Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پاکستانی میزائل پروگرام،امریکی دھمکیاں،قوم یکجا

    پاکستانی میزائل پروگرام،امریکی دھمکیاں،قوم یکجا

    پاکستان کا اسٹریٹجک پروگرام ایک نہایت اہم، لازمی، اور قومی حیثیت کا حامل پروگرام ہے جو نہ صرف پاکستان کی سلامتی بلکہ اس کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔ یہ پروگرام پورے ملک کے لیے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کا دفاع ہر پاکستانی کی ذمہ داری ہے۔پاکستان کے اسٹریٹجک پروگرام کو ملک کے تمام شہریوں اور سیاسی جماعتوں کی طرف سے یکجہتی کے ساتھ حمایت حاصل ہے۔ اگرچہ پاکستان میں سیاسی اختلافات موجود ہیں، لیکن اس اسٹریٹجک پروگرام کے حوالے سے ملک بھر میں مکمل اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔ تمام سیاسی جماعتیں اور قوم ایک ہی صفحے پر ہیں کہ اس پروگرام کی حفاظت اور اس کے تسلسل کو یقینی بنانا قومی مفاد میں ہے۔ اس بات کا واضح پیغام دیا گیا ہے کہ پاکستان اپنے اسٹریٹجک مفادات پر کسی بھی طرح کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

    پاکستان کے اسٹریٹجک پروگرام میں بنیادی طور پر ملک کی دفاعی صلاحیتوں اور جوہری طاقت کے تحفظ پر زور دیا جاتا ہے۔ اس پروگرام کے تحت پاکستان اپنی خودمختاری اور سالمیت کو ہر قیمت پر محفوظ رکھنے کا عزم رکھتا ہے۔ اس بات کا بھرپور پیغام دیا گیا ہے کہ پاکستان کسی بھی بیرونی مداخلت کو برداشت نہیں کرے گا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب بھارت جیسے خطے میں موجود دیگر ممالک بھی اسی طرح کی دفاعی صلاحیتیں رکھتے ہیں۔پاکستان کا کہنا ہے کہ امریکی اقدامات اصولی نہیں ہیں اور یہ کسی نہ کسی طرح کی جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ امریکہ کے اسٹرٹیجک فیصلوں پر پاکستان کا موقف یہ ہے کہ یہ اقدامات پاکستان کے مفادات کے خلاف اور علاقائی استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔ پاکستان نے یہ واضح کیا ہے کہ اس کا اسٹریٹجک پروگرام اس کی خود مختاری اور دفاع کے لیے ہے، اور اسے بیرونی مداخلت کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

    پاکستان کی سیاسی قیادت، عوام اور تمام ادارے اس بات پر متفق ہیں کہ پاکستان کا اسٹریٹجک پروگرام نہ صرف اس کی دفاعی صلاحیتوں کا تحفظ کرتا ہے بلکہ یہ قومی مفاد اور خودمختاری کی ضمانت بھی ہے۔ اس لیے، پاکستان ہر قسم کی بیرونی مداخلت یا اس پروگرام میں کسی بھی تبدیلی کو مسترد کرتا ہے، اور یہ پیغام پوری دنیا کو دے رہا ہے کہ پاکستان کسی بھی غیر قانونی یا ناجائز مداخلت کے سامنے نہیں جھکے گا۔

    تحریر؛مہر اقبال انجم

    baaghi blogs

  • پاکستان ایک ذمہ دار جوہری ریاست

    پاکستان ایک ذمہ دار جوہری ریاست

    پاکستان ایک ذمہ دار جوہری ریاست ہے جو خطے میں استحکام اور سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ایک قابل اعتماد کم سے کم رکاوٹ پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ اس بات کا اظہار چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر نے متعدد مواقع پر کیا ہے، جہاں انہوں نے پاکستان کی جوہری صلاحیت کی اہمیت اور اس کی پائیداری کو اجاگر کیا۔

    پاکستان کا جوہری پروگرام دفاعی مقاصد کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے اور یہ مکمل طور پر ملک کی سلامتی کو یقینی بنانے کی خاطر ہے۔ اس پروگرام کا مقصد کسی بھی بیرونی جارحیت یا خطرے کے خلاف ایک مؤثر اور متوازن دفاع فراہم کرنا ہے۔ پاکستان کی جوہری صلاحیت خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے اہم کردار ادا کرتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب جنوبی ایشیا میں دیگر جوہری طاقتیں بھی موجود ہیں۔

    پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کی پالیسی کا بنیادی مقصد دفاعی اور استحکام کو یقینی بنانا ہے۔ پاکستان کی حکمت عملی میں جوہری ہتھیاروں کو محض ایک “رکاوٹ” کے طور پر دیکھا جاتا ہے، نہ کہ جارحانہ استعمال کے لیے۔
    پاکستان میں جب بات قومی سالمیت، اسٹریٹجک اثاثوں اور میزائل پروگرام کی ہوتی ہے، تو تمام سیاسی جماعتیں یکجا ہوتی ہیں۔ اس بات کو آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے بھی اپنی تقاریر میں واضح کیا ہے کہ پاکستان کے جوہری اثاثے ملک کی قومی سلامتی کے محافظ ہیں اور اس پر تمام سیاسی قوتوں کا اتفاق ہے۔پاکستان کے جوہری پروگرام کے بارے میں تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ قومی سلامتی اور استحکام کسی بھی سیاسی وابستگی سے بالاتر ہے۔ ہر پاکستانی کے لیے ملک کی حفاظت اور سالمیت مقدس ہے، اور اس میں کسی بھی نوعیت کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

