Baaghi TV

Category: بلاگ

  • دل کا دورہ ،اکیلے ہوں تو کیا کرنا چاہئے

    دل کا دورہ ،اکیلے ہوں تو کیا کرنا چاہئے

    دل کا دورہ، ہارٹ اٹیک دنیا بھر میں بہت سے افراد کے ساتھ پیش آتا ہے۔ اگرچہ دل کے دورے کے امکانات کو کم کرنے کے لیے کئی تدابیر ہیں، لیکن ان کا مکمل طور پر تدارک ممکن نہیں۔

    دل کے دورے کی صورت میں عام طور پر لوگوں کی پہلا ردعمل یہ ہوتا ہے کہ وہ مدد کے لیے پکاریں، لیکن اگر آپ اکیلے گھر میں ہوں اور آپ کو دل کا دورہ پڑ جائے تو آپ کو کیا کرنا چاہیے؟ یہاں کچھ اہم اقدامات ہیں جو آپ کو اس نازک وقت میں انجام دینے چاہئیں۔

    1. فوراً ایمرجنسی خدمات کو کال کریں
    سب سے پہلا اور اہم قدم یہ ہے کہ آپ فوراً ایمرجنسی خدمات کو کال کریں، چاہے آپ اکیلے ہوں یا کسی کے ساتھ۔ آپ کو فوری طور پر ماہر علاج کی ضرورت ہوتی ہے جو آپ تک فوری پہنچ سکے۔دل کے دورے کے بعد بقاء کے امکانات ان افراد کے لیے زیادہ ہوتے ہیں جو فوراً طبی امداد حاصل کرتے ہیں۔ اگر آپ کو یقین نہیں ہے کہ آپ کو دل کا دورہ پڑا ہے یا نہیں، تب بھی ایمرجنسی سروسز سے رابطہ کریں۔

    2. قریبی پڑوسی یا رشتہ دار کو بلائیں
    اگر آپ کو دل کا دورہ پڑ رہا ہے اور آپ اکیلے ہیں تو فوراً اپنے کسی قابل اعتماد پڑوسی یا رشتہ دار سے رابطہ کریں اور ان سے درخواست کریں کہ وہ جلدی آپ کے پاس آئیں۔ اگر آپ کا دل اچانک رک جائے، تو کسی اور کا قریب ہونا انتہائی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔اپنی بات چیت کو مختصر رکھیں تاکہ آپ زیادہ تھک نہ جائیں یا زیادہ سانس نہ لیں۔ اگر وہ جلد آپ کے پاس پہنچتے ہیں، تو وہ آپ کے لیے مدد کی درخواست کر سکتے ہیں۔

    3. اسپرین کا استعمال
    اگر آپ کو دل کا دورہ پڑ رہا ہے اور آپ کو اسپرین سے الرجی نہیں ہے، تو ایمرجنسی سروسز کو کال کرنے کے بعد ایک اسپرین گولی لے لیں۔ اسپرین خون کے جمنے کو روکنے میں مدد فراہم کرتا ہے، جس سے دل کو کم نقصان پہنچتا ہے۔تاہم، اسپرین کا استعمال صرف ایک عارضی حل ہے اور اس کا مقصد دل کی تکلیف کو کم کرنا ہے، نہ کہ اس سے ہونے والے نقصان کو مکمل طور پر روکنا۔ اس لیے فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کریں اور صحیح علاج کروائیں۔

    4. پرسکون رہنا ضروری ہے
    دل کے حملے کے دوران زیادہ گھبرانا یا افرا تفری میں مبتلا ہونا آپ کی حالت کو مزید خراب کر سکتا ہے۔ کوشش کریں کہ خود کو پرسکون رکھیں کیونکہ دل کی دھڑکن کو زیادہ تیز ہونے سے بچانے کے لیے ذہنی سکون ضروری ہے۔اگر آپ بیٹھنے میں آرام محسوس کرتے ہیں تو نرم جگہ پر بیٹھیں یا زمین پر لیٹ جائیں۔ اگر سانس لینے میں دشواری ہو تو اپنے کپڑے کھولیں، خاص طور پر کمر کی پٹیاں یا ٹائی کو نکال دیں۔ گہرے اور آہستہ سانس لیں، اور زیادہ کھانسنے کی کوشش نہ کریں۔

    5. آکسیجن کی فراہمی کے لیے ہوا کی روانی کو بڑھائیں
    اگر ممکن ہو تو قدرتی روشنی کے قریب یا پنکھے، اے سی، کھڑکیاں یا دروازے کے قریب لیٹیں۔ تازہ ہوا کی مستقل روانی آپ کے دل کو زیادہ آکسیجن فراہم کر سکتی ہے، جو آپ کی حالت میں بہتری لا سکتی ہے۔

    6. دل کے حملے کی علامات کو ایک گھنٹے میں علاج کروائیں
    دل کے حملے کی علامات کو ایک گھنٹے کے اندر علاج کرانا انتہائی اہم ہے۔ اگر اس وقت میں علاج نہیں کیا جاتا تو دل کے پٹھے زیادہ خراب ہو سکتے ہیں۔ بہتر یہ ہے کہ آپ کی بند شریان کو 90 منٹ کے اندر کھول دیا جائے تاکہ نقصان کم سے کم ہو۔

    7. دل کی بیماریوں کے خطرات کو کم کرنے کے لیے ڈاکٹر سے مشورہ کریں
    دل کے دورے کے بعد، اپنے ڈاکٹر سے ملاقات کریں اور دل کی بیماریوں کے خطرات کو کم کرنے کے لیے مختلف طریقوں پر مشورہ کریں، جیسے کہ خوراک، ورزش، نیند کے معمولات، اور دیگر روزمرہ کی عادات میں تبدیلیاں۔دل کے دورے کے دوران جلدی اور درست فیصلے کرنا آپ کی زندگی بچا سکتا ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ آپ ان اقدامات کو فوراً اور صحیح طریقے سے اپنائیں۔

    ترکی: بارودی مواد کے پلانٹ میں دھماکے سے 12 افراد ہلاک، 3 زخمی

    چیمپئینز ٹرافی،برطانوی اخبار نے انڈیا کرکٹ بورڈ کا پول کھول دیا

    جی ایچ کیو حملہ کیس، ایک اور ملزم پر فرد جرم، ویڈیو اور آڈیو ریکارڈنگ کی درخواستیں مسترد

  • ٹرمپ،مشرق وسطیٰ، روس،یوکرین جنگ اور پاکستان کی خارجہ پالیسی،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ٹرمپ،مشرق وسطیٰ، روس،یوکرین جنگ اور پاکستان کی خارجہ پالیسی،تجزیہ:شہزاد قریشی

