Baaghi TV

Category: بلاگ

  • خدارا ! مساجد کو چرچ نہ بنائیں

    خدارا ! مساجد کو چرچ نہ بنائیں

    خدارا ! مساجد کو چرچ نہ بنائیں
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفی بڈانی
    مساجد مسلمانوں کے لیے اللہ کی عبادت کا مرکز اور روحانی اجتماع کی جگہ ہیں۔ یہ وہ مقدس مقامات ہیں جہاں تمام مسلمان ایک صف میں کھڑے ہو کر، کندھے سے کندھا ملا کر اللہ کی بارگاہ میں جھکتے ہیں۔ یہاں نہ کوئی بڑا ہے، نہ چھوٹا، سب برابر ہیں۔ لیکن حالیہ دور میں مساجد میں ایک نیا رجحان دیکھنے میں آیا ہے، جسے "کرسی کلچر” کہا جاتا ہے۔ یہ رجحان نہ صرف اسلامی تعلیمات بلکہ مساجد کی اصل روح کے بھی خلاف ہے۔

    اسلام نے نماز کو عبادت کے ساتھ ساتھ اتحاد، مساوات اور اجتماعیت کی عملی تصویر بنایا ہے۔ صف بندی میں تمام مسلمانوں کو کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہونے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ کسی قسم کی تفریق باقی نہ رہے۔ لیکن کرسی کلچر کے بڑھتے ہوئے رجحان نے اس اجتماعیت کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ بعض افراد معمولی تھکن یا ذاتی سہولت کے لیے کرسیوں پر نماز پڑھتے ہیں حالانکہ ان کے لیے کھڑے ہو کر نماز ادا کرنا ممکن ہوتا ہے۔

    یہ رجحان نماز کے اصولوں کے خلاف ہے کیونکہ کرسیوں کی موجودگی سے صفوں میں خلا پیدا ہوتا ہے اور اجتماعیت کی روح متاثر ہوتی ہے۔ مزید برآں یہ رویہ مساجد کو چرچ کی مشابہت دینے لگا ہے، جہاں عبادات زیادہ تر نشستوں پر بیٹھ کر کی جاتی ہیں۔ چرچ کا طرز عبادت اسلامی ثقافت اور مساجد کے روحانی ماحول سے مختلف ہے اور مساجد کو اس سے مماثل بنانا اسلامی اقدار کے لیے نقصان دہ ہے۔

    اسلام ایک ایسا دین ہے جو عبادت میں سہولت فراہم کرتا ہے۔ معذور افراد کے لیے کرسی یا بیٹھ کر نماز پڑھنے کی اجازت دی گئی ہے، جیسا کہ قرآن پاک میں اللہ تعالی نے فرمایا "اللہ کسی جان پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا (البقرہ 286 )اور رسول اللہ ۖ نے فرمایا "نماز کھڑے ہو کر پڑھو، اگر استطاعت نہ ہو تو بیٹھ کر اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو پہلو کے بل لیٹ کر(صحیح بخاری)لیکن یہ رعایت صرف حقیقی ضرورت کے تحت دی گئی ہے نہ کہ ذاتی سہولت کے لیے۔

    مساجد میں کرسی کلچر کا بڑھتا ہوا رجحان ایک ایسے عمل کو فروغ دے رہا ہے جو مساجد کے روحانی ماحول کو چرچ کے طرز عبادت سے قریب کر رہا ہے۔ یہ تبدیلی نہ صرف مساجد کی ثقافت بلکہ اسلامی تعلیمات کے بنیادی اصولوں یعنی مساوات اور اتحادکو بھی متاثر کر رہی ہے۔ کرسیوں کے غیر ضروری استعمال سے مساجد کی صف بندی متاثر ہوتی ہے اور ایک ناپسندیدہ تفریق پیدا ہو جاتی ہے جو اسلامی روح کے خلاف ہے۔

    یہ وقت ہے کہ علما ء و آئمہ کرام اس مسئلے پر توجہ دیں اور عوام کو مساجد کے اصل مقصد اور عبادات کے اصولوں سے آگاہ کریں۔ کرسی کا استعمال صرف ان افراد تک محدود ہونا چاہیے جو واقعی معذور ہیں اور کھڑے ہو کر یا زمین پر بیٹھ کر نماز ادا نہیں کر سکتے۔ اس کے علاوہ معذور افراد کو زمین پر بیٹھ کر نماز پڑھنے کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے، جیسا کہ نبی کریم ۖ کے زمانے میں ہوتا تھا۔

    مساجد کو ان کے اصل مقصد کے لیے محفوظ رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ مساجد عبادت، مساوات اور اتحاد کی علامت ہیں اور ان کی اس حیثیت کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔ خدارا ! مساجد کو چرچ نہ بنائیں۔ عبادات کو ان کی اصل روح کے مطابق ادا کریں اور اسلامی اقدار پر عمل کرتے ہوئے مساجد کے روحانی اور اجتماعی ماحول کو محفوظ رکھیں۔ اللہ تعالی ہمیں دین کی صحیح سمجھ اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

