Baaghi TV

Category: بلاگ

  • شہزادی زیب النساء تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    شہزادی زیب النساء تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    لاہور میں سمن آباد کے علاقے موڑ سمن آباد میں ایک احاطے میں مغل شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر کی بیٹی شہزادی زیب النساء کی قبر موجود ہے
    شہزادی زیب النساء شاعرہ تھیں اور ان کا تخلص مخفی تھا
    اور یہ فارسی میں شعر کہتی تھیں ان کے بارے میں
    میں نے کہیں یہ قصہ پڑھا تھا کہ ایک بار اورنگ زیب عالمگیر تہجد کی نماز پڑھنے کے بعد محو خواب تھے کہ ان کی ایک کنیز نے غلطی سے انہیں جگا دیا وہ بے چاری سمھجی کہ شاید فجر ہوگئی ہے
    کنیز کی اس فاش غلطی پر بادشاہ سلامت جلال میں آ گئے
    اور اس کا سر قلم کرنے کا حکم دے دیا
    جب شہزادی زیب النساء تک یہ خبر پہنچی تو انہوں نے اپنے والد بادشاہ سلامت کو یہ اشعار لکھ کر بھیجے
    سر بریدن لازم است مرغ بے ہنگام را
    این پری پیکر چہ فرق صبح وشام را
    ( سر قلم کروانا ہے تو اس مرغ کا کروائیے جس نے بے وقت ازان دی ، اس پری پیکر کو صبح و شام کا فرق کیا معلوم)

    شنید ہے کہ پھر بادشاہ سلامت نے ،، پری پیکر ،، کو بخش دیا ، مغلوں کی حکومت شان وشوکت اقتدار ، اختیار وقت کی دھول میں گم ہوگیا اب بہت سے مغل شہزادے شہزادیوں کی قبروں کا نشان بھی نہیں ملتا جو قبریں ہیں وہ بھی ،، نے چراغ نے گلے ،، کے مصداق ویران ہیں ،

    شہزادی زیب النساء کی یہ قبر جس کے بارے میں مختلف روایات ہیں کہ ان کی ایک قبر دہلی میں بھی ہے پتہ نہیں کون سی اصلی ہے یہ لاہور والی یا دہلی والی بہرحال شہزادی زیب النساء کا ذکر تاریخ میں موجود ہے اور ان کا کلام بھی

  • آغا محمد شاہ حشر کاشمیری .تحریر   : ریحانہ صبغتہ اللّٰہ

    آغا محمد شاہ حشر کاشمیری .تحریر : ریحانہ صبغتہ اللّٰہ

    آغا محمد شاہ حشر کاشمیری 3 اپریل 1879ءکو بنارس میں پیدا ہوئے ۔ان کا نام آغا محمد شاہ،اورتخلص حشر تھا ۔وہ ایک مشہور و معروف کشمیری خاندان کے چشم و چراغ تھے ۔ان کے والد کا نام آغا محمد غنی شاہ تھا۔ جو کشمیر میں شالوں کا کاروبار کرتے تھے ۔

    آغا محمد شاہ حشر کاشمیری نے ابتدائی تعلیم مدرسہ سے حاصل کی ۔اسی مدرسہ کے حافظ عبد الصمد سے عربی ،فارسی اور دینیات کی تعلیم حاصل کی اور سولہ سپارے بھی حفظ کر لئے تھے ۔اس کے بعد جے نارائن سکول میں داخلہ لیا لیکن نصاب میں دلچسپی نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم مکمل نہ کرسکے اور ڈرامہ نگاری کے شوق میں بمبئی چلے گئے ۔اور کم عمر میں ہی شاعری شروع کردی۔1897ءمیں محض 18سال کی عمر میں ایک ڈرامہ "افتاب محبت”لکھا اور اصلاح کے لئے مہدی حسن لکھنوی کے پاس لے گئے تو انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ ڈرامہ لکھنا کوئی بچوں کا کھیل نہیں ہے ۔اس کو آغا حشر نے بطور چیلنج قبول کیا اور اس کے بعد اس طنز کا ایسا جواب دیا کہ آغا حشر کے بغیر اردو ڈرامہ کی تاریخ مکمل ہو ہی نہیں سکتی ۔آغا محمد شاہ حشر کو جو شہرت ،مقبولیت، عزت اور عظمت حاصل ہوئی وہ کسی اور کو نصیب نہیں ہوئی ۔

    آغا حشر نے 19سال کی عمر میں ڈرامہ نگاری میں نام پیدا کر لیا تھا ۔اس کے بعد آپ نے انگریزی زبان سیکھی اور شیکسپئر اور دیگر مغربی ڈرامہ نگاروں کو پڑھا اور بعض کا اردو زبان میں ترجمہ بھی کیا ۔
    ڈرامہ سیریل "آفتاب محبت”کے بعد آغا حشر نے بے شمار ڈرامے لکھے جن میں خواب ہستی ،رستم وسہراب،مرید شک ،اسیر حرص ،ترکی حور ،آنکھ کا نشہ ،یہودی کی لڑکی ،خوبصورت بلا ،سفید خون اور میٹھی چھری جیسے لازوال کردار تخلیق کیے ۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے آغا محمد شاہ حشر کاشمیری کو ہندوستان کے شیکسپیئر کا خطاب بھی مل گیا ۔اور پورے ہندوستان میں آغا محمد شاہ حشر کاشمیری کی مقبولیت کے چرچے زبان زدِ عام ہونے لگے۔ مکالمہ نگاری میں بھی آغا حشر کا کوئی ثانی نہیں تھا ۔آغا حشر مکالمہ نگاری کے بانی ہیں ،ان کے مکالمے زبان سے نکلتے ہیں اور دل میں اترتے چلے جاتے ہیں ۔دیکھنے اور سننے والے ان کا وہی تاثر لیتے ہیں جو آغا حشر دینا چاہتے ہیں ۔

    چراغ حسن حسرت آغا حشر کی مقبولیت کے بارے میں کہتے ہیں کہ:
    ” ابھی ہندوستان میں فلموں کا رواج نہیں تھا ،جو کچھ تھا تھیٹر ہی تھیٹر تھا ۔یوں تو اور بھی اچھے ڈرامہ آرٹسٹ موجود تھے ،لیکن آغا کے سامنے بونے معلوم ہوتے تھے ۔اور آغا سے پہلے اس فن کی قدر بھی کیا تھی ؟بچارےسارے ڈرامہ آرٹسٹ تھیٹر کے منشی کہلاتے تھے ۔”

    پروفیسر حفیظ احسن اپنی راۓ کا اظہار اس طرح کرتے ہیں کہ:
    "ایک قادر الکلام اور شیریں بیان شاعر ہونے کی وجہ سے آغا حشر کے ڈراموں کی زبان میں بلا کی روانی ہے ۔”
    بقول پروفیسر طاہر شادانی کہ:
    "جذبات کی تصویر کشی میں آغا حشر ایک منفرد مقام رکھتے ہیں۔”

    آغا محمد شاہ نے جب اپنی ڈرامہ کمپنی کا آغاز کیا تو اس کا نام بھی انڈین شیکسپیئر تھریٹیکل کمپنی رکھا ۔آغا حشر نے اپنے عہد میں سماج کے ہر طبقے کے لوگوں اور ہر طرح کے موضوع پر اپنی بےباک راۓ کو اپنے قلم کے ذریعے ڈرامے کی شکل میں لوگوں تک پہنچایا ۔آغا حشر کاشمیری نے اردو ڈراموں میں ایک نئی جہت پیدا کی اور سٹیج ڈراموں کو بازاری پن اور عامیانہ ماحول سے نکال کر خالص ادبی صنف بنایا ۔آغا حشر کو شاعری پر بھی عبور حاصل تھا ۔وہ شاعرانہ تخیل کو سیدھے الفاظ اور عام بول چال میں بیان کرتے ۔وہ اتنے جلدی اشعار کہتے تھے کہ سننے والوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیتے ۔ان کے ڈراموں کی کامیابی میں ان کا شاعرانہ اسلوب بھی کار فرما ہے ۔آغا حشر کے ڈراموں کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ مصائب اور پریشانی میں احساس شکست پیدا کرنے کی بجائے ان مصائب سے نبردآزما ہونے کا حوصلہ اور زندگی کی شمع روشن کرنے کا جذبہ پیدا کرتے ہیں ۔
    آغا حشر کاشمیری ایک اچھے مصنف اور شاعر کے علاوہ ایک اچھے اداکار بھی تھے ۔
    بہرحال جب فن فنکار کی پہچان بن جاتا ہے تو یہی فن اسے صدیوں تک زندہ رکھنے کا ضامن بن جاتا ہے ۔
    آغا حشر کاشمیری اُفق کے اس ستارے کا نام ہے جس کی روشنی میں اردو ادب کی روایت ہمیشہ قائم و دائم رہے گی ۔ بلآخر فن کی بلندیوں پر چمکنے والا یہ ستارہ 28اپریل 1935ءکو غروب ہو گیا۔
    (انا للہ وانا الیہ راجعون)
    آغا حشر کاشمیری لاہور کے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں ۔اللہ تعالیٰ آغا حشر کاشمیری کے درجات بلند فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ (آمین)

