Baaghi TV

Category: بلاگ

  • بے باک صحافت  کی ایک روشن مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

    بے باک صحافت کی ایک روشن مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

    پاکستانی صحافت کی دنیا میں بعض شخصیات ایسی ہیں جنہوں نے نہ صرف اپنی محنت اور عزم سے کامیابیاں حاصل کیں بلکہ ان کی جرات مندانہ اور بے باک اندازِ صحافت نے انہیں عوام کے دلوں میں ایک خاص مقام دے دیا۔ ان شخصیات میں سے ایک اہم نام مبشر لقمان کا ہے، جنہوں نے ہمیشہ سچ کی پرچار کی ہے اور کبھی بھی کسی خوف یا دباؤ کے آگے نہ جھکے ہیں نہ بکے ہیں۔ ان کا مشہور پروگرام "کھرا سچ” صرف ایک پروگرام نہیں بلکہ ایک تحریک بن چکا ہے جس میں وہ سچ کو بے لاگ اور بے دھڑک طریقے سے پیش کرتے ہیں۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد عوام کو سچ سے آگاہ کرنا اور ان کے ذہنوں میں موجود مفروضات کو توڑنا ہے۔

    مبشر لقمان کا صحافتی سفر ہمیشہ ایک چیلنج کی طرح رہا ہے۔ پاکستان کی صحافتی دنیا میں جہاں اکثر ادارے اور صحافی مختلف دباؤ کا شکار رہتے ہیں، وہاں مبشر لقمان نے کبھی کسی دباؤ کو خاطر میں نہیں لایا۔ ان کا پروگرام "کھرا سچ” اس بات کا غماز ہے کہ صحافت میں اگر سچ بولنے کا عزم ہو تو آپ تمام مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے سچ کو عوام تک پہنچا سکتے ہیں۔مبشر لقمان کا یہ جرات مندانہ رویہ نہ صرف پاکستانی میڈیا میں بلکہ جونیئر صحافیوں کے لئے ایک اہم سبق بھی ہے۔ وہ ہمیشہ سچ کے علمبردار بنے رہے ہیں اور سچ کو بیان کرنے میں کسی بھی قسم کے خوف کا شکار نہیں ہوئے۔ ان کا یہ بے خوف طرزِ صحافت پاکستان کے نوجوان صحافیوں کے لئے ایک روشن مثال ہے۔ وہ ہمیں سکھاتے ہیں کہ صحافت کا اصل مقصد عوام کو حقیقت سے آگاہ کرنا ہے، چاہے اس کے بدلے میں ہمیں کسی بھی قسم کی مشکلات کا سامنا کیوں نہ کرنا پڑے۔

    پاکستان میں سچ بولنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جس کے لئے آپ کو نہ صرف جرات کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ آپ کو مختلف دباؤ، تنقید، گالیاں اور کبھی کبھار مقدمات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن مبشر لقمان جیسے صحافی ہمیشہ سچ کے ساتھ کھڑے رہے ہیں، خواہ اس کے لئے انہیں ذاتی یا پیشہ ورانہ مشکلات کا سامنا ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔

    ہم جیسے لکھاری اور صحافی ہمیشہ مبشر لقمان کے تجزیوں اور رپورٹنگ سے کچھ نہ کچھ سیکھتے ہیں۔ ان کا دبنگ انداز، عزم اور جرات ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ صحافت صرف معلومات فراہم کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ایسا فریضہ ہے جس میں سچائی کا پرچار کرنا سب سے اہم ہے۔”کھرا سچ” ایک ایسا پروگرام ہے جس میں مبشر لقمان نہ صرف معاشرتی اور سیاسی معاملات پر گہرے تجزیے پیش کرتے ہیں بلکہ وہ ان مسائل کی حقیقت کو بھی بے نقاب کرتے ہیں جنہیں عموماً نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ ان کا یہ پروگرام پاکستانی عوام کے لئے ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے جس سے وہ نہ صرف اپنے ارد گرد کے حالات سے آگاہ ہوتے ہیں بلکہ انہیں ملک کے اہم مسائل کی حقیقت بھی سامنے آتی ہے۔یہ پروگرام پاکستانی میڈیا میں ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے کیونکہ اس میں مبشر لقمان کسی بھی جانب داری یا مفادات کے بغیر صرف اور صرف سچ بولتے ہیں۔ اس میں حقیقت کو کھلے دل سے بیان کیا جاتا ہے، چاہے وہ کسی کو پسند آئے یا نہ آئے۔

    آج سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کی سالگرہ منا ئی جا رہی ہے، تو ہم ان کے شجاعانہ اور سچے رویے کو سراہتے ہیں، ان کی بے باک صحافت نے نہ صرف میڈیا کے معیار کو بلند کیا ہے بلکہ بہت سے نوجوان صحافیوں کو یہ سکھایا ہے کہ سچ بولنے کا عزم کیا ہوتا ہے۔ ان کی سالگرہ پر ہم انہیں دل کی گہرائیوں سے دعائیں دیتے ہیں اور ان کی کامیابیوں کی مزید بلندی کی خواہش رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں صحت مند، کامیاب اور خوشحال زندگی دے اور ان کی جرات مندانہ صحافتی کاوشوں کو ہمیشہ کامیابیوں سے ہمکنار کرے۔آمین

    تحریر: محمدمزمل اقبال

    میدان صحافت میں جرات کی مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کی سالگرہ

    فہیم حیدر پر کروڑوں کی بارش، مبشر لقمان کو خاموش رہنے کی اپیل

    کھرا سچ کے میزبان،مبشر لقمان، کا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

  • میدان صحافت میں جرات کی مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

    میدان صحافت میں جرات کی مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

    آج پاکستان کے معروف سینئر صحافی اور اینکر پرسن مبشر لقمان کی سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ مبشر لقمان نہ صرف ایک کامیاب اینکر ہیں بلکہ ان کا شمار پاکستان کے ان چند صحافیوں میں ہوتا ہے جو ہمیشہ اپنی باتوں میں سچائی اور ایمانداری کو مقدم رکھتے ہیں۔ ان کا پروگرام "کھرا سچ” اس بات کا عکاس ہے کہ وہ کسی بھی موضوع پر کھری اور بے لاگ بات کرنے سے نہیں ڈرتے، چاہے وہ موضوع کتنا ہی تنازعہ کیوں نہ ہو۔

    مبشر لقمان کی صحافت کی خاص بات یہ ہے کہ وہ نہ صرف حکومتوں کے خلاف بلکہ اس سے بھی بڑھ کر اُن طاقتور لوگوں کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں جو عوام کے حقوق کو پامال کرتے ہیں۔ وہ اپنے پروگراموں میں ہمیشہ سچ اور حق کا علم بلند کرتے ہیں اور اپنے تجزیے اور رپورٹنگ میں کسی قسم کی ترمیم یا مصلحت سے بچتے ہیں۔ ان کا مقصد صرف اور صرف سچ کا احاطہ کرنا ہے تاکہ عوام کو حقیقی صورتحال کا پتا چل سکے۔تحقیقاتی صحافت مبشر لقمان کا شیوہ ہے،بنا کسی خوف،لالچ کے انہوں نے سب کی کرپشن کو بے نقاب کیا،

    مبشر لقمان نے اپنے پروگراموں میں پاکستان دشمن قوتوں اور انتہا پسند جماعتوں کی حقیقت کو بے نقاب کیا ہے، جنہوں نے ملک کے مفاد کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ ان کی جرات مندی اور بے خوفی کی بدولت کئی سنجیدہ مسائل عوام کے سامنے آ گئے ہیں۔عمران خان کے قریب تر رہنے والے مبشر لقمان نے جب عمران خان اور بشریٰ کی کرپشن دیکھی تو سب سے پہلے آواز بلند کی اور نہ صرف عمران خان،بشریٰ بی بی بلکہ پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کی کرپشن کے حوالے سے مبشر لقمان نے سب سے پہلے پردہ اٹھایا اور قوم کے سامنے انکی حقیقت لے کر آئے،

