسان ہو گیا۔ کامیابیوں کے لیے نئے جہاں دریافت کرنے کرتے ہیں۔ اپووا خواتین کانفرنس نے مارچ کے مہینے کو ہمیشہ کے لیے میری یادوں میں محفوظ کر دیا۔ مجھے ہمیشہ نئے لوگوں سے ملنا پسند ہے نئی دوستیاں کرنا اچھا لگتا ہے۔ مارچ میں” تسخیرِ کائنات” نے اس دنیا میں آنکھ کھولی۔ اے اللہ رب العزت! میری "تسخیرِ کائنات” کو خوب عزت بخشنا۔ آمین!

    اپریل میں سعدین کے لیے منصوبہ بندی کی اور مئی کے آغاز میں رمضان کے بابرکت مہینے میں سعدین کی بنیاد رکھی۔ زندگی نے بڑے تجربات کرنے کا موقع فراہم کیا۔ پہلی بار پروفیشنل کیمرے کا سامنا کیا اور پروگرام ہوسٹ کرنے کا موقع رب العزت نے عطا کیا۔ اس فانی دنیا میں اپنا گھر اللّہ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ جون 2024 کو اللّٰہ پاک نے ہمیں اس نعمت سے نوازا جس پر میں رب کا جتنا شکر ادا کروں کو کم ہے۔ کرایے کے اذیت ناک سفر سے اپنے گھر تک کی راحت کوئی اس انسان سے پوچھے جس کے پاس اپنی چھت نہیں۔ اللہ پاک سب کو اپنا گھر نصیب فرمائے اس میں خوشیوں اور سلامتی کے ساتھ رہنا نصیب کرے آمین۔

    اس وقت میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا جب 6 جولائی کو اپووا ٹیم میرے گھر میں آئی۔ میرے گھر میں آنے والے پہلے مہمان آپ ہی تھے۔ مجھے چائے بنانی نہیں آتی مگر میں نے بنائی اور سب سے مزے کی بات مدیحہ کنول آج بھی کہتی ہے چائے بہت مزے کی تھی۔ ہائے کوئی میرے چاہنے والوں کو بھی بتائے کہ چائے مزے کی تھی۔ سعدین انسٹیٹیوٹ کے تحت امید سیریز کا آغاز جولائی میں کیا۔ اگست میں نفیس کیڈٹ اکیڈمی میں تربیت اولاد کے حوالے سے سیشن ہوا۔ جس میں میری والدہ اور میری پیاری بہن دوست ماہ پارہ میری معاون رہیں۔ ستمبر تومجھے بہت عزیز ہے میری پیدائش کا مہینہ، اکتوبر میری شادی کا مہینہ، واہ واہ دونوں مہینے ساتھ ساتھ ،نومبر میں اپووا ورکشاپ کی مزے دار کی تیاریاں اور اس سال نیا تجربہ کہ ایک سگمینٹ کو اسپانسر کرنے کا موقع ملا۔ مجھے گفٹ دینا بہت پسند ہے الحمدللہ!

    نومبر میں حور کا اچانک آنا نومبر کو باغ و بہار کر گیا۔ کون کہتا ہے دسمبر اداس ہوتا ہے ہائے میرا تو بہت شور شرابے والا تھا بچوں کی اسکول کی چھٹیاں اور ہر سو ہنگامے ہی ہنگامے دسمبر میں ایک بار پھر اپووا ٹیم سے ملنے کا موقع ملا۔

    عزت اور ذلت اللّٰہ کے اختیار میں ہے پھر بھی پتہ نہیں کچھ لوگ اسے اپنا اختیار کیوں سمجھتے ہیں۔ اس سال میری پیاری بیٹی حورالعین نے میٹرک کا امتحان پاس کیا اس کا داخلہ کیڈٹ کالج میں ہوا ،میرا ابراہیم بھی اسکول جانے لگ گیا۔ حافظ وقاص صاحب کے پیچھے تراویح پڑھنے ایک الگ احساس کا نام ہے یا اللہ! تیرا شکر ہے۔ اس بار ہم نے بچوں کے ساتھ آخری روزے اور عید اسکردو ہنزہ گلگت بلتستان میں کی وہ ایک الگ کہانی ہے اور عید الاضحی سوات میں کرنے کا الگ ہی مزہ تھا۔ لکھنے لکھانے کا سلسلہ بھی اللہ نے چلائے رکھا اس سال میں نے اپنی سوئی ہوئی کیلی گرافی کو پھر سے زندہ کیا۔ ناول لکھنے کی طرف توجہ کی کئی ایوارڈ عزت حاصل کی۔ میری سرجری ہوئی اور کچھ رشتوں پر سے پردہ اٹھا۔ ارے میں تو بتانا بھول گئی ایک اہم بات سوچا جاتے جاتے بتا دوں اس سال لوگوں کے دھوکے پیسوں کے فراڈ جھوٹ فریب حسد کینہ بغض بھی دیکھے لیکن ان جیسے لوگوں کو یہ بتا دوں مجھے آپ کی ان حرکتوں سے کوئی فرق نہیں پڑا جنہوں نے پیسوں یا جذبات کا فراڈ کیا ہے وہ ہی غریب رہیں گے ان شاءاللہ! میرے پاس تو پھر بھی سب کچھ ہے۔ جنہوں نے محبتوں اور عزت سے نوازا اللہ پاک ان کی عزتوں میں اضافہ فرمائے جنہوں نے دھوکے دئیے ان کا بہت شکریہ وہ نہ ہوتے تو مجھے سیکھنے کا موقع نہ ملتا.

    باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ، ایک یادگار سفر،تحریر :نورفاطمہ

    باغی ٹی وی،ڈیجیٹل میڈیا کا معتبر اور بااثر پلیٹ فارم،سالگرہ مبارک،تحریر:حنا سرور

    "باغی کے ظلم کے خلاف بغاوت کے 13 برس”تحریر:اعجازالحق عثمانی

    باغی ٹی وی،پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کا محافظ، تحریر: ملک ارشد کوٹگلہ

    باغی ٹی وی کا کامیاب سفر،13ویں سالگرہ

  • باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ، ایک یادگار سفر،تحریر :نورفاطمہ

    باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ، ایک یادگار سفر،تحریر :نورفاطمہ

    آج، باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ کا دن ہے اور مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ میں گزشتہ دو برسوں سے باغی ٹی وی کی ٹیم کا حصہ ہوں۔ یہ میرے لئے نہ صرف ایک پروفیشنل کامیابی ہے بلکہ ایک ذاتی سفر بھی ہے جس نے میری زندگی اور کیریئر کو نئی سمت دی۔

