Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پیکا ایکٹ کیا ہے۔۔ کیوں ضروری ہے؟ تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    پیکا ایکٹ کیا ہے۔۔ کیوں ضروری ہے؟ تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    وفاقی حکومت نے پیکا ایکٹ میں ترمیم کا بل قومی اسمبلی میں پیش کر دیا جس کا مسودہ منظر عام پر آگیا ہے۔
    مجوزہ ترمیم کے تحت حکومت ڈیجیٹل رائٹس پروٹیکشن اتھارٹی قائم کرے گی، ڈی آر پی اے کو سوشل میڈیا مواد کو ’ریگولیٹ‘ کرنے کا اختیار ہوگا۔

    اتھارٹی پیکا ایکٹ کے تحت شکایات کی تحقیقات اور مواد تک رسائی کو ’بلاک‘ یا محدود کرنے کی مجاز بھی ہوگی۔
    پیکا ترمیمی بل2025 کے مسودے کے مطابق اتھارٹی کے پاس سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو مواد ہٹانےکی ہدایت کا اختیار ہوگا۔نظریہ پاکستان کے خلاف کوئی بھی مواد ہٹانے کا اختیاراتھارٹی کے پاس ہوگا، عوام کو قانون،اداروں، ریاست کیخلاف اُکسانے والی پوسٹ ہٹانے کا اختیار ہوگا۔،اس کے علاوہ دہشت، خوف پھیلانے والی پوسٹ رکھنے والوں کیخلاف کارروائی کااختیاراور اسمبلی میں حدف شدہ الفاظ کہیں پوسٹ یا نشر کرنا قابل سزا جرم ہوگا۔آج کے ڈیجیٹل دور میں، جہاں انٹرنیٹ نے انسانی زندگی کو بے حد آسان بنایا ہے، وہاں اس نے چیلنجز اور مسائل کا ایک نیا باب بھی کھول دیا ہے۔ انٹرنیٹ کے بے تحاشہ استعمال کے ساتھ ساتھ جرائم کی نئی شکلیں بھی سامنے آئی ہیں، جن میں آن لائن ہراسانی، جعلی خبروں کی تشہیر، سائبر بُلنگ، اور ڈیجیٹل فراڈ شامل ہیں۔ ان تمام مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے، حکومتِ پاکستان نے پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 (پیکا ایکٹ) متعارف کروایا۔ اس قانون کا مقصد انٹرنیٹ پر ہونے والے جرائم کی روک تھام اور ان کے سدباب کو یقینی بنانا ہے۔

    پاکستان میں انٹرنیٹ کے استعمال میں پچھلے چند سالوں میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، آن لائن شاپنگ، اور ای میلز کے ذریعے معلومات کا تبادلہ روزمرہ کی زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ لیکن اس تیزی سے بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل ماحول میں جرائم پیشہ افراد نے بھی اپنی سرگرمیاں بڑھا دی ہیں۔ اسی صورتحال کو قابو میں لانے کے لیے پیکا ایکٹ متعارف کروایا گیا تاکہ سائبر کرائمز سے نمٹا جا سکے اور شہریوں کے ڈیجیٹل حقوق کا تحفظ کیا جا سکے۔پیکا ایکٹ کے تحت مختلف جرائم کی وضاحت اور ان کی سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔ ان میں سے چند اہم شقیں درج ذیل ہیں:
    اگر کوئی شخص انٹرنیٹ کے ذریعے کسی کو ہراساں کرتا ہے، تو اسے سزا دی جائے گی۔
    فرقہ وارانہ یا مذہبی منافرت پھیلانے والے مواد کی اشاعت پر سخت کارروائی کی جائے گی۔ جعلی خبریں: جھوٹی معلومات یا افواہیں پھیلانے پر سخت سزا کا تعین کیا گیا ہے۔
    غیر اخلاقی مواد: فحش مواد کی تشہیر یا کسی کی نجی زندگی میں مداخلت قابل سزا جرم ہے۔
    ڈیجیٹل فراڈ: آن لائن مالی دھوکہ دہی یا ہیکنگ جیسے جرائم پر سخت سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔
    ڈیٹا چوری: کسی کے ذاتی یا کاروباری ڈیٹا کو چرا کر غیر قانونی استعمال کرنا جرم ہے۔

    پیکا ایکٹ کیوں ضروری ہے؟پیکا ایکٹ کی ضرورت اور اہمیت کو کئی حوالوں سے سمجھا جا سکتا ہے:انٹرنیٹ کی دستیابی اور آسان رسائی کے باعث سائبر کرائمز کی شرح میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان میں لوگ روزانہ جعلی اکاؤنٹس، مالی دھوکہ دہی، اور آن لائن ہراسانی جیسے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ پیکا ایکٹ ان مسائل کا قانونی حل فراہم کرتا ہے۔ڈیجیٹل دنیا میں لوگ اکثر اپنی پرائیویسی کے حوالے سے غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ پیکا ایکٹ شہریوں کی ذاتی معلومات کے تحفظ کو یقینی بناتا ہے اور ان کے ڈیجیٹل حقوق کا دفاع کرتا ہے۔سوشل میڈیا پر جھوٹی خبریں اور افواہیں نہ صرف معاشرتی انتشار پیدا کرتی ہیں بلکہ سیاسی اور مذہبی کشیدگی کا بھی سبب بنتی ہیں۔ پیکا ایکٹ کے ذریعے ان جرائم کا سدباب ممکن ہے۔پیکا ایکٹ نفرت انگیز مواد اور فرقہ واریت پھیلانے والے افراد کے خلاف کارروائی کرتا ہے، جو کہ ایک پرامن معاشرے کے قیام کے لیے ضروری ہے۔پاکستان میں ای کامرس اور ڈیجیٹل کاروبار کی ترقی کے لیے ایک محفوظ آن لائن ماحول ضروری ہے۔ پیکا ایکٹ کے ذریعے کاروباری افراد اور صارفین کو اعتماد ملتا ہے کہ ان کے مالی لین دین محفوظ ہیں۔پیکا ایکٹ کی افادیت کے باوجود، اس پر تنقید بھی کی جاتی ہے۔ بعض حلقے اس قانون کو آزادیٔ اظہارِ رائے کے خلاف قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق، حکومت اس قانون کا استعمال مخالفین کو دبانے کے لیے کر سکتی ہے۔ مزید یہ کہ، قانون کے نفاذ میں بعض اوقات تفتیشی ادارے اپنی حدود سے تجاوز کر جاتے ہیں، جس سے شہریوں کی نجی زندگی متاثر ہوتی ہے۔

    پیکا ایکٹ کو مؤثر بنانے کے لیے درج ذیل اقدامات ضروری ہیں:
    1. شفافیت کو یقینی بنانا: قانون کے استعمال میں شفافیت اور غیرجانبداری کو یقینی بنایا جائے۔
    2. تربیت یافتہ عملہ: سائبر کرائمز کی تحقیقات کے لیے تربیت یافتہ افراد کو تعینات کیا جائے۔
    3. آگاہی مہمات: عوام کو ان کے ڈیجیٹل حقوق اور سائبر کرائمز سے بچاؤ کے طریقوں سے آگاہ کیا جائے۔
    4. عدالتی نظام میں بہتری: سائبر کرائمز کے مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے عدالتوں میں خصوصی سیل قائم کیے جائیں۔پیکا ایکٹ ایک ایسا قانونی فریم ورک ہے جو ڈیجیٹل دور میں شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ اگرچہ اس قانون پر تنقید اور خدشات موجود ہیں، لیکن ان کو دور کر کے اسے ایک مؤثر اور منصفانہ قانون بنایا جا سکتا ہے۔ انٹرنیٹ کے بڑھتے ہوئے استعمال کے پیش نظر، پیکا ایکٹ کا نفاذ پاکستان کے معاشرتی اور اقتصادی استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔ اس کے ذریعے نہ صرف شہریوں کے حقوق کا تحفظ ممکن ہے بلکہ ایک پرامن اور محفوظ ڈیجیٹل معاشرہ بھی تشکیل دیا جا سکتا ہے

  • مافیا کی مفت بجلی، عوام پر بوجھ، ذمہ دار کون؟

    مافیا کی مفت بجلی، عوام پر بوجھ، ذمہ دار کون؟

    مافیا کی مفت بجلی، عوام پر بوجھ، ذمہ دار کون؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    پاکستان میں توانائی بحران ایک دیرینہ مسئلہ چل رہا ہے لیکن گذشتہ روز میڈیا کے ذریعے سامنے آنے والی خبر کے انکشافات نے اس بحران کی جڑوں کو مزید عیاں کر دیا ہے۔ قومی اسمبلی میں پیش کی گئی دستاویزات کے مطابق ہر سال پبلک اور کارپوریٹ سیکٹر کے دو لاکھ ملازمین کو 44 کروڑ 15 لاکھ یونٹس مفت بجلی فراہم کی جاتی ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ حاضر سروس ملازمین کے لیے 30 کروڑ 82 لاکھ یونٹس اور ریٹائرڈ ملازمین کے لیے 13 کروڑ 32 لاکھ یونٹس مختص کیے گئے ہیں۔

    یہ مراعات ایک ایسے وقت میں دی جا رہی ہیں جب ملک کو توانائی کے شدید بحران کا سامنا ہے اور عوام مہنگے بجلی بلوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔واپڈا، جینکو، ڈیسکوز اور این ٹی ڈی سی جیسے ادارے اپنے لاکھوں ملازمین کو یہ سہولت فراہم کر رہے ہیں۔ ان دستاویزات کے مطابق ڈیسکوز کے 1 لاکھ 49 ہزار ملازمین، جینکو کے 12 ہزار ملازمین، واپڈا کے 12 ہزار 700 ملازمین، پی آئی ٹی سی کے 159 ملازمین اور این ٹی ڈی سی کے 20 ہزار ملازمین شامل ہیں۔ یہ مراعات ریٹائرڈ ملازمین کو بھی فراہم کی جا رہی ہیں، جس سے قومی خزانے کو سالانہ اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔

    سوال یہ ہے کہ کیا ایک معاشی بحران سے دوچار ملک ایسے اخراجات کا متحمل ہو سکتا ہے؟واپڈا کے ملازمین کو ان کی خدمات کے بدلے میں مختلف مراعات حاصل ہوتی ہیں جن میں مفت بجلی بھی شامل ہے۔ تاہم اس مراعت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے بہت سے واپڈا کے کرپٹ ملازمین بجلی کی چوری میں بھی ملوث پائے گئے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق واپڈا کے ہزاروں ملازمین کو مفت بجلی فراہم کی جاتی ہے، یہ تعداد اتنی زیادہ ہے کہ اس سے قومی خزانے کو کافی نقصان پہنچ رہا ہے۔ اس کے علاوہ واپڈا کے ریٹائرڈ ملازمین کو بھی مفت بجلی کی سہولت حاصل ہے۔