    مبشر لقمان کی صحافتی خدمات نہ صرف ان کے پروگرامات کی مقبولیت میں اضافہ کر رہی ہیں بلکہ وہ اپنی بے باک رپورٹس کے ذریعے پاکستانی عوام کی نظر میں ایک محنتی اور سچا صحافی کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ان کی صحافت میں کبھی بھی ذاتی مفاد یا سیاسی تعلقات کا دخل نہیں رہا، اور یہ ہی ان کی کامیابی کا راز ہے۔آج ان کی سالگرہ کے موقع پر، ہم سب مبشر لقمان کی طویل زندگی اور کامیاب صحافتی سفر کے لیے دعا گو ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ وہ ہمیشہ اسی طرح اپنی جرات مندانہ صحافت کے ذریعے پاکستانی عوام کے سامنے سچ لاتے رہیں گے، تاکہ ہم سب حقیقت سے آگاہ رہیں اور ملک کی ترقی کی راہوں پر قدم رکھ سکیں۔

    مبشر لقمان کا "کھرا سچ”، ان کی محنت اور لگن کا عکاس ہے، اور ان کا یہ عہد کہ وہ ہمیشہ سچائی کو منظر عام پر لائیں گے، ان کے پروگرام کھرا سچ کو عوام میں اتنی مقبولیت ہے کہ لوگ ان کی باتوں کو بے دھڑک سننے اور سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مبشر لقمان کو ان کی سالگرہ پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد اور دعا دیتے ہیں کہ اللہ انہیں ہمیشہ صحت مند رکھے اور ان کے مشن میں کامیاب کرے۔آمین

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کی سالگرہ

    فہیم حیدر پر کروڑوں کی بارش، مبشر لقمان کو خاموش رہنے کی اپیل

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    لنڈی کوتل: فلاحی کارکن پر پولیس تشدد، ایس ایچ او عدنان آفریدی معطل

  • سرائیکی خطے کی رنگین چنی، دلہنوں کا دلکش پہناوا،تیسری قسط

    سرائیکی خطے کی رنگین چنی، دلہنوں کا دلکش پہناوا،تیسری قسط

    سرائیکی خطے کی رنگین چنی، دلہنوں کا دلکش پہناوا
    تحقیق و تحریر: ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی

    خلاصہ
    اس قسط میں ہینڈی کرافٹ مقامی چنی کی معدومیت کے عوامل اور اس کے زوال پر بات کی گئی ہے۔جدید فیشن،معاشی مشکلات اور مقامی مارکیٹ کی کمی کی وجہ سے چنی کا استعمال کم ہو رہا ہے۔اس کا معقول معاوضہ نہ ملنا اور نوجوان نسل کی عدم دلچسپی بھی اس کی کمیابی کا سبب بن رہی ہے۔تاہم،سرائیکی ثقافت کے اس اہم جزو کو بچانے اور اس کی اہمیت کو دوبارہ اجاگر کرنے کی ضرورت ہے،تاکہ یہ قیمتی دستکاری زندہ رہ سکے۔

    تیسری آخری قسط
    چنی کا زوال اور اس کا مستقبل
    چولستان روہی میں چنی کو خاص مقام حاصل ہے۔شادی بیاہ میں جہیز اس کے بغیر نامکمل تصور کیا جاتا ہے۔امیر مائی بچپن سے ہی خوبصورت چنیاں بناتی آئی ہیں۔ جو اب ہر علاقے کی خواتین خاص مواقع پر خریدتی اور اوڑھتی ہیں۔امیر مائی اور خالہ سلمی جیسی بے شمار غریب خوددار ہنر مند خواتین نے چھوٹی عمر میں اپنی نانی اور والدہ سے اس فن کو سیکھا اور پھر اپنی اولادوں کو سکھا رہیں ہیں۔دیرہ بکھا امیر مائی کا ہنر مند خاندان صدیوں سے اس کلچرل آرٹ سے منسلک ہے اور اس فیملی کا ذریعہ معاش بھی ہے۔

    پہلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    سرائیکی خطے کی رنگین چنی، دلہنوں کا دلکش پہناوا
    دوسری قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    سرائیکی خطے کی رنگین چنی، دلہنوں کا دلکش پہناوا

    اس قبیلے نے نہ صرف اپنے بچوں بلکہ پورے عباس نگر کو یہ فن سکھایا ہے۔اور اب تقریبا پورا گاؤں اس کام سے منسلک ہوچکا ہے ۔یہ کام مشکل اور محنت طلب ہے۔سب سے پہلے کپڑا لیا جات ہے،اگر پورا سوٹ بنانا ہو تو چھ سے آٹھ میٹر تک کپڑا لگتا ہے۔اس پر سب سے پہلے پکے ٹھپے سے ڈیزائن بنایا جاتا ہے۔ پھر سوٹ یا الگ چنی پر کون سا ڈیزائن یا رنگ جچےگا،اس کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ اور یہ بھی خیال رکھا جاتا ہے کہ رنگوں میں نفاست،پائیداری اور پکے رنگ ہوں۔

    سرائیکی رنگ بھری بہاولپوری چنی اپنی خوبصورتی کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہے۔مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس قیمتی ہنر کی صحیح معنوں میں قدر و قیمت نہیں ہورہی۔اتنی محنت مشقت کے باوجود اس کا معاوضہ اس طرح نہیں ملتا،جتنا ہونا چاہیے۔اس مقامی دستکاری کا سب سے زیادہ فائدہ اس مقامی صنعت سے وابستہ کاروباری منافع خور لوگ اٹھاتے ہیں۔

    ریسرچ سے معلوم ہوا ہے کہ سرائیکی وسیب اور دلہن کے لئے بنائی جانے والی چنی کی معدومیت کے پیچھے کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔سرائیکی دھرتی کا چنی کا کام ایک خوبصورت فنون لطیفہ کا شاہکار ہے۔جو ہینڈی کرافٹ کے زمرے میں آتا ہے،اس میں ثقافتی حسین رنگ
    ،علاقائی پہچان،اقتصادی اور سماجی عوامل شامل ہیں۔جدید مغربی فیشن اور ٹیکنالوجی نے سادہ نفیس خوبصورت لباسوں اور ثقافتوں پر اثر ڈالا ہے،جس کے نتیجے میں نوجوان نسل کے درمیان مغربی طرز زندگی اور فیشن کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے روایتی کلچرل سرائیکی لباس کے حسن،چنی کے پہناوے میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

    عہدِ جدید کی اقتصادی مشکلات بھی غریب مقامی صنعت کے زوال کا سبب بن رہی ہیں۔چنی بنانے کا عمل محنت طلب اور مہنگا ہے،جس میں کئی قسم کی کڑھائی،رنگائی اور دیگر فنون شامل ہیں۔ مہنگائی اور معاشی مشکلات نے اب روایتی فنون کو زندہ رکھنا مشکل بنا دیا ہے۔سرائیکی علاقوں میں چنی تیار کرنے والے ہنر مند افراد میں کمی واقع ہو رہی ہے،کیونکہ نئی نسل اس ہنر کو سیکھنے میں دلچسپی نہیں رکھتی،جس کی وجہ سے یہ فن اور صنعت بتدریج معدومیت کا سامنا کررہی ہے۔

    مقامی کاروباری حضرات کی مارکیٹ میں غفلت اور سستی بھی اس شاندار تاریخی ہینڈی کرافٹ کو شدید خطرات میں ڈال دیا ہے۔سرائیکی چنئی والے عروسی لباس کی مقامی مارکیٹ میں کمی نے بھی اس کے استعمال کو متاثر کیا ہے،سب سے اہم مسئلہ حکومتی سطح پر سرپرستی کا نہ ہونا،ایکسپورٹ امپورٹ سہولیات کی عدم سہولیات،معاشی مالی بحران اور بےروزگاری ہے۔جس کی وجہ سے زیادہ تر لوگ مہنگی چنئی کی بجائے دیگر سستے اور آسانی سے دستیاب کپڑے خریدنے کو ترجیح دیتے ہیں۔عہد جدید میں نئی ثقافتی سرگرمیوں،ثقافتی تبدیلیوں کی دوڑ، گلوبلائزیشن اور مختلف ثقافتوں کے اثرات نے بھی مقامی ریت روایات اور رسم و رواج کو متاثر کیا ہے،جس کی وجہ سے سرائیکی چنی جیسے روایتی لباس کا استعمال کم ہوا ہے۔

