Baaghi TV

Category: بلاگ

  • مریم کی قیادت میں پنجاب بدل رہا. تحریر: نور فاطمہ

    مریم کی قیادت میں پنجاب بدل رہا. تحریر: نور فاطمہ

    پاکستان کی سیاست میں خواتین کی نمائندگی ہمیشہ سے ایک اہم موضوع رہی ہے۔ حالیہ برسوں میں، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز ایک ایسی شخصیت بن کر ابھری ہیں جنہوں نے اپنی سیاسی بصیرت، قائدانہ صلاحیتوں اور عوامی خدمت کے جذبے سے سب کو متاثر کیا ہے۔ ان کی قیادت میں پنجاب نے ترقی کی نئی منازل طے کی ہیں اور عوام میں ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔مریم نواز نے جیل بھی کاٹی. گرفتاریاں بھی دیں لیکن والد کا ساتھ نہ چھوڑا.

    وزیراعلیٰ پنجاب مریمنواز کا سیاسی سفر ایک عام کارکن سے شروع ہوا۔ انہوں نے اپنی محنت، لگن اور عوامی رابطہ مہم کے ذریعے عوام کے دلوں میں جگہ بنائی۔ ان کی تقاریر میں ہمیشہ ایک واضح پیغام ہوتا ہے جو عوام کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے۔ انہوں نے ہمیشہ عوام کے مسائل کو سمجھا اور ان کے حل کے لئے کوششیں کیں۔عام انتخابات میں مریم نواز الیکشن جیتیں تو انہیں وزیراعلیٰ کے عہدے پر نامز د کیا گیا، وہ وزیراعلیٰ بنیں تو پنجاب بدلنے لگا.وزیراعلیٰ پنجاب کی قیادت میں پنجاب نے کئی ترقیاتی منصوبے دیکھے ہیں۔ تعلیم، صحت، زراعت اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ خاص طور پر تعلیم کے شعبے میں ان کی توجہ قابل ستائش ہے۔ طلبا کو سکالر شپ،لیپ ٹاپ، غریب عوام کے لئے اپنا گھر منصوبہ، کسانوں کے لئے کسان کارڈ، معذوروں کے لیے وہیل چیئر،آلہ سماعت، غرض جس شعبے میں جائیں، ہر طرف وزیراعلیٰ مریم نوا ز کا نام اور کام بول رہا ہے

    وزیراعلیٰ پنجاب کی مقبولیت کا راز ان کی عوام سے قربت ہے۔ وہ ہمیشہ عوام کے درمیان رہتی ہیں اور ان کے مسائل کو سنتی ہیں۔ ان کی سادگی اور اخلاص نے عوام کو ان کا گرویدہ بنا لیا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی ان کی فعال موجودگی ہے جہاں وہ عوام سے براہ راست رابطے میں رہتی ہیں۔یقینی طور پر، وزیراعلیٰ پنجاب کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری اور امن و امان جیسے مسائل ابھی تک موجود ہیں جن پر قابو پانا ضروری ہے۔ تاہم، ان کی قیادت میں پنجاب حکومت ان مسائل سے نمٹنے کے لئے بھرپور کوششیں کر رہی ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ وہ ایک بہترین سیاستدان بن کر ابھری ہیں۔ ان کی قیادت میں پنجاب کا مستقبل روشن ہے۔ امید ہے کہ وہ اپنی محنت اور لگن سے عوام کی خدمت کرتی رہیں گی اور پنجاب کو ترقی کی مزید منازل تک لے کر جائیں گی۔
    noor fatima

  • روشن پاکستان کا مستقبل قانون کی حکمرانی میں.تجزیہ:شہزاد قریشی

    روشن پاکستان کا مستقبل قانون کی حکمرانی میں.تجزیہ:شہزاد قریشی

    بین الاقوامی اُفق پر تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیوں کے تناظر میں بین الاقوامی سیاسی کھلاڑیوں اور پالیسی سازوں نے زمانہ حاضر کے مطابق ترجیحات اور اہداف مقرر کرنے اور عمل کرنا شروع کردیا ہے۔ گذشتہ ہفتے امریکہ اور یورپی تعلقات کو لے کر پینٹگان کے سربراہ نے نیٹو کے اجلاس کے لئے یورپ کا پہلا سرکاری دورہ کیا۔ روس اور یو کرین کی جنگ کو لے کر امریکی صدر اور روس کے صدر کی طویل ٹیلی فون پر بات ہوئی۔ عالمی تبصرہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یورپ میں ایک مضبوط اور مصروف امریکہ نہ صرف براعظم کے لئے فائدہ مند ہے بلکہ یہ امریکی قومی سلامتی اور اقتصادی خوشحالی کے لئے ضروری ہے ۔ یورپ امریکی معیشت کی بہتری کے لئے بہت اہم ہے۔

    ادھر گزشتہ ہفتے ترکیہ کے صدر نے تین ممالک کے دورے کئے ہیں جنوب مشرقی ایشیا کے ساتھ ترکیہ کی مصروفیت کو بھی انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ ترکی کے صدر نے ملائیشیا ، انڈونیشیا اور پاکستان ک ا دورہ کیا۔ ترکی کے صدر نے ان تین ممالک کے دورے کے دوران غزہ کی تعمیر نو کے منصوبے کی شریک سربراہی کا وعدہ کیا ۔غزہ سمیت عالمی انسانی مسائل جیسے پلیٹ فارمز کی ڈی ایٹ اور او آئی سی وغیرہ کی اہمیت پر زور دیا ۔ ترکیہ اور پاکستان کا صدیوں سے ایک رشتہ چلا آرہا ہے۔ پاکستان اور ترکیہ نے کئی معاہدوں پر دستخط کئے ۔دفاعی ،جدید ٹیکنالوجی بالخصوص فوجی تعاون نے ترکی اور پاکستان کے تعلقات کو مزید گہرا کیا ہے۔ ایک اہم شراکت دار کے طور پر ترکی کی پوزیشن مستحکم ہوئی ہے۔ مغرب سے مشرق کی طرف طاقت کی عالمی تبدیلی ایشیاء کی طرف محور کا رحجان مشرق وسطیٰ میں بدلتی صورت حال ترکی کی عملی خارجہ پالیسی نے ایشیا ء کی طرف انقرہ نے ایک اہم موڑ کو تشکیل دیا ہے۔تاہم انقرہ کو مزید اور مستقل توجہ کی ضرورت ہے۔

    پاکستان نے اگر دنیا کے ساتھ ترقی کرنی ہے تو رائٹ مین فار رائٹ جاب پر عمل کرنا ہوگا۔ نااہل کرپٹ ، بددیانت ، ذاتی مفادات ، اقربا پروری ، متکبر اور چاپلوس ، خوشامدی ٹولے سے جان چھڑانی ہوگی ۔ روشن پاکستان کا مستقبل قانون کی حکمرانی پر ہے۔ پہلے پاکستان پالیسی پر ہے ۔ پاکستان کے مفاد پر ہے ۔ تباہ کن انداز کو اور ذاتی مفادات کی پالیسی کو بدلنا ہوگا۔ بہت ہو چکا اب وقت آگیا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اختلافات ایک طرف رکھیں،پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔ مشرق وسطیٰ ، امریکی نئی پالیسی اور دیگر ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلی کو مد نظر رکھیں اور پاکستان کی ترقی اور عوام کی خوشحالی میں اپنا کردار ادا کریں.

