Baaghi TV

Category: بلاگ

  • انقلابی شاعر    فیض احمد فیض کی داستان حیات

    انقلابی شاعر فیض احمد فیض کی داستان حیات

    اردوشاعری کو بین الاقوامی سطح دینے والے انقلابی شاعر
    فیض احمد فیض
    کے حالات زندگی اور قلم و کتاب سے ملواتی تحریر

    تحریر:ظفر اقبال ظفر
    قوت شفا سے لبریز نرم دل آویزدھیمہ لہجہ جن کی آواز جیسے کوئی بہت پیار سے دل کے رخسار پر ہاتھ رکھ دے جنہوں نے اپنے اور اگلے دور کی عوام کے جذباتوں کی ترجمانی کی معاشرے کے مسائل سمیت سیاسی تقاضوں کو شاعری کا مرکز بنایا ان کا شعر درد محبت سے بھی چُورہے کلاسیقی سطح پر ایک نیا جہاں روشن کیا ان کی ہر نظم غزل شعر لفظ میں خیال کی پھل جڑی ہے اپنے معنی کے تخلیقی تجربے سے اردو کی کائنات کو روشن کیا ماضی کی تمام بڑی شخصیات کا شعری خون کلام فیض کی رگوں میں دوڑتا ہے انسانی دوستی عدل و انصاف کا مسیحا محبتوں کا سفیر جذبات و احساسات کا ترجمان اردو کا فخر و ناز جرت اظہار کا معتبر نام فیض احمد فیض جن کا اصلی نام فیض محمد خان تھا۔

    آپ 13 فروری 1911کو سیالکوٹ کے نواحی قصبے کالا قادرمیں پیدا ہوئے والد کا نام بیرسٹرچوہدری سلطان محمد خان تھا جن کی دوستی علامہ اقبال ،سر سلمان ندوی، سر عبدالقادر، ڈاکٹر ضیا الدین جیسی قدآور شخصیات سے تھی، والد فیض والی افغانستان کے چیف سیکرٹری اوربرطانیہ میں افغان سفیر رہ چکے تھے والدہ سلطان فاطمہ گھریلو خاتون تھیں جنہوں نے اپنے بچوں کی مثالی تربیت کی، فیض صاحب اور ان کے دونوں بھائیوں کو ایک چوینی جو خرچ کے لیے ملتی تھی ان کے بھائی وہ لٹو اور پتنگ جیسے کھیلوں میں خرچ کر دیتے مگر فیض صاحب دو پیسے میں محلے کی لائبریری سے کتابیں کرائے پر لا کر پڑھا کرتے تھے ،فیض صاحب نے چھوٹی سی عمر میں کلاسیقی نظم اور نثر کی بیشتر کتابیں پڑھ لی تھیں۔طلسم ہوش رُبا۔فسانہ آزاد۔عبدالحلیم شرر کے ناول سمیت موجود ادب کی تمام مشہور کتابوں کا مطالعہ ان کا جنون بن گیا اردو کے تمام استادوں کے شعری نظری مجموعے ان کے زہن کی زمین پر نصب ہو چکے تھے سادگی زبان میں امیر مینائی اور داغ سے بے حد متاثر ہوئے زمانہ سکول میں خواہش والد پر انگلش فنکشن کا مطالعہ بھی کیا جس میں چازڈیکن۔رائٹ ہیگز۔آرتھر کونل ڈویل جیسے رائٹر ز کو پڑھ ڈالا تھا۔

    مادری زبان پنجابی تھی قرآن پاک کی تعلیم گھر میں حاصل کی تین سپارے حفظ کیے زندگی کے پچھتاوے میں ایک یہ بھی ہے کہ مرض چشم میں مبتلا ہونے کی وجہ سے مکمل قرآن پاک حفظ نہ کر سکے عربی اور فارسی کی تعلیم علامہ محمد اقبال ؒ کے استاد شمس العلما مولوی میر حسن سے حاصل کی مشن سکول سیالکوٹ میں ابتدائی تعلیم کا آغاز کیا جہاں سے پہلی پوزیشن میں میڑک کا امتحان پاس کیا۔علامہ اقبال ؒ کی معرفت سے گورنمنٹ کالج لاہورمیں داخلہ ملا یہاں انگریزی ادب اور نیشنل کالج لاہور سے عربی میں ایم اے کیافیض صاحب شاعر جرنلسٹ استادکے علاوہ ہر انسانی حال کی الگ الگ خوشبو تھے۔

    فیض صاحب کو بچپن میں مقابلہ کلام میں پہلا کلام لکھنے پرشمس العلما مولوی میر حسن صاحب سے ایک روپیہ بطورانعام ملا۔”مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ” اپنے جذبات کے اظہار کے لیے یہ ان کی پہلی نظم تھی جیسے اُن کی شاعری کا اہم ترین سنگ میل سمجھا جاتا ہے ایک ابھرتے ہوئے شاعر کا پیغام تھا کہ اُس کے شعرو خیالات عوام کی امانت ہیں فیض صاحب کا پہلا مجموعہ نقش فریادی کے نام سے چھپاجو 1940میں منظر عام پر آیا اور ہاتھوں ہاتھ فروخت ہو گیا ،فیض صاحب کہتے ہیں پیام ایک ہی ہے کہ پروش لوح و قلم کرتے رہیں گے صرف وہی لکھو جو دل پہ گزرتی ہے کیونکہ وہی دوسرے دل پر اثر کرتی ہے، فیشن و ثواب کے لیے مت لکھوکیونکہ آپ قلم کے جتنے بڑے بھی کاریگر ہوں آپ کا لکھا ہوا مصنوعی خیال کا پردہ چاک کر دیتا ہے اور معلوم پڑ ہی جاتا ہے کہ اپنے دل سے بات کہی ہے یا یہ کسی لالچ خوشامد نقالی میں کہی ہے، بس بنیادی بات یہی ہے دل پہ گزری لکھو،انسان کی اپنی ذات بہت حقیر چیز ہے، اس کی اپنی ذات کا وقار توقدرت کے کاروبار زندگی میں اک زرہ ہے وہ قدرت کے دریا کی اک بوند ہے اگر قطرے میں دریا دیکھائی نہ دے تو واسطہ نقلی ہے لکھاری کو تو قطرے کو دجلہ دیکھنا ہوتا ہے یہی حقیقی لکھاری کا حسن قلم ہوتا ہے۔

    فیض صاحب کو پہلا عشق اٹھارہ برس کی عمر میں ہوا سوال ہوا کہ اسے زندگی میں حاصل کیوں نہ کیا فیض صاحب شرم و حیا کا پہرہ دینے والے خون و تربیت کے مالک تھے جس سے عشق ہوا اُس کے سامنے زبان اظہار کی ہمت ہی نہ کر سکے، یک طرفہ پیار کی آگ مین جلتے رہے اور اُس لڑکی کی شادی کسی جاگیردار سے ہو گئی اس لڑکی کا تعلق افغان گھرانے سے تھا، یہ نو عمر لڑکی ان کے ہمسائے میں رہتی تھی، فیض صاحب اپنے کمرے کی کھڑی سے اسے آتے جاتے دیکھا کرتے تھے، فیض صاحب نے اُس لڑکی سے منسلک اپنی خاموش محبت کی دیوانگی میں شعروں کے ڈھیر لگا دئیے ،اُن کا عشق اپنے شباب پر تھا اور اعلیٰ تعلیم کے لیے ان کو سیالکوٹ سے لاہور جانا پڑا،پھر فیض صاحب چھٹیوں میں لاہور سے سیالکوٹ آئے تو کھڑکی کی دوسری جانب انہیں وہ چہرہ نظر نہ آیا ،انہوں نے کسی سے دریافت کیا تو علم ہوا کہ اُس کی شادی ہو گئی ہے ،فیض صاحب اس خبر سے ٹوٹے دل کے ساتھ واپس لاہور آ گئے .

    معزز قارئین میں آپ کو بتاتا چلوں کہ دل کا ٹوٹنااور ناکامی کا حادثہ یہ قدرت کے وہ مراحل ہوتے ہیں جو انسان کو مضبوط و منفرد بناتے ہیں تاکہ وہ بڑے مقام پر بڑی عوامی تعداد کا ترجمان بننے کے لیے تیار ہو سکے کہتے ہیں، خدا ٹوٹے ہوئے دلوں میں رہتا ہے یہ دلیل دل ٹوٹنے کو فائدے کا سودا بتاتی ہے کیونکہ جس دل میں خدا کا بسیرا ہو جائے وہی انسان مخلوق خدا کا محبوب بنتا ہے اور ناکامی ایک مقام سے گزر کر اُس سے بڑے مقام پر پہنچنے کا راستہ دیکھاتی ہے ایک بندی فیض صاحب کی نہ ہوئی مگر فیض صاحب زمانے کے ہو کر رہ گئے آئیے اب آگے بڑھتے ہیں اُس عورت کی جانب جس نے فیض صاحب کی زندگی کو مکمل و شاداب کر دیا۔

    1941میں الیس جوج سے فیض صاحب نے والدہ کی رضامندی سے شادی کر لی الیس جوج نے فیض دوستی میں دیس کے ساتھ بیس اور وطن کے ساتھ زبان بدل لی الیس جوج سے پہلی ملاقات ہندوستان میں ہوئی تب فیض صاحب امرتسر کے ایم او کالج میں انگریزی کے لیکچرار تھے پرنسپل ایس پی کالج تاثیر صاحب کے ہاں اکثر شاعر ادیب لکھاری اور ادب سے دلچسپی رکھنے والے لوگ ہفتہ اتوار کو جمع ہوا کرتے تھے جن میں فیض صاحب بھی تشریف لاتے وہاں الیس جوج سے ملاقات دوستی میں بدلی، دوستی شادی میں بدل گئی، فیض صاحب کا خاندان پنجابی چوہدری جٹ جو فیملی سے باہر شادی نہیں کرتے تھے مگرفیض صاحب پابند و تنگ سوچ سے پاک تھے، الیس جوج نے اسلام قبول کیا اور الیس سے مسلمان ہو کر کلثوم بن گئیں ،کلثوم اور فیض صاحب کا نکاح شیخ عبداللہ نے مہاراجہ کشمیر کے سری نگر میں پڑھوایا،جس میں ایک تحریری معاہدہ بھی ہوا ،جس میں فیض صاحب نے دوسری شادی نہ کرنے اور طلاق کا حق الیس یعنی کلثوم کو سونپ دیا ،اُس وقت شادی کی تیاریاں دھری کی دھری رہ گئیں کیونکہ جنگ عظیم چھڑ چکی تھی، بحری راستے بند ہونے کی وجہ سے دلہن کو برطانیہ سے لانے کا خواب من چاہے ارادے کے مطابق پورا نہ ہو سکا، اس لیے بارات میں چندلوگ ہی تھے جن میں فیض صاحب کے چھوٹے بھائی اور ایک دوست تھے بعد میں اس موقع پر مشاعرہ ہوا تھا جس میں جوش ملیح آبادی بھی شریک تھے

