Baaghi TV

Category: بلاگ

  • قدیم چولستان، سرائیکی تہذیب  کے منفرد رنگ

    قدیم چولستان، سرائیکی تہذیب کے منفرد رنگ

    قدیم چولستان، سرائیکی تہذیب کے منفرد رنگ
    تحقیق و تحریر:ڈاکٹر محمد الطاف ڈاہر جلالوی
    altafkhandahir@gmail.com
    اس مضمون میں قدیم چولستان کی وادی ہاکڑہ اور سرائیکی تہذیب کی منفرد جھلکیوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ یہ چار اقساط پر مشتمل سلسلہ سرائیکی ثقافت کی گہرائیوں، رسوم و رواج اور تاریخی ورثے پر روشنی ڈالے گا۔

    پہلی قسط . قدیم وادی ہاکڑہ کی تمدنی اقدار،تاریخ کے گمشدہ راز
    چولستانی وادی ہاکڑہ کا تاریخی پس منظر ہزاروں سال پرانا ہے۔جہاں انسانی تخلیقیت نے مادری زبان،روحانیت،ادب، اور ثقافت کے ذریعے تمدنی و تہذیبی اقدار کو پروان چڑھایا۔روہی چولستان کے منفرد رسوم و رواج اور دستکاریوں نے عالمی سطح پر سرائیکی ثقافت کو الگ پہچان دی۔ قدیم آثار جیسے گنویری والا اور قلعہ ڈیراور آج بھی اس خطے کی تہذیبی تاریخ کی گواہی دیتے ہیں۔

    فلسفہ امن و بقائے انسانیت اور فکر معاش نے انسانی تخلیقی خوبیوں اور صلاحیتوں کو پروان چڑھایا۔خلیفہ خداوندی حیوان ناطق انسان نے ہمیشہ مادری زبان کے در سے علم وادب کی روشن خوبصورت قلم مشعل اور شعور کی آگاہی سے منفرد انداز میں آرٹ،کلچر اور سوسائٹی کی بدولت عظیم سمندروں،دریاؤں،ندیوں،چشموں اور ٹوبھوں کے کناروں پر نئی تہذیبوں اور تمدنوں کو تخلیق کیا۔ہزاروں سال پرانی وادی ہاکڑہ سرسوتی کی سرائیکی خطے روہی چولستان کی ثقافت اپنے مخصوص رسم و رواج اور دستکاریوں کی بدولت پاکستان سمیت اقوام عالم میں الگ خاص حیثیت رکھتی ہے۔

    کرہ ارض پر مجبور انسان نے اپنے دکھ سکھ کے اظہار کے لیے ہی رسوم و رواج کی روایات کو فروغ دیا۔صحرائی علاقے بہاولپور کے گلزار صادق روہی چولستان کے کنارے وادی ہاکڑہ سرسوتی تہذیب وتمدن کی آغوش میں پلنے والی مضبوط رواج ریتیں اور رسوم نے روہیلوں کی زندگی میں نئی راہیں تلاش کیں۔قدیم آثارقدیمہ کا حامل شہر گنویری والا،موج گڑھ،قلعہ مروٹ،پتن منارہ،قلعہ ڈیراور جیپ ریلی مرکز چولستان کے ساتھ دیگرچولستانی پرانے گمشدہ محلوں اور قلعوں کے کھنڈرات دراصل آج کے گوپوں میں زندہ جاوید روایات اور رسموں کی گواہی ہیں،روہی کی قابل استعمال اشیاء کا ذکر اور خوبصورت منظر نگاری اپنی نوعیت میں انوکھی ہیں۔

    چولستان اور روہی سرائیکی وسیب کی عالمگیر تہذیب وتمدن،تصوف اور ثقافت اپنی قدیم روایتوں اور منفرد انداز کے باعث بہت مشہور ہے ۔یہاں کی ثقافتی رسموں و رواج اور اشیاء کا نمایاں ذکر سرائیکی وسیب کی بین الاقوامی سطح پر امن و محبت،تصوف،علم وادب،رواداری،خلوص،وفا،
    ،ہمدردی،صبروتحمل،برداشت،دیانت، شرافت،امانت،اتحاد،احترام آدمیت کے فلسفے کی علامات ہیں۔

    مشہور ثقافتی مقامی و انٹرنیشنل چولستانی میلہ، چنن پیر میلہ، جھوک فرید امن میلہ، قلعہ ڈیراور فرید امن میلہ،چولستان جیپ ریلی کے سالانہ تہواروں میں روایتی رقص جھمر،مخصوص چولستانی لباس،موسیقی اور علاقائی دستکاریوں کی نمائش ہر عام خاص سیاح کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔

    اونٹوں کی دوڑ کا ثقافتی تہوار چولستان روہی کے لوگوں بڑے جوش و خروش سے مناتے ہیں۔اس ریس میں نوجوان طاقتور صحرائی ہوائی جہاز خوبصورت نقش و نگار سے مزین اونٹ ہر ایک کو دوڑتے ہوئے بھاتے ہیں۔لوک موسیقی روہی چولستان کی روح ہے۔فنون لطیفہ میں شاعری کی تاثیر کو موسیقی کے سازوں سے مزین کیا جاتا ہے۔

    سرائیکی چولستانی لوک گلوکارجیسے مرحوم فقیرا بھگت کا بیٹا موہن بھگت،اوڈ بھگت، مجید مچلا،مٹھو چولستانی اپنی سریلی گائیکی کے ذریعے علاقائی رنگ پیش کرتے ہیں۔ڈھول ناچ کی رسم کو شادی بیاہ اور دیگر خوشی کے مواقع پر ڈھول کی تھاپ پر رقص جھمر مخصوص دائرہ میں سرائیکی اجرک و چنئی کے رنگوں سے رسم ادا کی جاتی ہے۔

    چولستانی مہندی کی مخصوص رسم شادیوں میں خاص قسم کی مہندی سے ادا کی جاتی ہے۔رسم کی دلکشی صدیوں پرانی انسانی جذبات کی ترجمانی کرتی ہے۔روہی چولستان میں روح کی روحانی تسکین کے لیے پیر سید کی درگاہ کی حاضری لازمی جز زندگی ہے۔

    چادر پوشی کی خاص مذہبی اور ثقافتی رسم عقیدت اوراحساسات کی عملی سکون واطمینان قلب کا خوبصورت جہاں سے جڑی ہوتی ہے۔چولستانی مسلم و ہندو کمیونٹی حضرت سید شیر شاہ جلال الدین حیدر سرخ پوش بخاری رحمتہ اللہ علیہ،مہان سرائیکی شاعر حضرت خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ،قلعہ ڈیراور پر موجود اصحاب کی قبور حضرت چنن پیر رحمتہ اللہ علیہ اور حضرت روحل فقیر (سکھر روہڑی) کو اپنا روحانی مرشد کامل حقیقی مانتے ہیں۔مسجد مندر میں اپنی روحانی تقریبات ادا کرتے ہیں۔چادر پوشی کی رسم روہی چولستان میں بہت اہمیت رکھتی ہے۔

    مشہور ثقافتی اشیاء میں چولستانی کڑھائی کے کپڑے،ہاتھ سے کڑھی بنی ہوئی شال،دوپٹے،کنگن،چوڑیاں، شیشے اور دھات کے بنے خوبصورت زیورات،مٹی کے برتن،خاص طور پر مٹی کے گھڑے اور صراحی،اونٹ کے بالوں سے بنی اشیاء میں رسی،قالین اور دیگر دستکاریاں میں چولستانی لوئی اور کمبل، اون اور روئی سے بنی گرم اشیاء،چاکی ہنر میں لکڑی سے بنی روزمرہ استعمال کی اشیاء جیسے کھجور کے پتوں سے بنی ٹوکریاں،سرائیکی بلوچی چپل جو منفرد ڈیزائن کی بدولت مخصوص علاقائی پہچان رکھتی ہے۔

    یہ رسمیں اور اشیاء چولستان اور روہی کی شاندار تہذیبی،ثقافتی قدیمی آرٹ اینڈ آرکیالوجی کے نقش و نگار کو اجاگر کرتی ہیں۔ پاکستان کے دلکش کلاسک کلچرل ورثے کا اہم سرائیکی شناختی حوالہ ہیں۔الگ پہچان کی مشہور ریاست بہاولپور روہی چولستان کی سادہ مٹھاس بھری رسمیں روایتی ثقافتی ورثےکی شناخت کا زیور ہیں۔

    سوئی کم کریجے
    جہیں وچ اللہ آپ بنڑیجے
    مار نغارا انا الحق دا
    سولی سر چڑھیجے
    وچ کفر اسلام کڈاہاں
    عاشق تاں نہ اڑیجے
    جاری ہے ۔

