Baaghi TV

Category: بلاگ

  • گنویری والا: ہڑپہ وموہنجودڑو سے بھی قدیم سات ہزار سالہ سرائیکی تہذیب کا مرکز(دوسری قسط)

    گنویری والا: ہڑپہ وموہنجودڑو سے بھی قدیم سات ہزار سالہ سرائیکی تہذیب کا مرکز(دوسری قسط)

    گنویری والا: ہڑپہ وموہنجودڑو سے بھی قدیم سات ہزار سالہ سرائیکی تہذیب کا مرکز
    تحقیق و تحریر:ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    altafkhandahir@gmail.com
    خلاصہ :یہ آرٹیکل سرائیکی خطے کی قدیم تہذیب و تمدن، خاص طور پر گنویری والا شہر کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ گنویری والا، جو ہڑپہ اور موہنجودڑو سے قدیم ہے، وادی ہاکڑہ کے کنارے واقع ایک عظیم تاریخی مرکز رہا ہے۔ آرٹیکل میں علم آثار قدیمہ کی اہمیت بیان کی گئی ہے، جو قدیم تہذیبوں اور تمدن کے مطالعے کا ذریعہ ہے اور یہ آرٹیکل تین اقساط پر مشتمل ہے .اس سلسلے کی دوسری قسط ملاحظہ فرمائیں

    سرائیکی قدیم چولستان کے تاریخی تمدنی مرکزی شہر گنویری والا کی دریافت اور کھدائی

    دوسری قسط کا خلاصہ
    زمین میں دفن شہر گنویری والا چولستان کی ایک سات ہزار سال پرانی سرائیکی تہذیب وتمدن کا مرکز ہے۔1970ء تا 1975ء میں ڈاکٹر رفیق مغل کی قیادت میں اس کی کھدائی کے لیے ابتدائی کاوشیں سامنے آئیں۔جس سے ثابت ہوا کہ یہ شہر مقامی سرائیکی تہذیب و ثقافت اور زبان کا آئینہ کا ہے۔یہاں کی قدیم دستکاری،زیورات اور مٹی کے برتن دنیا بھر میں گئے۔ تحقیق سے چولستان کی تہذیب کو پانچ ادوار میں تقسیم کیا گیا، قبل از ہڑپائی، ہاکڑہ دور، ابتدائی ہڑپائی دور، عروج یافتہ ہڑپائی دور اور متاخر ہڑپائی دور۔ گنویری والا شہر وادی سندھ تہذیب وتمدن کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔اس وجہ سے وادی ہاکڑہ سرسوتی تہذیب وتمدن کو وادی سندھ کی تہذیب وتمدن کی ماں مانا گیا۔اور اس کی اہمیت عالمی سطح پر تسلیم کی گئی ہے۔

    دوسری قسط
    احمدپور شرقیہ کی ہردلعزیز بردبار روحانی شخصیت بڑے بھائی دوست ماہر فلکیات و کلینکل سائیکالوجیسٹ جام اسد عباس لاڑ جن کی علم فلکیات پر شاندار کتاب”علم نجوم بحیثیت رہبر وجوہ نفسیاتی عوارض”سال 2024ء منظر عام پر آئی ہے۔ایک دن دوران گفتگو اُن سے سوال کیا کہ گنویری والا چولستان کی تاریخی،تمدنی،تہذیبی اور ثقافتی حیثیت آپ کے علم کے مطابق کیا ہوسکتی ہے؟ اس سوال کے جواب میں دھیمے لہجے میں جناب اسد لاڑ نے کہا کہ قدرت اب صحرائی علاقوں کو دوبارہ عروج یافتہ بنائے گی۔میرا ماننا ہے کہ دنیا کے تمام ریگستان ہزاروں سال پہلے دریاؤں کی گزر گاہ رہ چکے ہیں۔مجھے میرا علم بتا رہا ہے کہ سرائیکی روہی چولستان میں قدیم آٹھ ہزار سال تہذیب وتمدن کے آثار لازمی ہوں گے۔واللہ اعلم بالصواب۔باقی میرا اللہ پاک بہتر جانتا ہے۔اب اس حوالے سے تحقیقاتی آرکیالوجی تھیوری سے عملی حقائق تلاش کرنے کی سعی کرتے ہیں۔

    گنویری والا چولستان کی باقاعدہ کھدائی کے لیے عملی اقدامات سابق ماہر آثار قدیمہ ڈائریکٹر جنرل آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر رفیق مغل کی دن رات محنت سے 1970ء سے 1975ء کے دوران سامنے آئے۔ اس کا نتیجہ مارچ 2024ء میں سرکاری فنڈز کی مد میں 20 ملین یعنی 2 کروڑ روپے کی لاگت سے کھدائی کا تاریخی مرحلہ دیکھنے کو ملا ،جب ڈاکٹر رفیق مغل اپنی آرکیالوجی ٹیم سابق کمشنر بہاولپور ڈویژن ڈاکٹر احتشام انور کے ساتھ مل کر سرائیکی وسیب کی عالمگیر قدامت کا گہوارہ شہر گنویری والا کی کھدائی کا آغاز کیا۔

    راقم الحروف نے اپنے آرکیالوجسٹ دوست اعجاز الرحمن بلوچ اور جام غلام یاسین لاڑ کے ساتھ 2022ء میں اس مقام کا دورہ کیا۔جہاں برجی گنویری والا کی مخصوص شکل کو دیکھا گیا۔ڈاکٹر رفیق مغل نے اپنے تھیسس کے ذریعے ثابت کیا کہ گنویری والا شہر روہی چولستان کی اپنی مقامی تہذیب کا حصہ ہے اور یہ تمدن باہر سے نہیں آئی بلکہ مقامی طور پر پروان چڑھی۔

    روہی چولستان کے قدیم تاریخی تمدنی سات ہزار سالہ شہر گنویری والا کی عظمت کی بنیاد پر ہی وادی ہاکڑہ سرسوتی تہذیب و تمدن کو وادی سندھ تہذیب و تمدن کی ماں مانا گیا ہے۔دنیا کی اہم تہذیبوں میں وادی نیل کی مصری اہرامی تہذیب وتمدن اور وادی دجلہ و فرات کی میسوپوٹیمیا سمیرین تہذیب وتمدن کو وادی سندھ تہذیب وتمدن کا ہم عصر مانا جاتا ہے۔

    پہلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    گنویری والا: ہڑپہ وموہنجودڑو سے بھی قدیم سات ہزار سالہ سرائیکی تہذیب کا مرکز(پہلی قسط)
    تاہم بیل گاڑی،مہریں،مٹی کے برتن،ایک سینگ والے جانور کی مورتیاں
    ،زیورات،زراعت کے اوزار اور دستکاریوں کے قدیم تاریخی شواہد نے سرائیکی علاقے روہی چولستان کے بہاولپوری ثقافتی شہر گنویری والا کو سات ہزار سال پرانا شہر تسلیم کیا ہے۔

    مختلف میڈیا رپورٹس اور ادارہ آرکیالوجی پاکستان کی پریس ریلیز کے مطابق گنویری والا سات ہزار سال پرانا شہر ہے۔پاکستان کے مایہ ناز پہلے آرکیالوجسٹ ڈاکٹر رفیق مغل کی ریسرچ کے مطابق وادی سندھ تہذیب و تمدن کی بنیاد ابتدائی ہڑپائی تمدن (2500 سے 3200 قبل مسیح) کے ساتھ دریائے ہاکڑہ سرسوتی تہذیب و تمدن کے شہر گنویری والا پر پروان چڑھی۔

    آرکیالوجی تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ قدیم افغانستان سے ملنے والے انسانی زیورات اور گنویری والا سے دریافت ہونے والے نمونے ایک جیسے ہیں۔اس عظیم تہذیب کے لوگوں کی دستکاریوں کے قدیم شاہکار تجارت کے ذریعے دنیا کے کونے کونے تک رسائی حاصل کی۔

    چولستان روہی اور سرائیکی وسیب کی اس منفرد تہذیب کے وارث شہر کو قدیم تہذیبی ارتقاء کے اعتبار سے ابنِ حنیف کی کتاب "سات دریاؤں کی سرزمین” (فکشن ہاؤس لاہور، اول 1997ء، دوم 2017ء) میں نمایاں مقام دیا گیا ہے۔اس کتاب کے صفحہ نمبر 27 پر ڈاکٹر رفیق مغل کی 1974ء سے 1977ء کے دوران موسم سرما میں چولستان وادی ہاکڑہ سرسوتی تہذیب کے چار دوروں کا ذکر موجود ہے۔

