Baaghi TV

Category: بلاگ

  • چورچور کے نعرے لگانے والا خود ہی چور نکلا.تحریر:حنا سرور

    چورچور کے نعرے لگانے والا خود ہی چور نکلا.تحریر:حنا سرور

    190 ملین پاؤنڈ کے کیس کے فیصلے نے عمران خان کی ایمانداری،ریاست مدینہ کی دعویداری کو نہ صرف بے نقاب کیا ہے بلکہ اس فیصلے کے ذریعے عمران خان کو "سرٹیفائیڈ چور” قرار دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ ایک اہم سبق دیتا ہے اور ہمارے معاشرتی اور اخلاقی اصولوں کے لحاظ سے بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ اس فیصلے نے عمران خان کو بے نقاب کیا ہے جو دوسروں پر الزام لگانے اور جھوٹے دعوے کرنے میں ماہر تھا، مگر خود اس کے اندر اتنی اخلاقی گراوٹ تھی کہ وہ عدالت میں اپنی بے گناہی کے ثبوت بھی پیش نہ کر سکا۔

    اس کیس کے مرکزی کردار عمران خان نے ہمیشہ اپنی تقاریر اور دعووں میں "ریاست مدینہ” کے خیالات اور اصولوں کی بات کی تھی۔ اس نے اپنے آپ کو ایمانداری، سچائی اور انصاف کا علمبردار ظاہر کیا۔ لیکن 190 ملین پاؤنڈ کے کیس کے دوران عدالت میں جو کچھ سامنے آیا، وہ اس کے دعووں کی حقیقت کو عیاں کرتا ہے۔ عمران خان نے ریاست مدینہ کے اصولوں کا دعویٰ کیا، مگر اپنی حقیقت میں اس کے عمل اس دعوے سے کہیں زیادہ متضاد تھے۔سب سے زیادہ افسوسناک بات یہ تھی کہ عمران خان نے اکثر دوسروں پر چور، ڈاکو اور بدعنوان ہونے کے الزامات لگائے۔ یہ الزامات وہ ایسے موقعوں پر لگاتا تھا جب اس کے اپنے مفادات کو خطرہ لاحق ہوتا تھا۔ اس نے خواتین کو اسپتال سے گرفتار کرانے جیسے ناپاک عمل کو بھی روا رکھا، تاکہ وہ اپنی چوری چھپانے اور دوسرے لوگوں کو بدنام کر سکے۔آج عمران خان کے پاس عدالت میں اپنی بے گناہی کا کوئی ثبوت نہ تھا۔ بشریٰ بھی اس کی معاون تھی،یہ اس بات کا واضح اشارہ تھا کہ اس نے اپنی چوری چھپانے کے لیے جھوٹ بولنے اور دوسروں پر الزام لگانے کے سوا کچھ نہیں کیا۔ جب اسے اپنے اعمال کا جواب دینا پڑا، تو وہ سب کچھ سامنے آ گیا جو اس نے چپکے سے چھپایا تھا۔

    190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ دراصل مکافات عمل کی ایک شاندار مثال ہے۔ جب انسان دوسروں کو دھوکہ دینے اور جھوٹ بولنے کی کوشش کرتا ہے تو ایک نہ ایک دن سچائی سامنے آ ہی جاتی ہے۔ اس کیس نے ثابت کیا کہ جھوٹ اور منافقت کا انجام ہمیشہ رسوائی اور ذلت ہوتا ہے۔ آج عمران خان اسی مقام پر پہنچا ہے جہاں اس کے جھوٹ اور منافقت کا پردہ چاک ہو چکا ہے، اور اسے "سرٹیفائیڈ چور” قرار دیا گیا ہے۔190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ انصاف اور سچائی کی راہ ہمیشہ مشکل ہوتی ہے، مگر بالآخر سچ کا سامنا جھوٹ سے ہوتا ہے۔ وہ شخص جو دوسروں پر الزام لگا کر اپنی چوری چھپاتا تھا، آج وہ خود اپنے جرائم کا شکار ہو چکا ہے۔ یہ ایک سبق ہے کہ انسان کو اپنے عمل کی بنیاد پر جینا چاہیے، نہ کہ جھوٹ بول کر دوسروں کو نیچا دکھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔یہ فیصلہ سب کے لیے ایک انتباہ ہے، بلکہ معاشرتی سطح پر بھی ایک پیغام ہے کہ جھوٹ اور بدعنوانی کا آخرکار حساب لیا جاتا ہے اور سچائی ہمیشہ غالب آتی ہے۔

    1980 کی دہائی میں ساحل پرلی گئی تصویر،40 برس بعد3 بہنوں نے دوبارہ بنا لی

    بے حس سناٹے میں گم ہوتی ہوئیں معصوم زہرہ کی چیخیں

  • بے حس سناٹے میں گم ہوتی ہوئیں معصوم زہرہ کی چیخیں

    بے حس سناٹے میں گم ہوتی ہوئیں معصوم زہرہ کی چیخیں

    بے حس سناٹے میں گم ہوتی ہوئیں معصوم زہرہ کی چیخیں
    تحریر: اعجازالحق عثمانی
    چاچو میں نہیں جاؤں گی! یہ چار سالہ زہرہ کی وہ آخری چیخ تھی، جو سرائے عالمگیر کے ایک گلی کوچے میں کیمرے کی آنکھ نے محفوظ کی۔ یہ چیخ اس معصوم کی تھی، جو تیرہ سال کے انتظار کے بعد جنید اور اس کی بیوی کی جھولی میں خوشی بن کر آئی تھی۔ لیکن افسوس، پانچ جنوری کی وہ شام ان کی زندگی کا سب سے بڑا دکھ لے آئی۔ زہرہ کو پہلے اغوا کیا گیا، پھر وحشیانہ انداز میں ریپ اور قتل کے بعد ایک بے جان لاشہ بنا کر چھوڑ دیا گیا۔

    زہرہ کے کیس کی تفصیلات دل دہلا دینے والی ہیں۔ میڈیکل رپورٹ کے مطابق، اس کے جسم پر کئی گہرے زخم تھے۔ معصوم کے وجائنل پارٹس کو بری طرح نقصان پہنچایا گیا۔ یہ مناظر صرف زہرہ کے لیے نہیں، بلکہ ہر اس انسان کے لیے شرمناک ہیں جو خود کو مہذب کہتا ہے۔
    یہ کوئی پہلی کہانی نہیں۔ 2018 میں قصور کی زینب کا واقعہ یاد کریں، جس نے پورے ملک کو جھنجوڑ کر رکھ دیا تھا۔ زینب کے قاتل کو پکڑا گیا، سزا دی گئی، پھانسی پر لٹکایا گیا، لیکن کیا اس کے بعد قصور میں یا ملک میں بچیوں کے ساتھ ہونے والے ریپ کے واقعات ختم ہو گئے؟ ہرگز نہیں!

    قصور آج بھی پیڈوفائلز کا گڑھ ہے۔ الجزیرہ کی ایک ڈاکیومنٹری نے یہ تلخ حقیقت بے نقاب کی کہ زینب کے والد کی بے بسی آج بھی زندہ ہے، کیونکہ اس علاقے میں کئی اور بچیاں اب بھی جنسی استحصال کا شکار ہو رہی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ان معصوموں کے والدین کو انصاف ملے گا؟
    ہمارا معاشرہ خواتین اور بچیوں کو محض "سیکس آبجیکٹ” کے طور پر دیکھتا ہے۔ طاقت، برتری اور جنسی تسلط جیسے تصورات کئی صدیوں سے مردوں کے ذہن میں بیٹھے ہیں۔ مذہبی بیانیے ہوں یا معاشرتی روایات، عورت کو اکثر "عزت” اور "غیرت” سے منسلک کیا جاتا ہے لیکن عملی طور پر اسے تحفظ فراہم کرنے کے لیے کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھایا جاتا۔

    قارئین کرام!پاکستان میں ریپ کے کیسز کی رپورٹنگ بھی از خود ایک چیلنج ہے۔ بہت سے والدین خوف یا سماجی دباؤ کی وجہ سے مقدمہ درج نہیں کراتے۔ جو مقدمے درج ہو بھی جائیں، ان میں سے کتنے اپنے انجام کو پہنچتے ہیں؟ عدالتوں کی سست روی، پولیس کی نااہلی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی غیر سنجیدگی ایسے واقعات کے بڑھنے کی بڑی وجوہات ہیں۔

    یہاں ایک اہم سوال یہ ہے کہ جب پنجاب کی حکومت ایک عورت کے ہاتھ میں ہے تو کیا وہ ایسے واقعات کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھا رہی ہیں؟ زینب الرٹ بل، جس کا بہت شور اور کریڈیٹ لیا گیا تھا۔کیا وہ صرف کاغذی قانون بن کر رہ گیا ہے؟

    زہرہ کی کہانی ہمارے معاشرے کے لیے ایک آئینہ ہے۔ یہ آئینہ ہمیں ہماری ناکامیوں کا چہرہ دکھاتا ہے۔ اگر ہم نے اب بھی ان مسائل کو سنجیدگی سے نہ لیا تو نہ جانے کتنی زہرائیں اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں گی۔

    قارئین محترم آئیے! ہم خود سے سوال کریں کہ کیا ہم اپنے بچوں کے لیے محفوظ معاشرہ بنا سکتے ہیں؟ اگر ہاں، تو کب؟ اگر نہیں، تو کیوں؟