    سال 2025 جنوری وائٹ ہائوس کا نیا مکین ٹرمپ وائٹ ہائوس میں واپسی ، مشرق وسطیٰ روس یو کرین اور نیٹو کو لے کر قیاس آرائیاں عروج پر ہیں ۔ نئے امریکی صدر کیا کریں اور کیا نہیں کریں گے ،بحث جاری ہے۔ دنیا کے لئے ان کی خارجہ پالیسی کیا ہوگی، اس کا اندازہ کرنا مشکل نہیں۔ وائٹ ہائوس میں وہ پہلی بار نہیں بلکہ دوسری بار داخل ہو رہے ہیں۔ روس یو کرین جنگ کولے کر عالمی تبصرہ نگاروں کا خیال ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو روس کے لئے ہمدردی کا رویہ سمجھا جاتا ہے ۔ مسئلہ امریکہ کے امیج کا ہے ۔ یوکرین کی جنگ کا نتیجہ روس کو مضبوط بناتا ہے اور یو کرین کو کمزور کرتا ہے۔ امریکہ اپنے امیج کا خیال رکھتے ہوئے تاریخ نہیں دہرائے گا۔مثال کے طورپر افغانستان سے سبکدوش ہونے والی امریکی انتظامیہ کے تباہ کن انخلاء کے برابر ہوگا۔ تاہم ٹرمپ کی نئی انتظامیہ میں تقرریاں یوکرین کے لئے اچھی علامت ہے ۔ قومی سلامتی کے مشیر والٹنر اور وزیر خارجہ کے نامزد کردہ مارکو روبیو دونوں نے ماضی میں یو کرین کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔ ادھر اگلے سال نیٹو کا سربراہی اجلاس ایک اہم موڑ ہو گا۔ تبصرہ نگاروں کے مطابق2024 ء میں یو کرین کی فطری حمایت نے روس کو اپنے وسیع مقاصد حاصل کرنے سے روک دیا ہے تاہم آنے والا سال تمام فریقین کے سفارتی فوجی اور سیاسی عزم کا امتحان لے گا۔ جس سے عالمی سلامتی کا توازن برقرار رہے۔

    رہا سوال پاکستان کا نہ جانے ہماری سیاسی جماعتوں کی سانس کیوں پھولی ہوئی ہے۔ پی ٹی آئی سمیت دوسری جماعتوں سے وابستہ کارکن سوشل میڈیا پر ایک ہنگامہ کھڑا کیا ہے جس کا فائدہ نہ پاکستان اور نہ ہی عوام کو ہے ۔ یاد رکھیئے ہم جیسے ممالک دنیا میں بہت ہیں ۔ امریکہ میں پاکستان تادم تحریر موضوع بحث نہیں نہ پاکستان میں جنگی ماحول ہے ۔ ،داخلی سیاسی مسائل کو لے کر امریکہ کے پاس وقت نہیں کہ وہ پاکستان کے داخلی سیاسی مسائل پر توجہ دے۔ پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی تجارت کی طرف دینی چاہیئے ۔پاکستان کی اصل طاقت معیشت میں ہے۔ مضبوط معیشت میں پاکستان کی مضبوطی ہے۔

    یاد رکھیئے امریکہ اور عالمی دنیا کو ایٹمی ہتھیاروں سے لیس اسلامی جمہوریہ پاکستان میں انتشار قبول نہیں ،پی ٹی آئی ایک سیاسی جماعت ہے۔ اسے انتشار کی سیاست کو دفن کرکے پاک فوج اور جملہ اداروں کے ساتھ اپنا رویہ تبدیل کرنا ہوگا۔ پی ٹی آئی کی قیادت کویہ بات سمجھ کیوں نہیں آتی امریکہ میں سب پالیسیوں پر حاوی پالیسی پینٹاگان کی ہی ہوتی ہے

  • گڑ اور ککو غریب کے لیے خواب بن گئے

    گڑ اور ککو غریب کے لیے خواب بن گئے

    گڑ اور ککو غریب کے لیے خواب بن گئے
    تحریر: حبیب اللہ خان
    کچھ عرصہ قبل گڑ اور ککو ہر گھر میں عام دستیاب ہوتے تھے(ککوجسے انگریزی میں Blackstrap molasses کہتے ہیں)، خاص طور پر سردیوں میں یہ دونوں اشیاء گھریلو زندگی کا لازمی حصہ ہوا کرتی تھیں۔ گڑ سے بنے میٹھے چاول، جنہیں سرائیکی زبان میں "بھت” کہا جاتا ہے، بڑی محبت اور اہتمام سے تیار کیے جاتے تھے۔ دوست احباب کو بھت کی دعوتیں دینا روایت کا حصہ تھا اور یہ میٹھا پکوان محفلوں کی رونق بڑھاتا تھا۔

    صبح کے وقت ناشتے میں ککو، جس میں دیسی مکھن ڈالا جاتا تھا، توانائی بخش غذا سمجھی جاتی تھی۔ گڑ سے بنی موٹی میٹھی روٹی اور "بُسری” کا تو جواب ہی نہیں تھا۔ یہ خصوصی پکوان دسمبر اور جنوری کی یخ بستہ راتوں میں بڑے اہتمام سے تیار کیے جاتے تھے اور عزیز و اقارب مل بیٹھ کر ایک ہی برتن میں کھاتے تھے، جو خلوص اور محبت کی علامت ہوا کرتا تھا۔

    مگر افسوس کہ ہوشربا مہنگائی اور ذخیرہ اندوز مافیا کی بدولت یہ روایتی پکوان اب صرف یادیں اور کہانیاں بن کر رہ گئے ہیں۔ گڑ اور ککو جیسے عام کھانے جو کبھی ہر گھر کی دسترس میں ہوا کرتے تھے، اب غریب کے لیے خواب بن چکے ہیں۔

    مہنگائی کا طوفان عوام کی زندگی اجیرن بناتا جا رہا ہے اور اب گڑ اور ککو جو پہلے معمولی اشیاء تصور کی جاتی تھیں اب نایاب اشیاء میں تبدیل ہوکر خواب بنتی جارہی ہیں۔ وہ چیزیں جو کبھی ہر گھر کی دسترس میں ہوتی تھیں، آج امیروں تک محدود ہو گئی ہیں۔ گڑ اور ککو جیسی سستی اور مقبول اشیاء جو غریبوں کے لیے خوشی کا باعث بنتے تھے، اب مہنگائی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔

    گڑ کی قیمتوں میں حالیہ اضافے نے ہر طبقے کو پریشان کر دیا ہے۔ گڑ جو پہلے 50 سے 60 روپے فی کلو ملتا تھا اب 150 سے 170 روپے فی کلو تک پہنچ چکا ہے۔ اس قیمت میں اتنا بڑا اضافہ کیوں ہوا؟ گڑ کی پیداوار میں کمی نہیں آئی لیکن اس کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہو رہا ہے۔ پروسیسنگ میں زیادہ لاگت نہیں آتی، پھر بھی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ "گڑ مافیا” ہے، جو گڑ کی خرید و فروخت پر قابض ہو چکا ہے اور کسانوں کو اپنی فصلیں انتہائی کم قیمتوں پر بیچنے پر مجبور کر رہا ہے۔

    ککو(Blackstrap molasses)جو کبھی بچوں کا پسندیدہ سستا میٹھا ہوا کرتاتھا اب ان کی پہنچ سے دور ہو چکا ہے۔ یہ وہ چیز تھیں جنہیں غریب معمولی قیمت خریدتے تھے لیکن اب اس کی قیمت اتنی زیادہ ہو چکی ہے کہ یہ غریب طبقے کے لیے ایک عیش بن کر رہ گئی ہے۔ جیسے گڑ کی قیمتوں میں اضافے نے عوام کے لیے مشکلات بڑھائیں، ویسے ہی ککو کی قیمتوں میں اضافہ بھی غریب خاندانوں کے لیے ایک نیا چیلنج بن چکا ہے۔

