Baaghi TV

Category: بلاگ

  • مایوسی گناہ ہے، امید کو زندہ رکھیں

    مایوسی گناہ ہے، امید کو زندہ رکھیں

    آرمی چیف کا پیغام قوم کے نام…
    Never Ever Lose Hope (مایوسی گناہ ہے، امید کو زندہ رکھیں)
    تحریر:شاہد نسیم چوہدری
    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا یہ پیغام کہ "مایوسی گناہ ہے، امید کو زندہ رکھیں” نہ صرف موجودہ حالات میں قوم کے لیے حوصلے اور رہنمائی کا ذریعہ ہے بلکہ اسلامی تعلیمات اور ہماری قومی تاریخ کے مطابق بھی ایک اہم پیغام ہے۔ یہ پیغام قوم کے لیے روشنی کی کرن ہے، جو مشکل حالات میں اتحاد اور عزم کے ساتھ آگے بڑھنے کی تاکید کرتا ہے۔

    مایوسی ایک ایسی کیفیت ہے جو انسان کے اندر موجود قوتِ عمل کو ختم کر دیتی ہے۔ یہ نہ صرف فرد کی ذاتی زندگی پر منفی اثر ڈالتی ہے بلکہ اجتماعی طور پر پوری قوم کو کمزور کر سکتی ہے۔ جب ایک قوم کے افراد مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں تو وہ ترقی، اتحاد اور قربانی کے جذبے سے محروم ہو جاتے ہیں۔

    امید انسان کے اندر وہ طاقت پیدا کرتی ہے جو اسے مشکل سے مشکل حالات کا سامنا کرنے کی قوت عطا کرتی ہے۔ امید نہ صرف ذہنی سکون کا باعث بنتی ہے بلکہ یہ انسان کو نئے مواقع تلاش کرنے اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے پر بھی مائل کرتی ہے۔

    اسلام میں امید کو ایمان کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا "اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ہمیشہ امید رکھو اور اس کے فضل کے طالب رہو۔”

    آج کے دور میں ہم ایک ایسی دنیا میں رہ رہے ہیں جہاں ہر طرف سے منفی خبریں اور مایوسی کے پیغام سننے کو ملتے ہیں۔ لیکن ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ مایوسی اسلام میں گناہ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ کسی بھی خبر کو آگے بڑھانے سے پہلے اس کی تحقیق کریں۔

    قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
    "اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لو، ایسا نہ ہو کہ تم نادانی میں کسی قوم کو نقصان پہنچا بیٹھو اور بعد میں تمہیں اپنے کیے پر ندامت ہو۔”
    (سورہ الحجرات: 6)
    یہ آیت ہمیں ایک سبق دیتی ہے کہ افواہوں اور غیر مصدقہ خبروں سے گریز کریں اور ہمیشہ حقائق کی بنیاد پر بات کریں۔

    آرمی چیف سید عاصم منیر نے قوم کو پیغام دیتے ہوئے مزید کہا ہے کہ
    آج پاکستان کو اتحاد کی ضرورت ہے، نہ کہ سیاست اور اختلافات کے ذریعے تقسیم ہونے کی۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اختلافِ رائے ضرور ہو سکتا ہے لیکن یہ اختلاف نفرت کا باعث نہ بنے۔ ہمیں اپنی قوم کے بہتر مستقبل کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا۔

    پاکستانی عوام کو بچانے کے لیے ہمیں اپنے دلوں میں محبت اور قوم کی خدمت کا جذبہ پیدا کرنا ہوگا۔ ہر فرد اپنی ذمہ داری سمجھے اور اپنے کردار کے ذریعے ایک مضبوط اور خوشحال پاکستان کی بنیاد رکھے۔

    آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کہا ہے کہ آزادیٔ اظہار کو قواعد و ضوابط کا پابند کیے بغیر استعمال کرنا معاشرتی اخلاقیات کی گراوٹ کا باعث بن رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی مہذب اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد صرف آزادی ہی نہیں، بلکہ اس کے ساتھ ذمہ داری کا شعور بھی ہے۔

    آزادیٔ اظہار ایک قیمتی نعمت ہے لیکن اگر اسے حدود اور اصولوں کے دائرے میں نہ رکھا جائے تو یہ معاشرتی بگاڑ کا سبب بن سکتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اس آزادی کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کریں اور اسے مثبت اور تعمیری مقاصد کے لیے بروئے کار لائیں۔

    آئیے، ہم سب مل کر اپنی اخلاقی اور معاشرتی اقدار کو مضبوط کریں اور اپنی آزادیٔ اظہار کو معاشرے کی بہتری اور فلاح کے لیے استعمال کریں۔ یہی ایک مہذب اور پرامن معاشرے کی حقیقی پہچان ہے۔

    پاک فوج اپنے فرض پر پورا اُترتی ہے۔ پاک فوج قوم نے اس ملک کو مزید محفوظ بنانا ہے اور ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل کرنا ہے۔ نوجوانوں کی انتھک محنت رنگ لائے گی اور پاکستان ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہوگا۔

    پاکستان کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ہم نے ہر مشکل وقت میں اپنے حوصلے سے کامیابی حاصل کی ہے۔ 1965 کی جنگ میں، جب دشمن نے ہم پر حملہ کیا تو پوری قوم ایک سیسہ پلائی دیوار بن گئی۔ اسی طرح 2008 کے زلزلے اور 2010 کے سیلاب کے دوران عوام نے جس طرح مشکل حالات کا سامنا کیا وہ ہماری امید اور اتحاد کی بہترین مثالیں ہیں۔

    یہی امید کا جذبہ ہمیں قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں آزادی کی جدوجہد میں بھی نظر آتا ہے۔ قائداعظم نے ہمیشہ قوم کو یقین دلایا کہ مسلمان ایک عظیم قوم ہیں اور انہیں اپنی منزل حاصل کرنے سے کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔

    یہ وقت ہے کہ ہم اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں، نوجوان نسل کو تعلیم اور ترقی کی طرف راغب کریں اور اپنی قوت کو مثبت سمت میں استعمال کریں۔ آرمی چیف کے پیغام کو سمجھنے اور اپنانے کا مطلب یہ ہے کہ ہم خود کو اور اپنے ملک کو ایک بہتر مستقبل کے لیے تیار کریں۔

    مایوسی کے اندھیروں کو امید کی روشنی سے بدلیں، کیونکہ ہماری کوششیں ہی اس ملک کو کامیاب بنائیں گی۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین۔

  • جون ایلیاء کی 93 ویں سالگرہ: اردو ادب کا بے مثال شاعر

    جون ایلیاء کی 93 ویں سالگرہ: اردو ادب کا بے مثال شاعر

    آج اردو ادب کے معروف شاعر، فلسفی، اور سوانح نگار جون ایلیاء کے مداح ان کی 93 ویں سالگرہ منارہے ہیں۔

