Baaghi TV

Category: بلاگ

  • سرائیکی خطے کی رنگین چنی، دلہنوں کا دلکش پہناوا،دوسری قسط

    سرائیکی خطے کی رنگین چنی، دلہنوں کا دلکش پہناوا،دوسری قسط

    سرائیکی خطے کی رنگین چنی، دلہنوں کا دلکش پہناوا
    تحقیق و تحریر: ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    altafkhandahir@gmail.com
    قسط کا خلاصہ
    اس قسط میں چنی کی ثقافتی اہمیت اور اس کے سرائیکی وسیب کی پہچان پر زور دیا گیا ہے۔ چنی سرائیکی ثقافت کا ایک اہم حصہ ہے، جس میں مقامی ہنر مندوں کی محنت اور مہارت شامل ہے۔ یہ لباس نہ صرف دلہن کی خوبصورتی کو بڑھاتا ہے، بلکہ اس کی عزت اور وقار کا بھی اظہار کرتا ہے۔ چنی شادی کے مختلف مواقع پر پہنا جاتا ہے اور اس کے ذریعے سماج میں یکجہتی اور محبت کو فروغ ملتا ہے۔
    دوسری قسط
    چنی کا ثقافتی پہلو اور سرائیکی وسیب کی شناخت
    رنگوں کی اپنی ایک مخصوص زبان اور اظہار ہوتا ہے۔رنگ کو زندگی کی خوبصورت علامت سمجھا جاتا ہے۔خوشی غمی دونوں میں رنگ کا ایک اپنا کردار رہا ہے۔شادی کی تقریبات میں خواتین رسم مہندی و جاگا پر چنی نہ صرف زیبائش کے لیے پہنتی ہیں۔ بلکہ یہ مختلف ثقافتی و سماجی تہواروں و رسومات میں بھی شامل ہے،جیسے بچے کی پیدائش،منگنی شادی کی تقریب،برات کی تقریب، گانا چھوڑانے کی رسم،عیدیا دیگر خوشی کے مواقع پر اس کا استعمال ہوتا ہے۔
    پہلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    سرائیکی خطے کی رنگین چنی، دلہنوں کا دلکش پہناوا
    یہ رسم و رواج کا حصہ بن چکی ہے، جس سے خاندانوں اور سماج میں آپس میں محبت، یکجہتی،احساس ہمدردی اور رواداری کو فروغ ملتا ہے۔سرائیکی لوگ اپنے گھروں میں چنی کی خوبصورت رسم کو ساری رات جھمر رقص کی شکل میں گانوں کی دھنوں پر ادا کرتے ہیں۔

    سرائیکی چنی بنانے کے لیے مقامی کاریگروں کو سخت محنت کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ کام مقامی صنعت کے ساتھ معیشت کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے۔ چنی کی تیاری اور فروخت مقامی سطح پر روزگار کے مواقع بھی فراہم کررہی ہے۔خواتین گھروں میں کام کرتی ہیں۔بازاروں میں بھی کام کیا جاتا ہے۔ بہاولپور کے شاہی بازار،رنگیلا بازار میں خصوصا خواتین کی بناو سنگھار کی اشیاء فروخت ہوتیں ہیں،جن میں چنی کو خاص مقام حاصل ہے۔

    پورے سرائیکی وسیب سمیت اسلام آباد، لاہور، ملتان، پشاور، کراچی، سکھر، پاکستان بھر کی خواتین سرائیکی خطے کی خاص چنی کو پہننا اپنے لیے عزت، شان،وقار، اعزاز و محبت کی علامت سمجھتی ہیں۔چنی میں ایک الگ جمالیاتی،جذباتی اور نفسیاتی اثر انگیزی پائی جاتی ہے۔چنی خواتین کی خود اعتمادی اور خوبصورتی میں بے پناہ اضافہ کرتی ہے۔یہ ان کے حسن،ثقافتی شناخت کا زیور اور اعلی کلاسک پہناوا بن چکی ہے۔اس کے ذریعے خواتین اپنی روایات،تہذیب وتمدن، تاریخ،کلچر،رتبہ،عزت اور خاندان کی محبت کا اظہار کرتیں ہیں،جو ان کے تخیلاتی معیارات،جذباتی
    اور نفسیاتی سکون کے لیے اہم ہے۔

    سرائیکی وسیب میں چنی کی اہمیت صرف ایک روایتی لباس کی حد تک محدود نہیں بلکہ یہ اس علاقے کی پہچان،امن ومحبت،ثقافت،ادب، تہذیب و تمدن اور معاشرے کی رنگین گہرائیوں سے جڑی ہوئی ہے۔ماضی میں سرائیکی وسیب اور دیگر علاقوں میں دلہن کے لباس کو مکمل سمجھنے کے لیے چنی کا ہونا ضروری جانا جاتا تھا۔

    کیونکہ یہ ایک مخصوص سرائیکی علاقے روہی چولستان بہاولپوری ثقافتی اور روایتی رنگوں کی خوشبو کا عکاس ہے۔آج جدید ٹیکنالوجی کے دور میں اس کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔اس کی ڈیمانڈ دبئی،سعودی عرب،انگلینڈ،امریکہ،انڈیا راجستھان تک ہے۔جہاں جہاں سرائیکی افراد موجود ہیں وہ اپنی روایتی رنگولی چنی کو خوشی و شادمانی کی علامت سمجھ کر اعزاز و شان سے پہن کر فخر محسوس کرتے ہیں۔

    امیر ترین سابق سرائیکی عباسیہ ریاست بہاولپور کے دیہاتی علاقے عباس نگر، چنی دا گوٹھ (چنیاں بناون والیاں دی چھوٹی وستی) جس کی چنیاں دنیا بھر میں مشہور ہیں۔اس کے علاوہ تحصیل احمد پور شرقیہ اور قدیم تاریخی شہر اوچ شریف میں بھی گھروں میں محنت کش خواتین چنیوں کے کپڑے پر خوبصورت گوٹہ کناری کا باریک کام کرکے دوسرے شہروں میں فروخت کے لیے بھیجتی ہیں۔احمد پور شرقیہ کے محلہ شکاری کی خود دار بیوہ خالہ سلمی اپنے گھر اپنی یتیم بچیوں کے ساتھ سارا سارا دن چنی پر گوٹہ کناری سے سخت محنت طلب کام کرکے اپنے غریب خاندان کا پیٹ پال رہی ہیں۔

    اسی طرح سوشل میڈیا رپورٹ کے مطابق بہاولپور،ڈیرہ بکھا، تحصیل خیر پور ٹامیوالی،چشتیاں ،حاصل پور، بہاول نگر روڈ پر واقع عباس نگر دیہات کی گیارہ سال کی عمر سے ہی چنیاں بنانے والی امیر مائی کا کہنا ہے کہ پہلے صرف چولستان کی خواتین ہی اس کو پہنتی تھیں،لیکن اب بہاولپور کی چنیوں کی طلب پوری دنیا میں ہو رہی ہے۔روہی چولستان میں نان مسلم ہندو کمیونٹی، جن کو سرائیکی وسیب میں مڑیچہ کہا جاتا ہے،قدیم وادی ہاکڑہ تہذیب و تمدن کے ڈیراوری قبائل میں بھیل،کول،سنتھال صدیوں سے اپنی رنگین چنی کے پہناوے سے منسلک آ رہے ہیں۔عباس نگر گاؤں کی بنی ہوئی رنگ برنگی، مخصوص پکے ٹھپے کے ڈائزین سے بنی چنیاں نہ صرف بہاولپور بلکہ پوری دنیا میں ایک الگ پہچان رکھتی ہیں ۔۔
    جاری ہے

  • نئی ٹرمپ انتظامیہ،پاکستان کی حکمت عملی،تجزیہ:شہزاد قریشی

    نئی ٹرمپ انتظامیہ،پاکستان کی حکمت عملی،تجزیہ:شہزاد قریشی

    نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے پاکستان میں سبکدوش ہونے والی امریکی سفیر سے ملاقات میں نئی امریکی انتظامیہ کے ساتھ مثبت روابط جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ قارئین نئی ٹرمپ انتظامیہ کو لے کر پاکستان کی سیاسی جماعتوں بالخصوص پی ٹی آئی نے سوشل میڈیا پر ایک ہنگامہ برپا کیا ہے ۔ یاد رکھئے امریکہ کی ٹرمپ انتظامیہ ہو یا ماضی کی انتظامیہ سب سے پہلے امریکی مفادات کو دیکھا جاتا ہے۔ امریکہ میں کانگریس، سینیٹ ، سی آئی اے انسانی حقوق کا پرچار کرنے والوں کے ساتھ پینٹا گان موجود ہے امریکی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے پینٹا گان کی پالیسی سب پر حاوی ہوتی ہے۔ امریکہ ملک میں سیاسی جماعتوں کو لے کر آگاہ ہے ملک کی جو سیاسی جماعتیں اپوزیشن میں رہتے ہوئے پاک فوج اور جملہ اداروں پر تنقید کرتی ہیں وہ اقتدار میں ذاتی اور جماعتی مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے اس کی حمایت کرتے ہیں ملک کی سیاسی جماعتوں میں بدلتے اتحادوں، انحراف آپس کی لڑائی اور اقربا پروری سے امریکہ سمیت مغربی ممالک آگاہ ہیں۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے امریکہ پاک فوج کو زیادہ قابل اعتماد سمجھتے ہیں۔ امریکہ پاکستان کو اسلامی ممالک اور خطے کا اہم ملک سمجھتا ہے پاکستان ایک جوہری طاقت ہے ایک مستحکم اور خوشحال پاکستان خطے پر مثبت اثرات مرتب کرے گا امریکہ پاکستان تعلقات پاکستان کی ترقی کو فروغ دے سکتے ہیں۔ بہت سے امریکی ٹیکنو کریٹس فوجی اور امریکی سفارتکاروں کی نظر میں پاکستان نے بالخصوص پاک فوج اور جملہ اداروں نے دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خاتمے کے لئے اہم کردار ادا کیا اور پاکستان آج بھی دہشت گردی کا مقابلہ کر رہا ہے امریکہ اور مغربی ممالک ماضی میں پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کر چکے ہیں۔ امریکہ یہ بھی جانتا ہے کہ پاکستان کے بعض سیاسی رہنما بعض اوقات امریکہ مخالف جذبات کو سیاسی فائدے کے لئے استعمال کرنے سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ یاد رکھیئے امریکہ اور چین دونوں مستحکم پاکستان کے خواہاں ہیں اور نہ ہی دونوں پاکستان کے اندرونی معاملات میں زیادہ الجھنا چاہتے ہیں۔ امریکی ساق صدور سے لے کر بائیڈن انتظامیہ اور اب ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی فرسٹ امریکہ ہی رہی ہے پاکستان کو بھی فرسٹ پاکستان پالیسی پر عمل کرتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ چلنا ہوگا۔ امریکہ کسی فرد واحد سیاستدان کے لئے اپنی پالیسی تبدیل نہیں کرتا۔ موجودہ وزیر خارجہ کو نئی ٹرمپ انتظامیہ سے اپنے رابطے تیز تر کرنے کی ضرورت ہے۔