    غریب طبقہ پہلے ہی مہنگائی کے طوفان سے پریشان ہے۔ روزمرہ کی ضروریات جیسے آٹا، چاول، سبزیاں اور دالیں، اب ان کی دسترس سے باہر ہو چکی ہیں۔ جب تک حکومت مہنگائی کے اس جن کو قابو نہیں کرے گی، غریب طبقہ اپنی زندگی کی چھوٹی خوشیوں سے بھی محروم رہے گا۔

    عوامی حلقے حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ فوری طور پردیگر اشیاء کے ساتھ ساتھ گڑ اور ککو کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے بھی اقدامات کرے۔ ان اشیاء کی قیمتوں میں اضافے نے غریب طبقے کے لیے مزید مشکلات پیدا کر دی ہیں اور اگر اس پر قابو نہ پایا گیا تو یہ اشیاء صرف یادیں بن کر رہ جائیں گی۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ان مافیا گروپوں کے خلاف سخت کارروائی کرے جو ان بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں بلاوجہ اضافہ کر رہے ہیں۔

    حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر گڑ اور ککو کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے۔ اس کے علاوہ، کسانوں کی حالت زار میں بہتری لانے کے لیے انہیں مناسب قیمتوں پر اجناس بیچنے کے مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ مافیا کے شکنجے سے آزاد ہو سکیں۔ حکومت کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ گڑ اور ککو کی قیمتیں عوام کی دسترس میں رہیں تاکہ یہ قدرتی نعمتیں دوبارہ ہر گھر میں میسر ہو سکیں۔

  • سقوطِ ڈھاکہ کا اصل مجرم بنگالیوں نے پہچان لیا۔۔۔!

    سقوطِ ڈھاکہ کا اصل مجرم بنگالیوں نے پہچان لیا۔۔۔!

    سقوطِ ڈھاکہ کا اصل مجرم بنگالیوں نے پہچان لیا۔۔۔!
    تحریر: قاضی کاشف نیاز
    آہ! دسمبر ایک بار پھر آ گیا۔ ہر سال یہ مہینہ ہماری تاریخ کی تلخ ترین یادوں کو تازہ کرنے آتا ہے، لیکن الحمدللہ اس بار تلخیاں شیرینی میں حل ہو کر پہلے سے کہیں کم محسوس ہو رہی ہیں۔ بنگلہ دیش کے ساتھ ساتھ اب شام سے بھی خوشی کی خبریں آ رہی ہیں۔ وہ قوتیں جنہوں نے ہمارے بنگالی مسلم بھائیوں کو ہم سے لڑا کر الگ کر دیا تھا اس بار ان کی سازشوں کا جال بری طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہا ہے اور دنیا ایک بار پھر بدلنے کو تیار ہے۔

    وہی بنگالی جنہیں بھارت نے زہریلا پروپیگنڈا کرکے مغربی پاکستان کی عوام اور فوج کے خلاف کھڑا کیا تھا اور پاکستان کو دولخت کرنے میں کامیاب ہوا تھا، آج اس بڑے شیطان (بھارت) کو پہچان چکے ہیں۔ وہ گرزِ ابراہیمی لے کر بھارت کے بڑے آلہ کار اور بنگلہ دیش کے نام نہاد بانی کے بت کو پاش پاش کر چکے ہیں۔ بنگالی بھائیوں نے اپنی واپسی اور "مراجعت الی الحق و الباکستان” کا سفر حیرت انگیز طور پر بڑی تیزی سے شروع کر دیا ہے۔ ہمیں بھی ان کے اس جذبے کا جواب اسی گرمجوشی سے دینا ہوگا۔

    اس میں کوئی شک نہیں کہ مشرقی پاکستان کے سانحے میں ہم سے بھی کئی غلطیاں ہوئیں لیکن بنگالی بھائیوں نے اپنے تازہ رویے سے ثابت کر دیا ہے کہ اس سارے معاملے میں اصل قصوروار بھارت تھا، جس نے پاکستان کے وجود کو پہلے دن سے تسلیم نہیں کیا اور ہمیشہ اس تاک میں رہا کہ کسی طرح دو بھائیوں کے باہمی جھگڑوں سے فائدہ اٹھا کر پاکستان کو نقصان پہنچائے۔

    آج بنگالی عوام نے اپنے ملک میں انقلاب لا کر ثابت کر دیا ہے کہ ان کا اصل دشمن پاکستان نہیں بلکہ بھارت اور اس کے آلہ کار ہیں۔ وہ بھارت جس نے بنگالی عوام کو اپنے سازشی جال میں پھنسا کر پاکستان کے خلاف کھڑا کیا، آج خود بنگالی عوام کی نظروں میں ایک ناپسندیدہ ملک بن چکا ہے۔

    بنگالی عوام نے اپنی تازہ تحریک سے بھارت کے تمام عزائم خاک میں ملا دیے ہیں۔ وہ عوام جو پہلے بھارت کے پروپیگنڈے کے زیر اثر تھے، آج لبیک اللہم لبیک کی صدائیں بلند کر رہے ہیں۔

    یہ حقیقت ہے کہ شیخ مجیب اور اس کی بیٹی حسینہ واجد نے بنگلہ دیش کے اسلامی تشخص کو ختم کرنے کی کوشش کی، لیکن بنگالی عوام نے اس کے خلاف بغاوت کر دی۔ حسینہ واجد کے خلاف یہ تحریک نہ صرف ایک سیاسی انقلاب ہے بلکہ ایک خالص نظریاتی انقلاب بھی ہے۔ یہ انقلاب اس نظریے کی تجدید ہے جسے پاکستان کے قیام کے وقت دو قومی نظریہ کہا گیا تھا۔

    آج بنگالی عوام بھارت کو دشمن اور پاکستان کو دوست سمجھتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ڈھاکہ میں قائداعظم محمد علی جناح کی برسی اور علامہ اقبال کے یومِ پیدائش کی تقریبات کا انعقاد اسی نظریاتی تبدیلی کا ثبوت ہیں۔

    ہمیں بھی چاہیے کہ ان بچھڑے بھائیوں کو دوبارہ گلے لگانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں اور ماضی کی غلطیوں سے سبق حاصل کرتے ہوئے آگے بڑھیں۔

  • قومی مفادات کی قربانی، کیا یہی حب الوطنی ہے؟

    قومی مفادات کی قربانی، کیا یہی حب الوطنی ہے؟

    قومی مفادات کی قربانی، کیا یہی حب الوطنی ہے؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    پاکستان کی تاریخ میں کئی مواقع پر قومی مفادات کو ذاتی یا سیاسی مفادات پر قربان کیا گیا ہے، جس کا نتیجہ نہ صرف معیشت کے نقصان بلکہ حب الوطنی کے تصور پر سوالات کی صورت میںسامنے آتا ہے۔ حب الوطنی کا اصل مطلب اپنے ملک کے مفادات کو ہمیشہ مقدم رکھنا ہوتا ہے لیکن جب سیاسی مفادات قومی مفادات سے بڑھ جائیں تو یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا یہی حب الوطنی کی اصل تعریف ہے؟ موجودہ حالات میں دو اہم واقعات سانحہ 9 مئی اور عمران خان کی ترسیلات زر روکنے کی اپیل سے پاکستان کے موجودہ حالات کو مزید پیچیدہ اور گھمبیر بنا رہے ہیں۔