    جون ایلیاء کا اصل نام سید جون اصغر تھا، اور وہ 14 دسمبر 1931ء کو بھارت کی ریاست اتر پردیش کے شہر امروہہ میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا تعلق ایک علمی و ادبی گھرانے سے تھا، جہاں ادب و ثقافت کی عظیم روایات کا آغاز ہوا۔ ان کے والد، علامہ شفیق حسن ایلیاء، ایک بلند پایہ عالم تھے، جنہوں نے اردو، فارسی، عربی، اور عبرانی زبانوں میں مہارت حاصل کی۔ ان کے بڑے بھائی، سید محمد تقی اور رئیس امروہوی بھی اردو ادب کی دنیا کے جانے پہچانے نام تھے۔

    جون ایلیاء نے اپنے ادبی سفر کا آغاز بچپن میں کیا، اور صرف 8 سال کی عمر میں پہلا شعر کہا تھا۔ اس کے بعد وہ شاعری میں گہرائی اور لطافت کی نئی راہیں کھولتے گئے اور اپنی زندگی بھر کی تخلیقی سفر میں وہ اردو ادب کے منفرد شاعر بن گئے۔جون ایلیاء کی شاعری میں ایک خاص نوعیت کی بے باکی اور انفرادیت تھی، جس کی بدولت وہ نوجوان نسل کے پسندیدہ شاعر بنے۔ ان کی تحریروں میں فلسفے، تاریخ، منطق، اور یورپی ادب کا حسین امتزاج پایا جاتا تھا۔ ان کا اندازِ تحریر اتنا نرالا اور جاندار تھا کہ وہ اردو کے روایتی اشعار سے ہٹ کر ایک نئی شعری فضا تخلیق کرنے میں کامیاب ہوئے۔ ان کی شاعری میں انسانی جذبات، محبت، تنہائی، اور دنیا کی حقیقتوں کا گہرا عکس تھا۔

    شاعری کے مجموعے اور ادبی خدمات
    جون ایلیاء کے مشہور شعری مجموعوں میں "شاید”، "یعنی”، "لیکن”، "گمان” اور "گویا” شامل ہیں۔ ان مجموعوں نے اردو ادب کی دنیا میں ایک نیا سنگ میل قائم کیا۔ ان کی شاعری کی خصوصیت یہ تھی کہ وہ ایک طرف جہاں حقیقتوں اور تلخ حقیقتوں کی عکاسی کرتے، وہیں دوسری طرف ان کے اشعار میں فلسفہ اور گہری سوچ بھی چھپی ہوئی ہوتی تھی۔جون ایلیاء نے نہ صرف شاعری میں بلکہ سوانح نگاری، فلسفے اور ادبی تنقید میں بھی نمایاں کام کیا۔ ان کی گہری بصیرت اور وسیع علم نے انہیں ایک منفرد مقام دیا۔ انہوں نے پاکستان کے معروف کالم نگار و افسانہ نگار زاہدہ حنا سے شادی کی تھی، تاہم یہ رشتہ کامیاب نہ ہو سکا۔

    اعزازات اور یادگار خدمات
    جون ایلیاء کی ادبی خدمات کو حکومتِ پاکستان نے بھی سراہا اور 2000ء میں انہیں "صدارتی تمغۂ حسنِ کارکردگی” عطا کیا۔ ان کے کلام کی بازگشت آج بھی اردو ادب کے محافل میں سنائی دیتی ہے۔جون ایلیاء 8 نومبر 2002ء کو اس دنیا سے رخصت ہوگئے، لیکن ان کی شاعری اور افکار آج بھی زندہ ہیں۔ انہیں کراچی کے سخی حسن قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔آج ان کی 93 ویں سالگرہ کے موقع پر ان کے مداح اور اردو ادب کے شائقین ان کی یادوں کو تازہ کر رہے ہیں، اور ان کی شاعری کو پڑھ کر اور سراہ کر انہیں خراجِ تحسین پیش کر رہے ہیں۔ جون ایلیاء کا کلام آج بھی ادب کی دنیا میں ایک نشانِ منزل کی حیثیت رکھتا ہے اور اردو شاعری کے دلدادہ افراد کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔

    وزیراعلیٰ پنجاب کی چین کی ٹیکنالوجیز کمپنیوں کو آپریشن شروع کرنے کی دعوت

    اسلام آباد: ہوٹل میں لڑکی کی لاش ملنے کا کیس، ملزم علی رضا گرفتار

  • 16 دسمبر: سانحہ اے پی ایس کی دسویں برسی

    16 دسمبر: سانحہ اے پی ایس کی دسویں برسی

    16 دسمبر: سانحہ اے پی ایس کی دسویں برسی
    ضیاء الحق سرحدی، پشاور
    ziaulhaqsarhadi@gmail.com
    پاکستان کی 76 سالہ تاریخ مختلف حادثات و سانحات سے بھری ہوئی ہے، لیکن کچھ واقعات ایسے ہیں جو ہم شاید کبھی نہ بھول سکیں۔ 16 دسمبر کا دن بھی انہی واقعات میں سے ایک ہے۔ جہاں ایک طرف 1971ء میں پاکستان کے دو لخت ہونے کا غم منایا جاتا ہے، وہیں سال 2014ء میں اسی روز ایک ایسا اندوہناک واقعہ پیش آیا جس نے پوری قوم کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔

    16 دسمبر 2014ء کی صبح خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں واقع آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس) پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے عسکریت پسندوں نے حملہ کیا۔ حملہ آوروں نے طلبہ اور اساتذہ کو یرغمال بنانے کے بعد فائرنگ کرکے 140 سے زائد افراد کو شہید کر دیا۔ اس واقعے کے بعد پاک فوج نے جاری آپریشن ضرب عضب کو مزید تیز کر دیا۔

    اسی دوران اُس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے قوم سے خطاب میں 20 نکاتی نیشنل ایکشن پلان (این اے پی) کا اعلان کیا، جس پر تمام پارلیمانی جماعتوں کے اتفاق رائے کے بعد عمل درآمد شروع ہوا۔ حکومت نے سیاسی و مذہبی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر دہشت گردی کے خاتمے کے لیے فوجی عدالتیں قائم کیں اور سزائے موت پر عائد غیر اعلانیہ پابندی بھی ہٹا دی۔

    سانحہ آرمی پبلک اسکول کے بعد انصاف کے متلاشی شہدا کے لواحقین کا مطالبہ تھا کہ ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ پشاور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ نے سانحے کی عدالتی تحقیقات کا حکم دیا، جس کے تحت 2018ء میں ایک عدالتی کمیشن تشکیل دیا گیا۔ کمیشن نے 2020ء میں اپنی تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی، جو 3 ہزار صفحات پر مشتمل تھی۔

