Baaghi TV

Category: بلاگ

  • موت کے بعد تدفین یا چتا، کون سا راستہ بہتر ہے؟

    موت کے بعد تدفین یا چتا، کون سا راستہ بہتر ہے؟

    موت کے بعد تدفین یا چتا، کون سا راستہ بہتر ہے؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفیٰ بڈانی
    موت ایک اٹل حقیقت ہے، جس سے نہ کوئی فرد بچ سکتا ہے اور نہ کوئی قوم، ہر مذہب میں موت کے بعد کے مراحل اور آخری رسومات کا ایک خاص طریقہ رائج ہے۔ اسلام میں میت کو دفنانے کا حکم دیا گیا ہے جبکہ ہندو مت میں جلانے کی رسم کو مقدس مانا جاتا ہے۔ لیکن اگر حقیقت پر نظر ڈالی جائے تو ہندو مت میں مردہ سوزی کا عمل ایک بھیانک اور تکلیف دہ حقیقت کو آشکار کرتا ہے۔ خاص طور پر بنارس کے مانیکرنیکا گھاٹ پر ہونے والے مناظر انسان کی روح کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتے ہیں۔

    اسلام نے تدفین کو نہ صرف ایک فطری عمل قرار دیا بلکہ اسے انسانی عظمت اور پاکیزگی کے عین مطابق بھی قرار دیا ہے۔ قرآن مجید میں ہابیل اور قابیل کے واقعے میں اللہ تعالی نے تدفین کی ہدایت کو واضح فرمایا، "پھر اللہ نے ایک کوا بھیجا جو زمین کھود رہا تھا تاکہ اسے دکھائے کہ وہ اپنے بھائی کی لاش کو کیسے چھپائے”(سور المائدہ 31)۔ یہ آیت واضح کرتی ہے کہ انسانی لاش کو مٹی میں دفنانا ایک الہی حکم اور فطری طریقہ ہے۔

    میت کو دفنانے کے کئی فوائد اور حکمتیں ہیں، سب سے پہلے یہ طریقہ پاکیزگی اور وقار کو یقینی بناتا ہے۔ میت کو غسل دیا جاتا ہے، کفن پہنایا جاتا ہے اور انتہائی احترام کے ساتھ دفن کیا جاتا ہے۔ دوسرے تدفین ماحولیاتی تحفظ کے اصولوں کے عین مطابق ہے کیونکہ دفنانے سے زمین میں میت کے اجزا تحلیل ہو جاتے ہیں اور فطرت میں کوئی آلودگی پیدا نہیں ہوتی۔ مزید برآں قبر کی زندگی برزخ کی ایک شکل ہے، جہاں میت کے اعمال کے مطابق برتاؤ کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ قرآن میں بارہا ذکر ہے کہ"اسی(زمین)سے ہم نے تمہیں پیدا کیا اور اسی میں ہم تمہیں واپس لوٹائیں گے اور اسی سے ہم تمہیں دوبارہ نکالیں گے”( سور طہ 55)۔

    ہندو مت میں میت کو جلانے کی رسم صدیوں سے جاری ہے۔ ان کا عقیدہ ہے کہ آگ میں جلنے سے روح مکتی (نجات) پا لیتی ہے اور گنگا میں راکھ بہانے سے پاپ دُھل جاتے ہیں۔ خاص طور پر بنارس کا مانیکرنیکا گھاٹ ہندوؤں کے نزدیک انتہائی مقدس مقام ہے، جہاں روزانہ سینکڑوں لاشیں جلائی جاتی ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ شمشان گھاٹ پر روزانہ جلی ہوئی لاشوں کا دھواں فضا کو آلودہ کرتا ہے۔ لکڑی کی کمی کے باعث اکثر لاشیں مکمل طور پر نہیں جل پاتیں اور انہیں گنگا میں بہا دیا جاتا ہے۔ گنگا میں نہانے اور اس کا پانی پینے والے یہی نہیں جانتے کہ وہ پانی انسانی راکھ اور نجاست سے بھرا ہوتا ہے۔ قرآن کے مطابق انسان کی نجات صرف اللہ کی رضا اور اعمال صالحہ میں مضمر ہے نہ کہ کسی مخصوص مقام پر جلنے میں۔

    اللہ تعالی نے قرآن میں ارشاد فرمایاکہ"اور بے شک ہم نے بنی آدم کو عزت دی اور انہیں خشکی اور تری میں سوار کیا اور انہیں پاکیزہ چیزوں کا رزق عطا کیا اور اپنی بہت سی مخلوقات پر فضیلت د ی”(سورة الاسرا ،70)، یہ آیت انسان کی عظمت کو واضح کرتی ہے اور ثابت کرتی ہے کہ اسلام میں ہر عمل انسانی شرف اور عزت کے مطابق ہوتا ہے۔ تدفین کا طریقہ اسلامی پاکیزگی، سادگی اور عزت نفس کے اصولوں پر مبنی ہے جبکہ جلانے کا عمل انسانی وقار کے برعکس اور وحشت ناک تصور ہے۔

    رات کے وقت بنارس کے شمشان گھاٹ کا منظر اور بھی زیادہ خوفناک ہوتا ہے۔ جلتی ہوئی چتائیں، ہر طرف دھواں، راکھ میں لپٹے انسانی سائے، بانسوں سے کھوپڑیوں کو توڑنے کی آوازیں اور گنگا میں بہتی ہوئی ادھ جلی لاشیں اور گنگا کنارے ان لاشوں کو بھنبھوڑ کتے اور دوسرے جانور،جہاں وحشت ہی وحشت ہو۔ کیا یہی وہ مقدس جگہ ہے جہاں مکتی حاصل ہوتی ہے؟ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ جگہ زمین پر جہنم کے ایک منظر سے کم نہیں۔

    اسلام میں تدفین کا نظام اللہ کی ایک عظیم نعمت ہے جو انسانی شرف اور فطرت کے عین مطابق ہے۔ جبکہ ہندو مت میں چتا پر جلانے کا عمل نہ صرف بے رحمانہ ہے بلکہ ماحولیاتی اور انسانی صحت کے لیے بھی خطرہ ہے۔ ہر عقل مند شخص اگر تدبر کرے تو وہ سمجھ سکتا ہے کہ قبر سکون، رحمت اور پاکیزگی کا ذریعہ ہے جبکہ آگ اور راکھ کی دنیا عذاب اور بے سکونی کی علامت ہے۔

    اللہ تعالی نے قرآن میں فرمایاکہ "بے شک ہم نے ظالموں کے لیے وہ آگ تیار کر رکھی ہے جس کی دیواریں انہیں گھیر لیں گی.” (سور ةالکہف 29)۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ چتا کی یہ آگ اسی عذاب کی ایک جھلک ہو؟ ایک ایسی آگ جس میں ایک انسان کو جلتے ہوئے راکھ میں بدل دیا جاتا ہے؟ کیا یہ ممکن نہیں کہ جو لوگ دنیا میں اپنے پیاروں کو آگ میں جھونکنے کو مقدس سمجھتے ہیں، وہی آخرت میں بھی ایسی ہی آگ کے مستحق ٹھہریں؟

    ذرا سوچئے اور ان سوالات کا جواب دیجئے کہ موت کے بعد تدفین یا چتا، کون سا راستہ بہتر ہے؟ کیا عزت و وقار کے ساتھ زمین کی آغوش میں سپرد کرنا زیادہ مناسب نہیں یا پھر جلتی چتا کی نذر کر دینا؟ کیا پاکیزگی اور سکون کی راہ افضل نہیں یا پھر آگ اور دھوئیں کی ہولناکی؟ فیصلہ عقل اور فطرت کے مطابق ہونا چاہیے کیونکہ انسان کا شرف اور آخری منزل ایک مقدس حقیقت ہے جس کا احترام ہر حال میں لازم ہے۔

  • امجد اسلام امجد، لفظوں کےجادوگر، خیالوں کےمصور کو دنیا چھوڑے 2 برس بیت گئے

    امجد اسلام امجد، لفظوں کےجادوگر، خیالوں کےمصور کو دنیا چھوڑے 2 برس بیت گئے

    لاہور(باغی ٹی وی) اردو ادب کے درخشندہ ستارے، معروف شاعر اور ڈرامہ نویس امجد اسلام امجد کو دنیا سے رخصت ہوئے دو برس بیت گئے۔ ان کی شاعری، نثر اور ڈراموں نے ایک ایسا تخلیقی جہان آباد کیا، جس کی بازگشت آج بھی سنائی دیتی ہے۔

    4 اگست 1944 کو لاہور میں پیدا ہونے والے امجد اسلام امجد نے اسلامیہ کالج لاہور سے بی اے اور پنجاب یونیورسٹی سے اردو میں ایم اے کیا۔ تدریس سے عملی زندگی کا آغاز کیا اور ایم اے او کالج لاہور میں اردو کے استاد رہے۔ 1975 سے 1979 تک پاکستان ٹیلی ویژن کے ڈائریکٹر رہے، بعد ازاں 1989 میں اردو سائنس بورڈ کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے اور چلڈرن لائبریری کمپلیکس میں بطور پروجیکٹ ڈائریکٹر بھی خدمات انجام دیں۔

    ان کی شاعری جذبات کی لطافت اور جدید حسیت کا حسین امتزاج تھی۔ ان کے تحریر کردہ ڈرامے "وارث”، "دہلیز”، "فشار”، "سمندر” اور "رات دن” کہانیوں سے زیادہ حقیقت کی تصویریں تھے، جن میں معاشرے کی دھڑکنیں محسوس کی جا سکتی ہیں۔

