Baaghi TV

Category: بلاگ

  • بھارتی دہشت گردی، عالمی سطح پر بے نقاب

    بھارتی دہشت گردی، عالمی سطح پر بے نقاب

    بھارتی دہشت گردی، عالمی سطح پر بے نقاب
    تحریر: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    بھارتی حکومت کی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی اور خفیہ کارروائیوں کو عالمی سطح پر بے نقاب کیا جا رہا ہے۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی حالیہ رپورٹ نے انکشاف کیا ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی "را” نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے مختلف ممالک میں ماورائے عدالت قتل اور دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہے۔ پاکستان میں دہشت گرد تنظیموں کی حمایت اور خفیہ ایجنٹوں کے ذریعے عدم استحکام پیدا کرنے کی بھارتی کوششوں نے خطے میں امن و امان کو سنگین خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔رپورٹ کے مطابق، بھارتی خفیہ ایجنسی "را” نے پاکستان میں اجرتی قاتلوں کے ذریعے چھ افراد کو نشانہ بنایا۔ ان میں لاہور میں اپریل 2024 میں پیش آنے والا واقعہ شامل ہے، جہاں عامر سرفراز عرف تانبا کو گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔

    واشنگٹن پوسٹ کے علاوہ اپریل 2024 میں برطانوی اخبار گارڈین کی رپورٹ کے مطابق بھارتی خفیہ ایجنسی را نے 2020 سے اب تک پاکستان میں 20 افراد کے قتل کی سازشیں کیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ بھارتی انٹیلی جنس کے سلیپر سیلز پاکستان میں ان کارروائیوں میں ملوث ہیں، جنہیں بھارتی وزیراعظم مودی کے دفتر سے کنٹرول کیا جاتا ہے،ان الزامات کے باوجود بھارتی حکومت مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے، نہ تو الزامات کو تسلیم کیا گیا ہے اور نہ ہی ان کی تردید کی گئی ہے۔

    پاکستان میں بھارتی خفیہ ایجنسی "را” کی دہشت گرد سرگرمیاں کوئی نئی بات نہیں ہیں۔ بلوچستان میں دہشت گرد تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی(بی ایل اے)اور خیبرپختونخوا میں خوارج(ٹی ٹی پی) ودیگر دہشت گرد تنظیموںکے ذریعے دہشت گردی کی کارروائیوں میں "را” کا کردار متعدد بار بے نقاب ہوا ہے۔ پاکستان نے دنیا کو ان دہشت گرد سرگرمیوں کے ثبوت فراہم کیے ہیں، جن میں سب سے اہم ثبوت بلوچستان سے کلبھوشن یادیو کی گرفتاری ہے جو بھارتی نیوی کا حاضر سروس افسر ہے جو پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رکھے ہوا تھا۔

    پاکستان مسلسل عالمی برادری کو خبردار کرتا رہا ہے کہ ملک میں بدامنی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے۔ تاہم مغربی ممالک خاص طور پر امریکہ اور اقوام متحدہ نے پاکستان کے فراہم کردہ ٹھوس شواہد کے باوجود بھارت کے خلاف کوئی مئوثر کارروائی نہیں کی۔ اس بے عملی نے بھارت کو مزید شہہ دی کہ وہ اپنی خفیہ کارروائیاں جاری رکھے اور دہشت گرد تنظیموں کی مدد کے ذریعے پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرے۔

    واشنگٹن پوسٹ کی 31 دسمبر 2024 کو شائع ہونے والی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بھارت نے نہ صرف پاکستان بلکہ امریکہ اور کینیڈا میں بھی اپنے خفیہ ایجنڈے کے تحت ٹارگٹ کلنگ کی کارروائیاں کی ہیں۔ کینیڈا میں بھارتی خفیہ ایجنسی "را” پر الزام ہے کہ اس نے سکھ علیحدگی پسند رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کی منصوبہ بندی کی۔ اسی طرح امریکی سرزمین پر بھی بھارتی خفیہ ایجنسی "را” کی طرف سے قاتلانہ حملے کی کوشش کی گئی جسے ایف بی آئی نے ناکام بنایا۔

    ان کارروائیوں کو انسانی حقوق اور جمہوری اقدار کے خلاف قرار دیا جاسکتا ہے۔ بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ ان خفیہ اقدامات سے نہ صرف قانون کی حکمرانی کو نقصان پہنچاہے بلکہ بین الاقوامی قوانین کی بھی سنگین خلاف ورزی ہوئی ہے،تمام شواہد اور الزامات کے پیش نظر یہ واضح ہو چکا ہے کہ بھارت اپنی خفیہ ایجنسیوں کے ذریعے دنیا بھر میں دہشت گردی اور ماورائے عدالت قتل کی کارروائیوں میں ملوث ہے۔

    اگر عالمی برادری دنیا میں واقعی امن قائم کرنے کی خواہاں ہے اور بھارت کی دہشت گردانہ سرگرمیوں سے انسانیت کو محفوظ رکھنا چاہتی ہے تو بھارت کے خلاف سخت ترین اقدامات کرنا ناگزیر ہوچکے ہیں۔ اقتصادی پابندیاں، سفارتی دباؤ اور بین الاقوامی عدالتوں میں مقدمات جیسے اقدامات کے ذریعے بھارت کو اس کی غیر قانونی اور غیر اخلاقی حرکتوں کی سزا دی جانی چاہیے۔ اس کے علاوہ عالمی اداروں کو بھارت سےسخت بازپرس کرنی چاہئے اور اسے قرار واقعی ایسی سزا دی جائے کہ مستقبل میں کوئی بھی ملک بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی جرات نہ کرے۔

  • پاک روس مضبوط ہوتے رشتے اور امریکی پابندیاں

    پاک روس مضبوط ہوتے رشتے اور امریکی پابندیاں

    پاک روس مضبوط ہوتے رشتے اور امریکی پابندیاں
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    پاکستان اور روس کے تعلقات میں حالیہ پیش رفت نے دونوں ممالک کے روابط کو ایک نئے دور میں داخل کر دیا ہے، جس سے سوال اٹھتا ہے کہ کیا امریکہ اس بڑھتے ہوئے اتحاد کو روکنے میں کامیاب ہو پائے گا؟

    روس پاکستان کے لیے ایک اہم شراکت دار بن کر ابھرا ہے جو نہ صرف اقتصادی اور تجارتی شعبوں میں مدد فراہم کر رہا ہے بلکہ پاکستان کی آزاد خارجہ پالیسی کو بھی مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ روس کی جانب سے توانائی کے شعبے میں پیش کیے جانے والے وسیع مواقع، جیسے گیس پائپ لائن منصوبے اور خام تیل کی برآمد، پاکستان کے لیے فائدہ مند ثابت ہو رہے ہیں۔ مزید برآں روس اور پاکستان کے درمیان تجارتی روابط کو مضبوط بنانے کے لیے کارگو ٹرین منصوبے جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں جو پاکستان کو عالمی تجارتی نیٹ ورک کا حصہ بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

    پاکستان کے آزاد خارجہ تعلقات کے تناظر میں روس کے ساتھ تعلقات کی یہ نئی پیش رفت نہ صرف اقتصادی استحکام بلکہ دفاعی تعاون میں بھی اہمیت رکھتی ہے۔ دونوں ممالک نے مشترکہ فوجی مشقوں اور دفاعی معاہدوں پر بھی کام کیا ہے جو ان کے رشتہ کو مزید مستحکم کرتا ہے۔

    تاہم امریکہ نے حالیہ دنوں میں پاکستان پر اقتصادی پابندیاں عائد کی ہیں، خاص طور پر اس کے میزائل پروگرام پرتاکہ پاکستان کو روس کے قریب جانے سے روکا جا سکے۔ امریکہ کے اس اقدام کا مقصد جوہری ہتھیاروں کے پھیلا ئوکو روکنا بتایا جا رہا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک ناکام کوشش معلوم ہوتی ہے جو پاکستان کی خودمختاری میں مداخلت کی غماز ہے۔

    پاکستان کی وزارت خارجہ نے ان پابندیوں کو تعصب پر مبنی اور بدقسمتی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ خطے کے استحکام کو نقصان پہنچائیں گی۔ ان پابندیوں کے باوجود پاکستان نے روس کے ساتھ اپنے اقتصادی، تجارتی اور دفاعی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے کئی اہم اقدامات کیے ہیں، جیسے نارتھ سائوتھ ٹرانسپورٹ کوریڈور میں شمولیت اور دیگر مشترکہ منصوبوں کی منصوبہ بندی۔

    پاکستانی تھنک ٹینکس اور پالیسی سازوں کو چاہیے کہ وہ پاکستان کی آزاد خارجہ پالیسی، قومی مفادات اور خطے میں روس کے کردار کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی خارجہ پالیسی تشکیل دیں اور امریکی پابندیوں کو خاطر میں نہ لائیں۔ امریکی پابندیوں کی پاکستان پر ایک طویل تاریخ ہے، اور امریکہ ہمیشہ اپنے مفادات کے لیے پاکستان کو قربانی کا بکرا بناتا آیا ہے۔ اس لیے اب ان پابندیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے پاکستان کو
    اپنے مفادات کو ترجیح دینی چاہیے اور ایسی پالیسی مرتب کرنی چاہیے جو نہ صرف موجودہ حالات بلکہ مستقبل میں آنے والے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے بھی مضبوط ہو۔