    پاکستان کی جوہری پالیسی عالمی سطح پر ایک ذمہ دار جوہری ریاست کے طور پر تسلیم کی گئی ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ اپنے جوہری ہتھیاروں کو صرف دفاعی مقاصد کے لیے رکھنے کی بات کی ہے اور اس بات کا عہد کیا ہے کہ وہ جوہری تنازعات میں ملوث نہیں ہوگا جب تک کہ کسی جارحیت کا سامنا نہ ہو۔ پاکستان کا یہ موقف عالمی برادری میں اس کے جوہری پروگرام کے بارے میں مثبت ردعمل کو جنم دیتا ہے اور اس کے دفاعی مقاصد کو تسلیم کیا جاتا ہے۔پاکستان کی عوام اپنی فوج اور دفاعی اداروں پر مکمل اعتماد رکھتے ہیں، اور یہ تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاق سے واضح ہے۔ ملک کے دفاعی ادارے قومی یکجہتی اور استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں، اور عوام کی حمایت اس بات کا مظہر ہے کہ پاکستان میں سیکیورٹی اور جوہری پروگرام کے حوالے سے ایک مشترکہ قومی عزم موجود ہے۔پاکستان کی جوہری صلاحیت نہ صرف ملک کی سلامتی کی ضامن ہے، بلکہ یہ خطے میں امن و استحکام کے لیے بھی اہمیت رکھتی ہے۔ پاکستان کی دفاعی حکمت عملی عالمی سطح پر اس کے نیک نیتی کے عزم کو ظاہر کرتی ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے دفاعی اثاثوں کو مکمل احتیاط اور ذمہ داری کے ساتھ استعمال کرے گا۔

    پاکستان کی جوہری طاقت ایک طاقتور دفاعی رکاوٹ کے طور پر خطے میں امن کی ضمانت ہے، اور اس کی قومی یکجہتی اور سلامتی ہر پاکستانی کے لیے سب سے اہم ہے۔ اس حوالے سے تمام سیاسی جماعتیں ایک ہی صف میں ہیں، اور اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ پاکستان کا دفاع اور استحکام کسی بھی قیمت پر محفوظ رکھا جائے گا۔

    baaghi blogs

  • میزائل پروگرام،پابندیاں،امریکہ پاکستانی خود مختاری کا پاس رکھے،تجزیہ:شہزاد قریشی

    میزائل پروگرام،پابندیاں،امریکہ پاکستانی خود مختاری کا پاس رکھے،تجزیہ:شہزاد قریشی

    امریکہ پاکستان کی خودمختاری کا پاس رکھنا ہوگا۔ پاکستان خطے میں واحد ملک ہے جو چار ممالک، بھارت، چین، افغانستان اور ایران کے درمیان میں موجود ہے ان چار ممالک کی زمینی سرحدیں پاکستان کے ساتھ ہیں۔ پاکستان کو اپنی سلامتی اور دفاعی پالیسی خارجہ پالیسیان چار ممالک کے موڈ اور ذہین کو مدنظر رکھ بنانا پڑتی ہے۔ ان چار ممالک میں بھارت پاکستان کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ بھارت کی تاریخ گواہ ہے کہ بھارت نے پاکستان کی ترقی و سالمیت اور خوشحالی کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی۔ امریکہ اور عالمی دنیا گواہ ہے بھارت براستہ افغانستان پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث رہا پاکستان کے پاس اس کے ثبوت بھی ہیں۔ امریکہ کو پاکستان جس نے نائن الیون سے قبل اور اسکے بعد جانی و مالی قربانیاں دیں،

    اس طرح کی پابندیاں امریکہ کو خود سوچنا ہوگا حالیہ پابندیوں سے دنیا کو کیا پیغام دیا ہے؟ پاکستان کی سیاسی و مذہبی جماعتیں دنیا کی بدلتی ہوئی پالیسیوں کا بغور جائزہ لے کر سیاست کریں ملکی سلامتی کے پیش نظر اپنی فوج اور جملہ اداروں کیخلاف سازشوں سے باز رہیں۔ ملکی سلامتی کے اداروں کو چوکنا رہنا ہوگا جو کچھ اسلامی ممالک میں ہو رہا ہے اس کا بغور جائزہ لیں۔ پاک فوج اور جملہ اداروں نے بڑی قربانیاں دے کر ملک و قوم کو دہشت گردی سے آزاد کرایا بحیثیت قوم ہمیں وطن عزیز کے خلاف بین الاقوامی سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہوگا۔ وطن عزیز کی سلامتی کے ضامن اداروں کے خلاف سازش کرنے والے عناصر کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ ملک کو داخلی اور خارجی دبائو سے بچا کر رکھنے والی پاک فوج اور اس کے جملہ ادارے ہی ہیں۔

    سیاسی گلیاروں میں جو اس وقت ماحول ہے کسی بھی زاویئے سے درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ پاک فوج اور اسکے جملہ ادارے دہشت گردی کا تن تنہا سامنا کر رہے ہیں امریکہ کو یہ نظر کیوں نہیں آتا پاک فوج اور جملہ ادارے داخلی سلامتی اور امن و امان کے دن رات ایک کئے ہوئے ہیں امریکہ پاکستان کی داخلی خودمختاری کو نشانہ بنانے سے گریز کرنا چاہئے۔ ملک کے وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کئی ہمسایہ ممالک کے دورے کر چکے ہیں وہ اپنے ہمسایہ ممالک کو اپنے موقف سے آگاہ کر رہے ہیں۔ امید ہے وہ امریکہ کی ٹرمپ انتظامیہ کو پاکستان پر اس طرح کی پابندیوں سے آزاد کروانے میں کامیاب ہو جائیں گے.

  • پاک فوج: تحفظ، قربانی اور قومی فخر کی داستان

    پاک فوج: تحفظ، قربانی اور قومی فخر کی داستان

    پاک فوج: تحفظ، قربانی اور قومی فخر کی داستان
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستان کی تاریخ میں پاک فوج کا کردار ہمیشہ بے مثال رہا ہے۔ چاہے جنگ ہو، دہشت گردی کے خلاف آپریشنز، قدرتی آفات یا عالمی امن مشنز، پاک فوج نے ہر موقع پر اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں امن قائم کرنے کے لیے اپنی ذمہ داریاں نبھائی ہیں۔