    پچاس سالہ ادبی کیریئر میں ستر سے زائد کتابیں تصنیف کیں۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں صدارتی تمغہ حسن کارکردگی، ستارہ امتیاز اور ہلال امتیاز سمیت بے شمار ملکی و غیر ملکی اعزازات سے نوازا گیا۔ ان کی شخصیت پر دس سے زائد تنقیدی کتب بھی لکھی جا چکی ہیں۔

    10 فروری 2023 کو یہ درویش صفت شاعر ہمیشہ کے لیے دنیا سے رخصت ہو گیا، مگر اس کی تحریریں آج بھی دلوں میں زندہ ہیں، اور رہیں گی۔

  • نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پروا.تحریر:ملک شہباز

    نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پروا.تحریر:ملک شہباز

    بتاریخ 8 فروری 2025 بروزہفتہ ایکسپوسنٹر لاہور کتاب میلے میں محبت کرنے والوں کی طرف سے دعوت پر ڈاکٹر عمران مشتاق کے اعزاز میں منعقدہ تقریب میں شرکت کا موقع میسر آیا جہاں بچوں کے اکثر ادیبوں میں یہ نعرہ زبان زدعام نظر آیا ” نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پروا” جس کا مفہوم و مطلب یہ بنتا ہے کہ کسی کام، خدمت یا مشن کو سراہے جانے یا اعزاز و اجرت ملنے کے بغیر خدمات کے تسلسل کو برقرار رکھا جائے لیکن میری نظر میں یہاں معاملہ ذرا مختلف ہے۔
    ہمارے یہاں ہر کسی کے کام کو سراہا بھی جاتا ہے، ایوارڈز و نقدی کی صورت میں نوازا بھی جاتا ہے اور محبت و الفت کے نذرانے بھی پیش کیے جاتے ہیں۔ اب گزشتہ روز کی تقریب کو ہی دیکھ لیا جائے تو راقم خود گواہی دے سکتا ہے کہ اس تقریب میں بہت سے اہلیان قلم کو ایوارڈز، شیلڈز و نقدی سے نوازا بھی گیا، ان کے کام کو سراہا بھی گیا حتی کہ جو خواتین و حضرات کسی مجبوری کے باعث تقریب میں شرکت کرنے سے قاصر تھے ان کا انعام و اعزاز، ایوارڈ و نقدی کی صورت میں کسی دوسرے ساتھی کو اس پابندی کے ساتھ تھمایا گیا کہ متلعقہ قلم کار تک امانت لازما پہنچ جائے۔

    اس کے باوجود اگر پھر بھی یہی کہا جائے کہ کوئی پذیرائی نہیں ہورہی، سراہا نہیں جارہا تو سراسر غلط ہے۔ جناب آپ کو تو ستائش و صلے کی ضرورت ہی نہیں تو پھر کیوں اعتراض کرتے ہیں کہ پذیرائی نہیں مل رہی۔بلکہ آپ کو تو ملنے والا ایوارڈ و نقدی بھی یہ کہہ کر واپس کردینی چاہیے کہ "نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پروا” لیکن اگر آپ وصولی بھی ڈال لیتے ہیں اور ڈھنڈورا بھی پیٹتے ہیں تو یہ آپ اپنے اس نعرے کے بھی الٹ سمعت میں جارہے ہیں اور جو لوگ محبت میں آپ کی پذیرائی کررہے ہیں، ایوارڈز و نقدی کی صورت میں آپ کے کام کی قدر کررہے ہیں اور کھڑے ہو کر آپ کو ویلکم کرکے آپ کی عزت افزائی کررہے ہیں ان کے ساتھ بھی سراسر زیادتی ہے۔

    آج اس دور میں جو وقت نکال کر دور دراز کا سفر کرکے آپ کی محبت میں پہنچ جائےکوئی کم تو نہیں۔ بھئی جتنا آپ کو سراہا جا رہا ہے اس پر اللہ کا شکر ادا کریں اور اپنا کام جاری و ساری رکھیں۔۔۔اور اگر آپ اپنے کام کے عوض تنخواہ چاہتے ہیں تو کوئی ملازمت اختیار کرلیں یا کوئی بزنس کرلیں۔۔۔۔۔اور دوسری بات کتابوں کے حوالے سے کہ آج کتاب کی قیمت پر بھی ذرا غور کریں۔۔۔۔آپ کتاب کو خدمت کےلیے لکھ رہے ہیں یا کاروبار کےلیے؟ اکثر رائٹرز و پبلشرز نے تو کتاب کی قیمت اس قدر زیادہ رکھی ہوئی ہوتی ہے کہ کتاب قاری کی پہنچ سے ہی دور ہوچکی ہے۔ اگر آپ خدمت کےلیے لکھ رہے ہیں تو کتاب پر معقول مارجن رکھیں۔۔۔۔اڑھائی سو کی قیمت میں تیار ہونے والی کتاب کی قیمت اڑھائی ہزار لکھ کر آپ خدمت نہیں کاروبار کررہے ہیں۔ تھوڑا نہیں پورا سوچیے !
    اور سب سے اہم بات کہ یہ میری ذاتی رائے ہے ہر کسی کا متفق ہونا ضروری نہیں اختلاف کیا جاسکتا ہے مختلف لوگوں کی آراء مختلف ہوسکتی ہیں۔کوئی لفظ ناگوار گزرے تو شمع کیجئے گا۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو! آمین

  • قیدی نمبر804کی محبت میں امریکی رکن کانگریس کی فوج پر تنقید مداخلت.تجزیہ:شہز ادقریشی

    قیدی نمبر804کی محبت میں امریکی رکن کانگریس کی فوج پر تنقید مداخلت.تجزیہ:شہز ادقریشی

    یادرکھیں فوج ہے تو ملک ہے ،ورنہ منہ کھولے دشمن اور حواری کھاجاتے،ذرا نہیں پورا سوچیں
    جیل جانے والے ملاقاتیوں کے پاس ذرائع نہ جیل انتظامیہ کو پتہ،دوسرا خط کہاں سے آگیا

    سیاستدانوں میں مقبولیت کا نشہ اس قدر تیز اور تند ہوتا ہے کہ وہ تمام حدوں کو عبور کرجاتے ہیں پھر بعد میں اُس کو جوش خطابت کا نام دیا جاتا ہے، جمہوری عمل کو برقرا ر رکھنا سیاستدانوں کے مرہون منت ہوتا ہے، جلسوں ، چوراہوں ،گلی محلوں اور سوشل میڈیا پر پاک فوج جملہ اداروں اور عسکری قیادت پر جس طرح کے الزامات لگائے جاتے ہیں کیا کسی مہذ ب معاشرے میں اس طرح کی زبان اپنے قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف بولی جاتی ہے ؟ پاک فوج میں غازیوں اور شہیدوں کی ایک بہت بڑی تعداد ہے ، پولیس کے افسران اور پولیس کے نچلے درجے کے شہداء کی بھی ایک بہت بڑی تعداد ہے جو اس وطن عزیز کی سلامتی اور قوم کی سلامتی کی خاطر شہید ہوئے، تاد م تحریر پاک فوج اور جملہ ادارے ملکی سلامتی کو برقرار رکھنے کے لئے دہشت گردوں کا مقابلہ کررہے ہیں، حکمران اور اپوزیشن ہوش کے ناخن لے، جمہوریت کی چوکھٹ پر سجدہ ریز جمہور تھوڑا نہیں پواسوچے ،غور کریں فکر کریں ، سیاسی گلیاروں میں باکردار با اخلاق شخصیات کا قحط ہے،سیاسی گلیاروں میں عصر حاضر میں باکردار بااخلاق شخصیات کا ظہور ممکن نہیں اب سیاسی گلیاروں میں چند سیاسی شخصیات ہی نظر آتی ہیں ،

    افسوس حکمرانوں اور اپوزیشن پر ہے کہ گزشتہ دنوں امریکی کانگریس کے ایک رکن نے قیدی نمبر804 کی محبت میں پاک فوج اورجملہ اداروں کو تنقید کا نشانہ بنایا کیا یہ ایک خود مختار ریاست پر حملہ نہیں؟ چلیں امریکہ ،بھارت یا کوئی دوسرا ملک پاک فوج اور جملہ اداروں پر تنقید کرتا ہے تو سمجھ میں آتا ہے کیا جس ملک پر حکمرانی کررہے ہیں یا کرتے رہے آپ پر فرض نہیں کہ کسی بیرونی طاقت کو اس کا جواب دیں اگر آپ ان بیانات سے لطف اندوز ہو رہے ہیں تو آپ اس وطن عزیز اور قوم کی خاطر شہید ہونے والوں کی کون سی خدمت کررہے ہیں؟ قیدی نمبر804 سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کی منافع بخش انڈسٹری کا روپ دھار چکا ہے، جس پر وی لاگرز اور اینکر قوم کو مصروف رکھ کر ڈالرز کما رہے ہیں ، افسوس الیکٹرانک میڈیا بھی اب سوشل میڈیا پر انحصار کرنے لگا ہے، تمام میڈیا قیدی نمبر804 کے خط کے گرد گھوم رہا ہے، جس طرح امریکی صدر کے مشیر ایلون مسک بڑے یقین کے ساتھ لوگوں کو یقین دلاتا رہتا ہے کہ زمین ختم ہونے والی ہے اسی طرح ان خطوط کی داستان ہے خود الیکٹرانک میڈیا ،سوشل میڈیا ،وکلاء اور جیل جانے والے صحافی دعویٰ کرتے ہیں کہ جیل کے اندر داخل ہونے پر ان کی تلاشی لی جاتی ہے ،لکھنا بھی ممکن نہیں رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں سے موبائل لے لئے جاتے ہیں ایسی صورت میں خط کون لکھتا ہے ،کون باہر لاتا ہے بیرون ملک میں اخبارات میں مضمون کیسے شائع ہوتے ہیں تھوڑا نہیں پورا سوچئے؟