  • تبصرہ کتب.خاتون اول سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی زندگی کے سنہرے واقعات

    تبصرہ کتب.خاتون اول سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی زندگی کے سنہرے واقعات

    خاتون اول سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی زندگی کے سنہرے واقعات
    ناشر : دارالسلام انٹر نیشنل، لوئر مال ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ ، لاہور
    صفحات : 224آرٹ پیپر 4کلر
    قیمت : 2500روپے
    برائے رابطہ : 042-37324034
    زیر نظر کتاب ’’ خاتون اول سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی زندگی کے سنہرے واقعات ‘‘ کے مولف عبدالمالک مجاہد ہیں ۔پیش نظر کتاب میں مسلمانوں کی عظیم ماں سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا زندگی کے ان تمام پہلوئوں کو اجاگر کیا گیا ہے جو مسلم بچیوں اور خواتین کیلئے ہی نہیں مردوں کیلئے بھی مشعل راہ ہیں ۔سیدہ خدیجہ ہماری وہ عظیم ماں ہیں جو دور جاہلیت میں بھی طاہرہ کے لقب سے معروف تھیں ۔ کتاب میں سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی عقل و فہم ، دینداری ، ایمانداری ، اخلاص ، ثابت قدمی ، وفا شعاری اور مجاہدانہ کردار کو ایسے انداز میں پیش کیا گیا ہے کہ گویا قاری اسی دور میں موجود ہے اور ام المئومنین کی زندگی کا بچشم خودمشاہدہ کررہا ہے ۔ کتاب میں سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی زندگی کے اہم ترین واقعات کے ساتھ ساتھ ان کی اولاد اور اہل بیت کی زندگی پر بھی ایک طائرانہ نظر ڈالی گئی ہے ۔ اس سارے عمل میں تحقیق کے اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ضعیف و بے اصل واقعات سے اجتناب کیا گیا ہے ۔ امید ہے یہ کتاب امت مسلمہ کی خواتین کیلئے مشعل راہ ثابت ہوگی ۔ دنیا بھر میں کوئی مسلمان ایسا نہیں جو خاتون اول ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہاکے نام اور تذکرہ سے آشنا نہ ہو ۔اس میں شک نہیں کہ تاریخ اسلامی کے اوراق گر دانتے ہوئے ایسی بے شمارخواتین کا تذکرہ ملتا ہے جنہوں نے شمع اسلام کی سر بلندی اور دین حق کی دعوت کے لئے بے پناہ قربانیاں دیں اور تاریخ کے چہرے کو ضیاء بخشی ہے تاہم ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا ان عظیم خواتین سے عظیم تر تھیں کیونکہ نبی آخر الزمان حضرت محمد مصطفی ﷺ نے اپنے اوپر پہلی وحی کا تذکرہ سب سے پہلے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے کیا ا ور کہا کہ مجھے اپنی جان کا ڈر ہے تو اس عظیم خاتون نے اپنی عظمت ، شان اور حکمت کے عین مطابق نبی آخر الزمان ، رسول خداﷺ کو ان الفاظ میں حوصلہ دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔
    اللہ کی قسم ہر گز ایسا نہیں ہو سکتا کہ اللہ آپ کو ناکام اور نامراد کردے ، آپ کی مدد نہ کرے کیونکہ آپ صلہ رحمی کرنے والے ہیں ، تھکے ، ہارے اور درماندہ انسانوں کو ان کی منزل تک پہنچاتے ہیں ، ناداروں کی خبر گیری کرتے ہیں ، بے ٹھکانہ مسافروں کو اپنا مہمان بناتے ہیں اور حق بجانب امور میں معین و مدد گار رہتے ہیں ۔ پھر صرف ان ہی جملوں پر اکتفا نہی کیا بلکہ اپنے سرتاج ، شریک حیات اور محسن انسانیت کومکمل یقین دلانے کیلئے انہیں چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں اور سارا واقعہ سنا کر اللہ کے رسول ﷺ کو مزید تسلی اور حق پر قائم رہنے کیلئے ہمت بندھائی ۔ دعوت اسلام کو پھیلانے میں ہماری اس ماں کا نہایت معتبر کردار اس کتاب کے اوراق میں تاریخ اسلام سے الفت رکھنے والوں کو میسر آئے گا ۔ اس عظیم خاتون کی تمام خوبیاں ایک طرف۔ان کی صرف یہی شان اور عظمت کافی ہے کہ نبی آخر الزمان ﷺ نے جب اسلام کی دعوت پیش کی تو خواتین میں سے سب سے پہلے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو قبول اسلام کا شرف حاصل ہوا ۔ خاتون اول محض ایک تاجرہی نہیں بلکہ نہایت مالدار، باوقار ، ذہین ، شریف ، معاملہ فہم اور دور اندیش خاتون تھیں ۔ انہو ں نے اپنا مال اللہ کی راہ میں قربان کر دیا ، رسول ﷺ کی بیٹیوں کی نہایت عمدہ تربیت کا حق ادا کیا ، حضرت خدیجہ کا مرتبہ اورمقام سمجھنے کے لئے یہی کافی ہے کہ رسول ﷺ اپنی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا کو جنت کی سردار کہا ہے ۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا حضرت خدیجہ کے بطن ہی سے ہی دنیائے فانی میں تشریف لائیں ۔ رسول ﷺکو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے اتنی محبت تھی کہ ان کی زندگی میں دوسری شادی نہیں کی۔ وہ بلا شبہ نہایت امیر کبیر شہزادی بلکہ ملکہ تھیں مگر شعب ابی طالب میں رسولﷺ کے ساتھ نہایت صبر و تحمل سے تین مشکل ترین سال گزارے ۔ زیر نظر کتاب ان مائوں ،بہنوں اور بیٹیو ں کے لیے لکھی گئی ہے جو امہات المئومنین رضی اللہ عنہا کے اسوہ حیات کو جاننا چاہتی ہیں ۔ اس کتاب کو خوبصورت ڈیزائن ، بہترین سرورق ،عمدہ بائینڈنگ،آرٹ پیپر پر چہار کلر طباعت اور اعلیٰ معیار کے ساتھ شائع کیاگیا ہے ۔ یہ کتاب اپنے مضامین اور طباعت کے اعتبار سے اتنی عمدہ ، خوبصورت اور جاذب نظر ہے کہ بیٹیوں کو شادی بیاہ کے موقع پر تحفے میں دی جانی چاہئے ۔اس سے یقینا ہماری بچیاں سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے نقش دم چلیں گی

  • پی ٹی آئی کے متنازعہ اقدامات، عوامی مفاد یا پاکستان دشمنی؟

    پی ٹی آئی کے متنازعہ اقدامات، عوامی مفاد یا پاکستان دشمنی؟

    پی ٹی آئی کے متنازعہ اقدامات، عوامی مفاد یا پاکستان دشمنی؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت پر مسلسل الزامات عائد کیے جا رہے ہیں کہ وہ ملکی مفادات کے خلاف سرگرمیاں کر رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں پی ٹی آئی کے رہنما اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے ایک اہم دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اسلام آباد میں آئی ایم ایف مشن کو ایک ڈوزیئر اور خط ارسال کیا ہے، جس میں عام انتخابات میں دھاندلی کے ٹھوس شواہد فراہم کیے گئے ہیں۔ اس ڈوزیئر کو چیف جسٹس آف پاکستان کو بھی بھیجا گیا ہے اور اس میں انتخابی نتائج کی انجینئرنگ اور ریاستی اداروں کی جانب سے پی ٹی آئی کے عوامی مینڈیٹ کو چھینے جانے کی تفصیلات درج ہیں۔ عمر ایوب کا کہنا ہے کہ شفافیت اور قانون کی حکمرانی کے اصولوں کی پاسداری کے بغیر پاکستان میں اقتصادی ترقی اور سیاسی استحکام ممکن نہیں اور ان سنگین خدشات کو بین الاقوامی اداروں کی توجہ دلانا ضروری ہے۔

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مختلف اقدامات نے ملکی ساکھ اور مفادات پر کئی سوالات اٹھائے ہیں۔ پی ٹی آئی کی جانب سے کیے گئے احتجاجات اور سیاسی سرگرمیاں ان الزامات کا سبب بنی ہیں کہ پارٹی نے ایسے اقدامات کیے ہیں جو پاکستان کے مفادات کے خلاف ہیں۔ ان میں غیر ملکی وفود کی آمد کے دوران احتجاج، اہم بین الاقوامی اجلاسوں میں شرکت سے انکار اور ملکی سلامتی کے خلاف سرگرمیاں شامل ہیں۔

    اکتوبر 2024 میں اسلام آباد میں ہونے والی شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کی کانفرنس کے دوران پی ٹی آئی نے 15 اکتوبر کو ڈی چوک پر احتجاج کی کال دی۔ حکومتی وزراء نے اس اقدام کو پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش قرار دیا اور کہا کہ یہ سب کچھ دشمن کے ایجنڈے کے مطابق ہو رہا تھا۔ وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے اس احتجاج کو ریاست کو کمزور کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا۔ اسی طرح پی ٹی آئی نے کرکٹ میچز کے دوران بھی احتجاج کی کال دی، جس سے ملکی ساکھ پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔ 8 فروری 2025 کو لاہور میں ہونے والے کرکٹ میچ کے دوران احتجاج کی اجازت طلب کی گئی جو عالمی سطح پر پاکستان کی کرکٹ امیج کو متاثر کرنے کا سبب بن سکتی تھی۔

