Baaghi TV

Category: بلاگ

  • محبت کے نام پر….تحریر:نورالعین

    محبت کے نام پر….تحریر:نورالعین

    محبت ایک نازک اور قیمتی جذبہ ہے جو انسان کے دل میں عمیق اثرات مرتب کرتا ہے۔ یہ ایک ایسا رشتہ ہے جو دلوں کو قریب کرتا ہے، ایک دوسرے کو سمجھنے اور سہارا دینے کی طاقت رکھتا ہے۔ لیکن جب نوجوانوں میں اس جذبے کی حقیقت اور ذمہ داری کی سمجھ نہیں ہوتی، تو یہ نہ صرف ان کی اپنی زندگیوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے، بلکہ دوسروں کی زندگیوں میں بھی مایوسی اور درد پیدا کرسکتا ہے۔

    آج کے دور میں، خصوصاً سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل کمیونیکیشن کے بڑھتے ہوئے رجحان کی وجہ سے نوجوانوں کے درمیان محبت کے جذبات اور تعلقات میں پیچیدگیاں پیدا ہو چکی ہیں۔ بہت سے نوجوان صرف احساسات کی بنا پر، یا کسی جذبے کو وقتی تسکین کے طور پر اپنے اندر ایک گہرا تعلق قائم کر لیتے ہیں۔ لیکن جب یہ تعلقات حقیقی قوتِ ارادی اور خودمختاری کے بغیر قائم ہوں، تو یہ کسی کے جذبات کے ساتھ کھیلنے کا سبب بن سکتے ہیں۔

    جب آپ زندگی میں کسی مقصد کو حاصل کرنے کے لئے خود پر یقین رکھتے ہیں اور اپنے فیصلے خود کرنے کی طاقت رکھتے ہیں، تو آپ کے اندر ایک مضبوط اور پائیدار کردار ہوتا ہے۔ نوجوانوں کو اپنی طاقتوں کو پہچاننا چاہئے اور زندگی میں کامیاب ہونے کے لئے اپنے والدین کی دعاؤں اور رہنمائی کا سہارا لینا چاہئے۔ آپ کے اندر اگر خودداری اور خودمختاری کی قوت ہے، تو آپ کسی اور کے جذبات کے ساتھ کھیلنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔اگر آپ اپنی زندگی میں کامیابی چاہتے ہیں اور کسی مقصد کو حاصل کرنے کی آرزو رکھتے ہیں، تو سب سے پہلے آپ کو اپنے اندر مضبوط ارادہ اور نیک نیتی پیدا کرنی ہوگی۔ محبت کا اظہار اور تعلقات کا آغاز سچائی اور ایمانداری سے ہونا چاہئے، نہ کہ وقتی خواہشات کی تسکین کے لئے۔

    جب آپ میں یہ احساس ہو کہ آپ کی زندگی میں نہ تو فیصلوں کی طاقت ہے، نہ کچھ کر گزرنے کا حوصلہ، اور نہ ہی آپ اپنے فیصلوں کے مطابق زندگی گزارنے کی سکت رکھتے ہیں، تو پھر کسی دوسرے شخص کو اپنے ساتھ جذباتی طور پر جوڑنا اور انہیں گمراہ کرنا ایک سنگین بات ہے۔محبت ایک حساس اور نازک جذبہ ہے، جس سے نہ صرف آپ کی زندگی متاثر ہو سکتی ہے، بلکہ دوسرے شخص کی زندگی پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ نوجوانوں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ضروری ہے، خاص طور پر جب بات محبت کے رشتہ کی ہو۔اگر آپ خود اپنی زندگی میں واضح سمت اور مقصد نہیں رکھتے، تو کسی دوسرے شخص کو اپنے ساتھ جذباتی تعلق میں اُلجھانا، اس کے لئے نہ صرف وقت کا ضیاع ہے بلکہ اس کے جذبات اور خوابوں کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔

    کامیاب اور پائیدار رشتہ وہی ہوتا ہے جو دونوں فریقوں کی باہمی سمجھ بوجھ اور احترام پر قائم ہو۔ اگر آپ اپنی زندگی میں محبت کے بارے میں سوچ رہے ہیں، تو یہ ضروری ہے کہ آپ اپنے فیصلوں کو ذمہ داری کے ساتھ کریں۔ اگر آپ ابھی تک اپنی زندگی کے اہم فیصلے خود نہیں کر پائے، اور آپ کے اندر اتنی قوت نہیں کہ آپ اپنے راستے کا تعین کریں، تو پھر محبت کا رشتہ یا جذباتی تعلق کسی کے لئے بھی نہ بنائیں۔اس کے بجائے، اپنی توانائی کو اپنے مقاصد کے حصول، تعلیم اور ذاتی ترقی میں لگائیں۔ جب آپ خود کو بہتر بنائیں گے، تو آپ کے اندر ایسا جذبہ پیدا ہوگا کہ آپ ایک نیک، سمجھدار اور پائیدار رشتہ قائم کرسکیں گے۔

    والدین کا کردار یہاں بہت اہم ہے۔ جب آپ خود اپنی زندگی کے فیصلے کرنے کی قوت رکھتے ہیں اور اپنے والدین کی دعاؤں اور رہنمائی کو اپنی زندگی کا حصہ بناتے ہیں، تو آپ کا راستہ مزید روشن ہوتا ہے۔ نوجوانوں کو اپنی والدہ اور والد کی باتوں کو سننا اور ان کے تجربات سے سیکھنا چاہیے۔ والدین وہ لوگ ہیں جو آپ کی فلاح و بہبود کے لئے ہمیشہ فکر مند رہتے ہیں اور ان کی دعائیں آپ کی زندگی کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔یہ ضروری ہے کہ ہم محبت اور عزت کے فرق کو سمجھیں۔ محبت صرف ایک جذبہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک بہت بڑی ذمہ داری اور احترام کا رشتہ ہوتا ہے۔ کسی کے جذبات سے کھیلنے کے بجائے، ہمیں ان کی عزت اور حقوق کا خیال رکھنا چاہیے۔ ایک ذمہ دار شخص اپنے رشتہ میں محبت اور عزت دونوں کو اہمیت دیتا ہے۔

    یاد رکھیں، محبت ایک خوبصورت چیز ہے، لیکن اس کا استعمال صحیح طریقے سے کرنا ضروری ہے۔ جب آپ میں قوتِ فیصلہ سازی اور زندگی کے اہم فیصلے کرنے کا حوصلہ ہو، تب ہی آپ کسی دوسرے کے دل اور جذبات کے ساتھ کھلواڑ کرنے کا سوچ سکتے ہیں۔ نوجوانوں سے درخواست ہے کہ وہ اپنی زندگی کے فیصلے بڑے غور و فکر سے کریں اور کسی دوسرے کی زندگی کو اپنی غیر ذمہ داری سے متاثر نہ کریں۔آخر کار، محبت اور رشتہ ایک خوبصورت ذمہ داری ہے، اور اس کا احترام اور درست استعمال ہی آپ کی زندگی کو کامیاب بناتا ہے۔

