Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ایک صدی کا قصہ، ایم سی اسکول کی پروقار تقریب

    ایک صدی کا قصہ، ایم سی اسکول کی پروقار تقریب

    ایک صدی کا قصہ، ایم سی اسکول کی پروقار تقریب
    رپورٹ: ملک امان شجاع
    کیمبل پور (اٹک) میں واقع برصغیر پاک و ہند کی معروف علمی درسگاہ، گورنمنٹ ایم سی بوائز ہائی اسکول (سابق ایم سی مڈل اسکول کیمبل پور) نے 1924 سے 2024 تک ایک صدی مکمل ہونے پر ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا۔ اس یادگار تقریب میں اسکول کے سابق طلباء نے خصوصی طور پر شرکت کی۔

    تقریب میں شریک نمایاں شخصیات میں ملائیشیا میں پاکستان کے سابق سفیر لیفٹیننٹ جنرل طاہر محمود قاضی، سابق وفاقی وزیر ملک امین اسلم، ریٹائرڈ اسسٹنٹ کمشنر راجہ زاہد، اور دیگر شامل تھے۔ ان معزز شخصیات کو اس عظیم درسگاہ میں بنیادی تعلیم حاصل کرنے کا اعزاز حاصل رہا ہے۔

    سابق طلباء نے اپنے خطاب میں ماضی کی یادیں تازہ کیں۔ ان مقررین میں سابق ڈائریکٹر محکمہ صحت راولپنڈی ڈاکٹر خالد محمود خان، پروفیسر سید عاطف بخاری، ضلعی صدر مسلم لیگ (ن) محمد سلیم شہزاد، سابق وائس چیئرمین بلدیہ ملک طاہر اعوان، رہنما مسلم لیگ (ن) حاجی محمد اکرم خان، اور دیگر شامل تھے۔

    اسکول کے طلباء نے مختلف ٹیبلو اور پروگرام پیش کیے، جنہیں حاضرین نے خوب سراہا۔ خاتون ٹیچر میڈم سعدیہ کی زیر نگرانی طلباء نے برصغیر میں تعلیم کے عروج و زوال پر مبنی ڈیڑھ سو سالہ تاریخ اور اسکول کی صد سالہ تاریخ پر خاکہ پیش کیا، جس نے حاضرین کو متاثر کیا۔ محکمہ تعلیم کے افسران، اساتذہ، سول سوسائٹی، میڈیا نمائندگان، اور طلباء کے والدین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

    اس تقریب میں اسکول کے سابق طلباء کی خدمات کو سراہا گیا، جنہوں نے ملک اور بیرون ملک مختلف شعبوں میں اپنی قابلیت کا لوہا منوایا۔ ان میں شامل ہیں: احمد ندیم قاسمی (شاعر و ادیب)، سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل جاوید اشرف قاضی، سابق گورنر سندھ لیفٹیننٹ جنرل معین الدین حیدر، سابق وزیر و رکن قومی اسمبلی ملک محمد اسلم خان، سابق ایئر مارشل شفیق حیدر، معروف نعت گو شاعر انوار فیروز مرحوم، اور کئی دیگر نمایاں شخصیات۔

    پرنسپل محمد عارف نے صد سالہ تقریب کے انعقاد پر سابق طلباء کا شکریہ ادا کیا اور اسکول کی تعلیمی کامیابیوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ گورنمنٹ اسکولز میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء کو اپنی جیب سے ایک لاکھ روپے انعام دیں گے۔

    اسکول میں جدید آئی ٹی لیب اور جمناسٹک کی سہولت موجود ہے۔ پنجاب کے واحد باسکٹ بال گراؤنڈ کی تعمیر اپنی مدد آپ کے تحت مکمل کی گئی ہے۔ اسکول کے طلباء نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں۔

    برطانوی دور میں 1924 میں یہ ادارہ قائم ہوا اور وقت کے ساتھ مختلف ارتقائی مراحل سے گزرتا ہوا ایک معیاری درسگاہ بن گیا۔ اس کی پرانی عمارت ایک نایاب تاریخی ورثہ تھی، جو نئی عمارت کی تعمیر کے دوران منہدم کر دی گئی۔

    تقریب کے اختتام پر شرکاء کے اعزاز میں ظہرانہ دیا گیا اور نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلباء کو انعامات دیے گئے۔ لیفٹیننٹ جنرل طاہر محمود قاضی نے اعلان کیا کہ وہ ہر سال اعلیٰ کارکردگی کے حامل طلباء کو ٹرافی دیں گے۔

  • سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور،ایک المناک یاد اور عزم کا عہد

    سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور،ایک المناک یاد اور عزم کا عہد

    سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور،ایک المناک یاد اور عزم کا عہد
    تحریر:شاہد نسیم چوہدری
    16 دسمبر 2014 کی صبح، پشاور کی سرزمین نے ایک ایسا دردناک سانحہ دیکھا، جس کی گونج نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں محسوس کی گئی۔ آرمی پبلک سکول جو بچوں کے خوابوں اور مستقبل کی تعمیر کا مرکز تھا، اس دن دہشتگردی کا نشانہ بنا۔ اس اندوہناک واقعے نے پاکستان کی تاریخ میں ایک ایسا باب رقم کیا جو ہمیشہ دلوں کو دہلا دینے اور آنکھوں کو نم کرنے والا رہے گا۔

    پاکستان ایک طویل عرصے سے دہشتگردی کا شکار رہا ہے۔ 2000 کی دہائی سے دہشتگردوں نے نہ صرف ریاستی اداروں بلکہ عوام خصوصاً معصوم بچوں کو بھی نشانہ بنایا۔ سانحہ آرمی پبلک اسکول دہشتگردوں کی ایک بزدلانہ کارروائی تھی، جس کا مقصد ملک کے مستقبل کو تاریک کرنا تھا۔

    اس دن سات دہشتگردوں نے اسکول پر حملہ کیا۔ تقریباً نو گھنٹوں تک جاری رہنے والے اس قیامت خیز واقعے میں 132 معصوم طلباء اور 17 اساتذہ و عملے کے ارکان شہید ہوئے۔ سانحہ کی سب سے المناک بات یہ تھی کہ معصوم بچے جو صرف علم حاصل کرنے کے لیے سکول آئے تھے، بے دردی سے شہید کر دیے گئے۔ ان کا خون پورے معاشرے کو جھنجوڑ کر رکھ گیا۔

    سانحہ کے بعد شہید ہونے والے بچوں کے والدین نے صبر، حوصلے اور عزم کا مظاہرہ کیا جو ناقابل فراموش ہے۔ ان والدین نے اپنے غم کو طاقت میں بدل کر قوم کو یاد دلایا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ جاری رکھنی ہوگی۔ بہت سے والدین نے اپنی زندگی اس مشن کے لیے وقف کر دی کہ معصوم جانیں دوبارہ ضائع نہ ہوں۔