    پی ٹی آئی پر دشمن طاقتوں سے روابط کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔ وفاقی وزیر صنعت و پیداوار رانا تنویر حسین نے عمران خان پر دوغلی پالیسی اپنانے اور جھوٹ پھیلانے کا الزام لگایا، جس سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا پی ٹی آئی کے یہ اقدامات واقعی ملکی مفادات کے خلاف ہیں؟ ان الزامات میں یہ کہا گیا کہ پی ٹی آئی کی قیادت نے سیاسی مفادات کے لیے ملکی ساکھ کو داؤ پر لگایا ہے اور بعض رہنماؤں پر ملکی سلامتی کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات بھی لگائے گئے۔

    پی ٹی آئی کی احتجاجی تاریخ بھی غیر معمولی ہے، جس میں 2014 کا آزادی مارچ، 2016 میں پاناما پیپرز کے انکشافات کے بعد ہونے والا احتجاج اور 2024 میں عمران خان کی گرفتاری کے خلاف اسلام آباد میں ہونے والا احتجاج شامل ہیں۔ ان احتجاجات کا مقصد عموماً حکومت پر دباؤ ڈالنا اور سیاسی مطالبات کی منظوری حاصل کرنا ہوتا تھا، جو بعض اوقات غیر ملکی وفود کی آمد یا اہم بین الاقوامی اجلاسوں کے دوران بھی منعقد کیے گئے۔

    اس سارے تناظر میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا پی ٹی آئی کے اقدامات واقعی پاکستان دشمنی کے زمرے میں آتے ہیں؟ پی ٹی آئی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ان کے اقدامات کا مقصد ملک کو کرپشن سے پاک کرنا اور عوام کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے اور ان کا دعویٰ ہے کہ پاکستان دشمنی کے الزامات بے بنیاد ہیں۔ تاہم مخالفین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے پاکستان کی ساکھ اور سلامتی کو نقصان پہنچا ہے اور یہ پارٹی اپنے سیاسی مفادات کے لیے ملکی مفادات کو نظر انداز کر رہی ہے۔

    کیا واقعی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) غیر ملکی ایجنڈے کی تکمیل میں پاکستان میں عدم استحکام، انتشار اور ملک دشمنی میں ملوث رہی ہے؟ یہ سوال ایک سنگین پہلو اختیار کرتا ہے جس پر آزادانہ اور غیر جانبدار تحقیقات ضروری ہیں۔ اگر پی ٹی آئی کے اقدامات حقیقت میں پاکستان دشمنی پر مبنی ثابت ہوں تو ان الزامات کو ثبوتوں کے ساتھ عوام کے سامنے پیش کیا جائے اور پی ٹی آئی کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔

    تاہم اگر یہ تمام الزامات صرف سیاسی سکورنگ یا سیاسی بیانئے کا حصہ ہیں تو پھر ملک کو مزید انتشار اور خلفشار میں نہ دھکیلیں۔ پاکستان کی ساکھ اور سلامتی کے لیے ہر اقدام انتہائی احتیاط کے ساتھ اٹھایا جانا چاہیے کیونکہ آخرکار ہم سب کا مفاد اسی میں ہے کہ پاکستان کو داخلی طور پر پرامن، مضبوط اور عالمی سطح پر مستحکم رکھا جائے اور پاکستان دشمن قوتوں سے قوم سیسہ پلائی دیوار بن کر ان کے ناپاک عزائم خاک میں ملا سکے۔

  • اسلام میں خواتین کے حقوق اور وراثت کا نظام.تحریر: حنا سرور

    اسلام میں خواتین کے حقوق اور وراثت کا نظام.تحریر: حنا سرور

    اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسانیت کی فلاح اور حقوق کے تحفظ کے لیے آیا۔ اس میں خواتین کے حقوق کو بہت اہمیت دی گئی ہے، اور انہی حقوق میں سے ایک اہم حق وراثت کا ہے۔ دنیا کے تمام مذاہب میں یہ مسئلہ ہمیشہ ایک حساس موضوع رہا ہے، لیکن اسلام نے بیٹیوں کو وراثت میں حصہ دینے کا حکم دیا، جو اس سے پہلے کسی بھی مذہب میں نہیں تھا۔اسلام نے بیٹیوں کو وراثت میں حصہ دینے کا حکم دے کر ایک نیا باب رقم کیا۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:”مرد اور عورت کے درمیان جو بھی تقسیم ہے، وہ اللہ کی طرف سے ہے اور جو کچھ بھی تم پر فرض کیا گیا ہے، وہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔” (القرآن)

    اللہ کی یہ ہدایت واضح کرتی ہے کہ عورت اور مرد دونوں کو وراثت میں حصہ ملے گا، تاہم ان کے حصوں میں فرق ہوگا، جو کہ اسلام کی عدل و انصاف پر مبنی تقسیم ہے۔ مثال کے طور پر، اگر ایک مرد اور ایک بیٹی وراثت کے حقدار ہوں، تو مرد کو دو حصے ملیں گے اور بیٹی کو ایک حصہ، یعنی بیٹی کو مرد سے نصف حصہ ملے گا۔جب اسلام نے بیٹیوں کو وراثت میں حصہ دینے کا فیصلہ کیا، تو اس وقت تک دنیا کے بیشتر معاشروں میں بیٹیوں کو وراثت سے محروم رکھا جاتا تھا۔ بہت سے معاشروں میں بیٹیوں کو وراثت میں شریک کرنے کے بجائے انہیں جائیداد سے محروم کر دیا جاتا تھا۔ اسلام نے اس روایتی ظلم کو ختم کیا اور بیٹیوں کو بھی جائیداد میں حصہ دیا، تاکہ انہیں بھی مالی حق ملے۔

    مردوں کا جائیداد بیچنا اور بیٹیوں کو وراثت سے محروم کرنا
    لیکن جب ہم آج کے معاشرتی حالات پر نظر ڈالتے ہیں، تو ہم دیکھتے ہیں کہ بعض مرد اپنی جائیداد بیچتے وقت یا کسی اور صورت میں اس بات کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کی کوئی بہن یا بیٹی نہیں ہے۔ یہ ایک انتہائی افسوسناک صورتحال ہے اور اس سے معاشرتی اور اخلاقی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔”ہماری کوئی بہنیں یا بیٹیاں ہیں ہی نہیں، ہم اکیلے وارث ہیں”، یہ وہ جملے ہیں جو بعض لوگ جائیداد کی تقسیم کے دوران کہہ کر بیٹیوں کے حقوق سے انکار کرتے ہیں۔ اس عمل کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ اسلام میں بیٹیوں کو وراثت میں حصہ دینا فرض ہے، اور اس طرح کے حربے اسلام کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہیں۔

    معاشرے میں ابھی بھی کچھ لوگ اسلام کے اصولوں کو صحیح طریقے سے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے میں پیچھے ہیں۔ اگرچہ اسلام نے بیٹیوں کو وراثت میں حصہ دیا، لیکن اس کے باوجود بعض مردوں کا اس حق سے انکار کرنا یا اسے چھپانا کسی بھی صورت میں جائز نہیں۔ یہ عمل نہ صرف دین کے ساتھ ناانصافی ہے، بلکہ اس سے بیٹیوں کی حیثیت اور ان کے حقوق کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔اس مسئلے کا حل صرف اور صرف تعلیم میں ہے۔ مسلمانوں کو اسلام کی حقیقی تعلیمات کے بارے میں آگاہی حاصل کرنی چاہیے۔ اگر ہر فرد یہ سمجھ لے کہ اسلام نے بیٹیوں کو وراثت میں حصہ دینے کا حکم دیا ہے تو ایسے غیر اسلامی اقدامات کا سدباب کیا جا سکتا ہے۔اس کے علاوہ، اسلامی رہنماؤں اور علماء کو اس بارے میں لوگوں کو آگاہی فراہم کرنی چاہیے کہ وراثت میں بیٹی کا حصہ دینا نہ صرف فرض ہے، بلکہ یہ اسلام کی روحانی اور اخلاقی تعلیمات کے عین مطابق ہے۔بیٹیوں کو وراثت میں حصہ دینا اسلامی تعلیمات کا حصہ ہے، اور یہ کسی بھی طرح سے ان کے حقوق کو نظرانداز کرنے کی کوششوں کو جائز نہیں ٹھہرا سکتا۔ معاشرتی ترقی اور اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اس اصول کو تسلیم کریں اور اس پر عمل پیرا ہوں۔ اس طرح ہم ایک معاشرتی تبدیلی لا سکتے ہیں جہاں بیٹیوں کو ان کے حقوق ملیں اور ہر مسلمان اس عمل کو اپنی زندگی میں اپنائے۔