    جب میں پہلی بار باغی ٹی وی کے دفتر میں انٹرویو دینے گئی، تو میرے لئے یہ ایک نیا تجربہ تھا۔ میں بے حد پرجوش اور نروس تھی، لیکن سینئر صحافی اور باغی ٹی وی کے سی ای او، محترم مبشر لقمان صاحب سے ملاقات نے میرے تمام خوف کو دور کیا۔ ان کا پرسکون اور پروفیشنل انداز، ساتھ ہی ساتھ انہوں نے جو مختصر انٹرویو لیا، وہ ایک یادگار لمحہ تھا۔ چند منٹ بعد ہی ایڈیٹر باغی ٹی وی، سرممتاز اعوان کی جانب سے خوشخبری آئی کہ میری جاب کنفرم ہو چکی ہے۔ یہ لمحہ میرے لئے ایک خواب کی طرح تھا، کیونکہ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ اس طرح ایک معروف اور کامیاب ادارے کا حصہ بنوں گی۔

    میرے لئے یہ فخر کی بات ہے کہ مجھے باغی ٹی وی کی سوشل میڈیا ٹیم کا حصہ بنایا گیا۔ میری ذمہ داری میں فیس بک پیجز، ٹویٹر، انسٹاگرام، اور ٹک ٹاک پر باغی ٹی وی کے لنکس اور پوسٹرز کی شیئرنگ شامل تھی، جسے میں انتہائی محنت اور لگن کے ساتھ انجام دے رہی ہوں۔ابتدا میں میرے کام کو دیکھنے کے بعد میری ذمہ داری بڑھا دی گئی، سوشل میڈیا کے لئے پوسٹر بنانا بھی میرے ذمے لگ گیا، میں اب شیئرنگ کے ساتھ ساتھ پوسٹرز بھی بناتی ہوں، اس کام کے دوران مجھے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا، خاص طور پر سر عبداللہ، جو کہ سوشل میڈیا کے ہیڈ ہیں، ان کی رہنمائی سے بہت فائدہ اٹھایا ہے۔ ان کی مشورے اور ہدایات نے میری کارکردگی کو بہتر بنایا اور مجھے سوشل میڈیا کی دنیا میں ایک نئی شناخت دلائی۔

    سوشل میڈیا ایکٹوسٹ تو میں پہلے بھی تھی، لیکن باغی ٹی وی میں آنے کے بعد میں نے اس شعبے میں نہ صرف مہارت حاصل کی بلکہ اس کا عملی تجربہ بھی کیا۔ دن ہو یا رات، کوئی بھی وقت ہو، باغی ٹی وی کی ٹیم ہمیشہ متحرک رہتی ہے۔ یہاں کی ٹیم کی محنت اور لگن بے مثال ہے، اور یہ بات میں ہمیشہ محسوس کرتی ہوں۔ جب بھی کوئی اضافی کام آتا ہے یا کوئی چیلنج ہوتا ہے، میں اپنے وقت سے زیادہ کام اور وہ بھی مکمل ایمانداری سے کرتی ہوں اور اسے اپنی ذمہ داری سمجھتی ہوں

    سر مبشر لقمان کے وی لاگ کا میں پہلے بھی شوق سے مطالعہ کرتی تھی اور ان کے سوشل میڈیا پر کمنٹس بھی کرتی رہتی تھی۔ جب ان کی ٹیم کا باقاعدہ حصہ بنی تو یہ میرے لئے ایک فخر کا لمحہ تھا۔ ان کا طرزِ عمل، ان کی قیادت، اور ان کے نظریات نے مجھے ہمیشہ متاثر کیا ہے۔ ان کے ساتھ کام کرنا ایک خواب کی حقیقت بن گیا، اور میں ہمیشہ ان کی رہنمائی سے فائدہ اٹھاتی ہوں۔

    آج، جب باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے، تو میں سر مبشر لقمان سمیت تمام ٹیم کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دیتی ہوں۔ میری دعا ہے کہ باغی ٹی وی کو مزید کامیابیاں حاصل ہوں اور یہ ادارہ اپنے مشن اور مقصد کی تکمیل میں ہمیشہ کامیاب رہے۔ آمین۔یہ سفر ابھی جاری ہے، اور میں امید کرتی ہوں کہ میں ہمیشہ اسی طرح باغی ٹی وی کے ساتھ اپنے تجربات کو مزید بہتر بناتی رہوں گی۔ باغی ٹی وی کے 13 سال پورے ہونے پر ایک نیا عزم اور جذبہ محسوس ہوتا ہے، اور میں دعا گو ہوں کہ یہ ادارہ ہمیشہ اپنے اصولوں اور وژن کے مطابق کامیابی کی بلندیوں تک پہنچے۔

    باغی ٹی وی،ڈیجیٹل میڈیا کا معتبر اور بااثر پلیٹ فارم،سالگرہ مبارک،تحریر:حنا سرور

    باغی ٹی وی،پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کا محافظ، تحریر: ملک ارشد کوٹگلہ

    "باغی کے ظلم کے خلاف بغاوت کے 13 برس”تحریر:اعجازالحق عثمانی

    باغی ٹی وی کا کامیاب سفر،13ویں سالگرہ

    noor

  • باغی ٹی وی،ڈیجیٹل میڈیا کا معتبر اور بااثر پلیٹ فارم،سالگرہ مبارک،تحریر:حنا سرور

    باغی ٹی وی،ڈیجیٹل میڈیا کا معتبر اور بااثر پلیٹ فارم،سالگرہ مبارک،تحریر:حنا سرور

    پاکستانی میڈیا کی دنیا میں باغی ٹی وی ایک ایسا نام ہے جس نے اپنی غیرجانبدارانہ صحافت اور سچائی پر مبنی رپورٹنگ سے اپنا مقام بنایا ہے۔ اس کی بنیاد سینئر صحافی اور اینکر پرسن مبشر لقمان نے رکھی تھی، جنہوں نے اپنے طویل تجربے اور صحافتی مہارت کو اس چینل کی بنیاد فراہم کی۔ باغی ٹی وی کا مقصد صرف خبریں فراہم کرنا نہیں بلکہ عوام کو ان مسائل کی حقیقت تک پہنچانا ہے جو ان کی زندگیوں پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔باغی ٹی وی کا مقصد پاکستانی عوام کو درست اور بے باک خبریں فراہم کرنا تھا۔ چینل نے اپنے آغاز سے ہی اس بات کو یقینی بنایا کہ وہ عوام تک سچ پہنچانے کے لیے تمام ممکنہ وسائل استعمال کرے گا۔ مبشر لقمان، جو خود ایک معروف صحافی اور اینکر ہیں، نے باغی ٹی وی کو متعارف کراتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ صحافت کا مقصد عوام کو غیرجانبدار اور حقیقت پر مبنی خبریں فراہم کرنا ہے۔باغی ٹی وی نے نہ صرف پاکستان کے اندر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اپنے دیکھنے والوں کو ایک منفرد اور معتبر پلیٹ فارم فراہم کیا ہے۔ چینل کی پالیسی کے مطابق، صحافتی آزادی اور سچائی کو اہمیت دی جاتی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ اس نے پاکستانی میڈیا کے منظرنامے میں ایک منفرد مقام حاصل کیا ہے۔