    9 مئی کا دن پاکستان کی تاریخ میں سیاہ ترین دنوں میں شمار کیا جائے گا۔ اس دن مسلح افواج کی تنصیبات پر حملے اور قومی اثاثوں کی بے حرمتی نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا اور پوری دنیا نے پاکستان کا تماشہ دیکھاجس سے پاکستان کی دنیا میں رسوائی ہوئی۔ یہ واقعات نہ صرف حب الوطنی کے برعکس تھے بلکہ انہوں نے ملکی اداروں اور قومی یکجہتی کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔ حب الوطنی کا تقاضا ہے کہ انسان اپنے ملک کے مفاد کو ذاتی یا سیاسی مفادات پر ترجیح دے لیکن جب سیاسی اختلافات شدت اختیار کر جائیں اور ریاستی اداروں کی تقدیس کو پامال کیا جائے تو یہ حب الوطنی کے اصولوں کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔

    فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے پہلے مرحلے میں 25 ملزمان کو سزائیں سنائی ہیں، یہ سزائیں تمام شواہد کی جانچ پڑتال اور مناسب قانونی کارروائی کی تکمیل کے بعد سنائی گئی ہیں، سزا پانے والے ملزمان کو قانونی تقاضے پورے کرنے کے لئے تمام قانونی حقوق فراہم کئے گئے لیکن یہ اس وقت تک مکمل انصاف پر مبنی نہیں ہو سکتا جب تک ان واقعات کے ماسٹر مائنڈز کو بھی عدالت کے سامنے نہیں لایا جاتا۔ ان اقدامات سے یہ پیغام ملتا ہے کہ ریاست اپنے اداروں اور قانون کی بالادستی کو قائم رکھنے کے لیے کسی بھی قسم کی بغاوت یا مداخلت کو برداشت نہیں کرے گی۔

    دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی بہن علیمہ خان کا کہنا تھاکہ عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت نے ہمارے مطالبات نہیں مانے اس لئے کل سے ترسیلات زر نہ بھیجنے کی کال پر عمل شروع کردیا جائے۔ عمران خان کی طرف سے ترسیلات زر روکنے کی اپیل نے ایک نیا تنازعہ پیدا کیا۔ ترسیلات زر پاکستان کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہیں اور اس کے ذریعے ملکی معیشت کو سہارا ملتا ہے۔ عمران خان کی اپیل کہ ترسیلات زر روک دی جائیں نہ صرف ملکی معیشت کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ عوام کے لیے بھی یہ قدم انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے۔

    یہ اقدام اگرچہ ذاتی یا سیاسی مفاد کے تحت کیا گیا ہو لیکن یہ ملک کی معیشت کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ترسیلات زر روکنے کا مطالبہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب پاکستان کوپہلے ہی شدید اقتصادی بحران کا سامنا ہے اور اس سے عوام کی زندگیوں پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض اوقات ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دی جاتی ہے جو کہ حب الوطنی کے اصولوں
    سے متصادم ہے۔

    حب الوطنی کا مفہوم یہ ہے کہ انسان اپنے ملک کے مفاد کو ہمیشہ اپنے ذاتی مفاد سے اہمیت دے۔ جب کسی گروہ یا فرد کی جانب سے قومی اثاثوں پر حملہ کیا جائے یا معیشت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جائے تو یہ اقدامات حب الوطنی کے برعکس ہیں۔ 9 مئی کے واقعات نے پاکستان کی قومی یکجہتی کو نقصان پہنچایا اور ترسیلات زر روکنے کی اپیل سے اقتصادی بحران مزید گہرا ہوجائے گا۔ دونوں صورتوں میں ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دی گئی، جس سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا یہی حب الوطنی ہے؟

    پاکستانی قوم کو یہ سمجھانا ضروری ہے کہ سیاست یا ذاتی مفادات کے تحت ریاستی اداروں یا ملکی معیشت کو نقصان پہنچانا ملک کے مفاد کے خلاف ہے۔ ہمیں ان عناصر کی نشاندہی کرنے کی ضرورت ہے جو ذاتی مفادات کی خاطر قومی نقصان کرتے ہیں اور ایسے اقدامات کو روکنا چاہیے جو ملکی مفادات کو نقصان پہنچائیں۔ اگر ہم حب الوطنی کے اصل مفہوم کو سمجھیں اور اس پر عمل کریں تو ہم اپنے ملک کو داخلی اور خارجی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے مضبوط بنا سکتے ہیں۔

    پاکستان کو اس وقت کئی داخلی اور خارجی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ملک میں اتحاد اور حب الوطنی کی ضرورت ہے۔ سیاستدانوں اور عوام کو یہ سمجھنا ہوگا کہ قومی مفادات کو ذاتی یا سیاسی مفادات پر ترجیح دینا ہی حقیقی حب الوطنی ہے۔ پاکستان کی ترقی اور استحکام اسی وقت ممکن ہے جب ہم اپنے ملک کے مفادات کو اپنے ذاتی مفادات سے مقدم رکھیں اور تمام قومی اثاثوں اور اداروں کے تقدس کو برقرار رکھیں۔

  • قرآن کے نام پر سوشل میڈیاپر فراڈ

    قرآن کے نام پر سوشل میڈیاپر فراڈ

    قرآن کے نام پر سوشل میڈیاپر فراڈ
    تحریر:ابو سیف اللہ
    پاکستان میں قرآن کریم کی تعلیم حاصل کرنے والے اور خصوصاً تعلیم دینے والے علماء و قراء عموماً تنگ دستی کے عالم میں صبر و شکر کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔ اس کے باوجود دین کا کام کرنے میں علماء کرام کی انتھک کاوشیں قابلِ تحسین ہیں۔

    ملک عزیز پاکستان کے طول و عرض میں جہاں سرمایہ داروں کو لوٹنے کے لیے قسم قسم کی فراڈ اسکیمیں چل رہی ہیں، وہیں پہلے سے مجبور طبقے کو لوٹنے اور تباہ کرنے کے لیے بھی دھوکہ دہی کرنے والوں کی کمی نہیں ہے، جس پر کہا جا سکتا ہے کہ "مرے کو مارے شاہ مدار”۔

    آج کل ایک نیا فراڈ آن لائن چل رہا ہے جس سے احباب کو آگاہی دینا مقصود ہے تاکہ وہ اس سے بچیں اور کہیں بہتری کے لیے سوچتے ہوئے اپنے ساتھ دھوکہ نہ کر بیٹھیں۔

    جس طرح آن لائن فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا پر مختلف گیمز کے حوالے سے اشتہارات چلتے ہیں کہ ایک ہی دن میں اتنے پیسے کمائیں۔ یہ گیمز درحقیقت جوئے اور فراڈ پر مبنی ہوتے ہیں، اور ان کے اشتہارات سے شاید ہی کسی کو فائدہ ہوا ہو۔ زیادہ تر لوگ ان سے نقصان اٹھا کر افسوس کرتے نظر آتے ہیں۔

    بالکل اسی طرح کے اشتہارات چل رہے ہیں کہ آن لائن قرآن پڑھانے والے قراء و علماء رابطہ کریں۔ ان اشتہارات کے ذریعے واٹس ایپ پر رابطہ کرنے والے افراد کو ایک گروپ میں شامل کیا جاتا ہے، جہاں صبح سے شام تک مختلف پرکشش پیشکشیں ہوتی ہیں، مثلاً آسٹریلیا، یورپ یا امریکہ میں اردو بولنے والے بچوں کو قرآن ناظرہ پڑھانے کے مواقع، جن کے بدلے 60 پاؤنڈ، 90 ڈالر یا اس سے زیادہ فیس کی پیشکش کی جاتی ہے۔ لیکن شرط یہ ہوتی ہے کہ اس طالب علم تک رسائی کے لیے پہلے 3000 یا 4000 روپے ادا کیے جائیں۔ ساتھ ہی یہ بھی دعویٰ کیا جاتا ہے کہ طالب علم فیس ایڈوانس ادا کرے گا اور دو ماہ کی گارنٹی دی جاتی ہے۔