  • شہہ رگ کشمیر کے ساتھ ایک دن کی یکجہتی کافی؟تحریر: جان محمد رمضان

    شہہ رگ کشمیر کے ساتھ ایک دن کی یکجہتی کافی؟تحریر: جان محمد رمضان

    کشمیر، پاکستان کی شہ رگ ہے، اور یہ صرف ایک جغرافیائی حقیقت نہیں بلکہ ایک جذباتی اور نظریاتی رشتہ بھی ہے۔ کشمیر کا مسئلہ نہ صرف پاکستان بلکہ ہر مسلمان کے دل میں گہرائی سے بیٹھا ہوا ہے، کیونکہ ہمارے کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہمارا رشتہ صرف جغرافیائی نہیں بلکہ دینِ اسلام کے اصولوں پر مبنی ہے۔ ہم سب کا عقیدہ لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ ہمارے ایمان کا حصہ ہے، اور یہ رشتہ کشمیر کے مسلمانوں کے ساتھ ہماری حمایت کو مضبوط کرتا ہے۔

    کشمیر کی آزادی کی جدوجہد میں کشمیری بھائیوں نے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ کئی دہائیوں سے بھارت نے کشمیر پر غیر قانونی قبضہ جما رکھا ہے اور کشمیری عوام اپنے حقِ خود ارادیت کے لئے مسلسل لڑ رہے ہیں۔ ان کی قربانیاں، ان کا خون، اور ان کی جدوجہد کبھی رائیگاں نہیں جائے گی۔ ہم کشمیریوں کے ساتھ اپنے عزم کا اظہار کرتے ہیں کہ ہم ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور ان کی آزادی تک ان کا ساتھ دیتے رہیں گے۔یوم یکجہتی کشمیر ہر سال منایا جاتا ہے، اور دنیا بھر میں مختلف ممالک میں کشمیریوں کی آزادی کے لئے جلوس، ریلیاں اور سیمینار منعقد کیے جاتے ہیں۔ اس سے کشمیر کے مسئلے کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں مدد ملتی ہے، مگر اس مسئلے کا حل صرف الفاظ سے نہیں، بلکہ عملی اقدام سے ممکن ہے۔ آزادی کے لیے صرف باتیں نہیں کرنی ہوںگی، بلکہ میدانِ عمل میں قدم اٹھانا ہوگا۔

    پاکستانی قوم کا یقین ہے کہ کشمیر کی آزادی کے لیے جہاد کے بغیر کوئی راہ نہیں۔ بھارتی افواج نے کشمیر میں مسلمانوں پر ظلم و تشدد کی انتہاء کر رکھی ہے، اور اس ظلم کا مقابلہ کرنے کے لیے جہاد ایک لازمی اقدام بن چکا ہے۔ اس مقصد کے لئے پوری قوم کو متحد ہو کر ایک نظریے کے تحت کام کرنا ہوگا۔ حکومتِ پاکستان کو بھی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا چاہیے۔ عالمی سطح پر کشمیریوں کی حمایت کے لئے پاکستان کو ہر ممکن سفارتی ذرائع استعمال کرنا ہوں گے تاکہ اقوام متحدہ اور عالمی برادری کو مجبور کیا جا سکے کہ وہ کشمیر کے مسئلے کا حل نکالیں۔ اقوام متحدہ سے پرزور مطالبہ کرنا چاہیے کہ کشمیریوں کو حقِ خود ارادیت دیا جائے اور بھارت کے غیر قانونی قبضے کو ختم کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں۔

    یوم یکجہتی کشمیر ہر سال منایا جاتا ہے، مگر ہمیں اس دن کو صرف یادگار نہیں بلکہ عملی اقدامات کے طور پر منانا ہوگا۔ ہمیں کشمیر کے لوگوں کی مدد کے لئے ہر ممکن قدم اٹھانا ہوگا۔ کشمیر کی آزادی تک اس جدوجہد کو جاری رکھنا ہوگا۔ ہمیں اپنی آواز بلند کرنی ہوگی، دنیا کو بتانا ہوگا کہ کشمیر کی آزادی ہمارے لئے ایک مقدس مقصد ہے۔کشمیر کا مسئلہ پاکستان اور کشمیریوں کے لئے صرف ایک سیاسی یا جغرافیائی مسئلہ نہیں، بلکہ ایک نظریاتی جنگ ہے۔ ہمیں اس جنگ کو شعور، جذبے اور عمل کے ساتھ لڑنا ہوگا۔ کشمیر کی آزادی کا خواب تب ہی حقیقت بنے گا جب ہم اس مسئلے کے حل کے لیے خود کو میدانِ عمل میں شامل کریں گے اور عالمی برادری پر دباؤ ڈالیں گے۔

    jaan

  • سرائیکی صوبہ کیوں ضروری ہے؟

    سرائیکی صوبہ کیوں ضروری ہے؟

    سرائیکی صوبہ کیوں ضروری ہے؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    ایک علیحدہ سرائیکی صوبے کا مطالبہ ایک عرصے سے زیر بحث ہے لیکن حالیہ دنوں میں کچھ واقعات نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ خواجہ غلام فرید کے مزار پر منعقد ہونے والی "روہی انٹرنیشنل پنجابی کانفرنس” کے دوران دیے گئے متنازع بیانات اور سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز نے سرائیکی اور پنجابی عوام کے درمیان تنازع کو ہوا دی ہے۔ ان بیانات میں سرائیکی عوام کو "پناہ گزین” کہہ کر پنجاب چھوڑنے کی دھمکیاں دی گئیں جو نہ صرف ایک سنگین مسئلہ ہے بلکہ یہ قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کی منظم کوشش کا بھی اشارہ دیتا ہے۔ ایسے بیانات عوام میں نفرت کو بڑھاتے ہیں اور ایک خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں جو معاشرتی تقسیم کو مزید گہرا کر سکتا ہے۔

    یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ تنازع کس کے مفاد میں ہے اور اس کے پیچھے کون سے عناصر سرگرم ہیں؟ اگر ماضی پر نظر ڈالی جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستان دشمن قوتوں نے ہمیشہ لسانی اور نسلی بنیادوں پر ملک کو کمزور کرنے کی کوشش کی ہے۔ بلوچستان میں علیحدگی پسند تحریکوں کو ہوا دینا، خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کا فروغ، سندھ میں قوم پرستی کو بڑھانا اور اب پنجاب میں سرائیکی اور پنجابی عوام کے درمیان اختلافات کو جنم دینا اسی سلسلے کی ایک کڑی معلوم ہوتی ہے۔ ماضی میں ایسی کوششیں ناکام ہوتی رہی ہیں لیکن اب ایک بار پھر ملک کو عدم استحکام کی طرف دھکیلنے کی سازشیں کی جا رہی ہیں۔

    سرائیکی قوم اپنی قدیم ثقافت، زبان اور تاریخی ورثے پر فخر کرتی ہے۔ چولستان کے قدیم شہر گنویری والا کی دریافت اس بات کا ثبوت ہے کہ سرائیکی تہذیب ہزاروں سال پرانی ہے۔ اس علاقے کے لوگ اپنی شناخت کو برقرار رکھنے کے لیے ہمیشہ سے کوشاں رہے ہیں۔ سرائیکی وسیب کے عوام کا مطالبہ ہے کہ انہیں علیحدہ صوبہ دیا جائے تاکہ وہ اپنی ثقافت، زبان اور تشخص کا بہتر تحفظ کر سکیں۔ اس کے علاوہ سرائیکی وسیب کی معاشی پسماندگی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ یہاں کے عوام کو تعلیم، صحت اور روزگار کے یکساں مواقع حاصل نہیں ہیں، جس کی وجہ سے یہ خطہ ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ گیا ہے۔ ایک علیحدہ صوبہ اس علاقے کی ترقی کی راہ ہموار کر سکتا ہے اور عوام کو وہ حقوق دلوا سکتا ہے جن سے وہ طویل عرصے سے محروم ہیں۔
    سرائیکی عوام کو جنوبی پنجاب یا پنجاب کہلانے پر بھی اعتراض ہے کیونکہ وہ اپنی الگ ثقافتی اور لسانی شناخت رکھتے ہیں۔ وہ خود کو پنجابی نہیں سمجھتے اور ان کا مطالبہ ہے کہ انہیں ایک علیحدہ شناخت دی جائے۔ ماضی میں کئی سیاسی جماعتوں نے سرائیکی صوبے کے قیام کے وعدے کیے لیکن کوئی بھی حکومت ان وعدوں کو پورا کرنے میں سنجیدہ نظر نہیں آئی۔ سابقہ پی ٹی آئی حکومت نے سرائیکی عوام کو خوش کرنے کے لیے جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کا قیام عمل میں لایا، لیکن یہ محض ایک نمائشی اقدام ثابت ہوا۔ موجودہ حکومت تو سرائیکی سیکرٹریٹ کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جس سے عوام میں مزید مایوسی اور غم و غصہ بڑھ رہا ہے۔