  • ہوشیار باش : سائبر کرائم ایکٹ کا ترمیمی بل تیار ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    ہوشیار باش : سائبر کرائم ایکٹ کا ترمیمی بل تیار ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نےدھرنوں میں قانون پامال کرنے والوں کو سزائیں دینے کا حکم جاری کر دیا ہے۔احتجاج کے نام پر جلاؤ گھیراؤ،تشدد آتشیں اسلحہ کا استعمال کرنے والوں کی لسٹیں جدید ترین جیو فینسنگ اور متعلقہ اداروں کی مدد سے بنائی جارہی ہیں۔اور اسکے بعد سوشل میڈیا پر جن جن اندرونی و بیرونی "کرداروں” نے اداروں کے خلاف فیک نیوز پوسٹیں لگائیں یا لگا رہے ہیں اور شیئر کی ہیں یا کر رہے ہیں،انکے خلاف حکومت نے سائبر کرائم ترمیمی بل کا ابتدائی مسودہ بھی تیار کر لیا، نئے مسودے میں اہم تبدیلیاں بھی کی گئی ہیں۔مسودے میں کہا گیا ہے کہ اتھارٹی کے پاس ریاست اور ریاستی اداروں کے خلاف نفرت پھیلانے سے متعلق مواد کو بھی ہٹانے کا اختیار حاصل ہو گا، جان بوجھ کر جھوٹی معلومات پھیلانے، خوف و ہراس پیدا کرنے والوں کو 5 سال قید یا 10 لاکھ روپے جرمانہ ہو گا۔اتھارٹی کے پاس فوج اور عدلیہ کے خلاف آن لائن مواد کو ہٹانے کا اختیار حاصل ہوگا، مذہبی فرقہ وارانہ یا نسلی بنیادوں پر نفرت پھیلانے سے متعلق شیئر کیے گئے مواد کو ہٹانے کا اختیار بھی حاصل ہو گا۔مسودے کے مطابق کسی شخص کو ڈرانے، جھوٹا الزام لگانے اور پورنو گرافی سے متعلق مواد کو بھی ہٹایا جا سکے گا، ریاست یا اس کے اداروں کے خلاف دہشت گردی اور تشدد کی دیگر اقسام کو فروغ دینے سے متعلق مواد بھی ہٹایا جا سکے گا۔مسودے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اتھارٹی کا ایک چیئرمین اور 6 اراکین ہوں گے، اتھارٹی کے فیصلے کے خلاف ٹربیونل سے رجوع کیا جا سکے گا۔

    فیک نیوز یا جھوٹی خبریں موجودہ دور کا ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہیں۔ ڈیجیٹل دور میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی آسانی نے جہاں معلومات تک رسائی ممکن بنائی ہے، وہیں غلط معلومات یا افواہوں کا پھیلاؤ بھی بہت زیادہ ہو گیا ہے۔ فیک نیوز نہ صرف عوام میں غلط فہمیاں پیدا کرتی ہیں بلکہ یہ سماجی، سیاسی، اور معاشی استحکام کو بھی متاثر کر سکتی ہیں۔پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں فیک نیوز کے اثرات زیادہ خطرناک ہو سکتے ہیں کیونکہ یہاں خواندگی کی شرح کم ہے اور سوشل میڈیا کا استعمال غیر ذمہ دارانہ حد تک بڑھ چکا ہے۔ جھوٹی خبریں اکثر مذہبی منافرت، سیاسی پولرائزیشن، اور فرقہ واریت کو بڑھاوا دیتی ہیں، جس سے قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔سودے کے تحت ڈیجیٹل رائٹس پروٹیکشن اتھارٹی قائم کی جائے گی، اتھارٹی کو سوشل میڈیا سے مواد بلاک کرنے یا ہٹانے کا اختیار ہو گا، اتھارٹی قانون نافذ کرنے والے اداروں یا کسی شخص کے خلاف مواد ہٹانے کے احکامات جاری کر سکتی ہے۔اس ترمیمی بل کا مقصد فیک نیوز پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنا ہے۔

    بل میں دی گئی تفصیلات کے مطابق:1. تعریف اور دائرہ کار: بل میں فیک نیوز کی واضح تعریف کی گئی ہے، جس کے تحت ایسی تمام معلومات شامل ہیں جو جان بوجھ کر جھوٹ یا گمراہ کن ہوں۔2. سزائیں: فیک نیوز پھیلانے والوں کے لیے سخت سزائیں تجویز کی گئی ہیں، جن میں بھاری جرمانے اور قید شامل ہیں۔3. آن لائن پلیٹ فارمز پر کنٹرول: سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر نگرانی کو مزید سخت کرنے کے لیے اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔4. ریگولیٹری باڈی: ایک نئی ریگولیٹری اتھارٹی قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے جو جھوٹی خبروں کے معاملے کی نگرانی کرے گی۔1. قومی مفاد کا تحفظ: اس بل کے حامیوں کا کہنا ہے کہ فیک نیوز قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں، اور یہ اقدام عوام کو غلط معلومات سے بچانے کے لیے ضروری ہے۔2. عوامی آگاہی: بل کے ذریعے عوام کو درست معلومات فراہم کرنے اور افواہوں سے بچانے کا ایک پلیٹ فارم فراہم کیا جائے گا۔3. بین الاقوامی مثالیں: کئی ممالک، جیسے سنگاپور اور فرانس، پہلے ہی فیک نیوز کے خلاف قوانین متعارف کر چکے ہیں۔تاہم، اس بل پر تنقید بھی کی جا رہی ہے:1. آزادی اظہار پر قدغن: تنقید کرنے والے اس بل کو آزادیِ اظہار پر حملہ قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق، حکومت فیک نیوز کے بہانے مخالف آوازوں کو دبانے کے لیے اس قانون کا غلط استعمال کر سکتی ہے۔2. اختیارات کا غلط استعمال: اس بات کا خدشہ ہے کہ حکومتی ادارے اپنی مرضی سے کسی بھی خبر کو فیک نیوز قرار دے کر تنقیدی صحافیوں اور کارکنوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔3. بل میں فیک نیوز کی تعریف اگرچہ دی گئی ہے، مگر یہ اتنی وسیع ہو سکتی ہے کہ اس کا اطلاق حقائق پر مبنی رپورٹنگ پر بھی ہو جائے۔4۔ پاکستان میں پہلے سے ہی ریگولیٹری اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں، اور ایک نئی اتھارٹی کے قیام سے مزید بیوروکریسی کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں. عوام کو ڈیجیٹل آگاہی فراہم کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ پاکستان میں یہ ضروری ہے کہ تعلیمی اداروں میں میڈیا لٹریسی کو فروغ دیا جائے تاکہ لوگ جھوٹی خبروں کی پہچان کر سکیں۔اس کے علاوہ، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بھی اس سلسلے میں زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا، جیسے کہ جھوٹی خبروں کی نشان دہی کے لیے الگورتھم بہتر بنانا اور ایسے اکاؤنٹس بند کرنا ہونگے جو مسلسل غلط معلومات پھیلاتے ہیں تاکہ ملک میں افراتفری کی صورت حال پیدا نہ ہونے دی جائے۔

    پاکستان کا سائبر کرائم ترمیمی بل فیک نیوز کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک اہم قدم ہو سکتا ہے، مگر اس کی کامیابی اس بات پر منحصر ہے کہ اس پر عملدرآمد کس حد تک شفاف اور منصفانہ ہوگا۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس بل پر تنقید کو مدنظر رکھتے ہوئے اس میں مزید اصلاحات کرے تاکہ یہ آزادیِ اظہار کے حق کو محدود کیے بغیر فیک نیوز کو روک سکے۔اس کے ساتھ ساتھ، یہ بھی ضروری ہے کہ حکومت عوام کو ڈیجیٹل میڈیا کے صحیح استعمال کی تربیت دے تاکہ معاشرہ ہی جھوٹی خبروں کے خلاف مزاحمت کر سکے۔ قانون سازی اپنی جگہ اہم ہے، لیکن فیک نیوز جیسے پیچیدہ مسئلے کا مستقل حل عوامی شعور کی بیداری میں مضمر ہے۔

    ۔بحرحال ! ملکی وسیع تر مفاد میں انتہائی ضروری ہے کہ پاکستان میں فیک نیوز کے مسئلے کے حل کے لئے سخت قوانین نہ صرف بنانے کی حدتک محدود رہیں، بلکہ ان پر آہنی ہاتھوں سے عملدرآمد بھی ضروری ہے۔۔

  • ہر جماعت میں مسخروں اور مخبروں کی بھرمار،جمہوریت کیسے مستحکم ہو؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    ہر جماعت میں مسخروں اور مخبروں کی بھرمار،جمہوریت کیسے مستحکم ہو؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    پنجاب میں مریم نواز نے حقیقی تبدیلی کا رخ موڑ دیا،صوبے کی قسمت بدلنے کیلئے کوشاں
    بھارت میں مودی اور حواریوں نے مسلمانوں پر زمین تنگ کردی،مسجدوں سے مند رنکل رہے

