Baaghi TV

Category: بلاگ

  • سرکاری ڈاکٹر یا کاروباری شخصیت؟مظفرآباد کے مریضوں کا استحصال

    سرکاری ڈاکٹر یا کاروباری شخصیت؟مظفرآباد کے مریضوں کا استحصال

    سرکاری ڈاکٹر یا کاروباری شخصیت؟مظفرآباد کے مریضوں کا استحصال
    تحریر:سیدہ کنزا نقوی
    بات کی جائے سرکاری ہسپتالوں کی تو پاکستان بھر میں یہ حالات ہیں کہ مریض کا چیک اپ کروانے کے لیے سفارش کی ضرورت پڑتی ہے، اور اگر آپ کے پاس تگڑی سفارش نہ ہو تو پھر آپ کو پرائیویٹ ہسپتال میں ہی اپنا علاج معالجہ کروانے کے لیے جانا ہوگا، کیونکہ سرکاری ہسپتالوں میں بغیر سفارش کے آپ کو سہولیات ملنا نہ صرف مشکل بلکہ ناممکن بنا دی گئی ہیں۔ ایسا ہی حال آزاد کشمیر مظفرآباد کے سرکاری ہسپتالوں کا بھی ہے، جہاں پر بھی کئی حیران کن واقعات دیکھنے اور سننے کو ملتے ہیں۔ ڈاکٹرز کی غفلت سے مریض جان کی بازی ہار جاتے ہیں، غلط آپریشن کی وجہ سے مریض کی حالت بگڑ جاتی ہے یا سفارش نہ ہونے کی وجہ سے مریض کو داخل نہیں کیا جاتا۔

    یہ سارا خوف اس لیے پیدا کیا جاتا ہے کہ عوام سرکاری ہسپتالوں کے بجائے ان ڈاکٹروں کے پرائیویٹ کلینک پر چیک اپ کے لیے جائیں جو خود سرکاری ہسپتالوں میں تعینات ہیں۔ اکثر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جب مریض سرکاری ہسپتال میں ٹیسٹ وغیرہ کروانے جاتا ہے تو اسے ڈرایا جاتا ہے کہ سرکاری ہسپتالوں کی مشینری ناقابل اعتبار ہے جو کبھی چلتی ہے اور کبھی رک جاتی ہے۔ اس پر آنے والی ٹیسٹ رپورٹ بھی ناقابل اعتماد ہوتی ہے، اس لیے مریضوں کو پرائیویٹ کلینک جانے کا مشورہ دیا جاتا ہے، جہاں ان سے تسلی بخش چیک اپ کا وعدہ کیا جاتا ہے۔

    یوں مریضوں کو بدظن کر کے انہیں پرائیویٹ کلینک پر بلایا جاتا ہے اور پھر الٹراساؤنڈ، ایکسرے وغیرہ کے نام پر بھاری فیسیں وصول کی جاتی ہیں۔ جو مریض ان ڈاکٹروں کے نجی کلینک پر جانے سے انکار کر دے، اسے یہ کہہ کر ذلیل کیا جاتا ہے کہ سرکاری ہسپتال میں سہولیات کا فقدان ہے اور اسے ایسے نظرانداز کیا جاتا ہے جیسے وہ انسان نہیں بلکہ کوئی جانور ہو۔

    جو مریض سرکاری ہسپتال میں علاج معالجہ کے لیے آتے ہیں، اگر وہ پرائیویٹ ہسپتالوں اور کلینکوں کی بھاری فیس چکانے کی استطاعت رکھتے ہوں تو وہ کبھی بھی سرکاری ہسپتال کا رخ نہ کریں۔ پرائیویٹ کلینکوں پر ٹیسٹ کروانے کی بھاری فیسیں، جیسے 1900 روپے یا 1200 روپے الٹراساؤنڈ کے لیے، غریب مریضوں کے لیے ناقابل برداشت ہوتی ہیں۔

    یہاں یہ بات کرنا لازم ہے کہ اگر سرکاری ہسپتالوں میں تعینات ڈاکٹرز نے مریضوں کو اپنے پرائیویٹ کلینک پر بلا کر لوٹ مار کا سلسلہ جاری رکھنا ہے اور حکمران یونہی ان ڈاکٹروں کی غنڈہ گردی پر خاموش رہیں گے تو ان سرکاری ہسپتالوں کو بند کر دینا چاہیے تاکہ عوام کو یہ علم ہو کہ انہیں علاج کے لیے بھاری فیس ادا کرنی ہوگی۔

    حکومت وقت سے چند سوالات ہیں:

    کیا سرکاری ہسپتال کے ڈاکٹر کا نجی کلینک چلانا قانونی ہے؟
    کیا ان کلینکوں کو رجسٹرڈ کیا گیا ہے؟
    کیا حکومت اور متعلقہ ادارے ان کے خلاف کارروائی کریں گے؟

    عوام کا مطالبہ ہے کہ متعلقہ ادارے اس معاملے کی تحقیقات کریں اور عوام کے ساتھ ہونے والے اس استحصال کو روکیں کیونکہ سرکاری تنخواہ پر کام کرنے والے ڈاکٹروں کو نجی کلینک کے ذریعے مریضوں کا استحصال کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

  • آئیں گزرے سال کی خود احتسابی کریں ۔۔!!

    آئیں گزرے سال کی خود احتسابی کریں ۔۔!!

    آئیں گزرے سال کی خود احتسابی کریں ۔۔!!
    تحریرِ:شاہد نسیم چوہدری
    سال 2024 کی آخری سانسیں جاری ہیں اور ہمیں یہ موقع مل رہا ہے کہ ہم اپنی ذات کا احتساب کریں۔ یہ لمحہ نہ صرف اپنے اعمال پر غور کرنے کا ہے بلکہ اپنے معاشرے، ملک، اور انسانیت کے ساتھ کیے گئے رویوں کا جائزہ لینے کا بھی ہے۔ ایک ایسا موقع جو ہمیں اپنے ماضی کی غلطیوں کو درست کرنے، اپنی کامیابیوں کو سراہنے، اور اپنے مستقبل کو بہتر بنانے کی تحریک دیتا ہے۔

    سب سے پہلے ہمیں اپنی ذات کا جائزہ لینا ہوگا۔ کیا ہم نے اپنی ذاتی زندگی میں وہ مقاصد حاصل کیے جن کا عہد سال کے آغاز میں کیا تھا؟ کیا ہم نے اپنی روحانی، جسمانی، اور ذہنی صحت کا خیال رکھا؟ کیا ہم نے اپنے خاندان کے ساتھ وقت گزارا، ان کے جذبات کو سمجھا، اور ان کے مسائل حل کیے؟ کیا ہم نے اپنی اخلاقیات کو بہتر بنایا، یا وہی پرانی عادات برقرار رکھیں جو ہمیں نقصان پہنچاتی ہیں؟ہوسکتا ہے کہ ہم نے کچھ خواب پورے کیے ہوں، لیکن کیا وہ خواب محض ہماری ذاتی خوشی تک محدود تھے؟ کیا ہم نے اپنی زندگی کے فیصلوں میں دوسروں کی بھلائی کو شامل کیا؟ یہ سب سوالات ہمیں بتاتے ہیں کہ ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا۔

    ہم اس دنیا میں اکیلے نہیں جی رہے۔ ہمارا وجود دوسروں کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ اس سال ہم نے کتنے لوگوں کا بھلا کیا؟ کیا ہم نے ضرورت مندوں کی مدد کی؟ کیا ہم نے اپنے پڑوسیوں کے دکھ سکھ میں شرکت کی؟کیا ہم نے اپنے اردگرد کے لوگوں کے جذبات اور مسائل کو سمجھا؟ یہ سوالات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ ہم سے محبت، عزت، اور تعاون کی توقع کرتا ہے۔ اگر ہم نے ان اقدار پر عمل نہیں کیا تو ہمیں اپنی اصلاح کرنی ہوگی۔

    پاکستان ایک عظیم نعمت ہےمگر اس کی ترقی اور خوشحالی میں ہم نے کیا کردار ادا کیا؟ کیا ہم نے اپنے ملک کی بھلائی کے لیے کوئی مثبت قدم اٹھایا؟ کیا ہم نے اپنی ذمہ داریاں ادا کیں، جیسے ٹیکس دینا، قوانین کی پابندی کرنا، اور اپنے فرائض ایمانداری سے انجام دینا؟ کیا ہم نے اپنے معاشرے میں تعلیم، صحت، یا انصاف کی بہتری کے لیے کوئی عملی کام کیا؟
    اگر ہم نے ان میں سے کسی بھی میدان میں کردار ادا نہیں کیا، تو ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لیے کیا ورثہ چھوڑ رہے ہیں۔

    خود احتسابی کی اہمیت بہت زیادہ ہے، لیکن خوداحتسابی ایک مشکل مگر ضروری عمل ہے۔ یہ ہمیں اپنی خامیوں کو تسلیم کرنے اور اپنی غلطیوں کو درست کرنے کا موقع دیتا ہے۔ ہمیں اپنی زندگی کے ان پہلوؤں کو دیکھنا ہوگا جو ہمیں دوسروں کے لیے مفید بنا سکتے ہیں۔ ہمیں اپنی زندگی کے وہ مقاصد ترتیب دینے ہوں گے جو نہ صرف ہماری بلکہ معاشرے کی بھلائی کے لیے ہوں۔

    آؤ نیا عہد کریں آنے والے سال کی منصوبہ بندی کریں۔ سال 2024 ختم ہونے کو ہے اور 2025 ہماری دہلیز پر دستک دے رہا ہے۔ اب وقت ہے نئے عہد کرنے کا۔ ہم عہد کریں کہ آنے والے سال میں ہم دوسروں کے لیے زیادہ حساس ہوں گے۔ہم عہد کریں کہ اپنی ذات کے ساتھ ساتھ ملک و قوم کی بھلائی کے لیے بھی کام کریں گے۔ ہم عہد کریں کہ اپنی صلاحیتوں کو انسانیت کی خدمت کے لیے بروئے کار لائیں گے۔

    ایک نئی صبح کا آغاز خود احتسابی کا عمل ہمیں بہتر انسان بننے کا موقع دیتا ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم دنیا میں محض اپنی خواہشات پوری کرنے نہیں آئے بلکہ ایک مقصد کے تحت بھیجے گئے ہیں۔اگر ہم نے اس سال غلطیاں کیں تو وہ ہماری ناکامی نہیں بلکہ ہماری اصلاح کا موقع ہیں۔ ہمیں اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے نئے عزم اور ولولے کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ یہی کامیاب زندگی کی اصل کنجی ہے۔