    سرائیکی صوبے کے قیام کے لیے ایک طویل جدوجہد جاری ہے جو 1970 کی دہائی سے مختلف ادوار میں چلتی آ رہی ہے۔ سرائیکی قوم پرست جماعتیں اور دانشور مسلسل یہ موقف اختیار کیے ہوئے ہیں کہ سرائیکی وسیب کے عوام کو ان کے حقوق ملنے چاہئیں اور ایک علیحدہ صوبہ ہی ان مسائل کا واحد حل ہے۔ قیام پاکستان کے بعد بہاولپور ریاست کے پنجاب میں انضمام کو بھی متنازع سمجھا جاتا ہے اور بعض لوگ اس فیصلے کو زبردستی مسلط کیا گیا قدم قرار دیتے ہیں۔

    سرائیکی عوام کو طویل عرصے سے سیاسی جماعتوں کی وعدہ خلافیوں کا سامنا رہا ہے اور اس وقت وسیب کے عوام میں شدید مایوسی پائی جاتی ہے۔ ہر انتخابات میں سیاستدان سرائیکی علاقوں میں ووٹ حاصل کرنے کے لیے سبز باغ دکھاتے ہیں، لیکن انتخابات کے بعد ان کے مسائل جوں کے توں رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب سرائیکی عوام کے اندر یہ سوچ پروان چڑھ رہی ہے کہ انہیں سیاسی جماعتوں پر بھروسہ کرنے کے بجائے اپنے حقوق کے لیے خود آواز اٹھانی چاہیے۔

    سرائیکی عوام کا مطالبہ ہے کہ انہیں دیگر قوموں کی طرح مکمل حقوق دیے جائیں، لیکن عملی طور پر ایسا ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ سرائیکی صوبے کا قیام پاکستان کے استحکام کے لیے ضروری ہے کیونکہ اگر سرائیکی عوام کو ان کے حقوق نہ دیے گئے تو یہ ایک سنگین مسئلہ بن سکتا ہے جو قومی وحدت کو کمزور کر سکتا ہے۔ کچھ لوگ موجودہ حکومت کے طرز عمل کو 1971 میں مشرقی پاکستان کے ساتھ ہونے والے سلوک سے تشبیہ دے رہے ہیں کیونکہ اس وقت بھی بنگالی عوام کو ان کے حقوق سے محروم رکھا گیا تھا جس کے نتیجے میں ملک دو لخت ہو گیا تھا۔

    سرائیکی دانشوروں اور قوم پرست رہنمائوں کا موقف واضح ہے کہ ایک علیحدہ صوبہ ہی سرائیکی عوام کے مسائل کا حل ہے۔ موجودہ حکومت اس مسئلے کو حل کرنے میں مخلص نظر نہیں آتی اور پارلیمنٹ میں بھی اس حوالے سے سنجیدہ پیش رفت نہیں ہو رہی۔ اگر سرائیکی عوام کو ان کے حقوق نہ دیے گئے تو اس کے نتیجے میں مزید بے چینی اور عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔ یہ وقت ہے کہ سرائیکی عوام بغیر کسی سیاسی مفاد کے اپنے حقوق کے لیے خود آواز بلند کریں اور اپنی شناخت، ثقافت اور حقوق کے لیے منظم جدوجہد کریں۔

    سرائیکی عوام کا علیحدہ صوبے کا مطالبہ کسی تعصب یا علیحدگی پسندی پر مبنی نہیں بلکہ یہ ان کے جائز حقوق کے حصول کی جدوجہد ہے۔ پاکستان کی مضبوطی اسی میں ہے کہ تمام قومیتوں کو مساوی حقوق دیے جائیں۔ اگر سرائیکی صوبہ بنایا جاتا ہے تو اس سے نہ صرف وسیب کے عوام کو انصاف ملے گا بلکہ وفاق پاکستان مزید مستحکم ہوگا۔ ایک نئے صوبے کا قیام ملکی انتظامی ڈھانچے کو بہتر بنائے گا اور ترقی کے یکساں مواقع فراہم کرے گا، جس سے قومی ہم آہنگی کو فروغ ملے گا۔ یہی وقت ہے کہ اس دیرینہ مطالبے کو عملی جامہ پہنایا جائے تاکہ وسیب کے عوام کو احساس محرومی سے نجات ملے اور پاکستان مزید مضبوط اور مستحکم ہو سکے۔

  • افغانستان میں افراتفری اور اس کے علاقائی اثرات

    افغانستان میں افراتفری اور اس کے علاقائی اثرات

    اگست 2021 میں امریکہ کی واپسی کے بعد سے، واشنگٹن نے افغانستان کے لیے 3.71 بلین ڈالر کی امداد مختص کی ہے، جس میں سے 64.2% اقوام متحدہ کے ایجنسیوں، UNAMA اور ورلڈ بینک کے ذریعے تقسیم کی گئی،

    طالبان کی اقتدار میں واپسی کے بعد سے، ان کی جابرانہ حکمرانی مزید سخت ہو گئی ہے، جس کا سبب ان کی حکومتی پالیسیوں اور دہشت گرد گروپوں جیسے فتنے الخوارج (فاك ٹی ٹی پی)، داعش (ISIS) اور القاعدہ کی حمایت ہے۔ طالبان کی حکمرانی نے خواتین کی تعلیم، ملازمت اور نقل و حرکت پر سخت پابندیاں عائد کی ہیں، جس سے بحران مزید گہرا ہو گیا ہے۔ SIGAR نے خبردار کیا ہے کہ دہشت گرد گروہ افغانستان سے بے خوف ہو کر کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، جیسا کہ ISIS-K نے 2024 میں افغانستان، ایران، روس، پاکستان اور ترکی میں 60 حملے کیے، جو 2023 کے مقابلے میں 40 فیصد زیادہ ہیں۔

    پاکستان نے 2024 میں 640 سے زیادہ (ٹی ٹی پی) حملوں کا سامنا کیا، جن میں دہشت گردی سے متعلق واقعات میں 2,500 سے زائد افرادکی موت ہوئی، جو 2023 کے مقابلے میں 66 فیصد اضافہ ہے، پاکستان کی حکومت نے طالبان کے جابرانہ دور حکومت کی جانب سے (ٹی ٹی پی) کے انتہاپسند گروپ کو خاموشی سے سپورٹ کرنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، جو افغان سرزمین پر بے خوف پناہ گزین ہیں۔ پاکستان نے یہ بھی ثبوت فراہم کیا ہے کہ (ٹی ٹی پی) کے جنگجو امریکی اسلحہ استعمال کر رہے ہیں، جو امریکہ کی واپسی کے بعد افغانستان میں چھوڑا گیا تھا۔

    امریکی محکمہ دفاع نے اندازہ لگایا ہے کہ افغانستان میں 7 بلین ڈالر کا فوجی سامان چھوڑا گیا تھا، جس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مستقبل کی امداد اس بات پر مشروط کی کہ امریکی فوجی سامان واپس کیا جائے۔ چار ملکی گروپ (پاکستان، چین، ایران اور روس) نے طالبان پر زور دیا ہے کہ وہ افغانستان سے دہشت گرد گروپوں کے خلاف قابل تصدیق اقدامات کریں۔ پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ اگر افغان سرزمین سے کوئی بڑا حملہ ہوا تو اس کا فوری جواب دیا جائے گا اور (ٹی ٹی پی) کے محفوظ ٹھکانوں کو مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی رپورٹس سے تصدیق ہوئی ہے کہ (ٹی ٹی پی) طالبان کی حکمرانی سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھا رہا ہے، جس میں 6,000 سے 6,500 جنگجو پاکستان کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ پاکستان کی حکمت عملی سفارتی تعلقات کو مضبوط کرنے اور طالبان پر دباؤ ڈالنے کے لیے چین اور دیگر علاقائی کھلاڑیوں کے ساتھ مل کر مضبوط دفاعی اقدام پر مرکوز ہے۔ اسلام آباد اپنے اقتدار اعلیٰ اور سلامتی کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے اور یہ بھی یقینی بناتا ہے کہ افغانستان کو دہشت گردی کا مرکز نہ بننے دیا جائے۔