  • سرائیکی دھرتی کے خوبصورت لوک گیت

    سرائیکی دھرتی کے خوبصورت لوک گیت

    سرائیکی دھرتی کے خوبصورت لوک گیت
    تحقیق و تحریر: ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    altafkhandahir@gmail.com
    قسط کا خلاصہ
    سرائیکی لوک گیتوں کی اقسام اور ان کی مثالیں
    سرائیکی لوک گیتوں کو مختلف اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، جن میں ہر قسم انفرادیت اور جذبے کی حامل ہے:
    لولی (لوری): ماں کی ممتا کے رس سے بھرے گیت،جو نومولود بچوں کے لیے گائے جاتے ہیں، مثلاً:
    "لولی دیندی تھیندی ماء واری،اکھیں تے رکھدی تیڈی جند پیاری”
    "الا اللہ ،اللہ ہو مٹھا توں ،الا اللہ،اللہ ہو مٹھا توں”
    شادی کے گیت: شادی کی تقریبات میں خواتین کے گائے جانے والے گیت، جن میں خوشی اور محبت کا اظہار ہوتا ہے، جیسے
    "پوپا میں پیساں تے پا ٹھمکیساں،ونج کے ڈیکھیساں یار سجن کوں”
    دھرتی کے گیت: یہ گیت فصلوں کی کٹائی، درگاہوں کی زیارتوں، اور روزمرہ زندگی کی عکاسی کرتے ہیں، جیسے:
    "آچنوں رل یار پیلھوں پیکیاں نی وے”
    روحانی گیت: یہ گیت مذہبی اور روحانی جذبات کی عکاسی کرتے ہیں، مثلاً:
    "جیوے جیوے سید جلال قطب کمال،جھولے جھولے لال دم مست قلندر”
    دوسری قسط
    عام طور پر سرائیکی لوک گیت ” سہرے ” کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔جس میں سرائیکی لوک گیت ٹہر کو روحانی عقیدت کی عظمت وفیض سمجھا جاتا ہے۔دکھ تکلیف کو ٹالنے کے لیے سرائیکی لوک میلوں کے موقع پر صوفیاء کرام کی امن پسند درگاہیں پر لوگ اپنی امیدیں، خواہشات اور آسوں کی تکمیل کے لیے منقبت پیر مرشد لوک گیت کی شکل میں گاتے اور روحانی فیض پاتے ہیں۔

    پہلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    سرائیکی دھرتی کے خوبصورت لوک گیت
    برصغیر پاک وہند میں اولیاء اللہ کرام سے بے پناہ محبت میں لوک گیت سہرے گاکر اپنی خوشیاں منت منوتیاں پوری کرتے ہیں۔سرائیکی دھرتی تصوف سے مالامال ہے۔اوچ شریف، ملتان شریف، کوٹ مٹھن شریف، سخی سرور شریف،تونسہ شریف،خانگاہ شریف، پاک پتن شریف،چشتیاں شریف، درگاہ شور کوٹ باہو سلطان، چنن پیر،شاہ جیونہ شریف روحانی آستانے سرائیکی لوگوں کے امن و امان کے روشن مراکز ہیں۔میرے روحانی مرشد کامل حضرت سید شیر شاہ جلال الدین حیدر سرخ پوش بخاری علیہ الرحمہ اوچ شریف برصغیر پاک وہند سرائیکی وسیب تحصیل احمد پور شرقیہ ضلع بہاولپور کی مشہور منقبت سرائیکی لوک سہرا گیت۔
    "جیوے جیوے سید جلال قطب کمال، جھولے جھولے لال دم مست قلندر،سہون دی سرکار دم مست قلندر،پیر سید سرخ پوش بخاری جلال دم مست قلندر”۔۔۔۔۔

    سرائیکی لوک گیت درحقیقت سرائیکی صحراء و جنگل میں پیدا ہونے والے پھول ہوتےہیں جو اپنے رنگوں،خوبصورتی اور خوشبو سے ہر کسی کا دل موہ لیتے ہیں۔یہ دھرتی سے جنم لیتے ہیں اور دھرتی واسیوں کے ہاتھوں پھلتے پھولتے ہیں۔اور پھر ایسا سایہ بن جاتے ہیں کہ ان کے سائے میں بیٹھنے والے یعنی اس گیت کو سننےوالوں کی ساری تھکن اتار دیتے ہیں۔یہ دیہاتی لوگوں کے سیدھے سادے دلوں سے نکلے جذبوں کا خوبصورت ترین اظہار اور آنکھوں کے موتی ہیں جو گیت کے خوبصورت بول بن ہار کا روپ دھارجاتے ہیں۔

    ان گیتوں میں معصوم لوگوں کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کے رنگ اور ان کی بھولی بھالی امنگوں اور خواہشوں کے سائے لمبے ہوتے نظر آتے ہیں۔جو پوری نہیں ہو سکتیں اور اداس نم دلوں کیلئے سرخ خون رنگ بن جاتی ہیں۔اکثر لوک گیتوں میں کئی مقامات پر زندگی کی سچائیاں ایسی سادگی اور محاورے دار موتیوں جیسی بولی میں جڑی ہوتی ہیں کہ وہ دلوں کو موہ لیتی ہیں۔

    یہ گیت نسل در نسل،پیڑھی در پیڑھی یادوں کے رومانس میں چلے آرہے ہیں۔یہ خوشیوں و محبت بھرے لوک گیت خوبصورتی سے گزرے وقت کی یاد تازہ کرکے آنے والی نسلوں کو پیار بھرا پیغام پہنچا نےکی ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔ہر لمحہ یاد گار بنانےاورہمیشہ دل و دماغ کو تروتازہ رس بھرا رکھتے ہیں۔سرائیکی وسیب میں پیدائش پر اولاد کی خوشی کے سہرےگیت،شادی خانہ آبادی مبارک کے خوبصورت گیت،بیٹی دلہن کی ڈولی کے موقع کےسہرے،جھوک جنج کی واپسی کے گیت،پکھیوں کےگیت،مہندی،جاگے،جھمر،چرخے،چھلے،ڈھولے،ڈوہڑیہ گیت فصلوں کے گیت، درگاہ پیر فقیر کی زیارتوں کے گیت،ساون کی خوش کےسہرے،سگن،فصلوں،کھیلوں،لوری یا لولی،ماہیے،میل میلاپ،ہجر وصال،دھرتی وغیرہ کے گیت رائج ہیں۔ہماری تہذیب و تمدن،رہن سہن،ثقافت کی بھرپور انداز میں عکاسی کرتے ہیں۔