    2024 کا سال ہماری تاریخ کا ایک اور باب بن گیا، لیکن کیا ہم نے پاکستان کے لیے وہ کچھ کیا جو ہمارا فرض تھا؟ کیا ہم نے اپنے وطن کو اس کا حق دیا؟ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیں، کیا ہم نے ایمانداری، محنت اور حب الوطنی کا مظاہرہ کیا؟ یا صرف خواب دیکھے اور دوسروں پر الزام تراشی کی؟
    پاکستان ہمیں ایک نعمت کی صورت میں ملا، مگر کیا ہم نے اسے سنوارنے میں اپنا کردار ادا کیا؟ کیا ہم نے اپنے ارد گرد کی ناانصافیوں کے خلاف آواز بلند کی؟ کیا ہم نے اپنے بچوں کو سچائی اور دیانت داری کا سبق دیا؟

    آئیں، اپنے وعدے یاد کریں اور عہد کریں کہ 2025 میں ہم اپنے پاکستان کے لیے وہ سب کریں گے جو اس کا حق ہے۔ یہ زمین ہم سے قربانی مانگتی ہے، محبت مانگتی ہے۔ آئیے، اسے وہ سب لوٹائیں جو اس کا ہے۔

  • حسان نیازی کا پیغام نوجوانوں کے نام۔۔۔

    حسان نیازی کا پیغام نوجوانوں کے نام۔۔۔

    حسان نیازی کا پیغام نوجوانوں کے نام۔۔۔
    تحریر:شاہد نسیم چوہدری
    جب تاریخ کا فیصلہ لکھا جائے گا، تو وقت کی گرد میں چھپے کئی راز بے نقاب ہوں گے۔ 9 مئی کا دن پاکستان کی سیاست کے لیے ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے، جہاں ایک تحریک نے اپنے پیروکاروں کو جنونیت کی حد تک دھکیل دیا۔ آج ان واقعات کے نتیجے میں 60 مزید افراد کو فوجی عدالتوں نے سزائیں سنائی ہیں، اس سے پہلے 80 افراد کو سزائیں سنائی جا چکی ہیں اور اب عمران خان کے بھانجے حسان نیازی کو 10 سال قید بامشقت کا سامنا ہے۔

    لیکن ان سزاؤں سے زیادہ اہم، حسان نیازی کے وہ الفاظ ہیں جو انہوں نے عدالت میں اپنی بے بسی کے عالم میں کہے "میں نے اپنے ماموں عمران خان کے لیے جو قربانیاں دیں، ان کا صلہ یہ ہے کہ ڈیڑھ سالہ قید کے دوران نہ تحریک انصاف نے مجھے پوچھا اور نہ ہی عمران خان نے۔

    یہ الفاظ کسی ایک فرد کی کہانی نہیں، بلکہ ان ہزاروں نوجوانوں کی داستان ہیں جو ایک خواب کے پیچھے اپنی زندگیاں برباد کر بیٹھے۔ ایک ایسا خواب جسے خوابوں کے سوداگر بیچتے ہیں اور عام لوگ اس کے دام میں آ کر اپنے مستقبل کا سودا کر لیتے ہیں۔ حسان نیازی جیسے بے شمار افراد، جنہوں نے اپنے گھر بار، عزت اور آزادی کو ایک تحریک کے لیے قربان کیا، آج اپنی تنہائی اور بے بسی پر ماتم کناں ہیں۔ انہوں نے ایک ایسے لیڈر پر بھروسہ کیا جو ان کی امیدوں کا مرکز تھا، لیکن وقت نے ثابت کیا کہ یہ بھروسہ یک طرفہ تھا۔

    حسان کا گلہ ایک چیخ ہے، جو ان تمام لوگوں کے لیے سبق ہے جو شخصی عقیدت کے اندھے پیچھے چلتے ہیں۔ تحریک انصاف اور اس کی قائدانہ بے حسی کی واضح مثال دیکھنی ہے تو حسان نیازی کی داستان تحریک انصاف کی قیادت کی بے حسی کا مظہر ہے۔ سیاسی قیادت کا اصل امتحان تب ہوتا ہے جب ان کے کارکنان مشکل حالات میں ہوں۔ لیکن یہاں معاملہ مختلف ہے۔ تحریک انصاف کے رہنما اپنے کارکنوں کی حالتِ زار سے بے نیاز نظر آتے ہیں۔ عمران خان جو ایک وقت میں "کپتان” کہلاتے تھے، آج وہ اور ان کی جماعت تحریک انصاف اپنے قریبی قید ہو جانے والے ساتھیوں کے لیے بھی کوئی وقت نہیں نکال پا رہے۔

    یہ رویہ اس بات کا عکاس ہے کہ تحریک انصاف کے کارکن صرف ایک زینے کی حیثیت رکھتے ہیں، جنہیں اقتدار کے حصول کے لیے استعمال کیا گیا۔ نوجوان نسل کے لیے سبق ہے اور یہ وقت ان تمام نوجوانوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے جو سیاسی تحریکوں کا حصہ بننے کے لیے اپنی زندگیاں داؤ پر لگاتے ہیں۔ جذبات، عقیدت اور جوش و خروش وقتی ہوسکتے ہیں، لیکن ان کے اثرات نسلوں تک چلتے ہیں۔ حسان نیازی کے الفاظ ایک آئینہ ہیں، جس میں ہر نوجوان کو اپنا عکس دیکھنا چاہیے۔ کیا کسی تحریک کے لیے اپنی آزادی، عزت اور مستقبل کو قربان کرنا واقعی قابلِ ستائش ہے؟

    سیاست دان چاہے کسی بھی جماعت سے ہوں، خواب بیچنے کے ماہر ہوتے ہیں۔ وہ عوام کو ایک ایسا مستقبل دکھاتے ہیں جو حقیقت سے کوسوں دور ہوتا ہے۔ تحریک انصاف نے بھی یہی کیا، نوجوانوں کو تبدیلی کے خواب دکھائے اور ان کے جوش و خروش کا استعمال کیا۔ لیکن جب وقت آیا کہ ان کے حقوق کا تحفظ کیا جائے، تو یہ خواب فروش اپنی جادوئی جھولی لپیٹ کر غائب ہوگئے۔

    حسان نیازی کا پیغام ان تمام افراد کے لیے ایک وارننگ ہے جو کسی بھی سیاسی جماعت کے پیچھے اپنی اندھی عقیدت کو قربان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، "خدارا، ایسے لوگوں کے پیچھے نہ لگیں اور اپنے مستقبل کو تاریک نہ کریں۔” ان کے یہ الفاظ ان تمام لوگوں کے لیے ایک سبق ہیں جو سیاست کو جذبات کی بجائے شعور سے سمجھنے کی ضرورت کو نظر انداز کرتے ہیں۔ ہمیں سوچنا ہوگا کہ کیا ہم اپنی نسلوں کو ایسے ہی خواب فروشوں کے حوالے کرتے رہیں گے؟ کیا ہمارا مستقبل انہی وعدوں کے پیچھے گم ہوتا رہے گا جو کبھی وفا نہیں ہوتے؟

    حسان نیازی جیسے نوجوانوں کی قربانی ہمیں اس بات کی یاد دہانی کرواتی ہے کہ سیاستدان آتے جاتے رہتے ہیں، لیکن ان کے وعدوں کی قیمت عام عوام چکاتی ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم خوابوں کے سوداگروں کی حقیقت کو پہچانیں اور اپنی آنکھیں کھول کر اپنے فیصلے کریں۔ اگر ہم نے آج سبق نہ سیکھا تو کل ہماری آنے والی نسلیں بھی ان خوابوں کے جال میں پھنس کر اپنی زندگیاں برباد کریں گی۔

    جو مجرمان تحریک انصاف کے جھانسے میں آ کر اپنی زندگیاں برباد کر بیٹھے اور سزائیں پا چکے ہیں، وہ درج ذیل ہیں، 9 مئی کے حوالے سے حسان نیازی سمیت مزید 60 مجرموں کو سزائیں سنا دی گئی ہیں، ان میں جناح ہاؤس حملے میں ملوث بانی پی ٹی آئی عمران خان کے بھانجے حسان خان نیازی ولد حفیظ اللہ نیازی کو 10 سال قید بامشقت، میاں عباد فاروق ولد امانت علی کو 2 سال قید بامشقت، رئیس احمد ولد شفیع اللہ کو 6 سال قید بامشقت، ارزم جنید ولد جنید رزاق کو 6 سال قید بامشقت اور علی رضا ولد غلام مصطفی کو 6 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی۔

    جی ایچ کیو حملے میں ملوث راجہ دانش ولد راجہ عبدالوحید کو 4 سال قید بامشقت اور سید حسن شاہ ولد آصف حسین شاہ کو 9 سال قید بامشقت کی سزا سنا دی گئی ہے۔ اے آئی ایم ایچ راولپنڈی پر حملے میں ملوث علی حسین ولد خلیل الرحمان کو 7 سال قید بامشقت، پنجاب رجمنٹ سنٹر مردان پر حملے میں ملوث زاہد خان ولد محمد نبی کو 2 سال قید بامشقت کی سزا ہوئی ہے۔ سانحہ 9 مئی میں ملوث مزید 60 مجرمان کو سزائیں سنا دی گئی ہیں، ان سزا پانے والے دیگر ملزمان میں ہیڈکوارٹر دیر سکاؤنٹس تیمرگرہ پر حملے میں ملوث سہراب خان ولد ریاض خان کو 4 سال قید بامشقت، جناح ہاؤس حملے میں ملوث بریگیڈئر (ر) جاوید اکرم ولد چودھری محمد اکرم کو 6 سال قید بامشقت،

    ملتان کینٹ چیک پوسٹ حملے میں ملوث خرم لیاقت ولد لیاقت علی شاہد کو 4 سال قید بامشقت سنا دی گئی ہے۔ قلعہ چکدرہ حملے میں ملوث ذاکر حسین ولد شاہ فیصل کو 7 سال قید بامشقت، بنوں کینٹ حملے میں ملوث امین شاہ ولد مشتر خان کو 9 سال قید بامشقت، پی ایف بیس میانوالی حملے میں ملوث فہیم ساجد ولد محمد خان کو 8 سال قید بامشقت، فیصل آباد آئی ایس آئی آفس حملے میں ملوث حمزہ شریف ولد محمد اعظم کو 2 سال قید بامشقت، جناح ہاؤس حملے میں ملوث محمد ارسلان ولد محمد سراج کو 7 سال قید بامشقت، جناح ہاؤس حملے میں ملوث محمد عمیر ولد عبدالستار کو 6 سال قید بامشقت، جناح ہاؤس حملے میں ملوث نعمان شاہ ولد محمود احمد شاہ کو 4 سال قید بامشقت اور بنوں کینٹ حملے میں ملوث اکرام اللہ ولد خانزادہ خان کو 9 سال قید بامشقت کی سزا ہوئی ہے۔