    ان وجوہات کی بنا پر سرائیکی وسیب میں چنی کی ہینڈی کرافٹ معدومیت کے سفر پر گامزن ہے۔اور یہ ایک پیچیدہ مسئلہ بن چکا ہے۔جس کا فوری حل ضروری ہے۔اس کے لئے حکومتی اداروں، ثقافتی تنظیموں اور مقامی کمیونٹی کو مشترکہ طور پر کام کرنا ہوگا تاکہ رنگوں کی امن پسند دنیا ہمیشہ آباد و شاد رہے۔ میرے نزدیک رنگ ہی خوبصورت زندگی کی گواہی ہیں۔سرائیکی حسین رنگوں کی روحانی دھرتی خوبصورت امن پسند رنگوں کا قصہ گاتی رہے اور ہم آپس میں امن ومحبت،اتحاد اور انسانیت کے رنگ ایک دوسرے کے ساتھ سانجھ کرتے رہیں۔

    باغوں میں رنگ برنگے پھول،خوبصورت چرند پرند کی رنگین پیاری آوازیں،انسانوں کے مختلف رنگ،پیارے دلکش چہرے،الگ روایتی لباس،متنوع ثقافتوں میں روحانی مادری زبانوں کے میٹھےسریلے انداز اور حسین رنگ برنگی وادیوں کی تخلیق،ندیوں،دریاوں،سمندر،اور آسمان سے بارش کے رنگ برنگے خوبصورت شبنم کے پھول کی مانند چکمتے قطرے کائنات کے حسن بھرے رنگین رازوں کی گواہی ہیں۔دنیا کو رنگ دو۔سرائیکی وسیب کے سنگ دو۔

  • سرائیکی خطے کی رنگین چنی، دلہنوں کا دلکش پہناوا،پہلی قسط

    سرائیکی خطے کی رنگین چنی، دلہنوں کا دلکش پہناوا،پہلی قسط

    سرائیکی خطے کی رنگین چنی، دلہنوں کا دلکش پہناوا
    تحقیق و تحریر: ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    سرائیکی خطے کی رنگین چنی، ثقافت اور جمالیات کا امتزاج
    قسط کا خلاصہ
    اس قسط میں سرائیکی خطے کی رنگین چنی کی جمالیاتی خصوصیات اور اس کے ثقافتی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ چنی کو دلہن کے لباس کا لازمی جزو سمجھا جاتا ہے، جو شادی کے موقع پر اس کی خوبصورتی اور اہمیت کو بڑھاتا ہے۔ چنی کی مختلف رنگوں اور ان کے معنوں کا ذکر کیا گیا ہے، جن میں سرخ، سبز، نیلا، گلابی، اور دیگر رنگ شامل ہیں، جو زندگی کی سچائیوں اور امیدوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔

    پہلی قسط
    کائنات کی خوبصورتی رنگ اور عورت کے حسن سے مزین ہے۔ لال، سرخ، لالی، سرخی اور دلہن کا آپس میں گہرا، دلنشین، دلربا، رنگین، سجاوٹ بھرا، شاندار، پیارا رشتہ دو خاندانوں میں نئی زندگی، حیا، وفا، اعتماد، چاہت، خلوص،احترام، محبت و یقین کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہوتا ہے۔ اللہ پاک حسین و جمیل خوبصورت ہے اور حسن و خوبصورتی کو بے حد پسند فرماتا ہے۔ حدیث مبارکہ کا مفہوم: "دنیا کی بہترین خوبصورت متاع نیک بیوی ہے”۔ رنگ ہی سے رنگوں کی خوبصورت کہکشائیں، گلاب کی رنگینی سے خوبصورت دلفریب خوشبوئیں،گلاب کی پنکھڑی جیسی نرم و نازک حسین دلربا دوشیزائیں دلہنوں کی ادائیں حقیقت میں بہاروں کے موسم، موسیقی و نغمہ اور امن و محبت کا پیغام ہیں۔ چنی کے جمالیاتی خوبصورت رنگوں میں سرخ، سبز، میرون، نیلا، گلابی، پیلا،سفید، سکائی بلیو، سکن کلر، نارنگی، کیمل کلر زندگی کی سچائیوں اور امیدوں کے نام ہیں۔یہ سارے رنگ چنی کے رنگ ہیں

    سرائیکی وسیب کی دلکش چنی، جسے چنری بھی کہا جاتا ہے، شادی کے مواقع پر خواتین کے لباس کا لازمی حصہ اور خطے کی ثقافتی شناخت کا اہم جزو ہے۔ چنی نرم، رنگین اور خوبصورت کپڑے کا وہ ٹکڑا ہے جو دلہن کے لباس کو مکمل کرتا ہے۔ یہ لباس نہ صرف دلہن کی خوبصورتی کو بڑھاتا ہے بلکہ سرائیکی وسیب کی پہچان، تہذیب و تمدن، سوچ، ریت، رسم و رواج کا ایک اہم حصہ ہے۔

    شادی کے موقع پر دلہن کا چنی پہننا ایک خاص ثقافتی رسم و رواج اور روایت ہے، جو خاندانوں کی خوشی اور عورت کی اہمیت کا اظہار کرتا ہے۔سرائیکی علاقے میں چنی خواتین کی محبت، عزت اور وقار کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ یہ رسم و رواج کا حصہ ہے، جس سے سماج میں آپس میں یکجہتی، احساس اور رواداری کو فروغ ملتا ہے۔

    سرائیکی تہذیب و تمدن اور ثقافت کے رنگوں سے مالامال چنی سرائیکی وسیب میں شادی کے خاص موقع کا روایتی پہناوا بن چکی ہے۔ چنی جو شادی کے موقع پر دلہن کے لباس کا ایک لازمی جزو سمجھا جاتا ہے۔ جسے دلہن کے سر یا چہرے پر ڈالا جاتا ہے۔ اس کا مقصد دلہن کی خوبصورتی کو بڑھانا اور اس کے لباس کو مکمل کرنا ہوتا ہے۔سرائیکی وسیب میں چنی، جس کو چنری بھی کہا جاتا ہے، شادی و خوشی کے موقع پر اس کی اہمیت ثقافتی، سماجی اور جذباتی لحاظ سے بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔

    اس کی اہمیت کو مختلف پہلوئوں سے دیکھا جا سکتا ہے۔سرائیکی ثقافتی ورثے میں کھسہ کی طرح رنگوں بھری چنی بھی سرائیکی ثقافت کا ایک اہم جزو ہے، جو نسل در نسل منتقل ہو رہی ہے۔ اس میں مقامی ہنر مندوں کی مہارت اور محنت جھلکتی ہے، جیسے کڑھائی، رنگائی اور ڈیزائن کی منفرد مہارتیں جو اس لباس کو مخصوص اور بے مثال بناتی ہیں۔چنی دلہن کی شناخت ہے۔

    سرائیکی علاقے میں چنی خواتین کی محبت، عزت اور وقار کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ شادی کے موقع پر دلہن کا چنی پہننا ایک خاص ثقافتی رسم و رواج اور روایت ہے، جو خاندانوں کی خوشی اور عورت کی اہمیت کا اظہار کرتا ہے۔ یہ دلکش لباس عموما سرائیکی دلہن کی خوبصورتی اور عزت کو نمایاں کرتا ہے۔
    جاری ہے….

