Baaghi TV

Category: بلاگ

  • اک شجر سایہ دار تھا، نہ رہا

    اک شجر سایہ دار تھا، نہ رہا

    اک شجر سایہ دار تھا، نہ رہا
    تحریر:حبیب اللہ قمر
    پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی رحمہ اللہ بھی اس دنیائے فانی سے رخصت ہو گئے۔ ان کی وفات پراسلام اور پاکستان سے محبت رکھنے والوں کے دل غمگین اور آنکھیں اشکبار ہیں۔ ایسے محسوس ہوتا ہے کہ دلوں پر اداسی کی ایک چادر سی تن گئی ہے۔بلاشبہ وہ ایسے خوش نصیب لوگوں میں سے تھے جو دنیا میں اس طریقے سے زندگی گزارتے ہیں کہ پیچھے رہ جانے والوں کے لیے ایک مثال بن جاتے ہیں۔ آج ہر کسی کی زبان پر ان کی دینی خدمات اور جرأت مندانہ کردار کے تذکرے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے موت ایسی قابل رشک دی کہ کلمہ شہادت پڑھتے ہوئے اپنی جان جان آفریں کے سپرد کر دی۔ وہ جب تک زندہ تھے ہر مجلس کی جان ہوا کرتے تھے۔ لوگ انھیں سننا چاہتے تھے۔ وہ تنظیمی و تحریکی سرگرمیوں میں سستی و غفلت پر سرزنش بھی کرتے تو زبان سے نکلے لفظوں کے موتی اتنے خوب صورت ہوتے کہ سننے والوں کی طبیعت پر گراں نہیں گزرتا تھا۔

    انہوں نے اپنی پوری زندگی کتاب و سنت کی ترویج و اشاعت، مظلوم مسلمانوں کی عزتوں و حقوق کے تحفظ اور امت کی رہنمائی کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ وہ دلوں کو جوڑنے اور باہم اتحادویکجہتی کا ماحول پیدا کرنے والے عظیم رہنما تھے۔ ان کی وفات سے علم کا ایک دروازہ بند ہوا ۔ ان کی باتیں علم و حکمت سے آراستہ ہوتیں تو کردار میں عاجزی و انکساری کی جھلک دکھائی دیتی تھی۔ وہ تحریک پاکستان کے سرکردہ لیڈراور معروف عالم دین پروفیسر حافظ عبداللہ بہاولپوری رحمہ اللہ کے بڑے صاحبزادے تھے۔ وہ اس خاندان کے چشم و چراغ تھے جو قیام پاکستان کے وقت اپنے گھر بار، زمینیں اور جائیدادیں وغیرہ سب کچھ چھوڑ کر محض اللہ کی رضا اور اسلام کی محبت میں ہجرت کر کے پاکستان پہنچا۔حافظ عبداللہ بہاولپوری رحمہ اللہ نے اولاد کی تربیت کرتے وقت بچپن سے ہی ان کے ذہنوں میں یہ بات پختہ کی تھی کہ دین کی خاطر ہر قربانی دے دینا لیکن اس پر عمل میں کوئی کمزوری نہیں آنی چاہیے۔ حافظ عبدالرحمن مکی رحمہ اللہ نے اپنے والد کے اس سبق کو خوب اچھی طرح یاد کیا اور آخر دم تک نبھانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔

    حافظ عبدالرحمن مکی کی خداداد صلاحیتوں کا اندازہ آپ یوں لگا سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں محض سات سال کی عمر میں قرآن مجید حفظ کرنے کی توفیق سے نواز دیا۔ پروفیسر حافظ عبداللہ بہاولپوری رحمہ اللہ جو کہ ایس ای کالج بہاول پور میں پروفیسر تھے، نے ایک استاد کی ڈیوٹی لگا رکھی تھی کہ ان کے صاحبزادے کو پڑھا دیا کریں۔ یعنی سکول کی تعلیم وہ اس استاد سے حاصل کرتے اور گھر میں دینی تربیت ان کے والد خود کیا کرتے تھے۔ پروفیسر حافظ محمد سعید جنہوں نے خود اپنے ماموں حافظ عبداللہ بہاولپوری رحمہ اللہ کے پاس رہ کر تعلیم حاصل کی، وہ بتایا کرتے تھے کہ میں دوسرے بچوں کی طرح سکول میں جا کر پڑھا لیکن عبدالرحمن مکی رحمہ اللہ نے گھر میں پڑھ کر ہی میرے ساتھ میٹرک کا امتحان دیا اور اچھے نمبروں میں پاس ہو گئے۔ اس کے بعد پھر کالج اور یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے تک پروفیسر حافظ محمد سعید اور حافظ عبدالرحمن مکی ساتھ ساتھ رہے۔

    عبدالرحمن مکی اسلامی جمعیت طلباء کے بہت فعال اور متحرک رکن تھے۔ جماعت اسلامی کے بانی امیر مولانا مودودی رحمہ اللہ ان کے ساتھ بہت محبت کرتے تھے اوروہ بھی ملاقات کے لیے اکثر ان کے گھر جایا کرتے تھے۔ بنگلہ دیش نامنظور تحریک چلی تو پروفیسر حافظ محمد سعید کے ہمراہ عبدالرحمن مکی رحمہ اللہ نے بھی اس میں سرگرم کردار ادا کیا۔ اسی طرح بھٹو دور میں تحریک نظام مصطفی شروع ہوئی تو اس میں بھی وہ پیش پیش رہے۔ وہ اپنے جرأتمندانہ کردار کی بدولت وقت کے حکمرانوں کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹکتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انھیں جھوٹے مقدمہ میں گرفتار کرکے بدنام زمانہ شاہی قلعہ کے ٹارچر سیل میں ڈال دیا گیا۔ اس دوران ان پر انتہائی بہیمانہ تشدد کیا گیا، رولر پھیرے گئے اورپلاس سے ناخن کھینچے جاتے لیکن ظلم کرنے والے ایک پل کے لیے بھی انھیں جھکا نہیں سکے اور ان کے پایہ استقامت میں لمحہ بھر کے لیے بھی لغزش نہیں آئی۔

    حافظ عبدالرحمن مکی رحمہ اللہ اپنی زندگی کے چھپے گوشوں سے پردہ اٹھاتے تو ان کی باتیں سن کر بندہ ششدر رہ جاتا کہ انھیں اپنی زندگی میں کس قدر آزمائشوں کا سامنا رہا ہے ۔ قیدوبند کی صعوبتوں کے دوران جب ان کا کیس زیر سماعت تھا تو ایک مرتبہ سرکار کاایک وکیل عدالت میں بڑے تکبر سے کہنے لگا کہ میرے ہوتے ہوئے تم جیل سے باہر نہیں آ سکتے۔ اس پر مکی صاحب نے بھری عدالت میں اس کی خوب خبر لی اور کہا کہ ابھی جب کیس زیر سماعت ہے تو تم میرا فیصلہ کرنے والے کون ہوتے ہو۔ بہت جلد میرا اللہ مجھے چھڑائے گا اور تم کچھ بھی نہیں کر سکو گے،کچھ عرصہ بعد پھر یہی ہوا بھٹو کا تختہ الٹ گیا اور عدالت نے بھی کیس کو جھوٹا قرار دے کر انھیں رہاکر دیا۔ عبدالرحمن مکی رحمہ اللہ کی رہائی میں مولانا مودودی رحمہ اللہ نے بھی کوششیں کیں اور اس حوالے سے ان کا بھی کردار رہا۔

    حافظ عبدالرحمن مکی رحمہ اللہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد یونیورسٹی میں بطور لیکچرر بھرتی ہو گئے۔ یہ جنرل ضیاء الحق کا دور تھا اور وہ ملک میں مختلف حوالے سے اصلاحات کی کوششیں کر رہے تھے۔ اس دوران جنرل ضیاء نے علماء کی مشاورت سے فیصلہ کیا کہ پاکستان میں قانون اور شریعہ کے ماہر ایسے علماء اور محقق تیار ہونے چاہئیں جو ملک میں نفاذ اسلام کے حوالے سے کردار ادا کر سکیں۔ اس سلسلہ میں کچھ لوگوں کواعلیٰ تعلیم کے لیے سعودی عرب بھجوانے کا بھی فیصلہ ہوا جن میں عبدالرحمن مکی رحمہ اللہ کا نام بھی شامل تھا۔ حافظ عبداللہ بہاولپوری رحمہ اللہ کو پتا چلا تو پہلے تو انہوں نے انکارکیا کہ وہ بیٹے کو خود سے دور نہیں کرنا چاہتے تھے لیکن جنرل ضیاء الحق جنھیں وہ دعوتی و اصلاحی خطوط لکھتے رہتے تھے، انھوں نے علماء کے ذریعے پیغام بھیجا اور بعض دوسرے احباب نے بھی اصرار کیا تو حافظ عبداللہ بہاولپوری رحمہ اللہ اس کے لیے آمادہ ہو گئے۔ یوں عبدالرحمن مکی رحمہ اللہ سعودی عرب کی ام القریٰ یونیورسٹی میں پڑھنے لگے اور علم الحدیث میں اعلیٰ ڈگری حاصل کی۔