    شہری زندگی میں تو یہ آہستہ آہستہ یہ رسمیں،رواج ریتیں معدوم ہوتی جا رہی ہیں۔لیکن دیہاتی سادہ مٹھاس بھری زندگی اور ماحول نے ابھی بھی کسی حد تک ان صدیوں پرانی رسوم و رواج اور ریت روایت نے لوک گیتوں کو زندہ رکھا ہوا ہے۔۔ جاری ہے

  • سرائیکی دھرتی کے خوبصورت لوک گیت،پہلی قسط

    سرائیکی دھرتی کے خوبصورت لوک گیت،پہلی قسط

    سرائیکی دھرتی کے خوبصورت لوک گیت
    تحقیق و تحریر: ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    altafkhandahir@gmail.com
    سرائیکی لوک گیتوں کا تعارف اور تاریخی پس منظر
    سرائیکی دھرتی کی لوک روایت میں گہرائی اور خوبصورتی سے بھرپور لوک گیت، جنہیں سرائیکی زبان میں "سہرے” کہا جاتا ہے، دھرتی کی ثقافت، امن، محبت اور فطری جذبات کا اظہار ہیں۔یہ گیت انسان کے جذباتی،سماجی اور روحانی احساسات کے عکاس ہیں۔ سرائیکی لوک گیت درحقیقت ادب، تہذیب، تمدن اور ثقافت کے مضبوط ستون ہیں، جو دھرتی کی رگوں میں گہرے طور پر پیوست ہیں۔یہ گیت خوشی،غم، محبت، رنج اور امیدوں کا خوبصورت قصہ سناتے ہیں۔ان کی جڑیں وادی ہاکڑہ،سرسوتی اور سندھ کی قدیم تہذیبوں میں ہیں،جہاں موہنجوداڑو، ہڑپہ اور گنویری والا جیسے تاریخی شہروں کی کھدائی سے موسیقی اور آرٹ کے شواہد ملےہیں۔سرائیکی وسیب کے گیتوں کی آوازیں روہی، چولستان، بیابان اور دریاؤں کی سرزمین سے اُبھرتی ہیں، جنہیں سادہ دل لوگ خوشیوں اور غموں کے مواقع پر گا کر اپنی جذباتی وابستگی کا ظاہر کرتے ہیں۔
    پہلی قسط :
    اشرف المخلوقات انسانی سماج میں ہر قوم،قبیلے،دھرتی اور علاقے کے اپنے خوبصورت لوک گیت جن کو سرائیکی زبان میں سہرے کہا جاتا ہے،ایک الگ پہچان اور امن و محبت کا دلفریب بے ساختہ جذبوں کا اظہار ہیں۔یہ درحقیقت ادب،تہذیب وتمدن اورثقافت کے مضبوط ترین تنا آور سرسبز پیلھوں اور پیپل کے درخت کی طرح دھرتی کی رگوں میں گہرے جڑے ہوئے ہیں۔غلام بادشاہ،امیرغریب،کالےگورے کے گھر بچے کی پیدائش،شادی اور موت پر احساسات و جذبات کی نیں کا وجود میں آنا انسانی فطری جبلت ہے۔بالکل اسی طرح جس طرح جنگل،بیلا،روہی چولستان،بیابان،پہاڑ،دریا اور سمندر کے کنارے خود رو جڑی بوٹیاں کا پیدا ہونا ہے قدرتی عمل ہے۔خوشی و غمی کے موقع پر اظہار محسوسات سے آنکھوں کی مدد آنسوؤں کا باہر نکلنا بشری تقاضاہے۔ تمام انسانوں کے تخیلاتی معیارات،زبانیں،اشکال،بناوٹ،ہیئت سوچنے سمجھنے کے پیمانہ مختلف ہیں۔اسی طرح انسان سماجیات بھی الگ الگ ہیں۔ہر قوم و قبیلے کے رسم ورواج،ثقافت،رہن سہن،زبان،لوک ادب کے انداز بھی ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہیں۔

    سرائیکی وسیب چھ ہزار سال قدیم تہذیب وتمدن وادی ھاکڑہ سرسوتی وسندھ کا خوبصورت راوا،دمان،روہی،تھل پر مشتمل موسیقی و نغمہ سے بےپناہ محبت کرنے والا علاقہ ہے۔آثارقدیمہ ریسرچ ورک کے دوران پرانے گمشدہ شہروں کی کھدائی سے موہنجوداڑو،ہڑپہ اور گنویری والا سے دریافت ڈاینسنگ کوئین،خوبصورت عورتوں کے زیورات کا ملنا فنون لطیفہ سے عشق کا قصہ ہے۔آواز کی مٹھاس ہر ذی روح کی روحانی غذا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اللہ پاک پیارے نبی حضرت داؤد علیہ السلام پر زبور کو خوبصورتی سے گاکر حمد وثنا پیش کرنے کا حکم ربی تھا۔ان کا سر سنگیت سے گیت کی شکل میں گانے سے کائنات کی ہر چیز جھومتی تھی۔آج بھی بچے کی تخلیق پر خوشی کے اظہار کے لیے سرائیکی خطے میں دادیاں،نانیاں، ماسیاں، چاچیاں،بویاں،،سوتریں،مساستیں،مولیریں،پھپھڑیں،حق ہمسائے،تمام عزیز اقارب چھٹی کے موقع پر سہرے گیت گاکر اپنی خوشیاں ایک دوسرے کے ساتھ سانجھی کرتے ہیں۔لوک ادب جس کو عام طور پر عام لوگوں کا کہا جاتاہے۔