    پاکستان میں بجلی چوری ایک ایسا مسئلہ ہے جو نہ صرف عام بلکہ منظم سطح پر کیا جا رہا ہے۔ ہر سال کروڑوں روپے کی بجلی چوری ہوتی ہے جو اب اربوں روپے تک جا پہنچی ہے۔ بجلی چوری کے طریقے جیسے غیر قانونی کنکشن، میٹر میں گڑبڑ اور ٹرانسفارمرز سے بجلی لینا عام سی بات ہوچکی ہے ،اس ساری چوری اور کرپشن کی کڑیاں واپڈا ملازمین سے جاملتی ہیں۔ اس سے بھی زیادہ تشویش ناک بات یہ بھی ہے کہ بجلی چوری میں صرف عام افراد ہی نہیں بلکہ بااثر سیاسی شخصیات، صنعتکاراور بڑے تاجر بھی ملوث ہیں۔ ان افراد کا سیاسی اثر و رسوخ اور سرکاری اہلکاروں سے گٹھ جوڑ انہیں قانون کے شکنجے سے بچا لیتا ہے۔

    حکومت بجلی چوری کے مسئلے کو حل کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے۔ بجلی ڈسٹری بیوشن کمپنیاں اور نیپرا اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے تاکہ بجلی کے گردشی قرضے ادا کیے جا سکیں جو اصل میں چوری شدہ یا مفت فراہم کی گئی بجلی کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں۔

    یہ مسئلہ عوام کے لیے مزید مشکلات کا سبب بن رہا ہے کہ کم آمدنی والے افراد پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پسے جاچکے ہیں اور بجلی کے بڑھے ہوئے بلوں نے ان کی زندگی کو مزید اجیرن بنا کر رکھ دیا ہے۔ کرپشن میں ڈوبی واپڈا کی افسر شاہی نے سردیوں میں بجلی کے کم استعمال کا فائدہ بھی عوام کو نہ اٹھانے دیا۔ جن شہریوں کے میٹرز پر بجلی کا معمولی استعمال ہوا ، انہیں بھی بجلی چوری کا ڈیٹکشن بل بھیج کر ایک نئی پریشانی میں مبتلا کر دیا گیا۔

    دوسری طرف رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیاکہ سرکاری دفاتر میں ایئر کنڈیشنرز اور دیگر آلات کا غیر ضروری استعمال بجلی کے ضیاع کا ایک بڑا سبب ہے۔عوام حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ بجلی چوری کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں اور مفت بجلی کی فراہمی ختم کی جائے۔بجلی کی قیمتوں میں اضافے کو روکا جائے، شفافیت اور احتساب کو یقینی بنایا جائے اور سرکاری اداروں کو مفت بجلی کی غیر ضروری مراعات ختم کی جائیں۔

    بجلی چوری کے خلاف سخت قوانین نافذ کیے جائیں، بجلی چوری میں ملوث افراد کو سخت سزائیں دی جائیں اور قانون کی گرفت مضبوط بنائی جائے۔ واپڈا اور دیگر اداروں میں شفافیت لانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل میٹرنگ کا نظام متعارف کرایا جائے اور ان سے بھی بل وصول کئے جائیں۔

    ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان میں توانائی کا بحران کرپشن اور ناقص انتظام کا شاخسانہ ہے،مافیا کی مفت بجلی اور عوام پر اضافی بوجھ ایک ایسے نظام کی عکاسی کرتا ہے جو کرپشن اور نااہلی کا شکار ہے۔ حکومت کو فوری طور پر مفت بجلی کی مراعات ختم کر کے قومی وسائل کو بچانے کے لیے مئوثر اقدامات کرنے چاہئیں۔ بجلی چوری پر سخت قوانین نافذ کیے جائیں اور شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔

    عوام پر بوجھ ڈالنے کے بجائے توانائی کی منصفانہ تقسیم اور پائیدار نظام قائم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ یہ وقت کا تقاضا ہے کہ مافیا کے اثر و رسوخ کو ختم کر کے عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کیا جائے۔

  • پاکستان میں انسانی سمگلنگ: وزیراعظم  کیلئے ایک سنگین چیلنج ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    پاکستان میں انسانی سمگلنگ: وزیراعظم کیلئے ایک سنگین چیلنج ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    پاکستان میں انسانی سمگلنگ کا مسئلہ ایک ایسا موضوع ہے جس نے گزشتہ کئی دہائیوں سے حکومتوں، سوسائٹی، اور بین الاقوامی سطح پر توجہ کا مرکز بن رکھا ہے۔ انسانی سمگلنگ ایک سنگین جرم ہے جس کا شکار بیشتر افراد غربت، بے روزگاری، اور کمزوری کے شکار ہوتے ہیں، اور اس کے نتیجے میں نہ صرف ان کی زندگیوں کا مستقبل تباہ ہو جاتا ہے، بلکہ پورے معاشرتی نظام میں انتشار پیدا ہوتا ہے۔ انسانی سمگلنگ کا تدارک حکومت کے لیے ایک چیلنج بن چکا ہے، اور اس کے خاتمے کے لیے مؤثر حکمت عملی کی ضرورت ہے۔پاکستان میں انسانی سمگلنگ کے شکار افراد کی اکثریت خواتین اور بچوں پر مشتمل ہوتی ہے، جنہیں یا تو جنسی استحصال، جبری مشقت، یا دیگر غیر قانونی مقاصد کے لیے اغوا کیا جاتا ہے۔ انسانی سمگلنگ کا یہ عمل سرحدوں کے اندر اور بین الاقوامی سطح پر بھی ہوتا ہے، جہاں پاکستانی شہریوں کو دوسرے ممالک میں غیر قانونی طور پر منتقل کیا جاتا ہے اور انہیں مختلف قسم کی غیر انسانی سرگرمیوں میں ملوث کیا جاتا ہے۔پاکستان کے مختلف حصوں سے انسانی سمگلنگ کے شکار افراد کو اغوا کیا جاتا ہے اور انہیں غیر قانونی طریقوں سے بیرون ملک بھیجا جاتا ہے۔ ان افراد کو ٹریفکنگ، جبری مشقت، اور جنسی زیادتی جیسے جبر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ، سمگلرز ان افراد کو انسانی اعضاء کی تجارت یا دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں بھی ملوث کرتے ہیں۔غربت اور بے روزگاری: پاکستانی معاشرہ ایک ایسی صورتحال کا سامنا کر رہا ہے جہاں معاشی حالات بہت زیادہ خراب ہیں۔ زیادہ تر افراد خاص طور پر دیہاتوں میں غربت کے باعث بہتر زندگی کے لیے کسی بھی خطرے کو گوارا کر لیتے ہیں۔ ایسے لوگ انسانی سمگلروں کے جال میں پھنس جاتے ہیں، جو انہیں بہتر زندگی کا وعدہ کر کے اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔تعلیمی کمی اور آگاہی کی کمی: پاکستان میں تعلیمی شرح کم ہونے کی وجہ سے بہت سے لوگ انسانی سمگلنگ کے خطرات سے واقف نہیں ہوتے۔ اس کمی کی وجہ سے لوگ آسانی سے سمگلروں کے جھانسے میں آ جاتے ہیں اور اپنی زندگیوں کو داؤ پر لگا دیتے ہیں۔ پاکستان میں انسانی سمگلنگ کے خلاف مؤثر قوانین کی کمی اور ان پر عمل درآمد میں مشکلات ہیں۔ بیشتر سمگلروں کے خلاف کارروائیاں ناقص رہتی ہیں، اور یہ جرائم بااثر افراد کی پشت پناہی کی وجہ سے اجتناب پاتے ہیں۔انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے ذریعے سمگلنگ کے واقعات میں تیزی آئی ہے۔ نوجوانوں کو آن لائن اشتہارات اور جھوٹے وعدوں کے ذریعے بہکایا جاتا ہے اور انہیں غیر قانونی راستوں پر بھیجا جاتا ہے۔انسانی سمگلنگ کے اثرات نہ صرف متاثرہ افراد پر بلکہ پورے معاشرتی ڈھانچے پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ ان افراد کی زندگیوں کو تباہ کر دیا جاتا ہے، اور ان کے جسمانی، ذہنی اور جذباتی صحت پر طویل مدتی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ان کی آزادی چھین لی جاتی ہے اور انہیں جبری مشقت، جسمانی تشدد، اور جنسی استحصال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    علاوہ ازیں، انسانی سمگلنگ پاکستان کی عالمی شہرت کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔ اس کے باعث دنیا بھر میں پاکستان کی تصویر ایک غیر محفوظ ملک کے طور پر ابھرتی ہے، جو بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی معیشت اور سماجی صورتحال پر منفی اثرات ڈالتی ہے۔حکومت کے لیے چیلنج پاکستان میں انسانی سمگلنگ کا تدارک حکومت کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے مختلف سطحوں پر اقدامات کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے حکومت کو کئی شعبوں میں مؤثر حکمت عملی اپنانا ہوگی۔

    قانونی اصلاحات اور ان کا مؤثر نفاذپاکستان میں انسانی سمگلنگ کے خاتمے کے لیے سب سے اہم اقدام قانون سازی ہے۔ حکومت کو ایسے قوانین بنانے کی ضرورت ہے جو سمگلنگ کے حوالے سے سخت سزائیں اور مؤثر تحقیقات کو یقینی بنائیں۔ اس کے علاوہ، ان قوانین پر سختی سے عمل درآمد کیا جانا چاہیے تاکہ سمگلروں کو کسی بھی قسم کی پناہ نہ مل سکے۔ عوامی آگاہی اور تعلیم عوامی آگاہی بڑھانے کے لیے مختلف میڈیا پلیٹ فارمز کا استعمال کیا جانا چاہیے۔ عوامی شعور کو بڑھانے کے لیے حکومتی اداروں اور غیر سرکاری تنظیموں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ تعلیمی اداروں میں اس موضوع پر سیمینارز، ورکشاپس اور آگاہی پروگرامز چلائے جا سکتے ہیں تاکہ لوگ اس مسئلے کی نوعیت اور اس کے خطرات سے آگاہ ہوں۔