    وہ شیخ ابن باز رحمہ اللہ کے خاص شاگردوں میں سے تھے اور ان کا بیشتر وقت ان کے دارالافتاء میں گزرتا تھا۔ اسی عرصہ میں پھر جنرل ضیاء الحق وفات پا گئے اور عبدالرحمن مکی رحمہ اللہ بھی سعودی عرب میں دعوتی و تبلیغی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ نجی سطح پر کاروباری سرگرمیوں میں مصروف ہو گئے۔حافظ عبدالرحمن مکی رحمہ اللہ اردو کی طرح عربی اور انگریزی بھی بہت روانی کے ساتھ بول لیتے تھے۔ عربی زبان میں ان کی گفتگو اتنی شان دار ہوتی کہ عرب لوگ بھی سن کر رشک کرتے تھے۔ جب تک وہاں پابندیوں کے حالات نہیں تھے ان کے پروگرام مختلف عرب ملکوں میں ہوتے اور وہ ہزاروں کے مجمع سے خطاب کیا کرتے تھے۔ میں نے اکثر اہل علم کی زبان سے یہ بات سنی ہے کہ شورش کاشمیری اور علامہ احسان الہٰی ظہیر کے بعد آج کے دور میں سحر انگیز خطابت کسی میں دیکھنے کو ملی ہے تو وہ حافظ عبدالرحمن مکی رحمہ اللہ ہیں۔ تاریخ کے موضوع پر یوں بات کرتے کہ جیسے صدیوں کی باتیں پوری طرح حفظ کر رکھی ہوں۔ وہ جس موضوع پر گفتگو کرتے علم کے موتی بکھیر دیتے اور سامعین میں سے ہر کوئی ہمہ تن گوش ہو جاتا۔ کتاب و سنت اور عصر حاضر کے علوم و فنون پر اتنی گہری نظر رکھنے والا اس وقت کوئی دوسرا دکھائی نہیں دیتا۔

    حافظ عبدالرحمن مکی رحمہ اللہ اسلام کے فریضہ جہاد سے بہت محبت رکھتے تھے۔ نوے کی دہائی میں جب کشمیر کی تحریک نے عروج پکڑا اور حافظ محمد سعید نے سعودی عرب جا کر انھیں دعوت و جہاد کی تحریک میں حصہ لینے کے لیے پاکستان آنے کا کہا تو انھوں نے فورا حامی بھر لی۔ اگرچہ سعودی عرب میں رہتے ہوئے انھیں ہر قسم کی آسائشیں اور سہولیات میسر تھیں لیکن دین اور جہاد کی خاطر محض دو سے تین دن میں اپنے سارے معاملات سمیٹے اور اہل خانہ کے ہمراہ پاکستان آ گئے۔ وطن واپس لوٹنے کے بعد وہ ایک دن کے لیے بھی آرام اور سکون سے نہیں بیٹھے اور اپنی پوری زندگی کشمیر کی آزادی اور تحریک دعوت و جہاد کے لیے کھپا دی۔ جہاد کے موضوع پر ان کے خطابات خاص طور پر دلوں کو گرما دینے والے ہوتے۔ ہزاروں نوجوان ان کی تقریریں سن کر عملی میدان میں اترے اور پھر ایسی لازوال قربانیاں پیش کیں کہ جنھیں تاریخ میں سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔

    عبدالرحمن مکی رحمہ اللہ جوانی کے ایام میں تھے تو حافظ عبداللہ بہاولپوری رحمہ اللہ کو اس بات کی فکر رہتی تھی کہ ان کا بیٹا جلسوں اور عوامی اجتماعات سے خطاب میں دلچسپی کم لیتا ہے۔ وہ بہت دعائیں کرتے کہ میرے بیٹے سے دین کا کام لے، اس کا سینہ فراخ کر دے اور زبان و بیان میں قوت پیدا کر دے۔پھر آسمان والے رب نے ان کی یہ دعا اس انداز میں قبول کی کہ اسی بیٹے کو خطابت کا ایسا شہسوار بنایا کہ دنیا ان کی گفتگو سننے کو ترستی تھی۔ یہی عبدالرحمن مکی جب تقریر کرتے تو گھنٹوں بولتے چلے جاتے اور لمحہ بھر کے لیے بھی چہرے پر تھکاوٹ کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے تھے۔ ان کے دل میں جہاد کی تڑپ اتنی تھی کہ کہا کرتے تھے کاش میرے ہاتھ سے میدان جہاد میں ایک ہندو فوجی مارا جائے اور میں اپنے رب سے کہہ سکوں کہ میں نے فلاں غاصب ہندوستانی فوجی کو قتل کیا ہے جبکہ دوسری طرف اپنے مسلمان بھائیوں کے لیے دل میں نرمی بھی انتہا درجے کی تھی۔کشمیری شہداء کے جنازے پڑھاتے توآبدیدہ ہو جاتے۔ کشمیریوں سے یہی والہانہ محبت اور لگاؤ تھا کہ ان کی وفات پر پورے مقبوضہ کشمیر میں غم کی کیفیت رہی اور حریت قیادت سمیت سبھی کشمیری قائدین نے تعزیتی پیغامات میں کہا کہ آج ہم کشمیریوں کے حق میں بات کرنے والی ایک مضبوط اور توانا آواز سے محروم ہو گئے ہیں۔

    امریکی جیل گوانتا ناموبے میں قرآن مجید کی بے حرمتی ہوئی تو عبدالرحمن مکی تڑپ اٹھے اور پروفیسر حافظ محمد سعید کی ہدایات پر مولانا امیر حمزہ اور محمد یعقوب شیخ کے ہمراہ فوری ملک گیر تحریک منظم کرنے کی کوششیں شروع کر دیں۔ مغرب میں گستاخانہ خاکے شائع ہوئے تو تحریک حرمت قرآن کی طرح تحریک حرمت رسولؐ میں بھی پیش پیش رہے۔ اسی طرح تحریک تحفظ قبلہ اول ، دفاع پاکستان کونسل اور سرزمین حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے چلائی گئی تحریکوں میں بھی قائدانہ کردار ادا کیا اور فتنہ تکفیر اور خارجیت کے رد کے لیے ملک کے کونے کونے میں جا کر لوگوں کی تربیت کی کہ مسلمانوں سے لڑائی تو دور کی بات ان کی طرف ہتھیار کا رخ کرنا بھی اسلام میں حرام ہے۔ ان کی تحریکی سرگرمیوں پر مبنی خدمات اتنی زیادہ ہیں کہ اس کے لیے الگ سے مکمل کتاب لکھی جا سکتی ہے، یہاں میں صرف اتناکہوں گا کہ صحت کو درپیش مسائل کے باوجود انھوں نے ملک کا کوئی کونہ نہیں چھوڑا جہاں وہ دعوت دین کی آواز بلند کرنے کے لیے نہ پہنچے ہوں۔

    ایک ایسا شخص جسے ڈاکٹروں نے صاف کہہ دیا ہو کہ آپ کے دل کا مسئلہ اتنا پیچیدہ ہے کہ ہم بائی پاس نہیں کر سکتے، یونہی دوائیوں کے ذریعے ہی علاج جاری رکھنا پڑے گا، اس نے اپنی زندگی میں کئی برسوں تک کبھی اپنی بیماری کو محسوس تک نہیں ہونے دیا۔ عبدالرحمن مکی رحمہ اللہ صبرواستقامت کا پہاڑ ثابت ہوئے۔ ان کے دو بیٹے اور ایک بیٹی جوانی کے ایام میں کینسر کی وجہ سے فوت ہوئے ۔ دوسرا بیٹا کینسر کے سبب شوکت خانم ہسپتال میں داخل ہوا تومیں اور برادرم یحییٰ مجاہدجن کے ساتھ مکی صاحب کا بہت پرانا اور گہرا تعلق تھا، ایک جگہ پر ان کے ساتھ موجود تھے۔ وہاں ایک بھائی نے ان سے کہہ دیا کہ آج کل تو آپ بیٹے کی بیماری کی وجہ سے بہت مصروف ہوں گے۔ وہ کہنے لگے میں نے ساتھیوں سے سختی سے کہا ہے کہ ملک میں کسی جگہ بھی طے کردہ میرا کوئی پروگرام کینسل نہیں کرنا، میں ہر جگہ جاؤں گا اور خطاب کروں گا۔ مجھے یقین ہے کہ میرے پروگراموں پر جانے سے جتنی زیادہ کتاب و سنت اور جہاد کی آواز بلند ہو گی میرا اللہ ہم پر رحم کرے گا اور میرے بیٹے کے لیے بھی آسانی پیدا کرے گا۔