  • "ٹرمپ کی واپسی،امریکی سیاست اور عالمی منظرنامے پر اثرات”تحریر:اعجازالحق عثمانی

    "ٹرمپ کی واپسی،امریکی سیاست اور عالمی منظرنامے پر اثرات”تحریر:اعجازالحق عثمانی

    دنیا کے سیاسی نقشے پر امریکہ کی اہمیت اور اس کے فیصلوں کی گونج کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ جب ڈونلڈ ٹرمپ جیسی شخصیت دوبارہ امریکی صدارت کی گدی پر بیٹھتی ہے، تو دنیا کے کئی ملکوں کے سیاسی و معاشی نظاموں پر لرزہ طاری ہو جاتا ہے۔ 20 جنوری 2025 کو ٹرمپ کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد ایک نئی داستان لکھی جا رہی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ داستان کامیابی اور امن کی ہوگی یا تنازعات اور مشکلات کی؟

    ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاسی حکمت عملی کا بنیادی اصول ان کے معروف نعرے "امریکہ فرسٹ” میں مضمر ہے۔ وہ اپنی مہم میں ہمیشہ یہ تاثر دیتے رہے ہیں کہ امریکہ کو باقی دنیا سے کوئی لینا دینا نہیں، بلکہ اسے اپنے مفادات کو مقدم رکھنا چاہیے۔ اسی فلسفے کے تحت انہوں نے 2016 میں صدارت کا منصب سنبھالنے کے بعد کئی عالمی معاہدوں سے امریکہ کو نکال دیا، جن میں پیرس ماحولیاتی معاہدہ اور ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ شامل تھے۔ یہی فلسفہ ان کے دوسرے دور اقتدار میں بھی غالب نظر آتا ہے۔ ٹرمپ کا ارادہ ہے کہ وہ امریکہ کی معاشی ترقی کے لیے ہر ممکن اقدام کریں، چاہے اس سے ماحولیات، انسانی حقوق، یا عالمی تعلقات پر کتنا ہی برا اثر پڑے۔ ان کی پالیسیوں کے مطابق امریکہ کا سب سے بڑا دشمن غیر ملکی مداخلت، امیگریشن، اور صنعتی معیشت پر لگائی گئی قدغنیں ہیں۔ ٹرمپ کے پہلے دور حکومت میں ان کی امیگریشن پالیسی نے دنیا بھر میں شہرت حاصل کی۔ میکسیکو کے ساتھ سرحد پر دیوار تعمیر کرنے کا اعلان ان کی سب سے متنازع اور پہچانی جانے والی پالیسی تھی۔ یہ دیوار محض ایک تعمیراتی منصوبہ نہیں، بلکہ ٹرمپ کی سیاست کا علامتی مظہر تھی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ تقریباً دو ہزار میل طویل سرحد پر وہ محض ساڑھے چار سو میل کی دیوار بنا سکے۔ کانگرس اور عدلیہ کی مخالفت نے اس منصوبے کو مکمل طور پر ناکام کر دیا۔ اب دوسرے دور اقتدار میں ٹرمپ اس منصوبے کو دوبارہ زندہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، ساتھ ہی وہ لاکھوں غیر قانونی تارکین وطن کو ڈی پورٹ کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں۔

    ٹرمپ کی ماحولیاتی پالیسی کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ صنعتی ترقی کو کسی بھی قیمت پر روکنا نہیں چاہتے۔ پیرس معاہدے سے نکلنے کا ان کا فیصلہ عالمی ماحولیات کے تحفظ کی کوششوں کے لیے ایک دھچکا تھا۔ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ ماحولیات کے حوالے سے عائد کردہ قوانین امریکی معیشت پر غیر ضروری بوجھ ہیں۔ وہ گیس اور تیل کی پیداوار کو بڑھانے اور توانائی کے متبادل ذرائع پر انحصار کم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ لیکن ماہرین کے مطابق یہ پالیسی طویل مدت میں امریکہ اور دنیا دونوں کے لیے نقصان دہ ہوگی۔ بڑھتا ہوا ماحولیاتی بحران اور قدرتی وسائل کا بے دریغ استعمال عالمی معیشت اور ماحول کو غیر مستحکم کر سکتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی تعلقات کا انداز روایتی سفارت کاری سے بالکل مختلف ہے۔ وہ اقوام متحدہ اور نیٹو جیسے اداروں کو غیر ضروری قرار دے چکے ہیں اور چین، روس، اور ایران جیسے ملکوں کو کھلے عام تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔ ٹرمپ کی پالیسی کا ایک بڑا امتحان مشرق وسطیٰ اور ایشیا میں ہوگا۔ ایران کے ساتھ تعلقات پہلے ہی خراب ہیں، اور ٹرمپ کی پالیسی انہیں مزید بگاڑ سکتی ہے۔ اسی طرح چین کے ساتھ تجارتی جنگ اور روس کے ساتھ تعلقات کی غیر یقینی صورتحال بھی ان کے لیے ایک چیلنج ہے۔

    ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ وہ امریکی معیشت کو دوبارہ عظیم بنائیں گے۔ ان کے دور میں امریکی اسٹاک مارکیٹ میں اضافہ دیکھنے کو ملا، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کی پالیسیوں کا طویل مدتی اثر نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ ٹیکس میں کمی،غیر ضروری اخراجات، اور صنعتی قوانین میں نرمی امریکی معیشت کو عارضی طور پر فائدہ پہنچا سکتے ہیں، لیکن قرضوں کا بوجھ بڑھنے اور اقتصادی عدم توازن کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ ٹرمپ کی سیاست کا ایک تاریک پہلو ان کا انتقامی رویہ ہے۔ 6 جنوری 2021 کو کانگرس پر حملے کے بعد ان کے حامیوں کو مقدمات کا سامنا کرنا پڑا، لیکن اب ٹرمپ نےان افراد کو معاف کر دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے نئے قوانین اور احکامات جاری کر سکتے ہیں۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کی دوبارہ صدارت امریکی جمہوریت کے لیے ایک کڑا امتحان ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کی پالیسیاں نہ صرف داخلی بلکہ خارجی سطح پر بھی تنازعات کو ہوا دے سکتی ہیں۔ اگرچہ ان کے حامی انہیں ایک مضبوط لیڈر کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا طرز حکمرانی جمہوریت کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ آنے والے چار سالوں میں ٹرمپ دنیا میں کتنی بڑی تبدیلی لا سکیں گے، لیکن ایک بات طے ہے کہ ان کا دوسرا دور اقتدار امریکہ اور دنیا دونوں کے لیے چیلنجز کا باعث بنے گا

  • میجر حمزہ شہید اور 29 کا ہندسہ

    میجر حمزہ شہید اور 29 کا ہندسہ

    میجر حمزہ شہید اور 29 کا ہندسہ
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    میجر حمزہ اسرار شہید کی زندگی میں 29 کا عدد نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ 29 سال کی عمر میں، 29 دسمبر 2024 کو ان کی شادی ہوئی اور 29 جنوری 2025 کو وہ شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں دہشت گردوں کے خلاف ایک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران شہید ہوئے۔

    قدیمی گاؤں توپ مانکیالہ کے رہائشی میجر حمزہ اسرار نے ابتدائی تعلیم پری کیڈٹ اسکول ساگری سے حاصل کی، جہاں سے ان کی محنت و لگن کا آغاز ہوا۔ بعد ازاں کیڈٹ کالج چکوال میں دو سالہ سخت محنت کے بعد انہوں نے ایف ایس سی مکمل کی اور اسی جذبے کے ساتھ آئی ایس ایس بی کے چیلنجنگ امتحانات کو باآسانی پاس کیا۔

    یہ وہ لمحہ تھا جس کا خواب ان کی ماں نے ہمیشہ دیکھا تھا کہ ان کا بیٹا فوج میں افسر بنے گا۔ 15 مئی 2014 کو انہوں نے پی ایم اے کاکول ایبٹ آباد کے لیے رختِ سفر باندھا اور 17 اکتوبر 2015 کو اپنی محنت کے بل بوتے پر سیکنڈ لیفٹیننٹ کے طور پر پاک فوج میں شمولیت اختیار کی۔

    سیالکوٹ میں تعیناتی کے دوران لیفٹیننٹ حمزہ اسرار نے اپنی قائدانہ صلاحیتوں کو اجاگر کیا اور کیپٹن کے عہدے کے لیے کوئٹہ کا کامیاب سفر کیا۔ بہترین خدمات انجام دیتے ہوئے وہ بطور ایڈجوٹنٹ تعینات ہوئے۔

    اپنی مزید پیشہ ورانہ ترقی کے لیے انہوں نے کوئٹہ میں کیپٹن سے میجر کے پروموشن کورس میں شرکت کی، جہاں شاندار کارکردگی کے بعد انہیں شنکیاری میں انسٹرکٹر کی حیثیت سے تعینات کیا گیا۔ اس وقت ملک کو داخلی و خارجی چیلنجز کا سامنا تھا، بالخصوص افغانستان میں بیٹھے دہشت گردوں نے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں تیز کر دی تھیں۔

