Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ناول،میں قربان. تحریر:فرح رضوان

    ناول،میں قربان. تحریر:فرح رضوان

    میں قربان .قسط 1
    منیبه کا گھر برقی قمقموں سے جگمگا رہا تھا کیونکہ آج ہاؤس وارمنگ پارٹی تھی، شادی کے کئی برس بعد بھی منیبه اور وقاص اپنا خود کا مکان نہیں خرید پاۓ تھے لیکن دو سال قبل مری کے ٹرپ سے لوٹتے وقت بڑی ترنگ میں وقاص نےاپنے بیوی بچوں سے وعدہ کیا تھا کہ 2021 میں جب دنیا ملینیم سال منائے گی وہ بھی اپنے نۓ گھر میں یادگار جشن منائیں گے،قدرت مہربان تھی کاروبار اچھا چلا اور وعدہ پورا ہوگیا -اس وقت مہمانوں کی آمد سے خوب رونق لگی ہوئی تھی ،وقاص نے گھر کی کشادہ چھت پر بہترین عشائیے کا انتظام کیا ہوا تھا خوبصورتی سے سجی ہوئی کھانے کی ٹیبلز سے زرق برق ملبوسات پہنے مہمان پلیٹوں میں کھانا لے کر اپنی نشستوں پر اینجواۓ کر رہے تھے ،ہر کوئی وقاص کی محنت اور منیبه کے سلیقے کی تعریفیں کر رہا تھا،یہ سلسلہ جاری تھا کہ بیل بجی تو ملازم نے آکر بتایا کہ آرکسٹرا والے آگۓ ہیں-

    کھانے کے بعد غزل کی محفل اور رتجگے کا بندوبست وقاص کی جانب سے اپنے گھر اور سسرال والوں کے لیۓ خصوصی گفٹ تھا ،میوزیشنز کی آمد کی اطلاع پر سبھی کی بانچھیں کھل گئیں لیکن ! وقار ماموں اور ان کی پوری فیملی نے فوری طور پر کھانے سے ہاتھ روکے اور جانے کے لیے کھڑے ہو گۓ منیبه نے ماموں سسر سے درخواست کی کہ کم از کم بچوں کو کھانا تو کھانے دیتے لیکن انہوں نے ناگواری سے جواب دیا کہ "تم لوگوں کو پہلے آگاہ کرنا چاہیے تھا کہ یہ گانے بجانے کی محفل ہے تو ہم آتے ہی نہیں ،اب اگر معلوم ہو گیا ہے کہ یہ موسیقی کی محفل ہے تو ہمارے لیے یہ کھانا جائز نہیں” منیبه سخت ہکا بکا تھی کہ ابھی تو سب کچھ حلال تھا ایک دم سے حرام کیسے ہو گیا ! بہرحال ماموں کی فیملی بغیر کسی سے ملے سیدھے نیچے اترے اور یہ جا وہ جا ….اس بدمزگی اور کرکراہٹ پر سبھی نے وقاص اور منیبه کو تسلی دی کہ ان کی تو عادت ہی یہی ہے ،تم لوگوں نے انہیں بلایا ہی کیوں تھا.پھر سب نے رات بھر خوب میوزک اینجواۓ کیا بظاہر منیبه نے بھی لیکن اندر سے وہ بہت بے چین تھی ،اس لیۓ نہیں کہ اسے بے عزتی محسوس ہوئی تھی بلکہ اس بات پر کہ ایسا کیا ہوا کہ ماموں کے بچوں نے بھی اتنے لذیذ کھانے سے فوری ہاتھ روک لیے اور بخوشی رنگوں بھری محفل یکدم چھوڑ کر چلے گۓ –
    ——————-
    امی جی میں اپنی بہن کی آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھ سکتا بتا دیں اس خبیث کو کہ اب ہم اسے واپس رلنے کے لیے نہیں بھیجیں گے،میں نے بات کی تو پھر اس سے ہاتھا پائی پولیس کچہری ہو جانی ہے ،شوکت نے غصے میں چاۓ کا کپ رکھتے ہوئے ماں کو اپنا فیصلہ سنایا اور روتی ہوئی بہن کے سر پر ہاتھ رکھ کر اسے پچکارتے ہوئے جیب میں ہاتھ ڈال کر بٹوہ نکالتے ہوئے کہا "نہ رو میرا بچہ یہ لے یہ پیسے لے کر اپنی بھابھی کے ساتھ رکشے پر جاکے بدھ بازار سے نیا سوٹ لے آ …پھر بیوی کو ڈپٹ کر آواز لگائی او نادیہ کدھر ہے بھئی کاکے کو امی کو دے اور صابرہ کو بدھ بازار لے کر جا ،مونہہ سوجھ گیا ہے بیچاری کا سوکھ کر کانٹا ہوتی جارہی ہے جب سے بیاہ کر گئی ہے اس ہڈ حرام کے ساتھ "- سوٹ کا نام سنتے ہی صابرہ کے اداس چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ گئی،مگر بہت لاڈ سے بھائی سے اٹھلا کر بولی نہیں میں نے بدھ بازار سے نہیں سوٹ لینا وہ جو نیا مال کھلا ہے نا ڈرائیونگ سینما کی جگہ پہ ….نادیہ نے جلدی سے کہا "وہ میلینیم مال ! ادھر تو بڑی مہنگی دکانیں کھلی ہیں ” شوکت نے بیوی کو جھڑک کر کہا تو اس کے بھائی کے پاس کمی ہے پھر جیب سے مزید رقم نکال کر بہن کو تھماتے ہوئے پوچھا کم تو نہیں پڑیں گے نا !صابرہ خوشی سے پیسے جھپٹتے ہوئے کمرے سے اپنی چادر لینے چلی گئی ،نادیہ نے کہا "میرے دانت کے درد کی دوا لاۓ ہیں نا اب برداشت نہیں ہو رہی درد مجھ سے ” شوکت چڑ کر بولا "جب سے آئی ہے میری زندگی میں کبھی صحت مند بھی رہتی ہے ؟ بچپن میں ماں باپ نے اچھی خوراک کھلائی ہوتی تو میرے سر یہ مصیبت تو نہ آتی "نادیہ نے جھگڑے سے بچنے کے لیے شوہر سے کہا مجھے پیسے دے دیں میں خود ہی لیتی آؤں گی ،شوکت نے خالی بٹوہ دکھاتے ہوئے کہا صبر کر لے آج تو پھر کل لیتا آؤں گا ”
    ————-
    اب کتنے دن استخارہ کرو گی نیک بخت تمہاری سگی بہن کا بیٹا ہے بچپن کا دیکھا بھالا ہےاور مجھے امید ہے کہ ناروے میں بھی یہ لڑکا بگڑا نہیں ہوگا ویسے بھی باجی اور نیاز بھائی نے شروع سے ہی اپنے اکلوتے بیٹے کی تربیت عمدہ اصولوں پر کی ہے…. اور دل کی بات کہوں تو میری اپنی خواہش تھی سلیمان کو آمنہ کے لیے مانگ کر اپنا داماد بنا لوں لیکن جانتی ہو نا پاکستانی کلچر ہمارے دین سے کتنا مختلف ہے ،لڑکی والے رشتہ مانگنے میں پہل نہیں کرسکتے، پتہ نہیں اور کتنے برس یہ سلسلہ چلے گا دوہزار بیس بھی گزرا جا رہا ہے لیکن !….ارے میں ہی بولے جارہا ہوں تم کب وظیفہ ختم کرکے بولو گی ….جواب میں زبیدہ نے رونا شروع کر دیا سراج صاحب کی آنکھیں بھی نم ہو گئیں وہ بیگم کو کندھے سے لگا کر تسلی دینا چاہ رہے تھے لیکن بیٹی کی جدائی کے خیال سے خود بھی رودیے –
    —————–
    "باجی یہ کیسی سہیلی ہیں آپ کی یہ ٹی وی نہیں دیکھتیں ؟ ” ثروت نے کل وقتی کم عمر ملازمہ کی طرف حیرت سے دیکھتے ہوئے پوچھا "کیا مطلب؟” ملازمہ نے سینڈوچز گنتے ہوئے کہا باجی 2021 چل رہا ہے اب کون اتنے بچے پیدا کرتا ہے،ٹی وی دیکھتیں تو سن لیتیں کہ بچے دو ہی اچھے ثروت نے حیرت اور مسکراہٹ دبا کر خفگی سے کہا "ماشاللہ کہتے ہیں اور اتنی بڑی بڑی باتیں چھوٹے بچوں کے مونہہ سے اچھی نہیں لگتیں،ان کے دو دو تو جڑواں بچے ہیں نا ” پھر ناشتے کی ٹرے لے کر لاؤنج میں آگئ جہاں ردا چھوٹے بیٹے کو گرمی لگنے پر ہلکے کپڑے پہنا رہی تھی ساتھ ہی دو عدد لڑتے ہوئے بیٹوں کا مقدمہ بھی سلجھ رہا تھا-ردا اس کے بچپن کی سہیلی تھی جس کی شادی بھی ثروت کے میاں عاقل کے دوست سے ہوگئی تھی اسی لیے ان کی فیملیز کی بہت بنتی تھی ،ساتھ سفر کرتے ساتھ ساتھ پکنک پر جاتے بچے بھی تقریبا ساتھ ہی ہوتے رہے لیکن ثروت کے پانچ بچے تھے جبکہ ردا کے آٹھ اور سب سے بڑا دس سال کا تھا .ردا بہت ہی ہنس مکھ اور کھلے دل کی لڑکی تھی ،ہاں یہ بھی قدرت کی مہربانی تھی اس پر کہ کم عمری میں شادی اور بچوں کے کاموں میں ایکٹیو رہنے کی وجہ سے وہ اب بھی لڑکی ہی دکھائی دیتی تھی ،اتنی مصروفیت کے باوجود سسرال کو دیکھنا ساس سسر کی پوری ذمہ داری نبھانا اور خوش باش رہنا ،شاید شوہر کی محبت اور توجہ بھی تھا اس کا راز .

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

    میں قربان .قسط 2
    نادیہ کو صابرہ پر کبھی ترس آجاتا کبھی غصه .
    غصہ اس لیے کہ وہ بہت اچھی طرح سمجھ رہی تھی کہ صابرہ کا شوہر خرم اتنا بھی برا انسان نہیں بلکہ وہ تو ایک شریف النفس انسان ہے جو بیوی کا اتنا غصّہ اور بار بار روٹھ کر میکے چلے جانا برداشت کر لیتا ہے لیکن بیوی کی مادی فرمائشیں پوری کرنے کی خاطر زیادہ کی لالچ میں حرام کی طرف نہیں جاتا اور یہ بات اس نے صابرہ کو کئ بار واضح طور پر بتا دی ہے.
    دوسری جانب صابرہ کی ازلی سستی گھر کے کاموں میں عدم دلچسپی اور اپنے سجنے سنورنے گھومنے پھرنے کے شوق کو پورا کرنے کی بے لگام خواہش اس کے شوہر کی تنخواہ سے بہت بڑھ کر ہے تو بیل کیسے منڈھے چڑھے ۔
    صابرہ بچپن سے اپنے ابا جی کی بہت ہی لاڈلی تھی ،جب جب اس کی ماں چاہتی کہ یہ گھر کے کام سیکھ جائے تو اس کا باپ ہمیشہ ہی اسے ان کاموں سے روک دیا کرتا تھا کہ میری بیٹی تھک جائے گی ، ماں بھی میاں کے سامنے تھوڑی بہت بات ہی کرپاتی تھی کہ آگے جا کر ہماری بچی کو نباہ میں بہت مشکل ہو جائے گی تو وہ کہتا کہ آگے اللہ آسانی کرے گا۔ میری شہزادی تو کسی بڑے گھر میں ہی بیاہ کر جائے گی جہاں اسے ان چھوٹے موٹے کاموں کو کرنا ہی نہیں پڑے ۔صابرہ اسی سوچ اور تربیت کے ساتھ بڑی ہوتی گئی، باپ اس کے نخرے اٹھاتا رہا وہ منہ سے کوئی بات نکالتی کہ مجھے فلاں چیز چاہیے اور کبھی اپنی تنگدستی کی وجہ سے وہ پورا نہیں کر پاتا تو پھر صابرہ نیند میں اس بارے میں رونا یا بڑبڑانا شروع کر دیتی تھی ماں کہا کرتی کہ یہ بڑبڑاتی نہیں ہے مکر کرتی ہے اور جب اس کو ہنسانا یا جگانا چاہتی تو باپ روک دیتا کہ نہیں میری شہزادی کی نیند خراب ہو جائے گی مگر اپنی بھوک اور نیندیں قربان کر کے اس کی فرمائش پوری کیا کرتا تھا.
    صابرہ کے والد اپنی بیٹی کے لاڈ کے سامنے اس کی ماں کی ایک نہیں سنتے تھے یوں اس کی پرورش میں یہ چیزیں شامل ہوتی چلی گئیں تو وہ ہر ایک سے زور زبردستی اپنا آپ منوانا شروع ہو گئی ۔
    یہ سب باتیں نادیہ کو اس لیے معلوم تھیں کہ وہ ان کے قریبی رشتہ داروں میں سے تھی ۔
    اور اکثر صابرہ کی ماں نادیہ کی ماں سے ہی مشورے کیا کرتی تھی۔
    رفتہ رفتہ صابرہ کا مزاج سخت سے سخت ہوتا چلا گیا ، زبان اس سے بھی زیادہ تیز ہوتی چلی گئی۔ جب اسے غصہ آتا تو اپنی ماں کو بھی اچھے سے باتیں سنانے سے نہ چوکتی اور محلے پڑوس میں کبھی کسی سے کوئی بات ہوجاتی تب بھی چھوٹے بڑے کا لحاظ کیے بغیر ان سے خوب لڑا کرتی ،رشتہ داروں میں سے کسی کی کوئی بات اسے بری لگتی تو گھر بیٹھے ہی ان کو برا بولتی رہتی اور باپ اس کا ساتھ دیتا رہتا کہ کیسے اپنے حق کی بات کرتی ہے میری بیٹی تو وہ اور شیر ہو جایا کر تی ۔ حتی کہ بعض دفعہ باپ سے بھی بد تمیزی کر جاتی لیکن وہ اسے لاڈ ہی مانتا ۔بہرحا ل تقدیر کے لکھے کو کون ٹال سکتا ہے، ایک دن صابرہ کے والد کا ہارٹ فیل ہوا اور وہ اسے روتا چھوڑ کر دنیا سے کوچ کر گۓ ۔
    والد کی وفات کے بعد گھر کا سارا بوجھ شوکت کے کاندھوں پر آ گیا ۔ وہ ابھی کالج میں ہی تھا ساتھ ہی سارے گھر کا ذمہ اٹھانا پڑا اس نے خود سے عہد کر لیا تھا کہ وہ صابرہ کو کبھی بھی باپ کی کمی محسوس نہ ہونے دے گا ۔تو باپ کی جگہ شوکت نے لے لی یعنی ماں جو سمجھتی تھی کہ اب بھی صابرہ کو راہ راست پر لایا جا سکتا ہے اس کی بیٹے کے سامنے کچھ نہ چل سکی،۔شادی کی عمر ہوئے تک صابرہ کی بدمزاجیوں کے جوہر محلے اور رشته داروں سب پر اتنے کھل چکے تھے کہ اس سے لوگ رشتہ کرنا تو دور اس کے لیے رشتہ لانے سے بھی ڈرا کرتے ،جس قسم کےرشتے خالہ رشتے والی لا رہی تھیں وہ صابرہ کو بالکل بھی پسند نہیں آرہے تھے، پھر جب اس کی عمر تھوڑی بڑھنی شروع ہوئی اور دو چارقریبی لوگوں نے بھی اسے سمجھایا کہ انسان کو اپنے ہی جیسے لوگ ملتے ہیں ، تم جس طرح کے خواب سجا کے بیٹھی ہو ایسا رشتہ مشکل سے ہی ملتا ہے،صبر سے کام لیتے ہوئے اللہ سےامید رکھو کہ شادی کے بعد جیسے جیسے تمہارے شوہر کی ترقی ہوگی تو تم سارے خواب پورے کر لینا لیکن صابرہ میں کمی صبر ہی کی توتھی ۔اسے اپنے ہونے والے شوہر کا سوشل اسٹیٹس بالکل بھی پسند نہیں آیا تھا،