    راہوالی گیٹ گوجرانوالہ حملے میں ملوث محمد احمد ولد محمد نذیر کو 2 سال قید بامشقت، ملتان کینٹ چیک پوسٹ حملے میں ملوث پیرزادہ میاں محمد اسحق بھٹہ ولد پیرزادہ میاں قمرالدین بھٹہ کو 3 سال قید بامشقت، جی ایچ کیو حملے میں ملوث محمد عبداللہ ولد کنور اشرف خان کو 4 سال قید بامشقت، فیصل آباد آئی ایس آئی آفس حملے میں ملوث امجد علی ولد منظور احمد کو 2 سال قید بامشقت اور جناح ہاؤس حملے میں ملوث محمد رحیم ولد نعیم خان کو 6 سال قید بامشقت کی سزا دیدی گئی ہے۔ پی اے ایف بیس میانوالی حملے میں ملوث احسان اللہ خان ولد نجیب اللہ خان کو 10 سال قید بامشقت، راہوالی گیٹ گوجرانوالہ حملے میں ملوث منیب احمد ولد نوید احمد بٹ کو 2 سال قید بامشقت، فیصل آباد آئی ایس آئی آفس حملے میں ملوث محمد علی ولد محمد بوٹا کو 2 سال قید بامشقت،

    بنوں کینٹ حملے میں ملوث سمیع اللہ ولد میر داد خان کو 2 سال قید بامشقت اور جناح ہاؤس حملے میں ملوث میاں محمد اکرم عثمان ولد میاں محمد عثمان کو 2 سال قید بامشقت کی سزا سنا دی گئی ہے۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث مدثر حفیظ ولد حفیظ اللہ کو 6 سال، جناح ہاؤس حملے میں ملوث سجاد احمد ولد محمد اقبال کو 4 سال، بنوں کینٹ حملے میں ملوث خضر حیات ولد عمر قیاض خان کو 9 سال، راہوالی گیٹ گوجرانوالہ کینٹ حملے میں ملوث محمد نواز ولد عبدالصمد کو 2 سال، پی اے ایف بیس میانوالی حملے میں ملوث محمد بلال ولد محمد افضل کو 4 سال قید بامشقت کی سزائیں دی گئی ہیں۔

    ہیڈکوارٹر دیر سکاؤٹس تیمرگرہ حملے میں ملوث محمد سلیمان ولد سِیعد غنی جان کو 2 سال قید بامشقت، ہیڈکوارٹر دیر سکاؤٹس تیمرگرہ حملے میں ملوث اسد اللہ درانی ولد بادشاہ زادہ کو 4 سال قید بامشقت، چکدرہ قلعے پر حملے میں ملوث اکرام اللہ ولد شاہ زمان کو 4 سال قید بامشقت، فیصل آباد آئی ایس آئی آفس حملے میں ملوث محمد فرخ ولد شمس تبریز کو 5 سال قید بامشقت اور جناح ہاؤس حملے میں ملوث وقاص علی ولد محمد اشرف کو 6 سال قید بامشقت دیدی گئی ہے۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث امیر ذوہیب ولد نذیر احمد شیخ کو 4 سال، اے آئی ایم ایچ راولپنڈی حملے میں ملوث فرہاد خان ولد شاہد حسین کو 7 سال،

    ہیڈکوارٹر دیر سکاؤٹس تیمرگرہ حملے میں ملوث عزت خان ولد اول خان کو 2 سال، راہوالی گیٹ گوجرانوالہ کینٹ حملے میں ملوث اشعر بٹ ولد محمد ارشد بٹ کو 2 سال اور بنوں کینٹ حملے میں ملوث ثقلین حیدر ولد رفیع اللہ خان کو 9 سال قید بامشقت کی سزائیں دی گئی ہیں۔ فیصل آباد آئی ایس آئی آفس حملے میں ملوث محمد سلمان ولد زاہد نثار کو 2 سال قید بامشقت، ملتان کینٹ چیک پوسٹ حملے میں ملوث حامد علی ولد سید ہادی شاہ کو 3 سال قید بامشقت، راہوالی گیٹ گوجرانوالہ کینٹ حملے میں ملوث محمد وقاص ولد ملک محمد کلیم کو 2 سال قید بامشقت، بنوں کینٹ حملے میں ملوث عزت گل ولد میردادخان کو 9 سال قید بامشقت اور جناح ہاؤس حملے میں ملوث حیدر مجید ولد محمد مجید کو 2 سال قید بامشقت کی سزا دیدی گئی ہے۔

    جناح ہاؤس حملے میں ملوث گروپ کیپٹن وقاص احمد محسن(ریٹائرڈ) ولد بشیر احمد محسن کو 2 سال قید بامشقت ہیڈکوارٹر دیر سکاؤٹس تیمر گرہ حملے میں ملوث محمد الیاس ولد محمد فضل حلیم کو 2 سال قید بامشقت، گیٹ ایف سی کینٹ پشاور حملے میں ملوث محمد ایاز ولد صاحبزادہ خان کو 2 سال قید بامشقت، چکدرہ قلعے حملے میں ملوث رئیس احمد ولد خستہ رحمان کو 4 سال قید بامشقت اور چکدرہ قلعے حملے میں ملوث گوہر رحمان ولد گل رحمان کو 7 سال قید بامشقت کی سزاؤں کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ بنوں کینٹ حملے میں ملوث نیک محمد ولد نصر اللہ جان کو 9 سال قید بامشقت، فیصل آباد آئی ایس آئی آفس حملے میں ملوث فہد عمران ولد محمد عمران شاہد کو 9 سال قید بامشقت، راہوالی گیٹ گوجرانوالہ کینٹ حملے میں ملوث سفیان ادریس ولد ادریس احمد کو 2 سال قید بامشقت، بنوں کینٹ حملے میں ملوث رحیم اللہ ولد بیعت اللہ کو 9 سال قید بامشقت جبکہ بنوں کینٹ حملے میں ملوث خالد نواز ولد حامد خان کو 9 سال قید بامشقت کی سزا دیدی گئی ہے۔

    اس کے ساتھ ہی فوجی حراست میں لیے جانے والے 9 مئی کے ملزمان پر چلنے والے مقدمات کی سماعت متعلقہ قوانین کے تحت مکمل کر لی گئی ہے۔ فیصلہ میں بتایا گیا ہے کہ تمام مجرموں کے پاس اپیل کا حق اور دیگر قانونی حقوق برقرار ہیں، جیسا کہ آئین اور قانون میں ضمانت دی گئی ہے۔ یاد رہے کہ سانحہ 9 مئی میں ملوث حسان نیازی سمیت مزید 60 مجرمان کو سزائیں سنا دی گئیں۔ حسان نیازی نے نوجوانوں کے نام پیغام دیا ہے خدارا! ان سیاسی دھوکے بازوں سے بچ جاؤ۔ میں عمران خان کا بھانجا ہوں، میں نے جو کچھ کیا عمران خان کے لیے کیا۔۔۔۔لیکن کسی نے بھی میری مدد نہیں کی۔ سوائے میرے باپ کے، کسی نے بھی مجھے پوچھا تک نہیں۔۔۔۔اگر میرے ساتھ یہ سلوک ہوا ہے۔۔تو آپ کے ساتھ کیا ہوگا۔۔۔۔بچ جاؤ ان سے۔۔ان کے ورغلانے سے۔۔۔ان کے جھانسے سے۔۔۔یہی پیغام ہے حسان نیازی کا نوجوانوں کے نام۔۔۔۔۔

  • ایف آئی اے اور یونان کشتی حادثہ، وزیراعظم کی برہمی ، انصاف کب ہوگا؟

    ایف آئی اے اور یونان کشتی حادثہ، وزیراعظم کی برہمی ، انصاف کب ہوگا؟

    ایف آئی اے اور یونان کشتی حادثہ، وزیراعظم کی برہمی ، انصاف کب ہوگا؟
    تحریر: ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    یونان کشتی حادثے میں 40 سے زائد پاکستانیوں کی ہلاکت نے نہ صرف ہمارے عدالتی اور انتظامی نظام کی ناکامی کو بے نقاب کیا بلکہ اس نے ایک اور گہرا سوال بھی اٹھایا ہے: کیا ہم نے اپنے نظام انصاف میں اتنی خامیاں پال رکھی ہیں کہ اس قسم کے سانحات روز مرہ کا حصہ بن گئے ہیں؟ یہ واقعہ صرف ایک دردناک سانحہ نہیں بلکہ ہمارے معاشرتی، سیاسی اور قانونی ڈھانچے میں موجود گہری خرابیوں کا عکس ہے۔ اس حادثے کی اصل حقیقت کا پتا لگانے کی کوششیں جاری ہیں، لیکن اس دوران سامنے آنے والے انکشافات نے حکومت اور اداروں کے کردار پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

    انسانی اسمگلنگ میں ملوث ہونے والے ایف آئی اے کے 31 اہلکاروں نے ثابت کر دیا کہ ہمارے قانون نافذ کرنے والے ادارے اب خود جرم کی معاونت کرنے والے بن چکے ہیں۔ ان افسران کی ذمہ داری تھی کہ وہ شہریوں کو تحفظ فراہم کریں، لیکن وہ خود اسمگلرز کی مدد کر کے معصوم افراد کی زندگیوں کے ساتھ کھیلتے رہے۔ فیصل آباد، سیالکوٹ، لاہور، اسلام آباد اور کوئٹہ جیسے اہم ایئرپورٹس سے یہ مجرمانہ سرگرمیاں جاری رہیں۔ جب قانون کے رکھوالے ہی اپنے فرض میں ناکام ہوں تو عوام کس سے انصاف کی امید رکھیں؟ ان افسران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ نہ صرف جائز ہے بلکہ اس سے یہ بھی ثابت ہو گا کہ حکومت اپنی انتظامی ناکامیوں کو سنجیدہ لے رہی ہے۔

    ان اہلکاروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیراعظم کی برہمی اور ایک ہفتے کی ڈیڈلائن قابل تعریف ہے مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس برہمی کے بعد کوئی ٹھوس اقدامات سامنے آئیں گے؟ کیا ان انسانیت کے دشمن اہلکاروں کو عبرتناک سزا دی جائے گی؟ یا یہ معاملہ بھی دیگر سانحات کی طرح فائلوں کی گرد میں دب جائے گا؟ ماضی اس بات کا گواہ ہے کہ رشوت، سیاسی سرپرستی اور عدالتی کمزوریوں کی وجہ سے مجرم نہ صرف آزاد ہو جاتے ہیں بلکہ وہ دوبارہ اپنے دھندے کو نیا روپ دے کر چلانا شروع کر دیتے ہیں۔ یونان کشتی حادثے کے ذمہ داروں کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانا اور بے رحم انصاف ہماری عدلیہ اور انتظامیہ کی ساکھ کے لیے اہم ہے۔