    اس کی ایک خوبصورت شاخ لوک گیت سہرے ہیں۔سرائیکی لوک گیت سہروں کے خزانوں سے مالامال ہے۔لوک گیت دراصل انسانی جذبات کا بےساختہ اظہار کا نام ہے۔لوک گیت انسانی امنگوں، جذبوں ،امیدوں،نا مکمل خواہشات کا اظہار،شعور و تخیل کا خوبصورت گلدستہ ہیں ۔لوک گیت چرند،پرند بلبل اور کوئل کی حسین آوازوں کا پیار بھرا نغمہ ہیں۔مرد عورت کے آپس میں ملاپ و رشتے کی خوشبو ہے۔آزاد اظہار کا مضبوط حوالہ ہے۔آج کی فلم و ڈرامہ انڈسٹری کو پھر سے عروج یافتہ بنانے کے لیے سرائیکی لوک گیتوں کا سہارا لینا پڑے گا۔

    شاعری کا ایک مصرعہ صدیوں تک گایا جاتا ہے۔لوک سہرا یا گیت ہمیشہ ایک علاقے کی تاریخ،جغرافیہ، ثقافت،تہذیب وتمدن،سوچ وچار،پیغام امن و محبت تصوف کے اس خطے لوگوں کی داخلی و خارجی احساسات کا ترجمان ہوتاہے۔خالص علاقائی صنف نازک ہوتی ہے۔سرائیکی ماہر سماجیات، لسانیات و فریدیات پروفیسر ڈاکٹر جاوید حسان چانڈیو سرائیکی لوک گیت کو اس طرح بیان کرتےہیں” یہ سرائیکی دھرتی کے لوگوں کے عقیدے،دکھ سکھ، محبتیں، محرومیوں اور نا مکمل خواہشات و امیدوں کا نام ہے”۔ لوک گیت کا نمونہ "اللہ جانڑے تے یار نہ جانڑے میڈا ڈھول جوانیاں مانڑے۔میں تاں پانڑی بھریندی ہاں جھک دا، میڈا ڈھول مسافر نت دا، میڈا ڈھول مسافر نت دا”۔سرائیکی لوک گیت میں بچھڑ جانے،موت کی گھاٹی میں جانے والے محبوب کا غم اس طرح گا کر منایا جاتاہے۔
    "گیا رول راول وچ روہی راوے ، نہ یار ملدا نہ موت آوے”

    لوک گیت عموما وہ ہوتے ہیں،جس کے تخلیق کار اجتماعی ہوں۔مگر سرائیکی شعراء کرام نے بھی انفرادی طور سرائیکی لوک گیت سہرے بھی تخلیق کیے ہیں۔جن کو مشہور سرائیکی لوک گلوکار عطاء اللہ خان عیسوی خیلوی،حسینہ ممتاز،ثریا ملتانیکر،مستانہ پروانہ،پٹھانے خان، منصور ملنگی، اللہ ڈتہ لونے والا جیسے نامور سرائیکی فنکار اپنے سر سنگیت فن موسیقی میں لوہا منوا چکے ہیں۔لوک گیت خود سے دل کی حویلی سے دھڑکن بن کر نکلتے ہیں اور پورے سرائیکی وسیب میں خوشبو کی طرح پھیل جاتے ہیں۔سرائیکی مہان کلاسک شاعر رفعت عباس کی مشہور غزل جس کو خوبصورت آواز میں ریڈیو پاکستان ملتان اسٹیشن سے ترنم سوز گائیکی میں نامور سرائیکی لوک گلوکار سئیں منصور ملنگی نے گا کر سرائیکی وسیب کی اجتماعیت کا عالمی دستاویزی ریکارڈ بنایا۔
    "کیویں ساکوں یاد نہ راہسی اوندے گھر دا رستہ ،ڈو تاں سارے جنگل آسن ترائے تاں سارے دریا”
    ” واہ جو پیار کیتوئی، رول ڈتوئی وچ روہی واہ وہ سجن تیڈے وعدے”۔
    سرائیکی مشہور لوک گیت کے خوبصورت بول سنگر حسینہ ممتاز کی آواز میں ہر عام وخاص کو یاد ہیں۔"رانڑی پٹھانڑی، ڈیراور دی نشانی، ویڑن پرنیا آندا اے رانڑی پٹھانڑی”۔سرائیکی وسیب کے لیے سرائیکی لوک گیت سہرے عظیم ثقافت کے امین ہیں۔

    سرائیکی دانشور ریاض انور کے مطابق ” سرائیکی لوک گیتوں نے سرائیکی خطے کے معصوم لوگوں کے دلوں میں جنم لیا۔گہرے جذبوں نےان کے اندر دکھ درد کی چنگاری کو خوب تاپ دی۔آنسو کے دئیے جل رہے ہیں۔ہلکی مسکراہٹ کی سات رنگوں کی روحانی دھڑکن جھول رہی ہے۔یہ سہرے دوشیزائیں نیم،ٹالہی،شرینہ کے خوشبو دار درختوں کے سائے میں بیٹھ کر چرخہ کاٹتے گاتیں ہیں اور نوجوان پیلوں اور کھجور اکٹھی کرتے وقت گاتے ہیں۔
    پیلو پکیاں وے پیکیاں نی وے
    آچنوں رل یار
    پیلو پیکیاں نی وے
    کئی بگڑیاں ،کئی سایاں پیلیاں
    کئی بھوریاں ،کئی پھکڑیاں نیلیاں