    ہاں اسے شادی کرلینے کا آئیڈیا اس لیے پسند آ گیا تھا کہ پھر اماں جو کہتی تھیں کہ ابھی لپسٹک نہ لگاؤ، ابھی تیار ہو کے باہر نہ جاؤ ،بال نہ کھولو ان سب باتوں کی آزادی اسے شادی شدہ ہونے کے بعد مل جانی تھی اسے جہیز کے لیے بہت ساری چیزوں کا شوق تھا یہ ساری خواہشات اس کے بھائی نے پوری کیں تاکہ صابرہ کو باپ سے محرومی کا احساس نہ ہو
    اپنے بہت سے خرچے نظر انداز کر کے کئی خواہشات پس پشت ڈال کر شوکت نے بہن کے لیے جہیز تیار کیا ،اس سے بھی صابرہ میں ایک احساس تکبر پیدا ہو گیا تھا شادی کے دن سے ہی صابرہ نے بہت زیادہ سخت مزاجی اور ترش روی کا مظاہرہ کیا۔
    اس کے سسرال سے جب جوڑا آیا تو اس نے غصے میں اس کو اٹھا کے پٹخ دیا اور زیور ایک طرف ڈال دیے کہ یہ کوئی چڑھاوے پہنانے کی چیز ہے،ایسے ہلکے زیور پہنوں گی میں ! کم از کم میرے سسرال والوں کو اتنا اور اتنا تو کرنا ہی چاہیے تھا ،معیار اس نے اپنے ذہن میں اتنا زیادہ بلند کر کے رکھا تھا کہ وہ چیز پوری ہو کر نہیں دے رہی تھی ۔

    صابرہ کو سسرال کی ذمہ داریاں بھی اپنے سر نہیں لینی تھیں۔ اس نے چند ہی دنوں میں الگ گھر لینے کا مطالبہ کر دیا اور اس بات پر روٹھ کر میکے آ گئی اور تب سے یہ روٹھنا منانا شروع ہوا جو شادی کے دو سال بعد تک بھی جاری ہے لیکن کیونکہ اس کا شوہر جانتا ہےکہ اس لڑکی کا باپ بھی نہیں ہے اور یہ غریب گھر کے لڑکی ہے تو وہ جس حد تک رعایت کر سکتا تھا کرتا رہا ہے لیکن اب یوں محسوس ہونے لگا تھا کہ جیسےوہ بھی تھک چکا ہو
    نادیہ سوچ رہی تھی کہ عجیب انتہاؤں پر ہوتے ہیں لوگ میرے میکے میں بیٹیاں کتنی ہی لائق فائق ہوں ان کی قدر ہی نہیں لیکن لڑکا کتنا ہی نکما ہو اسے سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں جبکہ صابرہ کے کیس میں بیٹی کو سر پر بٹھا کر اسے اپنے ہی گھر میں ٹک کر بیٹھے رہنے کے قابل نہیں چھوڑا۔ کیا میں اپنی ہونے والی بیٹی کو اعتدال سے پال سکوں گی ؟
    ———-
    منیبہ پہروں بیٹھی سوچا کرتی تھی کہ اس کے شوہر نے کتنی محنت سے یہ گھر بنایا لیکن ساتھ ہی امریکہ کی ایمیگریشن کے لیے بھی کاغذات جمع کروا دیے تھے ،وہ بھرا پرا میکہ خاص کر بڑھاپے کو پہنچنے والے والدین کو چھوڑ کر کیسے رہ سکے گی ؟ کتنا مزہ آئے کہ ان کے پیپر ریجیکٹ ہو جائیں ،اگر ویزہ مل گیا تو کیا وہ عین وقت پر اپنے شوہر کو پاکستان چھوڑ کر نہ جانے کے لیے منا سکے گی ؟ کیا کریں گے فیملی کے بغیر ؟ اسے تو سسرال میں بھی مزہ ہی آتا تھا بس کبھی کبھی دونوں نندوں کی ناسمجھی سے بیزار سی ہو جایا کرتی تھی وہ بھی اپنے لیے نہیں ان ہی کے بچوں کی تربیت کے لیے.
    منیبه نے دبے لفظوں میں پہلے بھی اپنی دونوں ہی نندوں کو الگ الگ یہ بات سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ بلا شبہ ان میں مثالی محبت ہے اور ان کے شوہر بھی ایک دوسرے کے اچھے دوست ہیں لیکن آمنے سامنے اپارٹمینٹس میں مزید رہتے رہنا دانشوری ہرگز نہیں،ایک تو یہ کہ آپا کے بیٹے بڑے ہو رہے ہیں خالہ کے گھر بلا جھجک پہنچ جانے کی عادت پر ہی کم از کم پابندی ہونی چاہۓ، دوسرا یہ کہ نگہت کی بیٹی گو کہ چار پانچ سال کی کمسن بچی ہے لیکن کزنز کے ساتھ سودا سلف لینے تنہا بھیج دیا کرنا دونوں کی اولادوں کے لیے ٹھیک نہیں لفٹ میں ننھی نادان بچی کزنز کے ساتھ جائے یہ مناسب نہیں .جس پر نہ صرف دونوں بہنیں اس کی ذہنی آلودگی پر برس پڑی تھیں بلکہ بھائی سے بھی اس کی بیگم کی اس گھٹیا سوچ پر شکایت لگادی تھی جس پر وقاص منیبه پر بہت برہم ہوا تھا اور منیبه نے ان بھائی بہنوں کی بے عقلی پر ماتم کرکے اس معاملے سے خود کو الگ کرلینے کا پکا فیصلہ کر لیا تھا،البتہ ساس سسر جو آج کل نگہت کے گھر ہی رہنے گۓ ہوئے تھے ان تک غالبا یہ ان بن والی باتیں نہیں پہنچائی گئی تھیں تبھی انہوں نے اس کی پیشی طلب نہیں کی تھی لیکن ! آج ساس کی طبعیت کی خرابی کا سن کر اس سے رہا نہ گیا،جلدی جلدی پرہیزی کھانا تیار کیا کہ بچوں کے سکول سے واپس لوٹنے سے پہلے ہو آۓ گی
    تو انہیں سرپرائز دینے کی غرض سے بغیر اطلاع دییے پہنچ گئی لیکن اوپر آکر سوچا کہ اس سے پہلے کہ کوئی کڑوی بات سنائی جائے خود ہی بڑی آپا کو سلام کرتے ہوئے نگہت کی طرف جانا چاہۓ،لیکن دستک کے بعد دروازہ کھلنے پر اسے اپنے غصے پر قابو پانا مشکل لگ رہا تھا پہلے اسے صرف خدشہ تھا کہ آپا کا بڑا بیٹا راشد کسی فتنے کا شکار ہو چکا ہے اسی لیے نگہت کی معصوم حنا کو اس کی پہنچ سے دور رکھنا چاہۓ لیکن اس وقت تو اس کے پیروں تلے زمین نکل گئی جب ارشد نے بتایا کہ مما تو خالہ جانی کے گھر ہیں نانو کی خدمت کرنے گئی ہیں اس نے ڈپٹ کر پوچھا کہ حنا یہاں کیوں ہے تم سکول میں کیوں نہیں تو بڑے سکون سے جواب دیا کہ مامی سکول میں تو پڑھائی ہوتی ہی نہیں میں گھر پر ٹیسٹ کی تیاری کے لیے رک گیا تھا ….اور یہ حنا موٹلو اپنے گھر میں رہتی کہاں ہے کبھی بلو اسے لے آتا ہے کبھی سنی کبھی مما بابا بلا لیتے ہیں سارا دن کبھی کینڈیز کھاتی ہے کبھی چاکلیٹ وہاں گھر پر تو خالو جان اسے یہ کھانے سے منع کرتے ہیں نا ….منیبه کو دال میں کالا نہیں دال ہی کالی دکھائی دے رہی تھی لیکن کس سے کہتی ….شاہد بھائی ہاں وہ باپ ہیں حنا کے، ان کی غیرت کو جگانا پڑے گا،وہ اپنے ماتھے پر پڑی تیوریوں سے راشد کو باآور کروا چکی تھی کہ اسے یوں اکیلے گھر میں حنا کو ساتھ رکھنا سخت ناگوار گزرا ہے،اس نے حنا کا ہاتھ تھامے بہ مشکل ایک قدم ہی پیچھے کیا ہوگا تو خود کو نگہت کے گھر کے سامنے پایا.راشد ساتھ ہی آگیا تھا اور اس سے پہلے ہی بغیر دستک دیے سیدھا گھر کے اندر جاکر بتایا کہ بڑی مامی آئی ہیں .
    منیبہ غصے پر قابو پاتے ہوئے سب سے اچھے سے ملی ساس سے مسکرا کر پوچھا کہ سچ بتائیں کیا بدپرہیزی کی تھی تو سسر نے ہنستے ہوئے بتایا کہ سب آئسکریم کھا رہے تھے تو ہماری بیگم سے رہا نہیں گیا اب دیکھو ذرا کتنی تکلیف اٹھا رہی ہیں.
    منیبه نے پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "امی آپ کو لاسٹ ٹائم ڈاکٹر نے کتنی تاکید کی تھی نا کہ آپ کا جسم بہت کمزور ہو گیا ہے ٹھنڈی میٹھی کسی چیز کی لالچ میں نہیں آنا ورنہ صرف شگر نہیں بڑھے گی بلکہ نمونیہ بھی ہو سکتا ہے ” دونوں نندوں نے بہ یک زبان بھاوج کی بات کاٹی بلکہ آپا نے تو قدرے سخت لہجے میں کہا کہ "اللہ کی بندی بات تو اچھی کیا کرو”جبکہ نگہت نے منمناتے ہوئے کہا "بھابھی برا نہیں مانیے گا لیکن جب سے نیا گھر لیا ہے نا آپ نے لگتا ہے جیسے سب کو شرمندہ کرنے کا علم اٹھالیا ہے آپ نے” ،منیبه ہکا بکا رہ گئی ،نگہت کا شکوہ جاری تھا "میں اکیلے ہی محسوس نہیں کرتی کہ آپ کہیں کہ میں اپنے بھائی کی ترقی سے جلنے لگی ہوں نقاش بھائی بھی کہہ رہے تھے کہ اب وہ بات نہیں رہی بھابھی کے رویے میں”منیبه کی حیرت میں مزید اضافه ہو گیا تھا کہ اس کے پیٹھ پیچھے وہ نند اور دیور جن کا ہر بھلے برے وقت میں جی جان سے ساتھ دیا اس کے بارے میں کیا کیا باتیں کرتے ہیں ،مگر شادی کے اتنے عرصے بعد وہ یہ بھی جان چکی تھی کہ ان سب کو صفائی دینے پر یہ مل جل کر کوئی دوسرا الزام اس کے سر ڈال دیں گے لہذا وہ اس بات کو اگنور کر کے دھیمے سے اٹھ کر ساس کی سائیڈ ٹیبل پر رکھی دواؤں کا جائزہ لینے لگی …پھر ٹھٹھک کر مڑی اور آپا سے پوچھا "ان دونوں دواؤں کی ایکسپائری ڈیٹ تو بہت نزدیک کی ہے کس میڈیکل سٹور سے لی ہیں ؟ وقاص تو امی ابا کی دوائیں ہمیشہ اچھے سٹورز سے لیتے ہیں ،ختم ہو رہی تھیں دوائیں تو انہیں فون کر دیتے "- آپا نے چونک کر راشد کی طرف دیکھا کہ اس نے پھر پیسوں میں ڈنڈی مار لی ہے لیکن بھاوج کے سامنے بہانہ بنادیا کہ ارے یہ تو راشد جلد بازی میں نیچے والی دکان سے پورا پتہ لے آیا میں ابھی تم سے یہی تو کہنے والی تھی کہ وقاص کو کہہ دینا دفتر سے آتے وقت امی کی دوائیں لیتے آئے تم بیٹھو چاۓ تو پیو،راشد ماں کی آنکھوں میں قہر دیکھ کر واپس اپنے گھر ٹیسٹ کی تیاری کرنے چلا گیا