    اگر ہم نے یہ موقع ضائع کر دیا اورحادثہ کے شکارنوجوانوں کو انصاف نہ دلایا تو ہماری انصاف کی فراہمی کی تاریخ میں ایک اور سیاہ باب کا اضافہ ہوجائے گا، جسے ہمیشہ یاد رکھاجائے گا۔یہ مسئلہ صرف چند کرپٹ اہلکاروں تک محدود نہیں۔ یہ ایک منظم اور وسیع تر نیٹ ورک کا حصہ ہیں جو یہ غیر قانونی دھندہ اپنے سیاسی سرپرستوں کے زیرسایہ انجام دیتے ہیں۔ انسانی اسمگلنگ کے اس دھندے میں ملوث افراد اپنے سیاسی اثرورسوخ کا فائدہ اٹھا کر مقدمات کو کمزورکراتے ہیں اور انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالتے ہیں۔ ان افراد کے نیٹ ورک کی گرفتاری اور ان کی مالی تحقیقات کا عمل اس بات کا ثبوت ہو گا کہ حکومت اس مسئلے کو نہ صرف سنجیدہ لے رہی ہے بلکہ اس کا حقیقی حل بھی چاہتی ہے۔

    اگرچہ وزیراعظم نے اس معاملے میں فوری اقدامات کی ہدایت کی ہے اور برہمی کا جواظہار کیاہے، وقت کا تقاضا ہے کہ اس معاملے پر عملی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ کسی بھی قسم کی بے حسی یا تاخیر عوام کا اعتماد مزید متزلزل کرے گی۔ اس سانحہ کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کیلئے ایک نئی حکمت عملی کی ضرورت ہے تاکہ انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑا جا سکے۔ ایف آئی اے اور دیگر اداروں کی نگرانی کے لیے آزاد کمیشن قائم کرنا اور سیاسی سرپرستی کو ختم کرنے کے لیے سخت قانون سازی کی ضرورت ہے۔

    یونان کشتی حادثہ ہمارے اداروں اور حکومتی عملداروں کے لیے ایک سنہری موقع ہے کہ وہ نظام میں موجود گہری خامیوں کو نہ صرف تسلیم کریں بلکہ ان کی اصلاح کے لیے فوری اور مئوثرقدامات کریں۔ یہ سانحہ ایک تلخ حقیقت کی صورت میں سامنے آیا ہے کہ اگر ہم نے اس گھناؤنے جرم کے خاتمے کے لیے اس وقت سنجیدہ اور ٹھوس اقدامات نہ کیے تو مسائل نہ صرف جوں کے توں رہیں گے بلکہ وہ مزید پیچیدہ اور سنگین ہو جائیں گے۔

    اب وقت آ گیا ہے کہ ہمارے اربابِ اختیار اپنی ترجیحات پر نظرثانی کریں، عوامی شعور بیدار کریں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نظام کو شفاف اور مئوثربنائیں تاکہ مستقبل میں نہ تو کوئی معصوم شہری اس کرپٹ نیٹ ورک کا شکار ہو اور نہ ہی ہمارے اداروں کی ناکامی کی وجہ سے مزید زندگیاں تباہ ہوں۔ یہ نہ صرف ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے بلکہ ہم سب کا اجتماعی فرض ہے کہ اس سانحہ کے بعد انصاف کی آواز بلند کریں تاکہ انصاف ہوتا ہوا نظر آئے۔

  • بھارتی دہشت گردی، پاکستان کا دفاع اور ٹرمپ کی پالیسی، تجزیہ : شہزاد قریشی

    بھارتی دہشت گردی، پاکستان کا دفاع اور ٹرمپ کی پالیسی، تجزیہ : شہزاد قریشی

    پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان کسی عالمی طاقت کے توازن میں بگاڑ کے لئے کسی بھی قسم کے عزائم نہیں رکھتا یہ بات امریکہ سمیت مغربی ممالک جانتے ہیں کہ بائیڈن انتظامیہ نے پاکستان کے بارے میں ایک متنازعہ فیصلہ کیاہے۔ بائیڈن انتظامیہ کے فیصلے کو لے کر ہمارے سیاستدانوں نے دلیل کے بجائے غلیل اٹھا لی ہے جیسا کہ ملک کے صدر آصف علی زرداری اوربلاول بھٹو نے اپنی تقریر میں امریکہ کو للکارا ہے۔ یہ جانتے ہوئے کہ بائیڈن انتظامیہ اور ٹرمپ انتظامیہ کی خارجہ پالیسی میں بہت فرق ہے ۔ ٹرمپ انتظامیہ کی پاکستان کے بارے کیا پالیسی ہوگی ۔ بہت ہی تھوڑا فاصلہ باقی ہے۔ امریکہ اور مغربی ممالک جانتے ہیں کہ بھارت پاکستان کو لیکر کس پالیسی پر گامزن ہے ۔ بھارت کے جارحانہ عزائم سے امریکہ سمیت عالمی قوتیں آگاہ ہیں اور پاکستان کو اپنی سلامتی اور بقا کو برقرار رکھنے کے لئے اپنا دفاع مضبوط رکھنے کا پورا حق ہے۔پاکستان کے دفاع کو مستحکم دیکھ کر بھارت کو تکلیف ہے۔ بھارت نے خود خطے میں سب سے زیادہ تباہ کن ہتھیار حاصل کئے ہوئے ہیں ۔ عالمی طاقتوں سے دفاعی نظام حاصل کر رکھا ہے ۔ اُمید ہے کہ آنے والی ٹرمپ انتظامیہ بائیڈن انتظامیہ کے ان فیصلوں پر عمل نہیں کرے گی امریکہ اور پاکستان دونوں اتحادی ملک ہیں پاکستان نے 9/11 کے بعددہشت گردی کے خاتمے کے لئے جانی و مالی قربانیاں دی ہیں۔ آج تک پاکستان دہشت گردی کی زدمیں ہے ۔عالمی دنیا یہ بھی جانتی ہے کہ افغانستان میں قیام امن کے لئے پاکستان کا کردار کیا رہا اور بھارت افغانستان میں قیام امن کو برباد کرنے کا کردار ادا کرتا ہے۔ دہشت گردوں کی پشت پناہی میںملوث رہا جبکہ پاکستان میں دہشت گردی میں بھی ملوث رہا جس کا ثبوت پاکستان کے پاس موجود ہے۔ نئی آنے والی ٹرمپ انتظامیہ کو بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے ۔ مشرق وسطیٰ سمیت روس یوکرین جنگ عالمی تجزیہ نگاروں کے مطابق مشرق و سطیٰ میں طویل جنگ نہیں چاہتے جبکہ امریکی دفاعی ادارے چین کو امریکی طاقت اور مفاعدات کے لئے سب سے زیادہ ممکنہ چیلنجز کے طورپر دیکھ رہے ہیں۔ٹرمپ کے پاس عالمی دنیا کے لئے نئی خارجہ پالیسی کا تعین کرنے کا اہم اختیار ہوگا۔ پاکستان کو یاد رکھنا چاہیئے کہ2025 وائٹ ہائوس کی خارجہ پالیسی کا نقطہ نظر 2024 بائیڈن انتظامیہ سے مختلف ہوگا۔ پاکستا ن کو نئی ٹرمپ انتظامیہ کو دلیل کے ساتھ اپنے دفاع اور دیگر مسائل سے آگاہ کرنا ہوگا۔سیاسی جماعتوں کو غلیل سے نہیں دلیل کے ساتھ نئی امریکی انتظامیہ کے ساتھ بات کرنا ہوگی۔

    (تجزیہ شہزاد قریشی)

  • کیا مادری زبان انسانی معاشرے میں یکجہتی،ادب اور ثقافتی شعورکا نام ہے؟

    کیا مادری زبان انسانی معاشرے میں یکجہتی،ادب اور ثقافتی شعورکا نام ہے؟

    کیا مادری زبان انسانی معاشرے میں یکجہتی،ادب اور ثقافتی شعورکا نام ہے؟
    تحریر :ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھرجلالوی
    ہر سال اقوام متحدہ کی طرف سے 21 فروری کو مادری زبانوں کی اہمیت و افادیت کے حوالے سے دنیا میں دن منایا جاتا ہے۔مادری زبان کیا ہے؟ اس کی سماج میں کیا حیثیت ہے؟ اس کا انسانیت کی بقاء و خوشحالی میں کوئی کلیدی کردار ہے؟چند سوالات کی تحقیقات کے بعد ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگر کائنات کی تخلیق میں مرکزی اہمیت موضوع انسان ہے تو پھر لسان کی بدولت انسان عظیم سے عظیم تر، فن سے فنون لطیفہ تک ہر شے کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔ہر چیز کی سجاوٹ زبان کی بدولت ممکن ہوئی ہے۔نامعلوم سے معلوم تک ، زمین سے آسمان تک کا ناقابل تسخیر سفر زبان کا مرہون منت ہے۔جس کو لینگویج بھی کہا جاتا ہے۔

    علم وادب کے سارے خزانوں کی چابی مادری زبان ہے،جس کو عرف عام میں ماں بولی سے بھی جانا جاتا ہے۔زبان سے ادب اور ادب سے معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔دنیا کے پہلے انسان نے ماں بولی میں اپنے اندرونی و بیرونی احساسات و جذبات کو پرکھا ہوگا۔دنیا کے تمام مذاہب کی روحانی اخلاقی اقدار کی کتابوں میں مادری زبانوں کے نمونے نمایاں ہیں۔قرآن مجید مختلف زبانوں اور قبائل کے گروہ سے انسانوں کی شناخت کرتاہے۔آدمی اپنی مشکل کو حل کرنے کے لیے ہمیشہ مادری زبان کا سہارا لیتا ہے۔جو لوگ مادری زبانوں سے محبت نہیں کرتے دراصل وہ لوگ اپنے انسان نہ ہونے کی دلیل پیش کرتے ہیں۔احترام آدمیت ہی اصل میں محبت واتحاد انسانیت ہے۔درخت اگر جسم ہے تو پھل یعنی رس اس کی روشن روح ہے۔

    ہر عہد میں ہر نبی نے لوگوں کو ان کی ماں بولی میں فلسفہ حقانیت و واحدنیت کی تلقین کرتے رہے۔دنیاکی خوبصورتی و خوشحالی عورت سے مزین ہے۔عورت جس کا حسین ترین چہرہ ماں کی شکل میں ہے۔آج بھی بچہ اپنی ممتا کی گود میں سکون واطمینان اور مکمل اعتماد و آزادی محسوس کرتا ہے۔خود اللہ کریم نے انسان سے محبت کے پیمانے کو ماں سے ستر گناہ زیادہ محبت سے تشبیہ دی ہے۔اگر ماں سے بچے کی تہذیب وتمدن اور معاشرہ میں اخلاقیات کی ضرورت پوری ہوتی ہے تو دراصل ماں سے محبت اور روحانی فیض مادری زبان کے بحر بیکراں سے ممکن ہے۔ماں باپ کا احترام اصل میں ماں بولی کے احترام کا عملی آغاز ہے۔ماں کا دودھ اور اس کی شہد جیسی مٹھاس بھری تربیت ہر ایک کو دنیا کا کامیاب تجربہ کار انسان بناتی ہے۔انسان کے بہترین فہم وشعور کی پہلی درسگاہ ماں کی لوری اور ماں بولی ہی ہے۔یہ وہ شیشہ ہے جس میں انسان کی علمی،ادبی،روحانی،سماجی،تاریخی اور ثقافتی ورثے کی ہر ممکن چیز نظر آتی ہے۔بچہ دل و دماغ میں سب سے پہلے ماں کی خوبصورت فکری خوشبو بھری آواز سے اپنے آپ کو معطر کرتاہے۔