    تجزیہ، شہزاد قریشی
    ملکی سیاسی گلیاروں میں مخبروں کے مزے ہیں، سیاسی جماعتوں میں مسخرے پن کی حدوں کو کراس کرنے والے اور مخبروں کی تعدا د میں اضافہ ہو چکا ہے، ان حالات میں جمہوریت کیسے مستحکم ہو سکتی ہے، بھارت کو ہی لیجئے وہاں کوئی بھارتی مسلمان جو کہیں بھی کسی شعبے میں مامور ہے، اس کی زندگی کے درپے ہیں آج کل ایک کے بعد ایک مسجد اور مسلمانوں کے مقدس مقامات کے نیچے بھگوان کی مورتی نکل رہی ہے ،ہندوئوں نے اب اجمیر شریف کا رخ کر لیا ہے ،بھارتی عدالتیں قانون و آئین کا مذاق بنا رہی ہیں بھارت میں خانہ جنگی کا ماحول ہے ،ہندو بھارت میں موجود مسلمانوں کا قتل عام کر رہے ہیں ،بھارت میں مسلمان محفوظ نہ عیسائی م، مودی حکومت پشت پناہی کر رہی ہے ،بھارتی فوج انتظامیہ ، ہندوئوں کے ہم رکاب ہے، بھارتی عدالتیں ان کی ہم خیال ہیں،

    ملک کی تین بڑی سیاسی جماعتیں پیپلزپارٹی، پی ٹی آئی، مسلم لیگ ن اور ان کی ہم رکاب چھوٹی سیاسی جماعتوں اور مذہبی جماعتوں نے رونقیں لگارکھی ہیں ،بدتمیزی اور بداخلاقی نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ،پاکستان اس وقت بدتمیزی، بداخلاقی، جھوٹ، فریب، جعلی ویڈیو، جعلی آڈیو کی زد میں ہے، ایک ہمارے سابق وزیراعظم اڈیالہ جیل میں شطرنج کھیل رہے ہیں کوئی نہ کوئی ایسی چال چلتے ہیں ،امریکہ سے مغربی ممالک کے میڈیا کا رخ پاکستان کی طرف ہو جاتا ہے تاہم ان کی جماعت میں مخبروں کا اضافہ ہو رہا ہے،یہ جماعت بھی مستقبل میں کے پی کے تک محدود ہوتی نظر آتی ہے، پنجاب میں مریم نواز اور نوازشریف خود اور ان کے چند ساتھیوں کی توجہ کام پر ہے ،ایک کے بعد ایک مریم نواز کے ترقیاتی منصوبے، میرٹ نے صوبہ پنجاب میں تبدیلی کا رخ موڑ دیا ہے، بے گھر لوگوں کو گھر، زراعت، صفائی کے منصوبوں نے مسلم لیگ ن پنجاب کی مقبولیت میں اضافہ کیا ہے ،مریم نواز کی توجہ عوام کے مصائب پر کم کرنے پر ہے ،پنجاب میں تبدیلی کا نعرہ اور حقیقی آزادی کے دونوں نعروں کو مریم نواز نے بے معنی نعرہ بنا دیا ہے،مسائل میں گھرے ہوئےعوام کی توجہ دھرنوں سے ہٹ کر مریم نواز کے ترقیاتی منصوبوں کی طرف ہو چکی ہے، کے پی کے حکومت، سندھ حکومت اور باقی صوبوں کو بھی چاہیے،عوامی مسائل پر توجہ دیں، افواج پاکستان ایک منظم ادارہ ہے جو مخصوص قواعد و ضوابط کے تحت اپنے فرائض سرانجام دیتا رہا ہے اور دے رہا ہے، سیاسی جماعتیں اپنی سیاست پر توجہ دیں یاد رکھیئے عوام کی اکثریت سیاستدانوں کی بداعمالیوں اور بدانتظامیوں کا حل فوج کے پاس ہی دیکھتے ہیں۔

  • پاکستان میں لیک ویڈیوز کاپھیلاؤ اور حکومتی ذمہ داری

    پاکستان میں لیک ویڈیوز کاپھیلاؤ اور حکومتی ذمہ داری

    پاکستان میں جہاں پورن سائٹس پر پابندی ہے، وہیں نجی ویڈیوز کے لیک ہونے کا مسئلہ بھی دن بدن سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ یہ سوال اب تک کئی بار اٹھ چکا ہے کہ اگر پورن مواد غیر اخلاقی اور غیر قانونی سمجھا جاتا ہے تو پھر نجی ویڈیوز کی شیئرنگ اور ان کا بے رحمی سے پھیلاؤ کیوں کسی کے لیے کوئی مسئلہ نہیں بنتا؟ کیا ہم اس دوہری سوچ کا شکار ہیں؟

    پاکستان میں اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ پورن دیکھنا ایک اخلاقی غلطی ہے اور اس پر قانونی پابندیاں بھی عائد کی گئی ہیں۔ تاہم، نجی ویڈیوز یا "نائیڈ” ویڈیوز کا لیک ہونا اور ان کا سوشل میڈیا اور دیگر آن لائن پلیٹ فارمز پر تیزی سے پھیلنا ایک الگ نوعیت کا مسئلہ ہے۔ اکثر یہ ویڈیوز مختلف افراد کی رضا مندی کے بغیر انٹرنیٹ پر اپلوڈ ہو جاتی ہیں، اور ان ویڈیوز کے شیئر ہونے کے بعد متاثرہ افراد کی زندگی تباہ ہو جاتی ہے۔

    پاکستان میں جب کسی نجی ویڈیو کا لیک ہونا ہوتا ہے، تو اکثر افراد اس ویڈیو کو دیکھنے اور شیئر کرنے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتے۔ یہ دوہرا معیار واضح طور پر موجود ہے کہ لوگ پورن ویڈیوز کو اخلاقی طور پر غلط سمجھتے ہیں لیکن جب بات کسی کی نجی ویڈیو کی ہو تو وہ اسے شیئر کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔ اس سے نہ صرف متاثرہ فرد کی ذاتی زندگی کو نقصان پہنچتا ہے بلکہ ان ویڈیوز کے پھیلاؤ سے معاشرتی سطح پر بھی بے شمار مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

    نجی ویڈیوز کے لیک ہونے کی صورت میں فرد کی عزت اور ساکھ پر حملہ ہوتا ہے، جس کا اثر ان کے خاندان، دوستوں اور پورے معاشرے پر بھی پڑتا ہے۔ اکثر اوقات یہ معاملہ ذہنی و نفسیاتی مسائل کا سبب بنتا ہے اور متاثرہ افراد اپنے آپ کو تنہائی، شرمندگی اور بے عزتی کا شکار محسوس کرتے ہیں۔

    پاکستانی حکومت کو اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔ حکومت کی جانب سے وی پی این (VPN) پر پابندی لگانے کا اقدام ایک طرف تو انٹرنیٹ پر مواد کی کنٹرولنگ کی کوشش ہے، لیکن اس سے نجی ویڈیوز کے پھیلاؤ کو روکنا ممکن نہیں۔ حکومت کو اس مسئلے کے جڑ تک پہنچ کر اس کے اصل اسباب کا تجزیہ کرنا ہوگا۔نجی ویڈیوز کے لیک ہونے کا مسئلہ صرف افراد کی ذاتی آزادی یا انٹرنیٹ کی آزادی سے متعلق نہیں ہے، بلکہ یہ معاشرتی، اخلاقی اور قانونی مسائل بھی ہیں جنہیں بہتر طریقے سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت کو ایسی پالیسیاں تشکیل دینی ہوںگی جو اس نوعیت کے مواد کی تشہیر کو روکے اور ان افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرے جو اس قسم کے ویڈیوز کو جان بوجھ کر شیئر کرتے ہیں۔