    باغی ٹی وی کا ایک اور اہم پہلو اس کی ملک بھر میں موجود نمائندگی ہے۔ چینل نے مختلف صوبوں اور شہروں میں اپنے نمائندے تعینات کیے ہیں تاکہ وہ مقامی سطح پر ہونے والی سرگرمیوں، سیاسی تبدیلیوں اور عوامی مسائل کی رپورٹنگ کر سکیں۔ اس کی مقامی سطح پر موجودگی نے اسے ایک مضبوط نیٹ ورک فراہم کیا ہے، جس کی مدد سے وہ اپنے ناظرین تک فوراً اور بر وقت خبریں پہنچا سکتا ہے۔چینل کی یہ نمائندگی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ باغی ٹی وی کی پہنچ صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں بلکہ یہ پاکستان کے دور دراز علاقوں تک بھی اپنی آواز پہنچا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ باغی ٹی وی نہ صرف شہروں میں بلکہ دیہاتوں میں بھی اپنے ناظرین کی ایک بڑی تعداد رکھتا ہے۔باغی ٹی وی نے پاکستانی صحافیوں کو ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کیا ہے جہاں وہ اپنی صلاحیتوں کو ظاہر کر سکتے ہیں۔ چینل نے ہمیشہ نئے صحافیوں کو موقع دیا ہے کہ وہ آزادانہ طور پر تحقیق کریں، خبریں جمع کریں اور اپنی رپورٹنگ کی مہارت کو بروئے کار لائیں۔ اس پلیٹ فارم نے نہ صرف تجربہ کار صحافیوں کو جگہ دی ہے بلکہ نئے آنے والے صحافیوں کے لیے بھی ایک بہترین موقع فراہم کیا ہے تاکہ وہ اس چینل کے ذریعے اپنی صحافتی صلاحیتوں کو بہتر کر سکیں۔باغی ٹی وی نے صحافیوں کے لیے ایک ایسا ماحول فراہم کیا ہے جہاں وہ بغیر کسی خوف یا دباؤ کے اپنے خیالات اور خیالات کا اظہار کر سکتے ہیں۔ یہاں صحافیوں کو اپنے کام کے لیے مکمل آزادی دی جاتی ہے اور ان کی محنت کو سراہا جاتا ہے، جس سے چینل کا معیار مزید بلند ہوتا ہے۔

    چینل کی رپورٹنگ صرف خبروں تک محدود نہیں ہے بلکہ باغی ٹی وی نے عوامی معاملات، سیاست، معیشت اور معاشرتی مسائل پر بھی گہری نظر رکھی ہے۔ اس چینل پر تجزیاتی پروگرامز اور رپورٹس عوامی مسائل کی گہری سمجھ فراہم کرتے ہیں اور انہیں موجودہ حالات میں بہتر فیصلے کرنے کے لیے مدد فراہم کرتے ہیں۔ اس کے تجزیے اور رپورٹنگ کا انداز بے باک اور حقیقت پر مبنی ہوتا ہے، جو ناظرین کو مکمل طور پر مطمئن کرتا ہے۔باغی ٹی وی کی مقبولیت وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی جا رہی ہے۔ اس کا مواد اور رپورٹس عوام میں ایک منفرد شناخت بنا چکے ہیں۔ اس کی رپورٹنگ نے اسے عوام کے درمیان ایک معتبر پلیٹ فارم بنایا ہے، جہاں لوگ بغیر کسی دباؤ کے حقیقت کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ چینل کی مقبولیت میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ اس کی شفافیت اور سچائی کی پختہ پالیسی ہے۔

    باغی ٹی وی نے پاکستانی میڈیا کے منظرنامے میں اپنی ایک منفرد پہچان بنائی ہے۔ سینئر صحافی مبشر لقمان کی قیادت میں اس نے صحافت کے معیار کو بلند کیا ہے اور پاکستانی عوام کو سچ اور حقیقت پر مبنی خبریں فراہم کی ہیں۔ چینل کی ملک بھر میں نمائندگی اور صحافیوں کے لیے بہترین پلیٹ فارم کا ہونا اس کی کامیابی کے اہم ستون ہیں۔ باغی ٹی وی نہ صرف ایک چینل ہے بلکہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں صحافت کی آزادی اور سچائی کو فوقیت دی جاتی ہے

    باغی ٹی وی پر میرے بھی بلاگز باقاعدگی سے شائع ہو رہے ہیں، میں باغی ٹی وی کی تیرہویں سالگرہ پر ان کو مبارک باد پیش کرتی ہوں،یہ نہ صرف ایک میڈیا ادارے کی کامیابی کا دن ہے بلکہ صحافت کے میدان میں اس کے اہم کردار اور بے مثال خدمات کا اعتراف بھی ہے۔باغی ٹی وی نے اپنی جراتمندانہ صحافت حقائق پر مبنی رپورٹنگ اور بے لاگ تجزیوں کے زریعے عوام کے دلوں میں اپنی جگہ بنائی ہے۔اس نے ہمیشہ سچائی اور انصاف کے لیے اپنی آواز بلند کی۔اور اپنے نام کی لاج رکھتے ہوئے ہر موقع پر ظلم، ناانصافی کے خلاف بغاوت کے جذبے کو زندہ رکھا۔

    میں دعاگو ہوں باغی ٹی وی کا یہ سفر مزید کامیابیوں ترقیوں اور خوشحالی سے بھرپور رہے۔آپ اسی طرح حق و سچ کی نمائندگی کرتے رہیں اور صحافت کی دنیا میں نئی مثالیں قائم کرتے رہیں۔سالگرہ کے اس خوشگوار موقع پر باغی ٹی وی کی پوری ٹیم کو ڈھیروں مبارکباد اور نیک تمنائیں

    باغی ٹی وی،پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کا محافظ، تحریر: ملک ارشد کوٹگلہ

    "باغی کے ظلم کے خلاف بغاوت کے 13 برس”تحریر:اعجازالحق عثمانی

    باغی ٹی وی کا کامیاب سفر،13ویں سالگرہ

    مبشر لقمان کی 62ویں سالگرہ، کھرا سچ اور باغی ٹی وی کی جانب سے تقریب کا انعقاد

    بے باک صحافت کی ایک روشن مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

    میدان صحافت میں جرات کی مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

  • باغی ٹی وی،پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کا محافظ، تحریر: ملک ارشد کوٹگلہ

    باغی ٹی وی،پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کا محافظ، تحریر: ملک ارشد کوٹگلہ