  • چولستانی گوپے میں چھپی روہی کی دلکش ثقافت،تیسری قسط

    چولستانی گوپے میں چھپی روہی کی دلکش ثقافت،تیسری قسط

    چولستانی گوپے میں چھپی روہی کی دلکش ثقافت
    تحریر: ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    altafkhandahir@gmail.com
    تیسری قسط کا خلاصہ:
    تیسری قسط میں چولستان کے ماحولیاتی چیلنجز جیسے موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے بارشوں کی بے قاعدگی اور زمین کی زرخیزی میں کمی کو بیان کیا گیا ہے۔اس قسط میں چولستانی خواتین کے مسائل اور ان کے حقوق کے حوالے سے بھی بات کی گئی ہے۔خاص طور پر صحت،تعلیم اور روزگار کے حوالے سے روہی چولستان کے نوجوانوں کی مشکلات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔شہروں کی طرف روزگار کے حصول کے لیے ہجرت کرنے،ذریعہ معاش کے مواقع کی کمی کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔گوپے میں چھپی چولستانی ثقافت اور اس کے ورثے کی اہمیت کو بھی بیان کیا گیا ہے۔ اور اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ حکومتی اور غیر سرکاری اداروں کی بروقت پلاننگ اور پروجیکٹس سے چولستان کے مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے۔ تاکہ مقامی لوگوں کی زندگی کو بہتر اور خوشحال بنایا جا سکے۔

    تیسری و آخری قسط
    چولستان کی ثقافت اور ترقی کے امکانات
    چولستان کی ثقافت اور ترقی کے امکانات پر نظر ڈالیں تو یہ خطہ اپنے اندر بے شمار تہذیبی، لسانی اور ادبی خزانے سموئے ہوئے ہے۔ یہاں کی مادری زبانوں کا لٹریچر، صوفی ازم، امن و رواداری کا پیغام اور آثار قدیمہ کے نایاب نمونے، سبھی چولستان کے منفرد تشخص کو اجاگر کرتے ہیں۔

    چولستان کی ریتلی زمین میں تخلیقی کہانیاں اور نظمیں پروان چڑھتی ہیں، جن کی بنیادیں علم، ادب، دانش اور خوشحالی کے گہرے اصولوں پر استوار ہیں۔ سرائیکی خطہ جو سات دریاؤں کی سرزمین ملتان کا حصہ ہے، ہمیشہ سے شاعری، صوفیانہ خیالات اور ثقافتی رنگوں کا گہوارہ رہا ہے۔

    اسلم جاوید چودھری جیسے سرائیکی وسیب کے شاعر، جو اپنی نظم "میکوں آکھ نہ پنج دریائی” کے ذریعے سرائیکی ثقافت اور عوامی جذبات کی نمائندگی کرتے ہیں، اس خطے کے ادبی سرمایہ میں اہم مقام رکھتے ہیں۔ ان کا کلام عام فہم ہونے کے باوجود گہری معنویت لیے ہوتا ہے، جو ہر طبقے کو متاثر کرتا ہے۔

    پہلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    چولستانی گوپے میں چھپی روہی کی دلکش ثقافت
    دوسری قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    چولستانی گوپے میں چھپی روہی کی دلکش ثقافت
    چولستان کی ثقافتی اہمیت کو سمجھتے ہوئے، اس خطے میں ترقی کے بے پناہ امکانات موجود ہیں۔ سیاحت، آثار قدیمہ، اور مقامی آرٹ و دستکاری کو فروغ دے کر نہ صرف یہاں کے لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی اس علاقے کی شناخت کو اجاگر کیا جا سکتا ہے۔

    میں تسا،میڈی دھرتی تسی
    تسی روہی جائی
    میکوں آکھ نہ پنج دریائی


    ان کے فلسفۂ شاعری کی رفعت اور نقطۂ عروج کا خلاصہ دراصل سرائیکی وسیب کی علیحدہ شناخت، نئے صوبے کی منزلِ مقصود کا سچا خواب، خود مختاری، خود اعتمادی، تعمیرِ نو اور ثقافتی ورثے کا حسین امتزاج ہے۔ روہی، چولستان، راوا، تھل، دمان اور کوہِ سلیمان کی جاذب بےبسی اور امید کا خوبصورت اظہار ایسے ہے جیسے دریا کو کوزے میں بند کیا گیا ہو۔

    روہی کے باسی اپنی گائیں، بھیڑ بکریوں اور اونٹوں سے عشق کرتے ہیں۔ ان کے خالص دودھ اور مکھن سے دیسی گھی تیار کیا جاتا ہے۔ تاہم، چولستان میں پانی کی عدم دستیابی اور خوراک کی قلت ایک بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ یہاں کے زیادہ تر لوگ مال مویشی پال کر روزی کماتے ہیں، لیکن چارے کی کمی اور بیماریوں کے خطرات ان کی آمدنی کو محدود کر دیتے ہیں۔ جانوروں کی افزائش اور صحت کے مسائل کے حل کے لیے جدید ویٹرنری خدمات اور چارے کی دستیابی میں اضافہ ضروری ہے۔

    تعلیم کے فقدان نے بھی چولستان کے لوگوں کو ترقی سے محروم رکھا ہوا ہے۔ علاقے میں تعلیمی اداروں کی کمی، موجودہ اسکولوں کی خستہ حالی اور عوام میں تعلیم کے حوالے سے شعور کی کمی نے بچوں کو تعلیمی مواقع سے محروم کر دیا ہے۔ خاص طور پر لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے مسائل اور معاشرتی رکاوٹیں زیادہ سنگین ہیں۔ ان مسائل کے حل کے لیے حکومت اور غیر سرکاری تنظیموں کو مل کر تعلیمی سہولیات کو بہتر بنانا ہوگا۔

    صحت کی سہولیات کی کمی بھی چولستان کے باسیوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ ہسپتالوں اور طبی مراکز کی غیر موجودگی، صحت کی بنیادی خدمات کا فقدان اور طبی عملے کی کمی نے لوگوں کو معمولی بیماریوں کے علاج کے لیے بھی طویل فاصلے طے کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ نتیجتاً، کئی لوگ بروقت طبی امداد نہ ملنے کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

    روہی کے لوگ اپنی روحانی تجلیات کے منبع کو حضرت سید شیر شاہ جلال الدین حیدر سرخ پوش بخاری علیہ الرحمہ (اوچ شریف) سے منسوب کرتے ہیں اور چنن پیر رحمتہ اللہ علیہ کی درگاہ پر اپنی اولاد کی سلامتی کے لیے اللہ پاک سے دعائیں مانگتے ہیں۔

    روہی کی مشکلات کو حسین پیرائے میں کمال خوبصورت اشعار کی شکل میں شاعر نے نفیس لفظوں کا کمال حیرت انگیز رنگ اس طرح دیا ہے۔شاعری لطیف جذبوں کا خوبصورت اظہار اور قصہ ہے۔کیا کمال کاری گری سے قدیم تہذیب وتمدن وادی ھاکڑہ سرسوتی کی کہانی اور پیار کا گیت ہے۔
    شاہد عالم شاہد کی شاعری کا حسن ملاحظہ فرمائیں۔

    ریشم ریشم ہوٹھیں اتے رہ گئے اصلوں جندرے
    اکھیں نال کریندا رہ گئے یار کمال دے قصے
    کیا شہزادیاں کیا پریاں کیا دیہہ کیا محل منارے
    بکھے بالیں کوں تاں بھاندن روٹی دال دے قصے

    کونجاں روہی لنگھ ویندیاں ہن راتیں کوں
    بٹا کھو وی فجریں تونڑیں واہندا ہا

    روزگار کے محدود مواقع چولستان کے نوجوانوں کو بڑے شہروں کی طرف ہجرت پر مجبور کر رہے ہیں۔مقامی سطح پر روزگار کے مواقع نہ ہونے کے سبب بہت سے لوگ محنت مزدوری کے لیے شہروں میں جا کر اپنی زندگی بسر کرتے ہیں، جس سے ان کے خاندان مزید مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ہنر سکھانے والے مراکز اور زرعی منصوبے چولستان میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں معاون ہو سکتے ہیں۔

    صحرائی ماحول میں خواتین کو بھی بے شمار چیلنجز کا سامنا ہے۔گوپوں میں رہنے والی خواتین پانی لانے،کھانے کی تیاری اور گھر کے دیگر کاموں میں اپنی زندگی کا بڑا حصہ صرف کرتی ہیں۔ان خواتین کو صحت،تعلیم اور روزگار کے بروقت مواقع فراہم کرنا حکومت وقت فوری ذمہ داری ہے۔تاکہ وہ اپنی زندگی کو بہتر بنا سکیں۔ماحولیاتی مسائل بھی چولستان کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

    موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے بارشوں کی بے قاعدگی اور صحرائی علاقوں میں پھیلتی ہوئی خشکی نے یہاں کی زمین کو مزید بنجر اور غیر زرخیز بنا دیا ہے۔جنگلات کی کٹائی اور مویشیوں کی تعداد میں اضافے نے ان مسائل کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنے کے لیے درخت لگانے اور پانی ذخیرہ کرنے کے جدید طریقوں کو اپنانا ہوگا۔

    ثقافتی لحاظ سے چولستان کے باسی منفرد روایات اور طرز زندگی رکھتے ہیں۔ لیکن ان کی ثقافت بھی ان مشکلات سے متاثر ہو رہی ہے۔ مٹی کے گوپے،جو ان کی رہائش کا مرکز ہیں۔سخت گرمی اور سردی کے موسم میں رہنے کے لیے ناکافی ثابت ہوتے ہیں۔ان کے رہائشی مسائل کو حل کرنے کے لیے جدید لیکن ثقافت کے مطابق مکانات فراہم کیے جا سکتے ہیں۔

    چولستان کے مسائل کو حل کرنے کے لیے حکومتی اقدامات، غیر سرکاری تنظیموں کی شمولیت، اور مقامی لوگوں کی شراکت داری ضروری ہے۔پانی کی فراہمی کے نظام کو بہتر بنانے، تعلیم اور صحت کے مراکز قائم کرنے،اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔صرف ان اقدامات سے ہی چولستان کے باسیوں کی زندگی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے اور ان کے خوابوں کو حقیقت کا روپ دیا جا سکتا ہے۔