  • پیراڈائز ہوٹل ٹوبہ ٹیک سنگھ میں انوکھی شادی

    پیراڈائز ہوٹل ٹوبہ ٹیک سنگھ میں انوکھی شادی

    پیراڈائز ہوٹل ٹوبہ ٹیک سنگھ میں انوکھی شادی:دین،معاشرے اور اخلاقیات کا زوال
    تحریر:شاہد نسیم چوہدری
    ٹوبہ ٹیک سنگھ میں شورکوٹ روڈ پر واقع دی پیراڈائز ہوٹل میں ایک انوکھی شادی سرانجام پائی ۔۔۔جو ،معاشرے اور اخلاقیات کی پستی کا واضح ثبوت ہے،ارباز نامی لڑکے کی خواجہ سرا میڈم دعا سے سرعام شادی نے پورے علاقے میں ایک ہلچل مچا دی۔ اس شادی کی تقریب میں نہ صرف روایتی رسومات جیسے دودھ پلائی اور رخصتی ادا کی گئیں، نکاح نہیں کرایا گیا۔ رقص و سرود کی محفل بھی سجائی گئی جس میں نوٹ نچھاور کیے گئے اور علاقے بھر کے خواجہ سراؤں نے شرکت کی۔

    یہ واقعہ ہمارے معاشرتی، دینی اور اخلاقی رویوں کا آئینہ ہے جو ایک سنجیدہ بحث کا تقاضا کرتا ہے۔اسلامی اصولوں کی خلاف ورزی :دین اسلام نکاح کو پاکیزگی اور نسل انسانی کی افزائش کے لیے مقرر کرتا ہے، اور اس کے اصول واضح ہیں۔ قرآن و سنت کے مطابق مرد کا مرد سے، عورت کا عورت سے اور مرد کا خواجہ سرا سے شادی کرنا جائز نہیں۔یہ اصول اس لیے ہیں کہ اسلامی معاشرت کی بنیاد خاندانی نظام پر ہے جو نکاح کے دائرے میں رہ کر نسل انسانی کو آگے بڑھاتا ہے۔ خواجہ سرا کی جنس ایک الگ موضوع ہے، لیکن اس شادی نے نہ صرف ان دینی اصولوں کو پامال کیا بلکہ اسلامی اقدار کو بھی مجروح کیا۔شادی کی تقریب میں نکاح کا سرے سے کوئی ذکر نہ ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ شادی ایک غیر سنجیدہ اور شرعی اصولوں کے برعکس عمل تھا۔ جب اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے واضح احکامات کو نظرانداز کیا جاتا ہے، تو یہ اللہ کے عذاب کو دعوت دینے کے مترادف ہوتا ہے۔

    معاشرتی پہلو: تضاد اور زوال ،یہ واقعہ صرف دینی اصولوں کی خلاف ورزی نہیں بلکہ ہمارے معاشرتی زوال کی بھی ایک بڑی علامت ہے۔شادی کی تقریب کے دوران رقص و سرود اور نوٹ نچھاور کرنا خواجہ سراؤں کو تفریح کا ذریعہ بنانے کا مظہر ہے۔ ہم بحیثیت معاشرہ ان کے ساتھ ہمدردی کے بجائے انہیں تماشہ بنا رہے ہیں۔خواجہ سراؤں کے رقص کو سرعام دیکھنا اور اس پر خوشی کا اظہار کرنا اخلاقیات کے زوال کی نشاندہی کرتا ہے۔اور پھر اس سے شادی کے نام پر ساتھ لے جانا سر عام زناکاری کے زمرے میں آتاہے، یہ رویہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ہم اپنی روایات اور اقدار کو نظرانداز کر چکے ہیں۔

    معاشرتی طور پر خواجہ سراؤں کو اب تک نہ تو برابری کا درجہ ملا ہے اور نہ ہی ان کے حقوق کی فراہمی ممکن ہو سکی ہے۔ اس کے باوجود ایسے تماشوں میں انہیں مرکز بنا کر پیش کرنا ہمارے دوہرے معیار کو ظاہر کرتا ہے۔شریعت اور خواجہ سرا بارے اگر غور کیا جائے تواسلامی تعلیمات خواجہ سراؤں کے ساتھ انصاف اور احترام کا درس دیتی ہیں۔ قرآن و سنت میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ہر انسان کے ساتھ عدل و انصاف کیا جائے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ شرعی اصولوں کو توڑ کر اپنی عیش و عشرت کیلئے ان کے لیے علیحدہ قوانین بنائے جائیں۔خواجہ سراؤں کو ان کے حقوق دینا ضروری ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ معاشرتی اور دینی اصولوں کو پس پشت ڈال دیا جائے۔

    ارباز اور دعا کی شادی نہ صرف شرعی اصولوں کے خلاف ہے بلکہ یہ ایک خطرناک مثال بھی قائم کرتی ہے جو معاشرتی انتشار کو جنم دے سکتی ہے۔اس جیسے اعمال دین اسلام کی نظر میں سخت ناپسندیدہ ہیں۔اس تقریب میں یہ عمل سرعام کیا گیا، جو کھلم کھلا گناہ ہے۔نکاح، شادی کی بنیاد اور ایک مقدس معاہدہ ہے، لیکن یہاں نکاح کو نظرانداز کر دیا گیا۔ یہ عمل معاشرتی اقدار کی پامالی ہے۔

    خواجہ سراؤں کو ایسے مقاصد کیلئے تقریبات میں استعمال کرنا شرعی اور اخلاقی طور پر غلط ہے۔ان کی عزت نفس کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔ معاشرے کی ذمہ داری ہے،یہ وقت ہے کہ ہم بحیثیت قوم اپنے اعمال کا جائزہ لیں اور اصلاح کی طرف بڑھیں۔معاشرے میں دینی تعلیمات کو فروغ دینا اور اسلامی اصولوں پر عمل پیرا ہونا ضروری ہے۔ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے قانون سازی کی جائے اور ان پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔

    خواجہ سراؤں کے حقوق:خواجہ سراؤں کو ان کے شرعی اور قانونی حقوق فراہم کیے جائیں تاکہ وہ معاشرے میں باعزت زندگی گزار سکیں۔معاشرے کو خواجہ سراؤں کو انسان سمجھنا اور ان کے ساتھ برابری کا سلوک کرنا سیکھنا ہوگا۔ارباز اور دعا کی شادی نے دینی اور معاشرتی اصولوں کو توڑ کر ہمیں ہمارے زوال کا آئینہ دکھایا ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور اپنے اعمال کا جائزہ لیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے احکامات پر عمل کرنے کا حکم دیا ہے، اور ان سے انحراف کرنا صرف دنیاوی نقصان ہی نہیں بلکہ اخروی عذاب کا بھی سبب بن سکتا ہے۔اللہ ہمیں ہدایت دے کہ ہم اپنے اعمال درست کریں، خواجہ سراؤں کو ان کے جائز حقوق دیں، اور دینی اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے معاشرتی اصلاح کی طرف بڑھیں۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنی روایات اور اقدار کو زندہ کریں اور ایسے اعمال سے باز رہیں جو اللہ کے قہر کو دعوت دیں۔

    نوٹ : دی پیراڈائز ہوٹل ٹوبہ ٹیک سنگھ کے ذمہ دار عاصم سے اس شادی بارے معلومات لینے کیلئے فون کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ بات بالکل ٹھیک ہے،یہ واقعہ ایسے ہی ہے۔جب ان سے سوال کیا گیا کہ یہ تقریب کس نے،کس تاریخ کو،کتنے لوگوں کے لئے بکنگ کروائی اور بل کتنا بنا۔۔تو انہوں نے فون بند کردیا اور بارہا رابطہ کرنے پر بھی فون اٹینڈ نہیں کیا۔۔۔۔،

  • مریم نواز کا سکالرشپ پروگرام اعزاز یا مذاق؟

    مریم نواز کا سکالرشپ پروگرام اعزاز یا مذاق؟

    مریم نواز کا سکالرشپ پروگرام اعزاز یا مذاق؟
    تحریر: اعجازالحق عثمانی
    زمانۂ حال کی سیاست میں خیرات، امداد اور فلاحی سکیمیں عوامی مقبولیت کے حصول کا مجرب نسخہ سمجھی جاتی ہیں۔ انہی سکیموں میں، سوشل میڈیا تشہیر سے بھرپور ایک مریم نواز کا سکالرشپ پروگرام بھی شامل ہے، جسے بظاہر غریب اور مستحق طلباء کی تعلیم کے فروغ کے لیے ایک سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ لیکن اس پروگرام کی تفصیلات میں جب گہرائی سے جھانکا جاتا ہے تو حقائق کے پردے ہٹتے ہیں اور اس سکیم کے مضمرات ایک عجیب تمسخر کی شکل میں سامنے آتے ہیں۔