    دنیا کی کسی بھی لسان یا زبان سے نفرت کا مطلب انسان کے وجود اور احترام انسانیت کے فلسفے کو جلانے کے مترادف ہے۔انسان کے اپنے ضمیر کی ہر بات کو یقینی آسان ترین طریقے سے صرف مادری زبان میں ہی ابلاغ کرسکتا ہے۔مادری زبان آپس میں اتحاد،یکجہتی اور احساس محبت کو فروغ دیتی ہے۔حسد اور نفرت کوختم کرتی ہے۔ایک دوسرے کے ساتھ خوشحالی اور تعمیر نو کا سبب بنتی ہے۔پاکستان ایک کثیر خوبصورت زبانوں اور ثقافتوں کا محبتوں بھرا اعجاز و گلدستہ ہے۔پاکستان کی تمام مقامی زبانیں قومیت و اتحاد کا مضبوط ترین چہرہ ہیں۔ہر زبان کا فروغ علم و دانش کے اثاثے میں اضافے کا باعث ہے۔ہر ماں مقدم و محترم ہے۔اسی طرح ہر ماں بولی بھی مکمل عزت و توقیر کی علامت ہے۔
    انسانیت کے ورثے کی کنجی مادری زبان ہے۔

    پاکستان میں اردو، سندھی،پنجابی،سرائیکی،پشتو،بلوچی ،براہوی،ماڑواری،ہندکو،پوٹھوہاری، بلتی ،پہاڑی وغیرہ میری مادری زبانیں میری آنکھوں کی ٹھنڈک اور روحانی فیضان کا حصول ہیں۔مادری زبان ہی آسان ترین عملی مثالی علم و تربیت کے ساتھ اصلی آگاہی کا زینہ ہے۔ہر زبان کا شاعر ، ادیب اور فنکار اپنی مادری زبان کا اعلی ترین مہذب نمونہ ہے۔جس طرح باغ میں ہر پھول کی اپنی ہیئت اور خوشبو مسلمہ ہے۔ اس طرح ہر ماں بولی کا اپنا مکمل وجود فوک وزڈم ہے۔

    ماہرین لسانیات و سماجیات کے ساتھ میڈیکل سائنس بھی اب مادری زبان کی شناخت،حقیقت اور عرفان وبرکات کو مان چکی ہے۔جس ملک و قوم نے اپنی مادری زبانوں کی عزت و عظمت کو سمجھا اور جانا اس نے دنیا میں راج کیا بھی ہے اور کر رہیں ہیں۔اگر تمام سائنسی علوم کو مادری زبانوں میں منتقل کر دیا جائے تو اعلی ترین ہنرمند افراد پیدا ہوں گے۔جو ناصرف اپنے ملک و قوم کو ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ترقی و خوشحالی کا قیمتی سرمایہ ثابت ہو ں گے۔

    تمام صوفیاء کرام نے ہمیشہ لوگوں کی بھلائی ، فلاح، روحانی و معاشرتی اقدار میں ماں بولی کا ہی کامیاب راستہ اپنایا۔سرائیکی زبان کے مہان صوفی بزرگ شعراء کرام میں حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر ملتانی ،حضرت خواجہ غلام فرید ،جدید رفعت عباس،سندھی زبان کے مہان صوفی بزرگ حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی،حضرت سچل سرمست ،بلوچی زبان حضرت مست توکلی، پشتو رحمان بابا ،خوشحال خان خٹک، پنجابی شاعر حضرت وارث شاہ رحمتہ اللہ علیہ سب نے مادری زبانوں میں اظہار رائے اور امن و محبت کا پیغام دیا ہے، انسانی خوشی اور غم کا بہترین مدعا ماں بولی ہوتی ہے۔ سرائیکی علاقے میں سرائیکی یونیورسٹی اور سرائیکی بنک کے قیام سے وسیب کے لوگوں میں خود اعتمادی اور کلچرل ادبی سرگرمیوں میں خوبصورت اضافہ ہوگا-ضلع چترال پاکستان سمیت دنیا بھر میں کثیر اللسانی خطہ ہونے کا خوبصورت اعزاز بھی رکھتاہے۔

    دنیا کے نوبیل یافتہ ماہر سماجیات ولسانیات نوم چومسکی زبانوں کی اہمیت کو سائنسی تحقیق سے ثابت کیا ہے کہ دل اور دماغ کے درمیان مضبوط ترین پل راستہ زبان ہے۔انسانی جسم میں لسان کو مرکزی کردار سمجھا جاتا ہے۔مادری زبان کی افادیت یہ ہے کہ فطرت اس کی خود حفاظت کرتی ہے۔لیکن اگر اس میں بار بار رکاوٹ ڈالی جائے تو متروک ہونے کا شدید ترین خطرہ نمودار ہونا شروع ہو جاتا ہے۔کسی بھی انسان کی مادری زبان سے نفرت دراصل اس انسان کو غلام اور حقیر تر بنانے کی گھٹیا ترین کوشش ہوتی ہے۔ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق پاکستان میں براہوی 1 فیصد ،ہندکو 2 فیصد، بلوچی 3، پشتو 8 فیصد،اردو انگلش 8 فیصد، سرائیکی 10 فیصد ،سندھی 12 فیصد جب کہ پنجابی 48 فیصد بولی جاتی ہے۔ لیکن 2010ء میں ہایئر ایجوکیشن کمیشن کے نوٹیفکیشن کے مطابق سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان سرائیکی کو مانا گیا ہے۔سرائیکی کو آم و شہد کی طرح دنیا کی میٹھی ترین بھی کہا جاتا ہے۔سرائیکی اب دنیا کی عالمی زبانوں کےگروہ میں شمولیت اختیار کر چکی ہے۔زبانوں اور ثقافتوں کا تنوع آپس میں امن، اتحاد ویکجہتی کی فضا قائم کر تا ہے۔

    مادری زبان کا تحفظ انسان کی حکمت و دانش کو محفوظ کرنے کا سبب ہے۔زبان بھی عروج و زوال کے مراحل سے گزرتی ہے۔کسی بھی زبان کو اگر سرکاری سرپرستی حاصل نہ ہو تو وہ زبان ختم ہو سکتی ہے کائنات کی تخلیق بھی زبان مخصوص آواز کن فیکون سے ہوئی۔پاکستان میں زبانوں و لہجوں میں باگری،آیر، بدیشی، کھوار، کبوترا،فارسی،گرگلا،لواری، کچھی، کلامی،ماڑواری،سانسی، دری، لواری کھیترانی ،گجراتی، بروشسکی، شینا، توروالی، پھالولہ، اوڈ، ارمری، اوشوجو، واگھری، واخی، یدغہ کاٹی، کشمیری بھایا ،جنداوڑا، کوہستانی، چلیسو بلتی وغیرہ کو شدید ترین خطرات کا سامنا ہے۔اگر ایک انسان کو بچانا پوری انسانیت کو بچانے کے مترادف ہے تو پھر کیا ایک لسان مادری زبان کا تحفظ پوری انسانیت کے تحفظ کے برابر نہیں ہے۔

    ہمیں بھی سوئٹزرلینڈ کی طرح ہر زبان کو قومی زبان کا درجہ دینا چاہیے۔انسانیت کے عظیم ترین علمی، ادبی اور ثقافتی ورثے کے تحفظ میں سب کو بڑھ چڑھ کر اپنا حصہ ڈالنا چاہیے۔21فروری کا دن دراصل مادری زبان کی برکات و خلوص بھرا محبت انسانیت کا دن ہے۔ہر خوبصورت پرندے کی آواز کی انفرادیت اصل ہر لسان کے الگ وجود کے تسلیم و رضا کا فطری آسان ترین نمونہ ہے۔انسانیت ادب کی تخلیقات مادری زبان سے ممکن ہے۔اس کے فروغ کے لیے ہم سب کو عملی طور کام کرنے کی ضرورت ہے۔میرا حکومت پاکستان سے پر زور مطالبہ ہے کہ مادری زبانوں کے فروغ کے لیے ہر تحصیل سطح پر انسٹیٹیوٹ بنائیں جائیں۔پرائمری سے میٹرک تک کی تعلیم کا ذریعہ مادری زبان ہونا چاہیے۔سرائیکی وسیب میں سرائیکی زبان کو فوری طور پرائمری سے میٹرک تک لازمی سبجیکٹ کے طور سکولوں میں پڑھائی جائے۔

    پاکستان میں سب سے زیادہ شعراء کرام سرائیکی زبان وادب کے ہیں۔سرائیکی مضمون کو سی ایس ایس اور پی ایم ایس امتحانات میں فوری شامل کیا جائے۔ سرائیکی سبجیکٹ کے عملی فروغ کے لیے سکولز ٹیچرز آسامیاں پیدا کی جائیں۔سرائیکی میٹرک و انٹرمیڈیٹ کلاسز کی کتابوں کی PTCB سے فوری چھپائی کرائی جائے۔اب الحمدللہ سرائیکی ایف اے فرسٹ ائیر کتاب حکومت پنجاب نے چھاپ کر بہترین تاریخی کام کیا ہے ۔تمام صوبوں میں باقی مضامین کی سرائیکی مضمون کو بھی فوری شامل نصاب کیا جائے ۔ سرائیکی لٹریری کلچرل، سرائیکی بنک و سرائیکی یونیورسٹی جیسے قومی اداروں کے فوری قیام سے سرائیکی خطے میں شعور ،شرح خواندگی ،روحانی، معاشی،سماجی اخلاقیات کے ساتھ ثقافتی ورثے میں بے پناہ اضافہ کے ساتھ علمی، ادبی سرگرمیوں کو فروغ ملےگا۔

    مادری زبان انسان کو دلیر، آزاد، مضبوط ترین اور کامیاب تجربہ کار بناتی ہے۔مادری زبان کی بدولت آدمی میں خوداعتمادی اور ہنرمندی کا جذبہ پروان چڑھتا ہے۔قومی اسمبلی و سینٹ میں اردو، انگلش کے ساتھ سرائیکی،پنجابی،سندھی،بلوچی،پشتو وغیرہ کوبھی سوئٹزرلینڈ کی طرح فوری طور پر تمام مادری زبانوں کوقومی زبانوں کا درجہ دیا جائے۔اس سے آپس میں امن،ثقافت،محبت واتحاد،یکجہتی اور استحکام پاکستان کے فلسفے کو فروغ ملے گا۔پاکستان تاریخی،روحانی، ادبی،تعلیمی،جغرافیائی ، معاشی،معاشرتی،سیاسی،علاقائی اور اخلاقی اقدار میں مضبوط ہوگا۔