    حکومت کو اس مسئلے کی سنگینی کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے خلاف سخت قوانین بنانے کی ضرورت ہے۔ لیک ہونے والی ویڈیوز کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے حکومتی سطح پر سخت سزا کا تعین کیا جانا چاہیے۔حکومت کو ایسی ٹیکنالوجی کا استعمال کرنے کی ضرورت ہے جس سے لیک ہونے والی ویڈیوز کو فوراً ڈیلیٹ کیا جا سکے اور ان کی تشہیر کو روکا جا سکے۔ سوشل میڈیا کمپنیز کو اس بات کی ذمہ داری دینی چاہیے کہ وہ ایسے مواد کی فوراً نشاندہی کریں اور اسے ہٹا دیں۔ اس سلسلے میں ان کمپنیز کو پاکستانی قوانین کے مطابق کارروائی کرنے کے لیے مجبور کیا جائے۔عوام میں اس بات کا شعور پیدا کرنا بہت ضروری ہے کہ نجی ویڈیوز کا شیئر کرنا صرف اخلاقی طور پر غلط نہیں ہے، بلکہ یہ ایک جرم بھی ہے جو دوسرے انسان کی زندگی کو تباہ کر سکتا ہے۔

    پاکستان میں نجی ویڈیوز کے لیک ہونے کا مسئلہ ایک سنگین نوعیت کا ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت کو اس مسئلے کے جڑ تک پہنچ کر اس کا مؤثر حل نکالنا ہوگا۔ صرف وی پی این پر پابندی لگا کر اس مسئلے کا حل نہیں نکلے گا، بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ ایک جامع حکمت عملی بنائی جائے تاکہ اس طرح کی ویڈیوز کی تشہیر کو روکا جا سکے اور ان کے اثرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔

  • ہاتھ میں ایک اچھی کتاب ،سب سے بڑا لطف،کچھ یادیں

    ہاتھ میں ایک اچھی کتاب ،سب سے بڑا لطف،کچھ یادیں

    میری سب سے بڑی پسندیدہ سرگرمیوں میں ہمیشہ پڑھنا شامل رہا ہے۔ جتنا مجھے یاد ہے، کتابیں ہمیشہ میرے ساتھ رہی ہیں، مجھے مختلف جہانوں میں لے جاتی ہیں، دلچسپ خیالات سے روشناس کراتی ہیں اور روزمرہ کی زندگی کے شور سے پناہ فراہم کرتی ہیں۔ لیکن حالیہ برسوں میں میں نے ایک تبدیلی محسوس کی ہے،پڑھنے کی وہ لذت جو پہلے تھی، آہستہ آہستہ کم ہوتی جا رہی ہے۔

    ماضی میں میرا گھر ایک ادبی میدان کی طرح تھا۔ ہر کمرے میں کتابوں کا اپنا مخصوص مقام ہوتا تھا۔ ہمیشہ میرے بستر کے قریب ایک کتاب رکھی ہوتی، ایک اور کتاب کچن میں رکھی ہوتی تاکہ چائے کا پانی اُبالنے کا انتظار کرتے ہوئے تھوڑی دیر کے لیے پڑھا جا سکے، اور ایک کتاب شوروم کے صوفے کی بانہوں پر رکھی ہوتی۔ ایک ان پڑھا خزانہ ہمیشہ تیار رہتا، میری پسند نرالی تھی.افسانہ، غیر افسانہ، اور درمیان کی سب چیزیں، یہ کوئی فرق نہیں پڑتا تھا، بس کتابیں مجھے اپنی طرف کھینچ لیتی تھیں۔

    حال ہی میں، تاہم، میں نے خود کو زیادہ تر مواد اسکرین پر پڑھنا شروع کر دیا،جو یا تو سہولت کی وجہ سے یا ضرورت کے تحت ہوتا ہے، نہ کہ حقیقی جوش و جذبے کے باعث، کمپیوٹر یا ٹیبلٹ پر پڑھنا وہ جادو نہیں رکھتا جو ایک جسمانی کتاب کے ساتھ ہوتا ہے۔ مجھے وہ حسی تجربہ یاد آتا ہے ،کتاب کا وزن ہاتھوں میں محسوس کرنا، نئے پرنٹ شدہ صفحات کی خوشبو، اور ہر صفحے کو پلٹتے وقت کی تسکین بخش سرسراہٹ۔ اس میں کچھ ایسا ہے جو بے بدل ہے کہ آپ کسی پسندیدہ اقتباس کو دوبارہ دوبارہ پڑھ سکیں جیسے آپ انہیں یادداشت میں محفوظ کر رہے ہوں۔

    جو چیز مجھے سب سے زیادہ یاد آتی ہے وہ اس سب کا ایک مقدس عمل ہے۔ صوفے پر پھیل کر ایک آرام دہ کمبل میں لپٹنا، ایئرل گرے یا کافی کا گرم کپ پاس میں رکھنا، اور ایک اچھی کتاب ہاتھ میں ہونا، ایسا لگتا ہے جیسے سب سے بڑی عیاشی ہو۔ یہ صرف پڑھنا نہیں ہے،یہ ایک فرار ہے، دن کے دباؤ سے آزاد ہونے کا ایک طریقہ ہے اور خود کو کرداروں کی زندگیوں میں غرق کرنے، سنسنی خیز کہانیاں کھولنے یا گہرے خیالات کو دریافت کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ کتاب کے ساتھ گزارا گیا وہ مقدس وقت زندگی کی سب سے خالص خوشیوں میں سے ایک ہے۔

    کتابیں میرے لیے صرف تفریح نہیں، بلکہ ضروری ہیں۔ میں تصور نہیں کر سکتی کہ کوئی تعطیلات بغیر کتابوں کے گزاری جائیں۔ اگر سفر میں کتابیں نہ ہوں تو ایسا لگتا ہے جیسے میں نے سفر کی روح کو پیچھے چھوڑ دیا ہو۔ اسی طرح، رات کو سونے سے پہلے کتاب نہ پڑھنا، چاہے صرف ایک صفحہ یا دو ہی ہوں، نامکمل سا محسوس ہوتا ہے۔ نیند سے پہلے کا وہ لمحہ، کتاب کے ساتھ، ایک چھوٹا مگر ضروری سکون ہوتا ہےیہ ایک اشارہ ہوتا ہے کہ دن پرامن طور پر ختم ہو رہا ہے۔

    جسمانی کتابوں سے اپنی محبت کو دوبارہ جلا دینا، ایسا لگتا ہے جیسے میں نے اپنے آپ کا ایک حصہ دوبارہ حاصل کیا ہو، کچھ ایسا جو دل سے سکون دہ اور بامعنی ہو۔ کیونکہ ایسی دنیا میں جہاں سب کچھ تیز رفتاری سے چل رہا ہو، پڑھنے کی قدیم لذت ایک نرم یاد دہانی ہے کہ ہمیں آہستہ چلنا چاہیے، سانس لینا چاہیے، اور الفاظ کی خوبصورتی میں غرق ہو جانا چاہیے۔

  • مہنگائی میں کمی کے حکومتی دعوے اور عوام کی چیخیں

    مہنگائی میں کمی کے حکومتی دعوے اور عوام کی چیخیں

    مہنگائی میں کمی کے حکومتی دعوے اور عوام کی چیخیں
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    پاکستان میں حالیہ حکومتی بیانات کے مطابق مہنگائی 63 ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہے جسے حکومت کی بہترین معاشی پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ وفاقی ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق نومبر 2024 میں کنزیومر پرائس انڈیکس (CPI) کی شرح 4.9 فیصد ریکارڈ کی گئی جو گذشتہ سال کی 29.9 فیصد اور اکتوبر 2024 کی 7.2 فیصد کے مقابلے میں نمایاں کمی کو ظاہر کرتی ہے۔ حکومتی دعوؤں کے مطابق ٹرانسپورٹ، ایندھن اور اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں کمی آئی ہے۔ وزیر خزانہ نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ میں گفتگو کرتے ہوئے مہنگائی میں کمی کو میکرو اکنامک استحکام کی علامت قرار دیا اور کہا کہ پرائس کنٹرول کمیٹیاں مؤثر طریقے سے کام کر رہی ہیں۔