  • ڈاکٹروں کا مسیحائی سے ناجائز منافع خوری تک سفر

    ڈاکٹروں کا مسیحائی سے ناجائز منافع خوری تک سفر

    ڈاکٹروں کا مسیحائی سے ناجائز منافع خوری تک سفر
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق جنوری کے مہینے میں ملک بھر میں صحت کی سہولتوں کی قیمتوں میں مزید اضافہ دیکھنے کو ملا،ایک ماہ کے دوران میڈیکل ٹیسٹ کی فیسوں میں 5.36 فیصد اور سالانہ بنیادوں پر 15.16 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ کلینک، ڈینٹل سروسز، ہسپتالوں اور ادویات کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس نے عام عوام کے لیے صحت کی سہولتوں تک رسائی مزید مشکل بنا دی ہے۔ جنوری میں کلینک کی قیمتوں میں 4.28 فیصد، ڈینٹل سروسز میں 2.22 فیصد اورہسپتالوں میں 0.36 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ ادویات کی قیمتوں میں 0.52 فیصد کا اضافہ ہوا۔ اس صورتحال نے صحت کے شعبے میں ایک نئی مہنگائی کی لہر پیدا کی ہے جو عوام پر اضافی مالی بوجھ ڈال رہی ہے۔

    صحت ہر شہری کا بنیادی حق ہے لیکن پاکستان میں یہ حق عام آدمی کی پہنچ سے کوسوں دور ہے۔ شہریوں کو صحت کی سہولتوں تک رسائی میں جو رکاوٹیں ہیں وہ نہ صرف سماجی بلکہ اقتصادی اور سیاسی عوامل کا نتیجہ ہیں۔ پاکستان میں صحت کا نظام ایک پیچیدہ مسئلہ بن چکا ہے جہاں ایک طرف سرکاری ہسپتالوں کی حالت زار ہے تو دوسری طرف نجی ہسپتالوں میں علاج معالجہ عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہے۔

    ڈاکٹروں کی ہوس زر میں مبتلا ہونے کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ جب مریض ڈاکٹر سے اپنی بیماری کا چیک اپ کرانے جاتا ہے تو سب سے پہلے باہر کاؤنٹر پر فیس کے نام پر مریض سے بھاری رقم ہتھیائی جاتی ہے، اس پربس نہیں ہوجاتی بلکہ یہاں سے مریض جو کہ پہلے ہی بیماریوں کی وجہ سے بہت تنگ ہوتا ہے جب ڈاکٹرز کے کیبن میں پہنچتا ہے تو ڈاکٹر اسے تسلی دینے کی بجائے اسے ڈراتا ہے اور ڈاکٹر کا یہیں سے ڈر کا بزنس شروع ہوتا ہے اور مریض سے کہتا ہے میرے خیال میں آپ کی بیماری خطرناک سٹیج پر پہنچی ہوئی ہے، آپ کو لیبارٹری ٹیسٹ کرانے ہوں گے، ساتھ میں الٹراساؤنڈ اور ایکسرے بھی ضروری ہیں، کاؤنٹر پر لڑکا آپ کو سمجھا دے گا ،یہ تمام ٹیسٹ کراکر آئیں پھر دوائی لکھوں گا۔

    جب مریض کے لواحقین کاؤنٹر پر لڑکے کے پاس جاتے ہیں تو لڑکا کہتا ہے کہ یہ خون اور پیشاب کے ٹیسٹ آپ نے فلاں لیبارٹری سے کرانے ہیں، الٹراساؤنڈ اور ایکسرے فلاں سے کراکر لائیں اوراگر کوئی مریض دوسری لیبارٹری، الٹراسونوگرافکس، ایکسرے کے بارے میں کہتا ہے ہمارے اپنے جاننے والے ہیں ہم ان سے کراکر لاتے ہیں تو فوری طور پر کہا جاتا ہے کہ ان کی رپورٹ ٹھیک نہیں ہوتی اور ڈاکٹر صاحب وہ رپورٹ نہیں مانیں گے لہذا آپ کو جہاں کا کہا گیا ہے صرف وہاں سے تمام ٹیسٹ کراکر لاؤ۔

    جب تمام رپورٹس آجاتی ہیں پھر دوائی لکھی جاتی ہے، دوائی بھی وہ لکھی جاتی ہے جو صرف ان کی کلینک یا ہسپتال کی اٹیچ فارمیسی سے ہی ملتی ہے، شہر کے بڑے بڑے میڈیکل سٹورز پر ڈاکٹر کے نسخے پر لکھی ہوئی ادویات نہیں مل پاتیں کیونکہ ڈاکٹر نے وہ کٹ ریٹ میڈیسن کمپنیوں سے اپنے برانڈ نیم بنوا کر پیک کرائی ہوئی ہوتی ہیں ،جن پر اپنی مرضی کی بھاری قیمت لکھوائی جاتی ہے۔ جس لیبارٹری ،الٹراساؤنڈ یا ایکسرے سنٹر سے ٹیسٹ کروائے جاتے ہیں وہاں سے ڈاکٹر 50فیصدکمیشن لیتا ہے اور اس لیبارٹری کی رپورٹ بھی ٹھیک ہوتی ہے جو ڈاکٹر کو بھاری کمیشن نہ دیں ان کی رپورٹ غلط قرار دے دی جاتی ہیں۔

    اگر ایک متوسط اور غریب طبقے کے فرد کی بات کی جائے تو اسے صحت کی بنیادی سہولتوں کے حصول کے لیے کئی طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سب سے پہلے سرکاری ہسپتالوں کا حال دیکھ لیں، جہاں مریضوں کی تعداد دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے لیکن ان کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں اور عملے کی تعداد اس کے مقابلے میں کم ہوتی جا رہی ہے، ایک عام شہری جب بیماری میں مبتلا ہوتا ہے تو سب سے پہلے وہ سرکاری ہسپتال کا رخ کرتا ہے لیکن وہاں اسے لمبی قطاروں اور طبی عملے کی عدم موجودگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ڈاکٹرز یا تو چھٹی پر ہوتے ہیں یا پھر ان کے آنے کاکوئی وقت مقرر نہیں ہوتا۔ یہ صورتحال مریض کے لیے انتہائی پریشان کن ثابت ہوتی ہے۔

    دوسری طرف نجی ہسپتالوں کا منظرنامہ بالکل مختلف ہے۔ یہ ہسپتال جدید مشینری اور بہترین سہولتوں سے لیس ہوتے ہیں لیکن ان کی فیسیں عام شہریوں کے لیے ناقابل برداشت ہوتی ہیں۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر وہ شہری جو معاشی طور پر مستحکم نہیں ہیں، اپنے علاج کے لیے کہاں جائیں اور کیا کریں؟ انہیں کیا مرنے کے لیے چھوڑ دیا جائے کیونکہ وہ علاج کرانے کی سکت نہیں رکھتے۔
    پاکستان میں صحت کی سہولتوں تک رسائی کا ایک اور سنگین پہلو دیہی علاقوں کی حالت زار ہے۔ شہر میں رہنے والے لوگ شاید اس بات کا تصور بھی نہیں کرسکتے کہ دیہاتوں میں صحت کی سہولتیں کتنی ناقص ہیں۔ ان علاقوں میں بنیادی صحت کے مراکز کی کمی، ڈاکٹرز کی عدم موجودگی اور سہولتوں کا فقدان ایک ایسا مسئلہ ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ دیہی علاقوں میں رہنے والے افراد کو اپنے علاج کے لیے میلوں سفر کرنا پڑتا ہے اور اکثر اوقات وہ اپنی بیماری کی سنگینی کو سمجھنے سے پہلے ہی موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

    یہاں سوال یہ پیداہوتا ہے کہ حکومت کہاں ہے؟ حکومت نے صحت کی سہولتوں کے نام پر جو منصوبے بنائے تھے، وہ کہاں تک پہنچے؟ اگرچہ حکومت کی طرف سے ہر سال صحت کے شعبے میں بجٹ مختص کیا جاتا ہے لیکن اس کا زیادہ تر حصہ یا تو بدعنوانی کی نذر ہوجاتا ہے یا پھر ان منصوبوں پر خرچ ہوتا ہے جو عام آدمی کی رسائی میں نہیں ہوتے۔پاکستان کے صحت کے نظام میں ایک اور اہم مسئلہ ادویات کی عدم دستیابی ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں مفت ادویات کا وعدہ تو کیا جاتا ہے لیکن مریضوں کو اکثر اوقات باہر سے مہنگی دوائیں خریدنی پڑتی ہیں۔ فارمیسیز میں ادویات کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں اور عام آدمی کے لیے دوا خریدنا تقریباََ ناممکن ہوچکاہے۔ اس صورتحال میں لوگ عطائی ڈاکٹروں اور جعلی حکیموں کا سہارا لیتے ہیں جو ان کی بیماری کو مزید بگاڑ دیتے ہیں۔

    حکومت نے مختلف ادوار میں صحت کے شعبے میں اصلاحات کے دعوے کیے ہیں۔ صحت کارڈ جیسے پروگرامز متعارف کروائے گئے تھے، جن کا مقصد یہ تھا کہ ہر شخص کو معیاری صحت کی سہولتوں تک رسائی حاصل ہو لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان پروگرامز کا فائدہ صرف چند فیصد افراد تک پہنچ سکا۔ وہ لوگ جو ان پروگرامز سے مستفید ہو سکتے ہیں ان تک معلومات ہی نہیں پہنچ پاتیں اور جن کے پاس کارڈ موجود ہوتا ہے، انہیں مطلوبہ علاج نہیں ملتا۔ اس تمام صورتحال میں پاکستان کا صحت کا نظام ایک کھوکھلی عمارت کی طرح لگتا ہے، جس کی بنیادیں کمزور ہیں اور جسے کسی بھی وقت گرنے کا خطرہ ہے۔ عوام کا اعتماد سرکاری ہسپتالوں پر سے ختم ہو چکا ہے اور نجی ہسپتالوں میں جانے کی استطاعت صرف اشرافیہ کو حاصل ہے۔ اس ستم ظریفی کا شکار وہ عام شہری ہوتا ہے جو اپنی بیماری کا علاج کروانے کی سکت نہیں رکھتا۔