    معاشی ترقی اورروزگار کے مواقع اگر حکومت معاشی ترقی کی طرف قدم بڑھائے اور روزگار کے مواقع فراہم کرے، تو لوگوں کو اپنی زندگی کی بہتر حالت حاصل کرنے کے لیے غیر قانونی راستوں کا سہارا نہیں لینا پڑے گا۔ معاشی ترقی کے ذریعے لوگوں کے لیے جائز روزگار کے مواقع فراہم کیے جا سکتے ہیں، جس سے انسانی سمگلنگ کے واقعات میں کمی آ سکتی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر تعاون ،پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر انسانی سمگلنگ کے خلاف تعاون کو مزید بڑھانا ہوگا۔ مختلف ممالک کے ساتھ مل کر مشترکہ حکمت عملی تیار کی جا سکتی ہے، تاکہ سمگلنگ کے نیٹ ورک کو عالمی سطح پر ناکام بنایا جا سکے۔ ٹیکنالوجی کا استعمال انسانی سمگلنگ کے خلاف جنگ میں اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ جدید نگرانی سسٹمز، ڈیٹا بیس، اور دیگر ٹیکنالوجیز کے ذریعے سمگلنگ کے نیٹ ورک کو پکڑنے اور ان کے خلاف کارروائی کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔انسانی سمگلنگ ایک سنگین مسئلہ ہے جس کا تدارک حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ اس کے خاتمے کے لیے مؤثر قوانین، عوامی آگاہی، معاشی ترقی اور بین الاقوامی تعاون کی ضرورت ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف حکومت کو اس مسئلے کے تدارک کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانے ہوں گے تاکہ انسانی سمگلنگ کی لعنت کو ختم کیا جا سکے اور پاکستان کو اس سنگین مسئلے سے نجات دلائی جا سکے۔

    shahid naseem

  • قدیم چولستان : سرائیکی تہذیب  کے منفرد رنگ،چوتھی قسط

    قدیم چولستان : سرائیکی تہذیب کے منفرد رنگ،چوتھی قسط

    قدیم چولستان : سرائیکی تہذیب کے منفرد رنگ
    تحقیق و تحریر:ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    altafkhandahir@gmail.com
    اس مضمون میں قدیم چولستان کی وادی ہاکڑہ اور سرائیکی تہذیب کی منفرد جھلکیوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ چار اقساط پر مشتمل اس سلسلے میں سرائیکی ثقافت کی گہرائیوں،رسوم و رواج اور تاریخی ورثے پر روشنی ڈالی گئی ۔
    اس سلسلہ کی چوتھی اور آخری قسط

    چولستان کے چیلنجز،ماحولیاتی مسائل اور ثقافتی بقا
    سرسبز گرین پاکستان کا حسین خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے روہی چولستان کی انسانی،حیوانی اور نباتاتی خوشحالی اور تعمیر نو سے سرائیکی مقامی آبادی معاشی ترقی حاصل کرے گی۔چولستانی دستکاریوں میں اونٹ کی کھال سے تیار کردہ اشیاء،کھجور کے پتوں کی بُنائی سے خوبصورت قابل استعمال گھریلو چیزیں اور ریت سے بنے گلدان شامل ہیں۔مقامی فنون میں چراغوں پر مصوری اور شطرنج کے بورڈز خاص اہمیت رکھتے ہیں۔پانی کی تقسیم اور اونٹنیوں کی گود بھرائی جیسے منفرد تہوار اس علاقے کے عوامی اتحاد اور ثقافت کی عکاسی کرتے ہیں۔

    سرائیکی سابق خوشحال ریاست بہاولپور کا خوبصورت روہی چولستان کا رقبہ تین اضلاع بہاول نگر،بہاولپور اور رحیم یار خان موجود بہاولپور ڈویژن پر مشتمل ہے۔روہی چولستان کا کل رقبہ تقریبا ننانوے لاکھ 9900000 میں قابل استعمال رقبہ 25 فیصد ہے۔باقی 75 فیصد رقبہ ناقابل کاشت ہے۔صحرائے چولستان کو دو بڑے حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔چھوٹی روہی اور بڑی روہی کے نام سے جانا جاتاہے۔

    سرسبز گرین پاکستان اور خوشحال چولستان کے لیے مقامی سرائیکی روہیلوں کی مستقل دیرپا رہائش اور قدرتی وسائل و اثاثہ جات کی حفاظت کے لیے مستقل بنیادوں پر حکمت عملی بنانا ہوگی۔چند گزارشات سے روہی چولستان دھرتی کو سرسبز قابل استعمال بنایا جا سکتا ہے۔

    1۔بڑی روہی سے چھوٹی روہی کے درمیان سڑکوں کا جال بچھانا ہوگا۔مقامی سطح پر ثقافتی ورثے کے تحفظ کیلئے اقدامات اٹھانا ہوں گے ۔
    2۔مقامی سرائیکی روہیلوں کو مالکانہ حقوق دینا ہوگے۔
    3۔فوڈز انڈسٹری قائم کرنا ہوگی۔
    ویٹرنری شفاخانہ ویکسین کی بروقت فراہمی یقینی بنانا ہوگی۔
    4۔چکنی مٹی والے ڈاہروں پر نئے پختہ ٹوبھے تعمیر کرنا ہوں گے۔
    5۔چولستان کا زیر زمین کڑوا سمندری پانی میں ماہی پروری کو فروغ دینا ہوگا۔

    6۔قیمتی جڑی بوٹیوں اور معدنیات کے وسائل سے فوائد حاصل کرنے کے لیے چولستان ترقیاتی ادارہ، اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور چولستان ریسرچ ادارہ، بارانی ریسرچ سنٹر،ایگری ریسرچ سنٹر سب کی ایک مشترکہ ریسرچ ورک کونسل قائم کرنا ہوگی۔
    7۔سبز چارہ کے لیے اور حیوانات کی بقاء کے لیے جدید ٹیکنالوجی ادارے قائم کرنا ہوں گے۔
    8۔موسم حریف میں جوار، باجرہ،گوار،تل،سوہانجناہ،ماش دال،پیاز،مرچ،بیر،پیلھوں،پنڈ کھجور اسپغول کو جبکہ موسم ربیع میں سرسوں،رایا،توڑی کی فصلوں کو فروغ دیا جائے تاکہ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہو۔

    9۔سیلاب کے دوران پانی کی رسائی کو چولستان تک پہنچاکر پانی کے میٹھے ذرائع میں بے پناہ اضافہ کیا جاسکتا ہے۔
    10۔خشک سالی کے دوران ٹینکرز کے ذریعے پانی کی بروقت فراہمی سے روہیلوں اور ان کے جانوروں کی زندگی کو بچایا جا سکتا ہے۔
    11۔سخت دھوپ سے سولر انرجی چولستان کے وسیع میدانوں سے حاصل کی جاسکتی ہے۔
    12۔چولستانی روہی کی ریت سے بہترین سلیکا حاصل کیا جاسکتا ہے۔

    13۔چھ سے سات ہزار سال قدیم تہذیب وتمدن وادی ھاکڑہ سرسوتی کے آثار قدیمہ سے قیمتی خزانوں سے مالامال نوادرات کو حاصل کرکے اقوام متحدہ اداروں کی توجہ اور معاشی امداد حاصل کی جاسکتی ہے۔
    14۔قلعہ ڈیراور،گنویری والا،پتن منارہ،دیگر پرانے گمشدہ محلوں اور قلعوں کی تزئین و آرائش سے سیاحت کو فروغ دے کر زرمبادلہ میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

    خواجہ فرید سئیں کی خوبصورت روہی کی خوشحالی کے لئے ٹوبھوں کی تعمیر نو کی شدید خواہش دراصل سرائیکی وسیب میں معاشی ترقی کا خواب حقیقت کا ادراک نئے صوبے کا قیام ہے۔

    پہلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    قدیم چولستان، سرائیکی تہذیب کے منفرد رنگ
    دوسری قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    قدیم چولستان، سرائیکی تہذیب کے منفرد رنگ
    تیسری قسط قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    قدیم چولستان، سرائیکی تہذیب کے منفرد رنگ
    سرائیکی علاقے کی معاشی خوشحالی پاکستان کی بقائے معیشت ہے۔دیوان فرید سرائیکی دراصل سرائیکی خطے راوا،تھل دمان پہاڑ اور روحانی روہی چولستان سے بھریل لسانی و سماجی ورثے کا خوبصورت خزانہ ہے۔سرائیکی قوم کے صحیفے کی حیثیت رکھتا ہے۔روہی سرائیکی قوم کے لیے پریم نگر ہے۔کلام فرید میں حسین رہتل ثقافتی رنگوں کے منفرد نمونے ملاحظہ فرمائیں۔

    ٹوبھا کھٹا ڈے سوہنی جا تاڑ تے
    اوجھا نہ ہووے ساری ماڑ تے

    سوہنے یار باجھوں میڈی نئیں سردی
    تانگھ آوے ودھدی، سک آوے چڑھدی

    پورب للہاوے تے پتالوں پانی آوے

    کیسر بھنڑی چولی چنری
    ول ول مینہہ پساوے
    پورب ماڑ ڈکھن دے بادل
    کوئی آوے کوئی جاوے

    روہی رنگ رنگیلی
    چک کھپ ہار حمیلاں پاوے
    بوٹے بوٹے گھنڈ سہاگوں
    گیت پرم دے گاوے

    پردیسی یارا وا پورب دی گھلے
    ساون مینہ برسات دی واری
    پھوگ پھلی کھپ پھلے
    گاجاں گجکن بجلیاں لسکن
    ذوقوں دلڑی چلے
    چتر سہاگ دا جھلے
    جئے تیئں پانی پلہر نہ کھٹسی
    کون بھلا سندھ جلے

    درد فرید ہمیشہ ہووے
    سارے پاپ دوئی دے دھووے

    تھل چترانگ اندر میں سسی
    بیلیں بیٹیں ہیر

    ساون مینگھ ملہاراں
    سہجوں تھلڑیں مال نہ ماوے
    پیسوں پانی دھاروں دھاری
    ڈیسوں جھوک تراوے

    بدلے دردوں روون
    بجلی اکھ مارے مسکاوے

    کن من کنیاں رم رجھم بادل
    بارش برکے برکے وو!
    کر یار اساں ول آون دی
    اج سہج کنوں اکھ پھرکے وو!

    پریم نگر ہے دیس تمہارا
    پھرتے کہاں اداسی رے

    چولستان روہی کی شاندار رنگ رنگیلی تہذیبی منفرد رسمیں اور اشیاء نہ صرف ان علاقوں کی ثقافتی پہچان ہیں۔بلکہ قدیم سرائیکی ڈیراوری باسیوں کی تخلیقی اختراعات،صلاحیتوں،خوبیوں،صبر و استقامت،امن ومحبت،الگ شناخت کی اعلی مثالیں بھی ہیں۔ان قدیم رسوم و رواج،ریت و روایات اور دستکاریوں کو محفوظ بنانے اور فروغ دینے سے پاکستان کے ثقافتی ورثے کو مضبوطی ملے گی اور فنون لطیفہ کے ہیرٹیج سٹی میں بھی بلند مقام حاصل ہوگا.