    امریکہ کا طویل مدتی مقصد ہمیشہ اپنے مخالفین کو اقتصادی پابندیوں کے ذریعے دبائو میں لانا رہا ہے، لیکن پاکستان اور روس کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات ایک واضح اشارہ ہیں کہ پاکستان اب اپنی خارجہ پالیسی میں مزید خودمختاری حاصل کرنے کی جانب گامزن ہے۔ ان پابندیوں کے باوجود پاکستان اور روس کے تعلقات کا نیا دور نہ صرف اقتصادی ترقی کے لیے بلکہ جغرافیائی استحکام کے لیے بھی اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ اس صورتحال میں سوال یہ ہے کہ آیا امریکہ اس نئے اتحاد کو روکنے میں کامیاب ہو گا یا نہیں؟

    پاکستان اور روس کے مضبوط ہوتے تعلقات خاص طور پر امریکی دبائو اور پابندیوں کے باوجود اس بات کی علامت ہیں کہ پاکستان اپنے قومی مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے ایک آزاد خارجہ پالیسی کی تشکیل میں کامیاب ہو رہا ہے۔ یہ شراکت نہ صرف خطے میں جغرافیائی استحکام کو فروغ دے سکتی ہے بلکہ عالمی طاقتوں کے توازن میں بھی ایک اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ امریکی پابندیوں کے اثرات کو کم کرنے اور اپنے اقتصادی و دفاعی شعبوں کو مستحکم کرنے کے لیے پاکستان کو روس جیسے قابل اعتماد شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کو مزید وسعت دینی ہوگی۔ موجودہ حالات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ پاکستان سفارتی سطح پر مضبوطی سے اپنے مفادات کا دفاع کرے اور مستقبل کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے ایک متوازن اور پائیدار حکمت عملی اختیار کرے۔

  • پی ایچ ڈی مقالے بعنوان”سرائیکی لوک قصیں اتے چولستانی قصیں دے اثرات "کا مطالعاتی جائزہ

    پی ایچ ڈی مقالے بعنوان”سرائیکی لوک قصیں اتے چولستانی قصیں دے اثرات "کا مطالعاتی جائزہ

    پی ایچ ڈی مقالے بعنوان”سرائیکی لوک قصیں اتے چولستانی قصیں دے اثرات "کا مطالعاتی جائزہ
    تحقیق و تحریر:ارشاد احمد خان ڈاھر
    دوسری وآخری قسط۔
    پروفیسر ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی نے شاید اس وجہ سے اپنے پی ایچ ڈی(PhD) مقالے بعنوان”سرائیکی لوک قصیں اتے چولستانی قصیں دے اثرات ” منتخب کیا۔ چولستانی قصولیوں کے قصوں نے پورے سرائیکی وسیب کے دوسرے خطوں دمان و تھل کے قصولیوں کے قصوں پر اپنے اثرات مرتب کیے ہیں۔لوک قصہ دراصل انسانی عروج و زوال کی تاریخی دستاویز ہے۔حق سچ، شر و خیر میں فیصلہ کرنے کا عملی مظہر ہے۔نصیحت و وصیت کا عملی نمونہ ہے۔قصہ گوئی کا خوبصورت فن اس دن سے شروع ہے، جب سے قوت گوئی کا آغاز ہوا۔لوک قصہ میں امن و رواداری کا پیغام ہے۔لوک دانش و تربیت کا بہترین نصاب ہے۔آرٹ کا شاندار اظہار ہے۔سرائیکی لوک قصہ سرائیکی وسیب کے قصولیوں کی حکمت و ست کا نچوڑ ہے۔مقالے کے نتارا سمیت سات ابواب ہیں۔

    پہلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

    پی ایچ ڈی مقالے بعنوان "سرائیکی لوک قصے اتے چولستانی قصے دے اثرات” کا مطالعاتی جائزہ
    پہلا باب "سرائیکی لوک قصے دی لوڑ تے ایندے سماجی اثرات "جس میں سرائیکی قصے کا آغاز، قصوں کی اقسام، قصے و کہانی کے بارے ماہرین کی رائے کے ساتھ قصے کے سماجی اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔لوک قصے میں انسانی شعور، ماضی، حال اور مستقبل کی روشن ضمانت ہے۔مقالے کا دوسرا باب "روہی چولستان دی تاریخ” ہے۔جس میں قدیم چولستانی مورخین کی آراء میں صحراء چولستان کے سیاق وسباق کو پڑکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔تیسرے باب ” چولستانی لوک کہانیاں دے ہر قصے دا فکری ویورا ” ہے۔احمد غزالی/ نسیم اختر کے ہر قصے کا فکری تجزیہ کیا گیا ہے۔چوتھے باب ” قلعہ ڈیراور وچ وسدے لوکاں دے قصے ” شعبہ سرائیکی اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور،محقق محمد الطاف خان ڈاھر (تھیسز سپروائزر پروفیسر ڈاکٹر ریاض حسین خان سنڈھر)کے ایم فل تھیسز میں موجود ہر قصے کا بھی فکری تجزیہ شامل ہے۔

    پانچویں باب”لوک قصے تحصیل لیاقت پور دی حدود وچ موجود زبانی قصیں دی گول” کلید عمر محقق ایم فل تھیسز (نگران مقالہ پروفیسر ڈاکٹر محمد ممتاز خان بلوچ چیئرمین شعبہ سرائیکی) شعبہ سرائیکی اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے ہر قصولی کے قصے کا تجزیاتی فکری مطالعہ شامل ہے۔پی ایچ ڈی مقالے کا اہم باب چھٹا ہے۔جس کا عنوان ” سرائیکی لوک قصیں اتے چولستانی قصیں دے اثرات ” ہے۔ چولستانی قصولیوں کے قصوں کے اثرات کو دوسرے سرائیکی وسیب میدانی، تھل و دمان کے قصولیوں کے قصوں پر اثرات کو ان پہلوؤں سے تجزیاتی و تقابلی تحقیق سے ثابت کیا گیا۔قصے کےعنوانات کے حوالے سے، قصے کے آغاز سے،مذہب پرستی،روحانیت اور عقیدت پرستی کے حوالے سے، ہیرو،شاہی کرداروں، مافوق الفطرت عناصر کے حوالے سے،گھریلو اور مقامی وسیبی کرداروں کے حوالے سے، فانا اور فلورا، آکھانیں/ضرب المثل،دعائیں،ثقافت، محاوریں اور ٹھیٹھ زبان کے استعمال کے حوالے سے شخصیات، شئیں،جگہوں کے حوالے سے،متن و فکری سانجھ کے حوالے سے سرائیکی چولستانی قصوں کے اثرات کا سرائیکی وسیب کے دوسرے خطوں کے قصولیوں کے قصوں پر لیا گیا ہے۔

    آج بھی جدید عہد میں چولستان جیپ ریلی،چولستان یونیورسٹی کے اثرات تھل جیپ ریلی و تھل یونیورسٹی پر واضح ہیں۔روہی چینل،روہی آٹوز، روہی ٹرانسپورٹ سروس اب سرائیکی وسیب سمیت پورے پاکستان میں نظر آرہی ہے۔چولستانی فنکار ہر جگہ اپنے اثرات مرتب کررہےہیں۔ویندے وگدے، ویندے وگدے،واہ واہ ہے اللہ بادشاہ ہے کاغذاں دی بیڑی ہے مکوڑا ملاح ہے۔خلقت پئی چڑھدی ہے ساڈی صلاح ہے۔ہک ہا بادشاہ،وہ تاں صرف زمینی ٹوٹے دا بادشاہ ہا، اصل بادشاہ تاں صرف آپ اللہ اے۔۔متنی ٹوٹے جو ہمیں چولستانی لوک قصوں میں بار بار ملتے ہیں۔یہی ایک جیسا ٹیکسٹ ہمیں دوسرے سرائیکی قصوں پر بطور اثرات نظر آتے ہیں۔لوک قصے کی جدید ٹیکنالوجی ہمیں فلم،تھیٹر، ڈرامے،فنکشنز میلوں اور مشاعروں میں نظر آرہی ہے۔

    مقالہ نگار ڈاکٹر محمد الطاف خان ڈاھر نے آخر میں اپنے تھیسز کی ریکمنڈیشنز/کمنٹس/سفارشات جو مرتب کیں ہیں،آنے والے نئے ریسرچرز کے لیے بہترین معاون ثابت ہوگیں۔میرے نزدیک یہی مقالے کا محاکمہ/نتائج یعنی حاصل مقاصد بھی ہیں۔سفارشات Comments/Recommendations قصہ بنیادی طور پر انسانیت کی اصلاح و تربیت کے لیے ایک مضبوط اور سایہ دار درخت کی طرح نسلاں کے لیے پھل بھی ہے چھاؤں بھی ہے،جس طرح تپتے صحراء میں جال کا گھاٹا درخت پیلھوں پھل اور گھاٹی چھاؤں دونوں کا باعث نعمت خداوندی ہے،جس کی چھپر چھاؤں کے نیچے ضعیف نحیف بڈھڑے قصولی اپنا ما فی الضمیر قصے کی شکل میں بیان کرتے ہیں ۔ان کی اور ان کے پاس قصوں کے خزانے کی بقاء، حکمت ودانش کی حفاظت بہت ضروری ہے۔