    عالمی مفکر ڈونلڈ کینی کا کہنا ہے” لوک گیت کا بیج انسانی دل سے پھوٹتا ہے،لفظوں کے بے انت پتوں کی صورت پھیل جاتا ہے۔انسان آپنی زندگی میں جو کچھ دیکھتا ہے،سنتا ہے، احساس کو اپنے تخیل کے ذریعے ظاہر کرتا ہے” ڈبلیو پی کر آپنی کتاب "فارم اینڈ سٹائل ان پوئٹری” میں لوک گیت کی "دو قسموں میں پہلی وہ قسم جس میں سوسائٹی وس وسیب کی اجتماعی یادداشت،محرومیوں کا خوبصورت احساس،شناخت کا مطالبہ،رسمیں،ریتیں اور رواج کا خوبصورت اظہار ہو،جبکہ دوسری قسم میں مخصوص فرد یا تخلیق کار کی نویکلی تخلیق کارفرما ہو۔”۔

    بشر کی طرح ہرجاندار مخلوق اپنی خوشی،غم،محبت اور نفرت کےجذبات و احساسات کا اظہار مختلف انداز یعنی آوازوں اور حرکتوں سے کرتی ہے۔انسانی ہسٹری کے حوالے سے دیکھا جائے تو جب انسان بولنا نہیں جانتا تھا تو اپنے جذبوں کا اظہار لفظوں کی بجائے حرکت و سکنات سے کرتا تھا۔یہی سےلوک رقص جھمر کی تخلیق ہوئی۔وقت گزرنے کے ساتھ انسان نے اپنے محسوسات اور جذبوں کو لفظوں کا روپ دیا۔آخرکار یہ لفظ گیت بن گئے۔ان گیتوں کی وجہ کسی شاعر کی شعوری کوشش نہ تھی اور نہ ہی ان پر کسی شاعر کی چھاپ لگی ہوئی ہے۔

    سرائیکی شاعر ڈاکٹر خالد اقبال سرائیکی لوک گیت سہرے بارے اپنے بیان میں کہا "جب تک سرائیکی قوم کی مائیں بچوں کو جنم دیتیں رہیں گیں۔سرائیکی لوک سہرے دنیا میں تخلیق ہوتے رہیں گے”۔ان گیتوں میں شاعری کی فنی باریکیوں کی بجائے جذبوں کا اظہار نمایاں ہوتا ہے۔ہمیں کبھی کبھار تو لوک گیتوں کے بارے میں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ کون کون سے بول ان میں کب شامل ہوئے۔ہم صرف ان گیتوں کے ذریعے اپنے من میں اٹھتے ہوئے جذبات،امنگوں اور خواہشات کا اظہار کرتے اور لطف اٹھاتے ہیں۔

    سابق چیئرمین شعبہ سرائیکی و ڈین فکلٹی آف آرٹس اینڈ لینگؤیجز اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور (پاکستان) پروفیسر ڈاکٹر جاوید حسان چانڈیو سرائیکی لوک گیتوں کی چار اقسام لکھیں ہیں۔ پہلی صنف لولی ہے۔جس میں نئے جنم لینے والے بچہ کو ماں اپنی ممتا کے رس بھرے گیت سہرے سے استقبال کرتی ہے۔مثال کے طور پر ”
    "لولی ڈیندی تھیندی ماء واری
    اکھیں تے رکھدی تیڈی جند پیاری
    لولی ڈیندی ونجاں میں گھولی
    لولی ڈیندی۔۔۔۔۔۔۔۔

    دوسری قسم میں پورے سرائیکی وسیب کےخوبصورت اجتماعی لوک گیت، اجتماعی یادداشت،رسمیں،رواج، روایات شامل ہیں۔شادی کے موقع پر "سوئی وری” کی رسم۔جب سرائیکی عورتیں جہیز کا سامان دیکھاتیں ہیں اور گیت گاتیں ہیں۔
    "پوپا میں پیساں تے پا ٹھمکیساں
    ونج کے ڈیکھیساں یار سجن کوں
    چوڑا میں پیساں تے پا ٹھمکیساں
    ونج کے ڈکھیساں یار سجن کوں۔”

    تیسری قسم میں جب کوئی گمنام شخص کسی تجربے سے متاثر ہوکر اپنے جذبوں کا اظہار نمایاں کرے۔پھر یہ احساسات انفرادیت سے اجتماعی کا روپ دھار لیں۔سرائیکی لوک اصناف میں گانمن،سمی، ڈھولا،بگڑو،سندھی وچ ہوجمالو ہیں۔عورت کے نام سے وابستہ صنف ہے۔عشق کا اظہار ہے۔ہیئت میں اس کو ماہیا بھی کہا جاتا ہے۔
    "کوٹھے تے راہ کائنی
    ملاں قاضی مسئلہ کیتا
    یاری لاون گناہ کائنی”

    "کالے بدل پہاڑاں دے
    ڈانگاں دے پھٹ مل ویندے
    بول نہ وسرن یاراں دے”

    چوتھی قسم سرائیکی لوک گیت سہرے کی جس میں مذہبی و روحانی جذبات و عقائد کی ترجمانی ہو۔ٹہر یعنی منقبت۔ مدح،مناجات، معجزہ،مولود، نعت شریف وغیرہ سرائیکی وسوں کے لوگوں کے لیے روحانی آسودگی کا حصول ہیں۔
    جاری ہے۔۔

  • برطانیہ کے معروف کینٹربری کیتھیڈرل میں پاکستانی مصنف حسن صدیقی کی کہانی کی نمائش

    برطانیہ کے معروف کینٹربری کیتھیڈرل میں پاکستانی مصنف حسن صدیقی کی کہانی کی نمائش

    لاہور، پاکستان کے تخلیقی مصنف حسن صدیقی نے ایک اہم سنگ میل عبور کیا ہے۔ حسن صدیقی کی کرسمس تھیم پر مبنی مختصر کہانی "A Christmas Homeless” کو انگلینڈ کے معروف کینٹربری کیتھیڈرل میں نمائش کے لیے پیش کیا گیا ہے۔