    فیض صاحب کی زاتی پسند کے خلاف وقت و حالات نے پانچ برس تک برٹش آرمی کے شعبہ تعلقات عامہ میں بطورکیپٹن رہنے پر مجبور کیا ،فیض صاحب بتاتے ہیں کہ فوج کی تربیت یہ تھی کہ یہ نمک جو تم کھاتے ہو یہ اس لیے ہے کہ تم اس کا تقاضہ پورا کرو یعنی نمک حرام نہ بنواور فرض پورا کرو اس کے برعکس فیض صاحب یہ اپنی بات منوائی کہ اس طریقے سے کام نہیں چلے گا اورسپاہوں سے یہ کہنا چاہیے کہ اپنے وطن کی خاطر حفاظت کے لیے تم لڑ رہے ہو ،تم نمک کے لیے نہیں لڑ رہے ہو اور فیض صاحب کی یہ بات نہ صرف مانی گئی بلکہ سپاہوں کو اس کے تابع بھی کیا گیا ،فیض صاحب اپنی قابلیت و عقل کی وجہ سے کچھ ہی عرصہ میں میجر پھر کرنل بھی گئے ،پھر 1947میں پاکستان بنتے ہی انہوں نے فوج سے محکمے کو چھوڑ دیا اورفوج سے صحافت کی جانب اپنا رخ کر لیا اپنے دوست میاں افتخار الدین کے کہنے پر انگریزی اخبارپاکستان ٹائم کے ایڈیٹر بن گئے، ان کی دور اندیش نگاہوں نے دیکھ لیا تھا کہ آزادی کے خواب کی تعبیر ابھی کوسوں دُور ہے تقسیم کے نام پر انسانیت کی تزلیل اور خون ریزی کو دیکھتے ہوئے انہوں نے قیام پاکستان کے وقت ہی آزادی کا مرثیہ لکھ دیا تھا وہ پاکستان ٹائم اور اردو روزنامہ امروز کے اداروں میں ارباب اختیار کی توجہ مقصد کی جانب دلاتے رہے یو ں ان کا قلم آزادی کی حقیقی ترجمانی میں فکر اقبال کا فرض بھی نبھاتا رہا ،فیض صاحب مزدوروں کے درد کو بھی اپنے سینے میں محسوس کرتے ہوئے وہ حقوق مزدور کی آواز بن کر پانچ سال لیبر ایڈویزری کمیٹی کے سرپرست رہے ٹریڈ یونین قائم کی انہیں منظم کیا اور فیڈریشن کے صدر بھی منتخب ہوئے۔

    جنوری 1959کی ایک دوپہر لاہور کی سڑک پر ایک عجیب منظر تھا ایک تانگہ دوڑے چلا جا رہا ہے ،پیچھے دو سپاہیوں کے درمیان ایک شخص ہاتھ کڑی پہنے بیٹھا ہے جس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ چہرے پر بلا کا اعتماد ہے جیسے غریب مزدورریڑھی والے سب اپنے محبوب کوپہچانتے ہوئے دیکھ رہے ہیں اورتانگے کے ساتھ ساتھ ایک بڑھتا ہوا ہجوم دوڑ رہا ہے ،تانگے کی یہ سواری عاشقوں کے جھرمٹ میں سینٹرل جیل لاہور سے ڈینٹل کلینک کی جانب چلی جا رہی ہے ،تانگے میں سوار یہ وہ شخصیت ہے جیسے علامہ اقبال ؒ کے بعد ملک کاسب سے مشہور ترین شاعرفیض احمد فیض کہا جاتا ہے، نہ کوئی جرم نہ کوئی گناہ 1958میں جنرل ایوب کا مارشل لا لگایا گیا تو انہیں اس لیے گرفتار کیا گیا کہ یہ عوامی آواز ہی نہیں بلکہ طاقت بھی تھے، اسی لیے اس عوامی پکار کو دبانے کے لیے جمہوری ہیرو فیض احمد فیض صاحب کو جیل میں قید کر لیا گیااور کہا گیا ایک بار لکھ کر دے دیں کہ مارشل لا حکومت کے خلاف کچھ نہیں بولیں گے مگر فیض صاحب نے صاف انکار کر دیا اور چار ماہ کی قید کاٹنے کے بعد رہائی ملی ،فیض صاحب پر بغاوت اور حکومت گرانے کی سازش کا الزام لگایا جاتا،9مارچ 1951 فیض صاحب راولپنڈی سازش میں گرفتار ہوئے، ان کی دونو ں صاحبزادیاں دس سالہ سلیمہ اور چھ سالہ منیزہ کبھی والد کوہاتھ کڑیوں میں تو کبھی جیل کی سلاخیوں کے پیچھے دیکھتی ہوئی کئی برس والد سے جدائی کی تکلیف برداشت کرتی رہیں بالآخرچار سال سے زائد مدت کے بعد 1955میں انہیں رہائی ملی۔

    فیض صاحب خود کو اپنے بھائی طفیل کی موت کا ذمہ دار سمجھتے رہے، 1952میں طفیل فیض صاحب سے ملنے حیدرآبادجیل میں آنے والے تھے کہ فجر کی نماز کے وقت دل کا دورہ پڑا جس نے بھائی طفیل کی جان لے لی، فیض صاحب کو حادثے کا علم ہوا تو انہوں نے اپنے بیوی الیس کلثوم کوجیل سے خط لکھاکہ آج صبح میرے بھائی کی جگہ موت میری ملاقات کو آئی تھی یہ لوگ میری زندگی کے عزیز ترین متاع مجھے دیکھانے لے گئے ،وہ متاع جو اب خاک ہو چکی ہے اور پھر وہ اسے ساتھ لے گئے ،میں نے اپنے غم کے غرورمیں سر اونچا رکھا اور کسی کے سامنے نظر نہیں جھکائی یہ کتنا مشکل اور کتنا اذیت ناک کام تھا ،یہ میرا دل ہی جانتا ہے۔اگلے خط میں انہوں نے لکھا کہ میں اُن کے بیوی بچوں اور ماں کے خیال کو دل سے ہٹانے کی کوشش کر رہا ہوں میں نے اپنی ماں کی پہلی اولاد چھین لی ہے ،ہاں میں نے ہی سب کو اُن کی زندگی سے محروم کر دیا ہے حواس اس قدر پراگندہ ہیں کہ زیادہ لکھ نہیں سکتا ،یہ غم بہت اچانک اور بے سبب لگا ہے لیکن اسے سہنے کا حوصلہ مجھ میں ہے میرا سر نہیں جھکے گا۔اس صدمے کا اثر فیض صاحب پر کافی عرصہ طاری رہا انہوں نے کچھ دن بعد اپنے بھائی کا نوحہ ایک نظم کی صورت میں لکھ کر اپنی زوجہ کو روانہ کیا۔

    فیض صاحب کو ملکی و عالمی حالات کی خبریں جیل میں بھی ملا کرتی تھیں وہ ان پر غزلیں اور نظمیں لکھا کرتے تھے فیض صاحب کی شاعری ہنگامی یا وقتی نہیں بلکہ آفاقی اور دائمی ہوتی فیض صاحب کے شہرہ آفاق شعری مجموعے،دست صبا،اور،زندہ نامہ، قیام اسیری کی ہی لازوال تخلیقات ہیں، قید خانے سے بیوی اور بچیوں کے نام لکھے خطوط کا مجموعہ صلیبیں میرے دریچے میں کے نام سے لکھا قیدو بند کی جن جن آزمائشوں سے فیض صاحب گزرے ہیں ان میں آپ کی زوجہ الیس جوج کی غمخواری حوصلہ مندی کے بغیر ان جان لیوا مراحل سے یوں اعتماد اور یقین محکم سے گزرنا ناممکن تھا ،ساری زندگی اپنے محبوب شاعر شوہر کی ہمت بننے والی الیس جوج نے وفا کی مثال تو رقم کی ہی تھی مگر سلیمہ ہاشمی اور منیزہ ہاشمی کی صورت میں جو دوکلیاں فیض صاحب کے دامن میں ڈالیں جن کی مہک سے فیض صاحب کی زندگی معطر ہو گئی الیس جوج کی دل کشی اور حسن سیرت نے فیض صاحب کو ہمیشہ نہال رکھا دونوں ہونہار بیٹیوں نے والد کی میراث میں ملنے والے تحفے علم و ادب اور فنون لطیفہ کے شاندار تابناک ورثے کی دل و جان سے ناصرف حفاظت کی بلکہ اس سے اپنے ملک و قوم کو مستفید بھی کیاپاکستان ٹیلی وژن کو منزہ فیض نے اپنے پانچ سالہ دور میں جس طرح چلایا اور دیکھایا وہ وہ تاریخ کا حصہ بن گیا۔

    وہ عبداللہ ہارون تعلیمی ادارہ لیاری کراچی کے پرنسپل ہوئے توعلم کی روشنی سے اس علاقے کو روشن کر ڈالا کھڈا مارکیٹ میں جہاں غربت جہالت اور منشیات کا راج تھا وہاں ٹیکنیکل سکول اور آڈٹیوریم قائم کیا اپنی جمع پونجی اسی کام پر لگا دی فیشرمین کارپوریٹو سوسائٹی قائم کی تو ادارے کی آمدن سے سو بچے مفت تعلیم حاصل کرتے فیض صاحب پاکستان ٹائم،امروز، لیل ونہار جیسے اُس دور کے نامور اخبارات و میگزین کے مدیر اعلیٰ بھی رہے 1959سے1962تک فیض صاحب نیشنل کونسل آف آرٹ کے سیکرٹری اور بعد میں نائب صدر بھی رہے ،انہوں نے 1959میں جاگو ہوا سویرا کے نام سے ایک فلم کی کہانی بھی لکھی جو مشرقی پاکستان میں بننے والی پہلی اردو فلم تھی، جنرل ایوب حکومت نے اس فلم کو کیمونسٹ پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے اس فلم پر پابندی لگا دی تھی ،مگر ان کی شاعری و افکار کی روشنی مشرق و مغرب تک پھیل چکی تھی ،وطن پاکستان کی حاطر1965کی جنگ میں فوج سے وابستہ ہوئے اور سپاہوں کے لیے نظمیں اور گیت لکھ کر ان کا حوصلہ بڑھاتے رہے ان کی کتاب دست تہ سنگ بھی انہی دنوں شائع ہو کر منظر عام پر آئی۔