    چولستانی قصےگو اس سے پہلے جو اپنے قیمتی ادبی خزانے کے ساتھ دنیا سے پردہ کرجائیں،فوری جدید ٹیکنالوجی کی بدولت ان کی اپنی آواز وچ قصوں کو ریکارڈ کرکے محفوظ کرلیا جائے ۔چولستانی قصولیوں کی طرح تھل،دمان سمیت پورے سرائیکی وسیب کے قصولیاں کو مراعات یافتہ بنایا جائے۔ان کی معاشی ترقی و خوشحالی کے لئے فوری انفراسٹرکچر و مالی امداد کااعلان کیا جائے تاکہ یہ لوگ اقتصادی آسودگی کے ساتھ سرائیکی قصوں کو ہم تک پہنچا سکیں۔ہر چولستانی قصولی دراصل ہک آرٹسٹ ہے، اس لیے ان کے سماجی مقام و مرتبہ کے لیے قصولیوں کے درمیان مقابلے کرائے جائیں ۔ایوارڈز،میڈلز وظائف مقرر کیے جائیں۔چولستانی قصےگو اور ان کی نئی نسل کے لئے اعلی تعلیم وتربیت اور صحت کے ماڈل ادارے تعمیر کیے جائیں ۔پاکستان کے تمام تعلیمی اداروں اور سرکاری نوکریوں میں چولستانی قصولیاں کے بچوں کوٹہ مقرر کیا جائے۔مال مویشی و جڑی بوٹیاں کی حفاظت کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں ۔

    روہی چولستان کا خطہ وادی ہاکڑہ چھ ہزار سال قدیم تہذیب وتمدن کا آمین ہے۔قلعہ ڈیراور،پتن منارہ،گنویری والا کے آس پاس قصولیوں کی فلاح وبہبود کے لیے کلچرل اینڈ آرکیالوجی سوسائٹی ریسرچ سنٹرز تعمیر ہونے چاہئیں،تاکہ مقامی لوک ادب،وذڈم، حکمت و دانش کو فروغ دیا جاسکے۔ ریڈیو، ٹیلی ویژن، چینلز ، آگاہی سمینار میں آن ائیر قصولیوں کے قصے چلائے جائیں۔ہفتہ وار پروگرام کا باقاعدہ آغاز کیا جائے ۔ تاکہ نئی نسل کو اپنےادبی ورثے کے ساتھ شناخت ہوسکے۔چولستان جیپ ریلی و تھل جیپ ریلی کے موقع پر چولستانی و تھلوچڑ قصہ گو کے فن کی حوصلہ افزائی کے لئے سرکاری سطح پر انتظامات کئے جائیں۔ان افراد کی حوصلہ افزائی کیلئے انفرادی وظائف مقرر ہونے چاہئیں تاکہ چولستانی قصہ گو اور مقامی دستکاری کی صنعت کی بہتری کیلئے مالی امداد ہوسکے۔

    قومی و صوبائی سطح کی نصاب سازی میں چولستانی قصولیوں کے قصوں کو شامل کیا جائے۔سرائیکی چولستانی قصولیوں سمیت تھل،دمان پورے وسیب کے قصولیوں کے حقوق کے تحفظ کی آگاہی کے لیے نیشنل و انٹرنیشنل سطح سہ ماہی و سالانہ سمینار،اجلاس،مشاعرے وغیرہ کا انعقاد ہونا چاہیے۔روہی چولستان کے ادیب،دانشور،شاعر قصولیوں کے قصوں کے اثرات کی بدولت چولستان یونیورسٹی و چولستان جیپ ریلی سے تھل جیپ ریلی،تھل یونیورسٹی کا قیام عمل میں آیا ہے،ہر یونیورسٹی میں چولستانیات شعبے کھولیں جائیں۔ روہی چینل، روہی آٹوز، روہی بس سروس پورے سرائیکی خطہ سمیت پورے پاکستان میں نظر آنا خوش آئند ہے۔فنون لطیفہ کے شعبوں میں روہی چولستان آرٹ بھی شامل کیا جائے۔

    چولستانی سرائیکی قصولیوں کے قصوں نے جو اثرات سرائیکی لوک قصہ گو کے قصوں پر مرتب کیے ہیں، وہ پہلو یہ ہیں۔عنوانات کے اعتبار سے،قصے کے آغاز کے حوالے سے، مذہب پرستی،روحانیت اور عقیدت پرستی کے اعتبار سے،ہیرو، شاہی کرداروں اور مافوق الفطرت عناصر کے حوالے سے، گھریلو اور مقامی وسیبی کرداروں کے حوالے سے ، فانا، فلورا کے حوالے سے،آکھانیں،دعائیں،ثقافت،محاوریں اور ٹھیٹھ زبان کے استعمال کے حوالے سےشخصیات،جگہوں،شئیں کے اعتبار سے،متن اور فکری سانجھ کے حوالے سے اثرات پر آنے والے نئے ریسرچرز ایک ایک پہلو پر ایم فل، پی ایچ ڈی مقالے لکھیں گے۔

    چولستانی قصہ گو میدا رام،سمارا ، مجید مچلا، مہر غلام رسول،احمد غزالی کے قصوں کے اثرات طاہر غنی (تھل)، ملک عبداللہ عرفان (میدانی)، ملک آصف سیال (دمان) کے قصوں پر واضح ہیں۔سرائیکی مہان صوفی شاعر حضرت خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ کا اٹھارہ سال روہی چولستان میں گزارنا،انہاں کے آفاقی کلام میں روہی،چولستان کا قصہ موجود ہے۔کلام میں موجود چولستانی بودوباش کو عام کرنے کے لیے عالمی سطح پر ریسرچ انسٹیٹیوٹ بنائیں جائیں۔
    ختم شد

  • مریم نواز کی کاوشیں، پنجاب بدلنے لگا، تجزیہ : شہزاد قریشی

    مریم نواز کی کاوشیں، پنجاب بدلنے لگا، تجزیہ : شہزاد قریشی

    تاریخ ان لوگوں کو یاد رکھتی ہے جو اپنے لوگوں کو ترقی انصاف اور تعمیر کی طرف لے جاتے ہیں۔ تاریخ ایک پوسٹ مارٹم روم ہے، حکمرانی کے ذریعے خوشبودار اور کاسمیٹکس سے لپٹی ہوئی داستانوں کو ختم ہی نہیں کرتی بلکہ ردی کی ٹوکری میں پھینک دیتی ہے۔ بلاشبہ سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کی بیٹی مریم نوازشریف نے ایسے راستوں کا انتخاب کیا جن راستوں کو تاریخ ہمیشہ یاد رکھتی ہے ملک کا صوبہ پنجاب اب ایک تبدیلی لانے والی وزیراعلیٰ کی سرپرستی میں ہے۔ سول بیورو کریسی سے لے کر انتظامیہ اور اعلیٰ پولیس کے افسران صدق دل سے تبدیلی کے سفر میں ہمسفر ہیں۔ میرٹ، چٹ سسٹم کے خاتمے، میرٹ پر تعیناتیاں، سفارش کلچر کا خاتمہ، پنجاب میں ایک سال کے کم عرصے میں عوامی فلاح کے کام اس کا ثبوت ہیں۔ بطور وزیراعلیٰ میاںمحمدنوازشریف نے پنجاب کے شہروں اور دیہاتوں میں ترقیاتی کاموں کا آغاز کیا پھر عوام نے انہیں تین بار وزارت عظمیٰ تک پہنچایا اب مریم نواز نے انہی راستوں کا انتخاب کیا ہے عوام کی ترقی اور تعمیر کا یہ راستہ مریم نواز کو ملکی سیاسی گلیاروں میں مزید راستے فراہم کرے گا۔ عام لوگوں سے جڑنے کا ایک نایاب ہنر جو ٹرننگ پوائنٹس کو تشکیل دیتا ہے اور دیرپا نقوش چھوڑتا ہے۔ مریم نواز کی پنجاب میں ترقی و تعمیر سے پنجاب تبدیل ہو رہا ہے پنجاب کے نوجوانوں جو پاکستان کا مستقبل ہیں ان کے ہاتھوں میں ڈنڈے اور پتھر نہیں انکو یاد کرواتی ہیں ان کا مقدر ٹکرانا نہیں تعلیم ہے اور پاکستان کے بہتر مستقبل کے لئے تعلیم پر توجہ دینی ہے نوجوان اپنے لئے اور ملک کے لئے اچھے دنوں کے خواب دیکھیں جدید ٹیکنالوجی پر توجہ دیں۔ کے پی کے صوبہ سندھ، بلوچستان اور دیگر حکومتیں کیا ہی اچھا ہوتا اپنا رخ عوام کے مسائل حل کرنے کی طرف موڑ دیں جمہوریت کا دوسرا نام جمہور کی خدمت ہے۔ ہر سیاسی جماعت نے انقلاب لانے کے دعوے کئے اسلامی انقلابی بھی دعوے کرتے رہے لیکن جتنی کالیں انقلاب کی عمران خان اس سے تو اب انقلاب بھی تنگ آگیا ہے۔ سیاسی جماعتوں اور مذہبی جماعتوں کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو بس اتنی ہی ہے ڈوبنے کے آثار نظر آئیں تو اپنا تختہ سمندر میں پھینک کر کسی اور کشتی کی تلاش میں ادھر ادھر منڈلاتے رہے۔ اصل انقلاب یہ ہے کہ عوام یعنی مخلوق خدا کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کرنا۔

    (تجزیہ شہزاد قریشی)

  • پاک روس تعلقات،نئے دور کا آغاز

    پاک روس تعلقات،نئے دور کا آغاز

    پاک روس تعلقات،نئے دور کا آغاز
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستان اور روس کے درمیان تعلقات میں حالیہ پیش رفت نے دونوں ممالک کے روابط کو ایک نئے دور میں داخل کر دیا ہے۔ 5 دسمبر 2024 کی ایک خبر کے مطابق پاکستان اور روس نے ماسکو سے پاکستان تک کارگو ٹرین چلانے پر اتفاق کر لیا ہے۔ یہ ٹرین نارتھ ساؤتھ انٹرنیشنل ٹرانسپورٹ کوریڈور کے تحت براستہ ایران اور آذربائیجان چلائی جائے گی۔ وزیر توانائی اویس لغاری نے روسی میڈیا کو انٹرویو میں بتایا کہ آزمائشی طور پر یہ ٹرین مارچ 2025 سے شروع کی جائے گی جو تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط کرے گی۔