  • تبصرہ کتب، ننھے مقرر

    تبصرہ کتب، ننھے مقرر

    نام کتاب : ننھے مقرر
    مصنف : حافظ صداقت اکرام
    صفحات : 217
    قیمت : 1100روپے
    ناشر : دارالسلام انٹرنیشنل
    برائے رابطہ : 04237324034
    بچوں کیلئے تربیتی ، تعمیری اور اصلاحی کتب پیش کرنا دارالسلام انٹرنیشنل کا طرہ امتیاز ہے ۔ بلکہ دارالسلام بچوں کیلئے کتب شائع کرنے والا پاکستان کا سب سے بڑا ادارہ ہے ۔ زیر نظر کتاب ’’ ننھے مقرر ‘‘ بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے ۔ جیسا کہ نام سے واضح ہے یہ کتاب فن تقریر کے موضوع پر سکول اور مدارس کے مڈل لیول کے بچوں کے لیے ایک شاہکار ، بیمثال اور لاجواب کتاب ہے ۔اس کتاب کے مصنف حافظ صداقت اکرام ہیں جو خود بھی زمانہ طالب علمی میں اعلیٰ پائے مقرر رہ چکے ہیں اور کئی ایک انعامات بھی حاصل کرچکے ہیں ۔فن تقریر کے موضوع پر ان کی ایک اور کتاب ’’ بول کہ لب آزاد ہیں تیرے ‘‘ قارئین سے داد ِ تحسین پاچکی ہے جبکہ ایک کتاب ’’ متاع ِ سخن ‘‘ زیر تصنیف ہے ۔ یوں تو اس وقت فن تقریر کے موضوع پر بازار میں بیشمار کتب دستیاب ہیں تاہم یہ کتاب کئی ایک اعتبار سے دیگر تمام کتب سے منفرد اور ممتاز ہے ۔مثلاََ ہر تقریر قرآنی آیات اور صحیح احادیث سے مزین ہے ۔ تمام عربی عبارتوں کے حوالہ جات دیے گئے ہیں ۔ موضوع کی مناسب سے ہر تقریر میں خوبصورت اور برمحل اشعار شامل کیے گئے ہیں ۔ بچوں کی ذہنی سطح کو مدنظر رکھتے ہوئے الفاظ کا چنائو کیا گیا ہے ۔جملے طویل نہیں بلکہ مختصر ہیں تاکہ یاد کرنے اور ادا کرنے میں آسانی ہو ۔

    یہ کتاب ایک سو تقریروں کا مہکتا ہوا گلدستہ ہے جن میں سے چند ایک موضوعات درج ذیل ہیں :اللہ ہمارا رب ہے ، محمد ﷺ ہمارے رہبر ہیں ، قرآن ہمارا دستور ہے ، اسلام ہمارا دین ہے ، نماز کی اہمیت ، روزہ عظیم عبادت ہے ، حج کی فضیلت ، ہم خوار ہوئے تارک ِ قرآں ہوکر ، حسن اخلاق کی فضیلت ، زبان کی حفاظت ، ہمیشہ سچ بولو ، خاموشی میں نجات ہے ، غرور وتکبر کی مذمت ، حیا انسانیت کا زیور ہے ، کتاب سے دوستی ، تندرستی ہزار نعمت ہے ، نیا سال نیا عزم ، یوم مزدور ، یوم یکجہتی کشمیر ، یوم دفاع پاکستان ، قائد اعظم ۔۔۔۔ایک تاریخ ساز شخصیت ، علامہ اقبال ۔۔۔ایک فرد ِ عظیم ، محنت کی عظمت ، نظم وضبط کی اہمیت ، استاد کی عظمت ، بڑوں کی تکریم وتوقیر ، ہمسائے کے حقوق ، دھوکے بازی قابل مذمت فعل ، بخل معاشرتی برائی ، باہمی تعاون کی اہمیت ، حسد ایک مہلک مرض ، کفایت شعاری ، اتفاق میں برکت ہے ، مہمان نوازی اسلامی شعار ، حقیقی کامیابی ، اخوت کی اہمیت ۔اسی طرح دیگر موضوعات بھی بہت ہی مفید ہیں ۔بہترین موضوعات کی وجہ سے یقینی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ یہ کتاب محض تقریر پر رہنمائی فراہم نہیں کرتی بلکہ اسے پڑھنے والا جہاں ایک اچھا مقرر بنے گا وہاں وہ ایک باعمل مسلمان اور اچھا شہری بھی بنے گا ۔

    اس کے لیے ایک ایسی کتاب کی اشد ضرورت تھی جو طلبہ کی تقریری صلاحیتوں کو جلا بخشے اور اچھا مقرر بننے میں ان کی معاون ہو۔ جس میں عقائد، اخلاقیات، معاملات اور حسن معاشرت جیسے عنوانات دلائل کے ساتھ عمدگی سے بیان کیے گئے ہوں۔ ننھے مقرر طلبہ کی اسی اہم ضرورت کی تکمیل ہے۔ یہ کتاب جہاں طلبہ کے ذوق تقریر کی آبیاری کرے گی، وہیں فن تقریر کو فروغ دینے میں بھی اہم کردار ادا کرے گی

    مہنگائی اور غربت میں کمی کے حکومتی دعوے جھوٹے ہیں،سبیل اکرام

    بانی پی ٹی آئی واضح کرچکے ہیں کہ وہ کوئی ڈیل نہیں چاہتے،بیرسٹر گوہر

  • پاک افغان رابطے بحال

    پاک افغان رابطے بحال

    پاک افغان رابطے بحال
    ضیاء الحق سرحدی،پشاور
    ziaulhaqsarhadi@gmail.com
    افغانستان چونکہ ایک لینڈ لاک ملک ہے اور بیرونی دنیا سے تجارت کے لیے وہ اپنے دو پڑوسی ممالک پاکستان اور ایران پر انحصار کرتا ہے، اس لیے اسے اپنی تمام برآمدات اور خاص کر درآمدات کے لیے پاکستان کی بندرگاہوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ افغانستان کو اپنی اسی مجبوری کی وجہ سے پاکستان کے ساتھ پہلے 1965 اور بعد ازاں 2010 میں افغان ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ کرنا پڑا تھا، جن کے تحت پاکستان افغانستان کو زمینی راستوں سے نہ صرف اپنی بندرگاہوں تک رسائی دینے کا پابند ہے بلکہ ان معاہدوں کی رو سے اسے بین الاقوامی ضمانتوں کے تحت کئی مراعات بھی حاصل ہیں۔ یاد رہے کہ ان معاہدوں کے تحت افغانستان پاکستان کے ساتھ زیادہ تر تجارت تو طورخم اور چمن کے راستوں سے کرتا ہے، لیکن کچھ عرصے سے پاک افغان باہمی تجارت میں کچھ رکاوٹیں حائل ہیں، جس کی وجہ سے دونوں جانب کی تجارت زبوں حالی کی طرف گامزن ہے اور دونوں ممالک کے درمیان گشیدگی اور تناؤ کی صورتحال ہے۔

    افغانستان میں جب سے طالبان کی عبوری حکومت آئی ہے تو عام تاثر یہی تھا کہ پاکستان اور تخت کابل میں پھر سے نئی قربتیں بڑھیں گی لیکن اس بار ایسا نہیں ہوا۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کافی حد تک دوریاں بڑھ گئی ہیں۔ لیکن گزشتہ ہفتے پاکستان اور افغانستان کے درمیان طویل تعطل کے بعد مذاکراتی عمل دوبارہ بحال ہو گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں حال ہی میں تعینات کیے جانے والے نمائندہ خصوصی برائے افغان امور محمد صادق کابل گئے، جہاں وہ افغان وزیر خارجہ امیر محمد متقی اور افغان وزیر داخلہ ملا سراج الدین حقانی سے ملاقات کی۔ ان ملاقاتوں میں ہمسایہ ملک کے درمیان مسائل کو مشترکہ کوششوں کے ذریعے حل کرنے کے علاوہ سیاسی، اقتصادی، تجارتی اور ٹرانزٹ کے شعبوں میں موجودہ مشترکات کا بہتر استعمال کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