    اقوام متحدہ کے آرٹ اینڈ کلچر،آرکیالوجی اداروں کو سرائیکی وسیب کی چھ ہزار سال قدیم تہذیب وتمدن وادی ھاکڑہ سرسوتی کے اہم ثقافتی ورثے کے پاسبان شہر گنویری والا جو وادی سندھ تہذیب وتمدن کے ہڑپہ و موہنجوداڑو کے درمیان کا شہر ہے۔یہاں میوزیم قائم کرنے سے روہی کے قلعہ ڈیراور سمیت قلعوں سے جڑی ثقافتی ورثے کی حفاظت ممکن ہوگی۔نئی نسل اپنے قومی ورثے سے محروم ہونے سے بچ جائے گی۔

    آئے مست ڈیہاڑے ساون دے
    وہ ساون دے من بھاون دے
    بدلے پورب ماڑ ڈکھن دے
    کجلے بھورے سو سو ونڑ دے
    چارے طرفوں زور پونڑ دے
    سارے جوڑ وساونڑ دے
    (خواجہ فرید)

  • بی ایل اے،بی ایل ایف،بلوچستان کی ترقی کی دشمن.تحریر: جان محمد رمضان

    بی ایل اے،بی ایل ایف،بلوچستان کی ترقی کی دشمن.تحریر: جان محمد رمضان

    دہشت گرد تنظیمیں، جیسے بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف)، نہ صرف پاکستان کے امن و سکون کے لیے ایک سنگین خطرہ ہیں، بلکہ یہ تنظیمیں بلوچستان کی ترقی کی دشمن بھی ہیں۔ ان تنظیموں کی دہشت گردانہ سرگرمیاں اور ان کے حملوں نے نہ صرف بلوچستان کے عوام کو شدید مشکلات میں مبتلا کیا ہے بلکہ پورے پاکستان میں خوف و ہراس پھیلایا ہے۔ ان تنظیموں کے وحشیانہ حملوں کی حقیقت اب روز روشن کی طرح واضح ہو چکی ہے۔

    9 نومبر 2024ء کو کوئٹہ میں ہونے والے حملے میں 2 معصوم شہریوں کی شہادت نے ایک بار پھر بی ایل اے اور بی ایل ایف کے وحشیانہ عزائم کو بے نقاب کیا۔ ان شہریوں کے بھائیوں کی آہ و پکار اور دل دہلا دینے والے حقائق نے بلوچستان میں جاری دہشت گردی کے اسباب کو واضح کیا۔ ان حملوں کی حقیقت نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کے عوام کے سامنے آ چکی ہے کہ یہ دہشت گرد تنظیمیں صرف انسانیت کے دشمن ہیں۔

    29 ستمبر 2023ء کو مستونگ میں ایک مسجد کے قریب ہونے والے دھماکے میں 50 سے زائد افراد شہید ہوئے۔ اس دھماکے میں شہید ہونے والی ایک کمسن بچی کا والد اپنی بیٹی کی تصویر ہاتھ میں لیے غم سے نڈھال تھا۔ بی ایل اے نے اس حملے کی ذمے داری خود قبول کی، جو ان کے دہشت گردانہ عزائم کو مزید واضح کرتا ہے۔ اس حملے نے یہ ثابت کر دیا کہ یہ تنظیمیں انسانیت کے خلاف ہیں اور اپنے سیاسی مقاصد کے لیے بے گناہ انسانوں کو نشانہ بناتی ہیں۔

    2024ء میں 33 بلوچوں کی شہادت،گزشتہ برس بھی بی ایل اے اور بی ایل ایف کے دہشت گردوں نے 33 معصوم بلوچوں کی زندگیوں کا خاتمہ کیا۔ بلوچ عوام، طلبہ اور روتی ہوئی مائیں ان دہشت گرد تنظیموں کی درندگی کی شدید مذمت کر رہی ہیں۔ ان واقعات نے بلوچستان کے عوام کو یہ سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ ان تنظیموں کی حقیقت کیا ہے اور وہ کس مقصد کے لیے یہ جانی نقصان کروا رہے ہیں۔

    4 جنوری 2025ء کو تربت میں ہونے والے بس حملے میں ایک نوجوان کی شہادت ہوئی۔ اس حملے کی ذمے داری بھی بی ایل اے نے قبول کی۔ اس نوجوان کی والدہ نے اپنی آہ و پکار کے ذریعے یہ سوال اٹھایا کہ ’’بی ایل اے کے دہشت گردوں نے میرے بیٹے کو بے دردی سے کیوں مارا؟‘‘، اس سوال نے اس بات کو مزید تقویت دی کہ یہ دہشت گرد تنظیمیں بے گناہ انسانوں کی زندگیوں سے کھیل رہی ہیں۔

    بی ایل اے کے دہشت گرد بشیر نے حال ہی میں گرفتاری کے بعد اپنی تنظیم کے بارے میں انکشافات کیے ہیں۔ اس نے بی ایل اے کی حقیقت کو بے نقاب کرتے ہوئے بتایا کہ اس تنظیم کا مقصد صرف تباہی اور خونریزی ہے۔ بشیر کی گواہی نے ان دہشت گرد تنظیموں کے خلاف عوامی شعور کو مزید بیدار کیا ہے اور یہ ثابت کر دیا ہے کہ بی ایل اے اور بی ایل ایف کی کارروائیاں کسی بھی طور پر بلوچ عوام کی خدمت نہیں کر رہیں، بلکہ یہ ان کے خون سے کھیل کر اپنے مقاصد پورے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    پنجاب یونیورسٹی لاہور کے طالب علم، طلعت عزیز، کو بھی بی ایل اے کے دہشت گردوں نے جھانسا دے کر پہاڑوں میں لے گئے۔ ان دہشت گردوں نے اس معصوم طالب علم کی زندگی کو خطرے میں ڈالا اور اس کا اغوا کیا۔ اس واقعے نے اس بات کو مزید اجاگر کیا کہ یہ تنظیمیں صرف بلوچوں کے حقوق کی بات نہیں کر رہیں، بلکہ ان کا مقصد عوامی تعلیم اور ترقی کو بھی روکنا ہے۔

    11 جنوری 2025ء کو بی ایل اے نے تمپ میں 2 بے گناہ شہریوں کو بے دردی سے قتل کیا۔ اس حملے میں 15 سالہ معراج وہاب کی موت نے پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا۔ معراج کے والدین نے اس قتل کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور بی ایل اے کے ’’ریاستی ڈیتھ سکواڈ‘‘ جیسے جھوٹے الزامات کی تردید کی۔ اس واقعے نے یہ ثابت کر دیا کہ ان دہشت گرد تنظیموں کی کارروائیاں بے بنیاد الزامات اور جھوٹ پر مبنی ہیں۔

    ان تمام واقعات کے بعد بلوچستان کے عوام کا عزم مزید مضبوط ہوا ہے کہ وہ ان دہشت گرد تنظیموں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے۔ بلوچ عوام اب خاموش نہیں رہیں گے اور اپنی سرزمین کو دہشت گردوں سے آزاد کرنے کے لیے جدوجہد کریں گے۔ سکیورٹی فورسز بھی اب پوری قوت سے ان دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں اور انہیں انجام تک پہنچائیں گی۔دہشت گرد تنظیمیں بی ایل اے اور بی ایل ایف نے جس طرح بلوچستان اور پاکستان کے دیگر حصوں میں معصوم عوام کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالا ہے، اس کی حقیقت اب پوری دنیا کے سامنے آ چکی ہے۔ ان دہشت گردوں کے وحشیانہ حملے بلوچ عوام کی ترقی اور خوشحالی کے دشمن ہیں، اور ان کی بربریت کا جواب دیا جائے گا۔ سکیورٹی فورسز اور عوام کا عزم مضبوط ہے، اور وہ ان دہشت گردوں کے خلاف اپنا حق چھیننے کے لیے لڑیں گے۔آخر میں، یہ ضروری ہے کہ ہم سب مل کر ان دہشت گرد تنظیموں کی سازشوں کا مقابلہ کریں اور ایک پرامن اور خوشحال پاکستان کی تعمیر کے لیے متحد ہو جائیں۔

    jaan

  • جیل میں قید”مرشد”،ملک ریاض کی پارسائی،حقیقت یا فریب؟.تجزیہ:شہزاد قریشی

    جیل میں قید”مرشد”،ملک ریاض کی پارسائی،حقیقت یا فریب؟.تجزیہ:شہزاد قریشی

    جیل میں قید مرشد پارسا، مرشد کے دوست پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض بھی پارسا،لینڈ مافیا اور قبضہ گروپوں کی پشت پناہی کرنے والے سیاستدان، بیورو کریٹ، بیورو کریسی، اعلیٰ ترین پولیس افسران، سول انتظامیہ اور محکمہ مال کے افسران بھی پارسا، لاہور، کراچی، راولپنڈی میں بطور گفٹ پلاٹ اور کوٹھیاں لینے والے بھی پارسا۔ تمام ادارے پارسا پارسائی کے تمام دعوے دار پھر پاکستان عالمی اداروں کا مقروض کس نے کیا؟ عام آدمی نے؟ پیرخانے بھی مالدار، گدی نشین بھی مالدار، عام آدمی غریب کیوں ہے؟
    کہاں میں اور کہاں یہ آب کوثر سے دھلی خلقت
    میرا تو دم گھٹ رہا ہے ان پارسائوں میں

    کیا ہم کو تسلیم کر لینا چاہئے ملک ریاض نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔ جیل میں قید مرشد سے تو خطا ہو ہی نہیں سکتی۔ بقول شاعر۔
    مجروع قافلے کی مرے داستاں یہ ہے
    رہبر نے مل کر لوٹ لیا راہزن کیساتھ

    سیاسی گلیاروں میں عجب بے معنی شور ہے مشکلات میں گھرے عوام اور پاکستان کو اس بے معنی شور نے اس مقام پر لاکھڑا کیا ہے جس کی توقع نہیں تھی۔ سیاسی گلیاروں میں چمچہ گیری، چاپلوسی اور واہ ہی واہ کرنے والوں اور اپنے ہی سیاسی قائدین کی مخبری کرنے والوں میں اضافہ ہو چکا ہے ذرا سوچئے! ہم کن راہوں پر چل نکلے ہمارا کیا بنے گا؟ وطن عزیز اور اس کے اداروں کی ناقدری نہ کریں غیروں کی سازشوں کا آلہ کار نہ بنیں۔ گھر کے سیاسی جھگڑوں کو لندن اور امریکہ کی پارلیمنٹرین کے سامنے اپنے وطن عزیز اور اداروں کو بدنام کر کے ہم کون سا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں؟ بلوچستان میں پاکستان مخالف قوتیں بالخصوص بھارت مکروہ کھیل میں شریک ہے۔ افغانستان کے راستے پاکستان میں دہشت گردی، پاک فوج اور جملہ ادارے وطن عزیز اور عوام کی سلامتی کے لئے شہید ہو رہے ہیں۔ برطانیہ اور امریکہ میں موجود مرشد کے عاشقان مرشد سے التجا ہے کہ وطن عزیز اور اس کی حفاظت پر مامور اداروں کے خلاف پروپیگنڈہ نہ کریں قوم کب تک محو تماشا رہے گی تاریخ آپ کو کوڑے دان میں پھینک دے گی۔ انہی حرکتوں کی وجہ سے ہم آج تک ترقی پذیر ہیں صدق دل سے وطن عزیز کی ترقی میں ہر آدمی اپنا اپنا کردار ادا کرے ترقی پذیر ممالک یک ترقی کا راز علم، عمل اور قانون کی حکمرانی ہے انصاف ہے۔ قوم کو اپنی پاک فوج اور جملہ اداروں کیخلاف پروپیگنڈہ کرنے والوں کو منہ توڑ جواب دینا ہوگا۔ افغانستان میں موجود دہشت گرد بھارت کی توجہ کا مرکز ہیں پاک فوج ہی جس نے قربانیاں دے کر ان کا راستہ روکا ہوا ہے