    وہ دامن وطن کے تار تار کی خیر مانگتے رہے اور طاقت کے نشے میں ڈوبے لوگوں نے ان کی آواز حق کو نظر انداز کر دیا اور اقتدار کی چھینا جھپٹی میں پاکستان ایک بازو سے محروم ہو گیا اور عوام دیکھی کی دیکھتی رہ گئی، فیض صاحب کی واقفیت ذوالفقار علی بھٹو اور شیخ مجیب الرحمان دونوں سے تھی اس کے باوجود وہ اس واقعے پر دونو ں کو ذمہ دار سمجھتے رہے ،مشرقی پاکستان کی علیحدگی پر فیض صاحب کی روح زخمی ہو گئی اور وہ اس موضوع پر اپنے احساسات و جذبات سپرد قلم کرتے رہے، ان کی وہ درد ناک نظمیں آج بھی ان کے درد کو پڑھنے والے سینے میں محسوس ہوتی ہیں۔

    بھٹو دور میں مشیرثقافت بنے پاکستان کے ٹوٹے اور روٹھے حصے مشرقی پاکستان بنگلہ دیش کو معافی تلافی صلح صفائی کی گراہوں سے دو حصوں کو جوڑنے کا وفد لے کر وہاں پہنچے، اُس وقت یہ افواہ تھی کہ بھٹو فیض صاحب کو بنگلہ دیش میں پاکستان کا سفیر مقرر کرنا چاہتے تھے ،مگر بنگلہ دیشی قیادت نے پاکستان سے تعلقات قائم کرنے میں کوئی گرمجوشی نہ دیکھائی، جس کا فیض صاحب کو تاحیات دکھ رہا آپ نے اس موقع پر کہا کہ ہم تو یہ سوچ کر گئے تھے کہ احباب سے ملیں گے، اپنی سنائیں گے ،اُن کی سنیں گئے ،گلہ گزاریاں ہوں، گئی دوستی و محبت کے رشتے استوار کریں گے مگر بدقسمتی سے ایسا نہ ہو سکا ،جیسے گئے ویسے ہی لوٹ آئے ،5جولائی 1977کو جنرل ضیا نے بھٹو حکومت کا تختہ الٹ دیا اور فیض صاحب کی جلا وطنی کا نیا دور شروع ہو گیا

    معززقارئین آپ نے کبھی بھی ماضی کا کوئی بھی دور حکومت جاننا ہو تو آپ کو چاہیے کہ اُس دور کا ادب پڑھیں فقط ادب ہی ایک ایک سچی و مضبوط روشنی ہوتی ہے تو آپ کو اندھیروں میں حقائق تک آشنائی دیتی ہے ،سچے لکھاری محب انسانیت ہوتے ہیں، انہیں سچ کا قلم تھام کر عوام کے درد کو لکھنا ہوتا ہے، یہی وجہ تھی کہ شاعروں کی نئی و پرانی نسل ان سے اس قدر متاثر تھی کہ فیض صاحب ان کے اندر درجہ محبوبیت پر فائز تھے ،فیض صاحب کی بے پناہ مقبولیت کا ایک اور انداز ان کی لازوال بے مثال نظموں وغزلوں کی گلوکاری ہے، فیض صاحب بلاشبہ ایک عظیم لجینڈباکمال شاعر ،عظیم انسان جو اپنی زندگی سے منسلک ہر کردار کو اس خوبصورتی سے نبھاتے کہ وفا ان پر ناز کرتی ،پہلی محبت میں ناکامی کے باوجود فیض صاحب کا کہنا کہ محبت ہوتی ہی پہلی ہے، اس کے بعد ہیرا پھیری ہوتی ہے وہ ہر کسی سے احساس اپنائیت میں ملتے اور ملنے والے کو لگتا کہ جانے کب کا رشتہ ہے ،رائٹر لوگ کائنات کے ہر ذرے کو اہمیت وعزت دیتے ہیں ،حیات کے ہر تلخ و شیریں منظر کو قبول کر کے زندگی کو شکریہ کا موقع دیتے ہیں ،یہ ممکن نہیں کہ آپ اردو جانتے ہوں اور فیض احمد فیض کو نا جانتے ہوں ،مجھے پڑھنے کے دنوں میں ہی ان کا تعارف حاصل تھا میں ترقی پسندتحریک کا ممبر تھا جو پی ڈبلیو اے رائٹر ایسوسی ایشن تھی ،یہاں سیکھنے والوں کا ایک حصہ میں بھی تھا، اس وقت اردو ادب کے ستارے ستار جعفری، ساحر لدھیانوی، کرشن چندربیدی جیسے دیگر احباب تھے جو گھر والے تھے اورگھر والوں کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ کس کا کیا مقام ہے یہ ادب کے ستارے جس کا نام عبادت کی طرح لیا کرتے تھے وہ فیض احمد فیض صاحب تھے جن کی شاعری پر مبنی کتاب یہاں سب پڑھتے تھے ،اس لیے ان کا مقام ذہن نشین ہو چکا تھا، وہ فقط استاد ہی نہیں تھے بلکہ ایسے لیڈر و راہنما تھے جوتحریک کومحبوبہ کی طرح مخاطب کرتے تھے، وقت کی نبض رکتی ہے توملکہ ترنم نورجہاں اُن کی نظم گاتی ہیں اور وقت کی نبض چلنے لگتی ہے۔

    فیض صاحب کی شاعری بڑے بلند قد کی ہے جسے سمجھنے کے لیے علم و شعور کا وسیع ہونا لطف اندوز کرتا ہے جن کی سمجھ میں کچھ آئی اور کچھ نہ آئی اُن میں سے ایک میں بھی ہوں فیض صاحب استاد ہیں جن کے ہر پہلو تک ہماری رسائی نہیں پہنچ سکتی جبکہ ان کے کلام میں وسیع معانہ افرنی دل سوزی ترجمانی محبت شامل ہیں، میرا مطالعہ کم ہے اور مشاہدہ اس سے بھی کم ہے مگر پھر بھی میں کہہ سکتا ہوں کہ میں نے زبان کا حسن طرز بیاں کسی اور قلم میں نہیں دیکھا،انجمن ترقی پسند مصنفین چاہتے تھے کہ ادیب خیالی محل کی بجائے زمینی حقائق پر نظم اور نثر کی بنیاد رکھیں، فیض صاحب نے تن من دھن لگا کر ایک شعوری گروپ تشکیل دیا جن کے زیرسایہ گاؤں گاؤں جا کر مزدوروں کسانوں کو حالات وجغرافیہ کا علم دینے لگے ،شام تک کالج میں فروغ تعلیم کی ذمہ داری نبھاتے، اس کے بعد رات گئے تک خدمت خلق میں مصروف رہتے، فیض صاحب دیہاتی زندگی کے مسائل سے واقفیت رکھتے تھے، معاشرے کا سب سے نچلاطبقہ ان کی خدمت کا مرکز رہا ،غریبوں مزدوروں کے دکھ کو ذاتی غم بنا کر دور کرنے کی تگ و دو میں لگے رہتے، فیض صاحب ایشاءکے پہلے شاعر ہیں جنہیں روس نے” لیلن امن ایوارڈ”سے نوازاجو نوبل انعام کا ہم پلا مانا جاتا ہے ،73سالہ زندگی کے ہمیشہ رہنے والے نشان چھوڑنے والے فیض صاحب 20نومبر 1984میں انتقال کر گئے ،ان کو ماڈل ٹاؤن لاہورکے قبرستان میں دفن کیا گیا، ان کی رحلت کے ساتھ ہی روایات غم جاناں، غم دوراں اور رومان کا منفرو دل کش عہد تمام ہو گیا ،مگر فیض صاحب کی شخصیت و کلام ہمیشہ کے لیے امر ہو گیا ان کے انتقال کے بعد حکومت پاکستان کی فیض صاحب کی اردو ادب کی خدمات پر انہیں ہلال امتیاز سے نوازاجسے ان کی زوجہ کلثوم نے قبول کیاتھا۔

  • ٹرمپ پالیسیوں نے خطرے کی گھنٹی بجادی،چوکنا رہنا ہوگا.تجزیہ:شہزاد قریشی

    ٹرمپ پالیسیوں نے خطرے کی گھنٹی بجادی،چوکنا رہنا ہوگا.تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان میں مسخرے پن کی سیاست نے اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا،بھانت بھانت کی بولیاں
    دنیا بھر میں بدلتی صورتحال پر پاکستان کیلئے زیادہ احتیاط کی ضرورت،سب ایک ہوجائیں
    تجزیہ شہزاد قریشی
    بین الاقوامی بدلتی ہوئی پالیسیوں کے پیش نظر پاکستان کو چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ سیاسی گلیاروں میں مسخر ے پن کی حدوں کو کراس کرنے والوں کی اکثریت میں اضافہ ہو چکاہے۔ لہذا ذمہ داران ریاست کو بہت ہی زیادہ چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان خطے کا ایک انتہائی ملک ہے۔ بین الاقوامی پالیسیاں بالخصوص نئے امریکی صدر ٹرمپ کے تابڑ توڑ فیصلوں سے عالمی سیاست میں ہلچل سی پیدا کردی ہے۔ امریکی صدر کے فیصلوں کااثر دنیا کے کئی ملکوںپر پڑنے والا ہے۔ جس سے کشیدگی کا ماحول پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ایران کو دھمکی دے دی گئی ہے۔ بھارت کی مثال لے لیں ،ٹرمپ کی کامیابی پر بھارتی میڈیا ڈھول کی تھاپ پر ناچنے کے مترادف اُچھل رہا تھا۔ ٹرمپ اور مودی کی دوستی کے چرچے ہو رہے تھے مگر ایسا کچھ نہیں ہوا ۔ امریکہ سے غیر قانونی بھارتی شہریوں کو پکڑ پکڑ کرنکالا جا رہا ۔ ابھی مودی حکومت جو روس اور دیگر ممالک کے ساتھ مل کر برکس میں شامل ہوا تھا۔ ٹرمپ انتظامیہ اسکا بھی بھارت سے جواب طلبی کرنے والا ہے ۔ غزہ میں جنگ بندی تو ہو گئی ہے تاہم مشرق وسطی کے حالات ہمارے سامنے ہیں۔ روس اور یو کرین کا کیا ہوگا ان دنیا کے بدلتے ہوئے حالات پر اور امریکی سیاست نے جو انگڑائی لی ہے اس سلسلے میں سردست کچھ لکھنے کی گنجائش نہیں۔ پاکستان میں نفرت کی سیاست میں اضافہ ہورہا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ موجودہ دور کی نفرت کی سیاست میں ملک وقوم کا خیر خواہ کون ہے؟ موجودہ نفرت کی سیاست میں اور بین الاقوامی بدلتی پالیسیوں کو دیکھ کر پاک فوج اور جملہ اداروں پر ملک وقوم کی حفاظت ان کی سلامتی بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ امریکہ نے چین ،کینیڈا، میکسیکواور دوسرے ممالک پر ٹیرف لگا کر ایک نیا پنڈورہ بکس کھول دیا ہے۔ اس کے اثرات عالمی معیشت پر پڑیں گے ۔ ادھر یورپی یونین ایک نیا اقتصادی ماڈل بنا رہا ہے ۔ بین الاقوامی حالات اور پالیسیوں کے موجودہ دور میں فہم فراست اور سوجھ بوجھ کا مظاہرہ کیا جائے۔ سیاستدان مسخرے پن کی سیاست سے باہر نکل کر ملکی مفاد کو مد نظر رکھ کر سیاست کریں۔ پاک فوج اور جملہ اداروں کے بارے میں افوا ہ سازی سے گریز کریں ۔

