Baaghi TV

Category: بلاگ

  • اخوت کا پیغام اور ڈاکٹر امجد ثاقب کے اعزاز میں ریاض میں تقریب

    اخوت کا پیغام اور ڈاکٹر امجد ثاقب کے اعزاز میں ریاض میں تقریب

    اخوت کا پیغام اور ڈاکٹر امجد ثاقب کے اعزاز میں ریاض میں تقریب
    تحریر:کامران اشرف
    ریاض کی سرد اور مہربان شام، ہوا میں خنکی اور پاکستانی ثقافت کی خوشبو، یہ سب کچھ اس دن کو خاص بنا رہا تھا۔ سعودی عرب کے دارالحکومت میں بیرسٹر رانا بلال کی رہائش گاہ پر ایک یادگار تقریب کا انعقاد ہوا۔ یہ تقریب پاکستان کلچرل گروپ کے زیر اہتمام تھی، جس میں اخوت فاؤنڈیشن کے بانی ڈاکٹر محمد امجد ثاقب کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔

    یہ موقع پردیس میں بسنے والے پاکستانیوں کے لیے ایک نایاب لمحہ تھا، جہاں وہ ایک ایسی شخصیت کے ساتھ وقت گزار رہے تھے، جنہوں نے اپنی زندگی کا مقصد دوسروں کے دکھ درد کو کم کرنا بنایا ہے۔ تقریب کا ماحول گرمجوشی اور محبت سے لبریز تھا، جہاں ہر چہرہ وطن کے لیے محبت اور اخوت کے مشن سے جڑے ہونے کا عکاس تھا۔

    دسمبر کی ٹھنڈی شام میں مہمان دھیرے دھیرے تقریب گاہ میں پہنچ رہے تھے۔ میزبانوں نے اپنے گھر کو ایک خوبصورت پاکستانی ثقافتی انداز میں سجایا تھا۔ تقریب کا آغاز تلاوت کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد اخوت فاؤنڈیشن کا تعارف پیش کیا گیا۔

    ڈاکٹر محمد امجد ثاقب کی سادگی اور خلوص نے حاضرین کو فوری طور پر متاثر کیا۔ انہوں نے اخوت فاؤنڈیشن کے سفر، مشن اور فلسفے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا:“اخوت صرف ایک تنظیم نہیں بلکہ یہ ایک جنون ہے، ایک خواب ہے کہ پاکستان کے ہر شہری کو برابری اور خوشحالی کا موقع ملے۔”

    ڈاکٹر امجد ثاقب نے اپنے خطاب میں بتایا کہ اخوت فاؤنڈیشن نے مائیکرو فنانس کے ذریعے غریب خاندانوں کو خود کفیل بنانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔ صفر شرح سود پر قرضے فراہم کرکے یہ تنظیم نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا کر رہی ہے بلکہ عزتِ نفس کے ساتھ لوگوں کو آگے بڑھنے کا موقع بھی دے رہی ہے،پاکستانی کمیونٹی، جو پردیس میں رہتے ہوئے بھی وطن کے لیے دھڑکتے دل رکھتی ہے، اخوت کے اس مشن سے بے حد متاثر ہوئی۔ بزنس کمیونٹی کے نمایاں افراد نے اس موقع پر مالی امداد اور تعاون کی یقین دہانی کرائی، جبکہ کئی نوجوانوں نے تنظیم کے ساتھ عملی طور پر کام کرنے کی خواہش ظاہر کی۔

    تقریب میں اخوت فاؤنڈیشن کے تعلیمی اداروں پر مبنی ایک مختصر ویڈیو دکھائی گئی، جس میں بچوں کی آنکھوں میں امید اور مستقبل کے خواب جھلکتے نظر آئے۔ اس کے ساتھ اخوت کا ترانہ سنایا گیا، جس نے شرکاء کو جذباتی کر دیا۔

    پاکستان کلچرل گروپ کے جنرل سیکرٹری ظفر اللہ خان، ڈپٹی جنرل سیکرٹری مشتاق ورک، اور سوشل کمیٹی کے سربراہ رضا الرحمان نے اخوت کے مشن کو سراہا اور تقریب میں شریک ہر فرد کا شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اخوت فاؤنڈیشن جیسے ادارے ہمیں یقین دلاتے ہیں کہ پاکستان میں روشن مستقبل ممکن ہے۔

    ریاض کی شام کا لطف پاکستانی کھانوں کے بغیر ادھورا تھا۔ مہمانوں کے لیے مختلف انواع کے کھانے اور گرم چائے پیش کی گئی، جس نے تقریب کے ماحول کو مزید خوشگوار بنا دیا۔ مہمان آپس میں گپ شپ کرتے ہوئے اخوت کے مشن پر بات کر رہے تھے، اور ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ پردیس میں بھی وطن کی خوشبو ہر طرف بکھری ہوئی ہے۔

    تقریب کا اختتام اجتماعی دعا سے ہوا، جس میں پاکستان کی ترقی، خوشحالی، اور اخوت فاؤنڈیشن کے مشن کی کامیابی کے لیے دعائیں کی گئیں۔ یہ تقریب نہ صرف ایک رسمی اجتماع تھی بلکہ یہ پردیس میں رہنے والے پاکستانیوں کے دلوں میں وطن کی محبت اور اخوت کے جذبے کو مزید جلا بخشنے کا موقع تھی۔

    ڈاکٹر امجد ثاقب کے الفاظ آج بھی کانوں میں گونج رہے ہیں:
    “اگر ہم سب ایک دوسرے کے لیے جینے لگیں تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوگا۔”

    ریاض کی یہ شام ہمیشہ یاد رہے گی، جہاں محبت، امید، اور اخوت کا پیغام ہر دل میں زندہ ہو گیا۔

  • مذمتی کالم: بنام انور مقصود ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    مذمتی کالم: بنام انور مقصود ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    پاکستان میں ادب اور فنونِ لطیفہ ہمیشہ سے ایک اہم مقام رکھتے ہیں۔ ان شعبوں میں کئی شخصیات نے اپنی ذہانت، بصیرت اور تخلیقی صلاحیتوں سے قوم کو شعور و آگہی فراہم کی ہے۔ ان میں انور مقصود جیسا نام بھی شامل ہے، جنہیں پاکستانی معاشرے میں طنز و مزاح کے حوالے سے ایک ممتاز مقام حاصل ہے۔ مگر حالیہ دنوں میں ان کی جانب سے نیوی کے فوجیوں کی شہادت پر طنزیہ الفاظ کا استعمال، خاص طور پر "ڈوب مرنا” جیسے الفاظ، نہایت افسوسناک اور غیر ذمہ دارانہ ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف ان کی شخصیت پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے بلکہ قوم کے جذبات کو بھی ٹھیس پہنچاتا ہے۔شہداء کا مقام اور قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔شہداء کسی بھی قوم کا فخر اور سرمایہ ہوتے ہیں۔ وہ لوگ جو اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر قوم کی سلامتی اور آزادی کو یقینی بناتے ہیں، ان کا احترام ہر شہری کا فرض ہے۔ پاکستان نیوی کے اہلکار سمندروں میں اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر ملک کی حفاظت کرتے ہیں۔ ان کی قربانیاں کسی بھی صورت معمولی نہیں ہیں۔ سمندر کی گہرائیوں میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنا ایک ایسا عمل ہے جو نہایت ہمت اور بہادری کا متقاضی ہوتا ہے۔ انور مقصود جیسے سینئر اور باوقار ادیب کی جانب سے ان قربانیوں کا مذاق اڑانا نہ صرف شہداء کی توہین ہے بلکہ ان کے اہل خانہ اور پوری قوم کے جذبات کو بھی مجروح کرتا ہے۔ادب اور فنونِ لطیفہ کا مقصد ہمیشہ معاشرتی شعور کو بیدار کرنا اور عوام کو مثبت پیغام دینا رہا ہے۔ انور مقصود جیسے ادیب سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنی تخلیقات اور بیانات میں نہ صرف الفاظ کا احتیاط سے استعمال کریں بلکہ ایسی حساس موضوعات پر خاص طور پر ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ طنز و مزاح کا مطلب کسی کی تضحیک یا جذبات کو مجروح کرنا نہیں بلکہ مسائل کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ اصلاح کی طرف راغب کرنا ہوتا ہے۔ مگر "ڈوب مرنا” جیسے الفاظ نہ صرف غیر اخلاقی ہیں بلکہ ان میں کسی بھی قسم کی دانشمندی یا مزاح کا پہلو بھی موجود نہیں۔اسےضعیف العمری کہیں یا غیر ذمہ داری؟۔