    ان نازک حالات میں میجر حمزہ کی یونٹ کو شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کا حکم ملا۔ یونٹ پہلے ہی وہاں ڈیڑھ سال سے خدمات انجام دے رہی تھی، اسی دوران ان کے والدین نے ان کے لیے شادی کی تیاریاں شروع کر دیں۔ 29 دسمبر 2024 کو وہ شادی کے بندھن میں بندھ گئے اور خوشیوں کی گونج ان کے گھر میں سنائی دینے لگی۔

    مگر تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ شادی کے صرف 17 دن بعد ہی وہ اپنی یونٹ میں واپس چلے گئے۔ 29 جنوری 2025 کو ان کی شادی کو ٹھیک ایک مہینہ مکمل ہوا تھا کہ شمالی وزیرستان کے میر علی میں سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر ایک آپریشن کا آغاز کیا۔

    آپریشن کے دوران پاک فوج نے بھرپور کارروائی کرتے ہوئے 6 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا مگر فائرنگ کے شدید تبادلے میں میجر حمزہ اسرار اور سپاہی محمد نعیم شدید زخمی ہوگئے۔ شام 7 بج کر 35 منٹ پر مزید کمک پہنچی مگر اس وقت بھی میجر حمزہ شدید زخمی حالت میں دشمن کے خلاف ڈٹے ہوئے تھے۔

    میجر حمزہ اسرار کا تعلق تحصیل گوجرخان ضلع راولپنڈی سے تھا اور انہوں نے 9 سال تک پاک فوج میں خدمات انجام دیں۔ ان کی نماز جنازہ چکلالہ گیریژن راولپنڈی میں ادا کی گئی، جس میں وزیراعظم شہباز شریف، آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر دفاع، وزیر اطلاعات سمیت سینئر حاضر سروس اور ریٹائرڈ فوجی افسران، جوانوں اور شہید کے لواحقین نے شرکت کی۔

    نماز جنازہ کے بعد میجر حمزہ اسرار کو ان کے آبائی گاؤں میں پورے فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے ان کے آبائی گاؤں کا دورہ کیا سابق وزیراعظم راجہ پرویزاشرف بھی ہمراہ تھے اور ان کی قبر پر فاتحہ خوانی کی۔

    میجر حمزہ اسرار کی زندگی میں 29 کا عدد ایک منفرد تسلسل کے ساتھ موجود رہا، جو ان کی زندگی کے اہم لمحات سے جڑا رہا۔

  • نواز شریف کی بے توقیری کے جرم کا اعتراف ضروری۔ تجزیہ : شہزاد قریشی

    نواز شریف کی بے توقیری کے جرم کا اعتراف ضروری۔ تجزیہ : شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)قوموں کے عروج اور زوال کے اسباب قرآن پاک میں موجود ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ ہم کبھی حالت جنگ میں ہوتے ہیں تو کبھی حالت انتشار میں ۔ آخر کب تک پاکستان بطور ریاست اور عوام حالت انتشار میں رہیں گے؟ملائی اور حلوائی کی باتوںسے نکل کر دنیا کی بدلتی ہوئی تازہ ترین حالات کا جائزہ لیں اپنے مفادات کو وطن عزیز کے وقار اور سلامتی پر قربان کریں۔دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی ترقی کا راز رائٹ مین فار رائٹ جاب ہے ملکی مفادات اور قومی مفادات ہیں۔ ہمارے سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے ذاتی مفادات میں مذاکرات اس لئے کامیاب نہیں ہوتے ان مذاکرات کے پیچھے فردواحد کی شخصیت اور جماعتی مفادات ہیں۔ پیکا قانون کو ہی لے لیں آج میری بات سینیٹر عرفان صدیقی سے ہوئی ، انہوں نے کہا کہ میرے پاس کچھ تجاویز ہیں جس پر عمل کرکے صحافیوں کا احتجاج ختم ہو سکتا ہے سمجھ سے بالاتر ہے۔ حکومت کے پاس عرفان صدیقی جو ایک صحافی ،استاد اور ملک بھر کے صحافی انہیں عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اُن کے تجربات سے فائدہ کیوں نہیں اٹھاتی۔ اسی طرح ملکی سیاسی عدم استحکام کو دیکھ کر جو قابو میں آنے کا نام نہیں لے رہا جب کہ قابو کرنے کا ہنر جاننے والے نواز شریف جس نے ملکی ترقی جس میں دفاع بھی شامل ہے اُن کو شاید ہم نظر انداز کرکے کون سی خدمات سرانجام دے رہے ہیں؟ ملکی معیشت ملکی ترقی میں کردار ادا کرنے والے نواز شریف کے ساتھ ہم نے کیا کیا ،کون سا زخم ہے جو اُن کو نہیں دیا گیا۔ سیاسی جماعتوں مذہبی جماعتوں کو ملکی ترقی ملکی دفاع کومد نظر رکھتے ہوئے بحیثیت قوم اُن کی خدمات کا اعتراف اور ساتھ اُن کی بے توقیری کے جرم کا اعتراف کرلینا چاہیئے۔
    سیاسی گلیاروں میں عجب بے معنی شور ہے۔ مشکلات میں گرے عوام اور پاکستان کو اُس مقام پرلاکھڑا کیا ہے جہاں سیاسی غبارہ وقت سے پہلے پھٹ جائے تو خطرات میں اضافہ ہوتا ہے۔ جب سے گوادر ائیر پورٹ کا افتتاح ہوا ہے بھارت سمیت بہت سے دوسرے ممالک کے پیٹ میں مروڑ اٹھ رہے ہیں پاک فوج اور جملہ ادارے دہشت گردی کے عفریت کا تن تنہا سامنا کررہے ہیں۔ قومی جذبہ سے سرشار ہماری پاک فوج اور دیگر جس میں پولیس بھی شامل ہے شہید ہورہے ہیں۔ دہشت گردوں کو کیفر کردار تک بھی پہنچا رہے ہیں پاک فوج اور جملہ ادارے داخلی سلامتی اور امن وامان کے لئے دن رات فریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔ ذرا سوچئے سیاسی گلیاروں میں کیا ہو رہا ہے۔ کون کس کی اور کیا خدمات سرانجام دے رہا ہے۔

  • ماہ نیم شب۔تحریر:فرح علوی

    ماہ نیم شب۔تحریر:فرح علوی

    ماہ نیم شب
    تحریر:فرح علوی
    وہ ہسپتال کے ویٹنگ روم میں بیٹھا اپنی باری آنے کا انتظار کر رہا تھا۔ اندر کو دھنسی آنکھیں اور چہرے پر کرب کی بے شمار کہانیاں لکھی تھیں۔ ملگجی سا میلا کچیلا لباس اور ٹوٹے پھوٹے جوتے پہنے ہوئے، اس کی حالت بہت قابلِ رحم تھی۔

    "شاکر خان۔۔۔۔۔۔!” نرس نے اس کا نام پکارا تو وہ بے تاثر سی خالی خالی نظروں سے ڈاکٹر کے کمرے کی طرف دیکھتے ہوئے جونہی روم کے اندر داخل ہوا تو اس کی نظر اپنے سامنے بیٹھی ڈاکٹر ادینہ پر پڑی۔ وہ اس کی طرف دیکھ کر گھوم سا گیا۔ حیرت و بے یقینی کے عالم میں اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ فائل پر جھکا چہرہ، جس پر بلا کا اعتماد تھا۔ بالوں کا بنا بیک کومب اسٹائل اور سادہ سے سوٹ پر اوور آل پہنے ہوئے، وہ بہت باوقار لگ رہی تھی۔

    "آئیے۔۔۔۔۔۔” فائل سے نظریں ہٹا کر اس نے اپنے سامنے کھڑے شاکر خان کی طرف دیکھا تو چہرے پر چھائے اطمینان کی جگہ اضطراب نے لے لی۔ وہ حیرت و بے یقینی کے عالم میں کھڑی ہو گئی۔ جھریوں زدہ چہرے کے پیچھے ماضی کی اندوہناک کہانیاں واضح لکھی ہوئی تھیں۔ وہ ان تحریروں کو صفحۂ ہستی سے مٹا دینا چاہتی تھی، مگر یہ امر اس کی دسترس سے باہر تھا۔ ماضی نے اسے ایسے زخم دیے تھے، جن پر بظاہر تو کھَرَنڈ آ چکا تھا مگر وہ اندر سے ناسور بن چکے تھے۔ حال نے ایک بار پھر ماضی کا صفحہ پلٹ کر اس کے زخموں پر نمک پاشی کا کام کیا۔ وہ ماضی کی تلخیوں کو بھلا کر آگے بڑھنے والی لڑکی تھی، مگر زندگی شاید اس سے کوئی اور امتحان لینا چاہتی تھی۔