    حسین و جمیل روہی کے سرائیکی گوپے کے ثقافتی اور تہذیبی ورثے کے حقیقی قصے نئی اور پر امید نسل تک پہنچانے میں چولستان کے قصہ گو، فنکار، اور شعراء اہم کردار ادا کر رہے ہیں، تاکہ نوجوان طبقہ اپنے محفوظ ورثے کی منفرد شناخت پر فخر کر سکے۔ ہمیں تو پرامن چولستان کا ہر موسم بہار جیسا محسوس ہوتا ہے، جہاں باغوں میں ہر قسم کے چرند پرند اپنی دھن میں گاتے ہیں۔ کونج کا دلکش نغمہ سرائیکی خطے کے ریت کے ٹیلوں کی دلنشینی میں مزید اضافہ کرتا ہے۔

    کونجاں وانگوں ول ول اساں ریت اتوں پئے بھوندے
    شاہد کل سرمایہ ساڈا ہن صحرا دے موسم

    تاہم، روہی اور چولستان کے باسیوں کے خوابوں کی تکمیل اور انہیں ضروریاتِ زندگی کی فراہمی کے ساتھ ترقی کے دھارے میں شامل کرنے کے لیے حکومت کو فوری اقدامات کرنا ہوں گے، تاکہ یہ خوبصورت گوپے ہمیشہ آباد رہیں۔ ان میں خوشیوں کے گیت گائے جائیں اورچولستان ، روہی کی سرزمین ہمیشہ خوشحال اور پررونق رہے۔

  • معاشرتی برائیوں کے خلاف دھرنا ہوا نہ لانگ مارچ،کیوں؟تجریہ۔ شہزاد قریشی

    معاشرتی برائیوں کے خلاف دھرنا ہوا نہ لانگ مارچ،کیوں؟تجریہ۔ شہزاد قریشی

    ضبط کرتا ہوں تو گھٹتا ہے میرا دم،،آہ کرتا ہوں تو صیاد خفا ہوتا ہے
    قانون کی حکمرانی کا نعرہ سنتے سنتے کان پک گئے،رکھوالے آج بھی مافیازکےزیر اثر
    جھوٹ،نفرت،غیبت،ملاوٹ عام،ملک خاک ترقی کرے گا،جمہوری تماشے بند،محاسبہ ضروری
    تجزیہ،شہزاد قریشی
    ضبط کرتا ہوں تو گھٹتا ہے میرا دم،،آہ کرتا ہوں تو صیاد خفا ہوتا ہے،سمجھ سے باہر ہے،امن وامان کو لے کر اسلام آباد راولپنڈی کو کس کی نظر لگی ہے، ملک میں قانون کی حکمرانی کا نعرہ سنتے سنتے عمر بیت گئی، معاشرے میں پائی جانے والی برائیوں کے خلاف کسی نے نہ دھرنا دیا نہ لانگ مارچ کیا نہ کسی نے درس دیا، آج اگر معاشرے میں برائیاں سر اُٹھا رہی ہیں تو اس کے ذمہ دار ہم سب ہیں،معاشرے کو سدھارنے کے لئے کچھ نہیں کیا،بحیثیت مسلمان ہماری ایمانداری ، نیکی ،تقویٰ،دیانت داری ، پاکیزگی کا یہ عالم ہے ملاوٹ شدہ خوراک ، جعلی ادویات فروخت کرنے میں کوئی ندامت نہیں،قتل وغارت ،عریانی ،بے حیائی ایک دوسرے کو کافر قرار دینا، جھوٹ، نفرت ، غیبت ،ملاوٹ کرنے میں ذرا بھر خوف نہیں آتا،ہم سب کی غفلت اور لاپرواہی کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے، پورا ملک لینڈ مافیا کے قبضہ مافیا کے یارانے محلات میں رہنے والوں کے ساتھ ہیں، لینڈ اور قبضہ مافیا نے پورے ملک میں قانون کے رکھوالوں کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے،

    حکومتوں کی تبدیلی ،سیاسی گٹھ جوڑ میں بڑے بڑے پراپرٹی ٹائیکون ملوث ہیں، سیاسی گلیاروں میں پراپرٹی ٹائیکون جب سے داخل ہوئے ہیں،سیاست اورجمہوریت کسی تماشے سے کم نہیں، حکمران ،سیاسی قائدین ،علماء کرام،گدی نشین ، پیر خانے ،اور عوام اپنا محاسبہ کریں تو ملک افراتفری ،نفسانفسی سے باہر نکل سکتا ہے،ضروریات زندگی سے زیادہ دولت نے انسانوں کو انسانیت سے دور کردیا ہے، ملک کی سول بیورو کریسی ، سول انتظامیہ ، بیوروکریٹ ، پولیس افسروں سمیت ملک کے تمام ادارے اپنا اپنا محاسبہ کریں، تب ایک اچھا معاشرہ تشکیل پائے گا، وی آئی پی کلچر سے باہر نکل کر سوچیں ، موت کو یاد رکھیں ، قرآن وحدیث کا مطالعہ کریں اور عمل کریں ، امریکہ اورمغربی ممالک کی ترقی کا راز علم اور عمل ہے، قانون کی حکمرانی ہے، انصاف ہے،جمہوریت ہے، ملکی مفاد کو مدنظر رکھ کر سیاست کی جاتی ہے،ہماری سیاست اورجمہوریت سے جمہوریت کی پری بھی مکھڑا چھپا رہی ہے،جعل سازی ،جھوٹ اور فریب جیسی سماجی برائیاں ،سماجی اقدار بن رہی ہیں، ملکی سیاست میں بڑھکوں ،دھمکیوں اور ہلڑ بازی کا شدت اختیار کرتا رحجان بے سبب ہیں اس سے معاشرتی نظام تنزلی کا شکار ہوتا ہے خدارا بس کیجئیے معاشرے کو سدھارنے پر توجہ دیں

  • تلہ گنگ کے ٹال ٹیکس اوراس عہد کے سلطان کی بھول

    تلہ گنگ کے ٹال ٹیکس اوراس عہد کے سلطان کی بھول

    تلہ گنگ کے ٹال ٹیکس اور اس عہد کے سلطان کی بھول
    تحریر:فیصل رمضان اعوان
    گزشتہ روز بلکسر سے مظفرگڑھ جانے والے سنگل روڈ پر بلکسر اور ترحدہ کے مقام پر دو عدد نئے ٹال ٹیکس لگا دیے گئے۔ تلہ گنگ و لاوہ سے کچھ دوستوں نے اس ٹال ٹیکس کو بنیاد بنا کر سوشل میڈیا پر مسلسل احتجاج شروع کر رکھا ہے۔ ہم براہ راست اس احتجاج میں شامل تو نہ ہو سکے یعنی سوشل میڈیا پر اپنا حصہ نہ ڈال سکے، لیکن اس دوران بار بار خیالات میں کھوئے رہے اور ماضی کے وہ کالم، جو اس سڑک کے بننے سے پہلے لکھے تھے، سب یاد آنے لگے۔

    ہم نے بارہا اس روڈ پر آئے روز حادثات پر بہت لکھا، یوں بالآخر کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے۔ ہم سب کی سنی گئی، روڈ بن گیا۔ بلکسر سے میانوالی تک اس سڑک کے ارد گرد دیہی آبادیاں ایک طویل عرصے تک ایک اذیت ناک صورتحال سے دوچار رہیں۔ سڑک پر چلتی ٹریفک سے اڑتے گرد و غبار سب برداشت کیے گئے۔ ان دنوں اس روڈ کو خونی اور قاتل روڈ کہا جاتا تھا۔ حادثات میں بے شمار لوگ جانوں سے گئے، زخمی اور معذور افراد کی بھی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔

    ابھی ہم نئے ضلع کے قیام کی خوشیاں منا ہی رہے تھے، جو ابھی مکمل بھی نہیں ہے، کہ ہمارے ان دیہی علاقوں میں پیلے رنگ کے وہ ٹال ٹیکس کے ڈبے پہنچا دیے گئے جنہیں ہم اپنی ترقی بھی سمجھتے ہیں۔ ہم ایک دم سے ترقی پذیر علاقوں سے نکل کر ترقی یافتہ دور میں داخل ہو گئے۔ ایم ٹو موٹروے بلکسر انٹرچینج سے باہر نکلتے ہی تلہ گنگ کی جانب ایک اور ٹال پلازہ دیکھ کر ہم تو خوشی سے نہال ہو گئے، بلکہ مارے خوشی کے نڈھال بھی ہوئے۔

    اتنی تیز ترین ترقی! قارئین کرام، اتفاق سے اس نئی پیش رفت کے دوران ہمارا یہاں سے گزر ہو چکا ہے۔ بلکسر انٹرچینج سے بلکسر ٹال پلازہ اور پھر اپنے ترحدہ کو تصور میں لے کر آگے بڑھتے رہے کہ اب تو ماشاءاللہ ترحدہ بھی بارونق ہو گیا ہوگا۔ چشم تصور میں ہم کچھ زیادہ ہی آگے بڑھ گئے جبکہ ٹال پلازہ ترحدہ چوک پر نہیں بلکہ تلہ گنگ کی جانب اتنی دور ہے کہ چوک سے نظر ہی نہیں آتا۔