    کچھ لوگ انور مقصود کے اس بیان کو ان کی ضعیف العمری اور بھول چوک کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں، مگر یہ دلیل کسی بھی طرح قابل قبول نہیں۔ ضعیف العمری کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اپنے الفاظ کے اثرات کو سمجھنے کی صلاحیت کھو بیٹھے۔ اگرچہ ان کی عمر کا لحاظ کیا جا سکتا ہے، لیکن ایک عوامی شخصیت ہونے کے ناطے ان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی زبان کا احتیاط سے استعمال کریں۔ ان کے چاہنے والوں میں ہر عمر کے لوگ شامل ہیں، اور ان کے بیانات براہ راست لوگوں کے ذہنوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔قوم کے جذبات پر اس بات کا شدید اثر پڑا ہے۔پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں مسلح افواج کو عوام کی بھرپور حمایت اور محبت حاصل ہے۔ یہاں فوجیوں کو نہ صرف محافظ بلکہ قومی ہیرو کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ان کی قربانیوں کا اعتراف ہر سطح پر کیا جاتا ہے۔ ایسے میں انور مقصود جیسے معروف فنکار کی جانب سے شہداء کا مذاق اڑانے والا بیان عوامی جذبات کو شدید ٹھیس پہنچاتا ہے۔ یہ بیان نہ صرف شہداء کے خاندانوں کے لیے باعثِ اذیت ہے بلکہ قوم کی مشترکہ یکجہتی اور قربانیوں کی قدردانی کے جذبے کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔

    اس بیان پرمعافی اور اصلاح کی ضرورت ہے۔یہ وقت انور مقصود کے لیے سنجیدگی سے غور کرنے کا ہے۔ ان پر لازم ہے کہ وہ اپنے بیان پر معافی مانگیں اور اپنی غلطی کا اعتراف کریں۔ ایک معافی نہ صرف ان کے لیے عزت بحال کرنے کا سبب بن سکتی ہے بلکہ یہ ان کی جانب سے شہداء اور ان کے اہل خانہ کے لیے احترام کا اظہار بھی ہوگا۔ انور مقصود کو اپنی حیثیت اور مقام کا درست استعمال کرتے ہوئے ایسے بیانات دینے سے گریز کرنا چاہیے جو قوم کے اتحاد کو نقصان پہنچائیں۔

    پاکستانی قوم ہمیشہ سے اپنے ادیبوں، شاعروں اور فنکاروں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی آئی ہے۔ یہ شخصیات قوم کے اخلاقی رہنما بھی ہوتی ہیں، اور ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ نہ صرف سماج کے مسائل پر روشنی ڈالیں بلکہ ایسی مثال قائم کریں جو نوجوان نسل کے لیے مشعلِ راہ بن سکے۔تحدیک نفاذ اردو کی سرپرست فاطمہ قمر صاحبہ نے انور مقصود کےاس بیان کا نوٹس لیتے ہو ئے سوشل میڈیا پر لکھا کہ انور مقصود ضعیف العمری میں گھٹیا بھانڈ بن چکا ہے۔شہادت کو ڈوب مرنا کہ کر,اس نے اسلامی شعار کا مذاق اڑایا ہے۔

    بحثیت محب وطن راقم فاطمہ قمر صاحبہ کے بیان کی پرزور تائید کرتا ہے۔انور مقصود کا پڑھے لکھے خاندان سے تعلق ہونا اور فاطمہ ٹریا بجیا کا بھائی ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا۔۔۔۔ذبردست نقاد، کمال کا فنکار اور ادیب ہونا بھی کوئی معنی نہیں رکھتا۔۔۔۔۔۔جو اپنے ملک، اپنی فوج کے بارے تضحیک آمیز کلمات بول کر ۔۔۔اسے نقادی،ادیبی اور فنکاری کے کپڑے پہنائے۔۔۔۔۔۔معذرت کے ساتھ انتہائی احترام کے ساتھ ایسے ہر شخص کو ہم ۔۔۔۔اپنی جوتی کی نوک پر رکھتے ہیں۔۔۔۔

    انور مقصود کی جانب سے نیوی کے فوجیوں کی شہادت پر طنزیہ تبصرہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور قابل مذمت ہے۔ شہداء کی قربانیاں کسی بھی قوم کے لیے قابل احترام ہوتی ہیں، اور ان پر طنز کرنا ان کے اہل خانہ اور پوری قوم کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے مترادف ہے۔ انور مقصود جیسے معروف ادیب سے ایسے غیر حساس بیان کی توقع نہیں کی جا سکتی تھی۔ ان کے الفاظ نہ صرف شہداء کی قربانیوں کی توہین ہیں بلکہ یہ معاشرتی اخلاقیات اور ادب کے اصولوں کے بھی منافی ہیں۔ ہم ان سے توقع کرتے ہیں کہ وہ اپنے بیان پر معافی مانگیں اور اپنی حیثیت کو مثبت انداز میں استعمال کریں تاکہ قوم کو یکجہتی اور احترام کے پیغام دیں۔ شہداء ہماری عزت اور فخر ہیں، ان کی قربانیوں کا احترام ہم سب پر فرض ہے۔۔۔۔۔میں فاطمہ قمر صاحبہ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے۔۔۔انور مقصود کی باتوں کا نوٹس لیا۔۔اور باوجود اس کے کہ جناب موصوف کا تعلق بھی ہمارےقلم قبیلے سے ہے۔۔۔۔بتا دیا کہ پاکستان اور اسکی افواج پر کوئی سمجھوتہ نہیں۔۔۔۔۔۔۔ویلڈن آپا جی۔۔۔ویلڈن۔۔۔ انور مقصود جیسے فنکار کو چاہیے کہ وہ اپنی حیثیت کو مثبت انداز میں استعمال کریں اور اپنے بیانات کے ذریعے قوم میں اتحاد، محبت، اور قربانیوں کا احترام پیدا کریں۔انور مقصود کے حالیہ بیان نے قوم کے دلوں میں ایک مایوسی کی لہر دوڑا دی ہے۔ یہ واقعہ ہمیں یہ یاد دہانی کرواتا ہے کہ الفاظ کی اہمیت اور ان کے اثرات کو کبھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ مسلح افواج اور ان کے شہداء ہماری قومی یکجہتی کی بنیاد ہیں، اور ان کی قربانیوں کا احترام ہم سب پر فرض ہے۔ انور مقصود جیسے ادیب کو اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے معافی مانگنی چاہیے اور اپنے الفاظ کے اثرات کو سمجھتے ہوئے آئندہ محتاط رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ ادب اور فن کی اصل روح یہی ہے کہ وہ معاشرے میں مثبت تبدیلی لائے اور ایسی مثال قائم کرے جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہو۔