    زندگی کے آخری ایام میں بھی ان کی حالت یہ تھی کہ شوگر کی وجہ سے پاؤں پر زخم آ گئے تھے اور ان سے چلا نہیں جاتا تھا لیکن وہ پاؤں پر پٹیاں باندھ کر پورے ملک میں پروگرام کر رہے تھے۔ انھی دنوں میں جب تکلیف زیادہ بڑھی تو انھیں قائل کر کے ہسپتال داخل کروایا گیا، اسی دوران ان کے پاؤں کا ایک انگوٹھا کاٹنا پڑا۔ ابھی علاج جاری تھا کہ جمعہ کے دن فجر کے بعد اچانک دل کی تکلیف ہوئی اور وہ قریب موجود ساتھیوں کو گواہ بنا کر کلمہ پڑھتے ہوئے دنیا سے رخصت ہو گئے۔

    حافظ عبدالرحمن مکی رحمہ اللہ کی یہ بہت بڑی خوبی تھی کہ وہ کسی ایک جماعت یا کسی مسلک کے نہیں بلکہ پوری امت کے نمائندے تھے۔ وہ تحریک دعوت و جہاد کے عظیم انقلابی رہنما تھے۔ ان کی وفات یقینا موت العالم موت العالم کے مصداق ہے۔ ان کی نماز جنازہ ان کے بھانجے پروفیسر حافظ طلحہ سعید نے پڑھائی۔ گورنمنٹ ایجوکیشنل کمپلیکس ننگل ساہداں مریدکے کے وسیع و عریض گراؤنڈ میں ادا کی گئی نماز جنازہ میں جید علماء کرام، شیوخ الحدیث اور دینی مدارس کے اساتذہ و مہتتم حضرات سمیت مختلف مکاتب فکر اور شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ان کی شخصیت، علم و تقویٰ اور دین کے لیے قربانیوں نے ان کے جنازے کو ایک عظیم الشان منظر بنا دیا۔ لوگ ان کے علم، اسلام و پاکستان کے لیے قربانیوں اور ان کی ثابت قدمی کو یاد کر کے زاروقطار روتے رہے۔ شدید سردی اور بارش کے موسم کے باوجود جس طرح لوگ دور دراز کے علاقوں سے سینکڑوں کلومیٹر کا سفر کرکے جنازے میں پہنچے یہ منظر اس بات کی گواہی تھا کہ اللہ تعالیٰ نے دین اسلام کے لیے کی جانے والی ان کی کاوشوں اور ان کے صبر کا بہترین صلہ عطا فرمایا ہے۔ حقیقت ہے کہ جو شخص اپنے رب کی رضا کے لیے زندگی گزارتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی محبت لوگوں کے دلوں میں ڈال دیتا ہے اور اس کے دنیا سے جانے کے بعد بھی عزت عطا فرماتا ہے۔ اپنے بہترین دیرینہ ساتھی کی وفات پر پروفیسر حافظ محمد سعید نے جس صبر کا مظاہرہ کیا ہے وہ بھی اپنی مثال آپ ہے۔

    انھوں نے کارکنان کو خاص طور پر نصیحت کی ہے کہ یہ وقت غم کا ضرور ہے لیکن ہمیں صبر کرنا ہے اور اپنی زبان سے وہی الفاظ ادا کرنے ہیں جن سے اللہ راضی ہو۔ ہمیں عبدالرحمن مکی رحمہ اللہ کی خدمات کو یاد رکھتے ہوئے اس بات کا عزم کرنا ہے کہ ہم ان کی پیش کردہ دعوت کو ملک کے کونے کونے میں پھیلائیں گے اور امت کی بھلائی کے لیے اسی اخلاص اور محنت کے ساتھ کام کریں گے جس کے لیے وہ زندگی بھر کوشاں رہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ عبدالرحمن مکی رحمہ اللہ کی دین اسلام کے لیے قربانیوں کو قبول کرتے ہوئے ان کی قبر کو منور فرمائے۔ آمین۔

  • چڑیا نہیں …..شیرنی ! تحریر:ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

    چڑیا نہیں …..شیرنی ! تحریر:ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

    ہم نے پانچویں کلاس سے پبلک ٹرانسپورٹ یعنی بس سے سکول جانا شروع کیا ۔شروع میں آپا ساتھ ہوتیں کہ ان کا کالج سکول کے ساتھ ہی تھا لیکن ان کا بی اے ختم ہوگیا تو ہم اور ہماری چھوٹی بہن ۔
    بس میں بہت رش ہوتا ، بیٹھنے کو جگہ نہ ملتی اور ہم عورتوں کے بیچ سینڈوچ بن کر کھڑے ہوتے ۔اچھت پہ لگے ڈنڈے کو تو ہمارا ہاتھ نہ پہنچتا سو ہم کسی نہ کسی سیٹ کو تھام لیتے ۔

    عام طور پہ سواریاں بس جس طرف کو چل رہی ہوتی ، اسی طرف منہ کر کے کھڑی ہوتیں ۔ایک بار ایسا ہی رش تھا اور ہم سیٹ کو تھامے کچھ یوں کھڑے تھے کہ ہمارا منہ دوسری سمت میں تھا ۔ ہمارے بالکل سامنے ایک عورت ، کالے برقعے میں ملبوس ، ایک ہاتھ سے سائیڈ پر لٹکا ہوا بچہ اور دوسرے ہاتھ سے بس کا ڈنڈا تھامے ہوئے ۔

    ہمارا قد اتنا تھا کہ بمشکل عورت کی چھاتی تک پہنچتا تھا۔ ہم اپنے خیالوں میں گم کہ ہم نے عورت کو کسمساتے محسوس کیا ۔ سر اٹھا کر دیکھا تو ایک مردانہ ہاتھ عورت کی چھاتی پہ ۔ عورت بار بار کسمساتی ، ایک لحظے کو ہاتھ پیچھے جاتا ، مگر دوسرے ہی سیکنڈ دوبارہ سے چھاتی پہ مصروف عمل ہو جاتا ۔
    ہم نے عورت کی سائیڈ سے منہ نکال کر پیچھے دیکھنے کی کوشش کی کہ یہ آخر چکر کیا ہے ؟
    عورت کے بالکل پیچھے ایک کریہہ الصورت شخص کھڑا تھا جو یہ کھیل کھیلنے میں مصروف تھا ۔
    سوچئیے گیارہ بارہ برس کی لڑکی نے کیا کیا ہو گا ؟
    ترکیبیں سوچنے میں ماہر تو تھے ہم سو بستے میں سے پرکار نکالی اور تیار ہو گئے ۔
    اب ہاتھ جونہی آگے آیا اور چھاتی پکڑی ، ہم نے پوری قوت سے پرکار کی نوک اس ہاتھ میں گھسا دی ۔ بجلی کی سی تیزی سے ہاتھ واپس گیا اور پھر چراغوں میں روشنی نہ رہی ۔
    گھر پہنچنے پہ آپا کو اپنا کارنامہ سنایا ، آپا ہنسیں تو سہی مگر کچھ خوفزدہ بھی ہوئیں … اگر وہ مرد تمہیں پکڑ کر مارتا تو ؟
    ایسے ہی … اتنا شور مچاتے کہ دنیا اکھٹی کر لیتے ۔
    یہ واقعہ یوں یاد آیا کہ کل کسی نے کمنٹ لکھا کہ کمپنی ھذا کیا کرسکتی ہے ؟
    سو بہنو اور بھائیو ، تھوڑی سی ہمت ، تھوڑی سی عقل اور تھوڑا سا اعتماد آپ کی بیٹی کو ایساانگارہ بنا سکتا ہے جو دوسروں کو جلا کر راکھ کر دے ۔
    چڑیا نہیں بننے کا …… شیرنی بنو شیرنی !