    میں قربان .قسط 3
    وقاص کھانے کے بعد چائے پیا کرتا تھا منیبه جب بھی چائے کا کپ لے کر اتی تو وہ کھانے کی پلیٹ کی طرف دیکھتی، اگر کھانا پورا ختم کر لیا ہو تو اس کا مطلب ہے کہ وقاص کو پسند آگیا ہے البتہ کھانے میں کبھی کوئی نقص ہوتا تو وہ برملا اس کا اظہار کرتا اور کبھی منیبه کو ہلکی پھلکی ڈانٹ بھی پڑ جایا کرتی کہ کھانا دھیان سے نہیں بناتی اور یہ ہمیشہ سے اس کی عادت تھی کہ اگر بیوی کی کوئی بات پسند آجاۓ تو اسے کوئی گفٹ دلا دیا کرتا تھا لیکن مونہہ سے کچھ نہیں بولتا تھا-منیبه کو ان اشیا کی ضرورت نہیں تھی ، اس کے کان تو ہردلعزیز متاع جان کے دو اعترافی بول کے لیے ترس رہے ہوتے تھے، ساری دنیا منیبه کی خوبیوں کی معترف تھی لیکن وہ جس سے سننا چاہتی تھی وہاں سے کوئی لفظ سماعتوں سے ٹکرانے کی جسارت نہ کرتا تھا-

    کھانے کی پلیٹ صاف تھی اسے یہ دیکھ کر اطمینان ہوگیا، چائے دے کے وہ وہیں بیٹھ کر باتیں کرنے لگی بچے اپنے کمرے میں ہوم ورک کر رہے تھے، وقاص کو یاد آیا تو بتانے لگا ” ارے آج دفتر میں آفتاب بھائی سے ملاقات ہوئی تھی تو وہ کہہ رہے تھے کہ پرسوں یہ لوگ ہماری طرف آئیں گے "اس پر منیبہ مسکرا کر بولی ” اچھا میں بچوں کو بتا دیتی ہوں” وقاص سمجھ گیا وہ بچوں سے کیا کہے گی اس لیے ذرا چڑ کر بولا "یار یہ بہت بری عادت ہوجاتی ہے بچوں کے اندر کہ وہ اپنی ہر چیز اٹھا کرکسی کے آنے سے پہلے چھپا دیں تو بڑے ہو کران میں بڑے لیول پر شیئرنگ کی ہمت اور عادت کیسے آئے گی ” منیبه نے دھیمے لہجے میں کہا ” بس کچھ نازک یا بہت خاص چیزیں جو نایاب ہوتی ہیں ان کے لیے ہی میں انہیں کہتی ہوں کہ ایک طرف سنبھال لیں کیونکہ دوسرے اکثر بہت بے دردی یا لاپرواہی سے استعمال کرتے ہیں میں اس لیے بھی احتیاط کرتی ہوں کہ چیزوں کے پیچھے ہمارے تعلقات خراب نہ ہوں، بچوں کی کچھ چیزوں کے ساتھ بہت زیادہ اٹیچمنٹ ہوتی ہے احساس تحفظ بھی تو ہمیں ہی دینا ہے نا انہیں اور جناب یہ بھی تو دیکھیں نا کہ ان اصولوں پر چل کر ہماری دوستی کتنے عرصے سے قائم ہے”- پھر جب وہ بچوں کومطلع کرتی ہے تو بیٹا بہت خوشی کا اظہار کرتا ہے جب کہ بیٹیاں شکوہ کرتی ہیں کہ "مما وہ لوگ ہمارے سارے کھلونے خراب کر دیتے ہیں اور گھر بھی گندا کر دیتے ہیں ہمیں بعد میں صاف کرنا پڑتا ہے ” وقاص بڑی بیٹی کوقریب بلاتا کر اس کے سر پہ ہاتھ پھیر کے کہتا ہے کہ اپنی چیزیں شیئر کرنے کی عادت ڈالتے ہیں،آپ کی بہت ساری پرانی چیزیں ایسی ہوں گی جو آپ کو یاد بھی نہیں ہوں گی کہ وہ کہاں ہیں کس کو دیں کس حال میں ہوں گی تو کبھی کبھی کچھ چیزیں اپ کے سامنے بھی اگر خراب ہو جاتی ہیں تو تھوڑا بہت صبر کر لینا چاہیے ،آپ اگر اپنی ہر چیز اٹھا کے رکھ دو گے توآپ کھیلو گے کیسے؟ پھر آپ کی باتیں بھی ختم ہو جائیں گی، پڑھائی تو نہیں کر سکتے نا جب دوست آتے ہیں ،تھوڑی بہت چیزیں شیئر کر لینی چاہیے اگر کوئی کھلونا ٹوٹا تو میں اپ کو دلا دوں گا”-بچوں نے سر ہلا کر اس کی بات سمجھ لینے کا سگنل دیا اور اپنے کمرے میں واپس چلے گئے –

    وقاص نے منیبه کی طرف شرارت سے دیکھتے ہوئے کہا” لڑکیوں کو تو بچپن سے شئیرنگ آنی چاہیے تاکہ شادی کے بعد اپنے شوہر کو اپنی مسلمان بہنوں سے شئیر کر سکیں” منیبه نے آنکھیں دکھاتے ہوئے کہا "پھر وہی مذاق ” تو وقاص نے ہنستے ہوئے کہا "مذاق کہاں کر رہا ہوں،دل کے ارمان اپنی بیوی کے سامنے نہیں رکھوں گا تو کہاں جاؤں گا میں بیچارہ ” منیبه نے نرمی سے کہا "میں یہ بات کسی بھی انداز میں آپ سے سننا نہیں چاہتی،بہت سی باتیں میں آپ کی ایک ہی بار میں مان لیتی ہوں تو یہ ایک بات آپ میرے بار بار منع کرنے کے باوجود بھی کیوں نہیں مانتے؟” پھر منیبه غصے میں برتن سمیٹ کر لیجانے لگی تو وقاص نے اسے کلائی سے پکڑ کرواپس بٹھا لیا اور بولا
    "تو منع کر دوں اس بیچاری کو نازک سا دل ٹوٹ جائے گا اس کا ….” منیبه غصے میں بھناتی ہوئی ہاتھ چھڑا کر کچن میں چلی گئی ،وقاص نے پیچھے سے آواز دی” ہنس رہی ہو نا ” نومی نے آکر بتایا "نہیں پاپا مما رو رہی ہیں ،آپ نے پھر سے ان کو رلا دیا میں تو اپنی بہنوں کو نہیں رلاتا”
    اگلے دن آفتاب اور ان کی بیگم ردا اپنے سب بچوں کے ساتھ پہنچے تو گھر میں ایک شور اور بڑی رونق والا ماحول ہو گیا بڑے عرصے بعد یہ لوگ ملے تھے ، دفتر اور بچوں کی مصروفیات کی وجہ سے کم کم ہی ملنا ہوتا تھا اورفون کی
    لائن تو اتنی خراب تھی کراچی میں کہ ایک بندہ بات کرتا تو تین اور لوگوں کی لائن اس میں کنیکٹ ہو جایا کرتی ویسے بھی پیچھے بچوں کا شور اتنا ہوتا تھا کہ فون پہ بات کرنا دشوار ہو جایا کرتا تھا -وقاص اور آفتاب اوپر ڈرائنگ روم میں چلے گئے بچے لاؤنج میں کھیل رہے تھے اور ساتھ والے کمرے میں منیبہ اور ردا بیٹھ کر باتیں کرنے لگے ردا کا چھوٹا والا کافی بھوکا نظرآ رہا تھا اس نے سب سے پہلے اس کا ڈائپر چینج کیا پھر بیگ سے پیالی چمچہ سیریل اور بوتل سب نکال کر مکس کر کے بچے کو کھلایا ،اس دوران منیبه نے ملازمہ کی مدد سے ٹیبل پر کھانا لگوایا کا یہ لوگ جب کبھی بھی ملتے تو بہت زیادہ پرتکلف کھانا نہیں ہوا کرتا تھا ،اچھی سی ایک دو چیزیں ہوتی تھیں اور سب مل کر خوشی سے کھا لیا کرتے تھے کھانے کو پر تکلف بنانے پہ ویسے اس لیے بھی ایک عرصے سے محنت نہیں کررہے تھے کہ انہیں سمجھ آچکا تھا کہ ہم اگر اس کام میں تھک چکے ہوں گے توآپس میں اچھے سے ایک دوسرے کو وقت نہیں دے سکیں گے اس لیے ملنے سے پہلے اپنی اور بچوں کی نیند پہ بہت توجہ دیا کرتے تھے- بہت محدود توانائی ہوتی ہے ایک انسان میں اس کو کس طرح استعمال کرنا ہے یہ سلیقہ انہیں وقت کے ساتھ ساتھ آگیا تھا-