    2000 کے بعد کا دور پاکستان کے لیے ایک ہولناک حقیقت تھا۔ دہشت گردی کے حملوں نے ملک کو لپیٹ میں لے لیا تھا۔ بازار، تعلیمی ادارے، مساجد، اقلیتوں کی عبادت گاہیں اور ہسپتال تک محفوظ نہ تھے۔ خوف و دہشت نے عوام کی زندگی مفلوج کر دی تھی۔ ایسے میں پاک فوج نے خفیہ اداروں کے تعاون سے ایک منفرد حکمت عملی اپنائی۔ انہوں نے شہری علاقوں کو محفوظ رکھنے کی خاطر دہشت گردوں کے خلاف انتہائی مشکل اور پیچیدہ آپریشنز کیے۔ ہر گلی اور ہر محاذ پر ان جوانوں نے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر دشمن کو شکست دی۔ یہ ایک ایسی جنگ تھی جہاں دشمن چھپ کر وار کرتا تھا لیکن پاک فوج نے نہ صرف ان دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کیا بلکہ عوام کے جان و مال کی حفاظت کو بھی یقینی بنایا۔ انہی قربانیوں کے نتیجے میں ملک میں امن بحال ہوا۔

    قیام پاکستان سے لے کر آج تک پاک فوج نے ہر جنگ میں جرأت اور بہادری کی نئی تاریخ رقم کی ہے۔ 1947 کی جنگِ کشمیر، 1965 کی فتح یا 1999 کی کارگل وار، پاک فوج کے سپاہیوں نے ہمیشہ اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر سرحدوں کی حفاظت کی۔ 21ویں صدی کی دہشت گردی کے خلاف جنگ دنیا میں ایک منفرد مثال ہے، جہاں پاک فوج نے نہ صرف دشمن کو شکست دی بلکہ متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو اور عوام کی فلاح و بہبود میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

    پاک فوج کی قربانیاں صرف جنگوں تک محدود نہیں۔ 2005 کے زلزلے اور 2010 کے سیلاب کے دوران پاک فوج نے متاثرین کی بحالی اور امدادی سرگرمیوں میں بے مثال خدمات انجام دیں۔ یہی نہیں عالمی سطح پر اقوام متحدہ کے امن مشنز میں پاکستانی فوجیوں نے نمایاں کردار ادا کیا، کئی جوانوں نے اپنی جانیں قربان کر کے امن کے فروغ کے لیے اپنا حصہ ڈالا۔

    افسوس کی بات یہ ہے کہ آج سوشل میڈیا پر کچھ حلقے اپنی فوج کے خلاف پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جو پاک فوج کی قربانیوں کو فراموش کر کے منفی بیانیے کو فروغ دے رہے ہیں۔ انہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اگر پاک فوج نہ ہوتی تو آج ملک میں امن و سکون کا خواب بھی ممکن نہ ہوتا۔ یہ ادارہ ہمارا فخر ہے اور اس کے خلاف سازشیں شہدا کے خون کی توہین ہیں۔

    یہ وقت ہے کہ ہم اپنی افواج کی قربانیوں کا اعتراف کریں اور ان کے وقار کو بلند کریں۔ ہمیں اپنی فوج کے خلاف منفی بیانیے کا حصہ بننے کے بجائے ان قربانیوں کو سراہنا چاہیے جو وہ دن رات ہمارے تحفظ کے لیے دے رہی ہے۔ پاک فوج کے ہر سپاہی کی قربانی ہماری آزادی اور سکون کی ضمانت ہے۔ ہمیں عہد کرنا ہوگا کہ ہم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے اور ان کے خلاف ہونے والے ہر پروپیگنڈے کا بھرپور جواب دیں گے۔

    پاک فوج کے جوانوں کی قربانیاں ہمارے لیے امید کی کرن ہیں۔ ان کی قربانیوں کی بدولت آج ہم ایک محفوظ اور پرامن زندگی گزار رہے ہیں۔ ہمیں ان قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھنا اور ان کا احترام کرنا ہوگا۔ پاک فوج ہماری سرزمین کی محافظ ہے اور اس کا ہر جوان ہمارے وقار اور آزادی کی علامت ہے۔
    پاک فوج زندہ باد! پاکستان پائندہ باد!

  • میزائل پروگرام،امریکی پابندیاں پاکستانی خود مختاری پر حملہ

    میزائل پروگرام،امریکی پابندیاں پاکستانی خود مختاری پر حملہ

    امریکہ نے حال ہی میں پاکستان کی بیلسٹک میزائل بنانے والی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کی ہیں جس پر پاکستان کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ پاکستانی حکام اور عوام نے اس اقدام کی سخت مذمت کی ہے، اور اسے پاکستان کی خودمختاری پر حملہ اور اس کے دفاعی مفادات کے خلاف ایک سازش قرار دیا ہے۔

    پاکستان ایک خودمختار ملک ہے اور اس کا حق ہے کہ وہ اپنے دفاعی ضروریات کو پورا کرے۔ بیلسٹک میزائل پروگرام جو پاکستان نے تیار کیا ہے، مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے۔ اس کا مقصد پاکستان کی سلامتی کو یقینی بنانا اور کسی بھی بیرونی خطرے سے نپٹنے کے لیے موثر دفاعی صلاحیت فراہم کرنا ہے۔ یہ اقدام پاکستان کے قومی مفاد میں ہے اور اس کا کوئی غیر قانونی پہلو نہیں ہے۔امریکہ کا یہ اقدام پاکستان کے اندرونی معاملات میں کھلی مداخلت ہے۔ امریکہ نے جب اپنے دفاعی مفادات کو یقینی بنانے کے لیے مختلف اقسام کے ہتھیار تیار کیے ہیں اور دنیا بھر میں ان کا استعمال کیا ہے، تو پاکستان کو اپنے دفاعی حقوق سے کیوں محروم کیا جا رہا ہے؟ امریکہ کے دوہرے معیار اس وقت واضح ہیں جب وہ ایک طرف اپنی فوجی طاقت بڑھاتا ہے اور دوسری طرف دوسرے خودمختار ممالک کو اپنے دفاعی پروگرامز کو روکنے کی کوشش کرتا ہے۔

    امریکہ کی جانب سے عائد کی جانے والی یہ پابندیاں پاکستان کے دفاعی شعبے پر سنگین اثرات ڈال سکتی ہیں۔ پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام میں شامل کمپنیاں عالمی سطح پر اپنا کام جاری رکھتی ہیں اور ان پابندیوں سے نہ صرف ان کمپنیوں کے کاروبار پر منفی اثرات پڑیں گے بلکہ پاکستان کی دفاعی ترقی کی رفتار بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ اس سے نہ صرف پاکستان کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوگا، بلکہ یہ عالمی سطح پر پاکستان کی خودمختاری کے بارے میں امریکہ کی طرف سے ایک واضح پیغام بھی ہے کہ وہ پاکستان کے فیصلوں کو قابو میں لانے کی کوشش کر رہا ہے۔جو پاکستانی عوام کسی صورت قبول نہیں کریں گے.