    سانحہ اے پی ایس کو دنیا کے بدترین دہشت گرد حملوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس میں 133 ننھے معصوم بچے شہید ہوئے جبکہ اسکول کی پرنسپل طاہرہ قاضی سمیت عملے کے 9 ارکان بھی جان کی بازی ہار گئے۔

    یہ سانحہ صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ پاکستان کے دل پر ایک گہرا زخم ہے، جس نے ماؤں کی گودیں اجاڑ دیں، والدین کے لخت جگر چھین لیے اور کئی بہنوں کو ہمیشہ کے لیے اپنے بھائیوں سے محروم کر دیا۔ یہ وہ دن ہے جو پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

    آرمی پبلک اسکول کے شہدا کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے نام سے صوبے کے 127 سرکاری اسکول اور پشاور کی کئی شاہراہیں منسوب کی گئیں۔ سانحہ کے مجرموں کو بھی انجام تک پہنچایا گیا، جنہیں فوجی عدالتوں نے موت کی سزا سنائی۔

    ہمیں یہ یقین ہے کہ ہمارے مسلح افواج اور موجودہ قیادت اس ملک کو دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں سے ہمیشہ محفوظ رکھیں گی۔ سانحہ اے پی ایس کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ہر سال تقریبات منعقد کی جاتی ہیں تاکہ ان کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جا سکے۔

    "اگر ہے جذبہ تعمیر زندہ تو پھر کس چیز کی ہم میں کمی ہے”!

  • پاکستانی عوام سیاسی جادو گری کا شکار

    پاکستانی عوام سیاسی جادو گری کا شکار

    پاکستانی عوام سیاسی جادو گری کا شکار
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی

    پاکستان کی سیاسی فضاء ایک بار پھر ہلچل کا شکار ہے۔ تحریک انصاف اور حکومتی جماعتوں کے درمیان مذاکرات اور الزامات کی کشمکش جاری ہے، جس سے نہ صرف سیاسی منظرنامہ مزید پیچیدہ ہوگیا ہے بلکہ عوامی مسائل کے حل کے لیے سیاست کے اصل کردار پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔

    اڈیالہ جیل میں عمران خان نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اپنی پارٹی کے رویے پر شدید مایوسی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں توقع تھی کہ ڈی چوک کے معاملے کو پارلیمنٹ اور دیگر فورمز پر بھرپور انداز میں اٹھایا جائے گا لیکن ایسا نہ ہونے کی وجہ سے ان کی اپنی جماعت کی فعالیت پر سوالات اٹھتے ہیں۔ عمران خان کا یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ وہ پارٹی کے اندرونی مسائل اور قیادت کی حکمت عملی سے مطمئن نہیں ہیں۔

    دوسری طرف سینیٹ میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے تحریک انصاف کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ عرفان صدیقی نے سوال اٹھایا کہ کیا پرامن احتجاج الجہاد اور مارو کے نعروں کے ساتھ ہو سکتا ہے؟ انہوں نے تحریک انصاف کی جانب سے سول نافرمانی کی دھمکیوں کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا۔ طلال چوہدری نے تحریک انصاف کے رویے پر مزید بات کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ان کے اقدامات نے مذاکرات کے دروازے بند کر دیے۔ شیری رحمان نے تحریک انصاف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کا وقت ختم ہو چکا ہے اور ملک کی موجودہ صورتحال میں ایسی سیاست کی کوئی جگہ نہیں۔

    تحریک انصاف کے ایک اہم رہنما شیر افضل مروت نے حالیہ سیاسی حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حکومت اور ان کی جماعت کے درمیان رابطے موجود ہیں، لیکن عوامی مسائل کے حل کی بجائے یہ رابطے ذاتی مفادات کے گرد گھومتے نظر آتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے کردار کو بلاوجہ متنازعہ بنایا جا رہا ہے حالانکہ تحریک انصاف کو ان سے کوئی خاص فائدہ نہیں پہنچا۔ ان کا کہنا تھا کہ 9 مئی کے واقعات کو کسی ایک فرد کی ذمہ داری قرار دینا غیر منصفانہ ہوگا۔

    اسی دوران قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق اور تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی۔ ایاز صادق نے تجویز پیش کی کہ جماعتیں اپنے اندرونی مسائل حل کریں تاکہ مذاکرات شفاف انداز میں آگے بڑھ سکیں۔ اسد قیصر نے اس تجویز کو اپنی جماعت میں زیر غور لانے کا وعدہ کیا۔

    تحریک انصاف کی طرف سے سول نافرمانی کی کال اور حکومتی رہنماؤں کی سخت تنقید یہ ظاہر کرتی ہے کہ مذاکرات کا عمل شفاف ہونے کے بجائے سیاسی بیان بازی کا شکار ہو رہا ہے۔ حالیہ بیانات میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کا نام باربار لیاجارہاہے جس پر حکومتی رہنماؤں کا الزام ہے کہ وہ تحریک انصاف کے سیاسی مفادات کو آگے بڑھاتے رہے۔ تحریک انصاف نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اپنی پوزیشن واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔

    پاکستان میں سیاسی کشمکش نے عوام کو ایک عجیب و غریب سیاسی جادو گری کا شکار بنا دیا ہے۔ جہاں ایک طرف ملک کی معیشت بے حد نازک حالت میں ہے وہیں دوسری طرف سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے بجائے عوامی مسائل پر بات کرنے کو تیار نہیں۔ عوام کی فلاح و بہبود کا مسئلہ پس منظر میں چلا گیا ہے اور سیاستدان اپنے ذاتی مفادات کو ترجیح دے رہے ہیں۔

    اگر سیاسی قیادت نے اپنی ترجیحات کا ازسرنو جائزہ نہ لیا تو یہ سیاسی سازشیں عوام کے مسائل حل کرنے کی بجائے مزید پیچیدہ اور سنگین ہو جائیں گی۔ اس وقت ملک کو صرف سیاسی افہام و تفہیم کی ضرورت ہے تاکہ عوامی مسائل کو ترجیح دی جا سکے۔ مذاکرات تب ہی کامیاب ہو سکتے ہیں جب دونوں فریق اپنے سخت موقف میں نرمی لائیں اور عوام کی تکالیف کو سامنے رکھیں۔ بصورت دیگر یہ سیاسی کھیل ملک کو مزید بحرانوں کی طرف دھکیل سکتا ہے۔