    رگ وید سنسکرت زبان میں دریائے سرسوتی ندی کی عظمت کا خوبصورت تذکرہ موجود ہے،جو اس تہذیب کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتا ہے۔رگ وید میں مقدس سرسوتی سرائیکی ندی کی شان میں بھجن، جسے سرائیکی شاعر و محقق ڈاکٹر نصراللہ خان ناصر نے اپنی کتاب "سرائیکی شاعری دا ارتقاء” کے صفحہ نمبر 28 پر درج کیا۔اس طرح ہے:

    سرسوتی امدی ہے شور و غل کریندی ہوئی
    غذا گھن تے اساڈے کیتے حصن حصین ہے۔

    آریہ قوم نے سنسکرت زبان میں مقدس ویدک لٹریچر جیسے رگ وید میں مقدس ندی دریائے سرسوتی کے علاوہ دریائے سندھ، ستلج، چناب، بیاس، راوی، جہلم، گنگا، جمنا دیوتاؤں اور دریاؤں کی شان میں قصیدے لکھے۔

    ڈاکٹر رفیق مغل نے چولستان میں 424 قدیم بستیاں دریافت کیں۔بیٹی وادی سندھ تہذیب و تمدن جو دراصل ماں وادی ہاکڑہ سرسوتی گھارا، گھاگھرا تہذیب و تمدن کی کوکھ سے پیدا ہوئی، اس کی آغوش میں پلی بڑھی۔ ہاکڑہ چولستان تمدن کو 3000/4000 قبل مسیح کا عہد کہا گیا ہے اور اسے پانچ ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے.
    1۔ قبل از ہڑپائی دور (3000/2500 ق م)
    2۔ ہاکڑہ دور (3000/3500 ق م)
    3۔ ابتدائی ہڑپائی دور (2500/3200 ق م)
    4۔ عروج یافتہ ہڑپائی دور (2000/2500 ق م)
    5۔ متاخر ہڑپائی دور (1800 ق م)

    روہی چولستان کے قدیم تہذیبی و تمدنی باقیات اولین انسانی شعور کی بنیادیں ہیں۔ڈاکٹر رفیق مغل کے تحقیقی کام کو غیر ملکی ماہرین آثارِ قدیمہ میں پنسلوانیا یونیورسٹی آف امریکہ کے لوئی فیم،ڈیلز،شیفر، مارشیا،میڈو، لیمبرگ اور کارلووسکی نےقدر کی نگاہ سے دیکھا ہے۔مصنف صدیق طاہر کی روہی چولستان کی قدامت پر "وادی ہاکڑہ اور اس کے آثارِ قدیمہ” کے نام سے ایک بہترین کتاب الگ پہچان رکھتی ہے۔

    سرائیکی خطے کی قدیم تہذیب و تمدن میں کھلے گھر،نکاسی آب کا انتظام، لباس و زیورات کا شوق، واش رومز اور دیگر دستکاریوں کا ہنر ان کی روزمرہ زندگی گزارنے کا مضبوط ثقافتی اور تاریخی شاندار قصہ ہے۔مجسمہ سازی، کوزہ گری،کانسی کے بت چولستانی تمدنی ثقافتی اقدار کے عروج کی گواہی دیتے ہیں۔

    سابق خوشحال ریاست بہاولپور کے نواب سر صادق محمد خان عباسی پنجم رحمۃ اللہ علیہ کی اولاد میں پرنس میاں عثمان داؤد خان عباسی (سابق ڈپٹی اسپیکر صوبائی اسمبلی پنجاب) کا کہنا ہے کہ انہوں نے خود 1974ء میں چھ ہزار سال قدیم روہی چولستان، گنویری والا سمیت چولستانی تہذیب و تمدن کے آثار کی کھدائی کے لیے پراجیکٹ منظور کرایا۔ لیکن بعد میں وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کے عہد میں چولستانی قدیم تاریخی تہذیب و تمدن کی کھدائی کے منصوبے بند کر دیے گئے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ چولستان سے کچھ قیمتی قدیم نوادرات،جن میں مٹی کے برتن،ہار سنگھار کے نقش،مہریں،سکے وغیرہ شامل ہیں،میرے ایک دوست فرنچ ماہرِ آثارِ قدیمہ نے چولستانی پرانے تہذیبی مقامات سےحاصل کیے۔پھر چند ماہ بعد رپورٹ بھجوائی، جس کے مطابق ان اشیاء کی قدامت 6000 چھ ہزار سال قدیم بتائی گئی۔

    میں نے خود (راقم الحروف)ان سے اپنے تھیسز بعنوان مقالہ پی ایچ ڈی شعبہ سرائیکی اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور (پاکستان)”سرائیکی لوک قصے اتے چولستانی قصے دے اثرات ” عید الفطر کے موقع پر سال 2021ء میں ملاقات کے دوران معلومات حاصل کیں۔مقامی روہیلے چولستانی کہتے ہیں کہ شدید بارش کے موسم میں قلعوں اور قدیم کھنڈرات میں سے لوگوں کو قیمتی اشیاء ملتی ہیں۔ریسرچ رپورٹ کے مطابق ایک سینگ والے جانور کی مورتیاں بھی ملی ہیں۔

    گنویری والا شہر 80 ہیکٹر پر پھیلا ہوا ہے۔روہیلے اس اجڑے ٹھیڑھ کو کالا پہاڑ بھی کہتے ہیں۔جو ایک وقت میں دریائے سرسوتی ندی کے کنارے آباد تھا۔ یہ شہر ہڑپہ سے بڑا ہے۔مگر موہنجو داڑو سے چھوٹا ہے۔ دونوں قدیم شہر کے درمیان کا شہر گنویری والا چولستان لگ بھگ ہڑپہ سے 260 کلومیٹر جب کہ موہنجو داڑو سے 340 کلومیٹر دور ہے۔

    جو قومیں اپنے قدیم تاریخی تہذیبی ورثے کی حفاظت کرتی ہیں۔وہی دنیا میں ترقی یافتہ قومیں تصور کی جاتیں ہیں۔ چولستان روہی سرائیکی ڈویژن بہاولپور میں تقریباً 500 قدیم تاریخی آرکیالوجی سائٹس ہیں۔ سرائیکی ریاست بہاولپور جس کو محلوں کا خوبصورت شاندار جدید تاریخی شہر بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے ریگستان چولستان میں 19 تاریخی بوسیدہ قلعے اپنے وارثوں کو اپنی تزئین و آرائش اور بقاء کے لیے مٹی کے بوسیدہ در و دیواروں سے فریاد کر رہے ہیں۔
    جاری ہے

  • دنیا بدل رہی پاکستان میں مذاکرات کا کھیل ختم نہیں ہورہا۔ تجزیہ: شہزاد قریشی

    دنیا بدل رہی پاکستان میں مذاکرات کا کھیل ختم نہیں ہورہا۔ تجزیہ: شہزاد قریشی

    بھارت افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف
    ٹرمپ کے آنے سے امریکی پالیسیاں بد ل گئیں،پاکستان کو بھی سٹینڈ لینا ہوگا
    امریکی صدر نے غزہ جنگ بند کراکر امن کا پیغام دیدیا،ہمیں بھی آگے بڑھنا چاہیے
    تجزیہ،شہزاد قریشی
    بھارت اور افغانستان کی دوستی ،سیاسی اور اقتصادی تعلقات کون نہیں جانتا،ان تعلقات کے نتائج کیا نکلیں گے،یاد رہے تادم تحریر کسی بھی ملک نے طالبان حکومت کے ساتھ باضابطہ سفارتی تعلقات قائم نہیں کئے، طالبان پورے ملک پر قابض نہیں ہیں ، حزب اختلاف کی مختلف تحریکیں ہیں جو طالبان کے خلاف مسلح تصادم کو بحال کرنے میں مصروف ہیں، پاکستان کی وزارت خارجہ اور قومی سلامتی کے اداروں کو چوکنا رہنے کی ضرورت ہے،دنیا بدل رہی ہے، دنیا کی پالیسیاں تبدیل ہو رہی ہیں، ماضی کیا تھا اُسے بھول جائیے ،مستقبل کے بارے سوچئے، ہمیں امریکہ کے ساتھ بات چیت جاری رکھنا ہوگی، پاکستان کی مدد اور حمایت کے بغیر امریکہ خطے میں امن قائم نہیں کر سکتا،پاکستان خطے کا اہم لک ہے،افغانستان کی موجودہ حکومت امریکہ سمیت دنیا کے لئے ایک سوالیہ نشان ہے ؟ بھارت نے ماضی میں بھی افغان سرزمین دہشت گرد ی اور دہشت گردوں کی پشت پناہی کے لئے استعمال کی جس کے ثبوت پاکستان کے پاس موجودہیں ، ٹرمپ انتظامیہ کو پاکستان کے مسائل مشکلات نئے حالات میں سمجھنا ہوگا، افغانستان کو لے کر امریکہ ایک بار پھر پاکستانی مدد کا خواہاں ہوگا جبکہ ایران کے معاملات طے کرنے کے لئے امریکہ کو پاکستان کی ضرورت پڑے گی، بھارت جتنی مرضی افغانستان میں سرمایہ کاری کا دعویٰ کرے ،ٹرمپ انتظامیہ افغانستان کے ساتھ معاملات پاکستان کے ذریعے ہی حل کرنے کی کوشش کرے گا، پاکستان امریکہ کا اتحادی رہا ہے امریکہ کی کوشش ہو گی کہ اس خطے میں پاکستان کا کردار تعمیری ہو۔ ملک کی موجودہ صورت حال اورٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ مستقبل میں تعلقات کی نوعیت کیا ہوگی،