    یہاں پہنچ کر ہمیں کچھ رنج ضرور ہوا اور ایک خواہش پیدا ہوئی کہ وہ پیلے ڈبے عین ترحدہ چوک میں ہوتے تو مزہ دوبالا ہو جاتا۔ لیکن چلیں خیر ہے، وہ ڈبے اتنے دور بھی نہیں ہیں۔ اپنی اس خواہش کو ہم یوں ہی راضی کر لیتے ہیں۔ ان ٹال ٹیکس سے ہم غریب لوگ تو براہ راست متاثر ہی نہیں ہیں۔ ہم نے کون سا پیدل گزر کر ٹیکس ادا کرنا ہے۔ پیدلوں کا ٹال ٹیکس کہاں ہوتا ہے؟ باقی فراٹے بھرتی گاڑیوں والے بھلا ساٹھ روپے کو کیا مشکل سمجھتے ہیں۔ وہ تو ساٹھ روپے کی قدر و قیمت ان دیہی علاقوں کے غریبوں سے جا کر پوچھیں، جو ان ٹال ٹیکس پلازوں کے قیام کے بعد دال، آٹا، چینی میں ٹال ٹیکس دیں گے۔

    ان پسماندہ علاقوں کو شروع سے ہی نظر انداز کیا جاتا رہا ہے اور مزید پستیاں ہمارے کھاتے میں ڈالی جا رہی ہیں۔ ہکلہ راولپنڈی سے ڈی آئی خان تک بننے والے سی پیک M14 نے اس روڈ کی حالت ویسے بھی پتلی کر دی ہے۔ پہلے اس بین الصوبائی روڈ پر بے تحاشا رش تھا، اب وہ بھی نہیں رہا۔ یہاں صرف مقامی، علاقائی لوگوں کی آمد و رفت رہتی ہے۔ یہاں سے گزرنے والی ایک بڑی تعداد اب ہماری شمالی پٹی، جو سی پیک M14 کا مغربی روٹ کہلاتا ہے، وہاں سے گزر جاتی ہے، جو بدقسمتی سے ہمارے عقب میں ہے، سامنے نہیں۔ ہم اس شمالی بین الاقوامی سڑک سے مکمل استفادہ بھی حاصل نہیں کر سکتے۔

    ہیوی ٹرانسپورٹ، جس سے بہت سے لوگوں کا روزگار منسلک ہوتا ہے، وہ دو حصوں میں بٹ گئی ہے۔ ایک حصہ سی پیک اور دوسرا حصہ ایم ٹو موٹروے سے فیصل آباد M4 سے ملتان اور آگے کراچی کی طرف۔ اب میانوالی سے تلہ گنگ، چکوال اور چکوال سے تلہ گنگ، میانوالی بس یہاں یہی کچھ رہ گیا ہے۔

    اس علاقے کی بدقسمتی دیکھیں کہ یہاں کوئی مضبوط اور توانا آواز بھی نہیں ہے، جو بول سکے، جو اپنے لوگوں کی مشکلات کا ذکر کر سکے۔ اور اس سے آگے والوں سے کیا توقع کی جا سکتی ہے؟ یہاں کے کسی مقامی رہنما نے شاید اپنی نسل کا تو ضرور سوچا ہوگا، لیکن ان غریبوں کی نسل کا کون سوچے گا؟ ان علاقوں کی خاطر خواہ ترقی کے لیے آج تک کچھ کیا گیا؟ کچھ بھی نہیں۔

    یہ ٹال ٹیکس کا تحفہ بھی ہمارے نصیب کے کھاتے میں ڈلوا کر خاموشی اختیار کر لی گئی ہے۔ یہ مقامی دیہی آبادی کے ساتھ ظلم و زیادتی ہے۔ ساغر صدیقی کا ایک شعر یاد آ گیا:
    جس عہد میں لٹ جائے فقیروں کی کمائی
    اس عہد کے سلطان سے کچھ بھول ہوئی ہے

    یہاں سلطان کی کچھ بھول نہیں ہے، بلکہ سلطان سب بھول گیا ہے۔ وسائل سے محروم ان علاقوں کی صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات کا بحران ایک طرف اور ٹال ٹیکس کے اضافی بوجھ کے یہ "خوبصورت ترقی کے ضامن” (میرے نزدیک) پیلے ڈبوں کا تکلیف دہ تحفہ یہاں کے باسیوں کے لیے ایک نئی مشکل کا سبب بنے گا۔

    بنیادی طور پر یہاں ایک مشکل زندگی پائی جاتی ہے۔ لوگ حلال روزی کے لیے دن بھر محنت مزدوری اور مشقت کرتے ہیں۔ اس سے اپنے بچوں کا پیٹ پالا جاتا ہے۔ ایسی غریب بستی والوں کے دکھوں میں اضافہ ایک رہزن کی سوچ تو ہو سکتی ہے، کسی مسیحا کی نہیں۔

    اس عہد کے سلطان سے گزارش ہے کہ رعایا پر رحم کیا جائے اور مزید پسماندگی میں دھکیلنے کا پروگرام منسوخ کیا جائے۔ یہ ٹال ٹیکس وسائل سے محروم ان پسماندہ ترین علاقوں سے ختم کیے جائیں۔

  • چولستانی گوپے میں چھپی روہی کی دلکش ثقافت،دوسری قسط

    چولستانی گوپے میں چھپی روہی کی دلکش ثقافت،دوسری قسط

    چولستانی گوپے میں چھپی روہی کی دلکش ثقافت
    تحریر: ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    altafkhandahir@gmail.com
    قسط کا خلاصہ:
    دوسری قسط میں چولستانی گوپوں کی ثقافت،فنون لطیفہ اور روہیلوں کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ شاعر شاہد عالم شاہد لشاری کی شاعری اور چولستانی معیشت، جیسے مویشیوں کی پرورش اور روزگار کی کمی کے مسائل کو بیان کیا گیا ہے۔ چولستان کے لوگوں کی زندگی کی سب سے بڑی آزمائش پانی کی کمی اور قحط سالی کے اثرات ہیں۔ بارشوں کی کمی اور "ٹوبھوں” میں پانی کا ذخیرہ کرنے کی مشکلات نے ان کی روزمرہ کی زندگی کو متاثر کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، تعلیم کی کمی اور صحت کے مسائل بھی اہم موضوعات ہیں جن پر حکومتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

    دوسری قسط، چولستان کی زندگی کے چیلنجز
    چولستان کے باسیوں کے لیے پانی کی قلت سب سے بڑا چیلنج ہے۔ ٹوبھوں میں جمع کیا جانے والا پانی ان کے لیے زندگی کا سہارا ہے، لیکن بارش کی کمی ان ذخائر کو ناکافی بنا دیتی ہے۔ گرمیوں میں درجہ حرارت پچاس ڈگری سے تجاوز کر جاتا ہے، جس کے باعث لوگ اور ان کے مویشی ہجرت پر مجبور ہو جاتے ہیں۔تعلیم اور صحت کی سہولیات کی کمی نے چولستان کے لوگوں کو مزید مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ لڑکیوں کی تعلیم اور مقامی اسکولوں کی خستہ حالی جیسے مسائل فوری توجہ کے متقاضی ہیں۔ صحت کی بنیادی سہولیات کے بغیر لوگ معمولی بیماریوں کے علاج کے لیے دور دراز علاقوں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں، جو کئی بار جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔

    چولستان کی دلکش سرزمین اپنے دھرتی جائے کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔سرائیکی وسیب کے لوگ سیدھے سادے، ریت کی طرح نرم و نازک ہیں۔نرم مزاجی،صوفیانہ امن پسند رنگ اور کلچرل روایات سے جڑے ہوئے ہیں۔اپنی دھرتی کی ہر چیز سے بےپناہ محبت کرتے ہیں۔عالمی مشہور شاعر شاہد عالم شاہد لشاری جن کی گزرگزران روہی رہتل ہے۔سرائیکی وسیب کی بین الاقوامی شہرت یافتہ روہی ان کی روح ہے۔ریت اور روایت، تہذیب وتمدن،ثقافت،فنون لطیفہ میں خطاطی، موسیقی،مصوری، شاعری سب انسان کی چھپی امیدوں اور خواہشات کا خوبصورت اظہار ہے۔شاعر اپنی شاعری سے اپنے علاقے کی تاریخ،ادب اور شعور کے خزانوں کو دنیا میں اجاگر کرتاہے۔

    کسی خطے کی رنگین شاعری میں جتنا بڑا کینوس ہوگا، وہ دھرتی اتنی جاندار،شاندار اور عرفان وحکمت کی بلندیوں کو چھوہے گی۔یہ کمال اللہ پاک نے سرائیکی وسیب کے شعراء کرام کو بہت زیادہ دان کیا ہے۔پاکستان کے خوبصورت حسین مادری زبانوں کے گلدستے میں سب سے زیادہ کتابیں شاعری سرائیکی زبان و ادب کی ہیں۔ سرائیکی عہد جدید کا خوبصورت کلاسک شاعر شاہد عالم شاہد کا عالم شاعری میں کمال خوبصورتی جھلک رہی ہے۔

    پاتے گھگھرا چولی چنی بولا بینسر
    روہی دی ہک حور ٹری ہےریت نچی ہے

    گوپے دیوچ پوہ دی رات کوں قصہ ٹر پئے
    ڈھلدیں ڈھلدیں رات ڈھلی ہے ریت نچی ہے
    کنگن والے بھاء دے مچ تے بہہ تے شاہد
    "موہن” کافی جو آکھی ہے ریت نچی ہے

    اجڑے گوپے کوں مٹی دے گھبکار مہکار وانگوں لگے
    بھرے ٹوبھے دے چودھار ڈیکھوں جڈے مال چردا ودے

    اج تاں کترن دی خوشبو نے جھمر مچائی ہے پرے تھل تلک
    نین سادے مرادے کھڑن ڈیکھدے مال چردا ودے