  • کب تک گھر بیٹھی رہو گی؟ یہ حل نہیں، تحریر: حناسرور

    کب تک گھر بیٹھی رہو گی؟ یہ حل نہیں، تحریر: حناسرور

    آج کے دور میں لڑکیوں کو مختلف معاشی، سماجی اور نفسیاتی مسائل کا سامنا ہے، لیکن ان مسائل کا تقابل لڑکوں کے مسائل سے کرنا بے جا نہیں ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ لڑکیوں کو اس معاشرتی دائرے میں لڑکوں کی نسبت مختلف قسم کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، خاص طور پر جب بات کام، تعلیم اور خودمختاری کی آتی ہے۔لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کے مسائل ہمیشہ زیادہ پیچیدہ اور سوشیل ہیں۔ ایک لڑکی جو کہ بیروزگار ہے، اس کے لیے یہ طعنے سننا کہ "کب تک گھر بیٹھی رہو گی؟” ایک عام بات ہو سکتی ہے، لیکن اگر یہی سوال ایک لڑکے سے کیا جائے تو شاید وہ اتنی تنقید کا شکار نہ ہو۔ لڑکیوں کے لیے معاشرتی دباؤ ہمیشہ زیادہ ہوتا ہے، کیونکہ ایک لڑکی پر گھر والوں کی طرف سے یہ توقعات رکھی جاتی ہیں کہ وہ اپنے کام اور زندگی کو ایک مخصوص طریقے سے گزارے، اور اگر وہ ایسا نہ کرے تو اسے "ایفشل” یا "بیکار” سمجھا جاتا ہے۔

    یہ بات بھی اہم ہے کہ ایک لڑکی پر خاندان، دوستوں اور معاشرتی ماحول کی طرف سے بہت زیادہ دباؤ ہوتا ہے کہ وہ جلد سے جلد اپنے قدموں پر کھڑی ہو اور ایک مستحکم زندگی گزارے۔ اگر کوئی لڑکی گھر بیٹھے رہ جائے تو اسے معاشرتی طور پر ناپسندیدہ سمجھا جا سکتا ہے، حالانکہ اس کے لیے ضروری نہیں کہ وہ فوراً نوکری یا کاروبار میں مشغول ہو۔ ہر فرد کا سفر مختلف ہوتا ہے، اور ہر کسی کو اپنی زندگی کی رفتار کے مطابق فیصلہ کرنے کا حق ہونا چاہیے۔اگر ہم لڑکیوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں، تو سب سے اہم چیز جو انہیں دی جا سکتی ہے وہ ہے تعلیم اور ہنر۔ ایک لڑکی کو ایسا ہنر سکھانا، جو اسے خودمختار اور مضبوط بنائے، اس کے لئے زندگی کے مختلف پہلوؤں میں کامیاب ہونے کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔ اگر ایک لڑکی تعلیم حاصل کرے اور کسی ہنر میں ماہر ہو، تو وہ نہ صرف اپنی زندگی کی بہتر منصوبہ بندی کر سکتی ہے، بلکہ اگر کل کو اس کی زندگی میں کوئی بھی ناخوشگوار تبدیلی آئے، جیسے طلاق یا بیوہ ہونا، تو وہ خود کو مالی طور پر سنبھالنے کے قابل ہو گی۔

    خودمختاری اور معاشرتی آزادی،یہ بات نہ صرف لڑکیوں کے حق میں ہے بلکہ پورے معاشرے کے فائدے میں ہے کہ لڑکیاں اپنے قدموں پر کھڑی ہوں۔ ان کو اس بات کا احساس دلایا جائے کہ وہ معاشرتی اور اقتصادی لحاظ سے اپنے فیصلے خود لے سکتی ہیں اور انہیں ہر معاملے میں مردوں کے شانہ بشانہ قدم بڑھانے کا موقع دیا جائے۔ ان کا ہنر اور تعلیم کبھی ضائع نہیں جائے گا۔ ان کے پاس اگر سکلز ہوں گے تو وہ معاشرتی، مالی اور نفسیاتی طور پر مضبوط رہیں گی۔اس دور میں جب دنیا بھر میں لڑکیاں مردوں کے ساتھ برابر قدموں پر چل رہی ہیں، تو ضروری ہے کہ ہم اپنے معاشرتی دائرے میں بھی ان کو وہ مواقع فراہم کریں جو وہ حق دار ہیں۔ ان کی تعلیم، ہنر اور خودمختاری کا تحفظ کرنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔ لڑکیاں جب اپنے حقوق کے بارے میں آگاہ ہوں گی اور ان کے پاس وسائل اور ہنر ہوں گے، تو وہ نہ صرف خود کو بلکہ اپنے خاندان اور معاشرے کو بھی بہتر بنا سکیں گی۔لہذا، لڑکیوں کو تعلیم دیں، ہنر سکھائیں، اور ان کی کامیابی کے راستے کو ہموار کریں تاکہ وہ نہ صرف اپنے لیے بلکہ پورے معاشرت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں۔

  • دی ایجوکیٹرز فیصل آباد کا فیملی فیسٹیول 2025

    دی ایجوکیٹرز فیصل آباد کا فیملی فیسٹیول 2025

    دی ایجوکیٹرز فیصل آباد کا فیملی فیسٹیول 2025
    تحریر:شاہد نسیم چوہدری
    دی ایجوکیٹرز فیصل آباد ریجن کی جانب سے 25 جنوری 2025 کو شاندار فیملی فیسٹیول کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ یہ فیسٹیول بچوں، والدین، اور دیگر فیملی ممبرز کے لیے ایک یادگار دن ہوگا۔ اس تقریب کی قیادت فیصل آباد ریجن کے ایڈمنسٹریٹر عدنان احمد خان شیروانی کر رہے ہیں، جنہوں نے اپنے معاونین بشارت، فراز، اور مس ماہم کے ساتھ مل کر بہترین انتظامات کیے ہیں۔

    فیسٹیول میں رنگا رنگ سرگرمیاں شامل ہیں جن میں بچوں اور بڑوں کے لیے تفریح اور تعلیم کا امتزاج ہوگا۔ جناح باغ میں ہونے والے اس ایونٹ میں فوڈ کورٹ، اسپانسرڈ اسٹالز، جادوئی میجک شو، اور دلچسپ کھیلوں کے مقابلے شامل ہوں گے۔ بچوں کے لیے پلے ایریا، جھولے، اور باؤنس سینڈ جمپنگ کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔

    تقریب میں تمام کیمپسز کے طلبا رنگارنگ ٹیبلو اور ڈرامے پیش کریں گے، جو پاکستان کی ثقافت، حب الوطنی، اور دیگر اہم موضوعات پر مبنی ہوں گے۔ فیسٹیول کے اختتام پر ایک میوزیکل کنسرٹ بھی ہوگا، جس میں مقامی گلوکار اور طلبا اپنی گائیکی کے جوہر دکھائیں گے۔

    تعلیمی سرگرمیوں کے تحت جدید ٹیکنالوجی، ورکشاپس، اور عملی مظاہروں کا بھی اہتمام کیا گیا ہے، جو بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو جلا بخشیں گے۔

    عدنان احمد خان شیروانی نے اپنے پیغام میں تمام طلبا اور ان کے اہل خانہ کو اس تقریب میں بھرپور شرکت کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیسٹیول نہ صرف تعلیمی معیار کو بلند کرے گا بلکہ طلبا میں معاشرتی ہم آہنگی، ٹیم ورک، اور قیادت کی صلاحیتوں کو بھی فروغ دے گا۔

    آئیے، مل کر اس دن کو یادگار بنائیں اور تعلیم و تفریح کے اس حسین امتزاج سے لطف اندوز ہوں۔

  • حافظ عبدالرحمان مکی  کی شان و جلالت اور بھارتی میڈیا،تحریر:قاضی کاشف نیاز

    حافظ عبدالرحمان مکی کی شان و جلالت اور بھارتی میڈیا،تحریر:قاضی کاشف نیاز

    حافظ عبدالرحمان مکی رحمہ اللہ کی شان و جلالت اور بھارتی میڈیا
    تحریر: قاضی کاشف نیاز
    میں اس کے مقام کا کیا اندازہ لگاؤں جس کی موت پر دشمن بھی بڑھ چڑھ کر خوشیاں منا رہا ہو۔ ایسے عظیم شخص کے مقام کی حد کو میں پا ہی نہیں سکتا۔ ذرا دیکھیں تو سہی کہ کفر کے ایوانوں میں کس قدر شادیانے بج رہے ہیں۔ انڈیا کا شاید ہی کوئی چینل ہو جو مکی رحمہ اللہ کو اپنا سب سے بڑا دشمن قرار دے کر بغلیں نہ بجا رہا ہو۔ این ڈی ایم انڈیا نیوز سے لے کر زی نیوز، نیوز نیشن، بھارت 24، ہندوستان ٹائمز، سنسکرتی ایاز (Iuyas Sanskrit) رتام انگلش نیوز (Ritam English News) اور انڈیا ٹوڈے تک، انڈیا کے تقریباً سبھی نیوز چینلز حافظ عبدالرحمان مکی رحمہ اللہ کی وفات کو ایک بہت بڑی خبر اور اس دن کی سب سے بڑی بریکنگ نیوز بنا کر چیخ چیخ کر، چلا چلا کر اور گلا پھاڑ پھاڑ کر دنیا کو بتاتے رہے کہ ہمارا ایک سب سے بڑا دشمن، 26/11 کا ماسٹر مائنڈ، ہماری جان چھوڑ چکا۔