    ماضی میں شاکر خان کی ساری خوشیاں ادینہ کی اذیتوں سے مشروط تھیں اور وہ آج بھی اسی چہرے کے پیچھے چھپے اپنے ہر درد اور اذیت کا مداوا چاہتی تھی۔ شاکر کے ضبط کا بند ٹوٹا تو آنسو خود بخود آنکھوں کے حلقوں سے ابل کر باہر نکل آئے۔ اس نے اپنے جھریوں والے کپکپاتے ہاتھ ادینہ کے سامنے جوڑ دیے، لیکن وہ بے تاثر سی کھڑی ناپسندیدگی کے باوجود ماضی کے ان جھروکوں میں داخل ہو چکی تھی، جن میں وہ جانا نہیں چاہتی تھی۔
    ……………..
    بیٹے کی خواہش میں پے در پے تین بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ آج بھی حسنہ وہی اذیت سہہ رہی تھی اور پھر وہ چوتھی بیٹی کو جنم دیتے ہی اس جہانِ فانی کو الوداع کہہ گئی۔ بیٹی کو پیدا ہوتے ہی منحوس کے لقب سے نوازا گیا، کیونکہ ماں کے مرنے کی ذمہ دار صرف یہی بچی تھی۔ موت اور زندگی کا اختیار تو صرف اللّٰہ تعالیٰ کے پاس ہے تو پھر انسان کیوں دوسرے انسان کو اس امر کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے؟

    وقت اپنی مست خرامی میں گزرتا رہا۔ بڑی دو بہنوں نے باپ کی نفرت کا زیادہ اثر لیا اور چھوٹی بہن سے ہتک آمیز سلوک کرنے لگیں۔ بڑی بہن نے پھر بھی کسی حد تک سمجھوتہ کر لیا تھا۔ وہ بچپن سے ہی دبی دبی اور سہمی ہوئی رہتی۔ پانچ سال کی عمر میں اس نے اسکول جانا شروع کیا تو کچھ وقت سکون کا میسر آنے لگا۔ وہ کتابوں کو اس طرح سینے سے لگا کر رکھتی گویا یہی وہ نیا ہے، جو زندگی کے بیکراں سمندر میں اسے پار لگائیں گی۔ وہ بہت خوشی سے تیار ہو کر اسکول جاتی مگر اپنی خوشی کو کسی پر ظاہر نہ کرتی۔ تلخ حالات، اپنوں کی بیگانگی اور احساسِ تنہائی نے اسے وقت سے پہلے بڑا کر دیا تھا۔ گھر میں جب شاکر خان داخل ہوتا تو ادینہ ایسے چھپتی جیسے اس نے موت کا فرشتہ دیکھ لیا ہو۔ وقت کی مخصوص رفتار کے ساتھ وہ بھی بڑی ہو رہی تھی۔

    آج اسکول میں ایک شاندار پروگرام کا اہتمام کیا گیا، جس میں ادینہ نے بھی حصہ لیا۔ ڈائس پر مائیک کے سامنے اپنی تمام تر متانت اور اعتماد لیے ادینہ نے اظہارِ خیال کرنا شروع کیا۔
    …………….
    میرا ان تمام فوت شدہ ماؤں سے ایک سوال ہے۔ جن روحوں کو جنم دیتے ہی مائیں اس جہان کو چھوڑ جاتی ہیں۔ کیا ان کے مرنے کے ذمہ دار ہم ہوتے ہیں۔۔۔؟
    کیا قانونِ قدرت وہ بے بس بچہ اپنی دسترس میں لے سکتا ہے، جو بولنے، سننے، سمجھنے، چلنے پھرنے اور خود کھانے پینے کی طاقت نہ رکھتا ہو۔۔۔؟ تو پھر معاشرے کے لوگوں کا رویہ اتنا نفرت آمیز کیوں ہوتا ہے۔۔۔؟ کیا زندگی اور موت انسانی خواہش پر منحصر ہے۔۔۔؟ میں یہ اچھی طرح جانتی ہوں کہ وہ فوت شدہ اجسام میرے سوالوں کے جواب دینے سے قاصر ہیں، تو اس لیے میرا سوال ان زندہ انسانوں سے ہے، جو آج ہر جذبے سے عاری، محسوسات کے عنصر سے خالی ذہن لیے زندہ لاشیں بنے پھرتے ہیں۔ کیا یہ سب ان کو زندہ کر کے واپس لا سکتے ہیں۔۔۔؟ جن کو مارنے کا ذمہ دار ہمیں ٹھہرایا جاتا ہے۔۔۔؟

    "اس نے اپنے سوالات مکمل کرنے کے بعد سوالیہ نظروں سے حال میں بیٹھے حاضرین کی طرف دیکھا۔ سبھی خاموش تھے۔ حال پر چھائے اس سکوت کو پرنسپل کی تالیوں نے توڑا تو سبھی اٹھ کر ادینہ کو تالیاں بجا بجا کر داد دینے لگے۔ اپنی آنکھوں میں آئی نمی کو ضبط کرتے ہوئے اس نے سب کی طرف دیکھا۔

    "تمام تر حسیات سے محروم یہ معاشرہ آپ کے سوالوں کے جواب دینے سے قاصر ہے، بیٹا۔” پرنسپل صاحب نے نظریں جھکا کر رندھی ہوئی آواز میں کہا۔
    ……………..
    ادینہ گھر میں داخل ہوئی تو ایک ہنگامہ اس کا منتظر تھا۔ باپ کی آنکھوں سے ٹپکتی وحشت کو محسوس کرتے ہوئے ادینہ کانپ سی گئی۔ وہ نظر بچا کر کمرے میں جانے لگی تو شاکر خان ایک جھٹکے سے اٹھا اور ادینہ کو گردن سے دبوچ لیا۔
    "کیا کہہ کر آئی ہے تُو سکول میں۔۔۔؟ کیا میں نے اس لیے تجھے سکول جانے کی اجازت دی تھی کہ تُو ہماری بدنامیاں کرتی پھرے؟” وہ غم و غصے کی حالت میں سب کچھ فراموش کر چکا تھا۔ بڑی بہن بچانے کے لیے لپکی۔ چھوٹی دونوں سہمی کھڑی تھیں۔
    "ابا، چھوڑ دے اسے، نہیں تو یہ مر جائے گی۔” بڑی بہن نے ادینہ کو اس سنگین گرفت سے آزاد کرانے کی ناکام کوشش کی۔
    "میرے لیے تو یہ کب کی مر چکی ہے۔” یہ کہتے ہوئے شاکر خان نے اسے چوٹی سے پکڑا اور گھر سے باہر نکال دیا۔ وہ آگے بڑھ کر گھر میں داخل ہونے لگی تو دروازہ دھڑاک کی آواز پیدا کر کے اس کے منہ پر بند ہوا۔ وہ روتے ہوئے بہت دیر تک دروازہ پیٹتی رہی، مگر بے سود۔

    اداس شام آہستہ آہستہ رات سے ہم آغوش ہوتی شاکر خان کی حویلی کی دہلیز پر اُتر رہی تھی۔ ادینہ روتی رہی۔ اس نے ملتجی نظروں سے آسمان کی طرف دیکھا۔ برستی کہر نے اطراف کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ جاڑے کی اس ٹھٹھرتی شب میں وہ ننگے پاؤں یونہی بے سرو سامان چل پڑی۔ انجان رستوں پر منزل سے بے خبر۔ وہ کچی آبادی میں لگے خیموں میں آگئی۔ وہ نڈھال سی ہو کر ایک طرف بیٹھ گئی۔ ایک خانہ بدوش خاتون کی اس پر نظر پڑی، جو زمین پر بیٹھی روٹی ہاتھ پر رکھے پانی کے ساتھ کھا رہی تھی۔ اس نے روٹی ادینہ کی طرف بڑھاتے ہوئے اسے کھانے کی پیشکش کی، جسے اس نے فوراً قبول کر لیا۔ تین دن کی مسلسل بھوک نے اسے ہوش و خرد سے بیگانہ کر دیا تھا۔ وہ کھانے کی طرف لپکی اور کھانا اس خانہ بدوش خاتون کے ہاتھوں سے جھپٹ کر نوالہ پر نوالہ ٹھونسنے لگی۔ خاتون نے اس کی حالت دیکھتے ہوئے مٹی کے پیالے میں پانی بھر کر اسے دیا۔ وہ پانی بھی ایک ہی سانس میں ختم کر گئی۔