    اس سانحے نے واضح کر دیا کہ دہشتگردوں کا اصل ہدف تعلیم ہے۔ وہ جانتے تھے کہ تعلیم یافتہ نسل ہی وہ ہتھیار ہے جو انہیں شکست دے سکتی ہے۔ آرمی پبلک اسکول کے بچوں نے علم حاصل کرنے کی قیمت اپنی جانوں سے چکائی لیکن ان کی قربانی نے اس بات کو یقینی بنایا کہ تعلیم کے چراغ کبھی بجھنے نہ پائیں گے۔

    سانحہ آرمی پبلک اسکول کے بعد پوری قوم نے ایک عزم کیا کہ دہشتگردی کے خلاف یکجہتی سے لڑا جائے گا۔ اس واقعے کے بعد قومی ایکشن پلان تشکیل دیا گیا، جس کے تحت فوجی آپریشنز، انٹیلیجنس شیئرنگ اور دہشتگرد تنظیموں کے خلاف سخت اقدامات کیے گئے۔

    تعلیم کے تحفظ، قومی ہم آہنگی اور دہشتگردی کے خلاف یکجہتی کے لیے اس واقعے سے کئی سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ سانحہ ایک ایسا زخم ہے جو کبھی نہیں بھر سکے گا لیکن یہ زخم ہمیں یاد دلاتا رہے گا کہ ہمیں اپنے بچوں کے خون کا قرض چکانا ہے۔ یہ قرض اس وقت چکایا جا سکتا ہے جب ہم پاکستان کو ایک ایسا ملک بنا دیں جہاں نہ صرف تعلیم کا حصول ممکن ہو بلکہ ہر بچے کی زندگی اور خواب محفوظ ہوں۔

    ان معصوم شہداء کے لیے ہمارا سب سے بڑا خراج تحسین یہ ہوگا کہ ہم اپنے وطن کو دہشتگردی سے پاک کر کے ان کے خوابوں کو حقیقت میں بدلیں۔ ان بچوں کی قربانی ہمیں تعلیم، امن اور تحفظ کے قیام کا پابند کرتی ہے۔ یہ سانحہ ہمیشہ قوم کو دہشتگردی کے خلاف متحد رہنے کی یاد دلاتا رہے گا۔

  • میرا تن من نیلو نیل ! تحریر:ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

    میرا تن من نیلو نیل ! تحریر:ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

    مغل پورہ لاہور میں قتل ہونے والی انیقہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آچکی ہے ۔ سر سے پاؤں تک جسم مضروب ہے ۔ پڑھ کر دل دہل جاتا ہے کہ مرنے سے پہلے ہی انیقہ کا جسم بری طرح ٹوٹ پھوٹ چکا تھا ۔
    چکوال میں مرنے والی پروین کا جسم ضربات کی شدت سے نیلا اور پانی میں رہنے کی وجہ سے پھول چکا تھا ۔
    بھائی کے ہاتھوں تکیہ منہ پہ رکھ کر مرنے والی ارم کی زبان پھول کر منہ سے باہر نکل آئی تھی ۔
    ڈاکٹر سدرہ کا بھیجا کھوپڑی میں گولی لگنے کی وجہ سے سوراخ سے باہر بہہ نکلا تھا ۔
    ڈسکہ میں سسرال کے ہاتھوں مرنے والی زارا کا سر کہیں تھا ، ہاتھ اور پاؤں کہیں ۔ ہر ٹکڑا چھرے سے کاٹ کر علیحدہ کیا گیا تھا ۔
    ملتان میں پنکھے سے لٹکائی جانے والی بیٹی کا جسم تو مضروب تھا ہی گلا بھی دوپٹے کے نشان سے نیلا پڑ چکا تھا ۔
    گجرات میں ڈنڈے کی شدید ضربات سے حاملہ بیوی کی سب ہڈیاں چکنا چور تھیں ۔ وجہ بیوی کے پیٹ میں بچی کا موجود ہونا تھا ۔

    یہ کچھ عورتیں ہیں جن کا قتل منظر عام پہ آیا ۔ نہ جانے ان جیسی کتنی گمنام رہتے ہوئے لحد میں اتر گئیں اور کوئی جان ہی نہ سکا کہ ان کے جسم کہاں کہاں سے لہولہان ہوئے ۔
    پھر ہم سے سوال پوچھا جاتا ہے کہ ایک آدھ کیس ہو جاتا ہے اور آپ تمام مرد برادری کو ذمہ دار کیوں ٹھہراتی ہیں ؟ کیا نیک فطرت مردوں کا کال پڑ گیا ؟
    ہم تلخ ہنسی ہنستے ہوئے کہتے ہیں ، بےشک سب مرد ایسے نہیں ہوتے مگر ہر بار ایک مرد ہی تو ہوتا ہے ۔
    لیکن ہمارا بھی ایک سوال ہے ؟
    ہمیں پوچھنا ہے سب مردوں سے کہ گھریلو تشدد کے سلسلے میں وہ لکیر کے کس طرف کھڑے ہیں ؟ مخالفت ؟ موافقت ؟
    اگر آپ گھریلو تشدد کے مخالفین میں سے ہیں تو آپ اس کے خاتمے کے لیے کیا سوچتے ہیں ؟ آپ کا کردار اس میں کیا ہونا چاہیے ؟
    اور اگر آپ گھریلو تشدد کے حق میں ہیں تو کیا کبھی تجربہ کرنا چاہیں گے کہ جسم پہ ایک بھی ضرب لگے تو جسم کا کیا حال ہوتا ہے ؟ آپ اس کو جسٹفائی کیسے کرتے ہیں ؟ اگر آپ کی بیٹی اور بہن اس کا شکار بنیں تب آپ کا ردعمل کیا ہو گا ؟ کیا آپ کو دوسرے انسانوں پہ ہوتا ظلم مضطرب نہیں کرتا ؟
    اور اگر آپ نہ مخالف ہیں نہ موافق اور اس قضیے سے لاتعلق رہتے ہوئے ایک طرف ہو کر زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو تب آپ منافقین میں گنے جائیں گے کیونکہ ہر زندہ روح کی ایک رائے ، کردار اور فرض ہوتا ہے جو معاشرے کی بقا کے لیے ضروری ہوتا ہے ۔
    آپ کو جاننا چاہیے کہ یہ مسلہ مرد و عورت کا ہے ہی نہیں ، یہ طاقت اور اس کے استعمال سے حاصل ہونے والی اتھارٹی کی بھوک ہے جو اپنے سے کمزور کو گھائل کر کے اپنے دانت تیز کرتی ہے ۔ معاشرے میں عورت کمزور ترین طبقہ ہے جس کے گرد شکنجہ کسنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی ۔ عورت کا قتل معاشرے کے گدلے جوہڑ میں کچھ دن کے لیے ارتعاش پیدا کرتا ہے اور پھر خاموشی چھا جاتی ہے جب تک ایک اور نہ ماری جائے ۔
    انصاف کی تلاش میں ورثا عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں ۔ تاریخ پہ تاریخ پڑتی ہے ، ضمانتیں ہوتی ہیں اور فائلیں شب وروز کی گرد
    دبتی چلی جاتیں ہیں ۔ نہ قانون بدلتا ہے نہ لوگ بدلتے ہیں اور نہ ہی ریاست عورتوں کے سر پہ دست شفقت رکھنے کو تیار ہوتی ہے ۔
    حل کیا ہے ؟
    معاشرے کا ہر فرد اس کے متعلق نہ صرف آگہی رکھے بلکہ اس کو انتہائی برا سمجھتے ہوئے اس کے خلاف آواز اُٹھائے ۔ آوازوں کا قافلہ بنے جو نہ صرف دھرتی کو ہلائے بلکہ آسمان میں بھی شگاف ڈال دے ۔ یہ وقت کی ضرورت ہے ، انسانیت کا تقاضا ہے کہ عدم سے آنے والی روحوں کو کسی خانے میں تقسیم نہ کیا جائے اور طاقتور جسم ، کمزور جسم کو ملیامیٹ کرنے کی خواہش سے باز رہے ۔
    دنیا تب ہی گلزار ہو گی !