    خیر، یہ تو اس کی ایک اور بہت بڑی غلط فہمی ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ اس طرح اس کی جان چھوٹ گئی ہے۔ اسے اندازہ ہی نہیں کہ ایک مکی رحمہ اللہ کے جانے سے اس کی جان نہیں چھوٹی بلکہ مکی رحمہ اللہ کی موت تو پہلے سے بھی کئی گنا زیادہ "مکی” پیدا کر چکی ہے۔ پہلے صرف ایک جماعت اور اس سے وابستہ لوگ ہی مکی رحمہ اللہ کو جانتے تھے۔ اب پاکستان کا شاید ہی کوئی طبقہ ہو جو مکی رحمہ اللہ کی شان میں رطب اللسان نہ ہو۔

    آج تو بڑے بڑے لبرل دانشور اور اے این پی جیسی لبرل سیاسی جماعتوں کے قائدین بھی ان کی عظمت بیان کر رہے ہیں اور بڑے بڑے وفود کی صورت میں تعزیت کے لیے ان کے در پر پہنچے ہیں۔

    واہ مکی رحمہ اللہ! تیرے کیا کہنے۔ تو جب تک زندہ رہا، دعوت و جہاد اور انبیاء علیہم السلام کی سیاست کے مشن کو آسمان تک پہنچایا اور مرا بھی تو اس طرح کہ اس مشن کو اوجِ ثریا تک پہنچا گیا۔ وہ رخصت ہوئے تو یہ کہتے ہوئے کہ وقت بہت کم ہے اور پھر کلمہ پڑھتے ہوئے یہاں تک بتا گئے کہ فرشتے ان کی روحِ سعید کے استقبال کو اور لینے کو آ پہنچے ہیں۔

    اسی قابل رشک موت کی وجہ سے ہی آج کفر کا ہر ایوان مکی رحمہ اللہ کی گونج سے لرز رہا ہے۔ ان کی خوشیاں بتا رہی ہیں کہ اندر سے یہ بزدل کفار حافظ عبدالرحمان مکی رحمہ اللہ سے کس قدر خوفزدہ اور دہشت زدہ تھے۔ وہ تھی ہی ایسی شخصیت۔

    ان کے ہم عصر ساتھی بتاتے ہیں کہ اپنے طالب علمی کے زمانے میں بھی وہ سرخوں اور ملحدوں کے لیے ہمیشہ دہشت کی علامت رہے۔ جب اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستہ تھے اور سرخوں سے مقابلہ ہوتا تو انہیں ہی سب سے آگے کیا جاتا۔

    ایک دفعہ سرخوں کا پورا جلوس اپنی مار دھاڑ دکھا رہا تھا تو اسلام پسندوں کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ ان سے کیسے نمٹا جائے۔ آخر مشورہ ہوا کہ کسی طرح حافظ عبدالرحمان کو لایا جائے تو وہ ان کا آسانی سے توڑ کر لیں گے۔ چنانچہ وہ آئے تو پھر اس طرح شیر کی طرح آئے کہ اکیلے ہی اپنے موٹر سائیکل پر سوار پوری تیزی سے سرخوں کے جلوس کی طرف رخ کر لیا۔

    کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے
    رن تو رن ہے، چرخ کہن کانپ رہا ہے

    کا مصداق بن کر جوں ہی موٹر سائیکل ان کی طرف چڑھائی، سرخوں کا سارا جلوس ہی آناً فاناً تتر بتر ہو گیا۔

    پھر باقی ساری زندگی بھی کفر کا ہر ایوان ان سے یوں ہی لرزتا رہا اور آج تک لرز رہا ہے۔ اپنی موت سے بھی انہیں ایسا لرزایا اور ڈرایا کہ وہ اسے کبھی بہت بڑا دہشت گرد کہتے ہیں، کبھی بہت بڑا انتہا پسند، اور کبھی 26/11 کا سب سے بڑا سرغنہ قرار دے رہے ہیں۔

    یہ دراصل مکی صاحب رحمہ اللہ کے لیے وہ خطابات ہیں جو انہیں کفر کے ایوانوں سے مل رہے ہیں اور یہ خطابات انہیں جس قدر مل رہے ہیں، اسی قدر یہ خطابات ان کے لیے اعزاز بن کر اللہ کی بارگاہ میں جرأت اور بہادری کے تمغوں میں ڈھلتے جا رہے ہیں۔

    اللہم اغفر لہ وارحمہ وعافہ واعف عنہ واکرم نزلہ ووسع مدخلہ وادخلہ الجنہ الفردوس۔ آمین ثم آمین!

  • آغا نیاز مگسی اب ہم میں نہیں رہے

    آغا نیاز مگسی اب ہم میں نہیں رہے

    اناللہ وانا الیہ راجعون
    آغا نیاز مگسی اب ہم میں نہیں رہے دعائے مغفرت کی درخواست ہے

    سلسلہ پذیرائی ۔
    ادبی دیوان بلوچستان( ادب )پاکستان
    تحریر _ ڈاکٹر عبدالرشید آزاد
    شخصیت – آغا نیاز مگسی
    بلوچستان کے ادب کا اک روشن ستارہ پانچ زبانوں میں اظہار کرنے والے آغا نیاز مگسی ،معروف شاعر / کالم نگار/ ادیب / اور نثر نگار
    آغا نیاز مگسی 2 اپریل 1967کو شہدادکوٹ کے قریب بانڑی وانڈو میں پیدا ہوئے ان کے والد کا نام محمد حسن ہے اور ان ک تعلق بلوچ قوم کے مگسی قبیلے سے ہے ۔انہوں نے ابتدائی تعلیم گوٹھ سخی نذر محمد کٹوہر پرائمری سکول میں حاصل کی پھر ایک سال بعد نقل مکانی کرنی پڑی پھر 1975 میں اپنے چچا کے مدرسے میں داخل ہوئے جہاں سے عربی اور سندھی کی تعلیم حاصل کی اس کے بعد 1981 میں گورنمنٹ بوائز ہائی سکول قبوسعید خان میں جماعت ششم میں داخلہ لیا جہاں دو سال تعلیم حاصل کی۔
    1986 میں میٹرک کیا اور گورنمنٹ انٹر کالج شہدادکوٹ میں داخل ہوئے ۔
    1985 میں سندھی زبان میں شاعری کا آغاز ایک سندھی گیت سے کیا پھر 1988 کو غربت کی وجہ سے سیکنڈ ائیر میں تعلیم کو خیر آباد کہہ دیا ۔
    1989 میں اپنے مرحوم بھائی کی جگہ محکمہ ہیلتھ میں ڈسپینسر بھرتی ہوئے انہوں نے نصیر آباد کی تاریخ میں پہلی مرتبہ 1991 میں ریلوئے گراؤنڈ ڈیرہ مراد جمالی مشاعرے کا انعقاد کیا جس سے باقاعدہ ادبی سرگرمیوں کا آغاز ہوا
    1994 میں آغا نیاز مگسی نے کالم نگاری کی ابتداء کی اور ان کے تعلقات سیاست میں نواب اکبر خان بگٹی ،میر ظفر اللہ جمالی، سردار یار محمد رند، سردار زادہ شیر محمد رند ،میر ظہور حسین کھوسہ،رازق بگٹی ،میرجان محمد جمالی ،میر فائق جان جمالی ،میر خان محمد جمالی ،میر صادق عمرانی ،بابو محمد امین عمرانی ،میر مراد ابڑو ،سید فضل آغا ،میر اظہار حسین کھوسہ ،میر سلیم خان کھوسہ ،مولانا عبداللہ جتک ، صاحب زادہ سکندرسلطان ،میر احمدانی خان بگٹی ، سردار چنگیز خان ساسولی ،میر طارق حسین مسوری بگٹی ،میر ماجد ابڑو ،میر نظام لہڑی ،دریحان بگٹی سے ہوئے ۔بعد میں آپ نے 2018 میں کالم نگاری بھی چھوڑ دی ۔

    اسی طرح ادبی دنیا میں بھی ان کے روابط معروف ادبی شخصیات جن میں احمد فراز ،امجد اسلام امجد ،تابش دہلوی،نور محمد پروانہ ،راغب مراد ابادی ،محسن بھوپالی،عطاالحق قاسمی ،عطا شاد ،سلیم کوثر ،ذکیہ غزل ،رانا ناہید ،گلنار آفرین ،ڈاکٹر طاہر تونسوی،منظر ایوبی،احمد خان مدہوش ،اوریا مقبول جان ،رفیق راز ،ناگی عبدالرزاق خاور ،سید شرافت عباس ناز ،صلاح الدین ناسک ،عرفان احمد بیگ ،عابد شاہ عابد ،عرفان الحق صائم ،بیرم غوری کے ساتھ مشاعرے پڑھنے کا اعزاز بھی حاصل ہے ۔
    ان کے چھ بچے ہیں جن میں تین بیٹے اور تین بیٹیاں شامل ہیں آپ اردو ،سندھی،بلوچی ،براہوئیی ،اور سرائیکی یعنی پانچ زبانوں میں شاعری کرتے ہیں لیکن افسوس کہ ان کا ابھی تک کوئی شعری مجموعہ شائع نہیں ہو سکا کیونکہ غربت کی وجہ سے اتنے وسائل نہیں ہیں اور اتنے بڑے کنبے کے واحد کفیل ہیں ۔