  • ہندوستان میں چشتیہ سلسلے کی ابتدا اور فروغ میں علماء دیوبند کا کردار

    ہندوستان میں چشتیہ سلسلے کی ابتدا اور فروغ میں علماء دیوبند کا کردار

    ہندوستان میں چشتیہ سلسلے کی ابتدا اور فروغ میں علماء دیوبند کا کردار
    تحریر: عبدالجبار سلہری

    ہندوستان کی تاریخ میں مختلف روحانی سلسلے اور صوفی تصوف کی متعدد شاخیں موجود ہیں، جنہوں نے نہ صرف مذہبی تشکیلات کو متاثر کیا بلکہ سماجی اور ثقافتی زندگی پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔ ان میں ایک اہم اور ممتاز سلسلہ چشتیہ سلسلہ ہے، جس نے ہندوستان کی روحانیت، تصوف، اور اسلامی تعلیمات میں نمایاں تبدیلیاں پیدا کیں۔ اگرچہ چشتیہ سلسلے کی ابتدا ابتدائی اسلامی ادوار میں ہوئی، لیکن اس کے فروغ اور ترقی میں علماء دیوبند کا کردار نہایت اہم اور منفرد رہا۔

    علماء دیوبند کی علمی، دینی، اور تصوف کی تعلیمات نے ہندوستان میں اسلامی فکری و ثقافتی میدان پر گہرا اثر چھوڑا ہے۔ دیوبند کی تحریک نے نہ صرف ہندوستانی مسلمانوں کی مذہبی و دینی بنیادوں کو مستحکم کیا بلکہ چشتیہ سلسلے کے روحانی پیغام کو بھی فروغ دیا۔ یہ مضمون ان تمام پہلوؤں کا جائزہ لے گا کہ کس طرح چشتیہ سلسلے کی ابتدا اور اس کے فروغ میں علماء دیوبند نے اہم کردار ادا کیا اور اس کے اثرات کا تذکرہ عالمی تاریخ کے تناظر میں کیا جائے گا۔
    چشتیہ سلسلہ تصوف کا ایک عظیم سلسلہ ہے، جس کی بنیاد حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ نے رکھی تھی۔ خواجہ معین الدین چشتیؒ کا ہندوستان میں تشریف لانا اور ان کی تعلیمات کا پھیلاؤ ہندوستانی معاشرت میں ایک نئی روح پھونکنے کے مترادف تھا۔ چشتیہ سلسلے کا بنیادی مقصد اللہ کی محبت اور انسانیت کی خدمت تھا، جس میں تصوف کے اہم اصول، جیسے خود شناسی، تزکیہ نفس، اور اللہ کی رضا کی کوشش، پر زور دیا گیا۔

    "جس طرح خواجہ معین الدین چشتیؒ ہندوستان میں سلسلۂ چشتیہ کے مؤسس و بانی ہیں، فرید الدینؒ گنج شکر اس کے بعد اس سلسلے کے آدمِ ثانی ہیں۔ آپ ہی کے دو خلفاء، سلطان المشائخ حضرت نظام الدین دہلویؒ اور شیخ علاؤالدین علی صابر کلیریؒ کے ذریعے یہ سلسلہ ہندوستان میں پھیلا اور ان کے خلفاء و اہلِ سلسلہ کے ذریعے اب بھی زندہ و قائم ہے۔”

    علماء دیوبند کا تعلق ایک ایسی دینی تحریک سے ہے جو 1866ء میں دیوبند شہر میں قائم ہوئی۔ اس تحریک کا مقصد مسلمانوں میں اسلامی تعلیمات کی صحیح تفہیم کو فروغ دینا تھا۔ دیوبند کی تحریک نے ہندوستانی مسلمانوں کو اپنی روایات کے مطابق اسلامی تعلیمات اور عقائد کی طرف متوجہ کیا، جس میں تصوف کے بھی اہم پہلو شامل تھے۔ دیوبند کا فلسفہ دین کی صحیح تفہیم، شریعت کی پاسداری، اور اسلام کی اصولی تعلیمات پر مبنی تھا۔

    علماء دیوبند نے تصوف اور چشتیہ سلسلے کے اصولوں کو اپنے دینی اور علمی کاموں میں شامل کیا۔ اگرچہ دیوبند کی تحریک بنیادی طور پر علمی و دینی اصلاحات پر زور دیتی تھی، لیکن اس میں تصوف کے روحانی پہلو کو بھی اپنانے کی گنجائش تھی۔ دیوبند کے علماء نے نہ صرف اسلامی فقیہت اور حدیث پر مہارت حاصل کی بلکہ تصوف کے روحانی پہلو کو بھی اپنی تعلیمات کا حصہ بنایا۔

    چشتیہ سلسلے اور دیوبند کی تحریک میں ایک غیر معمولی ہم آہنگی تھی جو بعد ازاں ان دونوں کے تعلقات میں گہرے اثرات کا سبب بنی۔ چشتیہ سلسلے کی ابتدا اور اس کے پھیلاؤ میں علماء دیوبند کا کردار اس وقت واضح ہوتا ہے جب ہم ان دونوں کے مشترکہ اصولوں کو دیکھتے ہیں۔ خواجہ معین الدین چشتیؒ کی تعلیمات میں انسانیت کی خدمت اور اللہ کی رضا کی جستجو پر زور دیا گیا تھا، اور دیوبند کے علماء نے اس کا اصولی احاطہ کیا۔

    حضرت تھانویؒ نے اپنی تصنیفات اور خطبات میں چشتیہ سلسلے کے روحانی پیغام کی تائید کی اور اس کے فوائد کو اجاگر کیا۔ ان کے مطابق، چشتیہ سلسلے کی تعلیمات انسان کو اللہ کے قریب لاتی ہیں اور اس کی روحانیت کو بیدار کرتی ہیں۔

    حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے بھی تصوف اور چشتیہ سلسلے کے اصولوں کو اسلامی تعلیمات کے ساتھ ہم آہنگ کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ انسان کی روحانی ترقی اور تزکیہ نفس کے لیے چشتیہ سلسلے کی تعلیمات کو اپنانا ضروری ہے۔ ان کے مطابق، اللہ کی محبت اور انسانیت کی خدمت کے اصول کسی بھی معاشرتی یا دینی ترقی کے لیے ناگزیر ہیں۔

    ہندوستان میں چشتیہ سلسلے کی ابتدا اور اس کے فروغ میں علماء دیوبند کا کردار انتہائی اہم تھا۔ دیوبند کے علماء نے نہ صرف چشتیہ سلسلے کی تعلیمات کو اپنایا بلکہ ان کے پیغام کو مزید تقویت بخشی۔ انہوں نے چشتیہ سلسلے کو اسلامی تعلیمات کے ساتھ ہم آہنگ کیا اور اس کے روحانی فوائد کو عوام تک پہنچایا۔

    یہ بات واضح ہے کہ علماء دیوبند نے چشتیہ سلسلے کے پیغام کو اس انداز میں پیش کیا کہ وہ نہ صرف روحانی سکون کا ذریعہ بنے بلکہ ایک کامیاب معاشرتی ترقی کے لیے بھی راہ ہموار کی۔ ان دونوں کا اشتراک ایک مثالی نمونہ ہے، جس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ روحانیت اور دنیاوی ترقی کے درمیان ہم آہنگی ممکن ہے، اور اس میں علماء دیوبند کا کردار ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

  • فرحت عباس شاہ بڑا شاعر لیکن۔۔۔

    فرحت عباس شاہ بڑا شاعر لیکن۔۔۔

    فرحت عباس شاہ بڑا شاعر لیکن۔۔۔
    تحریر: شاہد نسیم چوہدری
    فرحت عباس شاہ ایک ممتاز شاعر ہیں جن کی شخصیت اور خیالات ہمیشہ سے بحث کا موضوع رہے ہیں۔ پچھلے دنوں ایک دوست نے ان کے طرزِ تکلم اور خیالات کے بارے میں مجھ سے گلہ کیا، جو وہ علی زریون اور تہذیب حافی کے حوالے سے رکھتے ہیں، لیکن میں نے اسے سنجیدگی سے نہیں لیا کیونکہ میرا اصول ہے کہ سنی سنائی باتوں پر یقین نہ کروں۔ میں نے دوست سے صاف کہا کہ وہ بڑے شاعر ہیں، آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہوگی۔ آپ غلط کہہ رہے ہیں، کیونکہ میرے نزدیک بغیر ثبوت کے کسی کی رائے کو قبول کرنا مناسب نہیں۔

    تاہم، حالیہ دنوں میں فرحت عباس شاہ کے ایک انٹرویو نے میرے خیالات کو جھٹلا دیا۔ ان کے بیانات نے وہی کچھ ظاہر کیا جو میرے دوست نے کہا تھا۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہم اکثر تعصبات یا ذاتی پسند ناپسند کی بنیاد پر دوسروں کے بارے میں رائے قائم کرتے ہیں۔ اس واقعے نے مجھے سکھایا کہ کبھی کبھار دوسروں کی باتوں پر کان دھرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔

    مشہور شاعر فرحت عباس شاہ کے اس انٹرویو میں، نوجوان اور مقبول شاعر تہذیب حافی کے حوالے سے تلخ اور غیر شائستہ گفتگو کی گئی۔ فرحت عباس شاہ جیسے بڑے نام سے ایسی باتوں کی توقع نہیں تھی، کیونکہ وہ خود ایک وسیع تجربے اور ادب کے میدان میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ انہوں نے تہذیب حافی کو "بیوقوف” کہا اور ان کی شاعری کو کمتر ثابت کرنے کی کوشش کی۔ یہ بیان مجھ سمیت کئی ادبی دوستوں کے لیے حیرت اور دکھ کا باعث بنا۔

    ادب اور شاعری انسانی جذبات، خیالات، اور فطرت کے احساسات کو بیان کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔ یہ صرف الفاظ کی جنبش نہیں بلکہ دل کی گہرائیوں سے نکلنے والے جذبات کا ایک خوبصورت اظہار ہے۔ اردو ادب کی تاریخ میں ہمیشہ سے ہی مختلف خیالات اور نظریات کے ٹکراؤ نے ادب کو وسعت دی ہے۔ مگر کبھی کبھار، ہم دیکھتے ہیں کہ تخلیقی دنیا میں شخصی تنقید اور ذاتی حملے ادبی اقدار کو مجروح کرتے ہیں۔

    ادب کے دائرے میں اختلافِ رائے ایک فطری عمل ہے، مگر اس کی حدود کو پار کرنا، کسی کی تخلیقی صلاحیت کو کمتر ثابت کرنا، یا ذاتی حملے کرنا نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ ادب کی روح کے بھی منافی ہے۔ ہر تخلیق کار اپنی طرز کا منفرد ہوتا ہے اور اس کا کام اس کی شخصیت، ماحول، اور جذبات کی عکاسی کرتا ہے۔ تہذیب حافی کی شاعری نے نئی نسل کے دلوں میں جگہ بنائی ہے، ان کے اشعار میں سادگی، جذبات، اور گہرائی نمایاں ہیں۔

    فرحت عباس شاہ کا بیان نہ صرف تہذیب حافی بلکہ ان کے مداحوں کے لیے بھی ایک تلخ تجربہ ثابت ہوا۔ ادب کے بڑے ناموں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کریں، نہ کہ ان کی صلاحیتوں پر حملہ کریں۔ ادب کی دنیا میں بڑے نام وہی بنتے ہیں جو دوسروں کے لیے راستہ ہموار کریں، نہ کہ ان کی راہ میں کانٹے بچھائیں۔

    ادب میں وسعت اور برداشت ہونی چاہیے۔ ادب کی خوبصورتی اسی میں ہے کہ یہ مختلف خیالات اور نظریات کو جگہ دیتا ہے۔ ہر شاعر اور ادیب کا اپنا انداز ہوتا ہے۔ اقبال کی فلسفیانہ شاعری، غالب کی گہرائی، اور فیض کی انقلابی شاعری سب اپنے اپنے دائرے میں مقبول ہیں۔ اسی طرح، تہذیب حافی نے بھی اپنے انداز میں اردو شاعری کو ایک نئی سمت دی ہے۔ شاعری صرف مشکل الفاظ اور پیچیدہ خیالات کا نام نہیں بلکہ سادہ الفاظ میں گہری بات کہنے کا فن بھی شاعری ہے۔ تہذیب حافی کی مقبولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ نئی نسل کے دلوں کی بات کرتے ہیں۔ ان کے اشعار میں ایک ایسی گہرائی ہے جو نوجوانوں کی زندگی کے مسائل، محبت، اور جذبات کی عکاسی کرتی ہے۔

    عزت صرف اور صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ہر انسان کی عزت اور شہرت اللہ کی دین ہے۔ کوئی کسی کو عزت نہیں دے سکتا اور نہ چھین سکتا ہے۔ یہ اللہ کی مرضی ہے کہ وہ کس کو کس مقام پر فائز کرتا ہے۔ فرحت عباس شاہ کی گفتگو نے اس بات کی یاد دہانی کرائی کہ بڑا نام ہونا ضروری نہیں کہ آپ بڑا دل بھی رکھتے ہوں۔ تہذیب حافی جیسے شاعروں کو چاہیے کہ وہ ان باتوں کو دل پر نہ لیں اور اپنی تخلیقی دنیا میں مصروف رہیں۔

    ادب میں مثبت رویوں کی ضرورت ہے، اور خاص طور پر ایک بڑے شاعر کو اس طرح کی باتیں کر کے اپنا قد چھوٹا نہیں کرنا چاہیے۔ ادب کو ذاتی اختلافات اور انا کی قربانیوں سے پاک رکھنا وقت کی ضرورت ہے۔ ہمارے معاشرے کو ایسے ادیبوں کی ضرورت ہے جو نہ صرف تخلیقی میدان میں آگے بڑھیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی احترام اور برداشت کا مظاہرہ کریں۔ فرحت عباس شاہ جیسے ادیبوں کو اپنی تنقید کے انداز پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ وہ ادب کی دنیا میں اپنی عظمت کو اسی وقت برقرار رکھ سکتے ہیں جب وہ دوسروں کو بھی عزت دینا سیکھیں گے۔

    ادب صرف خیالات کے اظہار کا نام نہیں بلکہ یہ دلوں کو جوڑنے اور ذہنوں کو وسعت دینے کا ذریعہ بھی ہے۔ ہمیں ان تلخ واقعات سے سیکھنا چاہیے اور ادب کے میدان میں مثبت رویوں کو فروغ دینا چاہیے۔ شخصی تنقید سے زیادہ ضروری ہے کہ ہم تخلیقی آزادی، برداشت، اور ادب کے احترام کی روایت کو زندہ رکھیں۔ یاد رکھیں، عزت اور شہرت صرف اللہ کی عطا ہے، اور اس کا صحیح استعمال ہی ہماری اصل کامیابی ہے۔ ادب کی دنیا میں اصل عظمت نہ الفاظ کی گہرائی میں ہوتی ہے اور نہ ہی شہرت کی بلندی میں، بلکہ رویوں میں پوشیدہ ہوتی ہے۔

    مارکیٹ میں یہ بات زباں زدِ عام ہے کہ فرحت عباس شاہ جیسے سینئر شاعر کا یہ کہنا کہ وہ علی زریون یا تہذیب حافی جیسے شاعروں کے ساتھ کسی پروگرام میں شرکت نہیں کریں گے، ان کے دل کی "بڑائی” کو خوب واضح کرتا ہے۔ دوسری طرف، علی زریون کا یہ کہنا کہ اگر فرحت عباس شاہ میرے پروگرام میں ہوں تو وہ ان کے گھٹنوں کو ہاتھ لگائیں گے، ایک حقیقی بڑے انسان کی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔

    یہ رویوں کا فرق ہے جو بتاتا ہے کہ عزت کیسے کمائی جاتی ہے اور کیسے کھوئی جاتی ہے۔ ایک طرف انا، حسد، اور تکبر کا بوجھ ہے، تو دوسری طرف عاجزی، احترام، اور وقار کا مظاہرہ۔ فرحت عباس شاہ جیسے لوگوں کو شاید یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بڑائی لفظوں کی نہیں، بلکہ کردار کی ہوتی ہے۔ علی زریون کا جواب ادب کے اُس اصل سبق کی یاد دہانی ہے جسے شاید کچھ "بڑے” شاعر بھول چکے ہیں۔ ہمیں ادب کا یہ سبق ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ عزت وہی پاتا ہے جو دوسروں کو عزت دینا جانتا ہے۔

    بلاشبہ، فرحت عباس شاہ شاعری میں بڑا نام رکھتے ہیں، لیکن جونیئر شاعروں کے بارے میں ان کا طرزِ تکلم اور خیالات اچھے نہیں۔