    اس موقع پر نمائندہ خصوصی محمد صادق خان نے کہا کہ وزیر خارجہ امیر خان متقی سے ملاقات میں وسیع پیمانے پر بات چیت ہوئی، جس میں دو طرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ خطے میں امن اور ترقی کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا۔ دوسری طرف افغانستان کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ افغان وزیر خارجہ نے ملاقات میں کہا کہ افغانستان کی حکومت پاکستان کے ساتھ مثبت تعلقات کے لیے پرعزم ہے اور ہم دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، اقتصادی، تجارتی اور ٹرانزٹ شعبوں میں مشترکات کا بہتر استعمال کر سکتے ہیں۔ اس سے قبل محمد صادق خان نے وزیر داخلہ خلیفہ سراج الدین حقانی سے بھی ملاقات کی جس میں فریقین نے تعلقات کی بہتری اور موجودہ مسائل کے حل کے لیے اہم موضوعات پر تبادلہ خیال کیا۔ یہ دونوں ممالک کے اعلی حکام کے درمیان ایک طویل عرصے کے بعد رابطہ ہے۔ محمد صادق خان نے خلیل الرحمان حقانی کی موت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم افغانستان اور پاکستان کے درمیان موجودہ مسائل کو مشترکہ کوششوں کے ذریعے حل کرنے کے لیے پرعزم ہیں، تا کہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور سول تعلقات کو مضبوط بنایا جا سکے۔ وزیر داخلہ خلیفہ سراج الدین حقانی نے تاکید کی کہ موجودہ وقت اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ امن و امان اور سیاسی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ کوششیں تیز کی جائیں، تا کہ دونوں قوموں کے درمیان تعلقات خراب ہونے سے محفوظ رہیں اور خطے کے استحکام اور ترقی کا ضامن ہوں۔

    پاکستان اور افغانستان صرف پڑوسی ملک نہیں بلکہ ان کے درمیان مذہب، ثقافت اور زبان کے رشتے بہت گہرے اور رشتہ داریاں بھی ہیں، جنہیں ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اپریل 1948ء میں جب قائد اعظم محمد علی جناح نے طورخم کا دورہ کیا تو آپ سرحدی زنجیر پار کر کے دوسری جانب گئے، افغان بارڈر گارڈ سے ہاتھ ملایا اور فرمایا "واہگہ دو قوموں کو تقسیم کرتی ہوئی سرحد ہے اور طورخم ایک قوم کے دو ممالک کو جوڑنے والی سرحد ہے۔” باوجود اس کے کہ افغانستان کی بھارت نواز حکومتوں نے پاکستان میں مداخلت سے گریز نہیں کیا، لیکن پاکستان نے کبھی افغان سرحد پر فوج نہیں لگائی، اس وقت تک کہ جب افغانستان میں امریکہ کے آجانے کے بعد امریکیوں نے وہاں بھارت کی مدد سے دہشت گردوں کی نرسریاں کھولیں اور پاکستان پر دہشت گردی کی جنگ مسلط کردی۔ پاک افغان تعلقات کی پون صدی کو دیکھا جائے تو طالبان حکومت کا پہلا دور وہ واحد وقت ہے جب پاکستان کو افغانستان سے بھی کوئی شکایت نہیں ہوئی۔ پاکستان کی توقع یہی تھی کہ 70 کی دہائی سے اب تک لاکھوں افغانوں کی میزبانی، ہزاروں شہریوں کی جانب سے افغان مجاہدین سے عملی تعاون اور افغان مجاہدین سے تعلق کے جرم میں ریاست پاکستان کو پہنچنے والے بھاری نقصانات کا خیال رکھتے ہوئے طالبان کی دوسری حکومت بھی ملا عمر کی حکومت کی طرح ہی اچھے تعلقات رکھے گی، مگر بدقسمتی سے ایسا ممکن نہیں ہو سکا۔ امریکہ اور بھارت کے افغان سرزمین پر قائم کردہ دہشت گردی کے اڈے ابھی تک کام کر رہے ہیں، جہاں سے آنے والے دہشت گردوں کے جتھے پاکستان میں خونریزی کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ امریکہ کے نکل جانے کے باوجود بعض عناصر ایسے ہیں جو دونوں ممالک کے درمیان امن نہیں ہونے دے رہے، یہ دونوں ممالک کے مشترکہ دشمنوں کے ہاتھوں میں کھیلتے ہوئے خونریزی کو جاری رکھنا چاہتے ہیں۔

    مسئلے کا حل باہمی لڑائی، ناراضی یا کشمکش اور الزام تراشی نہیں بلکہ رابطوں کی بحالی، بات چیت میں اضافہ، ایک دوسرے کے مسائل کو سمجھنے اور مل کر مشترکہ دشمن کے خلاف جدوجہد میں پنہاں ہے۔ طویل عرصے کے بے معنی تعطل کے بعد اب رابطوں کی بحالی خوش آئند ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ان رابطوں کو مستحکم ہونا چاہیے، دونوں حکومتوں کو چاہیے کہ کھلے دل کے ساتھ ایک دوسرے کی بات سنیں اور مل کر دہشت گردی سمیت تمام مسائل سے نمٹنے کی حکمت عملی بنائیں، یا در رکھنے کی بات یہ ہے کہ دونوں ملک ایک چمن کی مانند ہیں، امن کی بہار آئے گی تو دونوں جانب ترقی کے پھول کھلیں گے۔ کسی جانب آگ لگے گی تو دوسرا بھی لازماً متاثر ہوگا، دونوں کا نفع و نقصان قدرت نے اکٹھا رکھ دیا ہے، بہتر یہی ہے کہ مل بیٹھ کر مسائل کو حل کریں اور مشترکہ مواقع سے فائدہ اٹھائیں۔

  • یہ ہے خیبر پختونخوا: ایوب ٹیچنگ ہسپتال سے MRI مشین چوری ہو گئی

    یہ ہے خیبر پختونخوا: ایوب ٹیچنگ ہسپتال سے MRI مشین چوری ہو گئی

    یہ ہے خیبر پختونخوا: ایوب ٹیچنگ ہسپتال سے MRI مشین چوری ہو گئی
    تحریر: شاہد نسیم چوہدری
    کہتے ہیں کہ دنیا ترقی کر رہی ہے۔ ہم خلا میں انسان بھیج رہے ہیں، مصنوعی ذہانت روبوٹ بن رہی ہے، اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے دنیا کو چھوٹے گاؤں میں تبدیل کر دیا ہے۔ لیکن بھائی، ایبٹ آباد کے ایوب ٹیچنگ ہسپتال کی ایم آر آئی مشین کا غائب ہونا ثابت کرتا ہے کہ ہمارا ڈیجیٹل دور بھی بعض اوقات دیہاتی کہانیوں جیسا ہو سکتا ہے۔

    آپ سوچ رہے ہوں گے کہ ایم آر آئی مشین چوری کیسے ہوئی؟ یہ سوال ہر وہ پاکستانی پوچھ رہا ہے جو کبھی اپنی گلی میں دوپہر کے وقت پڑوس کے بچوں سے کرکٹ کا بلا چوری ہوتے دیکھ چکا ہو۔ لیکن ایم آر آئی مشین چوری ہونا اتنا سیدھا معاملہ نہیں جتنا لگتا ہے۔ یہ تقریباً چار ٹن وزنی مشین ہے۔ اسے ایسے اٹھا کر لے جانا جیسے کسی نے ہسپتال کے لان سے گلدان چرا لیا ہو، یقیناً کسی ناقابل یقین کہانی کا حصہ ہے۔

    یہ واقعہ کسی مشہور کرائم فلم کے منظر کی طرح لگتا ہے۔ ایک گروپ آیا، اپنی کرائم پلاننگ کی اور مشین کو گاڑی پر لاد کر چلتا بنا۔ شاید کسی نے ان سے پوچھا ہو، "بھائی یہ کیا لے جا رہے ہو؟” اور جواب ملا ہو، "اوہ، یہ تو بچوں کا کھلونا ہے!” اور ہمارے محافظوں نے کہہ دیا ہو، "اچھا جی، لے جائیے!”

    ویسے، آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ اس مشین کی قیمت تقریباً 38 کروڑ روپے ہے۔ اتنی قیمت تو کسی محلے کے پچاس پلاٹوں کی بھی نہیں ہوگی۔

    ایوب ٹیچنگ ہسپتال ایبٹ آباد، خیبر پختونخوا کا ایک معروف ہسپتال ہے، جہاں جدید ٹیکنالوجی کے آلات کا اضافہ ہمیشہ سے عوامی صحت کے لیے خوش آئند رہا ہے۔ مگر اس بار وہاں کچھ ایسا ہوا کہ عوام کی صحت کے بجائے ان کی حسِ مزاح کو صحت مند کرنے کا موقع مل گیا۔ جی ہاں، ہم بات کر رہے ہیں اس ایم آر آئی مشین کی جو توشیبا کمپنی سے 13 لاکھ 75 ہزار ڈالر کی خطیر رقم سے خریدی گئی اور بڑی شان سے ہسپتال پہنچائی گئی۔ اس مشین کی قیمت پاکستانی روپوں میں تقریباً 38 کروڑ بنتی ہے۔ مگر یہ کروڑوں کی مشین ہسپتال کے وارڈ میں "دو دن بھی ٹِک” نہ سکی اور چوری ہو گئی۔

    اب آتے ہیں ان کیمروں کی طرف جنہیں بڑے فخر سے ہر جگہ لگایا جاتا ہے۔ اگر کوئی بندہ ہسپتال کے برآمدے میں سگریٹ پی رہا ہو تو کیمرہ فوراً الرٹ ہو جاتا ہے۔ لیکن جب چار ٹن وزنی ایم آر آئی مشین ہسپتال سے غائب ہو رہی تھی، تب کیمروں نے شاید کہا ہو، "بھائی، یہ ہمارا دائرہ اختیار نہیں ہے!”