    آغانیاز مگسی باغی ٹی وی میں بھی لکھتے رہے ہیں، باغی ٹی وی کے سی ای او مبشر لقمان سمیت ٹیم نے آغا نیاز مگسی کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے اور مرحوم کے لئے دعائے مغفرت کی ہے، لواحقین کے لئے صبر جمیل کی دعا کی ہے

  • باغی ٹی وی، ہمارا محسن

    باغی ٹی وی، ہمارا محسن

    باغی ٹی وی، ہمارا محسن
    تحریر: حیدر علی صدیقی
    haidersiddiqui276@gmail.com
    سب سے پہلے تو باغی ٹی وی کے سی ای او اور میدانِ صحافت کی نڈر شخصیت جناب مبشر لقمان صاحب کو سالگرہ مبارک۔ اللہ ﷻ ان کی عمر دراز فرمائے۔امن و استحکام، حقوقِ انسانی اور علم و ادب کے لیے کوشاں پاکستان کے سب سے بڑے ڈیجیٹل نیٹ ورک باغی ٹی وی کو اپنی بہترین خدمات کے ساتھ 13 ویں سالگرہ مبارک۔

    باغی ٹی وی کے ساتھ میرا رشتہ اگست 2021ء میں ایکس (سابقہ ٹوئٹر) کے راستے سے قائم ہوا، جب باغی ٹی وی پر میرا پہلا کالم 9 اگست 2021ء کو شائع ہوا۔ تب سے میں اس فورم کے ساتھ جڑ گیا۔ بعد ازاں باغی ٹی وی کے پلیٹ فارم سے میرے کئی کالم شائع ہوتے رہے ہیں۔ میں دیگر باتوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے آج باغی ٹی وی کے حوالے سے بات کروں گا۔

    باغی ٹی وی پاکستان کا سب سے بڑا اور ملک گیر ڈیجیٹل نیٹ ورک ہے لیکن بایں ہمہ یہ پاکستان کے ہر ایک شہری کی توانا آواز ہے۔ امن و استحکام، حالاتِ حاضرہ، سائنس و ٹیکنالوجی، علم و ادب، جمہوریت و سیاست، ملکی و بین الاقوامی خبریں جیسے کثیر موضوعات باغی ٹی وی کا حصہ ہیں۔ باغی ٹی وی کی نشریات کئی زبانوں میں ہیں، جن میں اردو، پشتو، انگریزی، دری اور چینی شامل ہیں۔

    یہ پلیٹ فارم لکھاریوں کے لیے کتنا زبردست اور بہترین ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ آج کل نو آموز قلمکاروں اور لکھاریوں کے لیے کسی جریدے یا ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر اپنے خیالات اور تخلیقات شیئر کرنے کا موقع نہیں ملتا، لیکن باغی ٹی وی اس حوالے سے سب سے الگ ہے۔ اس نے ہر ایک کا خیرمقدم کیا اور اس کی آواز کو بلند کیا۔

    باغی ٹی وی نے نئے آنے والوں کو مایوس نہیں ہونے دیا بلکہ ان کو امید دلائی، ان کی حوصلہ افزائی کی، اور انہیں اپنے خیالات اور تخلیقات شیئر کرنے کا موقع فراہم کیا۔ یہ باتیں میں جذبات میں آ کر نہیں کہہ رہا بلکہ میں خود اس صورتحال سے گزر چکا ہوں۔ جب میرا پہلا کالم باغی ٹی وی پر شائع ہوا تھا تو اس وقت کی خوشی دیدنی تھی، جسے اب میں الفاظ میں بیان کرنے سے قاصر ہوں۔ باغی ٹی وی اور اس کی انتظامیہ کی یہی وسیع ظرفی تھی جس نے راقم کو حوصلہ دلایا۔ تب سے باغی ٹی وی اور اس کی انتظامیہ کو میں اپنے محسنوں میں شمار کرتا ہوں۔

    باغی ٹی وی درست اور سچ مواد شریک کرنے کا ملک کا سب سے بڑا ڈیجیٹل اور عوامی پلیٹ فارم ہے۔ نو آموز قلمکار حضرات اپنی صحیح اور درست مواد عوام سے شیئر کرنے کے لیے باغی ٹی وی کا رخ کریں اور اپنی آواز کو توانا بنائیں۔

    باغی ٹی وی کی بات چلی تو اس موقع پر باغی ٹی وی کے ایڈیٹر جناب ممتاز حیدر اعوان صاحب کے بارے میں کچھ نہ کہنا زیادتی اور نا انصافی ہوگی۔ ممتاز حیدر صاحب ایک ملک گیر فورم کے ایڈیٹر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک سادہ، انسان دوست اور ملنسار انسان ہیں۔ ایک بڑے ڈیجیٹل نیٹ ورک کے ایڈیٹر ہونے کے ناطے آپ ان کی مصروفیات کو سمجھ سکتے ہیں، لیکن بایں ہمہ آپ بہترین اخلاق و صفات کے مالک انسان ہیں۔ ہماری نہ کبھی ملاقات ہوئی ہے، نہ ہمارے درمیان باغی ٹی وی کے علاوہ کوئی رشتہ ہے۔ لیکن ایک جونیئر کالم نگار ہونے کی حیثیت سے اگر باغی ٹی وی کے حوالے سے کوئی بات پیش آئی، کوئی سوال پیش آیا، تو ممتاز صاحب نے انتہائی محبت اور سنجیدگی کے ساتھ رہنمائی فرمائی۔

    خیر! بات لمبی چوڑی ہوتی جا رہی ہے۔ اللہ کرے کہ باغی ٹی وی کی خدمات اور کامیابی کا یہ سفر تا دیر جاری و ساری رہے۔ آمین۔
    سالگرہ مبارک باغی ٹی وی۔

  • چولستانی گندی: ثقافت اور کفایت شعاری کا شاہکار

    چولستانی گندی: ثقافت اور کفایت شعاری کا شاہکار

    چولستانی گندی: ثقافت اور کفایت شعاری کا شاہکار
    ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    altafkhandahir@gmail.com
    چولستان اور سندھ کی ثقافت کا ایک نمایاں پہلو "چولستانی گندی” ہے، جو نہ صرف کفایت شعاری بلکہ خوبصورت روایتی ہنر کا بہترین نمونہ ہے۔ یہ گندی، جو کپڑے کے اضافی ٹکڑوں سے بنائی جاتی ہے، نہ صرف گھریلو ضروریات کو پورا کرتی ہے بلکہ مقامی ثقافت اور روایات کی دلکش علامت بھی ہے۔ چولستانی گندی کو بنانے کا عمل ان خواتین کی ہنر مندی اور محنت کا عکاس ہے جو اپنے محدود وسائل میں بے مثال تخلیقی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ گھروں میں بچ جانے والے کپڑوں کے ٹکڑوں کو بڑی مہارت سے جوڑ کر یہ گندی تیار کی جاتی ہے، جو نہ صرف خوبصورت ہوتی ہے بلکہ پائیداری کی ایک عمدہ مثال بھی پیش کرتی ہے۔

    روہی چولستان کی خواتین اپنی محنت، لگن اور کفایت شعاری کی علامت ہیں۔ وہ گھروں میں استعمال شدہ اضافی کپڑوں کو ضائع کرنے کے بجائے انہیں خوبصورت شاہکار میں تبدیل کرتی ہیں۔ یہ گندیاں نہ صرف چارپائیوں پر بچھانے کے کام آتی ہیں بلکہ مہمانوں کے لیے زمین پر قالین کی جگہ استعمال کی جاتی ہیں۔ ان گندیوں کی تیاری کا عمل نہ صرف گھریلو معیشت کو مستحکم کرتا ہے بلکہ خواتین کی تخلیقی صلاحیتوں کو بھی نکھارتا ہے۔ شادی بیاہ اور دیگر خوشی کے مواقع پر یہ گندیاں تحفے کے طور پر دی جاتی ہیں، جو محبت، خلوص اور ثقافتی ورثے کی علامت ہوتی ہیں۔

    چولستانی ثقافت کا یہ پہلو ماضی کی جھلک بھی پیش کرتا ہے، جب خاندانوں میں اتحاد اور محبت کا اظہار ان گندیوں کے ذریعے کیا جاتا تھا۔ نورپور نورنگا کی پرانی یادیں اس بات کی گواہ ہیں کہ دادی اماں اور بوا اماں نئی دلہنوں اور نومولود بچوں کے لیے خوبصورت گندیاں تیار کرتیں۔ یہ عمل نہ صرف محبت اور خلوص کو فروغ دیتا تھا بلکہ خواتین کی ہنرمندی اور اتحاد کی علامت بھی تھا۔ خواتین رل مل کر دلہنوں کے جہیز میں گندیاں شامل کرتیں، جو ان کے خلوص اور کفایت شعاری کا بہترین ثبوت ہوتا تھا۔