    سکالرشپ کی مد میں یونیورسٹیوں میں طلباء کے لیے قریباً 50 سے 90 لاکھ روپے تک کے وظائف فراہم کیے جا رہے ہیں۔ یہ اعداد و شمار بظاہر متاثر کن ہیں اور عوامی ذہن میں یہ گمان پیدا کرتے ہیں کہ ان وظائف کی مدد سے مستحق طلباء کے تعلیمی مسائل حل ہو جائیں گے۔ مگر جب اس رقم کو 200 سے 300 طلباء کے درمیان تقسیم کیا جاتا ہے تو ہر طالب علم کو محض 15,000 سے 20,000 روپے ہی میسر آتے ہیں۔یہ رقم جو سننے میں تو کسی "اعزاز” سے کم نہیں لگتی، حقیقتاً ایک مذاق کے مترادف ہے۔ موجودہ تعلیمی حالات میں، جہاں یونیورسٹیوں کی ایک سمسٹر کی فیس 50,000 سے ایک لاکھ روپے تک پہنچ چکی ہے، وہاں یہ رقم طالب علم کی ضرورتوں کا ایک چھوٹا سا حصہ بھی پورا نہیں کرتی۔ نتیجتاً، نہ تو یہ وظائف تعلیمی بوجھ کو کم کرنے میں معاون ثابت ہو پاتے ہیں اور نہ ہی مستحقین کو کسی حقیقی ریلیف کی امید دلاتے ہیں۔

    اس سکالرشپ پروگرام کے ساتھ جو ایک اور سنگین مسئلہ جڑا ہوا ہے، وہ مریم نواز کے یونیورسٹیوں کے دوروں کے دوران پیدا ہونے والی صورتِ حال ہے۔ ان کے دوروں کی وجہ سے اکثر یونیورسٹیوں میں کرفیو جیسی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ تقریباً 95 فیصد طلباء کو چھٹی دے دی جاتی ہے، اور بعض اوقات تو یونیورسٹیاں اپنے جاری امتحانات تک کو منسوخ کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔یہ صورت حال ان دوروں کا مقصد تعلیمی مسائل کو حل کرنا نہیں، بلکہ کسی اور طرف کو اشارہ کرتی ہے۔ طلباء کی پڑھائی اور ان کے تعلیمی معمولات کو تہ و بالا کر کے ایسے دورے تعلیمی اداروں کی خودمختاری پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کرتے ہیں۔

    طلباء کسی بھی قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں۔ ان کی عزت اور حوصلہ افزائی ہر معاشرے کی ترجیح ہونی چاہیے۔ مگر اس سکالرشپ پروگرام میں طلباء کو دی جانے والی معمولی رقم اور اس کے ساتھ کی جانے والی تشہیر طلباء کے وقار کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔ ایک طرف سیاسی رہنما عوامی فنڈز سے وظائف دے کر خود کو "عوام کا مسیحا” ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تو دوسری طرف طلباء کو ان کی بنیادی تعلیمی ضرورتوں سے محروم رکھا جاتا ہے۔بوسیدہ تعلیمی نظام، انفراسٹرکچر اور دیگر کئی مسائل میں ہماری جامعات گھری ہوئی ہیں۔ مگر یہ خان اور شریف ہمیں چند ہزار کے پیچھے لگائے رکھیں گے۔ تاکہ ہم اصل مسائل کو بھولے رہیں۔

    یہ وقت کی ضرورت ہے کہ ہم ایسے پروگراموں کے حقیقی اثرات کو سمجھیں اور ان میں اصلاحات کے ذریعے تعلیم کے میدان میں حقیقی انقلاب برپا کریں، نہ کہ محض سیاسی فوائد کے حصول کے لیے عوامی وسائل کا استحصال کریں.

  • کر مریم اینی وفا گئی اے۔۔۔غریب دا بوجھ ونڈا گئی اے

    کر مریم اینی وفا گئی اے۔۔۔غریب دا بوجھ ونڈا گئی اے

    ”کر مریم اینی وفا گئی اے۔۔۔غریب دا بوجھ ونڈا گئی اے”
    وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کا دورہ ڈی جی خان
    تحریر: محمد جنید جتوئی،ڈپٹی ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز،ڈی جی خان
    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے ڈیرہ غازی خان ڈویژن میں اسکالرشپ تقسیم کرکے پورے پنجاب کے 30 ہزار طلباء کو تعلیمی وظائف ان کے گھروں کے نزدیک خود پہنچا دیے ہیں۔ اب وہ ایک لاکھ بائیکس اور جدید لیپ ٹاپ لے کر دوبارہ آنے کا وعدہ بھی کر گئی ہیں۔ ڈی جی خان کے دورے پر طالبہ شاعرہ نے کیا خوب کہا کہ:
    "او سب دی ماں آگئی اے”
    "کر اپنا فرض ادا گئی اے”
    "کر مریم اینی وفا گئی اے”
    "او غریب دا بوجھ ونڈا گئی اے”


    واقعی وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے غریب طالب علموں کے اسکالرشپ کی شکل میں تعلیمی اخراجات اٹھا کر اپنا حق ادا کر دیا ہے۔ اب بچوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ محنت کو شعار بنائیں اور تعلیم و تحقیق مکمل کرکے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کو ان کی محبتوں کا مثبت جواب دیں۔

    ڈیرہ غازی خان کے دورے پر وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے ہونہار اسکالرشپ پروگرام کا پہلا مرحلہ مکمل کیا۔ غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان میں منعقدہ تقریب میں وزیر اعلیٰ نے طلباء میں چیک تقسیم کیے اور نئے جدید لیپ ٹاپ کی رونمائی کی۔ تقریب کے دوران ایک طالبہ شاعرہ نے وزیر اعلیٰ کو منظوم خراج تحسین پیش کیا۔ وزیر اعلیٰ نے خود اسٹیج پر آکر اسکالرشپ کے چیک تقسیم کرکے ڈیرہ غازی خان ڈویژن میں ہونہار اسکالرشپ کا آغاز کیا۔

    تقریب میں وزیر اعلیٰ کو شیشہ کاری سے مزین روایتی شال اور بلوچی لباس کا تحفہ پیش کیا گیا۔ طلباء نے وزیر اعلیٰ کو محمد نواز شریف اور دیگر پورٹریٹ بھی پیش کیے۔ روایتی بلوچی لباس میں ملبوس کوہ سلیمان کی ایک طالبہ نے بلوچی زبان میں خوش آمدید کہا۔ وزیر اعلیٰ نے تلاوت قرآن پاک اور ملی نغمے پیش کرنے والے طلباء سے اظہار شفقت کیا۔ "رسول مدنی را، نازک بدنی را” جامی کی نعت پیش کرنے والی طالبہ کو ازراہ شفقت گلے لگا لیا۔ "نفرتوں کے دروازے بند رکھیں گے، یہ پرچم سربلند رکھیں گے” کے ملی نغمے پر پنڈال تالیوں سے گونج اٹھا۔

    وزیر اعلیٰ کی آمد پر طلباء نے جوش و خروش کا مظاہرہ کیا۔ وزیر اعلیٰ نے اسمبلی اراکین کی نشستوں پر جا کر خیریت دریافت کی اور طالبات کے درمیان بیٹھ کر ان سے بات چیت کی۔ وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر طلباء کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ پنجاب پولیس کے چاق و چوبند دستے نے طلباء کو جنرل سلامی دی۔ پولیس وردی میں ملبوس ایک ننھی بچی کو وزیر اعلیٰ نے پاس بٹھا کر پیار کیا۔

    ڈیرہ غازی خان ڈویژن کے 1250 طلباء میں 3 کروڑ 14 لاکھ روپے مالیت کے اسکالرشپ تقسیم کیے گئے۔ میر چاکر خان رند یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے 35 طلباء کو 13 لاکھ 80 ہزار روپے، یونیورسٹی آف لیہ کے 292 طلباء کو 72 لاکھ 94 ہزار روپے، اور غازی یونیورسٹی کے 100 طلباء کو 49 لاکھ 35 ہزار روپے کے اسکالرشپ دیے گئے۔

    وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ کوئی اہل، محنتی اور میرٹ پر آنے والا طالب علم فیس نہ ہونے کی وجہ سے اعلیٰ تعلیم سے محروم نہیں رہے گا۔ انہوں نے نوجوانوں کو نصیحت کی کہ وہ اپنے والدین سے دعائیں لیں اور ہمیشہ محنت اور تعلیم کو اپنا نصب العین بنائیں۔۔ میرچاکر خان رند یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے 35 طلبہ کو 13 لاکھ 80 ہزار روپے سکالرشپ ملے۔یونیورسٹی آف لیہ 292 طلبہ کیلئے 72لاکھ94ہزار روپے کے ہونہار سکالر شپ فراہم کیے گئے۔غازی یونیورسٹی کے 100طلبہ کو 49لاکھ 35ہزار روپے کے ہونہار سکالر شپ سے نوازا گیا۔ڈیرہ غازی خان،لیہ،مظفر گڑھ اور راجن پور کے سرکاری کالجز کے 526طلبہ کو 80 لاکھ 96ہزار روپے کے ہونہار سکالر شپ مل گئے۔