    سرائیکی ادبی فورم "فکر فرید” بانی صاحبزادہ شیر میاں خان عباسی کے دیرے روہی چولستان کنگن آلے بنگلے پر ٹھنڈی ٹھار راتوں میں بھاہ کے مچ کے اردگرد سرائیکی مشاعرہ و موسیقی کی وجد بھری آواز کی دھن سے دوشیزہ محبوبہ حسین دلربا منظر میں چنگاری بن کر ریت پر خوب رقص جھمر کرکے عاشقوں کے دلوں کو خوب بھاتی ہے۔اس کا رنگ و چہرہ غزل کا روپ ہے۔

    پہلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    چولستانی گوپے میں چھپی روہی کی دلکش ثقافت
    ککڑ،بیر،شرینہہ،جال پیلھوں کا درخت بھی ان کا ایک قسم کا اوپن گوپہ ہوتاہے۔جہاں ٹوبھے کے پانی کی چاہت،وہاں بیٹھ کر ککھ کانوں سے گھریلو آسائشی سامان میں موڑے بنانا، پتلی باریک لکڑی سے گوپہ تیار کرنا وغیرہ روہی کے باسیوں کے لیے ذریعہ معاش اور گزر گزران کے اوزار نعمت خداوندی سےکم نہیں ہیں۔ کانوں سے گوپے بھی تیار ہورہے ہیں۔پرانے نئے قصے بھی آشکار ہورہے ہیں۔راتوں کو جاگ کر مستی بھری یادیں تازہ کی جاتیں ہیں۔شاعر نے ایک ایک لمحہ محفوظ کرکے اپنے طلسماتی فکری صلاحیتوں سے شاعری کا نیا جہاں گوپہ تشکیل دے دیا ہے۔شاعر نے اچھوتے انداز میں اپنی بات کو اس طرح بیان کی ہے۔

    کنگن آلے دے گھاٹے شرینہاں تلے رات ٹردی پئی اے
    نال قصے دے قصہ پیا جاگدے مال چردا ودے

    ساڈی نبھ ویسی زندگی ریت اچ
    دفن تھی ویسی ہر خوشی ریت اچ
    ساڈے جیونڑ دے آسرے سارے
    ساڈے سکھ وی عذاب وی ریت اچ
    او جو وچھڑے تاں ول تے نی آیا
    مونجھ رل گئی ہے بلکدی ریت اچ
    میڈی روہی تے مار ڈیوو میکوں
    رت میڈی رل ونجے میڈی ریت وچ

    سرائیکی جگ مشہور شاعر اسلم جاوید کا اپنے خوبصورت مزاحمتی شعری مجموعے طبل کلہاڑی میں دل بھاتے انداز میں روہی اور تھل کے صحرائی ماحول کو شاندار رنگوں میں اپنا مدعا بیان کیا۔سرائیکی وسیب میں تھل اور چولستان روہی گوپوں میں چھپا ثقافتی ورثہ حقیقت میں سادہ سماجی روایات،چاہت،خلوص، امن و رواداری کا درس ہے۔سرائیکی دھرتی روحانیت سے مالامال ہے۔یہاں کا ہر زبان بولنے والا فرد ہماری تہذیبی زمینی میٹھے پھل آم،کھجور اور شہد کی مٹھاس کا خوبصورت اظہار ہے۔ہر وسیبی کا کردار گھاٹے درخت کی چھاں ہے۔ہمارا سفر عشق مجازی سے عشق حقیقی کی طرف ہے۔اسلم جاوید چودھری کا قصہ اپنی روہی چولستان کی چھ ہزار سال قدیم تہذیب وتمدن سے عشق کی لازوال داستان ہے۔سرائیکی شعراء کرام نے لفظ روہی کو بطور استعارہ محرومی،دہشت،وحشت، کرب وبلا، جنت،بہشت،خوشی،سنگلاخ مشکلات،ترقی،خوشحالی،،بے بسی، امن،محبت،الگ شناخت،وچھوڑا،وصل،وادی عشق، مونجھ، ڈکھ، ہمدردی،خلوص،برداشت، صبر وشکر، بے نیازی،خود اعتمادی،خواہشات کا لامتناہی روحانی سفر،تحمل،امید،آس،ملال استعمال کیا ہے۔جس نے روہی کا جو پہلو یا رنگ دیکھا اس نے وہی بیان کردیا۔
    تھل، روہی چولستان الفاظ سرائیکی جہانوں کا نیا عجیب عالم حیرت ہے۔

    تھل ہے قصہ مونجھ دا ۔۔۔۔۔۔۔ روہی عشق دا ناں
    اکھ بھالی دا میلہ ڈیکھاں ڈھولی نال کراں

    چولستان دے رنگ ہزاراں جال کرینہہ دی چھاں
    کیڑھا نندروں ٹردا ویندے آرھ ارینہہ دی چھاں
    جتھاں میکوں کندن ملدی اتھ شرینہہ دی چھاں

    پیلوں پکیاں چݨ تے اکھیاں ڈولی ڈھاک ہے ساوی
    پیلوں پکیاں لب اچ مکھیاں مونہہ مسواک ہے ساوی
    پیلوں پکیاں میں نہ چکھیاں ساڈی ٻاک ہے ساوی

    چولستان میں حسن وجمال بھری حیات بشریت،حیوانات اور نباتات کی بقاء کا سب سے اہم ذریعہ پانی ہے۔صحرائی علاقے میں بارش نہ ہونے کی صورت میں پانی جمع کرنے کے لیے "ٹوبھے” بنائے جاتے ہیں۔جو گوپوں کے نزدیک چھوٹے تالابوں کی صورت میں موجود ہوتے ہیں۔ٹوبھوں کا پانی مقامی لوگوں اور ان کے جانوروں کی زندگی کا سہارا ہے۔جب بارش کی پھلواڑی کی پہلی پھنوار چولستان کی ریت پر پڑتی ہے تو خوشبو ہر سوں پھیل جاتی ہے۔نئی دلہن ریت بن کر خوب گنگناتی ہے۔رقص جھمر کھیلتی ہے۔تمام روہیلوں کے چہرے مسلسل خوشی اور شادی مانی کے نہ تھمنے والے احساسات کی رم جھم برسات شروع ہوجاتی ہے۔ہر طرف کھلا کھلا چہرہ نظر آتاہے۔عاشق اپنی محبوبہ کے ملن کے متلاشی نظر آتے ہیں۔برسا موسم سے پہلے ریت خوب دھمال کرتی ہے۔ابھا،لما،پوادھ پچادھ ہر طرف سریلی آوازیں آنا شروع ہوجاتیں ہیں۔شاعر خود اگر روہیلا ہو تو اس کا تخیل کمال حسین نظر آتا ہے۔نمونہ کلام مادری زبان میں ہو تو ابلاغ بہت ہی عمدہ ہوتا ہے۔

    ابھے توں بدلی اسری ہے ریت نچی ہے
    مینہ دی پہلی پھینگ ڈھٹی ہے ریت نچی ہے

    جال اتوں پیلھوں چنڑدے نازک ہھتیں توں
    مہندی دی خشبو نکتی ہے ریت نچی ہے

    ٹوبھے اتے لتھین کونجاں اصلوں مونجھاں
    ول سانول دی گالھ چلی ہے ریت نچی ہے

    تاہم مینہ بارش کی کمی کے باعث ٹوبھے اکثر خشک ہو جاتے ہیں اور قحط سالی کا بیاباں منظر عام بات ہے۔گرمیوں میں جب درجہ حرارت 50 ڈگری سے تجاوز کر جاتا ہے تو گوپوں میں رہنے والے روہیلے ہجرت پر مجبور ہو جاتے ہیں۔پانی کی قلت نہ صرف ان کی روزمرہ کی معاشی و سماجی زندگی کو مشکل بناتی ہے بلکہ جانوروں،چرند پرند اور سرسبز پودوں کی زندگی کو بھی خطرے میں ڈال دیتی ہے۔چولستان روہی کے سادہ نفیس،یقین کامل کی طاقت سے مالامال باشندے صحرائی علاقے میں زندگی بسر کرتے ہوئے صدیوں سے شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ان کی زندگی کی سب سے بڑی آزمائش پانی کی کمی ہے۔مگر قدرتی بارش عظیم نعمت خداوندی اور خوشحالی کی ضمانت ہے۔

    بارشوں کا نہ ہونا صرف ان کی روزمرہ کی زندگی بلکہ ان کے مستقبل پر بھی گہرے اثرات ڈالتی ہے۔ کیونکہ چولستان کا بیشتر انحصار بارشوں پر ہوتا ہےجو سال بھر میں چند بار ہوتی ہیں۔اور یہی پانی "ٹوبھہ ” نامی ذخائر میں جمع کیا جاتا ہے۔تاہم، بارش کی کمی اور ذخیرہ شدہ پانی کی محدود مقدار کی وجہ سے یہ وسائل ناکافی ثابت ہوتے ہیں۔ٹوبھے کے میٹھے پانی خوبصورت وادی پر انسان،حیوان،شجر، چرند پرند سبھی خوشی خوشی زندگی گزارتے اور رب العزت جلال کا شکر ورد کرتے ہیں۔مگر بارش کی کمی اور ٹوبھوں کی خشکی جیسے سخت حالات میں لوگ اپنے جانوروں اور خود اپنی بقا کے لیے دوسرے علاقوں کی طرف ہجرت پر مجبور ہو جاتے ہیں۔اپنی چولستان دھرتی پر بارش ہونے کی شدید تمنا نے کلاسک شاعر شاہد عالم شاھد لشاری کیا خوب تخیل تخلیق کیا ہے۔صبح سے شام تک صحرائے چولستان کے چٹیل ڈاہروں وسیع میدانوں میں سارا دن مال مویشی چرانے والے بکر وال کی گھر کی طرف واپسی سفر کو اپنے شاندار لفظوں کی رنگین چادر پہنائی ہے۔خوبصورت نظارہ کہ سارا دن چرواہا نے دعائیں مانگیں کہ ہماری طرف بارش ہوگی۔مگر پتہ چلا ابر رحمت ہماری طرف نہ آیا بلکہ پہاڑوں پر خوب برسا۔شاعر کا حسین کلام توجہ طلب ہے۔