    پاکستان آج کی بدلتی صورت حال میں اُس مقام پر پہنچ چکا ہے جہاں پر امریکہ اور دوسری عالمی قوتوں کے تعلقات میں اپنے مفادات کو سامنے رکھ کر بات کر سکتا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی فسٹ امریکہ پالیسی اور گلوبل امن کا نعرہ یقینا قابل تحسین ہے، ٹرمپ کے آنے سے امریکہ بدل گیا ہے اس کی پالیسی بدل گئی ہے نئی پالیسی کے اثرات دنیا پر بھی پڑیں گے،ٹرمپ کے آنے سے غزہ میں جنگ بندی کا ثبوت ہے، روس اور یوکرین کی جنگ کا خاتمہ بھی قریب نظر آرہا ہے، ٹرمپ کی بھرپور توجہ معیشت پر ہے، وہ دنیا کو پیغام دے رہا ہے کہ جنگوں سے نکل کر معیشت پر توجہ دیں، اپنے اپنے ممالک میں عوا م کے بنیادی مسائل حل کریں، اپنے اپنے ممالک اور عوام پر توجہ دیں، ملک کی تمام سیاسی جماعتیں مذاکرات مذاکرات کے کھیل سے باہر نکل کر دنیا کی بدلتی صورت حال پر توجہ دیں اور پاکستان کو درپیش مسائل کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

  • گداگری ایک لعنت

    گداگری ایک لعنت

    گداگری ایک لعنت
    تحریر: ریحانہ صبغتہ
    گداگری کے لفظی معنی ہاتھ پھیلانا، منگتا، سوالی اور بھکاری کے ہیں،یوں تو ہمارے ملک میں بےشمار مسائل ہیں، لیکن جس طرح گداگری نے ملک کو بری طرح سے اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے، وہ ناقابلِ یقین ہے۔گداگری ایک ایسا سماجی رویہ ہے جس میں معاشرے کا کمزور اور پسا ہوا طبقہ اپنی ضروریاتِ زندگی کو پورا کرنے کے لیے دوسروں کی مدد کا محتاج ہوتا ہے۔

    گداگری ہمارے ملک میں باقاعدہ ایک پیشہ بن گیا ہے اور لوگ جوق در جوق اس میں شامل ہو رہے ہیں، بلکہ پاکستان میں گداگری ایک مافیا کی شکل اختیار کر چکا ہے جو کہ معاشی، معاشرتی اور اقتصادی طور پر معاشرے کو پستی اور ذلت کا شکار کر رہی ہے، جس سے عزتِ نفس اور محنت کی عظمت کے تمام خیالات و نظریات بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔

    گلیوں، بازاروں، مزاروں، اسپتالوں، شاپنگ مالز، سگنلز، بس اسٹاپ، شادی ہال اور ہر جگہ گداگروں کی بڑھتی تعداد، جس میں بچے، بوڑھے، جوان، خواتین اور بچیاں سب ہی آپ کو ہاتھ پھیلاتے نظر آئیں گے۔یہ درست ہے کہ بعض لوگ بھوک اور افلاس سے مجبور ہو کر بھیک مانگنا شروع کر دیتے ہیں، لیکن ایسے بھکاریوں کا کیا علاج ہے جو اپنے آپ کو مجبور ظاہر کر کے بھیک مانگتے ہیں؟ ان گداگروں نے بھیک مانگنے کے نئے طریقے ایجاد کر رکھے ہیں۔

    کچھ لوگ بھیک کی آڑ میں لوگوں کی جیبیں کاٹتے ہیں۔کچھ لوگ ملنگ اور فقیروں کا روپ دھار کر خواتین سے بڑی بڑی رقمیں بٹورتے ہیں۔اکثر لوگوں کا یہ ذہن ہوتا ہے کہ اگر اس گداگر کو خالی ہاتھ واپس بھیجا تو ہو سکتا ہے آسمان گر پڑے۔بعض لوگ بھیک کو پیشہ بنا لیتے ہیں کیونکہ انہیں بغیر محنت کے بہت کچھ مل جاتا ہے۔بعض لوگ روزی کمانے کے لیے اپنے بچوں سے بھیک منگواتے ہیں، اس طرح یہ مسئلہ دن بدن بڑھتا چلا جا رہا ہے، اس لیے کوئی بھی یہ نہیں چاہتا کہ بھکاریوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔تقریباً آدھے سے زیادہ گداگر کام کرنے کے قابل ہوتے ہیں لیکن انہوں نے گداگری کو اپنا پیشہ بنا لیا ہے۔

    گلی کوچوں میں گداگروں کا صدا لگانا، سڑکوں پر بھیک مانگنا، ہر جلسے اور عبادت گاہ کے دروازے پر ان کا وجود قوم کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔
    گداگری نہ صرف ملک و قوم کے لیے بدنامی اور ذلت کا سبب ہے بلکہ یہ بہت سے جرائم کو بھی جنم دیتی ہے، جن میں ناجائز منافع خوری، ڈکیتی، لوٹ مار، قتل، انسانی اسمگلنگ، بھتہ خوری، چوری، فراڈ، دھوکہ دہی اور راہزنی قابلِ ذکر ہیں۔

    ملک میں بڑھتے ہوئے گداگری کے مسئلے نے سنگین نوعیت اختیار کر لی ہے لیکن اشرافیہ خوابِ خرگوش کے مزے لے کر میٹھی نیند سو رہی ہے، اور اس مسئلے کی طرف ان کی کوئی توجہ ہی نہیں ہے۔جوں جوں گداگروں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے، ملک میں غربت زیادہ ہوتی جا رہی ہے۔

    اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ گداگری کا خاتمہ ہو تو سب سے پہلے اس کی وجوہات جیسے غربت، افلاس، بھوک، بے راہ روی، بیماری، ذہنی توازن، اغواء برائے تاوان، بھتہ خوری، منشیات، جسمانی کمزوری اور جہالت جیسے سنگین جرائم کا خاتمہ کرنا ہوگا، لیکن افسوس کہ پاکستانی اعلیٰ حکام کی ابھی اس طرف کوئی توجہ ہی نہیں ہے۔
    غلط اور فرسودہ نظام کے ذریعے پیدا ہونے والی برائیوں کے مقابلے اور خاتمے کے لیے منظم جدوجہد کرنا ہوگی۔

    الغرض معاشرے میں گداگری کی وجوہات کچھ بھی ہوں، گداگری ایک لعنت ہے، جس کا مستقل حل یہ ہے کہ:

    بے روزگاری کو ختم کیا جائے۔
    بھکاریوں کو خیرات، عطیات یا کھانا دینے کی بجائے انہیں محنت کرنے کا درس دیا جائے کہ وہ اپنے وسائل کو بروئے کار لا کر سب کچھ کر سکتے ہیں۔
    حکومت معذور افراد کے لیے ایسی مہارتیں فراہم کرے تاکہ وہ معذور ہونے کے باوجود اپنے آپ کو ناکارہ نہ سمجھیں۔ضعیف اور نادار لوگوں کے لیے مضبوط پناہ گاہیں اور شیلٹر ہومز بنائے جائیں جو حکومت کی زیرِ سرپرستی ہوں۔گداگری کو قانوناً جرم قرار دینا چاہیے تاکہ کوئی بھی مانگنے سے پہلے سو بار سوچے۔حکومتِ وقت کو گداگری کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے سخت سے سخت اقدامات کرنے چاہئیں، اور عوام الناس بھی حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کرے۔