    تصور کریں کیمرہ چپکے سے دوسرا کیمرہ دیکھ کر کہہ رہا ہوگا، "یار، یہ کیا ہو رہا ہے؟” دوسرا کیمرہ جواب دیتا، "خاموش رہو، ہم ‘آف لائن’ ہیں!”

    حکومت نے فوراً نوٹس لیا، انکوائری کمیٹی بنا دی، اور ایک رپورٹ تیار کرنے کا حکم دیا۔ رپورٹ کیا ہوگی؟ شاید یہی کہ "چور بہت چالاک تھ اور ہم بے خبر!”

    چوری کے اس واقعے نے کچھ سازشی نظریات کو بھی جنم دیا، جیسے
    1.کیا یہ چوری واقعی ہوئی یا یہ ایک اندرونی معاملہ ہے؟
    2.کیا مشین خریداری میں پہلے سے ہی کوئی گھپلا تھا؟
    3.کیا چوروں کو کسی اندرونی شخص کی مدد حاصل تھی؟
    4.ہو سکتا ہے نئی خریدی گئی مشین ہسپتال آئی ہی نہ ہو، اور صرف کاغذوں میں ظاہر کی گئی ہو۔

    جب یہ خبر عام ہوئی کہ ایم آر آئی مشین چوری ہو گئی ہے تو پہلے پہل سب نے یہی سوچا کہ یہ کوئی مذاق ہے۔ آخر 38 کروڑ روپے کی مشین اتنی آسانی سے چوری ہو بھی کیسے سکتی ہے؟ یہ تو ایسے ہی ہے جیسے کوئی ہاتھی کو چھتری میں چھپا لے۔

    مگر جیسے ہی تحقیقات کا آغاز ہوا تو صاف ظاہر ہو گیا کہ یہ کوئی معمولی واردات نہیں بلکہ ایک "ماسٹر پلان” کے تحت انجام دیا گیا کارنامہ ہے۔ کسی نے کہا کہ چور ہسپتال کے عملے کے بھیس میں آئے تھے تو کسی نے دعویٰ کیا کہ وہ رات کے اندھیرے میں آئے اور مشین کو خاموشی سے نکال لے گئے۔

    ایبٹ آباد کے عوام کی ہنسی اور حیرت کا ملا جلا ردعمل دیکھنے لائق تھا۔ ایک صاحب بولے "یار مجھے تو لگتا ہے کہ یہ چور مشین کو استعمال کرکے اپنی چوری کا اسکین کروا رہے ہوں گے!” دوسرے صاحب بولے، "ہوسکتا ہے، انہوں نے سوچا ہو کہ مشین کو بیچ کر نئے سال کا جشن منائیں گے۔”

    یہ واقعہ پاکستان میں انتظامی ناکامی اور بدعنوانی کی ایک عجیب مثال ہے۔ جہاں عوام کو بنیادی صحت کی سہولیات بھی میسر نہیں، وہاں اتنی قیمتی مشین کی چوری ایک ایسا لطیفہ بن گیا ہے جسے سن کر ہنسی اور غصہ دونوں آتے ہیں۔

    یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جدید دور کی ٹیکنالوجی، چاہے جتنی بھی ترقی کر جائے، اگر انسان ذمہ داری نہ دکھائے تو کچھ کام نہیں آتی۔ کیمرے اپنی جگہ لیکن اگر انسان خود سوتا رہے تو چور جاگتے رہتے ہیں۔

  • سرائیکی دھرتی کے خوبصورت لوک گیت،تیسری قسط

    سرائیکی دھرتی کے خوبصورت لوک گیت،تیسری قسط

    سرائیکی دھرتی کے خوبصورت لوک گیت
    تحقیق و تحریر: ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    altafkhandahir@gmail.com
    تیسری و آخری قسط
    جدید دور میں سرائیکی لوک گیتوں کے اثرات اور تحفظ کی تجاویز
    سرائیکی لوک گیت نہ صرف سرائیکی ثقافت کی نمائندگی کرتے ہیں بلکہ جدید فلم اور ڈرامہ انڈسٹری کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہیں۔ان گیتوں نے ریڈیو پاکستان ملتان،بہاولپور،ڈیرہ اسماعیل خان اور سرگودھا کے ذریعے بین الاقوامی شہرت حاصل کی۔سرائیکی لوک گیتوں کو دستاویزی شکل میں محفوظ کرنے کے لیے تحقیقی مراکز کا قیام ضروری ہے۔ان گیتوں کو تعلیمی نصاب کا حصہ بنایا جائے تاکہ نئی نسل ان کے ورثے کو سمجھ سکے۔
    لوک فنکاروں کی سرپرستی اور ان کے لیے مالی معاونت فراہم کی جائے۔سرائیکی لوک گیت دھرتی کے پھولوں کی مانند ہیں جو اپنی خوشبو اور خوبصورتی سے نسل در نسل لوگوں کے دلوں کو معطر کرتے رہیں گے۔ان گیتوں کے ذریعے سرائیکی ثقافت کا پیغام محبت، امن اور یکجہتی پوری دنیا میں پھیلتا رہے گا۔

    پہلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    سرائیکی دھرتی کے خوبصورت لوک گیت

    سرائیکی لوک گیتوں کی تاریخ بھی اتنی ہی پرانی ہے جتنی خود سرائیکی شاعری کی تاریخ ہے۔سرائیکی وسیب میں اہم لوک گیتوں کےنمونے سرائیکی قومی شعور،مزاج اور دھرتی کے رسوم و رواج روایات کی عکاسی پیش کرتےہیں۔ریڈیو پاکستان بہاولپور، ریڈیو پاکستان ملتان، ریڈیو پاکستان ڈیرہ اسماعیل خان، ریڈیو پاکستان سرگودھا نے سرائیکی خوبصورت لوک گیتوں کو بلندیوں تک پہنچایا۔سرائیکی عام لوک فنکاروں کو صدراتی ایوارڈ یافتہ گلوکار بنایا۔ریڈیو پاکستان پر چلنے والے سرائیکی لوک گیت بچوں،نوجوان،عورتوں اور بوڑھوں میں یکسر مقبول تھے۔

    دوسری قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    سرائیکی دھرتی کے خوبصورت لوک گیت

    آج بھی نئی نسل کو بوڑھے بزرگ سرائیکی لوک گیت سنا کر دل کا بوجھ ہلکا کرکے خوشی محسوس کرتے ہیں۔اب نوجوان نسل اپنے قومی ورثے کی حفاظت خود کرے گی۔سرائیکی وسیب نگری مظہر جلال ہے۔یہاں کے لوک گیت خواجہ غلام فرید کی مادری زبان سرائیکی کے271 کافیوں نے ہر طرف خوشبو بکھیر دی ہے۔آج بھی روہیلا اپنے اونٹ،بھیڑ بکریوں،گائے کے ریوڑ کے ساتھ تصوفانہ کرشماتی مادری زبان سرائیکی میں لوک گیت گا کر اپنا سفر طے کرتاہے۔جس طرح بچہ صرف ماں کی گود میں ماں کی لوری سن کر اپنے آپ کو محفوظ اور روحانی اطمینان وسکون قلب محسوس کرتاہے۔اسی طرح مادری زبان میں لوک گیت ہی انسانوں کی جنت کے میٹھے سریلے ملی نغمے ہیں۔تمام صوفیاء کرام نے ہمیشہ انسانوں کی اخلاقی اقدار کی تربیت اور رشدوہدایت کے لیے مادری زبان ہی کو ذریعہ اظہار اپنایا ہے۔
    اساں لوک سرائیکی
    ساڈی جھوک سرائیکی
    اساں امن محبت دے داعی
    اساں نگر پریم دے واسی

    میری بیٹی رابیل الطاف ڈاھر، عبداللہ سچل ڈاھر سے چھوٹی مگر زینب رابیل الطاف سے بڑی ہے۔مائی کلاچی کے جدید روشنی کے شہر سابق دارالحکومت پاکستان،سندھ صوبےکا مرکزی تجارتی بین الاقوامی شہرت یافتہ شہر کراچی،غریب کی ماں،محبت وامن کا خوبصورت سمندری خطہ سیکٹر سرجانی ٹاون میں رہائشی نانا نانی،ماما مامی،اب چھوٹے ماموں کی شادی پر خود بخود سہرے خوشی کے گیت اپنے شہر احمدپورشرقیہ گھر میں گا رہی ہے۔”پیارا گھوٹ ماموں جیوے،سہرا پاوے خوش تھی وے”اپنی والدہ کو گنگاہٹ میں سنا کر داد تحسین پاتی ہے۔میرے لئے ایک حسین دلربا منظر ہوتاہے۔عجیب خوشی کا سماں ہوتا ہے۔جذبوں کی نہ تھمنے والی دلکش روح پیدا ہوتی ہے۔یہ سحر انگیزی سرائیکی لوک گیت میں ہے۔چند سرائیکی مشہور لوک گیتوں کے نمونے ملاحظہ فرمائیں۔
    بچوں کے گیت
    جھل پکھا تے آوے ٹھڈی وا
    میڈے ویرکوں مہندی دا رنگ چالا

    خوشی پرنے(شادی) کے گیت
    "پُھلاں والی ارائین سہرا پھلاں دا پوا
    جیوی پیو تے بھرا،ساڈا دل نہ رنجا”