    تاہم زمینی حقائق عوام کی مشکلات کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔ گھی، آٹا، چینی، اور دیگر بنیادی اشیا کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے حکومتی دعوے زیادہ تر بڑے شہروں کے ڈیٹا پر مبنی ہیں جبکہ دیہی علاقوں میں ان اشیا کی قیمتیں اب بھی عوام کی پہنچ سے باہر ہیں۔اس وقت گھی کی قیمت 500 سے 600 روپے فی کلو کے درمیان ہے جبکہ چھوٹے شہروں اور دیہاتوں میں ٹماٹر200 روپے کلو،آلو160روپے کلواور پیاز بھی 200روپے کلو تک فروخت ہورہا ہے جو کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے ایک بڑا بوجھ ہے۔

    عوامی رائے کے مطابق حکومت کے جاری کردہ اعداد و شمار اور زمینی حقائق میں بڑا تضاد موجود ہے۔ مڈل مین کے کردار اور اشیاء کی اصل قیمتوں میں فرق کی وجہ سے عوام کو حکومتی دعوؤں کے اثرات محسوس نہیں ہو رہے۔ عوام کا یہ کہنا ہے کہ حکومت کے بیانات محض اعداد و شمار پر مبنی ہیں جو حقیقت سے دور ہیں۔یوٹیلیٹی اسٹورز پر گھی، چینی، دالوں، اور دیگر اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں عوام کی قوت خرید سے باہر ہیں،بازاروں میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے عوام کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔مہنگی ادویات اور تعلیمی اخراجات نے متوسط طبقے کو مزید مشکلات میں ڈال دیا ہے۔

    عوامی رائے یہ ہے کہ حکومت عوامی مسائل کو نظرانداز کر کے صرف بین الاقوامی اداروں کی خوشنودی حاصل کرنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔وزیرِ اعظم اور ان کی ٹیم کو چاہیے کہ وہ عوامی مسائل کو عملی طور پر حل کرنے کے لیے اقدامات کریں۔ تعلیم، صحت اور روزگار کے شعبوں میں فوری اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ عوامی مشکلات میں کمی لائی جا سکے۔ صرف اعداد و شمار کے ذریعے عوام کو مطمئن کرنا ممکن نہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ مہنگائی کے خاتمے، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔

    اگر حکومت کے دعوے سچ پرمبنی ہیں تو عام آدمی کی زندگی میں بہتری کیوں نظر نہیں آتی؟ مہنگی اشیاء، صحت کی ناکافی سہولتیں،مہنگی ہوتی ادویات اور بڑھتے ہوئے تعلیمی اخراجات عوام کے لیے بڑا مسئلہ ہیں۔ لوگ اعداد و شمار نہیں بلکہ حقیقی ریلیف چاہتے ہیں۔ حکمرانوں کو عوام کے مسائل کو سمجھنے کے لیے ان کے درمیان آنا ہوگا ورنہ یہ وعدے اور دعوے صرف جھوٹ کے طور پر یاد رکھے جائیں گے۔ عوام کا صبر ختم ہو چکا ہے، اگر حکومت نے حقیقت کو نہ سمجھا تو یہ خودفریبی ان کے لیے بڑے نقصان کا باعث بن سکتی ہے،عوام کی آواز سنیں، ان کے مسائل حل کریں، ورنہ وقت کا فیصلہ اٹل ہوگا اور عوام کے غیظ و غضب سے حکمرانوں کو کوئی نہیں بچا سکے گا۔

  • خدارا!اینٹی بائیوٹکس ٹافیاں نہیں ہیں

    خدارا!اینٹی بائیوٹکس ٹافیاں نہیں ہیں

    خدارا!اینٹی بائیوٹکس ٹافیاں نہیں ہیں
    تحریر: اعجازالحق عثمانی
    آج کل پاکستان سمیت دنیا بھر میں اینٹی بائیوٹکس کا بے دریغ استعمال ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔جس کے نتیجے میں اینٹی مائکروبیل ریزسٹنس یعنی مزاحمت جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 51 فی صد افراد اینٹی بائیوٹکس از خود استعمال کرتے ہیں۔ بغیر کسی ڈاکٹر کی تجویز کے اینٹی بائیوٹکس کا استعمال کس طرح ہمارے لیے نقصان دہ ہے۔ یہ سمجھنے کے لیے، اینٹی بائیوٹکس ادویات کیا ہوتی ہیں؟ یہ جاننا ضروری ہے۔
    اینٹی بائیوٹکس وہ دوائیں ہیں جو بیکٹیریا کی افزائش کو روکنے یا انہیں مکمل طور پر ختم کرنے یعنی مارنے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ لیکن ان کا بے جا اور غیر ضروری استعمال آپ کےلیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
    اینٹی بائیوٹک ریزسٹنس یا مزاحمت کیا ہے؟
    اینٹی بائیوٹک ریزسٹنس یا مزاحمت ایک ایسی کنڈیشن ہے کہ جس میں بیکٹیریا اپنی ساخت میں تبدیلی پیدا کر لیتے ہیں جس کی وجہ سے اینٹی بائیوٹکس ان تبدیل شدہ بیکٹیریا کی ساخت پر اثر کرنا چھوڑ دیتی ہیں۔ تبدیل شدہ ساخت والے بیکٹیریا میں مزاحمت پیدا ہونے کے بعد بیکٹیریا پر اینٹی بائیوٹکس کا اثر نہیں ہوتا ہے۔

    اینٹی بائیوٹکس کے غلط استعمال کی وجوہات:
    ڈاکٹری نسخے کے بغیر استعمال:
    ہمارے ہاں اکثر لوگ ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر اینٹی بائیوٹکس استعمال کرتے ہیں۔ گھر میں کسی اور مریض کی پڑی ادویات یا (انھیں جس بھی اینٹی بائیوٹک دوائی کا نام یاد ہوتا ہے) بغیر کسی کوالیفائیڈ ڈاکٹر کی ہدایت کے خود میڈیکل سٹور سے خرید کر استعمال کرلیتے ہیں، یہ عمل صحت کے لیے نقصان دہ ہو ثابت ہو سکتا ہے۔
    ادھورا علاج:
    مریض اکثر دوائی کا کورس مکمل نہیں کرتے جس سے بیکٹیریا مضبوط ہو جاتے ہیں۔ اور اینٹی بائیوٹک ریزسٹنس یا مزاحمت پیدا ہو سکتی ہے۔
    غلط تشخیص:
    اتائی ڈاکٹر اور نان کوالیفائیڈ طبیبوں سے بچیں، ورنہ بلا ضرورت اینٹی بائیوٹکس استعمال کرنے کی وجہ سے آپ کا جسم اینٹی بائیوٹک ریزسٹنس یا مزاحمت کا شکار ہو سکتا ہے۔

    اینٹی بائیوٹک ریزسٹنس یا مزاحمت کے نتائج:
    پاکستان میں سالانہ 3 لاکھ افراد اینٹی بائیوٹک ریزسٹنس رکھنے والے بیکٹیریا سے پیدا ہونے والے انفکشنز سے براہ راست موت کا شکار ہوتے ہیں۔ جبکہ 7 لاکھ کے قریب اسی وجہ سے مختلف بیماریوں کا شکار ہو کر موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔

    مگر حل کیا ہے؟:
    ذمہ دارانہ استعمال:

    اینٹی بائیوٹکس صرف ڈاکٹر کی ہدایت پر لیں۔ سلف میڈیکیشن سے گریز کریں۔
    عوامی آگاہی:
    اینٹی بائیوٹکس کے بے جا اور غلط استعمال کے نتائج اور نقصانات سے حکومتی سطح پر عوامی آگاہی مہم کی اشد ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں میڈیا چینلز کو بھی چاہیے کہ وقتاً فوقتاً آگاہی پروگرام نشر کیے جائیں۔
    قانون سازی:
    بغیر نسخے کے ہر قسم کی دوائیوں کی فروخت پر مکمل پابندی ہونی چاہیے۔ اور خلاف ورزی پر سخت سزا اور جرمانے عائد کیے جانے چاہیے۔

