Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری سائنسدان ،تحریر :   ریحانہ صبغتہ اللّٰہ

    ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری سائنسدان ،تحریر : ریحانہ صبغتہ اللّٰہ

    ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری یکم جولائی 1903ء کو مشرقی پاکستان کے ضلع روہتک کے ایک گاؤں کہنور میں پیدا ہوئے ۔
    ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری وائسرائے روفس آئزکس کے وظیفے پر مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں زیر تعلیم رہے ۔ یہیں سے Msc فزکس میں ٹوپ کیا اور باقی تمام سائنسی مضامین میں اعلیٰ کارکردگی کی بنیاد پر طلائی تمغے حاصل کیے ۔ڈاکٹر صاحب کی کامیابیوں سے متاثر ہو کر بھوپال کے نواب حمیداللہ خان نے انہیں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے کیمبرج یونیورسٹی برطانیہ بھیج دیا ، وہیں کیونڈش لیبارٹری میں” ماہر طبیعات مارک اولیفانٹ” نے نیوکلیئر فزکس کی طرف مائل کیا ۔ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری نے 1932ء میں” کیمسٹری میں نوبل انعام یافتہ سائنسدان ارنسٹ ردرفورڈ "کی نگرانی میں نیوکلیئر فزکس میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ۔ کیونڈش کا یہ ایک شاندار دور تھا کیونکہ وہاں اس دوران ایٹم اور نیوکلیئرفزکس میں بہت پیش رفت ہوئی ۔ کیونڈش لیبارٹری میں اس وقت سر جے جے تھامسن ، لارڈ ردرفورڈ ، آسٹن ولسن ، کک روفٹ والٹن اور سر جیمز چیڈ ویک جیسے سائنسدان کام کر رہے تھے ۔ ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری ہمیشہ اس بات پر فخر کرتے تھے کہ وہ کیونڈش کے سنہری دور میں” ردرفورڈ” کے طالب علم ر ہے ۔

    تیس سال کی عمر میں ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری برطانوی ہندوستان واپس آئے اور اسلامیہ کالج لاہور میں فزکس کی تعلیم دینے لگے ۔ 1935ء سے 1938ء تک وہ یہیں شعبہ فزکس کے چیئرمین بھی رہے ۔1938ء میں ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری شعبہ طبیعات کے سربراہ کی حیثیت سے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ تشریف لے گئے جہاں” اولیفانٹ” کی دعوت پر دوبارہ برمنگھم یونیورسٹی کے شعبہ فزکس میں بطور نوفلیڈ فیلو کام کرنے کے لئے برطانیہ چلے گئے ۔برطانوی میگزین "ڈاروینین”کے مطابق 1947ء میں ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری برمنگھم میں "اولیفانٹ” کی لیبارٹری میں ایک سال گزارنے کے بعد کہنور واپس آ گئے ۔

    قیام پاکستان کے فوراً بعد "اولیفانٹ” نے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کو ایک خط لکھا جس میں انہوں نے نوزائیدہ ملک میں سائنس ، خصوصاََ ایٹمی اور نیوکلیئر فزکس کی تدریس و تحقیق کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا ، اور لکھا کہ "اس پروگرام کے کامیاب اطلاق کے لئے پورے برصغیر میں ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری سے بہتر کوئی مسلمان سائنسدان نہیں ہے اور انہیں فوری طور پر پاکستان بلانے پر زور دیا ۔بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے "اولیفانٹ” کے کہنے پر ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری کو خط لکھ کر پاکستان آنے کی دعوت دی اور ساتھ ہی گورنمنٹ کالج لاہور میں شعبہ فزکس کی سربراہی کی پیش کش کی ۔بھارت کے وزیراعظم جواہر لعل نہرو کو اس بات کا علم ہوا تو انہوں نے ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری کو نیشنل فزکس لیبارٹری میں ڈپٹی ڈائریکٹر کی پیشکش کردی ، لیکن ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری نے اس پیشکش کو ٹھکرا دیا ، اور1948ء میں حکومت پاکستان کے دعوت نامے پر اپنے خاندان سمیت پاکستان آگئے ، اور گورنمنٹ کالج لاہور جوائن کر کے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے استعفیٰ دے دیا ۔

    پاکستان کی ایٹمی سرگرمیوں کی پہلی دہائی کیمبرج یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم یافتہ تین طبیعیات دان ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری ، نذیر احمد اور ڈاکٹر عبدالسلام پر مشتمل ہے ۔1954ء میں ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری نے جوہری تحقیق کے لئے گورنمنٹ کالج لاہور کے شعبہ فزکس میں” ہائی ٹینشن لیبارٹری "کی بنیاد رکھی ۔”ہائی ٹینشن لیبارٹری "میں ایک ایٹم ایکسلریٹر لگایا گیا ہے ، جس میں اعلیٰ سطح پر تحقیق ممکن ہوئی۔ہائی ٹینشن لیبارٹری بہت تیزی سے بین الاقوامی سطح پر جانی پہچانی جانے لگی ، جب غیر ملکی سائنسدان پاکستان کے دورے پر آتے تو اس لیبارٹری کو دیکھنے کی خواہش ضرور کرتے ۔1958ء میں پرنس فلپ نے اس لیبارٹری کا دورہ کیا اور بیس سے زیادہ تجربات کا مشاہدہ کیا ،اور کہا کہ "یہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ یہاں کیونڈش کی طرح کا ماحول ہے ۔””ہائی ٹینشن لیبارٹری "کا نام بعد میں تبدیل کر کے "سنٹر فار ایڈوانسڈ سٹڈیز ان فزکس”رکھ دیا گیا ۔ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری نے نیوکلیئر پارٹیکل ایکسلریٹر کی تنصیب میں اہم کردار ادا کیا ، 1967ء میں انہوں نے سائنسدانوں کی ایک ٹیم تشکیل دی جس نے کامیابی سے” ریڈیو آئسو ٹوپس”کی پہلی کھیپ تیار کی ۔اس لیبارٹری سے تربیت حاصل کرنے والے طلباء پاکستان اور بیرون ملک اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں ۔Msc فزکس کے طلباء تقریباً بیس سے تیس کی تعداد میں جوہری فزکس میں تحقیقی کام کرنے کے لئے لیبارٹری آتے ۔ تمام طلباء کو پروجیکٹ دئیے جاتے ، جن کی نگرانی ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری کرتے ۔تحقیقی کام کرنے والے طلباء نے یونیورسٹیز اور راولپنڈی کے قریب نئے بننے والے "پاکستان انسٹیٹیوٹ آف نیوکلیئر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی”میں پوزیشنیں سنبھال لیں ۔ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری نے سائنسدانوں کی ایک ٹیم تیار کی جو اب پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی قیادت کر رہی ہے ۔ ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری کو سائنس میں "استادوں کے استاد”کا خطاب ملا ۔خوارزمی سوسائٹی اور انٹرا ایکٹ کے زیرِ اہتمام 30نومبر 1998ء کو اپنے لیکچر میں ڈاکٹر ثمر مبارک مندنے انہیں "پاکستانی ایٹمی پروگرام کا حقیقی خالق” قرار دیا ۔
    1958ء میں ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری 55سال کی عمر میں فزکس ڈیپارٹمنٹ کے عہدے سے ریٹائر ہو گئے ، اور اس کے بعد” ہائی ٹینشن” اور” نیوکلیئر ریسرچ لیبارٹری” کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے ۔ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری "تجرباتی نیوکلیئر فزکس” کے سر خیل بنے اور اپنے شاگرد مصطفیٰ یار خان کے ساتھ مل کر پاکستان کے کامیاب "نیوکلیئر پروگرام "کی بنیاد رکھی ۔1970ء کے اوائل میں ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری نے پنجاب یونیورسٹی کے "سنٹر فار سالڈ سٹیٹ فزکس”کو اپنا مسکن بنا لیا ، اور یہاں پر انہوں نے” پلازما فزکس” کی نئی ریسرچ لیبارٹری قائم کی ۔اس لیبارٹری میں انہوں نے یونیورسٹی کے متعدد طلباء کو Msc اور M phill کے لئے تربیت دی ۔ اس کام سے متعلق بڑی تعداد میں مقالہ جات اور تحریریں شائع کروائی گئیں ۔ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری کی پنجاب یونیورسٹی سے وابستگی شروع ہی سے تھی ۔1960ء سے 1977ء تک پنجاب یونیورسٹی میں اعزازی پروفیسر کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے ۔1977ء میں پنجاب یونیورسٹی کی طرف سے انہیں تاحیات پروفیسر ایمریطس مقرر کیاگیا ۔