  • سول نافرمانی،پی ٹی آئی کا بیانیہ”وڑ”گیا. تحریر: جان محمد رمضان

    سول نافرمانی،پی ٹی آئی کا بیانیہ”وڑ”گیا. تحریر: جان محمد رمضان

    پاکستان کی معاشی حالت کو بہتر بنانے کے لیے مختلف حکومتوں نے متعدد اقدامات کیے ہیں، تاہم سیاست میں آنے والی پیچیدگیاں اور بعض سیاسی جماعتوں کے بیانیے نے ملک کی معیشت کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب ملک کو معاشی بحران کا سامنا ہے، پی ٹی آئی نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے یہ درخواست کی تھی کہ وہ پاکستان میں ترسیلات زر بھیجنے سے گریز کریں۔ تاہم جنوری 2025 کے اعداد و شمار اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ اس بیانیے کے اثرات کم ہو گئے ہیں اور بیرون ملک پاکستانی اپنے وطن کی مدد کے لیے سرگرم ہیں۔سول نافرمانی ایک ایسا سیاسی عمل ہے جس میں عوام کسی حکومتی پالیسی یا فیصلے کے خلاف غیر قانونی طور پر مزاحمت کرتے ہیں۔ عمران خان کی قیادت میں پی ٹی آئی نے حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک چلائی تو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ترسیلات زر نہ بھیجنے کی کال بھی دی گئی تھی، تاکہ حکومت پر دباؤ ڈالا جا سکے۔ اس بیان میں ان کی کوشش تھی کہ پاکستانی عوام حکومت کی غیر مقبول پالیسیوں کا مقابلہ کریں۔تاہم، جنوری 2025 میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی طرف سے ترسیلات زر میں اضافہ ایک واضح پیغام دے رہا ہے کہ عوام اس قسم کے بیانیے سے متاثر نہیں ہوئے اور وہ اپنے ملک کی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔ یہ اضافے نہ صرف حکومت کے پالیسیوں پر اعتماد کا اظہار ہیں بلکہ اس بات کا بھی اشارہ ہیں کہ پاکستانی قوم کی محبت اپنے وطن کے ساتھ کبھی کم نہیں ہوتی۔

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق، جنوری 2025 میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے پاکستان بھیجی جانے والی ترسیلات زر 3 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو کہ 25 فیصد کا بڑا اضافہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ پیسہ پاکستان بھیجا ہے۔ یہ ایک بڑی کامیابی ہے اور اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی بیرون ملک اپنے وطن کی حالت بہتر بنانے کے لیے تیار ہیں۔یہ اضافہ حکومت کی معاشی پالیسیوں پر اعتماد کی علامت ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب بیرون ملک پاکستانی اپنے پیسوں کو پاکستان بھیجتے ہیں، تو اس کا مقصد صرف مالی امداد نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک علامت ہوتی ہے کہ وہ اپنے وطن کی معاشی ترقی کے لیے پرعزم ہیں۔ جنوری 2025 میں بھیجی جانے والی 3 ارب ڈالر کی رقم صرف اعداد و شمار کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک واضح پیغام ہے کہ پاکستان کے عوام اپنی حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں اور وہ معاشی بحران کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق جنوری 2025 میں سب سے زیادہ ترسیلات سعودی عرب سے آئیں، جہاں پاکستانیوں نے 72.83 کروڑ ڈالر بھیجے۔ اس کے بعد متحدہ عرب امارات سے 62.17 کروڑ ڈالر، برطانیہ سے 44.36 کروڑ ڈالر، اور امریکہ سے 29.85 کروڑ ڈالر پاکستان بھیجے گئے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد اپنے وطن کی معیشت کے لیے بھرپور تعاون کر رہی ہے۔ماہرین معاشیات اور سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ترسیلات زر میں اضافے کا ایک اہم سبب حکومت کی معاشی پالیسیوں پر بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا اعتماد ہے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ جب حکومت نے ملک کی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے، تو اس کا اثر بیرون ملک پاکستانیوں کی سوچ اور رویوں پر بھی پڑا۔یہ تمام ترسیلات زر اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ لوگ حکومت کی موجودہ پالیسیوں پر اعتماد کرتے ہیں اور وہ اپنے پیسوں سے پاکستان کی معاشی ترقی میں مدد کرنا چاہتے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر میں اضافہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پی ٹی آئی کا "ملک دشمن بیانیہ” اب اپنی موت آپ مر چکا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بیرون ملک پاکستانیوں نے اس بات کو سمجھا ہے کہ پاکستان کی معیشت کے لیے ہر شخص کا کردار اہم ہے، اور وہ کسی سیاسی جماعت یا بیانیے کے اثرات سے بالاتر ہو کر اپنے ملک کی مدد کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    جنوری 2025 میں ترسیلات زر میں اضافہ ایک اہم سنگ میل ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ پاکستانی عوام اپنے ملک کی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم ہیں۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ بیرون ملک پاکستانی کسی بھی سیاسی یا جذباتی بیانیے سے متاثر ہوئے بغیر اپنے وطن کی ترقی کے لیے فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ تمام اعداد و شمار اس بات کا غماز ہیں کہ پاکستان کے عوام اپنے وطن کے مستقبل کے لیے یکجا ہیں اور اپنے ملک کی معاشی حالت کو بہتر بنانے کے لیے اپنی مدد فراہم کر رہے ہیں۔یہ ایک پیغام ہے کہ اگر حکومت اور عوام کے درمیان ایک مثبت تعلق قائم ہو، تو ملک کو معاشی استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔

  • بابائے سندھی صحافت مولانا دین محمد وفائی. تحریر    :   ریحانہ صبغتہ اللّٰہ علوی

    بابائے سندھی صحافت مولانا دین محمد وفائی. تحریر : ریحانہ صبغتہ اللّٰہ علوی

    مولانا دین محمد وفائی 14اپریل 1894ءکو سندھ مردم خیز ضلع شکار پور کے گوٹھ بنی آباد میں پیدا ہوئے ۔
    ابتدائی تعلیم و تربیت ان کے والد حکیم گل محمد نے کی ۔جب مولانا نو برس کے ہوئے تو ان کے والد کا انتقال ہوگیا ۔والد کے انتقال کے بعد مزید تعلیم کی ذمّہ داری قریبی مدرسے کے استاد محمد اسلم کو سونپی گئی ان کی زیر نگرانی مولانا نے صرف 12سال کی عمر میں فارسی زبان میں مہارت حاصل کرلی ۔عربی زبان سیکھنے کے لئے انہوں نے لاڑکانہ کے علاقے سونو جتوئی میں واقع مدرسے کا رخ کیا ۔18 سال کی عمر میں آپ نے رسمی تعلیم مکمل کر لی۔اور اپنے کیریئر کا آغاز سکول ٹیچر سے کیا ۔کچھ ہی عرصے میں ان کی شہرت ایک بہترین استاد کی حیثیت سے پورے سندھ میں پھیل گئی ۔یہی وجہ تھی کہ رانی پور کے پیر نے اپنے بیٹوں کی تعلیم کے لئے آپ کو استاد مقرر کیا ۔اس کے بعد امام الدین راشدی نے اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کے لئے آپ کی خدمات حاصل کیں ۔

