Baaghi TV

Category: بلاگ

  • سردار پبلی کیشن کی تیسری پنجابی ادبی کانفرنس

    سردار پبلی کیشن کی تیسری پنجابی ادبی کانفرنس

    سردار پبلی کیشن کی تیسری پنجابی ادبی کانفرنس
    تحریر: شاہد نسیم چوہدری
    فیصل آباد جو ہمیشہ سے ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے، حال ہی میں ایک اور شاندار ادبی تقریب کا میزبان بنا۔ سردار پبلی کیشن کے اشتراک سے فیصل آباد پریس کلب میں تیسری ادبی کانفرنس منعقد ہوئی۔ یہ کانفرنس نہ صرف ادب کے فروغ کا سبب بنی بلکہ پنجابی زبان کی ترویج کے حوالے سے ایک اہم قدم بھی ثابت ہوئی۔ کانفرنس دو حصوں پر مشتمل تھی۔ پہلا حصہ "ویر وے” کے موضوع پر مبنی تھا جس کی صدارت معروف ادبی شخصیت چوہدری الیاس گھمن نے کی، جبکہ دوسرا حصہ مشاعرے پر مشتمل تھا جس کی صدارت ڈاکٹر جعفر حسن مبارک نے کی، جو ادب کے میدان میں اپنی گہری بصیرت کے لیے جانے جاتے ہیں۔

    مشاعرے کا انعقاد اس کانفرنس کا ایک خاص پہلو تھا، جس میں ملک کے مختلف شہروں سے نامور شعرا نے شرکت کی۔ اس مشاعرے کی خاص بات یہ تھی کہ یہ پنجابی زبان کو مرکزیت دیتے ہوئے منعقد کیا گیا، جس میں ہر شاعر نے اپنے انداز میں پنجابی زبان و ثقافت کے رنگ بکھیرے۔ پروگرام کے دوران اسٹیج پر آصف سردار آرائیں اور لبنیٰ آرائیں نے بطور میزبان تقریب کو بہترین انداز میں پیش کیا۔

    مہمان خصوصی کے طور پر ڈاکٹر جعفر حسن مبارک کی موجودگی نے تقریب کو مزید وقار بخشا۔ ڈاکٹر جعفر حسن مبارک، جو کہ ایک نامور شاعر اور محقق ہیں، نے پنجابی زبان کی تاریخ، اس کی اہمیت اور موجودہ دور میں اس کے فروغ کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ زبان کسی بھی قوم کی شناخت ہوتی ہے، اور پنجابی ہماری ثقافتی وراثت کا ایک لازمی حصہ ہے۔

    کانفرنس کے دوران جن مشہور شعرا نے شرکت کی، ان میں شہزاد بیگ، کامران رشید، آزاد نقیبی، بشری ناز، نرگس رحمت، آصف سردار آرائیں، الیاس گھمن، امجد جاوید، انور انیق، ارشد بیلی، جاوید پنجابی، ڈاکٹر اظہر، سعید حسین ساجد، حامد رفیق، زبیر الجواد، سرور قمر قادری، شہباز علی شہباز، شمائلہ تبسم، عمران ساون، عبدالحمید، فوزیہ جاوید، کامران رشید اور لبنیٰ آرائیں شامل ہیں۔ ان تمام شعرا نے اپنے کلام کے ذریعے سامعین کو محظوظ کیا اور پنجابی زبان کے فروغ کے لیے اپنی محبت کا اظہار کیا۔ ان کے اشعار میں پنجابی ثقافت، انسانی جذبات، اور موجودہ سماجی مسائل کی عمدہ عکاسی نظر آئی۔

    تقریب کے دوران مقررین نے پنجابی زبان کی موجودہ صورتحال پر گفتگو کی اور اس کے تحفظ اور ترویج کے لیے عملی اقدامات اٹھانے پر زور دیا۔ آصف سردار آرائیں اور لبنیٰ آرائیں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمیں پنجابی زبان کو نئی نسل تک منتقل کرنے کے لیے جدید وسائل، جیسے کہ سوشل میڈیا، ایپلیکیشنز، اور پنجابی ادب کے جدید تراجم، کو اپنانا ہوگا۔

    اس تقریب کی کامیابی میں آصف سردار آرائیں اور لبنیٰ آرائیں کی محنت کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ یہ دونوں شخصیات، جو میاں بیوی ہیں، نے اس پروگرام کو کامیاب بنانے کے لیے انتھک محنت کی۔ ان کی ٹیم ورک اور پنجابی ادب سے محبت کی بدولت یہ کانفرنس ایک یادگار ایونٹ بن گئی۔

    اس کانفرنس کا سب سے بڑا پیغام یہ تھا کہ پنجابی زبان ہماری شناخت کا حصہ ہے، اور اس کی بقا و ترویج کے لیے ہمیں اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔ ہر شریک نے اپنے کلام اور گفتگو کے ذریعے یہ باور کرایا کہ پنجابی زبان صرف ایک بولی نہیں بلکہ ہماری تہذیب اور تاریخ کا عکس ہے۔

    تیسری ادبی کانفرنس نے ادب کے فروغ اور پنجابی زبان کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے ایک نئی سمت متعین کی ہے۔ ایسے پروگرام نہ صرف زبان کے فروغ کا باعث بنتے ہیں بلکہ معاشرے میں شعور اجاگر کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ آصف سردار آرائیں اور لبنیٰ آرائیں کی انتھک کوششیں قابل تعریف ہیں، اور امید کی جاتی ہے کہ وہ مستقبل میں بھی ایسی تقریبات منعقد کرکے ادب و ثقافت کی خدمت کرتے رہیں گے۔

    سردار پبلی کیشن کی جانب سے تیسری پنجابی کانفرنس کا انعقاد ادب اور ثقافت کے فروغ کی ایک قابل تحسین کوشش ہے۔ یہ کانفرنس نہ صرف پنجابی زبان و ادب کے محبت کرنے والوں کو ایک پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے بلکہ اس زبان کی ترقی اور اہمیت کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ اس کانفرنس کی روح رواں لبنیٰ آرائیں، جو سردار پبلی کیشن کی ڈائریکٹر ہیں، کی محنت اور لگن قابلِ ستائش ہے۔ لبنیٰ آرائیں نے اپنے ویژن اور عزم کے ساتھ ادب کے میدان میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ اس کانفرنس کے انعقاد میں ان کی انتھک محنت اور تنظیمی صلاحیتوں نے ایک مثالی ماحول پیدا کیا، جہاں شاعر، ادیب، اور دانشور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔

    کانفرنس کے دوران مقامی اور بین الاقوامی سطح پر مشہور پنجابی ادیبوں اور دانشوروں نے اپنے خیالات پیش کیے، جنہوں نے زبان و ثقافت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ اس کے علاوہ نوجوانوں کو بھی اپنی تخلیقی صلاحیتیں دکھانے کا موقع ملا۔

    یہ کانفرنس نہ صرف پنجابی ادب بلکہ زبان و ثقافت کے تحفظ اور ترویج کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ لبنیٰ آرائیں کی کاوشوں نے ثابت کیا کہ اگر جذبہ اور عزم ہو تو کسی بھی مقصد کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔

  • کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟تیسری قسط

    کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟تیسری قسط

    کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟
    تحریر:ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھرجلالوی
    قسط کا خلاصہ
    آج کے دور میں بھی قصے انسانی تخلیقی صلاحیتوں کو جلا بخشنے کا ذریعہ ہیں۔ قصے ہمیں سکھاتے ہیں کہ ہم مشترکہ انسانیت کے اصولوں کو اپنائیں۔ عالمی سطح پر ثقافتی میل جول میں بھی قصوں نے اہم کردار ادا کیا ہے، جیسے کہ اسلام آباد کے لوک ورثہ میلے میں سرائیکی جھمر کی پیشکش نے مختلف قوموں کو ایک دوسرے کے قریب کیا۔ قصے محض تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ علمی اور اخلاقی ورثے کی حفاظت کرتے ہیں۔

    تیسری قسط
    دادی اماں،نانی اماں،دادا جان،نانا جان تمام معزز بزرگوار ہستیاں حقیقی معنوں میں قصوں کی ابتدائی انسانی شعور گاہ ہیں۔جہاں سکون واطمینان قلب میسر آتا ہے۔ماضی میں بزرگوں کے قصوں کے ذریعے بچوں کو نہ صرف اعلی اخلاقی قدریں اور اچھے برے کی تمیز سکھائیں جاتیں تھیں بلکہ انہیں زندگی کے عملی پہلوؤں میں کامیاب حیاتی گزارنے کے طور طریقے،شکار،زراعت اور قدرتی خطرات سے بچنے کے علوم بھی سکھائے جاتے تھے۔یہ قصے بچوں کے لیے مثالی کردار پیش کرتے تھے۔جنہیں وہ اپنا آئیڈیل بناتے تھے اور ان کی شخصیت کی تشکیل نو میں اہم کردار ادا کرتے تھے۔اس طرح قصوں نے بچوں کی سماجی، اخلاقی اور عملی زندگیوں میں نمایاں کردار ادا کیا۔انہیں خاندان یا سوسائٹی کا ایک اچھا فرد بننے کے لیے تیار کیا۔

    پہلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

    کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟
    جس نسل نے اپنے آباواجداد کے قصوں کی حکمت کے خزانوں کو اپنایا تو انہوں نے نئی دنیا اور نئےجہاں تخلیق کیے۔آج بھی قصے اور افسانے انسانوں کے لیے ایک ایسا دروازہ ہیں جو انہیں حقیقت کی دنیا سے ہٹ کر ایک خواب کی نئی دنیا میں لے جاتے ہیں۔اس سے ان کی تخیلاتی قوتتیں پھلتی پھولتیں اور آگے بڑھتیں ہیں اور وہ زندگی کے مختلف پہلوؤں کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے اور پرکھنے لگتے ہیں۔قصے انسانوں کی تخیلاتی قوت اور تخلیقی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے میں مددگار ثابت ہوئے ہیں اور انسان کو نئی نئی چیزیں دریافت کرنے اور سیکھنے کی ترغیب دیتے ہیں۔