  • آئیے ہاتھ بڑھائیے.تحریر:قرۃالعین خالد

    آئیے ہاتھ بڑھائیے.تحریر:قرۃالعین خالد

    آئیے ہاتھ بڑھائیے
    تحریر:قرۃالعین خالد
    الحمدللہ! دارالفلاح ایک ایسا ادارہ ہے جو بے آسرا ماؤں اور بچوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ ہے۔ دارالفلاح کی بنیاد 1967 میں رکھی گئی۔1965 کی جنگ کے بعد بہت سی خواتین بیوہ ہو گئیں تو اس ادارے کی بنیاد رکھی گئی۔ پنجاب میں تقریبا چھ شہروں میں دارالفلاح اپنا کام بےحد خوش اسلوبی سے سر انجام دے رہا ہے۔ جن میں لاہور راولپنڈی ملتان بہاولپور سرگودھا اور سیالکوٹ شامل ہیں۔

    الحمدللہ رب العالمین 12 دسمبر 2024 بروز بدھ "سعدین انسٹیٹیوٹ” کی جانب سے ایک موٹیویشنل سیشن کا اہتمام کیا گیا جس کا مقصد خواتین کو زندگی کے مقصد سے آگاہ کرنا تھا۔ زندگی اور خالات سے پریشان خواتین سے بات کر کے ان کا تعلق رب سے جوڑنے کی ادنی سی کوشش کی گئی۔ ڈپٹی ڈائریکٹر میاں شاہد صاحب سے بات چیت کے دوران اندازہ ہوا کہ وہ ایک درد دل رکھنے والے انسان ہیں اور وہ ان خواتین اور بچوں کی دینی تعلیم کے لیے خاص اہتمام کرتے ہیں۔ وارڈن میم تعظیم صاحبہ بھی اس کار خیر میں اپنی ٹیم کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہیں۔

    گو کہ یہ ادارہ سوشل ویلفیئر اینڈ بیعت المال گورنمنٹ آف پنجاب کی زیرِ سرپرستی میں ہے لیکن سیالکوٹ کے رہائشی بھی درد دل رکھتے ہوئے ہمیشہ ادارے کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔ میں قرۃالعین خالد کالم نگار، مصنفہ سی ای او سعدین انسٹیٹیوٹ "مقصد حیات” پر بات کرتے ہوئے اداس چہروں پر مسکراہٹ بکھرتے دیکھ سکون قلب کے ساتھ واپس گھر آئی۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ہم سب کو ہمارا حقیقی مقصد حیات سمجھا دے آمین۔

    میں اپنی دوست شافیہ کاشف کی شکر گزار ہوں جس کے توسط سے مجھے دارالفلاح کے انتظامیہ اور وہاں کے رہائشیوں سے اتنے قریب سے ملنے کا موقع ملا۔ دارالفلاح نہ صرف بے بس ماں بچے کے لیے پناہ گاہ ہے بلکہ وہاں خواتین کو ہنر سکھانے کا مکمل انتظام بھی موجود ہے جسے سیکھ کر خواتین مستقبل میں اپنا اور اپنے بچوں کا خود خیال رکھ سکتی ہیں۔

    مخیر افراد سے گذارش ہے کہ ایسے اداروں کا خاص خیال رکھا کریں اللہ ربّ العزت سب کے رشتوں کو سلامت رکھے آمین۔ آئیے ہاتھ بڑھائیے اور اپنے حصے کی شمع روشن کریں۔

  • مریم کی دستک: جدید سہولیات پنجاب کےعوام کی دہلیز پر

    مریم کی دستک: جدید سہولیات پنجاب کےعوام کی دہلیز پر

    مریم کی دستک: جدید سہولیات پنجاب کےعوام کی دہلیز پر
    شاہد نسیم چوہدری ٹارگٹ
    عوام کی فلاح و بہبود کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت پنجاب نے جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے ایک منفرد اور انقلابی منصوبہ "مریم کی دستک” متعارف کرایا ہے۔ یہ اقدام خاص طور پر ان شہریوں کے لیے نہایت مفید ہے جو سرکاری دفاتر کے بار بار چکر لگانے سے قاصر ہیں یا جنہیں وہاں جانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ "مریم کی دستک” کے ذریعے حکومت نے نہ صرف اپنی خدمات کو بہتر انداز میں عوام تک پہنچایا ہے بلکہ شہریوں کی زندگیوں کو سہولت بخش بھی بنایا ہے۔

    "مریم کی دستک” ایک ایسا منصوبہ ہے جو 65 سے زیادہ سرکاری خدمات کو موبائل ایپ اور ویب پورٹل کے ذریعے شہریوں کی دہلیز پر فراہم کرتا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد لوگوں کو سرکاری دفاتر میں وقت اور وسائل ضائع کرنے سے بچانا اور تمام ضروری خدمات کو ان کے گھر تک پہنچانا ہے۔یہ منصوبہ درج ذیل اہم خدمات فراہم کرتا ہے:
    1. ڈومیسائل سرٹیفکیٹ2. ایف آئی آر کی کاپیاں
    3. پیدائش کے سرٹیفکیٹس4. لرنرز ڈرائیونگ لائسنس
    5. ای-اسٹیمپنگ
    یہ خدمات عوام کے لیے نہایت کارآمد ہیں خاص طور پر ان کے لیے جو اپنے کام کے دوران وقت نہیں نکال سکتے یا جنہیں نقل و حرکت میں دشواری کا سامنا ہوتا ہے۔یہ منصوبہ خواتین اور بزرگوں کے لیے ایک بہت بڑی سہولت ہے۔ خواتین جو گھریلو کاموں یا بچوں کی دیکھ بھال میں مصروف ہوتی ہیں، اکثر سرکاری دفاتر جانے کے لیے وقت نہیں نکال پاتیں۔ بزرگ افراد، جن کے لیے لمبی قطاروں میں کھڑا ہونا یا دفتر پہنچنا مشکل ہوتا ہے، بھی اس منصوبے سے مستفید ہو رہے ہیں۔

    کام کرنے والے پیشہ ور افراد کے لیے مددگار,وہ افراد جو نوکریوں یا کاروبار کے سلسلے میں زیادہ مصروف ہوتے ہیں، اکثر سرکاری دستاویزات کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ "مریم کی دستک” نے ان کے لیے خدمات کا حصول آسان بنا دیا ہے۔ اب وہ موبائل ایپ یا ویب پورٹل کے ذریعے درخواست دے سکتے ہیں اور تمام خدمات ان کے گھر تک پہنچائی جاتی ہیں۔

    ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا انقلابی استعمال
    "مریم کی دستک” ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے عوامی خدمت کا ایک مثالی نمونہ ہے۔ موبائل ایپ اور ویب پورٹل کا استعمال حکومت کی جانب سے ایک بڑی کامیابی ہے۔ یہ نہ صرف عوام کے لیے وقت کی بچت کرتا ہے بلکہ سرکاری دفاتر میں رش کو بھی کم کرتا ہے۔