    کیا حال سناواں دل دا،کوئی محرم راز نہ مل دا ( خواجہ فرید)

  • پاکستان کے ایٹمی اثاثے، سازشیں اور بلاول کا انتباہ

    پاکستان کے ایٹمی اثاثے، سازشیں اور بلاول کا انتباہ

    پاکستان کےایٹمی اثاثے، سازشیں اور بلاول کا انتباہ
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستان کی سیاست ایک بار پھر بین الاقوامی سازشوں اور اندرونی کشمکش کے گرد گھوم رہی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گڑھی خدا بخش میں بینظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے جو نکات اٹھائے، وہ نہ صرف موجودہ حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کا عکاس ہیں بلکہ عالمی قوتوں کی پاکستان کے ایٹمی اور میزائل پروگرام پر نظریں جمانے کی کوششوں کا پردہ بھی چاک کرتے ہیں۔

    بلاول بھٹو زرداری کے خطاب کا اہم نکتہ یہ تھا کہ حالیہ امریکی پابندیاں محض ایک بہانہ ہیں، اصل نشانہ پاکستان کا ایٹمی اور میزائل پروگرام ہے۔ ان کا یہ بیان پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کے لیے ایک واضح تنبیہ ہے کہ عالمی قوتیں کسی مسلمان ملک کو ایٹمی طاقت کے طور پر قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ بلاول نے تحریک انصاف کے بانی عمران خان کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ محض ایک بہانہ ہیں جبکہ اصل مقصد پاکستان کے اسٹریٹجک اثاثے ہیں۔

    چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ملک کے خلاف تیار ہونے والی بین الاقوامی سازش کا مقابلہ کرنے کے لیے سیاست کو ایک طرف رکھ کر پاکستان اور اس کا دفاع کا سوچنا پڑے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ آج کل پاکستان کے مخالفین شہید ذوالفقارعلی بھٹو اورشہید بینظیر بھٹو کے دیئے ہوئے میزائل ٹیکنالوجی کے تحفے کو میلی آنکھ سے دیکھ رہے ہیں، ان کی خواہش ہے کسی مسلمان ملک کے پاس ایسی قوت نہ ہو اور وہ کسی بہانے سے آپ کی یہ طاقت چھننا چاہتے ہیں۔

    بلاول بھٹو نے امریکا کی جانب سے پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی پر پابندیوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کے ہوتے ہوئے ہم اپنے ایٹمی اثاثوں اور نہ ہی میزائل پروگرام پر کسی قسم کی سودے بازی نہیں ہونے دیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ مختلف ممالک ہماری اندرونی سیاست کے اوپر بیان دے رہے ہیں لیکن یہ سب کچھ بہانہ ہے اور کسی کو پاکستان کی جمہوریت کے بارے میں کوئی فکر نہیں ہے، عمران خان صرف بہانہ ہے اصل میں نشانہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام اور میزائل ٹیکنالوجی ہے۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ عمران خان کو واضح کرنا چاہیے کہ آئے روز ان کی حمایت میں بیان دینے والے وہی لوگ نہیں ہیں جو پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف ہیں؟ انہیں جواب دینا چاہیے کہ یہ بانی پی ٹی آئی کے حق میں کیوں بول رہے ہیں؟انہوں نے عمران خان اور ان کی جماعت سے مطالبہ کیا کہ وہ ان بیانات کی مذمت کریں جو پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف ہیں۔ بلاول نے پی ٹی آئی کی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسرائیل کے حق میں آواز اٹھانے والوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور یہ صورتحال عوام کے لیے سوالیہ نشان ہے۔

    یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ بلاول بھٹو زرداری نے بین الاقوامی سازشوں کا ذکر کیا ہو۔ ان کے والد آصف علی زرداری اور نانا ذوالفقار علی بھٹو بھی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے محافظ رہے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو نے ایٹمی پروگرام کو اسلامی بم کا نام دیا اور اس کی بنیاد رکھی جبکہ بے نظیر بھٹو نے میزائل ٹیکنالوجی متعارف کرائی۔ بلاول نے اپنی تقریر میں یہ واضح کر دیا کہ پیپلز پارٹی پاکستان کے ایٹمی اور میزائل پروگرام پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔

    بلاول کا یہ کہنا کہ سیاسی کٹھ پتلیاں ایٹمی اثاثوں پر سودے بازی کے لیے تیار رہتی ہیں، ایک سنگین الزام ہے جو موجودہ اور ماضی کی حکومتوں کی سمت پر سوالیہ نشان لگاتا ہے۔ ان کا یہ بیان کہ “ہم نہ سلیکٹڈ ہیں اور نہ ہی فارم 47 والے”، ایک خودمختار اور غیرجانبدار سیاسی جماعت کے دعوے کی تائید کرتا ہے۔

    پیپلز پارٹی کی حکومت سازی میں مصالحت کی پالیسی اور اجتماعی فیصلوں کی اہمیت پر زور بلاول کی سیاسی بصیرت کو اجاگر کرتا ہے۔ انہوں نے حکومت پر یکطرفہ فیصلوں کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اتفاق رائے سے کیے گئے فیصلے ہی مضبوط اور دیرپا ہوتے ہیں۔ یہ ایک ایسا اصول ہے جس پر عمل کرنے سے پاکستان کے سیاسی نظام میں استحکام آ سکتا ہے۔

    بین الاقوامی سازشوں کے حوالے سے بلاول نے کہا کہ ہمیں ایک ہونا پڑے گا اور سیاست کو ایک طرف رکھ کر پاکستان کے مفادات کو ترجیح دیناہوگی۔ یہ ایک ایسا پیغام ہے جو موجودہ سیاسی حالات میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

    پاکستان کے عوام اور سیاسی قیادت کے لیے یہ وقت اتحاد اور یکجہتی کا ہے۔ اگر ہم نے اپنی اندرونی کشمکش اور سیاسی اختلافات کو ختم نہ کیا، تو بین الاقوامی سازشیں ہمیں نقصان پہنچانے میں کامیاب ہو سکتی ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری کا خطاب اس بات کی یاد دہانی ہے کہ پاکستان کو مضبوط اور خودمختار رکھنے کے لیے ہمیں اپنی ترجیحات کو قومی مفادات کے مطابق ترتیب دینا ہوگا۔

  • کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟چوتھی قسط

    کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟چوتھی قسط

    کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟
    ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    قسط کا خلاصہ
    سرائیکی قصے، جو ماضی میں نسلوں کے شعور کو جلا بخشتے رہے، آج بھی اتنے ہی اہم ہیں۔ سرائیکی زبان و ادب کے نامور محققین کے مطابق، یہ قصے سرائیکی وسیب میں ترقی و خوشحالی کے ضامن ہیں۔ قصوں نے انسانیت کو شرافت، صداقت، اور دیانت کے اصولوں پر قائم رہنے کا درس دیا ہے۔ سرائیکی لوک قصے ہمیں یہ یقین دلاتے ہیں کہ وہ ہمیشہ انسانی زندگی کے لیے رہنمائی کا ذریعہ رہیں گے۔
    چوتھی و آخری قسط
    اب ہم قصےکتابوں،انٹر نیٹ،،فلموں،ڈراموں،تھیٹر،سینما گھروں،ویڈیو گیمز اور ریڈیو کے ذریعے نہ صرف سنتے ہیں بلکہ دیکھتےاور محسوس بھی کرتے ہیں،گویا قصے کے ہم خود زندہ جاوید کردار ہیں۔خود قصے کی دنیا میں جی رہے ہوں۔ یہ سب کچھ "فکشن” افسانوی ادب کے نام سے جانا جاتا ہے۔اس طرح قصہ گوئی کا فن آج بھی زندہ ہے۔اور نئی نئی شکل اختیار کر رہا ہے۔قصوں کی کی داستان نے انسانیت کی مشترکہ آواز کے طور پر حضرت انسان کے ارتقاء میں ایک بنیادی کلیدی کردار ادا کیا ہے۔یہ صرف تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ قصے نےانسان کی زبان،ادب،شعور، فنون لطیفہ، اخلاقی اقدار،سلیقہ،ریتروایت،علمی،روحانی،شناخت،ثقافت اور سوسائٹی،قوم و ملک کی تشکیل نو میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے اور کرتا رہےگا۔

    پہلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

    کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟
    قصولیوں کی پہلی ادبی بیٹھک ہی انسانوں کی پہلی یونیورسٹی کہلائی۔جہاں سے علوم کی فنی مہارتوں کے سیکھنے اور تعلیمی تربیت کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ماں کی گود میں بچہ سکون واطمینان قلب کا خوبصورت پہلاں مٹھاس بھری آواز میں قصے کے الفاظ ہی سنتا ہے۔قصے نے انسان کی سوچ کو پروان چڑھایا،تخلیقی صلاحیتوں کو تقویت بخشی اور تاریخ کو محفوظ کیا۔

    دوسری قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟
    مختلف زبانوں اور ثقافتوں کے تنوع سے بھریل لوک قصے ہی اپنی منفرد روایت اور پہچان رکھے ہوئےہیں۔انسانوں کےمشترکہ تجربات ومشاہدات ہم تک مختلف انداز میں قصے کی بدولت پہنچےہیں۔مثلاً، یونانی دیوتاؤں کی قصے،جہاں دیوی دیوتاؤں کو انسانوں کی طرح ہی جذبات اور کمزوریاں حاصل تھیں،ہندو متھالوجی و فلسفہ کے قصےجو روحانیت اور کائنات کے رازوں پر زیادہ زور دیتے ہیں،افریقی لوک قصے جن میں جانور اکثر انسانی کردار ادا کرتے ہیں اور اخلاقی سبق دیتے ہیں۔جاپانی تہذیب وتمدن سے جڑے لوک قصےجو فطرت اور انسان کے رشتے کو ایک مختلف تناظر میں پیش کرتے ہیں۔عبرانی و عربی زبان کے مہان کلاسیکل لوک قصے جیسا کہ "الف لیلہ ولیلہ(ایک ہزار ،ایک راتیں)” یہبادشاہوں،ملکہ،شہزادیوں،ملوک زادیوں،وزیروں،غلاموں اور سحر و جادو کے دلچسپ قصے جو ایک نئی دنیا سے روشناس کراتے ہیں۔