    پروفیسر ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری نے 1932ء سے 1988ء کے دوران 53 تحقیقی مقالہ جات لکھے ، جو مختلف بین الاقوامی جرائد کی زینت بنے ۔شاندار سائنسی خدمات پر متعدد ملکی اور غیر ملکی اداروں کی تنظیموں نے ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری کو رکنیت ، "چئیر مین شپ” سے نوازا ۔ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری کو پاکستان کی خدمات کے اعتراف میں ستارہ خدمت 1964ء ، ستارہ امتیاز 1982ء اور 2005ء میں ہلال امتیاز سے نوازا گیا ۔ بلآخر 4 دسمبر 1988ء کو مختصر علالت کے بعد ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری انتقال کر گئے ۔ (انا للہ وانا الیہ راجعون)ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری کو پاکستان کے لئے گراں قدر خدمات کے صلے میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔(انشاء اللہ)

  • بلوچستان پر دشمنوں کا پھربزدلانہ وار، تحریر: جان محمد رمضان

    بلوچستان پر دشمنوں کا پھربزدلانہ وار، تحریر: جان محمد رمضان

    بلوچستان کے علاقے قلات میں 31 جنوری 2025 کی شب دہشت گردوں نے ایک بزدلانہ حملہ کیا، جس میں انہوں نے منگوچر کے علاقے میں سڑکیں بند کرنے کی کوشش کی اور مسافر بسوں پر فائرنگ کی۔ اس حملے کے دوران 18 سیکیورٹی فورسز کے جوان شہید ہو گئے۔ تاہم، سیکیورٹی فورسز کی فوری اور مؤثر کارروائی نے اس حملے کو ناکام بنا دیا اور دہشت گردوں کو بھاری نقصان اٹھانے کے بعد بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ جوابی کارروائی کے دوران 12 دہشت گرد بھی مارے گئے۔

    قلات میں دہشت گردوں نے اس حملے میں اپنی بزدلانہ کارروائیوں کا مظاہرہ کیا۔ دہشت گردوں نے مسافر بسوں پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں شہریوں کی قیمتی جانوں کے ضیاع کا خدشہ تھا۔ اس کے علاوہ، انہوں نے ایک نجی بینک کو بھی نذر آتش کرنے کی کوشش کی، تاکہ علاقے میں خوف و ہراس پھیلایا جا سکے۔ ان دہشت گردانہ کارروائیوں کا مقصد علاقے میں ترقی اور امن کو سبوتاژ کرنا اور عوام میں خوف پیدا کرنا تھا۔یہ حملے نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان میں دہشت گردی کی نئی لہر کو فروغ دینے کی سازش کا حصہ ہیں۔ ان کارروائیوں کے پیچھے بیرونی قوتوں کا ہاتھ ہو سکتا ہے، جو بلوچستان میں امن و سکون کو تباہ کرنے کی کوششیں کر رہی ہیں۔

    دہشت گردوں کی کارروائیاں ناکام بنانے میں بلوچستان کی سیکیورٹی فورسز نے بھرپور کردار ادا کیا۔ فورسز نے فوراً علاقے کا محاصرہ کیا اور دہشت گردوں کو مؤثر جوابی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا۔ سیکیورٹی فورسز کے جوانوں کی جرات و بہادری کی بدولت دہشت گرد اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکے اور انہیں اپنے حملے کی ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔شہید ہونے والے 18 جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تاکہ عوام کی حفاظت کی جا سکے، اور ان کی قربانیاں بلوچستان کی سرزمین پر امن قائم رکھنے کے لیے ایک سنہری مثال بن گئیں۔

    دہشت گردوں کی طرف سے سوشل میڈیا پر جھوٹا پروپیگنڈا پھیلایا جاتا ہے تاکہ لوگوں کے ذہنوں میں دہشت اور خوف پیدا کیا جا سکے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ دہشت گرد کمزور ہیں اور ان کے تمام تر حربے ناکام ہو چکے ہیں۔ سیکیورٹی فورسز کی مؤثر کارروائیاں اور عوام کی حمایت سے یہ دہشت گرد اپنے منصوبوں میں کامیاب نہیں ہو سکے۔جب بھی ان دہشت گردوں کو پکڑا گیا، تو انہوں نے بے بسی کا مظاہرہ کیا اور حقیقتاً ان کی تمام تر طاقت جھوٹے پروپیگنڈے اور خوف کو پھیلانے تک محدود ہے۔ بلوچستان میں اب عوام اور سیکیورٹی فورسز کے تعاون سے ان دہشت گردوں کی کمر توڑ دی جائے گی اور علاقے میں دیرپا امن قائم کیا جائے گا۔

    بلوچستان کے علاقے قلات میں 31 جنوری 2025 کو ہونے والا دہشت گرد حملہ ایک اور مثال ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں نہ تو عوام کے حوصلے کو توڑ سکتی ہیں اور نہ ہی سیکیورٹی فورسز کی عزم و ہمت کو کم کر سکتی ہیں۔ سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی نے ان دہشت گردوں کی کارروائی کو ناکام بنایا اور بلوچستان میں امن قائم رکھنے کے لیے ایک اور قدم اٹھایا گیا۔ ان حملوں کا مقصد عوام میں خوف و ہراس پھیلانا تھا، لیکن بلوچستان کے عوام اور فورسز کی ہم آہنگی نے اس سازش کو ناکام بنا دیا۔یہ وقت ہے کہ ہم سب بلوچستان میں امن و سکون کے قیام کے لیے مل کر کام کریں اور دہشت گردوں کے تمام منصوبوں کو ناکام بنائیں۔

    jaan

  • مریم نواز کا کھیلتا پنجاب پروگرام .تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    مریم نواز کا کھیلتا پنجاب پروگرام .تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کھیلتا پنجاب گیمز 2025 کے ڈویژنل مقابلے جیتنے والے 2200 کھلاڑی لڑکے، لڑکیوں کے لیے مفت ای بائیکس کا اعلان کیا،جوکہ نہایت خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیتنے والے کھلاڑیوں کو ہارس اینڈ کیٹل شو میں بھی مفت داخلے کی اجازت ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا، "میں پنجاب کے کھلاڑیوں کو بین الاقوامی سطح پر جیتتے دیکھنا چاہتی ہوں۔” وزیراعلیٰ نے کہا کہ چیمپئنز کو صرف اپنی کھیلوں کی سرگرمیوں پر توجہ مرکوز کرنی ہوگی اور ملک میں افراتفری اور بدامنی پھیلانے کے لیے شرپسندوں کے ہاتھوں گمراہ نہیں ہونا چاہیے، اگر کوئی آپ سے ملک میں انتشار پھیلانے کا کہے تو نوجوان توجہ نہ دیں۔ اگر کوئی آپ سے رینجرز کو مارنے، میٹرو بس کو جلانے، پیٹرول بم پھینکنے کے لیے کہے، تو آپ کو صاف صاف انکار کر دینا چاہیے۔ صرف تعلیم حاصل کریں تاکہ ترقی کریں۔اس راست پر چلانے والے آپ کے دوست ہیں، جو ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہیں اور آپ کو اپنا حصہ بننے پر آمادہ کرتے ہیں وہ آپ کے دوست نہیں بلکہ دشمن ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو بھی آپ کو اپنے ملک کو آگ لگانے پر اکساتا ہے، اداروں پر حملہ کرنے کا کہتا ہے وہ آپ کا سب سے بڑا دشمن ہے، صرف پاکستان کو سب کی ‘ریڈ لائن’ ہونا چاہیے، وطن عزیز کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھایا جانا چاہیے۔ پاکستان کی ترقی اور صرف ترقی ہوگی۔ انشاالله

    کھیلوں کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پنجاب کے کھلاڑیوں کو عالمی سطح پر کامیابی حاصل کرتے دیکھنا ان کا خواب ہے۔ حکومت کی جانب سے کھلاڑیوں کو مفت ای بائیکس فراہم کرنا ایک ایسا عملی اقدام ہے جو نوجوانوں کو نقل و حرکت میں آسانی فراہم کرے گا اور انہیں اپنے کھیل پر زیادہ توجہ دینے میں مدد دے گا۔مریم نواز نے یہ بھی اعلان کیا کہ جیتنے والے کھلاڑیوں کو ہارس اینڈ کیٹل شو میں مفت داخلے کی سہولت دی جائے گی۔ اس سے نہ صرف ان کھلاڑیوں کی عزت افزائی ہوگی بلکہ انہیں مزید مواقع ملیں گے تاکہ وہ معاشرتی اور ثقافتی سرگرمیوں کا حصہ بن سکیں۔وزیر اعلیٰ پنجاب نے اپنے نوجوانوں کو واضح پیغام دیا کہ وہ صرف اپنی تعلیم اور کھیلوں پر توجہ دیں اور کسی بھی ایسے عناصر کے جھانسے میں نہ آئیں جو انہیں ملک میں انتشار اور بدامنی کی طرف لے جائے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے میں کھیلوں کے فروغ اور نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک تاریخی اعلان کیا ہے۔