    شادی کے موقع پر گاناں بدھائی کا گیت
    "تیڈے گانے کوں لاواں گھیو خاناں
    تیڈی جنج سوہیسی پیو خاناں
    تیڈی خیر اللہ ہوسی ہن گانا بدھ خاناں”

    مہندی کے گیت
    "مہندی کوں لاواں مینڑ
    تیڈیاں ویلاں گھلیسم بھینڑ”

    شادی سہرے کے گیت
    "حوراں پریاں سہرے گانون
    وارو واری ویلاں پانون

    وے میں سہرا تیڈا گانواں وے
    شہزادہ بنا وے، سوھنا بنا وے”

    "میں تاں تھال مہندی دا چائی کھڑی آں
    میں تاں پھلاں واری سیج سجائی کھڑی آں”

    دوران رقص سرائیکی جھمر کے گیت
    "کوٹھے تے پڑ کوٹھڑا وے
    تے کوٹھےسکدا اے گھا بھلا
    لکھ لکھ چٹھیاں وے
    میں تھک ہٹیاں
    تو کہیں بہانے آ بھلا”۔

    "دل تانگھ تانگھے،
    اللہ جوڑ سانگھے
    سجناں دا ملنا
    مشکل مہانگے”

    سرائیکی ریاست بہاولپور کا سرائیکی لوک گیت سرائیکی ساڑھے سات کروڑ سرائیکی صوبے سے محروم سرائیکی قوم کا قومی لوک گیت اب سرائیکی ترانے کا روپ دھار چکا ہے۔میلوں اور یونیورسٹی کلچرل فیسٹیول میں نوجوان نسل کا روحانی منزل مقصود بن چکا ہے۔آج کل سوشل میڈیا پر ہر طرف اس کی گونج ہے۔دیرہ جات میں سرائیکی لوک گیت نوجوان نسل کا خوبصورت ثقافتی روحانی نغمہ بن چکا ہے۔سرائیکی علاقوں میں جھنگ اور میانوالی کو سرائیکی وسیب کی شعر ونغمہ کی سرزمین کہا جاتا ہے
    کھڑی ڈیندی آں سنہڑا اناں لوکاں کوں
    اللہ آن وساوے ساڈیاں جھوکاں کوں

    چھلے کے گیت
    "چھلا پاتی کھڑی آں ہک
    میڈی نئیں پئی لاہندی سک
    میکوں تیڈی پئی اے چھک
    منہ ڈکھاویں چا”۔

    تیڈے کھوہ تےآئیاں پانڑی پلا ڈے
    سخناں دا کوڑا ساڈے چھلڑےولا ڈے

    ڈھولے کے گیت
    "بزار وکاندی تر وے
    میڈا سوڑی گلی وچ گھر وے
    تے پیپل نشانی وے ڈھولا
    بزار وکاندی پنڈ وے
    تیڈے بت وچ میڈی جند وے
    ہکو کر سمجھیں وے ڈھولا”۔

    نہ مار جھمراں نظر لگ ویسی میڈا "نکا جیا ڈھولا دل کھس ویسی”

    "میں اتھاں تے ڈھول ملتان اے
    ساڈی ڈھولے دے وچ جان اے”

    ماہیے کےگیت
    "ککراں دے پھل ماہیا
    اساں پردیسی ہیں
    ساڈے پچھوں نہ رُل ماہیا”

    "او ماہیا ماہیا پھل گلاب دا”۔

    "بالو بتیاں وے ماہی ساکوں مارو سنگلاں نال
    پتل بنڑایوس سوھنا بنڑساں عملاں نال”

    سوھنڑیا او ماہیا قد سجناں دا چھوٹا اے،اوڈو چن دا او ٹوٹا اے

    رسنڑ/روٹھنے کے گیت
    میڈا چن مساتا،میڈا چن مساتا
    اینویں نی کریندا،لوکاں دے آکھے رُس نئیں ونجیندا”۔

    "وے بھورل آ وے بھورل آ
    ہک واری کھل تے آلائی ونجن”

    "کڈاں ول سو سوھنا سانول آ
    وطن ساڈے غریباں دے”

    "ساوی موراکین تے بوٹا کڈھ ڈے چولے تے
    رُٹھی نی منیساں بہوں ناراض ہاں ڈھولے تے۔”

    سرائیکی لوک گیت دراصل سرائیکی وسیب کا منظر نامہ ہیں۔خوف،خوشی و غمی کے موقع پر انسان نے گنگاہٹ سے دونوں ہاتھوں کی برابر ردھم،سر سنگیت کے فن کمال سے محبت کے گیت گا کر دنیا میں امن کےپیغام کو عام کیا تھا۔آج پھر سے سرائیکی سہرے کا محبت نامہ نئی نسل تک پہچانا ہوگا۔سرد موسم ،محبت و امن کا گہوارہ اور بہاروں کا نام ہے۔عاشقوں کے لیے چاہت کی درگاہ ہے۔دنیا میں نفرت،دشت گردی،حرص و ہوس،لالچ کو سادہ نفیس مٹھاس بھرے رسیلے خوبصورت سرائیکی لوک گیتوں میں سادگی،محبت،احترام آدمیت،خلوص جیسے موضوعات کی بدولت ہر برائی سے نمٹا جاسکتا ہے۔سریم کے پھل،سرسوں کا ساگ، مکھن مکئی اصل میں خوشحالی و ترقی اور امید نو کا نیا ماہ جنوری 2025مبارک سال کا خوبصورت لوک گیت ہے۔
    بازار وکیندیاں گندلاں
    ڈینہہ ڈس گیوں پورے پندراہاں
    مدتاں لایاں نی ہو ڈھولا!
    ختم شد.

  • خدارا ! مساجد کو چرچ نہ بنائیں

    خدارا ! مساجد کو چرچ نہ بنائیں

    خدارا ! مساجد کو چرچ نہ بنائیں
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفی بڈانی
    مساجد مسلمانوں کے لیے اللہ کی عبادت کا مرکز اور روحانی اجتماع کی جگہ ہیں۔ یہ وہ مقدس مقامات ہیں جہاں تمام مسلمان ایک صف میں کھڑے ہو کر، کندھے سے کندھا ملا کر اللہ کی بارگاہ میں جھکتے ہیں۔ یہاں نہ کوئی بڑا ہے، نہ چھوٹا، سب برابر ہیں۔ لیکن حالیہ دور میں مساجد میں ایک نیا رجحان دیکھنے میں آیا ہے، جسے "کرسی کلچر” کہا جاتا ہے۔ یہ رجحان نہ صرف اسلامی تعلیمات بلکہ مساجد کی اصل روح کے بھی خلاف ہے۔

    اسلام نے نماز کو عبادت کے ساتھ ساتھ اتحاد، مساوات اور اجتماعیت کی عملی تصویر بنایا ہے۔ صف بندی میں تمام مسلمانوں کو کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہونے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ کسی قسم کی تفریق باقی نہ رہے۔ لیکن کرسی کلچر کے بڑھتے ہوئے رجحان نے اس اجتماعیت کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ بعض افراد معمولی تھکن یا ذاتی سہولت کے لیے کرسیوں پر نماز پڑھتے ہیں حالانکہ ان کے لیے کھڑے ہو کر نماز ادا کرنا ممکن ہوتا ہے۔

    یہ رجحان نماز کے اصولوں کے خلاف ہے کیونکہ کرسیوں کی موجودگی سے صفوں میں خلا پیدا ہوتا ہے اور اجتماعیت کی روح متاثر ہوتی ہے۔ مزید برآں یہ رویہ مساجد کو چرچ کی مشابہت دینے لگا ہے، جہاں عبادات زیادہ تر نشستوں پر بیٹھ کر کی جاتی ہیں۔ چرچ کا طرز عبادت اسلامی ثقافت اور مساجد کے روحانی ماحول سے مختلف ہے اور مساجد کو اس سے مماثل بنانا اسلامی اقدار کے لیے نقصان دہ ہے۔

    اسلام ایک ایسا دین ہے جو عبادت میں سہولت فراہم کرتا ہے۔ معذور افراد کے لیے کرسی یا بیٹھ کر نماز پڑھنے کی اجازت دی گئی ہے، جیسا کہ قرآن پاک میں اللہ تعالی نے فرمایا "اللہ کسی جان پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا (البقرہ 286 )اور رسول اللہ ۖ نے فرمایا "نماز کھڑے ہو کر پڑھو، اگر استطاعت نہ ہو تو بیٹھ کر اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو پہلو کے بل لیٹ کر(صحیح بخاری)لیکن یہ رعایت صرف حقیقی ضرورت کے تحت دی گئی ہے نہ کہ ذاتی سہولت کے لیے۔

    مساجد میں کرسی کلچر کا بڑھتا ہوا رجحان ایک ایسے عمل کو فروغ دے رہا ہے جو مساجد کے روحانی ماحول کو چرچ کے طرز عبادت سے قریب کر رہا ہے۔ یہ تبدیلی نہ صرف مساجد کی ثقافت بلکہ اسلامی تعلیمات کے بنیادی اصولوں یعنی مساوات اور اتحادکو بھی متاثر کر رہی ہے۔ کرسیوں کے غیر ضروری استعمال سے مساجد کی صف بندی متاثر ہوتی ہے اور ایک ناپسندیدہ تفریق پیدا ہو جاتی ہے جو اسلامی روح کے خلاف ہے۔