    چولستانی گندی کی اہمیت نہ صرف گھریلو زندگی تک محدود ہے بلکہ یہ مقامی معیشت کے لیے بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اگر حکومت وقت اس ہنر کی سرپرستی کرے اور ڈیراور قلعے جیسے مقامات پر خواتین کے لیے تربیتی ادارے قائم کرے، تو یہ نہ صرف مقامی معیشت کو مضبوط کرے گا بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کے ثقافتی ورثے کو اجاگر کرے گا۔ اس اقدام سے مقامی خواتین کو اپنے ہنر کو بہتر بنانے اور اپنی آمدنی میں اضافے کے مواقع ملیں گے۔

    سرائیکی قدرتی حسین و جمیل خوبصورت روہی چولستانی خطے کی گندی نہ صرف رنگوں سے محبت کی علامت ہے بلکہ یہ کفایت شعاری اور گھریلو معیشت کو بہتر بنانے کا ایک موثر ذریعہ بھی ہے۔ اس کے ذریعے خواتین نہ صرف اضافی کپڑوں کا بہترین استعمال کرتی ہیں بلکہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا بھی مظاہرہ کرتی ہیں۔ ان گندیوں کی تیاری سے خواتین کے اندر کفایت شعاری اور خود انحصاری کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، جو کہ ایک خوشحال معاشرے کی بنیاد ہے۔

    مذہب اسلام سمیت تمام مذاہب سادہ اور آسان زندگی کو خوشحالی کا راز سمجھتے ہیں۔ چولستانی گندی اسی اصول کی عملی مثال پیش کرتی ہے۔ یہ خواتین اپنی محدود آمدنی کو بڑی حکمت اور مہارت سے استعمال کرتی ہیں اور اپنی زندگیوں کو خوشحال بناتی ہیں۔ اگر حکومت ان ہنر مند خواتین کو مراعات دے اور ان کی بنائی ہوئی مصنوعات کو عالمی منڈی تک رسائی فراہم کرے، تو نہ صرف ان کی زندگیوں میں بہتری آئے گی بلکہ پاکستان کی معیشت کو بھی فائدہ ہوگا۔

    چولستانی گندی نہ صرف کفایت شعاری بلکہ ثقافتی استحکام کی بھی ایک مثال ہے۔ ہمیں اس خوبصورت ہنر پر فخر کرنا چاہیے اور اس کی ترقی کے لیے بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔ کیونکہ کفایت شعاری اور سادگی ہی کامیاب زندگی کی اصل کنجی ہیں۔ چولستان کی رنگین ثقافت اور اس کے باسیوں کی محنت کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ یہ ورثہ ہمیشہ زندہ رہے اور نئی نسلوں کے لیے مشعل راہ بنے۔

  • الحمد للہ رب العالمین 2024.تحریر:قرۃالعین خالد(سیالکوٹ)

    الحمد للہ رب العالمین 2024.تحریر:قرۃالعین خالد(سیالکوٹ)

    ہر صبح ایک نئی امید لے کر آتی ہے۔ جب سے یہ کائنات معرضِ وجود میں آئی ہے امید بھی تبھی سے وجود میں آئی ہے۔ مومن اپنے رب کی ذات سے کبھی مایوس نہیں ہوتا۔ وقت کبھی بھی کسی کے لیے نہیں رکتا وقت کا کام تو بس چلنا ہے اور وہ چلتا ہی رہتا ہے۔ حالات کے تھپیڑے ہوں یا مشکلات کی آندھیاں چلیں، خوشیوں کی بارات ہو یا غموں کی برسات ہو، وقت کا پہیہ گھومتا رہتا ہے۔ کیلنڈر کے صفحات کی طرح ماہ و سال بدلتے رہتے ہیں۔ سال 2024 بچھڑ گیا اور سال 2025 کا کیلنڈر دیواروں کی زینت بن گیا۔ یہ دنیا اور اس کی ہر شے فانی ہے۔ نہ غم ذیادہ دیر کہیں ٹھہر سکتا ہے نہ خوشیاں کہیں مستقل بسیرا کر سکتی ہیں۔ دن رات کا بدلنا، موسموں کا تغیر اس بات کی دلیل ہے کہ گزرا وقت کبھی واپس نہیں آتا۔ پر سکون زندگی کا ایک راز یہ بھی ہے جو گزر گیا اس پر شکر ادا کریں اور جو آنے والا ہے اس کی امید اچھی رکھیں۔

    سال 2024 کو اگر پیچھے مڑ کر دیکھوں تو بہت کچھ کھویا بہت کچھ پایا۔ زندگی کی تلخ حقیقتوں میں سے یہ حقیقت ویسے ہی ہے جیسے فلک پر چمکتا چاند اور روشن ستارے کہ دکھوں کا ساتھی رب العزت کے سوا کوئی نہیں ہوتا اور خوشیوں کے ساتھی سبھی ہوتے ہیں۔

    میں قرۃالعین خالد آپ کو اپنے غموں کے قصے نہیں سناؤں گی کیونکہ میں چاہتی ہوں کہ آپ میرے ساتھی رہیں۔ 7 جنوری 2024 کو میری عیشتہ الراضیہ کی پاکٹ سائز کتاب "فرسٹ ایڈ باکس” میرے ہاتھوں میں آئی۔ فروری میں لاہور ایکسپو سینٹر بچوں کے ساتھ کتب میلہ گئی اور وہاں بہت سے نئے افراد سے ملنے کا موقع ملا۔ اللّہ رب العزت نے ایک نیا جہاں میرے لیے آباد کر دیا۔ پیاری عیشہ نے نئے جہاں میں قدم رکھا نیا اسکول نئے دوست بنے۔ بلیک کاسٹل سے کڈز کلب کا سفر اگرچہ عیشہ کے لیے دشوار تھا مگر رب کی رحمت سے یہ سفر بھی آسان ہو گیا۔ کامیابیوں کے لیے نئے جہاں دریافت کرنے کرتے ہیں۔ اپووا خواتین کانفرنس نے مارچ کے مہینے کو ہمیشہ کے لیے میری یادوں میں محفوظ کر دیا۔ مجھے ہمیشہ نئے لوگوں سے ملنا پسند ہے نئی دوستیاں کرنا اچھا لگتا ہے۔ مارچ میں” تسخیرِ کائنات” نے اس دنیا میں آنکھ کھولی۔ اے اللہ رب العزت! میری "تسخیرِ کائنات” کو خوب عزت بخشنا۔ آمین!

    اپریل میں سعدین کے لیے منصوبہ بندی کی اور مئی کے آغاز میں رمضان کے بابرکت مہینے میں سعدین کی بنیاد رکھی۔ زندگی نے بڑے تجربات کرنے کا موقع فراہم کیا۔ پہلی بار پروفیشنل کیمرے کا سامنا کیا اور پروگرام ہوسٹ کرنے کا موقع رب العزت نے عطا کیا۔ اس فانی دنیا میں اپنا گھر اللّہ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ جون 2024 کو اللّٰہ پاک نے ہمیں اس نعمت سے نوازا جس پر میں رب کا جتنا شکر ادا کروں کو کم ہے۔ کرایے کے اذیت ناک سفر سے اپنے گھر تک کی راحت کوئی اس انسان سے پوچھے جس کے پاس اپنی چھت نہیں۔ اللہ پاک سب کو اپنا گھر نصیب فرمائے اس میں خوشیوں اور سلامتی کے ساتھ رہنا نصیب کرے آمین۔

    اس وقت میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا جب 6 جولائی کو اپووا ٹیم میرے گھر میں آئی۔ میرے گھر میں آنے والے پہلے مہمان آپ ہی تھے۔ مجھے چائے بنانی نہیں آتی مگر میں نے بنائی اور سب سے مزے کی بات مدیحہ کنول آج بھی کہتی ہے چائے بہت مزے کی تھی۔ ہائے کوئی میرے چاہنے والوں کو بھی بتائے کہ چائے مزے کی تھی۔ سعدین انسٹیٹیوٹ کے تحت امید سیریز کا آغاز جولائی میں کیا۔ اگست میں نفیس کیڈٹ اکیڈمی میں تربیت اولاد کے حوالے سے سیشن ہوا۔ جس میں میری والدہ اور میری پیاری بہن دوست ماہ پارہ میری معاون رہیں۔ ستمبر تومجھے بہت عزیز ہے میری پیدائش کا مہینہ، اکتوبر میری شادی کا مہینہ، واہ واہ دونوں مہینے ساتھ ساتھ ،نومبر میں اپووا ورکشاپ کی مزے دار کی تیاریاں اور اس سال نیا تجربہ کہ ایک سگمینٹ کو اسپانسر کرنے کا موقع ملا۔ مجھے گفٹ دینا بہت پسند ہے الحمدللہ!