    آج باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے، جو پاکستانی ڈیجیٹل میڈیا میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو چکی ہے۔ باغی ٹی وی نہ صرف ایک خبر رساں ادارہ ہے بلکہ یہ پاکستان میں مثبت صحافت، سچائی کی آواز، اور وطن عزیز کے دفاع کے حوالے سے ایک مضبوط ستون کے طور پر اپنی شناخت بنا چکا ہے۔ اس کی کامیابی کا راز اس کی معیاری اور سچ پر مبنی خبریں، تجزیے اور تجزیاتی پروگرامز میں پوشیدہ ہے، جو عوام کے درمیان اعتماد اور سچائی کے لئے ایک معتبر ذریعہ بنے ہیں۔باغی ٹی وی کا آغاز پاکستان میں ایک ایسے وقت میں ہوا جب ڈیجیٹل میڈیا کی اہمیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا۔ اس چینل نے نہ صرف پاکستان کے بڑے شہروں بلکہ دور دراز علاقوں میں بھی اپنی موجودگی کو یقینی بنایا ہے۔ باغی ٹی وی کی خبریں ہمیشہ سچ پر مبنی اور غیر متنازعہ ہوتی ہیں، جس سے عوام میں ایک مثبت اور حقیقت پر مبنی آگاہی پیدا ہوتی ہے۔

    باغی ٹی وی کے سی ای او، مبشر لقمان نے اپنی محنت اور قابلیت سے اس چینل کو ایک نئی شناخت دی ہے۔ ان کی قیادت میں، باغی ٹی وی نے نہ صرف مقامی بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنی موجودگی کو مضبوط کیا ہے۔ مبشر لقمان کے صحافتی تجربے اور عزم نے اس ادارے کو پاکستانی میڈیا کی دنیا میں ایک معتبر مقام دلایا ہے۔باغی ٹی وی کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ یہ ہمیشہ سچائی کی آواز بن کر اُبھرا ہے۔ اس نے کبھی بھی کسی غیر اخلاقی یا جھوٹی خبر کی نشر کی اجازت نہیں دی، بلکہ ہر خبر کے پیچھے سچائی اور تحقیق کا سہارا لیا ہے۔ اس کے علاوہ، باغی ٹی وی پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کی محافظ کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ جب بھی پاکستان دشمن عناصر نے ملک کے خلاف پروپیگنڈہ شروع کیا، باغی ٹی وی نے ہمیشہ ان کے جھوٹ کو بے نقاب کیا اور وطن عزیز کی سالمیت کا دفاع کیا۔

    باغی ٹی وی نہ صرف قومی سطح پر بلکہ علاقائی مسائل کو بھی اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کے ملک بھر کے مختلف شہروں میں نمائندے ہیں جو مقامی مسائل کو عالمی سطح پر پیش کرتے ہیں۔ یہ چینل نہ صرف بڑے شہروں کی خبریں دکھاتا ہے بلکہ دور دراز علاقوں کے عوامی مسائل کو بھی اُجاگر کرتا ہے، تاکہ ان مسائل پر توجہ دی جا سکے۔باغی ٹی وی کو ایک سپاہی کا کردار ادا کرنے والا ادارہ کہا جا سکتا ہے۔ اس کے ہر نمائندے نے وطن عزیز کی حرمت کے لئے اپنے قلم کو ہتھیار بنایا ہوا ہے۔ یہ چینل ملکی دفاعی امور، دہشت گردی کے خلاف جنگ، اور پاکستان کے جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کے تحفظ کے لئے بھی آواز اُٹھاتا رہتا ہے۔

    آج باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ پر، ہم سب کو اس کی کامیابیوں اور اس کے صحافتی اصولوں کو سراہتے ہیں، سینئر صحافی اور سی ای او باغی ٹی وی مبشر لقمان نے باغی ٹی وی پر ہمیشہ سچائی، ایمانداری اور ملکی مفادات کو اولین ترجیح دی ہے، اور ان کے اس عزم نے اسے پاکستان میں ایک مضبوط صحافتی ادارہ بنا دیا ۔ آئندہ بھی یہ چینل اپنی اس روش پر گامزن رہے گا، اور پاکستان کی خدمت میں اپنی آواز بلند کرتا رہے گا۔

    malik arshad

    "باغی کے ظلم کے خلاف بغاوت کے 13 برس”تحریر:اعجازالحق عثمانی

    باغی ٹی وی کا کامیاب سفر،13ویں سالگرہ

    مبشر لقمان کی 62ویں سالگرہ، کھرا سچ اور باغی ٹی وی کی جانب سے تقریب کا انعقاد

  • "باغی کے ظلم کے خلاف بغاوت کے 13 برس”تحریر:اعجازالحق عثمانی

    "باغی کے ظلم کے خلاف بغاوت کے 13 برس”تحریر:اعجازالحق عثمانی

    جس کا قلم، حق کے اظہار کا ہتھیار بنا اور لفظوں نے ظلم کے خلاف بغاوت کا نعرہ بلند کیا۔ آج اس باغی کی 13ویں سالگرہ ہے۔باغی ٹی وی ایک ایسا ادارہ ہے جو تیرہ سال قبل حق اور صداقت کی شمع تھامے میدانِ صحافت میں اترا۔ مبشر لقمان جیسے مایہ ناز صحافی کی سرپرستی میں یہ ادارہ ایک ایسے شجر کی مانند پروان چڑھا جو اپنی جڑیں حق و انصاف کی مٹی میں گاڑ چکا ہے۔ آج، تیرہ برس کی شب و روز محنت اور کاوشوں کے بعد، باغی ٹی وی اپنی13ویں سالگرہ منا رہا ہے اور یہ جشن صرف ایک ادارہ کے 13 برسوں کی تکمیل کا نہیں، بلکہ یہ ان تمام جدوجہد اور کاوشوں کا اعتراف ہے جو حق کی آواز کو دبانے کی ہر کوشش کے خلاف کی گئیں۔

    سن 2021 میں جب میرا قلم باغی ٹی وی کے لیے چلنا شروع ہوا، تو یہ محض ایک اتفاق تھا، لیکن ممتاز اعوان صاحب جیسے مخلص ایڈیٹر کی سرپرستی نے اس سفر کو میری زندگی کا ایک اہم حصہ بنا دیا۔ میری پہلی تحریر جب باغی ٹی وی کی ویب سائٹ پر شائع ہوئی، تو وہ صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ میرے خوابوں کی جیت تھی۔ اس کے بعد، باغی ٹی وی نے میرے ہر مضمون، ہر تحریر کو جگہ دی، چاہے وہ حکومت کے حق میں ہو یا خلاف۔ یہ آزادی اور غیر جانبداری اس ادارے کی سب سے بڑی خوبی ہے۔