    یادرکھیئے اداروں کو بقا اور شخصیات کوفناحاصل ہے جس ملک میں ادارے مضبوط ہوں وہاں فیوڈل روئیے دم توڑ دیتے ہیں جہاں فیوڈل نفسیات غالب ہوں وہاں اداروں کے لئے آکاس بیل بنی رہتی ہےنہ خودبرگ و آب ہوتی ہے اور نہ کسی کو ثمر آور ہونے دیتی ہے۔بین الاقوامی اُفق پر تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیوں کے تناظر میں سیاستدانوں اور پالیسی سازوں کو زمانہ حاضر کے مطابق ترجیحات اور اہداف مقررکرنا ہو

  • فساد کا ذمہ دار کون؟ مسلم یا غیر مسلم؟

    فساد کا ذمہ دار کون؟ مسلم یا غیر مسلم؟

    فساد کا ذمہ دار کون؟ مسلم یا غیر مسلم؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    دنیا میں فساد اور بدامنی کا مسئلہ ایک عالمی حقیقت ہے، جس کے بارے میں مختلف نظریات اور خیالات پیش کیے جاتے ہیں۔ مغربی میڈیا اور کچھ مخصوص حلقے بار بار یہ بیانیہ دہراتے ہیں کہ دہشت گردی اور جرائم کے زیادہ تر واقعات میں مسلمان ملوث ہوتے ہیں، لیکن جب ہم اعداد و شمار اور حقائق کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں تو یہ دعوی بے بنیاد ثابت ہوتا ہے۔ دنیا میں فساد اور دہشت گردی کے اصل عوامل کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم مختلف جرائم کے حوالے سے مستند اعداد و شمار کا تجزیہ کریں اور یہ جاننے کی کوشش کریں کہ دنیا میں بدامنی اور جرائم میں زیادہ تر کون لوگ ملوث ہیں۔

    اگر ہم دنیا میں جسم فروشی، چوری، ڈکیتی، شراب نوشی، قتل، منشیات اسمگلنگ اور منظم جرائم کی فہرستوں کا مطالعہ کریں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ان جرائم میں ملوث افراد کی اکثریت غیر مسلموں پر مشتمل ہے۔ مختلف بین الاقوامی اداروں کی رپورٹوں کے مطابق دنیا کے وہ ممالک جہاں جسم فروشی سب سے زیادہ عام ہے، وہ زیادہ تر عیسائی یا دیگر غیر مسلم اکثریتی ممالک ہیں۔ اسی طرح، وہ ممالک جہاں چوری، ڈکیتی اور قتل کی شرح سب سے زیادہ ہے، ان میں بھی زیادہ تر غیر مسلم آبادی والے ممالک شامل ہیں۔ اگر ہم دنیا میں سرگرم خطرناک غنڈہ گرد گروہوں اور منشیات اسمگلنگ مافیاز کا تجزیہ کریں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ ان گروہوں کے زیادہ تر سرغنہ غیر مسلم ہیں۔ اس حقیقت کے باوجود مغربی میڈیا مسلمانوں کو دہشت گردی سے جوڑنے میں کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔

    یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ مغربی میڈیا جان بوجھ کر مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز بیانیہ تشکیل دیتا ہے اور انہیں بنیاد پرست اور شدت پسند قرار دیتا ہے۔ جب کوئی غیر مسلم کسی دہشت گردانہ کارروائی میں ملوث پایا جائے تو اسے ذہنی مریض، نفسیاتی طور پر غیر مستحکم یا کسی ذاتی محرومی کا شکار فرد قرار دیا جاتا ہے، جبکہ اگر کوئی مسلمان کسی جرم میں ملوث ہو جائے تو فورا پوری مسلم کمیونٹی کو اس سے جوڑ دیا جاتا ہے اور اسلام کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یہ دوہرا معیار صرف میڈیا تک محدود نہیں بلکہ عالمی سیاست اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پالیسیوں میں بھی واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ مغربی ممالک میں مسلمانوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے امتیازی سلوک کی کئی مثالیں موجود ہیں جہاں مسلمانوں کو بلاوجہ مشتبہ قرار دے کر ان کے خلاف کارروائیاں کی جاتی ہیں، جبکہ غیر مسلم مجرموں کے جرائم کو زیادہ تر نظر انداز کیا جاتا ہے۔

    حقیقت یہ ہے کہ اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو مکمل طور پر امن، بھائی چارے اور عدل و انصاف کی تعلیم دیتا ہے۔ اسلامی تعلیمات میں کسی بھی قسم کے تشدد، قتل و غارت اور معاشرتی بگاڑ کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے۔ قرآن اور حدیث میں واضح ہدایات موجود ہیں کہ کسی بے گناہ کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ہے۔ اس کے باوجود اگر کچھ افراد جو مسلمان کہلاتے ہیں، جرائم میں ملوث پائے جاتے ہیں تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ پوری امت مسلمہ کو ان کے اعمال کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے۔ کسی بھی معاشرے میں کچھ افراد ایسے ضرور ہوتے ہیں جو قانون شکنی کرتے ہیں، لیکن کسی مخصوص قوم یا مذہب کو جرائم سے جوڑنا سراسر تعصب اور غیر منطقی رویہ ہے۔

    ہمیں اپنی شناخت اور اسلامی اقدار پر فخر کرنا چاہیے اور دنیا کو یہ باور کرانا چاہیے کہ اسلام واقعی امن و سلامتی کا دین ہے۔اسلام امن، بھائی چارے اور عدل و انصاف کی تعلیم دیتا ہے۔ اسلامی تعلیمات میں کسی بھی قسم کے تشدد، قتل و غارت اور معاشرتی بگاڑ کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے۔ اگر کچھ مسلمان جرائم میں ملوث پائے جاتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ پوری امت مسلمہ کو ان کے اعمال کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے۔ ہمیں چاہیے کہ مغربی میڈیا کے پروپیگنڈے کا مقابلہ کریں اور دنیا کے سامنے اسلام کا اصل پیغام پیش کریں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم تحقیق اور مستند معلومات کو فروغ دیں اور اپنے نوجوانوں کو تعلیم اور شعور سے آراستہ کریں۔ دنیا میں فساد پھیلانے والے کسی ایک مذہب یا قوم سے تعلق نہیں رکھتے، بلکہ جرائم میں ملوث افراد ہر مذہب اور قوم میں پائے جاتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ تعصب اور نفرت سے بالاتر ہو کر حقائق کا جائزہ لیں اور دنیا کو امن اور سلامتی کا گہوارہ بنانے کے لیے مل کر کام کریں۔

  • ڈاکٹر عطش درانی .انتخاب:  ریحانہ صبغتہ اللّٰہ

    ڈاکٹر عطش درانی .انتخاب: ریحانہ صبغتہ اللّٰہ

    22 جنوری 1952ء
    یوم پیدائش عطاء اللہ
    30 نومبر 2018ء
    یوم وفات اردو کو کمپیوٹر کی زبان بنانے والے ڈاکٹر عطش درانی،ہمارے کمپیوٹر پر فیس بُک/ٹویٹر پر لکھا گیا ہر اردو لفظ اسی شخصیت کا مرہون منت ہے۔ﷲ پاک انہیں جوار رحمت میں جگہ دے جنہوں نے کمپیوٹر کی دنیا میں ہم گونگوں کو زبان بخشی اور قومی زبان ڈیجیٹل میڈیا پر پروان چڑھی۔جس نے ہمیں اردو سے محبت کرنیوالے کئی نئے ہیرے اور موتی دیئے۔
    ڈاکٹر عطش درانی پاکستان کے ایک ماہر لسانیات، محقق،تنقید نگار، مصنف، ماہر تعلیم اور ماہر علم جوہریات تھے۔
    ان کا پیدائشی نام عطا اللہ خان تھا۔انہوں نے 275 کتابیں لکھیں اور متعدد اطلاقیے بنائے۔نیز اردو اور انگریزی میں 500 مقالے لکھے۔عطش درانی کی ان علمی و تحقیقی خدمات پر انہیں تمغہ امتیاز اور ستارۂ امتیاز سے نوازا گیا۔
    احسان دانش سے شاعری میں اصلاح لیا کرتے تھے پھر انہی کی کہنے پر شاعری چھوڑ کر نثر پر توجہ دی۔ 1976ء میں سید قاسم محمود کی سربراہی میں مکتبہ شاہکار میں اسلامی انسائیکلو پیڈیا اور متعدد کتابوں پر کام کیا۔سیارہ ڈائجسٹ کی ادارت تین برس تک کی اور مجلس زبان دفتری کے حوالے سے لاہور میں گورنمنٹ سروس اور اردو نامہ کی ادارت کی۔حکومت پنجاب کے رسالے ”اردو نامہ“ کی ادارت سنبھالی اور ایک سرکاری جریدے کو علمی تحقیقی جریدے میں تبدیل کر دیا۔ حکومت پنجاب کی ملازمت سے پھر قومی مقتدرہ زبان میں چلے گئے اور وہاں طویل عرصہ گزار کر لسانیات کے حوالے سے خاطر خواہ کام کیا۔قومی مقتدرہ زبان کے بعد علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں شعبہ ’’پاکستانی زبانیں‘‘ کے سربراہ رہے، نیشنل بک کاؤنسل کی نوکری سال ڈیڑھ سال کے لیے کی۔