    یہ وقت ہے کہ علما ء و آئمہ کرام اس مسئلے پر توجہ دیں اور عوام کو مساجد کے اصل مقصد اور عبادات کے اصولوں سے آگاہ کریں۔ کرسی کا استعمال صرف ان افراد تک محدود ہونا چاہیے جو واقعی معذور ہیں اور کھڑے ہو کر یا زمین پر بیٹھ کر نماز ادا نہیں کر سکتے۔ اس کے علاوہ معذور افراد کو زمین پر بیٹھ کر نماز پڑھنے کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے، جیسا کہ نبی کریم ۖ کے زمانے میں ہوتا تھا۔

    مساجد کو ان کے اصل مقصد کے لیے محفوظ رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ مساجد عبادت، مساوات اور اتحاد کی علامت ہیں اور ان کی اس حیثیت کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔ خدارا ! مساجد کو چرچ نہ بنائیں۔ عبادات کو ان کی اصل روح کے مطابق ادا کریں اور اسلامی اقدار پر عمل کرتے ہوئے مساجد کے روحانی اور اجتماعی ماحول کو محفوظ رکھیں۔ اللہ تعالی ہمیں دین کی صحیح سمجھ اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

  • سرائیکی دھرتی کے خوبصورت لوک گیت

    سرائیکی دھرتی کے خوبصورت لوک گیت

    سرائیکی دھرتی کے خوبصورت لوک گیت
    تحقیق و تحریر: ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    altafkhandahir@gmail.com
    قسط کا خلاصہ
    سرائیکی لوک گیتوں کی اقسام اور ان کی مثالیں
    سرائیکی لوک گیتوں کو مختلف اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، جن میں ہر قسم انفرادیت اور جذبے کی حامل ہے:
    لولی (لوری): ماں کی ممتا کے رس سے بھرے گیت،جو نومولود بچوں کے لیے گائے جاتے ہیں، مثلاً:
    "لولی دیندی تھیندی ماء واری،اکھیں تے رکھدی تیڈی جند پیاری”
    "الا اللہ ،اللہ ہو مٹھا توں ،الا اللہ،اللہ ہو مٹھا توں”
    شادی کے گیت: شادی کی تقریبات میں خواتین کے گائے جانے والے گیت، جن میں خوشی اور محبت کا اظہار ہوتا ہے، جیسے
    "پوپا میں پیساں تے پا ٹھمکیساں،ونج کے ڈیکھیساں یار سجن کوں”
    دھرتی کے گیت: یہ گیت فصلوں کی کٹائی، درگاہوں کی زیارتوں، اور روزمرہ زندگی کی عکاسی کرتے ہیں، جیسے:
    "آچنوں رل یار پیلھوں پیکیاں نی وے”
    روحانی گیت: یہ گیت مذہبی اور روحانی جذبات کی عکاسی کرتے ہیں، مثلاً:
    "جیوے جیوے سید جلال قطب کمال،جھولے جھولے لال دم مست قلندر”
    دوسری قسط
    عام طور پر سرائیکی لوک گیت ” سہرے ” کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔جس میں سرائیکی لوک گیت ٹہر کو روحانی عقیدت کی عظمت وفیض سمجھا جاتا ہے۔دکھ تکلیف کو ٹالنے کے لیے سرائیکی لوک میلوں کے موقع پر صوفیاء کرام کی امن پسند درگاہیں پر لوگ اپنی امیدیں، خواہشات اور آسوں کی تکمیل کے لیے منقبت پیر مرشد لوک گیت کی شکل میں گاتے اور روحانی فیض پاتے ہیں۔

    پہلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    سرائیکی دھرتی کے خوبصورت لوک گیت
    برصغیر پاک وہند میں اولیاء اللہ کرام سے بے پناہ محبت میں لوک گیت سہرے گاکر اپنی خوشیاں منت منوتیاں پوری کرتے ہیں۔سرائیکی دھرتی تصوف سے مالامال ہے۔اوچ شریف، ملتان شریف، کوٹ مٹھن شریف، سخی سرور شریف،تونسہ شریف،خانگاہ شریف، پاک پتن شریف،چشتیاں شریف، درگاہ شور کوٹ باہو سلطان، چنن پیر،شاہ جیونہ شریف روحانی آستانے سرائیکی لوگوں کے امن و امان کے روشن مراکز ہیں۔میرے روحانی مرشد کامل حضرت سید شیر شاہ جلال الدین حیدر سرخ پوش بخاری علیہ الرحمہ اوچ شریف برصغیر پاک وہند سرائیکی وسیب تحصیل احمد پور شرقیہ ضلع بہاولپور کی مشہور منقبت سرائیکی لوک سہرا گیت۔
    "جیوے جیوے سید جلال قطب کمال، جھولے جھولے لال دم مست قلندر،سہون دی سرکار دم مست قلندر،پیر سید سرخ پوش بخاری جلال دم مست قلندر”۔۔۔۔۔

    سرائیکی لوک گیت درحقیقت سرائیکی صحراء و جنگل میں پیدا ہونے والے پھول ہوتےہیں جو اپنے رنگوں،خوبصورتی اور خوشبو سے ہر کسی کا دل موہ لیتے ہیں۔یہ دھرتی سے جنم لیتے ہیں اور دھرتی واسیوں کے ہاتھوں پھلتے پھولتے ہیں۔اور پھر ایسا سایہ بن جاتے ہیں کہ ان کے سائے میں بیٹھنے والے یعنی اس گیت کو سننےوالوں کی ساری تھکن اتار دیتے ہیں۔یہ دیہاتی لوگوں کے سیدھے سادے دلوں سے نکلے جذبوں کا خوبصورت ترین اظہار اور آنکھوں کے موتی ہیں جو گیت کے خوبصورت بول بن ہار کا روپ دھارجاتے ہیں۔

    ان گیتوں میں معصوم لوگوں کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کے رنگ اور ان کی بھولی بھالی امنگوں اور خواہشوں کے سائے لمبے ہوتے نظر آتے ہیں۔جو پوری نہیں ہو سکتیں اور اداس نم دلوں کیلئے سرخ خون رنگ بن جاتی ہیں۔اکثر لوک گیتوں میں کئی مقامات پر زندگی کی سچائیاں ایسی سادگی اور محاورے دار موتیوں جیسی بولی میں جڑی ہوتی ہیں کہ وہ دلوں کو موہ لیتی ہیں۔

    یہ گیت نسل در نسل،پیڑھی در پیڑھی یادوں کے رومانس میں چلے آرہے ہیں۔یہ خوشیوں و محبت بھرے لوک گیت خوبصورتی سے گزرے وقت کی یاد تازہ کرکے آنے والی نسلوں کو پیار بھرا پیغام پہنچا نےکی ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔ہر لمحہ یاد گار بنانےاورہمیشہ دل و دماغ کو تروتازہ رس بھرا رکھتے ہیں۔سرائیکی وسیب میں پیدائش پر اولاد کی خوشی کے سہرےگیت،شادی خانہ آبادی مبارک کے خوبصورت گیت،بیٹی دلہن کی ڈولی کے موقع کےسہرے،جھوک جنج کی واپسی کے گیت،پکھیوں کےگیت،مہندی،جاگے،جھمر،چرخے،چھلے،ڈھولے،ڈوہڑیہ گیت فصلوں کے گیت، درگاہ پیر فقیر کی زیارتوں کے گیت،ساون کی خوش کےسہرے،سگن،فصلوں،کھیلوں،لوری یا لولی،ماہیے،میل میلاپ،ہجر وصال،دھرتی وغیرہ کے گیت رائج ہیں۔ہماری تہذیب و تمدن،رہن سہن،ثقافت کی بھرپور انداز میں عکاسی کرتے ہیں۔

    شہری زندگی میں تو یہ آہستہ آہستہ یہ رسمیں،رواج ریتیں معدوم ہوتی جا رہی ہیں۔لیکن دیہاتی سادہ مٹھاس بھری زندگی اور ماحول نے ابھی بھی کسی حد تک ان صدیوں پرانی رسوم و رواج اور ریت روایت نے لوک گیتوں کو زندہ رکھا ہوا ہے۔۔ جاری ہے