    "اور اپنی جانوں کو ہلاکت میں نہ ڈالو” (القرآن)
    اپنی جانوں پر ظلم نہ کیجیے ۔اور خدارا! اینٹی بائیوٹکس ٹافیاں نہیں ہیں۔ سو ان کو دوائی سمجھ کر ہی استعمال کیجیے۔ اینٹی بائیوٹکس بلاشبہ نعمت خداوندی ہیں ،احتیاط سے استعمال کریں،ان سے بیماری کو بھگائیں نہ کہ بڑھائیں۔

  • پاکستان کو عالمی دنیا کے بدلتے حالات پر توجہ کی ضرورت۔تجزیہ: شہزاد قریشی

    پاکستان کو عالمی دنیا کے بدلتے حالات پر توجہ کی ضرورت۔تجزیہ: شہزاد قریشی

    پاکستان کو داخلی انتشار سے نکل کر عالمی دنیا کی بدلتی صورت حال پرتوجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اس وقت پاکستان کوایسی قیادت کی ضرورت ہے جوپاکستان کو داخلی انتشار سے نکال کر قوم کو متحد کرسکے ۔ دنیا میں تبدیلیاں ہونے والی ہیں خاص کر امریکی نو منتخب صدرٹرمپ نے برکس کے رکن ممالک کو نشانہ بناتے ہوئے یہ واضح کیا ہے کہ ڈالر کے متبادل کرنسی کے مقابلے میں وہ خاموش رہنا پسند نہیں کریں گے امریکہ مستقبل میں برکس ممالک کے ساتھ اگر برقرار رکھے گا تو ٹیکس کے معاملے میں ان ممالک کے ساتھ جارحانہ رویہ اختیار کیا جائے گا۔ ٹرمپ برکس کے تمام رکن ممالک کے ساتھ تلخی سے اظہار کررہے ہیں ابھی تک برکس کے رکن ممالک نے ڈالر کے متبادل کے طور پر دوسری کرنسی کو متعارف کرانے کے کسی بھی فیصلے پر ابھی تک مُر نہیں لگائی۔ برکس رکن ممالک کے لئے یہ واضح پیغام ہے کہ وہ مستقبل کی پیش بندیوں کا اظہار کرتے ہوئے ڈالر کے خلاف ترچھی نگاہ بھی نہ ڈالیں۔ برکس کے رکن ممالک میں چین ، روس ، برازیل ، جنوبی افریقہ ، مصر ، ایران ،ہندوستان اور متحدہ عرف امارات بھی شامل ہیں۔ ٹرمپ کی امریکہ فرسٹ پالیسی مودی حکومت کے لئے بھی مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔ مستقبل قریب میں امریکہ بھارت اور مودی کی خود ساختہ دوستی کے کوئی اچھے اثرات مرتب نہیں ہوگے یا تو بھارت کو برکس کے رکن ممالک سے باہر آنا ہوگا یا پھر امریکہ سے اس سلسلے میں بات کرنا ہوگی جو ناممکن ہے کہ امریکہ چپ چاپ برکس کو ڈالر سے دور ہوتے برداشت کر سکے گا۔

    ۔ یہ تو آنے والا وقت بتائے گا ۔ مبصرین کے مطابق ٹرمپ کی توجہ کا مرکز پانچ وسطی ایشیائی قازستان ، کرغزستان ، تاجکستان ، ترکمانستان اور ازبکستان پر بھی ہو سکتی ہے وسطی ایسیاء امریکہ کے لئے جغرافیائی طور پر اہم ہے۔ مبصرین کے مطابق ٹرمپ کے پاس وسطٰی ایشیا میں امریکی مصروفیات کو نئی شکل دینے اور اس اہم خطے میں مضبوط امریکی موجودگی کو محفوط بنانے کا منفرد موقع ہے۔ یاد رکھیے پاکستان اس خطے کا ایک اہم ملک ہے پاکستان کی حکومت اور اپوزیشن کو صدق دل سے قومی فریضہ ادا کرنا ہوگا ۔ پاکستان کے مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے داخلی انتشار سے نکل کر ایک مضبوط معاشی اور پھر مستحکم پاکستان کی جانب سفر کرنا ہوگا۔ پاکستان کی وزارت خارجہ دنیا بھرمیں سفارتخانوں کے سفیروں کو دنیا کی بدلتی ہوئی صورت حال کے مطابق اپنی خدمات سرانجام دینی ہوگی بالخصوص وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار پر بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ عالمی دنیا کی بدلتی ہوئی صورت حال پر نظر رکھیں بین الاقوامی بدلتی ہوئی خارجہ پالیسی پر توجہ دیں۔

  • شادی بیاہ کے معاملات اور ہمارا معاشرہ.تحریر: نصیر الدین

    شادی بیاہ کے معاملات اور ہمارا معاشرہ.تحریر: نصیر الدین

    ہر ملک اور ہر علاقے میں جہیز مختلف صورتوں میں دیا جاتا ہے۔ جو عام طور پر زیورات، کپڑوں، نقدی اور روزانہ استعمال کے برتنوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں میں جہیز کی یہ مروجہ رسم ہندو اثرات کی وجہ سے داخل ہوئی اور ایک لعنت شکل اختیار کر گئی۔ برصغیر میں تو گاڑی بائک سونا زیور اور گھر کا فرنیچر پردے قالین وغیرہ تک مانگ لیا جاتا ہے
    دلہن کے مہر کے بدلے کے طور پر بھی جہیز کے تعین کی کوشش کی جاتی ہے
    اگرغور کیا جاۓ تو جہیز کے مطالبے کو رشوت کی ایک قسم کہا جا سکتا ہے
    آج کل ہر کوئی جہیز کو لعنت قرار دیتا ہے
    حالانکہ نبی پاک صلی اللہ الہ وسلم نے بھی اپنی بیٹی کو جہیز دیا تھا نبی ص کی سنت کو لعنت کیسے قرار دیا جا سکتا ہے دراصل لعنت تو اسے ہم نے خود بنا دیا ہے محض جہالت اور لالچ کی وجہ سے،لڑکے والے خاص طور پر سامان اور کپڑوں کی لسٹیں بنا کر باقاعدہ ڈیمانڈ کرتے ہیں اور ا س بات پر ذرا سی بھی شرمندگی محسوس نہیں کرتے….اپنے چار پانچ سو دوست، رشتےدار بھی شادی میں کھانے پر ضرور بلاتے ہیں اور ان باتوں کو اپنا حق سمجھتے ہیں شادی پر وی آئی پی مہمان نوازی کی توقع کرتے ہیں وجہ یہ کہ ہم لڑکے والے ہیں، ہونا تو یہ چاہٸے کہ لڑکی والے اپنی استطاعت کے مطابق اپنی لڑکی کو کچھ نئی زندگی کی شروعات کے لۓ شادی پر دیں ،نہ کہ لڑکے کے مہمانوں کو کھلانے پلانے کے ساتھ ساتھ سازو سامان کی بھی ذمہ داری اٹھایں_نجانے لڑکے والوں کو یہ خیال کیوں نہیں آتا کہ وہ ماں باپ جنہوں نے اپنی لخت جگر بیٹی کو بیس بائیس سال تک پالا پوسا، لاکھوں روپے خرچ کر کے تعلیم و تربیت کے زیور سے آراستہ کیا اوراب وہ اپنی لاڈلی بیٹی ایک دوسرے خاندان کے حوالے کرنے کا رسک لے رہے ہیں کہ نجانے لڑکا اور اسکا خاندان آگے جا کر کیسےنکلیں ، لڑکے والوں کو ایک ایسی شخصیت مل رہی ہے جو نہ صرف انکے خاندان کی نسل کو آگے بڑھائے گی بلکہ انکا گھر بھی سنبھالے گی