  • "ہمسفر کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کریں”تحریر:آمنہ

    "ہمسفر کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کریں”تحریر:آمنہ

    ہمارے قریبی ہیں ٖ میاں بیوی میں تعلقات اچھے نہیں تھے ٖ ناراضگی اتنی تھی کہ سالوں تک بچوں نے باپ کی شکل نا دیکھی ٖ وہ ماں کے پاس رہے ٖتقریباً پندرہ سال بعد باپ کے انتقال کی خبر آئی ٖ تب بچے جنازے پر گئے
    میرے ذہن سے بات ہی نہیں نکل رہی کہ باپ کو سالوں بعد اس طرح دیکھ کر بچوں کے دل پر کیا گزری ہوگی ٖ ملاقات ہوئی بھی تو وہ باپ سے بات نا کر سکے ٖ اسے گلے نا لگا سکے ٖ یہ کمی اور خالی پن اب ساری زندگی ان کے دل میں رہے گا وہ اس آخری چہرے کو کبھی بھول نہیں پائیں گے ٖ شاید اس وقت انہیں احساس ہوا ہوگا کہ ہمارا کیا نقصان ہوا ہے ٖ
    کیا ہوا ٖ کس کا قصور تھا ٖ کون وجہ بنا ٖ وہ ساری باتیں تو اب ختم ہوگئی نا ٖ
    میاں بیوی کا رشتہ بچوں کے بعد صرف ان دونوں کا نہیں رہتا ٖ اس میں بہتری یا بگاڑ بچوں میں برابر تقسیم ہوتا ہے ٖ آپس میں جتنے مرضی اختلافات ہوں ٖ بچوں کے ذہنوں میں گندگی نہیں بھرنی چاہیے ٖ ماں باپ جیسا رشتہ بچوں کی زندگی میں بہ
    ت اہمیت رکھتا ہے ٖ دونوں میں سے کسی ایک کو بھی یہ حق نہیں ہوتا کہ وہ بچوں کو اس سے محروم کرے ٖ
    آپ کے لڑائی جھگڑوں میں آپ ٖ بچوں کا بچپن ٖ انکی معصومیت چھین لیتے ہیں ٖ پھر انا اور ضد کی خاطر بچوں کے ذہنوں کو تار تار کر دیتے ہیں ٖ انکی شخصیت میں کبھی نا بھرنے والا خلا چھوڑ دیتے ہیں ٖ
    اسلئے چاہے مرد ہو یا عورت ہمسفر کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کریں ٖ
    ہمارا رشتہ سسٹم بھی عجیب ہے ٖ پورا خاندان رشتہ دیکھنے چلا جاتا ہے ٖ لیکن جن دو لوگوں نے آپس میں زندگی گزارنی ہوتی ہے انہیں موقع ہی نہیں ملتا کہ بات کر سکیں ٖ
    بیشک یہ نصیب کی بات ہے ٖ لیکن پھر بھی اس رسک کو کافی حد تک کم کیا جاسکتا ہے ٖ بیٹھ کر ایک دوسرے کے مزاج کی بات کر لی جائے ٖ عادات کا بتا لیا جائے ٖ خیالات کا اظہار کر لیا جائے ٖ
    صبر ٖ برداشت ٖ ساتھ اور وفا پر بات کر لی جائے ٖ تا کہ اندازہ ہوجائے سامنے والا انسان کس طبیعت کا مالک ہے اور ہم اس طبیعت کے ساتھ چل سکتے ہیں یا نہیں ٖ مکمل کوئی بھی نہیں ہوتا لیکن کس حد تک کمپرومائز کرنا پڑے گا ٖ اندازہ ہوجائے گا ( یہ بھی اس صورت میں ہی ممکن ہے جب سامنے والی اپنی اصلی شخصیت کو سامنے رکھے)
    رہی بات محبتوں میں ہوئی شادی کی ٖ کہ وہ بھی تو ناکام ہوتی ہیں ٖ
    تو میں اس حق میں ہوں کہ اگر آپ کو کسی سے محبت ہے تب بھی اختلافات کی گنجائش رکھیں ٖ اس بات کو بھی ذہن میں رکھیں کہ سب کچھ اچھا اچھا ہی نہیں ملے گا ٖ اگر کبھی سمجھانا ہوگا تو کسی وقت سمجھنا بھی پڑے گا ٖ کوئی بات منوانی ہے تو کبھی ماننی بھی پڑے گی ٖ کبھی معذرت بھی کرنی پڑ سکتی ہے
    ٖ وقت کے اتار چڑھاؤ میں آپ کو تحمل مزاجی سے کام لینا ہوگا ٖ محبت کا یہ مطلب نہیں ہے کہ مشکل وقت نہیں آئے گا ٖ تب آپ دونوں ایک الگ رشتے میں ہوں گے ٖ آپ کو اپنی ذات ٖ ایک دوسرے کے علاوہ ایک دوسرے کے رشتوں کو بھی دیکھنا ہوگا ٖ
    زندگی پھولوں کی سیج نہیں ہے ٖ کہیں کانٹوں سے بھی سامنا ہوسکتا ہے ٖ
    یہ محض چار دن نہیں پوری زندگی کی بات ہے ٖ
    اللہ پاک سے دعا کیا کریں وہ آپ کا نصیب کسی ظرف والے شخص سے جوڑیں ٖ کسی ایسے انسان کا ساتھ ہو جسکی قربت میں آپ زندگی کی دھوپ چھاؤں سکون سے گزار سکیں ٖ کوئی ایسا انسان جو آپ کے بچوں کا اچھا باپ یا اچھی ماں بن سکے ٖ
    ایسا جو حقیقی معنوں میں آپ کا گھر ہو ٖآمین