    سجھ کوں گھر تیئں پجا تےولداپئے
    کوئی بکریاں چراتے ولدا پئے

    ریت رل گئی ہے سر تے پھینگ نی پئی
    جھڑ پہاڑیاں پسا تے ولدا پئے

    جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔

  • جنوبی بھارت میں باڈی بلڈرز،جسموں‌کو فخر سے پیش کرنے والی خواتین

    جنوبی بھارت میں باڈی بلڈرز،جسموں‌کو فخر سے پیش کرنے والی خواتین

    بھارت کی ساحلی ریاست کیرالہ میں، جہاں قدرتی مناظر اور پرسکون ماحول کا راج ہے، فوٹوگرافر کیرتھنا کناتھ نے ایسی تصاویر لی ہیں جن میں طاقتور اور مضبوط خواتین اپنے جسموں کو فخر سے پیش کر رہی ہیں۔ یہ خواتین سمندر کی لہروں، کھجور کے درختوں یا چٹانوں کے درمیان بائسپس کو جمانے، ٹانگوں کو سٹریچ کرنے یا شانوں کو بڑھانے کے دوران اپنے باڈی بلڈنگ کی مہارتوں کا مظاہرہ کر رہی ہیں، اور جِم کی مخصوص وردی کے بجائے زریں سبز لباس یا خواتین کے روایتی چیکرڈ بیکنی ٹاپ اور اسکرٹ میں جلوہ گر ہو رہی ہیں۔

    تاہم کیرالہ میں، جہاں کیرتھنا کناتھ کا تعلق ہے، خواتین کے لئے باڈی بلڈنگ اب بھی ایک ممنوعہ موضوع ہے، کیونکہ یہاں خواتین سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ روایتی نسوانی اصولوں پر عمل کریں۔ ایک باڈی بلڈر کی انسٹاگرام پروفائل کو دیکھنے کے بعد، کناتھ نے ان خواتین سے متاثر ہو کر باڈی بلڈنگ کی دنیا کا جائزہ لیا جو اس کھیل کے لئے اپنی زندگی وقف کر چکی ہیں اور سماجی روایتوں کے ساتھ ساتھ اپنے خاندانوں کی خواہشات کو بھی نظرانداز کر چکی ہیں۔

    کناتھ نے سی این این کو فون کال میں بتایا، "جہاں ہم رہتے ہیں، یہ بہت عام بات نہیں ہے۔ میں اسے کمیونٹی کہوں گی بھی نہیں، کیونکہ یہ ابھی تک ایک نیا رجحان ہے اور صرف چند لڑکیاں ہی اس میں دلچسپی رکھتی ہیں۔”

    بھارت میں خواتین کا باڈی بلڈنگ کی طرف بڑھتا ہوا رجحان
    بھارت بھر میں، حالیہ برسوں میں خواتین کا ایک بڑھتا ہوا رجحان باڈی بلڈنگ میں شامل ہو رہا ہے اور بہت سی خواتین نے بین الاقوامی فٹنس اینڈ باڈی بلڈنگ فیڈریشن سے پیشہ ورانہ حیثیت حاصل کی ہے۔ 2016 میں، دیپیکا چودھری نے پہلی بھارتی خاتون باڈی بلڈر بن کر اس میدان میں ایک سنگ میل قائم کیا۔

    کییرتھنا نے ابتدائی طور پر کیرالہ میں جنسی لحاظ سے غیر جانبدار مارشل آرٹ "کالاری پائٹ” پر تحقیق کرنے کا ارادہ کیا تھا، لیکن جب انہوں نے باڈی بلڈنگ پر فوکس کرنے والی خواتین کا پتہ چلایا تو ان کی توجہ اس طرف مرکوز ہو گئی۔ کناتھ کی فوٹوگرافی کی سیریز میں شامل خواتین باڈی بلڈرز ایک دوسرے کو براہ راست نہیں جانتی تھیں، مگر سوشل میڈیا اور مقابلوں کے ذریعے ان کے درمیان ایک انجان سی پہچان تھی۔

    بھو میکا کمار، جو 22 سال کی ہیں اور کیرالہ کے شہر کوچین سے تعلق رکھتی ہیں، نے بچپن میں اپنی جسمانی سرگرمیوں کو محدود رکھنے کے باوجود باڈی بلڈنگ میں دلچسپی پیدا کی۔ اپنے والدین کے سخت رویے کی وجہ سے انہیں بچپن میں کھیلنے کی آزادی نہیں مل سکی تھی، مگر بالغ ہونے کے بعد یوٹیوب ویڈیوز کے ذریعے ورزش کا آغاز کیا اور پھر خاندان کے ساتھ بحث و تکرار کے بعد جِم میں شامل ہو گئیں۔ آج وہ مس کیرالہ اور مس ارناکولم جیسے مقامی مقابلوں میں گولڈ میڈل جیت چکی ہیں۔کمار اور دیگر باڈی بلڈرز کی کہانیاں ایک ہی جتنی ہیں، جنہیں اپنے خاندانوں سے تنقید اور دباؤ کا سامنا رہا کہ وہ اپنے جسموں کو دکھا کر غیر روایتی دنیا میں کیوں قدم رکھ رہی ہیں۔
    india
    خواتین باڈی بلڈرز کا عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کا عزم
    کیرتھنا کناتھ کی فوٹوگرافی میں شامل ایک اور خاتون، 25 سالہ سینڈرا اے ایس ہیں جو 4 سال سے باڈی بلڈنگ کر رہی ہیں اور اب باڈی بلڈنگ کے نئے کھلاڑیوں کو تربیت بھی دیتی ہیں۔ ان کا مقصد خواتین کے لئے باڈی بلڈنگ کے میدان میں رکاوٹیں توڑنا اور بین الاقوامی سطح پر پیشہ ورانہ طور پر مقابلہ کرنے کے لیے ضروری کوالیفیکیشن حاصل کرنا ہے۔

    کیرتھنا نے اپنی فوٹوگرافی کے دوران بھارتی دیویوں کی تصاویر سے متاثر ہو کر خواتین کے ہیروک پورٹریٹس بنائے ہیں۔ انہوں نے مقامی اسٹائلسٹ ایلتن جان کے ساتھ مل کر ایسی تصاویر تخلیق کیں جو جسمانی طاقت کو نرمی اور حسن کے ساتھ پیش کرتی ہیں۔ فوٹوگرافر کے مطابق، "یہ خواتین انتہائی مضبوط، پراعتماد اور طاقتور ہیں، لیکن پھر بھی ان میں ایک نرمائی ہے۔”

    کیرتھنا نے اپنی سیریز "نات واٹ یو سو” کے ذریعے ان خواتین کے عزم اور محنت کو اجاگر کیا ہے جو باڈی بلڈنگ کے میدان میں مردوں کے غلبے کو توڑنے کے لئے مسلسل محنت کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے، "انہوں نے اپنے لئے یہ جگہ بنائی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ ان کی کہانیاں جشن منانے کے قابل ہیں۔”

    یوکرین اور روس کے ایک دوسرے پر بڑے ڈرون،میزائل حملے

    سعودی عرب معاہدے کے تحت 570 پاکستانی قیدیوں کی واپسی کی لیے رضامند

  • چولستانی گوپے میں چھپی روہی کی دلکش ثقافت،پہلی قسط

    چولستانی گوپے میں چھپی روہی کی دلکش ثقافت،پہلی قسط

    چولستانی گوپے میں چھپی روہی کی دلکش ثقافت
    تحریر: ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    altafkhandahir@gmail.com
    قسط کا خلاصہ
    چولستانی ثقافت اور روہی کی خوبصورتی کو بیان کرنے والے اس آرٹیکل کی پہلی قسط میں، چولستان کے لوگوں کی زندگی، خواجہ غلام فرید اور دیگر سرائیکی شاعروں کے کلام کے ذریعے بیان کی گئی ہے۔ خواجہ فرید کی شاعری میں چولستان کی روحانی اور ثقافتی اہمیت کا ذکر کیا گیا ہے، جو عشق، تصوف، اور انسانیت کے اہم موضوعات کو بیان کرتی ہے۔ چولستان میں "گوپے” کی اہمیت پر بھی بات کی گئی ہے، جو کہ نہ صرف رہائش کے لئے بلکہ ثقافت اور قدیم روایات کی عکاسی کرتے ہیں۔ گوپے کی تعمیر میں مٹی اور درختوں کی چھال کا استعمال، اور اس کے اندر رہنے والے افراد کی محنت اور محبت کی مثال دی گئی ہے۔

    پہلی قسط کا موضوع ،روہی کی دلکش ثقافت اور سرائیکی ادب
    چولستان کے لوگ پانی کو زندگی کی علامت اور سب سے بڑی نعمت سمجھتے ہیں۔ روہی کے صحرا کا ہر منظر عشق حقیقی اور مجازی کی کہانی سناتا ہے، جو کلاسیکی سرائیکی ادب میں نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔ خواجہ غلام فریدؒ نے چولستان کے ریت کے ٹیلوں اور ٹوبھوں کو اپنی شاعری کا مرکز بنایا، جہاں تصوف اور سادگی کا حسین امتزاج موجود ہے۔ان کے کلام میں عشق، تصوف، اور انسانی جذبات کی گہرائی کو ریت کے ٹیلوں کی صورت میں پیش کیا گیا۔ مثال کے طور پر:
    اتھ درد منداں دے دیرے
    جتھ کرڑ کنڈا بوئی ڈھیر اے