    نوٹ: آج۔کا یہ مذمتی کالم بنام انور مقصود بڑے دکھی دل کے ساتھ لکھا ہے،لیکن پاکستانی افواج کی عزت اور شہداءکے احترام پر کوئی سمجھوتہ نہیں۔۔

    shahid naseem

  • لاھور پریس کلب کا روشن ستارہ ، ارشد انصاری ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    لاھور پریس کلب کا روشن ستارہ ، ارشد انصاری ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    ارشد انصاری کا شمار پاکستان کے ان ممتاز صحافیوں میں ہوتا ہے،جنہوں نے نہ صرف صحافت کے میدان میں بے مثالی خدمات انجام دیں بلکہ پریس کلب کی فلاح و بہبود اور صحافیوں کے مسائل کے حل کے لیے بھی ناقابل فراموش کردار ادا کیا۔ ان کی زندگی کا مقصد ہمیشہ صحافیوں کے حقوق کا تحفظ، ان کی پیشہ ورانہ ترقی اور ان کے لیے بہتر سہولیات کی فراہمی رہا ہے۔ پریس کلب کے صدر ارشد انصاری ایک تجربہ کار اور متحرک صحافی ہیں جنہوں نے کلب کی بہتری اور صحافی برادری کی فلاح و بہبود کے لیے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ وہ لاہور پریس کلب کے انتخابات میں جرنلسٹ پروگریسو گروپ کے امیدوار کے طور پر دوبارہ منتخب ہوئے، جس میں انہوں نے صدارت کی سیٹ پر 984 ووٹ حاصل کیے۔ ان کی قیادت اور کام کی وجہ سے کلب کے اراکین نے ان پر ایک بار پھر اعتماد کا اظہار کیا​​​​۔ارشد انصاری کی خدمات کا دائرہ وسیع اور ہمہ جہت ہے۔ ان کے دور میں کلب میں درج ذیل نمایاں تبدیلیاں اور اصلاحات دیکھنے کو ملیں ،انتظامی اصلاحات اور سہولیات میں اضافے کے طور ،پریس کلب کی لائبریری کو جدید ای-لائبریری میں تبدیل کیا گیا، جہاں کمپیوٹرز اور کیمرے نصب کیے گئے اور دو لاکھ سے زائد ای-بکس کے ساتھ نئی کتابیں مہیا کی گئیں​​۔ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے۔کئی سالوں بعد کلب کی عمارت کی تزئین و آرائش کی گئی، اور اہم مقامات جیسے کیفے ٹیریا اور لائبریری میں ایئر کنڈیشنز نصب کیے گئے​​۔کلب کے کیفے ٹیریا کے معیار میں بہتری لائی گئی، جہاں کھانے کے معیار اور سہولیات کو اپ گریڈ کیا گیا۔رمضان کے موقع پر خصوصی محفل حسن قرأت و نعت کا اہتمام کیا گیا، اور ممبران کو عمرے کے ٹکٹس فراہم کیے گئے​​۔خواتین ممبران کے لیے خصوصی ٹورز کا اہتمام کیا گیا، جو پریس کلب کی تاریخ میں ایک نمایاں قدم ہے۔اندرون سندھ اور کراچی کے مطالعاتی دورے بھی کرائے گئے، جو صحافیوں کی پیشہ ورانہ ترقی کے لیے اہم ہیں​​۔ارشد انصاری کا دوبارہ الیکشن میں حصہ لینا ان کی قیادت کی کامیابیوں اور جاری منصوبوں کو مکمل کرنے کی خواہش کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کی سربراہی میں کلب میں کی گئی اصلاحات نے ممبران کو بہتر سہولیات فراہم کیں، اور صحافتی برادری کی حمایت حاصل کی۔ 2023 کے انتخابات میں ان کے پینل نے واضح اکثریت سے کامیابی حاصل کی، جس میں زاہد عابد نے سیکرٹری، اور دیگر عہدوں پر ان کے پینل کے امیدوار بھی کامیاب رہے​​​​۔ارشد انصاری کے لیے دوبارہ منتخب ہونے کے بعد چیلنجز بھی موجود ہیں، جیسے:صحافیوں کے لیے مزید سہولیات کی فراہمی۔ممبران کی رکنیت سے جڑے مسائل کا حل۔کلب کو مزید جدید اور مؤثر پلیٹ فارم میں تبدیل کرنا۔ارشد انصاری کی قیادت نے لاہور پریس کلب کو ایک متحرک اور جدید ادارہ بنایا ہے۔

    ارشد انصاری کی حالیہ کامیابیوں میں سے ایک سب سے اہم کارنامہ وہ فیز 2 کے حوالے سے 200 ایکڑ اراضی کی منظوری ہے جو انہوں نے صحافیوں کی ہاؤسنگ کالونی کے قیام کے لیے حاصل کی۔ یہ زمین صحافیوں کے لیے ایک بڑا تحفہ ہے جو کئی دہائیوں سے رہائشی مسائل سے دوچار تھے۔ اس منصوبے کے تحت صحافیوں کو مناسب قیمت پر پلاٹ فراہم کیے جائیں گے، جو ان کی مالی مشکلات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔صحافیوں کی ہاؤسنگ کالونی کا آغاز ارشد انصاری کے ویژن کا حصہ ہے، جس کا مقصد یہ ہے کہ ہر صحافی کو ایک محفوظ اور پرسکون رہائش فراہم کی جائے۔ یہ کالونی نہ صرف رہائشی ضروریات کو پورا کرے گی بلکہ ایک جدید طرز زندگی کے مطابق تمام بنیادی سہولیات فراہم کرے گی، جن میں تعلیمی ادارے، صحت کے مراکز، پارکس، اور دیگر سہولیات شامل ہوں گی۔ارشد انصاری کو اس ہاؤسنگ کالونی کے منصوبے کی تکمیل کے دوران کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بیوروکریٹک رکاوٹوں، مالی مسائل، اور زمین کے حصول کے پیچیدہ عمل کے باوجود انہوں نے اپنی قیادت اور عزم سے ان مسائل کو حل کیا۔ انہوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہ کر اس منصوبے کی منظوری کو یقینی بنایا۔ان کی خدمات، اختراعی اقدامات، اور ممبران کے ساتھ مؤثر رابطے نے انہیں صحافی برادری کے لیے ایک مثالی رہنما ثابت کیا ہے۔ ان کا دوبارہ الیکشن میں حصہ لینا اس بات کا عکاس ہے کہ وہ کلب کی بہتری کے لیے مسلسل پرعزم ہیں۔ ان کی کامیابی نہ صرف ان کی ذاتی کامیابی ہے بلکہ صحافیوں کے اعتماد اور کلب کے روشن مستقبل کی ضمانت بھی ہے۔ارشد انصاری کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو ان کی قیادت کی صلاحیت ہے۔ وہ ایک وژنری لیڈر ہیں جو نہ صرف مسائل کی نشاندہی کرتے ہیں بلکہ ان کے حل کے لیے عملی اقدامات بھی کرتے ہیں۔ ان کی ایمانداری، جرات، اور صحافیوں کے ساتھ ہمدردی نے انہیں صحافی برادری میں ایک خاص مقام عطا کیا ہے۔ارشد انصاری کی خدمات نہ صرف صحافیوں کے لیے ایک روشن مثال ہیں بلکہ یہ ثابت کرتی ہیں کہ جب ایک رہنما عزم اور خلوص کے ساتھ کام کرتا ہے تو وہ ناممکن کو ممکن بنا سکتا ہے۔ 200 ایکڑ اراضی کی منظوری اور ہاؤسنگ کالونی کا آغاز ان کی محنت اور صحافیوں کے حقوق کے لیے ان کی غیر معمولی جدوجہد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اسی حوالے ممبران لاھور پریس کلب نے آئندہ پریس کلب الیکشن میں ارشدانصاری کو دوبارہ صدر بنوانے کا عزم کیا ہے،کیونکہ ان کے اقدامات نہ صرف موجودہ بلکہ آنے والی نسلوں کے صحافیوں کے لیے بھی یادگار رہیں گے۔

    shahid naseem

  • عمران خان،معیشت و استحکام کیلئے خطرہ

    عمران خان،معیشت و استحکام کیلئے خطرہ

    عمران خان،معیشت و استحکام کیلئے خطرہ
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفیٰ بڈانی

    عمران خان کے حالیہ اقدامات اور بیانات نے ایک بار پھر سیاسی ماحول کو پیچیدہ اور تنازعات سے بھرپور بنا دیا ہے۔ ان کی اعلان کردہ سول نافرمانی کی تحریک جو ماضی میں ناکامی سے دوچار ہو چکی ہے، اس بات کی غماز ہے کہ وہ ذاتی اور جماعتی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دے رہے ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف عوامی اعتماد کو متزلزل کر رہا ہے بلکہ ملکی معیشت اور سیاسی استحکام پر بھی گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے۔

    عمران خان کا بیرون ملک پاکستانیوں سے یہ اپیل کہ وہ ترسیلات زر کو محدود کریں ایک غیر ذمہ دارانہ اور غیر دانشمندانہ اقدام ہے۔ پاکستان کی معیشت کا ایک بڑا حصہ ان ہی ترسیلات زر پر انحصار کرتا ہے جو بیرون ملک پاکستانی اپنے خاندانوں کے لیے بھیجتے ہیں۔ اگر یہ رقم کم ہو جائے تو معیشت مزید بحران میں پھنس سکتی ہے اور اس کے اثرات سب سے زیادہ عام شہریوں پر پڑیں گے۔ یہ حقیقت ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی اپنی فیملیز کی ضروریات کو نظرانداز کرکے کسی سیاسی نعرے کا حصہ نہیں بنیں گے۔

