Baaghi TV

Category: بلاگ

  • عورت کی ہر ادا خود اک تعویذ بن سکتی ہے،تحریر:مہر بشارت صدیقی

    عورت کی ہر ادا خود اک تعویذ بن سکتی ہے،تحریر:مہر بشارت صدیقی

    ہزاروں سال سے انسانوں نے مختلف طریقوں سے اپنی زندگی کے مسائل حل کرنے کی کوشش کی ہے، اور ان میں ایک بہت بڑی تعداد ان لوگوں کی ہے جو روحانی چیزوں میں سکون اور رہنمائی تلاش کرتے ہیں۔ تعویذ، جن کو ہم عموماً ایک کاغذی یا دھاگے میں لپٹے ہوئے نسخے کی صورت میں دیکھتے ہیں، ان کا مقصد کسی قسم کے روحانی یا جسمانی مسائل سے نجات پانا ہوتا ہے۔ لیکن جب ہم بات کرتے ہیں خاص طور پر عورتوں کے تعویذ لینے کی، تو ایک بہت اہم سوال سامنے آتا ہے: کیا واقعی ہمیں اس طرح کے روحانی نسخوں کی ضرورت ہے، یا پھر ہمارے اندر خود اتنی طاقت اور صلاحیت ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کو بہتر بنا سکیں؟

    یہ جو عورتیں تعویذ لینے آتی ہیں کہ "حضرت! میرے شوہر کے ساتھ کچھ مسئلہ ہے، وہ میری طرف نہیں آتا یا ہماری زندگی میں خوشی نہیں ہے”، مجھے ذاتی طور پر یہ بہت حیران کن لگتا ہے۔ یہ ایک ایسی بیوی کی تصویر ہے جو جوان، تعلیم یافتہ، اور عقل و فہم سے مالا مال ہے، پھر بھی وہ روحانی تعویذوں کی تلاش میں ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسی عورت کے اندر جو خوبیاں اور صلاحیتیں اللہ نے رکھی ہیں، ان کا فائدہ اُٹھا کر اپنے مسائل کا حل کیوں نہ نکالا جائے؟

    یاد رکھیے کہ اللہ تعالیٰ نے عورت کو بے شمار خوبیاں دی ہیں جن میں سب سے بڑی چیز اس کا فطری حسن، محبت کرنے کی صلاحیت، اور سمجھداری ہے۔ ایک نیک و فہمی عورت کی ہر ادا خود ایک تعویذ بن سکتی ہے۔ اللہ نے عورت کے اندر ایسی کشش رکھی ہے کہ وہ اپنی باتوں، انداز، اور طرزِ زندگی سے اپنے شوہر کے دل میں محبت اور تعلق پیدا کر سکتی ہے۔ مرد کی دل کی کشش کا راز بھی عورت کی ہر چھوٹی سے چھوٹی بات یا حرکت میں ہوتا ہے۔ لہٰذا، اگر کوئی عورت اپنے اندر موجود نرگسیت، محبت، اور سمجھداری کا صحیح استعمال کرے، تو وہ اپنے شوہر کو اپنی طرف مائل کر سکتی ہے۔عورت کو ان تعویذوں کی ضرورت نہیں ہے جو کاغذ پر لکھے ہوتے ہیں، بلکہ اسے اپنی باتوں، انداز اور محبت میں چھپی ہوئی طاقت کا استعمال کرنا چاہیے۔ مرد کی دل کی کشش، عورت کی باتوں میں چھپی ہوئی محبت، اور اس کی مسکراہٹ میں بسی ہوئی راحت ہی وہ تعویذ ہیں جن کی واقعی ضرورت ہوتی ہے۔

    جب شوہر تھکا ہارا گھر آتا ہے، تو گھر کا ماحول اس کے لیے سکون اور راحت کا ذریعہ بننا چاہیے۔ لیکن اگر بیوی بھی تھکی ہوئی ہو، تو ایسا ماحول قائم نہیں ہو پاتا۔ جب شوہر کام سے واپس آتا ہے، تو بیوی کا اس کا استقبال محبت سے، خوش اخلاقی سے، اور ہنستے ہوئے چہرے کے ساتھ کرنا، یہ سب ایسی چیزیں ہیں جو مرد کے دل کو سکون دیتی ہیں۔بیوی کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو فریش (تروتازہ) رکھے، اور شوہر کے سامنے محبت بھری باتیں کرے۔ اگر وہ اپنی باتوں اور انداز سے شوہر کو خوش رکھے گی، تو پھر دیکھیں کہ گھر میں کیسی خوشیاں آتی ہیں۔ مرد جب اپنی بیوی سے محبت و پیار دیکھے گا، تو وہ خود بھی ان تمام تر پریشانیوں سے آزاد ہو جائے گا جن کا وہ دن بھر سامنا کرتا ہے۔لہذا، عورت کو چاہیے کہ وہ اپنی قدرتی صلاحیتوں اور حسن کو سمجھے اور ان کا استعمال کرے۔ اللہ نے اس کے اندر اتنی طاقت رکھی ہے کہ وہ اپنے شوہر کو خوش رکھ سکتی ہے، اور اپنے گھر میں سکون اور محبت کا ماحول پیدا کر سکتی ہے۔ تعویذ لینے کی بجائے، وہ اپنے طرزِ زندگی اور رویے میں تبدیلی لائے، تاکہ وہ اپنے شوہر کے دل میں محبت اور تعلق پیدا کر سکے۔

    یاد رکھیں کہ ایک نیک و فہمی اور محبت کرنے والی بیوی کے لیے اس کی ہر حرکت، ہر بات اور ہر انداز ایک تعویذ کی مانند ہوتا ہے۔ عورت کے اندر ایسی بے پناہ طاقت ہے کہ وہ اپنے شوہر کے دل میں محبت اور سکون کا خزانہ بنا سکتی ہے۔ اس کا تعلق روحانیت اور محبت سے ہے، نہ کہ کسی کاغذی تعویذ سے۔

    baaghi blogs

  • محبت اور وفا کسی ایک جنس پر محدود نہیں .تحریر:ساجدہ امیر

    محبت اور وفا کسی ایک جنس پر محدود نہیں .تحریر:ساجدہ امیر

    کسی نے لکھا ” کون کہتا ہے برداشت کا عنصر صرف عورت کے پاس ہے؟ اس مرد کے بارے میں کیا خیال ہے جس نے محض باپ کی لاج رکھنے کے لئے فقط ماں کے دونوں جڑے ہاتھوں کی لاج رکھنے کے لئیے اپنی پسندیدہ عورت کو تیاگ دیا ہو؟ اور اپنے گھر آنے والی اس عورت کو وہ سب مقام دیے ہوں جسکے خواب اسنے اپنی محبوب عورت کے لیے سینچے تھے۔میں ہمیشہ لکھتی ہوں کہ محبت اور وفا کسی ایک جنس پر محدود نہیں فرق فطرت کا ہوتا ہے۔ہر مرد کی فطرت میں قربانی نہیں ہوتی اسی طرح ہر عورت کی فطرت میں ایک مقام پر ٹھہرنا نہیں ہوتا۔ فرق ہر جنس کی اپنی اپنی فطرت کا ہے۔کہیں مرد قربانیاں دیتا چلا جاتا ہے کہیں عورت سہتے سہتے قربان ہو جاتی ہے۔”