  • سرائیکی دھرتی کے خوبصورت لوک گیت،پہلی قسط

    سرائیکی دھرتی کے خوبصورت لوک گیت،پہلی قسط

    سرائیکی دھرتی کے خوبصورت لوک گیت
    تحقیق و تحریر: ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    altafkhandahir@gmail.com
    سرائیکی لوک گیتوں کا تعارف اور تاریخی پس منظر
    سرائیکی دھرتی کی لوک روایت میں گہرائی اور خوبصورتی سے بھرپور لوک گیت، جنہیں سرائیکی زبان میں "سہرے” کہا جاتا ہے، دھرتی کی ثقافت، امن، محبت اور فطری جذبات کا اظہار ہیں۔یہ گیت انسان کے جذباتی،سماجی اور روحانی احساسات کے عکاس ہیں۔ سرائیکی لوک گیت درحقیقت ادب، تہذیب، تمدن اور ثقافت کے مضبوط ستون ہیں، جو دھرتی کی رگوں میں گہرے طور پر پیوست ہیں۔یہ گیت خوشی،غم، محبت، رنج اور امیدوں کا خوبصورت قصہ سناتے ہیں۔ان کی جڑیں وادی ہاکڑہ،سرسوتی اور سندھ کی قدیم تہذیبوں میں ہیں،جہاں موہنجوداڑو، ہڑپہ اور گنویری والا جیسے تاریخی شہروں کی کھدائی سے موسیقی اور آرٹ کے شواہد ملےہیں۔سرائیکی وسیب کے گیتوں کی آوازیں روہی، چولستان، بیابان اور دریاؤں کی سرزمین سے اُبھرتی ہیں، جنہیں سادہ دل لوگ خوشیوں اور غموں کے مواقع پر گا کر اپنی جذباتی وابستگی کا ظاہر کرتے ہیں۔
    پہلی قسط :
    اشرف المخلوقات انسانی سماج میں ہر قوم،قبیلے،دھرتی اور علاقے کے اپنے خوبصورت لوک گیت جن کو سرائیکی زبان میں سہرے کہا جاتا ہے،ایک الگ پہچان اور امن و محبت کا دلفریب بے ساختہ جذبوں کا اظہار ہیں۔یہ درحقیقت ادب،تہذیب وتمدن اورثقافت کے مضبوط ترین تنا آور سرسبز پیلھوں اور پیپل کے درخت کی طرح دھرتی کی رگوں میں گہرے جڑے ہوئے ہیں۔غلام بادشاہ،امیرغریب،کالےگورے کے گھر بچے کی پیدائش،شادی اور موت پر احساسات و جذبات کی نیں کا وجود میں آنا انسانی فطری جبلت ہے۔بالکل اسی طرح جس طرح جنگل،بیلا،روہی چولستان،بیابان،پہاڑ،دریا اور سمندر کے کنارے خود رو جڑی بوٹیاں کا پیدا ہونا ہے قدرتی عمل ہے۔خوشی و غمی کے موقع پر اظہار محسوسات سے آنکھوں کی مدد آنسوؤں کا باہر نکلنا بشری تقاضاہے۔ تمام انسانوں کے تخیلاتی معیارات،زبانیں،اشکال،بناوٹ،ہیئت سوچنے سمجھنے کے پیمانہ مختلف ہیں۔اسی طرح انسان سماجیات بھی الگ الگ ہیں۔ہر قوم و قبیلے کے رسم ورواج،ثقافت،رہن سہن،زبان،لوک ادب کے انداز بھی ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہیں۔

    سرائیکی وسیب چھ ہزار سال قدیم تہذیب وتمدن وادی ھاکڑہ سرسوتی وسندھ کا خوبصورت راوا،دمان،روہی،تھل پر مشتمل موسیقی و نغمہ سے بےپناہ محبت کرنے والا علاقہ ہے۔آثارقدیمہ ریسرچ ورک کے دوران پرانے گمشدہ شہروں کی کھدائی سے موہنجوداڑو،ہڑپہ اور گنویری والا سے دریافت ڈاینسنگ کوئین،خوبصورت عورتوں کے زیورات کا ملنا فنون لطیفہ سے عشق کا قصہ ہے۔آواز کی مٹھاس ہر ذی روح کی روحانی غذا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اللہ پاک پیارے نبی حضرت داؤد علیہ السلام پر زبور کو خوبصورتی سے گاکر حمد وثنا پیش کرنے کا حکم ربی تھا۔ان کا سر سنگیت سے گیت کی شکل میں گانے سے کائنات کی ہر چیز جھومتی تھی۔آج بھی بچے کی تخلیق پر خوشی کے اظہار کے لیے سرائیکی خطے میں دادیاں،نانیاں، ماسیاں، چاچیاں،بویاں،،سوتریں،مساستیں،مولیریں،پھپھڑیں،حق ہمسائے،تمام عزیز اقارب چھٹی کے موقع پر سہرے گیت گاکر اپنی خوشیاں ایک دوسرے کے ساتھ سانجھی کرتے ہیں۔لوک ادب جس کو عام طور پر عام لوگوں کا کہا جاتاہے۔

    اس کی ایک خوبصورت شاخ لوک گیت سہرے ہیں۔سرائیکی لوک گیت سہروں کے خزانوں سے مالامال ہے۔لوک گیت دراصل انسانی جذبات کا بےساختہ اظہار کا نام ہے۔لوک گیت انسانی امنگوں، جذبوں ،امیدوں،نا مکمل خواہشات کا اظہار،شعور و تخیل کا خوبصورت گلدستہ ہیں ۔لوک گیت چرند،پرند بلبل اور کوئل کی حسین آوازوں کا پیار بھرا نغمہ ہیں۔مرد عورت کے آپس میں ملاپ و رشتے کی خوشبو ہے۔آزاد اظہار کا مضبوط حوالہ ہے۔آج کی فلم و ڈرامہ انڈسٹری کو پھر سے عروج یافتہ بنانے کے لیے سرائیکی لوک گیتوں کا سہارا لینا پڑے گا۔

    شاعری کا ایک مصرعہ صدیوں تک گایا جاتا ہے۔لوک سہرا یا گیت ہمیشہ ایک علاقے کی تاریخ،جغرافیہ، ثقافت،تہذیب وتمدن،سوچ وچار،پیغام امن و محبت تصوف کے اس خطے لوگوں کی داخلی و خارجی احساسات کا ترجمان ہوتاہے۔خالص علاقائی صنف نازک ہوتی ہے۔سرائیکی ماہر سماجیات، لسانیات و فریدیات پروفیسر ڈاکٹر جاوید حسان چانڈیو سرائیکی لوک گیت کو اس طرح بیان کرتےہیں” یہ سرائیکی دھرتی کے لوگوں کے عقیدے،دکھ سکھ، محبتیں، محرومیوں اور نا مکمل خواہشات و امیدوں کا نام ہے”۔ لوک گیت کا نمونہ "اللہ جانڑے تے یار نہ جانڑے میڈا ڈھول جوانیاں مانڑے۔میں تاں پانڑی بھریندی ہاں جھک دا، میڈا ڈھول مسافر نت دا، میڈا ڈھول مسافر نت دا”۔سرائیکی لوک گیت میں بچھڑ جانے،موت کی گھاٹی میں جانے والے محبوب کا غم اس طرح گا کر منایا جاتاہے۔
    "گیا رول راول وچ روہی راوے ، نہ یار ملدا نہ موت آوے”

    لوک گیت عموما وہ ہوتے ہیں،جس کے تخلیق کار اجتماعی ہوں۔مگر سرائیکی شعراء کرام نے بھی انفرادی طور سرائیکی لوک گیت سہرے بھی تخلیق کیے ہیں۔جن کو مشہور سرائیکی لوک گلوکار عطاء اللہ خان عیسوی خیلوی،حسینہ ممتاز،ثریا ملتانیکر،مستانہ پروانہ،پٹھانے خان، منصور ملنگی، اللہ ڈتہ لونے والا جیسے نامور سرائیکی فنکار اپنے سر سنگیت فن موسیقی میں لوہا منوا چکے ہیں۔لوک گیت خود سے دل کی حویلی سے دھڑکن بن کر نکلتے ہیں اور پورے سرائیکی وسیب میں خوشبو کی طرح پھیل جاتے ہیں۔سرائیکی مہان کلاسک شاعر رفعت عباس کی مشہور غزل جس کو خوبصورت آواز میں ریڈیو پاکستان ملتان اسٹیشن سے ترنم سوز گائیکی میں نامور سرائیکی لوک گلوکار سئیں منصور ملنگی نے گا کر سرائیکی وسیب کی اجتماعیت کا عالمی دستاویزی ریکارڈ بنایا۔
    "کیویں ساکوں یاد نہ راہسی اوندے گھر دا رستہ ،ڈو تاں سارے جنگل آسن ترائے تاں سارے دریا”
    ” واہ جو پیار کیتوئی، رول ڈتوئی وچ روہی واہ وہ سجن تیڈے وعدے”۔
    سرائیکی مشہور لوک گیت کے خوبصورت بول سنگر حسینہ ممتاز کی آواز میں ہر عام وخاص کو یاد ہیں۔"رانڑی پٹھانڑی، ڈیراور دی نشانی، ویڑن پرنیا آندا اے رانڑی پٹھانڑی”۔سرائیکی وسیب کے لیے سرائیکی لوک گیت سہرے عظیم ثقافت کے امین ہیں۔

    سرائیکی دانشور ریاض انور کے مطابق ” سرائیکی لوک گیتوں نے سرائیکی خطے کے معصوم لوگوں کے دلوں میں جنم لیا۔گہرے جذبوں نےان کے اندر دکھ درد کی چنگاری کو خوب تاپ دی۔آنسو کے دئیے جل رہے ہیں۔ہلکی مسکراہٹ کی سات رنگوں کی روحانی دھڑکن جھول رہی ہے۔یہ سہرے دوشیزائیں نیم،ٹالہی،شرینہ کے خوشبو دار درختوں کے سائے میں بیٹھ کر چرخہ کاٹتے گاتیں ہیں اور نوجوان پیلوں اور کھجور اکٹھی کرتے وقت گاتے ہیں۔
    پیلو پکیاں وے پیکیاں نی وے
    آچنوں رل یار
    پیلو پیکیاں نی وے
    کئی بگڑیاں ،کئی سایاں پیلیاں
    کئی بھوریاں ،کئی پھکڑیاں نیلیاں

    عالمی مفکر ڈونلڈ کینی کا کہنا ہے” لوک گیت کا بیج انسانی دل سے پھوٹتا ہے،لفظوں کے بے انت پتوں کی صورت پھیل جاتا ہے۔انسان آپنی زندگی میں جو کچھ دیکھتا ہے،سنتا ہے، احساس کو اپنے تخیل کے ذریعے ظاہر کرتا ہے” ڈبلیو پی کر آپنی کتاب "فارم اینڈ سٹائل ان پوئٹری” میں لوک گیت کی "دو قسموں میں پہلی وہ قسم جس میں سوسائٹی وس وسیب کی اجتماعی یادداشت،محرومیوں کا خوبصورت احساس،شناخت کا مطالبہ،رسمیں،ریتیں اور رواج کا خوبصورت اظہار ہو،جبکہ دوسری قسم میں مخصوص فرد یا تخلیق کار کی نویکلی تخلیق کارفرما ہو۔”۔