    عمران خان کی سیاست اکثر جذباتی نعروں اور جھوٹے وعدوں پر مبنی رہی ہے۔ ان کی سوشل میڈیا ٹیمیں جھوٹ اور مبالغہ آرائی کے ذریعے عوام کو گمراہ کرنے میں ماہر ہیں۔ جس کی حالیہ مثال پی ٹی آئی کے ایک حامی کا یہ جھوٹا دعویٰ ہے کہ 26 نومبر کو پی ٹی آئی کے 278 کارکنوں کی ہلاکت دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا قتل عام تھا جو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور فلسطین میں اسرائیلی جارحیت سے بھی بڑھ کر ہے۔ ایسے بیانات کا مقصد صرف اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنا اور عوام کو ایک نئے فریب میں مبتلا کرنا ہے۔

    سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پی ٹی آئی اپنی ناکامیوں سے سبق سیکھنے اور اپنی حکمت عملی کو بہتر بنانے کے لیے تیار ہے؟ یا وہ مسلسل جھوٹے وعدوں اور غیر حقیقت پسندانہ نعروں کے پیچھے عوام کو گمراہ کرتی رہے گی؟ عمران خان کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ان کے غیر دانشمندانہ فیصلے اور ناکام حکمت عملی نہ صرف ان کی جماعت بلکہ پورے ملک کے لیے نقصان دہ ہیں۔ماضی میں بھی ان کی سول نافرمانی کی تحریک ناکام ہوئی تھی اور اب بھی ایسی کسی کوشش کا نتیجہ مختلف نہیں ہوگا۔

    پاکستان کو اس وقت ایک مضبوط اور مستحکم قیادت کی ضرورت ہے، جو ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ملکی مفادات کو ترجیح دے۔ عمران خان اور ان کی جماعت کو چاہیے کہ وہ اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کریں اور ملک کو مزید انتشار اور عدم استحکام کی طرف دھکیلنے کے بجائے مثبت کردار ادا کریں۔بصورت دیگر ان کی سیاست کا نتیجہ ملک کے لیے مزید مشکلات اور بداعتمادی کی صورت میں نکلے گا۔

  • عائلی مشاورت

    عائلی مشاورت

    عائلی مشاورت
    تحریر:فرحانہ مختار
    بسا اوقات عائلی زندگی کی ہموار راہ گزر پہ کبھی کبھی بحث و تکرار یا اختلافات کا سامنا کرنا پڑتا جاتا ہے۔ ازواج کے مابین ایسے معاملات کبھی کبھار پیش آتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے سے الجھ پڑتے ہیں۔ احسن طریقہ تو یہ ہے کہ آپس میں معاملہ فہمی اور سمجھداری سے اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جائے۔

    مگرکیا کیجئےکہ شیطان کو سب سے زیادہ کوفت میاں بیوی کے مقدس رشتے میں قائم اُنسیت اور عزت و تکریم سے ہوتی ہے۔ اس لئے وہ وار کرتا رہتا ہے اور اسی لئے بسا اوقات ازواج کی آپس میں گفتگو معاملات کو مزید الجھا دیتی ہے۔ ایسے میں دونوں فریقین مسائل کے حل کے لیے اپنے علاوہ کسی غیر جانب دار شخص سے معاملات کو سلجھانے کے لئے کبھی کبھار مشاورت کی راہ اختیار کرتے ہیں۔ مشاورت دین میں پسندیدہ عمل ہے لیکن اس کے لئے شخص انتہائی سمجھداری سے منتخب کریں۔

    سورت النساء کے مطابق دونوں فریقین کے خاندان سے ایک ایک شخص صلح کے لئے منتخب کیا جائے۔ اگر اس سے بھی اختلافات دور نہ ہوں یا دونوں فریقین کے والدین یا بہن بھائیوں کے لئے غیر جانبدار ہونا قدرے مشکل ہو تو کوئی دیندار، سمجھدار اور معاملہ فہم رشتہ دار مشاورت یا صلح کے لئے منتخب کرنا بہتر ہے۔

    کہیں پڑھا تھا کہ لوگ رحمانی بھی ہو سکتے ہیں اور شیطانی بھی۔ اللہ کے نیک بندے دوسروں کو مثبت سوچ کے ساتھ بہترین رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ ان کا مقصد معاملات کو سلجھانا اور فریقین کا گھر بچانا ہوتا ہے۔

    دوسری جانب کچھ منافقین صفت، منفی سوچ کے حامل افراد ایسے بھی ہوتے ہیں جو ہمیشہ منفی بات کریں گے اور معاملات سلجھانے کی بجائے اُلجھا دیں گے۔ بعض اوقات رشتہ دار اور عزیز و اقارب میں سے جس شخص سے مشاورت کی جائے وہ بظاہر تو معاملہ فہم اور سمجھدار معلوم ہو لیکن غالب گماں ہے کہ اس کا مشورہ کسی بھی قسم کےبُغض، حسد یا منافقت پرمبنی ہو۔ وہ بظاہر معاملہ سلجھانے کی اداکاری کرے گا لیکن اس کا اصل مقصد معاملہ کو بگاڑنا ہو سکتا ہے۔ ایسے شخص سے احتیاط ضروری ہے۔

    میاں بیوی کا رشتہ انتہائی اہم ہے جن کے ذمے مسلمان نسل کی قرآن و سنت کے مطابق پرورش کرنا ہے۔ اس اہم تعلق میں اگر کبھی آپس کے معاملات بگڑ جائیں تو مشاورت کے لئے ہر دوست، عزیز، محلے دار یا رشتہ دار سے مشاورت نامناسب عمل ہے۔
    عائلی مشاورت کے لئے بہترین اشخاص علماء دین اور مفتیانِ کرام ہیں جو کسی بھی معاملے کا دین اور شریعت کے مطابق حل فراہم کریں گے۔ ان کا اولین مقصد شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے فریقین کی اصلاح اور صلح و صفائی ہو گا۔

    آخری بات!اللہ تعالی نے آپ دونوں کو اس مقدس رشتے میں باندھا ہے۔ ایک دوسرے کی شخصیت کو تمام اچھائیوں اور برائیوں سمیت قبول کرنا ہی عقلمندی ہے۔ معاملات کو آپس میں افہام و تفہیم سے حل کرنا بہتر ہے کیونکہ معاملات اگر بگڑ جائیں تو بات کمرے سے نکل کر گھر، گھر سے نکل کر زبان زدِ عام ہو جاتی ہے۔ ایسے میں مزید تنازعات جنم لیتے ہیں اور فریقین کا صلح کرنا دشوار ہوتا چلا جاتا ہے۔

    انا کو پسِ پشت ڈال کر ایک دوسرے کو صبر وتحمل سے سننے کی عادت ڈالیں تو بہت سے معاملات میں بگاڑ پیدا ہی نہ ہو گا۔

  • امرود، صحت بخش زندگی کا قدرتی خزانہ

    امرود، صحت بخش زندگی کا قدرتی خزانہ

    امرود، صحت بخش زندگی کا قدرتی خزانہ
    تحریر :ڈاکٹرغلام مصطفے بڈانی
    امرودجوایک ایسا پھل ہے جو قدرت کا انمول تحفہ ہے جسے صحت کا خزانہ کہا جا سکتا ہے۔ یہ دو اقسام میں پایا جاتا ہے، ایک سفید گودے والا اور دوسرا سرخ گودے والا۔ کچا امرود سبز جبکہ پکا ہوا زردی مائل سفید اور خوشبودار ہوتا ہے۔ اس کے بے شمار فوائد ہیں جن میں نظامِ ہاضمہ کی بہتری، دل اور دماغ کی تقویت شامل ہیں۔ کچا امرود قابض ہوتا ہے جبکہ پکا ہوا قبض ختم کرنے میں مددگار ہے۔ یہ دل کو مضبوط کرتا، ذہنی دباؤ کو کم کرتا اور بھوک بڑھانے میں مدد دیتا ہے۔ زکام، کھانسی اور بواسیر کے لیے بھی امرود نہایت مفید ہے۔