    بالکل درست لکھا ہے۔۔۔
    "میں نے ایسے مرد بھی دیکھے ہیں جن کے پاس اختیار ہوتا ہے جو خود مختار ہوتے ہیں مگر وہ خود کو روک لیتے ہیں اس عورت پر اکتفا کرلیتے ہیں جن کو اس پر نافذ کیا گیا تھا مسلط کیا گیا تھا۔عورت تو یہ قربانی صدیوں سے دیتی آرہی ہے مگر مرد بھی یہ قربانی بارہا دے چکا ہے، پھر مرد کو بے وفائی کا ٹیگ لگا دینا یہ سراسر بد دیانتی ہے۔ ایسے مرد بھی دیکھے ہیں میرے مشاہدے سے گزرے ہیں جنھوں نے اپنی بیوی کی اس خطا کو بھی معاف کردیا جس کے بعد چھوڑدینا اس مرد کا حق بنتا تھا مگر پھر بھی اس مرد نے بے وفائی کر کے نادم ہونے پر اس عورت کو وہ مقام دیا جسکی وہ حق دار نہیں تھی۔”

    مرد رب العالمین کی خوبصورت تخلیق ہے، وہی عورت نایاب تخلیق ہے۔ کبھی کبھار مرد کے سامنے باپ کی پگڑی، ماں کا دوپٹہ اور بہن کے آنسو روکاوٹ بن جاتے ہیں ۔۔۔۔ اگر عورت کو باپ کی عزت پیار ہے تو مرد کو بھی پیار ہے۔۔۔۔ اگر عورت مجبور ہو سکتی ہے تو مرد بھی بے بس ہو جاتا ہے۔۔۔۔
    بہرحال سب ایک جیسے نہیں ہیں۔۔۔ جسم کے پجاری مرد اس معاشرے میں ہیں تو پیسے کی لالچی عورت بھی موجود ہے۔۔۔ بہت سے تجربات کے بعد کہہ رہی ہوں کہ اگر سب مرد جسم کے بھوکے ہوتے تو آج ایک عورت بھی زندہ نہ ہوتی اور اگر سب عورتیں لالچی ہوتیں تو کوئی بھی مرد اب تک بینک میں بیلنس رکھے ہوئے نہ ملتا۔۔۔۔

    بے وفائی اور وفاداری کے جراثیم مرد و عورت دونوں میں ہیں۔۔۔۔ ہم نے وہ مرد بھی دیکھے کہ جو اپنی عورتوں کی اس غلطی کو معاف کر دیتے ہیں جس پر طلاق دینا بنتا تھا اور ہم نے وہ عورتیں بھی دیکھی ہیں جنہوں نے طلاق کی پارٹیاں منائی اور فقط آزادی کی خاطر خلع نامہ بھیجا۔۔۔۔
    آج بھی مرد زندہ ہیں جو سچی محبتیں کرتے ہیں اور آج بھی وہ عورتیں زندہ ہیں جو سچی محبت کی متلاشی ہیں ۔

  • پاک بحریہ، دفاع اور خطے میں امن کی ضامن

    پاک بحریہ، دفاع اور خطے میں امن کی ضامن

    پاک بحریہ، دفاع اور خطے میں امن کی ضامن
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    کسی بھی ملک کی ایک مضبوط بحریہ نہ صرف دشمنوں کے عزائم کو خاک میں ملا سکتی ہے بلکہ اس ملک کی سلامتی اور ترقی کا بھی ضامن ہوتی ہے۔ پاکستان نیوی بھی ایسی ہی ایک مضبوط بحری قوت ہے۔ پاکستان کو اپنے قیام سے ہی ایک مکار اور بدنیتی پر مبنی پڑوسی سے واسطہ پڑا ہے جو ہمیشہ سے پاکستان کی آزادی اور سلامتی کے لیے خطرہ بنا رہا ہے۔ اس خطے میں پاکستان کی سمندری حدود کی حفاظت اور ملک کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان نیوی ایک قابل اعتماد اور لائق فوج کے طور پر اپنی خدمات انجام دے رہی ہے

    1947 میں تقسیم ہند کے بعد دونوں ملکوں نے اپنی بحریہ قائم کیں۔ بھارت نے اپنی بحری طاقت میں جلد اضافہ کیا جبکہ پاکستان نے کم وسائل کے باوجود اپنی دفاعی حکمت عملی پر زور دیا۔ وقت کے ساتھ دونوں ممالک نے اپنی بحری صلاحیتوں کو بہتر بنایا لیکن پاکستان نے زیادہ دفاعی حکمت عملی اپناتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی پر توجہ دی۔ آج کے دور میں پاکستان کی بحری فوج خطے میں طاقت کے توازن اور عالمی سلامتی کے لیے اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

    بی بی سی اردو کی ایک رپورٹ کے مطابق انڈین بحریہ کے سربراہ ایڈمرل دینیش ترپاٹھی نے پاکستانی بحریہ کی بڑھتی ہوئی طاقت اور چین سے اس کے اشتراک پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے انڈین بحریہ کے سربراہ نے کہا کہ انڈیا پاکستانی بحریہ کی ’حیرت انگیز ترقی‘ سے پوری طرح آگاہ ہے جو آئندہ برسوں میں اپنے موجودہ بحری بیڑے کی صلاحیت 50 بحری جہازوں تک بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔

    ایڈمرل ترپاٹھی کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم اُن (پاکستان) کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کے بارے میں پوری طرح آگاہ ہیں اسی لیے ہم اپنے مفادات پر پڑنے والے کسی ممکنہ منفی اثر کو زائل کرنے کے لیے اپنی حکمت عملی اور آپریشنل منصوبے میں تبدیلی کر رہے ہیں۔ ہم کسی بھی چیلنج کا سامنا کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اِس وقت چین پاکستانی بحریہ کی بحری جہاز اور آبدوزیں بنانے میں مدد کر رہا ہے۔

    1947 میں قیام پاکستان کے وقت پاک نیوی بہت کمزور تھی لیکن وقت کے ساتھ یہ ادارہ مضبوط ہوا۔ آج پاکستان نیوی نہ صرف ملکی سمندری سرحدوں کی حفاظت کر رہی ہے بلکہ خطے میں استحکام برقرار رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