    غازی یونیورسٹی ڈی جی خان میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے خیبرپختونخواہ اور بلوچستان کے طلبہ کوبھی ہونہار سکالرشپ دینے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف نے غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان میں انکوبیشن سینٹر قائم کرنے کا اعلان کیا اور غازی یونیورسٹی کے طلبہ کی ضروری تعلیمی ضروریات پوری کرنے کی ہدایت کی ہے۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ڈی جی خان میں ہونہار سکالر شپ کی تقریب سے تاریخی خطاب میں کہا ہے کہ اہل،محنتی اور میرٹ پر آنے والا بچہ،فیس نہ ہونے کی وجہ سے اعلیٰ تعلیمی ادارے کی تعلیم سے محروم نہیں رہے گا۔ ہم نو مئی والے نہیں ہیں 28مئی والے ہیں، پاکستان والے ہیں اور پاکستان کی عزت کے رکھوالے ہیں۔ہماری زبان تذلیل کی نہیں تدریس کی ہے۔ ہم ڈنڈا بردار نہیں ہم علم، امن اور ترقی کے علمبردار ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ بچے اپنے والدین سے دعائیں لیں، غصہ آبھی جائے تو جواب نہ دیں۔میرے بیٹے اور بیٹیوں بڑوں کا لحاظ کرو، بدتمیزی نہ کرو اور لائن کراس مت کرو۔ کبھی نہیں چاہوں کہ آپ کسی کو گالی دو،ماں اپنے بچوں کو ترغیب نہیں دے سکتی۔پاکستان کو جہاں پر اور مسائل کا سامنا ہے وہاں پر فیک نیوز کا بھی سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچے بغیر تحقیق کے سوشل میڈیا کی پوسٹ پر یقین نہ کیا کریں۔ سچ ابھی تسمے باندھ رہا ہوتا ہے، جھوٹ پوری دنیا کا چکر لگاکر آجاتا ہے۔انہوں نے چار سال کام کچھ نہیں کیا،اختتام پر یہی کہا یہ چور وہ چور،اسے پکڑ لو، آگ لگادو۔ وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف نے کہا کہ بچے کوئی بھی فیصلہ کرتے وقت پاکستان کو سامنے رکھیں۔

    پاکستان ہماری ماں ہے اور ماں کے ساتھ وفاداری کی جاتی ہے غداری نہیں۔میری حکومت ہونہ ہولیکن پاکستان میرا ہے۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ میری حکومت نہ ہوتو پاکستان کو جلاؤ دوں، اس ملک کو ماں کی مانند سمجھنا ہے۔ نوجوانوں آپ کا ہر فیصلہ ہونہار سکالر شپ کی طرح 100فیصد میرٹ پر ہونا چاہیے۔نوجوانوں کے ہاتھ میں فیصلے کی قوت ہے، نوجوان ہی میری ہمت ہیں اکیلے کچھ نہیں کر سکتی۔ گالی گلوچ، پگڑیاں اُچھالنے اپنے ملک کے خلاف قدم اٹھانے والا آپ کا دوست نہیں ہے۔ پاکستان ہماری ریڈ لائن ہے، شہداء، رینجرز اور پولیس ہمارے اپنے ہیں۔

    ہونہار سکالر شپ کے حوالے سے پروپیگنڈہ وہ کررہے ہیں جنہوں نے سکالر شپ کی بجائے بچوں کے ہاتھ میں پٹرول بم دیا۔انہوں نے کہا کہ ہونہار سکالر شپ حاصل کرنے والے بیٹے اور بیٹیوں کو دل اتھاہ گہرائیوں سے بہت بہت مبارکباد۔ گھر جاکر میری طرف سے والدین اور گھر والوں کو بھی مبارکباد دینا۔ والدین سے کہنا جتنا آپ کو فخر ہے اس سے زیادہ مجھے آپ پر فخر ہے۔اپنے بیٹوں سے بھی اتنا ہی پیا ر کرتی ہوں جتنا اپنی بیٹیوں سے کرتی ہوں۔ہر ڈویژن میں خود گئی اور بچوں کو خود جاکرہونہار سکالر شپ دیئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ میں خود چل کرہونہار سکالر دیئے اور بچوں کے مسائل ان کی زبانی سنے، محسوس کیے۔بچوں کی ہر بات دل سے سنتی ہوں، جو نہیں کہتے وہ بھی سنائی دیتی ہے۔ ماں اور بچوں کا جور شتہ قائم کیا ہے یہ میری زندگی کا حاصل ہے۔

    ہرڈویژن سے بچوں کی طرف سے بہت محبت ملی وہ میری زندگی کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف نے کہا کہ دنیا میں ہر رشتہ ٹوٹ سکتا ہے لیکن ماں اور بچوں کا رشتہ ٹوٹ نہیں سکتا۔ نوجوانوں کی محبت، احترام اور اعتماد میرے لئے بہت بڑا اعزاز ہے۔لیپ ٹاپ اور ای بائیکس لیکر جلد آپ کے پاس دوبارہ آؤں گی۔ چاہتی ہوں میرے بیٹے اور بیٹیاں فیس کے پریشرسے آزاد ہوکر اپنی تعلیم حاصل کریں۔ بچوں کو جدیدٹیکنالوجی لیس کرنے کے لئے لیپ ٹاپ دے رہے ہیں تاکہ اپنی ریسرچ اور انسینمنٹ جاری رکھیں۔ بچوں کی طرف جو رسپانس مل رہا ہے، مخالفین کو سمجھ نہیں آرہی کہ یہ کیا ہوگیا ہے۔ مخالفین کوئی وجہ تلاش کررہے ہیں، بچوں کے ساتھ جو رشتہ قائم ہوگیا ہے اس کا کیا کریں۔

    مخالفین ہونہار سکالر شپ کو ڈرامہ کہتے ہیں ان کوپتہ ہی نہیں کہ سچی محبتیں کیا ہوتی ہیں۔ جھوٹ میں آنکھ کھولی، جھوٹ میں پلنے والوں کیا پتہ پیار اور اعتماد کا رشتہ کیا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں نے یہ محبت دی تو اس سے میری کندھوں ذمہ داری اورمحنت کابوجھ بڑھ گیا ہے۔ بیٹے اور بیٹیوں کی محبت کا جواب اور زیادہ محبت سے دوں گی اورزیادہ سکیم لاکراس پیار کا جواب دوں گی۔ میرے کندھوں پر بچوں کے خواب کوپورا کرنے، مستقبل کو بہتر بنانے کا بوجھ ہے جس کو اچھے طریقے سے اس فرض کو ادا کرنا چاہتی ہوں۔ حقیقت یہی ہے کہ ہرروز بچوں کی زندگیوں اورتعلیم کو بہتر بنانے کیلئے دن رات محنت کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں۔ بہت عاجزی اور بچوں کی گواہی کے ساتھ کہتی ہوں کہ 30ہزار سکالر شپ میں سے ایک بھی کسی سفارش پر نہیں دیا گیا۔ ہر بچہ یہ گواہی دے سکتا ہے کہ ایک بھی سکالر شپ میرٹ کی خلاف ورزی پر نہیں دیا گیا۔

    اگر کو کہہ دے کہ کسی ایک بچے کو کسی منسٹر، ایم این اے یا ایم پی اے کی سفارش پر سکالر شپ ملا ہے تو استعفیٰ دے کر گھر چلی جاؤں گی۔اللہ تعالیٰ کا شکر اور احسان ہے کہ بچوں کا ان کاحق دینے کی توفیق دی۔ بچے ہونہار سکالر شپ پر شکریہ بولتے ہیں تو مجھے تکلیف ہوتی ہے،یہ آپ کا حق تھا جو آپ کو ملا ہے۔ وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف نے کہا کہ سکالر شپ کو پانے کیلئے بچوں نے محدود وسائل میں رہ کر زبردست محنت کی یہ آپ کی محنت کا ثمر ہے۔ میرے بیٹے اور بیٹیاں آپ ہیروز نہیں ہوں بلکہ سوپرہیروز ہیں۔ہونہار سکالر شپ میرے بچوں کی بہت بڑی اچیومنٹ ہے اللہ تعالیٰ نے آپ کو آپ کی محنت کا صلہ دیا ہے۔ بچے سر اٹھا کر چلیں کہ انہیں ہونہارسکالر شپ ملا ہے۔