    اپنی ضروریات کے مارے بے شمار قراء و علماء ان لوگوں سے رابطہ کرتے ہیں اور اپنی جمع پونجی یا ادھار کے ذریعے یہ رقم بھیجتے ہیں، اس امید پر کہ اس سے انہیں مستقل آمدن کا ذریعہ میسر ہوگا۔ لیکن ان کے ساتھ ہوتا کیا ہے؟

    ایڈمن صاحب رقم بھیجنے کے بعد پیسوں کا اسکرین شاٹ طلب کرتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ کون سی پیشکش خریدی جا رہی ہے۔ لیکن جیسے ہی رقم بھیج دی جاتی ہے، ایڈمن صاحب کوئی جواب نہیں دیتے۔ نہ فون کالز اٹھائی جاتی ہیں، نہ میسجز کا جواب دیا جاتا ہے۔ مزید یہ کہ واٹس ایپ پر پرائیویسی سیٹنگز کے ذریعے 24 گھنٹے پرانے میسجز خودبخود حذف ہو جاتے ہیں، اور بار بار رابطہ کرنے پر متعلقہ افراد کو بلاک کر دیا جاتا ہے۔

    ایڈمن کی جانب سے میسجز کی عدم موجودگی کے دعوے اور پیمنٹ کے ثبوت کے انکار سے متاثرہ افراد بے بس ہو جاتے ہیں۔ اور ایسے افراد، جو پہلے ہی مالی مشکلات کا شکار ہوتے ہیں، نہ تھانے جا سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی قانونی کارروائی کر سکتے ہیں، کیونکہ ہماری پولیس بھی معمولی درخواست کے لیے پانچ سات ہزار کے بغیر کچھ نہیں کرتی۔

    تحریر کے ساتھ ایک محترم کی جانب سے فراڈ کے شواہد کے طور پر اسکرین شاٹس موجود ہیں، جن سے ثابت ہوتا ہے کہ انہوں نے فیس ادا کر کے فوری میسج کیا تھا۔ لیکن 24 گھنٹوں کے بعد تمام ٹیکسٹ خودبخود حذف ہو گئے، جس کے باعث فراڈ ثابت کرنا مشکل ہو گیا۔

    یہ تحریر آپ احباب کو خبردار کرنے کے لیے ہے کہ آن لائن ان فراڈ کاریوں سے ہوشیار رہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ سب کو ایسے دھوکہ دہی کرنے والوں سے محفوظ رکھے۔ اور اگر کوئی صاحب اختیار سائبر کرائم سے تعلق رکھتا ہو تو عوام کو ایسے فراڈ سے محفوظ رکھنے کے لیے کارروائی کرے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے افراد کو ہدایت دے یا ان کے مظالم کا بدلہ دے۔

  • غیر مطبوعہ شاعری برائے فروخت۔۔۔!!

    غیر مطبوعہ شاعری برائے فروخت۔۔۔!!

    غیر مطبوعہ شاعری برائے فروخت۔۔۔!!
    شاہد نسیم چوہدری
    ادب اور شاعری انسانی معاشرت کی گہری عکاسی کرتے ہیں لیکن ادب کے اس روشن چہرے پر جب گروپ بندی، سطحیت اور تجارتی مفادات کے دھبے نظر آنے لگیں تو یہ ایک سنجیدہ سوال پیدا کرتا ہے کیا ادب اپنی تخلیقی بنیادوں سے دور ہو رہا ہے؟

    صفدر ہمدانی کی حالیہ فیس بک پوسٹ جس میں انہوں نے اپنی غیر مطبوعہ شاعری کو فروخت کے لیے پیش کیا، نے مجھے گہرے افسوس اور حیرت میں مبتلا کر دیا۔ یہ پوسٹ محض ایک اعلان نہیں بلکہ اس میں ہمارے معاشرتی اور ادبی ماحول کی تلخ حقیقتوں کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ صفدر ہمدانی کا نام اردو ادب میں کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ وہ پچھلے ساٹھ برس سے اردو ادب کے لیے خاموشی سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کی شاعری، نثر اور مرثیہ نگاری اس بات کی گواہ ہے کہ انہوں نے ہمیشہ تخلیق کو اپنے دل کی آواز سمجھا اور کبھی کسی طمع یا ستائش کی تمنا نہیں کی۔ لیکن ان کا یہ قدم کہ وہ اپنی غیر مطبوعہ شاعری کو فروخت کے لیے پیش کر رہے ہیں ایک ایسا لمحہ ہے جو اردو ادب کے موجودہ منظرنامے پر سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔

    ادبی ماحول میں تخلیق کی جگہ تجارت کا غلبہ ہو گیا ہے، ادب کا اصل مقصد انسانی جذبات، سماجی مسائل اور تخلیقی اظہار کو آگے بڑھانا ہے۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج کا ادبی ماحول ان مقاصد سے بہت دور جا چکا ہے۔ صفدر ہمدانی نے اپنی پوسٹ میں جن حقائق کا ذکر کیا وہ محض ان کا ذاتی تجربہ نہیں بلکہ ہر سنجیدہ تخلیق کار کی مشترکہ شکایت ہے۔

    مشاعرے جو کبھی شعری ثقافت اور تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار کا ذریعہ تھے آج محض تجارتی تقاریب بن چکے ہیں۔ ان میں شرکت کا انحصار شاعری کے معیار پر نہیں بلکہ ذاتی تعلقات اور مالی مفادات پر ہوتا ہے۔ ایسے ماحول میں صفدر ہمدانی جیسے سنجیدہ تخلیق کاروں کے لیے جگہ کم ہوتی جا رہی ہے۔ صفدر ہمدانی نے اردو کے فروغ کے نام پر ہونے والی عالمی اردو کانفرنسوں کی حقیقت کو بے نقاب کیا ہے۔ ان کانفرنسوں پر بھاری سرمایہ خرچ ہوتا ہے، لیکن ان کے نتائج نہایت مایوس کن ہیں۔ اردو زبان کو قومی سطح پر نافذ کرنے کا خواب آج بھی تشنہ ہے اور ان کانفرنسوں نے اس سلسلے میں کوئی عملی کردار ادا نہیں کیا۔

    بیرون ملک منعقد ہونے والے مشاعرے اور کانفرنسیں ایک الگ داستان ہیں۔ یہ تقاریب زیادہ تر مخصوص افراد کے لیے مواقع پیدا کرنے کا ذریعہ ہیں جبکہ حقیقی تخلیق کار ان سے باہر ہی رہتے ہیں۔ صفدر ہمدانی کی مرثیہ نگاری پچاس برسوں پر محیط ہے لیکن اس صنف کے ساتھ ہونے والے سلوک نے انہیں بھی مایوس کیا ہے۔ مرثیہ جو کبھی معاشرتی مسائل اور انسانی جذبات کا آئینہ دار تھا، آج رسمی تقاریب تک محدود ہو چکا ہے۔ یہ ادب کی وہ صنف ہے جسے ہمارے تحفظ کی اشد ضرورت ہے لیکن اس کے ساتھ ہونے والے رویے نے اس کے مستقبل کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔

    غیر مطبوعہ شاعری برائے فروخت: ادب کے زوال کی علامت لگ رہی ہے۔ صفدر ہمدانی کا اپنی غیر مطبوعہ شاعری کو فروخت کے لیے پیش کرنا ایک جانب ان کی مایوسی کو ظاہر کرتا ہے اور دوسری جانب یہ ادب کے زوال کی طرف اشارہ بھی ہے۔ ڈیڑھ ہزار کے قریب غیر مطبوعہ اشعار جو ان کے تخلیقی سفر کی گواہی دیتے ہیں ایسے قارئین اور شعری محققین کے منتظر ہیں جو ان کی قدر کریں۔ یہ اقدام شاید روایتی اصولوں سے ہٹ کر ہو لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ آج کا ادبی ماحول تخلیقی افراد کے لیے اتنا سازگار نہیں رہا کہ وہ اپنی تخلیقات کو معیاری پلیٹ فارمز تک پہنچا سکیں۔

    ادب کے لیے آگے کا راستہ دیکھنا چاہیے۔ صفدر ہمدانی کے اعلان کو ایک موقع کے طور پر لینا چاہیے تاکہ ہم اپنے ادبی ماحول کا جائزہ لے سکیں اور اس میں بہتری کے لیے اقدامات کر سکیں۔ ہمیں ادب کو گروپ بندی اور سطحیت سے آزاد کرنے کی ضرورت ہے۔ تخلیق کاروں کو وہ مقام دینا ہوگا جو ان کا حق ہے اور مشاعروں و کانفرنسوں کو ادب کے اصل مقاصد کے لیے استعمال کرنا ہوگا۔

    صفدر ہمدانی کی آواز ہم سب کی پکار ہونی چاہیے۔ صفدر ہمدانی کی پوسٹ ایک ایسی پکار ہے جسے سننے کی ضرورت ہے۔ یہ صرف ان کی ذاتی کہانی نہیں بلکہ ہر اس تخلیق کار کا درد ہے جو ادب سے محبت کرتا ہے۔ ہمیں اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے ادب کے اصل مقاصد کی طرف واپس لوٹنا ہوگا۔ اردو ادب ایک قیمتی اثاثہ ہے اور صفدر ہمدانی جیسے افراد اس کے اصل محافظ ہیں۔ ہمیں ان کی آواز کو سننا اور اس کا احترام کرنا ہوگا تاکہ ادب اپنی اصل روح کے ساتھ اگلی نسلوں تک پہنچ سکے۔

    صفدر ہمدانی کی تحریر اُس پکار کی ترجمان ہے جو ادب اور تخلیق کے حقیقی معنوں کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے کی گئی ہے۔ انہوں نے اپنی غیر مطبوعہ شاعری کو فروخت کے لیے پیش کیا ہے تاکہ وہ لوگ اسے اپنائیں جو اس کی قدر کریں اور اسے آگے بڑھائیں۔ یہ قدم شاید روایتی اصولوں سے ہٹ کر ہو لیکن تخلیق اور ادب کے تحفظ کے لیے اس سے بہتر راستہ شاید نہ ہو۔ میں ان تمام افراد کو دعوت دیتا ہوں جو ادب کے حقیقی علمبردار ہیں کہ آئیں اور اس مشن میں دل برداشتہ صفدر ہمدانی صاحب کا ساتھ دیں۔

    تو نے کمال کام یہ نادان کر دیا
    گھر میں مجھے خود اپنا ہی مہمان کر دیا

    بس اک ذرا سی بھول ہوئی اختلاف کی
    بے دخل کر کے تخت سے دربان کر دیا

    اے بد نصیب میرا یقیں مجھ سے چھین کر
    تجھ کو یہ زعم ہے مرا نقصان کر دیا

    بزدل تھا میں جو کر نہ سکا خود یہ انتظام
    صد شکر تم نے موت کا سامان کر دیا

    ہائے لگا کے آگ چراغاں کے شوق میں
    حاکم نے سارے شہر کو ویران کر دیا

    قد سے مرا سوال بڑا تھا سو اس لیے
    محسن کو اپنے داخل زندان کر دیا

    خیرات دے کے گزرا ہے جو میرے پاس سے
    اس نے کبھی مجھے بھی تھا بھگوان کر دیا

    یوں تو میں محتسب رہا اپنا تمام عمر
    تم نے مگر بتا کے یہ حیران کر دیا

    صفدرؔ قنوطیت کا یہ اعزاز جو ملا
    اعزاز دینے والے نے احسان کر دیا

    نوٹ: یہ کالم ایک تخلیقی قدم کے جواز اور ادب کی موجودہ حالت پر تنقید کے طور پر لکھا گیا ہے۔ امید ہے کہ یہ قارئین کو ادب کی گمشدہ قدروں پر سوچنے کی تحریک دے گا۔

  • نومئی کے مجرموں کو سزا،منصوبہ سازبھی بچ نہ پائیں

    نومئی کے مجرموں کو سزا،منصوبہ سازبھی بچ نہ پائیں

    9 مئی 2023 کو پاکستان میں پیش آنے والے افسوسناک واقعات نے نہ صرف ملک کی سیاسی فضا کو ملبے میں ڈبو دیا بلکہ قومی سلامتی اور ریاستی اداروں کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔ اس دن کے بعد، ایک نیا باب شروع ہوا جس میں انصاف اور قانون کی عملداری کو یقینی بنانے کے لیے ریاست نے مضبوط قدم اٹھائے۔ اب 9 مئی کے واقعات میں ملوث 25 افراد کو مختلف سزائیں سنائی گئی ہیں، جو اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ قانون کا گزرنا ہر سطح پر ضروری ہے اور ریاست کسی بھی صورت میں غیر آئینی یا غیر قانونی اقدامات کو برداشت نہیں کرے گی۔

    9 مئی 2023 کو پاکستان میں ایک ایسا سانحہ پیش آیا جس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔پی ٹی آئی کے شرپسندوں کی جانب سے عمران خان کی گرفتاری کے بعد مختلف شہر وںاور علاقوں میں جناح ہاؤس، جی ایچ کیو، پی اے ایف بیس میانوالی، اور دیگر حساس ریاستی اداروں پر حملے ہوئے۔ ان حملوں کا مقصد ریاستی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچانا، افراتفری پیدا کرنا اور حکومت کے خلاف عوام میں غم و غصہ بڑھانا تھا۔ ان واقعات نے نہ صرف ملکی سیاست کو نقصان پہنچایا بلکہ ملک کی سالمیت اور امن و امان کے نظام کو بھی شدید طور پر متاثر کیا۔آج فوجی عدالتوں نے فیصلہ سنایا،اب تک کی پیش رفت کے مطابق، 9 مئی کے دن کی دہشت گردی اور تخریب کاری میں ملوث 25 افراد کو مختلف سزائیں سنائی گئی ہیں۔ ان افراد کو جناح ہاؤس، جی ایچ کیو، پی اے ایف بیس میانوالی اور دیگر حساس مقامات پر حملوں کے سلسلے میں سزا دی گئی۔ سزائیں 2 سے 10 سال تک کی قید بامشقت پر مشتمل ہیں، جن کا مقصد نہ صرف ان مجرمان کو انصاف کے کٹہرے میں لانا تھا، بلکہ ایسے اقدامات کرنے والوں کے لیے ایک واضح پیغام بھی تھا۔یہ سزائیں اُن لوگوں کے لیے ایک مضبوط تنبیہ ہیں جو ریاستی اداروں اور آئین کو چیلنج کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے افراد کو یاد رکھنا چاہیے کہ قانون سے بالاتر کچھ نہیں۔ ریاست کا عزم ہے کہ آئین اور قانون کی حکمرانی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