    پاکستان کی مختلف سیاسی جماعتوں نے اس اقدام کی شدید مذمت کی ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور دفاعی مفادات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔پیپلز پارٹی کی جانب سے رضا ربانی، امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان، مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے اس موقع پر اپنے موقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پوری قوم متحد ہو کر اپنے دفاعی حقوق کا تحفظ کرے گی۔ پاکستان کی افواج اور دفاعی ادارے ملک کی خودمختاری اور دفاع کے لیے جان کی قربانی دینے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔

    پاکستان نے امریکہ کے دوہرے معیار کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ امریکہ خود بڑے پیمانے پر جدید ترین ہتھیاروں کی تیاری اور استعمال میں مصروف ہے، اور وہ دنیا کے مختلف حصوں میں اپنی فوجی مداخلت جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایسے میں وہ دوسرے خودمختار ممالک کی دفاعی ترقی پر پابندیاں عائد کرنے کا حق کیسے رکھتا ہے؟ امریکہ کا یہ اقدام نہ صرف پاکستان کے لیے بلکہ دنیا بھر میں اس کے دوہرے معیار کی ایک واضح مثال بن چکا ہے۔پاکستان کے عوام اور حکومت نے اس بات پر واضح کیا ہے کہ وہ اپنے دفاعی حقوق کی حفاظت کے لیے کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ پاکستان کی حکومت اور افواج اپنے ملک کی خودمختاری اور قومی مفادات کا بھرپور دفاع کریں گے۔ پاکستان میں تمام سیاسی جماعتیں اس وقت اپنے قومی مفادات میں متحد ہیں اور اپنے دفاعی اداروں کے ساتھ کھڑی ہیں۔

    امریکہ کی جانب سے پاکستان کی بیلسٹک میزائل کمپنیوں پر عائد کی جانے والی پابندیاں ایک غیر منصفانہ اقدام ہے جو نہ صرف پاکستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہے بلکہ عالمی سطح پر امریکہ کے دوہرے معیار کی عکاسی کرتی ہیں۔ پاکستان کا بیلسٹک میزائل پروگرام مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد صرف اور صرف پاکستان کی سلامتی اور خودمختاری کا تحفظ ہے۔ پاکستان اپنے دفاعی حقوق کے لیے کسی بھی قسم کے دباؤ کو تسلیم نہیں کرے گا اور عالمی سطح پر اپنی خودمختاری کا بھرپور دفاع کرے گا۔پاکستان کی میزائل پروگرام پر امریکی پابندی سےپاکستان کی عوام کو امریکہ کی پاکستان دشمنی کھل عیاں ہوگئی ہے،اسکاجواب پاکستانیوں کوہر لیول پر دینا ہے ، اور پاکستانی دیں گے، پاکستانی قوم وطن عزیز کے دفاع کے لئے پاکستان کے عسکری ،دفاعی اداروں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے اور رہے گی.
    baaghi blogs

  • سیم جینڈر سے جنسی کشش نفسیاتی مسئلہ.تحریر:ملک ارشد

    سیم جینڈر سے جنسی کشش نفسیاتی مسئلہ.تحریر:ملک ارشد

    آج کل کے دور میں بہت سے نوجوانوں میں ہم جنسیت (سیم جینڈر سے جنسی کشش) کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ مسئلہ نہ صرف فرد کی ذہنی حالت کا عکاس ہے بلکہ ہمارے معاشرتی اور ثقافتی ماحول سے بھی گہرا تعلق رکھتا ہے۔ بعض لوگ اس رجحان کو صرف ایک "ذہنی بیماری” یا "غلط سوچ” سمجھتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ ایک پیچیدہ نفسیاتی اور سماجی مسئلہ ہے جسے مختلف زاویوں سے سمجھنا ضروری ہے۔

    ہم جنسیت کی کشش کی نفسیات میں ایک اہم پہلو "دماغی تربیت” یا "مائنڈ سیٹنگ” ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر انسان میں جنسی کشش موجود ہوتی ہے، اور یہ کشش مختلف لوگوں میں مختلف نوعیت کی ہو سکتی ہے۔ بعض اوقات، فرد کا دماغ کسی ایک جینڈر (مخالف یا ہم جنس) کے لئے زیادہ کشش محسوس کرتا ہے۔اگر ہم نفسیاتی لحاظ سے بات کریں، تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر کسی فرد نے بچپن میں غیر صحت مند ماحول میں پرورش پائی ہو یا کسی خاص نوعیت کے ذہنی دباؤ یا چیلنجز کا سامنا کیا ہو، تو اس کا دماغ اس صورتحال کو ایک خاص طریقے سے پروسیس کرتا ہے۔ ایسے حالات میں، وہ ہم جنس سے جنسی کشش محسوس کرنے لگتا ہے۔اس کو ایک طرح سے "برین فیڈنگ” یا "مائنڈ سیٹنگ” کہا جا سکتا ہے جس کے ذریعے فرد اپنے ذہن میں غیر فطری رجحانات پیدا کرتا ہے۔ یہ دراصل ایک نفسیاتی اثر ہے، جس میں بچپن میں گزرے ہوئے تجربات اور معاشرتی تربیت کا بڑا ہاتھ ہوتا ہے۔