    پاکستان کے پاس تقریباً 45 جنگی جہاز ہیں جن میں چھ آئل ٹینکرز بھی شامل ہیں۔ مزید آبدوزیں اور جنگی جہاز تیاری کے مراحل میں ہیں جو مستقبل میں نیوی کی صلاحیتوں کو مزید بڑھائیں گے۔ پاکستانی نیوی نے چین کے ساتھ مل کر ٹائپ 054 اے جنگی جہازوں کا معاہدہ کیا جن میں سے دو جہاز حال ہی میں بیڑے میں شامل کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ہنگور کلاس آبدوزوں کا منصوبہ بھی جاری ہے جو 2028 تک مکمل ہو گا۔

    پاکستانی نیوی نے ترکی اور رومانیہ کے تعاون سے جنگی جہاز بنائے ہیں جو مستقبل میں پاکستان کی بحری دفاعی حکمت عملی کو مزید مضبوط کریں گے۔ اس کے علاوہ کراچی کے شپ یارڈ میں بھی جدید جنگی جہازوں کی تیاری جاری ہے۔ پاکستانی نیوی کی قیادت نے ترقی کی رفتار کو تیز کرتے ہوئے نہ صرف فنڈز حاصل کیے بلکہ جدید ہتھیاروں اور سینسرز کی خریداری کو بھی یقینی بنایا۔

    پاکستان نیوی کے مشنز بنیادی طور پر دفاعی نوعیت کے ہیں جن کا مقصد ملکی سمندری سرحدوں کی حفاظت اور تجارتی راستوں کی نگرانی کرنا ہے۔ پاکستان کی 90 فیصد تجارت سمندری راستوں کے ذریعے ہوتی ہے اس لیے نیوی کا کردار قومی معیشت کے تحفظ میں بھی اہم ہے۔

    پاکستانی نیوی ہر دو سال بعد مشقیں کرتی ہے تاکہ اپنی صلاحیتوں کو جانچ سکے اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار رہے۔ حالیہ مشق ‘سی سپارک 2024’ نے نیوی کی آپریشنل صلاحیتوں کو مزید اجاگر کیا۔ ان مشقوں کے دوران نیوی نے بھارتی بحری جہازوں اور آبدوزوں کی نقل و حرکت کا پتہ لگایا اور ان کی جاسوسی کی کوششوں کو ناکام بنایا۔

    دوسری جانب بھارتی نیوی کی تعداد اور وسائل پاکستان سے زیادہ ہیں۔ بھارت کے پاس 150 بحری جہاز، دو طیارہ بردار جہاز، 16 روایتی اور دو نیوکلیئر آبدوزیں موجود ہیں۔ بھارتی نیوی نے حال ہی میں اپنے طیارہ بردار بحری جہاز ‘آئی این ایس وراٹ’ کی تیاری مکمل کی ہے اور مزید جہاز بنانے کے منصوبے جاری ہیں۔

    تاہم دفاعی ماہرین کے مطابق بھارتی نیوی کی بڑی تعداد کے باوجود ان کی کئی آبدوزیں پرانی ہو چکی ہیں اور جنگی آپریشنز کے لیے غیر موزوں ہیں۔ پاکستان کے پاس موجود روایتی آبدوزیں بھارتی نیوی کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتی ہیں۔ چین کے تعاون سے پاکستان نے ایریا ڈینائل میزائل حاصل کیے ہیں جو 200 سے 400 کلومیٹر تک کے اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    پاکستان نیوی نے اپنی ترقی کی رفتار کو برقرار رکھتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دیا ہے۔ نیوی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی بحری صلاحیتوں میں اضافہ نہ صرف ملکی دفاع بلکہ خطے میں طاقت کے توازن کے لیے بھی ضروری ہے۔

    ریئر ایڈمرل ریٹائرڈ فیصل شاہ نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوکہاکہ پاکستان نیوی نے اپنی حکمت عملی کو خطے کی بدلتی ہوئی ضروریات کے مطابق ڈھالا ہے۔ چین کے ساتھ بڑھتا ہوا تعاون اور جدید جہازوں کی تیاری مستقبل میں پاکستان کو ایک اہم بحری طاقت بنانے میں مددگار ثابت ہو گا۔

    وائس ایڈمرل ریٹائرڈ احمد تسنیم کے مطابق پاک نیوی کی قیادت نے بہترین فیصلے کیے جن کی بدولت پاکستانی بحریہ نہ صرف اپنی سرحدوں کی حفاظت بلکہ خطے میں امن و امان برقرار رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ پاکستانی نیوی کی یہ پیش رفت انڈیا کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ وہ کسی بھی جارحیت کے لیے تیار رہے۔

  • روس نےکینسر ویکسین بنالی، شہریوں کو مفت دینےکا اعلان

    روس نےکینسر ویکسین بنالی، شہریوں کو مفت دینےکا اعلان

    باغی ٹی وی (ویب ڈیسک)روس نے کینسر کی ویکسین تیار کرلی ہے اور اسے مفت فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ روسی وزارت صحت کے مطابق یہ ویکسین کینسر ہونے سے روک نہیں سکتی لیکن اس کے علاج میں مؤثر ثابت ہوسکتی ہے۔

    یہ ویکسین mRNA ٹیکنالوجی پر مبنی ہے اور 2025 کے اوائل میں لانچ کی جائے گی۔ روسی حکومت اس کی ایک ڈوز پر 2 ہزار 869 ڈالر خرچ کرے گی لیکن اسے روس کے کینسر مریضوں میں بلا معاوضہ تقسیم کیا جائے گا۔

    ویکسین ہر مریض کو اس کے کینسر کی نوعیت کے مطابق دی جائے گی۔ تاہم، تاحال یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ ویکسین کس قسم کے کینسر کے لیے زیادہ مؤثر ہے اور کس حد تک علاج میں معاون ہوگی۔

    روسی وزارت صحت کے ریڈیولوجی میڈیکل ریسرچ سینٹر کے سربراہ آندرے کپرین کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں روس میں کینسر کے کیسز میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ 2022 میں 6 لاکھ 35 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ کیے گئے، جن میں بڑی آنت، چھاتی اور پھیپھڑوں کا کینسر سب سے عام ہیں۔

    یہ ویکسین جسم کے مدافعتی نظام کو مضبوط بناتی ہے اور ٹیومر سے متاثرہ حصوں کو کینسر سے لڑنے کی صلاحیت دیتی ہے۔ روسی عوام کے لیے یہ ایک امید کی کرن ہے جو ان کی زندگیوں پر مثبت اثر ڈال سکتی ہے۔