    امرود وٹامن اے، سی، کیلشیم، آئرن اور فاسفورس سے بھرپور ہوتا ہے جو جسمانی صحت کو مضبوط بناتے ہیں۔ اس کے پتوں اور چھال کا استعمال مختلف بیماریوں کے علاج میں کیا جاتا ہے۔ امرود کے پتوں کا جوشاندہ مسوڑھوں کی بیماریوں، دانتوں کے درد اور ہیضے کے علاج کے لیے مفید ہے۔ اس کے پتوں کا لیپ جلی ہوئی جلد پر لگانے سے جلن کم ہوتی ہے اور زخم جلد بھر جاتے ہیں۔ امرود کے پھولوں کا رس پتے کی پتھری ختم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے، بشرطیکہ مرض زیادہ نہ بڑھا ہو۔

    امرود معدے کی تیزابیت ختم کرنے، پیٹ کے اپھارے کو کم کرنے اور جگر کے افعال کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ کمزور معدے کے لیے امرود کا شربت بھی بنایا جا سکتا ہے، جو نظامِ ہاضمہ کو مضبوط کرتا ہے۔ اس کے علاوہ امرود کے بیج آنتوں سے زہریلے مادے نکالنے میں مدد دیتے ہیں اور دائمی قبض کے علاج میں مؤثر ہیں۔

    زکام اور کھانسی کے علاج کے لیے کچے امرود کو گرم راکھ میں پکا کر کھانا مفید ہے جبکہ نرم کونپلوں کا جوشاندہ نزلہ ختم کرتا ہے۔ امرود پیاس کی شدت کم کرتا اور جسم کو توانائی فراہم کرتا ہے۔ امرود کا متواتر استعمال خون صاف کرتا، بلغم کو ختم کرتا اور منہ میں پانی آنے کی شکایت کو دور کرتا ہے۔ تاہم امرود کھانے کے فوراً بعد پانی پینے سے گریز کریں تاکہ اس کے فوائد زیادہ مؤثر ہوں۔

    یہ حیرت انگیز پھل اپنی غذائیت اور طبی فوائد کے باعث ایک قدرتی دوا ہے۔ اپنی روزمرہ خوراک میں امرود کو شامل کریں اور صحت مند زندگی کا لطف اٹھائیں۔

  • کیوں نا چنیں واہ راستہ .تحریر:شاہدہ مجید

    کیوں نا چنیں واہ راستہ .تحریر:شاہدہ مجید

    مدھر سریلی آواز ، خوبصورت سجیلا وجیہہ گلوکار،مبلغ،نعت خواں ……
    جنید جمشید 7 دسمبر 2016 کو طیارہ حادثہ میں دنیائے فانی سے کوچ کر گئے لیکن ان کی یادیں مداحوں کے دلوں میں آج بھی زندہ ہیں
    جنید کی پوری زندگی کا گلوکاری سے لے کر نعت خوانی تک کا سفر شاندار رہا، انکا دل دل پاکستان بھی دلوں کو گرماتا رہا اور ان کی نعت ’محمد کا روزہ قریب آرہا ہے‘ بھی دلوں میں گدازپیدا کرتا رہے گی

    اللہ کریم جب کسی سے بہت خوش ہوتا ہے اور اسے کچھ بہت خاص نوازنا چاہتا ہے تو اس کو اپنے دین کی سمجھ عطا کرتاہے۔ ہدایت کی سعادت ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتی بلکہ کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کوئی بھی نعمت بن مانگے عطا کردیتا ہے مگر ہدایت اس سے مانگنا پڑتی ہے۔ ہدایت نصیب کی بات ہے بلکہ بڑے ہی نصیب کی بات ہے۔ ایسے ہی نصیب والوں میں اک نام جنید جمشید کا بھی شامل ہے۔ جنید انتہائی بلند نصیب والے انسان تھے جب گلوکاری کرتے تھے تب بھی شہرت کے بام عروج پر رہے اور جب عشق نبی میں مغلوب و سرشار ہوکر نعت خواں بن گئے توبھی اللہ کریم نے ان کے نام کو چار چاند لگا دیئے۔ گلوکاری سے نعت خوانی اور نعت خوانی سے تبلیغ اور تبلیغ سے شہادت تک کا یہ سفر محبت، عبادت اور سعادت کا سفر تھا۔ جنید جمشید کے بارے میں سوچو تو رشک آتا ہے کہ ان کے سفر حیات سے سفر آخرت تک قسمت ان پر کتنی محبت سے مہربان رہی۔ انہوں نے اپنی زندگی کے ہر دور میں توجہ اور محبتیں سمیٹیں ۔ آزمائشوں سے بھی گزرے مگر پھر بھی ان کی زندگی کا ہر دور ہی ان کےلئے وجہ شہرت بنا۔بظاہر ان کی زندگی کا سفر حویلیاںکی پہاڑیوں پر ختم ہوگیا جب وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ گزشتہ برس 7دسمبر کو چترال سے جماعت کی نصرت کے بعد واپس اسلام آباد آرہے تھے تو ان کا جہاز تباہ ہوکر پہاڑی سے جاٹکرایا۔ جنید جمشید سمیت اس حادثے میں سوارتمام مسافر بھی شہید ہوگئے۔ ان تمام انسانی جانوںپر جتنا بھی افسوس کیا گیا یا کیا جائے گا، کم ہے کہ جانیں تمام ہی قیمتی ہوتی ہیں لیکن اس حادثے کے بعد تمام فوکس جنید جمشید کی شہادت پر رہا۔ تمام ملک ایک صدمے کی کیفیت میں ڈوب گیا بلکہ اس دکھ اور رنج کی لہریں دنیا بھر میں ان کے مداحوں نے محسوس کیں اور کئی روز تک ٹی وی چینلز کے شوز میں اور لوگوں کے دل اور ذہنوں میں صرف جنید جمشید ہی چھائے رہے۔ ان کی زندگی کے تمام پہلو زیرموضوع رہنے لگے۔ ہر آنکھ نم اور ہر دل افسردہ ہوئے بنا نہ رہ سکا۔ اس کی آخر کیا وجہ ہے؟ کیوں جنید کو اس قدر محبت اور توجہ ملی۔ اس کو جاننے کے ئے جنید کی زندگی کی کہانی کو ایک بارپھردہراتے ہیں۔

    روداد حیات
    3ستمبر1964ءکو پیدا ہونے والے جنید جمشید کی 52سالہ زندگی نشیب و فراز اور جدوجہد سے عبارت رہی۔ جنید جمشید کے والد کا تعلق پاکستان ائیرفورس سے ہونے کے باعث ان کے والد نے کوشش کی وہ بھی اسی شعبے سے وابستہ ہوں۔ جنید نے لاہور یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی سے بیچلر کی ڈگری حاصل کی اور پاک فضائیہ میں بطور کنٹریکٹراپنی سروس کا آغاز کیا۔ جنید کو دور طالب علمی سے ہی موسیقی سے لگاﺅ تھا۔ دوستوں کے ساتھ مل کر میوزیکل بینڈ بھی تشکیل دے دیا اور گلوکاری کرنے لگے۔ جنید جمشید نے اپنے بارے میں ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ وہ گلوکاری میں منصوبہ بندی سے نہیں آئے بلکہ روحیل حیات کی ان پر نظر پڑ گئی جب انہیں ایک جگہ پر گاتے ہوئے سنا تو انہیں اپنے ساتھ گانے کی دعوت دی اور پھر انہیں گائیکی کی ایسی تربیت حاصل ہوئی کہ نامور موسیقار سہیل رعنا تک انہیں بے حد سراہنے پر مجبور ہوگئے۔
    وائٹل سائنز میوزیکل گروپ انہوں نے 1980 کے عشرے میں بنایا جس میں جنید جمشید مرکزی گلوکار اور روحیل حیات اور سلمان احمد موسیقاروں میں شامل تھے۔ وائٹل سائنز کے گانوں کو بین الاقوامی شہرت حاصل ہوئی اور جب 1987 میں جنید جمشید نے دل دل پاکستان گایا تو یہ نغمہ ہر دل کی دھڑکن میں سما گیا اور پھرجنید کی شہرت کے ڈنکے چاروں طرف بجنے لگے۔ اس وقت کوئی ٹی وی پروگرام، ٹاک شو یا میوزیکل پروگرام ایسا نہ ہوگا جس میں اس نغمے کا ذکر نہ ہوتا ہو۔ ٹی وی سے لے کر نجی تقریبات، شادی بیاہ تک ان کا یہ ملی نغمہ چھایا رہا۔ یوم آزادی اور دیگر قومی دنوں پر اس نغمے کی دھنیں بجانا لازمی بن گیا۔
    بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق دل دل پاکستان دنیا کے پراثرترین قومی نغموں میں بھی شامل ہے جسے پاکستان کا دوسرا قومی ترانہ بھی کہا جاسکتا ہے۔ جنید جمشید کو 2007 میں تمغہ امتیاز سے بھی نوازا گیا۔ وائٹل سائنز نے دنیا بھر میں نام روشن کیا اور بہترین دھنیں پیش کیں۔90ءکے عشرے میں یہ گروپ باہمی اختلافات کا شکار ہوا لیکن جنید جمشید نے اپنا فنی سفر جاری رکھا۔ یہ خوبصورت سجیلا، وجیہہ و رعنا نوجوان ہر کسی کی نظروں سے دل میں جذب ہوتا گیا اور اس کی سریلی مدھر آواز ہر سماعت میں رس گھولتی گئی۔ اس کے گانوں کی شاعری کمال کی ہوتی اور اکثر گانوں کی شاعری میں سننے والوں کےلئے مثبت پیغام ہوا کرتے تھے۔’سانولی سلونی تیری جھیل سی آنکھیں‘ جیسے کئی نغمات سماعتوں میں رس گھولتے رہے۔