  • خدارا.. سیاسی قائدین پاکستان  پر رحم کریں .تجزیہ:شہزاد قریشی

    خدارا.. سیاسی قائدین پاکستان پر رحم کریں .تجزیہ:شہزاد قریشی

    ہماری قوم ہر دو چار سال بعد تبدیلی کے عمل سے گزرتی ہے یعنی انتخابات قوم اور سیاسی جماعتوں کے اتحاد ماضی میں دیکھے۔ تحریکیوں کا بھی دور دیکھا۔ پی این اے ، یو ڈی ایف ، ایم آرڈی ،ملی یکجہتی کونسل ،اسلامک فرنٹ ، اسلامی جمہوری اتحاد ، متحدہ شریعت محاذ ، تحریک نظام مصطفی ، تحریک تحفظ نبوت ، تحریک ناموس رسالتۖ ، تحریک ناموس صحابہ۔ قومی ہیروز کے کئی روپ دیکھے ، مارشل لاء دیکھے ،جمہوری حکومتیں دیکھیں۔ آمریت اور جمہوریت کو ساتھ ساتھ چلتے دیکھا۔ مگر ا فسوس نہ معیشت مستحکم ہو سکی اور نہ ہی علماء کرام آپ ۖ کی ایک حدیث مبارک پرعمل کروا سکے۔ جو ملاوٹ کرتا ہے وہ ہم میں سے نہیں ۔ ملک کے تمام صوبے ملاوٹ کی زد میں ،کھانے پینے سے لے کر ادویات تک سرے عام ملاوٹ ہو رہی ہے ۔ معیشت کا یہ عالم ہے کہ کاسہ گدائی ہاتھ میں لے کر دنیا میں گھوم رہے ہیں۔ ریاست سے محبت کا یہ عالم ہے کہ مسائل میں گری قوم کو بنگلہ دیش اور اب شام کی مثالیں دے کر خوف زدہ کیا جا رہاہ ے ۔غیر ملکی سرمایہ کاروں پر اس کے کیا اثرات پڑیں گے ، کیا کبھی کسی نے سوچا؟ ان افواہوں کا اثر ملک وقوم پر کیا پڑتا ہے ؟

    جہاں تک عرب ممالک کاتعلق ہے ، کشمیری مائوں ، بہنوں ،بچوں ،نوجوانوں اور بوڑھوں کا بھارتی افواج نے قتل عام کیا۔ عرب ممالک بھارت میں سرمایہ کاری بڑے پیمانے پر کر رہے ہیں۔ فلسطین میں کیا ہوا اور کیا ہو رہاہ ے۔ عرب ریاستیں جو اپنے پیسے کی بناء پر اُچھلتی ہیں۔وہ بھی غزہ کی صورت حال کو سامنے رکھاجائے تو ریت کی دیوار ثابت ہو رہی ہیں۔ امریکہ اورمغربی ممالک کی ترقی کا راز علم اور عمل ہے۔ یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ آج کا نوجوان طبقہ ان مفاد پرست سیاستدانوں کے ہاتھ میں کیسے چڑھ گئے جو سیاستدان کو جانتے تک نہیں یہ اپنے عزیزوں کے ساتھ بھی دست و گریبان ہو رہے ہیں۔ پاک فوج اور جملہ اداروں پر بہتان تراشیوں کے نشتر چلائے جا رہے ہیں ،جمہوریت کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ گھوڑے بے لگام ہو جائیں۔ سیاسی بداخلاقیاں ، بہتان تراشی،افوا سازی ، کیا عالمی دنیا میں پاکستان کے وقار کو نقصان نہیں پہنچا رہی ؟ سیاسی قائدین اس ملک پر رحم کریں ۔ اس ملک کے وقار میں اضافہ کریں۔ اپنے ذاتی مفادات ، اختیارات اور پروٹوکول کی خاطر ملکی وقار کو دائو پر لگانے سے گریز کریں

  • ہم جنس پرست امریکی سے اب پی ٹی آئی کو امیدیں

    ہم جنس پرست امریکی سے اب پی ٹی آئی کو امیدیں

    پاکستان کی سیاست میں اکثر نئے بیانیے اور تبدیلی کی باتیں کی جاتی ہیں، لیکن جب حقیقت کی گہرائی میں جایا جاتا ہے تو سامنے ایک تلخ اور بدبودار سچائی آتی ہے۔ "امریکی غلامی نا منظور” کا نعرہ لگانے والی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) آج کس قدر بدلے ہوئے حالات میں ہے، یہ ایک افسوسناک حقیقت ہے۔ پی ٹی آئی، جو کبھی خودمختاری اور غیرت کی باتیں کرتی تھی، آج اس حد تک گر چکی ہے کہ وہ اپنے ہی نعروں کا مذاق اُڑا کر انہیں دھوکہ دینے والے عناصر کے سامنے جھکنے پر مجبور ہو گئی ہے۔

    آج سے چند سال قبل، جب پی ٹی آئی نے "امریکی غلامی نہیں منظور” کے نعرے بلند کیے تھے، تو اُس وقت جماعت نے خود کو قوم کی آواز اور آزادی کا علمبردار تصور کیا تھا۔ لیکن اب یہ جماعت اپنے سابقہ دعووں اور نعروں سے مخلص نہیں رہی۔ اسے یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ آج پی ٹی آئی کی قیادت ایسی شخصیات کے دربار میں جا کر مدد کی بھیک مانگ رہی ہے، جو کبھی خود اس کے مذموم بیانیے کا حصہ تھے۔رچرڈ گرینل ایک ایسا نام ہے جو سیاست، سفارتکاری، اور متنازعہ بیانات کے لحاظ سے خاصا معروف ہے۔ وہ ایک امریکی سفارتکار ہیں، جن کا ماضی کئی سیاسی و اخلاقی معاملات میں الجھا ہوا ہے۔ گرینل کا تعلق ایک ایسے شخص سے ہے جو اپنی ذاتی زندگی کے حوالے سے بھی متنازعہ رہا ہے، اور اس کے جنسی رجحانات بھی اس کی سیاست میں ایک اہم عنصر بن چکے ہیں۔یہ وہی رچرڈ گرینل ہیں جنہوں نے ہم جنس پرستی کے عالمی پرچار میں نمایاں کردار ادا کیا اور خود کو سرٹیفائیڈ ہم جنس پرست کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا۔ گرینل نے جرمنی میں اپنی تعیناتی کے دوران نہ صرف سفارتی اصولوں کی پامالی کی بلکہ اپنی غیر اخلاقی حرکات سے بھی کئی بار شہرت پائی۔ ایسے شخص کے ساتھ سیاسی تعلقات قائم کرنا پی ٹی آئی کے لیے نہ صرف ایک اخلاقی دھچکا ہے، بلکہ اس سے اس جماعت کی خودمختاری اور آزادی کے دعووں کی قلعی بھی کھل گئی ہے۔