    دوسری قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

    کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟
    ان قصوں کے ذریعے انسان خوابوں کی دنیا میں سیر کرتے ہیں اور اپنی خواہشات اور امیدوں کو پورا کرنے کے لیے عملی حقیقی زندگی میں نئی راہیں تلاش کرتے اور نئے پراجیکٹس کو عملی جامہ پہنانتے ہیں۔یہ قصے ہمیں یقین دلاتے ہیں کہ ناممکن کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔مثلاً،ریڈار، چاند گاڑی،سیٹلائیٹ،ٹیلی ویژن،ریڈیو،موبائل فون،ڈائزینر مشین،میزائل،ہوائی جہاز،انٹرنیٹ،سوشل میڈیا ڈیوائسز،روبوٹ اور خلائی سفر سب سے پہلے قصوں میں ہوائی جادوئی قالین،طلسماتی شیشہ،طلسماتی تیر و تلوار،اڈن کٹولہ وغیرہ ہی تصور کیے گئے تھے۔آج یہ سب حقیقت بن چکے ہیں۔یوں قصے اور افسانے نئی دنیاؤں کی تخلیق کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔

    مستقبل میں قصے میں موجود قصولیوں کے خواب آنے والے وقت میں سائنسی ترقی و تحقیقی سفر کا نیا جہاں بنے گے۔جو انسانوں کو نئی سوچوں اور امکانات کی طرف لےکرجاہیں گے۔قصوں کی زبان ہمیں غاروں میں موجود ابتدائی انسانی ہاتھوں سے بنی اشکال سے لکھی ملیں ہیں۔خوبصورت پتھروں سے مورتیوں پر نقش نگاری قدیم انسانی قصے کے نمونےہیں۔جیسے بچہ پیدائش کے وقت بول نہیں سکتا مگر اشاروں سے اپنی التجا ماں کو پیش کرتا رہتا ہے۔اس کی ماں اس کی ضرورتیں پوری کرتی رہتی ہے۔وقت کے ساتھ ساتھ وہ بچہ بڑا ہوکر اپنے مسائل و ضروریات لکھ کر بھی اور زبان سے بول کر بتاتا ہے۔زبان بھی اسی طرح پروان چڑھتی ہے۔میری کم سن تین سالہ بیٹی زینب الطاف ڈاھر بی بی اپنی ٹوٹی پھوٹی باتوں اور اشاروں اور آوازوں کے ذریعے کبھی کبھی پنسل سے دیواروں پر نرم ہاتھوں سے لکیروں کی مدد سے شکلیں بنا کر ہم میاں بیوی تک اپنا پیغام پہنچاتی ہے۔

    آج بھی دنیا کا پہلا انسانی رسم الخط تصویری اشکالی رسم الخط کو مانا جاتا ہے۔قدیم انسان نے اپنے قصوں کے ذریعے سے اپنا کتھارسس مدعے کو شجر،پتھر اور غار کی دیواروں پر اشکال بناکر اپنےپیغام کو آج کے انسان تک سانجھا کیا۔یہ نقش و نگار نہ صرف ان کی روزمرہ کی زندگی بلکہ ان کے عقائد اور تصورات کی بھی عکاسی کرتے ہیں ۔جس کو ہم آج ٹوٹم و ٹیبوز کا علم کہتے ہیں۔قصے میں قصولی جانوروں،چرند پرند،دریا،سمندر درختوں اور بادلوں کو بھی انسانوں کی طرح بات کرتے ہوئےدکھاتےتھے۔ان کے قصوں میں جادو،دیوی و دیوتا،مافوق الفطرت عناصر اور روحانی قوتوں سے لبریز کرداروں کی ایک بھیڑ ہوتی تھی۔جو ان کے لیے قدرت کا مظہر سمجھنے کی فلم انڈسٹری تھی۔

    آج جب ہم پیچیدہ زبانوں اور جدید ٹیکنالوجی کے دور میں جی رہے ہیں تو قصہ کے طور طریقے بھی بدل چکے ہیں۔روہیلے چولستانی قصولیوں میں میدا رام ، سمارا رام، مجید مچلا، فیض مائی بھٹی، میرے ابا جی سئیں غلام مصطفٰی خان ڈاھر، مہر غلام رسول، ملک عبداللہ عرفان، طاہر غنی، ملک آصف سیال، جام غلام یاسین لاڑ جیسے عظیم الشان قصہ گو بھی وسائل کی شدید کمی کے باوجود ماڈرن طریقےسے سوشل میڈیا ذرائع سے اپنے قصوں کو عام کرنے کی بھر پور کوشش کر رہے ہیں۔

    ان قصولیوں نے قصے کا آغاز اس باکمال مہارت سے کیا ہے کہ پوری کائنات کا مالک خالق حقیقی صرف اللہ پاک ہے۔باقی سب فنا ہے۔اس کا بنیادی مقصد صرف طاغوتی طاقتوں کے تکبر و غرور کی نفی کرنا ہے۔امن و اقتصادی آسودگی، عجز و احترام کو فروغ دینا ہے۔اللہ رب العزت جلال کی شہنشاہیت کو برقرار رکھنا ہے۔"واہ واہ ہے اللہ بادشاہ ہے کاغذاں دی بیڑی ہے مکوڑا ملاح ہے،خلقت پئی چڑھدی ہے ساڈی صلاح ہے۔ہک ہا بادشاہ، بادشاہواں دا بادشاہ وی خود اللہ پاک آپ بادشاہ ہے، اوہ ہک زمینی ٹوٹے دا بادشاہ ہا۔اوندی نگری ہی”۔اصل حکمران وہ ہے جو بشریات، جمادات،حیوانات اور نباتات کی نشوونما،خیر و برکت کےلیے ہمیشہ مثبت اقدامات اٹھائے۔

    ہمارے قصولی ہمارے سرائیکی وسیب کی عالمگیر فوک وزڈم آرکیالوجی ویب سائٹس بن چکے ہیں۔سوجھل وسیبی قصولیوں کی معاشی خوشحالی کے اقدامات حکومت پاکستان سمیت اقوام متحدہ آثار قدیمہ کی اہم ذمہ داری ہے۔قومی سرائیکی لوک دانش کے اثاثے کو محفوظ کرنے کے لیے مقامی روہی چولستانی قلعہ ڈیراور، چولستان جیپ ریلی کے سنڑ مقام پر میوزیم قائم ہونا چاہیے ۔جہاں دنیا بھر کے سیاح سرائیکی خطے کی 6000چھ ہزار سالہ قدیم تہذیب وتمدن وادی ہاکڑہ سرسوتی کے ساتھ سرائیکی عباسیہ شاہی ریاست بہاولپور کی خوشحالی سے بدحالی کے قصےکی حقیقت جان سکیں۔مقامی روہیلے چولستانی قصولیوں کو مراعات دیں جائیں۔ہمیں ان کی لوک دانش کو جدید ٹیکنالوجی سسٹم سے دنیا تک آن ائیر کرانے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔۔۔۔جاری ہے.

  • صحرا کی گود میں زندگی

    صحرا کی گود میں زندگی

    صحرا کی گود میں زندگی
    تحریر: ملک امان شجاع
    درخت کائنات کا حسن اور زندگی کی ضرورت ہیں۔ باشعور اقوام جنگلات کی افادیت و اہمیت سے بخوبی آگاہ ہیں، یہی وجہ ہے کہ مختلف ممالک میں درخت اور جنگلات اگانے کے لیے خصوصی مہمات چلائی جاتی ہیں۔ عوامی سطح پر آگاہی کے لیے شعور بیدار کیا جاتا ہے اور بیج سے پودے اور پودوں سے درختوں کو بچوں کی طرح نگہداشت کر کے کامیاب بنایا جاتا ہے۔

    عالمی معیار کے مطابق کسی بھی ملک کے رقبے کا 25 فیصد حصہ جنگلات پر مشتمل ہونا ضروری ہے کیونکہ یہی جنگلات ماحولیاتی آلودگی سے بچاؤ کا ذریعہ ہیں۔ یہ درخت کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرکے جانداروں کو آکسیجن فراہم کرتے ہیں، زمینی کٹاؤ کو روکتے ہیں، درجہ حرارت کم کرنے میں مدد دیتے ہیں اور حرارت و دیگر ضروریات کے لیے ایندھن کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ جنگلات جنگلی حیات کی حفاظت کے ضامن ہیں، پرندوں کی آماجگاہ اور جانوروں کی پناہ گاہ ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی خوراک کا ذریعہ بھی ہیں۔ پانی کی سطح کو برقرار رکھنے میں بھی یہ مددگار ہیں۔

    تاہم تشویشناک امر یہ ہے کہ وطن عزیز پاکستان کے صرف 5 فیصد رقبے پر جنگلات موجود ہیں جبکہ عالمی معیار تک پہنچنے کے لیے ہمیں اربوں درخت لگانے کی ضرورت ہے۔ گو کہ گزشتہ حکومتوں نے ملک بھر میں شجرکاری کے لیے شعور اجاگر کرنے اور بڑی تعداد میں درخت لگانے کی کوشش کی، لیکن مطلوبہ ہدف سے ہم اب بھی کوسوں دور ہیں۔ اس مقصد کے حصول کے لیے جامع منصوبہ بندی اور مستقل جدوجہد کی ضرورت ہے۔ قوم کے ہر فرد کو آئندہ نسلوں کی بقا اور ماحولیاتی آلودگی سے پیدا ہونے والے مسائل کے خاتمے کے لیے درخت اگانے پر خصوصی توجہ دینی ہوگی۔