    "کھیلتا پنجاب گیمز 2025” کے ڈویژنل مقابلے جیتنے والے 2200 کھلاڑیوں کے لیے مفت ای بائیکس دینے کا فیصلہ ایک ایسا اقدام ہے جو نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرے گا اور انہیں مزید محنت کرنے کی ترغیب دے گا۔کھیلوں کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پنجاب کے کھلاڑیوں کو عالمی سطح پر کامیابی حاصل کرتے دیکھنا ان کا خواب ہے۔ حکومت کی جانب سے کھلاڑیوں کو مفت ای بائیکس فراہم کرنا ایک ایسا عملی اقدام ہے جو نوجوانوں کو نقل و حرکت میں آسانی فراہم کرے گا اور انہیں اپنے کھیل پر زیادہ توجہ دینے میں مدد دے گا۔وزیر اعلی پنجاب مریم نواز کا یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ وہ نوجوانوں کی فلاح و بہبود کو اپنی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل کر چکی ہیں۔

    مفت ای بائیکس کی فراہمی، کھیلوں کے لیے اضافی بجٹ اور نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرنے کا پیغام—یہ تمام فیصلے اس بات کا ثبوت ہیں کہ پنجاب حکومت نوجوان نسل کو ایک روشن اور محفوظ مستقبل فراہم کرنا چاہتی ہے۔یہ اقدامات نہ صرف کھیلوں کو فروغ دیں گے بلکہ نوجوانوں میں حب الوطنی اور مثبت سوچ کو بھی پروان چڑھائیں گے، جو ایک ترقی یافتہ اور مستحکم پاکستان کی جانب اہم قدم ہے۔۔”یہ پیغام نوجوانوں کو ایک صاف اور مثبت راہ دکھانے کے لیے دیا گیا ہے، تاکہ وہ اپنی توانائیاں منفی سرگرمیوں میں ضائع کرنے کے بجائے اپنے مستقبل کی بہتری کے لیے استعمال کریں۔یہ تمام فیصلے اس بات کا ثبوت ہیں کہ پنجاب حکومت نوجوان نسل کو ایک روشن اور محفوظ مستقبل فراہم کرنا چاہتی ہے۔یہ اقدامات نہ صرف کھیلوں کو فروغ دیں گے بلکہ نوجوانوں میں حب الوطنی اور مثبت سوچ کو بھی پروان چڑھائیں گے، جو ایک ترقی یافتہ اور مستحکم پاکستان کی جانب اہم قدم ہے۔

  • افغان مہاجرین،پاکستان کی سلامتی کیلئے خطرہ

    افغان مہاجرین،پاکستان کی سلامتی کیلئے خطرہ

    افغان مہاجرین،پاکستان کی سلامتی کیلئے خطرہ
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    پا کستان نے 1979 ء میں سوویت یونین کے افغانستان پر حملے کے بعد سے لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دی ہے۔ یہ ایک انسانی ہمدردی پر مبنی فیصلہ تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کے اثرات پاکستانی معاشرے پر نمایاں ہوتے گئے اور انسانی ہمدردی میں کیا گیا فیصلہ پاکستانیوں کیلئے گلے کی ہڈی بن گیا ،جس سے جان ہی نہیں چھوٹ رہی ، تقریبا َچار دہائیوں کے بعد یہ مہاجرین ایک پیچیدہ مسئلہ بن چکے ہیں، جس کے سماجی، اقتصادی اور سیکیورٹی اثرات نے پاکستانیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔

    افغان مہاجرین کو پاکستان نے ہمیشہ کھلے دل سے قبول کیا، ان کے لیے کیمپ قائم کیے گئے، روزگار کے مواقع فراہم کیے گئے اور انہیں تعلیم و صحت کی سہولیات دی گئیں۔ لیکن بدلے میں ان افغانیوں نے پاکستان کو منشیات ،ناجائزاسلحہ ،چوری ،ڈکیتی اور دہشت گردی کی کارروائیوں کے تحفے دئے ، جن کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں ،بیشترپاکستانیوں کی رائے ہے کہ افغان مہاجرین ملکی وسائل پر بوجھ بن چکے ہیں۔پاکستان کی معیشت پہلے ہی کئی چیلنجز سے دوچار ہے۔

    افغان مہاجرین کی ایک بڑی تعداد اب بھی پاکستان میں غیر رجسٹرڈ ہے، جو مقامی معیشت پربوجھ ہیں۔ ملازمتوں کے مواقع، صحت اور تعلیم کے وسائل پر ان کا بوجھ پاکستانی عوام کے لیے مشکلات پیدا کر رہا ہے۔ایک اور سنگین مسئلہ سیکیورٹی کا ہے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق بہت سے افغان مہاجرین دہشت گردی اور جرائم میں ملوث پائے گئے ہیں۔ کئی بار ایسے شواہد سامنے آئے ہیں کہ افغان مہاجرین کیمپ انتہا پسند عناصر کی پناہ گاہ بن چکے ہیں۔

    30 جنوری 2025 کو افغان صوبہ بادغیس کے نائب گورنر مولوی غلام محمد کا بیٹا بدرالدین عرف یوسف ڈیرہ اسماعیل خان کے کلاچی میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں مارے جانے والے تین دہشت گردوں میں شامل تھا، جو فتنہ الخوارج (FAK) کے دہشت گردوں کے ساتھ ہلاک ہوا۔ یوسف کی کالعدم ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کے ساتھ ہلاکت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ افغانستان کھلم کھلا پاکستان میں دہشت گردی کی سرپرستی کر رہا ہے، جہاں دہشت گرد گروہوں کو ٹریننگ، اسلحہ اور محفوظ پناہ گاہیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ افغانستان کی جانب سے دہشت گردوں کی مسلسل پشت پناہی پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے، اور کابل حکومت کا یہ رویہ دراصل پاکستان کے خلاف ایک کھلی جنگ کے مترادف ہے۔ افغان طالبان اور ٹی ٹی پی کے باہمی روابط اب کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں.

    اب افغان مہاجرین پاکستان میں سماجی تناؤ اور جرائم کی شرح میں اضافے کی علامت بن چکے ہیں ، جو مقامی آبادی کے لیے تشویشناک ہے۔پاکستان کئی دہائیوں سے افغان حکومت اور عالمی برادری سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ مہاجرین کی واپسی کے لیے مؤثر اقدامات کرے مگر اس سلسلے میں خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی۔ پاکستان کا مئوقف واضح ہے کہ مہاجرین کو باعزت طریقے سے ان کے وطن واپس بھیجا جائے تاکہ ملکی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

    اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان سخت فیصلے کرے اور تمام افغان مہاجرین کو ملک بدر کرے۔ اقوام متحدہ کی ہدایات اور بین الاقوامی مہاجر قوانین کو پس پشت ڈال کر ہمیں اپنے قومی مفاد کو ترجیح دیناہوگی۔ جو ممالک ان افغان مہاجرین سے ہمدردی رکھتے ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ خود ان دہشت گردوں کو اپنے ممالک میں جگہ دیں۔

    ہمیں اب ان ظالمان دہشت گردوں اور فتنہ الخوارج کے ایجنٹوں سے ہر حال میں چھٹکارا حاصل کرنا ہوگا۔ بہت ہو گئی مہمان نوازی، اب یہ ہمارے گھر میں بیٹھ کر ہمارے بچوں، بزرگوں، خواتین اور ہماری افواج پر حملوں میں دہشت گردوں کی معاونت کر رہے ہیں۔ پاکستان میں امن کے قیام اور اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے افغان دہشت گردوں سے نجات حاصل کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

    دوسری طرف افغان مہاجرین نے ملک کے اندر موجود مافیاز کے ساتھ ملی بھگت کرکے بھاری رقوم کے عوض پاکستانی شناختی کارڈ حاصل کر رکھے ہیں۔ یہ ایک نہایت خطرناک معاملہ ہے جو ملکی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن چکا ہے۔ پاکستانی حکام کو چاہیے کہ وہ نہ صرف ان افغانوں کے خلاف سخت کارروائی کریں بلکہ نادرا میں موجود ان کے سہولت کاروں کو بھی بے نقاب کریں جو چند روپوں کی خاطر ملکی سلامتی کو داؤ پر لگا کر غیر ملکیوں کو پاکستانی شہری ہونے کے جعلی دستاویزات فراہم کر رہے ہیں۔ ایسے عناصر کے خلاف فوری اور سخت ترین کارروائی ناگزیر ہے تاکہ ملک کے اندر کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کو روکا جا سکے۔

    پاکستان کی بقاء استحکام اور روشن مستقبل کے لیے اب فیصلہ کن اقدامات اٹھانے کا وقت آ چکا ہے۔ ہمیں مزید تاخیر کے بغیر اپنی سرزمین کو غیر قانونی مہاجرین اور ان کے سہولت کاروں سے پاک کرنا ہوگا۔ یہ مسئلہ صرف قانون و انتظام کا نہیں بلکہ پاکستان کی خودمختاری اور قومی سلامتی کا ہے۔ اب اگر ہم نے سنجیدہ اور سخت فیصلے نہ کیے تو ہمارا ملک مسلسل عدم استحکام، دہشت گردی اور معاشی مشکلات کا شکار رہے گا۔ ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایک محفوظ، خودمختار اور مستحکم پاکستان چھوڑنا ہوگا اور یہ تبھی ممکن ہے جب ہم بے خوف ہو کر قومی مفاد میں عملی اقدامات کریں۔