    مولانا دین محمد وفائی کا شمار سندھ کے ان بہادر سپوتوں میں ہوتا ہے جن پر یہ دھرتی ہمیشہ ناز کرتی رہے گی ۔
    مولانا صاحب ایک عالم فاضل شخص تھے ۔انہوں نے اگرچہ مغربی فلسفے سے بھی استفادہ کیا لیکن ان کی فکر کی اساس دانش مشرقی اور علوم دینیہ پر رکھی گئی تھی ۔ انہوں نے نثر اور نظم دونوں میں اپنے قلم کو آزمایا ۔ان کی تحریر کردہ کتب کی تعداد پانچ درجن سے زائد ہے ۔مولانا نے دنیائے صحافت سے اپنے جوہر منواۓ اور "توحید”کے عنوان سے سندھی پرچہ جاری کیا۔اس کے علاوہ انہوں نے تحریک خلافت کے دوران بھی مجاہدانہ کردار ادا کیا ۔ پہلی عالم گیر جنگ کے دوران ترکی کے عثمانی خلیفہ نے جرمنی کا ساتھ دیا ۔اس دور میں خلافت عثمانیہ کو دنیا بھر کے مسلمانوں کی نمائندہ حکومت سمجھا جاتا تھا ۔جب عثمانی خلیفہ نے سلطنت برطانیہ کے خلاف جہاد کا اعلان کیا تو بر صغیر کے مسلمانوں نے بھی انگریزوں کے خلاف مہم تیز کر دی ۔1918ءمیں ترکی کو جنگ میں شکست حاصل ہوئی جس کے نتیجے میں اتحادیوں نے عثمانی سلطنت کے حصے کر دئیے اور خلیفہ کا مستقبل سوالیہ نشان بن گیا ۔اسی پس منظر میں بر صغیر کے مسلمانوں نے "تحریک خلافت”چلائی تھی ۔
    1919ءمیں مولانا صاحب نے فیصلہ کیا کہ وہ ان حالات میں سیاست سے لا تعلقی اختیار نہیں کر سکتے اور یہ ان کی مذہبی ذمّہ داری ہے کہ وہ خلافت کے تحفظ کی عملی جدو جہد میں شریک ہوں ۔اس طرح انہوں نے تحریک خلافت کے سر گرم کارکن کے طور پر طویل اور صبر آزما جدو جہد کا آغاز کیا ۔جس کے نتیجے میں ان کا شمار سندھ کے قابل احترام سیاسی رہنماؤں میں ہونے لگا ۔
    انگریزوں نے جیسے ہی ہندوستان میں بڑھتے ہوئے سیاسی خطرے کی بو سونگھی فوراً ہی چند زر خرید علماء سے "تحریک خلافت”کی مخالفت میں فتویٰ دلا دیا ۔مولانا نے اس فتویٰ کے خلاف نہ صرف آواز بلند کی بلکہ تحریک بھی چلائی ۔اس حوالے سے انہوں نے مولانا تاج محمد امروٹی کی رہنمائی میں ایک کتاب بھی تحریر کی جو مارچ 1920ءمیں لاڑکانہ میں منعقدہ”خلافت کانفرنس”کے دوران تقسیم کی گئیں ۔اس کتاب کو خراجِ تحسین پیش کرنے والوں میں ابوالکلام آزاد ،مولانا شوکت علی اور مولانا عبد الباری لکھنوی جیسے جید علمائے کرام شامل تھے ۔
    مذکورہ کانفرنس کے بعد مولانا صاحب کو جمعیت العلمائے سندھ کا سربراہ مقرر کر دیا گیا ۔
    مولانا کی شخصیت کا ایک پہلو سندھی صحافت کے لیے ان کی گراں قدر خدمات بھی ہیں ۔1918ءمیں انہوں نے "الکاشف”کے نام سے ایک سندھی جریدے کی اشاعت شروع کی ۔1920ءمیں انہیں سندھی روز نامہ "الوحید”کی اشاعت اور مقبولیت بڑھانے میں نمایاں کردار ادا کیا ۔ان کے مضامین کو سندھی زبان وادب کے بہترین نمونوں میں شمار کیا جاتا ہے ۔مولانا صاحب کی صحافتی صلاحیتوں نے اسی پر اکتفا نہ کیا بلکہ انہوں نے کراچی سے سندھی زبان میں ایک ماہنامہ "توحید”کے نام سے جاری کیا اس پرچے کا سلوگن تھا
    توحید کی امانت سینوں میں ہے ہمارے
    آساں نہیں مٹانا ، نام ونشان ہمارا
    علمی ،ادبی،تاریخی،مذہبی،سماجی اور تعلیمی نوعیت کے مضامین اس پرچے کی زینت بنتے تھے ۔1943ءمیں مولانا صاحب نے ایک ہفت روزہ اخبار "آزاد”کے نام سے جاری کیا جو کراچی میں واقع ان کے پرنٹنگ پریس میں ہی چھپا کرتا تھا ۔بعد میں ان کے بیٹے علی نواز وفائی نے اس اخبار کی ذمّہ داریاں سنبھالیں ۔
    برٹش راج کے دنوں میں نصابی کتب کا آغاز ملکہ وکٹوریا کی تاجپوشی کے تذکرے سے اور اختتام اس وقت کے برطانوی حکمران شاہ جارج پنجم کی صحت اور درازی عمر کے لیے دعا پر ہوا کرتا تھا ۔مولانا نے اپنی تحریروں کے ذریعے ہندوستانی مسلمانوں کو اپنی سنہری تاریخ سے واقف کرانے کے لیے بھرپور جد و جہد کی کیونکہ ان کا موقف تھا کہ جو قوم اپنی تاریخ سے ناواقف ہو اس کی مثال اس شخص جیسی ہے جس کی یاد داشت کھو گئی ہو اور جب تک افراد ملت اپنے سنہرے ماضی سے بے خبر رہیں گے ان میں مستقبل کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے درکار خود اعتمادی پیدا نہ ہو سکے گی ۔
    مولانا سے متاثر ہوکر پیر علی محمد راشدی، پیر حسام الدین راشدی اور دیگر دانشوروں نے سندھ کی تاریخ کو اپنی تحریروں کا موضوع بنایا ۔
    مولانا نے تاریخی موضوعات پر جو کام کیا اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ
    پیر حسام الدین راشدی نے انہیں "سندھی مورخین”کا امام قرار دیا ۔
    سندھ کے ممتاز ماہر تعلیم ،شمس العلماء ڈاکٹر عمر بن محمد داؤد پوتہ انہیں "زندہ ڈکشنری”کہا کرتے تھے ۔
    جبکہ پیر علی محمد راشدی انہیں "چلتی پھرتی انسائیکلوپیڈیا”کہا کرتے تھے ۔
    مولانا صاحب محض مذہبی علوم میں ملکہ نہ رکھتے تھے بلکہ انہیں تاریخ ،عمرانیات،جغرافیہ،لسانیات اور قدیم سندھی شاعری پر بھی عبور حاصل تھا ۔شاہ عبد اللطیف بھٹائی کے کلام میں انہیں ممتاز مقام حاصل ہے ۔
    انہوں نے شاہ عبد اللطیف بھٹائی کے حوالے سے دو کتب تحریر کیں ۔جن میں شاہ عبد اللطیف بھٹائی کی تعلیم و تربیت اور فکری ارتقاء کو موضوع بنایا گیا ہے ۔جبکہ دوسری کتاب میں تاریخ بیان کی گئی ہے ۔انہوں نے 60سے زائد کتب تحریر کیں جن میں سے بعض کی اشاعت کی نوبت ہی نہیں آئی ۔
    ان کی مشہور و معروف تصانیف میں مشاہیر سندھ ،تجریدبخاری اور تجرید صحیح بخاری شامل ہیں ۔
    جسے احادیث کی مستند ترین کتاب کا پہلا سندھی ترجمہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے ۔
    مولانا صاحب کی دیگر کتب میں الہام باری ،محمد عربی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم ،صدیق اکبر رضہ،فاروق اعظم رضہ ،سیدنا عثمان غنی رضہ ،حیدر قرار رضہ ،خاتون جنت سیدہ فاطمتہ الزہرا رضہ ،اذکار حسین رضہ ،قرآنی صداقت،غوث اعظم ،ہندودھرم اور قربانی اور توحید اسلام جیسی کتب شامل ہیں ۔10اپریل1950ءکو سندھ کے اس عظیم مجاہد نے داعی اجل کو لبیک کہا ۔انہیں سکھر کے آدم شاہ قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا ۔اللہ تعالٰی ان کی مغفرت فرمائے اور جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے(آمین )

  • مقبول بٹ شہید کی 41 ویں برسی ، ایک عزم، ایک جدوجہد .تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    مقبول بٹ شہید کی 41 ویں برسی ، ایک عزم، ایک جدوجہد .تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    مقبول بٹ شہید کا نام تحریکِ آزادیٔ کشمیر میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ وہ ایک ایسے مجاہد تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی کشمیر کی آزادی کے لیے وقف کر دی اور بالآخر اسی راہ میں جان کا نذرانہ پیش کر دیا۔ ان کی شہادت محض ایک واقعہ نہیں بلکہ تحریکِ آزادی کا ایک اہم موڑ ثابت ہوئی۔ 11 فروری 1984 کو دہلی کی تہاڑ جیل میں ان کی پھانسی نے کشمیر کے عوام میں ایک نیا جوش و ولولہ پیدا کیا، جو آج بھی جاری ہے۔مقبول بٹ 18 فروری 1938 کو وادی کشمیر کے ضلع کپواڑہ کے ترہگام گاؤں میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک عام کشمیری گھرانے سے تعلق رکھتے تھے لیکن ان کی سوچ غیر معمولی تھی۔ وہ بچپن سے ہی غلامی اور ناانصافی کے خلاف حساس تھے۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے انہوں نے سری نگر اور پھر پاکستان کا رخ کیا، جہاں انہوں نے صحافت اور سیاست میں اپنی فکری نشوونما جاری رکھی۔