    اگر لڑکے والے صرف اتنا ھی سوچ لیں تو شاید طرح طرح کے مطالبات کر کے لڑکی والوں پر بوجھ نہ ڈالیں ایسی سوچ لڑکے کی تربیت، تعلیم غیرت اور خاندانی ہونے پر منحصر ہے بےغیرت اور کم نسل لڑکے کو ایسی سوچ نہیں آتی نہ ہی شرمندگی ہوتی ہے، گو کہ رشتہ طے کرنے سے پہلے دونوں طرف سے چھان بین ہوتی ہے لیکن پھر بھی کل کا کسے پتہ………. اسلام شادی بیاہ میں لڑکی والوں پر اس قسم کی کوئی پابندی نہیں عائد کرتا کہ وہ شادی میں لڑکے کے مہمانوں کو کھانا کھلائیں اور لژکے والوں کی شرطیں پوری کرتے پھریں بلکہ لڑکے کی ذمہ داری ہے شادی اور شادی کے بعد کی ضروریات زندگی سے متعلق ہر چیز کا پہلے سے خود بندوسبت کرکے رکھے پھر شادی کرے نہ کہ لڑکی سے کپڑے، کھانا اور سامان مانگے …… شادی کی خوشی میں وہ دعوت ولیمہ کا اہتمام کرے اور تمام دوست رشتےداروں کو کھانا کھلائے شادی میں لڑکی والوں پر کھاناکھلانے کابوجھ نہ ڈالےاگر اپنے رشتے داروں کو بلانے کا بہت شوق ہے تو شادی میں بھی انکے کھانے کا بندوبست لڑکااپنی جیب سے خود ہی کرے…….لڑکے والوں کو چاہیئے اگر ان کی یا انکے لڑکے کی اتنی حیثیت نہیں ہے تو شادی کو اس وقت تک کے لئے موخر کر دیں جب تک اس قابل نہ ہو جائیں تاکہ لڑکی والوں کے آگے ننگا اوربھوکا نہ بننا پڑے شادی کے معاملات نمٹانے کا صحیح طریقہ جانننے کیلۓ اپنے بزرگوں کے ساتھ ساتھ علماۓ دین سے بھی پوچھا اور مشورہ کیا جاۓ.

    اللہ تعالی ہم سب کو شادی بیاہ کے معاملات میں سمجھداری اوردین اسلام کے اصولوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے لڑکے اور اسکے خاندان کو بے غیرت کے بجائے غیرتمند، سمجھدار اور دوسروں کا احساس کرنے والا بنائے آمین…….. اسلام نے نکاح کو جتنا آسان بنایا ہے موجودہ معاشرتی ماحول نے اسے اتنا ہی مشکل تر بنا دیا ہے ………ادھار قرضے لے کرغیر ضروی رسموں سہرا, بارات مہندی, بری, شو بازی , فنکشن, دکھاوا وغیرہ جو شادی کو مشکل تر بناتے ہیں ختم کر کے سادگی اپناٸی جاۓ مسجد میں نکاح کا اہتمام ہو اور اس کے بعد سادہ سی شادی کی دعوت تک محدود رہا جاۓ جو آج کے دور میں سمجھداری اور عزت بچانے کا بہترین طریقہ ہے

  • قصہ میری یادوں کا،”دل پر گرتے آنسو”.تحریر:قرۃالعین خالد

    قصہ میری یادوں کا،”دل پر گرتے آنسو”.تحریر:قرۃالعین خالد

    صدیوں سے یہ مقولہ مشہور ہے کہ کتابیں انسان کی بہترین ساتھی ہوتی ہیں۔ کتابیں نہ صرف خلوت بلکہ جلوت کی بھی ساتھی ہوتی ہیں۔ وہ انسان کی رازداں ہوتی ہیں۔ علم کے سمندر میں غوطہ زن ہونے کے لیے کتابیں ہی تو سہارا ہوتی ہیں۔ نفسا نفسی اور خود غرضی کے اس دور میں کتابوں سے زیادہ مخلص دوست کوئی نہیں جو اپنے پڑھنے والے کی زندگی کے راز کسی سے نہیں کہتی ہوں۔ کتابیں قرطاس میں رازوں کو دفن کر کے اپنے اندر سمیٹ لیتی ہیں۔ سفر زیست کے پنے پلٹوں تو وہ دن بہت یاد آتے ہیں۔ جب زندہ دلان لاہور میں ہم سب کزنز تعلیم کی غرض سے مقیم تھے۔ ہمارا مستقل ٹھکانہ پھپھو اور نانی اماں کا گھر ہوا کرتا تھا۔ سارا دن کالج یونیورسٹیوں میں کورس کی کتابوں کے ساتھ سر کھپا کر، لاہور کی لوکل بسوں کی خاک چھان کر جب شام ہم اپنے ٹھکانے میں اکٹھے ہوتے تو ہماری زندگی کا محور و مرکز کورس کی کتب کے علاوہ بھی کچھ کتابیں ہوتی تھیں۔ کتنا حسین تھا وہ دور طالب علمی جب ہم اردو بازار جاتے تھے اور فٹ پاتھ پر لگے کتابوں کے اسٹال سے رسائل اور میگزین سستے دام میں خریدتے تھے۔ دور حاضر میں ہر شے مہنگائی کی نظر ہو گئی ہے۔ ایک ادب بچا تھا اسے بھی پیسے کی ہوس نے بے ادب کر دیا۔ میری طرح اردو بازار ہزاروں نہیں، لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں طالبات کی یادوں میں مقید ہوگا۔ جہاں فٹ پاتھ پر بیٹھ کر کتب کو خوب دیکھنا اپنی من پسند کتاب کے مل جانے پر چیخ چیخ کر خوشی کا اظہار کرنا۔ اردو بازار کی یاد تو دل میں ایسی بسی ہے جہاں نہ رنگ کا فرق تھا، نہ نسل کا، نہ کلاس کا بس سب پڑھنے کے دیوانے اپنی دیوانگی کے ہاتھوں مجبور ہو کر چلے آتے تھے۔ اردو بازار فٹ پاتھ اسٹال کی سب سے حسین یادوں میں اگر میں یاد کرو تو مجھے ہنسی آ جاتی ہے۔ دوکاندار کے سامنے معصوم سی غربت والی مسکین سی رونی صورت بناتے تھے تو دکاندار پانچ روپے میں بھی میگزین تھما دیتا تھا اور اس وقت لگتا تھا کہ ہم نے کوئی دنیا فتح کر لی ہے۔ من پسند میگزین کا حصول ہمارے لیے اس وقت کی سب سے عظیم کامیابی تھی۔ پاکستان میں مڈل کلاس طبقے کو اپنی بہت سی خواہشات کی قربانیاں دینی پڑتی ہیں لیکن اردو بازار کتب میلے تک ہر خاص و عام کتب سے محبت کرنے والے متوالے کی رسائی تھی۔ دور طالب علمی کی حسین یادوں میں ایک مثبت یاد یہ بھی ہے کہ پانچ پانچ روپے میں جو رسائل خریدے جاتے تھے پڑھنے کے بعد وہ واپس بھی ہو جاتے تھے اور ان کے بدلے ہم مزید نئے خرید لیتے تھے۔ کیا خوبصورت دور تھا گھر والوں سے چھپ کر کورس کی کتابوں میں رسائل اور میگزین رکھ کر پڑھنا۔ مجھے یاد ہے ندا (پھوپو زاد بہن) جو کتب کی دیوانی تھی اس کے بارے میں سب کہتے تھے یہ تو چلتا پھرتا انسائیکلوپیڈیا ہے۔ محدود جیب خرچ میں پانچ پانچ روپے ڈال کر چھپ کر میگزین اکٹھے کرتی تھی۔ اب مسئلہ یہ ہوتا تھا کہ اس کو گھر والوں سے چھپا کر کہاں رکھا جائے تو بستر کے گدے کے نیچے بڑی عزت سے علم کا خزانہ چھپایا جاتا تھا۔ بحیثیت مڈل کلاس طالبہ کے ہم جیسوں کے لیے اردو بازار کسی نعمت سے کم نہ تھا۔ کچھ دنوں پہلے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو گردش کرتی نظر آئی۔ ملک دشمن عناصر تو سنا تھا مگر یہ علم دشمن عناصر کہاں سے وارد ہو گئے؟ انہی علم دشمنوں نے سالوں سے سجے کتب کے اسٹال اکھاڑ پھینکے۔ یہ بات لکھتے ہوئے میرا دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ میرے ہاتھ لکھتے ہوئے کانپ رہے ہیں۔ ایسے لگتا ہے کسی نے میرا بچپن، میرا لڑکپن، میرا دور طالب علمی تیز نوکیلے اوزار سے نوچ لیا ہو۔ اس منظر کو دیکھنا اور اس کے بعد تحریر کرنا میرے لیے بہت تکلیف دہ ہے۔ جب لکھتے ہوئے میرے دل میں اتنا درد اٹھ رہا ہے تو جو سالوں سے دھوپ، چھاؤں، بارش، آندھی، طوفان اور موسموں کے تغیر کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ان سٹالز کو اپنا خون جگر پلا کر اپنی اولاد کی طرح پروان چڑھا رہے ہوں گے ان کے دل پر کیا بیت رہی ہو گی؟ کوئی ان کے دل کی تکلیف ان سے جا کر پوچھے۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ کتابیں بظاہر بے جان ہوتی ہیں لیکن قاری اور لکھاری کی نظر سے دیکھیں تو کتابوں سے زیادہ جاندار کوئی نہیں ہے۔ وہ اپنے قاری کے ساتھ ہستی ہیں، اس کے ساتھ روتی ہیں، وہ خاموشی کی زباں میں بولتی ہیں۔ اپنا مدعا بیان کرتی ہیں۔ ہاں! کتابیں خود میں جیتی جاگتی ہیں وہ سانس لیتی ہیں۔ وہ مردہ دلوں کو علم کی آبیاری سے سیراب کرنے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔ ان کو بھی درد ہوتا ہے وہ بھی قاری کا خیال رکھنا خود سے محبت کرنا محسوس کرتی ہیں۔ میری نظر میں کتابیں جان رکھتی ہیں، سانس لیتی ہیں، وہ جیتی جاگتی ہیں۔ قاری کے دلوں پر راج کرتی ہیں۔ کہانیوں کے ذریعے ہم اپنی زندگی میں کتنے ہی سپنے بنتے ہیں۔ الفاظ کیسے قاری کے دل کو مضبوطی و تقویت بخشتے ہیں یہ کوئی کتب بینی سے محبت کرنے والوں سے پوچھے۔ مجھے اپنی تکلیف کا احساس ہے، دکاندار کو اپنا غم سب سے بڑا لگ رہا ہے، طالبات اپنی جگہ حالت غم میں ہیں۔ کیا کسی نے ان کتب سے پوچھا جب انہیں بے دردی سے اچھالا گیا، جب دور پھینک دیا گیا، جب ان کی حرمت کو پامال کیا گیا تو ان کو کتنی تکلیف ہوئی؟ انہوں نے کتنا درد سہا؟ وہ جو انسان کی تنہائی کا ساتھی اور بہترین دوست ہونے کا دعوی کرتی ہیں آج ان کتب کو اپنے قاری کی محبت کا ثبوت چاہیے۔ دنیا میں ہر چیز ترقی کر رہی ہے سوشل میڈیا کا دور ہے لیکن کتاب دوستی ازل سے ہے اور ابد تک رہے گی۔ان شاءاللہ!