  • پیکا ترمیمی ایکٹ ،صحافی برادری سڑکوں پر،تحریر: جان محمد رمضان

    پیکا ترمیمی ایکٹ ،صحافی برادری سڑکوں پر،تحریر: جان محمد رمضان

    پاکستان میں حالیہ دنوں میں حکومت نے پیکا ترمیمی ایکٹ میں تبدیلیوں کی منظوری دی، جس کے بعد صحافیوں اور میڈیا تنظیموں نے اس پر شدید اعتراض کیا۔ اس قانون کی منظوری کے خلاف ملک بھر میں یوم سیاہ منایا گیا۔ اس احتجاج کا مقصد حکومت کے اس اقدام کو مسترد کرنا تھا، جو صحافتی آزادی اور اظہار رائے کے حق پر ضرب لگانے کے مترادف قرار دیا جا رہا تھا۔ پیکا ایکٹ کا مقصد سائبر کرائمز اور آن لائن جرائم کے خلاف اقدامات کیے جا سکیں۔ اس کے تحت سوشل میڈیا اور دیگر الیکٹرانک ذرائع پر کسی بھی قسم کے ہتک عزت، جھوٹے مواد یا ریاستی اداروں کی بدنامی کی صورت میں قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ تاہم، اس قانون میں حالیہ ترمیمیں مزید سخت اور وسیع کی گئی ہیں، جس کے باعث صحافتی حلقوں میں اس کے خلاف شدید ردعمل سامنے آیا۔

    پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کی اپیل پر، مختلف صحافتی تنظیموں نے جمعہ کو یوم سیاہ کے طور منایا۔ اس دن کے دوران پاکستان کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے، جن میں کراچی، لاہور، اسلام آباد، کوئٹہ، سکھر، کندھکوٹ، جیکب آباد اور دیگر بڑے شہر شامل تھے۔ صحافتی تنظیموں کے نمائندگان اور میڈیا کارکنان اس احتجاج کا حصہ بنے اور اس قانون کی مخالفت کی۔اسلام آباد میں یوم سیاہ کے سلسلے میں نیشنل پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ اس موقع پر صحافیوں نے سیاہ پرچم لہرائے اور پیکا ترمیمی ایکٹ کے خلاف نعرے بازی کی۔ اس احتجاج میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کے نمائندگان، آر آئی یو جے (اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس)، اور دیگر صحافتی تنظیموں کے افراد نے شرکت کی۔ نیشنل پریس کلب پر سیاہ پرچم لہرا کر اس احتجاج کا اظہار کیا گیا۔لاہور پریس کلب میں بھی یوم سیاہ کی تقریب منعقد کی گئی، جس میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے سیکرٹری جنرل ،صدر لاہور پریس کلب ارشد انصاری نے قیادت کی، اس احتجاج میں سی پی این ای، پی بی اے، ایمنڈ، اے پی این ایس، پی یوجے، لاہور پریس کلب، پنجاب اسمبلی پریس گیلری کمیٹی اور دیگر صحافتی تنظیموں کے نمائندگان نے بھرپور شرکت کی۔ارشد انصاری نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیکا ترمیمی ایکٹ ایک کالا قانون ہے جو صحافتی آزادی کو چھیننے کے مترادف ہے۔ انہوں نے اس قانون کے پیچھے حکومت کے غیر جمہوری اقدامات کو بے نقاب کیا اور اس پر زور دیا کہ حکومت اس قانون کو واپس لے۔ اس قانون کے ذریعے حکومت مخالف آوازوں کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    پیکا ترمیمی ایکٹ میں کی گئی تبدیلیوں پر صحافتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ قانون صحافیوں کے لیے ایک خطرہ بن چکا ہے۔ ان کے مطابق، یہ قانون آزادی اظہار رائے اور صحافت کے حق کو متاثر کرتا ہے۔ صحافیوں کا ماننا ہے کہ یہ قانون سوشل میڈیا پر تنقید کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے لیے استعمال ہو سکتا ہے، جو کہ ایک جمہوری معاشرت کے لیے خطرناک ہے۔اس قانون کے ذریعے حکومت مخالف آوازوں کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس سے نہ صرف میڈیا کی آزادی متاثر ہوگی بلکہ عوام کی آواز بھی خاموش کر دی جائے گی۔

    یوم سیاہ کے اس احتجاجی مظاہرے کے بعد صحافی تنظیموں نے حکومت پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا ہے کہ وہ اس متنازعہ ترمیمی ایکٹ کو واپس لے اور صحافت کی آزادی کو یقینی بنائے۔ صحافتی تنظیمیں اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ آزادی اظہار رائے اور صحافت کی آزادی کسی بھی جمہوری معاشرت کا بنیادی ستون ہے، جسے ہر صورت میں محفوظ رکھا جانا چاہیے۔پیکا ترمیمی ایکٹ کی منظوری کے خلاف صحافیوں کا احتجاج اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان میں صحافتی آزادی کو لے کر ایک سنگین بحران پیدا ہو چکا ہے۔ حکومت کے اس متنازعہ اقدام کے خلاف صحافتی تنظیموں کی جدوجہد اب ایک بڑے قومی مسئلے کی صورت اختیار کر چکی ہے، جس کا اثر نہ صرف صحافیوں پر پڑے گا بلکہ پورے ملک میں جمہوریت اور آزادی اظہار پر بھی اس کے سنگین نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔صحافتی تنظیمیں اپنے احتجاج کو مزید بڑھا کر حکومت پر دباؤ ڈال رہی ہیں تاکہ اس قانون کو واپس لیا جائے اور میڈیا کی آزادی کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ پاکستان کے عوام، خاص طور پر میڈیا کارکنان، اپنے حقوق کی جنگ لڑنے کے لیے ایک ہو چکے ہیں اور اس جدوجہد میں ان کی کامیابی کے امکانات روشن ہیں

    jaan

  • گنویری والا: ہڑپہ وموہنجودڑو سے بھی قدیم سات ہزار سالہ سرائیکی تہذیب کا مرکز(تیسری وآخری قسط)

    گنویری والا: ہڑپہ وموہنجودڑو سے بھی قدیم سات ہزار سالہ سرائیکی تہذیب کا مرکز(تیسری وآخری قسط)

    گنویری والا: ہڑپہ وموہنجودڑو سے بھی قدیم سات ہزار سالہ سرائیکی تہذیب کا مرکز
    تحقیق و تحریر:ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    altafkhandahir@gmail.com
    خلاصہ :یہ آرٹیکل سرائیکی خطے کی قدیم تہذیب و تمدن، خاص طور پر گنویری والا شہر کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ گنویری والا، جو ہڑپہ اور موہنجودڑو سے قدیم ہے، وادی ہاکڑہ کے کنارے واقع ایک عظیم تاریخی مرکز رہا ہے۔ آرٹیکل میں علم آثار قدیمہ کی اہمیت بیان کی گئی ہے، جو قدیم تہذیبوں اور تمدن کے مطالعے کا ذریعہ ہے اور یہ آرٹیکل تین اقساط پر مشتمل ہے .اس سلسلے کی تیسری وآخری قسط ملاحظہ فرمائیں

    دنیا کے ابتدائی قدیمی ورثے دریائے سرسوتی کنارے آباد سرائیکی تہذیبی شہر گنویری والا کا مستقبل اور چیلنجز
    اللہ رب العزت انسان کے غور و فکر اور عملی فلاحی تحقیقی کام کو پسند فرماتا ہے۔دنیا میں جدت اور خوشحال اکنامک سکلڈ انفارمیشن میرے نزدیک آرکیالوجی سائنس کی بدولت ممکن ہوئی ہے۔جن قوموں نے قرآن مجید اور دیگر مقدس قدیم کتابوں ویدک لٹریچر،انجیل،تورات،زبور کی بدولت دنیا میں موجود دریائی،میدانی،پہاڑی،سمندری،جنگلات اور ریگستانوں میں چھپے انسانی تمدنی،ثقافتی اور تاریخی قدیم عجوبے تہذیبی خزانوں کو ڈھونڈا اور ان پرانے ورثے آثارقدیمہ کی بدولت نئی حکمت و دانش سے اپنے مستقبل کو محفوظ بنایا.آج دنیا میں امریکہ،چین، روس،برطانیہ، فرانس،جاپان، قطر،دوبئی، سعودی عرب جیسے عظیم ممالک کی مضبوط شکل میں موجود ہیں۔