    پاکستان کی زرعی زمینوں کو سیم و تھور سے بچانے کے لیے بھی درختوں کی اشد ضرورت ہے۔ یہ خداوندی نعمت ہے کہ درختوں کے بیج سے تھوڑی محنت اور توجہ کے ذریعے نئے درخت اگائے جا سکتے ہیں۔ یہی عمل تھل کے صحراؤں میں اپنایا جا رہا ہے، جس کا تجربہ بہت کامیاب رہا ہے۔ تھل کے صحراؤں میں سرسبز و شاداب جنگلات زندگی کی علامت بن کر خوبصورت نظارے پیش کر رہے ہیں۔

    عام طور پر صحرا کا تصور آتے ہی ذہن میں ویران، ریتلے میدان اور نہ ختم ہونے والی وسعتوں کا نقشہ ابھرتا ہے۔ انہی صحراؤں کے بارے میں یہ کہانیاں بھی مشہور ہیں کہ یہاں بھٹکنے والے مسافر بھوک اور پیاس کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے تھے۔ ایسے افراد کی باقیات کبھی کبھار قافلوں اور شتر بانوں کو ملتی تھیں۔

    صحرائے تھل میں ماحولیاتی تبدیلی اور درختوں کی آمد کا قصہ کچھ یوں ہے کہ حکومت پاکستان نے یہاں سڑکیں اور نہریں نکالنے کے لیے بڑے پیمانے پر زمین بحق سرکار ضبط کی اور صوبائی محکمہ مال پنجاب کے حوالے کر دی۔ 1951-52 میں محکمہ جنگلات نے حکومت پنجاب سے 24,773 ایکڑ رقبہ حاصل کیا اور اس چیلنج کا سامنا کیا کہ اس ویران صحرا میں درخت اگائے جائیں۔

    محکمہ جنگلات کے اہلکاروں نے خیمہ بستیاں بسا کر، شدید گرمی اور جھلساتی دھوپ کا سامنا کرتے ہوئے درخت لگانے کا کام شروع کیا۔ دور دراز کے کنوؤں سے پانی لا کر درختوں کو سیراب کیا گیا اور مقامی لوگوں کو جنگلات کی اہمیت کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ جلد ہی محکمہ جنگلات اور مقامی آبادی کی محنت کے نتیجے میں، صحرائے تھل بیری، کیکر، جنڈی اور سرس کے درختوں سے سرسبز نظر آنے لگا۔

    ان درختوں کی بدولت آج صحرائے تھل میں پرندوں کی چہچہاہٹ اور سریلی آوازیں یہ پیغام دیتی ہیں کہ صحرا کی گود میں زندگی کا ظہور ہو چکا ہے۔ یہ کامیابی ہمیں بتاتی ہے کہ اگر ہم محنت اور منصوبہ بندی سے کام کریں تو ویران علاقوں کو بھی سرسبز و شاداب بنایا جا سکتا ہے۔

    اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتے ہیں کہ تم اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو یاد کرو اور زمین میں فساد نہ کرو۔ یہ ہمیں اس بات کی تعلیم دیتا ہے کہ اللہ کی عطا کردہ نعمتوں، جیسے درخت، پانی اور فطرت کی حفاظت کریں اور ایسی سرگرمیوں سے گریز کریں جو ماحول کو نقصان پہنچائیں یا اللہ کی مخلوق کے لیے مشکلات پیدا کریں۔

    نبی کریم ﷺ نے ایک موقع پر فرمایا کہ اگر قیامت قائم ہو رہی ہو اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں کھجور کا پودا ہو اور وہ اسے لگا سکتا ہو تو وہ ضرور لگائے۔ یہ حدیث اس بات کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے کہ درخت لگانا اور فطرت کی حفاظت کرنا ہمارے لیے کس قدر ضروری ہے، چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں۔

    قرآن و حدیث ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ زمین کی حفاظت اور اسے سرسبز و شاداب بنانا ہماری ذمہ داری ہے اور ہر چھوٹا عمل، اگر نیت خالص ہو، فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ ماحولیاتی مسائل کا حل نکالنا اور زمین کی بہتری کے لیے کام کرنا نہ صرف ہماری دنیوی بلکہ اخروی کامیابی کے لیے بھی اہم ہے۔

  • کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟دوسری قسط

    کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟دوسری قسط

    کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟
    تحریر:ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھرجلالوی
    قسط کا خلاصہ
    قصے انسانوں کے لیے ہمیشہ رہنمائی کا ذریعہ رہے ہیں۔ انبیاء کرامؑ کے قصے اور رسول اکرمﷺ کی زندگی کے واقعات انسانوں کی اخلاقی تربیت کا اہم ذریعہ ہیں۔ سرائیکی قصے صرف کہانیاں نہیں بلکہ انسانی زندگی کو ایک نیا زاویہ فراہم کرتے ہیں۔ ان کے ذریعے شعور، ثقافت اور روایتوں کی منتقلی ممکن ہوئی۔ ابتدائی ادوار میں قصہ گوئی انسانوں کے لیے اولین درسگاہ تھی، جہاں شکار، زراعت اور قدرتی خطرات سے نمٹنے کے طریقے سکھائے جاتے تھے۔ قصوں کی روح نے معاشرتی ہم آہنگی اور تعلقات میں استحکام پیدا کیا۔
    دوسری قسط
    حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت اماں حوا علیہ السلام کا جنت سے نکالے جانے کا قصہ،شیطان مردود کا انسان سے ازلی دشمنی کا قصہ آج بھی کتابوں کی زینت ہے۔قصہ دراصل انسانی شعور و عرفان کی خود رو تحفظ فراہم کردہ تخلیقی و تجزیاتی فکری صلاحیتوں کا مظہر ہے۔قصے کے گہرے رشتے نے انسان کی تاریخ کو رنگین بنا دیا ہے۔علم و دانش اور لسان و ثقافت کی افادیت و اہمیت کی شروعات قصوں کے ذریعے ممکن ہوئی۔ابتدائی مراحل سے انسان ایک دوسرے کو زندگی کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں سکھاتا رہا۔مثلاً بھوک سےلڑنے کے لیے شکار کے طریقے،پودوں کی پہچان،معدنیات وحشرات کے فوائد،موسموں کی تبدیلی،خطرناک جانوروں سے بچاؤ کے سلیقے قصوں کی بدولت بنیادیں بنیں۔یہ سب کچھ قصوں کے ذریعے نسل در نسل منتقل ہوتا رہا۔

    قصوں کا سننا اور سنانا یہ صرف معلومات کا تبادلہ خیال نہیں تھا بلکہ قصوں کی ثقافتی روح نے آپس میں تعلقات و اتحاد کو فروغ دیا۔قصولیوں کی ابتدائی قصہ گوئی کی محفل نے انسانوں کی چھپی صلاحیتوں و خوبیوں کو نیا ترقی پذیر رخ عطاء کیا۔جب انسان روزی روٹی اور ذرائع معاش کے لیے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتا رہا تب روحانی خیال کی مشعل سے تاریک راہوں میں روشنی پھیلانے کا قصہ ہی سبب بنا۔ایک بشر سے دوسرے بشر تک روایات، عقائد، رسوم و رواج،تاریخ کو منتقل کرنےکا ذریعہ بھی بنتا رہا۔کائنات کی تخلیق کو سمجھنے کا پہلا چارٹ انسانی سوچ تھی جو قصہ کی شکل میں ابتدائی انسانوں کے پاس منتقل ہوئی۔

    پہلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟
    آج کی دنیا کی طرح فطرت کے پیچیدہ عمل کو سمجھنے کے لیے سائنسی طریقے و علوم کے ادارے نہیں تھے۔انہوں نے اپنی زندگی کے واقعات اور فطرت کی قوتوں کو سمجھنے کے لیے قصولی کے قصوں اور افسانوں کا سہارا لیا۔قصہ کی بیٹھک ہی پہلی انسانی سائنس کی لیبارٹری بنی۔ قصوں میں پرندوں پر سواری کرنا ،جادوئی قالین پر سوار ہوکر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی دراصل آج کے انسان کے لیے ہوائی جہاز، ائیر بس،ہوائی کاریں،پیرا شوٹ کی تکمیل ہے۔ بادلوں کی گرج، سورج اور چاند کی روشنی اور دیگر قدرتی مظاہر میں دیوی و دیوتاؤں کی نشانیاں بتانے والا قصولی دراصل آج کا سائنس دان ہے۔قصہ میرے نزدیک روحانیت تصوف اور سائینسیت طبعیات کی دو مضبوط ترین آنکھیں،صاف شفاف صحت مند دو کان،دو نالی والی مضبوط ناک، تجربات،ممکنات،تحقیقات،محسوسات و مشاہدات کو پرکھنے والا دل و دماغ ہے۔

    زلزلے کےجھٹکے کو قصولی نےزمین کو ہلانے والے دیہہ کا غصہ سمجھ لیا تھا، قصولی کے مطابق زمین کو ایک بڑے بیل نے اپنے سینگوں پر اٹھا رکھا ہے اور جب وہ حرکت کرتا ہے تو زلزلہ آجاتا ہے۔یہ قصے دراصل انسانی بقاء کے تحفظ کے محافظ تھے۔جن کی بدولت قدرتی آفات سے نمٹنے کی حکمت عملی و پالیسی نے جنم لیا۔قصے نے نہ صرف ان کی زندگی کو بامعنی بنا دیا تھا بلکہ انہیں اپنے اردگرد کی دنیا کو سمجھنے میں بھی مدد بھی فراہم کرتا رہا۔قصہ انسانیت کی بھلائی کے لئے کمپاس ،روبوٹ،ریڈار ثابت ہوا۔انسانی رشتوں کی خوبصورتی کو قصوں کی رفعت نے آپس میں اتحاد ویکجہتی،امن،محبت و احترام کا نیا جہاں دیا۔ ٹوٹے دلوں میں نیا خلوص بھر دیا۔ قصے صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتے بلکہ حکمت کے وہ عملی پل یا بریج ہیں جو انسانوں کو آپس میں ایک دوسرے سے جوڑتے ہیں۔آگ کے گرد بیٹھے لوگوں کی آوازیں،ہنسی خوشی و غمی کے آنسو جب قصوں میں ڈوب جاتے تھے تو ایک ہی دھڑکن بن جاتے ہیں ۔