    ایک نیا سفر
    پھر اچانک جنید کاحلیہ اور طرززندگی بدل گیا بلکہ جنید کا دل بدل گیا۔ بقول جنید جمشید کہ وہ فائر فائٹربنناچاہتے تھے مگر نہیں بن سکے۔ ڈاکٹر بننا چاہتے تھے مگر نہیں بن سکے، وہ گلوکار نہیںبننا چاہتے تھے مگر گلوکاربن گئے۔ گلوکار ی سے انہیں عزت، شہرت، محبت اور دولت سب کچھ ملا لیکن ان کا کہنا تھا کہ اتنی عزت و پذیرائی کے باوجود انہیں اپنے اندر کسی کمی کا احساس ہوتا تھا۔ یہی بے چینی اور بے قراری انہیں دین کی طرف کھینچ لے گئی اور بالآخر ان کے اندر کا ضطراب ایک روحانی انقلاب میں بدل گیا۔ اس تبدیلی پر کئی بار گفتگو کے دوران ایک واقعے کا بھی ذکر کرتے تھے کہ ایک میوزیکل شو کےلئے ان کی کار کی ٹکر سے ایک کتا جان سے چلا گیا۔ انہوں نے کار سے اتر کر کتے کو سڑک سے ہٹایا اور قریب ایک خالی پلاٹ میں دفن کردیا اور اللہ کو گواہ بنایا کہ وہ اپنی زندگی کوتبدیل کرلیں گے۔

    جنید جمشید جب تک گلوکار تھے تب تک نوجوانوں اور بچوں کے دل میں بستے تھے جب گلوکاری چھوڑ کر دین کے لئے وقف ہوگئے تو ہر بچے، بڑے، نوجوان، بوڑھے غرض ہر انسان کے دل میں گھر کر گئے۔ جنید ایک انتہائی باوقار، بلند اخلاق اور مخلص انسان تھے۔ اخلاق اور اخلاص ان کی ہر ادا میں نظر آتا تھا۔ سعادت ان کی پیشانی پر لکھی تھی۔ قسمت روزاول سے مہربان تھی۔ اللہ کریم نے انہیں حسن وجاہت، دولت و شہرت جیسی نعمتوں سے تو پہلے ہی نواز رکھا تھا پھر دین ہدایت کی محبت دے کر اپنے خصوصی فضل سے نواز دیا اور جنید نے بھی راہ ہدایت پر قدم بڑھا دیے تو پھر پلٹ کر نہ دیکھا ۔ شہرت کی پرواہ کی نہ دولت کی۔ اللہ کے رستے پر چلنا اتنا آسان نہیں ہوتا اس رستے پر شیطان کے بہکاوے اور شاطرانہ چالیں بھی پیچھا کرتی ہیں۔ انسانوں کے دل شکن رویے اور کئی کئی طرح کی رکاوٹیں اور آزمائشیں بھی آتی ہیں اور یہ اللہ کا اپنے بندے سے امتحان بھی ہوتا ہے کہ وہ دی ہوئی نعمت کی قدر اور حفاظت کیسے کرتا ہے۔ آیا وہ استقامت سے نبھاتا ہے یا نہیں اور جنید نے استقامت اور اخلاص کا بہترین مظاہرہ کرکے دکھایا۔عجز و انکساری اور خوش اخلاقی کے علاوہ جنید جمشید کی شخصیت کی سب سے بڑی خوبصورتی اور خوبی ان کی برداشت کرنے کی خوبی تھی۔ اس سفر میں اسی خوبی کی وجہ سے وہ ہر مصیبت اور تکلیف دہ سلوک اور ناروا رویوں کو بہت خوش اسلوبی اور خندہ پیشانی سے جھیل گئے۔
    راہ حق کے سفر میں کئی تنازعوں کاشکار ہوگئے۔ ملامت اور بدسلوکی کی گئی، طعنوں اور گالیوں سے نوازا گیا مگر آفرین ہے اس اعلیٰ اخلاق کے مالک آہنی اعصاب کے مرد ابریشم اور مخلص و عاجز و منکسر انسان پر کہ پلٹ کر کسی کو جواب نہیں دیا بلکہ معافیاں مانگتے رہے اور دلوں کو جوڑنے کی فکر میں رہے تاکہ رب کے ساتھ اپنا معاملہ درست رکھ سکیں۔ان کے منہ سے کبھی بین المسلکی ہم آہنگی کو سبوتاژ کرنے والے الفاظ نہیں نکلے۔ اس سلسلے میں گزشتہ برس ان کے کوسٹار وسیم بادامی بار بار میڈیا پروگرامز میں گواہی دیتے رہے کہ میں روایتی انداز میں نہیں کہہ رہا جیسے کہ مرنے والوں کےلئے اچھے جملے بولے جاتے ہیں، میں پورے ہوش و حواس سے اللہ کو حاضر ناظر جان کر گواہی دے رہا ہوں کہ خدا کی قسم میں نے جنید جمشید سے زیادہ اچھا انسان اپنی پوری زندگی میں نہیں دیکھا اور ہم پانچ برس اکٹھے کام کرتے رہے ان پانچ سالوں میں، میں نے انہیں پانچ سکینڈ بھی کسی کی غیبت کرتے ہوئے نہیں سنا۔جنید توڑنے والوں میں سے نہیں بلکہ جوڑنے والوں میں سے تھے وہ ہمیشہ دلوں کو جوڑنے میں لگے رہے۔ اس سفر میں کسی ملامت نے انہیں بددل نہیں کیا بلکہ وہ اپنی عاقبت سنوارنے اور دین کی تبلیغ کرنے میں استقامت سے مصروف رہے جب ان کے بارے میں منفی پروپیگنڈے کئے جاتے تھے تب دل میں خیال آتا کہ شاید اب جنید جمشید اپنے فیصلے پر پچھتاتے ہوں گے۔ ایسے ہی وقتوں کی بات ہے کہ ایک میڈیا پرسن نے ان سے سوال کر ڈالا کہ کیا آپ کے دل میں کوئی پچھتاوہ ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ پچھتاوہ کیسا بلکہ بے انتہا خوش ہوں، اتنا خوش ہوں کہ کوئی مصیبت آ بھی جائے تودل میں اللہ سکون بھر دیتا ہے۔