    دریائےسرسوتی سرائیکی وسیب روہی چولستان کے ابتدائی انسانی دنیا کے مشترکہ تہذیبی اثاثے کے حوالے سے سرسوتی اور سرائیکی کا سات ہزار سے آٹھ ہزار شہر گنویری کی قدامت بارے اہم شہادت قابل غور بات ہے۔سرائیکی محقق سید نور علی ضامن حسینی بخاری ریٹائرڈ ڈپٹی چیف انجینئر آبپاشی مغربی پاکستان (آل اولاد حضرت سید شیر شاہ جلال الدین حیدر سرخ پوش بخاری رحمتہ اللہ علیہ) نے اپنی کتاب "معارف سرائیکی” ناشر مصطفٰی شاہ اکیڈمی احمدپورشرقیہ، مطبع پنجاب آرٹ پریس لاہور،اول اشاعت 1972ء کے صحفہ نمبر11 پر اپنے ایک بے تکلف پنجابی دوست دانشور پرویز حسن صادق کو انٹرویو میں کہا کہ سرائیکی تو قرآن پاک کے ” اصحاب الرس ” کی زبان ہے۔جس کا ذکر قرآن مجید کی سورہ فرقان، سورہ ق میں موجود ہے۔

    اس کا ثبوت انہوں نے صفحہ نمبر 104 پر سر آرل سٹین کی ریسرچ مطابق دریائے گھاگھرا،سرسوتی جس کی عظمت کے گیت مقدس کتاب رگ وید سنسکرت زبان میں موجود ہیں اور جرمن دانشور پروفیسر آردان راتھ کی تحقیق موجب دریائے سندھو یعنی دریائے انڈس کو رگ وید میں بیان کردہ دریائےسرسوتی کہا گیا ہے۔بہت سے دوسرے دانشوروں اور میری صحیح رائے کے مطابق سرسوتی سے مراد دراصل "سویراس وتی ” ہوسکتا ہے۔یعنی اصحاب الرس کا دریا۔اسی بناء پر یہ یقین غالب ہے کہ سرائیکی کا لفظ دراصل سویراکی تھا جو آہستہ آہستہ بگڑ کر سرائیکی ہوگیا۔

    ان حقائق کی روشنی میں کیا ہمارے مقامی سرائیکی وسیب کے عوامی نمائندے اپنے قدیم تاریخی،تمدنی،ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لئے ایم این ایز، ایم پی ایز نے کیا کلیدی کردار ادا کیا ہے؟۔یہ اہم سوال ہے۔کیا سرائیکی خطے میں گنویری والا میوزیم قائم ہوا؟کیا سرائیکی وسیب میں سرسوتی گنویری والا کے مقام پر ہاکڑہ سرسوتی یونیورسٹی کے قیام کے لئے عملی اقدامات ہوئے؟کیا سرائیکی لینگؤیج،آرٹ اینڈ آرکیالوجی کلچرل سنٹر کا قیام قلعہ ڈیراور چولستان پر قائم ہوا؟کیا چولستان کے قدیم تاریخی قلعوں کی تزئین و آرائش کے عملی اقدامات ہوئے؟
    چند گزارشات سے سرائیکی خطے کی روہی میں تعمیر نو اور ترقی کے امکانات روشن ہوسکتے ہیں۔

    ان تمام اہم مسائل کو سرائیکی وسیب کے ہر شاعر،قصولی،نقاد،دانشور،ادیب،محقق اور صحافی نے اپنے ورثے کے تحفظ کے لئے ایمانداری سے ہر جگہ فریاد کرتے نظر آ رہے ہیں۔سوشل میڈیا پر نوجوان نسل اب اپنے تہذیبی ورثے کی حفاظت اور تعمیر نو کے لیے آگے آرہے ہیں۔سرائیکی شاعر پیشے کے اعتبار سے وکیل ثاقب قریشی کا سرائیکی کلام میں سرائیکی ورثے کے کمال تخیل پیش کیا۔
    گالھ ٹرپئی اے اینکوں پندھ کریندا ڈیکھیں
    اے نہ سمجھیں میڈی منزل کوں زمانے لگسن


    شاعر اپنی دھرتی کے سفیر ہوتے ہیں۔سرائیکی روہی چولستانی احمدپورشرقیہ کے مزاحمتی مزاج شاعر جہانگیر مخلص روہی ریگستان اور سرائیکی تہذیب وتمدن،ثقافت اور شناخت کی بے بسی پر نوحہ خوانی اور عشق کرتے نظر آ رہے ہیں۔
    پہلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    گنویری والا: ہڑپہ و موہنجودڑو سے بھی قدیم سرائیکی تہذیب کا مرکز (پہلی قسط)
    دوسری قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    گنویری والا: ہڑپہ وموہنجودڑو سے بھی قدیم سات ہزار سالہ سرائیکی تہذیب کا مرکز(دوسری قسط)
    سرسوتی تہذیب وتمدن سے محبت اور مزاحمت ان کے کلام کا خاصہ ہے۔سرائیکی دانشور عبدالباسط بھٹی اور شاعر جہانگیر مخلص کا سرائیکی روہی کے تمدنی،ثقافتی قلعہ ڈیراور چولستان کی جیپ ریلی مرکز پر ہر سال سالانہ سرائیکی خواجہ فرید امن میلہ منعقد کرانا دراصل سرائیکی وسیب کی محرومیوں کے اظہار کا سنہڑا ہے۔پرہ باکھ ان کی سرائیکی شاعری کا شاہکار نمونہ ہے۔ان کے کلام کا تخیل کمال حیرت کا سماں پیدا کرتاہے۔

    سرائیکی دھرتی روہی کے آٹھ ہزار سال تہذیب وتمدن کا گہوارہ،دکھ درد ان کے جیون کی کتھا ہے۔اپنی سرائیکی ریاست بہاولپور کے نوابوں اور مقامی سیاسی نمائندوں کے نام اہم پیغام دیا ہے۔کلام ملاحظہ فرمائیں۔

    اساں مونجھاں تیڈیاں،اساں کونجاں تیڈیاں
    سدھ نی کیئں گول وچ گئے ہیں گاریئے اساں
    کیا ڈسوں جانیاں! تیڈی دھرتی اتے
    دم حیاتی دے کیویں گزاریئے اساں

    دم دلاسے اساں، صرف کاسے اساں
    تیڈے وسبے دے کھل ٹوک ہاسے اساں

    ساکوں کوئی یاد نی کون ہاسے اساں
    سنج دی مانڑی اساں،پنج دی ہاری اساں

    اسی طرح رحیم یار خان سسی دی ماڑی بھٹہ واہن کے مہان کلاسک شاعر سئیں ممتاز حیدر ڈاھر کی شاعری "کشکول وچ سمندر” سرائیکی خطے کی وادی سرسوتی تہذیبی ورثے کے محافظ گنویری والا شہر روہی چولستان سے محبت کو عید مبارک کہتے ہیں۔دھرتی ماں سے محبت ہر سرائیکی شاعر کے تخیل کا خوبصورت عکس ہے۔کلام ملاحظہ فرمائیں۔

    جو وی ساہ دا سانگا جوڑے
    سچی سانجھ دے سانگے
    جیئں دل وچ ماء دھرتی دا درد ہے
    رتی بھانویں شارک
    اونکوں عید مبارک

    حکومت وقت کو اپنے قومی ورثے گنویری والا کی فوری حفاظت کے لیے مستقل بنیادوں پر عملی اقدامات ہڑپہ و موہنجوداڑو طرز جیسے اٹھانا ہوں گے۔گنویری والا میوزیم اور ہاکڑہ سرسوتی یونیورسٹی کے قیام سے ہی سرائیکی قدیم تہذیبی و تمدنی ثقافتی ورثے کا تحفظ ممکن ہوگا۔خبر خوش آئند ہے کہ ابتدائی مراحل میں قلعہ ڈیراور کو ورلڈ ہیریٹیج میں شامل کر لیا گیا ہے۔امید ہے کہ نئی نوجوان نسل اپنے قومی ورثے کی منفرد شناخت کے لیے ایمانداری سے عملی طور تحقیق کرے گی اور نئے چھپے خزانوں سے پردہ اٹھائے گی۔

    افسوس کی بات یہ ہے کہ کھدائی سے ملنے قیمتی نوادرات کو بہاولپور میوزیم میں نہیں رکھا گیا۔مقامی روہیلوں کی رپورٹ کے مطابق پرانی تہذیب و تمدن کے مرکزی شہر گنویری والا سے چور قیمتی اثاثہ سے نوادرات چوری کرکے اونے پونے بیچ رہے ہیں۔اقوام متحدہ کے آرکیالوجی اداروں کو پاکستان کے ساتھ مل کر چولستان روہی سرائیکی وسیب کے ورلڈ ہیریٹیج سٹی گنویری والا کے مقام پر ہاکڑہ سرسوتی یونیورسٹی کے فوری قیام اور ساتھ ہی گنویری والا میوزیم کے قائم سے سرائیکی علاقے میں سیاحت کو فروغ ملے گا۔علاقے میں معاشی ترقی کا نیا دور شروع ہوگا۔