  • پیرس میں ادبی محفل "ڈوھنگیاں چوٹاں” کی پذیرائی اور مشاعرہ

    پیرس میں ادبی محفل "ڈوھنگیاں چوٹاں” کی پذیرائی اور مشاعرہ

    پیرس میں ادبی محفل "ڈوھنگیاں چوٹاں” کی پذیرائی اور مشاعرہ
    پیرس سے عاکف غنی ملک کی رپورٹ
    دسمبر کا مہینہ یوں تو اداسی کے لیے مشہور ہے، خاص طور پر شعراء نے اس مہینے کو کچھ زیادہ ہی بدنام کر رکھا ہے۔ لیکن اگر اسی مہینے میں کسی ادبی نشست کا اہتمام ہو جائے تو یہ اداس مہینہ ادبی رونق میں بدل جاتا ہے۔ ایسی ہی ایک شاندار تقریب کا انعقاد پیرس کی معروف ناول نگار اور شاعرہ محترمہ شاز ملک نے اپنے دولت کدے پر کیا۔ اس یادگار شام کے انتظامات میں ان کے شوہر ملک سعید نے بھرپور تعاون کیا اور یوں دسمبر کی ایک سرد شام کو ادبی حوالے سے گرمجوش اور یادگار بنا دیا۔

    پیرس کے نواحی علاقے ولی اے لو بیل میں محترمہ شاز ملک کی رہائش گاہ پر منعقدہ اس تقریب کا مقصد راجہ زعفران کے پوٹھوہاری زبان میں شعری مجموعے "ڈوھنگیاں چوٹاں” کی پذیرائی اور اس کے ساتھ ایک محفل مشاعرہ کا انعقاد تھا۔ تقریب کی صدارت محترمہ شاز ملک نے کی، جبکہ مختلف شعرا اور ادیبوں نے کتاب پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

    "ڈوھنگیاں چوٹاں” پر اظہار خیال کرنے والوں میں ایاز محمود ایاز، محترمہ شاز ملک، شمیم آپا، شبانہ چوہدری، اور طاہرہ سحر شامل تھے۔ مقررین نے راجہ زعفران کی شاعری کی تعریف کرتے ہوئے اس کی ادبی اہمیت کو اجاگر کیا اور پوٹھوہاری ادب میں اس کے اضافے کو سراہا۔

    کتاب کی پذیرائی کے بعد محفل مشاعرہ کا آغاز ہوا جس میں معروف شعرا نے اپنا کلام پیش کیا اور حاضرین سے بھرپور داد سمیٹی۔ مشاعرے میں شرکت کرنے والے شعرا میں مس سعدیہ، طاہرہ سحر، شمیم آپا، نبیلہ آرزو، محمود راہی، عاشق رندھاوی، آصف آسی، مقبول الٰہی شاکر، ایاز محمود ایاز، راجہ زعفران، اور عاکف غنی شامل تھے۔

    شاعری کے اس خوبصورت سلسلے کے بعد میزبانوں کی جانب سے پرتکلف عشائیہ پیش کیا گیا۔ مہمانوں نے میزبانوں کی گرمجوشی اور اہتمام کو سراہا۔ اس تقریب نے بھیگتے، ٹھٹھرتے اور اداس دسمبر کو زبان و ادب کی چاشنی سے بھرپور کر کے ایک خوشگوار اور یادگار شام میں بدل دیا۔

    تقریب کی تصویری جھلکیاں




  • کسان، ہماری معیشت کا ستون

    کسان، ہماری معیشت کا ستون

    کسان، ہماری معیشت کا ستون
    تحریر:حبیب اللہ خان
    کسان ہماری معیشت کا وہ ستون ہیں جس کے بغیر ہمارا معاشی ڈھانچہ غیر مستحکم ہو سکتا ہے۔ 18 دسمبر کو “کسان ڈے” مناتے ہوئے ہمیں ان کی محنت اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنا چاہیے۔ کسان ڈے ہمیں اس بات کی یاد دلاتا ہے کہ ہماری معیشت کا حقیقی ہیرو کسان ہی ہے، یہ دن نہ صرف کسانوں کے لیے اہم ہے بلکہ ہم سب کے لیے بھی لمحۂ فکریہ ہے۔ کسانوں کی محنت اور قربانیوں کے بغیر نہ صرف ہمارے کھانے پینے کا نظام قائم رہ سکتا ہے بلکہ پوری معیشت کا پہیہ بھی نہیں چل سکتا۔

    کسان کی زندگی میں چیلنجز کا سامنا ہمیشہ رہتا ہے۔ موسمیاتی تبدیلیاں، خشک سالی اور پانی کی کمی جیسے مسائل کسان کی محنت کو بار بار آزمائش میں ڈال دیتے ہیں۔ لیکن پھر بھی وہ زمین کے ساتھ اپنا رشتہ قائم رکھتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کی محنت نہ صرف اپنے خاندان بلکہ پورے ملک کی غذائی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

    مگر افسوس کہ آج تک کسانوں کے حقوق کا تحفظ اور ان کی محنت کا صحیح معنوں میں اعتراف نہیں کیا گیا۔ کسانوں کو جدید زرعی ٹیکنالوجی، بہتر زرعی آلات اور مناسب تربیت فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ زمین کی بہتر دیکھ بھال کے لیے جدید زرعی آلات کی کمی،مہنگائی کھادوں اور زرعی ادویات اور پانی کی کمی جیسے مسائل کسان کے لیے روز مرہ کی زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔

    کسان کا سب سے بڑا مسئلہ قیمتوں کا اتار چڑھاؤ ہے۔ فصلوں کی قیمتیں اتنی کم ہو چکی ہیں کہ کسان نہ صرف اپنے اخراجات پورے نہیں کر پاتا بلکہ وہ قرضوں کے بوجھ تلے دبتا جاتا ہے۔ قدرتی آفات کی صورت میں حکومت کی طرف سے دی جانے والی امداد بھی بہت کم اور غیر مؤثر ہوتی ہے۔

    کسان کی زندگی میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے حقوق کے لیے لڑتا رہتا ہے۔ اگر کبھی فصلوں کی قیمتوں میں کمی آ جائے یا کسی قدرتی آفت سے فصلوں کا نقصان ہو جائے تو وہ انصاف کے لیے در در کی ٹھوکریں کھاتا ہے۔ حکومت کی طرف سے کسانوں کے لیے کسی مؤثر امدادی پالیسی کا فقدان ہے اور اگر امداد مل بھی جائے تو وہ اتنی معمولی ہوتی ہے کہ کسان کی مشکلات کو کم کرنے کے لیے ناکافی ہوتی ہے۔

    یہ حقیقت ہے کہ کسان نہ صرف زمین کا مالک ہوتا ہے بلکہ وہ پوری قوم کی خوشحالی کا ضامن بھی ہے۔ کسان کی محنت اور قربانیوں کے بغیر ہمارے کھانے پینے کا نظام اور ملکی معیشت بالکل معطل ہو جائے گی۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ کسانوں کے مسائل حل کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے۔ ان کو جدید زرعی ٹیکنالوجی، بہتر زرعی آلات، اور مناسب تربیت فراہم کی جائے تاکہ وہ اپنی پیداوار کو بہتر بنا سکیں اور عالمی سطح پر مقابلہ کر سکیں۔ حکومت کو کسانوں کے لیے ایک مضبوط امدادی نظام قائم کرنا چاہیے تاکہ قدرتی آفات یا زرعی بحران کے دوران ان کی زندگی کی مشکلات کم کی جا سکیں۔