    پاکستان بہت سے وسائل سے مالا مال کیا ان وسائل میں 65فیصد یوتھ بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگلے چند سالوں میں یہی یوتھ پاکستان کو لیڈ کرے گی۔ کوئی بچہ اپنے آپ کو چھوٹا یا بڑے نہ سمجھے بلکہ آپ ہی پاکستان ہو۔ بچوں کو جلد لیپ ٹاپ اور ایک لاکھ ای بائیکس فراہم کریں گے۔جس طرح میں اپنے بچوں کی ماں ہوں اسی طرح قوم کے بچوں کی ماں ہوں۔ اس سال 30ہزار سکالر دیئے ہیں اور اگلے سال50ہزار تک سکالر شپ دے رہے ہیں۔ بہت جلد سیکنڈ اور تھرڈ ایئر بچوں کے لئے بھی سکالر شپ لیکر آرہے ہیں۔

    وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف نے کہا کہ کے پی کے بچوں کی طرف سے بھی درخواستیں آرہی ہے ہمیں بھی سکالر شپ دیئے جائیں۔چاہتی ہوں کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے بچوں کو سکالر شپ دوں۔ ہونہار سکالرشپ کے بدلے میں مریم نواز کچھ نہیں مانگتی بلکہ یہ کہتی ہوں کہ اپنے والدین کا فخر بنو۔ جس بچے کو ماں باپ کی دعا ہوتی ہے وہ کسی میدان میں بھی ناکام نہیں ہوتا۔ جس بچے سے والدین راضی اس سے رب راضی۔ آج اللہ تعالیٰ نے وزارت اعلیٰ کی کرسی دی ہے، اللہ کے فضل کے بعد والدین کی دعا سے ملی۔

    انہوں نے کہا کہ پنجاب سے تعلق لیکن پنجابی سے پہلے پاکستانی ہوں، جیسے ہم پر ماں باپ کے فرض لازم ہیں ایسے ہی پاکستان کے لازم ہیں۔ میں کبھی نہیں کہوں گی کہ میٹرو بس اور موٹرویز جلاؤ دو۔ محمد نوازشریف نے پاکستان کو جوڑنے کے لئے موٹرویز بنائی،انہوں نے پنجاب پر کے پی کے سے حملہ کرنے کے لئے استعمال کیں۔ میٹرو بس کو آگ لگادی میں میٹروبس میں نہیں بیٹھتی، عوام بیٹھتے ہیں۔وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف نے کہا کہ انتشار پھیلانے والوں نے نوجوانوں کو ورغلاکر جیل میں پہنچا دیا اب ان کو کوئی پرسان حال نہیں۔ انتشاریوں نے پاکستان کے بچوں کا مستقبل تباہ کر دیااور ان کے بچے ملک سے باہر بیٹھے ہیں۔بدترین مخالف کی حکومت رہی جیل میں ماں کی وفات اور باپ کی بیماری کی خبر سنی لیکن کسی کو نہیں کہا جاکر ملک جلاؤ دو۔ حکومت کسی کی بھی ہوسکتی ہے پاکستان تو میرا ہے۔

    ایک طرف ہم ہیں چاہتے ہیں کہ بچے پڑھیں، ترقی کریں اور دوسری جانب انتشاری بچوں کو جیل بھجوانے کے منتظر ہیں۔ اپنے بچوں کو یورپ رکھنے والے اور ملک کے بچوں کو جیل بجھوانے والے ہمدرد نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ چار سال پہلے 38فیصد مہنگائی تھی آج وہی مہنگائی چار فیصد پر آگئی ہے۔ روٹی 30روپے کی تھی آج وہی روٹی 12روپے کی ہے۔ روٹی غریب کھاتا ہے روٹی سستی ہوگی تو غریب کے بچہ کا پیٹ بھرے گا۔ ہر رات سونے سے پہلے روٹی کی قیمت چیک کرکے سوتی ہوں۔ایک طرف دہشت گردی پھیلانے والے ہیں دوسری طرف امن وامان اور ترقی لانے والے ہیں،بچوں امن کا راستہ چننا۔وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف نے کہا کہ ایک طرف مدینہ منورہ میں قومی کی بیٹیوں پر آوازیں کسنے والے اور دوسری طرف اخلاقیات درس دینے والی ماں ہے۔ اپنے بیٹوں کونصیحت کرتی ہوں کہ قوم کی خواتین کی عزت کی حفاظت آپ کی ذمہ داری ہے۔
    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف خصوصی طیارہ کے ذریعے ڈی جی خان ائیر پورٹ پر پہنچیں۔کمشنر ڈاکٹر ناصر محمود بشیر اور آر پی او کیپٹن ریٹائرڈ سجاد حسن خان اور دیگر نے ائیر پورٹ پر وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف کو خوش آمدید کہا۔وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف ہیلی کاپٹر کے ذریعے غازی یونیورسٹی میں بنائے گئے پنڈال میں پہنچیں۔صوبائی وزیر انفارمیشن عظمی بخاری،مشیر وزیر اعلیٰ ثانیہ عاشق،چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ہمراہ تھے۔صوبائی وزیر سردار شیر علی گورچانی اور ایم پی اے سردار احمد خان لغاری بھی وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ہمراہ پنڈال میں آئے۔ڈیرہ غازیخان ڈویژن کے اراکین اسلمبی،ٹکٹ ہولڈرز،ورکرز،کارکن،طلباء وطالبات،والدین اور شہری تقریب موجود تھے۔ اراکین اسمبلی محمد حنیف پتافی،سردار احمد خان لغاری،سردار اسامہ فیاض لغاری،سردار علی یوسف لغاری،پارلیمانی سیکٹری ہائیر ایجوکیشن محمد اجمل چانڈیہ،ایم پی اے محمد اصغر گورمانی،سردار شیر افگن گورچانی،سردار عبدالعزیز جگن دریشک،سردار خضر حیات مزاری،عون حمید ڈوگر،سابق صوبائی وزیر ملک قاسم ہنجرا،سابق اراکین اسمبلی صاحبزادہ فیض الحسن سواگ، مسز شہناز سلیم،سید عبد العلیم شاہ،نجمہ ارشد،احمد یار ہنجرا اور دیگر موجود تھے۔

    طلباء وطالبات نے موبائل فون کی ٹارچ آن کرکے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کو خوش آمدید کہا۔وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف خود چلکر طالبات کے پاس پہنچیں۔طالبات نے وزیر اعلیٰ پنجاب کو اپنے ہاتھوں سے پنسل ورک کا مریم نواز شریف اور میاں نواز شریف کے پورٹریٹ پیش کئیے ،وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے طالبات کو گلے لگایا۔غازی یونیورسٹی اور کوہ سلیمان کی طالبہ نے بلوچی میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کو خوش آمدید کہا۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بچیوں کے ساتھ ملکر قومی ترانہ پڑھاوزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف،طلبا و طالبات کو پنجاب پولیس کے چاق و چوبند دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا۔صوبائی وزیر ہائیر ایجوکیشن رانا سکندر حیات نے سٹیج سیکرٹری کے فرائض انجام دئیے۔پنڈال وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف،میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کے نعروں سے گونجتا رہا۔وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف تالیاں بجا کر بچوں کے نعروں کا جواب دیتے رہیں۔پنڈال کو وزیر اعلیٰ مریم نواز کے پنجاب میں کئے گئے اقدامات کے پوسٹرز سے سنوارا گیا تھا۔پنڈال میں ہونہار سکالر شپ کے سفر سے متعلق ڈاکومنٹری بھی دکھائی گئی۔ڈی جی خان شہر کو وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کو خوش آمدید کہنے کے بینرز سے سجایا گیا تھا۔

  • تلہ گنگ دھرتی کا قابلِ فخر سپوت

    تلہ گنگ دھرتی کا قابلِ فخر سپوت

    تلہ گنگ دھرتی کا قابلِ فخر سپوت
    تحریر: شوکت علی ملک
    ویسے تو راقم افسران کی قصیدہ گوئی کا سخت ترین ناقد ہے مگر کچھ فرض شناس عوام کے حقیقی خادم اور اپنی ڈیوٹی کو جہاد سمجھ کر بخوبی سرانجام دینے والے افسران جوکہ اپنے کام کی وجہ سے ایک منفرد پہچان رکھتے ہوں انکی قصیدہ گوئی بھی عین فرض ہوجاتی ہے کہ ان پہ قلم کشائی کرکے ان کی حوصلہ افزائی کی جائے۔

    آج ایسے ہی ایک قابلِ فخر سپوت کا آپ سے تعارف کروانا عین فرض سمجھتا ہوں جن کا تعلق شہیدوں اور غازیوں کی سرزمین تلہ گنگ کے نواحی گاؤں متھرالہ سے ہے میری مراد "ملک حاکم خان” ہیں جوکہ اس وقت اسسٹنٹ کمشنر سٹی راولپنڈی تعینات ہیں اور اپنی ذمہ داریاں بطریق احسن سرانجام دے رہے ہیں۔