    ماسکو میں حالیہ دنوں میں دونوں ممالک کے وزرائے توانائی کی زیرِ صدارت بین الحکومتی کمیشن کا اجلاس ہوا، جس میں متعدد فیصلوں پر عمل درآمد کرنے کا عزم ظاہر کیا گیا۔ اجلاس میں کراچی میں ایک نئی اسٹیل مل کی تعمیر کے لیے روڈ میپ تیار کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ علاوہ ازیں دوطرفہ تجارت، صنعتی و معاشی تعاون اور انسولین کی تیاری جیسے شعبوں میں آٹھ اہم معاہدے طے پائے۔

    پاکستان اور روس کے درمیان نارتھ ساؤتھ انٹرنیشنل ٹرانسپورٹ کوریڈور میں شمولیت پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے اس منصوبے میں پاکستان کو شامل ہونے کی دعوت دی تھی، جسے پاکستان نے اصولی طور پر قبول کر لیا۔ اس راہداری کے ذریعے ہوائی، ریلوے اور شاہراہوں کے راستوں کا ایک 7,200 کلومیٹر طویل نیٹ ورک قائم کیا جائے گا جو ایران، بھارت، آذربائیجان، پاکستان، وسطی ایشیائی ممالک اور شمالی یورپ کے درمیان نقل و حمل کے لیے استعمال ہوگا۔ یہ منصوبہ خطے میں تجارت اور اقتصادی ترقی کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔

    تجارتی تعلقات کی ایک اور بڑی کامیابی پاکستانی کینو کی پہلی کھیپ کا ایران اور آذربائیجان کے راستے روسی ریاست داغستان تک پہنچنا ہے۔ اس کے علاوہ، روس سے لکڑی کی درآمد اور جدید فرنیچر کی صنعت میں تعاون پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ دونوں ممالک زراعت، ماحولیاتی پائیداری اور تعلیمی مواقع کے شعبوں میں بھی تعلقات کو مزید وسعت دینے کے لیے کوشاں ہیں۔روس اور پاکستان کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون کو بھی فروغ مل رہا ہے۔ روسی خام تیل کی کامیاب درآمد کے بعد پاکستان توانائی کے شعبے میں مزید استحکام کے لیے روس کے ساتھ شراکت داری کو بڑھا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ براہ راست ہوائی سروسز کے قیام پر بھی کام جاری ہے۔

    پاکستان اور روس کے تعلقات میں حالیہ پیش رفت نہ صرف دونوں ممالک کے لیے بلکہ پورے خطے کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ انٹرنیشنل نارتھ ساؤتھ ٹرانسپورٹ کوریڈور جیسے منصوبے خطے کے ممالک کو جوڑنے اور تجارت کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ اس
    شراکت داری کے ذریعے پاکستان اور روس نہ صرف اپنے اقتصادی تعلقات کو مضبوط کریں گے بلکہ علاقائی استحکام اور ترقی کے لیے بھی ایک مضبوط بنیاد فراہم کریں گے۔

  • پی ایچ ڈی مقالے بعنوان "سرائیکی لوک قصے اتے چولستانی قصے دے اثرات” کا مطالعاتی جائزہ

    پی ایچ ڈی مقالے بعنوان "سرائیکی لوک قصے اتے چولستانی قصے دے اثرات” کا مطالعاتی جائزہ

    پی ایچ ڈی مقالے بعنوان "سرائیکی لوک قصے اتے چولستانی قصے دے اثرات” کا مطالعاتی جائزہ
    تحقیق و تحریر:ارشاد احمد خان ڈاھر
    پہلی قسط
    سرائیکی وسیب سمیت پورے پاکستان میں میٹھی زبان کا اعزاز سرائیکی زبان کو حاصل ہے۔ جس طرح آم کو پھلوں کا بادشاہ اس وجہ سے کہا جاتا ہے کہ وہ مٹھاس میں اپنی مثال آپ ہے، اسی طرح سرائیکی زبان میں محبت و احترام جیسی خوبصورت روحانی مٹھاس آم، کھجور، شہد، گڑ کی رس بھری ہوئی ہے۔ سات دریاؤں کی سرزمین سرسبز خطہ، روحانیت، معدنیات اور زراعت کی دولت سے مالا مال ہے۔

    ماں اور مادری زبان سے بےپناہ محبت اور عقیدت فطری تقاضا ہے۔ ریسرچ میتھڈالوجی سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ ماں بولی میں تعلیم و تربیت، علم و ادب کے فروغ سے شرح خواندگی میں اضافہ ممکن ہے۔ ماں کی گود ہی انسانی شعور کی بیداری کی پہلی یونیورسٹی ہوتی ہے۔ تحقیق و تنقید کی بدولت ہمیشہ قومی تعلیمی ادارے اپنا نام روشن کرتے ہیں۔

    اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور پاکستان کی تعمیر و طرز اور تعلیمی ماحول کو قاہرہ، مصر کی یونیورسٹی الازہر کے طرز پر ارتقائی اعتبار سے بنایا گیا تھا۔ تعلیم و تربیت ہی قوموں کی ترقی و خوشحالی کا راز ہے۔ مادری زبانوں میں علم کا حصول درحقیقت انسانی آرٹ اینڈ کلچر، تہذیب و تمدن، تاریخ، تصوف، رسوم و رواج کو فروغ دینا ہوتا ہے۔ دنیا کی ہر زبان اپنی کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔

    قدیم وادی ہاکڑہ تہذیب و تمدن، روہی چولستان کے ساتھ وادی سندھ میں سرائیکی زبان صدیوں سے اپنا ادبی، سماجی، ثقافتی، شعوری، تاریخی، تنقیدی و تحقیقی سفر جاری رکھے ہوئے ہے۔ مادری زبان ہی دراصل انسانی عروج کا تاج ہے۔ ہر آدمی اپنا ما فی الضمیر آسان اور مؤثر ترین انداز میں صرف ماں بولی میں بیان کرسکتا ہے۔

    قصہ ہر زبان کے شاعری و نثری ادب کا نوبل قیمتی اثاثہ ہے۔ مادری زبان میں ابلاغ ایک فطری اور آسان ترین عمل ہے۔ رب العزت خود قصہ گو ہیں۔ قرآن مجید کی ایک سورہ "القصص” درحقیقت ادب کی صنف قصہ کو عروج بام بخشنے کا مقصود ہے۔ اس میں بے شمار و بے پناہ موضوعات کا خزانہ موجود ہے۔ قصہ لوگوں کے لیے وصیت، رشد و ہدایت کے ساتھ خوبصورت تفریح کا باعث بھی ہے۔

    سرائیکی لوک قصے نے اپنے وسیب کو علم، دانش و تربیت کا بہترین نصاب مہیا کیا ہے۔ اگر دنیا سے کتابیں ختم ہوجائیں تو قصے زبانی طور پر زندہ رہیں گے۔ وہ نسل در نسل، سینہ بہ سینہ، پیڑھی در پیڑھی اپنی تخلیق ادب کو دنیا تک پہنچاتے رہیں گے اور پھر کتابیں اور لائبریریاں وجود میں آئیں گی۔ لکھی ہوئی تحریر ہمیشہ اپنا لوہا منواتی ہے۔

    شاید دنیا کے پہلے ادیب نے کونی فارم رسم الخط میں کوئی قصہ ہی لکھا ہوگا، جو دنیا کی 6500 سال پرانی میسوپوٹامیا، سومیری تہذیب و تمدن کی نشاندہی کرتا ہے۔ مصری اہرام اور سوڈانی اہرام دریائے نیل پر قدیم تاریخی آباد شہروں کی گواہی ہیں۔ اردن کے پرانے کھنڈرات اور محلات کا ثبوت ہزاروں سالوں کی انسانی منظم معاشرے کا قدیم حوالہ ہے۔

    آثار قدیمہ کی تحقیق سے معلوم ہورہا ہے کہ وادی سندھ تہذیب و تمدن کی ماں 6000 سال پرانی وادی ہاکڑہ تہذیب و تمدن، موجودہ روہی چولستان ہے۔ دریائے ہاکڑہ، جسے دریائے گھاگھرا، گھگھر، گھارا، یا دریائے سرسوتی بھی کہا جاتا ہے، کا ذکر دنیا کے قدیم ترین ویدک ادب میں موجود ہے۔

    تقریباً ساڑھے چھ سو سال پرانی قصہ گوئی کی تاریخ کے مطابق، جب دریائے ہاکڑہ نے اوچ شریف میں سیلاب کی صورت میں ورلڈ ہیریٹیج مقبرے بی بی جند وڈی، حلیم و نوریا کے آدھے حصے کو نقصان پہنچایا، تو حکم ربی اور کرامت ولی کامل حضرت شیر شاہ سید جلال الدین حیدر سرخ پوش بخاریؒ سے دریائے ہاکڑہ واپس چلا گیا اور شہر مزید تباہی سے محفوظ رہا۔

    "سرائیکی لوک قصے اتے چولستانی قصے دے اثرات” کے مقالہ نگار ڈاکٹر محمد الطاف خان ڈاھر ہیں، جبکہ نگران مقالہ پروفیسر ڈاکٹر جاوید حسان چانڈیو، سابق چیئرمین شعبہ سرائیکی و ڈین فیکلٹی آف آرٹس اینڈ لینگویجز، اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور (پاکستان) ہیں۔ شعبہ سرائیکی نے 25 ستمبر 2024ء بروز بدھ اوپن ڈیفنس میں کامیابی پر پی ایچ ڈی ڈگری کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔

    بیرونی ممتحن پروفیسر ڈاکٹر مقبول حسن گیلانی، سابق پرنسپل گورنمنٹ صادق ایجرٹن گریجویٹ کالج بہاولپور اور یونیورسٹی آف ایجوکیشن، ملتان کیمپس تھے۔ ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر نے ایم اے سرائیکی میں تھیسز بعنوان "احمدپور شرقیہ دی سرائیکی ادبی گوجھی” پروفیسر ڈاکٹر جاوید حسان چانڈیو کی زیر نگرانی 2007ء تا 2009ء مکمل کیا تھا۔

    محقق ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی نے اپنے پی ایچ ڈی مقالے کا انتساب اپنے روحانی مرشد کامل حضرت سید شیر شاہ جلال الدین حیدر سرخ پوش بخاریؒ کے نام کیا ہے۔ والدین سمیت دنیا کے تمام قصہ گوؤں کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔

    قصہ عربی زبان کا لفظ ہے، جس کا مطلب واقعہ، حادثہ، کہانی، کتھا، یا داستان ہے۔ سرائیکی وسیب کا خوبصورت جغرافیہ قدرتی حسن سے مزین ہے۔ دھرتی کے باکمال حصوں میں میدانی، پہاڑی، تھلوچڑ اور روہی چولستان واضح ہیں۔ سرائیکی علاقہ اپنے منفرد تہذیب و تمدن، ثقافتی و ادبی ورثے کا مالک ہے۔ یہاں کے قدرتی وسائل میں معدنیات، دستکاریاں اور مال مویشی ملکی معاشی استحکام اور خوشحالی میں بنیادی کردار ادا کر رہے ہیں۔

    اس سال سرائیکی زبان و ادب کو انٹرنیشنل لینگویجز میں شامل کیا گیا ہے۔ موجودہ عہد کے آثار قدیمہ کے ماہرین کی تحقیق میں ملنے والے صحرائے چولستان کے مختلف مقامات سے شواہد کے مطابق، وادی ہاکڑہ تہذیب و تمدن (روہی چولستان، گنویری والا، پتن منارہ، قلعہ ڈیراور وغیرہ) کو وادی سندھ تہذیب و تمدن (ہڑپہ و موہنجوداڑو) کی ماں مانا گیا ہے۔

    ہمیشہ ماں اپنی اولاد پر اپنی تہذیب و تمدن اور تربیتی اثرات مرتب کرتی ہے۔ سرائیکی زبان میں قصہ گوئی ایک قدیم فن ہے۔ شاعری اور نثری ادب میں سرائیکی قصہ اپنی پوری روشن دلیل کے ساتھ نمایاں ہے۔
    جاری ہے۔۔۔

  • سرکاری ڈاکٹر یا کاروباری شخصیت؟مظفرآباد کے مریضوں کا استحصال

    سرکاری ڈاکٹر یا کاروباری شخصیت؟مظفرآباد کے مریضوں کا استحصال

    سرکاری ڈاکٹر یا کاروباری شخصیت؟مظفرآباد کے مریضوں کا استحصال
    تحریر:سیدہ کنزا نقوی
    بات کی جائے سرکاری ہسپتالوں کی تو پاکستان بھر میں یہ حالات ہیں کہ مریض کا چیک اپ کروانے کے لیے سفارش کی ضرورت پڑتی ہے، اور اگر آپ کے پاس تگڑی سفارش نہ ہو تو پھر آپ کو پرائیویٹ ہسپتال میں ہی اپنا علاج معالجہ کروانے کے لیے جانا ہوگا، کیونکہ سرکاری ہسپتالوں میں بغیر سفارش کے آپ کو سہولیات ملنا نہ صرف مشکل بلکہ ناممکن بنا دی گئی ہیں۔ ایسا ہی حال آزاد کشمیر مظفرآباد کے سرکاری ہسپتالوں کا بھی ہے، جہاں پر بھی کئی حیران کن واقعات دیکھنے اور سننے کو ملتے ہیں۔ ڈاکٹرز کی غفلت سے مریض جان کی بازی ہار جاتے ہیں، غلط آپریشن کی وجہ سے مریض کی حالت بگڑ جاتی ہے یا سفارش نہ ہونے کی وجہ سے مریض کو داخل نہیں کیا جاتا۔

    یہ سارا خوف اس لیے پیدا کیا جاتا ہے کہ عوام سرکاری ہسپتالوں کے بجائے ان ڈاکٹروں کے پرائیویٹ کلینک پر چیک اپ کے لیے جائیں جو خود سرکاری ہسپتالوں میں تعینات ہیں۔ اکثر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جب مریض سرکاری ہسپتال میں ٹیسٹ وغیرہ کروانے جاتا ہے تو اسے ڈرایا جاتا ہے کہ سرکاری ہسپتالوں کی مشینری ناقابل اعتبار ہے جو کبھی چلتی ہے اور کبھی رک جاتی ہے۔ اس پر آنے والی ٹیسٹ رپورٹ بھی ناقابل اعتماد ہوتی ہے، اس لیے مریضوں کو پرائیویٹ کلینک جانے کا مشورہ دیا جاتا ہے، جہاں ان سے تسلی بخش چیک اپ کا وعدہ کیا جاتا ہے۔

    یوں مریضوں کو بدظن کر کے انہیں پرائیویٹ کلینک پر بلایا جاتا ہے اور پھر الٹراساؤنڈ، ایکسرے وغیرہ کے نام پر بھاری فیسیں وصول کی جاتی ہیں۔ جو مریض ان ڈاکٹروں کے نجی کلینک پر جانے سے انکار کر دے، اسے یہ کہہ کر ذلیل کیا جاتا ہے کہ سرکاری ہسپتال میں سہولیات کا فقدان ہے اور اسے ایسے نظرانداز کیا جاتا ہے جیسے وہ انسان نہیں بلکہ کوئی جانور ہو۔

    جو مریض سرکاری ہسپتال میں علاج معالجہ کے لیے آتے ہیں، اگر وہ پرائیویٹ ہسپتالوں اور کلینکوں کی بھاری فیس چکانے کی استطاعت رکھتے ہوں تو وہ کبھی بھی سرکاری ہسپتال کا رخ نہ کریں۔ پرائیویٹ کلینکوں پر ٹیسٹ کروانے کی بھاری فیسیں، جیسے 1900 روپے یا 1200 روپے الٹراساؤنڈ کے لیے، غریب مریضوں کے لیے ناقابل برداشت ہوتی ہیں۔

    یہاں یہ بات کرنا لازم ہے کہ اگر سرکاری ہسپتالوں میں تعینات ڈاکٹرز نے مریضوں کو اپنے پرائیویٹ کلینک پر بلا کر لوٹ مار کا سلسلہ جاری رکھنا ہے اور حکمران یونہی ان ڈاکٹروں کی غنڈہ گردی پر خاموش رہیں گے تو ان سرکاری ہسپتالوں کو بند کر دینا چاہیے تاکہ عوام کو یہ علم ہو کہ انہیں علاج کے لیے بھاری فیس ادا کرنی ہوگی۔

    حکومت وقت سے چند سوالات ہیں:

    کیا سرکاری ہسپتال کے ڈاکٹر کا نجی کلینک چلانا قانونی ہے؟
    کیا ان کلینکوں کو رجسٹرڈ کیا گیا ہے؟
    کیا حکومت اور متعلقہ ادارے ان کے خلاف کارروائی کریں گے؟

    عوام کا مطالبہ ہے کہ متعلقہ ادارے اس معاملے کی تحقیقات کریں اور عوام کے ساتھ ہونے والے اس استحصال کو روکیں کیونکہ سرکاری تنخواہ پر کام کرنے والے ڈاکٹروں کو نجی کلینک کے ذریعے مریضوں کا استحصال کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

  • آئیں گزرے سال کی خود احتسابی کریں ۔۔!!

    آئیں گزرے سال کی خود احتسابی کریں ۔۔!!

    آئیں گزرے سال کی خود احتسابی کریں ۔۔!!
    تحریرِ:شاہد نسیم چوہدری
    سال 2024 کی آخری سانسیں جاری ہیں اور ہمیں یہ موقع مل رہا ہے کہ ہم اپنی ذات کا احتساب کریں۔ یہ لمحہ نہ صرف اپنے اعمال پر غور کرنے کا ہے بلکہ اپنے معاشرے، ملک، اور انسانیت کے ساتھ کیے گئے رویوں کا جائزہ لینے کا بھی ہے۔ ایک ایسا موقع جو ہمیں اپنے ماضی کی غلطیوں کو درست کرنے، اپنی کامیابیوں کو سراہنے، اور اپنے مستقبل کو بہتر بنانے کی تحریک دیتا ہے۔

    سب سے پہلے ہمیں اپنی ذات کا جائزہ لینا ہوگا۔ کیا ہم نے اپنی ذاتی زندگی میں وہ مقاصد حاصل کیے جن کا عہد سال کے آغاز میں کیا تھا؟ کیا ہم نے اپنی روحانی، جسمانی، اور ذہنی صحت کا خیال رکھا؟ کیا ہم نے اپنے خاندان کے ساتھ وقت گزارا، ان کے جذبات کو سمجھا، اور ان کے مسائل حل کیے؟ کیا ہم نے اپنی اخلاقیات کو بہتر بنایا، یا وہی پرانی عادات برقرار رکھیں جو ہمیں نقصان پہنچاتی ہیں؟ہوسکتا ہے کہ ہم نے کچھ خواب پورے کیے ہوں، لیکن کیا وہ خواب محض ہماری ذاتی خوشی تک محدود تھے؟ کیا ہم نے اپنی زندگی کے فیصلوں میں دوسروں کی بھلائی کو شامل کیا؟ یہ سب سوالات ہمیں بتاتے ہیں کہ ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا۔