    قصوں کی بدولت آج سات براعظموں میں ایشیا،افریقہ،شمالی امریکہ،جنوبی امریکہ،انٹارکٹکا،آسٹریلیا ،یورپ پر مشتمل تقریبا ساڑھے سات ارب کی انسانی آبادی،ساڑھے چھ ہزار مختلف زبانیں بولنے والوں،متنوع ثقافتوں اور خطے کے لوگوں کا ایک دوسرے کے درد اور معاشی ترقی کو سمجھنے اور قبول کرنے میں کامیاب مدد ملی ہے۔قصے کی طلسماتی فکری نتیجہ خیز طاقت نےسب کو ایک گلوبل ویلج میں خوشی خوشی جوڑ دیا ہے۔آج بھی اسلام آباد لوک ورثہ قومی ادارے میں غیر ملکی انسانوں کا امن بھرا سرائیکی جھمر،مقامی حسن، رقص و موسیقی ،سرسنگیت سے مزین سرائیکیت نےسندھی ،چین،افریقی،بلوچی،پنجابی،پشتو، اردو،بلتی،کشمیری،انگلش،جاپانی،امریکن اورجرمنی کو ایک ہی قصے کے کردار بنا دیئے ہیں۔

    ایک قصہ جس میں مختلف انسانی جذبات و احساسات کو سنتے تھے تو ان کے اندر ایک ہی طرح کے جذبات پیدا ہوتے تھے۔وہ ایک دوسرے کی بات سمجھتے تھے۔وہ ایک دوسرے کے غم اور خوشی میں شامل ہوتے تھے۔ قصوں نے انسانوں کو مشترکہ تجربات فراہم کیے ہیں اور انہیں محسوس کرایا ہے کہ وہ اکیلے نہیں ہیں۔انہوں نے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لایا۔سماجی ہم آہنگی کو فروغ دیا۔ثقافتی گلدستے کو مضبوط کیا۔قصوں نےمعاشرتی تبدیلی لانے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔قصوں نےاحترام آدمیت کے فلسفے کو بلندیوں پر پہنچایا۔لوگوں کوحق سچ ،عدل و انصاف،برابری،معاشی خوشحالی و معاشرتی اقدار کی اعلی قیادت اور آزادی کے لیے مشترکہ جدوجہد کرنے کی ترغیب دی ہے۔

    سرائیکی لوک قصے اب ایک مکمل بااعتماد عملی دستاویزات کی شکل اختیار کرچکے ہیں۔جن کی مدد سے سرائیکی وسیب میں ہر طرف معاشی و اخلاقی ،خوشحالی و تعمیر نو نظر آئے گی۔قصے نےصرف تفریح نہیں بلکہ ہمیں مشترکہ ثقافتی ورثہ بھی عطاء کیا ہے۔ہمیں ایک مشترکہ انسانیت کا احساس دلایا ہے۔قصے نے ہمیں سکھایا کہ ہم سب انسان جن کا خون سرخ رنگ کا ہے۔آدم کی اولاد ہونے کی وجہ سے آدمی ہیں۔سب ایک دوسرے کا احترام کریں۔کوئی کسی کے ساتھ ظلم و بربریت نہ کرے۔ہر انسان کو علمی قابلیت،صلاحیت و خوبی کی بنا پر ترقی ملے۔قصہ کا پیغام آفاقیت صرف یہ ہے کہ انسان انسان کو ہمیشہ نفع پہنچائے۔شرافت،صداقت،ایمانت اور دیانت کو عام کرے۔اتحاد،محبت و یقین محکم ویکجہتی،تنظیم کی پاسداری کرے۔

    ہم سب ایک ہی قصے کے تنوع ترقی یافتہ کردار ہیں۔آج بھی اور پھر کل جب ہم ایک مشکل وقت سے گزر رہےہوں گے تو پھر ہمارے قصے ہمیں خیر،وصیت صبروتحمل،بھلائی،امید،بہادری،نیکی،جرات،سخت محنت اور تصوف کے آفاقی فلسفہ جلال سے ہماری رہنمائی کرکے ہمیں پھر سےکامیاب بنائیں گے۔سرائیکی قصہ سرائیکی وسوں کا ہمیشہ مضبوط حوصلہ اور امن کا ہتھیار رہا ہے۔انسانی زندگی کی پہلی بنیادی درسگاہ مادرعلمی اسکول خود ماں کی گود ہوتی ہے جہاں ہمیں پہلا سبق قصے کی شکل میں سکھایا جاتا ہے۔

    سرائیکی عالمی قصہ منظوم و منثور دونوں صنفوں میں سرائیکی شعراء کرام و نثر نگار قصولیوں کے پیغام آفاقیت کا خوبصورت فلسفہ ہے۔جودنیا کے لٹریچر کو متاثر کررہا ہے۔مادری زبان میں قصے کا ابلاغ صدیوں کی روحانی و عرفانی فضیلت کی تاثیر عطا کرتا ہے۔قصہ پہلا اسکول ہے جہاں سے علم وادب، حکمت و دانش کو سیکھنے،سمجھنےاورتعلیمی تربیت کا آغاز ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے۔

  • خاندانی افراد کے بے تکے سوالات کا سامنا کیسے کیا جائے

    خاندانی افراد کے بے تکے سوالات کا سامنا کیسے کیا جائے

    جب دسترخوان سجایا جاتا ہے اور دوست و خاندان اکٹھے ہوتے ہیں، تو آپ کو پہلے ہی اندازہ ہوتا ہے کہ کون سے سوالات یا تبصرے آپ کی جانب آئیں گے۔ یہ تبصرے کھانے، آپ کے وزن، پیسوں، تعلقات، کیریئر یا بچوں کے حوالے سے ہو سکتے ہیں — جو بھی موضوع ہو، اس قسم کی صورتحال بہت سے لوگوں کے لیے نئی نہیں ہے۔

    ڈاکٹر روزین کیپانا ہوڈج، جو ایک ماہر نفسیات ہیں، کے مطابق، تعطیلات ہمیشہ خوشی کا موقع نہیں ہوتیں — اکثر اس لیے کیونکہ ہم متوقع تنازعے یا نامناسب سوالات کے بارے میں سوچتے ہیں۔ لیکن خاموش رہنے یا غصے میں آ کر رد عمل ظاہر کرنے کی بجائے، وہ سفارش کرتی ہیں کہ حدود مقرر کریں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ حدود مقرر کرنا لڑائی کا آغاز نہیں ہوتا، بلکہ یہ اپنے احساسات اور ضروریات کو دوسرے تک پہنچانے کا ایک مؤثر طریقہ ہے۔ کیمی اورنج، جو یوٹاہ کی ایک حدود کی کوچ ہیں، کے مطابق، حدود مقرر کرنا مشکل ہو سکتا ہے اور اس کے لیے تھوڑی تیاری کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ آپ رد عمل کی بجائے اپنے احساسات کا تحفظ کر سکیں۔

    اپنے جذبات کی حفاظت کے لیے تیاری کیسے کریں؟
    1. پہلے سے اپنی ضروریات کا تعین کریں:
    ماہر تھراپسٹ جینیفر رولن، جو روک ویل، میری لینڈ میں ایٹنگ ڈس آرڈر سینٹر کی بانی ہیں، کہتی ہیں کہ سب سے پہلا قدم یہ ہے کہ آپ اپنی ضروریات کے بارے میں سوچیں۔ تعطیلات سے قبل یہ طے کریں کہ آپ کو کون سے سوالات یا تبصرے پریشان کن محسوس ہو سکتے ہیں۔”یہ فیصلہ کریں کہ یہ وہ تبصرے ہیں جو مجھے پریشان کرتے ہیں، اور میں ان کا جواب کس طرح دوں گا۔”

    محفوظ موضوعات کی فہرست تیار کریں:
    ڈاکٹر کیپانا ہوڈج تجویز کرتی ہیں کہ آپ ایک فہرست تیار کریں جس میں وہ موضوعات شامل ہوں جو آپ کے لیے محفوظ ہیں۔ اگر بات چیت کسی حساس موضوع کی طرف مڑ جائے، تو آپ ان موضوعات پر بات کر کے ماحول کو نرم کر سکتے ہیں۔

    نرمی سے "میں” کے جملے استعمال کریں:
    مثلاً، "میں اس موضوع پر بات نہیں کر سکتا/کرتی کیونکہ یہ مجھے غیر آرام دہ محسوس کراتا ہے” — اس طرح آپ کا جواب کم الزام دہ اور زیادہ فہم و تدبر پر مبنی ہوگا۔

    مذاق بھی کر سکتے ہیں:
    ڈاکٹر کیپانا ہوڈج تجویز کرتی ہیں کہ آپ تھوڑی ہنسی مذاق کے ساتھ ماحول کو ہلکا کر سکتے ہیں۔ مثلاً، آپ ایک "بنگو بورڈ” بنا سکتے ہیں جس پر وہ تمام تبصرے لکھیں جو آپ توقع کرتے ہیں کہ لوگ کریں گے اور پھر ان پر ہنسی مذاق کے ساتھ نشان لگا سکتے ہیں۔