    اسسٹنٹ کمشنر سٹی راولپنڈی ملک حاکم خان نے مختصر وقت میں قبضہ مافیا اور تجاوزات مافیا کو جو نتھ ڈالی ہے وہ اپنی مثال آپ ہے، یہی وجہ ہے کہ راولپنڈی کا ہر شہری ملک حاکم خان کے نام سے نہ صرف واقف ہے بلکہ ان کے کام کی کھل کر تعریف کرتا ہے، تاجر برادری ہو یا عام شہری وہ ملک حاکم خان کو راولپنڈی شہر کےلیے فرشتہ تصور کرتے ہیں۔

    ٹائم کی پابندی، وقت پر آفس آنا اور شہریوں کے مسائل کو بذات خود سننا اور موقع پر احکامات جاری کرنا ان کے معمول کا حصہ ہے، آفس ورک کے بعد روزانہ کی بنیاد پر تجاوزات کیخلاف آپریشن ہو، صفائی ستھرائی کے معاملات ہوں یا پھر سنگل یوز پلاسٹک پر پابندی کے حوالے سے 75 مائیکرون سے کم پلاسٹک بیگز کیخلاف کریک ڈاؤن ملک حاکم خان رات گئے تک عملے کے ہمراہ خود فیلڈ میں موجود رہتے ہیں۔

    ویسے تو راقم کی ملک حاکم خان سے کوئی اتنی پرانی شناسائی نہیں مگر پہلی ملاقات میں ہی ان کی عاجزی انکساری اور انسانیت دوست رویے نے اپنا گرویدہ بنا لیا، ملک حاکم خان ینگ ہیں انرجیٹنگ ہیں ان کے اندر کام کرنے کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے، ان کی ایمانداری اور فرض شناسی کے باعث راولپنڈی کا ہر شہری ان کو اپنا محسن اور حقیقی خدمتگار سمجھتا ہے۔

    گزشتہ دنوں راقم بن بتائے ملاقات کےلیے ان کے آفس پہنچا تو حسب معمول باہر بیھٹے عملے سے جب دریافت کیا کہ اے سی صاحب تشریف فرما ہیں تو انہوں نے تعارف پوچھا جس پر راقم نے کہا اور تو میرا کوئی تعارف نہیں، ہاں البتہ تلہ گنگ سے ہوں جس پر عملے نے بلاحیل و حجت دروازہ کھول کر کہا تلہ گنگ والوں کو تو کوئی رکاوٹ نہیں ہے آپ اندر چلے جائیے۔

    راقم جب اندر پہنچا تو ملک حاکم خان صاحب حسب معمول عوامی مسائل سننے میں مشغول تھے، تلہ گنگ والوں کےلیے خصوصی آفر پر راقم نے کہا "واؤ بھائی ماشاءاللّٰہ تلہ گنگ والوں کیساتھ اتنی محبت کہ ان کےلیے بغیر رکاوٹ ہمہ وقت دروازے کھلے ہیں” کہنے لگے بھائی میرا اصل مقصد ہی عوامی خدمت ہے پھر راولپنڈی والے ہوں یا تلہ گنگ والے ہر خاص و عام کےلیے میرے دفتر اور دل کے دروازے ہر وقت کھلے ہیں پر تلہ گنگ والوں سے تو خصوصی محبت ہے۔

    دھرتی تلہ گنگ سے تعلق رکھنے والے قابلِ فخر سپوت ملک حاکم خان اسسٹنٹ کمشنر سٹی راولپنڈی کی اپنی دھرتی تلہ گنگ اور اہلیانِ تلہ گنگ سے محبت نے گویا دل موہ لیا ہے، دعا ہے رب تعالیٰ ہمارے قابلِ فخر بھائی، فرزند تلہ گنگ، فخر تلہ گنگ، دھرتی تلہ گنگ کے قابلِ فخر سپوت "ملک حاکم خان” کو مزید عزم و ہمت سے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے، ان کو مزید کامیابیوں سے ہمکنار فرمائے اور یونہی ایمانداری اور لگن کیساتھ انسانیت کی خدمت جاری رکھنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین

  • سگریٹ،جان و مال کا دشمن،تحریر: حنا سرور

    سگریٹ،جان و مال کا دشمن،تحریر: حنا سرور

    پاکستان میں مہنگائی کی صورتحال دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے۔ لوگ اپنی روزمرہ کی ضروریات پوری کرنے کے لئے سخت محنت کرتے ہیں، لیکن پھر بھی اکثر انہیں مہنگائی کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے باوجود پاکستانی قوم میں ایک حیرت انگیز تضاد پایا جاتا ہے: ایک طرف مہنگائی کا رونا رویا جاتا ہے اور دوسری طرف عوام اپنی جیب سے پیسہ نکال کر ایسی چیزوں پر خرچ کر رہے ہیں جو نہ صرف صحت کے لئے مضر ہیں بلکہ ان کی مالی حالت پر بھی منفی اثرات مرتب کرتی ہیں۔ ان میں سب سے بڑی چیز سگریٹ نوشی ہے۔

    سگریٹ نوشی ایک ایسی عادت ہے جو نہ صرف فرد کی صحت کو تباہ کرتی ہے بلکہ اس سے معاشرے پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ سگریٹ میں موجود کیمیکلز اور زہریلے مادے انسان کے پھیپھڑوں، دل اور دیگر اعضاء پر حملہ کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں کینسر، دل کی بیماریوں اور سانس کی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس کے باوجود پاکستانی قوم بڑی تعداد میں سگریٹ پینے کی عادت میں مبتلا ہے۔پاکستانی عوام اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ سگریٹ نوشی صحت کے لئے کتنی خطرناک ہے، لیکن پھر بھی وہ اسے ترک کرنے میں ناکام ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ سگریٹ نوشی ایک نشے کی عادت بن چکی ہے، جس سے چھٹکارا حاصل کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اپنی صحت کے ساتھ ساتھ اپنی مالی حالت کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں۔

    پاکستان میں جہاں لاکھوں خاندان بنیادی ضروریات جیسے کھانا، تعلیم، اور علاج معالجے کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں، وہیں ایک بڑی تعداد ایسی بھی ہے جو سگریٹ نوشی کی عادت میں مبتلا ہے۔ یہ صورتحال انتہائی افسوسناک ہے کہ کچھ لوگ اپنے بچوں کو کھانا نہیں دے پاتے لیکن سگریٹ خریدنے کے لئے پیسہ نکال لیتے ہیں۔ کچھ والدین اس بات کی شکایت کرتے ہیں کہ ان کے پاس اپنے بچوں کی فیس جمع کرنے کے لئے پیسے نہیں ہیں، لیکن وہ سگریٹ کے لئے رقم نکالنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ اس طرح وہ اپنی صحت، دولت اور بچوں کے مستقبل کو برباد کر رہے ہیں۔

    یہاں پر حکومت کا کردار بہت اہم ہے۔ اگرچہ حکومت نے کئی بار سگریٹ پر ٹیکس بڑھانے کی کوشش کی ہے، لیکن یہ اقدام ابھی تک اس حد تک مؤثر ثابت نہیں ہو سکا جتنا متوقع تھا۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ سگریٹ کی قیمتوں میں مزید اضافہ کرے تاکہ یہ غریب آدمی کی پہنچ سے دور ہو جائے۔ اگر عوام کو یہ سمجھ آ جائے کہ سگریٹ نوشی کی عادت ترک کرنا صرف صحت کے لئے نہیں بلکہ مالی فائدے کے لئے بھی ضروری ہے، تو شاید وہ اس عادت کو ترک کرنے میں کامیاب ہو سکیں۔

    حکومت کو چاہیے کہ وہ سگریٹ نوشی کے نقصانات کے بارے میں عوام میں آگاہی پیدا کرے۔ اس کے لئے میڈیا اور اسکولوں میں تعلیمی پروگرامز منعقد کیے جا سکتے ہیں۔سگریٹ کی قیمتوں میں اضافہ کیا جائے تاکہ غریب لوگ اس کی خریداری سے گریز کریں۔ مذہبی اداروں اور سماجی تنظیموں کو اس بات کا شعور دینا چاہئے کہ سگریٹ نوشی نہ صرف صحت کے لئے نقصان دہ ہے بلکہ یہ معاشرتی طور پر بھی غلط ہے۔

    پاکستانی قوم کو اپنے معاشرتی اور صحت کے مسائل کے بارے میں سوچنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم نے سگریٹ نوشی جیسے مضر صحت عادات کو ترک نہ کیا تو یہ نہ صرف ہماری صحت بلکہ ہمارے ملک کی معیشت کے لئے بھی خطرناک ثابت ہو گا۔ ہمیں اپنی عادات کو بہتر بنانا ہوگا اور ایسی چیزوں پر خرچ کرنے کی بجائے جو ہماری زندگیوں کو تباہ کر دیں، ہمیں اپنی زندگیوں کو بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہئے۔