    کلین شیو جنید پر کبھی کسی کو کوئی اعتراض نہیں تھا جب جنید دین کی طرف آئے تو ان پر اعتراضات کے دفتر کھول دیئے گئے، کبھی کسی قول کو لے کر کبھی کسی بیان اور کبھی کاروباری تنقید، تاہم جنید نے اپنی زندگی نے ہر دور میں صبر و تحمل اور رواداری کو ہاتھ سے نہ جانے دیا۔ جنید کی پوری زندگی کا گلوکاری سے لے کر نعت خوانی تک کا سفر شاندار رہا۔ انکا دل دل پاکستان بھی دلوں کو گرماتا رہا اور ان کا نعتیہ کلام ’میرادل بدل دے‘ رویے بھی دلوں کو گداز کرتا رہے گا۔ کہاں دنیاوی شان و شوکت سے آراستہ زندگی اور کہاں پھر دین کی تبلیغ اور مبلغ بن کر گزارے جانے والی عجزوانکساری والی زندگی۔ کہاں جینز گٹار والا جنید اور کہاں داڑھی اور ٹوپی، تسبیح اور نور سے روشن چہرے والا جنید جمشید۔ بس یہی وہ خوبی اور قربانی جس نے جنید کو سب سے ممتاز کردیا اور اس کی استقامت صبرواخلاق نے دلوں کو فتح کرایا جو شخص خود کو اللہ کے راستے میں وقف کردے بلکہ فنا کردے تو پھر ایسے ہی دنیا بھر کی تمام عزتیں، برکتیں اس کا حصار کر لیتی ہیں۔ یہی ہمیں سمجھا گیا گزشتہ برس شہادت کا رتبہ حاصل کر کے جہان فانی سے رخصت ہونے والا جنید جمشید۔ ان کی زندگی نوجوانوں اور بزرگوں سب کےلئے قابل تقلید ہے۔ وہ موسیقی کے دلدادہ افرادکے دلوں میں بھی زندہ رہے گا اور آخرت کی فکر کرنے والوں کا محبوب بھی رہے گا۔

  • پی ٹی آئی کی ٹرمپ سے امیدیں ،اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا

    پی ٹی آئی کی ٹرمپ سے امیدیں ،اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا

    ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی پر قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ اس کا عمران خان کی سیاسی راہ پر کیا اثر پڑے گا۔ اگرچہ یہ عمران خان کے حامیوں میں کچھ امید پیدا کر سکتا ہے، لیکن ٹرمپ کی صدارت کی غیر یقینی صورتحال اور عالمی جغرافیائی سیاست کی پیچیدگیاں کسی بھی پیش گوئی کو مشکوک بناتی ہیں۔ حکمت عملی کے مفادات، سفارتی چالاکیاں، اور ذاتی اتحاد غیر متوقع طور پر حالات کو پیچیدہ بناتے ہیں۔

    جب دنیا اس بدلتے ہوئے ڈرامے کا مشاہدہ کر رہی ہے، تو امریکہ اور پاکستان کے تعلقات اور عمران خان کی سیاسی تقدیر کا مستقبل غیر یقینی نظر آتا ہے۔ یہ کہانی اتنی ہی متحرک اور غیر متوقع ہو سکتی ہے جتنی وہ واقعات جو اب تک اس کی تشکیل کا سبب بنے ہیں۔آنے والی انتظامیہ کے لیے پاکستان کو ترجیحات میں شامل ہونے کا امکان نہیں ہے۔ تاہم،عمران خان کی جماعت، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)، اس امید میں ہے کہ ٹرمپ کی فتح سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے لیے درپیش بڑھتے ہوئے چیلنجز کو کم کر سکتی ہے۔ یہ امید اس کے باوجود ہے کہ عمران خان نے 2022 میں یہ الزامات لگائے تھے کہ بائیڈن انتظامیہ نے پاکستان کی داخلی سیاست میں مداخلت کی تاکہ انہیں عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے برطرف کیا جا سکے،یہ ایک دعویٰ جسے واشنگٹن اور اسلام آباد دونوں نے مسترد کر دیا تھا۔

    عمران خان کی برطرفی کے بعد اور پی ٹی آئی کے خلاف جاری کریک ڈاؤن، جس میں عمران خان کی گرفتاری اگست 2023 سے ہو چکی ہے، کے دوران امریکہ نے زیادہ تر خاموشی اختیار رکھی ہے، اور اس معاملے کو پاکستان کا داخلی معاملہ قرار دیا ہے۔

    ٹرمپ کی پچھلی مدت میں پاکستان نے امریکہ سے بنیادی طور پر افغانستان کے تنازعے کی وجہ سے تعلقات استوار کیے تھے۔ تاہم، ٹرمپ دوبارہ اقتدار میں آتے ہیں، تو پاکستان کو نظرانداز کرنے کا امکان ہے کیونکہ انتظامیہ عالمی سطح پر درپیش زیادہ اہم مسائل جیسے غزہ، یوکرین اور امریکہ،چین کی کشیدگی پر توجہ مرکوز کرے گی۔ پاکستان کی داخلی سیاسی صورت حال آئندہ ٹرمپ انتظامیہ کے حکمت عملی کے مفادات سے ہم آہنگ ہونے کا امکان نہیں رکھتی۔

    ٹرمپ عمران خان کے لیے چمکتے ہوئے زرہ پوش سپہ سالار بننے کے امکانات بہت کم ہیں

  • کس کی لگن میں پھرتے ہو۔سفر نامہ سعید آسی.تبصرہ :شاہد نسیم چوہدری

    کس کی لگن میں پھرتے ہو۔سفر نامہ سعید آسی.تبصرہ :شاہد نسیم چوہدری

    سعید آسی اردو ادب کاوہ معتبر نام ہے، جو اپنی متنوع تحریری صلاحیتوں کی بنا پر ادب، صحافت اور تحقیق میں ہمیشہ یاد رکھاجائے گا۔ ان کا سفرنامہ "کس کی لگن میں پھرتے ہو” نہ صرف ایک کتاب ہے بلکہ ایک ایسا تخلیقی آئینہ ہے جو قارئین کو مالدیپ، برونائی، اور انڈونیشیا جیسے خطوں کی تہذیب، ثقافت، اور تاریخ کے حسین رنگ دکھاتا ہے۔ یہ سفرنامہ ایک ادیب کی خالص جمالیاتی حس اور محقق کی باریک بینی کا حسین امتزاج ہے، جس نے قارئین کو ان ممالک کے دلکش مناظر اور منفرد پہلوؤں سے روشناس کرایا۔کتاب کا عنوان "کس کی لگن میں پھرتے ہو” ایک شعری کیفیت اور فلسفیانہ گہرائی کا حامل ہے۔ یہ نہ صرف سفر کے ظاہری پہلو کو اجاگر کرتا ہے بلکہ اس کے باطنی معنی کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔ یہ نام قاری کو یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ شاید یہ سفر صرف مقامات کے بیچ کا نہیں بلکہ ایک روحانی، فکری، اور تہذیبی جستجو بھی ہے۔سعید آسی صاحب کی نثر کا کمال یہ ہے کہ وہ سادہ مگر موثر الفاظ میں اپنی بات کہنے کا ہنر جانتے تھے۔ ان کا یہ سفرنامہ بھی اس خوبی کا آئینہ دار ہے۔ ان کی تحریر کا بہاؤ اور مناظر کی جزئیات نگاری قارئین کو ان کے ساتھ ہر لمحہ محسوس کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ وہ نہ صرف مناظر کی تصویر کشی کرتے ہیں بلکہ مقامی افراد کے رہن سہن، ان کے خیالات اور اقدار کو بھی نہایت گہرائی سے پیش کرتے ہیں۔

    سعید آسی سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے ہمراہ 1990ء میں مالدیب گئے۔ حکومت سنبھالنے کے بعد نواز شریف کا یہ پہلا غیر ملکی دورہ تھا۔ سفرنامے کا پہلا باب ’’کالا پانی‘‘ پر مشتمل ہے۔ جس میں سعید آسی نے کالا پانی کی سزا پر دلچسپ معلومات فراہم کی ہیں۔
    سعید آسی مالدیپ کے نیلگوں پانیوں، شفاف ساحلوں اور قدرتی حسن کی شاندار تصویر کشی کرتے ہیں۔ وہ مقامی باشندوں کی سادگی، مہمان نوازی، اور مالدیپ کے منفرد ثقافتی ورثے کو بڑی محبت اور احترام سے بیان کرتے ہیں۔ ان کے مشاہدات نہ صرف سیاحتی مقامات تک محدود تھے بلکہ وہ ان جزائر کی تہذیب اور اس کی روحانی گہرائی میں بھی جھانکنے کی کوشش کرتے ہیں۔
    برونائی کا سفر سعید آسی نے مارچ 1996ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ کیا۔ سعید آسی نے اپنی کتاب میں ایسے واقعات کو بھی تحریر کیا ہے جو عام مسافروں کو جہاز کے سفر میں پیش آتے ہیں۔برونائی کی شاندار مسجدیں، سلطنت کا انتظام، اور لوگوں کی روحانی وابستگی سعید آسی کی نگاہ سے پوشیدہ نہ رہی۔ وہ برونائی کے عوام کی خوشحالی کو نہ صرف ان کے معاشی نظام بلکہ ان کے روحانی اصولوں سے جوڑتے ہیں۔ وہ اس بات پر روشنی ڈالتے ہیں کہ کس طرح یہ چھوٹا سا ملک اپنی دولت کے ساتھ ساتھ اپنی ثقافتی اور مذہبی شناخت کو محفوظ رکھے ہوئے ہے۔