    ہر انسان میں قدرتی طور پر دونوں جینڈر (مرد اور عورت) سے جنسی کشش محسوس کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ یہ کشش معمول کی بات ہے اور ہر فرد کے اندر کسی نہ کسی صورت میں موجود ہوتی ہے۔ تاہم، جب ہم سیم جینڈر سے جنسی کشش کی بات کرتے ہیں، تو یہ ایک مختلف نوعیت کی کشش ہوتی ہے۔یہ حقیقت ہے کہ ہم سب اپنے والدین، بہن بھائیوں، اور قریبی رشتہ داروں کے ساتھ محبت اور عزت رکھتے ہیں۔ یہ بھی ایک نوع کی "کشش” ہوتی ہے، مگر اس کشش کی نوعیت اور اس کا اظہار مختلف ہوتا ہے۔ صحت مند نفسیاتی اور سماجی تربیت ہمیں بتاتی ہے کہ ہم جنس کے افراد کے ساتھ عزت و احترام کی بنیاد پر تعلق قائم کیا جائے، نہ کہ کسی جنسی جذبے کے طور پر۔

    ہماری مذہبی تعلیمات اور اخلاقی تربیت بھی ہماری جنسی کشش کی سمت کو متعین کرتی ہیں۔ اسلام، مسیحیت، ہندومت اور دیگر مذاہب میں ہم جنسیت کو غیر فطری اور غلط سمجھا گیا ہے۔ مذہبی تعلیمات میں بتایا گیا ہے کہ مرد اور عورت کا رشتہ قدرتی اور فطری ہے، اور اسی میں انسان کی جسمانی اور روحانی سکونت ہے۔جب افراد مذہبی تربیت سے آراستہ ہوتے ہیں، تو ان کے ذہن میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ کسی بھی قسم کی ہم جنسیت کی طرف رغبت غیر فطری ہے اور اس سے بچنا چاہیے۔ یہ تربیت انسان کو اپنی جنسی کشش کو صحیح سمت میں متحرک کرنے میں مدد دیتی ہے اور اس کی زندگی میں سکون و سکونت کا باعث بنتی ہے۔

    ایک اور اہم پہلو جو سیم جینڈر سے جنسی کشش کی طرف رجحان پیدا کر سکتا ہے، وہ بچپن کے زمانے میں ہونے والے نفسیاتی ٹراما (چائلڈ ایج ٹراما) ہیں۔ اگر بچپن میں کسی فرد کو مخالف جینڈر کی طرف سے کوئی منفی تجربہ، تشویش یا جسمانی یا ذہنی اذیت کا سامنا ہوتا ہے، تو اس کا دماغ اس تجربے کو اپنی جنسی کشش کے طور پر پروسیس کر سکتا ہے۔اس کا اثر بعد کی زندگی پر پڑتا ہے، اور فرد سیم جینڈر کی طرف اپنی جنسی کشش محسوس کرنے لگتا ہے۔ اس نفسیاتی مسئلے کو حل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ چائلڈ ایج ٹراما کو درست طریقے سے علاج کیا جائے، تاکہ دماغ کے کرپٹ سگنلز دوبارہ نیچرل پیٹرن پر آ جائیں۔

    ہمیں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہر شخص کا دماغ اور تربیت مختلف ہوتی ہے۔ اگر کسی شخص کو سیم جینڈر کی طرف کشش محسوس ہوتی ہے، تو یہ اس کے ذہنی اور نفسیاتی پس منظر پر منحصر ہوتا ہے۔ یہ ہمیشہ ذہنی بیماری یا گندی سوچ نہیں ہوتی، بلکہ یہ ایک پیچیدہ نفسیاتی اور سماجی مسئلہ ہو سکتا ہے۔ہمیں اپنے ذہنوں میں یہ بات رکھنی چاہیے کہ احترام اور محبت کے جذبات ہر نوع کے رشتہ میں موجود ہوتے ہیں، چاہے وہ مخالف جینڈر ہو یا ہم جنس۔ یہ صرف تربیت اور ماحول پر منحصر ہے کہ ہم اس کشش کو کس طرح سمجھتے ہیں اور اس کا اظہار کس طرح کرتے ہیں۔

    سیم جینڈر سے جنسی کشش ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جسے صرف ذہنی بیماری کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ یہ نفسیاتی، سماجی اور مذہبی عوامل سے متاثر ہو سکتا ہے، اور اس کے حل کے لیے بہتر تربیت، ذہنی سکون اور مثبت ماحول کی ضرورت ہے۔ اگر کسی فرد میں اس کشش کا اظہار ہو رہا ہو، تو اس کو صحیح طریقے سے سمجھنا اور اس کا علاج کرنا ضروری ہے تاکہ وہ قدرتی، فطری اور صحت مند ذہنی حالت کی طرف واپس آ سکے۔آخرکار، ہمارے ذہنوں کو قدرتی اور صحت مند پیٹرن کے ساتھ تربیت دینا ہماری زندگی کو بہتر بنا سکتا ہے اور ہمیں سکون فراہم کر سکتا ہے۔

  • عورت کی ہر ادا خود اک تعویذ بن سکتی ہے،تحریر:مہر بشارت صدیقی

    عورت کی ہر ادا خود اک تعویذ بن سکتی ہے،تحریر:مہر بشارت صدیقی

    ہزاروں سال سے انسانوں نے مختلف طریقوں سے اپنی زندگی کے مسائل حل کرنے کی کوشش کی ہے، اور ان میں ایک بہت بڑی تعداد ان لوگوں کی ہے جو روحانی چیزوں میں سکون اور رہنمائی تلاش کرتے ہیں۔ تعویذ، جن کو ہم عموماً ایک کاغذی یا دھاگے میں لپٹے ہوئے نسخے کی صورت میں دیکھتے ہیں، ان کا مقصد کسی قسم کے روحانی یا جسمانی مسائل سے نجات پانا ہوتا ہے۔ لیکن جب ہم بات کرتے ہیں خاص طور پر عورتوں کے تعویذ لینے کی، تو ایک بہت اہم سوال سامنے آتا ہے: کیا واقعی ہمیں اس طرح کے روحانی نسخوں کی ضرورت ہے، یا پھر ہمارے اندر خود اتنی طاقت اور صلاحیت ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کو بہتر بنا سکیں؟