    ہم اس دنیا میں اکیلے نہیں جی رہے۔ ہمارا وجود دوسروں کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ اس سال ہم نے کتنے لوگوں کا بھلا کیا؟ کیا ہم نے ضرورت مندوں کی مدد کی؟ کیا ہم نے اپنے پڑوسیوں کے دکھ سکھ میں شرکت کی؟کیا ہم نے اپنے اردگرد کے لوگوں کے جذبات اور مسائل کو سمجھا؟ یہ سوالات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ ہم سے محبت، عزت، اور تعاون کی توقع کرتا ہے۔ اگر ہم نے ان اقدار پر عمل نہیں کیا تو ہمیں اپنی اصلاح کرنی ہوگی۔

    پاکستان ایک عظیم نعمت ہےمگر اس کی ترقی اور خوشحالی میں ہم نے کیا کردار ادا کیا؟ کیا ہم نے اپنے ملک کی بھلائی کے لیے کوئی مثبت قدم اٹھایا؟ کیا ہم نے اپنی ذمہ داریاں ادا کیں، جیسے ٹیکس دینا، قوانین کی پابندی کرنا، اور اپنے فرائض ایمانداری سے انجام دینا؟ کیا ہم نے اپنے معاشرے میں تعلیم، صحت، یا انصاف کی بہتری کے لیے کوئی عملی کام کیا؟
    اگر ہم نے ان میں سے کسی بھی میدان میں کردار ادا نہیں کیا، تو ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لیے کیا ورثہ چھوڑ رہے ہیں۔

    خود احتسابی کی اہمیت بہت زیادہ ہے، لیکن خوداحتسابی ایک مشکل مگر ضروری عمل ہے۔ یہ ہمیں اپنی خامیوں کو تسلیم کرنے اور اپنی غلطیوں کو درست کرنے کا موقع دیتا ہے۔ ہمیں اپنی زندگی کے ان پہلوؤں کو دیکھنا ہوگا جو ہمیں دوسروں کے لیے مفید بنا سکتے ہیں۔ ہمیں اپنی زندگی کے وہ مقاصد ترتیب دینے ہوں گے جو نہ صرف ہماری بلکہ معاشرے کی بھلائی کے لیے ہوں۔

    آؤ نیا عہد کریں آنے والے سال کی منصوبہ بندی کریں۔ سال 2024 ختم ہونے کو ہے اور 2025 ہماری دہلیز پر دستک دے رہا ہے۔ اب وقت ہے نئے عہد کرنے کا۔ ہم عہد کریں کہ آنے والے سال میں ہم دوسروں کے لیے زیادہ حساس ہوں گے۔ہم عہد کریں کہ اپنی ذات کے ساتھ ساتھ ملک و قوم کی بھلائی کے لیے بھی کام کریں گے۔ ہم عہد کریں کہ اپنی صلاحیتوں کو انسانیت کی خدمت کے لیے بروئے کار لائیں گے۔

    ایک نئی صبح کا آغاز خود احتسابی کا عمل ہمیں بہتر انسان بننے کا موقع دیتا ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم دنیا میں محض اپنی خواہشات پوری کرنے نہیں آئے بلکہ ایک مقصد کے تحت بھیجے گئے ہیں۔اگر ہم نے اس سال غلطیاں کیں تو وہ ہماری ناکامی نہیں بلکہ ہماری اصلاح کا موقع ہیں۔ ہمیں اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے نئے عزم اور ولولے کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ یہی کامیاب زندگی کی اصل کنجی ہے۔

    2024 کا سال ہماری تاریخ کا ایک اور باب بن گیا، لیکن کیا ہم نے پاکستان کے لیے وہ کچھ کیا جو ہمارا فرض تھا؟ کیا ہم نے اپنے وطن کو اس کا حق دیا؟ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیں، کیا ہم نے ایمانداری، محنت اور حب الوطنی کا مظاہرہ کیا؟ یا صرف خواب دیکھے اور دوسروں پر الزام تراشی کی؟
    پاکستان ہمیں ایک نعمت کی صورت میں ملا، مگر کیا ہم نے اسے سنوارنے میں اپنا کردار ادا کیا؟ کیا ہم نے اپنے ارد گرد کی ناانصافیوں کے خلاف آواز بلند کی؟ کیا ہم نے اپنے بچوں کو سچائی اور دیانت داری کا سبق دیا؟

    آئیں، اپنے وعدے یاد کریں اور عہد کریں کہ 2025 میں ہم اپنے پاکستان کے لیے وہ سب کریں گے جو اس کا حق ہے۔ یہ زمین ہم سے قربانی مانگتی ہے، محبت مانگتی ہے۔ آئیے، اسے وہ سب لوٹائیں جو اس کا ہے۔

  • حسان نیازی کا پیغام نوجوانوں کے نام۔۔۔

    حسان نیازی کا پیغام نوجوانوں کے نام۔۔۔

    حسان نیازی کا پیغام نوجوانوں کے نام۔۔۔
    تحریر:شاہد نسیم چوہدری
    جب تاریخ کا فیصلہ لکھا جائے گا، تو وقت کی گرد میں چھپے کئی راز بے نقاب ہوں گے۔ 9 مئی کا دن پاکستان کی سیاست کے لیے ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے، جہاں ایک تحریک نے اپنے پیروکاروں کو جنونیت کی حد تک دھکیل دیا۔ آج ان واقعات کے نتیجے میں 60 مزید افراد کو فوجی عدالتوں نے سزائیں سنائی ہیں، اس سے پہلے 80 افراد کو سزائیں سنائی جا چکی ہیں اور اب عمران خان کے بھانجے حسان نیازی کو 10 سال قید بامشقت کا سامنا ہے۔

    لیکن ان سزاؤں سے زیادہ اہم، حسان نیازی کے وہ الفاظ ہیں جو انہوں نے عدالت میں اپنی بے بسی کے عالم میں کہے "میں نے اپنے ماموں عمران خان کے لیے جو قربانیاں دیں، ان کا صلہ یہ ہے کہ ڈیڑھ سالہ قید کے دوران نہ تحریک انصاف نے مجھے پوچھا اور نہ ہی عمران خان نے۔

    یہ الفاظ کسی ایک فرد کی کہانی نہیں، بلکہ ان ہزاروں نوجوانوں کی داستان ہیں جو ایک خواب کے پیچھے اپنی زندگیاں برباد کر بیٹھے۔ ایک ایسا خواب جسے خوابوں کے سوداگر بیچتے ہیں اور عام لوگ اس کے دام میں آ کر اپنے مستقبل کا سودا کر لیتے ہیں۔ حسان نیازی جیسے بے شمار افراد، جنہوں نے اپنے گھر بار، عزت اور آزادی کو ایک تحریک کے لیے قربان کیا، آج اپنی تنہائی اور بے بسی پر ماتم کناں ہیں۔ انہوں نے ایک ایسے لیڈر پر بھروسہ کیا جو ان کی امیدوں کا مرکز تھا، لیکن وقت نے ثابت کیا کہ یہ بھروسہ یک طرفہ تھا۔

    حسان کا گلہ ایک چیخ ہے، جو ان تمام لوگوں کے لیے سبق ہے جو شخصی عقیدت کے اندھے پیچھے چلتے ہیں۔ تحریک انصاف اور اس کی قائدانہ بے حسی کی واضح مثال دیکھنی ہے تو حسان نیازی کی داستان تحریک انصاف کی قیادت کی بے حسی کا مظہر ہے۔ سیاسی قیادت کا اصل امتحان تب ہوتا ہے جب ان کے کارکنان مشکل حالات میں ہوں۔ لیکن یہاں معاملہ مختلف ہے۔ تحریک انصاف کے رہنما اپنے کارکنوں کی حالتِ زار سے بے نیاز نظر آتے ہیں۔ عمران خان جو ایک وقت میں "کپتان” کہلاتے تھے، آج وہ اور ان کی جماعت تحریک انصاف اپنے قریبی قید ہو جانے والے ساتھیوں کے لیے بھی کوئی وقت نہیں نکال پا رہے۔

    یہ رویہ اس بات کا عکاس ہے کہ تحریک انصاف کے کارکن صرف ایک زینے کی حیثیت رکھتے ہیں، جنہیں اقتدار کے حصول کے لیے استعمال کیا گیا۔ نوجوان نسل کے لیے سبق ہے اور یہ وقت ان تمام نوجوانوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے جو سیاسی تحریکوں کا حصہ بننے کے لیے اپنی زندگیاں داؤ پر لگاتے ہیں۔ جذبات، عقیدت اور جوش و خروش وقتی ہوسکتے ہیں، لیکن ان کے اثرات نسلوں تک چلتے ہیں۔ حسان نیازی کے الفاظ ایک آئینہ ہیں، جس میں ہر نوجوان کو اپنا عکس دیکھنا چاہیے۔ کیا کسی تحریک کے لیے اپنی آزادی، عزت اور مستقبل کو قربان کرنا واقعی قابلِ ستائش ہے؟

    سیاست دان چاہے کسی بھی جماعت سے ہوں، خواب بیچنے کے ماہر ہوتے ہیں۔ وہ عوام کو ایک ایسا مستقبل دکھاتے ہیں جو حقیقت سے کوسوں دور ہوتا ہے۔ تحریک انصاف نے بھی یہی کیا، نوجوانوں کو تبدیلی کے خواب دکھائے اور ان کے جوش و خروش کا استعمال کیا۔ لیکن جب وقت آیا کہ ان کے حقوق کا تحفظ کیا جائے، تو یہ خواب فروش اپنی جادوئی جھولی لپیٹ کر غائب ہوگئے۔