    کھانے کے بعد بچوں کا شور کچھ اور زیادہ ہی ہو گیا تھا آفتاب کو سگریٹ پینے کی عادت تھی تو وہ یہ کہہ کر کہ ” ہم باہر سے بچوں کے لیے آئسکریم لے آتے ہیں”وقاص کے ساتھ چلے گئے پیچھے ردا اور منیبہ نے سوچا کہ بچوں کو ہم ٹی وی پر کچھ لگا کے دے دیتے ہیں تو اس نے وی سی آر کی لیڈ دراز سے نکالی اور شیشے کے کیبنیٹ میں سے کارٹون والی کیسٹ نکال کر لگا دی، بچے سکون سے بیٹھے تو منیبہ اور ردا ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگے ردا ہنستے ہوئے کہنے لگی کہ "تمہیں پتہ ہے کہ جب کبھی بھی مجھے پتہ چلا کہ اب مزید ایک اور بچہ میری زندگی میں آرہا ہے تو سب سے زیادہ جب سپورٹ کی ضرورت تھی نا یار دیکھو اپنی ماں ہی سب سے زیادہ یاد آتی ہےنا تکلیف میں! لیکن میری ماں نے ہی مجھے تیسرے بچے کے بعد سے ہی ہر بار اتنا ڈاٹا اتنا ڈانٹا …وہ میری محبت میں ہی مجھے ڈانٹتی ہیں یہ بات مجھے پتہ ہے اگر نہ پتہ ہوتی تو شاید میں اور تکلیف میں چلی جاتی لیکن جب مجھے حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے مجھے ان کی گود چاہیے ہوتی ہے مگر وہ مجھے ایسے ڈانٹ رہی ہوتی ہیں جیسے یہ بچہ نکاح کے بغیر ہی آگیا ہے میری زندگی میں ، ماں کے بعد اگر مجھے کوئی سہولت چاہیے ہوتی ہے تو اپنی ڈاکٹر سے چاہیے ہوتی ہے جب میں ڈاکٹر کے پاس جاتی ہوں تو وہ میری شکل دیکھ کے کہتی ہے تم پھر آگئیں !” منیبہ نے کہا "پھر تم یہ سارا غصہ اپنے بچوں کے اوپر اتارتی ہو” ردا نے کہا "نہیں پہلے کرتی تھی اب مجھے سمجھ آگئی ہے کہ بچوں کو مارنا نہیں ہے پھر مجھے ابا نے یعنی میرے سسر نے بھی کہا کہ بچوں کے چہرے پر نہیں مارتے تو بس صبر کرنا ہوتا ہے بہن برداشت کرنا ہوتا ہے اور کیا اللہ تعالی نے کچھ پلان کیا ہوگا میرے لیے ان بچوں کے لیے ،دیکھو کچھ لوگ ترستے ہیں اولاد کی نعمت کے لیے اور کچھ لوگ اس نعمت کو سمجھ ہی نہیں پاتے” ردا کی آنکھیں نم ہو گئیں کہنے لگی "بہت سوں کو تو یہ بھی نہیں معلوم کہ رپورٹ پازیٹو آجاۓ تو پھر اپنا آپ ہی مارنا ہوتا ہے، اس بچے کو نہیں مارنا ہوتا ، اپنی میں قربان کرنی ہوتی ہے، جو آسان نہیں ہے لیکن مجھے اللہ تعالیٰ سے محبت ہے نا تو وہ آسان کر دیتا ہے ” منیبه اس کا ہاتھ پکڑ کر بیٹھ گئی اور بولی ” ، مجھے تو یہی سمجھ نہیں آتا کہ تم اپنے بچوں کے کام وام نمٹا کر ساس سسر کو کیسے دیکھ لیتی ہو اور اکیلی ہوتی ہو تمہارے شوہر مطلب کہ آفتاب بھائی کی میں برائی نہیں کر رہی ہوں لیکن مجھے سمجھ نہیں آتی کہ وہ خود اپنے والدین کی خدمت میں بہت کم ہوتے ہیں اور تم آگے آگے "تو ردا ہنس دی کہ اس بندے کے پاس وقت کہاں ہوتا ہے تمہیں خود اپنے شوہر کا بھی اندازہ ہو گا کہ دفتر والے فیملی کے لیے وقت کہاں رہنے دیتے ہیں ” پھر یہ کاروبار بھی کر رہے ہیں اس میں بھی ٹائم لگتا ہے تو یہ ہم سب کے لیے ہی کر رہے ہیں نا؟ یہ رزق حلال کما رہے ہیں اور ہم رزق حلال کو بچانے کے کام کر رہے ہیں؛ ہے کہ نہیں ؟ یہ جو میں اتنے کام بھاگ بھاگ کے کر لیتی ہوں ادھر ادھر کے وہ بھی میں اپنے شوہر کی محبت میں کرتی ہوں ، مطلب اگر میں نہیں کروں گی یہ سارے کام اور وہ آ کر کریں گے تو شوہر کا ٹائم مجھے کیسے ملے گا؟ میں ان کے حصے کے کام کر دیتی ہوں اور ان کا وقت مجھے مل جاتا ہے” منیبه کہتی ہے "اس طرح سے تو تم نے ڈبل لوڈ لے لیا تم اتنی اچھی بن کر رہو گی تو سب تمہارے اوپر اور کام کا بوجھ ڈالتے ہی چلے جائیں گے” تو ردا نے کہا ” نہیں میں سمجھتی ہوں کہ میرے اندر بہت زیادہ اعتماد آیا ہے ان تمام کاموں سے کہ جب آفتاب مجھے کہتے ہیں کہ اچھا تم نے یہ بھی کر لیا تو وہ مجھے بہت شاباشی دیتے ہیں،شکریہ ادا کرتے ہیں ،اعتراف کرتے ہیں کہ میں ان سے زیادہ ان کے والدین کا خیال رکھتی ہوں ،اور سچی بات ہے کہ اس سے زیادہ کی مجھے طلب ہے نہ ہوس ".
    ———————-
    کسی تناور درخت کو بھی بار بار ہلایا جائے تو وہ بھی اپنی جڑیں کمزور کر دیتا ہے ، یہی صابرہ کے ساتھ ہوتا نظر آ رہا تھا ، ماں بھی نہ رہی تھی اس وجہ سے نادیہ ہی اس سے بات کرنے کی کوشش کرتی تو صابرہ ہتھے سے اکھڑ جاتی اور یہ بات جب شوکت کو پتہ لگتی تو نادیہ اور شوکت کے اپنے رشتے میں کڑواہٹ پیدا ہوجاتی –
    ایک روز نادیہ سوئی ہوئی تھی کہ وہ خواب میں دیکھتی ہے کہ وہ اور صابرہ کسی جگہ پر گئی ہیں جہاں بہت رش ہے، اس کے ہاتھ میں اپنے بہت سارے زیور ہیں، وہ چاہتی ہے کہ اس میں سے کچھ صدقہ کر دے مگر وہاں
    رش اتنا زیادہ بڑھ جاتا ہے ، دھکم پیل ہوتی ہے کہ جب وہ اپنا پرس کھولتی ہے تو اس میں کافی سارے زیورات نیچے گر جاتے ہیں اور وہ ان کو جھک کر اٹھا بھی نہیں سکتی کیونکہ وہاں اتنا رش تھا تو لوگ نیچے گرے ہوئے زیورات کو لوٹنا شروع کر دیتے ہیں ، صابرہ اس صورتحال سے بے نیاز نادیہ سے کہتی ہے کہ مجھے پانی پینا ہے اور ضد لگا لیتی ہے کہ پانی پلا دیں، وہ دونوں مل کر ڈھونڈتے ہیں تو ایک جگہ نظر آتی ہے جہاں ابھی کنواں کھودا جا رہا ہوتا ہے لیکن اس میں پانی ابھی پورا ہوتا نہیں ہے ، گدلا پانی ہوتا ہے،وہاں جو کام کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ نہیں،
    آپ یہ نہ پیئیں ،یہ ابھی صاف نہیں ہے آپ تھوڑا سا صبر کر لیں اور آگے جا کر صاف پانی پی لیں ، لیکن صابرہ کہتی ہے مجھے یہی پانی چاہیے ، مٹی اس کے حلق میں پھنس جاتی ہے تو وہ اسے تھوک دیتی ہے ، اور جب وہ زور زور سے کھانس رہی ہوتی ہے تو تکلیف کی وجہ سے نادیہ کی آنکھ کھل جاتی ہے-
    نادیہ جب یہ خواب اپنی ماں کو سناتی ہے تو اس کی ماں اس پر بہت زیادہ غصہ کرتی ہے کہ تم صابرہ کے لیے ہلکان ہونا چھوڑ دو، وہ اپنے لیے اچھا فیصلہ نہیں کر پا رہی ہے جس سے تمہاری خوشیاں بھی اس کی بے صبری کی وجہ سے لٹ جائیں گی۔
    تمہارے پاس جو زیور تھے، وہ تمہاری خوشوں کا تھیلا تھا ،جو اس کی وجہ سے خراب ہو رہی ہیں اور وہ جو بھی دھکے پڑ رہے تھے وہ حالات ہیں جو اس کی بدزبانی کی وجہ سے آئیں گے اور اس میں تمہیں بھی پریشان ہو گی، اور وہ جو پانی والی بات ہے وہ اس کی بے صبری ہے کہ اس نے میٹھے پانی کا انتظار نہیں کیا اور وہی کیچڑ والا پانی پینےکی کوشش کی جسے تھوک دیا اور اس کو پھندا بھی لگ گیا ۔
    تو تم اپنے آپ کواس کی ساری کاروایوں سے دور رکھو اب آگے جو چیزیں بھی خراب ہوں گی ،اس سے تمہیں بہت تکلیف بھی ہو سکتی ہے تم اپنا صدقہ وغیرہ دو۔
    آخر وہی ہواجس کے بارے میں سب کو پہلےسے اندازہ تھا کہ ایسا ہو سکتا ہے ۔
    صابرہ کی کاہلی اور بدزبانی کی وجہ سے خرم ایک دن آپے سے باہر ہو گیا۔ وہ کبھی نہیں چاہتا تھا کہ اپنی بیوی پر ہاتھ اٹھائے لیکن اس روز یہ ہو گیا تو صابرہ نے رو رو کر بد دعائیں دے دے کر محلہ سر پر اٹھا لیا ،شوہر کے خاموش کروانے پر اس سے اتنی زیادہ بدزبانی کی کہ آواز تک بیٹھ گئی پھر بھی صبر نہ آیا تو غم و غصے میں شرکیہ، کفریہ الفاظ بولنے سے بھی باز نہ رہی- بہرحال محلے میں سے ہی جان پہچان کےلوگوں نے اس کے بھائی کے گھر فون کیا تو بھائی اسے لینے پہنچا صابرہ کو امید تھی کہ بھائی خرم سے میرے تھپڑ کا بدلہ ڈنڈے سوٹے سے لے گا لیکن محلےداروں نے ڈھیر ساری گواہیاں صابرہ کے خلاف اور خرم کے حق میں دینی شروع کردیں، لہٰذا یہ جھگڑاوہیں تھم گیا اور شوکت شرمندگی کے ساتھ بہن کو اپنے گھر لے آیا ۔ وہ حیران تھا کہ اسے اس سے پہلے وہ سب باتیں معلوم ہی نہیں تھیں جو محلے والوں نے بتائیں ۔
    جن سے اسے دلی صدمہ بھی ہوا کہ اس کی پیاری بہن کیسی نادان ہے اس نے نادیہ سے اپنا غم ہلکا کرتے ہوئے کہا اس پگلی نے اپنی زندگی کے ساتھ کیا کچھ کر ڈالا ہے۔نادیہ دل میں سوچ کر رہ گئی کہ "صرف اپنی زندگی یا ہم سب کی زندگیوں کے ساتھ ”
    ———-
    نادیہ کی طبعیت کافی خراب رہنے لگی تھی، اس کی دیکھ بھال صابرہ کے سر آچکی تھی وہ بہ مشکل کچن سنبھالتی اور تھک کر چور ہو جاتی ،شوکت دن بھر کا تھکا جب گھر آتا تو نہ کھانا بنا ملتا نہ ہی بیٹے سعد کا حلیہ ٹھیک ہوتا ،صبح ناشتے میں پاپے کھا کر نکلتا اور واپسی میں ہفتے بھر کھانے میں وہی پتلی کھچڑی یا دلیہ ملتا رہا جو صابرہ مارے باندھے نادیہ کے لیے بنا لیا کرتی تھی .
    شوکت پرایک نئی حقیقت آشکار ہو رہی تھی کہ اس کی بیوی نے گھر کو کتنی مستعدی سے جان مار کر سنبھالا ہوا تھا حتی کہ اس کی امی کو بھی آخر وقت تک اور صابرہ تو اب بھی کہیں شادی کر کے گھر سنبھال لینے کے قابل خود کو نہیں بنا سکی ہے ،لیکن جوان لڑکی ہے شادی تو کرنی ہی ہوگی مگر ایسے کیسے گھر چلاۓ گی اپنا ؟
    نادیہ اپنی کمزوری کی وجہ سے دلگرفتہ تو تھی لیکن خوش بھی تھی کہ شوکت کو اندازہ تو ہو جاۓ گا حالات کا ….تو کیا وہ اسے سراہے گا ؟ کیا کسی مسجد کے خطبے سے سکول سے والدین سے اپنے کام پر اس نے اتنی سی بات سیکھی ہو گی کہ بیوی کو سراہا جانا چاہۓ ، وہ چند لفظ اس کے ذمہ داری سے لائی ہوئی دواؤں پھلوں اور دودھ سے زیادہ نادیہ کو طاقت بخش دیتے،محبت کا اظہار شادی کے شروع دنوں میں تو مجھے تم سے محبت ہے کہہ دینے سے ہو جاتا ہے لیکن کچھ سال بعد کبھی کبھی مجھے تم پر فخر ہے ،مجھے تم پر بھروسہ ہے مجھے تھماری محنت کا ادراک ہے ،مجھے تمھارے صبر کی قدر ہے کچھ تو، کبھی تو ، اندھے فقیر کے کاسے میں کھنکھناتے ہوئے سکوں کی آواز کی مانند درکار ہوتے ہیں.

    اکرم چوہدری نجی ٹی وی کا عثمان بزدار ثابت،دیہاڑیاں،ہراسانی کے بھی واقعات

    اکرم چوہدری کا نجی ٹی وی کے نام پر دورہ یوکے،ذاتی فائدے،ادارے کو نقصان

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

    مناہل ملک کی لیک”نازیبا "ویڈیو اصلی،مفتی قوی بھی میدان میں آ گئے

  • ہم ترقی پذیر کیوں؟سیاستدان جوابدہ ہیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ہم ترقی پذیر کیوں؟سیاستدان جوابدہ ہیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستانی قوم کی اکثریت اپنی فوج اور جملہ اداروں سے دیوانگی کی حد تک محبت کرتی ہے فوج کے خلاف غلیظ زبان کا استعمال اور پروپیگنڈہ کوئی نہیں بات نہیں، پہلے بھی پاک فوج کے خلاف اس طرح کے پروپیگنڈہ کئے گئے عوام کی اکثریت نے کبھی قابل توجہ نہیں سمجھا۔ یہ وہی فوج ہے جس نے ضرب عضب اور ردالفساد میں خودشہید ہو کر ملک میں انتہا پسندی کا اور دہشت گردی کا خاتمہ کیا تھا، ضرب عضب نواز شریف کے دور حکومت میں شروع ہوا فوج کے ساتھ پولیس نے بھی بھاری قربانیاں دیں جبکہ عام شہری بھی دہشت گردی کی زد میں آئے۔ یاد رکھیئے پاکستان دشمن قوتوں اور بالخصوص بھارت سے ایک فو ج ہی ہے جو پاکستان اور عوام کو بچا سکتی ہے ۔ پاک فوج ایک منظم ادارہ ہے جو مخصوص قواعدو ضو ابط کے تحت اپنے فرائض سرانجام دیتا ہے ۔

    سیاستدانوں اپنی بداعمالیوں اور بدانتظامیوں پر توجہ دیں۔ جس ملک میں سیاستدان گیس کی لوڈ شیڈنگ اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے لئے کچھ نہ کر سکے جس ملک کے سیاستدانوں کے ہی ہاتھوں تین بار نواز شریف کی حکومت کو چلتا کیا گیا وہاں کیسی سیاست اور کیسی جمہوریت ؟حقیقی آزادی اورتبدیلی کا نعرہ لگانے والے بتا سکتے ہیں کہ نواز شریف کی حکومت کے خاتمے میں اُن کا کیا کردار تھا؟ کیا وہ کردار جمہوری تھا؟ سچ تو یہ ہے کہ سیاست کے کنگ کانگ تادم تحریر ایک دوسرے سے نبرد آزما ہیں۔ عالمی دنیا میں پاکستان کی سیاست اورجمہوریت اپنی اہمیت کھو چکی ہے۔ آج ملکی معیشت کہاں کھڑی ہے ۔ اس کا ذمہ دار کون ہے ؟ عام آدمی بنیادی ضروریات زندگی سے کوسوں دور ہیں اس کا ذمہ دار کون ہے ؟

    پنجاب میں نواز شریف کی بیٹی مریم نواز نے اپنی حکومت اگر عوامی خدمت پر رُخ موڑ دیاہے تو کیا آج بھی اُن کے خلاف سازشیں نہیں ہو رہی؟ سیاستدان بتائیں ہم اگر غربت کی لکیر سے اگر نیچے گر رہے ہیں تو اس کا ذمہ دار کون ہے؟ یاد رکھیئے موجودہ صدی میں وہ ملک ترقی کریں گے جن کی آبادی تعلیم یافتہ ہوگی اور وہ جدید ٹیکنالوجی ضروریات کو سمجھ سکتی ہوگی۔وطن عزیز کے نوجوان اپنی بھرپور توجہ تعلیم پر دیں وطن عزیز کا مستقبل میں آپ دنیا کا مقابلہ کرنے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کی تعلیم حاصل کریں۔ اپنے اپنے حلقے کے نام نہاد سیاستدانوں سے سوال کریں۔ مصنوعی نعرہ لگانے والے سیاستدانوں سے سوال کریں ہم ترقی پذیر کیوں ہیں، ترقی یافتہ کیوں نہیں؟ سمجھ نہیں آتا روز محشر ہمارے سیاسی ٹائیکون کس کس چیز کا حساب دیں گے

  • آج کا مسلمان .تحریر : ارم ثناء

    آج کا مسلمان .تحریر : ارم ثناء

    افسوس! ہے کہ آج کا مسلمان اپنے فرائض سے غافل ہے۔ افسوس! ہے آج کے مسلمانوں پر، جنہوں نے دنیا کو ہی سارا کچھ سمجھ لیا ہے جنہوں نے دنیا کی زندگی کو ہی ہمیشہ کی زندگی سمجھ لیا ہے۔ ہر انسان روازنہ کسی نا کسی کی موت کی خبر سنتا ہے ، مرد حضرات جنازوں میں شرکت بھی کرتے ہیں۔ لیکن افسوس! پھر بھی ان کے دلوں پر کچھ اثر نہیں ہوتا۔ ویسے ہی ہم دوسروں کو دھوکا دیتے ہیں، ویسے ہی ہم جھوٹ بولتے ہیں، ویسے ہی ہم اللہ کی نافرمانیوں میں مشغول رہتے ہیں۔ ہمارا ملک صرف اب نام کا ہی اسلامی ملک ہے اس میں کچھ بھی اسلام کے مطابق نہیں ہورہا۔ ہر معاملے میں ہمارے اسلام نے ہماری رہنمائی کی ہے لیکن ہم نے کیا کیا ہے ہم نے اس کو چھوڑ کر انگریزوں کے نقش قدم پر چلنا شروع کردیا ہے۔ اسلام میں جمہوریت کا کوئی نظام نہیں ہے لیکن ہم نے کیا کیا خلافت کے نظام کو چھوڑ کر جمہوریت کو اپنایا۔