  • قدیم چولستان : سرائیکی تہذیب  کے منفرد رنگ،تیسری قسط

    قدیم چولستان : سرائیکی تہذیب کے منفرد رنگ،تیسری قسط

    قدیم چولستان : سرائیکی تہذیب کے منفرد رنگ
    تحقیق و تحریر:ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    altafkhandahir@gmail.com
    قارئین کرام !اس مضمون میں قدیم چولستان کی وادی ہاکڑہ اور سرائیکی تہذیب کی منفرد جھلکیوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ یہ چار اقساط پر مشتمل سلسلہ سرائیکی ثقافت کی گہرائیوں، رسوم و رواج اور تاریخی ورثے پر روشنی ڈالے گا۔اس کی تیسری قسط ملاحظہ فرمائیں

    سرائیکی رسوم و رواج،کلام فرید میں روہی کی منفرد رنگینی،تہوار اور روایات
    قسط کا خلاصہ:
    چولستان کی شادمانی،خوشی و غمی تقریبات ثقافتی رنگوں سے مزین رسم و رواج سے بھرپور ہیں۔جن میں جھمر رقص،اجرک اور چنئی کے رنگ،رات کی چاندنی کے لطیف جذبوں کی محفل موسیقی،سرائیکی مہان کلاسک اول و آخر قادر الکلام شاعر خواجہ فرید کی کافیوں میں راگوں کی پر ترنم سوز گائیکی کے میلے،کھیلوں سے جنون کی حد تک لگاو،ثقافتی قدیمی تہذیبی تہوار مقامی ثقافت کی دلکش مضبوطی کو ظاہر کرتی ہیں۔دلہن کی رخصتی،دولہا کی سہرا بندی اور صدقہ و خیرات کی روایات آج بھی برقرار ہیں۔گویاچولستانی روہیلا فطرت سے جڑی خوشی میں ایسے رقص جھمر کرتا ہے۔جیسے بارش رم جھم مینہ برساتی ہے۔ریت ناچتی ہے اور کترن کی خوشبو بن کر کالے ہرن کی طرح آزاد دوڑتی روہی کو محبت و پیار کا گیت سناتی ہے۔

    تیسری قسط
    انسان نے خوشیوں کے ایک ایک کے لمحے کو رسم و رواج کا نام دے کر زندگی میں دکھوں سے لڑنے کی حکمت عملی بنائی ہے۔بارات کے لیے اونٹوں کے کچاوے کی رسم بھی چولستان روہی تھل کا اظہار مسرت و شادمانی ہے۔شادی بیاہ کے موقع پر بارات کو خاص انداز میں اونٹوں کے ذریعے لے جایا جاتا ہے۔جدید فیشن و رواج کی سہولت ٹریکٹر ٹرالی پر جنج کا منظر اپنا رنگین ثقافتی جہاں رکھتا ہے۔اونٹوں کو روایتی زیورات،چمکدار کپڑوں اور کچاوے سے سجایا جاتا ہے۔

    پہلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    دوسری قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    یہ منظر نہایت دلکش اور ثقافتی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ پورے علاقے میں خوشی اور مسرت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ سرائیکی دیوان خواجہ غلام فرید روہی چولستان سرائیکی سماجیات کا خوبصورت خزانہ ہے۔جس میں فطرت سے عشق کا فلسفہ ہے۔روہی عاشق کے لیے وصال یار بہشت ہے۔روہی حسین جمیل خوبصورت نازک نازو جٹی جنت کی حور عین بشارت ہے۔رات کی روح صبح صادق سے شام تک صحرائے چولستان کی تپتی ریت پر محبت کے گیتوں سے روہی کے سبزہ سیراب مال مویشی کے سفید دودھ سے مکھن اور لسی اپنے نرم نازک ہاتھوں سے اپنے محبوب کی پیاس کی شدت کو مساوی کرتی ہے۔ان کے کلام آفاقیت میں حسن وجمال روہی واضح ہے۔

    اے روہی یار ملاوڑی وے
    شالا ہووے ہر دم ساوڑی وے
    ونج پیسوں لسڑی گاوڑی وے
    گھن اپنے سوہنے سئیں کنوں

    وچ روہی دے راہندیاں
    نازک نازو جٹیاں
    راتیں کرن شکار دلیں کوں
    ڈینہیاں ولورڑن مٹیاں

    ریت مٹی کی عبادت کی رسم چولستان کے صحرائی لوگوں کی زندگی میں سختیوں کے باوجود اس کی خوبصورتی اور قدرتی وسائل کا احترام کرنے کے مترادف ہے۔ریت کی عبادت ایک علامتی رسم ہے۔جس میں دعا اور شکرانے کے کلمات شامل ہوتے ہیں۔دھرتی ماں سے محبت و عقیدہ کا استعارہ ہے۔رات کا شکار یہ ایک پرانی روایت ہے جس میں مقامی لوگ مکمل تاریکی میں شکار کرتے ہیں۔اس فن میں مہارت حاصل کرنے کے لیے صبر،چالاکی اور ٹیم ورک کی ضرورت ہوتی ہے۔

    منفرد چولستانی وسائل سے اشیاء بنانا روایتی فنون لطیفہ سے عشق کا قصہ ہے۔اونٹ کی کھال پر نقش و نگار فن کا کمال حیرت انگیز مظہر ہے۔اونٹ کی کھال پر ہاتھ سے بنائے گئے نقش و نگار چولستان کی خاص دستکاری ہے۔ان کھالوں سے جوتے، تھیلےاور دیگر اشیاء تیار کی جاتی ہیں۔ریتیلا گلدان بھی جھوک فرید روہی کے خوبصورت حسن کی عکاسی ہے۔صحرا کی ریت کو مٹی کے ساتھ ملا کر منفرد گلدان بنائے جاتے ہیں۔یہ گلدان اپنے مخصوص ڈیزائن اور استحکام کے باعث بہت پسند کیے جاتے ہیں۔

    کھجور کے پتوں سے مخصوص طریقے سے بُن کر مضبوط رسی تیار کی جاتی ہے۔ جو زراعت اور روزمرہ زندگی میں استعمال ہوتی ہے۔ریت کے مصوری والے چراغ بھی کمال ہنر کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔یہ چراغ مٹی اور ریت کے مرکب سے بنائے جاتے ہیں۔ ان پر مختلف پھولدار مناظر اور نقش و نگار ہاتھ سے بنائے جاتے ہیں۔یہ چراغ نہ صرف روشنی بلکہ ثقافتی خوبصورتی کا ذریعہ بھی ہیں۔چولستانی خوشبو جس میں قدرتی جڑی بوٹی کترن کو دنیا بھر میں بہت پسند کیا جاتا ہے۔

    روہیلے چولستانی اپنی ثقافتی زندگی میں ریت، ریت کی مٹی سے جڑی ہر خوشی اس کے وادی جنت نظیر کشمیر ہے۔روہی کی روح پانی مینہ بارش ہے۔خواجہ فرید سئیں نے روہی کی دلکش سرزمین کو اپنے لازوال کلام آفاقیت سے خوبصورت تخلیق کیا ہے۔سردی ہو یا گرمی صحرائے ریگستان کے سادہ،خلوص و نفیس مٹھاس بھرے لوگوں کے لیے موسم برسات،ساون کا مہینہ دراصل موسم بہار سہاگ ہے۔عید کا سماں ہے۔خواجہ فرید کا سرائیکی روہی رنگ ملاحظہ فرمائیں۔

    ساون ڈینہہ سہاگ دے
    ہر دم مینگھ ملہار
    رل کر ساتھ گزاروں
    جوبھن دے دن چار

    ساون وقت سہاگ دے
    رم رجھم برسن بادل
    بٹھ پئے ہجر دے ڈینہڑے
    عمر گزاروں رل رل

    ساون مینگھ ملہاراں
    ترس پووی پنل آ موڑ مہاراں

    اغن پپہیے کرن بلارے
    رس کوئل کوک سنائی
    ملک ملہیر وسایم مولا
    سبھ گل پھل خنکی چائی
    رل مل سیاں ڈیون مبارک
    مد بھاگ سہاگ دی آئی
    مدتاں پچھے رانجھن ملیا
    رب اجڑی جھوک وسائی

    چولستان وادی ہاکڑہ تہذیب وتمدن چھ ہزار سال قدیم تاریخی ثقافتی ورثے کی محفوظ ہے۔چند میڈیا رپورٹس پر سات ہزار سال پرانی سرسوتی تہذیب وتمدن بھی کہا جارہا ہے۔اس پہلی مرتبہ 1975ء میں ڈائریکٹر آثارقدیمہ ریسرچر ڈاکٹر رفیق مغل نے کھدائی کے دوران انکشاف کیا۔چولستان کا قدیم ترین قومی ورثہ،آج کا فنون لطیفہ،روہیلوں کی ہنرمندی چولستان کی مال مویشی پال منڈی پاکستان کی معاشی خوشحالی میں اہم کردار ادا کررہی ہے۔

    روہی میں طرح طرح کی جڑی بوٹیوں اور اونٹ کے دودھ کے ذریعے تیار کی جانے والی خوشبو مقامی لوگوں کی روایت کا حصہ ہے۔یہ خوشبو نہ صرف منفرد ہے بلکہ اسے شفا بخش بھی سمجھا جاتا ہے۔چولستان کے روایتی کمبلوں پر صحرا کے مناظر، اونٹ اور مقامی زندگی کے عکس بُنائی کے ذریعے پیش کیے جاتے ہیں۔خواجہ فرید سئیں روہی میں اپنی رہائش گاہ کے لئے گوپہ جھوپڑی کے لیے کھکھ کانے، لائی،لانڑے،کھپ کا استعمال کررہے ہیں۔مقامی روایتی ثقافتی دستکاری کی افادیت بتا رہے ہیں۔