    حسان نیازی کا پیغام ان تمام افراد کے لیے ایک وارننگ ہے جو کسی بھی سیاسی جماعت کے پیچھے اپنی اندھی عقیدت کو قربان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، "خدارا، ایسے لوگوں کے پیچھے نہ لگیں اور اپنے مستقبل کو تاریک نہ کریں۔” ان کے یہ الفاظ ان تمام لوگوں کے لیے ایک سبق ہیں جو سیاست کو جذبات کی بجائے شعور سے سمجھنے کی ضرورت کو نظر انداز کرتے ہیں۔ ہمیں سوچنا ہوگا کہ کیا ہم اپنی نسلوں کو ایسے ہی خواب فروشوں کے حوالے کرتے رہیں گے؟ کیا ہمارا مستقبل انہی وعدوں کے پیچھے گم ہوتا رہے گا جو کبھی وفا نہیں ہوتے؟

    حسان نیازی جیسے نوجوانوں کی قربانی ہمیں اس بات کی یاد دہانی کرواتی ہے کہ سیاستدان آتے جاتے رہتے ہیں، لیکن ان کے وعدوں کی قیمت عام عوام چکاتی ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم خوابوں کے سوداگروں کی حقیقت کو پہچانیں اور اپنی آنکھیں کھول کر اپنے فیصلے کریں۔ اگر ہم نے آج سبق نہ سیکھا تو کل ہماری آنے والی نسلیں بھی ان خوابوں کے جال میں پھنس کر اپنی زندگیاں برباد کریں گی۔

    جو مجرمان تحریک انصاف کے جھانسے میں آ کر اپنی زندگیاں برباد کر بیٹھے اور سزائیں پا چکے ہیں، وہ درج ذیل ہیں، 9 مئی کے حوالے سے حسان نیازی سمیت مزید 60 مجرموں کو سزائیں سنا دی گئی ہیں، ان میں جناح ہاؤس حملے میں ملوث بانی پی ٹی آئی عمران خان کے بھانجے حسان خان نیازی ولد حفیظ اللہ نیازی کو 10 سال قید بامشقت، میاں عباد فاروق ولد امانت علی کو 2 سال قید بامشقت، رئیس احمد ولد شفیع اللہ کو 6 سال قید بامشقت، ارزم جنید ولد جنید رزاق کو 6 سال قید بامشقت اور علی رضا ولد غلام مصطفی کو 6 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی۔

    جی ایچ کیو حملے میں ملوث راجہ دانش ولد راجہ عبدالوحید کو 4 سال قید بامشقت اور سید حسن شاہ ولد آصف حسین شاہ کو 9 سال قید بامشقت کی سزا سنا دی گئی ہے۔ اے آئی ایم ایچ راولپنڈی پر حملے میں ملوث علی حسین ولد خلیل الرحمان کو 7 سال قید بامشقت، پنجاب رجمنٹ سنٹر مردان پر حملے میں ملوث زاہد خان ولد محمد نبی کو 2 سال قید بامشقت کی سزا ہوئی ہے۔ سانحہ 9 مئی میں ملوث مزید 60 مجرمان کو سزائیں سنا دی گئی ہیں، ان سزا پانے والے دیگر ملزمان میں ہیڈکوارٹر دیر سکاؤنٹس تیمرگرہ پر حملے میں ملوث سہراب خان ولد ریاض خان کو 4 سال قید بامشقت، جناح ہاؤس حملے میں ملوث بریگیڈئر (ر) جاوید اکرم ولد چودھری محمد اکرم کو 6 سال قید بامشقت،

    ملتان کینٹ چیک پوسٹ حملے میں ملوث خرم لیاقت ولد لیاقت علی شاہد کو 4 سال قید بامشقت سنا دی گئی ہے۔ قلعہ چکدرہ حملے میں ملوث ذاکر حسین ولد شاہ فیصل کو 7 سال قید بامشقت، بنوں کینٹ حملے میں ملوث امین شاہ ولد مشتر خان کو 9 سال قید بامشقت، پی ایف بیس میانوالی حملے میں ملوث فہیم ساجد ولد محمد خان کو 8 سال قید بامشقت، فیصل آباد آئی ایس آئی آفس حملے میں ملوث حمزہ شریف ولد محمد اعظم کو 2 سال قید بامشقت، جناح ہاؤس حملے میں ملوث محمد ارسلان ولد محمد سراج کو 7 سال قید بامشقت، جناح ہاؤس حملے میں ملوث محمد عمیر ولد عبدالستار کو 6 سال قید بامشقت، جناح ہاؤس حملے میں ملوث نعمان شاہ ولد محمود احمد شاہ کو 4 سال قید بامشقت اور بنوں کینٹ حملے میں ملوث اکرام اللہ ولد خانزادہ خان کو 9 سال قید بامشقت کی سزا ہوئی ہے۔

    راہوالی گیٹ گوجرانوالہ حملے میں ملوث محمد احمد ولد محمد نذیر کو 2 سال قید بامشقت، ملتان کینٹ چیک پوسٹ حملے میں ملوث پیرزادہ میاں محمد اسحق بھٹہ ولد پیرزادہ میاں قمرالدین بھٹہ کو 3 سال قید بامشقت، جی ایچ کیو حملے میں ملوث محمد عبداللہ ولد کنور اشرف خان کو 4 سال قید بامشقت، فیصل آباد آئی ایس آئی آفس حملے میں ملوث امجد علی ولد منظور احمد کو 2 سال قید بامشقت اور جناح ہاؤس حملے میں ملوث محمد رحیم ولد نعیم خان کو 6 سال قید بامشقت کی سزا دیدی گئی ہے۔ پی اے ایف بیس میانوالی حملے میں ملوث احسان اللہ خان ولد نجیب اللہ خان کو 10 سال قید بامشقت، راہوالی گیٹ گوجرانوالہ حملے میں ملوث منیب احمد ولد نوید احمد بٹ کو 2 سال قید بامشقت، فیصل آباد آئی ایس آئی آفس حملے میں ملوث محمد علی ولد محمد بوٹا کو 2 سال قید بامشقت،

    بنوں کینٹ حملے میں ملوث سمیع اللہ ولد میر داد خان کو 2 سال قید بامشقت اور جناح ہاؤس حملے میں ملوث میاں محمد اکرم عثمان ولد میاں محمد عثمان کو 2 سال قید بامشقت کی سزا سنا دی گئی ہے۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث مدثر حفیظ ولد حفیظ اللہ کو 6 سال، جناح ہاؤس حملے میں ملوث سجاد احمد ولد محمد اقبال کو 4 سال، بنوں کینٹ حملے میں ملوث خضر حیات ولد عمر قیاض خان کو 9 سال، راہوالی گیٹ گوجرانوالہ کینٹ حملے میں ملوث محمد نواز ولد عبدالصمد کو 2 سال، پی اے ایف بیس میانوالی حملے میں ملوث محمد بلال ولد محمد افضل کو 4 سال قید بامشقت کی سزائیں دی گئی ہیں۔

    ہیڈکوارٹر دیر سکاؤٹس تیمرگرہ حملے میں ملوث محمد سلیمان ولد سِیعد غنی جان کو 2 سال قید بامشقت، ہیڈکوارٹر دیر سکاؤٹس تیمرگرہ حملے میں ملوث اسد اللہ درانی ولد بادشاہ زادہ کو 4 سال قید بامشقت، چکدرہ قلعے پر حملے میں ملوث اکرام اللہ ولد شاہ زمان کو 4 سال قید بامشقت، فیصل آباد آئی ایس آئی آفس حملے میں ملوث محمد فرخ ولد شمس تبریز کو 5 سال قید بامشقت اور جناح ہاؤس حملے میں ملوث وقاص علی ولد محمد اشرف کو 6 سال قید بامشقت دیدی گئی ہے۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث امیر ذوہیب ولد نذیر احمد شیخ کو 4 سال، اے آئی ایم ایچ راولپنڈی حملے میں ملوث فرہاد خان ولد شاہد حسین کو 7 سال،

    ہیڈکوارٹر دیر سکاؤٹس تیمرگرہ حملے میں ملوث عزت خان ولد اول خان کو 2 سال، راہوالی گیٹ گوجرانوالہ کینٹ حملے میں ملوث اشعر بٹ ولد محمد ارشد بٹ کو 2 سال اور بنوں کینٹ حملے میں ملوث ثقلین حیدر ولد رفیع اللہ خان کو 9 سال قید بامشقت کی سزائیں دی گئی ہیں۔ فیصل آباد آئی ایس آئی آفس حملے میں ملوث محمد سلمان ولد زاہد نثار کو 2 سال قید بامشقت، ملتان کینٹ چیک پوسٹ حملے میں ملوث حامد علی ولد سید ہادی شاہ کو 3 سال قید بامشقت، راہوالی گیٹ گوجرانوالہ کینٹ حملے میں ملوث محمد وقاص ولد ملک محمد کلیم کو 2 سال قید بامشقت، بنوں کینٹ حملے میں ملوث عزت گل ولد میردادخان کو 9 سال قید بامشقت اور جناح ہاؤس حملے میں ملوث حیدر مجید ولد محمد مجید کو 2 سال قید بامشقت کی سزا دیدی گئی ہے۔