    جو جماعت کبھی خودمختاری اور غیرت کی دعویدار تھی، وہ آج اس قدر گر چکی ہے کہ وہ ایک ایسے شخص کے سامنے جھک رہی ہے جو نہ صرف ان کے نعروں کا مذاق اُڑاتا ہے، بلکہ ان کے سیاسی و اخلاقی نظریات کے بھی مخالف ہے۔ یہ حقیقت ایک تلخ حقیقت ہے کہ پی ٹی آئی، جو کبھی "امریکی غلامی نہیں منظور” کے نعرے بلند کرتی تھی، آج اپنے ہی نعرے کو نظرانداز کر کے امریکہ کے ایک متنازعہ سفارتکار سے مدد کی درخواست کر رہی ہے۔اس صورتحال سے واضح ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کی سیاست میں تبدیلی نہیں آئی بلکہ اس نے اپنے نظریات، بیانیے، اور عوامی حمایت کے ساتھ کھلواڑ کیا ہے۔ آج پی ٹی آئی کا دعویٰ "نیا پاکستان” بنانا ہے، لیکن حقیقت میں یہ ایک "سیاسی منافقت کا شاہکار” بن چکا ہے۔پاکستان کی سیاست میں ایک نیا بیانیہ اور تبدیلی کی بات کی جاتی ہے، لیکن جب ہم پی ٹی آئی کی موجودہ پوزیشن کو دیکھتے ہیں تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ جماعت نے اپنے اصولوں اور مفادات کی خاطر اپنے عوامی نعرے کو قربان کر دیا ہے۔ اب پی ٹی آئی کا نیا پاکستان "سیاسی منافقت” کا نمونہ بن چکا ہے، جہاں پر کسی بھی اصول یا نظریے کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔

    اگر پی ٹی آئی کی قیادت نے اپنے پچھلے بیانیے کو نظرانداز کر کے رچرڈ گرینل جیسے متنازعہ شخص کے ساتھ تعلقات قائم کیے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے عوام کے مفادات سے زیادہ ذاتی مفادات کی فکر کر رہی ہے۔ یہ سیاسی منافقت ہی ہے جس کی وجہ سے عوام کا اعتماد ٹوٹ رہا ہے اور وہ سوالات اٹھا رہے ہیں کہ آخرکار پی ٹی آئی کے نظریات کہاں گئے؟آج پی ٹی آئی نے جو راستہ اختیار کیا ہے، وہ صرف اس کے سیاسی مفادات کو بڑھا رہا ہے لیکن اس سے اس جماعت کی اخلاقی اور نظریاتی بنیادیں متزلزل ہو چکی ہیں۔ "امریکی غلامی نہیں منظور” کا نعرہ لگانے والی پی ٹی آئی آج امریکہ کے ایک متنازعہ سفارتکار کے سامنے جھک کر اپنی بے عزتی کروا رہی ہے۔اس صورتحال نے اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ سیاست میں اصول اور نظریات کی حقیقت محض ایک دکھاوا ہوتی ہے، جب تک کہ وہ شخص اپنے مفاد میں نہ ہوں۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ جو جماعت عوامی حمایت اور آزادی کے نعرے لگاتی ہے، وہ بھی وقت کے ساتھ اپنے اصولوں سے سمجھوتہ کر لیتی ہے، جب وہ اقتدار کے حصول کے قریب پہنچتی ہے۔

    عمران کی رہائی کا مطالبہ کرنیوالا،ہم جنس پرست رچرڈ گرینل ٹرمپ کا ایلچی مقرر

    پنجاب کو دنیابھرکےلیےتجارت اورسرمایہ کاری کا مرکز بنائیں گے،مریم نواز

    ہم جنس پرستی بارے گفتگو پر یونائیٹڈ ایئر لائن کا فلائٹ اٹینڈنٹ برطرف

    پی ٹی آئی کا ناروے کی ہم جنس پرستی کی حامی پارٹی سے رابطہ

    ڈیٹنگ ایپس،ہم جنس پرستوں کے لئے بڑا خطرہ بن گئیں

    ہم جنس پرستی کلب کے قیام کی درخواست پر ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کا ردعمل

  • یورپ کے خواب اور موت کے راستے، ذمہ دار کون؟

    یورپ کے خواب اور موت کے راستے، ذمہ دار کون؟

    یورپ کے خواب اور موت کے راستے، ذمہ دار کون؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    آج صبح جب ایک نیوز چینل کی ویب سائٹ کھولی تو صفحۂ اول پر ایک دلخراش خبر موجود تھی، جس کے مطابق یونان میں تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے سے 5 افراد ہلاک ، 40 لاپتہ ہو گئے اور اور 39 کو بچا لیا گیا ، کشتی میں سوار زیادہ تر افراد کا تعلق پاکستان سے تھاجو بہتر زندگی کے خواب دیکھتے ہوئے موت کے منہ میں چلے گئے۔ یہ حادثہ ان المناک کہانیوں کی ایک کڑی ہے جو ہر سال سینکڑوں پاکستانی خاندانوں کو غم میں مبتلا کر دیتی ہیں۔

    یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے گذشتہ سال بھی اٹلی کے قریب کشتی الٹنے کے المناک حادثے میں 30 سے زائد پاکستانی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ اس حادثے کے بعد بھی پاکستانی نوجوانوں کی بڑی تعداد خطرناک راستے اختیار کرنے سے باز نہیں آئی۔ انسانی اسمگلنگ مافیا کے جھوٹے وعدے اور بہتر مستقبل کی جھوٹی امیدیں نوجوانوں کو ایسے فیصلے کرنے پر مجبور کرتی ہیں جو ان کی زندگی کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔

    پاکستانی نوجوانوں کے غیر قانونی طور پر یورپ جانے کے رجحان کے پیچھے کئی وجوہات ہیں۔ سب سے پہلے ملک میں بے روزگاری کی شدت ہے۔ معیشت کی سست رفتاری اور روزگار کے محدود مواقع نوجوانوں کو اس بات پر مجبور کرتے ہیں کہ وہ کسی بھی طرح بہتر زندگی کی تلاش میں نکلیں۔ غربت اور معاشی بدحالی ان کے فیصلے پر مزید دباؤ ڈالتی ہیں کیونکہ خاندان کی کفالت کے لیے وہ کسی بھی خطرے کا سامنا کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔

    تعلیم اور مہارت کی کمی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ مناسب تعلیم اور ہنر کی عدم موجودگی کی وجہ سے نوجوان قانونی ذرائع سے بیرون ملک جانے میں ناکام رہتے ہیں۔ وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں کہ ہنر اور تعلیم کے بغیر کسی بھی ملک میں بہتر زندگی حاصل کرنا ایک خواب ہی رہ جاتا ہے۔

    یورپ کے بارے میں پھیلائے گئے غلط تصورات بھی اس المیہ کی ایک بڑی وجہ ہیں کیونکہ نوجوانوں کو یہ بتایا جاتا ہے کہ یورپ میں سب کچھ آسان اور پرتعیش ہے۔ اس خیالی جنت کا خواب دیکھتے ہوئے وہ انسانی اسمگلنگ مافیا کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔ یہ اسمگلرز انہیں یقین دلاتے ہیں کہ وہ محفوظ طریقے سے انہیں یورپ پہنچا دیں گے حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔

    معاشرتی دباؤ بھی ان فیصلوں کو مزید تقویت دیتا ہے۔ خاندان اور معاشرت کی جانب سے زیادہ پیسے کمانے اور معیارِ زندگی بلند کرنے کا دباؤ نوجوانوں کو ان خطرناک راستوں پر چلنے پر مجبور کرتا ہے۔ اس کے علاوہ قانونی سفری ذرائع کی مشکلات اور کرپشن نوجوانوں کو غیر قانونی ذرائع اپنانے پر مجبور کرتی ہیں۔

    ملکی نظام پر عدم اعتماد اور سماجی مساوات کی کمی بھی اس مسئلے کو گمبھیر بناتی ہیں۔ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور امیر و غریب کے درمیان فرق نوجوانوں میں مایوسی کو بڑھا دیتا ہے۔ ملک میں جاری سیاسی عدم استحکام اور امن و امان کی خراب صورتحال نوجوانوں کو یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ ان کے مسائل کا واحد حل بیرون ملک جانا ہے۔

    اس صورتحال کی شدت کا اندازہ خیبرپختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم کے حالیہ بیان سے بھی لگایا جاسکتا ہے، جس میں انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو سالوں میں 18 لاکھ پاکستانی ملک چھوڑ چکے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ حکومت کی ناکام معاشی پالیسیوں کی وجہ سے غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ صنعتی ترقی صفر فیصد ہے اور بیرونی سرمایہ کاری تاریخی طور پر کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ لوگ بہتر زندگی کی تلاش میں ملک چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

    ان وجوہات کے تدارک کے لیے حکومت کو فوری اقدامات کرنے ہوں گے۔ سب سے پہلے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے صنعتی اور تجارتی منصوبوں میں سرمایہ کاری ضروری ہے۔ معیاری تعلیم اور مہارت کے پروگراموں کا انعقاد نوجوانوں کو قانونی طریقے سے آگے بڑھنے کے لیے تیار کر سکتا ہے۔

    قانونی سفری سہولیات کو آسان اور شفاف بنانا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ نوجوانوں کو غیر قانونی ہجرت کے خطرات سے آگاہ کرنے کے لیے شعور بیدار کرنے کی مہمات چلائی جانی چاہییں۔ انسانی اسمگلنگ کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور ایسے مافیا کے خلاف ایف آئی اے کو مزید متحرک کیا جائے۔

    معاشی مساوات کو فروغ دینے کے لیے وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانا ہوگا۔ اس کے علاوہ نوجوانوں کو اپنے ملک میں ہی بہتر مواقع فراہم کرنے کے لیے سیاسی اور سماجی استحکام پر کام کرنا ہوگا۔ یہ سب اقدامات اس بات کو یقینی بنا سکتے ہیں کہ ہمارے نوجوان اپنے خوابوں کی تکمیل کے لیے اپنی جانیں خطرے میں نہ ڈالیں۔

    یہ المناک حادثے اور ان کی بڑھتی ہوئی تعداد ہماری اجتماعی ناکامی کی عکاس ہیں، یورپ کے ان پرخطر راستوں پر چلنے والے نوجوانوں کے خوابوں کے پیچھے بے روزگاری، غربت اور ناکام حکومتی پالیسیاں ہیں جبکہ انسانی اسمگلنگ مافیا ان کا فائدہ اٹھا رہا ہے۔ یہ وقت ہے کہ حکومت، معاشرہ اور خاندان مل کر اس مسئلے کو جڑ سے ختم کرنے کی کوشش کریں۔ نوجوانوں کو روزگار، تعلیم اور قانونی مواقع فراہم کیے بغیر ان کے خوابوں کو حقیقت میں بدلنا ممکن نہیں۔

    اگرحکومت نے اس مسئلے کا حل تلاش نہ کیا تو یہ المیے ہمارے معاشرتی ڈھانچے کو مزید کمزور کریں گے۔ لہٰذا یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ قوم کے نوجوانوں کے مسائل کو حل کرے اور نوجوانوں کو ان کی منزل تک پہنچنے کے لیے محفوظ اور قانونی راستے فراہم کرے۔

  • فرینڈز آف پولیس

    فرینڈز آف پولیس

    فرینڈز آف پولیس
    تحریر: ملک امان شجاع

    صوبہ پنجاب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ موجودہ صوبائی حکومت نے محکمہ پولیس اور عوام کے درمیان بہتر تعلقات کے فروغ اور پولیس قوانین کی آگاہی کے لیے "فرینڈز آف پولیس” پروگرام کا اجراء کیا ہے، جس کے تحت پڑھے لکھے نوجوانوں کو پولیس قوانین و دیگر عوامل سے متعلق جامع تربیت دی جاتی ہے تاکہ وہ معاشرے میں پنجاب پولیس کا مثبت چہرہ پیش کر سکیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب اور آئی جی پولیس پنجاب کے ویژن کو ڈی پی او اٹک ڈاکٹر سردار غیاث گل خان عملی جامہ پہناتے نظر آتے ہیں۔

    ان کی قیادت میں ڈی پی او آفس اٹک میں "فرینڈز آف پولیس” پروگرام کے تحت ٹریننگ کے متعدد سیشن مکمل ہو چکے ہیں، جن میں سینکڑوں تعلیم یافتہ نوجوانوں کو ٹریننگ کے بعد تربیتی سرٹیفکیٹ فراہم کیے گئے ہیں۔ یہ تربیت یافتہ نوجوان محکمہ پولیس کے دست و بازو بن کر مستقبل میں معاشرے کے لیے بہتر خدمات انجام دیں گے اور محکمہ پولیس کے معاون کا کردار ادا کریں گے۔