    سرائیکی ثقافتی تمدنی سات سے آٹھ ہزار سال پرانے گمشدہ شہر گنویری والا کی کھدائی کے لیے مزید ارتقائی ہنگامی بنیادوں پر پراجیکٹس کی گرانٹس جاری کرنا ہوں گی۔تہذیب وتمدن ،رسوم،حکمت و دانش،ترقی یافتہ پالیسیوں کی تلاش،زبان،سرائیکی سماجیات، روایات،ثقافت،ادب اور فنون لطیفہ کے ورلڈ اثاثےکی آگاہی ہم سب کا قومی فریضہ ہے۔گنویری والا شہر کی کھدائی سے قیمتی خزانوں سے پردہ چاک کرکے ملکی وقار و زر مبادلہ میں بھی بلند اضافہ ہوگا۔

    خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ سرائیکی مہان کلاسک شاعر نے 56 سالہ زندگی میں تقریبا 18 سال روہی چولستان جھوک فرید کنڈا فرید میں گزارے۔ان کو دفن قیمتی خزانوں کا علم تھا اور اپنے شاندار خوشحال مستقبل کا بھی پتہ تھا۔اس لئے خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے ریاستی سرائیکی نواب صادق محمد خان عباسی چہارم کو کہا تھا کہ اپنی نگری آپ وسا توں پٹ انگریزی تھانے سے مراد روہی چولستان آپ نے خود آباد کرنا ہےاور پٹ انگریزی تھانے کی اصطلاح دراصل اعلی جدید علم و ٹیکنالوجی کی تحقیق،خود داری،دیانت داری اور محنت کا استعارہ بیان فرمایا۔روہی چولستان کی شادابی اور معاشی ترقی کا حسین خواب حقیقت کا اظہار ایک صدی پہلے کر چکے ہیں۔اب صرف ایمانداری سے عمل کی ضرورت ہے۔سرائیکی وسیب کی نوجوان نسل کو قلم،کتاب،لائیبریری اور ریسرچ لیبارٹری میں دن رات جدید علم و ہنر اور ٹیکنالوجی کے اوزاروں سے اپنے مستقبل کو محفوظ بنانا ہوگا۔سرائیکی مہان کلاسک صوفی شاعر سیئں خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ کا مکمل دیوان فرید سرائیکی سماجیات کی مضبوط دستاویزات ہیں۔ان کے کلام آفاقیت میں روہی سے عشق محبت،امید اور تصوفانہ فلسفے سے تقویت ملے گی۔

    اگر آج بھی حکمران، مقامی سیاستدان اور سرائیکی وسیب کے دعویدار خوابِ غفلت سے نہ جاگے تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔گنویری والا، جو ہڑپہ و موہنجوداڑو سے بھی زیادہ قدیم ہے،محض داستان بن کر رہ جائے گا۔ اور ہماری آنے والی نسلیں ہمیں بے حسی اور غفلت کا مجرم ٹھہرائیں گی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی عظمت کو مٹی میں دفن ہونے سے بچائیں،ورنہ کل ہمیں اپنی شناخت کے ملبے پر کھڑے ہو کر صرف افسوس ہی کرنا پڑے گا!

    وقت کا پہیہ رکنے والا نہیں مگر تاریخ بے رحم ہوتی ہے۔جو قومیں اپنی پہچان اور ورثے کی حفاظت نہیں کرتیں، وہ ماضی کے کھنڈرات میں دفن ہو جاتی ہیں۔ گنویری والا ہماری شناخت، تہذیب اور تاریخی ورثے کا نشان ہے، جسے بچانا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔ اگر آج بھی ہم نے آنکھیں نہ کھولیں تو کل یہ زمین کسی اور کی نہیں بلکہ ہماری اپنی بے حسی کی گواہی دے گی۔ فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے، تاریخ میں سر اٹھا کر زندہ رہنا ہے یا مٹ جانے والوں میں شامل ہونا ہے۔

  • پیکاایکٹ، کیا آزادی صحافت کو دبانے کی کوشش ہے؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    پیکاایکٹ، کیا آزادی صحافت کو دبانے کی کوشش ہے؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    پیکا او پیکا تیری کون سی کل سیدھی۔ پارلیمنٹ ہائوس میں جمہوریت کے علمبرداروں نے مشترکہ طور پر پہلے قومی اسمبلی ،پھر سینٹ میں ایک قانون پاس کرکے صدر ہائوس بھجوایا۔ اب وہ قانون بن گیا ۔ ملک بھر کے صحافی سراپا احتجاج ہیں۔ التجا ہی کی جا سکتی ہے کہ لکھنے والے اور بولنے والوں کو نہ ستائیں ۔ ہر صحافی فروخت کنندہ نہیں۔ گو کہ صحافیوں کی صفوں میں بھی ایسی مخلوق داخل ہو چکی ہے جو قومی فریضہ سے کوسوں دور ہیں۔ا یسے لوگوں کی اکثریت سوشل میڈیا پر نظر آتی ہے۔جانبداری میڈیا کے لئے زہر قاتل ہے۔ میڈیا کاکوئی فرد جب وہ جانبدار بن گیا تو وہ ختم ہو گیا، یعنی اس نے اپنی حیثیت اور وقار کو ختم کردیا ۔ میڈیا کی آزادی کے لئے ماضی میں بڑی قربانیاں دی گئی ہیں ۔ماضی میں قومی مسائل اور تحریکوں میں میڈیا کا کردار بہت اہم رہاہے۔ لیکن جب پیسہ بولنے اور لکھنے لگتا ہے تو پھر سوالیہ نشان میڈیا پر آتا ہے۔ آج میڈیا کو لکھنے اور بولنے کی آزادی ہے ۔

    قربانیو ں کی لمبی کہانی ہے ایک ا یسا وقت بھی آیا ان پر کوڑے برسائے گئے۔ جیلوں میں بند کردیا گیا۔ اظہار رائے کی آج جو آزادی ہے اس کا کریڈٹ ماضی کے اُن صحافیوں کو جاتا ہے جنہوں نے قربانیاں دیں۔ اُن صحافیوں کی ایک لمبی کہانی ہے ۔ پیکا قانون بنانے والوں کو یاد رکھنا چاہیئے میڈیا آپ کا اُس وقت تک کچھ بگاڑ نہیں سکتا جب تک آپ خود اپنے بگاڑ پر آمادہ نہ ہوں۔یہ بھی حقیقت ہے صحافت کا گلہ دبانے والے خود اپنے پھندے تیار کررہے ہوتے ہیں۔

    نئے امریکی صدر ٹرمپ اور اُن کی انتظامیہ کی طرف سے آنے والے دنوں میں بھارت کے لئے اچھی خبریں نہیں ہیں ۔ روسی صدرپیوٹن جو برکس کی میٹنگ بلائی تھی اس میں بھارت بھی شامل تھا۔ اُ س میٹنگ کا مطلب امریکہ کو ایشیا سے باہر نکالنا تھا یعنی ڈالر کو ختم کیا جائے ۔ روس کو کامیابی تو حاصل نہ ہوسکی تاہم مودی کی لومڑی کی چال امریکہ اور خاص طور پر ٹرمپ یہ جان چکے ہیں کہ مودی امریکہ اور یورپ کو روس کے ساتھ مل کر کمزورکرنے میں شامل رہا۔ ٹرمپ کے آنے سے امریکہ کو ایشیا سے دورکرنے والا روس خود دور جاتے دکھائی دینے لگا ہے۔ چین نارتھ کوریا کا حال دیکھ کر امریکہ کے خلاف کسی بھی سازش میں جانے کا ارادہ نہیں کرے گا۔ افغانستان اور ایران کو لے کر پاکستان کا کردار اہم ہوگا۔ ویسے بھی سعودی عرب امریکہ میں ٹرمپ کے کہنے پر 6 سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔ پاکستان اور سعودی عرب کے مستحکم تعلقات ہیں۔ صدر ٹرمپ لاطینی امریکہ یورپ اور مشرق وسطٰی کے نقشوں میں تبدیلی کرکے دنیا کو چونکا دے گا۔ صدر ٹرمپ صدارتی کرسی پر بیٹھ کر گھوم گھوم کر فائلیں دیکھ رہے ہیں۔ اور امریکہ فسٹ اور امریکہ گریٹ بنانے کا نعرہ لگا رہے ہیں

  • دوسروں کیلئے بنایا گیا پھندہ، اپنے ہی گلے میں آگیا

    دوسروں کیلئے بنایا گیا پھندہ، اپنے ہی گلے میں آگیا

    دوسروں کیلئے بنایا گیا پھندہ، اپنے ہی گلے میں آگیا
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    پاکستان کے سیاسی منظرنامے میں حالیہ تبدیلیوں نے ایک نئی سمت اختیار کرلی ہے اور ایک طرف جہاں سیاسی استحکام کی علامات دکھائی دے رہی ہیں تو وہیں دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) اور اس کی قیادت کی سیاسی مشکلات اور چیلنجز میں مزید اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اس تمام تر صورتحال میں ایک دلچسپ پہلو یہ سامنے آ رہا ہے کہ وہ پھندہ جو کبھی پی ٹی آئی نے حکومت میں ہوتے ہوئے سیاسی مخالفین کے لیے تیار کیا تھا اوروہی پھندہ اب پی ٹی آئی اور اس کے بانی کے لیے خطرہ بنتا جا رہا ہے۔