    بدقسمتی سے بیشتر ڈاکٹروں نے مسیحائی کے جذبے کو منافع خوری میں بدل دیا ہے۔ نجی ہسپتالوں اور کلینکس میں علاج سے زیادہ کمائی کو ترجیح دی جانے لگی ہے اور مریضوں کی مجبوری سے فائدہ اٹھانا ایک معمول بنتا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر اورفارما کمپنیوں کے گٹھ جوڑ کی وجہ سے مریضوں کو زائد اور غیر ضروری ادویات کے نسخے تجویز کیے جاتے ہیں۔ ڈاکٹر پرائیویٹ میڈیسن کمپنیوں سے ڈیل کر کے لاکھوں روپے کماتے ہیں۔ غریب عوام پر بہت بڑا ظلم ہو رہا ہے، جس میڈیسن کی ضرورت نہیں ہوتی وہ بھی مریض کو لکھ کر دے دیتے ہیں۔

    صحت کے شعبے میں بہتری کے لیے ہمیں اپنے نظام کو ازسرنو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے تو سرکاری ہسپتالوں میں عملے کی تعداد میں اضافہ کرنا چاہیے تاکہ مریضوں کو بروقت علاج مل سکے۔ دیہی علاقوں میں مراکز صحت کا قیام اور ان میں ضروری سہولتوں کی فراہمی لازمی ہے تاکہ دیہی عوام بھی معیاری علاج کی سہولت سے مستفید ہوسکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ادویات کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے مناسب اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

    اس کے علاوہ حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر اس صورتحال کا سخت نوٹس لے اور مسیحائی کے روپ میں چھپے ہوئے ڈاکوؤں کے خلاف سخت کارروائی کرے۔ عوام کی زندگیوں کے ساتھ کھیلنے والے ان ڈاکٹرز اور طبی اداروں کے خلاف قانونی کارروائیاں کی جائیں تاکہ غریب اور لاچار عوام کو ان سوٹڈ بوٹڈ ڈاکوئوں کی لوٹ مار سے بچایا جا سکے۔ حکومت کی جانب سے مؤثر اقدامات عوام کو صحت کی سہولتیں فراہم کرنے میں ایک مثبت قدم ثابت ہوں گے اور معاشرتی انصاف کے قیام کے لیے اہم سنگ میل ہوں گے۔

  • صوابی احتجاج اور پی ٹی آئی کی رسوائی. تحریر: حنا سرور

    صوابی احتجاج اور پی ٹی آئی کی رسوائی. تحریر: حنا سرور

    گزشتہ برس ہونے والے عام انتخابات کو لے کر پی ٹی آئی نے احتجاج کی کال تو دی اور احتجاج بھی کیا تو خیبر پختونخوا میں،جہاں پی ٹی آئی کی حکومت ہے،تاہم پی ٹی آئی کی انتشار، نفرت، تقسیم کی سیاست کو اب خیبر پختونخوا کی عوام نے بھی مسترد کر دیا ہے.پی ٹی آئی کی جانب سے حالیہ جلسے میں عوام کی عدم دلچسپی اور خالی پنڈال نے واضح طور پر یہ ثابت کیا کہ پی ٹی آئی کی سیاست اب عوام کے درمیان کوئی اثر نہیں رکھتی۔ جلسے کی ناکامی نے پارٹی رہنماؤں میں مایوسی کی لہر دوڑا دی ہے، جو پہلے ہی بحرانوں اور مشکلات کا شکار ہیں۔ پی ٹی آئی کے ساتھ عوامی تعلق کمزور ہوچکا ہے،درحقیقت پاکستان تحریک انصاف ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک انتہا پسند گروپ کی شکل اختیار کر چکی ہے۔نومئی، 26 نومبر کو جو کچھ ہوا وہ قوم کے سامنے ہے، خیبر پختونخوا میں حکومت ہوتے ہوئے بھی پی ٹی آئی کی قیادت نے عوامی مسائل کو نظر انداز کر دیا ،وہاں کے شہری علاج کے لئے پنجاب کا رخ کر رہے ہیں، تعلیم کی سہولیات ناکافی ہیں، پی ٹی آئی صرف اور صرف اپنی ذاتی مفادات کی سیاست کر رہی ہے جس کی وجہ سے عوام مایوس ہو چکی ہے

    پی ٹی آئی احتجاج کی کال دے کر قوم کو بچوں کو استعمال کر رہی ہے تو وہیں معیار یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کے بیٹے بیرون ملک میں آرام سے زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ عمران خان کی سیاسی جماعت اپنے ملک کے نوجوانوں کو فسادات اور عدم استحکام کی طرف دھکیل رہی ہے۔ یہ حقیقت عوام کے لیے باعث تشویش ہے کہ پی ٹی آئی کے رہنما اپنی ذات کی سیاست میں مگن ہیں اور دوسروں کے بچوں کو ملک میں انتشار اور فسادات کی طرف اُکسا رہے ہیں۔ن تحریک انصاف نے مرکز میں 3.5 سال اور خیبر پختونخوا میں 11 سال حکومت کی، لیکن ان برسوں میں ملک اور صوبے کی ترقی کے لیے کچھ خاص نہیں کیا گیا۔ عوام کو ترقی اور خوشحالی کی بجائے، صرف سیاسی مصلحتوں اور ذاتی مفادات کے کھیل کا سامنا کرنا پڑا۔ ان برسوں میں حکومت نے لوگوں کی زندگیوں میں بہتری لانے کے بجائے مسائل میں اضافہ کیا۔

    پی ٹی آئی کا ایجنڈا صرف اور صرف ملک میں عدم استحکام پیدا کرنا اور انارکی پھیلانا ہے۔ 9 مئی کے واقعات نے پی ٹی آئی کے منفی ایجنڈے کو بے نقاب کر دیا ہے، جب اس کے کارکنوں نے ملک کے اہم ترین اداروں پر حملہ کیا۔ یہ حملے ملک کی ترقی کے لیے نہیں، بلکہ ایک گروپ کی سیاسی مفاد کے لیے تھے، جس کا مقصد صرف اور صرف ملک میں عدم استحکام پیدا کرنا تھا۔9 مئی 2023 کو ہونے والے واقعات نے پی ٹی آئی کے سیاسی ایجنڈے کی حقیقت کو کھول کر رکھ دیا۔ پی ٹی آئی کے کارکنوں نے سیاسی مفادات کے لیے پاکستان کے مختلف اہم اداروں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ملک کی سلامتی اور استحکام پر سنگین اثرات مرتب ہوئے۔

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا، جنہیں پی ٹی آئی کی طرف سے صوبے کی ترقی کی ذمہ داری دی گئی ہے، وہ جلسوں، احتجاجوں ، دھرنوں میں خیبر پختونخوا کے خزانے کا پیسہ لٹا رہے ہیں،عوامی مسائل کا حل انکی ترجیح نہیں ہے. خیبر پختونخوا کی عوام کو سڑکوں کی بہتر حالت، صحت کے بہتر نظام اور تعلیم کے شعبے میں ترقی کی ضرورت ہے۔ لیکن اس کے بجائے، علی امین گنڈا پور عمران خان کی رہائی کا نعرہ لگا کر اور دھمکیاں دے کر اپنی سیاست کر رہے ہیں، وفاق کو دھمکیاں دینا علی امین گنڈا پور کی مستقل پالیسی بن چکی ہے جو خطرناک ہے، یہی وجہ ہے کہ عوام پی ٹی آئی کو اب مسترد کر چکی، جلسے کی ناکامی، پارٹی کے اندر کی لڑائیاں، اور پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی ناکامیوں نے عوام کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ اس جماعت کا ایجنڈا صرف اور صرف ذاتی مفادات پر مبنی ہے، نہ کہ ملک کی ترقی اور عوام کی بھلائی کے لیے۔خیبر پختونخوا کے عوام ترقی اور استحکام چاہتے ہیں، نہ کہ انتشار اور سیاسی لڑائیاں۔ وہ چاہتے ہیں کہ حکومت ان کے مسائل حل کرے، نہ کہ سیاسی نعروں میں وقت ضائع کیا جائے۔ پی ٹی آئی کا ایجنڈا اب عوام کے مفاد میں نہیں ہے، اور یہی وجہ ہے کہ عوام نے اس جماعت کو مسترد کر دیا ہے۔

  • مسلمانان جموں کشمیر کی تاریخی جدوجہد اور یکجہتی کشمیر کے تقاضے

    مسلمانان جموں کشمیر کی تاریخی جدوجہد اور یکجہتی کشمیر کے تقاضے

    تحریر: تنویرالاسلام (سابق چئیرمین متحدہ جہاد کونسل جموں کشمیر)