    کینٹربری کیتھیڈرل نہ صرف انگلینڈ کی ایک مشہور تاریخی اور ثقافتی علامت ہے بلکہ یہ یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کے لئے بھی مشہور ہے، جس کی تاریخ اور اہمیت عالمی سطح پر جانی پہچانی جاتی ہے۔حسن صدیقی کی یہ کہانی، جو انسانیت، ہمدردی اور برادری کے جذبات پر مبنی ہے، کرسمس کے موقع پر کیتھیڈرل کے مختلف حصوں میں حسن صدیقی کی کہانی کی نمائش کی گئی۔ اس کامیابی کا یہ لمحہ پاکستان کے لیے فخر کا باعث ہے، کیونکہ اس سے جنوبی ایشیائی مصنفین کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی پذیرائی کا پتا چلتا ہے۔

    Pakistani Writer Hassan Siddiqui's Story Displayed at England's renowned Canterbury Cathedral
    حسن صدیقی "Twenty Bright Paths” کے مصنف ہیں، جو امید اور استقامت پر مبنی افسانوں کا مجموعہ ہے۔ ان کی مختلف تحریریں کئی عالمی ادبی جرائد جیسے Spillwords Press اور Illumination میں شائع ہوچکی ہیں۔ حسن صدیقی کو ناسا کی طرف سے ایک تعریفی سرٹیفکیٹ بھی مل چکا ہے، اور انہوں نے ورلڈ اسکالرز کپ میں سونے کا تمغہ جیتا۔ علاوہ ازیں حسن صدیقی ایک میگزین "The Female Times” کے بانی ہیں، جو خواتین کے مسائل کو اجاگر کرنے والا ایک پلیٹ فارم ہے۔

    اس کامیاب نمائش پر حسن صدیقی نے اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "یہ ایک اعزاز کی بات ہے کہ میری کہانی کو کینٹربری کیتھیڈرل جیسے تاریخی مقام پر دکھایا گیا۔ یہ پاکستان کے تخلیقی ادب کی عالمی سطح پر پذیرائی کی ایک اور مثال ہے۔”
    Pakistani Writer Hassan Siddiqui's Story Displayed at England's renowned Canterbury Cathedral

    کینٹربری کیتھیڈرل میں حسن صدیقی کی کہانی کی نمائش پاکستان کے لیے ایک اعزاز ہے، جو کہ پاکستانی ادب کی عالمی سطح پر پہچان کو مزید مستحکم کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔ یہ کامیابی نہ صرف حسن صدیقی کے لیے ذاتی فخر کا لمحہ ہے بلکہ پورے پاکستان کے لیے بھی ایک باعثِ فخر موقع ہے کیونکہ یہ عالمی سطح پر پاکستانی ادب اور تخلیقی صلاحیتوں کی قدر دانی کی مثال ہے اور اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ جنوبی ایشیاء کی آوازوں کو عالمی ادبی محافل میں تسلیم کیا جا رہا ہے۔

    ڈیٹنگ سائٹس،سوشل میڈیا،اپنے پیسے”دل” کو کیسے دھوکہ بازوں سے بچائیں؟

    پالیسیوں کا تسلسل برقرار رہا تو پاکستان ایشیا کا لیڈر بنے گا ۔احسن اقبال

    وادی تیرا، خوارج کےجنسی تشدد کے باعث ساتھی دہشت گرد کی خودکشی

    حسن صدیقی کی کامیابی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہم سب کو خواب دیکھنے کا حق ہے، محنت کرنی چاہیے اور اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھنا چاہیے۔ یہ لمحہ نہ صرف حسن صدیقی کے لیے بلکہ پورے پاکستان کے لیے فخر کا باعث ہے ،حسن صدیقی کی کہانی "A Christmas Homeless” کی کینٹربری کیتھیڈرل میں نمائش پاکستان کے لیے ایک شاندار کامیابی ا ورپاکستانی ادب کی عالمی سطح پر پذیرائی کا مظہر ہے یہ پاکستانی نوجوانوں کے لیے ایک حوصلہ افزائی کا پیغام بھی ہے کہ محنت، لگن اور خوابوں کی تکمیل کے ذریعے عالمی سطح پر کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔

    حسن صدیقی سے ای میل کے ذریعے رابطہ کیا جا سکتا ہے.
    imhassansiddiqui12@gmail.com

    Pakistani Writer Hassan Siddiqui's Story Displayed at England's renowned Canterbury Cathedral

  • ڈاکٹر من موہن سنگھ، ایک عظیم رہنما کی بے توقیری یا روایات کی خلاف ورزی؟

    ڈاکٹر من موہن سنگھ، ایک عظیم رہنما کی بے توقیری یا روایات کی خلاف ورزی؟

    ڈاکٹر من موہن سنگھ، ایک عظیم رہنما کی بے توقیری یا روایات کی خلاف ورزی؟
    تحریر: شاہد نسیم چوہدری
    ڈاکٹر من موہن سنگھ بھارت کے سابق وزیر اعظم، ایک ایسی شخصیت تھے جنہوں نے اپنی دیانت داری، علمی قابلیت، اور ملک کے لیے بے شمار خدمات سے ہمیشہ کے لیے یاد گار چھوڑی۔ وہ بھارت کے پہلے سکھ وزیر اعظم تھے اور 2004 سے 2014 تک کے اپنے دس سالہ اقتدار کے دوران ملک کو اقتصادی ترقی کی نئی بلندیوں تک پہنچایا۔ ان کی وفات کے بعد ان کے جسد خاکی کو نگم بودھ گھاٹ لے جایا گیا، جہاں ان کی آخری رسومات ادا کی گئیں۔ تاہم، ان کی آخری رسومات راج گھاٹ پر نہ ہونے کا فیصلہ ایک نئی بحث کو جنم دے چکا ہے، جس پر اپوزیشن رہنما راہل گاندھی نے اسے ڈاکٹر من موہن سنگھ کی بے توقیری قرار دیا ہے۔