    باغی سے 4 سالہ رفاقت کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ باغی ٹی وی فقط ایک صحافتی ادارہ نہیں بلکہ ایک تحریک ہے۔ جس کا مقصد صرف خبر پہنچانا نہیں بلکہ وہ خبر پہنچانا تھا جو دبائی جا رہی ہو، وہ حقائق اجاگر کرنا جو چھپائے جا رہے ہوں، اور ان مظالم کو بے نقاب کرنا جو خاموشی کی چادر میں لپٹے ہوں۔ جہاں مین اسٹریم میڈیا نے مصلحتوں کا شکار ہو کر اپنی نظریں جھکا لیں، وہیں باغی ٹی وی نے بغاوت کا علم تھام لیا اور ظلم و جبر کے خلاف بے خوف و خطر آواز اٹھائی۔ اور اس بے باکی کا سہرا بانی "باغی” مبشر لقمان کے سر کو جاتا ہے۔باغی ٹی وی کے بانی مبشر لقمان صاحب وہ شخصیت ہیں جنہوں نے صحافت کو صرف پیشہ نہیں بلکہ ایک مقدس ذمہ داری سمجھا۔ ان کی قیادت میں باغی ٹی وی نے مثبت صحافت کا وہ معیار قائم کیا جسے مثال کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ خبریں صرف تفریح یا خوف کا ذریعہ نہیں بلکہ عوام کو باخبر رکھنے اور انہیں تعلیم دینے کا وسیلہ ہوتی ہیں۔ باغی ٹی وی نے اس بات کو عملی جامہ پہنایا اور اپنی خبروں کو ہمیشہ حقائق پر مبنی اور مثبت انداز میں پیش کیا۔

    باغی ٹی وی نے معاشرتی مسائل پر آواز بلند کرنے میں ہمیشہ اولیت حاصل کی۔ ظلم، جہالت، اور ناانصافی جیسے موضوعات کو نہ صرف اجاگر کیا بلکہ ان کے حل کے لیے عوامی شعور کو بھی بیدار کیا۔ چاہے وہ کرونا کی وبا ہو، زلزلے کی تباہی، یا سیلاب کی تباہ کاری، باغی ٹی وی نے نہ صرف نا صرف قارئین کو باخبر رکھا،بلکہ لوگوں کو ایجوکیٹ بھی کیا۔ایک ایسی دنیا میں جہاں خبر کا مطلب صرف پروپیگنڈا ہو، وہاں باغی ٹی وی نے مثبت خبروں کا رجحان متعارف کروایا۔ اس نے عوام کو دکھایا کہ پاکستان میں کئی مثبت ڈیولپمنٹز بھی ہو رہی ہیں اور ان پر بات کرنا انتہائی ضروری ہے۔ مثبت خبریں نہ صرف لوگوں کو امید دیتی ہیں بلکہ انہیں بہتر مستقبل کی کوشش کےلیے بھی مائل کرتی ہیں۔

    باغی ٹی وی کے تیرہ سالہ سفر کی کہانی صرف ایک ادارے کی کامیابی کی داستان نہیں بلکہ یہ ایک تحریک کی گواہی ہے جس نے ظلم و جبر کے خلاف حق کا علم بلند کیا۔ اس تیرہ سالہ سفر پر باغی ٹی وی کے بانی مبشر لقمان صاحب ، ایڈیٹر باغی ٹی وی ممتاز اعوان صاحب اور ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خان بڈانی سمیت دیگر ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے، اور ہم امید کرتے ہیں کہ یہ ادارہ مستقبل میں بھی حق اور سچائی کی راہ پر چلتے ہوئے ہماری رہنمائی کرتا رہےگا

    باغی ٹی وی کا کامیاب سفر،13ویں سالگرہ

    مبشر لقمان کی 62ویں سالگرہ، کھرا سچ اور باغی ٹی وی کی جانب سے تقریب کا انعقاد

  • صحافت کے سرخیل کو 62 ویں اور باغی ٹی وی کو 13 ویں سالگرہ مبارک،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    صحافت کے سرخیل کو 62 ویں اور باغی ٹی وی کو 13 ویں سالگرہ مبارک،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    صحافت کے سرخیل کو 62 ویں اور باغی ٹی وی کو 13 ویں سالگرہ مبارک ہو
    صحافت کے سرخیل مبشر لقمان کی آج 11 جنوری کو 62 ویں سالگرہ ہے، وہ جرات مند، بیباک اور حق گو صحافی کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ان کا وژن باغی ٹی وی کی صورت میں ایک شاندار حقیقت بن چکا ہے، جو کل 12 جنوری کو اپنی 13ویں سالگرہ منا رہا ہے۔ مبشر لقمان اور باغی ٹی وی سچائی کی علامت ہیں۔مبشر لقمان پاکستانی صحافت کا وہ چمکدار ستارہ ہیں جنہوں نے اپنی بے باک صحافت، جرات مندانہ تبصروں اور حق گوئی سے ہمیشہ سچائی کا علم بلند رکھا۔ ان کا نام دیانت داری اور غیر متزلزل اصولوں کی علامت بن چکا ہے۔

    باغی ٹی وی، جو مبشر لقمان کے وژن کا عکاس ہے، نہ صرف خبروں کی دنیا میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے بلکہ سچائی کی آواز بن کر عوامی مسائل کو اجاگر کرتا ہے۔ مبشر لقمان اور باغی ٹی وی ایک دوسرے کے لازم و ملزوم ہیں، جنہوں نے صحافت کے نئے معیار قائم کیے ہیں اور عوام کا اعتماد جیتا ہے۔مبشر لقمان پاکستان کے ان چند صحافیوں میں سے ہیں جنہوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں بے باکی، دیانت داری اور حقیقت پسندی کو اپنا شعار بنایا۔ 11 جنوری 1963 کو لاہور میں پیدا ہونے والے مبشر لقمان نے اپنی ابتدائی تعلیم لاہور ہی سے حاصل کی۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے صحافت کے میدان میں قدم رکھا اور اپنی ذہانت، حاضر دماغی اور بے مثال تجزیاتی صلاحیتوں کی بدولت جلد ہی نمایاں حیثیت حاصل کر لی۔

    مبشر لقمان کی صحافتی خدمات
    مبشر لقمان نے اپنے کیریئر کا آغاز چینل "بزنس پلس” سے کیا، جہاں انہوں نے پاکستان کے معاشی مسائل کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ عوام کی آواز کو بلند کیا۔ ان کے شاندار تجزیات اور بے لاگ تبصرے انہیں جلد ہی عوام میں مقبول بنا گئے۔ پروگرام کھرا سچ میں انہوں نے ہمیشہ حقائق کو سامنے رکھنے کی کوشش کی۔ان کا سب سے مشہور پروگرام "کھرا سچ” ہے، جو اب ان دنوں 365 نیوز پر پیر سے جمعہ شام آٹھ بجے نشر ہوتا ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے انہوں نے نہ صرف سیاستدانوں کی کرپشن کو بے نقاب کیا بلکہ عوام کو ان مسائل سے آگاہ کیا جو اکثر نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔ ان کا نعرہ ہمیشہ یہ رہا کہ سچ بولنا اور سچ کے ساتھ کھڑے رہنا ہی صحافت کی اصل روح ہے۔

    باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ
    مبشر لقمان نے صرف روایتی میڈیا تک محدود رہنے کے بجائے ڈیجیٹل میڈیا میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ انہوں نے "باغی ٹی وی” کے قیام کے ذریعے پاکستانی میڈیا کو ایک نئی سمت دی۔ باغی ٹی وی آج اردو، انگریزی، چینی، پشتو اور دری سمیت کئی زبانوں میں عوام تک خبریں پہنچا رہا ہے۔باغی ٹی وی کا بنیادی مقصد سچائی اور حقائق کو عوام تک پہنچانا ہے، چاہے وہ کتنے ہی تلخ کیوں نہ ہوں۔ یہ میڈیا ہاؤس پاکستان کا سب سے بڑا ڈیجیٹل نیٹ ورک بن چکا ہے، جو نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کی نمائندگی کر رہا ہے۔