    بشر کی طرح ہرجاندار مخلوق اپنی خوشی،غم،محبت اور نفرت کےجذبات و احساسات کا اظہار مختلف انداز یعنی آوازوں اور حرکتوں سے کرتی ہے۔انسانی ہسٹری کے حوالے سے دیکھا جائے تو جب انسان بولنا نہیں جانتا تھا تو اپنے جذبوں کا اظہار لفظوں کی بجائے حرکت و سکنات سے کرتا تھا۔یہی سےلوک رقص جھمر کی تخلیق ہوئی۔وقت گزرنے کے ساتھ انسان نے اپنے محسوسات اور جذبوں کو لفظوں کا روپ دیا۔آخرکار یہ لفظ گیت بن گئے۔ان گیتوں کی وجہ کسی شاعر کی شعوری کوشش نہ تھی اور نہ ہی ان پر کسی شاعر کی چھاپ لگی ہوئی ہے۔

    سرائیکی شاعر ڈاکٹر خالد اقبال سرائیکی لوک گیت سہرے بارے اپنے بیان میں کہا "جب تک سرائیکی قوم کی مائیں بچوں کو جنم دیتیں رہیں گیں۔سرائیکی لوک سہرے دنیا میں تخلیق ہوتے رہیں گے”۔ان گیتوں میں شاعری کی فنی باریکیوں کی بجائے جذبوں کا اظہار نمایاں ہوتا ہے۔ہمیں کبھی کبھار تو لوک گیتوں کے بارے میں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ کون کون سے بول ان میں کب شامل ہوئے۔ہم صرف ان گیتوں کے ذریعے اپنے من میں اٹھتے ہوئے جذبات،امنگوں اور خواہشات کا اظہار کرتے اور لطف اٹھاتے ہیں۔

    سابق چیئرمین شعبہ سرائیکی و ڈین فکلٹی آف آرٹس اینڈ لینگؤیجز اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور (پاکستان) پروفیسر ڈاکٹر جاوید حسان چانڈیو سرائیکی لوک گیتوں کی چار اقسام لکھیں ہیں۔ پہلی صنف لولی ہے۔جس میں نئے جنم لینے والے بچہ کو ماں اپنی ممتا کے رس بھرے گیت سہرے سے استقبال کرتی ہے۔مثال کے طور پر ”
    "لولی ڈیندی تھیندی ماء واری
    اکھیں تے رکھدی تیڈی جند پیاری
    لولی ڈیندی ونجاں میں گھولی
    لولی ڈیندی۔۔۔۔۔۔۔۔

    دوسری قسم میں پورے سرائیکی وسیب کےخوبصورت اجتماعی لوک گیت، اجتماعی یادداشت،رسمیں،رواج، روایات شامل ہیں۔شادی کے موقع پر "سوئی وری” کی رسم۔جب سرائیکی عورتیں جہیز کا سامان دیکھاتیں ہیں اور گیت گاتیں ہیں۔
    "پوپا میں پیساں تے پا ٹھمکیساں
    ونج کے ڈیکھیساں یار سجن کوں
    چوڑا میں پیساں تے پا ٹھمکیساں
    ونج کے ڈکھیساں یار سجن کوں۔”

    تیسری قسم میں جب کوئی گمنام شخص کسی تجربے سے متاثر ہوکر اپنے جذبوں کا اظہار نمایاں کرے۔پھر یہ احساسات انفرادیت سے اجتماعی کا روپ دھار لیں۔سرائیکی لوک اصناف میں گانمن،سمی، ڈھولا،بگڑو،سندھی وچ ہوجمالو ہیں۔عورت کے نام سے وابستہ صنف ہے۔عشق کا اظہار ہے۔ہیئت میں اس کو ماہیا بھی کہا جاتا ہے۔
    "کوٹھے تے راہ کائنی
    ملاں قاضی مسئلہ کیتا
    یاری لاون گناہ کائنی”

    "کالے بدل پہاڑاں دے
    ڈانگاں دے پھٹ مل ویندے
    بول نہ وسرن یاراں دے”

    چوتھی قسم سرائیکی لوک گیت سہرے کی جس میں مذہبی و روحانی جذبات و عقائد کی ترجمانی ہو۔ٹہر یعنی منقبت۔ مدح،مناجات، معجزہ،مولود، نعت شریف وغیرہ سرائیکی وسوں کے لوگوں کے لیے روحانی آسودگی کا حصول ہیں۔
    جاری ہے۔۔

  • برطانیہ کے معروف کینٹربری کیتھیڈرل میں پاکستانی مصنف حسن صدیقی کی کہانی کی نمائش

    برطانیہ کے معروف کینٹربری کیتھیڈرل میں پاکستانی مصنف حسن صدیقی کی کہانی کی نمائش

    لاہور، پاکستان کے تخلیقی مصنف حسن صدیقی نے ایک اہم سنگ میل عبور کیا ہے۔ حسن صدیقی کی کرسمس تھیم پر مبنی مختصر کہانی "A Christmas Homeless” کو انگلینڈ کے معروف کینٹربری کیتھیڈرل میں نمائش کے لیے پیش کیا گیا ہے۔

    کینٹربری کیتھیڈرل نہ صرف انگلینڈ کی ایک مشہور تاریخی اور ثقافتی علامت ہے بلکہ یہ یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کے لئے بھی مشہور ہے، جس کی تاریخ اور اہمیت عالمی سطح پر جانی پہچانی جاتی ہے۔حسن صدیقی کی یہ کہانی، جو انسانیت، ہمدردی اور برادری کے جذبات پر مبنی ہے، کرسمس کے موقع پر کیتھیڈرل کے مختلف حصوں میں حسن صدیقی کی کہانی کی نمائش کی گئی۔ اس کامیابی کا یہ لمحہ پاکستان کے لیے فخر کا باعث ہے، کیونکہ اس سے جنوبی ایشیائی مصنفین کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی پذیرائی کا پتا چلتا ہے۔

    Pakistani Writer Hassan Siddiqui's Story Displayed at England's renowned Canterbury Cathedral
    حسن صدیقی "Twenty Bright Paths” کے مصنف ہیں، جو امید اور استقامت پر مبنی افسانوں کا مجموعہ ہے۔ ان کی مختلف تحریریں کئی عالمی ادبی جرائد جیسے Spillwords Press اور Illumination میں شائع ہوچکی ہیں۔ حسن صدیقی کو ناسا کی طرف سے ایک تعریفی سرٹیفکیٹ بھی مل چکا ہے، اور انہوں نے ورلڈ اسکالرز کپ میں سونے کا تمغہ جیتا۔ علاوہ ازیں حسن صدیقی ایک میگزین "The Female Times” کے بانی ہیں، جو خواتین کے مسائل کو اجاگر کرنے والا ایک پلیٹ فارم ہے۔

    اس کامیاب نمائش پر حسن صدیقی نے اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "یہ ایک اعزاز کی بات ہے کہ میری کہانی کو کینٹربری کیتھیڈرل جیسے تاریخی مقام پر دکھایا گیا۔ یہ پاکستان کے تخلیقی ادب کی عالمی سطح پر پذیرائی کی ایک اور مثال ہے۔”
    Pakistani Writer Hassan Siddiqui's Story Displayed at England's renowned Canterbury Cathedral

    کینٹربری کیتھیڈرل میں حسن صدیقی کی کہانی کی نمائش پاکستان کے لیے ایک اعزاز ہے، جو کہ پاکستانی ادب کی عالمی سطح پر پہچان کو مزید مستحکم کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔ یہ کامیابی نہ صرف حسن صدیقی کے لیے ذاتی فخر کا لمحہ ہے بلکہ پورے پاکستان کے لیے بھی ایک باعثِ فخر موقع ہے کیونکہ یہ عالمی سطح پر پاکستانی ادب اور تخلیقی صلاحیتوں کی قدر دانی کی مثال ہے اور اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ جنوبی ایشیاء کی آوازوں کو عالمی ادبی محافل میں تسلیم کیا جا رہا ہے۔

    ڈیٹنگ سائٹس،سوشل میڈیا،اپنے پیسے”دل” کو کیسے دھوکہ بازوں سے بچائیں؟

    پالیسیوں کا تسلسل برقرار رہا تو پاکستان ایشیا کا لیڈر بنے گا ۔احسن اقبال

    وادی تیرا، خوارج کےجنسی تشدد کے باعث ساتھی دہشت گرد کی خودکشی

    حسن صدیقی کی کامیابی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہم سب کو خواب دیکھنے کا حق ہے، محنت کرنی چاہیے اور اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھنا چاہیے۔ یہ لمحہ نہ صرف حسن صدیقی کے لیے بلکہ پورے پاکستان کے لیے فخر کا باعث ہے ،حسن صدیقی کی کہانی "A Christmas Homeless” کی کینٹربری کیتھیڈرل میں نمائش پاکستان کے لیے ایک شاندار کامیابی ا ورپاکستانی ادب کی عالمی سطح پر پذیرائی کا مظہر ہے یہ پاکستانی نوجوانوں کے لیے ایک حوصلہ افزائی کا پیغام بھی ہے کہ محنت، لگن اور خوابوں کی تکمیل کے ذریعے عالمی سطح پر کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔

    حسن صدیقی سے ای میل کے ذریعے رابطہ کیا جا سکتا ہے.
    imhassansiddiqui12@gmail.com

    Pakistani Writer Hassan Siddiqui's Story Displayed at England's renowned Canterbury Cathedral