    ریاست جموں و کشمیر دلکش قدرتی حسن اور جغرافیائی اہمیت کے سبب ”جنتِ نظیر” کہلاتی ہے حقیقت میں صدیوں پر محیط ظلم و جبر اور انسانی تکالیف کی وجہ سے ”دکھوں کی سر زمین” ہے جہاں لوگ مدت مدید سے اپنی بقاءاور حقوق کی جنگ لڑرہے ہیں اور ان کی جدوجہد” مزاحمت اور استقامت” کی ایک روشن مثال بنی ہوئی ہے ۔کشمیری مسلمانوں کی لازوال قربانیاں اور غیر متزلزل عزم اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ اپنی عزت، وقار اور حق خودارادیت پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے ۔کشمیری مسلمانوں کو پشت در پشت سیاسی محرومی، معاشی استحصال اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا سامنا رہا ہے اس کے باوجود انہوں نے ہمیشہ اپنے تشخص اور اسلامی اقدار کو بچائے ر کھا ہے۔
    کشمیری مسلمانوں پر منظم جبر کا آغاز 1819ءمیں سکھ حکمرانی کے دور سے ہوا ۔اس دور میں بھاری ٹیکسوں، مذہبی بغض و عناد، سماجی و قانونی استحصال اور ظلم و جبر نے مسلمانوں کو سیاسی، سماجی اور معاشی طور پر بدحال کیا ۔1846ءمیں برطانوی سامراج نے معاہدہ امرتسر کے تحت کشمیر کو 75 لاکھ نانک شاہی سکوں کے عوض ڈوگرہ مہاراجہ گلاب سنگھ کو فروخت کر دیا جس کے نتیجے میں کشمیر میں ظلم و جبر کا ایک نیا دور شروع ہوا ۔ڈوگرہ حکمرانی کے دوران کشمیری مسلمانوں کو ناقابلِ بیان مظالم، مذہبی پابندیوں، جبری مشقت (بیگار)، بھاری ٹیکسوں اور معاشی استحصال کا سامنا کرنا پڑا۔
    29 اپریل 1865 ءکو کشمیری شال بافوں نے ظالمانہ ٹیکسوں کے خلاف صدائے احتجاج بلندکی ۔ اس احتجاج کے دوران 28 معصوم کاریگروں کو بے دردی سے شہید کردیا گیا۔ 21 جولائی 1924 ءکو سرینگر ریشم خانہ کے مزدوروں نے اجرتوں میں اضافے کے لیے پرامن احتجاج کیا جس کو ڈوگرہ حکمرانوں نے طاقت کے زور پر دبایا۔اس احتجاج کے دوران گولیوں کی بوچھاڑ سے 10 مزدور شہید اور 20 زخمی ہوگئے ۔یہ مظاہرہ جنو بی ایشاءکی تاریخ میں مزدوروں کے حقوق کے لیے اپنی نوعیت کا پہلاواقعہ تھا جس کو بزور طاقت کچلا گیا ۔ریاستی مسلمانوں نے اس ظلم کے خلاف 1930ءمیں ایک موثر تحریک شروع کی۔ 13 جولائی 1931ءکو سرینگر کی سنٹرل جیل کے باہر مظاہرین پر اندھا دھند گولیاںچلائی گئی جس سے 21 معصوم مسلمان شہید کر دئے گئے ۔اس سانحہ نے کشمیری عوام کی تحریک کو جلا بخشی اور اس تحریک کو برصغیر کے مسلمانوں کی بھرپور حمایت حاصل ہوئی جس کے نتےجے میں پنجاب میں مقیم کشمیری مسلمانوں نے ”آل انڈیا مسلم کشمیر کمیٹی” کا قیام عمل میں لایا ۔اس کمیٹی نے کشمیری مسلمانوں سے اظہاریکجہتی کے لیے 14 اگست 1931ءکو لاہور کے موچی دروازہ میں ڈاکٹر علامہ اقبال ؒکی صدارت میں ایک عظیم الشان جلسے کا انعقا د کیا ۔اس دن کو ”یومِ کشمیر” کے طورپر منایا گیا اور یہ دن کشمیری مسلمانوں کی جدوجہد آزادی میں تاریخی سنگ میل ثابت ہوا ۔کشمیر کمیٹی کے خاتمے تک ہر سال 14 اگست کو یوم کشمیر کے طور منایا جاتا رہا ۔کشمیری عوام کے حقوق اور حق حکمرانی کی تحریک اپنے عروج پر تھی جب برصغیر کے مسلمانوں نے قیام پاکستان کی منظم تحریک کا آغازکیا اور اس دوران قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے 1944ءمیں کشمیر کا دورہ کیا ۔کشمیری مسلمانوں نے علامہ اقبال ؒکے ملی نظریے کی تقلید کرتے ہوئے ملت اسلامیہ کے ساتھ وحدت کا مظاہرہ کرکے تحریکِ پاکستان میںبھر پور شمولیت اختیار کی جو اس عزم کی عکاسی تھی کہ کشمیری اپنے مستقبل کو آزادی اور اسلام کے نام پر قائم ہونے والے مملکت پاکستان کے ساتھ وابستہ دیکھتے تھے ۔بدقسمتی سے برصغیر کی آزادی اور قیام پاکستان کے بعد برطانوی سامراج اور کانگریسی قیادت کی ملی بھگت کے سبب کشمیر کو پاکستان کا حصہ بننے نہیں دیا گیا۔ مہاراجہ ہری سنگھ نے ابتدا ءمیں پاکستان کے ساتھ ‘ا’سٹینڈ سٹل ایگریمنٹ” کیا مگر بعد میں بھارت سے الحاق کرلیا۔ 27 اکتوبر 1947ءکو بھارت نے اپنی فوجیں ریاست جموںکشمیر میں داخل کر کے بڑے حصے پر قبضہ کر لیا ۔کشمیریوں نے اپنی مدد آپ کے تحت اور صوبہ سرحد کے قبائلی عوام کی مدد سے ریاست کے ایک حصے کو آزاد کرایا جو آج آزاد کشمیر کہلاتا ہے۔
    بھارت نے پاکستان پر دراندازی کا الزام لگا کر مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں پیش کیا جس کے نتےجے میں اقوام متحدہ نے 5 جنوری 1949ءکو کشمیری عوام کی حقِ خودارادیت کے لیے ایک تاریخی قرارداد منظور کی جس میں آزادانہ استصوابِ رائے کے ذریعے کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیا گیا۔ تاہم بھارت نے آج تک ان قراردادوں پر عملدرآمد نہیں کیا اور کشمیری عوام کو ان کے بنیادی حق سے محروم رکھا گیالیکن جموں کشمیر کی غیور عوام نے حق خودارادیت کے حصول کے لئے سیاسی اور سفارتی جدوجہد جاری رکھی لیکن حق آزادی سے محروم رہے۔ تنگ آمدبہ جنگ آمد کے مصداق سال 1989ءمیںمسلح جدوجہد کا آغاز کیاسال 1990 ءمیں مقبوضہ کشمیر میں عسکری تحریک عروج پر پہنچی ۔جب بھارتی مظالم میں شدت آگئی تو 5 فروری 1990 ءکو جماعتِ اسلامی پاکستان کے امیر مرحوم قاضی حسین احمد نے کشمیریوں کی حمایت میں ہڑتال کی اپیل کی جسے اس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد نواز شریف اور وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کی مکمل حمایت حاصل ہوئی جب سے یہ دن ہر سال”  یوم یکجہتی کشمیر "کے طور پر پاکستان میں جوش و جذبے کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ اس دن ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے، ریلیاں، سیمینارز، اور مختلف تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے تاکہ عالمی برادری کو مسئلہ کشمیر کی سنگینی سے آگاہ کیا جا سکے۔ اس دوران مقبوضہ جموں کشمیر میں بھارتی مظالم کی تاریخ ایک لاکھ سے زائد شہداء، ہزاروں زخمی اور بے شمار نقل مکانی کرنے والے افراد کی قربانیوںاور کھربوں روپے کے املاک اور کاروباری نقصانات سے عبارت ہیں ۔بھارت نے کشمیریوں کے جائز مطالبے حق خودارادیت دینے کے بجائے کشمیر کی داخلی خودمختاری سلب کرکے مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر کو تقسیم کر کے بھارت میں ضم کردیا
    مسلمانان جموں و کشمیر 5اگست 2019ءکے بعد بھارت کی پاکستان اور مسلم دشمنی، سخت گیر انتقامی پالسیوں اور امتیازی قانون سازی کی وجہ سے مذہبی آزادی، انسانی حقوق کی شدید پامالیوں ، ثقافتی استحصال کے علاوہ معاشی، معاشرتی، سیاسی اور تعلیمی تنزلی کے شکار ہیں۔ بھارت نے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لئے مسئلہ کشمیر کو مزید گمبھیربنایا ہے جو بنیادی طور پر آزادی کشمیر، پاکستان کی سلامتی و استحکام اورہر پاکستانی کے امن و خوشحالی کا مسئلہ ہے۔ بھارتی حکومت کے ”ہندو توا نظریہ“ اور خطرناک منصوبوں کے پیش نظر جہاں آج کشمیری مسلمانوں کاتحفظ و بقا،اسلامی تشخص اور تحریک آزادی کشمیر کا تسلسل انتہائی مشکلات کا شکار ہے وہاں آزاد کشمیر کی سلامتی ،پاکستان کے ساتھ اس کے تعلقات ، سندھ طاس معاہدہ اور سی پیک کا منصوبہ بھی سنگین خطرات کے زد میں ہے۔
    ہندوتوا نظریے کی علمبردار بھارتی حکومت کے جارحانہ عزائم اور کشمیری مسلمانوں کو درپیش سنگین چیلنجز سے نمٹنے کے لیے محض بیانات کافی نہیںبلکہ عملی اقدامات ناگزیر بن چکے ہیں ۔کشمیریوں کے ساتھ حقیقی یکجہتی کا تقاضا ہے کہ رسمی تقاریب کے بجائے موثر حکمت عملی اپنا کر مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے، انسانی حقوق کی تنظیموں کو متحرک کرنے ، کشمیری عوام کی معاشی بدحالی اور متاثرین تحریک کی بحالی کے لئے موثر اقدامات کئے جائیں جو وقت کی اہم ضرورت ہے ۔کشمیر کی آزادی اور پاکستان کی بقاءو ترقی کے لئے حکمت و دانائی سے دور جدید کے تقاضوں کے ہم آہنگ اقدامات کرنے ہوں گے اور دنیا کو باورکرا نا ہوگا کہ کشمیر اور پاکستان ملت واحدہ ہیں اور مسئلہ کشمیر کا عوامی امنگوں کے مطابق منصفانہ حل جنوبی ایشاءکی امن و ترقی کے لئے لازم و ملزوم ہے