    ڈیجیٹل میڈیا کی دنیا میں کامیابی
    مبشر لقمان کا یوٹیوب چینل "مبشر لقمان آفیشل” پاکستان کے مقبول ترین چینلز میں شمار ہوتا ہے۔ ان کے بے خوف تبصرے اور جرات مندانہ تجزیے انہیں ایک منفرد حیثیت عطا کرتے ہیں۔ وہ ہمیشہ سچ کی حمایت کرتے ہیں، چاہے اس کے لیے انہیں کسی بھی قسم کے دباؤ کا سامنا کیوں نہ کرنا پڑے۔

    کھیل اور دیگر خدمات
    مبشر لقمان صرف ایک صحافی ہی نہیں بلکہ ایک شاندار منتظم اور کھیلوں کے میدان میں بھی اہم کردار ادا کر چکے ہیں۔ وہ پاکستان برج فیڈریشن کے صدر ہیں اور ایشیا و مڈل ایسٹ برج فیڈریشن کے نائب صدر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کی کاوشوں سے لاہور میں بین الاقوامی برج مقابلے منعقد ہوئے، جس میں بھارت سمیت کئی ممالک نے شرکت کی۔ یہ نہ صرف ان کی بلکہ پاکستان کی بھی ایک بڑی کامیابی تھی۔

    سالگرہ کا موقع: ایک تجدید عہد
    مبشر لقمان کی سالگرہ کے موقع پر یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ انہوں نے پاکستان کی صحافت کو نہ صرف ایک نئی پہچان دی بلکہ نوجوان صحافیوں کے لیے ایک مشعل راہ بھی بنے۔ ان کی بے باکی، سچائی اور دیانت داری ہر اس شخص کے لیے مثال ہے جو صحافت کو محض ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک خدمت سمجھتا ہے۔

    باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ بھی مبشر لقمان کی قیادت میں اس ادارے کی کامیابیوں کا جشن ہے۔ یہ پلیٹ فارم ان تمام لوگوں کی آواز بنا ہے جن کی باتیں کہیں اور نہیں سنی جاتیں۔ باغی ٹی وی کی ترقی دراصل مبشر لقمان کے عزم، جرات اور غیر متزلزل قیادت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔مبشر لقمان اور باغی ٹی وی دونوں نے پاکستان کی صحافت میں اپنا ایک الگ مقام بنایا ہے۔ مبشر لقمان کی زندگی اور خدمات اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر آپ میں سچائی کی طاقت اور دیانت داری کا جذبہ ہو تو کوئی بھی رکاوٹ آپ کے راستے میں حائل نہیں ہو سکتی۔ ان کی سالگرہ کے اس موقع پر ہم دعاگو ہیں کہ وہ اسی طرح حق اور سچ کے علمبردار رہیں اور باغی ٹی وی مزید کامیابیاں حاصل کرے۔

  • اور مکالمہ یتیم ہو گیا

    اور مکالمہ یتیم ہو گیا

    اور مکالمہ یتیم ہو گیا
    تحریر:ریاض احمد احسان
    یتیمی کا دُکھ جھیلنے والے حرف،لفظ،خیال اور شاعری کے سفیر پیر نصیر الدین نصیر کے اس کلام سے خاص محبت کرتے ہیں-

    سنےکون قصہء دردِ دل میرا غمگسار چلا گیا
    جسے آشناؤں کا پاس تھا ،وہ وفا شعار چلا گیا،

    وہی بزم ہے وہی دھوم ہے ،وہی عاشقوں کا ہجوم ہے
    ہے کمی تو بس میرے چاند کی ،جو تہہ مزار چلا گیا

    وہ سخن شناس وہ دور بیں، وہ گدا نواز وہ مہ جبیں
    وہ حسیں وہ بحر ِعلوم دیں، میرا تاجدار چلا گیا

    کہاں اب سخن میں وہ گرمیاں کہ نہیں رہا کوئی قدرداں
    کہاں اب وہ شوق میں مستیاں کہ وہ پر وقار چلا گیا

    جسے میں سناتا تھا دردِ دل وہ جو پوچھتا تھا غمِ دٙروں
    وہ گدا نواز بچھڑ گیا ،وہ عطا شعار چلا گیا

    بہیں کیوں نصیر نہ اشکِ غم ،رہے کیوں نہ لب پر میرے فغاں
    ہمیں بےقرار وہ چھوڑ کر سر راہ گزار چلا گیا

    وہ عہدِ نبوی ؐ کی کوئی روح تھی جسے جسم اِس مادیت پرست اور نفسانفسی کے دورِ قحط الرجال میں عطا ہوا بلاشبہ! وہ ایسی ہی بزرگ ہستی تھے جن کو قرآنِ حمید میں اللہ رب العزت نے اپنا دوست لکھوایا ہے۔ اس عہدِ کم نظر میں رسالت مآب ﷺ کا اسوۂ حسنہ کسی اُمتی کا زندگی کے سفر پر زاد راہ ہونا ریاضت نہیں عطا ہے کہ وہ جسے چاہے منتخب کر لے۔ ہمارے عہد کی یہی چلتی پھرتی حقیقی کرامتیں ہیں۔گفتگو ایسی کے توحید کی حدت سے سینوں میں آگ بھڑک اٹھے اور محمد عربی ﷺ کی محبت کا بحر بیکراں دل ودماغ کیلئے راحت کا سامان ہو۔ اُن کی تقریر طارق بن زیاد کی طرح گھروں کو دور اورجنت کو نزدیک کردیتی تھی اور اپنے موقف پر استدلال انہیں غزالی ء وقت بنا دیتا تھا۔ استاذ ایسے کہ علم و ابلاغ اُن کے ہاں پانی بھرتے دکھائی دیتے تھے اور سب سے بڑھ کر کردار وہ کہ دامن نچوڑتے توواقعی فرشتے بھی وضو کرتے ہوں۔اُن کی زندگی اللہ اور اُس کے رسول ﷺ کی شریعت کی مجسم تصویر تھی۔ ایک ایسا باکمال ولی کامل جس پر اللہ کی توحید اور ختم نبوتﷺ پر کبھی کسی مصلحت یا مصالحت کا گمان بھی نہ گزرا ہو۔گفتار کی گھن گرج ایسے کہ جُز وقتی سورماؤں کی اوقات ہی کیا، کل وقتی سُپر پاوروں کی غلام گردشوں میں بھی غلام مشعلیں لئے بھاگتے دکھائی دیتے تھے کہ اِن محلات پر کوئی قہر نازل ہونے والا ہے۔ عمر بھر کلیجہ ء کفار میں کانٹے کی طرح کھٹکتے رہے۔دنیا بھر کےشیاطین اُن کے خلاف سازشیں کرتے رہے لیکن جو جان کے بدلے آخرت کا سودا کرچکے ہوں وہ بھلا نرغہ ء ابلیسں میں کب آتے ہیں؟ وہ پاکستان کی دفاعی اور نظریاتی سرحدوں کے زبانی دعویدار نہیں تھے بلکہ انہیں نے اس راہ میں آنے والی ہر صعوبت کو خندہ پیشانی سے عطیہ ء خداوندی سمجھ کر قبول و منظور کیا۔وہ ایٹمی پاکستان کو مزید طاقتور ور دیکھنے کے تمنائی تھے۔وہ خدمت نفس کی بجائے خدمت انسانیت پر یقین رکھنے والے تھے-جہاں بازوں کی دنیا میں اُن کا کردار جانبازوں کا سا تھا-اُن کا عظیم احسان دائرہ انانیت میں رہنے والے سخت مزاج لوگوں کو دائرہ انسانیت میں داخل ہونے کی مسلسل دعوت دینا تھا-