    ان کی سیاسی زندگی کا آغاز 1958 میں ہوا جب وہ کشمیریوں کے حقوق کے لیے سرگرم ہوئے۔ وہ سمجھتے تھے کہ کشمیر کا مسئلہ محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ یہ لاکھوں کشمیریوں کے بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ ہے۔ ان کی سوچ واضح تھی: کشمیر کو ایک خودمختار، آزاد ریاست ہونا چاہیے جو کسی بھی بیرونی تسلط سے پاک ہو۔
    1965 میں مقبول بٹ نے "جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ” (JKLF) کی بنیاد رکھی، جس کا مقصد کشمیر کی مکمل آزادی تھا۔ یہ تنظیم کشمیری قوم پرستی اور آزادی کے نظریے پر قائم کی گئی تھی۔ مقبول بٹ نے عسکری جدوجہد کا راستہ اختیار کیا، کیونکہ انہیں یقین تھا کہ طاقت کے بغیر کوئی قابض حکومت آزادی نہیں دیتی۔انہوں نے مسلح جدوجہد کے ذریعے بھارتی تسلط کے خلاف آواز بلند کی۔ 1966 میں وہ ایک اہم مشن کے دوران گرفتار ہوئے اور ان پر بغاوت، قتل اور غیر قانونی سرحد پار کرنے کے الزامات لگائے گئے۔ بھارتی حکومت نے انہیں سزائے موت سنائی، لیکن وہ 1968 میں جیل سے فرار ہو کر پاکستان پہنچ گئے، جہاں انہوں نے اپنی جدوجہد جاری رکھی۔پاکستان میں مقبول بٹ کو ایک اور چیلنج درپیش تھا۔ یہاں پر کشمیر کے مستقبل کے حوالے سے مختلف نقطہ نظر موجود تھے۔ کچھ لوگ کشمیر کو پاکستان کا حصہ بنانا چاہتے تھے، جبکہ مقبول بٹ کشمیر کی مکمل خودمختاری پر یقین رکھتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ان کے خیالات کو ہر جگہ مکمل حمایت نہ مل سکی۔ تاہم، انہوں نے اپنے اصولوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا اور مسلسل اپنی جدوجہد کو جاری رکھا۔1976 میں وہ دوبارہ بھارت گئے، جہاں انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ بھارتی حکومت نے انہیں دوبارہ سزائے موت سنائی، اور طویل عرصے تک قید میں رکھا گیا۔ اس دوران ان کے نظریات اور مقاصد مزید واضح ہو گئے۔ وہ سمجھتے تھے کہ اگر انہیں شہید کر دیا جائے تو ان کی قربانی کشمیری عوام کے لیے ایک نئی تحریک کو جنم دے گی۔

    11 فروری 1984 کو، بغیر کسی قانونی ضابطے کی تکمیل کے، بھارتی حکومت نے مقبول بٹ کو دہلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی دے دی۔ ان کی لاش کو بھی کشمیری عوام کے حوالے نہیں کیا گیا، بلکہ جیل کے اندر ہی دفن کر دیا گیا۔ یہ ایک ایسا واقعہ تھا جس نے پورے کشمیر میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی۔مقبول بٹ کی شہادت نے کشمیری نوجوانوں میں آزادی کی ایک نئی روح پھونکی۔ ان کی شہادت کے بعد کشمیر میں مسلح جدوجہد مزید شدت اختیار کر گئی، اور یہ تحریک آج بھی مختلف شکلوں میں جاری ہے۔مقبول بٹ کی قربانی نے کشمیر کی جدوجہد کو مزید مضبوط کر دیا۔ آج بھی کشمیری عوام ہر سال 11 فروری کو "یومِ شہادت” کے طور پر مناتے ہیں۔ ان کا فلسفہ سادہ تھا: آزادی کی جدوجہد میں اگر جان بھی دینی پڑے تو یہ ایک معمولی قربانی ہے۔کشمیریوں کے لیے مقبول بٹ صرف ایک فرد نہیں بلکہ ایک تحریک کا نام ہے۔ وہ نظریاتی، فکری اور عملی جدوجہد کی علامت ہیں۔ ان کے نظریات آج بھی کشمیری نوجوانوں کو متحرک کرتے ہیں اور آزادی کے حصول کی راہ میں رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔مقبول بٹ کی شہادت کے بعد بھی عالمی برادری نے کشمیر کے مسئلے پر وہ توجہ نہیں دی جو دی جانی چاہیے تھی۔ بھارت نے ہمیشہ اس معاملے کو "داخلی مسئلہ” قرار دے کر دبانے کی کوشش کی، جبکہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے باوجود مسئلہ کشمیر حل نہیں ہو سکا۔یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا عالمی طاقتیں انصاف کے اصولوں پر قائم ہیں یا صرف اپنے مفادات کے تابع ہیں؟ مقبول بٹ کی شہادت اس بات کا ثبوت ہے کہ کشمیری عوام کے حقوق کو نظر انداز کیا گیا اور آج بھی ان کی قربانیوں کو تسلیم نہیں کیا جا رہا۔مقبول بٹ کی قربانی رائیگاں نہیں گئی۔ وہ ایک ایسا بیج بو گئے جو آج تناور درخت بن چکا ہے۔ کشمیر کے بچے، بوڑھے، جوان سبھی ان کی جدوجہد کو اپنا رہنما سمجھتے ہیں۔ ان کے نظریات آج بھی زندہ ہیں اور کشمیریوں کی جدوجہد میں ان کا عکس نظر آتا ہے۔

    کیا کشمیری عوام کو وہ حق ملے گا جس کے لیے مقبول بٹ نے جان دی؟ کیا عالمی برادری انصاف کرے گی؟ یہ سوال آج بھی موجود ہیں، لیکن ایک بات طے ہے کہ جب تک کشمیری عوام میں مقبول بٹ جیسے جذبے موجود ہیں، آزادی کی یہ شمع کبھی نہیں بجھے گی۔

  • چولستان، بین الاقوامی ثقافتی میلہ اور 20ویں جیپ ریلی

    چولستان، بین الاقوامی ثقافتی میلہ اور 20ویں جیپ ریلی

    چولستان، بین الاقوامی ثقافتی میلہ اور 20ویں جیپ ریلی
    تحریر: ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    چولستان جیپ ریلی کا آغاز 2005 ء میں ہوا جو کہ اب ایک بین الاقوامی سطح کی سرگرمی بن چکی ہے، جس میں نامور ملکی و غیرملکی مرد ڈرائیورز کے ساتھ ساتھ اب خواتین ڈرائیورز بھی حصہ لیتی ہیں۔

    سرائیکی خطہ ہزاروں سال سے قدیم تہذیب وتمدن اور ثقافت کا مرکز بنتا آرہا ہے۔روہی چولستان اور سرائیکی وسیب جسم و روح کی مانند ہیں۔سابق سرائیکی ریاست موجودہ ڈویژن بہاولپور دنیا میں لینگؤیج ،لٹریچر،آرٹ،کلچر اور ایگری کلچر میں ایک منفرد اعزاز رکھتا ہے۔چولستان کا دل روایتی فنون لطیفہ کی علامت قلعہ ڈیراور کے مقام پر 20ویں انٹرنیشنل جیپ ریلی کا آغاز 12فروری تا 16 فروری 2025ء درحقیقت خوشحالی اور تعمیر نو کے نئے سفر کی نوید ہے۔قرآن مجید میں اللہ رب العزت نے فرمایا "سِیْرُوا فِی الْأَرْضِ” (سَیْرُوا فِی الْأَرْضِ)جس کا مطلب ہے "زمین میں چل پھر کر دیکھو” یا "زمین میں سیر کرو” ۔ یہ آیت قرآنِ کریم میں کئی مقامات پر آئی ہے، جیسے کہ سورۂ نمل (27:69)،سورۂ عنکبوت (29:20)، سورۂ محمد (47:10) اس کا مفہوم یہ ہے کہ لوگ زمین میں سیر و سیاحت کریں، تاریخ سے سبق سیکھیں،پچھلی قوموں کے انجام پر غور کریں اور اللہ کی نشانیوں کو دیکھیں تاکہ ان کے ایمان میں اضافہ ہو۔