    اگر ان سخت اقدامات سے گداگری کی لعنت کو ختم کیا جا سکتا ہے تو ہمیں مل جل کر اپنے اپنے حصے کی شمع روشن کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، تاکہ ملکِ پاکستان کی تعمیر و ترقی میں کلیدی کردار ادا کر سکیں۔اگر ہم نے وقت پر گداگروں کا سدِباب نہ کیا تو ہو سکتا ہے کہ ہمارا معاشرہ زوال کا شکار ہو جائے، اور ہمارے پاس پچھتاوے کے علاوہ کچھ نہ بچے۔

  • چین کا نیا قمری سال، ترقی کا جشن،تحریر:جان محمد رمضان

    چین کا نیا قمری سال، ترقی کا جشن،تحریر:جان محمد رمضان

    چین کا نیا قمری سال، جو دنیا بھر میں خوشی، امید اور ترقی کی علامت کے طور پر منایا جاتا ہے، ایک خاص موقع ہے۔ اس دن کو چین کے عوام اپنے روایتی طریقوں سے جشن مناتے ہیں اور اسے خاندانوں، دوستوں اور عزیزوں کے ساتھ گزار کر نئی امیدوں کے ساتھ ایک نیا آغاز کرتے ہیں۔ پاکستان کے عوام اور حکومت کی جانب سے چین کے عوام، قیادت اور حکومت کو نئے قمری سال کی دلی مبارکباد پیش کی جاتی ہے۔چین کا نیا سال نہ صرف چین کے لیے خوشی کا موقع ہوتا ہے بلکہ پوری دنیا میں اس کے اثرات اور اہمیت کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ یہ تہوار چین کی تاریخ، ثقافت اور روایات کی گہری جڑوں کی عکاسی کرتا ہے اور ہر سال یہ موقع چین کے عوام کی محنت، کامیابیوں اور ان کی مسلسل ترقی کا جشن منانے کا ہوتا ہے۔

    پاکستان اور چین کی دوستی ایک مثال ہے جو دنیا بھر میں ہر طرف سراہا جاتا ہے۔ ہماری یہ دوستی صرف ایک سفارتی تعلقات تک محدود نہیں بلکہ ایک گہری برادرانہ وابستگی پر مبنی ہے جس میں اعتماد، تعاون اور مشترکہ ترقی کا عزم شامل ہے۔ چین کی قیادت نے ہمیشہ دنیا کے سامنے ایک نئی مثال پیش کی ہے جس میں استقامت، محنت اور لگن کی بدولت وہ ترقی کی راہوں پر گامزن ہے۔ چین نے اپنے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے جس طرح کے اقدامات کیے ہیں، وہ قابل تحسین ہیں اور پوری دنیا کے لیے ایک مشعل راہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔پاکستان اور چین کے درمیان یہ شراکت داری نہ صرف سیاسی اور اقتصادی لحاظ سے مضبوط ہوئی ہے بلکہ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان ایک گہرا ثقافتی تعلق بھی قائم ہو چکا ہے۔ ہم ہمیشہ چین کی ترقی اور کامیابیوں کا دل سے احترام کرتے ہیں اور اس امید کا اظہار کرتے ہیں کہ یہ تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔

    چین کی غیر معمولی ترقی اور کامیابیوں کو دیکھتے ہوئے، ہم دعا گو ہیں کہ یہ نیا قمری سال چین اور پاکستان کے لیے خوشحالی اور ترقی کا باعث بنے۔ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، ثقافتی اور سفارتی تعلقات میں مزید گہرائی آئے، اور دونوں کے عوام کے درمیان محبت، احترام اور تعاون کا سلسلہ جاری رہے۔پاکستان اور چین کے درمیان جاری تعاون کا سلسلہ ایک روشن مستقبل کی نشاندہی کرتا ہے اور ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ آنے والے سالوں میں دونوں ممالک کے درمیان یہ رشتہ مزید مضبوط ہو گا۔

    چین کے نیا قمری سال نہ صرف چین کی کامیابیوں کی عکاسی کرتا ہے بلکہ یہ دونوں ممالک کی گہری دوستی اور تعاون کی داستان کو بھی مزید نکھارتا ہے۔ اس موقع پر پاکستان کی طرف سے چین کے عوام اور قیادت کو نیک تمناؤں کے ساتھ نئی امیدوں اور کامیابیوں کا پیغام پہنچایا جاتا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون، محنت اور عزم کے ذریعے ہم ہر چیلنج کو کامیابی میں تبدیل کر سکتے ہیں۔

    jaan

  • پہچان پاکستان میگا ادبی فیسٹیول2025 .تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    پہچان پاکستان میگا ادبی فیسٹیول2025 .تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    اردو ادب کی ترویج و ترقی کا عظیم الشان اجتماع
    »» ایک ایسا ادبی جشن، جہاں لفظ بولیں گے اور تحریر گواہی دے گی!”
    »» ادب کے چراغ روشن کرنے کا عظیم الشان اجتماع!”
    »» نئےقلمکاروں کی خدمات کا اعتراف، اردو زبان کی ترقی کا سنگ میل!”

    پہچان پاکستان نیوز گروپ کا یہ میگا ادبی فیسٹیول "لفظوں کی دنیا میں ایک تاریخ ساز لمحہ ہوگا،جہاں اردو ادب کی کہکشاں کے درخشاں ستارے ایک جگہ! پر ہونگے،”ایک یادگار لمحہ ہوگا، جب ادب کے معمار ایک دوسرے سے اپنے تجربات شیئر کریں گے!”
    اردو ادب کی تاریخ میں مختلف ادوار میں ایسے ادبی اجتماعات منعقد ہوتے رہے ہیں، جنہوں نے ادب کی ترویج و ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ لاہور، جو ہمیشہ سے علم و ادب کا گہوارہ رہا ہے، ایک بار پھر ایک شاندار ادبی تقریب کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔ پہچان پاکستان نیوز گروپ کی جانب سے میگا ادبی فیسٹیول 24 فروری 2025 کو الحمرا ہال نمبر 3، لاہور میں منعقد ہو رہا ہے، جس میں ملک بھر سے نامور ادیب، شاعر، کالم نگار، اور اردو ادب کی مختلف اصناف سے وابستہ لکھاری شرکت کریں گے۔

    یہ فیسٹیول محض ایک تقریب نہیں بلکہ اردو ادب سے جڑے افراد کے لیے ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں ان کی خدمات کا اعتراف کیا جائے گا اور انہیں عزت و توقیر سے نوازا جائے گا۔ اس پروگرام میں نمایاں ادبی شخصیات کو میڈلز، سرٹیفکیٹس اور شیلڈز دی جائیں گی، تاکہ ان کے ادبی سفر کو سراہا جا سکے اور آئندہ نسلوں کے لیے ادب کے فروغ کی راہیں مزید ہموار کی جا سکیں۔
    اردو ادب کی تاریخ میں ہمیشہ ایسے پروگرامز کی ضرورت محسوس کی گئی ہے جو ادیبوں، شاعروں اور لکھاریوں کی حوصلہ افزائی کریں۔ پہچان پاکستان میگا ادبی فیسٹیول ایک ایسا ہی عظیم الشان ایونٹ ہے، جو نہ صرف اردو ادب کے فروغ میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ ادب سے وابستہ شخصیات کو ایک دوسرے کے قریب لانے کا بھی ذریعہ بنے گا۔یہ فیسٹیول نوجوان لکھاریوں کے لیے ایک سنہری موقع فراہم کرے گا کہ وہ سینئر ادیبوں اور شاعروں سے سیکھ سکیں اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے مفید مشورے حاصل کریں۔ ادب کی قد آور شخصیات کی موجودگی اس تقریب کو مزید باوقار بنا دے گی اور ادبی ذوق رکھنے والے افراد کے لیے ایک یادگار دن ہوگا۔