    اس وقت جب پاکستانی معیشت کے بارے میں مثبت خبریں آ رہی ہیں اور امریکی سرمایہ کاروں کے ایک وفدنے پاکستان میں اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کی خواہش ظاہر کی ہے تو یہ ایک ایسا موقع ہے جس کا فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کے ساتھ ملاقات کے دوران جینٹری بیچ کی قیادت میں امریکی سرمایہ کاروں نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے شعبوں کی نشاندہی کی ہے جن میں مصنوعی ذہانت، توانائی، معدنیات اور رئیل اسٹیٹ شامل ہیں۔

    جینٹری بیچ نے اس بات کو واضح کیا کہ پاکستان کی موجودہ قیادت اور نئی امریکی انتظامیہ کی سوچ میں ہم آہنگی ہے اور پاکستان میں امریکہ کی سرمایہ کاری کی بڑھتی ہوئی دلچسپی نئی سیاسی حقیقت کا مظہر ہے۔یہ تبدیلی نہ صرف اقتصادی لحاظ سے اہم ہے بلکہ اس نے پاکستانی سیاسی جماعتوں کے لیے بھی نئے سوالات پیدا کیے ہیں۔ پی ٹی آئی کی قیادت نے امریکی انتخابات کے بعد ٹرمپ انتظامیہ سے بہت سی سیاسی توقعات وابستہ کی تھیں، لیکن جینٹری بیچ کے اس دورے نے ان تمام امیدوں کو ختم کر دیا ہے .

    امریکہ کے اس نئے رخ سے پاکستان کی اقتصادی ترقی اور سرمایہ کاری کی نئی راہیں کھل جائیں گی ۔ لیکن شہبازشریف کی حکومت سے ٹرمپ انتظامیہ کے روابط سے پاکستان تحریک انصاف کے لیے یہ ایک نیا چیلنج بن گیا ہے۔پی ٹی آئی کی قیادت اس وقت ایک دائرے میں پھنس چکی ہے جہاں اس کے لیے دو آپشن ہیں، دونوں ہی سیاسی طور پربہت مشکل ہیں۔ اگر وہ حکومت کے ساتھ کسی معاہدے یا ڈیل کی طرف بڑھتے ہیں تو اس کا نتیجہ سیاسی موت کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ دوسری جانب اگر وہ ڈیل سے انکار کرتے ہیں توعمران خان اور ان کی اہلیہ کو طویل عرصہ جیل میں گزارنا پڑ سکتا ہے۔

    یہ وہ پھندا ہے جو پی ٹی آئی نے اپنے مخالفین کے لیے تیار کیا تھا اور اب یہ ان کے اپنے گلے میں آچکا ہے کیونکہ پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان مذاکراتی عمل میں پیچیدگیاں آ چکی ہیں اور مذاکرات تقریباََ ختم ہوچکے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف نے 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن نہ بنائے جانے پر مذاکراتی عمل ختم کرنے کا اعلان کر دیا، منگل کے روز حکومتی مذاکراتی ٹیم انتظار کرتی رہی مگر پاکستان تحریک انصاف کے اراکین نہ پہنچے۔ پاکستان تحریک انصاف کے وفد نے مذاکراتی عمل کا حصہ بننے کی بجائے مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی اور گرینڈ الائنس بنانے پر مشاورت شروع کی۔لیکن اس کے باوجود یہ صورتحال پی ٹی آئی کے لیے مزید مشکلات پیدا کر رہی ہے۔

    یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی انتشاری سیاست جو ہمیشہ مخالفین کو دبا ئومیں رکھنے اور اپنی حکومت کی طاقت دکھانے کے لیے استعمال کی گئی، اب وہی سیاست عمران خان اور ان کی جماعت کے لیے ایک بھاری بوجھ بن چکی ہے۔ دوسروں کے لیے بنایا گیا پھندہ اب ان کے اپنے گلے میں آچکا ہے اور ان کے سامنے ایک سنگین سیاسی بحران ہے۔ یہ وہ پھندہ ہے جو انہوں نے اپنے مخالفین کے لیے تیار کیا تھا، لیکن اب یہ ان کی سیاسی تقدیر کا فیصلہ کرنے والا ثابت ہو رہا ہے۔

    پاکستان کی موجودہ سیاسی اور اقتصادی صورتحال میں عمران خان اور ان کی جماعت کو اپنی سابقہ حکمت عملی پر نظرثانی کرنا ہوگی۔ اگر وہ اسی روش پر چلتے ہیں تو ان کے لیے مشکلات اور چیلنجز میں مزید اضافہ ہوگا اور اگر وہ مذاکرات یا معاہدے کی طرف قدم بڑھاتے ہیں، تو ان کے لیے سیاسی موت کے دروازے کھل سکتے ہیں۔ ان کے لیے یہ وقت ایک فیصلہ کن لمحہ ہے، جہاں ان کی سیاست کا مستقبل ان کے اپنے ہاتھ میں ہے اور یہ وقت ہی بتائے گا کہ وہ اس پھندے سے کیسے نکلتے ہیں اور اپنے سیاسی وجود کو کس طرح بچاتے ہیں۔

  • انسداد پولیو مہم کی کامیابی .تحریر: جان محمد رمضان

    انسداد پولیو مہم کی کامیابی .تحریر: جان محمد رمضان

    ستمبر 2024 سے اب تک پاکستان میں پولیو کے کیسز میں ایک نمایاں کمی آئی ہے، جو کہ انسداد پولیو مہم کی کامیاب حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔ اس مثبت تبدیلی کا اثر پورے ملک میں دیکھا جا رہا ہے، اور اس نے عوامی سطح پر پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے حکومت کے عزم اور کوششوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔پولیو ایک مہلک وائرس ہے جو بچوں کو عمر بھر کے لیے معذور کر سکتا ہے۔ پاکستان جیسے ممالک میں جہاں پولیو کا پھیلاؤ ایک سنگین مسئلہ رہا ہے، وہاں اس وائرس کی روک تھام کے لیے کئی سالوں سے کوششیں کی جا رہی ہیں۔ لیکن 2024 کے آخری حصے میں پولیو کیسز میں کمی نے انسداد پولیو مہم کی مؤثریت کو ثابت کیا ہے۔پاکستان کے مختلف صوبوں میں، خاص طور پر بلوچستان، سندھ اور جنوبی خیبر پختونخوا میں پولیو کیسز میں نمایاں کمی دیکھنے کو ملی ہے۔ اس کمی کا تعلق ان علاقوں میں انسداد پولیو مہم کی بھرپور کاوشوں سے ہے جہاں پہلے پولیو کے کیسز زیادہ ریکارڈ ہوئے تھے۔

    پاکستان کے وزیراعظم نے پولیو کے کیسز میں کمی اور پولیو کی بروقت شناخت کے لیے تمام صوبوں کی انتظامیہ کی کاوشوں کو سراہا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پولیو کیسز میں یہ کمی ملک بھر میں حکومت کے عزم، انتظامیہ کی محنت، اور عوام کی حمایت کا نتیجہ ہے۔ اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں پولیو کا مکمل خاتمہ صرف وفاق اور صوبوں کے باہمی تعاون سے ہی ممکن ہو گا۔پولیو کیسز میں کمی کو صوبوں کی انتظامیہ کی انتھک محنت کا نتیجہ قرار دیا گیا ہے۔ مختلف صوبوں کی حکومتوں نے انسداد پولیو مہم کو اپنے اپنے علاقوں میں بھرپور طریقے سے جاری رکھا اور بچوں تک ویکسین پہنچانے کے لیے ہر ممکن تدابیر اختیار کیں۔ صوبوں نے اپنی نگرانی کے نظام کو مضبوط بنایا اور پولیو کے وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے موثر اقدامات کیے۔

    پاکستان میں انسداد پولیو مہم کے تمام پہلوؤں کی نگرانی کے لیے ایک جدید آئی ٹی ڈیش بورڈ کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس ڈیش بورڈ کے ذریعے حکام پولیو مہم کی ترقی، ویکسینیشن کی شرح اور کیسز کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھتے ہیں۔ اس کا مقصد مہم کی ہر سطح پر بہتر کارکردگی کو یقینی بنانا اور فوری طور پر کسی بھی چیلنج کا حل تلاش کرنا ہے۔سال 2025 کے آغاز میں پولیو سے متاثرہ اضلاع میں پولیو کیسز میں مزید کمی دیکھنے کو ملی ہے۔ خاص طور پر بلوچستان، سندھ اور جنوبی خیبر پختونخوا میں پولیو کیسز میں واضح کمی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ انسداد پولیو مہم کی حکمت عملی کامیاب جا رہی ہے۔ اس کامیابی کے پیچھے حکومتی عزم اور عوامی تعاون کا بڑا ہاتھ ہے۔