    زمین کی سیر سے رزق ملتا ہے۔صدیوں سے انسان روٹی روزی اور قتل وغارت کے خوف سے ایک خطے سے دوسرے خطے تک ہجرت کرتا رہا ہے۔کل کی ہجرت آج موجودہ عہد میں سیرو سیاحت نے تجارت کو فروغ دیا۔اس دوران انسان نے مختلف علاقوں کی تہذیب و تمدن،لباس ،ثقافت،زبانیں، رسوم و رواج، ادب، فنون کو سیکھا اور آپنی نئی نسل تک منتقل کیا۔اب دنیا میں سیر و ساحت باقاعدہ ایک ثقافتی ،سماجی، معاشی خوشحالی کا ذریعہ بن چکی ہے۔خوبصورت پہاڑ، دریا،جنگل،سمندر،میدان اور صحراء قدرتی مناظر مالی وسائل کی شکل اختیار کرچکے ہیں۔سات سےآٹھ ہزار سال قدیم تاریخی شہر گنویری والا چولستان سرائیکی وسیب کی تمدنی عظمت کی گواہی دراصل پوری دنیا کے لیے انسانی امن ومحبت پیغام اور مشترکہ تہذیبی ورثے کا گہوارہ ہے۔قدیم آثارقدیمہ ریسرچ ورک کے مطابق وادی ہاکڑہ سرسوتی تہذیب وتمدن،جس کو میں وادی سرائیکی تہذیب وتمدن مانتا ہوں۔کیونکہ حرف س سے سرسوتی،سرسوتی سے سرائیکی،سرائیکی زبان میں حرف س سے لفظ سنا، سنا کا مطلب پانی ہے۔پانی انسان، حیوان، نباتات و جمادات کی زندگی کی رونق ہے۔

    سرائیکی لفظ سنا سے سندھ بنا ہے۔پھر اس دریا کی نسبت سے وادی سندھ تہذیب وتمدن کی بنیاد بنی۔جس کی ماں وادی ہاکڑہ سرسوتی تہذیب وتمدن روہی چولستان ہے۔آج بھی دریائے سندھ کو پاکستان میں ابا سین کہا جاتا ہے۔دراصل یہ لفظ اباسئیں ہے۔سب کا باپ۔اس پر ہزاروں صدیوں پرانا سرائیکی آکھان جیئں نہ ڈٹھا ملتان نہ او ھندو نہ او مسلمان۔اردو ضرب المثل”آگرہ اگر دلی مگر ملتان سب کا پدر، سرائیکی دھرتی کی عظمت کا اعتراف ہے۔آج بھی سندھ میں سرائیکی زبان کو فوقیت حاصل ہے۔یونانی حملہ آوروں کی زبان میں حرف "س” کی جگہ "ا” الف یا "ہ” بولا جاتا ہے، جیسے سندھ سے "ہند” یا "اند” ہے۔لفظ سندھستان سے ہندوستان ہوگیا۔جس طرح سندھی زبان کے حروف تہجی میں ں نون غنہ کو لکھنے میں ن لکھا جاتا ہے۔پھر اباسئیں سے اباسین ہوگیا۔آج ہمارے پیارے ملک پاکستان میں سب سے میٹھی اور مرکزی زبان سرائیکی ہی ہے۔جو پاکستان کے ہر صوبے میں بولی اور سمجھی جاتی ہے۔دریائے سرسوتی ندی کی بندرگاہ پتن منارہ صحراء چولستان میں موجود ہے۔قرآن مجید میں اصحاب الرس سے مراد بھی چولستان گنویری والا قدیم ترین شہر کی طرف گواہی ہے۔

    کل سے صحراء چولستان میں ثقافتی میلہ اور سپورٹس ایونٹ اہم مرحلہ جیپ ریلی کا آغاز ہوگا۔چولستان جیپ ریلی پاکستان کی ایک مشہور آٹو ریس ہے۔اس کی شروعات جکارتہ ڈاکار جیپ ریلی کی طرز 2005ء میں ہوا۔ اب ہر سال یہ انٹرنیشنل ایونٹ سرائیکی قلب محلوں کے شہر بہاولپور کی تحصیل احمد پور شرقیہ کے سابق شاہی دارالحکومت ڈیرہ نواب صاحب سے تقریبا 50 کلو میٹر دور روہی چولستان میں منعقد ہوتا ہے۔ یہ ایونٹ نہ صرف پاکستان میں بلکہ دنیا بھر میں ایک مشہور اور دلچسپ ریلی کے طور پر جانا جاتا ہے۔ بین الاقوامی چولستان جیپ ریلی 2005ء سے اب تک مقامی سرائیکی وسیب کے ساتھ پاکستان سمیت عالمی شہرت یافتہ ایک اہم کلچرل ایونٹ بن چکا ہے۔خواب سے حقیقت کا یہ خوبصورت سماں جاری ہے۔جس میں دنیا بھر کے ڈرائیورز اور آٹوموبائل شوقین افراد شرکت کرتے ہیں۔اس کا پاکستان کے خوبصورت تصوف علاقے سرائیکی وسیب کے ورلڈ چولستانی صحرائی ماحول میں منعقد ہونا مقامی سطح پر روزگار فراہمی کا بہترین ذریعہ ہے۔اس ایونٹ کا مقصد نہ صرف آٹو ریسنگ کو فروغ دینا ہے بلکہ چولستان کی قدیم تہذیب وتمدن،ثقافت،تاریخ اور قدرتی خوبصورتی کو دنیا کے سامنے لانا بھی ہے۔چولستان کے علاقے کی دلکش صحرا، روایتی دیہاتی زندگی اور تاریخی مقامات اس ایونٹ کو منفرد بناتے ہیں۔

    چولستان جیپ ریلی کا روٹ سخت اور چیلنجنگ ہوتا ہے۔جس میں ریت کے ٹیلے، پتھریلی زمین اور تیز ہوا کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ ایونٹ ڈرائیورز کے لیے اپنی مہارت، تجربے اور قوت ارادی کا امتحان ہوتا ہے۔ ریلی کے دوران ڈرائیورز کو مختلف مشکل راستوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ جن میں ریت کی چٹانیں،ٹیلے،دریائےسرسوتی کے خشک گمشدہ صحرائی راستے شامل ہیں۔ ریلی کے دوران مقامی ثقافت کی نمائش بھی کی جاتی ہے۔سرائیکی لوک موسیقی،مشاعرہ، جھومر،روایتی لباس اور کھانوں کے سٹال بھی سجائے جاتے ہیں۔ یہ ایونٹ ایک موقع ہوتا ہے جہاں لوگ نہ صرف سپورٹس کا لطف اٹھاتے ہیں بلکہ مقامی ثقافت سے بھی روشناس ہوتے ہیں۔مختلف مقابلوں میں 4×4 جیپ ریسنگ، موٹر سائیکل ریسنگ اور کلاسک کار ریسنگ شامل ہیں۔ یہ مقابلے مختلف سطحوں پر ہوتے ہیں تاکہ ہر قسم کے شرکاء کی شرکت ممکن ہو۔اس موقع پر دنیا بھر سے سیر و سیاحت کے شوقین اور کلچرل ایکسپرٹ بھی ورلڈ ہیرٹیج قلعوں سمیت دیگر تاریخی مقامات کی سیر کرتے ہیں۔ورلڈ میگا ثقافتی و سپورٹس ایونٹ چولستان جیپ ریلی سے سیاحت میں بھی اضافہ ہوا ہے اور ملکی وقار و زر مبادلہ میں خاطر اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ریسرچرز مقامی چولستانی اقدار اور قدرتی خوبصورتی کا تجربہ بھی کرتے ہیں۔