    اس فیسٹیول میں پاکستان کے مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے نامور ادیب، شاعر، نقاد، کالم نگار، اور محققین شرکت کریں گے۔ یہ ایک سنہری موقع ہوگا جب اردو ادب کے قدآور ستون ایک جگہ اکٹھے ہوں گے اور اپنے خیالات کا تبادلہ کریں گے۔تقریب میں مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والے ادبی شخصیات کو ایوارڈز دیے جائیں گے، تاکہ ان کی کاوشوں کو تسلیم کیا جائے اور ان کی محنت کو سراہا جا سکے۔ یہ نہ صرف ان کے لیے ایک اعزاز ہوگا بلکہ ادب کی ترویج کے لیے بھی ایک مثبت قدم ہوگا۔
    نوجوان ادیبوں اور شاعروں کے لیے ایک پلیٹ فارمادب سے جڑے نوجوان تخلیق کاروں کے لیے یہ ایک نادر موقع ہوگا کہ وہ اپنے پسندیدہ ادیبوں اور شاعروں سے ملاقات کریں، ان سے گفتگو کریں اور ان کے تجربات سے سیکھیں۔تقریب میں مختلف ادبی سیشنز منعقد کیے جائیں گے، جن میں اردو ادب کے مسائل، اس کی ترقی کے امکانات، جدید ادب کے رجحانات، اور دیگر موضوعات پر مباحثے ہوں گے۔ اس پروگرام میں مختلف کیٹیگریز میں نمایاں شخصیات کو اعزازات دیے جائیں گے، جن میں درج ذیل شامل ہوں گےبہترین ادبی خدمات کے اعتراف میں نمایاں ادبی تحقیق پر بہترین شاعری، نثر، اور کالم نویسی پر سرٹیفکیٹ ،شیلڈز ،گولڈ میڈل دئیے جائیں گے۔اس تقریب میں اردو ادب کے فروغ کے حوالے سے مختلف تجاویز بھی پیش کی جائیں گی، تاکہ ادب کی ترقی کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جا سکیں۔یہ فیسٹیول اردو ادب کو نئی جہتیں فراہم کرے گا اور ادیبوں و شاعروں کو ایک دوسرے سے جُڑنے اور سیکھنے کا موقع دے گا۔ اس کے ممکنہ اثرات درج ذیل ہو سکتے ہیں:نوجوان نسل میں اردو ادب کا شوق بڑھے گا اس تقریب سے نئی نسل میں اردو ادب سے دلچسپی بڑھے گی اور وہ اس کی مختلف اصناف میں تخلیقی صلاحیتوں کو آزمانے کی کوشش کریں گے۔ایوارڈز اور سرٹیفکیٹس ملنے سے ادیبوں اور شاعروں کی حوصلہ افزائی ہوگی اور وہ مزید جوش و جذبے سے ادب کی خدمت کریں گے۔اس فیسٹیول میں ہونے والے مذاکروں سے اردو ادب کے موجودہ مسائل اجاگر ہوں گے اور ان کے حل کے لیے نئی راہیں تلاش کی جائیں گی۔پہچان پاکستان نیوز گروپ کا میگا ادبی فیسٹیول2025ایک ایسا ادبی اجتماع ہوگا جو اردو ادب سے جُڑے تمام افراد کے لیے ایک یادگار لمحہ بنے گا۔ الحمرا ہال 3، لاہور میں ہونے والی یہ تقریب ادب کے فروغ کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔یہ فیسٹیول نہ صرف اردو زبان و ادب کی خدمت کرنے والے افراد کو عزت و تکریم دینے کا موقع فراہم کرے گا بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک ترغیب کا باعث بنے گا۔ اس طرح کے ادبی فیسٹیولز کا انعقاد وقت کی ضرورت ہے، تاکہ اردو زبان کی ترویج و ترقی کو مزید تقویت دی جا سکے۔

    پہچان پاکستان میگا ادبی فیسٹیول 2025 کے انعقاد پر پہچان پاکستان نیوز گروپ ,چیف ایڈیٹر زکیر احمد بھٹی اور ڈپٹی چیف ایڈیٹر آمنہ منظور کو دلی مبارکباد! یہ ادبی فیسٹیول اردو ادب کے فروغ میں سنگ میل ثابت ہوگا، جہاں ملک بھر سے نامور ادیب، شاعر اور کالم نگار ایک چھت تلے جمع ہوں گے۔ آپ کی کاوشوں سے ادب سے وابستہ شخصیات کی خدمات کا اعتراف کیا جا رہا ہے، جو قابلِ تحسین ہے۔ امید ہے کہ یہ سلسلہ جاری رہے گا اور اردو ادب کو مزید ترقی کی راہ پر گامزن کرے گا۔ ادب دوست اقدامات پر آپ کو خراجِ تحسین!یہ محض ایک تقریب نہیں، بلکہ ادب کی ترویج کا ایک نیا سفر ہے! ،اردو ادب کی خدمت کا یہ تسلسل ہمیشہ جاری رہے گا!،یہ فیسٹیول ایک یادگار لمحہ ہوگا،اور اس کا اختتام نہیں، بلکہ نئے ادبی سفر کی شروعات ہوگی! کیونکہ پہچان پاکستان نیوز گروپ ـــ ادب کی پہچان اور تخلیق کی زبان ہے۔۔

  • آہ! مصور منیر مرحوم

    آہ! مصور منیر مرحوم

    آہ! مصور منیر مرحوم
    تحریر:فیصل رمضان اعوان
    ڈھرنال گاؤں ضلع تلہ گنگ کی مغربی سمت میں میانوالی روڈ کے جنوب میں میال اور ترحدہ کے قریب کچھ ہی فاصلے پر واقع ہے۔ تلہ گنگ اور لاوہ کی مضافاتی دیہی آبادیاں اپنے ماضی کی اعلیٰ اقدار اور شاندار روایات آج بھی زندہ و سلامت رکھے ہوئے ہیں، اور یہاں کے باسی اپنے شاندار ماضی کو آج تک نہیں بھولے۔ دلیری، ایمانداری اور غیرت مندی یہاں کے لوگوں میں بالکل اپنے آباؤ اجداد کی طرح آج بھی زندہ ہے۔ یہاں کئی طلسماتی کردار کی حامل کچھ شخصیات بھی گزری ہیں جن کی اولادیں انہی علاقوں میں مستقل رہائش پذیر ہیں۔

    ڈھرنال گاؤں کی اصل وجہ شہرت بھی ایک طلسماتی کردار کی حامل شخصیت ہے جن کا نام مرحوم محمد خان ڈھرنال ہے۔ محمد خان ڈھرنال قتل و غارت گری اور اپنی دشمنیوں کی وجہ سے مشہور ہوئے۔ بہادری میں ان جیسا کردار شاید ہی ہمیں کہیں سننے کو ملا ہو۔ بچپن میں والد مرحوم جب ان کی بہادری کے قصے سناتے تو وہ بڑا پرلطف، بامزہ، پراسرار اور عجیب و غریب لگتا، لیکن خیر سے محمد خان ڈھرنال کا زمانہ غیرت اور دلیری کے واقعات کا تھا۔ بہرحال ہمیں بھی وہی سبق سکھایا جا رہا تھا۔ جو ان کے اردگرد ہوتا تھا، آنکھوں دیکھا حال بھی سنایا جاتا تھا۔ اس کا اثر میرے خیال میں لوگوں کو خوف و ہراس میں مبتلا نہیں کرتا تھا بلکہ غیرت سے جینے کا ہنر اور وقار سے مرنے کا درس ملتا تھا۔ ڈھرنال کی اصل وجہ شہرت تو مرحوم محمد خان ڈھرنال کی وجہ سے تھی۔

    اسی سرزمین پر علم و ادب کا ایک بڑا نام مصور منیر مرحوم کا بھی ہے۔ انہوں نے فن مصوری میں وہ مقام پایا جو کسی تعریف کا محتاج نہیں۔ یہاں چونکہ دو مختلف سوچوں کے لوگ پائے جاتے ہیں، جیسا کہ تحریر کے شروع میں میں نے محمد خان ڈھرنال کی وجہ شہرت کا ذکر کیا، ان کے کردار، بغاوت اور دلیری پر بات کی۔ یہ سوچ یہاں ایک بڑی تعداد میں موجود ہے۔ دوسری طرف ایک فن میں ماہر، ایک بڑا نام۔۔۔ ایک عظیم فنکار، مصور منیر مرحوم کا نام ہے۔ بدقسمتی سے یہ حلقہ یہاں کافی کم تعداد میں پایا جاتا ہے، لیکن الحمدللہ جو لوگ بھی علم و ادب کی خدمت کر رہے ہیں، بلاشبہ وہ قابلِ تحسین ہیں اور ان کا کردار ہمیشہ سے مثالی رہا ہے۔ لیکن یہ عزت و شہرت وہ ہے جو رب تعالیٰ کسی کسی کے نصیب میں لکھتا ہے۔

    مصور منیر اپنے فن کے استاد تھے۔ دنیا بھر میں ان کے فن پاروں کی نمائشیں ہوتی تھیں اور ان کو ایوارڈز سے نوازا جاتا۔ کئی گولڈ میڈل بھی حاصل کیے۔ گزشتہ روز جب ان کے اچانک انتقال کی خبر ملی تو تادیر ان کے جانے کا غم رہا۔ ایک ایسے عظیم انسان کی جدائی نے مغموم کر دیا کہ اب ان جیسی شخصیت کا نعم البدل کہاں!