    جھوپڑ جوڑ بنیسوں کھپ دے
    تھل دے صاف پساڑ تے

    یہ دستکاری روایتی فنون کی عکاسی کرتی ہے۔ریت سے بنے گیم بورڈ روہی کھیلوں میں خاص اہمیت کے حامل ہیں۔صحرا کی ریت اور مٹی سے تیار کردہ شطرنج اور لڈو کے بورڈ منفرد فن کا شاہکار ہیں۔یہ نہ صرف کھیل کے لیے استعمال ہوتے ہیں بلکہ خوبصورت آرائشی اشیاء کے طور پر بھی پسند کیے جاتے ہیں۔اونٹنیوں کی گود بھرائی تہوار ایک منفرد اور دلکش ثقافتی رسم و روایت ہے جس میں اونٹنیوں کو شادی بیاہ کی طرز پر سجایا جاتا ہے۔اس میلے میں خاص طور پر اونٹنیوں کی زینت کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ جنہیں رنگ برنگے کپڑوں،جھالر دار گھنٹیوں اور خوبصورت زیورات سے آراستہ کیا جاتا ہے۔میلہ مقامی لوگوں کے لیے نہ صرف تفریح کا باعث ہوتا ہے بلکہ یہ اونٹوں کے مالکان کے لیے اپنی مہارت اور اونٹوں کی خوبصورتی کا مظاہرہ کرنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔

    یہ میلہ مختلف ثقافتی سرگرمیوں،موسیقی، روایتی کھانوں اور اونٹوں کی دلچسپ مقابلوں کے ساتھ منایا جاتا ہے۔جہاں دیہاتی اور شہری افراد بڑی تعداد میں شرکت کرتے ہیں۔اس قسم کے میلے دیہی ثقافت کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ سیاحت کو فروغ دینے کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔اونٹ کے دودھ کا پاؤڈر روایتی طریقے سے اونٹ کے دودھ کو خشک کرکے پاؤڈر بنایا جاتا ہے جو مقامی لوگ غذائی اور طبی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ پاؤڈر معدے کی بیماریوں کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے۔پانی سے سبزہ لہلہاتی چہل پہل زندگی خوبصورت وادی ہے۔اگر پانی نہیں ٹوبھے خشک اور قحط سالی کا بیاباں منظر ہوتاہے۔خواجہ فرید سئیں کے لیے روہی چولستان کی زندگی ایک طرف خوشی کا اسباب ہے تو دوسری طرف وچھوڑے مونجھ ملال غموں کا خوبصورت جہاں ہے۔تخیلاتی قوت کا رنگ نہایت عمدہ ہے۔

    میڈا خوشیاں دا اسباب وی توں
    میڈا سولاں دا سامان وی توں

    جاری ہے

  • قدیم چولستان : سرائیکی تہذیب کے منفرد رنگ،دوسری قسط

    قدیم چولستان : سرائیکی تہذیب کے منفرد رنگ،دوسری قسط

    قدیم چولستان : سرائیکی تہذیب کے منفرد رنگ
    تحقیق و تحریر:ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    altafkhandahir@gmail.com
    قارئین کرام !اس مضمون میں قدیم چولستان کی وادی ہاکڑہ اور سرائیکی تہذیب کی منفرد جھلکیوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ یہ چار اقساط پر مشتمل سلسلہ سرائیکی ثقافت کی گہرائیوں، رسوم و رواج اور تاریخی ورثے پر روشنی ڈالے گا۔اس کی دوسری قسط ملاحظہ فرمائیں

    سرائیکی ثقافت کی بنیادیں،زبان،موسیقی اور شاعری

    روہی چولستان کے روایتی رسوم میں شادی خوشی کی ریتیں،روہی چولستان امن فرید میلے،جیپ ریلی اور اونٹوں کی ریس جیسی تقریبات میں جھمر رقص،لوک موسیقی اور چولستانی دستکاریوں کی نمائش ثقافت کی روح ہیں۔خواتین کی مہندی کی رسم اور روحانی عقیدت کے مراکز جیسے چنن پیر درگاہ نے مقامی رسوم و رواج کو صدیوں تک زندہ رکھا۔ روہی کے روایتی فنون لطیفہ میں لوک گائیکی، دستی خوبصورت رنگین پنکھوں اور مٹی کے برتنوں،ہینڈی کرافٹ اشیاء کی تیاری نمایاں ہیں۔

    لفظ چولستان کی ایٹمالوجی
    (اشتقاقیات) لسانیات پر غور کریں تو لفظ خالص سرائیکی زبان کی شناخت،ادب ودانش،شعور،فنون لطیفہ،اخلاقی اقدار،تہذیب وتمدن
    ،روایات،رہن سہن رسوم و رواج اور تاریخ کی مکمل ڈکشنری ہے۔سرائیکی میں "چول” کا مطلب ہل چل،چلنا پھرنا،ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونا،ستان سے مراد "جگہ” ہے۔گویا چولستان ریت کے ٹیلوں کی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی ہے۔ریت کے پہاڑ کو سرائیکی وسیب میں روہی کہا جاتاہے۔روہی چولستان وسیع عریض الفاظ کی مضبوط ترین لغت ہے۔

    پہلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

    قدیم چولستان، سرائیکی تہذیب کے منفرد رنگ
    جو سرائیکی سماجیات کا خوبصورت اظہار،امن و رواداری کا قیمتی خزانہ ہے۔پندھ پندھیرو افراد کے لیے روہی چولستان کا سفر سحر انگیز سرمایہ اور جادونگری ہے۔سرائیکی مہان روہیلا کلاسک شاعر حضرت سفیرؔلشاری سئیں روہی چولستان سرائیکی لوگوں اور اپنے صحرائی ماحول کو شاندار ثقافتی و تمدنی رنگوں میں حسین لفظوں سے زندگی کا خوبصورت روپ دیا ہے۔ان کے مجموعے کلام میں سرائیکی مزاحمتی مزاج، محبت اور دھرتی سے بے پناہ عقیدت کافیوں،نظموں،لوک گیتوں اور ڈوہڑوں کی شکل میں نظر آتی ہے۔ان کے شاندار کلام آفاقیت میں خوبصورت چولستان روہی کے منظر کا نمونہ ملاحظہ فرمائیں۔

    روہی وُٹھڑی مینگھ ملہاراں،سانول موڑ مہاراں
    چھمبھڑ،بندھ تے ݙہریں پاݨی،ٹوبھے تار متاراں

    بکھڑا،ݙودھک،مونیاں،چھپری،ڳنڈھیل،الیٹی
    لمب،اوئیݨ تے دھامݨ،سٹھ پئی نال وساہ ولھیٹی
    ہلڑا،بھرٹ،مرٹ،سٹ لاٹھی،کترݨ،لائین بہاراں

    لاݨے،پھوڳ تے لاݨیاں،کھپوں،کنڈیاں مکاں لایاں
    شاں شاں کرتے شوکن مورے،پینگھے جھوٹن لایاں
    گندلاں وانگوں سیٹوں نکتن،کُھمبیاں غیر شماراں

    وڳ ݙاچیاں دے ،دھݨ ڳائیں دے،بھیݙاں،ٻکریاں چھانگاں
    لیلے ، گابے کھیوے سمدن،ہرن مریندن چھانگاں
    بے فکرے تھی مستیاں دے وچ،ٹُُردن جوڑ قطاراں

    ٹٻیاں تے چڑھ ٻہندن چھیڑو،ونجھلی دے سُر لیندن
    سورٹ،جوگ،پہاڑی ڳاندن،جھوک ݙو مال ولیندن
    اگلاں مار ملاکاں جوجھن،بونگن گھنڈ تنواراں

    ݙیکھݨ لائق نظارا ہوندےمال اچ پوندی ݙوبھی
    کیڑاں نال سݙیندن چھیڑو،اڑی آ ۔۔ ندی ،ٹوبھی
    ناں دی کو تے نند شوکیندن ،کھیر دیاں وہندن دھاراں

    پاݨی وانگوں ݙدھ ورتاون،بچدے جاڳا لاون
    سہجوں سنگ سہیلیاں رل مل ول چا راند مچاون
    کئی پیاں کھیݙن پیر گساواں،کئی رل ڳاون واراں

    دھمی ویلے وقت سہیلے جاڳن سگھڑ سیاݨیاں
    سُتھرے بھانڈے ݙہی پلہارن بہندن گھت مندھاݨیاں
    حق ہو،حق ہو گھومے ݙیون پڑھ پڑھ استغفاراں

    سائیاں ٻاجھوں مال ݙوہیلا ،کئی نی ہتھ پھریندا
    کیندی ٻکری،کون سنبھالے ،ہر کوئی ہے درکیندا
    اپݨی آپ سنبھال سفیرا ،لہہ رل ڳئی دیاں ساراں

    رنگ برنگی رسمیں اور اشیاء چولستان روہی کی شاندار تہذیبی،ثقافتی قدیمی آرٹ اینڈ آرکیالوجی کے نقش و نگار کو اجاگر کرتی ہیں۔پاکستان کے دلکش کلاسک کلچرل ورثے کا اہم سرمایہ اور سرائیکی شناختی حوالہ ہیں۔الگ پہچان کی مشہور ریاست بہاولپور روہی چولستان کی سادہ مٹھاس بھری رسومات،رواج ریتیں اصل میں روایتی ثقافتی ورثےکی شناخت کا زیور ہیں۔اونٹنیوں کی گود بھرائی کا میلہ دراصل روہی کے باسیوں کی آپس میں اتحاد ویکجہتی اور محبت و یقین کا اظہار اور میل میلاپ ہوتا ہے۔یہ رسم چولستان کے مقامی لوگوں کی اونٹنیوں سے گہری وابستگی کو ظاہر کرتی ہے۔گائے،بھیڑ بکریوں اور اونٹ کے مال مویشی کو روہیلے اپنی روزی روٹی کے ذرائع آمدن اور مالی خوشحالی کی ضمانت سمجھتے ہیں۔شادی بیاہ کی طرز پر اونٹنیوں کو مختلف زیورات اور رنگ برنگے کپڑوں سے سجایا جاتا ہے۔اس موقع پر لوک گیت گائے جاتے ہیں اور خواتین خصوصی رقص جھمر پیش کرتی ہیں۔پانی سبزہ اور زندگی کی رونق و شادابی کی علامت جانا جاتا ہے۔پانی کی تقسیم کی رسم میں چولستان صحرائے ریگستان کی اہم ریت رواج اس وجہ سے ہے کہ پانی کی منصفانہ تقسیم سے ہی تمام روہی گلزار بن جاتی ہے۔دلوں میں محبت و پیار کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔صحرائی علاقوں میں پانی کی کمی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ یہاں پانی کی تقسیم ایک مخصوص طریقۂ کار کے تحت کی جاتی ہے۔ جس میں ہر خاندان کے لیے مساوی حصہ مختص کیا جاتا ہے۔ اس رسم میں برادری کی یکجہتی اور باہمی احترام کو اجاگر کیا جاتا ہے۔