    ہم نے اپنے معاشرے میں بے حیائی کو فروغ دینے کےلئے چینل بنا لیے۔ ہم درحقیقت ایک بے حیاء اور بے رحم قوم بن چکے ہیں۔ ہم نے اپنے نفس کو ہی سب کچھ سمجھ لیا ہے۔ ہم نے ہمارے معاشرے میں بے حیائی کے فروغ کےلئے ٹی وی چینلز پر بہودہ ڈرامے چلانے شروع کردیے جیسے اقتدار، تیرے پن، برزخ،کروس روڈ، اے عشق جنوں وغیرہ جیسے ڈرامے ہمارے معاشرے میں سوائے بے حیائی پھیلانے کے کوئی اور سبق نہیں دے رہے۔ ہماری نوجوان نسل آج وہ کام کررہی ہے جس سے ہمارے دین نے ہم کو منع کیا ہے۔ ہمارے دین نے ہم کو جھوٹ بولنے سے منع کیا ہے، عورتوں کو بے پردہ اور بلا ضرورت گھر سے باہر نکلنے سے منع کیا ہے، مردوں اور عورتوں کو اپنی نظریں نیچی رکھنے کا حکم ہے لیکن ہم جان بوجھ کو غیر محرموں کو دیکھتے ہیں، کوئی ڈرامہ اچھا لگا تو وہ دیکھنا شروع کردیا۔ ہمیں پتا ہے کہ ڈراموں میں غیر محرم ہوتے ہیں، ہمیں پتا ہے کہ اس میں اللہ کی نافرمانی ہوتی ہے، ہمیں پتا ہے کہ اس میں ایک غیر محرم عورت ایک غیر محرم کو چھوتی ہے لیکن ہم پھر بھی ان کو سارا سارا دن دیکتھے رہتے ہیں، ہمیں چاہیے کہ ان کا بائیکاٹ کریں ان کے خلاف آواز اٹھائیں، لیکن ہم کچھ نہیں کرتے۔

    قرآن مجید میں کہا گیا ہے کہ جب غیر مسلم تم پر حملہ آور ہوں تو ان کا جواب دو، لیکن آج کی بزدل نوجوان نسل جن کے آئیڈیل عمران خان، نواز شریف، بلاول بھٹو، عمران عباس بلال عباس جیسے لوگ ہیں یہ اپنے ان آئڈیل کےلئے تو جان دے سکتے ہیں لیکن دین اسلام کےلئے نہیں، یہ لوگ ناکام محبت کے پیچھے تو خود کشی کرسکتے ہیں لیکن مسجد اقصی کو بچانے کےلئے ایک نہیں ہو سکتے۔ در اصل غیر مسلموں نے اپنے ہتھیاروں( سوشل ایپس) وغیرہ کے ذریعے ہماری ذہنی سازی ہی ایسے کی ہے کہ اب ہمیں دنیا کے علاؤہ کچھ نظر ہی نہیں آتا، ہمیں انہوں نے اپنا ذہنی غلام بن لیا ہے۔

    مسلمانوں اب بھی وقت ہے جاگ جاؤ اپنے مقصد کو پہچانو اپنا آئیڈیل حضرت محمد صلی اللہ علیہ کو بناو، اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کی تربیت دین اسلام کے مطابق کرو کیونکہ کل کو انہوں نے ایک نسل تیاری کرنی ہے، ان میں خلافت کا جذبہ پیدا کرو، ان کو اپنے حق کےلئے آواز بلند کرنے کا حوصلہ دو

  • شہباز گل کی کارِ سرکار میں مداخلت ، قومی وحدت کے لیے خطرہ؟ تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    شہباز گل کی کارِ سرکار میں مداخلت ، قومی وحدت کے لیے خطرہ؟ تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اداروں کے کردار پر تنقید یا ان کے خلاف عوامی جذبات کو بھڑکانے کی کوشش کوئی نئی بات نہیں ہے۔ لیکن حالیہ واقعات میں شہباز گل جیسے سیاسی رہنما کی جانب سے ایسے بیانات اور حرکات سامنے آئی ہیں جنہوں نے نہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں بلکہ قومی وحدت پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔اسلام آباد میں ایک حالیہ ناکام احتجاج کے دوران پنجاب پولیس کے 128 اہلکار مختلف وجوہات کی بنا پر ڈیوٹی پر حاضر نہیں ہو سکے۔ اس واقعے کے بعد افسران نے ان اہلکاروں کی لسٹیں تیار کیں اور ان سے جواب طلبی کا عمل شروع کیا۔ ڈیوٹی سے غیر حاضری ایک سنگین معاملہ ہے، خاص طور پر جب یہ معاملہ قومی سلامتی یا عوامی نظم و ضبط سے جڑا ہو۔ لیکن اس پر شہباز گل کا ردعمل ایک غیر متوقع اور متنازعہ تھا۔

    شہباز گل نے اپنی ٹویٹ میں غیر حاضر اہلکاروں کو "ہیرو” قرار دیا اور انہیں یقین دلایا کہ اگر موجودہ حکومت انہیں نکال بھی دیتی ہے تو ان کی جماعت کے اقتدار میں آنے کے بعد انہیں بحال کیا جائے گا اور انعامات سے نوازا جائے گا۔ یہ بیان نہ صرف کارِ سرکار میں مداخلت کے زمرے میں آتا ہے بلکہ ایک عوامی رہنما کی جانب سے ایک حساس معاملے پر غیر ذمہ دارانہ رویے کا عکاس بھی ہے۔شہباز گل کی یہ سیاسی بیان بازی نہیں بلکہ اداروں کو تقسیم کرنے کی کوشش ہے۔شہباز گل کا بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب ملک پہلے ہی سیاسی عدم استحکام اور معاشی بحران کا شکار ہے۔ ایسے میں ایک عوامی شخصیت کی جانب سے پولیس اہلکاروں کو بغاوت پر اکسانا ایک سنگین حرکت ہے۔ یہ عمل اداروں میں نظم و ضبط کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔قومی سلامتی کے ادارے اور قانون نافذ کرنے والی فورسز ملک کے استحکام کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر ان اداروں میں بے چینی یا تقسیم پیدا کی جائے تو اس کا نتیجہ نہ صرف حکومتی رٹ کی کمزوری بلکہ عوامی اعتماد کے فقدان کی صورت میں بھی نکل سکتا ہے۔شہباز گل کا ماضی متنازع کردار کا حامل رہا ہے

    یہ پہلا موقع نہیں ہے جب شہباز گل نے قومی اداروں کے خلاف اس قسم کے بیانات دیے ہوں۔ اس سے قبل بھی وہ پاکستان آرمی کے خلاف متنازعہ بیانات دے چکے ہیں۔ اس کے نتیجے میں انہیں بغاوت کے مقدمے گرفتار کیا گیا، اور ان کے خلاف قانونی کارروائی ہوئی۔ اس وقت انہوں نے بیماری کا بہانہ بنایا اور عدالتوں میں اپنی حالت پر آنسو بہائے۔ وھیل چیئر پر بیٹھ کر آکسیجن ماسک لگانے کا ڈرامہ کیا۔ یہ عمل اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ ایک جانب سخت بیانات دے کر اداروں کو کمزور کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تو دوسری جانب قانونی گرفت سے بچنے کے لیے مختلف حربے استعمال کرتے ہیں۔

    قانونی اور اخلاقی پہلو کے لحاظ سےقانون کے مطابق، سرکاری اہلکاروں کی ڈیوٹی سے غیر حاضری یا ان کی جانب سے احکامات کی تعمیل نہ کرنا ایک سنگین جرم ہے۔ اس پر سخت کارروائی ہونی چاہیے تاکہ دیگری اہلکاروں کے لیے ایک مثال قائم ہو۔ دوسری طرف، کسی بھی سیاسی رہنما کو یہ حق نہیں کہ وہ عوامی فورم پر ایسے بیانات دے جو قانون کی حکمرانی یا اداروں کے نظم و ضبط کو متاثر کریں۔شہباز گل کے حالیہ بیانات صریحا کارِ سرکار میں مداخلت کے زمرے میں آتے ہیں، جو ایک قابل سزا جرم ہے۔ ان کے بیانات کا مقصد بظاہر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ ہے، لیکن اس کے نتائج زیادہ سنگین اور خوفنا ک ہو سکتے ہیں۔ ایسے بیانات عوام میں اداروں کے خلاف بداعتمادی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ ان اہلکاروں کو بھی غلط پیغام دیتے ہیں جو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو اہمیت دیتے ہیں۔اداروں اور سیاسی رہنماؤں کی ذمہ داری بہت اہمیت رکھتی ہے۔پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں قومی اداروں کی مضبوطی اور یکجہتی انتہائی اہم ہے۔ سیاست دانوں اور رہنماؤں کا فرض ہے کہ وہ عوام اور اداروں کے درمیان پل کا کردار ادا کریں، نہ کہ تنازعات کو ہوا دیں۔ شہباز گل جیسے رہنماؤں کو اپنی بیان بازی پر نظرثانی کرنی چاہیے اور اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا چاہیے۔یہ حقیقت ہے کہ سیاسی اختلافات جمہوریت کا حسن ہیں، لیکن یہ اختلافات ایسے بیانات کی شکل میں نہیں ہونے چاہییں جو قومی سلامتی یا اداروں کی یکجہتی کو نقصان پہنچائیں۔ شہباز گل جیسے رہنما اگر واقعی عوامی خدمت کے جذبے سے سیاست میں ہیں، تو انہیں قومی مفاد کو ذاتی یا جماعتی مفاد پر ترجیح دینی ہوگی۔شہباز گل جیسے افراد اگر امریکہ میں بیٹھ کر امریکی اداروں کے خلاف بغاوت پر اکسانے کی کوشش کریں تو انہیں سخت قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امریکی قوانین، خاص طور پر "Sedition Act” اور دیگر قومی سلامتی کے قوانین، کسی بھی فرد کو ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال انگیزی کی اجازت نہیں دیتے۔ امریکی حکومت ایسے بیانات یا اقدامات کو ریاست کے خلاف جرم سمجھتی ہے، اور ایسے افراد پر فوری طور پر قانونی کارروائی کی جاتی ہے، چاہے وہ امریکی شہری ہوں یا غیر ملکی۔ شہباز گل جیسے بیانات کی مثال امریکہ میں ممکن نہیں کیونکہ وہاں اداروں کی خلاف ورزی پر زیرو ٹالرنس پالیسی نافذ ہے۔پاکستان میں بھی ان جیسے افراد کے لئے قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔شہباز گل کے بیانات ایک بار پھر ثابت کرتے ہیں کہ پاکستان میں سیاسی قیادت کے لیے اخلاقی تربیت اور قومی مفاد کو اولین ترجیح دینے کی ضرورت ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مضبوط بنانے اور ان کے نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے حکومت کو سخت اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ مزید یہ کہ ایسے رہنماؤں کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے جو عوامی بیانات کے ذریعے قومی اداروں کو کمزور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ شہباز گل کو یاد رکھنا چاہیے کہ قومی ادارے کسی بھی جماعت یا حکومت کے نہیں بلکہ ریاست کے ہیں، اور ان کی حفاظت اور عزت ہر پاکستانی کا فرض ہے۔پاکستان کو ایک مضبوط اور متحد قوم بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ہر شہری اور رہنما اپنی ذمہ داریوں کو سمجھے اور اپنے الفاظ و افعال کے ذریعے قومی وحدت کو مضبوط کرے، نہ کہ اسے نقصان پہنچائے۔شہباز گل کے اس طرز کے بیانات ۔ سیکورٹی اداروں کے لئے بھی ایک چیلنج ہے

  • انتشارروکنے کیلئے فیک نیوز کا سدباب ضروری.تحریر: حنا سرور

    انتشارروکنے کیلئے فیک نیوز کا سدباب ضروری.تحریر: حنا سرور

    دنیا بھر میں جہاں ہر روز نت نئے چیلنجز جنم لیتے ہیں، وہیں ایک ایسا مسئلہ بھی سر اٹھا رہا ہے جو ہماری سماجی، سیاسی اور معاشی زندگی کو جڑوں سے ہلا رہا ہے، اور وہ ہے "فیک نیوز” یا جھوٹی خبریں۔ اس دور میں جب معلومات کا تبادلہ تیز ترین ہو گیا ہے، فیک نیوز نے ہر سطح پر فتنہ و فساد کو بڑھاوا دیا ہے، جس کا اثر نہ صرف افراد کی ذاتی زندگیوں پر پڑ رہا ہے بلکہ پوری قوم کی اجتماعی ذہن سازی اور امن و امان پر بھی سنگین نتائج مرتب ہو رہے ہیں۔

    فیک نیوز وہ جھوٹ یا غلط معلومات ہیں جو مخصوص مقاصد کے تحت پھیلائی جاتی ہیں، چاہے وہ سیاسی، سماجی، یا معاشی فوائد کے لیے ہو۔ یہ خبریں عام طور پر جذباتی، اشتعال انگیز، یا تضحیک آمیز ہوتی ہیں تاکہ لوگوں کی توجہ حاصل کی جا سکے یا کسی گروہ یا فرد کے خلاف نفرت یا تعصب پیدا کیا جا سکے۔ جب فیک نیوز پھیلتی ہے تو اس سے لوگوں میں غلط فہمیاں اور بدگمانیاں پیدا ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر، ایک جھوٹی خبر کسی خاص قوم، مذہب یا علاقے کے بارے میں شائع کی جاتی ہے جس سے نہ صرف ان افراد کا تشخص مجروح ہوتا ہے بلکہ ایک قوم کے اندر نفرت کا بیج بھی بو دیا جاتا ہے۔ اس سے سماج میں تقسیم اور انتشار بڑھتا ہے۔ فیک نیوز کا سب سے بڑا فائدہ سیاسی جماعتوں یا مفاد پرست افراد کو ہوتا ہے، جو ان جھوٹی خبروں کو مخالفین کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔ یہ خبریں کسی سیاسی رہنما کو بدنام کرنے یا عوام میں حکومتی اقدامات کے خلاف نفرت پیدا کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں، جس کے نتیجے میں سیاسی عدم استحکام پیدا ہوتا ہے۔ فیک نیوز نہ صرف معاشرتی اور سیاسی مسائل پیدا کرتی ہے، بلکہ اقتصادی سطح پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر، جھوٹی اقتصادی خبریں کمپنیوں یا کاروباروں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں، یا سرمایہ کاروں کو جھوٹی افواہوں کی بنیاد پر غلط فیصلے کرنے پر مجبور کر سکتی ہیں۔