  • سرائیکی خطے کی رنگین چنی، دلہنوں کا دلکش پہناوا،دوسری قسط

    سرائیکی خطے کی رنگین چنی، دلہنوں کا دلکش پہناوا،دوسری قسط

    سرائیکی خطے کی رنگین چنی، دلہنوں کا دلکش پہناوا
    تحقیق و تحریر: ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    altafkhandahir@gmail.com
    قسط کا خلاصہ
    اس قسط میں چنی کی ثقافتی اہمیت اور اس کے سرائیکی وسیب کی پہچان پر زور دیا گیا ہے۔ چنی سرائیکی ثقافت کا ایک اہم حصہ ہے، جس میں مقامی ہنر مندوں کی محنت اور مہارت شامل ہے۔ یہ لباس نہ صرف دلہن کی خوبصورتی کو بڑھاتا ہے، بلکہ اس کی عزت اور وقار کا بھی اظہار کرتا ہے۔ چنی شادی کے مختلف مواقع پر پہنا جاتا ہے اور اس کے ذریعے سماج میں یکجہتی اور محبت کو فروغ ملتا ہے۔
    دوسری قسط
    چنی کا ثقافتی پہلو اور سرائیکی وسیب کی شناخت
    رنگوں کی اپنی ایک مخصوص زبان اور اظہار ہوتا ہے۔رنگ کو زندگی کی خوبصورت علامت سمجھا جاتا ہے۔خوشی غمی دونوں میں رنگ کا ایک اپنا کردار رہا ہے۔شادی کی تقریبات میں خواتین رسم مہندی و جاگا پر چنی نہ صرف زیبائش کے لیے پہنتی ہیں۔ بلکہ یہ مختلف ثقافتی و سماجی تہواروں و رسومات میں بھی شامل ہے،جیسے بچے کی پیدائش،منگنی شادی کی تقریب،برات کی تقریب، گانا چھوڑانے کی رسم،عیدیا دیگر خوشی کے مواقع پر اس کا استعمال ہوتا ہے۔
    پہلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    سرائیکی خطے کی رنگین چنی، دلہنوں کا دلکش پہناوا
    یہ رسم و رواج کا حصہ بن چکی ہے، جس سے خاندانوں اور سماج میں آپس میں محبت، یکجہتی،احساس ہمدردی اور رواداری کو فروغ ملتا ہے۔سرائیکی لوگ اپنے گھروں میں چنی کی خوبصورت رسم کو ساری رات جھمر رقص کی شکل میں گانوں کی دھنوں پر ادا کرتے ہیں۔

    سرائیکی چنی بنانے کے لیے مقامی کاریگروں کو سخت محنت کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ کام مقامی صنعت کے ساتھ معیشت کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے۔ چنی کی تیاری اور فروخت مقامی سطح پر روزگار کے مواقع بھی فراہم کررہی ہے۔خواتین گھروں میں کام کرتی ہیں۔بازاروں میں بھی کام کیا جاتا ہے۔ بہاولپور کے شاہی بازار،رنگیلا بازار میں خصوصا خواتین کی بناو سنگھار کی اشیاء فروخت ہوتیں ہیں،جن میں چنی کو خاص مقام حاصل ہے۔

    پورے سرائیکی وسیب سمیت اسلام آباد، لاہور، ملتان، پشاور، کراچی، سکھر، پاکستان بھر کی خواتین سرائیکی خطے کی خاص چنی کو پہننا اپنے لیے عزت، شان،وقار، اعزاز و محبت کی علامت سمجھتی ہیں۔چنی میں ایک الگ جمالیاتی،جذباتی اور نفسیاتی اثر انگیزی پائی جاتی ہے۔چنی خواتین کی خود اعتمادی اور خوبصورتی میں بے پناہ اضافہ کرتی ہے۔یہ ان کے حسن،ثقافتی شناخت کا زیور اور اعلی کلاسک پہناوا بن چکی ہے۔اس کے ذریعے خواتین اپنی روایات،تہذیب وتمدن، تاریخ،کلچر،رتبہ،عزت اور خاندان کی محبت کا اظہار کرتیں ہیں،جو ان کے تخیلاتی معیارات،جذباتی
    اور نفسیاتی سکون کے لیے اہم ہے۔

    سرائیکی وسیب میں چنی کی اہمیت صرف ایک روایتی لباس کی حد تک محدود نہیں بلکہ یہ اس علاقے کی پہچان،امن ومحبت،ثقافت،ادب، تہذیب و تمدن اور معاشرے کی رنگین گہرائیوں سے جڑی ہوئی ہے۔ماضی میں سرائیکی وسیب اور دیگر علاقوں میں دلہن کے لباس کو مکمل سمجھنے کے لیے چنی کا ہونا ضروری جانا جاتا تھا۔

    کیونکہ یہ ایک مخصوص سرائیکی علاقے روہی چولستان بہاولپوری ثقافتی اور روایتی رنگوں کی خوشبو کا عکاس ہے۔آج جدید ٹیکنالوجی کے دور میں اس کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔اس کی ڈیمانڈ دبئی،سعودی عرب،انگلینڈ،امریکہ،انڈیا راجستھان تک ہے۔جہاں جہاں سرائیکی افراد موجود ہیں وہ اپنی روایتی رنگولی چنی کو خوشی و شادمانی کی علامت سمجھ کر اعزاز و شان سے پہن کر فخر محسوس کرتے ہیں۔

    امیر ترین سابق سرائیکی عباسیہ ریاست بہاولپور کے دیہاتی علاقے عباس نگر، چنی دا گوٹھ (چنیاں بناون والیاں دی چھوٹی وستی) جس کی چنیاں دنیا بھر میں مشہور ہیں۔اس کے علاوہ تحصیل احمد پور شرقیہ اور قدیم تاریخی شہر اوچ شریف میں بھی گھروں میں محنت کش خواتین چنیوں کے کپڑے پر خوبصورت گوٹہ کناری کا باریک کام کرکے دوسرے شہروں میں فروخت کے لیے بھیجتی ہیں۔احمد پور شرقیہ کے محلہ شکاری کی خود دار بیوہ خالہ سلمی اپنے گھر اپنی یتیم بچیوں کے ساتھ سارا سارا دن چنی پر گوٹہ کناری سے سخت محنت طلب کام کرکے اپنے غریب خاندان کا پیٹ پال رہی ہیں۔

    اسی طرح سوشل میڈیا رپورٹ کے مطابق بہاولپور،ڈیرہ بکھا، تحصیل خیر پور ٹامیوالی،چشتیاں ،حاصل پور، بہاول نگر روڈ پر واقع عباس نگر دیہات کی گیارہ سال کی عمر سے ہی چنیاں بنانے والی امیر مائی کا کہنا ہے کہ پہلے صرف چولستان کی خواتین ہی اس کو پہنتی تھیں،لیکن اب بہاولپور کی چنیوں کی طلب پوری دنیا میں ہو رہی ہے۔روہی چولستان میں نان مسلم ہندو کمیونٹی، جن کو سرائیکی وسیب میں مڑیچہ کہا جاتا ہے،قدیم وادی ہاکڑہ تہذیب و تمدن کے ڈیراوری قبائل میں بھیل،کول،سنتھال صدیوں سے اپنی رنگین چنی کے پہناوے سے منسلک آ رہے ہیں۔عباس نگر گاؤں کی بنی ہوئی رنگ برنگی، مخصوص پکے ٹھپے کے ڈائزین سے بنی چنیاں نہ صرف بہاولپور بلکہ پوری دنیا میں ایک الگ پہچان رکھتی ہیں ۔۔
    جاری ہے