    چاندنی رات کا دلفریب منظر لوک سر سنگیت کی محفل روہیلوں کےلئے نئی امنگ اور خوشی کا سماں پیدا کرتی ہے۔مکمل چاند چودھویں کی رات کو مقامی لوگ کھلے صحرا میں جمع ہوتے ہیں۔اس موقع پر روایتی سازوں جیسے رباب،ہارمونیم اور ڈھول کے ساتھ لوک گیت گاتے ہیں۔ یہ راتیں مقامی ادب،موسیقی اور ثقافت کو زندہ رکھنے کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔ریت کی مٹی کی خوشبو ماں کی ممتا کو سلام تحیسن پیش کرتی ہے۔کچی زمین پر نئے بچے کی مالش کی رسم رسم دراصل ریت سے بےپناہ محبت کا اظہار ہے۔یہ رسم نوزائیدہ بچوں کی صحت اور جسمانی مضبوطی کے لیے کی جاتی ہے۔مقامی خواتین گرم ریت یا زمین پر بچے کی مالش کرتی ہیں جو ان کے روایتی علاج کا حصہ بھی جانا جاتا ہے۔اونٹ سجانے کے مقابلے روہی علاقے کی سب سے خوبصورت اور منفرد قدیم تاریخی رسم ہے۔خوبصورت اونٹنی کا انتخاب الگ ریت رواج کی پہچان ہے۔چولستان صحرائے ریگستان کا ہوائی جہاز بھی اونٹ کو کہا جاتا ہے۔اونٹوں کو زیورات رنگین کپڑوں اور مہندی سے سجایا جاتا ہے۔جیتنے والے اونٹ کے مالک کو انعامات دیے جاتے ہیں۔

    شادی خانہ آبادی مبارک بیاہ کی ثقافتی رسموں،ریت و رواج کو صدیوں سے منایا جارہا ہے۔آج بھی شادی کی خوشیوں کے رنگ میں منفرد رسمیں نمایاں ہیں۔گنڈھییں پہلی رسم ہے جس میں دونوں خاندانوں میں دلہن کنوار ،دولہا گھوٹ کے والدین بزرگوار شادی کی تاریخ طے کرتے ہیں۔دولہے کی والدہ کی طرف سے دلہن کو لال چنئی ڈوپٹہ پہنایا جاتا ہے۔اس کے بعد دعاخیر پتاسے کی رسم ادا کی جاتی ہے اور خوشی کےگیت گائے جاتےہیں۔کانڈھا شادی کی اہم رسم ہوتی ہے جو دور حق ہمسائے رشتے داروں کو نائی کے ذریعے سنہیا پیغامات دیےجاتےہیں۔اج کل واٹس ایپ پر خوبصورت کارڈ بھیجے جاتے ہیں جس پر مہندی،جاگا، دولہے کی سہرا بندی کی رسم، بارات روانگی اور ولیمہ کی تواریخ درج ہوتیں ہیں۔اس کے بعد دول نغارے،جاگے،بین بانسری شرنا کی رسمیں شروع ہو جاتیں ہیں۔تقریبا ایک ہفتہ پورا بوا،چاچی،ماسی،مامی کی طرف سے رات کو جاگے سجائے جاتے ہیں۔دن کو شادی کے گھر کو روشنائی رنگین بتیوں سے سجایا جاتا ہے۔

    سارا دن میوزک موسیقی سہرے گیت گائے جاتےہیں۔رات کو محفل موسیقی کی رسم میں موہن بھگت جیسے گلوکاروں کی طرف سے فن گائیکی سے لوگوں کے دلوں کو خوب لطف اندوز کیا جاتاہے۔نٹوں کا تماشہ بھی ایک ثقافتی لحاظ اہم رسم سمجھی جاتی ہے۔ڈرامہ تھیٹر کا انعقاد امیر لوک اپنے دیروں پر کرتےہیں،مختلف روایتی پکوانوں و کھانوں کی دعوتیں شادی کی رسومات میں سب سے اہم سمجھی جاتی ہے۔ونوا،کھارے پر چڑھنے کی رسم قدیم زمانے سے رائج ہے۔اس کا مقصد دلہن والوں اور وس وسیب کو یقین دلانا ہوتا ہے کہ دولہا جسمانی طور پر کارآمد ہے۔ روزی روٹی کما کر اپنی دلہن کو خوشیاں دے سکتا ہے۔روحانی مرشد سید سے خصوصی دعائیں کی رسم بارات روانگی سے پہلے بھی اور واپسی خیر سلامتی سے کےلیے ہوتی ہے۔رسم نکاح اہم سنت رسول ہے۔

    مسلم روہیلے کمیونٹی نکاح پہلے یا پھر دلہن کی طرف جاکر مسجد میں ادا کی جاتی ہے۔مٹھائی یا چھووراے پتاسے تقسیم کیے جاتے ہیں۔کپڑے پھاڑنے کی رسم دولہا کے دوست ادا کرتے ہیں۔نہانے سے پہلے پرانے کپڑوں کو پھاڑ دیا جاتا ہے۔نئی صاف ستھرائی پوشاک دولہا لباس پہنایا جاتا ہے۔سہرا پہنانے کی رسم ادا کی جاتی ہے۔والدین سمیت قریبی رشتہ دار دوست پھلوں اور پیسوں والے ہار اور مالا پہناتے ہیں۔اسی طرح دلہن والے گھر بھی خوشیوں کی رسمیں روایتی ثقافتی انداز میں ادا کیں جاتیں ہیں۔مینڈھی کی رسم میں دلہن کو مہندی لگائی جاتی ہے، رخصتی سے تقریبا سات دن پہلے دولہن الگ تھلگ کمرے میں رہتی ہے۔اس دوران کنوار دلہن کو چیکو ابٹن کی رسم سے گزارا جاتا ہے۔گھڑی گھڑولا کی رسم دولہے کی بہنیں ادا کرتیں ہیں۔خوشیوں کے گیت سہرے گاتیں ہیں۔بارات روانگی سے پہلے دو نفل شکرانہ مسجد میں ادا کئے جاتے ہیں۔صدقہ خیرات رتول کی رسم ادا کی جاتی ہے۔ہندو روہیلے مندر کی زیارت کرت ہیں۔

    سرائیکی ثقافتی جھمر رقص کی رسم شادی بیاہ کی روح ہوتی ہے۔یہ عمل پوری شادی کی ہر رسم ورواج خاصہ ہوتا ہے۔گانا پہنانے کی رسم کے موقع پر دولہے گھوٹ کو دائیں ہاتھ کی کلائی پر خوبصورت رنگین ثقافتی گانا باندھا جاتا ہے۔گھوٹ والوں کی طرف سے وڑھی ڈاج جہیز کی رسم ادا کی جاتی ہے۔جس میں دلہن کو دی جانے والی سوئی سے لے کر بیڈ روم تک ہر چیز وسیبی عورتوں کو دکھائی جاتی ہے۔گھوٹ دولہا کے معمولات کو سنبھالنے اس کی ہر ممکن حکم کی تعمیل کے لیے سبالا سنبھالے کا انتخاب عموما ہوشیار مسات،ملیر،سوتر میں سے ہوتا ہے۔ ویہانہ جوتی چوری کی رسم بھی رخصتی کے موقع پر سالیاں ادا کرتیں ہیں۔دولہا منہ مانگی رقم دے کر روانہ ہوتا ہے۔پھل چنائی کی رسم میں پھولوں سے گھوٹ کنوار کا خوبصورت شاندار استقبال کیا جاتا ہے۔

    دودھ کھیر پلائی کی رسم میں دولہے کا باقی دودھ دولہن کو پلایا جاتا ہے۔تاکہ اللہ پاک کی رحمت سےجوڑی سلامت رہے اور محبت آخر تک قائم و دائم رہے۔ہاتھ کی مٹھی کھلائی کی رسم میں اکثر دولہن اپنے دولہے کی عزت رکھتی ہے۔دولہن کی گھنڈ کھلائی چہرہ شیشہ دکھائی کی رسم نئے گھر میں ساس (سس)،(سوہرا) سسر قیمتی تحائف سے ادا کرتے ہیں۔لاواں کی رسم میں دولہا دولہن دونوں کے سروں کو پیارے سے آپس میں ملائے جاتے ہیں۔دروازہ پکڑنے کی رسم میں دولہن خود سے نئے گھر آنے سے پہلے ادا کرتی ہے۔اس موقع پر سسسر اپنی نئی دولہن کو کوئی جانور یا کوئی قیمتی چیز پیش کرتا ہے۔

    ولیمہ کی رسم میں تمام برادری کو شاندار پکوان پیش کیے جاتےہیں۔گانا کھولنے کی رسم تیسرے دن ادا کی جاتی ہے۔ستوواڑہ کی رسم میں دولہن سات دن بعد کچھ دن پرانی یادوں کو تازہ کرنےکےلیے اپنے میکے چلی جاتی ہے۔پھر ہفتہ گزارنے کے بعد گھر واپس آکر اپنی ساسوں ماں سے گھریلو زندگی ہاتھ بٹانا شروع کر دیتی ہے۔اس شادی بیاہ کی روایتی رنگوں سے بھری رسمیں ختم ہوجاتیں ہیں۔پھر اللہ پاک کے حکم سے عورت کو بچے کی تخلیق کی خوشخبری ملتی ہے۔پھر گود بھرائی کی رسم ادا کی جاتی ہے۔اس طرح یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔
    جاری ہے

  • پنجاب میں سُلگتی نفرت،سازش یا حقیقت؟

    پنجاب میں سُلگتی نفرت،سازش یا حقیقت؟

    پنجاب میں سُلگتی نفرت،سازش یا حقیقت؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    پنجاب، پاکستان کے وجود کا اہم حصہ یعنی دل ہے جو اس وقت ایک غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے، جہاں قوم پرستی اور سازش کے بیج بوئے جا رہے ہیں۔ خواجہ غلام فرید کے مزار پر منعقد ہونے والی "روہی انٹرنیشنل پنجابی کانفرنس” کے تناظرمیں سامنے آنے والے نفرت انگیز بیانات نے ایک خطرناک صورت حال پیدا کر دی ہے۔ یہ تنازع صرف سرائیکی اور پنجابی عوام کے درمیان نفرت کو ہوا دینے کی کوشش نہیں بلکہ یہ پاکستان کی قومی یکجہتی کو کمزور کرنے کی ایک سوچی سمجھی چال بھی ہو سکتی ہے۔

    سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز نے اس تنازع کو مزید گمبھیر بنا دیا ہے۔ ان ویڈیوز میں کانفرنس کے منتظمین کی جانب سے سرائیکی عوام کو "پناہ گزین” کہہ کر انہیں پنجاب چھوڑنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ یہ بیانات ایک منظم سازش کا پتہ دیتے ہیں، جن میں پنجابی اور سرائیکی عوام کے درمیان نفرت کی دیوار کھڑی کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان میں استعمال کی جانے والی زبان نہ صرف اشتعال انگیز ہے بلکہ ایک خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتی ہے، جس کا مقصد عوام کو تقسیم کرکے قومی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانا ہے۔

    یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ تنازع کس کے مفاد میں ہے؟ کون اس صورتحال سے فائدہ اٹھا رہا ہے؟ اگر ماضی میں جھانک کر دیکھا جائے تو پاکستان دشمن عناصر نےمختلف علاقوں میں بدامنی اور تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کی ہے، جیسے بلوچستان میں علیحدگی پسند تحریکوں کو ہوا دینا، خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کا فروغ اور سندھ میں قوم پرستی کو ابھارنے کی کوشش۔ ان تمام سازشوں کے ناکام ہونے کے بعد اب پنجاب کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

    یہ صورتحال اس وقت زیادہ سنگین ہو جاتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر بغیر تصدیق کے نفرت انگیز بیانات اور مواد وائرل ہو رہے ہیں۔ یہ پلیٹ فارمز ایک اہم ذریعہ بن چکے ہیں، جن کے ذریعے لوگ جذباتی ہو کر غلط معلومات پھیلا رہے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ عوام میں اشتعال بڑھ رہا ہے اور تقسیم کی خلیج گہری ہو رہی ہے۔

    پنجاب ایک ایسا صوبہ ہے جہاں مختلف قومیتیں، ثقافتیں اور زبانیں محبت اور ہم آہنگی کے ساتھ رہتی آئی ہیں۔ پنجابی، سرائیکی، بلوچی اور پختون عوام کے درمیان نہ صرف سماجی تعلقات ہیں بلکہ رشتہ داریاں بھی ہیں۔ ایسے میں اس تنازع کو ہوا دینا دراصل ان تمام تاریخی رشتوں اور روایات کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے جو صدیوں سے قائم ہیں۔

    اس مسئلے کے حل کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس تنازع کو سنجیدگی سے لے اور ان عناصر کے خلاف سخت کارروائی کرے جو نفرت پھیلانے میں ملوث ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف جنہوں نے پنجابی کانفرنس کرانے کی اجازت دی،جس کی آڑ میں پاکستان کی سالمیت کے خلاف سازش پروان چڑھ رہی ہے ، وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام کو ایک مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کرنا ہوگا تاکہ ایسے واقعات کا اعادہ نہ ہو۔اور صدرپاکستان محمدآصف علی زرداری جب محترمہ بےنظیر بھٹوشہید ہوئی تھیں تو اس وقت بھی پاکستان میں نفرت کا بیج بونے والوں کو "پاکستان کھپے ” کا نعرہ لگا کر منہ توڑ جواب دیا تھا ،آج بھی اسی نعرے "پاکستان کھپے "کی اشد ضرورت ہے

    میڈیا پر بھی ایک بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرے اور صرف وہ مواد نشر کرے جو عوام کو جوڑنے اور قومی یکجہتی کو فروغ دینے میں معاون ہو۔ صحافیوں اور میڈیا ہاؤسز کو چاہیے کہ وہ ایسی خبروں کو نشر کرنے سے گریز کریں جو مزید اشتعال پیدا کریں۔

    عوام کو بھی اپنی ذمہ داری کو سمجھنا ہوگا۔ جذباتی ہونے کے بجائے حقائق پر مبنی معلومات کو اپنانا ہوگا۔ تعلیم کے ذریعے رواداری اور بھائی چارے کے پیغام کو فروغ دینا ہوگا۔ علماء، اساتذہ اور سماجی رہنما اور سیاستدان بھی عوام کو اتحاد و یکجہتی کی اہمیت سے آگاہ کرنے میں کردار ادا کریں۔

    سب سے اہم بات یہ ہے کہ حکومت نفرت انگیز بیانات دینے والوں کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ، سوشل میڈیا پر نفرت پھیلانے والے اکاؤنٹس کو بند کیا جائے اور اس قسم کے مواد پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔

    یہ تنازع صرف پنجاب تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ پاکستان کی سالمیت کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ ہمیں مل کر ان عناصر کو ناکام بنانا ہوگا جو ہماری قومی وحدت کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ یاد رکھیں کہ پاکستان کے دشمن ہمیشہ مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے ملک میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ ان سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے ہمیں قومی سطح پر اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

    اگر آج ہم نے اس چنگاری کو بجھانے میں تاخیر کی تو کل یہ ایک ایسی آگ میں تبدیل ہو سکتی ہے جس پر قابو پانا ناممکن ہو جائے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم سب مل کر پاکستان کی قومی یکجہتی اور سلامتی کو مضبوط کریں تاکہ یہ ملک ہمیشہ ترقی، خوشحالی اور امن کی راہ پر گامزن رہے۔

  • انسانیت کا عملی مظاہرہ: فیصل آباد کا خاموش مسیحا

    انسانیت کا عملی مظاہرہ: فیصل آباد کا خاموش مسیحا

    انسانیت کا عملی مظاہرہ: فیصل آباد کا خاموش مسیحا
    تحریر:شاہد نسیم۔چوہدری
    فیصل آباد کی گلیاں اور سڑکیں ہر روز لاکھوں افراد کی زندگیوں کا مشاہدہ کرتی ہیں۔ کہیں خوشیاں ہیں، تو کہیں مسائل کے پہاڑ۔ لیکن انہی ہجوموں میں کچھ ایسے افراد بھی ہیں جو خاموشی سے انسانیت کی خدمت میں مصروف ہیں، اور انہی میں سے ایک ہے میاں رحمان علی، ایک نوجوان جس نے اپنے چھوٹے سے اقدام سے انسانیت کا حقیقی مفہوم پیش کیا ہے۔

    رحمان علی فیصل آباد کا ایک عام سا لڑکا ہے، جو اپنی زندگی کو لوگوں کی مدد کے لیے وقف کر چکا ہے۔ روزمرہ زندگی میں وہ ایک موٹر سائیکل پر سفر کرتے ہوئے ان افراد کی مدد کرتا ہے جن کے موٹر سائیکل کا پٹرول ختم ہو جاتا ہے۔ وہ کسی اجنبی کو سڑک پر پریشان دیکھ کر رک جاتا ہے، ان کی مدد کے لیے پٹرول فراہم کرتا ہے، اور خاموشی سے آگے بڑھ جاتا ہے۔اس کے علاوہ، سردیوں کے سخت موسم میں وہ ان لوگوں کے لیے جیکٹ، جوتے اور جرابیں فراہم کرتا ہے جو ان سہولیات سے محروم ہیں۔ سب سے اہم بات یہ کہ وہ اپنی شناخت چھپائے رکھتا ہے۔ نہ کسی سے داد کی طلب، نہ کسی سے شاباشی کی خواہش۔ یہی خاموشی اور خلوص اس کے کام کو مزید خاص بناتا ہے۔

    انسانیت کی خدمت: ایک عظیم مشن ،انسانیت کا حقیقی مطلب یہی ہے کہ دوسروں کے مسائل کو اپنا مسئلہ سمجھا جائے اور بلا کسی غرض کے ان کی مدد کی جائے۔ رحمان علی کا یہ عمل ہمارے معاشرے کے انفرادی کرداروں کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ جہاں لوگ اکثر مدد کرنے سے پہلے ذاتی فوائد پر غور کرتے ہیں، وہاں ایسے افراد کسی روشنی کے مینار کی طرح ہوتے ہیں جو تاریکی میں رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔
    معاشرتی مسائل اور حل
    ہمارے معاشرے میں بے شمار افراد غربت، بے گھری، اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔ ایسے افراد کی مدد کرنا حکومت اور اداروں کی ذمہ داری ضرور ہے، لیکن انفرادی سطح پر بھی ہم میں سے ہر شخص کچھ نہ کچھ کر سکتا ہے۔میاں رحمان علی جیسے افراد کا عمل ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ بڑے بڑے منصوبے بنانے کے بجائے چھوٹے مگر مؤثر اقدامات سے بھی دنیا کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

    احساس اور قربانی کی اہمیت :رحمان علی کی کہانی ہمیں احساس دلاتی ہے کہ انسانیت کا حقیقی جوہر دوسروں کی تکلیف کو محسوس کرنا اور اسے کم کرنے کی کوشش کرنا ہے۔مدد کا جذبہ: بغیر کسی لالچ کے دوسروں کے لیے کچھ کرنا ایک نادر صفت ہے۔قربانی کا جذبہ: اپنی ذات کی پرواہ کیے بغیر دوسروں کی مدد کے لیے آگے بڑھنا معاشرے کی خوبصورتی کو نمایاں کرتا ہے۔خود اعتمادی: اپنے عمل کو کسی شہرت کے بغیر انجام دینا اس بات کی علامت ہے کہ انسان اپنی نیت میں سچا ہے۔ایسا معاشرہ کیسے بنایا جائے؟ہم سب کی یہ ذمہ داری ہے کہ ہم ایسے افراد کے کاموں سے سیکھیں اور ان کی پیروی کریں۔ اگر ہر شخص اپنے اردگرد کے لوگوں کے مسائل پر تھوڑا سا دھیان دے اور اپنی استطاعت کے مطابق مدد کرے، تو یہ دنیا ایک بہتر جگہ بن سکتی ہے۔

    رحمان علی جیسے لوگ ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ سماجی تبدیلی صرف بڑے منصوبوں سے نہیں بلکہ چھوٹے چھوٹے اعمال سے بھی ممکن ہے۔خلوص اور عاجزی کا درسرحمان علی کا عمل ہمیں عاجزی اور خلوص کا درس دیتا ہے۔ اپنی نیک نیتی کے ساتھ کسی کی مدد کرنا اور اس کا کریڈٹ نہ لینا ایک عظیم کام ہے۔ اس عمل سے ہمیں یہ سیکھنے کو ملتا ہے کہ خدمت خلق کے لیے نیت اور عمل کافی ہے، نہ کہ تشہیر اور ستائش۔فیصل آباد کے اس خاموش مسیحا کی کہانی معاشرے کے ہر فرد کے لیے ایک سبق ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ انسانیت کا حقیقی حسن دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے میں ہے۔آئیے، ہم سب مل کر اپنے اپنے طور پر انسانیت کی خدمت کریں اور اس دنیا کو ایک بہتر اور پرسکون جگہ بنائیں۔رحمان علی جیسے افراد کی کہانیاں ہمیں امید اور حوصلہ فراہم کرتی ہیں کہ نیکی اور خلوص کی شمع ہمیشہ جلتی رہے گی، چاہے دنیا میں کتنی ہی مشکلات کیوں نہ ہوں۔
    یہی انسانیت ہے، یہی اصل زندگی کا مقصد۔