    فیک نیوز کا سب سے برا اثر امن و امان پر پڑتا ہے۔ یہ افواہیں اور جھوٹی خبریں فساد اور تشدد کو جنم دیتی ہیں، اور لوگوں کے درمیان نفرت کو بڑھا دیتی ہیں۔ اگر اس کا فوری طور پر خاتمہ نہ کیا جائے تو معاشرتی ہم آہنگی اور امن کا قیام ممکن نہیں ہو سکتا۔ اس لیے فیک نیوز کا خاتمہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ افراد آپس میں محبت، احترام اور امن کے ساتھ رہیں۔ جب جھوٹی خبریں پھیلتی ہیں تو اصل حقائق اور معلومات چھپ جاتی ہیں، جس سے لوگوں کو فیصلے کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ فیک نیوز کا خاتمہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ لوگ صحیح، معتبر اور اصل معلومات تک رسائی حاصل کریں، جس سے ان کے فیصلے بہتر اور جاندار ہوتے ہیں۔ ہر فرد اور ادارہ کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ فیک نیوز کے پھیلاؤ کو روکے اور سچائی کا پرچار کرے۔ اگر ہم سچائی کی ترویج کرتے ہیں اور جھوٹی خبروں کا بائیکاٹ کرتے ہیں تو ہم سماج میں ایک ذمہ دار شہری کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ فیک نیوز کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے قانون کا سختی سے اطلاق ضروری ہے۔ جہاں فیک نیوز کو پھیلانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی ضرورت ہے، وہاں عوامی سطح پر شعور بھی بیدار کرنا ضروری ہے تاکہ لوگ خود فیک نیوز کا شکار نہ ہوں اور ان کو پھیلانے سے گریز کریں۔

    فیک نیوز سے بچنے کے لئے کیا کرنا چاہیے؟
    کسی بھی خبر کو شئیر کرنے سے پہلے اس کی اصل ذرائع کی تصدیق کرنا ضروری ہے۔ آج کل بہت سی ویب سائٹس، سوشل میڈیا اور موبائل ایپلیکیشنز پر خبریں باآسانی پھیلائی جاتی ہیں، لیکن ان کا ہر وقت صداقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ خبر کو صرف اس کے سرخی یا عنوان پر نہ پڑھیں، بلکہ اس کی حقیقت کو جانچیں۔ معتبر اور معروف ذرائع سے ہی خبریں حاصل کریں۔ سوشل میڈیا پر خبروں کو بغیر تحقیق کے شیئر کرنا فیک نیوز کے پھیلاؤ کا سبب بنتا ہے۔ اگر کسی خبر میں کوئی سنسنی خیز بات ہو یا وہ جذبات کو اُبھارے، تو اس کا ممکنہ طور پر جھوٹ ہونا زیادہ ہوتا ہے۔تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ وہ اپنے طلباء کو میڈیا کی سواد پر تعلیم دیں تاکہ وہ فیک نیوز کی حقیقت کو سمجھ سکیں اور اس سے بچ سکیں۔

    فیک نیوز کے پھیلاؤ کا فوری خاتمہ نہ صرف ہمارے معاشرتی، سیاسی اور اقتصادی استحکام کے لیے ضروری ہے بلکہ یہ ہماری نسلوں کے لیے ایک بہتر اور پرامن مستقبل کی ضمانت بھی ہے۔ ہمیں فیک نیوز کے خلاف مشترکہ طور پر جنگ لڑنی ہوگی، تاکہ ہم اپنے معاشرے کو ہر قسم کی فتنہ و فساد سے محفوظ رکھ سکیں۔ اس کے لیے حکومت، میڈیا، اور عوام کو یکجا ہو کر اس کا مقابلہ کرنا ہوگا۔

  • مرد کی دوسری شادی کے بعد پہلی بیوی  کیاکرے؟ تحریر:ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

    مرد کی دوسری شادی کے بعد پہلی بیوی کیاکرے؟ تحریر:ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

    مانا کہ شرعی اجازت ہے مرد صاحبان کو کہ جب چاہئیں لائیں دوسری ، تیسری اور چوتھی بھی ۔
    لیکن کیا یہ سب کرنا اتنا ہی آسان ہے جتنا نظر آتا ہے یا سمجھا جاتا ہے ۔ اس معاملے کو ایک ایسے لینز سے دیکھا جا سکتا ہے جو پدرسری نظام کی تہہ تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
    مرد اور عورت جب ایک گھر کی بنیاد رکھتے ہیں تو پہلا تصور یہ ہے کہ دونوں کے بیچ انسیت تو ہو گی ہی __ محبت کا نام ہم نہیں لیتے کہ محبت کے معیار پہ پورا اترنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ۔
    انسیت کے ساتھ ساتھ اس رشتے کی بنیادی اکائی یہ بھی ہے کہ دونوں اس رشتے سے مخلص ہوں ۔
    کس حد تک اور کیوں ؟
    کیونکہ وہ دونوں جس چھت کے نیچے جسمانی اور جذباتی تعلق بنا کر جن بچوں کو پیدا کرنے جا رہے ہیں ، وہ کسی بھی مشکل پیدا ہونے کے نتیجے میں متاثرین میں شامل ہوں گے اور یہ ذمہ داری ماں باپ پہ ہو گی کہ انہوں نے بچوں کی ذہنی اور جذباتی نشوونما کو متاثر کیا۔
    مخلص ہونے کا سب سے بڑا عنصر سچائی اور ایک دوسرے کے سامنے شفاف انداز سے زندگی بسر کرناہے ۔ کوئی بھی بات معمولی ہو یا سنگین ، اگر دوسرے سے چھپا کر رکھی جائے اور کچھ ایسا کیا جائے جو ساتھی کو قبول نہ ہو، ایک کو دوسرے کا مجرم بنائے گا۔ دھوکا دہی وہ زہر ہے جو اس رشتے کو نہ صرف بدصورت بناتا ہے بلکہ دونوں کی راہ بھی کھوٹی کرتا ہے ۔
    اس کو یوں سمجھیے کہ اگر دونوں میں سے کوئی ایک اپنے ساتھی کو اندھیرے میں رکھتے ہوئے کسی اور کو اپنی زندگی میں شامل کرتا ہے تو دھوکہ دہی کا ارتکاب کرنے والا ہی ذمہ دار ہے ۔
    یہاں اس بات کو مان لینا چاہئے کہ وہ شخص دھوکہ باز نہ سمجھا جاتا اگر وہ اس صورت حال کو اپنے ساتھی کے سامنے رکھتے ہوئے اسے صاف صاف بتاتا:
    سنو ، مجھے کسی اور سے محبت ہو گئی ہے۔
    سنو میں اپنی زندگی کسی اور کے ساتھ گزارنا چاہتا/ چاہتی ہوں۔
    سنو ، ہم دونوں اب مزید ایک دوسرے کے ساتھ نہیں رہ سکتے۔
    سنو ، ہمیں اس رشتے کو ختم کر دینا چاہئے۔
    زبردست بات یہ ہے کہ اس سوچ اور نظریے کو مذہب بھی قبول کرتا ہے۔ ماں کے پیٹ سے اکھٹے تو آئے نہیں کہ جدا نہ ہو سکیں۔ ویسے آج کل تو وہ بھی مشکل نہیں رہا کہ نظریاتی طور پہ مختلف لوگ اپنے خونی تعلق کو بھی نظرانداز کرتے ہوئے اپنی اپنی زندگی جیتے ہیں۔
    سو وہ دونوں جو مختلف گھروں میں پرورش پاکر قانونی طریقے سے اکھٹے ہوئے ہیں وہ اسی قانون کے ذریعے علیحدہ بھی ہو سکتے ہیں۔
    کیا ہے اس میں اچنبھے کی بات ؟
    لیکن پدرسری نظام کے لئے بات ہے اور سنگین ہے۔
    مرد پہلی بیوی کی موجودگی میں دوسری عورت کی زلف کا اسیر ہو جائے اور پہلی بیوی کو اندھیرے میں رکھے ، پدرسری نظام قطعاً خاموش رہتا ہے۔
    مرد پہلی بیوی موجود ہوتے ہوئے دوسری سے خفیہ شادی کرے اور پہلی سے جھوٹ بولتا رہے ،پدرسری نظام پھر بھی نہیں بولتا۔
    مرد جب دوسری شادی کا اعلان کرتے ہوئے یہ بتائے کہ وہ تو ایک بچے کاباپ بھی بن چکا ہے ، پدرسری نظام کے کان پہ جوں نہیں رینگتی۔
    مرد پہلی بیوی کو گھر سے باہر کرے ، لیکن طلاق دے کر آزاد نہ ہونے دے ، تب بھی یہ نظام اونگھتا رہتا ہے۔
    لیکن اس نظام کے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے جب پہلی بیوی سوال وجواب کا سلسلہ شروع کرے،
    تم نے دوسری شادی سے پہلے بتایا کیوں نہیں ؟
    ( پاکستانی قانون کے تحت آپ اس کے پابند ہیں )
    جب تمہیں کسی اور عورت سے محبت ہوئی مجھ سے جھوٹ کیوں بولا ؟
    میں بچوں اور گھر کو سنبھالتی رہی اور تم نے وہ وقت دوسری عورت کے ساتھ گزارا۔ کیوں ؟
    اب میں تمہارے ساتھ نہیں رہنا چاہتی۔
    لیجیے جناب ، عورت کے منہ سے یہ الفاظ مرد پہ برق بن کر گرتے ہیں۔ کیوں ؟ یہ عورت جو میری بیوی ہے فیصلہ کرنے کی مجاز کیوں ؟
    اتنی جرات ؟
    میں مرد ہوں اور مانا کہ کچھ تھوڑا سے جھوٹ اور تھوڑی سی دھوکہ دہی کا مرتکب ہوا ہوں لیکن اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ یہ عورت جمی جمائی گرہستی توڑ دے ۔
    مرد بچہ ہوں ، دو دو گھر با آسانی چلا سکتا ہوں پھر کیوں توڑے یہ اس رشتے کو؟ کیوں نکلنے دوں میں اسے اس پنجرے سے ؟ کیوں ہو اس کی زندگی اس کے اپنے ہاتھ میں ؟
    نہیں میں اسے علیحدہ نہیں ہونے دوں گا۔
    سنو میں تم سے محبت کرتا ہوں …
    محبت ؟ مجھ سے محبت اور وہ دوسری ؟
    ہو گئی محبت اس سے بھی … مرد کر سکتا ہے بار بار محبت …
    اور عورت … کیا وہ نہیں کر سکتی بار بار محبت … کسی اور مرد سے … تنہائی کے ان پہروں میں جب تم دوسری عورت کے ساتھ تھے …
    سنو تمھیں مجھ سے محبت نہیں۔ یہ تو تمہاری زخمی ایگو ہے جو تمہیں اکساتی ہے کہ مجھے اپنے چنگل سے باہر نہ نکلنے دو … بیک وقت دو عورتوں کو اپنے دام الفت میں پھنسا کر رکھو … وہ سب جھوٹ جن کے سہارےتم عرصہ دراز دوسری عورت کے ساتھ وقت گزارتے رہے اور پھر بیاہ رچایا ، کیا وہ جھوٹ وقت کے صفحات سے مٹ جائیں گے ؟ شکستہ آئینۂ دل کیا پہلے سا ہو جائے گا ؟
    نہیں ایسا کچھ بھی نہیں ہو گا۔
    میں وہ عورت نہیں ہوں جو برسوں پہلے تمہاری محبت کے سہارے اپنی زندگی تمہیں دینے آئی تھی۔ اس محبت کو تم نے جھوٹ اور دھوکہ دہی سے داغدار کر دیا۔ وہ داغ اب چھٹ نہیں سکتے۔
    مجھے بقیہ زندگی اپنے بچوں کے سہارے کاٹ لینے دو۔ میرا آسمان اب وہ نہیں جو تمہارا ہے۔ عورت شوہر کے بعد اگر محبت کرتی ہے تو اس شوہر کے نطفے سے پیدا ہونے والے بچوں سے۔
    لیکن بھنورا صفت مرد کو بار بار محبت کے نام پہ ایک نئی عورت کو فتح کرنا ہوتا ہے۔
    سو تمہیں تمہاری نئی فتوحات مبارک۔ میں تمہارا مفتوحہ علاقہ بننے پہ تیار نہیں۔
    پدرسری نظام غیض وغضب سے کھولتے ہوئے اپنے بال نوچ رہا ہے۔
    لیکن مسئلہ کیا محض اتنا ہی ہے؟
    کیا تعلق میں اس دراڑ کا بچوں پر کوئی اثر نہیں پڑتا ؟
    کیا دوسری عورت کے ساتھ ایک الگ گھر میں رہنے والا اور ان کی ماں کو ناانصافی کا شکار بنانے والا اپنے بچوں کا مجرم نہیں ہوتا؟
    کیا وہ ان کا پدری حق نہیں مارتا؟
    کیا پدری حق محض اخراجات پورے کرنے پر ختم ہو جاتا ہے؟
    کیا بچوں کو ماں باپ دونوں کی شفقت اور غیر مشروط قربت درکار نہیں ہوتی؟
    کیا بچوں کی ماں سے جھوٹی محبت کے اظہار سے بچوں کی ذہنی حالت ابتر نہیں ہوتی ؟
    کیا ماں کے متعلق لوگوں کی کھسر پھسر اور تنقید بچوں کو اینگزائٹی میں مبتلا نہیں کرتی ؟
    لیکن جہاں ماں محفوظ نہ ہو، اُسے ہی انسان نا سمجھا جائے، وہاں بچوں کی کیا اوقات