    تلہ گنگ شہر میں منعقدہ ایک ادبی تقریب میں تقریر کے فوراً بعد ان کی طبیعت اچانک بگڑ گئی اور حرکت قلب بند ہونے سے وہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ اللہ تعالیٰ ان کی تمام منازل آسان فرمائے اور ان کی کامل مغفرت فرمائے۔ مصور منیر مرحوم ایک ایسی نادر شخصیت تھے جن کی انتھک محنت نے ان کو اپنے فن کے عروج تک پہنچایا اور وہ دنیا میں وطن عزیز پاکستان کی ایک قومی شناخت بنے۔

    آج مصور منیر ہمارے درمیان نہیں رہے۔ یہ باب اب ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند ہوگیا۔ وہ ایک عظیم علمی و ادبی شخصیت کے طور پر جانے پہچانے جاتے تھے۔ ان کی علمی، ادبی اور فنی خدمات نے ہمارے علاقے کو دنیا بھر میں اور پیارے وطن میں ایک منفرد پہچان دی۔ ان کے اچانک چلے جانے سے یہ خلا اب ہمیشہ خالی رہے گا۔

    بارگاہِ الٰہی میں ان کے لیے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو اور ان کی کامل بخشش فرما دے۔ آمین ثم آمین۔

  • او سب دی ماں تے سرکاری میراثی

    او سب دی ماں تے سرکاری میراثی

    او سب دی ماں تے سرکاری میراثی
    تحریر: اعجازالحق عثمانی
    اقتدار کی کرسی ایک عجیب نشہ ہے جو حکمران کو حقیقت سے دور کر دیتی ہے۔ مگر اس نشے کو دوام دینے کا سہرا ان سرکاری میراثی نما خوشامدیوں کے سر جاتا ہے، جو اپنے ذاتی مفادات کے لیے حکمرانوں کے گرد ایسے گھیرا ڈال لیتے ہیں جیسے مکھی شہد پر۔ آج پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کے گرد یہی میراثیوں کا ٹولہ واردات ڈالنے میں مصروف ہے، اور عوامی مسائل سے ان کی توجہ ہٹانے اور اپنے مفاد کے لیے اوچھے حربے آزما رہا ہے۔

    مریم نواز کے اقتدار کا آغاز امیدوں اور خوابوں کے ساتھ ہوا تھا، مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ خود ان سرکاری میراثیوں کی گرفت میں آ چکی ہیں، جو صرف تعریفوں کے پل باندھنے میں ماہر ہیں۔ ان کے لیے حکومت کا مطلب عوامی خدمت نہیں بلکہ خوشامد کا ایسا کھیل ہے جس میں جیت صرف ان کی چاپلوسی کے ناپاک ہتھکنڈوں کی ہوتی ہے۔

    حال ہی میں پنجاب میں "کھیلتا پنجاب گیمز” کی تقریبات پر بھاری رقم خرچ کی گئی، جبکہ سپورٹس بورڈ کے ملازمین کو تین ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ ایسے حالات میں خوشامدی ٹولے نے وزیر اعلیٰ کو ایک شاندار تقریب کے ذریعے عوامی ہیرو بنا کر پیش کرنے کی ناکام کوشش کی۔ لیکن ان "میراثیوں” کی منصوبہ بندی اتنی کمزور تھی کہ یہ تقریب مریم نواز کے لیے بدنامی کا سامان بن گئی۔

    انہیں لگتا ہے کہ خوشامدی شاعری اور تقریبات کے ذریعے عوام کو مطمئن کیا جا سکتا ہے۔ حال ہی میں ایک تعلیمی دورے میں ایک طالبہ نے نظم پڑھی، جس میں مریم نواز کو "سب دی ماں” قرار دیا گیا۔ نظم کا انداز ایسا تھا کہ سننے والے ہنسنے پر مجبور ہو گئے، اور سوشل میڈیا پر خوب میمز بنی۔ یہ صرف ایک مثال ہے کہ کس طرح سرکاری میراثی مریم نواز کی سیاست کو کھیل تماشا بنا رہے ہیں۔

    یہ میراثی وہی لوگ ہیں جو سابق حکمرانوں کے گن گاتے تھے، اور آج مریم نواز کی خوشامد میں مصروف ہیں۔ ان کا کام صرف یہ ہے کہ حکمران کو عوامی مسائل سے دور رکھیں اور جھوٹے خواب دکھائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ عوام مہنگائی، بے روزگاری، اور ناقص گورننس سے تنگ آ چکے ہیں، مگر وزیر اعلیٰ کے گرد موجود یہ میراثی انہیں بتاتے ہیں کہ سب کچھ "ٹھیک” ہے۔

    مریم نواز کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ سرکاری میراثیوں کے گھیرے اور ٹک ٹاک کی دنیا سے باہر نکلنا ان کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ خوشامدیوں کے فریب میں آ کر اگر وہ عوامی مسائل کو نظرانداز کرتی رہیں، تو ان کی حکومت کے دن گنے جا سکتے ہیں۔ پنجاب کے عوام کو لیپ ٹاپ، کارڈ سکیم یا تقریبات نہیں چاہیے؛ انہیں روزگار، انصاف اور بنیادی سہولیات چاہیے۔

    اقتدار میں آنے والے حکمرانوں کو تاریخ صرف اسی وقت یاد رکھتی ہے جب وہ عوامی فلاح کے لیے کام کرتے ہیں۔ مریم نواز کو چاہیے کہ وہ ان سرکاری میراثیوں کو پہچانیں اور ان سے چھٹکارا حاصل کریں۔ عوام کے مسائل حقیقی اقدامات کے ذریعے حل ہوں گے، نہ کہ خوشامدی نظموں اور مصنوعی تقریبات سے۔ ورنہ ایک دن ایسا آئے گا کہ یہ میراثی بھی کسی اور کی خوشامد میں مصروف ہوں گے، اور عوام مریم نواز کو تاریخ کے ایک اور ناکام کردار کے طور پر یاد کر رہی ہو گی۔

  • پاکستانی ایٹمی قوت کے بانی: ڈاکٹر عبدالسلام

    پاکستانی ایٹمی قوت کے بانی: ڈاکٹر عبدالسلام

    پاکستانی ایٹمی قوت کے بانی: ڈاکٹر عبدالسلام
    تحریر: ریحانہ صبغتہ اللہ
    ڈاکٹر عبدالسلام 29 جنوری 1926ء کو موضع سنتوک داس، ضلع ساہیوال میں پیدا ہوئے۔
    ابتدائی تعلیم جھنگ سے حاصل کرنے کے بعد گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم ایس سی میں ٹاپ کیا اور کیمبرج یونیورسٹی سے اسکالرشپ پر اعلیٰ تعلیم کے لیے لندن چلے گئے، جہاں انہوں نے نظری طبیعیات میں پی ایچ ڈی کی۔
    1951ء میں ڈاکٹر عبدالسلام وطن واپس آئے اور گورنمنٹ کالج لاہور اور پھر پنجاب یونیورسٹی میں تدریسی فرائض انجام دینے لگے۔ 1954ء میں وہ انگلستان چلے گئے اور وہاں بھی تدریس سے منسلک رہے۔ اس کے علاوہ، پاکستان اور متعدد ملکی و غیر ملکی کالج و یونیورسٹیز میں تدریس کا سلسلہ جاری رہا، جن میں امپیریل کالج لندن، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور، سینٹ جونز کالج، بین الاقوامی مرکز برائے نظریاتی طبیعیات، جامعہ شکاگو، جامعہ کیمبرج، جامعہ کولمبیا، جامعہ کراچی، یونیورسٹی آف ہیوسٹن، اور جامعہ پنجاب شامل ہیں۔

    1964ء میں ڈاکٹر عبدالسلام نے اٹلی کے شہر ٹریسٹ میں انٹرنیشنل سینٹر برائے طبیعیات کی بنیاد رکھی۔
    ڈاکٹر عبدالسلام نے علم طبیعیات کے میدان میں ایک نظریہ پیش کیا جو اس قدر اہمیت کا حامل ہے کہ اسے نصاب میں شامل کیا گیا۔ ان کا نظریہ الیکٹرو ویک تھیوری کہلاتا ہے، جسے بعد میں "ڈاکٹر عبدالسلام-وینبرگ تھیوری” کہا گیا۔ اس نظریے کی جدید شکل کو آج سٹینڈرڈ ماڈل کے نام سے جانا جاتا ہے۔ سٹیون وینبرگ، جو ایک امریکی سائنس دان تھے، نے 1979ء میں اس نظریے پر ڈاکٹر عبدالسلام اور شیلڈن لی گلاشو کے ساتھ نوبل انعام برائے طبیعیات حاصل کیا۔