  • نئی ٹرمپ انتظامیہ،پاکستان کی حکمت عملی،تجزیہ:شہزاد قریشی

    نئی ٹرمپ انتظامیہ،پاکستان کی حکمت عملی،تجزیہ:شہزاد قریشی

    نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے پاکستان میں سبکدوش ہونے والی امریکی سفیر سے ملاقات میں نئی امریکی انتظامیہ کے ساتھ مثبت روابط جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ قارئین نئی ٹرمپ انتظامیہ کو لے کر پاکستان کی سیاسی جماعتوں بالخصوص پی ٹی آئی نے سوشل میڈیا پر ایک ہنگامہ برپا کیا ہے ۔ یاد رکھئے امریکہ کی ٹرمپ انتظامیہ ہو یا ماضی کی انتظامیہ سب سے پہلے امریکی مفادات کو دیکھا جاتا ہے۔ امریکہ میں کانگریس، سینیٹ ، سی آئی اے انسانی حقوق کا پرچار کرنے والوں کے ساتھ پینٹا گان موجود ہے امریکی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے پینٹا گان کی پالیسی سب پر حاوی ہوتی ہے۔ امریکہ ملک میں سیاسی جماعتوں کو لے کر آگاہ ہے ملک کی جو سیاسی جماعتیں اپوزیشن میں رہتے ہوئے پاک فوج اور جملہ اداروں پر تنقید کرتی ہیں وہ اقتدار میں ذاتی اور جماعتی مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے اس کی حمایت کرتے ہیں ملک کی سیاسی جماعتوں میں بدلتے اتحادوں، انحراف آپس کی لڑائی اور اقربا پروری سے امریکہ سمیت مغربی ممالک آگاہ ہیں۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے امریکہ پاک فوج کو زیادہ قابل اعتماد سمجھتے ہیں۔ امریکہ پاکستان کو اسلامی ممالک اور خطے کا اہم ملک سمجھتا ہے پاکستان ایک جوہری طاقت ہے ایک مستحکم اور خوشحال پاکستان خطے پر مثبت اثرات مرتب کرے گا امریکہ پاکستان تعلقات پاکستان کی ترقی کو فروغ دے سکتے ہیں۔ بہت سے امریکی ٹیکنو کریٹس فوجی اور امریکی سفارتکاروں کی نظر میں پاکستان نے بالخصوص پاک فوج اور جملہ اداروں نے دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خاتمے کے لئے اہم کردار ادا کیا اور پاکستان آج بھی دہشت گردی کا مقابلہ کر رہا ہے امریکہ اور مغربی ممالک ماضی میں پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کر چکے ہیں۔ امریکہ یہ بھی جانتا ہے کہ پاکستان کے بعض سیاسی رہنما بعض اوقات امریکہ مخالف جذبات کو سیاسی فائدے کے لئے استعمال کرنے سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ یاد رکھیئے امریکہ اور چین دونوں مستحکم پاکستان کے خواہاں ہیں اور نہ ہی دونوں پاکستان کے اندرونی معاملات میں زیادہ الجھنا چاہتے ہیں۔ امریکی ساق صدور سے لے کر بائیڈن انتظامیہ اور اب ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی فرسٹ امریکہ ہی رہی ہے پاکستان کو بھی فرسٹ پاکستان پالیسی پر عمل کرتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ چلنا ہوگا۔ امریکہ کسی فرد واحد سیاستدان کے لئے اپنی پالیسی تبدیل نہیں کرتا۔ موجودہ وزیر خارجہ کو نئی ٹرمپ انتظامیہ سے اپنے رابطے تیز تر کرنے کی ضرورت ہے۔

  • تبصرہ کتب، ننھے مقرر

    تبصرہ کتب، ننھے مقرر

    نام کتاب : ننھے مقرر
    مصنف : حافظ صداقت اکرام
    صفحات : 217
    قیمت : 1100روپے
    ناشر : دارالسلام انٹرنیشنل
    برائے رابطہ : 04237324034
    بچوں کیلئے تربیتی ، تعمیری اور اصلاحی کتب پیش کرنا دارالسلام انٹرنیشنل کا طرہ امتیاز ہے ۔ بلکہ دارالسلام بچوں کیلئے کتب شائع کرنے والا پاکستان کا سب سے بڑا ادارہ ہے ۔ زیر نظر کتاب ’’ ننھے مقرر ‘‘ بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے ۔ جیسا کہ نام سے واضح ہے یہ کتاب فن تقریر کے موضوع پر سکول اور مدارس کے مڈل لیول کے بچوں کے لیے ایک شاہکار ، بیمثال اور لاجواب کتاب ہے ۔اس کتاب کے مصنف حافظ صداقت اکرام ہیں جو خود بھی زمانہ طالب علمی میں اعلیٰ پائے مقرر رہ چکے ہیں اور کئی ایک انعامات بھی حاصل کرچکے ہیں ۔فن تقریر کے موضوع پر ان کی ایک اور کتاب ’’ بول کہ لب آزاد ہیں تیرے ‘‘ قارئین سے داد ِ تحسین پاچکی ہے جبکہ ایک کتاب ’’ متاع ِ سخن ‘‘ زیر تصنیف ہے ۔ یوں تو اس وقت فن تقریر کے موضوع پر بازار میں بیشمار کتب دستیاب ہیں تاہم یہ کتاب کئی ایک اعتبار سے دیگر تمام کتب سے منفرد اور ممتاز ہے ۔مثلاََ ہر تقریر قرآنی آیات اور صحیح احادیث سے مزین ہے ۔ تمام عربی عبارتوں کے حوالہ جات دیے گئے ہیں ۔ موضوع کی مناسب سے ہر تقریر میں خوبصورت اور برمحل اشعار شامل کیے گئے ہیں ۔ بچوں کی ذہنی سطح کو مدنظر رکھتے ہوئے الفاظ کا چنائو کیا گیا ہے ۔جملے طویل نہیں بلکہ مختصر ہیں تاکہ یاد کرنے اور ادا کرنے میں آسانی ہو ۔

    یہ کتاب ایک سو تقریروں کا مہکتا ہوا گلدستہ ہے جن میں سے چند ایک موضوعات درج ذیل ہیں :اللہ ہمارا رب ہے ، محمد ﷺ ہمارے رہبر ہیں ، قرآن ہمارا دستور ہے ، اسلام ہمارا دین ہے ، نماز کی اہمیت ، روزہ عظیم عبادت ہے ، حج کی فضیلت ، ہم خوار ہوئے تارک ِ قرآں ہوکر ، حسن اخلاق کی فضیلت ، زبان کی حفاظت ، ہمیشہ سچ بولو ، خاموشی میں نجات ہے ، غرور وتکبر کی مذمت ، حیا انسانیت کا زیور ہے ، کتاب سے دوستی ، تندرستی ہزار نعمت ہے ، نیا سال نیا عزم ، یوم مزدور ، یوم یکجہتی کشمیر ، یوم دفاع پاکستان ، قائد اعظم ۔۔۔۔ایک تاریخ ساز شخصیت ، علامہ اقبال ۔۔۔ایک فرد ِ عظیم ، محنت کی عظمت ، نظم وضبط کی اہمیت ، استاد کی عظمت ، بڑوں کی تکریم وتوقیر ، ہمسائے کے حقوق ، دھوکے بازی قابل مذمت فعل ، بخل معاشرتی برائی ، باہمی تعاون کی اہمیت ، حسد ایک مہلک مرض ، کفایت شعاری ، اتفاق میں برکت ہے ، مہمان نوازی اسلامی شعار ، حقیقی کامیابی ، اخوت کی اہمیت ۔اسی طرح دیگر موضوعات بھی بہت ہی مفید ہیں ۔بہترین موضوعات کی وجہ سے یقینی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ یہ کتاب محض تقریر پر رہنمائی فراہم نہیں کرتی بلکہ اسے پڑھنے والا جہاں ایک اچھا مقرر بنے گا وہاں وہ ایک باعمل مسلمان اور اچھا شہری بھی بنے گا ۔

    اس کے لیے ایک ایسی کتاب کی اشد ضرورت تھی جو طلبہ کی تقریری صلاحیتوں کو جلا بخشے اور اچھا مقرر بننے میں ان کی معاون ہو۔ جس میں عقائد، اخلاقیات، معاملات اور حسن معاشرت جیسے عنوانات دلائل کے ساتھ عمدگی سے بیان کیے گئے ہوں۔ ننھے مقرر طلبہ کی اسی اہم ضرورت کی تکمیل ہے۔ یہ کتاب جہاں طلبہ کے ذوق تقریر کی آبیاری کرے گی، وہیں فن تقریر کو فروغ دینے میں بھی اہم کردار ادا کرے گی