    تیسری قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

    کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟
    چائنیز وذڈم سے مالا مال قصے، جس میں ڈریگن اور اژدہاؤں کا ذکر ہے یہ طاقت،ترقی،خوشحالی اور قدرتی قوتوں کی علامت ہیں۔اہل فارس کی روحانی کرامتوں کے قصے،نیز خواجہ غلام فرید کی سرائیکی شاعری، کنفیوشس،شیخ سعدی،رفعت عباس کی تعلیمات پر مبنی حکایتیں جو ہمیں اخلاقیات اور حکمت سکھاتی ہیں۔یہ مختلف سلیقے،انداز اور نقطہ نظرہمیں کامیاب حیاتی گزارنے اور کائنات کے پر اسرار رازسمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔ قصے صرف تفریح نہیں بلکہ کسی قوم کی حقیقی معنوں میں میری سوچ کے مطابق تہذیب وتمدن، تاریخ، ثقافت کا آئینہ بھی ہوتےہیں۔جو ان کی سوچ،تربیت، عقائد،رسوم و رواج روایات اور ادب و فکری علوم کو بڑی خوبی سے بیان کرتے ہیں۔یہ مختلف انداز اور نقطہ نظر سے ہماری رہنمائی بھی کرتے ہیں۔

    مقامی سرائیکی قصوں کی روایت نے انسان کو ایک دوسرے سے جوڑنے اور دنیا کو سمجھنے کا ایک زبردست ذریعہ عطاء کیا ہے ۔قصے کیا ہمیشہ زندہ رہیں گے؟۔جی ہاں، جب تک دنیا ہے، امید ہے، محبت ہے اور اس کی رنگولی ہے قصے بھی زندہ رہیں گے ۔قصے عظیم مخلوق حیوان ناطق انسانوں ایک دوسرے سے رشتہ جوڑنے اور معاشرہ کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتے رہیں ہیں اور کرتے رہیں گے۔مگر دوسرے رخ سے انہی قصوں کی وجہ سے آپس میں جنگیں،لڑائیاں،نفرتیں اور سوسائٹی میں توڑ پھوڑ اور خون خرابا کی نوبتیں سامنے آئیں ہیں۔مگر ہمیشہ قصے کے حقیقی نتائج و تعلیمات فلسفہ امن و تربیت،کامیابی،بھلائی،فلاح انسانیت اور رشدوہدایت ہی رہے ہیں۔

    قصوں میں شر کی شکست ہی احترام آدمیت کی بقاء ہے۔قصہ مثبت اثبات و اثرات کا خوبصورت تذکرہ ہے۔نیکی و نصیحت کا باکمال ہنر قصہ گری ہے۔سرائیکی قصہ سرائیکی قوم کی اجتماعی یادداشت ہے۔اس نے ہر حملہ آور کا آدر کیا ہے۔دینی اور قومی قصے خاص طور پر اس حوالے سے مضبوط مثالیں ہیں۔سرائیکی زبان و ادب کے حکمت و دانش سے لبریز لوک قصے حقیقت،تخیلات، وہم، سچ اور جھوٹ، اچھا اور برا، محبت اور نفرت یعنی ماضی، حال اور مستقبل کے بارے سب کچھ علم و تربیت کے مخفی ظاہری راز اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہیں۔ قصوں میں انسانوں کے سماجی و اخلاقی اقدار کی عملی مثالی تصاویر موجود ہیں۔قدرت قصہ،کہانیوں،داستانوں اور افسانوں کو ایک طرف تو ہمارے لیے ایک قیمتی اثاثہ بناتی ہے اور دوسری طرف ایک پیچیدہ مسئلہ بھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے بارے میں سوالات جنم لیتے ہیں کہ انسان کے مستقبل میں ان قصوں کا کیا رول ہونا چاہئے یا ہوگا۔

    سوال یہ ہے؟کیا اب آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور ڈیجیٹل سوشل میڈیا دور میں قصوں کی اہمیت و افادیت کم ہو جائے گی؟اورکیا موجودہ انسانی صدی قصوں کی آخری صدی کہلائےگی؟اس کا فیصلہ تو آنے والا وقت ہی کرے گا ۔مگر آج بھی قصوں کی اہمیت کم نہیں ہوئی۔آج بھی ہم قصے سننا اور پڑھنا پسند کرتے ہیں اور سینما گھروں میں فلموں کی نمائش دراصل انسانی قصے کی شعوری پختگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ہالی وڈ،لولی وڈ ،بالی وڈ موجود فلم انڈسٹریز قصوں کی عملی دنیا ہے۔قصے نے نیوز یعنی نارتھ،ایسٹ،ویسٹ، ساوتھ مشرق،مغرب،شمال جنوب کی فنی مہارتوں کو سیکھنے،دیکھنے،پڑھنے اور لکھنے کے عمل کو فروغ دیا۔ہمارے بہت سے تصورات و نظریات انہی قصوں اور افسانوں کی بنیاد پر بنے ہیں اور اسی لیے قصے کو دنیا میں سب سے طاقتور اور آسان فہم میڈیم سمجھا جاتا ہے۔

    سرائیکی لوک قصہ جس نے چھ ہزار سال قدیم ماں وادی ہاکڑہ تہذیب وتمدن اور بیٹی وادی سندھ تہذیب وتمدن کے ساتھ ہم عصر و ہم پلہ میسوپوٹومپیا سمیرین اور مصری اہرامی تہذیب وتمدن کے اعلی شعور کے ساتھ دنیا کو زندگی گزارنے کا سلیقہ اور نصیحت و وصیت کا عملی کامیاب نصاب مہیا کیا ہے۔سرائیکی لوک قصوں کی وذڈم کی حفاظت کرنے والے روہی چولستان، دمان پہاڑ، تھل،راوا ،میدان،دریائی و سمندری،ہڑپہ،جلیل پور،ہڑنڈ،سوئی وہاڑ،پتن منارہ، مہرگڑھ ،موہنجوداڑو،رحمان ڈھیری،بلوٹ قلعہ، ملتان شریف، اوچ شریف سمیت سرائیکی قدیم گنویری والا شہر کےقصولیوں کی طرح دنیا کے ہر قصولی کےتحفظ و مراعات کے لیے اقوام متحدہ آثارقدیمہ ریسرچ اداروں اور حکومت پاکستان کی طرح ہرملک کی حکومت کو ہنگامی بنیادوں پر اپنے لوک ورثے کے تحفظ کیلئے اقدامات اٹھانا ہوں گے۔ورلڈ آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹس کو گنویری والا شہر پر ہاکڑہ یونیورسٹی بنانا ہوگی۔

    امن و تصوف کے روحانی قصے کی افادیت و تحفظ کی عملی ضمانت کیلئےحضرت سید جلال الدین حیدر سرخ پوش بخاری ع صوفی ازم اینڈ آرکیالوجی سائنس یونیورسٹی ورلڈ ہیرٹیج سٹی اوچ شریف میں فوری قائم کرنا ہوگی۔غزہ،دمشق،یوکرائن اور کشمیر سمیت دنیا کے ہر کونے سے جنگ ونفرت کے قصے کو ختم کرکے امن،رواداری،خوشحالی اور تصوف کے قصے کو عالم میں پھر سے عام کرنا ہوگا۔ورنہ نئی نسل اپنے قومی ورثے سے محروم رہ جائے گی۔شاید اپنی بقاء کا تحفظ بھی نہ کرسکے۔
    ختم شد

  • معذرت کے ساتھ، پاکستان سیاسی محاذ پر سیاسی یتیم ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    معذرت کے ساتھ، پاکستان سیاسی محاذ پر سیاسی یتیم ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    2024 غزہ کو لے کر دیگر اسلامی ممالک کے لئے ایک خوفناک سال رہاہے۔ پاکستان کو ان ممالک کے حالات کو مد نظر رکھ کر بالخصوص پاک فوج اور جملہ اداروں کو چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ اسلامی ممالک کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو ان ممالک میں وہ آوازیں بند ہو چکی ہیں یا کر دی گئی ہیں جن کی وجہ سے یہ ممالک محفوظ تھے، کسی زمانے میں عراق میں صدام حسین کی گرج تھی تو لیبیا میں کرنل قذافی کی للکار ،ایران میں آیت اللہ خمینی کا وقار تھا۔ سعودی عرب میں شاہ فیصل ایک فراخدل انسان تھے۔ فلسطین میں یاسرعرفات ۔آج اسلامی ممالک کے حالات اقوام عالم کے سامنے ہیں۔ پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو ، محترمہ بے نظیر بھٹو نہیں جو عالمی قوتوں کو دھمکی کا جواب دے سکیں۔ نواز شریف کی جگہ اُن کے بھائی نے لے لی ہے ۔ اسی طرح دوسری سیاسی و مذہبی جماعتوں میں وہ شخصیات ہیں جن کی آواز میں وہ طاقت نہیں جو عالمی قوتیں دب جائیں۔

    موجود خطرناک حالات میں عسکری قیادت کو ملکی سلامتی کے لئے تمام ممکنہ اقدامات خود ہی کرنا ہوں گے۔ اس وقت ملک کو داخلی اور خارجی دبائو سے بچا کر رکھنا سیاسی جماعتوں کے بس کی بات نہیں۔ ملک کی موجودہ سیاست کی تصویر دنیا میں کہیں نہیں ،یہ کیسے سیاستدان ہیں ایک دوسرے کو غدار اور عالمی قوتوں کے ایجنٹ قرار دیتے نہیں تھکتے۔ بلاول بھٹو نےنواز شریف کو مودی کا یار ،آج کل عمران خان کو اسرائیل کا یار کہا ۔ دنیا میں کہیں سیاسی گلیاروں میں ہوتا ہے ؟ مذہبی جماعتیں مدارس کو لے کر آمنے سامنے ہیں۔

    افغان حکومت بہت ہی احسان فراموش ثابت ہوئی ہے ۔ پاکستان کو نیکی کاصلہ بھائی چارگی سے نہیں دیا۔ ایک طرف بین الاقوامی دبائو دوسری طرف افغانستان ۔ان حالات میں ان سیاستدانوں کا ملک وقوم کی حالت پر آنکھ سے آنسو ٹپکا ہو۔ تاہم اپنے ہی قومی سلامتی کے اداروں کو بدنام کرنے کا کوئی سلیقہ ان سے سیکھے۔ یہ جانتے ہوئے کہ اداروں کوبقا اور شخصیات کو فنا ہے قوم کے نوجوانوں کو گمراہ کرنا ان کی سیاست رہ گئی ہے ۔ کمال کی سیاست اور لاجواب لیڈر شپ پاکستان میں موجود ہے۔یاد رکھیئے اس طرح کی پاکستان پر عالمی پابندیاں ماضی میں بھی لگیں ۔ ان پابندیوں کا سیاسی طور پر ذوالفقار علی بھٹو، محترمہ بے نظیر بھٹو،نواز شریف نے مقابلہ کیا تھا آج کے دور میں معذرت کے ساتھ پاکستان سیاسی محاذ پر سیاسی یتیم ہو چکا ہے