    ڈاکٹر عبدالسلام نوبل انعام حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی تھے۔
    1970ء سے 1986ء تک وہ پاکستان کی وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے سائنسی مشیر رہے۔ اس دوران انہوں نے پاکستان کے سائنسی ڈھانچے کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔

    ڈاکٹر عبدالسلام نے پاکستان میں نظریاتی اور ذراتی طبیعیات کے متعدد ترقیاتی منصوبوں میں حصہ لیا۔ ان میں ایک اہم کام بنیادی ذرات کی دریافت تھی جو اس وقت تک دیکھے نہیں گئے تھے۔ یہ ذرات پندرہ سال بعد یورپی ادارہ برائے ایٹمی تحقیق میں دریافت کیے گئے۔
    ڈاکٹر عبدالسلام سپارکو
    (Space and Upper Atmosphere Research Commission)
    کے بانی ڈائریکٹر اور نظریاتی گروپ کے قیام کے ذمہ دار تھے، اسی لیے انہیں اس پروگرام کا "سائنسی باپ” کہا جاتا ہے۔

    ڈاکٹر عبدالسلام کی مزید کامیابیوں میں ڈاکٹر عبدالسلام ماڈل، مقناطیسی فوٹون، ویکٹر میسن، گرینڈ یونیفائیڈ تھیوری، سپر سمیٹری پر کام، اور سب سے اہم الیکٹرو ویک تھیوری شامل ہیں، جس پر انہیں نوبل انعام دیا گیا۔ انہوں نے کوانٹم فیلڈ تھیوری اور امپیریل کالج لندن میں ریاضی کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا اور اپنے شاگرد ریاض الدین کے ساتھ مل کر نیوٹرینوز، نیوٹرون، ستاروں، اور بلیک ہولز کے جدید نظریات پر شراکتیں کیں۔

    ڈاکٹر عبدالسلام کا دعویٰ تھا کہ کائنات میں موجود چار بنیادی قوتوں میں سے دو، یعنی ویک فورس (کمزور نیوکلیائی طاقت) اور الیکٹرو میگنٹزم (برقی مقناطیسیت)، بنیادی طور پر ایک ہی قوت کی دو شکلیں ہیں۔ انہوں نے ان دونوں قوتوں کو متحد کیا اور اسے "الیکٹرو ویک فورس” کا نام دیا۔

    ڈاکٹر عبدالسلام نے نظری طبیعیات کے میدان میں 300 سے زائد مقالات تحریر کیے، جن میں سے چند کتابی مجموعوں کی صورت میں شائع ہوئے۔ وہ تیسری دنیا کے ممالک میں سائنس کی ترقی کے لیے وکالت کرتے رہے۔

    ڈاکٹر عبدالسلام مختصر علالت کے بعد 21 نومبر 1996ء کو لندن میں انتقال کر گئے۔ (انا للہ و انا الیہ راجعون)۔
    21 نومبر 2024ء کو ڈاکٹر عبدالسلام کو ہم سے بچھڑے 28 برس بیت گئے، لیکن وہ اپنے کام اور نام کی وجہ سے ہمیشہ زندہ رہیں گے، ان شاء اللہ۔

  • گنویری والا: ہڑپہ و موہنجودڑو سے بھی قدیم سرائیکی تہذیب کا مرکز (پہلی قسط)

    گنویری والا: ہڑپہ و موہنجودڑو سے بھی قدیم سرائیکی تہذیب کا مرکز (پہلی قسط)

    گنویری والا: ہڑپہ و موہنجودڑو سے بھی قدیم سرائیکی تہذیب کا مرکز
    تحقیق و تحریر:ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    altafkhandahir@gmail.com
    خلاصہ :یہ آرٹیکل سرائیکی خطے کی قدیم تہذیب و تمدن، خاص طور پر گنویری والا شہر کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ گنویری والا، جو ہڑپہ اور موہنجودڑو سے قدیم ہے، وادی ہاکڑہ کے کنارے واقع ایک عظیم تاریخی مرکز رہا ہے۔ آرٹیکل میں علم آثار قدیمہ کی اہمیت بیان کی گئی ہے، جو قدیم تہذیبوں اور تمدن کے مطالعے کا ذریعہ ہے اور یہ آرٹیکل تین اقساط پر مشتمل ہے .

    پہلی قسط کا خلاصہ
    سرائیکی وسیب کی قدیم تہذیب و تمدن، خاص طور پر گنویری والا شہر، تاریخی، ثقافتی، اور آثارِ قدیمہ کے حوالے سے غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے۔ گنویری والا، جو ہڑپہ اور موہنجودڑو سے بھی قدیم ہے، سرائیکی خطے کے تاریخی ورثے کی شناخت کا مرکز ہے۔
    آرٹیکل میں علم آثار قدیمہ کی اہمیت، سرائیکی وسیب کے تاریخی پس منظر، گمشدہ شہروں کی دریافت، اور ان کی ثقافتی و تمدنی اقدار کو اجاگر کیا گیا ہے۔ وادی ہاکڑہ اور گنویری والا کی کھدائی سے حاصل ہونے والی معلومات نہ صرف ماضی کی تہذیب کی عکاسی کرتی ہیں بلکہ اس خطے کی موجودہ شناخت اور ترقی کے لیے تحقیق اور تحفظ کی ضرورت پر بھی زور دیتی ہیں۔
    یہ قسط علم، تحقیق، اور ورثے کی حفاظت کی اہمیت پر روشنی ڈالتی ہے، جبکہ سرائیکی وسیب کے امن، محبت، اور ثقافتی اقدار کو اجاگر کرتی ہے۔

    پہلی قسط

    علم آثارقدیمہ کی ریسرچ تھیوری سے سرائیکی قدیم تہذیب وتمدن کا تاریخی پس منظر اور اہمیت
    تحقیق کا مطلب عشق و محبت کی وہ قیمت ہے جو قدیم بوسیدہ کتابوں کے اوراق پر چھپی مٹی کی خوشبو، نیند کی قربانیوں اور صحرائے چولستان کی نہ ختم ہونے والی تپتی ریت پر پوشیدہ قیمتی خزانوں کی تلاش میں ادا کی جاتی ہے۔ غور و فکر اور فلاح انسانیت کا فلسفہ تمام مذاہب کا مشترکہ پیغام ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کے بے شمار راز آسمان و زمین میں پوشیدہ رکھے ہیں اور علم ان رازوں کو سمجھنے کا اعلی ترین ذریعہ ہے۔علم کے تین حروف میں "ع” عشق، "ل” لطافت اور "م” محبت کی علامت ہیں۔

    قرآن مجید رب العالمین کا زندہ معجزہ ہے جو علم وعرفان اور حکمت کا سرچشمہ ہے۔اللہ تعالیٰ کے پاک فرمان کا مفہوم یہ ہے کہ علم کی طلب رکھنے والے اور اس سے منہ موڑنے والے برابر نہیں ہو سکتے۔علم کے متلاشی زندہ دل ہیں جبکہ علم سے غافل افراد گویا مردہ ہیں۔نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے: "علم مومن کی گمشدہ میراث ہے، جہاں سے ملے اسے حاصل کرو۔” یہ فرمان اپنی بےمثال جامعیت اور حکمت کے سبب رحمت العالمین کی عظمت کا واضح ثبوت ہے۔

    "آثار قدیمہ” یا "آرکیالوجی” وہ علم ہے جو بطنِ زمین میں دفن قدیم تہذیبوں، گمشدہ شہروں اور ان کے آثار کو منظر عام پر لاتا ہے۔ آثار قدیمہ کے مطالعے سے ہمیں ماضی کی تہذیب، تمدن،تاریخ،ادب،فنون، رہن سہن،وصیت نصحیت، پالیسی، عملی حکمت و دانش،زبان، روایات اور رسم و رواج کا علم ہوتا ہے۔ ان دریافتوں میں سکّے، کھنڈرات، مٹی کے برتن، پتھروں کی تختیاں، مخطوطات، ہڈیاں، مجسمے، زیورات، اوزار، اور دیگر قیمتی نوادرات شامل ہیں۔ اسی لیے آرکیالوجی کو تمام علوم کی ماں کہا جاتا ہے۔