    "کیا تم نے وزن بڑھا لیا؟”
    رولن کے مطابق، وزن یا کھانے کے بارے میں تبصرے اکثر پریشان کن ہوتے ہیں، چاہے وہ تنقید ہو یا خوش دلی سے کیے گئے ہوں۔”یہ ضروری ہے کہ آپ اس بات کو سمجھیں کہ جو تبصرے لوگ کھانے اور وزن کے بارے میں کرتے ہیں، وہ زیادہ تر ان کی اپنی خودی اور خوراک کے بارے میں فکروں کی عکاسی کرتے ہیں۔” آپ اس پر جواب دے سکتے ہیں، "مجھے اندازہ ہے کہ آپ اپنی ڈائیٹ کے بارے میں پرجوش ہیں، لیکن میں ابھی میں وزن کم کرنے کی کوشش کر رہا ہوں اس لیے میں نہیں چاہوں گا/گی کہ ہم اس پر بات کریں۔”

    "تم اب تک اکیلے کیوں ہو؟”
    اورنج کے مطابق، اگر کوئی شخص آپ کے ذاتی تعلقات کے بارے میں سوال کرے تو آپ انہیں دو موقع دے سکتے ہیں۔ پہلے موقع پر آپ بات کو ہنسی مذاق میں تبدیل کر سکتے ہیں، اور دوسرے موقع پر آپ براہ راست جواب دے سکتے ہیں جیسے: "جب میں اس بارے میں فیصلہ کر لوں گا/گی، تو آپ کو بتا دوں گا/گی۔”

    "تم شادی کب کر رہے ہو؟”
    شادی یا بچوں کے حوالے سے سوالات بھی اکثر دباؤ بڑھا دیتے ہیں، لیکن زیادہ تر یہ سوالات محبت اور خوشی کے جذبات سے آتے ہیں۔ اورنج تجویز کرتی ہیں کہ آپ ان سوالات کو ہنسی مذاق سے ٹال سکتے ہیں، جیسے: "مجھے خوشی ہے کہ آپ کو محبت کے بارے میں اتنی پرجوشی ہے، مجھے یاد ہے، آپ اور انکل گیری کیسے ملے تھے؟”

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آپ تعطیلات کے دوران خاندان کے افراد کے ناپسندیدہ یا بے تکے سوالات کا سامنا کرتے ہیں، تو اہم بات یہ ہے کہ آپ خود کو پرسکون رکھتے ہوئے اپنے جذبات اور حدود کو واضح طور پر بیان کریں۔ اس طرح نہ صرف آپ اپنے جذبات کی حفاظت کر سکتے ہیں، بلکہ آپ خاندان کے افراد کے ساتھ ایک زیادہ پرسکون اور خوشگوار وقت گزارنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔

    سائرہ یوسف کی چاکلیٹس چوری کرنے کی ویڈیو کا معمہ حل ہو گیا

    یشما گل کی شادی سے متعلق پوسٹ سوشل میڈیا پر وائرل

  • مذاکرات سے خلق خدا کو کیا حاصل ہوگا؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    مذاکرات سے خلق خدا کو کیا حاصل ہوگا؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان سیاستدانوں نے بنایا تھا ماضی کے وہ سیاستدان اپنی ذات کی نہیں قوم کے لئے سیاست کرتے تھے ۔موجودہ سیاست پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے۔ پچیس کروڑ عوام یعنی خلق خدا ایک نیا تماشا دیکھ رہی ہے، ایک بار پھر مذاکرات ہو رہے ہیں ایک مذاکراتی ٹیم اپوزیشن سے مذاکرات کر رہی ہے، دوسری مذاکراتی ٹیم پنجاب میں اختیارات ، پروٹوکول ، وزارت مانگ رہی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو ان مذاکرات سے خلق خدا کو کیا حاصل ہوگا؟ سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات سیاسی جماعتیں اس کو جمہوریت کا حسن قرار دیتی ہیں مگر یہ کیسا حسن ہے جس حسن کے فائدے ان سیاسی جماعتوں کو ہی ہوتے ہیں۔ ریاست اور خلق خدا کوسوں دور ہوتی ہے۔ دومذاکراتی ٹیموں میں ایک مذاکراتی ٹیم مریم نواز پر سیاسی خودکش حملہ ہی قرار دیا جا سکتا ہے بطور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے مسلم لیگ (ن) کی مقبولیت میں دوبارہ اضافہ کیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی صف او ل کی قیادت کو کب ہوش آئے گا مسلم لیگ (ن) سیاسی دفتروں سے اٹھنے والی محلاتی سازشوں کا شکار کیوں بن جاتی ہے؟ مریم نواز بطور وزیراعلیٰ ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے پنجاب کی خلق خدا کے لئے ترقیاتی کاموں کاایک نہ رکنے والا سلسلہ جاری ہے حکومت پنجاب کی بھرپور توجہ عوامی فلاح پر مرکوز ہے پیپلزپارٹی کو پنجاب میں اختیارات کے بجائے صوبہ سندھ پر توجہ دینی چاہئے۔

    ویسے بھی ملک دہشت گردی کی جنگ سے نمٹنے کے لئے عملاً جنگ کر رہا ہے داخلی محاذ پر سیاسی گرداب، ٹکرائو، محاذ آرائی اور الجھائو کی سیاست کو درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ملک میں دہشت گردی کے حملوں اور پاک فوج کے جوانوں کی شہادتیں دیکھ کر زندہ بچ جانے والے پاک فوج کے جوانوں کو جو قابل فخر ہیں خدا ان مجاہدوں کو سلامت رکھے یہی وہ مجاہد ہیں جو ملک و قوم کے محافظ ہیں ملک و قوم کی عزت اور فخر ہیں خدا پاکستان کو ٹویٹی سیاست سے محفوظ رکھے ملک کی سیاست کے معیار بدل گئے۔ سیاست کے آداب بدل گئے ملک کی سیاست ایسے لوگوں کے پاس چلی گئی سیاست کیا سے کیا ہو گئی سیاستدانوں کی سیاست کو دیکھ کر ملک میں جمہوریت کی پری بھی مکھڑا چھپا رہی ہے

  • کیا ڈیرہ غازیخان کی پسماندگی کے ذمہ دار سردار ہیں؟

    کیا ڈیرہ غازیخان کی پسماندگی کے ذمہ دار سردار ہیں؟

    کیا ڈیرہ غازیخان کی پسماندگی کے ذمہ دار سردار ہیں؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    ڈیرہ غازیخان جو پنجاب کا ایک اہم ضلع اور ڈویژنل ہیڈکوارٹر ہے، کئی دہائیوں سے ترقی کے وعدوں کا شکار ہے۔ اس علاقے میں وسائل کی کمی نہیں ہے لیکن عوام کو وہ سہولتیں اور ترقیاتی منصوبے نہیں مل سکے جو انہیں حاصل ہونا چاہیے تھے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس پسماندگی کے ذمہ دار وہ سردار ہیں جو اس خطے کی سیاسی قیادت کے دعوے دار ہیں؟ سرداروں کے اقتدار کے باوجود ڈیرہ غازیخان میں بنیادی سہولتوں کی کمی، صنعتی ترقی کا فقدان اور صحت کے بحران جیسے مسائل حل نہ ہو سکے۔ یہ صورتحال عوام کے لیے ایک تشویش کا باعث بن چکی ہے اور اب یہ سوال سر اٹھا رہا ہے کہ آیا سردار اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے میں کامیاب ہوئے ہیں؟ڈیرہ غازیخان جوڈویژنل ہیڈکوارٹر ہے، نہ ہی یہاں ریلوے سروس فعال ہے ، نہ ہی ایئرپورٹ کام کر رہا ہے،یہاں نہ موٹروے ہےاور نہ اچھی سڑکیں موجود ہیں، میٹرو بس،اورینج ٹرین ، فلائی اوور، انڈر پاس یا جدید بنیادی ڈھانچوں کا توکوئی تصورہی نہیں کیا جاسکتاہے۔

    ڈیرہ غازیخان میں ڈی جی سیمنٹ اور الغازی ٹریکٹرز جیسی بڑی فیکٹریاں موجود ہیں جو خطے کی معیشت کے لیے اہم ہیں۔ لیکن یہ صنعتیں مقامی لوگوں کو روزگار فراہم کررہی ہیں اور نہ ان کے لیے صحت کی سہولت، نہ تعلیمی ادارے قائم کرتی ہیں اور نہ ہی پینے کے صاف پانی کے منصوبے دئے ہیں۔ بلکہ ان فیکٹریوں کی وجہ سے ماحولیاتی آلودگی، دمہ، ہیپاٹائٹس اور کینسر جیسی خطرناک بیماریاں عام ہو چکی ہیں۔ ان بیماریوں کی روک تھام کے لیے کوئی مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے اور یہ صنعتیں صرف دولت جمع کرنے کا ذریعہ بن گئی ہیں۔

    ڈیرہ غازیخان میں اٹامک انرجی موجود ہے ،پاکستان اٹامک انرجی کے زیرِ انتظام کئی اضلاع میں کینسر ہسپتال کام کر رہے ہیں لیکن ڈیرہ غازیخان کی عوام اس بنیادی ضرورت سے محروم ہیں۔ اس علاقے میں کینسر کی بیماری عام ہے ،کینسرکے مریض بے یار و مددگار زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جو عوام کے ساتھ سوکن جیسا سلوک ہے۔

    یہ حیرت کی بات ہے کہ یہاں کے عوام کو اس قدر سنگین مسائل کا سامنا ہے حالانکہ ڈیرہ غازیخان سے تعلق رکھنے والی کئی اہم سیاسی شخصیات نے ملک کے اعلی ترین عہدوں پر خدمات انجام دی ہیں۔ سردار میر بلخ شیر مزاری اور غلام مصطفی جتوئی وزرائے اعظم رہے، سردار فاروق احمد خان لغاری پاکستان کے صدر رہے اور دیگر سردار بھی اہم وزارتوں پر فائز رہے۔ اس کے باوجود ضلع کی عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔

    سردار اویس احمد خان لغاری جو اس وقت وفاقی وزیر برائے توانائی ہیں اور ہردور میں حکومت کا حصہ رہے اور اہم وزارتوں پر فائز رہے ہیں، ریلوے اسٹیشن کی بحالی یا دیگر بنیادی منصوبوں میں کوئی خاطر خواہ پیشرفت نہ کر سکے۔ ان کی قیادت میں ریلوے اسٹیشن جو چاروں صوبوں کو جوڑنے میں اہم کردار ادا کر سکتا تھا مگر کرپشن اور غفلت کے باعث ناکارہ ہو چکا ہے۔ اس کی زمین اور دیگر اثاثے کرپٹ مافیا کے ہاتھوں میں جا چکے ہیں جو اسے اونے پونے بیچ رہے ہیں،سردار اویس احمد لغاری آج تک ڈیرہ غازیخان کیلئے کوئی میگاپروجیکٹ لانے میں عملاََ ناکام رہے ہیں

    سابق گورنر پنجاب سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ اور ان کے بیٹے سردار دوست محمد کھوسہ جو وزیر اعلی پنجاب کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں بھی علاقے کی ترقی میں خاطر خواہ کردار ادا نہیں کر سکے۔انہوں نے اپنے دور حکومت میں غازی میڈیکل کالج دیا لیکن اس کالج میں آج بھی مقامی طلباء کیلئے کوئی کوٹا مختص نہیں ہے ،عملاََ ڈیرہ غازیخان سے تعلق رکھنے طلباء غازی میڈیکل کالج میں داخلوں سے محروم رہتے ہیں، سردار دوست محمد کھوسہ کے مختصر دورِ حکومت میں چند ترقیاتی منصوبے شروع کیے گئے لیکن ان کی پائیداری اور عوام تک رسائی محدود رہی۔

    سردار فاروق احمد خان لغاری نے ایک انٹرنیشنل ایئرپورٹ بنوایالیکن ائرپورٹ چالو ہونے کے بجائے بند پڑا ہے۔ سردار عثمان بزدار نے وزیر اعلی کے طور پر صرف ایک میگا پروجیکٹ سردار فتح محمد خان بزدار کارڈیالوجی انسٹیٹیوٹ دیا۔ دیگر وعدے محض زبانی جمع خرچ ثابت ہوئے۔ ان کے دور حکومت میں تونسہ میں ترقیاتی کاموں پر توجہ دی گئی جبکہ ڈیرہ غازیخان نظر انداز رہا۔ ان کے بھائیوں کی کرپشن کی کہانیاں بھی عوام میں گردش کرتی رہیں۔

    ڈیرہ غازیخان کی عوام دہائیوں سے سرداروں کے وعدے سنتی آ رہی ہے۔ یہ ضلع ڈویژنل ہیڈکوارٹر ہے جس میں چھ اضلاع شامل ہیں، ترقی کے معاملے میں باقی پنجاب سے کہیں پیچھے اور پسماندہ ترین ضلع ہے۔ عوام اس انتظار میں ہیں کہ کب ان کے مسائل حل ہوں گے اور کب وہ بنیادی سہولتوں سے مستفید ہوں گے۔ ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے، لیکن ایوان اقتدار میں بیٹھے سردار عوامی فلاح و بہبود کے منصوبے شروع کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں۔

    یہ ضلع جو قدرتی وسائل اور تاریخی اہمیت رکھتا ہے صرف وعدوں پر گزارا کر رہا ہے۔ اگر فوری طور پر اقدامات نہ کیے گئے تو یہ ضلع اپنی پسماندگی کے اندھیروں میں مزید گم ہو جائے گا۔ ڈیرہ غازیخان کی عوام کے لیے ترقیاتی منصوبوں اور فلاحی اقدامات کا نہ ہونا یہاں کے سرداروں اور حکومت کی ناکامی کی عکاسی کرتا ہے۔ عوام کو بہتر سہولتیں فراہم کرنے کے لیے فوری اور مئوثر اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ اس علاقے کے مسائل حل ہوں اور یہاں کی عوام بھی ترقی کے ثمرات سے مستفید ہو سکیں۔

    ڈیرہ غازیخان کی پسماندگی اور عوامی مسائل کا حل اس بات پر منحصر ہے کہ علاقے کی سیاسی قیادت کتنی سنجیدگی سے اپنی ذمہ داریوں کو نبھاتی ہے۔ سرداروں کی قیادت میں اب تک جو ترقیاتی منصوبے نظرانداز ہوئے ہیں، اس بات کا غماز ہے کہ سرداروں کو عوامی فلاح و بہبود میں کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔ اگر فوری طور پر بنیادی سہولتوں کی فراہمی اور ترقیاتی منصوبوں پر توجہ نہیں دی گئی تو یہ ضلع اپنی پسماندگی کے اندھیروں میں مزید غرق ہو جائے گا۔ ڈیرہ غازیخان کی عوام کے لیے ضروری ہے کہ انہیں اپنے حقوق اور سہولتیں جلد از جلد فراہم کی جائیں تاکہ یہ خطہ ترقی کے راستے پر گامزن ہو سکے۔

    اب سرداروں کو بھی یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ اب یہ 77سال پہلے بزرگوں والا ڈیرہ غازیخان نہیں ہے، جب آپ کے بڑوں کے ایک پیغام پر تمام برادریاں ووٹ دیا کرتی تھیں ،اب وقت تبدیل ہوچکا ہے ، یہ پڑھے لکھے نوجوانوں کا ڈیرہ غازیخان ہے اگر اب بھی آپ نے ایوانوں بیٹھ کر اپنے علاقے ،اپنے شہراور ضلع کے عوام کے مسائل حل کرنے پر توجہ نہ دی تو وہ وقت دور نہیں ہے جب آپ دوبارہ اسمبلیوں میں جانے کی پوزیشن میں نہیں ہوں گے اور بہت جلد آپ کی جگہ کوئی اور اسمبلی میں پہنچ جائے گا اور آپ ماضی کاحصہ بن جائیں۔

  • تعلیمی نظام کی بھینٹ چڑھتی صفورائیں، قصور وار کون؟

    تعلیمی نظام کی بھینٹ چڑھتی صفورائیں، قصور وار کون؟

    تعلیمی نظام کی بھینٹ چڑھتی صفورائیں، قصور وار کون؟
    تحریر:حبیب اللہ خان
    پاکستان کے شہر بہاولپور کی بہاری کالونی میں 23 سالہ طالبہ صفورہ بتول نے امتحان میں ناکامی کے بعد خودکشی کرلی۔ یہ واقعہ نہ صرف دل دہلا دینے والا ہے بلکہ ہمارے معاشرتی اور تعلیمی نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان بھی کھڑا کرتا ہے، کیا ہمارا تعلیمی نظام طلباء کی ذہنی صحت کا خیال رکھتا ہے؟

    یہ سانحہ محض ایک فرد کی زندگی کا اختتام نہیں بلکہ ہمارے تعلیمی نظام کے رویے اور معاشرتی دباؤ کی ایک گہری جھلک ہے۔ ایک ایسا نظام جہاں کامیابی کو صرف اچھے نمبر اور گریڈ تک محدود کر دیا گیا ہے، نوجوانوں کے ذہنی سکون اور جذباتی توازن کو بری طرح متاثر کر رہا ہے۔ صفورہ کی خودکشی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ طلباء امتحانی ناکامی کو ذاتی ناکامی سمجھ کر زندگی ختم کرنے جیسے انتہائی اقدامات پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

    ہمارے تعلیمی ادارے صرف عددی کارکردگی کو اہمیت دیتے ہیں جبکہ طلباء کی ذہنی صحت، جذباتی بہبود اور شخصیت کی تعمیر کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ طلباء کو یہ سکھانے کی ضرورت ہے کہ ایک امتحان ان کی پوری زندگی کا پیمانہ نہیں ہو سکتا مگر موجودہ تعلیمی ماحول انہیں اس حد تک دباؤ میں مبتلا کر دیتا ہے کہ وہ اپنی ذات پر یقین کھو بیٹھتے ہیں۔

    والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں پر غیر ضروری کامیابی کا بوجھ نہ ڈالیں۔ بچوں کو یہ سکھایا جائے کہ امتحانات میں ناکامی زندگی کا اختتام نہیں بلکہ ایک تجربہ ہے جس سے سیکھ کر آگے بڑھا جا سکتا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ بچوں کو اعتماد دیں اور ان کی جذباتی سپورٹ بنیں تاکہ وہ ذہنی دباؤ سے بچ سکیں۔

    تعلیمی اداروں میں مشاورت (کاؤنسلنگ) کے نظام کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ طلباء کو ایک ایسا ماحول فراہم کرنا ضروری ہے جہاں وہ اپنے مسائل کو بیان کر سکیں اور ان کا حل تلاش کر سکیں۔ تعلیمی کامیابی کے ساتھ ذہنی سکون اور جذباتی توازن پر بھی توجہ دی جانی چاہیے۔

    ہمارے معاشرے میں کامیابی کا معیار صرف ڈگری، پیشہ ورانہ کامیابی اور مالی حیثیت تک محدود ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ کامیابی کا حقیقی مفہوم وہ خوشی، سکون اور ذہنی توازن ہے جو انسان کی زندگی کو بامعنی بناتا ہے۔

    صفورہ بتول کی خودکشی ایک دردناک سوال چھوڑ گئی ہے کہ کیا ہمارا تعلیمی نظام صرف نمبروں اور نتائج کی دوڑ کے لیے بنا ہے یا طلباء کی شخصیت، جذبات اور ذہنی سکون کی پرورش کا بھی ذمہ دار ہے؟ اس سانحے نے یہ حقیقت عیاں کی ہے کہ جب تک ہم تعلیمی کامیابی کو وسیع تر انسانی اقدار سے نہیں جوڑیں گے، تب تک ہم اپنی نسلوں کو صرف کامیابی کے بوجھ تلے روندتے رہیں گے۔