  • پروین شاکر، خوشبو بکھیرتی شاعرہ

    پروین شاکر، خوشبو بکھیرتی شاعرہ

    پروین شاکر، خوشبو بکھیرتی شاعرہ:26 دسمبر، پروین شاکر کی 30ویں برسی
    تحریر:ضیاء الحق سرحدی پشاور
    ziaulhaqsarhadi@gmail.com
    کُو بہ کُو پھیل گئی بات شناسائی کی ،اُس نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی

    پروین شاکر جس کے شعر رنگ و خوشبو بکھیرتے ہیں، ان کو بھلا کوئی کیسے بھول سکتا ہے۔ بیسویں صدی میں اردو کی ممتاز ترین شاعرہ پروین شاکر 24 نومبر 1952 کو کراچی میں سید ثاقب حسین کے گھر پیدا ہوئیں۔ ان کے والد خود بھی شاعر تھے اور ان کا تخلص شاکر تھا۔ اس نسبت سے پروین شاکر اپنے نام کے ساتھ شاکر لکھتی تھیں۔ برصغیر کی تقسیم کے بعد ان کے والد پاکستان ہجرت کر کے کراچی میں آباد ہوئے۔ پروین کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی، بعد میں رضیہ گرلز ہائی اسکول کراچی میں داخلہ لیا، جہاں سے انہوں نے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ اور پھر سرسید گرلز کالج کراچی سے آئی اے اور انگلش لٹریچر کے ساتھ بی اے آنرز کیا۔ پروین شاکر نے گریجویٹ ڈگری پہلے انگریزی لٹریچر میں اور پھر لسانیات (Linguistics) میں حاصل کی، جامعہ کراچی سے ایم اے کی ڈگری اسی عنوان کے تحت حاصل کی، پھر انہوں نے پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی حاصل کی۔ پروین شاکر نے ایم اے کی ایک ڈگری ہارورڈ یونیورسٹی امریکہ سے بھی حاصل کر رکھی تھی۔

    نوجوانی ہی سے شعر کہنے کا ہنر انہیں آ گیا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے نو سال تک استاد کی حیثیت سے کارہائے نمایاں انجام دیے۔ اس کے بعد شعبہ کسٹم، گورنمنٹ آف پاکستان میں اپنے فرائضِ منصبی بھی ادا کرتی رہیں۔ 1986 میں وہ سیکنڈ سیکریٹری، سی بی آر (موجودہ ایف بی آر) اور ڈپٹی کلکٹر کسٹم بھی مقرر کی گئیں۔ راقم عرصہ دراز سے پاکستان کسٹمز اور ایف بی آر سے منسلک ہے۔ اکثر اوقات ایف بی آر، پاکستان کسٹمز اور دیگر اداروں کے ساتھ میٹنگ کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ اسی وجہ سے راقم کی مرحومہ پروین شاکر سے کئی ملاقاتیں ہوئیں۔ اُن کے مشاعروں میں شرکت اور اُن کو قریب سے جاننے کا موقع ملا۔ وہ لطیف جذبات کو لفظوں کا پیرہن دینے والی خوشبوؤں کی شاعرہ تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں بطورِ شاعرہ شہرت کی بلندیوں تک پہنچایا۔

    پروین شاکر کو ان کی خدمات کے اعتراف میں ان کی کتاب "خوشبو” پر آدم جی ایوارڈ اور پھر پاکستان کا سب سے اعلیٰ اعزاز "پرائڈ آف پرفارمنس” سے بھی نوازا گیا۔ موسم آتے جاتے رہے، ماہ و سال گزرتے رہے، مگر ان کے چاہنے والے آج بھی ان کی شاعری سے دل لگائے بیٹھے ہیں۔ پروین شاکر نے کم عمری میں ہی شعر کہنا شروع کر دیے تھے، مگر وقت کی پنکھڑیاں چنتے چنتے، آئینہ در آئینہ خود کو ڈھونڈتی، شہرِ ذات کے تمام دروازوں کو پھلانگتی، شاعرہ کی منزل تک پہنچیں۔

    بات پروین شاکر کی نظم کی کی جائے یا غزل کی، کتابوں کا ایک بہترین گلدستہ تیار کیا جا سکتا ہے، مگر جہاں ہر ہر لفظ ان کی پذیرائی کے گن گانے میں محو ہو، وہاں میرے چند الفاظ قارئین کو کہاں مطمئن کر پائیں گے۔ انسان کے کردار اور اس کی مجموعی شخصیت کی تعمیر میں ماحول کا بڑا اثر ہوتا ہے، لیکن ایک اور اہم شے جو کسی بھی انسان کی شخصیت سازی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے اور کبھی کبھی انسان کو اس کی شخصیت مکمل ہونے کے بعد بھی کسی نئے ماحول میں کھینچ لاتی ہے اور اس کی زندگی کا دھارا ہی بدل دیتی ہے، اس کا نام ہے "کتاب”۔

    چونکہ کتاب کا ذکر چل پڑا ہے تو پروین شاکر کی چند خوبصورت کتابوں کا تذکرہ نہ کرنا اردو ادب اور شاعری سے سراسر زیادتی کے مترادف ہوگا۔ اس لئے ان کی وہ کتابیں جو شائع شدہ ہیں اور لوگوں میں کافی مقبول بھی رہی ہیں ان میں "خوشبو” (1976)، "صد برگ” (1980)، "خود کلامی” (1990)، "انکار” (1990)، "ماہ تمام” (1994) اور "کف آئینہ” سرِ فہرست ہیں۔ جب یہ کتابیں شائع ہوئیں تو پروین شاکر ایک پختہ کار شاعرہ کے روپ میں نظر آئیں، لیکن ان کی شاعری خوشبو کی طرح دنیائے ادب کو معطر رکھے گی۔

    وہ خوشبو ہے، ہواؤں میں بکھر جائے گا
    مسئلہ پھول کا ہے، پھول کدھر جائے گا

    وہ خوش فکر شاعرہ تو تھیں، لیکن خوش شکل ہونا بھی ان کی شخصیت کو چار چاند لگا گیا۔ پروین شاکر اپنے ساتھ بے شمار یادیں لے گئیں۔ پی ٹی وی کے پروگراموں، مشاعروں اور ادبی جرائد، اخبارات میں کسی شاعرہ کو زیادہ اہمیت ملی تو وہ پروین شاکر تھیں۔ شاعری میں نئی نسل کا رول ماڈل تھیں، انہوں نے دلوں پر حکمرانی کی، ایک طرح سے وہ سخن کی شہزادی تھیں، جنہوں نے اپنی زندگی میں بے شمار اعزازات پائے۔ خوبرو شاعرہ نے ایک پاکستانی ڈاکٹر نصیر علی سے شادی کی۔ ان کا ایک بیٹا، سید مراد علی بھی ہے، لیکن ان کی شادی کا یہ سفر زیادہ طویل المدت نہیں تھا اور معاملہ طلاق پر جا کر اختتام پذیر ہوا۔ پروین شاکر کی شاعری میں لذتِ انتظار کی کیفیت بھی ملتی ہے۔

    وفات کے بعد ان کی دوست پروین قادر آغا نے "پروین شاکر ٹرسٹ” قائم کیا۔ پروین شاکر اپنی ہم عصر شاعرات کشور ناہید اور فہمیدہ ریاض کی شاعری پسند کرتی تھیں اور ان کیلئے تحسین کے جذبات رکھتی تھیں۔ وہ امریکہ میں بھی رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عام امریکی بہت فراخ دل اور محبت کرنے والے لوگ ہیں۔ ہر تہذیب کے اپنے مسائل ہوتے ہیں جن کو ایک خاص تناظر میں رکھ کر ہی دیکھا جا سکتا ہے۔

    پروین شاکر نے انسانی جذبوں کا سچ لکھا اور اس محبت کو عورت کی زبان سے ادا کرنا آسان کر دیا۔ پروین شاکر تنہائی، جدائی، ہجر و وصال، محبوب کے تصور میں گم، چاہنے اور چاہے جانے کی آرزو اور زندگی سے آنکھ ملانے والی شاعرہ تھیں۔ پروین شاکر نے بحیثیت ایک عورت ایسے ہی محبوب کا پیکر اپنی شاعری میں تراشا جو ذہن و گمان سے ماورا نہیں۔ ایک زندہ وجود ہے اور حسیات کے امکان میں موجود رہتا ہے۔

    شاعری کے ساتھ ساتھ انہوں نے کالم نگاری بھی کی اور راقم کا اس حوالے سے بھی ان سے رابطہ رہا۔ ان کی شاعری کا بنیادی وصف جراتِ اظہار تھا۔ ان کے شعروں میں اعتماد نمایاں تھا۔ ان کی چمکتی آنکھیں ایک نئی صبح کا خواب دیکھتی تھیں۔ ان کے احساسات و جذبات کی ترجمان ان کی شاعری حسن، محبت، غم و خوشی، سچائی اور خوبصورتی کی عکاسی کرتی ہے۔ جس طرح وہ خود خوبصورت و حسین تھیں، اسی طرح ان کی شاعری دلکش اور خوبصورت ہے۔ وہ خوبصورتی کی باتیں کرتی، رنگ و خوشبو کا پیغام دیتی نظر آتی ہیں، اپنے تمام تر صادق جذبوں سمیت ان کی مقبولیت پاکستان ہی میں نہیں بلکہ پاکستان کے باہر جہاں اردو بولنے اور سمجھنے والے ہیں۔ ان کی شاعری نوجوان نسل کا کریز بن گئی۔ نوجوان نسل کے رومانی جذبات کو گہرے فنکارانہ شعور اور کلاسیکی رچاؤ کے ساتھ پیش کرنا پروین شاکر کے اسلوب کی پہچان قرار پایا۔ جذبے کی جس سچائی سے پروین شاکر نے اردو شاعری کے قارئین کے دل و دماغ کو ان گہرائیوں کو آخر حد تک متاثر کیا ہے وہ سچائی تو "خوشبو” میں ان کے ذاتی کرب کی ٹیس تھی۔

    میں سچ کہوں گی مگر پھر بھی ہار جاؤں گی
    وہ جھوٹ بولے گا اور لاجواب کر دے گا

    پروین شاکر 26 دسمبر 1994 کو اسلام آباد اپنے دفتر جانے کے لیے نکلی تھیں تو قریب ہی ایک موڑ پر بس کے ایک حادثے میں شدید زخمی ہونے کے صورت میں ہم سے روٹھ کر عدم کو سدھار گئیں۔ اللہ رب العزت اُن کے درجات بلند فرمائے۔ جس سڑک پر حادثہ ہوا اُس کا نام پروین شاکر کے نام سے منسوب کر دیا گیا ہے۔

    مر بھی جاؤں تو کہاں لوگ بھلا ہی دیں گے
    لفظ میرے، مرے ہونے کی گواہی دیں گے