    کسانوں کے حقوق کا تحفظ اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ قیمتوں کی مناسب نگرانی، زرعی اجناس کی منصفانہ قیمتوں کی ضمانت اور قرضوں کے بوجھ سے نجات کے لیے حکومت کو فوری طور پر مؤثر پالیسیوں کا اعلان کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ کسانوں کو زمین کے مالکانہ حقوق، پانی کی فراہمی اور دیگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی میں بھی حکومت کو فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔

    ہمیں کسانوں کی محنت کی قدر کرنی چاہیے اور ان کی زندگی میں آسانیاں پیدا کرنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانا چاہیے۔ ہمیں یقیناً یہ سمجھنا ہوگا کہ اگر کسان خوشحال ہے تو پورا ملک خوشحال ہے اور اگر کسان کی زندگی میں مشکلات ہیں تو وہ ہماری معیشت کی ترقی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بن سکتی ہے۔

    کسان زندہ باد، پاکستان پائندہ باد!

  • قبضہ مافیا،لینڈ مافیا کے ہاتھوں بےگناہ قتل،ذمہ دار کون،تجزیہ:شہزاد قریشی

    قبضہ مافیا،لینڈ مافیا کے ہاتھوں بےگناہ قتل،ذمہ دار کون،تجزیہ:شہزاد قریشی

    توجہ برائے عدالت عظمیٰ! عدالت عالیہ ! ذمہ داران ریاست راولپنڈی اسلام آباد اور اس کے گرد و نواح میں گزشتہ کئی سالوں سے لینڈ مافیا اور قبضہ مافیا کے ہاتھوں کئی بے گناہ لوگ قتل ہو چکے ہیں اس قتل عام میں مبینہ طورپر محکمہ مال کے اعلیٰ افسران، سول انتظامیہ، آرڈی اے راولپنڈی ، پولیس اور وہ سیاسی کردار جو لینڈ مافیا اور قبضہ مافیا کی پشت پناہی کرتے ہیں ملوث ہیں۔ راولپنڈی اور اسلام آباد کے دیہی علاقوں میں غیر قانونی ہائوسنگ سوسائٹیز کا ایک ایسا نیٹ ورک ہے جو گزشتہ کئی سالوں سے جاری ہے حیرت ہے عام آدمیوں کا قتل عام راولپنڈی اور اس کے گرد و نواح میں ہو رہا ہے اور ان قبضہ مافیا اور لینڈ مافیا کو کوئی لگام دینے والا نہیں کیا ریاستی ادارے بے بس ہیں؟

    گزشتہ دنوں راولپنڈی سے چند کلومیٹر کے فاصلے گوجرخان میں ہائوسنگ سوسائٹی کی تقریب میں اندھا دھند فائرنگ میں والدین کا واحد سہارا بیٹا قتل ہو گیا جدید اسلحہ سے فائرنگ اتنی شدید کی گئی پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جس ہائوسنگ سوسائٹی میں فائرنگ ہوئی آرڈی اے راولپنڈی اس سوسائٹی کو غیر قانونی قرار دے چکی ہے جبکہ اسی سوسائٹی کے خلاف نیب راولپنڈی میں انکوائری بھی ہو رہی ہے دو سو سے زائد افراد نے درخواستیں دے رکھی ہیں ان دو سو افراد کا سوا دو ارب روپیہ غیر قانونی لے چکی ہے۔ راولپنڈی میں اس طرح کے واقعات معمول بن چکے ہیں۔ سمجھ سے بالاتر ہے کہ جن ہائوسنگ سوسائٹیز کو آرڈی اے راولپنڈی غیرقانونی قرار دے چکی ہے وہ دن دیہاڑے ریاستی اداروں کے سامنے اربوں روپیہ کیسے حاصل نہیں کر سکتے؟

    راولپنڈی کے ریاستی اداروں پر یہ ایک سوالیہ نشان ہے راولپنڈی اسلام آباد کے دیہی علاقوں کی یہ سوسائٹیز غریب دیہاتی لوگوں کی زرعی زمینوں پر قبضے میں بھی ملوث ہیں جبکہ سرکاری زمینوں پر بھی محکمہ مال کی ملی بھگت کئے جا رہے ہیں۔ محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے ملک کا بیشتر حصہ قبضہ مافیا کے قبضے میں ہے سرکاری املاک کے ساتھ ساتھ ملک کے مظلوم عوام کی مقبوضہ ذاتی ملکیت پر بھی قبضے کئے جا رہے ہیں قبضہ مافیا ایک تناور درخت کی شکل اختیار کر گیا ہے قبضہ مافیا ایک ایسی طاقت بن چکی ہے جس کے قبضے میں کئی بااثر لوگ اس مافیا کا دم بھرتے ہیں ملک اور ریاست کے سسٹم کو ان قبضہ مافیا نے یرغمال بنا رکھا ہے ذمہ داران ریاست اگر حرکت میں نہ آئے تو ملک و قوم کو ناقابل تلافی نقصان ہو رہا ہے اور ہوگا

  • اپنے رشتے سیاست کی بھینٹ چڑھنے سے بچائیں

    اپنے رشتے سیاست کی بھینٹ چڑھنے سے بچائیں

    اپنے رشتے سیاست کی بھینٹ چڑھنے سے بچائیں
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    آج کا دور سیاست کے رنگوں میں رنگا ہوا ہے۔ ہر طرف سیاسی جماعتیں اور ان کے لیڈر اپنے ذاتی مفادات کے لیے عوام کو آپس میں لڑا رہے ہیں۔ جھوٹے وعدے، نفرت انگیز بیانات اور ذاتی حملے سیاست کا ایک عام منظر بن چکے ہیں۔ اقتدار حاصل کرنے کے لیے سیاستدان ہر حد پار کر لیتے ہیں لیکن اس سب کے پیچھے چھپے حقیقی نقصانات پر بہت کم بات کی جاتی ہے۔

    سب سے بڑا نقصان عوام کے قیمتی رشتوں کا ہوتا ہے۔ سیاست کے نام پر ہم اپنے قریبی رشتہ داروں، محلے داروں اور حتیٰ کہ اپنے گھر والوں کے ساتھ تعلقات خراب کر لیتے ہیں۔ سیاسی اختلافات کی بنا پر ہم ان لوگوں سے دور ہو جاتے ہیں جو ہمارے اپنے ہوتے ہیں۔ یہ اختلافات نفرت میں بدل جاتے ہیں اور ہم اپنے ہی لوگوں کو دشمن سمجھنے لگتے ہیں۔ دوسری طرف وہی سیاستدان، جن کے لیے ہم لڑ رہے ہوتے ہیں، اسلام آباد میں بیٹھ کر اپنی کرسیوں کی فکر کر رہے ہوتے ہیں۔