    گزشتہ دنوں بھی ڈی پی او اٹک کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں "فرینڈز آف پولیس سیمینار” کا انعقاد کیا گیا، جس میں گورنمنٹ ٹیکنیکل کالج اٹک کے سٹاف، طلباء اور طالبات نے بھرپور شرکت کی۔ سینئر پروفیسر ملک ماجد خان کی قیادت میں طلبہ و طالبات نے سیمینار میں گہری دلچسپی لیتے ہوئے قانونی معاملات، پولیسنگ میں استعمال ہونے والی جدید ایپس اور ٹیکنالوجی، کمیونٹی پولیسنگ، اور پولیس کی جانب سے عوام و الناس کو دی جانے والی سہولیات کے متعلق مؤثر معلومات حاصل کیں۔

    طلبہ و طالبات کو اقلیتوں، خواتین اور ٹرانس جینڈر کے حقوق کی پاسداری کے ساتھ ساتھ ٹریفک قوانین سے آگاہی کے لیکچرز بھی دیے گئے اور سیف سٹی اٹک کا دورہ بھی کروایا گیا۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر اٹک، ڈاکٹر سردار غیاث گل خان نے تمام امیدواروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "فرینڈز آف پولیس” کا مقصد پولیسنگ کو سمجھنا اور اس سے آگاہی حاصل کرکے فائدہ اٹھانا ہے۔ آپ لوگ پولیس اور عوام کے درمیان فاصلوں کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ پولیس کے مثبت امیج کو اجاگر کرکے عوام دوست ماحول قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا جا سکتا ہے۔

    تقریب کے اختتام پر ڈی پی او اٹک نے امیدواروں کو "فرینڈز آف پولیس” کے بیجز لگائے اور ٹریننگ سرٹیفکیٹ بھی دیے۔ ڈی پی او اٹک نے اس موقع پر کہا کہ شہری اپنی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے محکمہ پولیس سے تعاون کریں تو جرائم کا مکمل خاتمہ ممکن ہے۔

  • مایوسی گناہ ہے، امید کو زندہ رکھیں

    مایوسی گناہ ہے، امید کو زندہ رکھیں

    آرمی چیف کا پیغام قوم کے نام…
    Never Ever Lose Hope (مایوسی گناہ ہے، امید کو زندہ رکھیں)
    تحریر:شاہد نسیم چوہدری
    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا یہ پیغام کہ "مایوسی گناہ ہے، امید کو زندہ رکھیں” نہ صرف موجودہ حالات میں قوم کے لیے حوصلے اور رہنمائی کا ذریعہ ہے بلکہ اسلامی تعلیمات اور ہماری قومی تاریخ کے مطابق بھی ایک اہم پیغام ہے۔ یہ پیغام قوم کے لیے روشنی کی کرن ہے، جو مشکل حالات میں اتحاد اور عزم کے ساتھ آگے بڑھنے کی تاکید کرتا ہے۔

    مایوسی ایک ایسی کیفیت ہے جو انسان کے اندر موجود قوتِ عمل کو ختم کر دیتی ہے۔ یہ نہ صرف فرد کی ذاتی زندگی پر منفی اثر ڈالتی ہے بلکہ اجتماعی طور پر پوری قوم کو کمزور کر سکتی ہے۔ جب ایک قوم کے افراد مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں تو وہ ترقی، اتحاد اور قربانی کے جذبے سے محروم ہو جاتے ہیں۔

    امید انسان کے اندر وہ طاقت پیدا کرتی ہے جو اسے مشکل سے مشکل حالات کا سامنا کرنے کی قوت عطا کرتی ہے۔ امید نہ صرف ذہنی سکون کا باعث بنتی ہے بلکہ یہ انسان کو نئے مواقع تلاش کرنے اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے پر بھی مائل کرتی ہے۔

    اسلام میں امید کو ایمان کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا "اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ہمیشہ امید رکھو اور اس کے فضل کے طالب رہو۔”

    آج کے دور میں ہم ایک ایسی دنیا میں رہ رہے ہیں جہاں ہر طرف سے منفی خبریں اور مایوسی کے پیغام سننے کو ملتے ہیں۔ لیکن ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ مایوسی اسلام میں گناہ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ کسی بھی خبر کو آگے بڑھانے سے پہلے اس کی تحقیق کریں۔

    قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
    "اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لو، ایسا نہ ہو کہ تم نادانی میں کسی قوم کو نقصان پہنچا بیٹھو اور بعد میں تمہیں اپنے کیے پر ندامت ہو۔”
    (سورہ الحجرات: 6)
    یہ آیت ہمیں ایک سبق دیتی ہے کہ افواہوں اور غیر مصدقہ خبروں سے گریز کریں اور ہمیشہ حقائق کی بنیاد پر بات کریں۔

    آرمی چیف سید عاصم منیر نے قوم کو پیغام دیتے ہوئے مزید کہا ہے کہ
    آج پاکستان کو اتحاد کی ضرورت ہے، نہ کہ سیاست اور اختلافات کے ذریعے تقسیم ہونے کی۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اختلافِ رائے ضرور ہو سکتا ہے لیکن یہ اختلاف نفرت کا باعث نہ بنے۔ ہمیں اپنی قوم کے بہتر مستقبل کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا۔

    پاکستانی عوام کو بچانے کے لیے ہمیں اپنے دلوں میں محبت اور قوم کی خدمت کا جذبہ پیدا کرنا ہوگا۔ ہر فرد اپنی ذمہ داری سمجھے اور اپنے کردار کے ذریعے ایک مضبوط اور خوشحال پاکستان کی بنیاد رکھے۔

    آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کہا ہے کہ آزادیٔ اظہار کو قواعد و ضوابط کا پابند کیے بغیر استعمال کرنا معاشرتی اخلاقیات کی گراوٹ کا باعث بن رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی مہذب اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد صرف آزادی ہی نہیں، بلکہ اس کے ساتھ ذمہ داری کا شعور بھی ہے۔

    آزادیٔ اظہار ایک قیمتی نعمت ہے لیکن اگر اسے حدود اور اصولوں کے دائرے میں نہ رکھا جائے تو یہ معاشرتی بگاڑ کا سبب بن سکتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اس آزادی کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کریں اور اسے مثبت اور تعمیری مقاصد کے لیے بروئے کار لائیں۔

    آئیے، ہم سب مل کر اپنی اخلاقی اور معاشرتی اقدار کو مضبوط کریں اور اپنی آزادیٔ اظہار کو معاشرے کی بہتری اور فلاح کے لیے استعمال کریں۔ یہی ایک مہذب اور پرامن معاشرے کی حقیقی پہچان ہے۔