    اصطلاحات سازی
    خادم علی ہاشمی اور منور ابن صادق کے ساتھ مل کر علم التعلیم، سائنس اور فنیات کے اصطلاحات سازی پر اصطلاحات مرتب کیں جنہیں مقتدرہ قومی زبان نے اصطلاحات فنیات اور تعلیمی اصطلاحات کے عنوانات کے تحت شائع کیا۔
    گھوسٹ حرف تھیوری (Ghost Character Theory)
    اس تھیوری کے مطابق تمام عربی، فارسی اور پاکستانی زبانوں کے بنیادی 52 حروف میں بیس ہزار حروف تہجی تیار ہو سکتے ہیں۔اس کا فائدہ یہ ہے کہ اب ایک ہی سافٹ وئیر اور کی بورڈ پر تمام زبانوں میں کام ہو سکتا ہے۔
    جسے ‘خالی کشتیوں’ کی تھیوری بھی کہتے ہیں۔گھوسٹ کریکٹرز وہ حروف ہیں جو بے نقط ہوں اور انہیں تھوڑے سے رد و بدل کے ساتھ استعمال کیا جا سکے۔ڈاکٹر عطش درّانی کے مطابق ان کریکٹرز کی تعداد 19 ہے:، ا، ب، ح ، د ، ر، س، ص، ط، ع ، ف، ق، ک، ل، م، ں، ہ، و ، ی۔
    یہ کریکٹرز عربی رسم الخط سے آئے جب ایران نے عربی رسم الخط اپنایا تو انہوں نے چند نئے حروف متعارف کروائے جن میں نقطے اور ایک لائن ہو۔
    یہی رسم الخط ہندوستان آیا تو ان پر چار نقطوں کا اضافہ ہو گیا۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ، عربی اور فارسی زبانوں میں تین بنیادی گھوسٹ کریکٹرز شامل ہو گئے۔و، ہ، گ ، ھ، ے، تھے۔وہ زبانیں جو عربی رسم الخط استعمال کرتی ہیں۔ان میں گھوسٹ کریکٹرز کی تعداد 22 ہے جو یہ ہیں:ا ب ح د ر س ص ط ع ف ک گ ل م ن ں و ہ ء ی ھ ے

    مکمل 52 بنیادی کریکٹرز کم از کم 660 بنیادی حروف بناتے ہیں۔
    660 گھوسٹ بنیادی حروف 19800 رسمی حروف بناتے ہیں۔
    کل ملا کر 20600 حروف بنتے ہیں۔
    ان کی پیش کردہ اس گھوسٹ تھیوری سے انٹرنیشنل Unicode پر مختلف الفاظ کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
    اس کے علاوہ اس کی مدد سے ڈاکٹر عطش درّانی نے کمپیوٹر پر مختلف زبانوں کے الفاظ کے استعمال کو بہتر بنایا ہے۔تھوڑے سے رد و بدل کے ساتھ سندھی، پنجابی، سرائیکی، پشتو، براہوی، بلتی، شنا، کشمیری، گوجری کو کمپیوٹر پر لکھا جا سکتا ہے

    خراج تحسین:
    معروف ڈراما نویس، شاعر اور کالم نویس امجد اسلام امجد نے ان الفاظ میں انہیں خراج تحسین پیش کیا:
    "اردو کے ایک جدید اور بین الاقوامی معیارات کے درجے اور صلاحیت کی زبان بنانے کے سلسلے میں ان کا کام بے حد وقیع ہی نہیں مستقبل گیر اور سمت نما بھی ہے۔
    وہ اپنے بھاری بھرکم جسمانی وجود کی طرح ایک غیر معمولی اور وسیع تر ذہن کے مالک تھے اور اردو رسم الخط کو کمپیوٹر کے بین الاقوامی تقاضوں کے مطابق بنانے کے سلسلے میں ان کی تحقیق اور علمی اجتہادات یقیناً ایک بہت قیمتی تحفہ ہیں اور ان کی خدمات کو صحیح معنوں میں خراج عقیدت پیش کرنے کا سب سے بہتر طریقہ بھی غالباً یہی ہے کہ ان کی جلائی ہوئی شمعوں کو روشن رکھا جائے۔”
    تصانیف
    عطش کی آخری تصنیف کتاب الجواہر جو البیرونی کی تصنیف کتاب الجماہر فی معرفة الجواہر کے اُس حصے کا ترجمہ ہے جو جواہرات سے متعلق ہے، نیشنل بک فاؤنڈیشن اسلام آباد نے جولائی 2018ء میں شائع کی۔اسلامی فکر و ثقافت ، مکتبہ عالیہ لاہور نے 1980ء میں شائع کی۔مغربی ممالک میں ترجمے کے قومی اور عالمی مراکز، قومی مقتدرہ زبان نے 1986ء میں شائع کی۔”لسانی و ادبی تحقیق وتدوین کے اصول” ، 19 ابواب اور 419 صفحات پر مشتمل کتاب نیشنل بک فاؤنڈیشن نے شائع کی۔
    کتابیات قانون ، قومی مقتدرہ زبان، 1984ء
    پاکستانی اردو کے خد و خال ، قومی مقتدرہ زبان، 1997ء
    لغات و اصطلاحات میں مقتدرہ کی خدمات ، قومی مقتدرہ زبان، 1993ء
    اردو اصطلاحات نگاری (کتابیاتی جائزہ) ، قومی مقتدرہ زبان، 1993ء
    اردو اصطلاحات نگاری (تحقیقی و تنقیدی جائزہ) ، قومی مقتدرہ زبان، 1993ء
    اصناف ادب کی مختصر تاریخ ، 1982ء
    اماں سین ، 2002ء شامل ہیں
    30 نومبر 2018 ء کو عطاء اللہ المعروف ڈاکٹر عطش درانی انتقال کر گئے (انا للہ وانا الیہ راجعون)
    اللّٰہ تعالیٰ ڈاکٹر عطش درانی کی مغفرت فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے(آمین)

  • سرحد کے اس پار .تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    سرحد کے اس پار .تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    سردی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی برف باری بھی بڑھ چکی تھی۔ کشمیر کی پہاڑیوں پر ہر طرف سفید چادر تنی ہوئی تھی۔ برف کے ننھے گالے آسمان سے گرتے تو یوں محسوس ہوتا جیسے کوئی نرمی سے چھو رہا ہو، مگر حقیقت میں یہ لمس بے حد ٹھنڈا تھا، بالکل ویسا ہی جیسا نصیب کے تھپڑ ہوتے ہیں۔

    ریحان اپنی کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا۔ اس کی نظریں ان پہاڑوں پر جمی تھیں جن کے اس پار وہ دنیا تھی جس سے اس کا ناطہ خون کے رشتے کی طرح تھا، مگر وہ وہاں جا نہیں سکتا تھا۔ اس کا گھر، اس کا بچپن، اس کے خواب… سب وہیں کہیں رہ گئے تھے، لکیر کے اس پار۔پانچ فروری کی صبح تھی۔ پورے علاقے میں احتجاج کا شور تھا۔ کشمیر کی آزادی کے نعرے گونج رہے تھے۔ بچے، بوڑھے، جوان سبھی سڑکوں پر تھے۔ ریحان کا دل بھی چاہا کہ وہ بھی باہر جائے، چیخے، چلاّئے، مگر وہ جانتا تھا کہ چیخنے سے زنجیریں نہیں ٹوٹتیں۔ وہ سوچنے لگا کہ آخر یہ دن صرف ایک دن کیوں محسوس ہوتا ہے؟ یہ دن تو سال کے ہر دن ہونا چاہیے، ہر لمحہ، ہر سانس کے ساتھ۔ریحان کی زندگی ایک عام کشمیری نوجوان کی طرح ہی تھی، مگر جب اس کے والد کو رات کے اندھیرے میں گھر سے اٹھا کر لے جایا گیا، تو وہ عام زندگی نہیں رہی تھی۔ والد کے غائب ہونے کے بعد اس کی ماں صرف چند مہینے زندہ رہ سکی۔ وہ خاموشی سے مر گئی۔ کسی کو پتہ بھی نہ چلا کہ بیماری نے مارا یا غم نے۔اب ریحان کے پاس کھونے کو کچھ نہیں تھا، سوائے اس امید کے جو وہ برسوں سے سینے میں دبائے جی رہا تھا۔ وہ ہر روز اپنی بہن حنا کی تصویریں دیکھتا، جو سرحد پار رہ گئی تھی۔ جب ہجرت کے وقت وہ دونوں بچھڑ گئے، تب حنا صرف چھ سال کی تھی۔ آج وہ کیسی ہوگی؟ شاید بڑی ہو گئی ہو، شاید اس نے بھائی کو بھلا دیا ہو، یا شاید وہ بھی ہر روز کھڑکی سے اسی پہاڑ کو دیکھتی ہو جس پر وہ نظریں جمائے بیٹھا تھا۔آج وہ سڑک پر نکل آیا۔ مظاہرے میں شامل ہونا اس کا خواب تھا، مگر حقیقت میں یہ خواب ایک خطرہ بھی تھا۔ باہر فوجی موجود تھے، آنسو گیس کے شیل برس رہے تھے، گولیاں چل رہی تھیں، مگر لوگوں کی آواز دب نہیں رہی تھی۔ نعرے بلند ہو رہے تھے، "ہم کیا چاہتے؟ آزادی!”