    میرے لیے اُنکی وفات کے غم سے نکلنا دشوار ہوتا جا رہا ہے- میری کیاحیثیت؟ کیا بساط بلکہ میری تو سوچی سمجھی رائے ہے کہ یہ ایام دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں سے تعزیت کے دن ہیں کہ اُن کے غم خوار کو لینے والے زمین و آسمان کے خالق کے حکم پر لینے آئے تھے اور لے گئے ۔ وہ لمحہ آن پہنچا تھا جس کے سامنے انکار کی جرات کسی کو کبھی نہیں ہوئی کہ یہی حقیقی خالقِ کائنات کا زمین پر چلتے پھرتے انسانوں کو آخری حکم ہوتا ہے اور جنہوں نے عمر ہی حصولِ رضائے الہی میں گزاری ہو وہ تو ایسی گھڑیوں کے منتظر ہوتے ہیں۔ ایسا ہی استاذِ محترم پروفیسر ڈاکٹرعبد الرحمان مکی رحمہ اللہ کے ساتھ ہوا کہ انہوں نے دوستوں کو بتا دیا کہ ”لینے والے آن پہنچے ہیں۔“ آج مظلوم کشمیریوں سے ہی نہیں بلکہ کشمیر سے بھی تعزیت کا دن ہے کہ وہ بزرگ ہستی اپنے رب کے حضور پیش ہو گئی جس کا دل کشمیریوں کے دلوں کے ساتھ دھڑکتا تھا ٗجو غزہ کے مسلمانوں کے معاون و مددگار تھے ٗ وہ میانمارمیں بھارتی فوج کی پشت پناہی کے بعدبدھشوں کے ہاتھوں مسلمانوں کے قتل عام کے نتیجہ میں ہونے والی ہجرت کے بعد بنگلہ دیش کے بارڈر پر ہزاروں بے گھر افراد کی کفالت کرنا قومی فریضہ سمجھتے تھے۔

    اُن کی جہادی آواز ٗبرستے بارود اور مسمار ہوتی عمارتوں میں بھی اللہ کے دشمنوں کو للکار کراپنے ساتھیوں کا حوصلہ بلند کر رہی ہوتی تھی۔ پروفیسر عبد الرحمان مکی ایک شخصیت نہیں ایک عہد اور سوچ کا نام ہے۔اُنہوں نے جہاد پر مصلحت کا شکار ہونے کے بجائے نئی نسل کو جہاد کی فضیلت ٗاہمیت ضرورت اور اللہ کے ہاں اُس کی مقبولیت کے روشن پہلو سے آشنا کروایا۔ وہ جہاد کو اقوام مخالف اور ظلم کاواحد علاج اورحل سمجھتے تھے اور اِس کیلئے اُن کی آواز پاکستان نہیں دنیا بھر میں سب سے طاقتور اورتوانا تھی۔ انہوں نے اللہ اور اُس کے رسول کی اطاعت میں درویشانہ زندگی بسر کی اور اُن کی تدفین بادشاہوں کی طرح ہوئی کہ اُس رستے پر چلنے والوں کی دنیا اور آخرت جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہی ہوتا ہے۔ آج میں سوچ رہاہوں کہ کسی ایک شخص میں اتنی خوبیاں صرف اُس کی عطا ہی ہو سکتی ہیں-و ہ کبھی بنگلہ دیش نا منظورکی تحریک میں نطر آ رہے تھے تو کبھی مرزائیوں کے خلاف چلنے والی ختم نبوت کی تحریک میں پیش پیش تھے۔

    انہوں نے 1977ء میں چلنے والی نظام مصظفیٰ کی تحریک میں اہم کردار ادا کیا۔وہ جہاں عالمی سامراج کو عمر بھر للکارتے رہے وہیں پاکستان کے جغرافیے سے جڑے دشمنوں پر بھی گہری نظر رکھے ہوئے تھے۔ مجھے آج لکھنا ہو گا کہ ہمت ٗ محنت ٗجرات ٗ انتھک جدو جہد اور حوصلوں کو یکجا کردیا جائے تو میرے ذہن میں ایک ہی نام آتا ہے جو جنابِ پروفیسرڈاکٹر حافظ عبدالرحمان مکی صاحب کا ہے ۔ وطنِ عزیز پاکستان میں اسلامیت، انسانیت،پاکستانیت،ادبیت اور قائد و اقبالیت کے ساتھ ساتھ نظریہ پاکستان،دو قومی نظریہ،حرمت قرآن،حرمت رسول ﷺ ،سود سے پاک پاکستان،معاشی ترقی کرتا پاکستان،خود مختیار اور مستحکم پاکستان،ایٹمی پاکستان،مزائل ٹیکنالوجی اور فزکس کے میدان میں آگے بڑھتا پاکستان،امن دشمنوں کو شکست دیتا پاکستان،فرقہ واریت کے خاتمے کے لیے کردار ادا کرتا اور مسلم امہ کی قیادت کرتا پاکستان انکے موضاعات ہوا کرتے-

    1857ء کے بعد تاجدار برطانیہ کے تھنک ٹینک سے شروع ہو نے والی جہاد کے خلاف کمپین جب ہمارے عہد میں داخل ہوئی تو اسے عبد الرحمان مکی جیسی بزرگ ہستی کا سامنا کرنا پڑا جنہوں نے نئی نسل کو از سر نو اُن کے اجداد کا بھولا ہوا جہادی درس یاد دلایا اور پھر دنیا نے دیکھا کہ اُسی جہاد کی بدولت کبھی بے رحم قابض بھارت چیخ رہا تھا تو کبھی مسلمانوں کی نسل کشی میں ملوث عالمی طاقتیں اور اُن کے گماشتے۔شریعیت محمدی ﷺ کا پرچم اٹھا کر چلنے والوں کو راستوں کی صعوبتوں کو خاطر میں لائے بغیر مسلسل آگے بڑھنا ہوتا ہے،دکھوں کے کوہ ہمالیہ اپنی ٹھوکر سے دونیم کرنے پڑتے ہیں۔ یہ سالاری کوئی جُز وقتی انقلاب کی امامت کیلئے نہیں ہوتی بلکہ اس قافلہ نے اُس عظیم پیغام کو قیامت کی صبح تک دشت و صحرا میں صفتِ جام لے کر پھرنا ہوتا ہے- دوستوں کا خیال ہے کہ وہ مکہ چھوڑ کر آئے تھے لیکن میرا یقینِ کامل ہے کہ وہ مکہ سے بھیجے گئے تھے اور ازاں بعد اُن کی دینی خدمات نے ثابت کیا وہ آئے نہیں بھجوائے گئے تھے۔