    شاہد عالم شاھد لشاری کی شاعری بھی روہی کی ثقافت کو ایک منفرد انداز میں پیش کرتی ہے۔ گوپے، مٹی کی جھونپڑیوں کا ذکر، سرائیکی ثقافت کا اہم حصہ ہے۔ گوپے نہ صرف رہائش کی ضرورت پوری کرتے ہیں بلکہ چولستان کے لوگوں کی محنت اور ثقافتی خوبصورتی کی عکاسی کرتے ہیں-

    پہلی قسط
    پانی اور زندگی کی رونق چولستان کے لوگوں کے لیے خواب حسن کی حقیقت ہے۔روہی اگر عاشق کے لیے ایک طرف وصال بہشت ہے تو دوسری طرف وچھوڑے مونجھ ملال کی وحشت کربلا بھی ہے۔عشق مجازی سے عشق حقیقی کے سفر کا آغاز بھی چولستان روہی تھل کے ریت کے ٹیلوں سے ہوتاہے۔نگری مظہر جلال کی روحانی روہی کے کلاسک سرائیکی شاعر خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ کا زیادہ تر عرصہ چولستانی ٹوبھوں اور ریت کے ٹیلوں کے ذروں کے ساتھ گزرا ہے۔سادگی،تصوف اور خالص پیلھوں جیسی خوبصورت مٹھاس ان کے کلام آفاقیت کا خاص موضوع ہے۔گوپے میں روہی کی ثقافت کا قصہ 271 کافیوں پر مشتمل سرائیکی دیوان فرید دراصل سرائیکی سماجیات کا آئینہ ہے۔

    روہیلے کے لیے روہی کشمیر جنت نظیر ہے۔دھوپ کی تپش اس کے لیے برف کی طرح سفید لباس ہے۔خواجہ فرید کا خوبصورت عکس روہی دراصل سرائیکی علم وادب،عرفان وحکمت،تصوف،تہذیب وتمدن اور ثقافت کا سچا قصہ ہے۔سرائیکی مہان شاعر خواجہ فرید کو سرائیکی روحانی شاعر کا مقام حاصل ہے۔ان کے آفاقی فلسفہ میں روہی کا رنگ سب سے نمایاں ہے۔عشق حقیقی،تصوف،محبت،احساس، ہمدردی،کائنات کاحسن،احترام آدمیت،امن جیسے عظیم موضوعات ان کا حاصل کلام ہے۔

    اتھ درد منداں دے دیرے
    جتھ کرڑ کنڈا بوئی ڈھیر اے

    لانڑے، پھوگ اساڈے مانڑے
    ٹبڑے،بھٹڑے، ڈاہر، ٹکانڑے

    سرائیکی زبان و ادب کے جدید کلاسک شاعر شاہد عالم شاہد لشاری نے خوبصورت انداز میں روہی روپ کے قصے کو گوپے میں بیٹھ کر شاندار لفظوں کے تخیل سے تصویر کشی کی ہے۔الفاظ کی کاری گری ملاحظہ فرمائیں۔

    گوپے دیوچ اجرک ویڑھ تے ٹکڑانویں گندی تے
    بڈھا پاندھی ٹوری بیٹھے رلئے مال دے قصے

    مینہ دا زم زم وٹھے بلدی روہی اتے مال چردا ودے
    ساولیں جم پیاں ایجھا امرت ڈھٹے مال فردا ودے


    سرائیکی کلاسیکل مہان شاعر ڈاکٹر اشولال نے روہی چولستان کی چھ ہزار سال کی وادی ہاکڑہ سرسوتی تہذیب وتمدن کے مرکزی شہر گنویری والا اور قلعہ ڈیراور کی عظمت کو اپنے لازوال انداز کلام میں یوں بیان کیا ہے۔

    ساڈے اندروں وگدی اے سرسوتی
    ساڈے اندروں ہاکڑا وگدا اے
    اے گلیاں یار ڈیراور دیاں
    ساکوں ڈیکھ کے اینویں لگدا اے
    جیویں ہنڑیں ہنڑیں کوئی ویندا پئے
    جیویں ہنڑیں ہنڑیں کوئی ول آسی


    خواجہ فرید سئیں نے روہی تھل کے منظر کو باغ بہشت قرار دیا ہے۔

    روہی راوے تھیاں گلزاراں
    تھل چترانگ وی باغ بہاراں
    گھنڈ تنواراں بارش باراں
    چرچے دھاونڑ گاونڑ دے
    چاندنی رات ملہاری ڈینہ ہے
    تھڈڑیاں ہیلاں رم جھم مینہ ہے
    سوہنی موسم لگڑا نینہہ ہے
    گئے ویلھے غم کھاونڑ دے


    چولستان روہی کے صحرا کی اپنی خاموش خوبصورتی،ٹوبھےگوپے،قلعوں کا ثقافتی تاریخی تہذیبی ورثہ اور سخت زندگی کے سچے قصے بہت مشہور ہیں۔ محلاں کی سابق سرائیکی دھرتی ریاست بہاولپور میں واقع قلعہ ڈیراور چولستان کی پہچان ہے۔اس سے جڑی بستیوں میں آج بھی روہیلے مٹی اور درختوں کی چھال سے بنے روایتی رنگین "گوپوں” میں رہتے ہیں۔یہ گوپے صرف رہائش کے لیے گھر نہیں بلکہ روہی کی دلکش ثقافت اور یہاں کے لوگوں کی صدیوں پرانی عملی جدوجہد کی عکاس ہیں۔

    گوپے مٹی اور درختوں کی چھال سے بنائے جاتے ہیں اور انہیں خاص مہارت سے تعمیر کیا جاتا ہے۔سرائیکی جدید کلاسک شاعر شاہد عالم شاہد لشاری کے شاعری مجموعہ کا نام بھی "گوپے دے وچ قصہ” ایک منفرد اعزاز ہے۔گوپے کی دیواروں پر مٹی کا لیپ اور باریکی سے کی گئی صفائی ستھرائی اور رنگینی چولستانی دیہی فن کا مظہر ہے ۔شدید گرمی یا سردی کے موسم میں ان گوپوں کو شاپر یا شیٹ سے ڈھانپ دیا جاتا ہے۔ تاکہ اندر رہنے والوں کو موسم کی شدت سے بچایا جا سکے۔

    گوپے نہ صرف روہیلوں کی رہائش کی ضرورت کو پورا کرتے ہیں۔ بلکہ مہمانوں کے لئے آرائش و آرام اور محبت کا اعلی نمونہ بھی ہیں۔ان کی تعمیر اور سجاوٹ چولستانی فنکارانہ ذوق کی گواہی دیتی ہے۔کانے سے بنے گوپے،پتلیں،چکیں اور موڑھوں کے علاوہ سر اور کانہاں ( سرکنڈے ) سے بنی چولستانی چنگیریں و دیگر ہاتھ سے بنی اشیاء کو چولستانی و روہی واسیوں کے ہاتھوں کی ہنرمندی اور شاہکار کاریگری کی جادو گری بھی کہا جاسکتا ہے..جاری ہے

  • مولے نوں مولا نہ مارے تے مولا نئیں مردا , مولاجٹ کے پروڈیوسر کا انتقال, ایک عہد کا خاتمہ

    مولے نوں مولا نہ مارے تے مولا نئیں مردا , مولاجٹ کے پروڈیوسر کا انتقال, ایک عہد کا خاتمہ

    مولے نوں مولا نہ مارے تے مولا نئیں مردا،مولاجٹ کے پروڈیوسر کا انتقال، ایک عہد کا خاتمہ
    تحریر:شاہد نسیم چوہدری
    پاکستانی فلم انڈسٹری کا ایک روشن باب، محمد سرور بھٹی، 13 جنوری 2025 کو لاہور میں انتقال کر گئے۔ ان کی وفات سے نہ صرف فلمی دنیا بلکہ ان کے مداحوں میں بھی ایک گہرا خلا پیدا ہوا ہے۔ سرور بھٹی وہ نام ہیں جو 1979 کی شہرہ آفاق فلم مولاجٹ کے پروڈیوسر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ان کی فلمی خدمات نے پاکستانی سینما کو بین الاقوامی سطح پر روشناس کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔مولاجٹ پاکستانی سینما کا شاہکار،سرور بھٹی کی پروڈیوس کردہ فلم مولاجٹ پاکستانی فلمی تاریخ کا وہ شاہکار ہے جس نے فلم انڈسٹری کو ایک نئی شناخت دی۔

    مولاجٹ، پاکستانی سینما کا شاہکار
    سرور بھٹی کی پروڈیوس کردہ فلم مولاجٹ، پاکستانی فلمی تاریخ کا وہ شاہکار ہے جس نے فلم انڈسٹری کو ایک نئی پہچان دی۔ گنڈاسا کلچر پر مبنی اس فلم میں سلطان راہی، مصطفیٰ قریشی، اور عالیہ جیسے معروف اداکاروں نے کام کیا۔ اس فلم کے مکالمے، خاص طور پر "مولے نوں مولا نہ مارے تے مولا نئیں مردا”، آج بھی زبان زد عام ہیں۔

    مولاجٹ صرف ایک فلم نہیں بلکہ پاکستانی ثقافت کی عکاسی اور عوامی جذبات کی نمائندگی تھی۔ اس نے معاشرتی اور ثقافتی مسائل کو منفرد انداز میں پیش کیا، جس کی بدولت یہ فلم پاکستان سمیت بیرون ملک بھی مقبول ہوئی۔

    دیگر کامیاب فلمیں
    سرور بھٹی نے مولاجٹ کے علاوہ بھی کئی کامیاب فلمیں پروڈیوس کیں، جن میں شیر خان، وحشی جٹ، اور چن وریام شامل ہیں۔