    اچانک گولیوں کی آواز گونجی۔ ہجوم میں بھگدڑ مچ گئی۔ آنکھوں میں دھواں، کانوں میں چیخیں اور دل میں ایک عجیب سا خوف تھا۔ مگر ریحان نہیں رُکا۔ وہ آگے بڑھا۔ اسے اپنے والد کی گمشدگی، ماں کی خاموش موت، بہن کی جدائی، سب یاد آ رہا تھا۔ایک دم، سب کچھ ساکت ہو گیا۔ ایک دھماکہ ہوا اور ریحان کے قدم لڑکھڑا گئے۔ اس نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھا۔ گرم خون اس کی انگلیوں سے بہنے لگا۔ وہ زمین پر گرنے ہی والا تھا کہ کسی نے اسے تھام لیا۔آنکھ کھلی تو وہ ایک خیمے میں تھا۔ زخموں کی جلن شدت اختیار کر چکی تھی۔ آس پاس کچھ لوگ زخمی پڑے تھے۔ ایک بوڑھا شخص قریب آیا، "بیٹا، تم بہت بہادر ہو۔ اللہ تمہیں سلامت رکھے۔”

    ریحان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، "یہ کب تک چلے گا؟ کب تک ہم ایسے ہی تڑپتے رہیں گے؟”بوڑھے نے آہ بھری، "جب تک ہم خاموش نہیں ہوتے، جب تک ہم اپنے حق کے لیے لڑتے رہتے ہیں۔ پانچ فروری ایک دن نہیں، ایک عہد ہے، ایک وعدہ کہ ہم اپنی زمین، اپنے خون، اپنی پہچان کو کبھی فراموش نہیں کریں گے۔”ریحان نے زخمی ہاتھ سے اپنی جیب میں رکھا ایک کاغذ نکالا۔ یہ ایک خط تھا جو اس نے کبھی اپنی بہن حنا کے لیے لکھا تھا، مگر بھیج نہیں سکا تھا۔

    "پیاری بہن،
    مجھے نہیں معلوم کہ تم کیسی ہو، کہاں ہو، مگر میں جانتا ہوں کہ تمہیں بھی میرا انتظار ہوگا۔ میں نے کبھی تمہیں بھلایا نہیں، اور نہ کبھی بھلا سکوں گا۔ جب بھی تم آسمان میں چاند دیکھو، سمجھ لینا کہ میں بھی وہی چاند دیکھ رہا ہوں۔ ایک دن، ہم ضرور ملیں گے… سرحد کے اس پار یا اس پار نہیں، بلکہ ایک آزاد سرزمین پر!”
    ریحان نے خط کو چوم کر آنکھوں سے لگایا۔ باہر نعرے اب بھی گونج رہے تھے۔ "ہم لے کر رہیں گے آزادی!”وہ جانتا تھا کہ یہ سفر طویل ہے، مگر وہ تھکنے والا نہیں تھا۔ اس کا خواب، اس کی امید، اس کی جدوجہد… سب زندہ تھے۔ پانچ فروری محض ایک تاریخ نہیں، بلکہ ایک یاد دہانی تھی کہ آزادی کا سورج جلد یا بدیر طلوع ہوگا۔انشاالله

    ریحان نے زخمی ہاتھ سے آنکھوں کے کنارے پر آئے آنسو صاف کیے اور آسمان کی طرف دیکھا۔ برف باری رک چکی تھی، مگر سرد ہوا اب بھی چل رہی تھی، جیسے شہداء کی سرگوشیاں فضا میں گھل رہی ہوں۔
    اس نے دل میں ایک دعا کی:”یا اللہ! یہ جو زمین تیرے نام پر بنی ہے، اسے آزادی نصیب کر۔ ان آنکھوں میں جو خواب ہیں، انہیں تعبیر دے۔ جو مائیں اپنے بیٹوں کے انتظار میں بیٹھی ہیں، انہیں خوشخبریاں دے۔ جو بہنیں اپنے بھائیوں کی راہ دیکھ رہی ہیں، ان کے دروازے خوشیوں سے بھر دے۔ اے رب! ہمیں وہ دن دکھا، جب یہ سرزمین پھر سے آزاد ہو، جب کوئی دیوار، کوئی لکیر ہمارے پیاروں کو ہم سے جدا نہ کرے۔ جب ہم اپنی وادی میں سکون سے سانس لے سکیں، جب کشمیر کے دریا صرف پانی نہیں بلکہ خوشی کے ترانے بہائیں۔ یا اللہ! ہمیں وہ آزادی دے جس کا وعدہ تو نے مظلوموں سے کیا ہے، اور جس کی گواہی یہ برف پوش پہاڑ صدیوں سے دے رہے ہیں۔ آمین!”

    ریحان نے آنکھیں کھولیں۔ خیمے کے باہر آزادی کے نعروں کی گونج تھی۔ اس کے لبوں پر ایک زخمی مگر پُرعزم مسکراہٹ آگئی۔ وہ جانتا تھا کہ یہ جنگ لمبی ہے، مگر اسے یقین تھا کہ دعا اور جدوجہد کی روشنی کبھی بجھنے نہیں دی جائے گی۔ ایک دن، کشمیر ضرور آزاد ہوگا، ضرور آزاد ہوگا

  • معروف تجزیہ نگار، ٹی وی اینکر مبشر لقمان کے ساتھ بیٹھک،تحریر:فیصل رمضان اعوان

    معروف تجزیہ نگار، ٹی وی اینکر مبشر لقمان کے ساتھ بیٹھک،تحریر:فیصل رمضان اعوان

    پاکستان کے معروف تجزیہ نگار، ٹی وی اینکر اور صحافی مبشر لقمان صاحب سے میری ملاقات ایک غیر معمولی تجربہ تھا۔ یہ ملاقات مجھے باغی ٹی وی کی تیرہویں سالگرہ کے موقع پر ہوئی، جب میرے دیرینہ دوست اور باغی ٹی وی کے ایڈیٹر، ممتاز اعوان نے مجھے یاد کیا۔ ان کی محبت اور سرپرستی کا شکرگزار ہوں کہ انہوں نے اس موقع پر لکھاریوں اور دیگر شعبوں میں نمایاں کارکردگی پر اعزازی اسناد دینے کا فیصلہ کیا۔

    چونکہ میری مصروفیت کی وجہ سے تقریب میں شرکت نہ کرسکا، اس لئے ممتاز اعوان نے گزشتہ روز مجھے ایک نجی ٹی وی چینل پر مدعو کیا۔ یہ کسی بھی ٹی وی چینل میں میری پہلی آمد تھی، اور میں اس موقع پر بے حد پرجوش تھا۔ چینل کے مختلف شعبوں سے گزرتے ہوئے ہم تین لوگ مبشر لقمان کے کمرے تک پہنچے۔ پہلی بار براہ راست مبشر لقمان صاحب سے ملاقات ہوئی، اس سے قبل صرف ان کو ٹی وی اسکرین پر ہی دیکھتا تھا۔

    مبشر لقمان ٹی وی اسکرین پر ہمیشہ نوجوان نظر آتے ہیں، لیکن جب ان سے ملے تو معلوم ہوا کہ عمر میں ہم سے کافی بڑے ہیں۔ ممتاز اعوان صاحب نے ہمارا تعارف کروایا اور بتایا کہ ملک فیصل رمضان اعوان باغی ٹی وی میں بھی لکھتے ہیں۔ اس کے بعد گفتگو کا آغاز ہوا۔

    مبشر لقمان صاحب نے ہمیں سب سے پہلا سوال کیا: "ملک صاحب، آپ صرف یہی کام کرتے ہیں یعنی لکھتے ہیں، یا کچھ اور بھی کرتے ہیں؟” ہم نے جواب دیا، "جناب والا، میں ایک نجی کمپنی میں جنرل منیجر ہوں، لیکن علم و ادب کی پیاس کو بجھانے کے لئے رات کے پچھلے پہر لکھنے پڑھنے کو وقت دیتا ہوں۔ گاہے بگاہے ادبی پروگراموں میں بھی شرکت کرتا ہوں۔ شاعری کا بھی جنون کی حد تک شوق ہے، لیکن عشق کی ادھوری داستانوں نے شاید یہ ذوق اب تتر بتر کر دیا ہے۔”مبشر لقمان صاحب نے حیرانی سے ہمارا چہرہ دیکھتے ہوئے کہا کہ شاید انہیں پہلی دفعہ ایک ایسے محنتی لکھاری کا سامنا ہوا ہے جو دن میں آفس کا کام کرتا ہے اور رات کو اپنے ذوق کی تسکین کے لیے لکھائی کرتا ہے۔ یہ گفتگو کافی دیر تک جاری رہی اور پھر چائے کا دور ختم ہوا۔ اس کے بعد وہ اپنے پروگرام "کھرا سچ” کی ریکارڈنگ کے لئے سٹوڈیو کی جانب چل پڑے، اور ہم بھی ان کے ساتھ چل پڑے تاکہ سٹوڈیو کی تیز روشنیوں کا مشاہدہ کر سکیں۔

    چالیس منٹ کی "کھرا سچ” پروگرام کی ریکارڈنگ کے بعد، ہم واپس ان کے آفس واپس آگئے، جہاں انہوں نے ہمیں اعزازی سند عطا کی۔ یہ ایک بہت بڑا اعزاز تھا، خاص طور پر ایسے لکھاریوں کے لئے جو لکیر کے فقیر بن کر اپنا کام کرتے ہیں۔مبشر لقمان صاحب سے ہماری کچھ اختلافات بھی ہیں، مگر ایک لکھاری کی حیثیت سے ہم کبھی بھی ان کے نظریات کو ذاتی طور پر نہیں لائیں گے، کیونکہ ہر کسی کا اپنا نظریہ اور نقطہ نظر ہوتا ہے۔ بہرحال، مبشر لقمان صاحب ایک علم دوست، سچے انسان اور محنتی شخصیت ہیں۔ ان سے ملاقات نے ہمیں نہ صرف خوشی دی بلکہ مزید لکھنے کا حوصلہ بھی بخشا۔

    آخر میں، یہ ملاقات ہمارے لئے ایک یادگار لمحہ ثابت ہوئی اور ہمیں اس بات کا یقین ہو گیا کہ علم کی دنیا میں ہمیں ہمیشہ نئی راہیں ملتی رہتی ہیں، بشرطیکہ ہم اپنی جستجو کو قائم رکھیں۔

  • "بولنا منع ہے!” .تحریر: اعجازالحق عثمانی

    "بولنا منع ہے!” .تحریر: اعجازالحق عثمانی

    کہتے ہیں کہ قانون سب کے لیے برابر ہوتا ہے، لیکن ہمارے ہاں انصاف و قانون کی تعریف ذرا مختلف ہے۔ یہاں قانون طاقتور کے لیے سہولت، اور کمزور کے لیے سزا ہوتا ہے۔ ابھی چند دن پہلے کی بات ہے، حکومت نے ایک اور کمال کاریگری دکھاتے ہوئے پیکا ایکٹ متعارف کرایا، جس کا سادہ مطلب یہ ہے کہ حکومت جو کہے، وہی سچ ہے، اور جو عام عوام کہے، وہ جھوٹ، پروپیگنڈہ اور فتنہ پروری۔ یعنی اگر آپ کہیے کہ ملک میں سب اچھا نہیں، تو آپ کو گرفتار کیا جا سکتا ہے،لیکن اگر کوئی سرکاری ترجمان کہے کہ ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں، تو اس پر چپ چاپ یقین کرلینا ہے۔ کیونکہ بولنا منع ہے۔

    دوسری طرف، حکومت نے ایک اور انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے یہ سوچا ہے کہ پنجاب میں بھکاریوں پر پابندی لگا دی جائے۔ گویا ملک میں غربت ختم ہو چکی ہے، بس ایک مسئلہ باقی تھا کہ سڑکوں پر بیٹھے یہ لوگ جو بھوک سے مجبور ہو کر ہاتھ پھیلا رہے ہیں، انہیں جیل میں ڈال کر غربت کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جائے۔ یعنی مسئلہ غربت نہیں، بلکہ غربت کا نظر آنا ہے!

    یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ قوانین بناتے کون ہیں؟ یقیناً وہی لوگ جو خود عوام کے پیسوں پر عیاشیاں کرتے ہیں، ان کے ٹیکسوں سے چلنے والے ایوانوں میں بیٹھ کر ایسی پالیسیاں بناتے ہیں جو عام آدمی کی زندگی مزید اجیرن بنا دیتی ہیں۔ اگر بھکاریوں پر پابندی لگانی ہے، تو کیا ملک کے وہ "اعلیٰ درجے” کے بھکاری بھی اس میں شامل ہوں گے جو بیرون ملک سے قرضے مانگ کر ملک کو گروی رکھ دیتے ہیں؟ یا یہ قانون صرف عام عوام کے لیے ہے؟

    پیکا ایکٹ کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ اب صرف وہی خبر معتبر ہوگی جو حکومت کی نظر میں قابلِ قبول ہو۔ اگر آپ نے کچھ ایسا لکھ دیا جو حکمرانوں کے مزاج کے خلاف ہوا، تو سیدھا جیل کی سیر کرنی ہوگی۔ اب اگر کوئی کہے کہ مہنگائی ناقابلِ برداشت حد تک بڑھ چکی ہے، تو یہ افواہ ہوگی۔ اگر کوئی کہے کہ لوگ فاقے کر رہے ہیں، تو یہ ریاست مخالف بیانیہ ہوگا۔ اور اگر کسی نے لکھ دیا کہ "حکومت نااہل ہے”، تو یہ یقیناً ریاست کے خلاف سازش تصور ہوگا۔یعنی اب عوام کی مرضی کی رائے نہیں چلے گی، صرف حکومت کی پسندیدہ رائے ہی سچ ہوگی۔ اگر سرکاری میڈیا کہے کہ ملک میں سب اچھا ہے، تو آپ کو ماننا پڑے گا۔ اگر حکومتی وزرا بیان دیں کہ مہنگائی کم ہو گئی ہے، تو آپ کو اپنے خالی ہاتھ اور خالی جیب کو نظرانداز کرنا ہوگا۔ اور اگر کوئی صحافی یا عام شہری حکومت کی پالیسیوں پر سوال اٹھائے گا، تو وہ ریاست مخالف، ملک دشمن، یا کسی غیر ملکی ایجنڈے پر کام کرنے والا قرار پائے گا۔

    یہ قانون ایک طرح سے اس خیال کو عملی جامہ پہنا رہا ہے کہ "عوام کو وہی دیکھنا اور سننا چاہیے جو حکومت انہیں دکھانا اور سنوانا چاہتی ہے۔” گویا جمہوریت اب بس ایک دکھاوا ہے، اصل طاقت وہی ہے جو چند طاقتور افراد کے ہاتھ میں ہے۔

    بھکاریوں پر پابندی لگانے کا قانون بھی ایک انوکھا تماشا ہے۔ حکومت کا خیال ہے کہ اگر سڑکوں پر بیٹھے فقیر نظر نہیں آئیں گے، تو غربت خودبخود ختم ہو جائے گی۔ بھئی، کوئی ان عقل کے اندھوں کو سمجھائے کہ غربت کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے معیشت کو بہتر بنانا پڑتا ہے، روزگار کے مواقع فراہم کرنے پڑتے ہیں، نہ کہ ان غریبوں کو پولیس کے حوالے کر دینا ہوتا ہے۔

    اگر حکومت واقعی سنجیدہ ہوتی، تو سب سے پہلے وہ یہ دیکھتی کہ ملک میں لاکھوں لوگ خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ کئی خاندان ایسے ہیں جو اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے کے بجائے چوراہوں پر بھیک منگوانے پر مجبور ہیں۔ ان بچوں کے پاس تعلیم، صحت اور روزگار کا کوئی ذریعہ نہیں، اس لیے وہ مانگنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ لیکن ان کے لیے کوئی پالیسی بنانے کے بجائے حکومت نے آسان راستہ اختیار کیا،بھیک مانگنے پر ہی پابندی لگا دو، مسئلہ خود حل ہو جائے گا!

    یہاں ایک سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ کیا واقعی یہ قانون پیشہ ور بھکاریوں کے لیے ہے؟ یا پھر اس کے ذریعے ان لوگوں کو نشانہ بنایا جائے گا جو حقیقتاً مجبور ہیں؟ پاکستان میں کئی ایسے گروہ موجود ہیں جو بھکاریوں کے نام پر مافیا چلا رہے ہیں، بچوں کو اغوا کر کے ان سے زبردستی بھیک منگوائی جاتی ہے۔ لیکن کیا یہ قانون ان مافیاز کے خلاف استعمال ہوگا؟ یا پھر صرف سڑک کنارے بیٹھے اس بوڑھے شخص کے خلاف، جو دو وقت کی روٹی کے لیے لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلا رہا ہے؟
    اب اگر ہم یہ دیکھیں کہ ہمارے حکمران عوام کے لیے کتنے سنجیدہ ہیں، تو ایک اور دلچسپ حقیقت سامنے آتی ہے۔ جب بات اپنی تنخواہوں اور مراعات بڑھانے کی ہو، تو حکومت اور اپوزیشن ایک پیج پر آ جاتی ہے۔ ان کے بل چند منٹوں میں منظور ہو جاتے ہیں، کسی کو کوئی اختلاف نہیں ہوتا۔ لیکن جب عوام کی فلاح کے لیے کوئی پالیسی بنانے کی بات آتی ہے، تو یہی سیاستدان ایک دوسرے کی مخالفت شروع کر دیتے ہیں۔
    یہ وہی لوگ ہیں جو کروڑوں روپے مالیت کی گاڑیوں میں سفر کرتے ہیں، مگر عوام کو کہتے ہیں کہ صبر کرو، قربانی دو، اور حب الوطنی کا ثبوت دو۔ ان کے اپنے گھروں میں دنیا کی ہر سہولت موجود ہے، ان کے بچوں کے لیے بہترین تعلیمی ادارے ہیں، ان کے علاج کے لیے سرکاری خزانے سے لاکھوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں، لیکن عوام کے لیے نہ صحت کی کوئی سہولت ہے، نہ تعلیم، نہ روزگار۔

    یہ وہی لوگ ہیں جو اپنے کتوں کے لیے بھی خصوصی خوراک درآمد کرواتے ہیں، لیکن عوام کو روٹی بھی مشکل سے نصیب ہوتی ہے۔ جنہیں دو وقت کا کھانا میسر نہیں، انہیں یہ لوگ سمجھاتے ہیں کہ حب الوطنی کا تقاضا ہے کہ وہ اپنی ضروریات کم کر دیں۔ سوال یہ ہے کہ قربانی ہمیشہ غریب ہی کیوں دے؟ حکمران اپنی عیاشیوں میں کمی کیوں نہیں کرتے؟ خیر بات کسی اور طرف چل نکلی ہے۔یہ دونوں قوانین پیکا ایکٹ اور بھکاریوں پر پابندی۔۔۔۔۔۔درحقیقت اس سوچ کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان میں قوانین بنانے کا مقصد عوام کی زندگی آسان بنانا نہیں، بلکہ ان پر مزید دباؤ ڈالنا ہے۔ پیکا ایکٹ کے ذریعے حکومت نے یہ واضح کر دیا کہ آزادیٔ اظہار صرف طاقتوروں کے لیے ہے، اور بھکاریوں پر پابندی کے قانون کے ذریعے یہ ثابت کیا جا رہا ہے کہ غربت کو ختم کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ غریبوں کو جیل میں ڈال دیا جائے۔

    اصل مسئلہ یہ نہیں کہ بھکاریوں پر پابندی لگانی چاہیے یا نہیں، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ملک میں غربت کی وجوہات ختم کیے بغیر صرف بھیک مانگنے پر پابندی لگانا سراسر ظلم ہے۔ اور یہی حال پیکا ایکٹ کا ہے۔ اگر حکومت واقعی صحافت اور سوشل میڈیا پر جھوٹی خبروں کو روکنا چاہتی ہے، تو اسے شفاف نظام بنانا ہوگا، نہ کہ ایسا قانون جس سے سچ بولنے والوں کی زبان بندی کی جائے۔

    لیکن ہوگا تو وہی جو "وہ” چاہیں گے۔ہمیں سمجھنا ہوگا کہ جب تک حکمران عوام کے مسائل حل کرنے کے بجائے اپنی طاقت کو مزید مضبوط کرنے میں لگے رہیں گے، تب تک یہی صورتحال رہے گی۔ جو سوال کرے گا، وہ مجرم ٹھہرے گا۔ جو بھوکا ہوگا، وہ قید میں جائے گا۔ اور جو حکمران ہوگا، وہ ہمیشہ دودھ اور شہد کی نہروں میں نہاتا رہے گا۔ یہی ہے پاکستان میں قوانین کا تلخ مگر اصل چہرہ ہے…

  • مقبوضہ کشمیر کی سڑکوں پر وزیراعظم، آرمی چیف اور وزیراعظم آزاد کشمیر کے پوسٹرز آویزاں

    مقبوضہ کشمیر کی سڑکوں پر وزیراعظم، آرمی چیف اور وزیراعظم آزاد کشمیر کے پوسٹرز آویزاں

    سرینگر(باغی ٹی وی رپورٹ) مقبوضہ کشمیر میں کشمیری عوام نے پاکستان کی جانب سے یومِ یکجہتی کشمیر منانے پر اظہارِ تشکر کرتے ہوئے مختلف علاقوں میں وزیراعظم شہباز شریف، آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور وزیراعظم آزاد کشمیر کے پوسٹرز آویزاں کر دیے۔

    کشمیر میڈیا سروس (کے ایم ایس) کے مطابق سری نگر سمیت مقبوضہ وادی کے مختلف شہروں اور قصبوں میں یہ پوسٹرز لگائے گئے ہیں، جن میں کشمیری عوام نے پاکستان کی مسلسل حمایت پر شکریہ ادا کیا ہے۔