    ان سزاؤں کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ یہ سیاسی پروپیگنڈے اور جھوٹ کا شکار ہونے والوں کے لیے ایک واضح تنبیہ ہیں۔ جو لوگ جذباتی یا غلط معلومات کی بنیاد پر ریاستی اداروں کے خلاف سازشوں میں ملوث ہوئے، ان کے لیے یہ ایک سبق ہے کہ آئندہ ایسی کسی بھی غیر قانونی کارروائی کا حصہ بننے سے گریز کریں۔یہ فیصلے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ ریاست ہر سطح پر قانون کی بالادستی کو یقینی بنائے گی، چاہے معاملہ کسی بھی سطح پر ہو۔ جو لوگ آئین کے خلاف قدم اٹھاتے ہیں، انہیں قانون کے دائرے میں لایا جائے گا، اور اس کے ساتھ ساتھ ریاست کی عملداری کو بھی مستحکم کیا جائے گا۔

    ایک اور اہم بات یہ ہے کہ ان سزاؤں کا سلسلہ صرف ان 25 افراد تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ ریاست کا عزم یہ ہے کہ 9 مئی کے ماسٹر مائنڈز، یعنی ان واقعات کے پیچھے موجود اصل سازشی عناصر کو بھی آئین اور قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔ یہ ریاست کا عزم ہے کہ وہ نفرت اور تقسیم پر مبنی سیاست کو ہمیشہ کے لیے ختم کرے گی۔اگرچہ سیاسی اختلافات ہر جمہوری معاشرت میں معمول کی بات ہیں، لیکن ان اختلافات کو ریاستی اداروں کے خلاف تشدد یا تخریب کاری کے ذریعے حل کرنا کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔ اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ آئین اور قانون کا احترام کیا جائے، اور جو لوگ اس کی خلاف ورزی کریں گے، انہیں سزا ملے گی۔یہ فیصلے صرف ایک عدالت کی کارروائی نہیں ہیں بلکہ ان میں ایک پیغام چھپا ہے: "قانون کا سامنا ہر کسی کو کرنا پڑے گا، خواہ وہ سیاسی طاقتور ہوں یا کمزور، عوامی رائے رکھنے والے ہوں یا حکومتی اہلکار۔” یہ ریاستی اداروں کی طاقت اور قانون کی عملداری کی علامت ہیں۔اس فیصلے سے پاکستان کے عوام کو یہ یقین دہانی ملتی ہے کہ ملک میں انصاف کا عمل جاری ہے اور ریاست آئین و قانون کی بالادستی کو ہر صورت برقرار رکھے گی۔ اس سے عوام میں یہ اعتماد بڑھے گا کہ وہ بھی قانون کی نظر میں برابر ہیں، اور ان کے حقوق کا تحفظ ہر صورت میں کیا جائے گا۔

    9 مئی کے مجرمان کے خلاف سزائیں ایک اہم سنگ میل ہیں جو اس بات کا اعلان کرتی ہیں کہ قانون کی فتح ہوئی ہے۔ یہ فیصلے نہ صرف ان افراد کے لیے جو ریاستی اداروں کے خلاف سازشوں میں ملوث تھے، بلکہ اُن تمام افراد کے لیے ایک پیغام ہیں جو آئین اور قانون کے خلاف اقدامات کرنے کی سوچ رکھتے ہیں۔ ریاست کی یہ کارروائیاں نہ صرف انصاف کی فراہمی کی علامت ہیں، بلکہ ایک مضبوط اور متحد پاکستان کے قیام کے لیے ایک اہم قدم ہیں۔یقیناً، 9 مئی کے واقعات کے بعد پاکستان میں قانون کی حکمرانی کو مزید مستحکم کیا جائے گا، اور آئندہ کسی بھی سیاسی سرگرمی کو آئین اور قانون کے دائرے میں رکھا جائے گا۔

  • غم کی ماری انسانیت بولتی ہے

    غم کی ماری انسانیت بولتی ہے

    غم کی ماری انسانیت بولتی ہے
    فیصل رمضان اعوان
    14دسمبر کو لاہور کی ایک خوبصورت ادبی تقریب میں عدم شرکت پرہم ایک عجیب سی الجھن اور پچھتاوے کا شکار ہیں پاکستان رائٹرز کونسل کے چیئرمین چھوٹے بھائی مرزا یسین بیگ صاحب سے کیا گیا وعدہ بھی پورا نہ ہوا ،سجادجہانیہ کی تحریروں پر مشتمل کتاب کہانی بولتی ہے کی تقریب رونمائی کو براہ راست دیکھنے سننے کا اتفاق نہ ہوسکا

    سجاد جہانیہ جیسا کہ وہ منفرد اسلوب کے لکھاری ہیں ان کی منفرد اور گزرے ہوئے بھولے بچپن کی اپنی یادیں تازہ کرنے سے بھی رہے افضل عاجز کی خوبصورت اور سبق آموز باتوں سے محرومی پر بھی دل مغموم ہے، ادبی دنیا کے ایک بڑے نام جناب اصغرندیم سید کی میٹھی گفتگو بھی نہ سن سکے ،عطاالحق قاسمی بھی اس پیاری محفل میں تشریف لائے تھے ان کی بیان کردہ نصیحتوں سے بھی مستفید نہ ہوسکے ،گل نوخیز اختر کی محبتوں بھری سچی داستانیں تک بھی نہ سن سکے

    اس سے قبل اسی ای لائبر یری کے ہال میں سجاد جہانیہ کی تصنیف” ٹاہلی والا لیٹربکس” کی تقریب رونمائی میں شرکت آج تک نہ بھلا سکے ،وہ محفل بھی بڑی شاندار تھی، لکھنے والے ان خوبصورت لوگوں میں گزری چند گھڑیاں ہم جیسے آوارہ لکھاریوں کے لئے گویا صدیوں کا پیغام ہوتی ہیں، ان سنئیرزاحباب کے ساتھ بیٹھے چند لمحے ہمیں بہت کچھ سیکھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں.