    انڈونیشیا کا سفر اس کتاب کے سفرنامے کا آخری حد ہے۔ یہ سفر محترمہ بے نظیر بھٹو، آصف علی زرداری اور نصرت بھٹو کے ساتھ طے ہوا۔ اس دورے میں صدرسہارتو سے بھی ملاقات ہوئی۔ اس عظیم مسلمان لیڈر سے ملاقات کا تفصیلی اور سیر حاصل ذکر بھی سفرنامے بھی موجود ہے۔پاکستان میں کئی لوگوں نے سفرنامے لکھے ہیں لیکن ’’کس کی لگن میں پھرتے ہو‘‘ ایک منفرد اور دلچسپ سفرنامہ ہے۔ انڈونیشیا کی رنگا رنگی اور تہذیبی تنوع اس سفرنامے کا ایک اہم حصہ ہے۔ سعید آسی نے انڈونیشیا کے مختلف جزائر کی تاریخ، مذہبی ہم آہنگی، اور ان کی ثقافتی رنگینی کو اپنی نثر میں بڑی مہارت سے پیش کیا۔ وہ انڈونیشیا کے اسلامی ورثے کو خاص طور پر اجاگر کرتے ہیں اور اس کی اہمیت کو بیان کرتے ہیں۔یہ کتاب ایک عام سیاحتی سفرنامے سے بڑھ کر ایک فکری اور تہذیبی جستجو کی داستان معلوم ہوتی ہے۔ سعید آسی کا مشاہدہ محض خارجی دنیا تک محدود نہیں بلکہ وہ ان ممالک کے لوگوں کے جذبات، ان کی امنگوں، اور ان کی زندگی کی قدروں کو بھی گہرائی سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔”کس کی لگن میں پھرتے ہو” صرف ایک سفرنامہ نہیں بلکہ ایک دعوتِ فکر ہے۔ یہ کتاب قارئین کو سفر کے ظاہری لطف کے ساتھ ساتھ دنیا کے مختلف خطوں کی تہذیبی گہرائی اور روحانی تعلق کو سمجھنے کی ترغیب دیتی ہے۔ سعید آسی اپنے قارئین کو بتاتے ہیں کہ سفر صرف جگہوں کا بدلنا نہیں بلکہ اپنے اندر کی دنیا کو دریافت کرنے کا ایک وسیلہ بھی ہے۔
    saeed aasi
    سعید آسی کا یہ سفرنامہ اردو ادب میں ایک قیمتی اضافہ ہے۔ ان کی یہ کتاب ان لوگوں کے لیے ایک خزانہ ہے جو دنیا کو ایک سیاح، ایک محقق، اور ایک روحانی مسافر کی نظر سے دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ کتاب نہ صرف مالدیپ، برونائی، اور انڈونیشیا جیسے حسین ممالک کی عکاسی کرتی ہے بلکہ قاری کو ایک ادیب کی دنیا کے حسین سفر پر بھی لے جاتی ہے۔ سعید آسی کی نثر، مشاہدہ، اور فلسفیانہ سوچ ان کے قارئین کے لیے ہمیشہ ایک رہنمائی کا ذریعہ رہے گی۔آسی صاحب کی روزنامہ نوائے وقت کے ساتھ تقریبا پینتالیس برس کی رفاقت ہے۔ اُن کی کتاب ” کس کی لگن میں پھرتے ہو” بہت متاثر کن ہے۔اس کتاب کے منفرداسلوب نے انہیں اور زیادہ محبوب بنا دیا۔ وہ شعر و ادب سے بھی اتنی ہی محبت کرتے ہیں ، اُن کی اردو شاعری اور پنجابی شاعری کی دو کتابوں سمیت بارہ کتابیں منظر عام پر ہیں ۔ ایک بہت اہم دلچسپ اور منفرد بات یہ ہے کہ سعید آسی صاحب نے اپنی کسی کتاب کے لیے کسی کی رائے اوردیباچہ وغیرہ شامل نہیں کیا۔سعید آسی کے سفرنامے پر مشتمل یہ ایک ایسی کتاب ہے، جو ادب کی دنیا میں اپنی الگ ہی پہچان اور شناخت رکھتی ہے۔ قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل جناب علامہ عبدالستار صاحب نے اسے بڑے پیار و محبت کے ساتھ شائع کیا ہے۔اب یہ کتاب دوبارہ دستیاب ہے،آرڈر کرنے کیلئے ـ0515101-300-0092ــ پر رابطہ کیا جا سکتا ہے
    shahid naseem

  • ذرا کان لگا کر سننے کی دیر ہے. تحریر:تابندہ سراج

    ذرا کان لگا کر سننے کی دیر ہے. تحریر:تابندہ سراج

    ہرن مینار دیکھنے کی خواہش بچپن سے تھی۔۔۔ کبھی موقع ملا نہ فرصت اور جب یہ دونوں ملے تو یاد نہ رہا۔۔۔ سردیوں کے ابتدائی خوش گوار ترین دنوں میں سیر و تفریح کا شوق کچھ بڑھ جاتا ہے۔۔۔ یونہی بیٹھے بٹھائے فیملی سے ہرن مینار کا پروگرام بنانے کو کہا اور سب نے لبیک کہ دیا۔۔۔
    یکم دسمبر کے روشن صبح تین گاڑیوں کا قافلہ لاہور سے شیخوپورہ روانہ ہوا۔۔۔ راستے کے کھیت کھلیان اور فصلوں کی آب و تاب نے سفر کا لطف دوبالا کر دیا۔۔۔ اتوار کا دن اور صبح کا وقت تھا تو ٹریفک کا زور قدرے کم تھا۔۔۔ ٹکٹیں لے کر قدیم تاریخی عمارت کے احاطے میں داخل ہوئے۔۔۔ مرکزی دروازے سے مینار تک کے فاصلے میں وسیع و عریض باغات ہیں۔۔کچھ آگے ایک بڑا تالاب ہے ، جہاں کشتی رانی کی سہولت ہے۔۔ صبح میں لوگوں کا رش کم تھا ، جو سہ پہر واپسی تک بہت بڑھ گیا۔۔ ہرن مینار کی سیڑھیوں اور تالاب کے وسط میں موجود بارہ دری کو مقفل کیا ہوا تھا ۔۔۔ مینار بہت خستہ حالی کا شکار ہے۔۔۔ ایک پرانا کنواں بھی مقفل تھا ۔۔۔ بادشاہ کے لاڈلے ہرن کی یاد میں تعمیر کردہ مینار کے ساتھ ہی ایک بڑے احاطے میں ، کچھ چلتے پھرتے دوڑتے بھاگتے ہرن بھی دکھائی دے رہے تھے۔۔۔۔ کینٹین بھی مغلیہ طرز تعمیر سے متاثر ہو کر بنائی گئی ہے۔۔۔

    قدیم تاریخی عمارتوں کو دیکھنے سے ایک الگ ہی طرح کا احساس دل و دماغ کو جکڑ لیتا ہے۔۔ کچھ دیر کو جیسے نظریں اور دھیان ساکت ہو جاتا ہے۔۔ تخیل اس دور کے شکوہ کی تصویر کشی کرنے لگتا ہے۔۔۔ حال اور ماضی کا ربط اور زمانی فاصلہ کسی فلم کی طرح چلتا محسوس ہوتا ہے ۔۔ ایسی عمارتیں خود بولتی ہیں اور اپنی کہانی سنانے لگتی ہیں ۔۔۔ بس ذرا کان لگا کر سننے کی دیر ہے۔۔۔