  • جہیز کی کہانی .تحریر:ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

    جہیز کی کہانی .تحریر:ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

    شادی کے بعد پہلا گھر شافی ہسپتال کی چھت پہ بنانے کا ارادہ تو کر لیا__ لیکن سامنے ایک اور مشکل منہ کھولے کھڑی تھی۔
    دیکھیے صاحب اگر ہماری کہانیوں میں ہر موڑ پہ ایک اور کہانی جھانکتی ہوئی نہ ملے ہو تو کیا خاک مزا آئے !
    بہت برسوں سے ہم نے یہ سوچ رکھا تھا کہ جب بھی شادی کا موقع آیا ہم روایتی قسم کا جہیز نہیں لیں گے۔ بات طے ہونے کے بعد جب ہم نے اس بات کا اظہار کیا تو امی ابا پریشان ہو گئے ، یہ کیسے ہو سکتا ہے ہم کیسے خالی ہاتھ تمہیں بھیجیں ؟
    ہم ہر گز خالی ہاتھ نہیں ہیں__ ہمارے ہاتھوں میں ایک بھاری بھرکم ڈگری ہے جو ہر چیز پہ بھاری ہے__ ہم نے کہا ۔
    بیٹا لوگ کیا کہیں گے ؟ امی نے جواب دیا ۔
    لوگوں کی تو ہم نے کبھی پروا ہی نہیں کی __ ہم نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا ۔
    اور سسرال والے ؟ باجی متفکر تھیں ۔
    انہیں ہم کہہ دیں گے کہ ساری چیزیں ہم خود بنائیں گے۔
    اگر انہوں نے تمہیں باتیں سنائیں تو ؟ باجی بدستور مصر ۔
    ارے واہ __ ڈاکٹر بہو کو بات کرنا آسان ہے کیا ؟ ہم نے منہ بناتے ہوئے کہا ۔
    خوب بحثا بحثی ہوئی اور ہم نے کسی کی نہ چلنے دی ۔ آخر میں یہ فیصلہ ہوا کہ جو تحائف ملیں گے وہ ساتھ جائیں گے اور کچھ بنیادی چیزیں ، کم سے کم قیمت میں ۔
    ہم نے کچھ اعلان کیے جو یوں تھے :
    شادی کے لیے کوئی ہال ، میس یا ہوٹل بک نہیں ہوگا ۔ گھر کے سامنے والے گراؤنڈ میں روایتی ٹینٹ لگوا کر دیگیں پکوا لیں گے__ پہلا اعلان ۔
    اور جو تمہاری سہیلیاں وغیرہ آئیں گی … کسی نے سوال کیا ۔
    سہیلیوں نے ہماری شادی پہ ہر حال میں آنا ہے چاہے وہ جنگل میں ہو یا صحرا میں … بے نیازی عروج پہ تھی ۔
    چلیے جناب طے ہو گیا ۔
    مووی نہیں بنے گی .. ایویں ای خواہ مخواہ کا خرچہ __ دوسرا اعلان ۔
    سب کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے کہ پورے گھر میں ہماری جان نکلتی تھی اگر کسی موقعے پہ تصویر اور مووی نہ بنائی جائے ۔
    لیکن وہ تو یادگار ہو گی نا … یاددہانی کروائی گئی ۔
    لڑکے والے لے کر آئیں گے نا .. ہم نے آپ ہی آپ فرض کر لیا ۔
    زیور میں ہم چار ساڑھے چار تولے کا سیٹ لیں گے بس __ تیسرا اعلان ۔ یاد رہے کہ سونا ساڑھے تین ہزار روپے تولہ تھا ۔
    فرنیچر میں بیڈروم سیٹ بنوا لیتے ہیں … صلاح آئی ۔
    ہم نے کچھ دیر کے لئے سوچا __ لکڑی کا تو کافی مہنگا ہو جائے گا … کچھ اور کرنا چاہیے ..کیا کریں ؟ کیا کریں ؟ ارے ہاں داتا دربار کے باہر کین کا فرنیچر ملتا ہے نا وہ لے لیں گے ایک کمرے کے لیے __ چوتھا اعلان ۔
    کیا کین کا بیڈ اور ڈریسنگ ٹیبل ملتی ہے ؟ ایک اور سوال آیا ۔
    نہیں ملتی ہو گی تو آرڈر پہ بنوا لیں گے .. ناممکنات کے متعلق کیوں سوچیں ؟
    شادی کا جوڑا ؟
    بارات پہ وہ لوگ لا رہے ہیں ، ہمیں ولیمے کا بنوانا ہے ۔ کسی کا اچھا سا دیکھ کر کاپی کروا لیں گے __ پانچواں اعلان ۔
    ( اور یہ داستان ہم لکھ چکے ہیں کہ کیسے پینوراما کی ڈیزائنر شاپ سیٹھ کا جوڑا ہم نے سستے داموں انارکلی سے بنوایا )
    اچھا اب تحائف کی فہرست بنا لیتے ہیں :
    فریج – آپا
    کمبل – کوثر باجی
    ڈنر سیٹ پلاسٹک
    ٹوسٹر
    تھرموس
    وال کلاک
    چائے کی پیالیاں
    فوٹو فریم
    کچھ جوڑے کپڑے
    سونے کی انگوٹھی – فرزانہ
    سونے کی انگوٹھی – قمر
    سونے کے ٹاپس – فرحت
    امی ابا سخت فکرمند __ ایسا کیسے چلے گا ؟
    اچھا بہت سے لوگوں نے تحفتا پیسے بھی تو دیے ہیں تو چلو ٹی وی خرید دیتے ہیں ۔
    سب سے چھوٹا خریدیں تاکہ دیے گئے پیسوں میں آجائے __ سولہ انچ ٹی وی سے ہم نے آگے بڑھنے نہیں دیا ۔ اس کی قیمت تھی دس ہزار __سو نقد تحفہ دینے والوں کے نام ٹی وی ہوا۔
    امی نے چوری چوری چار رضائیاں ، دوگدے ، دو تکیے ، دو بیڈ شیٹس ، کچھ کھیس بھی رکھ دیے۔ گلگت سے ایک چھوٹا ڈنر سیٹ گھر کے لیے منگوایا گیا تھا ، وہ بھی شامل کر لیا اور ان سب کو رکھنے کے لیے ایک جستی پیٹی ۔
    لیں ہو گیا جہیز تیار __اب ہم لاہور چلتے ہیں تاکہ کین کا فرنیچر خرید سکیں ۔
    اتنی دیر میں آپ اس سے لطف اُٹھائیے

  • پاکستان میں نوجوان وکلا کے لیے پیشہ ورانہ چیلنجز  .تحریر:صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی

    پاکستان میں نوجوان وکلا کے لیے پیشہ ورانہ چیلنجز .تحریر:صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی

    پاکستان میں وکالت کا شعبہ ہمیشہ سے ایک عزت اور فخر کا ذریعہ رہا ہے، لیکن نئے وکلا کے لیے اس شعبے میں اپنی جگہ بنانا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ خاص طور پر وہ نوجوان وکیل جو اس شعبے میں حال ہی میں قدم رکھتے ہیں، انہیں بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان مسائل کی جڑیں نہ صرف پیشہ ورانہ مشکلات میں بلکہ پاکستان کے معاشی اور سماجی نظام میں بھی موجود ہیں۔

    پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں وسائل کی کمی اور معاشی حالات پیچیدہ ہیں، نوجوان وکلا کے لیے اپنی جگہ بنانا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔ یہاں سرمایہ دارانہ نظام اور سیاسی اثرورسوخ رکھنے والی اشرافیہ کی موجودگی میں، جو وسائل کے مکمل قابض ہیں، نئے آنے والے وکلا کے لیے مشکلات مزید بڑھ جاتی ہیں۔پاکستان میں وکالت کا شعبہ اکثر ایک مخصوص طبقے کے لیے محفوظ سمجھا جاتا ہے، خاص طور پر وہ نوجوان جو وکیل خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ اگر کسی نوجوان کا والد، دادا یا چچا وکیل نہ ہو، تو اس کے لیے وکالت کے میدان میں کامیابی حاصل کرنا ایک مشکل کام بن جاتا ہے۔ اس کے باوجود، اگر وہ نوجوان محنت اور لگن سے اس شعبے میں آنا چاہے تو اسے کئی رکاوٹوں کا سامنا ہوتا ہے۔ ایک طرف تو، کارپوریٹ سیکٹر میں اگر ہم دیکھیں تو اکثر کمپنیوں کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ اپنے قانونی معاملات کے لیے کسی وکیل کو بطور مشیر رکھیں، لیکن دوسری طرف، وہ وکلا جو سیاسی تعلقات رکھتے ہیں، انہیں کئی کمپنیوں کی قانونی مشاورت کا موقع ملتا ہے۔

    پاکستان میں نئے وکلا کے لیے سیکھنے کے مواقع بہت کم ہیں۔ ایک نوجوان وکیل کو ایل ایل بی مکمل کرنے کے بعد کسی تجربہ کار وکیل کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ عملی میدان میں اپنی صلاحیتوں کو آزما سکے۔ تاہم، اکثر سینئر وکلا کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ وہ نئے وکلا کو مکمل تربیت دے سکیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بہت سے سینئر وکلا پہلے ہی اپنی پریکٹس میں مصروف ہوتے ہیں اور ان کے پاس نئے وکلا کو سکھانے کا وقت نہیں ہوتا۔ اس وجہ سے اکثر نوجوان وکلا کو اپنی جگہ بنانے میں کئی سال لگ جاتے ہیں۔پاکستان میں وکلا کی سیاست بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ نئے وکلا جو بار کے انتخابات میں حصہ نہیں لیتے، انہیں اپنی جگہ بنانے میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وکلا کی سیاست میں بہت زیادہ پیسہ خرچ ہوتا ہے اور نوجوان وکلا کے لیے یہ رقم سیاست میں حصہ ڈالنا ممکن نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ سے وکلا کی سیاست میں صرف وہ لوگ کامیاب ہوتے ہیں جو پہلے سے مالی طور پر مضبوط ہوتے ہیں۔

    پاکستان میں بہت سے نوجوان وکلاء اس بات سے بے خبر ہوتے ہیں کہ وکالت کا پیشہ صرف قانون کا علم رکھنے کا نہیں بلکہ اس میں اخلاقی اصولوں کی پیروی کرنا بھی ضروری ہے۔ وکلا کے پیشے میں بے شمار چیلنجز ہوتے ہیں جن میں سے ایک بڑی چیلنج پیشہ ورانہ ساکھ کا ہے۔ بہت سے وکلا فیس کا معاملہ، کیسز کی مقدار اور دیگر مالی معاملات پر زیادہ توجہ دیتے ہیں اور اس کے نتیجے میں پیشہ ورانہ معیار میں کمی آتی ہے۔اگرچہ پاکستان میں نوجوان وکلا کو بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے، لیکن اس کے باوجود اس شعبے میں کامیابی کے لیے کئی مواقع بھی موجود ہیں۔ ان مواقع کا فائدہ اٹھا کر نوجوان وکیل اپنے لیے ایک کامیاب مستقبل بنا سکتے ہیں۔

    پاکستان کے بڑے شہروں میں جہاں پہلے سے بڑی وکیل برادری موجود ہے، وہاں نوجوان وکلا کے لیے مقابلہ بہت سخت ہے۔ لیکن دیہاتی علاقوں اور چھوٹے شہروں میں ابھی تک وکالت کے شعبے میں اتنی ترقی نہیں ہوئی۔ ایسے علاقوں میں نوجوان وکلا کے لیے اپنی جگہ بنانا نسبتاً آسان ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، دیہاتی علاقوں میں عدالتیں بھی کم ہیں اور وہاں کی عوام کو قانونی مدد کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے، جس سے نوجوان وکلا کو کام کے مواقع ملتے ہیں۔دنیا بھر میں وکالت کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھ رہا ہے اور پاکستان میں بھی یہ رجحان بڑھ رہا ہے۔ نوجوان وکلا آن لائن وکالت کے ذریعے اپنے کیسز کو موثر انداز میں حل کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، سوشل میڈیا اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر وکالت کی خدمات فراہم کرنے کے ذریعے نئے وکلا اپنے آپ کو مارکیٹ کر سکتے ہیں۔ لیکن بار کونسل کی طرف سے پابندی کے وکیل اپنی مارکیٹ نہیں کر سکتا جب کہ ہورپ امریکہ میں ایسا نہیں ہے۔

    پاکستان میں نئے وکلا کو مزید سہولت دینے کے لیے حکومت یا مختلف وکلا کی تنظیمیں اسکالرشپ اور تربیتی پروگرامز فراہم کر سکتی ہیں۔ یہ پروگرامز نہ صرف مالی مدد فراہم کرسکتی ہیں بلکہ نئے وکلا کو تربیت دینے کا بھی موقع فراہم کرسکتے ہیں۔ نوجوان وکلا اگر ان پروگرامز کا حصہ بنیں، تو ان کے لیے سیکھنے اور اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو نکھارنے کا موقع مل سکتا ہے۔اس حوالے سے پنجاب بار کونسل نے ٹریننگ پروگرام شروع کیا جو کہ خوش آ ئندہے۔پاکستان میں نوجوان وکلا کے مسائل کا حل ممکن ہے، لیکن اس کے لیے چند اہم اقدامات کی ضرورت ہے۔ نوجوان وکلا کے لیے انٹرنشپ پروگرامز کا آغاز کیا جانا چاہیے تاکہ وہ عملی میدان میں کام کرنے کا تجربہ حاصل کر سکیں۔ جیسے ہی کوئی نوجوان وکیل وکالت کے پیشے میں قدم رکھتا ہے، اس کو ایک ماہانہ سکالرشپ دی جانی چاہیے تاکہ وہ اپنے مالی مسائل سے نمٹ سکے اور اپنی تعلیم اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بہتر بنا سکے۔نوجوان وکلا کو اخلاقی اصولوں کی تربیت دی جانی چاہیے تاکہ وہ اپنے پیشے میں صرف قانونی علم پر ہی انحصار نہ کریں بلکہ اپنے کام میں ایمانداری اور پیشہ ورانہ ساکھ کو بھی برقرار رکھیں۔وکلا کی سیاست میں روپے کے استعمال اور سیاسی تعلقات کی بجائے پیشہ ورانہ معیار کو اہمیت دی جانی چاہیے تاکہ صرف اہل وکلا کو ہی اہمیت ملے۔