    سوشل میڈیا نے اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ فیک نیوز اور نفرت انگیز بیانات سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ یہ بیانات لوگوں کے جذبات کو بھڑکاتے ہیں اور معاشرے میں تقسیم پیدا کرتے ہیں۔ ان بیانات کے ذریعے سیاسی لیڈران اپنی چالاکیوں کو مزید مؤثر بناتے ہیں اور عوام کو تقسیم در تقسیم کر دیتے ہیں۔

    اس سیاسی کھیل کا سب سے زیادہ اثر سماجی ہم آہنگی پر پڑرہاہے۔ معاشرہ نفرتوں کا شکار ہوتاجارہا ہے، امن و سکون ختم ہو چکاہے اور لوگ ایک دوسرے کے لیے اجنبی بن چکے ہیں۔ جب کوئی قومی بحران یا عوامی مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو یہی سیاستدان کہیں نظر نہیں آتے۔ ان کا واحد مقصد اپنے اقتدار کو بچانا ہوتا ہے اور عوام کو ان کے حال پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔

    ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سیاستدانوں کے یہ کھیل وقتی ہیں لیکن ان کے اثرات دیرپا ہیں۔ ہمیں اپنی دانشمندی اور شعور سے ان مسائل کو حل کرنا ہوگا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم ذاتی تعلقات کو سیاسی اختلافات کی بھینٹ چڑھنے سے بچائیں۔ ہمیں اپنی توانائیاں مثبت سرگرمیوں میں صرف کرنی چاہئیں اور ایسی سیاست کا حصہ نہیں ببنا چاہئے جو ہمارےسماج اور خوبصورت رشتوں کو تباہ کرے۔

    اس صورتحال سے نکلنے کے لیے ہم سب کو مل کر کوشش کرنی ہوگی۔ ہمیں سیاسی لیڈروں کے جھوٹے وعدوں پر یقین نہیں کرنا چاہیے۔ ہمیں سوشل میڈیا پر پھیلنے والی فیک نیوز سے بچنا چاہیے۔ ہمیں اپنے رشتوں کو اہمیت دینی چاہیے اور ان کی حفاظت کرنی چاہیے اور اپنے معاشرے کو ایک مثبت اور تعمیری سمت میں لے جانے کے لیے کام کرنا چاہیے۔

    نوجوانوں کا کردار اس میں بہت اہم ہے۔ نوجوانوں کو تعلیم یافتہ، باخبر اور سماجی مسائل کے حل میں دلچسپی رکھنے والا بنانا ہوگا۔ اگر ہماری نسل سیاسی پروپیگنڈے کا شکار ہو گئی تو ہماری معاشرتی اقدار ختم ہو سکتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ تعلیمی ادارے اور والدین دونوں اس بات پر زور دیں کہ نوجوان سیاست کو جذبات کے بجائے حقائق کی بنیاد پر سمجھیں۔

    اگر ہم نے اپنی توانائیاں صحیح سمت میں لگائیں تو نہ صرف ہماری ذاتی زندگی بہتر ہوگی بلکہ ہمارا معاشرہ بھی ترقی کرے گا۔ ہمارا مقصد ایک ایسا معاشرہ ہونا چاہیے جہاں اختلافات احترام کے ساتھ حل کیے جائیں، مسائل پر توجہ دی جائے، اور نفرتوں کے بجائے محبت اور اتحاد کا پرچار کیا جائے تاکہ ہم اپنے قیمتی رشتے سیاست کی بھینٹ چڑھنے سے بچاسکیں.

  • چورچور کہنے والا خود چور نکلا،عمران نے جو بویا وہی کاٹ رہا

    چورچور کہنے والا خود چور نکلا،عمران نے جو بویا وہی کاٹ رہا

    پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کی سیاست میں بلند و بانگ دعووں، تند و تیز زبان، اور خود کو ہر چیز سے برتر سمجھنے کی ایک طویل تاریخ ہے۔ ان کا تکبر اور رعونیت ایک ایسا پہلو تھا جس پر نہ صرف ان کے حامی بلکہ ان کے مخالفین بھی اکثر بات کرتے رہے ہیں۔ عمران خان نے ہمیشہ اپنی شخصیت کو اس قدر اہم اور منفرد سمجھا کہ سیاست میں دوسرے رہنماؤں کے ساتھ تعلقات اور بات چیت کرنے کی ضرورت کو کم ہی محسوس کیا۔عمران خان اکثر اپنے حریفوں کو کمتر سمجھتے ہوئے ان سے بات کرنے کی بجائے ان کے خلاف تنقید کرنے میں مگن رہتے تھے۔ ان کی زبان میں وہ تکبر کی ایسی جھلکیاں نظر آتی ہیں جو کبھی کبھار حد سے تجاوز کر جاتی تھیں۔

    عمران خان نے کئی مرتبہ کہا کہ وہ کبھی بھی نواز شریف، شہباز شریف، اور ان کے حامیوں سے بات نہیں کریں گے۔ وہ ہمیشہ اپنی پوزیشن کو مستحکم اور بہتر سمجھتے تھے اور اپنے مخالفین کو ’’چور‘‘ اور ’’ڈاکو‘‘ جیسے الفاظ سے یاد کرتے تھے۔ ان کے مطابق، یہ سب لوگ صرف اپنے ذاتی مفادات کے لیے کام کر رہے ہیں اور ان کے ساتھ کسی قسم کی بات چیت کرنا وقت کا ضیاع ہوگا۔عمران خان کا انداز اس قدر سخت تھا کہ وہ عام طور پر دوسرے سیاسی رہنماؤں کے لیے نہ صرف توہین آمیز الفاظ استعمال کرتے، بلکہ ان کے کردار کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بناتے۔ ایک موقع پر، عمران خان نے کہا تھا کہ "میں اور بات کروں گا، میں کسی سے بھی بات نہیں کروں گا، میں ان چوروں سے بات کیوں کروں؟” ان کا یہ تبصرہ نواز شریف اور ان کی جماعت کے خلاف تھا۔

    اسی طرح، انہوں نے شہباز شریف کو بھی اکثر نشانہ بنایا اور کہا کہ "شہباز شریف میرے ہوتے ہوئے کبھی وزیراعظم نہیں بن سکتا”۔ ان کا خیال تھا کہ وہ پاکستان کے سیاسی منظرنامے پر سب سے طاقتور شخصیت ہیں، اور ان کے مقابلے میں کسی کو جگہ نہیں مل سکتی۔عمران خان کی زبان کی شدت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ وہ مولانا فضل الرحمان کو ’’ڈیزل‘‘ کہہ کر مخاطب کرتے تھے۔ اس پر جنرل باجوہ نے انہیں مشورہ دیا کہ سیاست میں احترام باقی رہنا چاہیے، لیکن عمران خان نے اس مشورے کو ٹھکراتے ہوئے کہا کہ "اگر ڈیزل کو ڈیزل نہ کہوں تو اور کیا کہوں؟” ان کی یہ بات ایک طرف تو ان کے تکبر کی نشاندہی کرتی تھی، دوسری طرف ان کے اندر اپنے مخالفین کے لیے عدم احترام اور نفرت کا اظہار بھی کرتی تھی۔