    پیٹ کی بھوک ختم ہوئی تو مستقبل کی فکر نے اسے آ لیا۔ وہ اس خاتون سے ملتجی لہجے میں کہنے لگی۔۔۔
    "مجھے چند دنوں کے لیے اپنے پاس رکھ لو۔ جیسے ہی میرے میٹرک کے پیپر ختم ہوں گے، میں یہاں سے چلی جاؤں گی۔” ادینہ کی حالت کے پیشِ نظر اس خاتون نے اسے اپنے پاس رکھنے کی ہامی بھر لی۔ یہ ماحول بھی اس کے لیے سازگار نہیں تھا۔ پیٹ کی بھوک کب کسی کے اندر احساس رہنے دیتی ہے! وہ یہاں سے بھاگی اور بھاگتی چلی گئی۔ بل کھاتی سڑک دور دور تک سنسان پڑی تھی۔ کہیں کسی ذی روح کا نام و نشان تک نہیں تھا۔ ہر طرف ہو کا عالم تھا۔ وہ اپنے قدموں کی آواز سے بھی سہمی ہوئی تھی۔ وہ بھاگتے ہوئے ٹھوکر کھا کر گری تو بے ہوش ہو گئی۔

    وہ جب ہوش میں آئی تو خود کو ایک پُرسکون خواب گاہ میں پایا۔
    "میں کہاں ہوں۔۔۔؟” اس نے خودکلامی کرتے ہوئے خود سے سوال کیا۔ اتنے میں کمرے کا دروازہ کھلا تو ایک مکمل لباس زیب تن کیے نفیس اور مدبر سی خاتون لبوں پر خفیف سی مسکراہٹ سجائے کمرے میں داخل ہوئی۔
    "بچیوں کے بارے میں اس معاشرے میں پھیلے ناسور کو میں بہت اچھی طرح جانتی ہوں، بیٹی۔۔۔ زندگی کے سارے باب تلخیوں سے بھرے ہیں، بس انسان کو مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ جو لوگ ہمت سے کام لیتے ہیں، شکست ان کے آگے خودبخود ہار مان جاتی ہے۔” اس خاتون کے الفاظ گویا زخموں پر مرہم کا کام کر رہے تھے۔ اس نے اس خاتون کو تشکر آمیز نظروں سے دیکھا۔

    گزرتے وقت کے ساتھ اس نے بھی حالات کے ساتھ سمجھوتہ کر لیا تھا۔ یہاں اس خاتون کے اصرار اور حوصلہ دینے پر پھر سے تعلیم شروع کر لی۔ وہ گزشتہ تلخیوں کو بھلا کر آگے بڑھ رہی تھی۔ وہ اس شفیق خاتون کا بہت احترام کرتی۔ وہ پرخلوص رہتی اور اس کی بہت خدمت کرتی۔ اس نے ادینہ کو اپنی بیٹی بنا لیا۔ احساس اور خلوص بھرے اس رشتے کی بھی مدت بہت کم تھی اور یہ خاتون اپنا سارا اثاثہ ادینہ کے نام کر کے اس جہان کو الوداع کہہ گئی۔ حالات نے ایک بار پھر ایسی ٹھوکر لگائی کہ وہ بکھر کر چکنا چور ہو گئی۔
    …………..
    اس نے میڈیکل مکمل کرنے کے بعد اپنا کلینک بنا لیا۔ مسلسل محنت نے اسے سب کچھ بھلا دیا۔ وہ دکھی انسانیت کی خدمت میں بےانتہا سکون محسوس کرتی اور اسی خدمتِ خلق کو اس نے نصب العین بنا لیا۔ اس کی زندگی یونہی سبک روی سے رواں دواں تھی کہ آج پھر شاکر خان کی صورت میں ایک اور اذیت اس کی منتظر تھی۔ آنکھیں آنسوؤں سے تر ہوئیں تو سارے مناظر دھندلا گئے۔ وہ آگے بڑھی تو کرسی سے ٹکرا گئی۔ شاکر خان نے آگے بڑھ کر بیٹی کو تھام لیا۔ آنسوؤں کا سیلاب ایسا امڈا کہ بند باندھنا مشکل ہوگیا۔ الفاظ سارے ختم ہو چکے تھے، کربناک داستانوں کا ابھی اختتام نہیں ہوا تھا اور زندگی کے سارے رنگ مانند پڑ گئے تھے۔ یہ کیسی محرومی تھی، جس کے ختم ہونے کی اسے نہ خوشی ہوئی، نہ اپنی زندگی میں آنے والے دکھوں کا ملال تھا۔

    "مجھے معاف کر دو، بیٹی۔۔۔۔۔” شاکر نے لرزتی ہوئی آواز سے اور کپکپاتے ہوئے ہاتھوں کو اس کے آگے جوڑتے ہوئے کہا۔

    "کیا کر رہے ہیں، بابا۔۔۔۔۔” ادینہ نے اپنے والد کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے کر چوم لیا۔

    "تیرے بعد مجھے زندگی میں ایک پل بھی سکون میسر نہیں آیا۔ میں نے تجھے بہت ڈھونڈا، لیکن تو مجھے کہیں نہیں ملی۔ میرے ان ہاتھوں کو چومنے کی بجائے اگر تو ان کو کاٹ دے تو مجھے زیادہ سکون ملے گا، کیونکہ انہیں ہاتھوں نے تجھے دربدر کیا تھا۔” یہ کہتے ہوئے اس کی آواز آنسوؤں میں گم ہونے لگی۔

    اس نے ایک نظر اپنے والد کے چہرے پر چھائے ملال کو دیکھا اور صرف "بابا” کہہ سکی۔ آج تک تنہائی کا عذاب سہتے ہوئے آج وہ کوئی بھی فیصلہ نہیں کر پا رہی تھی۔ اس نے ایک بار پھر والد کے چہرے کی طرف دیکھا۔ چہرہ آنسوؤں سے تر اور آنکھیں معافی کی طلبگار تھیں۔

    وہ چاہ کر بھی آج یہ فیصلہ نہیں کر پا رہی تھی کہ وہ زندگی اکیلے گزارے یا پھر باقی زندگی کے ایام انہیں پتھروں کے حوالے کر دے، جن سے ٹھوکریں کھاتے ہوئے وہ آج یہاں تک پہنچی تھی۔

  • جب مؤرخ کے ہاتھ بندھے تھے .تحریر:مجیداحمد جائی

    جب مؤرخ کے ہاتھ بندھے تھے .تحریر:مجیداحمد جائی

    تاریخ پر نظر رکھنے والے اور لکھنے والے، دل چسپ شخصیات ہوتی ہیں۔ان کی زندگی کے بھی نشیب و فراز ہوتے ہیں لیکن اپنی زندگی کو پس پردہ رکھتے ہوئے ملکی اور غیر ملکی تاریخ کے گم شدہ گوشوں سے اپنے قارئین کو دیدہ دلیری سے آشنا کرتے ہیں۔تاریخ سے دل چسپی رکھنے والے اور تحقیق کرنے والے طالب علموں کے لیے قیمتی خزانے فراہم کرتے ہیں۔کہتے ہیں تاریخ بڑی ظالم ہوتی ہے کسی کو معاف نہیں کرتی۔یہ مورخ ہی ہوتے ہیں جو ان کے گم شدہ اوراق پاتال سے بھی نکال لاتے ہیں۔

    صحافتی پیشہ بھی کچھ ایسا ہی ہوتا ہے ہر لمحہ نئی سے نئی خبر اپنے قارئین تک پہچانا،اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر حقائق سامنے لا کر اپنا حق ادا کرتے ہیں۔صحافی ہر گزرتے لمحے اور مستقبل پر گہری نظر رکھے ہوئے ہوتا ہے اور مشاہدے اور تجزیے سے معلومات فراہم کرتا ہے۔تاریخ ایسے صحافیوں کو یاد رکھتی ہے جو حق،سچ پر اپنی جان تک نچھاور کردیتے ہیں۔ڈاکٹر فاروق عادل بھی انھی شخصیات میں سے ایک ہیں ، ڈاکٹر فاروق عادل کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ان کا قلم حق سچ کا علم بردار ہے۔ملکی و غیر ملکی سیاسی اتار چڑھاؤ پر گہری نظر رکھتے ہیں اور خوب تجزیہ کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ان کے پڑھنے والے ان کی کتب کے منتظر رہتے ہیں۔جب کتاب منظر عام پر آتی ہے تو ہاتھوں ہاتھ فروخت ہو جاتی ہے اور تھوڑے ہی عرصے میں ایڈیشن ختم ہو جاتا ہے۔