    پاکستان میں نوجوان وکلا کے لیے پیشہ ورانہ چیلنجز اور مواقع دونوں موجود ہیں۔ اگر ان چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے مناسب اقدامات کیے جائیں، تو یہ نوجوان وکلا نہ صرف اپنے لیے کامیاب کیریئر بنا سکتے ہیں بلکہ پورے معاشرے میں انصاف کی فراہمی میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ نوجوان وکلا کو صرف قانونی علم ہی نہیں بلکہ پیشہ ورانہ اخلاقی تربیت اور مالی مدد کی بھی ضرورت ہے تاکہ وہ اس شعبے میں اپنی جگہ بنا سکیں اور اپنے خاندانوں اور ملک کے لیے مفید ثابت ہو سکیں۔

  • معاشرتی تبدیلی کا واحد رستہ،خود احتسابی

    معاشرتی تبدیلی کا واحد رستہ،خود احتسابی

    آج کے دور میں ہم جس معاشرتی، اقتصادی اور ثقافتی بحران کا سامنا کر رہے ہیں، اس کا ایک بڑا سبب یہ ہے کہ ہم اپنے آپ کو بدلنے کی بجائے دوسروں کی غلطیوں پر انگلیاں اٹھاتے ہیں۔ ہمارے معاشرتی رویے، اخلاقی معیار، اور ریاستی ذمہ داریوں کا لحاظ نہ کرنے کا نتیجہ یہ ہے کہ ہمارا سسٹم اور معاشرہ مسلسل بدعنوانی، ناانصافی اور عدم مساوات کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اس صورت حال کا حل ایک سادہ سا اصول ہے: "سسٹم اور معاشرے کو بدلنے کے لیے پہلے خود کو بدلنا ہوگا”۔

    آج بھی ہمارے معاشرے میں جہیز کا مسئلہ انتہائی حساس اور سنگین ہے۔ لڑکوں کی طرف سے یہ بات کبھی نہیں سنی جاتی کہ انہیں جہیز نہیں چاہیے یا وہ اس نظام کی مخالفت کرتے ہیں۔ یہ ایک المیہ ہے کہ لڑکوں کو یہ بات سمجھانے کی بجائے لڑکیوں پر جہیز دینے کا دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ لڑکے اور لڑکیاں دونوں کو اس بات کا ادراک کرنا ہوگا کہ یہ ایک غلط رسم ہے جو نہ صرف معاشرتی عدم مساوات کو بڑھاتی ہے، بلکہ اخلاقی طور پر بھی غلط ہے۔

    جہاں لڑکوں کی طرف سے جہیز کے حوالے سے خاموشی ہے، وہیں لڑکیاں دوسری شادی کی افادیت پر بات کرنے سے کتراتی ہیں۔ اس حقیقت کو تسلیم کرنے کی بجائے کہ معاشرتی اور اقتصادی حالات میں تبدیلیاں آتی رہتی ہیں، ہم اس بات کو صرف افسوس کے ساتھ نظر انداز کرتے ہیں۔ لڑکیاں چاہتی ہیں کہ وہ دوسری شادی کے بارے میں کوئی تبصرہ نہ کریں، کیونکہ انہیں ڈر ہوتا ہے کہ اس سے ان کی عزت پر سوال اٹھ سکتے ہیں۔

    ہمارے معاشرتی ڈھانچے میں ایک اور خامی یہ ہے کہ بھائی بہنوں کی وراثت پر بات کرنے سے کتراتے ہیں۔ وراثت کا حق ہر فرد کا ہوتا ہے، چاہے وہ مرد ہو یا عورت، لیکن ہمارے معاشرے میں مردوں کو یہ حق دیا جاتا ہے کہ وہ بہنوں کی وراثت میں حصہ نہ دیں۔ اس مسئلے پر بات کرنا یا اس کے حل کے لیے کوئی قدم اٹھانا ہر کسی کی نظر میں "غیر ضروری” سمجھا جاتا ہے۔

    مختلف کاروباری طبقے میں موجود افراد، خصوصاً سیٹھ لوگ، حرام کمائی سے منسلک مسائل پر بات کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ حرام کی کمائی کو چھپانے کی کوشش کرنا اور اس پر گفتگو سے بچنا ایک بہت بڑا مسئلہ ہے، کیونکہ اس سے ہمارے معاشرتی اصول اور اخلاقیات کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔

    مزدور طبقے کا کام ہمارے معاشرے میں ہمیشہ پس پشت رہتا ہے۔ جب محنت اور جدوجہد کی بات ہوتی ہے، تو زیادہ تر افراد یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا کام صرف اپنے گھریلو معاملات تک محدود ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ محنت کرنے والے ہی معاشرتی ترقی کا بنیادی ستون ہیں۔

    ایک اور مسئلہ جو ہمارے معاشرتی رویوں میں پایا جاتا ہے وہ بیویوں کی طرف سے صرف شوہر کی ذمہ داریوں پر زور دینا ہے۔ وہ چاہتی ہیں کہ شوہر صرف ان کی ضروریات پوری کرے، لیکن انہیں اس بات کا ادراک نہیں کہ شوہر کے بھی کچھ حقوق ہیں اور دونوں کے درمیان توازن ہونا ضروری ہے۔ اس کے برعکس، شوہر بھی اپنے حقوق پر زور دیتے ہیں، اور ایک دوسرے کے حقوق کا خیال نہ رکھنے کی وجہ سے رشتہ اکثر تناؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔

    ایک اور اہم پہلو شہریوں اور ریاست کے تعلقات کا ہے۔ شہری اپنی ریاستی ذمہ داریوں کو سنجیدہ نہیں لیتے، اور ریاست بھی اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہو جاتی ہے۔ ریاست صرف قوانین بنانے تک محدود ہو کر رہ جاتی ہے، جبکہ اس کے شہریوں کے حقوق کا تحفظ ایک بنیادی فرض ہے، جسے نظرانداز کیا جا رہا ہے۔

    ان تمام مسائل کی جڑ دراصل خود احتسابی میں چھپی ہوئی ہے۔ اگر ہم اپنے اندر تبدیلی لانے کی کوشش کریں اور یہ تسلیم کریں کہ معاشرتی مسائل میں ہر فرد کا کردار ہوتا ہے، تو ہم سسٹم کی تبدیلی کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کر سکتے ہیں۔ خود احتسابی کا مطلب یہ ہے کہ ہم سب اپنی غلطیوں کو تسلیم کریں اور ان پر قابو پانے کی کوشش کریں۔ اگر ہر فرد اپنے آپ کو بہتر بنانے کی کوشش کرے، تو مجموعی طور پر سسٹم اور معاشرتی ڈھانچہ بھی بہتر ہو گا۔ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ معاشرتی تبدیلی کا آغاز ہم سے ہی ہوتا ہے۔ جب تک ہم اپنی ذاتی زندگیوں میں تبدیلی نہیں لائیں گے، تب تک معاشرتی سسٹم میں تبدیلی ممکن نہیں۔ خود احتسابی کی بنیاد پر ہم اپنے رویوں، اخلاقیات اور ذمہ داریوں کو بہتر بنا سکتے ہیں، اور اس کے نتیجے میں ایک مضبوط، خوشحال اور انصاف پسند معاشرہ قائم کر سکتے ہیں۔ اس راستے پر چلنے کے لیے ہمیں اپنے اندر کی خودی کو بیدار کرنا ہوگا تاکہ ہم ایک صحت مند اور کامیاب قوم کی تشکیل میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔

  • وقت کبھی واپس نہیں آتا.تحریر:نبیلہ اکبر

    وقت کبھی واپس نہیں آتا.تحریر:نبیلہ اکبر

    دنیا میں سب سے قیمتی چیز وقت ہے، کیونکہ وقت وہ چیز ہے جو کبھی واپس نہیں آتا، جو گزرا وہ ہمیشہ کے لئے گزر گیا۔ زندگی میں سب سے قیمتی چیز وہ وقت ہوتا ہے جو ہم کسی کو دیتے ہیں، وہ لمحے جو ہم کسی کی خوشی میں شریک ہونے کے لئے وقف کرتے ہیں، وہ لمحے جو ہم کسی کی مدد کرنے یا اُس کے ساتھ گزارنے کے لئے نکالتے ہیں۔ اور وہ وقت جو ہم اپنے عزیزوں، دوستوں یا کسی دوسرے انسان کے ساتھ گزارتے ہیں، وہ وقت جو ہمارے لئے نہ صرف ایک یاد بن کر رہ جاتا ہے بلکہ ایک نشان بن کر ہمارے دل میں محفوظ ہو جاتا ہے۔

    وقت کی قیمت کا اندازہ تب ہوتا ہے جب ہمیں یہ پتا چلتا ہے کہ وہ شخص جس کے ساتھ ہم نے اپنا وقت گزارا، وہ دراصل ہمارا وقت ضائع کرنے والا نہیں، بلکہ ہمارے لئے اہم اور قیمتی ہے۔وقت ہمیشہ اسی کو دیا جاتا ہے جس کی اہمیت ہو، کیونکہ انسان ہمیشہ اپنی ترجیحات کے مطابق وقت گزارتا ہے۔ اگر آپ کسی کے لیے اہم ہیں، تو وہ شخص آپ کے ساتھ وقت گزارنے کی ہر ممکن کوشش کرے گا، چاہے وہ کتنی ہی مصروفیت میں کیوں نہ ہو۔ ہم سب کے پاس دن کے 24 گھنٹے ہیں، لیکن ہر شخص کے لئے وقت کی قدر مختلف ہوتی ہے۔ جو لوگ ہمارے لئے اہم ہوتے ہیں، وہ ہمیں وقت دیتے ہیں، اور جو ہم سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں، وہ ہمارے ساتھ وقت گزارتے ہیں۔

    اگر کوئی شخص آپ سے محبت کرتا ہے، تو وہ کبھی بھی آپ سے بات کرنے کے لئے وقت نکالنے میں عذر نہیں کرے گا۔ محبت میں وقت کی کمی نہیں ہوتی، بلکہ یہ ایک ترجیح ہوتی ہے۔ اگر کوئی شخص آپ سے محبت کرتا ہے اور وہ ہمیشہ آپ کو اپنی مصروفیات کا بہانہ دے کر آپ سے وقت نہیں گزارتا، تو پھر یہ ایک سنگین بات ہے کہ اس کی محبت میں سچائی کہاں ہے۔دیکھا گیا ہے کہ جو شخص آپ سے محبت کے بجائے وقت کی کمی کا بہانہ بناتا ہے، وہ دراصل آپ کی اہمیت کو کم سمجھتا ہے۔ ایسی صورتحال میں جب آپ کسی کے لئے اہم نہیں ہوتے، تو آپ کو اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ وہ شخص دراصل آپ کے ساتھ وقت گزارنے کی بجائے دوسری ترجیحات میں مصروف ہے۔اگر کوئی شخص آپ کے ساتھ وقت گزارنے میں دلچسپی نہیں رکھتا، تو یہ سوچنے کا وقت ہے کہ کیا واقعی وہ شخص آپ کی زندگی میں اہم ہے؟ یا وہ صرف وقت گزاری کے لئے آپ کے ساتھ ہے؟ زندگی میں ایسے لوگ کم ہی ہوتے ہیں جو اپنی مصروفیتوں کے باوجود آپ کے ساتھ وقت گزاریں اور اس وقت کو آپ کی خوشی میں بدل دیں۔

    اگر آپ سے کسی کی محبت سچی ہو، تو وہ شخص کبھی نہیں کہے گا کہ وہ آپ سے بات کرنے یا آپ کے ساتھ وقت گزارنے کے لئے مصروف ہے۔ محبت کا رشتہ وقت کی فراہمی کے بغیر قائم نہیں رہ سکتا۔ آپ کا وقت کسی کے لئے سب سے قیمتی تحفہ ہوتا ہے، اور اگر وہ شخص آپ کو اپنا وقت دے رہا ہے، تو وہ دراصل آپ کی زندگی میں اپنی اہمیت کا مظاہرہ کر رہا ہے۔یاد رکھیں، محبت اور وقت کا رشتہ بہت گہرا ہے۔ اگر کوئی آپ سے محبت کرتا ہے، تو وہ آپ کے ساتھ وقت گزارے گا، اور اگر کوئی آپ کے ساتھ وقت گزارنے سے گریز کرتا ہے، تو یہ ایک اشارہ ہے کہ وہ شاید آپ کی زندگی میں اتنی اہمیت نہیں رکھتا جتنا آپ نے سوچا تھا۔

    آخرکار، وقت کی قیمت کا اندازہ ہمیں اُس وقت ہی ہوتا ہے جب ہم اسے گنوا چکے ہوتے ہیں۔ ہم اپنے قریبی لوگوں سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ ہمیں وقت دیں گے، لیکن ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ اگر ہم کسی سے وقت نہ لیں، تو پھر ہم بھی اس کی زندگی میں کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔اگر آپ کو کسی کا وقت نہیں مل رہا، تو اسے بہانہ سمجھیں اور اس شخص سے اپنے تعلقات کا دوبارہ جائزہ لیں۔ دنیا میں محبت کے رشتہ کو صرف وقت کی فراہمی سے ناپا جا سکتا ہے۔ اس لئے وقت کی قدر کریں اور وہ وقت گزاریوں میں نہ گم ہوں جو آپ کی اہمیت کو کم کریں۔یاد رکھیں، "وقت کبھی واپس نہیں آتا”، لہذا اس کا استعمال درست طریقے سے کریں۔ اپنے قریبی لوگوں کے ساتھ وقت گزاریں اور ان لوگوں کے ساتھ تعلقات استوار کریں جو آپ کی اہمیت اور وقت کو قدر دیں۔