    14دسمبر کی اس ادبی بیٹھک کا حال احوال بھی لگ بھگ چارروز بعد ہوا چونکہ تقریب کا انعقاد وسط دسمبر میں کیا گیا ویسے ہمارے بچپن کے دسمبر کی یادوں نے آج تک پیچھا نہ چھوڑا، اداس شاموں اور گہری تاریک راتوں کو بھلا کیسے بھلایا جاسکتا ہے، ہم بھی خیر سے حسب معمول ہر سال دسمبر کے سحر میں گرفتار ہونے کے لئے گاؤں ضرور جاتے ہیں لیکن اس بار دسمبر کی راتوں میں چلنے والی سرد ہواؤں نے وہ موسیقی نہیں سنائی جو ہم اکثر تنہائی میں گھر کے آنگن سے دور نکل کر سنا کرتے تھے فاروق روکھڑی مرحوم کی غزل کا ایک شعر ہے
    تھیں جن کے دم سے رونقیں وہ شہروں میں جابسے
    ورنہ ہمارا گاؤں یوں ویران تو نہ تھا

    لیکن یقین کریں اس بار گاؤں ویران لگا تاحد نگاہ گندم کے کھیت ویران سرسوں کے پھولوں کی وہ ٹھنڈی ٹھنڈی خوشبوئیں نجانے کہاں لاپتا ہوگئی ہیں طویل عرصے سے بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے ہرطرف مٹی کے گردو غبار ،سرما میں جھڑیوں کا وہ نہ ختم ہونے والا سلسلہ اور گھر کے پرانے کوٹھوں کے کچے چھت سے بارش کے قطروں کی ٹپکتی وہ مسحورکن آوازیں سب نظارے نجانے کہاں کھو گئے ہیں ،حضرت انسان کی ایک دوسرے کے لئے پیدا کردہ جدید آسائشیں اور سہولتیں کہیں تو ان کا وجود ہوگا لیکن ہمارے ان گاؤں دیہاتوں میں ستے خیراں ہیں ،نہ سڑکوں کا وجود ،نہ ہی تعلیم، نہ صحت ،نہ ہی سماجی رابطوں کی جدید ٹیکنالوجی انٹرنیٹ اور نہ ہی موبائل فون کی سروس

    کہانی بولتی ہے کے مصنف محترم سجاد جہانیہ صاحب اگر ہمارے ان دور دراز علاقوں میں کبھی تشریف لے آئیں تو ہمیں امید ہے کہ وہ کہانی بولتی ہے تصنیف کے بعد” غم کی ماری انسانیت بولتی ہے” لکھیں گے لیکن بہرحال ہم 14دسمبر کی لاہور میں منعقدہ تقریب میں شرکت نہ کرنے پر اپنے آپ سے بہت ناراض ہیں کیونکہ اپنے گاؤں کوٹ گلہ ضلع تلہ گنگ کی دھول اڑاتی کچی سڑکوں کی حالت زار تعلیمی اداروں کی زبوں حالی ہمارے مستقبل کے معمار وطن ہماری نوجوان نسل کا تاریک مستقبل یہ سب دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے یقین کریں دکھ ہوتا ہے ہماری نسل اس تیز ترین دنیا کے ساتھ کیسے چل سکے گی، جہاں زندگی گزارنے کی بنیادی سہولتیں ہی ناپید ہوں، شاید ہماری ان محرومیوں کو سمجھنے والا کوئی نہ ہو لیکن یقین کریں یہ وہ کرب ناک اور اذیت ناک دکھ ہیں جن کا رونا ہم ایک عرصے سے رو رہے ہیں لیکن ہمارے ان مسائل میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے

    لاہور کی ایک پیاری محفل میں شرکت نہ کرنے اور اچانک گاؤں جانے کے تجربے نے اس بار ہمیں بہت رلایا ہے” کہانی بولتی ہے ” تاحال ہم تک نہیں پہنچ سکی، انشااللہ جلد ہی کتاب کے حصول کو ممکن بنائیں گے اس کا مطالعہ کریں گے اور اس کے بعد ہم "غم کی ماری انسانیت بولتی ہے "کی تحریر کے لئے کوششیں تیز کردیں گے .
    اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو

  • طلاق کیوں ضروری ہے ؟ تحریر:معظمہ تنویر

    طلاق کیوں ضروری ہے ؟ تحریر:معظمہ تنویر

    وہ شادی شدہ جوڑے جو باہمی عزت و احترام کے ساتھ سچے دل سے ایک دوسرے سے پیار کرتے ہیں انہوں نے واقعی اپنے گھر کو ایک چھوٹی سی جنت بنا رکھا ہے ۔لیکن بد قسمتی سے ازدواجی خوشیوں سے محروم ایسے زوجین کی افسوسناک خبریں بھی آئے دن سامنے آتی رہتی ہیں جو نفرت ،غصے اور انتقام میں ایک دوسرے کی جان تک لینے سے دریغ نہیں کرتے۔

    آخر کیوں لوگ ایسے خراب تعلق کو نبھانے کی کوشش کرتے ہیں جس کا نتیجہ قتل و غارت کی صورت میں نکلتا ہے ؟ اس ضمن میں ایسے واقعات بھی تواتر کے ساتھ رونما ہوتے رہتے ہیں جن میں شادی شدہ افراد کسی غیر کی محبت میں مبتلا ہو کر اپنے شریک حیات کو راستے سے ہٹانے کے لیے اسے موت کی وادی میں پہنچا دیتے ہیں ۔ ایسی خبریں ہماری نظروں سے گزرتی رہتی ہیں جہاں کبھی بیوی اپنے شوہر کو آشنا کی مدد سے قتل کر دیتی ہے تو کہیں شوہر اپنی محبوبہ کو پانے کے لیے بیوی کو موت کے گھاٹ اتار دیتا ہے۔۔آخر یہ کیسا جنونی بلکہ خونی عشق ہے جو نکاح جیسے مقدس بندھن کو پامال کر کے رکھ دیتا ہے۔ جو عورت کسی غیر مرد کو پانے کے لیے اپنے شوہر کو قتل کرا دیتی ہے وہ کسی اور سے کیا وفا کرے گی؟ اور جو شوہر دوسری عورت کی خاطر اپنی زوجہ کومار ڈالتا ہے وہ بھلا کیسے کسی سے پیار کر سکے گا؟ سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر کیا سوچ کر یہ بے حس لوگ اس حد تک سفاکیت کا مظاہرہ کرجاتے ہیں۔ان کے دلوں میں نہ تو خدا کا خوف ہوتا ہے اور نہ ہی قانون کا کوئی ڈر۔اگرچہ یہ ظالم افراد اپنے انجام کو ضرور پہنچتے ہیں لیکن جن معصوم لوگوں کے خون سے انہوں نے ہاتھ رنگے ہوتے ہیں ان غریبوں کا کیا قصور تھا؟ کتنا اچھا ہوتا کہ یہ جنونی لوگ انہیں بے دردی سے قتل کرنے کی بچائے راہیں جدا کر لیتے ۔

    طلاق کا راستہ اسی لیے تو موجود ہے کہ اگر زوجین میں سے کوئی ایک یا دونوں ایک دوسرے کے لیے ناپسندیدہ اور ناقابل برداشت ہو جائیں تو وہ ایک دوجے کی زندگی سے نکل جائیں ۔ایک ہی چھت تلے رپتے ہوئے چپکے چپکے اپنے شریک حیات کے لیے قتل کی سازش تیار کرنا کس قدر گھناؤنا عمل ہے ۔وقتی طور پر اچانک طیش میں آکر دوسرے فریق کو قتل کردینا بھی اس امر کا ثبوت ہے کہ اس انسانیت سوز فعل کے پیچھے ایک طویل مدت سے نفرت پل رہی تھی ۔تو پھر کیوں نہ کسی کی جان لینے سے پہلے،اس انسان سے اپنی جان چھڑا لی جائے تاکہ ہمارا معاشرہ ایسے اندوہناک واقعات سے پاک ہو سکے ۔طلاق اگرچہ ایک ناپسندیدہ عمل ہے لیکن زندگی چھن جانے سے کئی گنا بہتر ہے ۔