    پروفیسر ڈاکٹر عبد الرحمان مکی دوقومی نظریہ کے حمایتی نہیں بلکہ ان جید علماء میں سے تھے جنہوں نے اپنے وجود سے ثابت کیا کہ محمد ﷺ کے امتی کبھی مشرکوں کے دوست نہیں ہوسکتے۔وہ اُسی علم حقیقی کے بحر بیکراں کے شناور تھے جو پہاڑوں پر نازل ہوتا تو وہ ریزہ ریزہ ہو جاتے۔ آج میں سالارِ ملت سے تعزیت کرنا چاہتا ہوں کہ اُن کے دست راست ٗ یارانے دیرینہ ٗبرادرِ نسبتی اور اُن کی علمی و ادبی و جہادی اور شریعت محمدیﷺ کے نفاذ کے لیے انتھک جدوجہد کرنے والے عظیم قائد دنیا سے رخصت ہو گئے۔

    آج تجدید عہد کا دن ہے کہ ہم سب محسن شہ رگ پاکستان کے دست و بازو ہیں اور ہمارا رستہ عبد الرحمان مکی کا رستہ ہے جو اپنے عظیم موقف،تنظیم، قیادت اور سب سے بڑھ کر اللہ اور اُس کے رسول ﷺ سے وفا کا رستہ ہے۔ عمر میں وہ محسن شہ رگ پاکستان سے ساڑھے پانچ سال چھوٹے تھے لیکن ساری زندگی انہوں نے جس انداز سے محسن پاکستان کی اطاعت و فرمانبرداری کی وہ ہم سب کے لیے لائق رشک اور قابل تقلید ہے- میں سمجھتا ہوں کہ آج ہم ہی نہیں حرف،لفظ،خیال،اظہار و بیان ،موقف،بیانیہ،مباحثہ اور مکالمہ بھی یتیم ہوگیا- اللہ اگلی منزلوں میں دنیا سے زیادہ سرخرو فرمائے۔آمین

  • اڑان پاکستان،  عمل کی ضرورت، فقط نعرے سے کچھ نہیں بدلے گا.تجزیہ:شہزاد قریشی

    اڑان پاکستان، عمل کی ضرورت، فقط نعرے سے کچھ نہیں بدلے گا.تجزیہ:شہزاد قریشی

    اڑان پاکستان ایک اچھا نعرہ ہے ۔ لیکن یاد رکھیئے جب تک عمل نہیں ہوگا اُ س وقت تک کوششیں رنگ نہیں لائیں گی میری عمر کے لوگوں نے اس طرح کے نعرے بہت سنے ،صدق دل سے اس نعرے پر عمل کیا جائے امریکہ اور مغربی ممالک کی ترقی کا راز علم اورعمل ہے ۔ پیچیدہ بحرانوں کے بوجھ تلے دبی قوم اور پاکستان کے لئے اُمید سے بھرا نعرہ ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے توا س نعرے پر عمل شروع کردیاہے۔ باقی صوبے بھی عملی اقدامات کریں ۔ صوبہ سندھ ،سندھ کے دیہی علاقوں میں تعلیم پر توجہ دیں۔ ہم جس عہد کے مسافر ہیں اس عہد میں پُرفتن حالات سوچنے کا تقاضا کرتے ہیں خلق خدا کو اس طوفان بلاخیز سے بچانا ان کی رہنمائی کرنا ہمارے فرائض میں شامل ہے۔ پنجاب میں نوجوان بچوں اور بچیوں کو تعلیم کے حوالے سے جو کچھ پنجاب کی وزیراعلٰی کر رہی ہیں، وہ قابل تحسین ہے۔ علم کی برکت سے زندگی کے راستے تبدیل ہوتے اور اسلوب زندگی میں عالمگیر انقلاب پیدا ہوتاہ ے۔

    پاکستان جس طرح ایک سُپر اوراسلامی دنیا کا واحد ایٹمی طاقت رکھنے والا ملک ہے کا ش ہمارے پاس طاقت اور سیاسی لیڈر شپ بھی ہوتی ۔ بدقسمتی سے بھٹو ، بے نظیر بھٹو کے بعد نواز شریف ہی سیاسی گلیاروں میں سُپر پاور تھے۔ نواز شریف نے دفاعی لحاظ اور معیشت مستحکم کرنے میں کردار ادا کیا۔ ملک کی سیاسی جماعتوں نے ہی سازش کی اور نواز شریف کو ایک سازش یعنی نام نہاد پانامہ کیس بنا کر چوراور ڈاکو ثابت کرنے کی کوشش کی گئی مشرف دور میں طیارہ اغواء اور نہ جانے کیسے کیسے کیسوں میں اُلجھا دیا گیا ۔ آج جو جماعتیں قانون آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی اور جمہوریت کی باتیں کرتی ہیں یہ ان سازشوں کا باقاعدہ حصہ رہیں۔ نام نہاد ڈان لیکس کا کھیل کھیلا گیا اور سینیٹر پرویز شید جیسے بے ضرر انسان کو نشانہ بنا دیا گیا۔ پرویز رشید سیاسی گلیاروں میں سادگی کی عملی مثال ہیں۔ سیاسی گلیاروں میں بہت ہی کم ایسے لوگ رہ گئے جن کی مثال د ی جا سکتی ہے۔ آج بھی سیاسی جماعتیں اپنے مفادات اور سیاسی مستقبل کے ایک دوسرے کے خلاف سازش میں مبتلا ہیں ۔

    کے پی کے تحریک انصاف کے پاس ہے ، صوبہ سندھ پیپلزپارٹی اور پنجاب (ن) لیگ ۔ پیپلزپارٹی نے آئینی عہدے اپنے پاس کھے ہوئے ہیں مگر وہ صوبہ پنجاب پر نظر رکھے ہوئے ہے ۔ پنجاب کے کچھ ڈویژن میں اختیارات مانگ کر کیا وہ ملک وقوم کی کونسی خدمات سرانجام دینا چاہتی ہے ؟ پنجاب میں (ن) لیگ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے خوفزدہ ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ پی پی پی پنجاب میں(ن) لیگ کی مقبولیت سے خوفزدہ ہے

    بے باک صحافت کی ایک روشن مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

    میدان صحافت میں جرات کی مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کی سالگرہ