    یہ جو عورتیں تعویذ لینے آتی ہیں کہ "حضرت! میرے شوہر کے ساتھ کچھ مسئلہ ہے، وہ میری طرف نہیں آتا یا ہماری زندگی میں خوشی نہیں ہے”، مجھے ذاتی طور پر یہ بہت حیران کن لگتا ہے۔ یہ ایک ایسی بیوی کی تصویر ہے جو جوان، تعلیم یافتہ، اور عقل و فہم سے مالا مال ہے، پھر بھی وہ روحانی تعویذوں کی تلاش میں ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسی عورت کے اندر جو خوبیاں اور صلاحیتیں اللہ نے رکھی ہیں، ان کا فائدہ اُٹھا کر اپنے مسائل کا حل کیوں نہ نکالا جائے؟

    یاد رکھیے کہ اللہ تعالیٰ نے عورت کو بے شمار خوبیاں دی ہیں جن میں سب سے بڑی چیز اس کا فطری حسن، محبت کرنے کی صلاحیت، اور سمجھداری ہے۔ ایک نیک و فہمی عورت کی ہر ادا خود ایک تعویذ بن سکتی ہے۔ اللہ نے عورت کے اندر ایسی کشش رکھی ہے کہ وہ اپنی باتوں، انداز، اور طرزِ زندگی سے اپنے شوہر کے دل میں محبت اور تعلق پیدا کر سکتی ہے۔ مرد کی دل کی کشش کا راز بھی عورت کی ہر چھوٹی سے چھوٹی بات یا حرکت میں ہوتا ہے۔ لہٰذا، اگر کوئی عورت اپنے اندر موجود نرگسیت، محبت، اور سمجھداری کا صحیح استعمال کرے، تو وہ اپنے شوہر کو اپنی طرف مائل کر سکتی ہے۔عورت کو ان تعویذوں کی ضرورت نہیں ہے جو کاغذ پر لکھے ہوتے ہیں، بلکہ اسے اپنی باتوں، انداز اور محبت میں چھپی ہوئی طاقت کا استعمال کرنا چاہیے۔ مرد کی دل کی کشش، عورت کی باتوں میں چھپی ہوئی محبت، اور اس کی مسکراہٹ میں بسی ہوئی راحت ہی وہ تعویذ ہیں جن کی واقعی ضرورت ہوتی ہے۔

    جب شوہر تھکا ہارا گھر آتا ہے، تو گھر کا ماحول اس کے لیے سکون اور راحت کا ذریعہ بننا چاہیے۔ لیکن اگر بیوی بھی تھکی ہوئی ہو، تو ایسا ماحول قائم نہیں ہو پاتا۔ جب شوہر کام سے واپس آتا ہے، تو بیوی کا اس کا استقبال محبت سے، خوش اخلاقی سے، اور ہنستے ہوئے چہرے کے ساتھ کرنا، یہ سب ایسی چیزیں ہیں جو مرد کے دل کو سکون دیتی ہیں۔بیوی کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو فریش (تروتازہ) رکھے، اور شوہر کے سامنے محبت بھری باتیں کرے۔ اگر وہ اپنی باتوں اور انداز سے شوہر کو خوش رکھے گی، تو پھر دیکھیں کہ گھر میں کیسی خوشیاں آتی ہیں۔ مرد جب اپنی بیوی سے محبت و پیار دیکھے گا، تو وہ خود بھی ان تمام تر پریشانیوں سے آزاد ہو جائے گا جن کا وہ دن بھر سامنا کرتا ہے۔لہذا، عورت کو چاہیے کہ وہ اپنی قدرتی صلاحیتوں اور حسن کو سمجھے اور ان کا استعمال کرے۔ اللہ نے اس کے اندر اتنی طاقت رکھی ہے کہ وہ اپنے شوہر کو خوش رکھ سکتی ہے، اور اپنے گھر میں سکون اور محبت کا ماحول پیدا کر سکتی ہے۔ تعویذ لینے کی بجائے، وہ اپنے طرزِ زندگی اور رویے میں تبدیلی لائے، تاکہ وہ اپنے شوہر کے دل میں محبت اور تعلق پیدا کر سکے۔

    یاد رکھیں کہ ایک نیک و فہمی اور محبت کرنے والی بیوی کے لیے اس کی ہر حرکت، ہر بات اور ہر انداز ایک تعویذ کی مانند ہوتا ہے۔ عورت کے اندر ایسی بے پناہ طاقت ہے کہ وہ اپنے شوہر کے دل میں محبت اور سکون کا خزانہ بنا سکتی ہے۔ اس کا تعلق روحانیت اور محبت سے ہے، نہ کہ کسی کاغذی تعویذ سے۔

    baaghi blogs

  • محبت اور وفا کسی ایک جنس پر محدود نہیں .تحریر:ساجدہ امیر

    محبت اور وفا کسی ایک جنس پر محدود نہیں .تحریر:ساجدہ امیر

    کسی نے لکھا ” کون کہتا ہے برداشت کا عنصر صرف عورت کے پاس ہے؟ اس مرد کے بارے میں کیا خیال ہے جس نے محض باپ کی لاج رکھنے کے لئے فقط ماں کے دونوں جڑے ہاتھوں کی لاج رکھنے کے لئیے اپنی پسندیدہ عورت کو تیاگ دیا ہو؟ اور اپنے گھر آنے والی اس عورت کو وہ سب مقام دیے ہوں جسکے خواب اسنے اپنی محبوب عورت کے لیے سینچے تھے۔میں ہمیشہ لکھتی ہوں کہ محبت اور وفا کسی ایک جنس پر محدود نہیں فرق فطرت کا ہوتا ہے۔ہر مرد کی فطرت میں قربانی نہیں ہوتی اسی طرح ہر عورت کی فطرت میں ایک مقام پر ٹھہرنا نہیں ہوتا۔ فرق ہر جنس کی اپنی اپنی فطرت کا ہے۔کہیں مرد قربانیاں دیتا چلا جاتا ہے کہیں عورت سہتے سہتے قربان ہو جاتی ہے۔”