  • گوادر کا جدید ہوائی اڈہ، پاک چین دوستی ،عالمی تجارتی نیٹ ورک میں اہم اضافہ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    گوادر کا جدید ہوائی اڈہ، پاک چین دوستی ،عالمی تجارتی نیٹ ورک میں اہم اضافہ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ٹرمپ انتظامیہ کی بھرپور توجہ معیشت پر ہے اور فسٹ امریکہ پر ہے۔ پاکستان نے نیو ائیر پورٹ گوادر کا افتتاح کردیا ہے۔ اس بڑے منصوبے کی تکمیل میں جمہوری حکومتوں اور پاک فوج جملہ اداروں کا بہت بڑا کردار ہے۔ پاکستان کی معیشت کو لے کر مستقبل میں معاشی مستحکم پاکستان کا خواب پورا ہوتا نظر آرہا ہے۔ آج اس منصوبے کے مکمل ہونے پر میری بات نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ہوئی جنہوں نے خدا پاک کا شکریہ ادا کیا ۔

    قارئین، پاکستان کو معاشی مستحکم کرنے میں نواز شریف اور اسحاق ڈار جو نواز شریف کے دور حکومتوں میں وزیر خزانہ رہے۔ معیشت کو مستحکم کرنے میں کردار ادا کیا مگر سازشوں نے نواز شریف کو اپنی مدت پوری نہیں کرنے دی ،ہر بار کوئی نہ کوئی سازش تیار کی گئی، کبھی جلا وطنی ، کبھی اٹک قلعہ ،کبھی اڈیالہ جیل ، کبھی کوٹ لکھپت جیل بند کردیا گیا ۔ بدقسمتی سے سیاسی جماعتیں ان سازشوں کا حصہ رہیں۔ ملک کے اس عظیم الشان منصوبے سے بہت سے ممالک کے پیٹ میں مروڑ اُٹھ رہے ہیں ۔ نیو ائیر پورٹ کے منصوبے یعنی گوادر پورٹ بھارت سمیت دنیا کے کئی ممالک نے خوفناک سازش کی تاہم پاک فوج اور جملہ اداروں نے ان بین الاقوامی سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ اس منصوبے کو ناکام بنانے کے لئے کس کس سازش کا نام لوں۔ اب اس کے فعال ہو جانے سے دبئی پورٹ اور ایران کی بندر گاہ عباس کی پہلے جیسی اہمیت نہیں رہے گی ۔ کاروباری لحاظ سے یہ بہت بڑی منڈی ہے۔ چین کو کم سے کم سمندری اور کم سے کم زمینی فاصلے کی ضرورت تھی ۔ گوادر پورٹ چین کی اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے نہایت اہم روٹ ہے۔ چین نے اس منصوبے میں دل کھول کر سرمایہ کاری کی ہے۔ چین موجودہ دور دور کا اقتصادی سپر پاور ہے ۔ اس سے تجارت اور سیاحت کو فروغ ملے گا ۔ پاکستان کی معیشت کو نمایاں فائدہ ہوگا۔ بین الاقوامی ہوائی کمپنیوں کے لئے ایک بہت بڑا مرکز بن جائے گا۔

    گوادر کا یہ بین الاقوامی ہوائی اڈہ پاکستان کے ایوی ایشن انفراسٹرکچر کو بڑھانے اور گوادر کو علاقائی اور عالمی تجارتی نیٹ ورکس میں مربوط کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ جنوبی ایشیائی قوم کے لئے ترقی کا ایک نیا باب کھولے گا۔ چین اور پاکستان کے درمیان ٹھوس دوستی کی علامت ہے۔ نیو گوادر ائیر پورٹ جدید ترین ٹیکنالوجی اور تعمیراتی منصوبے سے لیس ہے۔ اگر پاکستان فسٹ پر عمل کرتا رہا تو ایک دن پاکستان بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے چھٹکارا حاصل کرلے گا

  • نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم.تحریر:اعجازالحق عثمانی

    نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم.تحریر:اعجازالحق عثمانی

    2025 کا آغاز پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک نیا موڑ لے کر آیا ہے۔ وہی سیاست جو "ووٹ کو عزت دو” کے نعروں سے گونج رہی تھی، آج نعروں کی گونج سناٹوں میں بدل کر اک نیا رخ اختیار کر چکی ہے۔ نواز شریف کی واپسی کے بعد ن لیگ جن خوابوں کا تانا بانا بُنتی نظر آتی تھی، اندھے کے وہ خواب بہت بڑا سوالیہ نشان بنے بیٹھے ہیں۔ نواز شریف کے جلسے، ایئرپورٹ پر عدالتی کارروائیاں، اور مینارِ پاکستان پر سرکاری جلسے کے مناظر کسی بڑی سیاسی حکمت عملی کا عندیہ تو دیتے تھے، مگر یہ حکمت عملی خود ن لیگ کی سیاست کے لیے کتنی کامیاب رہی؟ اس کا جواب کھلی کتاب کی طرح سامنے آچکا ہے۔

    پی ٹی آئی کی کہانی بھی کچھ کم دلچسپ نہیں۔ 2023 کے انتخابات کے بعد جس طرح پی ٹی آئی کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی، وہ نہ صرف بانی تحریک انصاف کے بیانیے کو تقویت دے گئی بلکہ اس نے عوام کی حمایت کو بھی ایک نئی سمت دی۔ آج وہی پی ٹی آئی جو کبھی اپنی شناخت کے بحران سے گزر رہی تھی، ایک بار پھر ملک کی سب سے بڑی اور مقبول سیاسی جماعت بن چکی ہے۔

    نواز شریف کی وطن واپسی کی شرائط جن میں نیب قوانین میں تبدیلیاں، کیسز کا خاتمہ، اور عدلیہ پر کنٹرول شامل تھے، ایک طرف عوام کو حیران کرتی رہیں تو دوسری جانب ان کی سیاسی حکمت عملی اور سیاسی نظریات کو بھی کمزور کرتی رہیں۔ دوسری جانب تحریک انصاف، جو ہر طرح کے دباؤ اور مشکلات کے باوجود اپنی جگہ برقرار رکھنے میں کامیاب رہی، اب حکومت کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھی ہے۔ لیکن یہ مذاکرات کیا نتیجہ خیز ہوں گے؟ یا یہ بھی سیاسی داؤ پیچ کا ایک حصہ ہیں؟

    یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ آج پاکستان کی سیاست ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑی ہے۔ بانی پی ٹی آئی کا غیر متزلزل بیانیہ کہ وہ کسی قسم کی "ڈیل” نہیں کریں گے، ان کے حامیوں میں نئی امید پیدا کرتا ہے۔ لیکن پس پردہ جو کچھ چل رہا ہے، وہ عوام کے ذہنوں میں سوالات کو جنم دیتا ہے۔

    ن لیگ کے دعوے اور پی ٹی آئی کے جوابی بیانیے نے سیاست میں ایک دلچسپ کشمکش کو جنم دیا ہے۔ یہ کشمکش صرف سیاسی جماعتوں کی بقا کی جنگ نہیں بلکہ عوامی شعور اور مستقبل کی سیاست کی سمت کا تعین بھی کرے گی۔ کیا تحریک انصاف کے مطالبات حکومت مان لے گی؟ کیا ن لیگ ایک بار پھر اپنی کھوئی ہوئی عوامی مقبولیت و حمایت واپس حاصل کر سکے گی؟۔ قبل از وقت کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ مگر بقول ماما پھلا، جلد ہم نواز شریف یہ کہتے پائے گے،”نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم”

  • مفروضوں پر مبنی بیانیے کا جادو کب تک سر چڑھ کر بولے گا،تجزیہ:شہزاد قریشی

    مفروضوں پر مبنی بیانیے کا جادو کب تک سر چڑھ کر بولے گا،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پی ٹی آئی کے مفروضوں پر مبنی بیانیے کا جادو کب تک سر چڑھ کر بولے گااور حکومتی حلقوں کی سچائیوں کو شکست ہوتی رہے گی۔ وفاقی و صوبائی وزارت اطلاعات کو خواب خرگوش سے جاگنا ہوگا۔ پی ڈی ایم اور بالخصوص (ن) لیگ کے ترجمانوں کو اپنی منجھی تلے ڈانگ پھیرنی ہوگی۔ گذشتہ کئی سالوں سے القادر یونیورسٹی ٹرسٹ کی تحقیقات اور اس میں مبینہ کرپشن کئی سالوں سے اس میں کرپشن کی داستانوں پر فیصلے کا انتظار کرنے والے صاحبان اقتدار خصوصی وفاقی وزیراطلاعات و نشریات اور ان کے مقرر کردہ ترجمان آئے روز ٹی وی مباحثوں میں نوازشریف کے بیانیے کو برتری نہ دلوانے میں اپنی گردنیں جھکائے رکھتے ہیں جبکہ پی ٹی آئی کے دور حکومت کی ناکامیاں اور کرپشن کو بانی پی ٹی آئی کے سرخرو ہوتے دیکھتے رہتے ہیں۔ القادر یونیورسٹی پر قائم پی ٹی آئی کے بیانیے کوکسی بھی ترجمان کسی بھی حکومتی وزیر نے اس بنیاد پر چیلنج نہ کیا کہ یہ تو سوہاوہ کے نزدیک سنگلاخ چٹانوں پر بے آب زمین پر قائم ہونے والے غیر مکمل عمارت میں موجود ایک یونیورسٹی ہے ہی نہیں بلکہ یہ تو ایک ڈگری درجے کا کالج ہے جس کی باقاعدہ رجسٹریشن بطور گریجویٹ کالج محکمہ تعلیم کالجز کے ڈائریکٹوریٹ راولپنڈی کے ذریعے ڈی پی آئی کالجز پنجاب کے دفتر میں ہوئی ہے ۔ اور اتنے بڑے نام نہاد پراجیکٹ کے لئے 458 کنال زمین حقیقی مالکان سے کس بھائو خریدی گئی ہے اور بعد میں کس بھائو ٹرسٹ کے نام منتقل ہوئی ۔