    سرکاری دفاتر کی مشکلات کا خاتمہ
    ماضی میں، سرکاری دفاتر میں طویل قطاروں، وقت کی بربادی، اور عملے کے غیر ذمہ دارانہ رویے کی شکایات عام تھیں۔ ان مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے "مریم کی دستک” متعارف کرائی گئی ہے، جو ان تمام مشکلات کو ختم کرنے میں مددگار ثابت ہوئی ہے۔

    بدعنوانی کا خاتمہ
    اس منصوبے کی ایک اور بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس نے سرکاری خدمات میں بدعنوانی کے امکانات کو ختم کیا ہے۔ اب عوام براہ راست خدمات حاصل کرتے ہیں، جس سے درمیانی افراد کی ضرورت ختم ہو گئی ہے اور بدعنوانی کی روک تھام ممکن ہوئی ہے۔

    معاشی فوائد
    "مریم کی دستک” نہ صرف عوام کے وقت کی بچت کرتی ہے بلکہ ان کے مالی وسائل کو بھی محفوظ بناتی ہے۔ سرکاری دفاتر کے چکر لگانے کے بجائے، لوگ اپنے گھروں میں رہتے ہوئے تمام ضروری خدمات حاصل کر سکتے ہیں۔

    چیلنجز اور ان کا حل
    ہر نئے منصوبے کی طرح "مریم کی دستک” کو بھی چند چیلنجز کا سامنا ہے، جنہیں حل کرنا ضروری ہے:
    1. ڈیجیٹل خواندگی
    دیہی علاقوں میں رہنے والے لوگ اکثر ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال سے ناواقف ہوتے ہیں۔ حکومت کو ان لوگوں کی تربیت پر توجہ دینی ہوگی تاکہ وہ بھی اس سہولت سے مستفید ہو سکیں۔
    2. انٹرنیٹ کی دستیابی
    دیہی اور دور دراز علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولت ناکافی ہے، جو اس منصوبے کی کامیابی میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ حکومت کو انٹرنیٹ کی رسائی کو یقینی بنانا ہوگا۔
    3. سائبر سیکیورٹی
    ڈیجیٹل سروسز کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ سائبر جرائم کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔ حکومت کو شہریوں کے ڈیٹا کی حفاظت کے لیے موثر اقدامات کرنے ہوں گے۔
    "مریم کی دستک” بلاشبہ ایک انقلابی اقدام ہے جو حکومت کی جانب سے عوامی خدمت کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔ اس منصوبے نے نہ صرف عوام کی زندگیوں کو آسان بنایا ہے بلکہ سرکاری دفاتر میں شفافیت اور عوامی اعتماد کو بھی بحال کیا ہے۔

    حکومت کو چاہیے کہ اس منصوبے کو مزید وسعت دے اور دیگر خدمات کو بھی اس نظام کا حصہ بنائے۔ مزید برآں شہریوں کو اس منصوبے کے بارے میں آگاہ کرنے کے لیے مناسب مہمات چلائی جائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔

    "مریم کی دستک” ایک ایسا ماڈل ہے جسے دوسرے صوبے اور ادارے بھی اپناتے ہوئے اپنی خدمات کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ یہ اقدام عوام اور حکومت کے درمیان اعتماد کی فضا کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ ایک مثالی ڈیجیٹل پاکستان کے خواب کی تعبیر کی جانب اہم قدم ہے۔

  • انقلاب شام مثل پاکستان

    انقلاب شام مثل پاکستان

    انقلاب شام مثل پاکستان
    از قلم: غنی محمود قصوری

    اس وقت ارضِ انبیاء مملکتِ شام مکمل طور پر بشار الاسد کے قبضے سے نکل کر اپوزیشن کے عسکری ونگز کے ہاتھوں میں چلی گئی ہے۔ اسی باعث کچھ لوگ بڑے وثوق اور جوش سے مملکتِ شام کی مثال دیتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ پاکستان میں بھی شام جیسا انقلاب آنے والا ہے۔ ان لوگوں کا خالص مقصد صرف اپنی سیاسی جماعت کو فائدہ پہنچانا ہے۔

    یہ بات بظاہر کہنے میں بہت آسان اور سادہ لگتی ہے مگر حقیقت میں ایسا ہونا اللہ کے فضل سے ناممکن ہے۔ اس موضوع پر مزید بات کرنے سے پہلے مملکتِ شام کا تعارف ضروری ہے تاکہ شام اور پاکستان کا تقابل بہتر طور پر کیا جا سکے۔

    ارضِ شام میں 80 فیصد عرب، 10 فیصد کرد اور 10 فیصد دیگر اقوام آباد ہیں۔ ان میں سے 87 فیصد مسلمان ہیں، جن میں 74 فیصد اہلِ سنت اور 13 فیصد اہلِ تشیع شامل ہیں۔ باقی 10 فیصد عیسائی اور 3 فیصد دروز مذہب کے پیروکار ہیں۔

    مملکتِ شام جسے عربی میں السوریا کہا جاتا ہے، 1920 سے 1946 تک فرانس کے قبضے میں رہا۔ بعدازاں 1961 میں بعث پارٹی کے زیرِ اقتدار آ گیا اور 8 دسمبر 2024 تک بعث پارٹی کا تسلط برقرار رہا۔ یعنی 63 سال تک صرف ایک جماعت نے حکومت کی۔

    معزول صدر بشار الاسد جو بعث پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں نے 2000 میں اپنے والد حافظ الاسد کی وفات کے بعد اقتدار سنبھالا۔بشار الاسد اور اُن کے والد اہلِ تشیع مسلک کے علوی فرقے سے تعلق رکھتے تھے اور ان کے دورِ حکومت میں اپنے مسلک کے لوگوں کو ترجیح دی گئی۔ بعث پارٹی نے طاقت کے زور پر اپنا اقتدار قائم رکھا۔

    اس عرصے میں حکومت نے مخالف مسالک کے خلاف مسلح جدوجہد کرنے والوں کا سختی سے خاتمہ کیا مگر روس اور دیگر ممالک کی حمایت کے باعث حکومت قائم رہی۔ بعث پارٹی کے دور میں شامی عوام کو نہ کوئی معاشی ترقی نصیب ہوئی اور نہ ہی ان کی زندگیوں میں فرانس کے راج کے مقابلے میں کوئی بہتری آئی۔

    بشار الاسد کے دور میں اختلافِ رائے رکھنے والوں کے خلاف قتل و غارت کا بازار گرم رہا۔ ریڈ زون جیلیں قائم کی گئیں، جہاں مخالفین کو قید کرکے موت کے گھاٹ اتارا جاتا تھا۔ اجتماعی قبریں میڈیا پر دکھائی گئیں، جہاں سینکڑوں افراد کو دفنایا گیا۔ یہ سب کچھ دیکھنا اور لکھنا تو آسان ہے، لیکن حقیقت میں یہ بہت تکلیف دہ تھا۔