    کائنات کو وجود بخشنے سے پہلے رب العزت نے کتاب تقدیر لکھی جسے لوہے محفوظ میں رکھ دیا گیا۔ ہر پیغمبر کو جب نائب مقرر کیا گیا تو اپنا پیغام رب نے کتاب یا صحیفے کی صورت میں بنی نوع انسان تک پہنچایا۔ آسمانوں سے رب کا پیغام پیغمبروں کے دلوں پر کتابوں کی صورت میں نازل ہوا آخری آسمانی پیغام جو وحی کی صورت خاتم النبیین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا وہ بھی کتابی صورت میں محفوظ ہے۔ اس دور میں عرب میں کاغذ کا دستور نہ تھا پیغام الہی کو چمڑے پر، درختوں کی چھال پر، پتھروں پر محفوظ کیا جاتا تھا۔ جنگ یمامہ میں 70 سے زائد حفاظ صحابہ اکرام کی شہادت نے حضرت ابوبکر کے دل پر وحی الہی کو مصحف کی صورت میں جمع کرنے کا خیال آیا۔ حضرت زید بن ثابت رضی اللّٰہ عنہ جنہیں کاتب وحی کہا جاتا ہے انہوں نے انتھک محنت سے قرآن پاک کو مصحف کی صورت میں ترتیب دیا جو آج ہر لحاظ سے محفوظ ہے۔ کتاب سے محبت انسان کی سرشت میں شامل ہے۔ دور نبوی میں بھی جنگوں میں مجاہدین کے جذبہ شوق کو جگانے کے لیے شاعری کی جاتی تھی یعنی ہر دور میں علم کو محفوظ کرنے کے لیے قرطاس کا سہارا لینا پڑا۔ علم وحی کا ہو چاہے ادب کا ہو، فنون لطیفہ ہو یا سائنس ہو علم تو علم کا درجہ ہی رکھتا ہے۔ جس نے علم کی قدر نہیں کی پھر انہوں نے اپنی قدر و منزلت بھی کھو دی۔ آج گیجٹس کے دور میں چند معتبر اشیاء جو بچ گئی ہیں ان میں کتب بھی شامل ہیں، اور اردو بازار مہنگائی کی جنگ لڑتا اپنے قارئین کو کم داموں میں علم کی پیاس بجھانے کا موقع فراہم کرتا تھا۔

    مگر یہ لمحہ فکریہ ہے آج حکام اعلی کے لیے۔ کسی چیز کو اس کا مقام نہ دینا ظلم ہے اور ظالموں کو اللہ پسند نہیں کرتا۔ آئیے! ہم سب مل کر کتاب دوستی کے لیے آواز اٹھائیں۔ اردو بازار کتابوں سے محبت کرنے والوں کی یادوں میں بسا ہے۔ آئیں! آج اپنی یادوں کو تکلیف دہ نہیں بلکہ خوشیوں والا بنائیں۔ آئیے! آج کتابوں کو ان کا اصل مقام دلانے کے لیے آواز اٹھائیں۔ میں نے کہیں پڑھا تھا جس قوم کے جوتے شوکیس میں رکھے جائیں اور کتابیں سڑکوں پر ہوں تو اس قوم کا تو اللہ ہی حافظ ہے لیکن یہاں تو سڑکوں سے اٹھا کر کتب کو دربدر کر دیا گیا۔ یہ علم تو مومن کے سر کا تاج ہے، دل کا سکون ہے، زندگی کی راحت ہے، آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ آج اس کو سڑکوں سے بھی اٹھا دیا گیا ہے۔ مڈل کلاس طالبات کی علمی پیاس کے لیے آواز اٹھائیں ورنہ اگلی نسلوں کی علمی آبیاری ممکن نہ رہے گی۔ ڈریں اس وقت سے جب ہمیں اپنے ایمان کا حساب دینا ہو گا، اگر ہم آگے بڑھ کر برائی کو ہاتھ سے روکنے کی جرات نہیں رکھتے تو اپنی زبان سے غلط کو غلط کہنا سیکھیں اگر وہ بھی نہیں کر سکتے تو کم از کم اسے دل میں تو برا جانیں اور یہ ایمان کی سب سے کمزور حالت ہے اپنے کمزور ایمان کو بچائیے۔ حق کو حق اور باطل کو باطل کہنا سیکھیے۔ آئیے! حق کے راستے کی بارش کا پہلا قطرہ بن جائیں کیونکہ جب زمیں پر جل تھل ہو گی تو کہیں راہ حق میں ہمارا بھی حصہ ہو گا۔ ان شاءاللہ!