    پاک فوج اپنے فرض پر پورا اُترتی ہے۔ پاک فوج قوم نے اس ملک کو مزید محفوظ بنانا ہے اور ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل کرنا ہے۔ نوجوانوں کی انتھک محنت رنگ لائے گی اور پاکستان ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہوگا۔

    پاکستان کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ہم نے ہر مشکل وقت میں اپنے حوصلے سے کامیابی حاصل کی ہے۔ 1965 کی جنگ میں، جب دشمن نے ہم پر حملہ کیا تو پوری قوم ایک سیسہ پلائی دیوار بن گئی۔ اسی طرح 2008 کے زلزلے اور 2010 کے سیلاب کے دوران عوام نے جس طرح مشکل حالات کا سامنا کیا وہ ہماری امید اور اتحاد کی بہترین مثالیں ہیں۔

    یہی امید کا جذبہ ہمیں قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں آزادی کی جدوجہد میں بھی نظر آتا ہے۔ قائداعظم نے ہمیشہ قوم کو یقین دلایا کہ مسلمان ایک عظیم قوم ہیں اور انہیں اپنی منزل حاصل کرنے سے کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔

    یہ وقت ہے کہ ہم اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں، نوجوان نسل کو تعلیم اور ترقی کی طرف راغب کریں اور اپنی قوت کو مثبت سمت میں استعمال کریں۔ آرمی چیف کے پیغام کو سمجھنے اور اپنانے کا مطلب یہ ہے کہ ہم خود کو اور اپنے ملک کو ایک بہتر مستقبل کے لیے تیار کریں۔

    مایوسی کے اندھیروں کو امید کی روشنی سے بدلیں، کیونکہ ہماری کوششیں ہی اس ملک کو کامیاب بنائیں گی۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین۔

  • جون ایلیاء کی 93 ویں سالگرہ: اردو ادب کا بے مثال شاعر

    جون ایلیاء کی 93 ویں سالگرہ: اردو ادب کا بے مثال شاعر

    آج اردو ادب کے معروف شاعر، فلسفی، اور سوانح نگار جون ایلیاء کے مداح ان کی 93 ویں سالگرہ منارہے ہیں۔

    جون ایلیاء کا اصل نام سید جون اصغر تھا، اور وہ 14 دسمبر 1931ء کو بھارت کی ریاست اتر پردیش کے شہر امروہہ میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا تعلق ایک علمی و ادبی گھرانے سے تھا، جہاں ادب و ثقافت کی عظیم روایات کا آغاز ہوا۔ ان کے والد، علامہ شفیق حسن ایلیاء، ایک بلند پایہ عالم تھے، جنہوں نے اردو، فارسی، عربی، اور عبرانی زبانوں میں مہارت حاصل کی۔ ان کے بڑے بھائی، سید محمد تقی اور رئیس امروہوی بھی اردو ادب کی دنیا کے جانے پہچانے نام تھے۔

    جون ایلیاء نے اپنے ادبی سفر کا آغاز بچپن میں کیا، اور صرف 8 سال کی عمر میں پہلا شعر کہا تھا۔ اس کے بعد وہ شاعری میں گہرائی اور لطافت کی نئی راہیں کھولتے گئے اور اپنی زندگی بھر کی تخلیقی سفر میں وہ اردو ادب کے منفرد شاعر بن گئے۔جون ایلیاء کی شاعری میں ایک خاص نوعیت کی بے باکی اور انفرادیت تھی، جس کی بدولت وہ نوجوان نسل کے پسندیدہ شاعر بنے۔ ان کی تحریروں میں فلسفے، تاریخ، منطق، اور یورپی ادب کا حسین امتزاج پایا جاتا تھا۔ ان کا اندازِ تحریر اتنا نرالا اور جاندار تھا کہ وہ اردو کے روایتی اشعار سے ہٹ کر ایک نئی شعری فضا تخلیق کرنے میں کامیاب ہوئے۔ ان کی شاعری میں انسانی جذبات، محبت، تنہائی، اور دنیا کی حقیقتوں کا گہرا عکس تھا۔

    شاعری کے مجموعے اور ادبی خدمات
    جون ایلیاء کے مشہور شعری مجموعوں میں "شاید”، "یعنی”، "لیکن”، "گمان” اور "گویا” شامل ہیں۔ ان مجموعوں نے اردو ادب کی دنیا میں ایک نیا سنگ میل قائم کیا۔ ان کی شاعری کی خصوصیت یہ تھی کہ وہ ایک طرف جہاں حقیقتوں اور تلخ حقیقتوں کی عکاسی کرتے، وہیں دوسری طرف ان کے اشعار میں فلسفہ اور گہری سوچ بھی چھپی ہوئی ہوتی تھی۔جون ایلیاء نے نہ صرف شاعری میں بلکہ سوانح نگاری، فلسفے اور ادبی تنقید میں بھی نمایاں کام کیا۔ ان کی گہری بصیرت اور وسیع علم نے انہیں ایک منفرد مقام دیا۔ انہوں نے پاکستان کے معروف کالم نگار و افسانہ نگار زاہدہ حنا سے شادی کی تھی، تاہم یہ رشتہ کامیاب نہ ہو سکا۔

    اعزازات اور یادگار خدمات
    جون ایلیاء کی ادبی خدمات کو حکومتِ پاکستان نے بھی سراہا اور 2000ء میں انہیں "صدارتی تمغۂ حسنِ کارکردگی” عطا کیا۔ ان کے کلام کی بازگشت آج بھی اردو ادب کے محافل میں سنائی دیتی ہے۔جون ایلیاء 8 نومبر 2002ء کو اس دنیا سے رخصت ہوگئے، لیکن ان کی شاعری اور افکار آج بھی زندہ ہیں۔ انہیں کراچی کے سخی حسن قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔آج ان کی 93 ویں سالگرہ کے موقع پر ان کے مداح اور اردو ادب کے شائقین ان کی یادوں کو تازہ کر رہے ہیں، اور ان کی شاعری کو پڑھ کر اور سراہ کر انہیں خراجِ تحسین پیش کر رہے ہیں۔ جون ایلیاء کا کلام آج بھی ادب کی دنیا میں ایک نشانِ منزل کی حیثیت رکھتا ہے اور اردو شاعری کے دلدادہ افراد کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔

    وزیراعلیٰ پنجاب کی چین کی ٹیکنالوجیز کمپنیوں کو آپریشن شروع کرنے کی دعوت

    اسلام آباد: ہوٹل میں لڑکی کی لاش ملنے کا کیس، ملزم علی رضا گرفتار