    ستم یہ ہے کہ اس کالج کی زمین کے نیچے سنگلاخ چٹانوں میں قابل استعمال زیر زمین پانی بھی میسر نہیں ۔ ادھر وفاقی وزارت خارجہ اور وزارت ہوا بازی نے یورپ میں پی آئی اے کی پروازوں کا دوبارہ آغاز کروایا جو کہ ایک تاریخ ساز کامیابی ہے لیکن وزارت اطلاعات اور پی آئی اے کی پبلسٹی ونگ کی غفلت نے سوشل میڈیا پر حکومتی کامیابی کو جھوٹے اوربے بنیاد بیانیے کے ہاتھوں شکست دلوائی۔ آخر کیوں اور کب تک حکومت اور بالخصوص (ن) لیگ کوا پنی ابلاغیات کی جنگ میں نئی صف بندی کرنی ہوگی ایسے کہنہ مشق اور آزمائے ہوئے مخلص اذہان کو آزمانا ہوگا ۔ جو دلیل مکالمے اور ڈائیلاگ کے کرشمے سے جھوٹ کو جھوٹ اور سچ کو سچ ثابت کرنے کا کمال رکھتے ہوں۔ نواز شریف کی قربانیاں اور مریم نواز کی انتھک محنت اورا ن کی مخلص ٹیم کی کارکردگی جھوٹے نعروں کے بیانیے میں دب جائے گی۔

  • قیدی نمبر 804 کو 14 سال سزا، عدلیہ کا بڑا فیصلہ

    قیدی نمبر 804 کو 14 سال سزا، عدلیہ کا بڑا فیصلہ

    قیدی نمبر 804 کو 14 سال سزا، عدلیہ کا بڑا فیصلہ
    تحریر: شاہد نسیم چوہدری
    کہا جاتا ہے کہ انسان جو کچھ بوتا ہے، بالآخر وہی کاٹتا ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ کے ایک غیرمعمولی موڑ پر، سابق وزیرِاعظم عمران خان کو 190 ملین پاؤنڈ چوری کیس میں 14 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ یہ فیصلہ نہ صرف پاکستان کی سیاست میں ہلچل کا باعث بنا بلکہ اس نے اخلاقیات اور سیاست کے گرد ایک بار پھر سوالیہ نشان لگا دیا۔ 190 ملین پاؤنڈ کی رقم، جو برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی کی تحقیقات کے دوران برآمد ہوئی، کو پاکستانی حکومت کو واپس کر دیا گیا تھا۔ عمران خان پر الزام تھا کہ انہوں نے اس رقم کو قومی خزانے کے بجائے اپنے ذاتی اور سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا اور یہ رقم دوبارہ ملک ریاض کو دے دی۔ اسی رقم کو ایک فلاحی ادارے کے طور پر رجسٹرڈ القادر یونیورسٹی کے لیے زمین کے حصول میں استعمال کیا گیا۔

    عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی پر الزام ہے کہ انہوں نے اس رقم کے بدلے بحریہ ٹاؤن کے مالک سے قیمتی زمین حاصل کی، جو القادر یونیورسٹی کے نام پر منتقل کی گئی۔ احتساب عدالت کی جانب سے عمران خان کو 14 سال قید اور ان کی اہلیہ کو 7 سال قید کی سزا نے ملک کے سیاسی اور سماجی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ یہ فیصلہ جہاں ان کے سیاسی کیریئر پر سنگین اثر ڈالے گا، وہیں ان کے چاہنے والوں کے لیے ایک دھچکے سے کم نہیں۔ عمران خان، جو خود کو ہمیشہ کرپشن کے خلاف ایک مضبوط آواز کے طور پر پیش کرتے رہے، آج اسی کرپشن کے الزامات میں سزا یافتہ ہیں۔

    عمران خان کی سیاست کا محور ہمیشہ انصاف، شفافیت، اور بدعنوانی کے خلاف جنگ رہا ہے۔ وہ دوسروں پر سخت تنقید کرتے ہوئے یہ دعویٰ کرتے رہے کہ ان کا دامن صاف ہے اور وہ "نئے پاکستان” کے معمار ہیں۔ لیکن آج ان پر لگنے والے الزامات اور ان کی سزا نے ان دعووں کو متنازع بنا دیا ہے۔ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا عمران خان واقعی وہ رہنما ہیں جن کا دامن صاف تھا، یا وہ بھی اس نظام کا حصہ بن چکے تھے جسے وہ بدلنے کا وعدہ کرتے رہے؟

    عمران خان کے حامیوں کے لیے یہ فیصلہ ایک بڑا صدمہ ہے۔ وہ اسے سیاسی انتقام قرار دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ عمران خان کو سیاست سے باہر کرنے کے لیے یہ سب کچھ کیا گیا۔ دوسری طرف، ان کے مخالفین اس فیصلے کو انصاف کی فتح قرار دیتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا ہے، جہاں دونوں فریقین اپنی اپنی دلیلیں پیش کر رہے ہیں۔ اس فیصلے کے بعد عمران خان کی جماعت تحریک انصاف ایک نئی آزمائش سے گزر رہی ہے۔ قیادت کا خلا، حامیوں میں مایوسی، اور احتجاجی حکمت عملی کے سوالات نے پارٹی کو ایک مشکل صورتحال میں ڈال دیا ہے۔ حکومت نے اس فیصلے کو عدلیہ کی آزادی اور قانون کی بالادستی کا مظہر قرار دیا، لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ اس میں سیاسی عنصر غالب ہے۔

    یہ کیس پاکستان کے سیاسی کلچر کے لیے ایک اہم سبق ہے۔ اقتدار کے نشے میں اکثر سیاستدان یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ اپنے اعمال کے جواب دہ ہیں۔ یہ فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ احتساب کا عمل شروع ہو چکا ہے، لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ یہ عمل غیر جانبدار اور شفاف ہو۔ اگر عمران خان پر لگے الزامات درست ہیں، تو یہ ان کی ناکامی کا نتیجہ ہے، اور اگر یہ انتقامی سیاست ہے، تو یہ ہمارے نظام کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔

    عمران خان کی 14 سال قید کی سزا نہ صرف ان کی ذاتی زندگی اور سیاسی کیریئر پر اثر ڈالے گی، بلکہ یہ پاکستان کی سیاست کے لیے بھی ایک فیصلہ کن لمحہ ہے۔ عوام، سیاستدان، اور عدلیہ کو اس موقع سے سبق لینا ہوگا۔ آج جو کچھ عمران خان کے ساتھ ہوا، وہ کل کسی اور کے ساتھ ہو سکتا ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم خود احتسابی کریں اور ایک ایسا نظام تشکیل دیں جو واقعی انصاف اور شفافیت پر مبنی ہو۔

    آج کا عمل کل کا نتیجہ طے کرتا ہے۔ انسان جو کچھ کرتا ہے، وہی اس کی تقدیر میں شامل ہو جاتا ہے۔ اچھے اعمال انسان کے لیے خوشیوں اور سکون کا سبب بنتے ہیں، جبکہ برے کام دکھ اور پشیمانی کا۔ قدرت کا قانون یہی ہے کہ انسان کو وہی لوٹایا جاتا ہے جو وہ دوسروں کو دیتا ہے۔ اگر ہم دوسروں کے لیے اچھائی کریں گے، تو کل ہمیں اچھائی ہی ملے گی۔ برائی کا انجام ہمیشہ برا ہوتا ہے۔ اس لیے ہمیں سوچ سمجھ کر اپنے اعمال کو چننا چاہیے، کیونکہ آج کا فیصلہ کل کی زندگی کا عکس بنے گا۔ "جس” نے جو کچھ بویا تھا، آج اس کی فصل تیار ہو چکی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم سب، بحیثیت قوم، اپنے اعمال کی فصل کاٹنے کے لیے کب تیار ہوں گے؟