  • سیدہ فاطمہ زاہرا سلام اللہ علیہا کی عظمت. تحریر : سیدہ عطرت بتول نقوی

    سیدہ فاطمہ زاہرا سلام اللہ علیہا کی عظمت. تحریر : سیدہ عطرت بتول نقوی

    علامہ اقبال نہ صرف ایک آفاقی شاعر تھے بلکہ وہ عظیم مفکر ، فلسفی ، صوفی ، قانون دان اور مصنف تھے پوری دنیا میں ان کا کلام پسند کرنے والے اور ان کے چاہنے والے موجود ہیں اور اقبالیات ایک وسیع موضوع بن چکا ہے وہ ہر دور کے شاعر ہیں پیغبر اسلام صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عشق میں سرشار تھے اور قرآن سے وابستگی نے ان کا اقبال مزید بلند کیا اردؤ شاعری کی طرح ان کی فارسی شاعری بھی لاجواب ہے لیکن فارسی عام زبان نہ ہونے کی وجہ سے ان کا یہ کلام زیادہ منظر عام پر نہیں آ تا

    علامہ اقبال کی ایک شاہکار فارسی نظم جو ،، رموز بےخودی ،، میں موجود ہے اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحب زادی فاطمہ زاہرا سلام اللہ علیہا کے بارے میں ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ علامہ اقبال کو جناب سیدہ کی کتنی معرفتِ تھی وہ جناب رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کی گہرائی کو سمجھ گئے تھے کہ ،، فاطمہ بضعتہ منی ،، ( فاطمہ میرا ٹکڑا ہے ) اور یہ حدیث مبارکہ بھی کہ ،، فاطمہ سیدہ ۃ نساء عالمین ( فاطمہ سارے جہان کی عورتوں کی سردار ہے )

    اقبال کہتے ہیں
    مریم از یک نسبت عیسی عزیز
    از سہ نسبت حضرت زہرا عزیز
    ( بی بی مریم سلام اللہ علیہا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حوالے سے بزرگ وبرتر ہیں جبکہ فاطمہ زاہرا تین نسبتوں سے بزرگ وعزیز ہیں آ پ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نور چشم ہیں جو اولین و آخرین عالم کے رہبر و امام ہیں
    آ نکہ جان در پیکر گیتی دمید
    روز گار تازہ آ ئین آ فرید
    ( وہی رحمت للعالمین جنہوں نے کائنات کے پیکر میں روح پھونک دی اور ایک تازہ دین سے معمور زمانے کی تخلیق فرمائی )
    بانوے آ ن تاجدار ھل اتیٰ
    مرتضیٰ مشکل کشا شیرِ خدا
    ( آ پ ھل اتیٰ کے تاجدار مرتضیٰ شیر خدا کی زوجہ معظمہ ہیں)

    مادر آ ن مرکز پرکار عشق
    مادر آ ن کاروان سالار عشق
    ( ان کی ماں ہیں جو عشق کا مرکزی نقطہ اور پرکار عشق ہیں اور ماں ہیں ان کی جو کاروان عشق کے سردار ہیں )

    آ ن ادب پروردہ ء صبر ورضا
    آ سیا گردان ولب قرآن سرا
    ( صبر ورضا کا یہ عالم تھا کہ چکی پیستی جاتی تھیں اور لبوں پر قرآن جاری رہتا)

    بہر محتاجی دلش آ ن گونہ سوخت
    با یہودی چادر خود را فروخت
    ایک محتاج اور مسکین کی حالت پر ان کو اس قدر ترس آ یا کہ اپنی چادر یہودی کو بیچ ڈالی)

    رشتہ آ ئین حق زنجیر پاست
    پاس فرمان جناب مصطفیٰ است
    (آ ئین حق سے رشتہ تعلیماتِ اِسلام اور رسول اللہ کا فرمان میرے پاؤں میں زنجیر ڈال دیتا ہے)
    ورنہ گرد تر بتش گردید می
    سجدہ ہا بر خاک او پاشید می
    ( ورنہ میں آ پ کی تربت کے گرد طواف کرتا اور اس خاک پر سجدے کرتا )

    علامہ اقبال کی اس نظم کے آ خری اشعار حیرت انگیز اور بے حد متاثر کن ہیں انہوں نے سیرت جناب سیدہ فاطمہ کا کتنا گہرا مطالعہ کیا تھا کہ وہ کہتے ہیں کہ میرے پاؤں میں شریعت کی زنجیر نہ ہوتی تو میں ان کی قبر مبارک کا طواف کرتا اور سجدے کرتا ،یقننا جناب سیدہ فاطمہ زاہرا سلام اللہ علیہا ایسی ہی قدر و منزلت والی ہستی تھیں رسول اللہ ان کے آ نے پر کھڑے ہو جاتے تھے ان کی پیشانی پر بوسہ دیتے تھے اور اپنی جگہ پر بٹھا لیتے تھے وہ شہر علم تھے علم نبوت کی رو سے جانتے تھے کہ ان کی بیٹی کے پیارے بیٹے اپنے نانا کے دین پر قربان ہونگے اور وہ کفار مکہ جو ان کو طعنے دیتے تھے کہ آ پ کا کوئی بیٹا نہیں ہے آ پ کی نسل ختم ہوجائے گی اللہ نے اپنے پیارے حبیب کی نسل ان کی بیٹی سے چلائی ،اس زمانے میں جب جاہل عرب بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیتے تھے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے بیٹی کی قدر و منزلت فرمائی ان کو ہر طرح کے حقوق دینے بیٹی کے بچوں کو کندھے پر بٹھایا اور کہا حسن وحسین جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں ،مدینے کے عیسائی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات سے انکار کرتے تھے اور عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا کہتے تھے تب اللہ تعالیٰ نے سورۃ آل عمران میں فرمایا کہ
    ،، اے رسول یہ تم سے عیسیٰ کے بارے میں بات کرتے ہیں تم ان سے کہہ دو کہ تم اپنے بیٹوں کو لاؤ ہم اپنے بیٹوں کو لاتے ہیں تم اپنی عورتوں کو لاؤ ہم اپنی عورتوں کو لاتے ہیں تم اپنے نفسوں کو لاؤ اور ہم اپنے نفسوں کو لاتے ہیں اور پھر عیسیٰ کے بارے میں مباہلہ کرتے ہیں اور پھر جو جھوٹا ہو اس پر خدا کی لعنت ،،
    ( آیت نمبر 61 ، پارہ تیسرا ، محل نزول مدینہ)

    سورۃ آل عمران کی ان آ یات کے نازل ہونے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآنی حکم کے مطابق اپنے بیٹوں کے طور پر اپنے نواسوں حسن وحسین علیھم السلام اور فاطمہ زاہرا سلام اللہ علیھا اور حضرت علی علیہ السلام کو لے کر میدان مباہلہ میں نجران کے عیسائیوں سے مباہلہ کرنے گئے تھے ،فاطمہ زاہرا سلام اللہ علیہا کے بچوں نے بچپن میں ہی اپنے نانا جان کے ہمراہ توحید کی روشنی سے جہان کو منور کیا اور اپنی عالی مرتبت ماں کی تربیت سے ایک زمانے کو حریت وصداقت کا درس دیا

    اقبال فرماتے ہیں
    سیرت فرزند ہا از امات
    جوہر صدق وصفا از امات
    مزرع تسلیم را حاصل بتول
    مادران را اسوہ کامل بتول
    ( فرزندوں کوسیرت اور روش زندگی ماؤں سے ورثے میں ملتی ہے صدق وخلوص کا جوہر ماؤں سے ملتا ہے اور تسلیم اور عبودیت کی کھیتی کا حاصل بتول ہیں اور ماؤں کے لیے نمونہ کامل بتول ہیں)

    ( 3 جمادی الثانی جناب سیدہ فاطمہ زاہرا سلام اللہ علیہا کے یوم رحلت پر لکھا گیا مضمون)

  • ظرافت نگاری کی شان شوکت تھانوی .تحریر :   ریحانہ صبغتہ اللّٰہ

    ظرافت نگاری کی شان شوکت تھانوی .تحریر : ریحانہ صبغتہ اللّٰہ

    کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہیں اللّٰہ تعالیٰ نے ایسی خوبیوں سے نوازا ہوتا ہے جو ہر کسی میں نہیں ہوتیں ۔اور یہی خوبی انہیں باقی تمام انسانوں سے ممتاز کرتی ہے۔ ایک ایسی ہی شخصیت شوکت تھانوی کی بھی تھی جو اپنے فن سے لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گئے ۔شوکت تھانوی نے اردو ادب کی ہر صنف میں اپنا مقام بنایا ۔شوکت تھانوی مزاح نگاری میں بھی اپنا ایک الگ مقام رکھتے ہیں ۔وہ اردو ادب میں بہترین ناول نگار تھے افسانہ نگار ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھے شاعر بھی تھے ۔