    چولستان جیپ ریلی نہ صرف ایک سپورٹس ایونٹ ہے بلکہ یہ پاکستان کی ثقافت،تاریخی ورثہ اور قدرتی خوبصورتی کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ہرسال اس ایونٹ کی مقبولیت بڑھ رہی ہے اور یہ دنیا بھر کے آٹو موبائل شوقین افراد کے لیے ایک بڑا موقع بن چکا ہے۔چولستان جیپ ریلی مقامی اور قومی سطح پر معاشی فوائد کا باعث بنتی جارہی ہے۔آرکیالوجی،ثقافتی،سماجی، تاریخی و معاشی فوائد میں آپس میں اتحاد ویکجہتی،رواداری، خلوص،فطرت شناسی جیسے عظیم جذبوں اور روزگار جیسے اقتصادی مواقعوں کو فروغ ملتا ہے۔اس سے مقامی ہوٹلوں،ریستورانوں اور دیگر سیاحتی سہولتوں کا کاروبار بڑھتا ہے۔مقامی کاروبار میں ترقی دیکھنےکو ملتی ہے۔ کھانے پینے کی اشیاء، سامان، اور یادگاروں کی فروخت میں اضافہ ہوتا ہے۔ملازمت کے مواقع ملتے ہیں جیسے کہ گاڑیوں اور خیمہ بستیوں کی سیکیورٹی کے مقامی لوگوں کی بھرتی ہوتی ہے۔اسی طرح زرعی ترقی میں کلیدی اضافہ ہوتا ہے۔

    سیاحوں کی آمد سے چولستان کے اطراف کے کسانوں کو بھی فائدہ ہوتا ہے۔کیونکہ ان کا مال مویشی اور زرعی مصنوعات کی فروخت میں بھی خاطر خواہ اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے۔نیشنل و انٹرنیشنل مارکیٹنگ کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔حکومت اور پرائیویٹ سیکٹر پارٹنرشپ میں لین دین بڑھ جاتا ہے۔مقامی سطح کی ثقافت اور قدرتی حسن کو عالمی پذیرائی حاصل ہوتی ہے۔ملک کی نیک نامی اور برآمدات میں اضافے سے ترقی کا پہیہ چلتا ہے۔ سرمایہ کاری کے مواقع بڑھتے ہیں۔اب ضرورت اس امر کی ہے کہ سرائیکی خطے میں معاشی خوشحالی اور ترقی کے لیے چولستان جیپ ریلی کے مرکزی مقام قلعہ ڈیراور پر ہاکڑہ میوزیم قائم کیا جائے، سرسوتی یونیورسٹی کے قیام کو عملی شکل دی جائے اور چولستانی دستکاریوں کے فروغ کے لیے چولستان ترقیاتی ادارہ گنویری والا میں بنایا جائے۔ مستقبل میں ان مستقل اداروں کے قیام سے نہ صرف مقامی آبادی کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے بلکہ پورا سال جاری سیاحتی سرگرمیوں سے ملکی معیشت بھی مضبوط ہوگی۔ اس سے سرائیکی خطے کی ہزار سالہ ثقافت، تہذیب اور تمدن کو فروغ ملے گا اور ملک کو بے شمار معاشی فوائد حاصل ہوں گے۔سرائیکی قومی شاعر حضرت خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ کا کلام روہی چولستان کی شادابی کی عملی دستاویزات ہیں۔

    ہنڑ تھی فریدا شاد ول
    ڈکھڑیں کوں نہ کر یاد ول
    اجھو جھوک تھیسی آباد ول
    ایہ نیں نہ واہسی ہک منڑیں ۔

  • ویلفیئر سکول اور اوکاڑہ کا مزدور

    ویلفیئر سکول اور اوکاڑہ کا مزدور

    ویلفیئر سکول اور اوکاڑہ کا مزدور
    تحریر:ملک ظفراقبال
    اوکاڑہ ایک گنجان آباد شہر ہے۔ اوکاڑہ کے گردونواح میں سینکڑوں دیہات ہیں۔ اوکاڑہ پہلے لاہور ڈویژن کا حصہ تھا اور اب ساہیوال ڈویژن میں شامل ہے۔ اوکاڑہ کی سرزمین کئی وجوہات کی بنا پر توجہ کا مرکز رہی ہے۔ اوکاڑہ کی سرزمین کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ تعلیم ہو یا سیاسی میدان، زراعت ہو یا کھیل کا میدان، اوکاڑہ کا ہمیشہ پنجاب میں نمایاں مقام رہا ہے۔

    اگر بات مزدور کے بچوں کی تعلیم و تربیت کی جائے تو شاید اوکاڑہ ڈسٹرکٹ اس میدان میں بہت پیچھے رہ گیا ہے، جس کی وجہ سے مزدوروں کے بچے احساس کمتری کا شکار ہیں۔ جس کی سب سے بڑی وجہ ویلفیئر سکول کا نہ ہونا ہے۔ ویلفیئر سکول خاص طور پر انڈسٹری میں کام کرنے والے ورکروں کے بچوں کو مفت تعلیم دینے کے لیے بنائے جاتے ہیں اور ورکروں کے بچوں کو مفت تعلیم اور دوسری سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔

    اوکاڑہ میں ویلفیئر سکول نہ ہونا ورکروں کے لیے ذہنی اضطراب کا سبب بنا ہوا ہے۔ گزشتہ کئی سالوں سے اس سلسلے میں کئی بار حکامِ بالا کو بذریعہ خط و کتابت آگاہ کیا جا چکا ہے اور اوکاڑہ کے سیاستدانوں اور انتظامیہ کو بھی مطلع کیا گیا ہے مگر آج بھی ورکر ویلفیئر سکول کا وجود اوکاڑہ میں نہیں ہے۔ اس سلسلے میں ورکر ویلفیئر بورڈ کے چیئرمین کو بھی اپنے تحفظات سے آگاہ کیا جا چکا ہے۔

    اوکاڑہ کے ورکروں کا وزیرِ اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ سے مطالبہ ہے کہ جلد از جلد دوسری سکیموں کی طرح ورکر ویلفیئر سکول کا افتتاح کیا جائے تاکہ ورکروں کے بچوں کو احساسِ محرومی سے بچایا جا سکے۔ ورکر ویلفیئر سکولز ان خاندانوں کے بچوں کے لیے ضروری ہیں جو مزدور طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور جن کے وسائل محدود ہوتے ہیں۔ یہ سکول نہ صرف معیاری تعلیم فراہم کرتے ہیں بلکہ طلبہ کو وہ سہولیات بھی مہیا کرتے ہیں جو عام سرکاری یا نجی سکولوں میں مہنگی ہونے کی وجہ سے مزدوروں کے بچوں کی پہنچ سے باہر ہوتی ہیں۔

    ورکر ویلفیئر سکول کی ضرورت اور اہمیت کا اندازہ کچھ اس طرح لگایا جا سکتا ہے کہ یہ سکول مزدوروں کے بچوں کو جدید اور معیاری تعلیم فراہم کرتے ہیں تاکہ وہ بھی دوسرے بچوں کے برابر ترقی کر سکیں۔
    ان سکولوں میں فری تعلیم، کتابیں، یونیفارم، ٹرانسپورٹ اور دیگر بنیادی سہولیات دی جاتی ہیں تاکہ کم آمدنی والے والدین کا تعلیمی بوجھ کم ہو۔
    کئی ورکر ویلفیئر سکولز میں تکنیکی اور فنی تعلیم (vocational training) بھی دی جاتی ہے تاکہ طلبہ مستقبل میں ہنر سیکھ کر خود کفیل بن سکیں۔
    یہ سکول مزدوروں کے بچوں کو وہی مواقع فراہم کرتے ہیں جو دیگر اعلیٰ طبقے کے بچوں کو میسر ہوتے ہیں، جس سے معاشرتی ناہمواری کم ہوتی ہے۔
    کئی ورکر ویلفیئر سکولز میں میڈیکل چیک اپ، کھیل کود، اور دیگر صحت مند سرگرمیوں کا اہتمام کیا جاتا ہے تاکہ بچوں کی جسمانی اور ذہنی نشوونما بہتر ہو۔
    یہ سکول دراصل مزدوروں کے حقوق کی حفاظت کا ایک ذریعہ ہیں، کیونکہ تعلیم یافتہ نسل مستقبل میں اپنے والدین کے مسائل کو بہتر انداز میں حل کر سکتی ہے۔

    اوکاڑہ کے مزدور والدین کا وزیرِ اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف سے مطالبہ ہے کہ اوکاڑہ میں ورکر ویلفیئر سکول کا قیام عمل میں لایا جائے۔

    ورکر ویلفیئر سکول ایک معاشرتی اور تعلیمی ضرورت ہیں جو مزدور طبقے کے بچوں کو روشن مستقبل کی امید فراہم کرتے ہیں۔ حکومت اور نجی اداروں کو مل کر ان سکولوں کی تعداد بڑھانی چاہیے تاکہ زیادہ سے زیادہ بچے تعلیم سے مستفید ہو سکیں۔