    پاکستان میں پولیو کے کیسز میں کمی ایک مثبت قدم ہے اور یہ پاکستان کے عوام، حکومت اور بین الاقوامی اداروں کی محنت کا نتیجہ ہے۔ انسداد پولیو مہم کی مؤثریت کی بدولت پاکستان پولیو کے خاتمے کے قریب پہنچ رہا ہے۔ تاہم، اس کے مکمل خاتمے کے لیے ابھی مزید محنت کی ضرورت ہے اور عوام کو مسلسل آگاہی فراہم کرنا ضروری ہے۔پاکستان کے تمام حصوں میں پولیو کے خاتمے کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان تعاون کی اہمیت واضح ہو چکی ہے۔ ہم سب کی اجتماعی کوششوں سے ہی پولیو کو پاکستان سے مکمل طور پر ختم کیا جا سکتا ہے۔

    jaan

  • "نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن’.تحریر اعجازالحق عثمانی

    "نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن’.تحریر اعجازالحق عثمانی

    پاکستانی سیاست میں جو نظر آتا ہے، وہ حقیقت نہیں ہوتی، اور جو حقیقت ہوتی ہے، وہ نظر نہیں آتی۔ آج کل ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے، اسے دیکھ کر بس یہی کہا جا سکتا ہے کہ یہ بازی عشق کی بازی ہے، جو ہارے گا، وہ جیتے گا، اور جو جیتے گا، وہ ہارے گا۔
    عمران خان جیل میں ہیں، ان کی جماعت کٹی پھٹی حالت میں ہے، عدالتوں میں مقدمے، پارٹی میں بغاوتیں، اور مخالفین کا دباؤ۔۔۔۔۔۔لیکن پھر بھی وہ ملکی سیاست کے سب سے بڑے کھلاڑی ہیں۔ سیاسی میدان میں سب سے زیادہ اسکور اس وقت بھی ان کے بیانیے کا ہی ہے۔چاہے عدالتوں کے فیصلے ان کے خلاف آئیں، چاہے پارٹی پر پابندیاں لگیں، عوام کے دلوں میں ان کی جگہ اب بھی قائم ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا وہ اپنی اس مقبولیت کو بچا پائیں گے؟ یا پھر اس کہانی کا انجام وہی ہوگا، جو اسٹیبلشمنٹ چاہتی ہے؟
    دوسری طرف، وہی پرانا کھیل جاری ہے۔ مذاکرات کی خبریں گرم ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ بات چیت ہو رہی ہے، کوئی درمیانی راستہ نکالا جا رہا ہے، لیکن سب جانتے ہیں کہ حکومت محض ایک مہرہ ہے۔ اصل فیصلہ کہیں اور ہوگا۔ جنہیں مذاکرات کرنا ہیں، وہ ٹیبل پر نہیں بیٹھے، اور جو بیٹھے ہیں، وہ اصل فیصلے کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ سب کچھ طے شدہ ہے، بس اسکرپٹ پر عمل ہو رہا ہے۔ اور سنا ہے رائیٹر اب سکرپٹ بدلنے لگا ہے۔

    عمران خان جانتے ہیں کہ اگر وہ جیل سے باہر آتے ہیں تو عوام یہ سمجھے گی، کہ یہ کسی معاہدے کا نتیجہ ہے، تو ان کا سارا بیانیہ برباد ہو جائے گا۔ وہ اب تک ایک مزاحمت کار، ایک نظریاتی لیڈر، اور "حقیقی آزادی” کی علامت بن چکے ہیں۔ لیکن اگر یہی شخص ایک دن خاموشی سے باہر آتا ہے، کیسز ختم ہو جاتے ہیں، اور سیاست میں نرمی آ جاتی ہے، تو کیا یہ سب اتفاق ہوگا؟ نہیں! یہ وہی سیاست ہوگی، جو سالہا سال سے چل رہی ہے۔

    لیکن کھیل صرف عمران خان کے گرد نہیں گھوم رہا۔ اسٹیبلشمنٹ بھی ایک امتحان میں ہے۔ اگر عمران خان کو مکمل دیوار سے لگا دیا جاتا ہے، تو ملک میں بے چینی بڑھے گی۔ اگر انہیں کھلی آزادی دی جاتی ہے، تو وہ پہلے سے زیادہ طاقتور بن کر ابھریں گے۔ اس صورتحال میں درمیانی راستہ نکالنا سب سے ضروری مگر ایک مشکل کام ہے۔ اسٹیبلشمنٹ چاہتی ہے کہ عمران خان باہر بھی آ جائیں، لیکن یہ تاثر بھی نہ جائے کہ وہ جیت گئے ہیں۔ دوسری طرف، عمران خان یہ چاہتے ہیں کہ وہ باہر آئیں، لیکن ایسا نہ لگے کہ وہ کسی ڈیل کے تحت آئے ہیں۔
    یہ وہ مقام ہے جہاں سیاست اور طاقت کا اصل کھیل شروع ہوتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں کچھ فیصلے پس پردہ کیے جاتے ہیں، اور عوام کو ایک اور کہانی سنا دی جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس بار یہ کہانی کس کے حق میں لکھی جائے گی؟ کیا عمران خان ایک نئے انداز میں سیاست میں واپسی کریں گے؟ یا یہ ایک اور سبق ہوگا، جو پاکستانی سیاست کی کتاب میں شامل کر دیا جائے گا؟

    یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ اگر واقعی ایک "سیاسی مفاہمت” ہونے جا رہی ہے، تو اس کے پیچھے محرکات کیا ہیں؟ کیا عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ دونوں ایک دوسرے کے بغیر نہیں چل سکتے؟ یا پھر پس پردہ کوئی ایسا دباؤ ہے جو ان دونوں کو دوبارہ کسی نہ کسی شکل میں اکٹھا کر رہا ہے؟ کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ عمران خان کو دیوار سے لگانے کی حکمتِ عملی مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ عوام کا ردعمل، عدالتی فیصلے، اور بین الاقوامی دباؤ، سب نے مل کر ایک ایسی فضا بنا دی ہے جہاں عمران خان کو سیاست سے مکمل طور پر بے دخل کرنا ممکن نہیں رہا۔ دوسری طرف، اسٹیبلشمنٹ یہ بھی نہیں چاہتی کہ عمران خان پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر سامنے آئیں۔

    عمران خان کی سیاست میں ایک چیز واضح ہے کہ وہ ایک مقبول لیڈر ہیں، لیکن ان کی مقبولیت ان کی حکمتِ عملی کے ساتھ جُڑی ہوئی ہے۔ اگر وہ اپنے حامیوں کو یہ یقین دلا پاتے ہیں کہ وہ بغیر کسی ڈیل کے باہر آئے ہیں، تو ان کی سیاست مزید مضبوط ہو گی۔ لیکن اگر عوام کو ذرا سا بھی یہ تاثر گیا کہ عمران خان نے کسی ڈیل کے نتیجے میں اپنی مشکلات کم کی ہیں، تو ان کے لیے اپنی موجودہ مقبولیت کو برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ یہی وہ توازن ہے جسے عمران خان اور ان کے قریبی ساتھی سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    دوسری طرف، اسٹیبلشمنٹ کے لیے بھی یہ ایک نازک موڑ ہے۔ اگر عمران خان بغیر کسی واضح سمجھوتے کے باہر آتے ہیں، تو ان کا بیانیہ مزید مضبوط ہو گا۔ لیکن اگر انہیں کسی شرط کے ساتھ ریلیف دیا جاتا ہے، تو عوام میں یہ تاثر جائے گا کہ یہ بھی وہی پرانی سیاسی بساط ہے، جہاں سب آخر میں ایک ہی میز پر آ کر بیٹھ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پس پردہ بہت کچھ چل رہا ہے، اور عوام کو صرف اتنا دکھایا جا رہا ہے جتنا ضروری سمجھا جا رہا ہے۔ یہاں ایک اور سوال بھی پیدا ہوتا ہے: اگر عمران خان واقعی باہر آ جاتے ہیں، تو کیا وہ دوبارہ اُسی انداز میں سیاست کر سکیں گے؟ یا پھر ان کے لیے ایسے حالات بنا دیے جائیں گے جہاں وہ محدود ہو کر رہ جائیں؟ کیا ان کی جماعت کو مکمل طور پر بحال ہونے دیا جائے گا؟ کیا انہیں الیکشن میں آزادانہ حصہ لینے دیا جائے گا؟ یا پھر وہ ایک کنٹرولڈ سیاست کا حصہ بننے پر مجبور ہو جائیں گے؟ یہ تمام سوالات اس وقت پاکستانی سیاست کے گرد گھوم رہے ہیں، لیکن ان کے جوابات آنے والا وقت ہی دے سکتا ہے۔

    کھیل جاری ہے، اسکرپٹ پر کام ہو رہا ہے، کردار اپنے اپنے ڈائیلاگ یاد کر رہے ہیں۔ بس پردہ اٹھنے کی دیر ہے، دیکھتے ہیں کہ اس بار پردے پر کون ہیرو بن کر آتا ہے