    شوکت تھانوی کا اصل نام محمد عمر تھا ۔وہ 3فروری 1904ءکو بھارت کی ریاست اتر پردیش میں پیدا ہوئے ۔ان کا آبائی وطن تھانہ بھون تھا اس لیے اپنے نام کے ساتھ تھانوی لکھتے ۔اردو ادب میں شوکت تھانوی کی کئی جہتیں ہیں وہ ادیب ،صحافی،شاعر،ڈرامہ نگار ،افسانہ نویس ،کالم نویس ،فلمی مکالمہ نویس ،فلمی کہانی نویس ،ناول نگار صدا کار اور ریڈیو فیچر نگار تھے ۔یہاں تک کہ انہوں نے ایک فلم میں اداکاری کے جوہر بھی دکھائے ۔شوکت تھانوی ان شخصیات میں سے ایک ہیں جنہوں نے اپنے ذوق و شوق ،محنت و لگن ہمت و کوشش اور اہل فیض و صحبت سے ادب میں اعلیٰ سے اعلیٰ مرتبہ حاصل کیا ہے ۔بڑے سے بڑے اور سنجیدہ سے سنجیدہ مسلے کو وہ اپنے مخصوص ظریفانہ انداز میں حل کر لیتے تھے ۔

    عام طور پر ایک مزاح نگار کے بارے میں یہ تاثر ہوتا ہے کہ وہ اپنی زندگی میں بھی سنجیدہ نہیں ہوگا لیکن شوکت صاحب اپنی زندگی میں نہایت سنجیدہ انسان تھے ۔وہ اپنے ایک خاکے "عشرت رحمانی”میں لکھتے ہیں کہ جن حضرات نے ان کے افسانے ،ناول اور مزاحیہ مضامین پڑھے ہیں وہ سمجھتے ہوں گے کہ شوکت صاحب کی زندگی کا کوئی لمحہ سنجیدگی سے نہیں گزرا ہو گا ،مگر یہ ان کی خام خیالی ہے ۔شوکت تھانوی جیسے مزاح نگار تھے اس سے کہیں زیادہ سنجیدہ شخصیت کے مالک تھے ۔

    شوکت تھانوی نے ادب کی جن اصناف میں طبع آزمائی کی ان میں خاکہ نگاری بھی شامل ہے ۔اس میں انہوں نے اپنے فن کے جوہر دکھائے اور نمونے کے طور پر دو مجموعے "شیش محل”اور "قاعدہ بے قاعدہ”پیش کئے ۔ان دو مجموعوں کو بیحد شہرت ملی ۔ان کا ہر ناول دلچسپ ہونے کے ساتھ ساتھ شگفتگی کو بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے ۔ان کی خصوصیات معاشرتی تصور ہے ۔

    ان کا مزاح تجربات اور مشاہدات کی عکاسی کرتا ہے ۔
    وہ زیادہ تر عملی زندگی کے واقعات سے مزاح پیدا کرتے تھے اور ان کے کرداروں کی تخلیق وہ اپنی آس پاس کی زندگی زندگی سے ہی کرتے تھے ۔
    شوکت تھانوی میں قوت مشاہدہ ،باریک بینی اور قوتِ اظہارکی خوبیاں بھی بدرجہ اتم موجود تھیں ۔
    ان کی نظموں کے موضوعات گھریلو ،سماجی،سیاسی اور غیر سیاسی ہیں جس میں ہر برائی ،خامی اور ناہمواری کو ظریفانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے ۔ان کی ایک نظم فیملی پلاننگ ،مفلسی اور کثرت اولاد سے متعلق ہے ۔اس نظم میں ایک غریب آدمی کثرت اولاد کے مخالف ہے۔
    اور اپنے لخت جگر کو دنیا میں آنے سے پہلے کہتا ہے کہ وہ مفلسی کے اس حال میں پیدا نہ ہو ۔
    اے میرے بچے میرے لخت جگر پیدا نہ ہو
    یاد رکھ پچھتاۓ گا تو میرے گھر پیدا نہ ہو
    شوکت تھانوی اس صورتحال کو ظرافت کے پیرائے میں بڑی خوبی کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔

    شوکت تھانوی ایک مزاح نگار ،شاعر،افسانہ نگار اور ناول نگار ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بلند پایہ صحافی بھی تھے ۔ان کی زیادہ تر تخلیقات اخبار اور رسائل کے ذریعے عوام کے سامنے آئیں ۔
    ان کی صحافتی زندگی کے متعلق احمد جمال پاشا لکھتے ہیں کہ شوکت تھانوی پیدائشی صحافی تھے ۔ان کی صحافتی زندگی کا آغاز زمانہ طالبعلمی میں 1920ءسے ہوا ۔اس وقت ان کی عمر صرف 16سال تھی جب شوکت تھانوی نے ذاتی طور پر اپنا قلمی رسالہ نکالا ۔منشی واجد علی لطف لکھنوی رسالہ "حسن ادب”لکھنؤ سے نکالتے تھے ۔1925ءمیں شوکت تھانوی نے اس رسالے کی بھی ادارت کی ۔اس کے علاوہ ان کے چچا زاد بھائی ارشد تھانوی 1928ءمیں ایک پرچہ "تحریک ہفتہ وار یار” بھوپال سے نکالا کرتے تھے اور جب وہ لکھنؤ منتقل ہوۓ تو اس پرچے کو لکھنؤ سے جاری کیا اور اس میں شوکت تھانوی کو بھی شامل کیا ۔اس اخبار کا فقاہیہ کالم جو
    "لالہ زار "کے عنوان سے لکھا جاتا تھا اس کو شوکت تھانوی کے سپرد کر دیا ۔وہ مختلف اخبارات میں
    "حرف و حکایت "اور "پہاڑ تلے”کے عنوان سے کالم نویسی بھی کیا کرتے تھے ۔

    شوکت تھانوی ریڈیو سے بھی وابستہ رہے ۔انہوں نے ریڈیو پر نشری اصناف پر طبع آزمائی کی شگفتہ اور دلچسپ تحریروں کو نشر کیا ۔اس طرح شوکت تھانوی کے تخلیقی سرمائے میں غیر نشریاتی ادب کے ساتھ ساتھ نشریاتی ادب کا ذخیرہ بھی ملتا ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ شوکت تھانوی براڈکاسٹنگ کا بھی ایک روشن ستارہ تھے ۔1938ءمیں انہوں نے صحافت سے کنارہ کشی اختیار کر لی ۔آل انڈیا ریڈیو سے ڈرامہ نگار کی حیثیت سے وابستہ ہوگئے ۔ساتھ ہی ساتھ صدا کاری بھی کرنے لگے ۔پھر جب پاکستان کا قیام عمل میں آیا تو آپ لاہور آگئے اور ریڈیو پاکستان لاہور سے منسلک ہو گئے فیچر نگاری کرنے لگے اور مختلف پروگرامز کے علاوہ اپنا معروف پروگرام "قاضی جی”بھی پیش کرتے تھے ۔ان کا یہ پروگرام ریڈیو کا مقبول ترین پروگرام تھا ۔جس کا اسکرپٹ خود شوکت تھانوی لکھتے تھے اور قاضی جی کا کردار بھی خود ہی ادا کرتے تھے ۔

    ریڈیو کی نشریاتی اصناف میں ریڈیو تقاریر ،ریڈیو ڈرامہ اور مضامین شامل ہیں ۔ان سبھی پر شوکت تھانوی نے لکھا ہے لیکن نشریاتی ادب میں شوکت تھانوی کو خاص شہرت و مقبولیت ریڈیو ڈرامہ کی وجہ سے ملی ۔کیونکہ ریڈیو ڈرامہ نشریات اور ادبی حیثیت سے ایک خاص اہمیت رکھتا ہے ۔ریڈیو پر شوکت تھانوی کا پہلا ڈرامہ "خدا حافظ”نشر ہوا جس میں ہیرو کا کردار بھی خود شوکت تھانوی نے ہی ادا کیا ۔اس کے بعد انہوں نے ریڈیو سٹیشن کی طرف سے ایک منفرد سیریز بھی پیش کی جس کا عنوان "منشی جی”تھا ۔

    ڈراموں میں شوکت تھانوی نے ایک مزاحیہ کردار کا سہارا لے کر معاشرتی زندگی میں رونما ہونے والے واقعات کو ظرافت کے پیرائے میں نہ صرف پیش کیا بلکہ نہایت لطیف اور دلکش انداز میں روزمرہ کی زندگی پر طنز کیا۔
    شوکت تھانوی چھوٹی بڑی تخلیق میں جدت اور نیا پن پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے ۔شوکت تھانوی کے ہر مکالمے اور جملے برجستہ اور دلچسپ ہوتے ۔شوکت تھانوی کے ریڈیو ڈراموں کی ایک کتاب "سنی سنائی”بھی ہے ۔کم وقت میں زیادہ لکھنے کا ہی نتیجہ ہے کہ ان کی تصانیف کی کثیر تعداد ہے ۔ان کی تصانیف میں سو دیشی ریل سب سے زیادہ مشہور ہے ۔اس کے علاوہ موج تبسم ،طبر تبسم ،سیلابی تبسم ،بحرتبسم ،طوفان تبسم ،بار خاطر ،جوڑ توڑ ،سنی سنائی ،خدا نخواستہ،بقراط،قاعدہ باقاعدہ ،الٹ پھیر ،لاہور یار ،قاضی جی،منشی جی،بھابھی،کچھ یادیں کچھ باتیں ،غالب کےڈرامے ،کٹیا ، بیگم ، داماد،خامخواہ ،نیلوفر،غزالہ،وفا کی دیوی ،مولانا ،شیطان کی ڈائری اور پگلی وغیرہ شامل ہیں ۔شوکت تھانوی کی کئی تصانیف نصاب میں بھی شامل ہیں جن میں شاہین بچے اور لاڈلا بیٹا سر فہرست ہے ۔ان کے خاکوں کا مجموعہ "شیش محل” کے نام سے شائع ہوا ۔
    اسی طرح ان کی خود نوشت سوانح عمری بھی تحریر کی جس کا نام ہے”ما بدولت ” ۔
    یادداشتوں پر مشتمل کتاب”کچھ یادیں”کے عنوان سے شائع ہوئیں ۔
    حکومت پاکستان نے شوکت تھانوی کی خدمات کے صلے میں تمغہ امتیاز سے نوازا ۔ادب کی دنیا میں شوکت تھانوی کا نام روشن ستارے کی طرح چمکتا رہے گا (انشاء اللہ)
    اردو ادب کے اس نامور ادیب اور مزاح نگار کا انتقال 4مئی 1963ءکوانسٹھ سال کی عمر میں ہوا ۔ان کی آخری آرام گاہ لاہور کے میاں میر قبرستان میں واقع ہے ۔