    بالکل درست لکھا ہے۔۔۔
    "میں نے ایسے مرد بھی دیکھے ہیں جن کے پاس اختیار ہوتا ہے جو خود مختار ہوتے ہیں مگر وہ خود کو روک لیتے ہیں اس عورت پر اکتفا کرلیتے ہیں جن کو اس پر نافذ کیا گیا تھا مسلط کیا گیا تھا۔عورت تو یہ قربانی صدیوں سے دیتی آرہی ہے مگر مرد بھی یہ قربانی بارہا دے چکا ہے، پھر مرد کو بے وفائی کا ٹیگ لگا دینا یہ سراسر بد دیانتی ہے۔ ایسے مرد بھی دیکھے ہیں میرے مشاہدے سے گزرے ہیں جنھوں نے اپنی بیوی کی اس خطا کو بھی معاف کردیا جس کے بعد چھوڑدینا اس مرد کا حق بنتا تھا مگر پھر بھی اس مرد نے بے وفائی کر کے نادم ہونے پر اس عورت کو وہ مقام دیا جسکی وہ حق دار نہیں تھی۔”

    مرد رب العالمین کی خوبصورت تخلیق ہے، وہی عورت نایاب تخلیق ہے۔ کبھی کبھار مرد کے سامنے باپ کی پگڑی، ماں کا دوپٹہ اور بہن کے آنسو روکاوٹ بن جاتے ہیں ۔۔۔۔ اگر عورت کو باپ کی عزت پیار ہے تو مرد کو بھی پیار ہے۔۔۔۔ اگر عورت مجبور ہو سکتی ہے تو مرد بھی بے بس ہو جاتا ہے۔۔۔۔
    بہرحال سب ایک جیسے نہیں ہیں۔۔۔ جسم کے پجاری مرد اس معاشرے میں ہیں تو پیسے کی لالچی عورت بھی موجود ہے۔۔۔ بہت سے تجربات کے بعد کہہ رہی ہوں کہ اگر سب مرد جسم کے بھوکے ہوتے تو آج ایک عورت بھی زندہ نہ ہوتی اور اگر سب عورتیں لالچی ہوتیں تو کوئی بھی مرد اب تک بینک میں بیلنس رکھے ہوئے نہ ملتا۔۔۔۔

    بے وفائی اور وفاداری کے جراثیم مرد و عورت دونوں میں ہیں۔۔۔۔ ہم نے وہ مرد بھی دیکھے کہ جو اپنی عورتوں کی اس غلطی کو معاف کر دیتے ہیں جس پر طلاق دینا بنتا تھا اور ہم نے وہ عورتیں بھی دیکھی ہیں جنہوں نے طلاق کی پارٹیاں منائی اور فقط آزادی کی خاطر خلع نامہ بھیجا۔۔۔۔
    آج بھی مرد زندہ ہیں جو سچی محبتیں کرتے ہیں اور آج بھی وہ عورتیں زندہ ہیں جو سچی محبت کی متلاشی ہیں ۔

  • پاک بحریہ، دفاع اور خطے میں امن کی ضامن

    پاک بحریہ، دفاع اور خطے میں امن کی ضامن

    پاک بحریہ، دفاع اور خطے میں امن کی ضامن
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    کسی بھی ملک کی ایک مضبوط بحریہ نہ صرف دشمنوں کے عزائم کو خاک میں ملا سکتی ہے بلکہ اس ملک کی سلامتی اور ترقی کا بھی ضامن ہوتی ہے۔ پاکستان نیوی بھی ایسی ہی ایک مضبوط بحری قوت ہے۔ پاکستان کو اپنے قیام سے ہی ایک مکار اور بدنیتی پر مبنی پڑوسی سے واسطہ پڑا ہے جو ہمیشہ سے پاکستان کی آزادی اور سلامتی کے لیے خطرہ بنا رہا ہے۔ اس خطے میں پاکستان کی سمندری حدود کی حفاظت اور ملک کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان نیوی ایک قابل اعتماد اور لائق فوج کے طور پر اپنی خدمات انجام دے رہی ہے

    1947 میں تقسیم ہند کے بعد دونوں ملکوں نے اپنی بحریہ قائم کیں۔ بھارت نے اپنی بحری طاقت میں جلد اضافہ کیا جبکہ پاکستان نے کم وسائل کے باوجود اپنی دفاعی حکمت عملی پر زور دیا۔ وقت کے ساتھ دونوں ممالک نے اپنی بحری صلاحیتوں کو بہتر بنایا لیکن پاکستان نے زیادہ دفاعی حکمت عملی اپناتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی پر توجہ دی۔ آج کے دور میں پاکستان کی بحری فوج خطے میں طاقت کے توازن اور عالمی سلامتی کے لیے اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

    بی بی سی اردو کی ایک رپورٹ کے مطابق انڈین بحریہ کے سربراہ ایڈمرل دینیش ترپاٹھی نے پاکستانی بحریہ کی بڑھتی ہوئی طاقت اور چین سے اس کے اشتراک پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے انڈین بحریہ کے سربراہ نے کہا کہ انڈیا پاکستانی بحریہ کی ’حیرت انگیز ترقی‘ سے پوری طرح آگاہ ہے جو آئندہ برسوں میں اپنے موجودہ بحری بیڑے کی صلاحیت 50 بحری جہازوں تک بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔

    ایڈمرل ترپاٹھی کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم اُن (پاکستان) کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کے بارے میں پوری طرح آگاہ ہیں اسی لیے ہم اپنے مفادات پر پڑنے والے کسی ممکنہ منفی اثر کو زائل کرنے کے لیے اپنی حکمت عملی اور آپریشنل منصوبے میں تبدیلی کر رہے ہیں۔ ہم کسی بھی چیلنج کا سامنا کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اِس وقت چین پاکستانی بحریہ کی بحری جہاز اور آبدوزیں بنانے میں مدد کر رہا ہے۔

    1947 میں قیام پاکستان کے وقت پاک نیوی بہت کمزور تھی لیکن وقت کے ساتھ یہ ادارہ مضبوط ہوا۔ آج پاکستان نیوی نہ صرف ملکی سمندری سرحدوں کی حفاظت کر رہی ہے بلکہ خطے میں استحکام برقرار رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

    پاکستان کے پاس تقریباً 45 جنگی جہاز ہیں جن میں چھ آئل ٹینکرز بھی شامل ہیں۔ مزید آبدوزیں اور جنگی جہاز تیاری کے مراحل میں ہیں جو مستقبل میں نیوی کی صلاحیتوں کو مزید بڑھائیں گے۔ پاکستانی نیوی نے چین کے ساتھ مل کر ٹائپ 054 اے جنگی جہازوں کا معاہدہ کیا جن میں سے دو جہاز حال ہی میں بیڑے میں شامل کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ہنگور کلاس آبدوزوں کا منصوبہ بھی جاری ہے جو 2028 تک مکمل ہو گا۔