    ڈاکٹر من موہن سنگھ ایک ماہر اقتصادیات تھے اور بھارت کی معیشت کے 1991 میں شروع ہونے والی اصلاحات کے معمار کے طور پر ان کا کردار اہم رہا۔ وزیر اعظم کے طور پر انہوں نے عالمی سطح پر بھارت کے وقار میں اضافہ کیا اور داخلی طور پر متعدد ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کیا۔ ان کی سادگی، شرافت اور سیاسی استحکام کے لیے کام کرنے کا جذبہ انہیں بھارت کی سیاست میں ایک منفرد مقام فراہم کرتا ہے۔

    راج گھاٹ بھارت کا ایک تاریخی مقام ہے جہاں مہاتما گاندھی کی آخری رسومات ادا کی گئیں۔ یہ جگہ بھارت کے عظیم رہنماؤں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے مخصوص ہے اور یہاں جواہر لال نہرو، اندرا گاندھی، راجیو گاندھی اور دیگر اہم شخصیات کی آخری رسومات بھی منعقد کی گئیں۔ اس مقام کی علامتی حیثیت اسے بھارت کی قومی یکجہتی اور عظیم رہنماؤں کی خدمات کی یادگار بنا دیتی ہے۔

    نگم بودھ گھاٹ دہلی کا ایک روایتی شمشان گھاٹ ہے جہاں عام طور پر آخری رسومات ادا کی جاتی ہیں۔ یہ مقام دہلی کے عوام کے لیے عام حیثیت رکھتا ہے لیکن اس کی قومی سطح پر وہ علامتی حیثیت نہیں ہے جو راج گھاٹ کی ہے۔ یہاں عوام کو رسائی ہوتی ہے اور سخت حفاظتی انتظامات کے باوجود اس میں راج گھاٹ کے مقابلے میں عوامی شمولیت زیادہ ہے۔

    ڈاکٹر من موہن سنگھ کی آخری رسومات کا نگم بودھ گھاٹ پر ہونا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ اس فیصلے کو کچھ حلقوں نے سکھوں سے تعصب قرار دیا، جبکہ دیگر کا کہنا تھا کہ یہ محض ایک انتظامی فیصلہ تھا۔ راہل گاندھی نے اس فیصلے کو ڈاکٹر من موہن سنگھ کی بے توقیری قرار دیا اور کہا کہ ایک سابق وزیر اعظم کی خدمات کو نظر انداز کرنا بھارت کی روایات کی خلاف ورزی ہے۔ حکومت نے اس فیصلے کو انتظامی چیلنجز اور موجودہ حالات کے تناظر میں لیا گیا فیصلہ قرار دیا اور کہا کہ راج گھاٹ پر انتظامات ممکن نہیں تھے، اس لیے نگم بودھ گھاٹ کا انتخاب کیا گیا۔

    اس فیصلے پر عوامی حلقوں میں شدید ردعمل آیا ہے، اور سوشل میڈیا پر لوگوں نے ڈاکٹر من موہن سنگھ کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے حکومت کے اس اقدام کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ یہ معاملہ صرف ایک شخصیت کی آخری رسومات کا نہیں، بلکہ اس کا تعلق بھارت کی سیاست، اخلاقیات اور قومی وقار سے بھی ہے۔ اگر قومی رہنماؤں کو ان کے مقام کے مطابق عزت نہ دی جائے، تو یہ بھارت کی جمہوریت کے لیے ایک خطرناک رجحان ہو سکتا ہے۔

    اس واقعے نے بھارت کی سیاست میں موجود تعصبات کو بے نقاب کیا ہے۔ کیا سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے رہنماؤں کو قومی مفاد کے بجائے جماعتی تعصب کی نظر سے دیکھتی ہیں؟ حکومت کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام قومی رہنماؤں کو مساوی عزت دے، چاہے وہ کسی بھی جماعت سے تعلق رکھتے ہوں۔ راج گھاٹ جیسی روایات کا تحفظ قومی یکجہتی کے لیے ضروری ہے۔ اگر ان روایات کو توڑا جائے تو اس سے بھارت کے سماجی اور سیاسی تانے بانے کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

    ڈاکٹر من موہن سنگھ کی آخری رسومات کا معاملہ ایک علامتی تنازعہ ہے، جو بھارت کی سیاست اور سماج میں موجود گہرے مسائل کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ وقت ہے کہ بھارت اپنی روایات اور اقدار کو دوبارہ زندہ کرے اور اپنے عظیم رہنماؤں کو ان کے شایان شان مقام دے۔ راج گھاٹ اور نگم بودھ گھاٹ کے فرق کو سمجھتے ہوئے، قومی رہنماؤں کو ان کی خدمات کے مطابق عزت دینا بھارت کی جمہوری اقدار کے لیے ناگزیر ہے۔