    حکومت ِپاکستان ان کے کام سے متاثرہوکر تمغۂ امتیاز سے نواز چکی ہے۔آج ہم ان کی تازہ ترین کتاب ”جب مورخ کے ہاتھ بندھے تھے“پہ لب کشائی کرتے ہیں۔یہ شان دار کتاب حال ہی میں منظر عام پر آئی ہے اور ہر طرف اس کے چرچے ہیں۔علامہ عبدالستار عاصم اور سلمان علی چودھری نے خاص اہتمام سے قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل کے پلیٹ فارم سے شائع کی ہے۔علامہ عبدالستار عاصم کتاب دوست ہیں اور کتب بینی کے فروغ کے لیے متحرک شخصیت ہیں۔ادبی دُنیا میں کسی تعارف کے محتاج نہیں۔خود بھی صاحب ِکتاب ہیں اور کتاب دوستوں سے خاص محبت رکھتے ہیں۔انھی کی کاوشوں سے ہم بہترین قلم کاروں اور کتب سے آشنا ہوتے ہیں۔اس حوالے سے ڈاکٹر فاروق عادل ”چند باتیں“میں اس طرح خراج ِتحسین پیش کرتے ہیں:”بردار محترم علامہ عبدالستار عاصم کے دست ہنر نے جادو گری دِکھائی۔انھوں نے چند ہی روز میں دوسرا ایڈیشن بھی شائع کردیا۔ان کے گودام میں اب اس ایڈیشن کا بھی کوئی نسخہ باقی نہیں بچالہٰذا اب وہ تیسری اشاعت کی نیت باندھ رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کے کام میں برکت پیدا فرمائے۔آمین۔“

    ”جب مؤرخ کے ہاتھ بندھے تھے“کے حوالے سے ”عرفان صدیقی“صاحب لکھتے ہیں ”ڈاکٹر فاروق عادل ایک پختہ کار اور شگفتہ نگار محقق کے طور پر اپنی پہچان رکھتے ہیں۔”جب مورخ کے ہاتھ بندھے تھے“گئے دنوں کا سراغ لگانے کی نہایت عمدہ کاوش ہے۔

    پروفیسر ڈاکٹر طاہر مسعود لکھتے ہیں:”پاکستان کی تاریخ کے مختلف پہلوؤں پر فاروق کی پہلی کتاب ”ہم نے جو بھلا دیا“سامنے آئی تو معلوم ہوا کہ صحافت کے ہنر کے ساتھ ایوان اقتدار کے مشاہدے نے تجربے کو دو آتشنہ کر دیا ہے۔فاروق کی اس کتاب نے پورے ملک کو متوجہ کیا۔ایک کتاب کے ایک ہی ماہ میں دو ایڈیشن شائع ہو جانا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔اب ”جب مؤرخ کے ہاتھ بندھے تھے“اسی سلسلے کی اگلی کڑی ہے جس میں میرا یہ شاگرد عزیز تحقیق کے جنگل میں اُتر کر ایسے حقائق تلاش کر لایا ہے جو حیرت انگیز بھی ہیں اور عبرت خیز بھی۔یہ کتاب ایک ایسا آئینہ ہے جس کی مدد سے ہم اپنا چہرہ بھی خوش نما بنا سکتے ہیں اور بہتر مستقبل کی تعمیر بھی کر سکتے ہیں۔حرف آخر یہ کہ یہ کتاب طالب علموں،صحافیوں،اساتذہ،سیاست دانوں اور حکمرانوں سب کے لیے ہے۔“

    ”جب مؤرخ کے ہاتھ بندھے تھے“پڑھنے کے بعد ہم بھی ڈاکٹر طاہر مسعود صاحب کے ساتھ مکمل اتفاق کرتے ہیں۔اس کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے کئی گم شدہ پہلوؤں سے پردہ چاک ہوا ہے اور حیرت بھی۔اچھا ایسابھی ہوتا ہے۔ایسا بھی ہوا تھا،ایسا بھی ہوتارہا ہے۔جیسے سوچیں پاتال سے سر اٹھاتی ہیں۔اس کا ثبوت”ایپی فقیر“کتاب کا پہلا مضمون ہی بین ثبوت ہے۔پاکستان معرض وجود میں آیا تو اس کے پیچھے ہزاروں داستانیں ہیں۔کہیں ایک ماشکی کا بیٹا حکمران بن جاتا ہے تو کہیں ایک امام مسجد سے حکمران اور طاقت والے سر نگوں دکھائی دیتے ہیں۔پاکستان کے قیام کے بعد بھی ہزاروں کہانیاں جنم لے چکی ہیں جو عام انسان سے پسِ پردہ ہیں۔ڈاکٹر فاروق عادل جیسے بے باک،نڈر قلم کار ہی ایسے گم شدہ گوشوں سے پردہ اٹھا سکتے ہیں۔مجھے خوشی ہے ان کا قلم اسی راہ کا مسافر ہے۔

    ”جب مؤرخ کے ہاتھ بندھے تھے“کا انتساب ”ہاتھ پکڑ کر لکھنا سکھانے والوں کے نام ہے جن میں ڈاکٹر فاروق عادل کے استاد گرامی پروفیسر ڈاکٹر طاہر مسعود اور پروفیسر ارشاد حسین نقوی کے نام ہے۔ترتیب سے پہلے مسدسِ حالی سے تاریخ کے عکاس اشعار دیے گئے ہیں:
    کہیں تھا مویشی چرانے پہ جھگڑا
    کہیں پہلے گھوڑا بڑھانے پہ جھگڑا
    لب ِجو کہیں آنے جانے پہ جھگڑا
    کہیں پانی پینے پلانے پہ جھگڑا
    یونہی روز ہوتی تھی تکرار ان میں
    یونہی چلتی رہتی تھی تلواران میں
    ”جب مؤرخ کے ہاتھ بندھے تھے“33عنوانات سے تاریخ کے گم شدہ گوشوں سے پردہ اٹھایا گیا ہے۔جیسے ”مولانا طارق جمیل کا عشق“۔”صالحین کی نرسری“،”بھٹو اور نواز شریف“،”بھونکنے پر پابندی“،”وہ ایٹمی چھکا“،”الف لیلوی نواب“اور”جب بھارتی شہری وزیراعظم پاکستان بنتے بنتے رہ گیا“۔ان جیسے عنوانات سے آپ باخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ان کے اندر کیا کیا کہانیاں ہیں۔ان کہانیوں سے ڈاکٹر فاروق عادل صاحب نے دلیری سے پردہ اٹھایا ہے۔

    ”جب مؤرخ کے ہاتھ بندھے تھے“290صفحات کی ضخامت رکھتی ہے۔آخری صفحات پر سیاست دانوں،حکمرانوں اور تاریخی شخصیات کی تصاویر بھی دی گئی ہیں۔ڈاکٹر فاروق عادل اپنی مشاہدات اور تجربات بیان کرتے ہوئے مختلف کتب کے حوالے بھی دیتے ہیں۔یہاں سے باخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ لکھنے کے لیے مطالعہ بھی ضروری ہے جس طرح ڈاکٹر فاروق عادل کتب بینی کرتے ہیں اسی طرح ہمیں بھی تحریک ملتی ہے۔اچھی معیاری اور بہترین کتب سے جانکاری ہوتی ہے۔کتب بینی کا ذوق پروان چڑھتا ہے۔ان کے ہر مضمون میں آپ کو تاریخی کتب کے حوالے ملیں گے۔یوں آپ ایک کتاب پڑھتے ہوئے کئی کتب سے متعارف ہو جاتے ہیں۔اپنے ذوق کی تحسین کے لیے ان کتب کا مطالعہ بھی کر سکتے ہیں۔

    ”جب مؤرخ کے ہاتھ بندھے تھے“پہ اظہار ِ خیال کرتے ہوئے ”وجاہت مسعود“لکھتے ہیں:”ہر عہد میں چند افراد ہی ایسے ہوتے ہیں جو تاریخ میں اپنی نسل کا نشان بلکہ جواز قرار پاتے ہیں۔ڈاکٹر فاروق عادل کے اس دیرینہ نیاز مند کی رائے ہے کہ ہم عصر صحافیوں میں ڈاکٹر صاحب کا شمار ایسے ہی کم یاب قافلے کی صف اول میں ہوتا ہے۔ایسے عبقری اپنے زمانے کی پامال راہوں سے ہٹ کر راستہ نکالا کرتے ہیں۔ڈاکٹر فاروق عادل نے بھی رائج الوقت صحافت سے انحراف کرتے ہوئے کچھ ایسی خوبیوں کے جلو میں اپنی پہچان بنائی ہے جنھیں اپنانے اور استقلال سے نبھانے کے لیے پہاڑ ایسی استقامت کی گہرائی،صحافتی اقدار کی پیروی،زبان وبیان کی نتھری ہوئی سلاست،رائے کا اعتدال،دوست دشمن میں امتیاز کیے بغیر بے لاگ تجزیہ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ لب ولہجے کی ایسی متانت کہ مخالف رائے رکھنے والا بھی قائل ہو یا نہیں،کم از کم بد مزہ نہیں ہو سکتا۔“

    میں یہ کتاب”جب مؤرخ کے ہاتھ بندھے تھے“پڑھنے کے بعد وثوق سے کہ سکتا ہوں کہ وجاہت مسعود صاحب نے بالکل حق اور سچ کہا ہے۔میری دعا ہے ڈاکٹر فاروق عادل صاف ستھری صحافت کرتے رہیں اور تاریخ کے گم شدہ اوراق سے پردہ اٹھا کر ہمیں فیض یاب کرتے رہیں آمین۔