    سرائیکی وسیب میں روہی چولستان کی وادی ہاکڑہ جو ہزاروں سال پرانی تہذیب اور تمدن کا مرکز رہا ہے، ایک اہم آثار قدیمہ کی جگہ ہے۔ گمشدہ شہر "گنویری والا” اسی وادی کا ابتدائی حصہ ہے، جو قدیم دریائے سرسوتی کے میٹھے پانی سے سیراب ہوتا تھا۔ معروف محقق اور دانشور سید نور الحسن ضامن بخاری احمدپوری نے اپنی کتاب معارف سرائیکی میں اس جگہ کو قرآن مجید کی سورۃ الفرقان میں مذکور "اصحاب الرس” کے مقام سے منسلک کیا ہے۔

    قرآن مجید میں ذکر کی گئی مختلف اقوام کے عروج و زوال کے قصے آج بھی ہمیں حقیقت کی طرف لے جاتے ہیں۔ گنویری والا، جو اب خاموشی سے زمین کے نیچے دفن ہے، قلعہ ڈیراور سے تقریباً 55 کلومیٹر جنوب مغرب کی جانب واقع ہے۔یہ مقام اپنی تاریخی تہذیبی،تمدنی اور ثقافتی اقدار کے خزانے کے ساتھ آج بھی تحقیق کا منتظر ہے اور موجودہ چولستانی جیپ ریلی کا مرکز ہونے کی وجہ سے دنیا کی توجہ کا محور بنتا جا رہا ہے۔

    گنویری والا شہر کے حوالے سے یہ معلومات قابل ذکر ہیں کہ اس کا پہلی بار ذکر آرکیالوجسٹ سر آئرل سٹین نے 1941ء میں کیا۔انہوں نے موہنجوداڑو، ہڑپہ،رحمان ڈھیری، پتن منارہ، قلعہ ڈیراور، بی بی جند وڈی کا مقبرہ، قلعہ بل اوٹ، سوئی وہاڑ، جلیل پور، مہرگڑھ، اوچ، ملتان اور پاکستان بھر کے آثار قدیمہ کی ابتدائی کھدائی کے پراجیکٹس میں حوالہ دیا۔

    سرائیکی خطے کے قدیم چولستانی حکمران راجپوت قبائل کے بارے میں ایک کہاوت عام ہے جس میں آٹھ قوموں کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ قومیں آج بھی دریائے سندھ کے دونوں کناروں اور روہی میں آباد ہیں۔تاریخی کتب میں درج ہے کہ سکندر مقدونی کو ملتان میں "خونی برج” کے مقام پر سرائیکی ملہی قوم کے ایک بہادر سپہ سالار نے زہریلے خنجر یا تیر سے شدید زخمی کیا، جس کے نتیجے میں وہ ہلاک ہوا۔

    سرائیکی وسیب آج بھی صوفی ازم، امن، اور زراعت کے لحاظ سے مالا مال ہے۔اس کی معاشی خوشحالی حملہ آوروں کے لیے قبضہ گیری اور قتل گاہ ثابت ہوئی۔ ملتان شہر کی تاریخی تہذیب کے حوالے سے سرائیکی کہاوت مشہور ہے: "جئیں نہ ڈٹھا ملتان نہ او ہندو نہ او مسلمان۔” اردو کی ایک مشہور ضرب المثل بھی ملتان کی اہمیت بیان کرتی ہے: "آگرہ اگر، دلی مگر، ملتان سب کا پدر۔”

    روہی چولستان، دمان، تھل اور راوا جیسے علاقے سرائیکی وسیب کی چھ سے سات ہزار سال پرانی تہذیب کی گواہی دیتے ہیں۔امن، محبت،اتحاد،عدم تشدد،تصوف،خلوص،فطرت سے پیار،احترام آدمیت،مٹھاس،برداشت،صبروتحمل،فنونِ لطیفہ سے عشق،دستکاری اور ہنر مندی اس خطے کے اہم موضوعات اور نمایاں خصوصیات ہیں۔

    سرائیکی قدیم چولستانی حکمرانوں کے حوالے سے ایک مشہور کہاوت کا نمونہ ملاحظہ کریں"جہاں اتحاد، بہادری اور خلوص ہو، وہاں عظیم قومیں جنم لیتی ہیں۔”

    سنگلی جنہاں دی ڈاڈی سوڈھی جنہاں دی ماء
    ملہی جنڑے پنج پتر ڈاھر،بھٹہ،لنگاہ،نائچ، شجراء

    آج کا روہی چولستان سرائیکی وسیب ایک مرتبہ پھر دنیا کو امن و رواداری،معاشی خوشحالی،تعمیر نو اور ترقی کی ضمانت دینے کا خوبصورت گیت گا کر سنا رہا ہے۔روہی چولستان گنویری والا شہر کی بنیادی تہذیب وتمدن سرائیکی وسیب کی اپنی ہے۔یہ تہذیب باہر سے آکر آباد نہیں ہوئی ہے۔
    جاری ہے۔

  • کشمیر اور بھارت کا نام نہاد جمہوری چہرہ .تحریر: جان محمد رمضان

    کشمیر اور بھارت کا نام نہاد جمہوری چہرہ .تحریر: جان محمد رمضان

    بھارت اپنے آپ کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے طور پر پیش کرتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کا جمہوری چہرہ دن بدن زیادہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ یہ صرف ایک دھوکہ ہے۔ بھارت میں جمہوریت، سیکولرازم اور انسانی حقوق کی دعوے صرف لفظوں تک محدود ہیں اور ان دعووں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور اقلیتوں کے ساتھ بدترین سلوک نے بھارت کے جمہوری دعووں کو ایک کھلا جھوٹ ثابت کر دیا ہے۔مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ کئی دہائیوں سے بھارت کی فورسز کشمیریوں پر ظلم و ستم ڈھا رہی ہیں۔ 7 دہائیوں سے کشمیری عوام بھارت کی حکمرانی کے تحت نہ صرف اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں بلکہ ان کے انسانی حقوق کی بدترین پامالی بھی کی جا رہی ہے۔ ہر روز کشمیری عوام کو بھارتی فورسز کی جانب سے طاقت کا استعمال، گرفتاریوں، جبری گمشدگیوں اور تشدد کا سامنا ہے۔

    ان تمام مظالم کے باوجود کشمیری عوام نے کبھی بھی اپنی آزادی کی جدوجہد سے پیچھے قدم نہیں اٹھایا۔ بھارت نے انہیں اپنے حقِ خودارادیت سے محروم کیا ہے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کو مسلسل نظرانداز کیا ہے جو کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیتی ہیں۔جب بھارت یومِ جمہوریہ مناتا ہے، تو یہ دن کشمیری عوام کے لئے یومِ سیاہ بن چکا ہے۔ بھارت کی جمہوریت کا دعویٰ کشمیری عوام کے لئے ایک مذاق بن چکا ہے، کیونکہ بھارت نے ان کے جمہوری اور انسانی حقوق کو مسلسل غصب کر رکھا ہے۔ کشمیری عوام نے تیسری نسل تک اپنی آزادی کی جدوجہد کو جاری رکھا ہے اور اس دوران بے شمار جانوں کی قربانی دی ہے۔

    کشمیری عوام کا ایک ہی مطالبہ ہے: اپنے حقِ خودارادیت کا حق حاصل کرنا۔ اس حق کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت تسلیم کیا جا چکا ہے، لیکن بھارت نے مسلسل اس مطالبے کو نظرانداز کیا ہے۔ اقوام متحدہ اور عالمی برادری پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بھارتی مظالم کا نوٹس لیں اور کشمیریوں کو ان کا حق دلانے کے لئے فوری اقدامات کریں۔کشمیری عوام کی یہ جدوجہد عالمی سطح پر ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ بھارت کی جانب سے جاری ظلم و ستم کو روکنا اور کشمیری عوام کو ان کے حقوق دینا عالمی برادری کی اولین ترجیح ہونی چاہئے۔

    بھارت کا جمہوریت اور سیکولرازم کا دعویٰ صرف ایک دکھاوا ہے، جو کشمیری عوام اور بھارت کی اقلیتوں کے حقوق کو پامال کرنے کے عمل کو چھپانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ یومِ جمہوریہ کا دن کشمیری عوام کے لئے ایک لمحہ افسوس ہے کیونکہ اس دن بھارت اپنی جمہوریت کے دعوے کے بجائے کشمیریوں کی آزادی کو نظرانداز کرتا ہے۔ عالمی برادری کو بھارتی مظالم کے خلاف آواز بلند کرنی ہوگی اور کشمیریوں کو ان کا حقِ خودارادیت دلانے کے لئے بھارت پر دباؤ ڈالنا ہوگا۔

    jaan