    نومبر میں حور کا اچانک آنا نومبر کو باغ و بہار کر گیا۔ کون کہتا ہے دسمبر اداس ہوتا ہے ہائے میرا تو بہت شور شرابے والا تھا بچوں کی اسکول کی چھٹیاں اور ہر سو ہنگامے ہی ہنگامے دسمبر میں ایک بار پھر اپووا ٹیم سے ملنے کا موقع ملا۔

    عزت اور ذلت اللّٰہ کے اختیار میں ہے پھر بھی پتہ نہیں کچھ لوگ اسے اپنا اختیار کیوں سمجھتے ہیں۔ اس سال میری پیاری بیٹی حورالعین نے میٹرک کا امتحان پاس کیا اس کا داخلہ کیڈٹ کالج میں ہوا ،میرا ابراہیم بھی اسکول جانے لگ گیا۔ حافظ وقاص صاحب کے پیچھے تراویح پڑھنے ایک الگ احساس کا نام ہے یا اللہ! تیرا شکر ہے۔ اس بار ہم نے بچوں کے ساتھ آخری روزے اور عید اسکردو ہنزہ گلگت بلتستان میں کی وہ ایک الگ کہانی ہے اور عید الاضحی سوات میں کرنے کا الگ ہی مزہ تھا۔ لکھنے لکھانے کا سلسلہ بھی اللہ نے چلائے رکھا اس سال میں نے اپنی سوئی ہوئی کیلی گرافی کو پھر سے زندہ کیا۔ ناول لکھنے کی طرف توجہ کی کئی ایوارڈ عزت حاصل کی۔ میری سرجری ہوئی اور کچھ رشتوں پر سے پردہ اٹھا۔ ارے میں تو بتانا بھول گئی ایک اہم بات سوچا جاتے جاتے بتا دوں اس سال لوگوں کے دھوکے پیسوں کے فراڈ جھوٹ فریب حسد کینہ بغض بھی دیکھے لیکن ان جیسے لوگوں کو یہ بتا دوں مجھے آپ کی ان حرکتوں سے کوئی فرق نہیں پڑا جنہوں نے پیسوں یا جذبات کا فراڈ کیا ہے وہ ہی غریب رہیں گے ان شاءاللہ! میرے پاس تو پھر بھی سب کچھ ہے۔ جنہوں نے محبتوں اور عزت سے نوازا اللہ پاک ان کی عزتوں میں اضافہ فرمائے جنہوں نے دھوکے دئیے ان کا بہت شکریہ وہ نہ ہوتے تو مجھے سیکھنے کا موقع نہ ملتا.

    باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ، ایک یادگار سفر،تحریر :نورفاطمہ

    باغی ٹی وی،ڈیجیٹل میڈیا کا معتبر اور بااثر پلیٹ فارم،سالگرہ مبارک،تحریر:حنا سرور

    "باغی کے ظلم کے خلاف بغاوت کے 13 برس”تحریر:اعجازالحق عثمانی

    باغی ٹی وی،پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کا محافظ، تحریر: ملک ارشد کوٹگلہ

    باغی ٹی وی کا کامیاب سفر،13ویں سالگرہ

  • باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ، ایک یادگار سفر،تحریر :نورفاطمہ

    باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ، ایک یادگار سفر،تحریر :نورفاطمہ

    آج، باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ کا دن ہے اور مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ میں گزشتہ دو برسوں سے باغی ٹی وی کی ٹیم کا حصہ ہوں۔ یہ میرے لئے نہ صرف ایک پروفیشنل کامیابی ہے بلکہ ایک ذاتی سفر بھی ہے جس نے میری زندگی اور کیریئر کو نئی سمت دی۔

    جب میں پہلی بار باغی ٹی وی کے دفتر میں انٹرویو دینے گئی، تو میرے لئے یہ ایک نیا تجربہ تھا۔ میں بے حد پرجوش اور نروس تھی، لیکن سینئر صحافی اور باغی ٹی وی کے سی ای او، محترم مبشر لقمان صاحب سے ملاقات نے میرے تمام خوف کو دور کیا۔ ان کا پرسکون اور پروفیشنل انداز، ساتھ ہی ساتھ انہوں نے جو مختصر انٹرویو لیا، وہ ایک یادگار لمحہ تھا۔ چند منٹ بعد ہی ایڈیٹر باغی ٹی وی، سرممتاز اعوان کی جانب سے خوشخبری آئی کہ میری جاب کنفرم ہو چکی ہے۔ یہ لمحہ میرے لئے ایک خواب کی طرح تھا، کیونکہ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ اس طرح ایک معروف اور کامیاب ادارے کا حصہ بنوں گی۔

    میرے لئے یہ فخر کی بات ہے کہ مجھے باغی ٹی وی کی سوشل میڈیا ٹیم کا حصہ بنایا گیا۔ میری ذمہ داری میں فیس بک پیجز، ٹویٹر، انسٹاگرام، اور ٹک ٹاک پر باغی ٹی وی کے لنکس اور پوسٹرز کی شیئرنگ شامل تھی، جسے میں انتہائی محنت اور لگن کے ساتھ انجام دے رہی ہوں۔ابتدا میں میرے کام کو دیکھنے کے بعد میری ذمہ داری بڑھا دی گئی، سوشل میڈیا کے لئے پوسٹر بنانا بھی میرے ذمے لگ گیا، میں اب شیئرنگ کے ساتھ ساتھ پوسٹرز بھی بناتی ہوں، اس کام کے دوران مجھے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا، خاص طور پر سر عبداللہ، جو کہ سوشل میڈیا کے ہیڈ ہیں، ان کی رہنمائی سے بہت فائدہ اٹھایا ہے۔ ان کی مشورے اور ہدایات نے میری کارکردگی کو بہتر بنایا اور مجھے سوشل میڈیا کی دنیا میں ایک نئی شناخت دلائی۔

    سوشل میڈیا ایکٹوسٹ تو میں پہلے بھی تھی، لیکن باغی ٹی وی میں آنے کے بعد میں نے اس شعبے میں نہ صرف مہارت حاصل کی بلکہ اس کا عملی تجربہ بھی کیا۔ دن ہو یا رات، کوئی بھی وقت ہو، باغی ٹی وی کی ٹیم ہمیشہ متحرک رہتی ہے۔ یہاں کی ٹیم کی محنت اور لگن بے مثال ہے، اور یہ بات میں ہمیشہ محسوس کرتی ہوں۔ جب بھی کوئی اضافی کام آتا ہے یا کوئی چیلنج ہوتا ہے، میں اپنے وقت سے زیادہ کام اور وہ بھی مکمل ایمانداری سے کرتی ہوں اور اسے اپنی ذمہ داری سمجھتی ہوں

    سر مبشر لقمان کے وی لاگ کا میں پہلے بھی شوق سے مطالعہ کرتی تھی اور ان کے سوشل میڈیا پر کمنٹس بھی کرتی رہتی تھی۔ جب ان کی ٹیم کا باقاعدہ حصہ بنی تو یہ میرے لئے ایک فخر کا لمحہ تھا۔ ان کا طرزِ عمل، ان کی قیادت، اور ان کے نظریات نے مجھے ہمیشہ متاثر کیا ہے۔ ان کے ساتھ کام کرنا ایک خواب کی حقیقت بن گیا، اور میں ہمیشہ ان کی رہنمائی سے فائدہ اٹھاتی ہوں۔

    آج، جب باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے، تو میں سر مبشر لقمان سمیت تمام ٹیم کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دیتی ہوں۔ میری دعا ہے کہ باغی ٹی وی کو مزید کامیابیاں حاصل ہوں اور یہ ادارہ اپنے مشن اور مقصد کی تکمیل میں ہمیشہ کامیاب رہے۔ آمین۔یہ سفر ابھی جاری ہے، اور میں امید کرتی ہوں کہ میں ہمیشہ اسی طرح باغی ٹی وی کے ساتھ اپنے تجربات کو مزید بہتر بناتی رہوں گی۔ باغی ٹی وی کے 13 سال پورے ہونے پر ایک نیا عزم اور جذبہ محسوس ہوتا ہے، اور میں دعا گو ہوں کہ یہ ادارہ ہمیشہ اپنے اصولوں اور وژن کے مطابق کامیابی کی بلندیوں تک پہنچے۔

    باغی ٹی وی،ڈیجیٹل میڈیا کا معتبر اور بااثر پلیٹ فارم،سالگرہ مبارک،تحریر:حنا سرور

    باغی ٹی وی،پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کا محافظ، تحریر: ملک ارشد کوٹگلہ

    "باغی کے ظلم کے خلاف بغاوت کے 13 برس”تحریر:اعجازالحق عثمانی

    باغی ٹی وی کا کامیاب سفر،13ویں سالگرہ

    noor