    یہ وقت ہے کہ تعلیمی ادارے، والدین اور معاشرہ مل کر ایک ایسا ماحول تشکیل دیں جہاں امتحانی ناکامی کو ایک تعلیمی تجربہ سمجھا جائے نہ کہ زندگی کا خاتمہ۔ والدین کو اپنے بچوں کے لیے محبت اور حمایت کا ستون بننا ہوگا اور تعلیمی نظام کو طلباء کی ذہنی صحت اور جذباتی استحکام کو اولین ترجیح دینا ہوگی۔

    صفورہ کی المناک موت صرف ایک المیہ نہیں بلکہ ایک انتباہ ہے کہ اگر ہم نے اپنے تعلیمی اور معاشرتی رویوں کو نہ بدلا تو ہم مزید صفوراؤں کو کھو دیں گے۔ کامیابی کی تعریف کو دوبارہ متعین کرنا اور ایک جامع، متوازن اور انسانیت پر مبنی تعلیمی نظام کی تشکیل ہمارا اولین مقصد ہونا چاہیے۔

  • کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟پہلی قسط

    کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟پہلی قسط

    کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟
    تحریر:ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھرجلالوی
    پہلی قسط: سرائیکی لوک قصے اور ان کی اہمیت
    سرائیکی دھرتی فنون لطیفہ اور علم و دانش کا مرکز ہے۔ سرائیکی لوک قصے درحقیقت سرائیکی قصولیوں کی ہزاروں سال پرانی تہذیب کا حصہ ہیں، جو چولستان اور کوہ سلیمان کے خطوں میں محفوظ ہیں۔ قصہ گوئی انسانی تہذیب کا قدیم فن ہے، جو مختلف واقعات، تجربات، اور حقائق کو دلچسپ انداز میں پیش کرنے کا ذریعہ رہا ہے۔ قرآن پاک کی سورہ القصص اور دیگر مذہبی کتابوں میں موجود قصے انسانیت کی فلاح کا سبق دیتے ہیں۔ سرائیکی ماہرین کے مطابق، قصہ انسانی شعور اور ادبی ترقی کی بنیاد ہے، جس نے انسان کو نہ صرف جینے کا ہنر سکھایا بلکہ اس کی تخلیقی صلاحیتوں کو بھی پروان چڑھایا۔

    سرائیکی دھرتی فنون لطیفہ سے لبریز علم و دانش کا خوبصورت ترین خطہ ہے۔سرائیکی لوک قصہ درحقیقت سرائیکی باشعور سرائیکی قصولیوں کی چھ ہزار سال پرانی ہاکڑہ و سندھ تہذیب وتمدن کا روحانی چولستان روہی تھل کے ریت کے ذروں اور دمان کوہ سلیمان کے پہاڑوں میں چھپے قیمتی خزانوں کی طرح ارتقائی اعتبار سے نا ختم ہونے والا سلسلہ ہے۔گنتر گراس عالمی مفکر کا کہنا ہے "اگر دنیا میں کتابیں ختم ہوجائیں گیں تو قصولی زندہ رہیں گے”۔ قصہ عربی زبان کا لفظ ہے۔جس کے معنی کوئی نئی بات، واقعہ،حادثہ،داستان،ناول،کتھا،کہانی، افسانہ،سچ و جھوٹ کا ملاپ وغیرہ کے لیے جاتے ہیں۔عہد جدید میں عملی پریکٹیکل پرفارمنس ڈرامہ،تھیٹر، فلم میں کردار،پلاٹ، کینوس کا وجود، منظر نگاری،مکالمہ نگاری،دراصل قصہ،داستان،
    افسانہ،ناول،کہانی،کتھا کےنئے انداز میں روپ ہیں۔کائنات کی تخلیق مادری زبانوں کے فن کمال قصہ گوئی میں محفوظ ہے۔

    حیوان ناطق انسان نے اشرف المخلوقات کا شرف قوت گوئی کے پہلے فن قصہ گوئی سے حاصل کیا۔ قصہ ایک عظیم لغت ہے اور ایسی نایاب ڈکشنری جس میں لفظوں کا کمال حیرت انگیز جہاں ہوتا ہے۔قصے کی بدولت انسان نے زمین اور آسمان کے ستاروں کے علم کی معرفت حاصل کی ہے۔قصہ علم لدنی و روحانیت کی معراج ہے۔تمام علوم کی دولت قصے سے شروع قصے پر ختم ہوتی ہے۔قصہ روشنی کا وہ عصاء ہے جس نے گمشدہ خزانوں کو ڈھونڈ نکلا۔قصہ ہر مشکل کا حل ہے۔قصہ انسان کا عملی کامیاب استاد ہے۔ میں قصے کا مطلب حق سچ یعنی صبح صادق ہی لوں گا۔کیونکہ رب العزت جلال کی الہامی لاریب کتاب قرآن مجید کی ایک آیت کریمہ نہیں بلکہ پوری سورت کا خوبصورت نام سورہ القصص ہے۔جس میں قدیم سابقہ اقوام کے عروج و زوال کےقصے درج ہیں۔آسمانی مقدس کتابوں میں زبور، تورات،انجیل، صحیفے مبارکہ کے ساتھ دیگر معزز مذاہب کی روحانی کتب مقدسہ ویدک لٹریچر میں بھی قصے درج ہیں۔موضوع ومقصد سب کا ایک انسان اور فلاح انسانیت ہے۔

    قصہ دراصل ایک من پسند اور آسان ترین عملی مثالی قابل فہم وشعور کا اعلی ترین نمونہ ہے۔نبی آخری زماں حضرت محمد مصطفٰی ﷺکی سیرت طیبہ میں بے شمار قیمتی سبق آموز حق سچ قصے موجود ہیں۔آپ ﷺ کے معجزات مبارکہ انسانوں کی بہترین اصلاح،تربیت اور رشدوہدایت کے لیے ہمیشہ موجود رہیں گے۔واقعہ معراج نے قصے کو بام عروج بخشا۔قصے کے فن اور اس کو ہمیش عزت و توقیر ملتی رہے گی۔کیونکہ قرآن مجید کی حفاظت خود اللہ پاک نے فرمائی ہے۔جس کی ایک سورہ القصص پارہ نمبر20 ،تلاوت قرآن مجید موجودہ ترتیب کے لحاظ سے مکی سورہ نمبر 28،کل آیات 88 ،رکوع9،جب کہ نزولی ترتیب وار سورہ 49 ہے۔

    اب ہمیں یہ فکر ہرگز نہیں کرنی چاہیے کہ قصے کا وجود باقی رہے گا کہ نہیں۔ہر گزرتا لمحہ قصہ کہلاتا ہے۔قصہ گوئی کا خوبصورت آغاز "کن فیکون” کے حکم سے لامتناہی روحانی سفر فیض جاری و ساری ہے۔جو اللہ پاک کے حکم سے ہمیش چلتا رہےگا۔اللہ پاک نے ہر دور میں اپنے بندوں کی خیر سلامتی اور کامیاب کونسلنگ کے لیے انبیاء کرام علیہم السلام کو بھیجا۔اب سلسلہ نبوت حضرت محمد مصطفٰیﷺ تک ختم ہوگیا۔مگر آپ ﷺکی تعلیمات کا سلسلہ آپﷺ کےاہل بیت المقدس،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین،اولیاء اللہ کرام کے توسط سے تا قیامت خیر کا پیغام پہنچتا رہےگا۔حق سچ والا قصہ نسل انسانی میں پیڑھی در پیڑھی منتقل ہوتا آرہا ہے۔قصہ ہر نسل کی تربیت و کامیابی کی کنجی ہے۔

    سرائیکی عالمی ادبی شخصیت ماہر سرائیکی سماجیات ڈاکٹر جاوید حسان چانڈیو کہتے ہیں "قصہ انسانی شعور کا بنیادی بیج ہے۔سرائیکی قصولیوں نے قصے کے ذریعے اپنی قوم کے حقیقی ادب کو سینوں میں محفوظ رکھا”۔قصوں کو مختلف دانشوروں نے اپنی عقل و دانش سے کسی نے انسانی عمری تقسیم سے،بچوں،لڑکپن،نوجوانوں،بوڑھوں کے قصوں میں بانٹا۔کچھ ادیبوں نے اپنی شعوری پختگی سے قصوں کو متھ،فیبل،لیجینڈ ،ہیروز،مشاہیر
    ،مذہبی،رومانس عشقیہ قصوں پر مشتمل اقسام گنوائیں ہیں۔

    سرائیکی زبان و ادب کے نامور محقق و نقاد محمد حفیظ خان کے مطابق "قصہ انسانی قوت گوئی کی عظیم ترین گواہی ہے۔سرائیکی قصے سے قدیم و جدید ادیبوں نے رہنمائی حاصل کی ہے”۔سرائیکی دھرتی تصوف کے مہان کلاسیکل شاعر سئیں پروفیسر رفعت عباس کہتے ہیں”سرائیکی لوک قصے نے سرائیکی معصوم قوم کو ہر عہد میں جینے کا فن سکھایا ہے۔شاعری کے پر اسرار رازسمجھنے کے لیے میں نے سرائیکی قصوں کی بھاشا کو اپنی طاقت بنایا”۔سرائیکی فوک وزڈم کے ماہر پروفیسر ڈاکٹر ریاض خان سنڈھر کےمطابق”سرائیکی قصہ سرائیکی قوم کے مستقبل کی روشن دلیل ہے”۔ سرائیکی فوک دانشور،شاعر،سابق ریڈیو اسٹیشن ڈائریکٹر ملتان و بہاولپور ڈاکٹر خالد اقبال کا کہنا ہے” سرائیکی لوک قصے سرائیکی الفاط کا انسائیکلوپیڈیا ہیں۔ان کی عظمت سے کسی کو انکار نہیں”۔سرائیکی قصہ سرائیکی قوم کا نالج ہاوس ہے۔