    شیر خان: سلطان راہی اور مصطفیٰ قریشی کی شاندار اداکاری سے بھرپور یہ فلم شائقین کی دل پسند ثابت ہوئی۔
    وحشی جٹ: مولاجٹ کی طرح ایک یادگار فلم، جس میں گنڈاسا کلچر کی منفرد عکاسی کی گئی۔
    چن وریام: دیہی پنجاب کی ثقافت اور تعلقات کی پیچیدگیوں پر مبنی یہ فلم عوام میں بے حد مقبول ہوئی۔

    سرور بھٹی، فلم انڈسٹری کے محسن
    سرور بھٹی کا شمار ان فلم سازوں میں ہوتا ہے جنہوں نے پاکستانی سینما کو بین الاقوامی معیار کے قریب لانے کی بھرپور کوشش کی۔ ان کی فلموں کا موضوع معاشرتی مسائل، دیہی ثقافت، اور انسانی جذبات پر مبنی ہوتا تھا۔ ان کا وژن پاکستانی فلم انڈسٹری کے لیے ایک تحریک ثابت ہوا۔

    مولاجٹ کا اثر، فلم انڈسٹری میں انقلاب
    مولاجٹ نے پاکستانی سینما کے لیے نئی راہیں ہموار کیں۔ اس کی کامیابی کے بعد گنڈاسا کلچر پر مبنی کئی فلمیں بنائی گئیں، لیکن سرور بھٹی کی فلموں کا معیار اور گہرائی نمایاں رہی۔

    نماز جنازہ اور خراج عقیدت
    سرور بھٹی کی نماز جنازہ داتا دربار میں ادا کی گئی، جہاں فلمی دنیا کی معروف شخصیات اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ان کے انتقال پر فلمی صنعت کے مشہور ناموں نے افسوس کا اظہار کیا اور انہیں خراج تحسین پیش کیا۔

    یادگار خدمات
    سرور بھٹی کی وفات پاکستانی سینما کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔ ان کی فلمیں نہ صرف ماضی کی یادگار ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک مشعل راہ بھی ہیں۔ ان کا نام ہمیشہ پاکستانی سینما کے سنہری صفحات پر جگمگاتا رہے گا۔

    "مولے نوں مولا نہ مارے تے مولا نئیں مردا” کا فلسفہ شاید سرور بھٹی کی زندگی کی حقیقت بن گیا، کیونکہ ان کے فن کے ذریعے وہ ہمیشہ زندہ رہیں گے۔

    اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ان کی مغفرت فرمائے اور ان کے اہل خانہ کو صبر جمیل عطا کرے۔

  • مظلوم مسلمانوں کی قنوت نازلہ اور لاس اینجلیس

    مظلوم مسلمانوں کی قنوت نازلہ اور لاس اینجلیس

    مظلوم مسلمانوں کی قنوت نازلہ اور لاس اینجلیس
    از قلم غنی محمود قصوری
    7 جنوری 2025 سے امریکی ریاست کیلیفورنیا کا علاقہ لاس اینجلیس جنگلی آگ لگنے سے جھلس کر راکھ ہو چکا ہے۔جنگل میں لگی آگ آبادی تک پہنچی اور آبادی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔لاس اینجلیس جو کہ ہالی وڈ کا مرکز ہے جہاں فلم انڈسٹری سمیت بہت سے وی آئی پی لوگ رہتے ہیں، اس وقت قابل رحم بنا ہوا ہے۔ اس وقت لاس اینجلیس اور اس کی ہمسایہ کاؤنٹیز میں 7 مختلف مقامات پر شدید آگ لگی ہوئی ہے جو تاحال بھڑک رہی ہے۔

    سب سے پہلے ایٹون لاس اینجلیس میں 7 جنوری کو شام 6:18 بجے آگ بھڑکی اور پھر لاس اینجلیس سٹی میں رات 10:15 بجے آگ لگنا شروع ہوئی۔ یہ آگ ہرٹس فائر میں 10:30 بجے پہنچی اور پیلیسیڈز کے علاقے میں رات 10:38 بجے تک پہنچ گئی۔

    کیلیفورنیا، لاس اینجلیس میں 1 اکتوبر سے جنوری تک اوسطاً 10 فیصد سے بھی کم بارش ہوئی، جس کے باعث خشک سالی پیدا ہوئی۔ اسی دوران 7 جنوری 2025 بروز منگل کو سمندری ہوائیں چلیں جو جنگلات میں پہنچ کر آگ لگنے کا سبب بنیں۔

    سب سے زیادہ پیلیسیڈز میں آگ لگی جس نے تقریباً 23,000 ایکڑ رقبہ جلا کر راکھ کر دیا ہے۔پیلیسیڈز اور ایٹون میں آگ پر قابو پانے کی کوششیں کی گئیں، تاہم 60 سے 100 میل فی گھنٹہ چلنے والی تیز ہواؤں نے آگ کو مزید بھڑکا دیا ہے، جس پر ان علاقوں میں آگ اور زیادہ تیز ہونے کا خدشہ ہے۔آگ مشرق میں واقع برینٹ ووڈ میں گیٹی سینٹر آرٹ میوزیم کی طرف بڑھ رہی ہے، جس سے قوی امکان ہے کہ وہ بھی جل کر راکھ ہو جائے گا۔شدید آگ کے باعث محض ایٹون میں 12,000 گھر جل کر خاکستر ہو گئے ہیں اور 14,000 ایکڑ رقبہ جل چکا ہے۔

    لاس اینجلیس میں آگ سے اب تک 24 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق اصل تعداد تب سامنے آئے گی جب آگ مکمل طور پر بجھ جائے گی۔ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد ہزاروں میں ہو سکتی ہے۔اب تک اس آگ کے باعث 2 لاکھ سے زائد لوگ نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے ہیں، جبکہ ایک محتاط اندازے کے مطابق 15,000 مکانات جل کر خاکستر ہوئے ہیں اور 275 بلین ڈالر کا نقصان ہوا ہے، جس کے بڑھنے کا خدشہ ہے۔اس آگ میں امریکی صدر جو بائیڈن سمیت کئی نامور لوگوں کے گھر جل کر راکھ کا ڈھیر بن گئے ہیں۔

    یہاں یہ بات واضح کرتا چلوں کہ لاس اینجلیس میں بہت زیادہ لوگ ہائی ایلیٹ کلاس ہیں، اور ان میں سے بیشتر وہ لوگ ہیں جو امریکی فوج کو باقاعدہ طور پر فنڈنگ کرتے ہیں تاکہ امریکی سامراج کو برقرار رکھا جا سکے اور امریکہ سپر پاور بن کر دنیا پر راج کرے۔مگر یہ لوگ شاید بھول گئے کہ دنیا بھر میں لوگ امریکہ کے خلاف قنوت نازلہ کرتے ہیں۔

    غزوہ خندق کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عصر کی نماز قضا ہوئی تو آپ نے کفار پر بددعا کرتے ہوئے فرمایا:
    مَلَأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ نَارًا
    اللہ تعالیٰ ان کافروں کی قبروں اور گھروں کو آگ سے بھر دے۔(صحیح البخاری: 6033)

    شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کفار پر آفات کا ٹوٹنا مقام شکر ہے، چاہیے کہ ان کے خاتمے کے لیے دعا کی جائے۔
    (الشرح الصوتي لزاد المستقنع: 1660/1)

    قنوت نازلہ نبی رحمت سے ثابت اور سنت ہے۔ آج اس سنت پر دنیا بھر کے مظلوم مسلمان عمل کرتے ہیں، خاص کر مسجد اقصیٰ میں جب بھی فلسطینی نماز پڑھتے ہیں، قنوت نازلہ لازم پڑھتے ہیں۔
    اللہ نے ان معصوم نہتے مظلوم و مجبور مسلمانوں کی دعا قبول کی اور امریکہ پر آگ کا عذاب مسلط کیا ہے۔یہاں قنوت نازلہ کی دعا معہ ترجمہ رقم کر رہا ہوںامیر المؤمنین خلیفۃ المسلمین جناب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ قنوتِ نازلہ میں یہ کلمات کہتے تھے:

    "اللَّهُمَّ عَذِّبِ الْكَفَرَةَ، وَأَلْقِ فِي قُلُوبِهِمُ الرُّعْبَ، وَخَالِفْ بَيْنِ كَلِمَتِهِمْ، وَأَنْزِلْ عَلَيْهِمْ رِجْزَكَ وَعَذَابَكَ، اللَّهُمَّ عَذِّبِ الْكَفَرَةَ أَهْلَ الْكِتَابِ الَّذِينَ يَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِكَ، وَيُكَذِّبُونَ رُسُلَكَ وَيُقَاتِلُونَ أَوْلِيَاءَكَ.”

    اے اللہ، کافروں کو عذاب دے، ان کے دلوں میں ڈر بٹھا دے، ان کی صفوں میں پھوٹ ڈال دے، اور ان پر اپنا قہر اور عذاب نازل فرما۔ اے اللہ، اہلِ کتاب کافروں کو عذاب دے جو تیرے راستے سے روکتے ہیں، تیرے رسولوں کو جھٹلاتے ہیں اور تیرے دوستوں سے لڑائی کرتے ہیں۔

    اللہ دعائیں سنتا ہے اور مظلوموں کی مدد کرتا ہے۔ اللہ ظالموں کو بھی مہلت دیتا ہے تاکہ وہ ظلم سے باز آ جائیں اور اگر حد سے بڑھ جائیں تو پھر رب کی پکڑ بڑی شدید ہے۔

    امریکہ کو معصوم و مظلوم مسلمانوں کی بددعائیں لے بیٹھی ہیں اور امید ہے امریکہ کے نقصان میں مزید اضافہ ہوگا، ان شاءاللہ۔