    ان پوسٹرز پر پاکستانی قیادت کی تصاویر کے ساتھ ساتھ مختلف نعرے بھی درج ہیں، جن میں کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت اور بھارتی تسلط کے خلاف مزاحمت کی حمایت کا اظہار کیا گیا ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کشمیری عوام ہر سال 5 فروری کو پاکستان کی جانب سے یومِ یکجہتی کشمیر منانے کو امید کی ایک کرن کے طور پر دیکھتے ہیں۔ یہ دن پہلی مرتبہ 1990 میں منایا گیا تھا اور تب سے ہر سال پاکستانی عوام کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہیں، جس پر مقبوضہ کشمیر کے عوام کی جانب سے والہانہ پذیرائی کی جاتی ہے۔

    مبصرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مقبوضہ وادی میں ایسے پوسٹرز لگانے پر بھارتی فورسز کی جانب سے سخت ردِ عمل متوقع ہے۔ ماضی میں بھی ایسے کسی بھی اظہارِ یکجہتی پر بھارتی سیکیورٹی فورسز نے کارروائیاں کی ہیں اور درجنوں کشمیریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

    واضح رہے کہ بھارت کے غیر قانونی تسلط کے خلاف کشمیری عوام طویل عرصے سے مزاحمت کر رہے ہیں، اور پاکستان ان کے حقِ خودارادیت کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔

  • چنیوٹ: دھول کے طوفان میں پھنسی عوام، منتخب نمائندے غائب

    چنیوٹ: دھول کے طوفان میں پھنسی عوام، منتخب نمائندے غائب

    چنیوٹ: دھول کے طوفان میں پھنسی عوام، منتخب نمائندے غائب
    تحریر:حسن معاویہ جٹ
    رجوعہ/بہادری والا کارپٹ روڈ جس کے دونوں طرف کچا راستہ ہے، ماضی میں اس کچے راستے کی حالت خراب تھی یعنی اس پر وقفے وقفے سے کھڈے پڑے ہوئے تھے، جس سے عوام کو مشکلات کا سامنا تھا۔ پھر کسی نے اس راستے کو بہتر بنانے کی کوشش کی، اور کچے راستے پر مٹی ڈالی گئی، یہ امید کرتے ہوئے کہ شاید اس سے راستہ بہتر ہو جائے۔ کھڈے تو ختم ہوگئے، مگر نتیجہ کچھ اور نکلا۔ روڈ ذرا وسیع ہوگیا مگر مٹی ڈالنے کے بعد یہ صورتحال بن گئی کہ بائیکرز، سائیکل سوار اور پیدل چلنے والے مٹی کے طوفان میں سے گزرتے ہیں۔

    جی ہاں، جب گاڑیاں تیز رفتاری سے گزرتی ہیں تو مٹی کا طوفان اڑتا ہوا ہر "بے کار” کا حلیہ بگاڑ دیتا ہے۔ پہلے لوگ ڈرتے تھے کہ کہیں کپڑے گندے نہ ہو جائیں لیکن اب ہر کوئی اس دھول کے "خوبصورت تحفے” کا عادی ہو چکا ہے۔ ہر کوئی بے خوف ہو کر پھیپھڑوں کو تگڑا کرکے گھر سے نکلتا ہے۔ وہ لوگ جو ٹھٹھہ ٹھاکر، باغ، ابووالا، رتھانوالہ، رجوعہ اور دیگر علاقوں کے رہائشی ہیں، وہی جانتے ہیں کہ اس راستے سے گزرنا "بے کار” افراد کے لیے کسی عذاب سے کم نہیں، بالخصوص جب لوگ نہا دھو کر کام کاج پر جا رہے ہوں یا عمدہ قسم کی تیاری کرکے کسی فنکشن میں جا رہے ہوں، تو غریب سواری یعنی بائیک یا سائیکل والوں کے لیے یہ سفر ایک نیا چیلنج بن جاتا ہے۔ یہاں دھول اور مٹی کے طوفان سے گزر کر اپنا حلیہ بگاڑنا روز کا معمول بن چکا ہے۔

    شروع کے چند دنوں تک پانی ڈال کر اس صورتحال کو بہتر کرنے کی کوشش کی گئی مگر وہ ناکام رہی۔ کئی مہینے گزر چکے ہیں اور اب گزرنے والے "بے کار” افراد اس کے عادی ہو چکے ہیں، پھیپھڑے فولادی ہو گئے ہیں اور ضمیر سو چکے ہیں۔ سب نے اس "دھول اور مٹی کے فوائد” کو خوشی خوشی قبول کیا ہے۔ یہاں سب اچھا ہے کیونکہ شاید اب دھول کا کوئی "مفید” پہلو سامنے آ چکا ہے۔ اس راستے کی حالت میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی، کھڈے اب بھی نظر آتے ہیں اور ساتھ دھول بونس کے طور پر موجود ہے۔ "سب کچھ ٹھیک ہے” کے نعرے کے ساتھ، لوگ اب ہر روز اپنے گندے کپڑے اور بگڑے حلیے لے کر کام پر روانہ ہوتے ہیں اور واپسی پر مزید دھول پھانک کر گھروں کو پہنچ کر حکام کو کوستے ہیں۔

    عوام کو یہ بات معلوم ہے کہ انتظامیہ کو دیگر بہت سے بڑے مسائل کا سامنا ہے جس پر وہ کام کر رہی ہے، لیکن ایسے مسائل کی جانب متوجہ ہونا بھی نہایت ضروری ہے کیونکہ دھول مٹی ہر ایک کے لیے برداشت کرنا ممکن نہیں، کیونکہ جہاں دو تندرست افراد دھول کو نظر انداز کر دیتے ہیں، وہیں دو چار دھول سے کسی مسئلے کا شکار ہونے والے بھی موجود ہوتے ہیں۔ اس لیے اس راستے کو مستقل بنیادوں پر استعمال کرنے والے کسی مسیحا کے منتظر ہیں۔

    رہے نام اللہ کا

  • بتی چلی گئی،بتی آگئی،توہاڈا بل کتنا آیا،گیس آرہی یا نہیں،یہ ہیں قوم کے دکھ۔ تجزیہ : شہزاد قریشی

    بتی چلی گئی،بتی آگئی،توہاڈا بل کتنا آیا،گیس آرہی یا نہیں،یہ ہیں قوم کے دکھ۔ تجزیہ : شہزاد قریشی

    دنیا مریخ پر گھر بنانے میں مصروف،ہمیں خوشامدی لے ڈوبے
    خوشامد کے جراثیم سیاست کا حصہ،سائیکل پر آیا سیاسی کار بنگلے کا مالک بن گیا
    ذرا نہیں پورا سوچئے احکامات خداوندی اور سیرت النبیﷺ پر کتنا عمل ہورہا
    ملکی قرض آسمان پر پہنچ جائے دینا قوم نے ہی ہے،لینے والے ذمہ دار نہیں
    تجزیہ،شہزاد قریشی
    دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہم وہ بدنصیب قوم ہیں آج تک گیس چلی گئی ،گیس آ گئی ، بجلی چلی گئی ،بجلی آگئی،ہر سو انتشار ہی انتشار ، ذاتی مفادات ،اقربا پروری ، علم اور عمل سے دور،علم اور عمل والوں کی قدر نہیں، خوشامد ایک ایسا ہنر ہے جس سے سب کو کاٹا جا سکتا ہے جو تیز دھار تلواروں سے کٹ سکے،انہیں خوشا مد اور قصیدہ خوانی نے بام عروج پر پہنچا دیا زمانہ ہی خوشامد خوروں کا ہے؟اگرسیاست کی بات کی جائے تو غربت سیاسی گلیاروں میں نہیں ہوتی ، بے روزگاری ،سیاسی گلیاروں میں نہیں دیکھی جا سکتی ، نہ کبھی نظر آئی ، ریاست کے سارے وسائل اس سیاست کی دسترس میں ہوتے ہیں، قرضے جتنے بھی بڑھ جائیں وہ عوام نے اُتارنے ہیں، سیاسی گلیاروں میں دیکھاجائے تو سیاستدانوں کی اکثریت اپنے آپ کو ملائکہ کرام کہلوانے میں ایڑی چوٹی کا زور لگادیتی ہے، دنیا بھرمیں جمہوریت ،جمہور کی خدمت ہے ریاستی مفادات میں ہماری جمہوریت ذاتی مفادات،اقربا پروری ،جھوٹ ، فریب ،دھوکے ، خوشامد پر قائم ہے،مفاد پرستی کی سیاست نے اتنے پَر پھیلائے کہ فوج محفوظ نہ عدلیہ،ان حالات میں سیاسی عدم استحکام نہ ہو تو کیا ہو، ایک طرف آئین کھڑا ہے وہ اپنی بے بسی کا رونا رو رہا ہے،معیشت کا حال تو مت پوچھیئے وہ اس وقت کہاں کھڑی ہے خود ساختہ خوشحالی کے قصے اور کہانیاں سنانے والے سنا رہے ہیں،المیہ یہ ہے کہ عوام ان مفادات پرست سیاستدانوں کو مسیحا اور ہیرو مانتی ہے، کل تک 1980 ء میں جن کے پاس موٹر سائیکل اور سائیکل تھی آج اُن کے پوش علاقوں میں محل نما گھر ، پلازے ، مارکیٹیں ، کروڑوں روپے کی گاڑیاں کہاں سے آگئیں ؟سیاسی جماعتوں میں خود ساختہ ا یسے رہنمائوں کو میں جانتا ہوں جن کو اپنا راستہ معلوم نہیں وہ قوم یا اپنے حلقے کےعوام کو کیسے راستہ دکھائیں گے یا رہنمائی کریں گے، کہیں فکر اسلام کی باتیں ہوتی ہیں،لیکن اسلامی مملکت میں احکامات خدا وندی سیرت النبی ؐ پر کتنا عمل کیا جاتا ہے ؟ عدل وانصاف کی بات کی جائے تو آج بھی جسٹس رانا بھگوان داس ،جسٹس کارنولیئس،جسٹس دراب پٹیل کا نام سنہری الفاظ میں یاد کیا جاتا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے سیاستدانوں اور عوام کو رائٹ مین فار جاب حقیقت پسندی اور اخلاص کے پیمانوں پر شخصیات کو تولہ جائے اور شعبہ ہائے زندگی میں مثبت تبدیلیاں لانے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ قوم کی تعمیر اور ترقی کا سفر جاری ہو سکے۔