  • ایک کالم صرف لڑکیوں کیلئے۔۔۔ تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    ایک کالم صرف لڑکیوں کیلئے۔۔۔ تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    یہ دور سوشل میڈیا کا ہے، جہاں فاصلے سمٹ چکے ہیں، اور ہر کوئی دنیا کے کسی بھی کونے میں بیٹھ کر کسی سے بھی رابطہ کر سکتا ہے۔ محبت کے جذبات بھی ان ڈیجیٹل راستوں پر بہنے لگے ہیں، جہاں ایک تصویر، ایک میسج، ایک ویڈیو کال کسی کو دل کے قریب کر دیتی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ محبت حقیقت میں بھی اتنی ہی گہری اور سچی ہوتی ہے جتنی کہ دکھائی دیتی ہے؟اونیجا اینڈریو رابنس نامی یہ امریکی خاتون گذشتہ کئی دنوں سے پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں موجود ہیں اور اُس کی موجودگی خبروں اور تبصروں کی زینت بن رہی ہے۔ویزا کی معیاد پوری ہونے اور پاکستانی اور امریکی حکام کی متعدد کوششوں کے باوجود وہ واپس امریکہ جانے سے انکاری ہیں۔ اُن کا دعویٰ ہے کہ وہ کراچی میں ایک پاکستانی نوجوان کی محبت میں مبتلا ہو کر اُس کی تلاش میں پہنچی تھیں۔

    یہ کہانی ایک ایسی لڑکی کی ہے جو امریکہ میں پلی بڑھی، آزادی اور خودمختاری کی زندگی گزار رہی تھی۔ مگر دل پر کسی کا اختیار نہیں ہوتا۔ فیس بک پر ایک پاکستانی نوجوان سے دوستی ہوئی، اور پھر یہ دوستی محبت میں بدل گئی۔ دن رات کی گفتگو، وعدے، خواب، اور یقین دہانیاں اسے اس حد تک لے آئیں کہ اس نے اپنا سب کچھ چھوڑ کر پاکستان آنے کا فیصلہ کر لیا۔یہ اس کامحبت کا سفر تھا یا زندگی کی سب سے بڑی غلطی؟۔یہ لڑکی سب کچھ چھوڑ کر پاکستان آئی، دل میں خوشی، امید، اور محبت کا چراغ جلائے۔ اس نے یقین کر لیا تھا کہ جس شخص سے وہ ملنے جا رہی ہے، وہ اس کا سچا محبت کرنے والا ہے، جو اسے عزت، خوشی اور تحفظ دے گا۔ لیکن جیسے ہی وہ پاکستان پہنچی، اس کا خواب ٹوٹ گیا۔ وہ لڑکا جو اسے ایئرپورٹ پر لینے آنا تھا، غائب ہو چکا تھا۔بار بار کال کرنے پر بھی کوئی جواب نہیں، میسجز بھیجنے پر کوئی ردعمل نہیں، اور جب اس نے گھر والوں سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو پتا چلا کہ وہ لڑکا حقیقت میں کہیں اور مصروف تھا، اور اس کے جذبات محض ایک کھیل تھے۔ وہ لڑکی ایک اجنبی ملک میں، اکیلی، بے سہارا، اور دل شکستہ کھڑی رہ گئی۔

    یہ کہانی ایک سبق ہے۔یہ صرف ایک کہانی نہیں، بلکہ ایک سبق ہے ان تمام لڑکیوں کے لیے جو سوشل میڈیا کی محبت کو حقیقت سمجھ کر اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطی کر بیٹھتی ہیں۔محبت ایک خوبصورت جذبہ ہے، لیکن یہ ضروری ہے کہ محبت اور دھوکہ میں فرق کیا جائے۔ فیس بک، انسٹاگرام، یا دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کسی کے میٹھے بول اور جھوٹی محبت کے جال میں آ کر اپنی زندگی کو خطرے میں ڈالنا ایک بڑی نادانی ہے۔آنکھیں بند کر کے اعتبار نہ کریں۔سوشل میڈیا پر کسی سے تعلق بنانا آسان ہے، لیکن اعتبار کرنے سے پہلے تحقیق کرنا ضروری ہے۔ جو شخص آپ سے محبت کا دعویٰ کرتا ہے، وہ حقیقت میں کیسا ہے؟ کیا اس کی باتوں میں سچائی ہے؟ کیا وہ واقعی آپ کے لیے کچھ کر سکتا ہے یا محض وقت گزاری کر رہا ہے؟ یہ سب جانچنا ضروری ہے۔محبت میں جلد بازی نقصان دہ ہو سکتی ہے۔محبت ایک خوبصورت احساس ہے، لیکن اگر یہ جذبات میں بہہ کر کی جائے تو نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ کسی سے محض آن لائن بات چیت کے بعد اس پر اپنی زندگی کا فیصلہ کرنا حماقت ہے۔اپنے خاندان کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔اگر کوئی واقعی آپ سے محبت کرتا ہے تو وہ آپ کے خاندان کے سامنے آنے سے نہیں گھبرائے گا۔ اگر کوئی شخص آپ کو چھپ کر، خفیہ طور پر ملنے یا کسی اور ملک آنے کے لیے مجبور کر رہا ہے تو یہ واضح اشارہ ہے کہ کچھ غلط ہے۔ خود کو قیمتی سمجھیں ،کسی بھی لڑکی کی عزت، خودداری، اور زندگی کسی کے جھوٹے وعدوں سے زیادہ قیمتی ہے۔ کوئی بھی شخص جو آپ کی سچائی کا فائدہ اٹھا کر آپ کے جذبات سے کھیل رہا ہو، وہ آپ کے لائق نہیں۔ایسی کہانیوں کو دہرانے سے کیسے بچا جائے؟یہ صرف ایک کہانی نہیں، بلکہ سوشل میڈیا پر ہونے والے ان گنت دھوکوں میں سے ایک ہے۔

    آئے دن ہم ایسی خبریں سنتے ہیں کہ کسی لڑکی نے کسی اجنبی پر بھروسہ کر کے اپنی زندگی برباد کر لی۔ اس سے بچنے کے لیے چند احتیاطی تدابیر اپنائی جا سکتی ہیں: کسی سے آن لائن دوستی ہونے پر پہلے مکمل تحقیق کریں۔ محبت کے جذبات میں جلد بازی نہ کریں۔کسی اجنبی پر بغیر ملے اور سمجھے اعتبار نہ کریں۔اگر کوئی شخص سچی محبت کرتا ہے تو وہ کبھی بھی آپ کو خود سے الگ نہیں کرے گ۔ااپنی عزت نفس، خودمختاری اور وقار کو ہر چیز سے زیادہ اہم رکھیں۔اس کے نتیجہ میں سچی محبت وہی ہے جو عزت دے۔سچی محبت وہی ہوتی ہے جو عزت دے، اعتماد دے، اور سب کے سامنے ہو۔ جو محبت چھپانی پڑے، جو آن لائن وعدوں اور جھوٹے خوابوں پر قائم ہو، وہ محض ایک دھوکہ ہوتی ہے۔وہ امریکی لڑکی شاید اب اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطی پر پچھتا رہی ہو گی، لیکن اگر اس کی کہانی کسی اور لڑکی کے لیے سبق بن جائے، تو شاید وہ اپنی زندگی برباد ہونے سے بچا سکے۔ محبت خوبصورت ہے، لیکن اس کے لیے آنکھیں کھلی رکھنا ضروری ہیں۔یاد رکھیں عزت ہی سب کچھ ہے۔عزت وہ اثاثہ ہے جو نہ خریدا جا سکتا ہے، نہ کسی کو دے کر واپس لیا جا سکتا ہے۔ یہ وہ قیمتی متاع ہے جو اگر ایک بار ہاتھ سے نکل جائے تو پوری زندگی کی تگ و دو بھی اسے واپس نہیں لا سکتی۔ دولت، شہرت، محبت سب کچھ فانی ہے، مگر عزت وہ دائمی دولت ہے جو انسان کی پہچان بنتی ہے۔ جو عزت کو قربان کر دے، وہ سب کچھ کھو دیتا ہے۔ اپنی عزت کی حفاظت کرنا ہی اصل کامیابی ہے، کیونکہ دنیا میں اگر کوئی چیز سب سے قیمتی ہے، تو وہ عزت ہے—اور عزت ہی سب کچھ ہے!یہ کالم صرف لڑکیوں کے لئے ہے، امریکن لڑکی کی حالت پر غور کریں اس سے سبق سیکھیں،کیونکہ جو آپکے لئے آپ کے والدین سوچتے ہیں ، اسی میں عافیت اور بھلائی ہے، وگرنہ فیس بک کی دوستی پرامریکن لڑکی کی پاکستانی لڑکے سے شادی کے نام پر ذلالت تو آپ نے دیکھ ہی لی ہے