    جو لوگ پاکستان میں شام جیسی صورتحال کی بات کرتے ہیں انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ مملکتِ شام میں حقوق المسالک کی لڑائی ہو رہی ہے جبکہ پاکستان میں تمام مسالک آزاد ہیں۔ پاکستان کی تین بڑی سیاسی جماعتوں مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف میں ہر مسلک کے لوگ موجود ہیں۔ مذہبی جماعتیں بھی اپنے اجتماعات اور پروگرامز میں آزاد ہیں۔

    پاکستان میں انتخابات منعقد ہوتے ہیں جن میں تمام جماعتیں حصہ لیتی ہیں۔ اس کے برعکس شام میں ایک ہی پارٹی کا تسلط تھا۔ پاکستان میں فوج اور حکومت میں بھی ہر مسلک کے لوگ اعلیٰ سے ادنیٰ عہدوں پر فائز ہیں جبکہ غیر مسلم اقلیتیں بھی اپنی عبادات اور سرکاری عہدوں میں محدود سطح پر موجود ہیں۔

    جو لوگ پاکستان میں شام جیسا انقلاب دیکھنے کے خواہاں ہیں انہیں چاہیے کہ وہ اپنے انفرادی اور مسلکی حقوق کو دیکھیں۔ پاکستان میں ہر جماعت کو آزادی حاصل ہے اور کوئی بھی سیاسی یا مذہبی جماعت کسی چیز سے محروم نہیں۔ یہاں الیکشن ہارنے والا دھاندلی کا الزام لگاتا ہے اور جیتنے پر اسی نظام کو آئیڈیل قرار دیتا ہے۔

    نتیجے کے طور پر پاکستان میں شام جیسے حالات نہ پہلے تھے نہ ہیں اور ان شاء اللہ کبھی ہوں گے بھی نہیں۔ ہاں کچھ عناصر اس قسم کی کوششیں ضرور کرتے ہیں مگر رب کے فضل سے یہ ممکن نہیں۔ اللہ بہتر جانتا ہے کہ مستقبل کیا لے کر آئے گا لیکن ماضی اور حال گواہ ہیں کہ پاکستان کی بنیادیں مضبوط ہیں اور یہاں انارکی پھیلانے کا کوئی جواز نہیں۔

  • انسانی حقوق کا عالمی دن،عملی اقدامات کی ضرورت

    انسانی حقوق کا عالمی دن،عملی اقدامات کی ضرورت

    انسانی حقوق کا عالمی دن،عملی اقدامات کی ضرورت
    تحریر:شاہد نسیم چوہدری
    آج 10 دسمبر ہے، انسانی حقوق کا عالمی دن۔ دنیا بھر میں یہ دن اقوام متحدہ کے 1948 میں منظور کیے گئے انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ اس موقع پر پاکستان سمیت دنیا بھر میں تقریریں، سیمینارز، اور واکس کا انعقاد ہوتا ہے۔ لوگ انسانی حقوق کی اہمیت پر گفتگو کرتے ہیں، ان کے تحفظ کے عزم کا اظہار کرتے ہیں اور معاشرتی انصاف کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔

    لیکن سوال یہ ہے کہ یہ حقوق عملی طور پر کب فراہم ہوں گے؟ کیا انسانی حقوق صرف تقریبات اور وعدوں تک محدود رہیں گے یا ہم کبھی انہیں حقیقت میں نافذ کرنے کے قابل ہوں گے؟

    انسانی حقوق کی موجودہ صورتحال:
    پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ تعلیم، صحت، اظہار رائے، مذہبی آزادی، خواتین اور بچوں کے حقوق اور مزدوروں کے تحفظ جیسے بنیادی مسائل تاحال حل طلب ہیں۔ عوام کی اکثریت بنیادی سہولیات سے محروم ہے، جبکہ ریاست کی جانب سے ان مسائل کو حل کرنے کے وعدے اکثر سیاسی بیانات تک محدود رہتے ہیں۔

    1. تعلیم اور صحت کے حقوق:
    آئین پاکستان ہر شہری کو مفت تعلیم کا حق دیتا ہے لیکن ملک میں لاکھوں بچے آج بھی سکول جانے سے محروم ہیں۔ دیہی علاقوں میں سکولوں کی کمی، ناقص تعلیمی نظام اور والدین کی غربت اس مسئلے کو مزید گہرا کرتے ہیں۔ صحت کے شعبے میں بھی صورتحال مختلف نہیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں سہولیات کا فقدان، مہنگی ادویات اور طبی عملے کی کمی عوام کو معیاری صحت کی سہولت سے محروم رکھتی ہے۔

    2. خواتین اور اقلیتوں کے حقوق:
    پاکستان میں خواتین اور اقلیتیں سماجی، مذہبی، اور قانونی امتیازات کا سامنا کرتی ہیں۔ خواتین کو گھریلو تشدد، جنسی ہراسانی اور تعلیم و ملازمت کے مواقع سے محرومی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ اسی طرح اقلیتیں جنہیں آئینی طور پر برابر کے حقوق حاصل ہیں، عملی طور پر مذہبی تعصب اور تشدد کا شکار ہیں۔
    3. اظہار رائے کی آزادی
    جمہوریت میں اظہار رائے کی آزادی بنیادی حیثیت رکھتی ہے لیکن پاکستان میں صحافیوں اور سماجی کارکنوں کو سنسرشپ، دھمکیوں اور حملوں کا سامنا ہے۔ میڈیا پر دباؤ اور سوشل میڈیا کی نگرانی نے آزادی اظہار کے تصور کو محدود کر دیا ہے۔

    4. بچوں کے حقوق
    پاکستان میں بچوں کی بڑی تعداد چائلڈ لیبر، جبری مشقت اور استحصال کا شکار ہے۔ تعلیم کے حق سے محروم یہ بچے کم عمری میں ہی غربت کی چکی میں پسنے لگتے ہیں جبکہ قانون کا نفاذ اس حوالے سے ناکافی ہے۔

    انسانی حقوق کے مسائل کی وجوہات:پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی کئی وجوہات ہیں
    1. حکومتی غفلت: حکومت کی ناکامی انسانی حقوق کے مسائل کا بنیادی سبب ہے۔ پالیسیاں بنائی جاتی ہیں لیکن ان پر عملدرآمد نہیں ہوتا۔
    2. سماجی رویے:معاشرتی تعصبات اور روایات انسانی حقوق کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔
    3. معاشی مسائل: غربت، بیروزگاری، اور وسائل کی غیر مساوی تقسیم انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو فروغ دیتی ہے۔
    4. قانونی کمزوری: قوانین کی موجودگی کے باوجود ان پر عملدرآمد نہ ہونا مسائل کو بڑھاتا ہے۔