    قصوں کی بدولت لاکھوں سالوں میں انسانوں نے اپنی سوچ،شکل،صلاحیتوں اور سماجی ساخت کو بدلا ہے۔مجھے قصے سے محبت نہیں بلکہ عشق ہے۔میں نے ہر مشکل کا حل سرائیکی قصے میں موجود روحانی شخصیت کی حکمت سے سیکھا ہے۔میرے روحانی مرشد کامل حقیقی شہنشاہ تجلیات و فیضان حضور حضرت سید شیر شاہ جلال الدین حیدر سرخ پوش بخاری نے رب العزت جلال کے حکم سے میری روحانی راہنمائی فرمائی ہے۔قصے کے عمل نے مجھے سیدھے چلنا سیکھایا،اوزاروں کا استعمال کرنا سکھایا کیا،آگ کو اپنا ساتھی بنایا۔غاروں میں رہنے والے انسان کو باشعور قصے کی شعوری پختگی کے کلیدی تربیتی ورکشاپ نے جینے کا محفوظ ماحول فراہم کیا۔ترقی وخوشحالی کی نئی علم و حکمت کی راہیں عطاء کیں۔خوبصورت پیچیدہ زبانوں کا گلدستہ ایجاد کیا۔شکاری دور سے زراعت کے دور کا سفر کیا۔انسان ایگری کلچر سے کلچر یونیورسٹی میں داخل ہوا۔ پھر دریاوں کے کنارے نئے شہر اور تہذیبوں کی بنیادیں قائم کیں۔ انسان کی ترقی و خوشحالی اور تعمیر نو کا سفر قصوں کا سننا اور سنانا کی بدولت ممکن ہوا۔

    مجھے قصے کی صنف سے جنون کی حد تک لگاؤ اس وجہ سے ہے کہ میرا ایم فل تھیسز بعنوان ” قلعہ ڈیراور وچ وسدے لوکاں دے قصے” پی ایچ ڈی مقالہ بعنوان”سرائیکی لوک قصیں اتے چولستانی قصیں دے اثرات” ہے۔ ایم اے میں مقالہ ” احمدپورشرقیہ دی سرائیکی ادبی گوجھی” ریسرچ ورک شعبہ سرائیکی اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور پاکستان، دراصل میری ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کا قصہ ہے۔مشہور کہاوت ہے” ضرورت ایجاد کی ماں ہے”۔قصہ کی حقیقی محافظ مادری زبان ہی رہی اور رہے گی۔عہد پتھر یعنی ابتدائی دور میں انسانوں نے خود کو دوسرے حیوانات سے تحفظ کیلئے اور سخت غذاء کو نرم کرنے اور جزو جسم کی ضرورت پوری کرنے کیلئے اور خوف کو دور کرنے کے لیے آگ کا استعمال کیا تھا۔

    سماج کا بنیادی یونٹ میاں بیوی ہیں۔انسانی جبلت ہے وہ اپنی خوشی وغم دوسرے انسان سے لازمی سانجھا کرتا ہے۔اپنے مسکن کی جگہ آگ کے گرد بیٹھ کر قصوں کا آغاز ہوا تھا۔قصوں کی بدولت انسانی ادب وتمدن نےجنم لیا۔جب انسان ابھی سیکھ رہا تھا،قصے سننا اور سنانا انسان کے ارتقائی سفر کا ایک لازمی حصہ تب بھی رہاتھا اور آج بھی ہماری زندگیوں کو معنی اور سمت فراہم کررہاہے۔انسان کے آغاز سے ہی قصوں نے اس کا ساتھ نبھایا ہے….۔ (جاری ہے)۔۔

  • دل کا دورہ ،اکیلے ہوں تو کیا کرنا چاہئے

    دل کا دورہ ،اکیلے ہوں تو کیا کرنا چاہئے

    دل کا دورہ، ہارٹ اٹیک دنیا بھر میں بہت سے افراد کے ساتھ پیش آتا ہے۔ اگرچہ دل کے دورے کے امکانات کو کم کرنے کے لیے کئی تدابیر ہیں، لیکن ان کا مکمل طور پر تدارک ممکن نہیں۔

    دل کے دورے کی صورت میں عام طور پر لوگوں کی پہلا ردعمل یہ ہوتا ہے کہ وہ مدد کے لیے پکاریں، لیکن اگر آپ اکیلے گھر میں ہوں اور آپ کو دل کا دورہ پڑ جائے تو آپ کو کیا کرنا چاہیے؟ یہاں کچھ اہم اقدامات ہیں جو آپ کو اس نازک وقت میں انجام دینے چاہئیں۔

    1. فوراً ایمرجنسی خدمات کو کال کریں
    سب سے پہلا اور اہم قدم یہ ہے کہ آپ فوراً ایمرجنسی خدمات کو کال کریں، چاہے آپ اکیلے ہوں یا کسی کے ساتھ۔ آپ کو فوری طور پر ماہر علاج کی ضرورت ہوتی ہے جو آپ تک فوری پہنچ سکے۔دل کے دورے کے بعد بقاء کے امکانات ان افراد کے لیے زیادہ ہوتے ہیں جو فوراً طبی امداد حاصل کرتے ہیں۔ اگر آپ کو یقین نہیں ہے کہ آپ کو دل کا دورہ پڑا ہے یا نہیں، تب بھی ایمرجنسی سروسز سے رابطہ کریں۔

    2. قریبی پڑوسی یا رشتہ دار کو بلائیں
    اگر آپ کو دل کا دورہ پڑ رہا ہے اور آپ اکیلے ہیں تو فوراً اپنے کسی قابل اعتماد پڑوسی یا رشتہ دار سے رابطہ کریں اور ان سے درخواست کریں کہ وہ جلدی آپ کے پاس آئیں۔ اگر آپ کا دل اچانک رک جائے، تو کسی اور کا قریب ہونا انتہائی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔اپنی بات چیت کو مختصر رکھیں تاکہ آپ زیادہ تھک نہ جائیں یا زیادہ سانس نہ لیں۔ اگر وہ جلد آپ کے پاس پہنچتے ہیں، تو وہ آپ کے لیے مدد کی درخواست کر سکتے ہیں۔

    3. اسپرین کا استعمال
    اگر آپ کو دل کا دورہ پڑ رہا ہے اور آپ کو اسپرین سے الرجی نہیں ہے، تو ایمرجنسی سروسز کو کال کرنے کے بعد ایک اسپرین گولی لے لیں۔ اسپرین خون کے جمنے کو روکنے میں مدد فراہم کرتا ہے، جس سے دل کو کم نقصان پہنچتا ہے۔تاہم، اسپرین کا استعمال صرف ایک عارضی حل ہے اور اس کا مقصد دل کی تکلیف کو کم کرنا ہے، نہ کہ اس سے ہونے والے نقصان کو مکمل طور پر روکنا۔ اس لیے فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کریں اور صحیح علاج کروائیں۔

    4. پرسکون رہنا ضروری ہے
    دل کے حملے کے دوران زیادہ گھبرانا یا افرا تفری میں مبتلا ہونا آپ کی حالت کو مزید خراب کر سکتا ہے۔ کوشش کریں کہ خود کو پرسکون رکھیں کیونکہ دل کی دھڑکن کو زیادہ تیز ہونے سے بچانے کے لیے ذہنی سکون ضروری ہے۔اگر آپ بیٹھنے میں آرام محسوس کرتے ہیں تو نرم جگہ پر بیٹھیں یا زمین پر لیٹ جائیں۔ اگر سانس لینے میں دشواری ہو تو اپنے کپڑے کھولیں، خاص طور پر کمر کی پٹیاں یا ٹائی کو نکال دیں۔ گہرے اور آہستہ سانس لیں، اور زیادہ کھانسنے کی کوشش نہ کریں۔

    5. آکسیجن کی فراہمی کے لیے ہوا کی روانی کو بڑھائیں
    اگر ممکن ہو تو قدرتی روشنی کے قریب یا پنکھے، اے سی، کھڑکیاں یا دروازے کے قریب لیٹیں۔ تازہ ہوا کی مستقل روانی آپ کے دل کو زیادہ آکسیجن فراہم کر سکتی ہے، جو آپ کی حالت میں بہتری لا سکتی ہے۔

    6. دل کے حملے کی علامات کو ایک گھنٹے میں علاج کروائیں
    دل کے حملے کی علامات کو ایک گھنٹے کے اندر علاج کرانا انتہائی اہم ہے۔ اگر اس وقت میں علاج نہیں کیا جاتا تو دل کے پٹھے زیادہ خراب ہو سکتے ہیں۔ بہتر یہ ہے کہ آپ کی بند شریان کو 90 منٹ کے اندر کھول دیا جائے تاکہ نقصان کم سے کم ہو۔

    7. دل کی بیماریوں کے خطرات کو کم کرنے کے لیے ڈاکٹر سے مشورہ کریں
    دل کے دورے کے بعد، اپنے ڈاکٹر سے ملاقات کریں اور دل کی بیماریوں کے خطرات کو کم کرنے کے لیے مختلف طریقوں پر مشورہ کریں، جیسے کہ خوراک، ورزش، نیند کے معمولات، اور دیگر روزمرہ کی عادات میں تبدیلیاں۔دل کے دورے کے دوران جلدی اور درست فیصلے کرنا آپ کی زندگی بچا سکتا ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ آپ ان اقدامات کو فوراً اور صحیح طریقے سے اپنائیں۔

    ترکی: بارودی مواد کے پلانٹ میں دھماکے سے 12 افراد ہلاک، 3 زخمی

    چیمپئینز ٹرافی،برطانوی اخبار نے انڈیا کرکٹ بورڈ کا پول کھول دیا

    جی ایچ کیو حملہ کیس، ایک اور ملزم پر فرد جرم، ویڈیو اور آڈیو ریکارڈنگ کی درخواستیں مسترد