    جناح ہاؤس حملے میں ملوث گروپ کیپٹن وقاص احمد محسن(ریٹائرڈ) ولد بشیر احمد محسن کو 2 سال قید بامشقت ہیڈکوارٹر دیر سکاؤٹس تیمر گرہ حملے میں ملوث محمد الیاس ولد محمد فضل حلیم کو 2 سال قید بامشقت، گیٹ ایف سی کینٹ پشاور حملے میں ملوث محمد ایاز ولد صاحبزادہ خان کو 2 سال قید بامشقت، چکدرہ قلعے حملے میں ملوث رئیس احمد ولد خستہ رحمان کو 4 سال قید بامشقت اور چکدرہ قلعے حملے میں ملوث گوہر رحمان ولد گل رحمان کو 7 سال قید بامشقت کی سزاؤں کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ بنوں کینٹ حملے میں ملوث نیک محمد ولد نصر اللہ جان کو 9 سال قید بامشقت، فیصل آباد آئی ایس آئی آفس حملے میں ملوث فہد عمران ولد محمد عمران شاہد کو 9 سال قید بامشقت، راہوالی گیٹ گوجرانوالہ کینٹ حملے میں ملوث سفیان ادریس ولد ادریس احمد کو 2 سال قید بامشقت، بنوں کینٹ حملے میں ملوث رحیم اللہ ولد بیعت اللہ کو 9 سال قید بامشقت جبکہ بنوں کینٹ حملے میں ملوث خالد نواز ولد حامد خان کو 9 سال قید بامشقت کی سزا دیدی گئی ہے۔

    اس کے ساتھ ہی فوجی حراست میں لیے جانے والے 9 مئی کے ملزمان پر چلنے والے مقدمات کی سماعت متعلقہ قوانین کے تحت مکمل کر لی گئی ہے۔ فیصلہ میں بتایا گیا ہے کہ تمام مجرموں کے پاس اپیل کا حق اور دیگر قانونی حقوق برقرار ہیں، جیسا کہ آئین اور قانون میں ضمانت دی گئی ہے۔ یاد رہے کہ سانحہ 9 مئی میں ملوث حسان نیازی سمیت مزید 60 مجرمان کو سزائیں سنا دی گئیں۔ حسان نیازی نے نوجوانوں کے نام پیغام دیا ہے خدارا! ان سیاسی دھوکے بازوں سے بچ جاؤ۔ میں عمران خان کا بھانجا ہوں، میں نے جو کچھ کیا عمران خان کے لیے کیا۔۔۔۔لیکن کسی نے بھی میری مدد نہیں کی۔ سوائے میرے باپ کے، کسی نے بھی مجھے پوچھا تک نہیں۔۔۔۔اگر میرے ساتھ یہ سلوک ہوا ہے۔۔تو آپ کے ساتھ کیا ہوگا۔۔۔۔بچ جاؤ ان سے۔۔ان کے ورغلانے سے۔۔۔ان کے جھانسے سے۔۔۔یہی پیغام ہے حسان نیازی کا نوجوانوں کے نام۔۔۔۔۔

  • ایف آئی اے اور یونان کشتی حادثہ، وزیراعظم کی برہمی ، انصاف کب ہوگا؟

    ایف آئی اے اور یونان کشتی حادثہ، وزیراعظم کی برہمی ، انصاف کب ہوگا؟

    ایف آئی اے اور یونان کشتی حادثہ، وزیراعظم کی برہمی ، انصاف کب ہوگا؟
    تحریر: ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    یونان کشتی حادثے میں 40 سے زائد پاکستانیوں کی ہلاکت نے نہ صرف ہمارے عدالتی اور انتظامی نظام کی ناکامی کو بے نقاب کیا بلکہ اس نے ایک اور گہرا سوال بھی اٹھایا ہے: کیا ہم نے اپنے نظام انصاف میں اتنی خامیاں پال رکھی ہیں کہ اس قسم کے سانحات روز مرہ کا حصہ بن گئے ہیں؟ یہ واقعہ صرف ایک دردناک سانحہ نہیں بلکہ ہمارے معاشرتی، سیاسی اور قانونی ڈھانچے میں موجود گہری خرابیوں کا عکس ہے۔ اس حادثے کی اصل حقیقت کا پتا لگانے کی کوششیں جاری ہیں، لیکن اس دوران سامنے آنے والے انکشافات نے حکومت اور اداروں کے کردار پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

    انسانی اسمگلنگ میں ملوث ہونے والے ایف آئی اے کے 31 اہلکاروں نے ثابت کر دیا کہ ہمارے قانون نافذ کرنے والے ادارے اب خود جرم کی معاونت کرنے والے بن چکے ہیں۔ ان افسران کی ذمہ داری تھی کہ وہ شہریوں کو تحفظ فراہم کریں، لیکن وہ خود اسمگلرز کی مدد کر کے معصوم افراد کی زندگیوں کے ساتھ کھیلتے رہے۔ فیصل آباد، سیالکوٹ، لاہور، اسلام آباد اور کوئٹہ جیسے اہم ایئرپورٹس سے یہ مجرمانہ سرگرمیاں جاری رہیں۔ جب قانون کے رکھوالے ہی اپنے فرض میں ناکام ہوں تو عوام کس سے انصاف کی امید رکھیں؟ ان افسران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ نہ صرف جائز ہے بلکہ اس سے یہ بھی ثابت ہو گا کہ حکومت اپنی انتظامی ناکامیوں کو سنجیدہ لے رہی ہے۔

    ان اہلکاروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیراعظم کی برہمی اور ایک ہفتے کی ڈیڈلائن قابل تعریف ہے مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس برہمی کے بعد کوئی ٹھوس اقدامات سامنے آئیں گے؟ کیا ان انسانیت کے دشمن اہلکاروں کو عبرتناک سزا دی جائے گی؟ یا یہ معاملہ بھی دیگر سانحات کی طرح فائلوں کی گرد میں دب جائے گا؟ ماضی اس بات کا گواہ ہے کہ رشوت، سیاسی سرپرستی اور عدالتی کمزوریوں کی وجہ سے مجرم نہ صرف آزاد ہو جاتے ہیں بلکہ وہ دوبارہ اپنے دھندے کو نیا روپ دے کر چلانا شروع کر دیتے ہیں۔ یونان کشتی حادثے کے ذمہ داروں کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانا اور بے رحم انصاف ہماری عدلیہ اور انتظامیہ کی ساکھ کے لیے اہم ہے۔

    اگر ہم نے یہ موقع ضائع کر دیا اورحادثہ کے شکارنوجوانوں کو انصاف نہ دلایا تو ہماری انصاف کی فراہمی کی تاریخ میں ایک اور سیاہ باب کا اضافہ ہوجائے گا، جسے ہمیشہ یاد رکھاجائے گا۔یہ مسئلہ صرف چند کرپٹ اہلکاروں تک محدود نہیں۔ یہ ایک منظم اور وسیع تر نیٹ ورک کا حصہ ہیں جو یہ غیر قانونی دھندہ اپنے سیاسی سرپرستوں کے زیرسایہ انجام دیتے ہیں۔ انسانی اسمگلنگ کے اس دھندے میں ملوث افراد اپنے سیاسی اثرورسوخ کا فائدہ اٹھا کر مقدمات کو کمزورکراتے ہیں اور انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالتے ہیں۔ ان افراد کے نیٹ ورک کی گرفتاری اور ان کی مالی تحقیقات کا عمل اس بات کا ثبوت ہو گا کہ حکومت اس مسئلے کو نہ صرف سنجیدہ لے رہی ہے بلکہ اس کا حقیقی حل بھی چاہتی ہے۔

    اگرچہ وزیراعظم نے اس معاملے میں فوری اقدامات کی ہدایت کی ہے اور برہمی کا جواظہار کیاہے، وقت کا تقاضا ہے کہ اس معاملے پر عملی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ کسی بھی قسم کی بے حسی یا تاخیر عوام کا اعتماد مزید متزلزل کرے گی۔ اس سانحہ کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کیلئے ایک نئی حکمت عملی کی ضرورت ہے تاکہ انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑا جا سکے۔ ایف آئی اے اور دیگر اداروں کی نگرانی کے لیے آزاد کمیشن قائم کرنا اور سیاسی سرپرستی کو ختم کرنے کے لیے سخت قانون سازی کی ضرورت ہے۔

    یونان کشتی حادثہ ہمارے اداروں اور حکومتی عملداروں کے لیے ایک سنہری موقع ہے کہ وہ نظام میں موجود گہری خامیوں کو نہ صرف تسلیم کریں بلکہ ان کی اصلاح کے لیے فوری اور مئوثرقدامات کریں۔ یہ سانحہ ایک تلخ حقیقت کی صورت میں سامنے آیا ہے کہ اگر ہم نے اس گھناؤنے جرم کے خاتمے کے لیے اس وقت سنجیدہ اور ٹھوس اقدامات نہ کیے تو مسائل نہ صرف جوں کے توں رہیں گے بلکہ وہ مزید پیچیدہ اور سنگین ہو جائیں گے۔

    اب وقت آ گیا ہے کہ ہمارے اربابِ اختیار اپنی ترجیحات پر نظرثانی کریں، عوامی شعور بیدار کریں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نظام کو شفاف اور مئوثربنائیں تاکہ مستقبل میں نہ تو کوئی معصوم شہری اس کرپٹ نیٹ ورک کا شکار ہو اور نہ ہی ہمارے اداروں کی ناکامی کی وجہ سے مزید زندگیاں تباہ ہوں۔ یہ نہ صرف ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے بلکہ ہم سب کا اجتماعی فرض ہے کہ اس سانحہ کے بعد انصاف کی آواز بلند کریں تاکہ انصاف ہوتا ہوا نظر آئے۔