    انسانی حقوق کے نفاذ کے لیے تجاویز:انسانی حقوق کے عملی نفاذ کے لیے کئی اقدامات کیے جا سکتے ہیں
    1. قانونی اصلاحات اور عملدرآمد: حکومت کو چاہیے کہ انسانی حقوق کے قوانین پر سختی سے عملدرآمد کروائے۔ عدلیہ کو فعال کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ مظلوموں کو انصاف فراہم ہو سکے۔
    2. تعلیم اور شعور کی بیداری .عوام میں انسانی حقوق کے حوالے سے شعور بیدار کرنا ضروری ہے۔ تعلیمی اداروں، میڈیا، اور سول سوسائٹی کو اس حوالے سے اہم کردار ادا کرنا چاہیے۔
    3. سماجی رویوں میں تبدیلی .معاشرتی تعصبات اور دقیانوسی سوچ کو ختم کرنے کے لیے آگاہی مہمات شروع کی جائیں۔ یہ مہمات انسانی حقوق کی اہمیت کو اجاگر کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔
    4.معاشی مسائل کا حل.غربت کے خاتمے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے حکومت کو معاشی پالیسیوں پر توجہ دینی ہوگی۔ بیروزگاری کم کرنے اور سماجی بہبود کے پروگرامز متعارف کروانے کی ضرورت ہے۔
    5. بین الاقوامی تعاون .انسانی حقوق کے نفاذ کے لیے عالمی تنظیموں کے ساتھ تعاون بڑھایا جائے اور ان کے فراہم کردہ وسائل اور رہنمائی کا فائدہ اٹھایا جائے۔

    انسانی حقوق کا عالمی دن ہمیں اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ تمام انسان برابر ہیں اور انہیں ان کے حقوق اور آزادیوں کے ساتھ جینے کا حق ہے۔ لیکن یہ حقوق صرف تقریبات یا وعدوں تک محدود نہیں رہنے چاہئیں۔ حکومت، سول سوسائٹی اور عوام کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ انسانی حقوق کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔ یہ سفر مشکل ضرور ہے لیکن اگر نیت اور عمل مخلص ہو تو ایک منصفانہ اور مساوی معاشرے کی تشکیل ممکن ہے۔

  • کزن میرج، موروثی بیماریاں، اسلام کی روشنی میں جائزہ

    کزن میرج، موروثی بیماریاں، اسلام کی روشنی میں جائزہ

    کزن میرج، موروثی بیماریاں، اسلام کی روشنی میں جائزہ
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفیٰ بڈانی
    برطانیہ میں فرسٹ کزنز کی شادی پر پابندی کا مجوزہ بل آج دارالعوام میں پیش کیا جائے گا۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اگر یہ بل منظور ہو جاتا ہے تو برطانیہ میں فرسٹ کزنز کے درمیان شادی پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔ اس بل کا مقصد ان شادیوں سے جینیاتی بیماریوں کے خطرات کو کم کرنا ہے، کیونکہ طبی ماہرین کے مطابق کزن میرجز میں جینیاتی خرابی، جینومک ڈس آرڈر اور جینیاتی میوٹیشن کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ ان بیماریوں کی وجہ سے تھیلیسیمیا، مرگی، گونگا پن اور بہرہ پن جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

    پاکستان میں بھی کزن میرجز کا رجحان بہت زیادہ ہے، جس کی وجہ سے جینیاتی بیماریوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے ماہرین کی تحقیق کے مطابق پاکستان میں کزن میرجز کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جس سے جینیاتی بیماریوں کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی شادیوں میں جینیاتی ہم آہنگی زیادہ ہوتی ہے، جس کے باعث بیماریوں کے منتقل ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

    اسلام میں کزن میرج کو جائز سمجھا گیا ہے بشرطیکہ دونوں افراد کی رضا مندی ہو اور شریعت کے دیگر اصولوں کی پیروی کی جائے۔ تاہم اسلام میں صحت کے حوالے سے بھی اہم ہدایات دی گئی ہیں۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ "تم میں سے کسی بھی شخص کو بیماری کے بارے میں کسی دوسرے شخص کو منتقل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی” (بخاری)۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر کسی خاندان میں جینیاتی بیماریوں کا خطرہ ہو تو ایسی شادیوں سے بچنا ضروری ہو سکتا ہے تاکہ بیماریوں کا پھیلاؤ نہ ہو۔

    اسلام میں صحت کو بڑی نعمت سمجھا گیا ہے اور اس کی حفاظت کا حکم دیا گیا ہے۔ اگر کسی شادی میں جینیاتی بیماریوں کا خطرہ ہو تو ایسی شادیوں سے بچنا بہتر ہو سکتا ہے تاکہ آنے والی نسلوں کی صحت پر منفی اثرات نہ ہوں۔ شریعت میں بھی اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ انسان کو اپنے جسمانی اور ذہنی صحت کا خیال رکھنا چاہیے اور اگر کسی شادی کے نتیجے میں بیماریوں کا خطرہ ہو تو اس بات کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے۔

    پاکستان اور دیگر مسلم ممالک میں جہاں کزن میرجز ایک عام بات ہے،ہم مسلمان ہیں اور ہماری زندگی کے تمام معاملات میں ہمیں کتاب و سنت سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ مغربی معاشرتی نظریات کو بغیر سوچے سمجھے اپنالیں اور ان کی مخالفت بھی اس طرح کریں جیسے وہ کسی نہ کسی بات کے خلاف ہوں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بعض مغربی ممالک میں کزن میرج پر قانونی پابندی ہے اور ان کے مطابق اس سے بیماریوں کا خطرہ ہوتا ہے۔ تاہم ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اللہ نے جو چیزیں حلال کی ہیں وہ انسانوں کے لیے نقصان دہ نہیں ہو سکتیں اور جو چیزیں حرام کی گئی ہیں وہ ہمارے لیے ہر حال میں نقصان دہ ہوتی ہیں۔

    قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ”اے نبی! ہم نے تمہارے لیے حلال کر دیں تمہاری وہ بیویاں جن کے مہر تم نے ادا کئے ہیں اور وہ عورتیں جو اللہ کی عطا کردہ لونڈیوں میں سے تمہاری ملکیت میں ہیں اور تمہاری وہ چچا زاد، پھوپھی زاد، ماموں زاد اور خالہ زاد بہنیں جنہوں نے تمہارے ساتھ ہجرت کی ہے۔ (الاحزاب: ۵۰)

    اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے کزن میرج کی زد میں جتنے بھی رشتے آتے ہیں ان کا ذکر کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ وہ تمہارے لیے حلال ہیں۔ اگر ان شادیوں میں طبی طور پر کوئی خرابی ہوتی تو اللہ اپنے نبی ﷺ کو اس سے منع کر دیتے اور امت پر بھی پابندی عائد کر دیتے۔ لیکن اسلام نے ان رشتہ داریوں کو حلال قرار دیا ہے اور جن میں اخلاقی یا روحانی مسائل ہیں ان پر پابندی عائد کی ہے۔ مثلاً رسول اللہ ﷺ نے پھوپھی اور بھتیجی، خالہ اور بھانجی کو ایک ساتھ نکاح میں رکھنا حرام قرار دیا ہے۔

    اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے: "اور یہ کہ تم دو بہنوں کو جمع نہ کرو” (النساء: 23)

    اسی طرح بیوی اور اس کی پھوپھی یا پھر بیوی اور اس کی خالہ کو ایک ہی نکاح میں جمع کرنا بھی حرام ہے۔ اس کی دلیل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ تم عورت اور اس کی پھوپھو کے مابین جمع نہ کرو اور نہ ہی عورت اور اس کی خالہ کو ایک نکاح میں جمع کرو” (متفق علیہ)

    کزن میرج کی وجہ سے جو خدشات ظاہر کیے جاتے ہیں ان کی شرعاً کوئی حیثیت نہیں۔ البتہ یہ ممکن ہے کہ بعض موروثی امراض والدین سے اولاد میں منتقل ہو جائیں لیکن یہ ضروری نہیں۔ اگر ایک نسل کسی مرض میں مبتلا رہی ہے تو اسی خاندان کی کئی نسلیں اس مرض سے محفوظ رہ سکتی ہیں۔

  • تسخیر کائنات

    تسخیر کائنات

    تسخیر کائنات
    مصنفہ :قرۃالعین خالد
    مبصر :اکبر علی شاہد
    ادبی افق پر قرۃالعین خالد کا نام پوری آب و تاب سے چمکنے لگا ہے۔ آپ کا قلم صحیح معنوں میں جہاد کر رہا ہے۔ آپ کا قلم کسی طور بھی مجاہد کی تلوار سے کم نہیں۔
    ان کی پہلی تصنیف” اضطراب سے اطمینان تک “پر پہلے تبصرہ کر چکا ہوں، اس کتاب میں قرآن کی ان آیات کا ذکر ہے جن میں مومنوں کو مخاطب کیا گیا ہے ۔ مصنفہ نے بہترین انداز میں ان آیات کا ترجمہ و تفسیر بیان کی ہے ان آیات کا موجودہ دور سے تعلق بھی سمجھایا ہے۔ میں سمجھتا ہوں اس کتاب کا ہر مومن کی لائبریری میں ہونا ضروری ہے ۔

    ان کی دوسری کتاب” تسخیر کائنات“ کالمز کا مجموعہ ہے ۔ مطالعہ کے دوران میں نے محسوس کیا یہ ان کے جذبات و احساسات کا مجموعہ ہے۔ انھوں نے جس خوبصورت انداز میں اپنے والدین کو خراج تحسین پیش کیا ہے وہ آنکھیں نم کر گیا ۔
    کتاب کا انتساب بھی انھوں نے اپنے والد محترم کے نام کیا ہے۔ لکھتی ہیں :
    بہت ہی پیارے انتہائی شفیق!
    سب سے محبت کرنے والے!
    انسان کے نام!
    خالد محمود
    میرے پیارے ابو جی! سلامت رہیں آمین

    اللہ پاک ہر بیٹی کی پہلی محبت اس کے والد کا سایہ اس کے سر پر سلامت رکھے آمین ثم آمین
    کتاب میں جناب قاسم علی شاہ، محمد ایوب صابر، نعمت اللہ ارشد گھمن، ہما مختار احمد اور ثنا آغا خان جیسے بہترین مصنفین کی رائے شامل ہے ۔ ان سب نے کتاب کو بہت سراہا ہے جو کہ کتاب کا حق ہے۔ یہ بلاشبہ ایک خوبصورت اور کردار ساز کتاب ہے۔ ہمارے معاشرے کے ہر پہلو پر تعمیری انداز میں بحث کی گئی ہے۔ رشتوں کی اہمیت و خوبصورتی پر خوب قلم چلایا گیا یے۔ مصنفہ نے کتاب میں نثر کے ساتھ ساتھ اپنی شاعری کے بھی کچھ نمونے شامل کیے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے ان کا شاعری کا ذوق بھی بہت خوب ہے۔ کتاب کے شروع میں رب کی ذات پاک پر چھوٹی سی نظم لکھی یے۔
    وہ والدین کے متعلق لکھتی ہیں :
    ؀ ان کے پیروں کے نیچے ہے جنت میری
    ان کی دعاؤں سے روشن ہیں بخت میرے

    رشتوں سے محبت کے ساتھ ساتھ انھوں نے بچوں کی تربیت پر خاصا زور دیا ہے، کتاب کی اہمیت جتائی ہے۔ سانحہ سیالکوٹ پڑھتے ہوئے یہ انکشاف ہوا کہ مصنفہ کتنا حساس دل رکھتی ہیں، ہر معاملے کو ہر رخ سے دیکھنے کی نگاہ رکھتی ہیں۔ ہر معاملے ہر واقعہ کو بیان کرتے ہوئے قرآن و حدیث کے حوالے ان کی دین سے محبت کی نشانی ہیں۔ کرونا کے تناظر پر لکھا ان کا کالم بھی پڑھنے لائق ہے۔
    ان کی تحریر” فریب “ پڑھ کر ایسا لگا جیسے دل کو کسی نے مٹھی میں بھینچ دیا گیا ہو۔
    ” آج صائمہ کو دیا گیا فریب خود اس کی جھولی میں آ گرا، فریب اپنے مالک کو تلاش کر ہی لیتا ہے ۔ “

    اف! کتنے سچے ہیں یہ الفاظ، آئینہ دکھاتے الفاظ ۔۔۔۔
    مصنفہ کی تحریر بعنوان سٹریس (زہنی دباؤ) ہم سب کو ضرور پڑھنی چاہیے، بہت مفید تحریر ہے، جگہ کی تنگی کا احساس نہ ہوتا تو میں یہ تحریر اس تبصرے میں مکمل طور پر شامل کر دیتا۔
    کیسا حسین اتفاق ہے کہ میں یہ تبصرہ بھی سال کے آخری ماہ دسمبر میں لکھ رہا ہوں ۔ نئے سال پر ان کی نثری نظم دل کو بہت بھلی لگی۔
    ابھی سال کے آخر میں
    مجھے کچھ وعدے کرنے ہیں
    کچھ نئے سپنے بننے ہیں
    بھلا کر ماضی کی غلطیوں کو
    نئی راہوں پر چلنا ہے
    مایوسیوں کے در چھوڑ کر
    مجھے بس آگے بڑھنا ہے
    مجھے منزل کو پانا ہے
    مجھے راستہ بنانا ہے