    مہنگائی اور غربت میں کمی کے حکومتی دعوے جھوٹے ہیں،سبیل اکرام

    بانی پی ٹی آئی واضح کرچکے ہیں کہ وہ کوئی ڈیل نہیں چاہتے،بیرسٹر گوہر

  • پاک افغان رابطے بحال

    پاک افغان رابطے بحال

    پاک افغان رابطے بحال
    ضیاء الحق سرحدی،پشاور
    ziaulhaqsarhadi@gmail.com
    افغانستان چونکہ ایک لینڈ لاک ملک ہے اور بیرونی دنیا سے تجارت کے لیے وہ اپنے دو پڑوسی ممالک پاکستان اور ایران پر انحصار کرتا ہے، اس لیے اسے اپنی تمام برآمدات اور خاص کر درآمدات کے لیے پاکستان کی بندرگاہوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ افغانستان کو اپنی اسی مجبوری کی وجہ سے پاکستان کے ساتھ پہلے 1965 اور بعد ازاں 2010 میں افغان ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ کرنا پڑا تھا، جن کے تحت پاکستان افغانستان کو زمینی راستوں سے نہ صرف اپنی بندرگاہوں تک رسائی دینے کا پابند ہے بلکہ ان معاہدوں کی رو سے اسے بین الاقوامی ضمانتوں کے تحت کئی مراعات بھی حاصل ہیں۔ یاد رہے کہ ان معاہدوں کے تحت افغانستان پاکستان کے ساتھ زیادہ تر تجارت تو طورخم اور چمن کے راستوں سے کرتا ہے، لیکن کچھ عرصے سے پاک افغان باہمی تجارت میں کچھ رکاوٹیں حائل ہیں، جس کی وجہ سے دونوں جانب کی تجارت زبوں حالی کی طرف گامزن ہے اور دونوں ممالک کے درمیان گشیدگی اور تناؤ کی صورتحال ہے۔

    افغانستان میں جب سے طالبان کی عبوری حکومت آئی ہے تو عام تاثر یہی تھا کہ پاکستان اور تخت کابل میں پھر سے نئی قربتیں بڑھیں گی لیکن اس بار ایسا نہیں ہوا۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کافی حد تک دوریاں بڑھ گئی ہیں۔ لیکن گزشتہ ہفتے پاکستان اور افغانستان کے درمیان طویل تعطل کے بعد مذاکراتی عمل دوبارہ بحال ہو گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں حال ہی میں تعینات کیے جانے والے نمائندہ خصوصی برائے افغان امور محمد صادق کابل گئے، جہاں وہ افغان وزیر خارجہ امیر محمد متقی اور افغان وزیر داخلہ ملا سراج الدین حقانی سے ملاقات کی۔ ان ملاقاتوں میں ہمسایہ ملک کے درمیان مسائل کو مشترکہ کوششوں کے ذریعے حل کرنے کے علاوہ سیاسی، اقتصادی، تجارتی اور ٹرانزٹ کے شعبوں میں موجودہ مشترکات کا بہتر استعمال کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

    اس موقع پر نمائندہ خصوصی محمد صادق خان نے کہا کہ وزیر خارجہ امیر خان متقی سے ملاقات میں وسیع پیمانے پر بات چیت ہوئی، جس میں دو طرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ خطے میں امن اور ترقی کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا۔ دوسری طرف افغانستان کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ افغان وزیر خارجہ نے ملاقات میں کہا کہ افغانستان کی حکومت پاکستان کے ساتھ مثبت تعلقات کے لیے پرعزم ہے اور ہم دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، اقتصادی، تجارتی اور ٹرانزٹ شعبوں میں مشترکات کا بہتر استعمال کر سکتے ہیں۔ اس سے قبل محمد صادق خان نے وزیر داخلہ خلیفہ سراج الدین حقانی سے بھی ملاقات کی جس میں فریقین نے تعلقات کی بہتری اور موجودہ مسائل کے حل کے لیے اہم موضوعات پر تبادلہ خیال کیا۔ یہ دونوں ممالک کے اعلی حکام کے درمیان ایک طویل عرصے کے بعد رابطہ ہے۔ محمد صادق خان نے خلیل الرحمان حقانی کی موت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم افغانستان اور پاکستان کے درمیان موجودہ مسائل کو مشترکہ کوششوں کے ذریعے حل کرنے کے لیے پرعزم ہیں، تا کہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور سول تعلقات کو مضبوط بنایا جا سکے۔ وزیر داخلہ خلیفہ سراج الدین حقانی نے تاکید کی کہ موجودہ وقت اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ امن و امان اور سیاسی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ کوششیں تیز کی جائیں، تا کہ دونوں قوموں کے درمیان تعلقات خراب ہونے سے محفوظ رہیں اور خطے کے استحکام اور ترقی کا ضامن ہوں۔

    پاکستان اور افغانستان صرف پڑوسی ملک نہیں بلکہ ان کے درمیان مذہب، ثقافت اور زبان کے رشتے بہت گہرے اور رشتہ داریاں بھی ہیں، جنہیں ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اپریل 1948ء میں جب قائد اعظم محمد علی جناح نے طورخم کا دورہ کیا تو آپ سرحدی زنجیر پار کر کے دوسری جانب گئے، افغان بارڈر گارڈ سے ہاتھ ملایا اور فرمایا "واہگہ دو قوموں کو تقسیم کرتی ہوئی سرحد ہے اور طورخم ایک قوم کے دو ممالک کو جوڑنے والی سرحد ہے۔” باوجود اس کے کہ افغانستان کی بھارت نواز حکومتوں نے پاکستان میں مداخلت سے گریز نہیں کیا، لیکن پاکستان نے کبھی افغان سرحد پر فوج نہیں لگائی، اس وقت تک کہ جب افغانستان میں امریکہ کے آجانے کے بعد امریکیوں نے وہاں بھارت کی مدد سے دہشت گردوں کی نرسریاں کھولیں اور پاکستان پر دہشت گردی کی جنگ مسلط کردی۔ پاک افغان تعلقات کی پون صدی کو دیکھا جائے تو طالبان حکومت کا پہلا دور وہ واحد وقت ہے جب پاکستان کو افغانستان سے بھی کوئی شکایت نہیں ہوئی۔ پاکستان کی توقع یہی تھی کہ 70 کی دہائی سے اب تک لاکھوں افغانوں کی میزبانی، ہزاروں شہریوں کی جانب سے افغان مجاہدین سے عملی تعاون اور افغان مجاہدین سے تعلق کے جرم میں ریاست پاکستان کو پہنچنے والے بھاری نقصانات کا خیال رکھتے ہوئے طالبان کی دوسری حکومت بھی ملا عمر کی حکومت کی طرح ہی اچھے تعلقات رکھے گی، مگر بدقسمتی سے ایسا ممکن نہیں ہو سکا۔ امریکہ اور بھارت کے افغان سرزمین پر قائم کردہ دہشت گردی کے اڈے ابھی تک کام کر رہے ہیں، جہاں سے آنے والے دہشت گردوں کے جتھے پاکستان میں خونریزی کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ امریکہ کے نکل جانے کے باوجود بعض عناصر ایسے ہیں جو دونوں ممالک کے درمیان امن نہیں ہونے دے رہے، یہ دونوں ممالک کے مشترکہ دشمنوں کے ہاتھوں میں کھیلتے ہوئے خونریزی کو جاری رکھنا چاہتے ہیں۔

    مسئلے کا حل باہمی لڑائی، ناراضی یا کشمکش اور الزام تراشی نہیں بلکہ رابطوں کی بحالی، بات چیت میں اضافہ، ایک دوسرے کے مسائل کو سمجھنے اور مل کر مشترکہ دشمن کے خلاف جدوجہد میں پنہاں ہے۔ طویل عرصے کے بے معنی تعطل کے بعد اب رابطوں کی بحالی خوش آئند ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ان رابطوں کو مستحکم ہونا چاہیے، دونوں حکومتوں کو چاہیے کہ کھلے دل کے ساتھ ایک دوسرے کی بات سنیں اور مل کر دہشت گردی سمیت تمام مسائل سے نمٹنے کی حکمت عملی بنائیں، یا در رکھنے کی بات یہ ہے کہ دونوں ملک ایک چمن کی مانند ہیں، امن کی بہار آئے گی تو دونوں جانب ترقی کے پھول کھلیں گے۔ کسی جانب آگ لگے گی تو دوسرا بھی لازماً متاثر ہوگا، دونوں کا نفع و نقصان قدرت نے اکٹھا رکھ دیا ہے، بہتر یہی ہے کہ مل بیٹھ کر مسائل کو حل کریں اور مشترکہ مواقع سے فائدہ اٹھائیں۔