    عمران خان نے نواز شریف کو بھی اپنی شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ "نواز شریف کا کھانا بند کر دوں گا، کمرے کا اے سی بند کر دوں گا، اور ان کی جیلیں عام قیدیوں جیسی بنا دوں گا۔” ان کا یہ انداز سیاست میں ایک نئی سطح پر تکبر اور غصے کی عکاسی کرتا تھا۔ وہ نہ صرف اپنے مخالفین کو سیاسی طور پر شکست دینا چاہتے تھے، بلکہ ان کی ذاتی زندگیوں میں مداخلت کرکے ان کے لیے مشکلات پیدا کرنے کی بھی کوشش کرتے تھے۔

    عمران خان کے یہ تمام دعوے اور سخت بیانات آج اللہ کی قدرت کے سامنے جھک چکے ہیں۔ ایک وقت تھا جب وہ خود کو غیر متزلزل اور ناقابل شکست سمجھتے تھے، لیکن آج ان کے سامنے حقیقت کچھ اور ہے۔ آج جب وہ خود سیاست کے میدان میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، تو وہ وہی باتیں اور بیانات واپس یاد کرتے ہیں جو انہوں نے اپنے مخالفین کے بارے میں کہے تھے۔عمران خان آج اڈیالہ جیل میں ہیں اور اسی شہباز شریف سے جن سے بات کرنے کو تیار نہیں تھے سے مذاکرات کی بھیک مانگ رہا ہے، عمران خان اب خود چور بھی ثابت ہو چکا ہے اور بات بھی کرنے کو تیار ہے، لیکن آگے سے عمران خان کی سننے کو کوئی تیار نہیں۔ عمران خان کی ساری تکبر اور رعونیت کا جواب اللہ کی طرف سے ایک قدرتی ردعمل کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ ان کے خلاف جو الزامات اور کرپشن کے کیسز بنے، وہ آج ان کے پیچھے ہیں۔ ان کی سیاسی طاقت جو کبھی بے پناہ تھی، اب کمزوری میں تبدیل ہو چکی ہے۔

    عمران خان کا تکبر اور رعونیت ایک ایسا باب ہے جو تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کی سیاسی زندگی کے اتار چڑھاؤ اور ان کے رویے نے نہ صرف ان کے حامیوں بلکہ مخالفین کو بھی حیران کن طور پر متاثر کیا ہے۔ آج ان کے سامنے ایک نئی حقیقت ہے جس کا وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں کوئی بھی شخص اپنی تکبر اور غرور کے ساتھ ہمیشہ قائم نہیں رہ سکتا، اور اللہ کی قدرت ہر شخص کو اس کی حقیقت دکھا دیتی ہے۔

  • گوردوارہ سری دربار صاحب کرتار پور کا سفر.تحریر:عینی ملک

    گوردوارہ سری دربار صاحب کرتار پور کا سفر.تحریر:عینی ملک

    ہمارا گوردوارہ سری دربار صاحب کرتار پور جانے کا ارادہ ایک مدت سے تھا، اور آخرکار وہ دن آ گیا جب ہم نے یہ سفر کرنے کا فیصلہ کیا۔ ہم سب صبح جلدی اٹھے، تاکہ سفر کی تھکاوٹ کم ہو اور وقت پر پہنچ سکیں۔ صبح نو بجے تک ناشتہ کر کے ہم نے تیاری شروع کی اور پھر ظفروال، ناروال، اور شکرگڑھ کے راستوں سے ہوتے ہوئے گوردوارہ کرتار پور روانہ ہو گئے۔

    ظفروال، ناروال، اور شکرگڑھ کے راستوں پر سفر کرتے ہوئے سرسبز کھیت، پھلوں کے باغات، اور پرانی طرز کے گھر ہمیں دیہاتی زندگی کا گہرا منظر دکھا رہے تھے۔ یہاں کے لوگ سبزیاں شوق سے اگاتے تھے، اور چارا کاٹ کر گدھوں پر لے جا رہے تھے۔ ان کے روزمرہ کے معمولات میں سادگی اور محنت کی جھلک صاف نظر آتی تھی۔ ہم نے راستے میں امرود کے تازہ باغات بھی دیکھے، اور وہاں سے تازہ اور رس دار امرود خریدے جو سفر کی تھکاوٹ دور کرنے کے لیے بہت خوشگوار ثابت ہوئے۔

    دربار کے قریب پہنچتے ہی پنجاب پولیس کی طرف سے جگہ جگہ سکیورٹی چیکنگ کا آغاز ہو گیا۔ مختلف ناکوں پر ہمیں روکا گیا، اور شناختی کارڈ کی جانچ کی گئی۔ جہاں ہم نے اپنی گاڑی پارک کی اور میڈیسن اور بیگ بھی وہی چھوڑیں اسلئیے آپ سے گزارش ہے۔ کہ جب بھی آپکا گوردورا جانے کا اردہ ہو تو سوائے پیسوں کے ساتھ کوئی بھی قیمتی اشیا نہ لے جائیں چھری قینچی وغیرہ بھی گاڑی میں نہ ہو اور ہم نے ٹکٹس خریدے اور اندر جانے کے لئے تیار تھے، لیکن میرے نانو کے پاس شناختی کارڈ نہیں تھا، جس کی وجہ سے ہمیں خاصا دیر انتظار کرنا پڑا۔ تاہم، ان کی بزرگ حالت پر رحم کرتے ہوئے ہمیں اندر جانے کی اجازت دے دی گئی۔ یہ ایک اچھی بات تھی کہ انتظامیہ اہلکاروں نے انسانیت کو مقدم جانا۔