    پاکستانی نیوی نے ترکی اور رومانیہ کے تعاون سے جنگی جہاز بنائے ہیں جو مستقبل میں پاکستان کی بحری دفاعی حکمت عملی کو مزید مضبوط کریں گے۔ اس کے علاوہ کراچی کے شپ یارڈ میں بھی جدید جنگی جہازوں کی تیاری جاری ہے۔ پاکستانی نیوی کی قیادت نے ترقی کی رفتار کو تیز کرتے ہوئے نہ صرف فنڈز حاصل کیے بلکہ جدید ہتھیاروں اور سینسرز کی خریداری کو بھی یقینی بنایا۔

    پاکستان نیوی کے مشنز بنیادی طور پر دفاعی نوعیت کے ہیں جن کا مقصد ملکی سمندری سرحدوں کی حفاظت اور تجارتی راستوں کی نگرانی کرنا ہے۔ پاکستان کی 90 فیصد تجارت سمندری راستوں کے ذریعے ہوتی ہے اس لیے نیوی کا کردار قومی معیشت کے تحفظ میں بھی اہم ہے۔

    پاکستانی نیوی ہر دو سال بعد مشقیں کرتی ہے تاکہ اپنی صلاحیتوں کو جانچ سکے اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار رہے۔ حالیہ مشق ‘سی سپارک 2024’ نے نیوی کی آپریشنل صلاحیتوں کو مزید اجاگر کیا۔ ان مشقوں کے دوران نیوی نے بھارتی بحری جہازوں اور آبدوزوں کی نقل و حرکت کا پتہ لگایا اور ان کی جاسوسی کی کوششوں کو ناکام بنایا۔

    دوسری جانب بھارتی نیوی کی تعداد اور وسائل پاکستان سے زیادہ ہیں۔ بھارت کے پاس 150 بحری جہاز، دو طیارہ بردار جہاز، 16 روایتی اور دو نیوکلیئر آبدوزیں موجود ہیں۔ بھارتی نیوی نے حال ہی میں اپنے طیارہ بردار بحری جہاز ‘آئی این ایس وراٹ’ کی تیاری مکمل کی ہے اور مزید جہاز بنانے کے منصوبے جاری ہیں۔

    تاہم دفاعی ماہرین کے مطابق بھارتی نیوی کی بڑی تعداد کے باوجود ان کی کئی آبدوزیں پرانی ہو چکی ہیں اور جنگی آپریشنز کے لیے غیر موزوں ہیں۔ پاکستان کے پاس موجود روایتی آبدوزیں بھارتی نیوی کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتی ہیں۔ چین کے تعاون سے پاکستان نے ایریا ڈینائل میزائل حاصل کیے ہیں جو 200 سے 400 کلومیٹر تک کے اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    پاکستان نیوی نے اپنی ترقی کی رفتار کو برقرار رکھتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دیا ہے۔ نیوی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی بحری صلاحیتوں میں اضافہ نہ صرف ملکی دفاع بلکہ خطے میں طاقت کے توازن کے لیے بھی ضروری ہے۔

    ریئر ایڈمرل ریٹائرڈ فیصل شاہ نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوکہاکہ پاکستان نیوی نے اپنی حکمت عملی کو خطے کی بدلتی ہوئی ضروریات کے مطابق ڈھالا ہے۔ چین کے ساتھ بڑھتا ہوا تعاون اور جدید جہازوں کی تیاری مستقبل میں پاکستان کو ایک اہم بحری طاقت بنانے میں مددگار ثابت ہو گا۔

    وائس ایڈمرل ریٹائرڈ احمد تسنیم کے مطابق پاک نیوی کی قیادت نے بہترین فیصلے کیے جن کی بدولت پاکستانی بحریہ نہ صرف اپنی سرحدوں کی حفاظت بلکہ خطے میں امن و امان برقرار رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ پاکستانی نیوی کی یہ پیش رفت انڈیا کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ وہ کسی بھی جارحیت کے لیے تیار رہے۔

  • روس نےکینسر ویکسین بنالی، شہریوں کو مفت دینےکا اعلان

    روس نےکینسر ویکسین بنالی، شہریوں کو مفت دینےکا اعلان

    باغی ٹی وی (ویب ڈیسک)روس نے کینسر کی ویکسین تیار کرلی ہے اور اسے مفت فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ روسی وزارت صحت کے مطابق یہ ویکسین کینسر ہونے سے روک نہیں سکتی لیکن اس کے علاج میں مؤثر ثابت ہوسکتی ہے۔

    یہ ویکسین mRNA ٹیکنالوجی پر مبنی ہے اور 2025 کے اوائل میں لانچ کی جائے گی۔ روسی حکومت اس کی ایک ڈوز پر 2 ہزار 869 ڈالر خرچ کرے گی لیکن اسے روس کے کینسر مریضوں میں بلا معاوضہ تقسیم کیا جائے گا۔

    ویکسین ہر مریض کو اس کے کینسر کی نوعیت کے مطابق دی جائے گی۔ تاہم، تاحال یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ ویکسین کس قسم کے کینسر کے لیے زیادہ مؤثر ہے اور کس حد تک علاج میں معاون ہوگی۔

    روسی وزارت صحت کے ریڈیولوجی میڈیکل ریسرچ سینٹر کے سربراہ آندرے کپرین کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں روس میں کینسر کے کیسز میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ 2022 میں 6 لاکھ 35 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ کیے گئے، جن میں بڑی آنت، چھاتی اور پھیپھڑوں کا کینسر سب سے عام ہیں۔

    یہ ویکسین جسم کے مدافعتی نظام کو مضبوط بناتی ہے اور ٹیومر سے متاثرہ حصوں کو کینسر سے لڑنے کی صلاحیت دیتی ہے۔ روسی عوام کے لیے یہ ایک امید کی کرن ہے جو ان کی زندگیوں پر مثبت اثر ڈال سکتی ہے۔