    اس کے بعد ہمیں ایک خصوصی گاڑی کے ذریعے گوردوارہ سری دربار صاحب کرتار پور لے جایا گیا، اور قدم رکھتے ہی یہاں کی روحانیت اور سکون سے ہم سب دل کے محظوظ ہوئے۔ گوردوارہ کی عمارت نہایت خوبصورت تھی اور اس کی صفائی دیکھ کر دل خوش ہو گیا۔ ہر طرف سفید سنگ مرمر سے بنی عمارتیں نظر آ رہی تھیں، جو ایک محل کا منظر پیش کر رہی تھیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، گوردوارہ کے ارد گرد باغات اور تصویریں بھی اس کے جمال کو مزید نکھار رہی تھیں۔ یہ جگہ نہ صرف روحانیت سے بھری ہوئی تھی، بلکہ اس کی عمارت اور مناظر بھی دل کو سکون پہنچانے والے تھے۔پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے 2019 اپنے دور حکومت میں گرودوارہ دربار صاحب کرتار پور کی نئے سرے سے تعمیر اور انڈین یاتریوں کے لیے تیار کی گئی راہدرای کا افتتاح وزیراعظم عمران خان کے حکم پر ہوا۔وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے کہا تھا کہ مجھے خوشی ہے کہ کرتارپور سرحد کھول کر سکھوں کے دل خوشیوں سے بھر دے گا اور وہی ہوا۔اس تقریب میں انڈیا کے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ، نوجوت سنگھ سدھو اور اداکار سنی دیول سمیت بڑی تعداد میں سکھ یاتری موجود تھے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا تھاکہ جب سکھ برادری کی بات ہوتی ہے تو ہم انسانیت کی بات کرتے ہیں، نفرتیں پھیلانے کی بات نہیں کرتے۔ ’ہمارے نبی پاک ص نے انسانیت کی بات کی۔‘

    گوردوارہ کے اندر پہنچ کر ہم نے لنگر خانہ کا رخ کیا، جہاں کھانے کی تیاری ہو رہی تھی۔ یہاں کی ایک خاص بات یہ تھی کہ امیر و غریب کے درمیان کوئی فرق نہیں رکھا جاتا تھا۔ ہم نے اپنے برتن اٹھائے، جو بڑی صفائی سے رکھے گئے تھے، اور کھانے کا انتظار کیا۔ لنگر خانہ میں سب کو یکساں سلوک ملتا ہے، اور یہی بات انسانیت کی اصل حقیقت کو ظاہر کرتی ہے۔ کھانے لیتے وقت روٹی دونوں ہاتھوں سے لینے کی رسم بھی تھی، جو عاجزی اور احترام کی علامت ہے۔ یہ منظر میرے دل میں ایک گہرا تاثیر چھوڑ گیا۔کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ جب ہم کوئی چیز دونوں ہاتھوں سے لیں تو تب ہمیں اپنی ” میں ” کو مار کر اپنے غرور کو اپنے پاؤں تلے روندھ کر نہایت انکساربننا پڑتا ہے۔

    کھانے کے بعد، ہم نے لنگر خانہ میں بیٹھ کر چائے پی، جو بہت لذیذ تھی۔ چائے کے دوران ہم نے اس جگہ کی روحانیت اور یہاں کے لوگوں کی محبت و بھائی چارے کا احساس ہوا۔ ایک خاص بات یہ تھی کہ یہاں سب لوگ ایک دوسرے کے ساتھ بے تکلف اور محبت سے بات کرتے تھے، چاہے وہ بھارتی ہوں یا پاکستانی، سکھ ہوں یا مسلمان۔

    اس دوران ہماری ملاقات ایک بھارتی یاتری، رگجیت سنگھ سے ہوئی۔ وہ بہت خوش اخلاق اور خوش مزاج شخص تھے، انھوں نے نانو اور ماما سے اپنے انداز میں سلام لی اور پیروں کو چھو کر کہا ” پیر پینا ما جی "یہ انداز بہت احترام والا تھا اور انھوں نے میرے بیٹے نادعلی کو اپنے ساتھ گھومتے ہوئے گوردوارہ کے مختلف حصوں کا دورہ کروایا۔ رگجیت سنگھ نے ہمیں اپنی زندگی کی کچھ باتیں سنائیں۔ اس نے بتایا کہ اس نے اپنی پسند سے شادی کی، حالانکہ اس کے خاندان والے اس کے فیصلے سے متفق نہیں تھے۔ لیکن آٹھ سال کی محنت اور محبت کے بعد وہ اپنے خاندان کو قائل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔پھر اس نے اپنی بیوی اور بہنوں سے ہماری ویڈیوکال پر بات کروائی۔وہ سب بہت اخلاق کی مالک خواتین تھی۔

    رگجیت سنگھ نے انڈیا کے بارے میں بھی کچھ معلومات دیں۔ جب میری نانو نے پوچھا تو اس نے بتایا کہ انڈیا میں سونے کی قیمت تقریباً بہتر ہزار روپے فی تولہ ہے، جب کہ پاکستان میں سونا دو لاکھ روپے سے زائد فی تولہ ملتا ہے۔ اس نے یہ بھی کہا کہ انڈیا سے پاکستان آتے وقت انھیں سختی سے کہا گیا تھا کہ پاکستانیوں سے کسی بھی قسم کی خرید و فروخت نہ کریں اور اپنے سامان پر نظر رکھیں، کیونکہ انڈیا میں پاکستانیوں کے بارے میں بعض لوگ منفی تصورات رکھتے ہیں۔ لیکن وہ ہم پاکستانیوں کے بارے میں بہت اچھے خیالات رکھتے تھے اور ہمارا استقبال انتہائی محبت سے کیا تھا۔

    ہم نے گوردوارہ کے اندرونی حصے کا بھی دورہ کیا، جہاں سکھ یاتری گورو نانک کے دربار پر ماتھا ٹیکنے میں مصروف تھے۔ گوردوارہ کے دربار میں سکھ یاتری اپنے عقیدت کے ساتھ عبادت کر رہے تھے اور گورو نانک کی تعلیمات پر عمل کر رہے تھے۔ اس روحانی ماحول میں بیٹھ کر ہمیں ایک خاص سکون اور اطمینان محسوس ہوا۔

    گوردوارہ کی عمارت کا منظر بہت دلکش تھا۔ اس کی سفید سنگ مرمر کی عمارتیں ایک محل کی طرح نظر آ رہی تھیں، اور پورا منظر ایک شاندار ورثے کی عکاسی کر رہا تھا۔ ہم نے یہاں تصویریں بنائیں یہاں کا سکون اور آہستہ آہستہ گزرنے والا وقت اس بات کا غماز تھا کہ اس جگہ کی حقیقت محض ایک عمارت نہیں، بلکہ ایک روحانی مرکز ہے جہاں گورو نانک کے پیروکار اپنے دل کو سکون پہنچانے کے لیے آتے ہیں۔

    یہ سفر ہمارے لیے ایک انتہائی یادگار تجربہ تھا۔ نہ صرف ہم نے گوردوارہ کی روحانیت کو محسوس کیا، بلکہ دو مختلف ملکوں کے لوگوں کے درمیان محبت، احترام اور بھائی چارے کا حقیقی مظاہرہ بھی دیکھنے کو ملا۔ اس سفر نے ہمیں یہ سکھایا کہ انسانیت کی بنیاد محبت اور احترام پر ہے، اور یہاں کے لوگ اس بات کا زندہ نمونہ ہیں۔
    عینی ملک