  • سال بدلے لیکن ہم نہ بدل سکے؟

    سال بدلے لیکن ہم نہ بدل سکے؟

    سال بدلے لیکن ہم نہ بدل سکے؟
    تحریر:فیصل رمضان اعوان

    جنوری کی کچھ صبحیں اور کچھ شامیں گزر چکی ہیں۔ سال نو 2025ء کا آغاز ہو چکا ہے۔ یکم جنوری کو بہت دیر تک نئے سال کی مبارکباد کے فون آتے رہے۔ لفظ "مبارک” چونکہ خیر کا لفظ ہے، طبیعت پر گراں نہیں گزرتا اور اچھا لگتا ہے۔ لیکن مسلسل دن بھر اس جشنِ بے ہودہ کو یاد کرواتے رہنا اور شہر میں رات بھر شرلیاں چھوڑنے اور چھچھورے پن سے ہمیں سخت نفرت اور چڑھ ہے۔ نئے آنے والے سال کا اس طرح بے ہودہ طریقے سے استقبال کرنا اور جشن منانا ہماری سمجھ سے باہر ہے۔ بس یہی کہنا کافی ہے کہ اللہ آپ کی زندگی میں آنے والے نئے سال کو آپ کے لئے خیر و برکت اور عافیت کا سال بنائے۔ ہم تو نئے سال کو بس اتنا ہی اہم سمجھتے ہیں۔ نئے سال کے استقبال کا طریقہ ہی انوکھا ہے۔ ہم بھی نجانے کس معاشرے کے پیروکار بن بیٹھے ہیں۔ پٹاخے، آتشبازی، رنگ رلیاں، مہ نوشیاں، ہمارے کرنے کے کام نہیں تو ہم ایسا کیوں کر کریں؟ لیکن خیر، ہم جدید اور تیزترین ترقی کی شاہراہوں پر ہیں۔

    ہمارے گزرے ماہ و سال کیسے بیتے ہیں، ہم سب اس ستم کا شکار رہے۔ سیاسی ماحول پر ہم سے نہیں لکھا جاتا اور آج کل کا گرما گرم سیاسی ماحول تو ویسے بھی فل گرم ہے۔ ایسے میں ہمارے تخیل میں دھواں سا بھر جاتا ہے۔ ان حالات میں ہم تو کچھ لکھنے سے بھی گئے ہیں، لکھنے کی کیفیت اب بنتی ہی نہیں، تو کیسے لکھا جائے؟ آزادی رائے کا حق مکمل طور پر چھینا جا چکا ہے۔

    پیارے وطن کا معاشرہ بھی کچھ عجیب سا ہوگیا ہے۔ آپ کسی بھیڑ میں چلے جائیں، جاکر کسی سے پوچھنے کی ضرورت ہی نہیں، ان مایوس چہروں کو ہی پڑھ لیں، اتنا ہی کافی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے دنیا بھر میں آنے والے مہلک وائرس کرونا نے تباہی مچائی۔ اس سے معاشی طور پر انتہائی مضبوط ممالک بھی متاثر ہوئے۔ سب سنبھل گئے اور بدقسمتی سے جس خطے میں ہمارا ٹھکانہ ہے، ہم آج تک نہ سنبھل سکے۔ تنکوں کی طرح بکھر کر رہ گئے۔ ہمارے ہاں اقتدار کے حصول کے لئے وہ شیطانی کھیل کھیلا جاتا ہے جسے عام آدمی سمجھ ہی نہیں سکتا۔ اور اس عام بے بس طبقے کو ایسے خوار کیا جاتا ہے کہ ان کا جینا مشکل ہو جاتا ہے۔

    بجلی کے ظالمانہ بلوں کی بات کی جائے تو عام آدمی کی جان نکال دی گئی ہے۔ اتنی بے تحاشہ ناجائز دولت جمع کرکے بندر بانٹ کا شکار کی جارہی ہے۔ یہ بدترین ڈاکہ ڈال کر صرف اپنی جیبیں بھری جا رہی ہیں۔ اس ظلم کی وجہ سے صنعتیں بند ہو گئی ہیں، معاشی اعداد و شمار کو پڑھیں، آنکھیں کھل جائیں گی۔ عملی طور پر اس وقت ہم مافیا کے مکمل نرغے میں ہیں اور اس طاقتور مافیا کی سرپرستی بھی کمال سے کی جارہی ہے۔ بادشاہت کا کہنا ہے کہ مہنگائی کم ہو رہی ہے، ہمارے میڈیا کے کنٹرولڈ چینل بھی یہی بتا رہے ہیں، لیکن مہنگائی کم نہیں ہوئی بلکہ مزید بڑھ رہی ہے۔ ہمارے لوگ تو ان اذیت ناک ماہ و سال سے گزر رہے ہیں، پھر کیسے جشن؟

    سال نو کے ایسے بے ہودہ استقبال سے بہتر ہے رہنے دیں، بس یونہی گزرتے جائیں، گزرے اور آنے والے سال کے قصوں کو چھوڑیں۔ وقت اتنی برق رفتاری سے آگے بڑھ رہا ہے کہ اب تو خوف محسوس ہوتا ہے۔ ہر گزرتے سال کے ساتھ وقت کی دھول میں کھو جانے کا احساس مزید گہرا ہونے لگتا ہے۔ جو گزر گیا، وہ واپس نہیں آئے گا اور جو آنے والا ہے اس کی خبر نہیں، کیسے گزرے گا۔ رہنے دیں صاحبو، ہم ایسے جشن مناتے ہی نہیں۔ ہر گزرتے سال کے ساتھ ہمارے کندھے جھکتے جا رہے ہیں، توانائیاں، طاقت آہستہ آہستہ ختم ہوتی جا رہی ہیں۔ کیا ہم آنے والے ان اذیت ناک لمحات کو پر مسرت بنانے کا یہ طریقہ درست کہہ دیں؟ ہرگز نہیں، کیونکہ زندہ رہے تو یہ ہوشیاریاں، یہ توانائیاں آنے والے سالوں میں ہمیں محتاج، کمزور، اور بیمار بنا دیں گی۔ یہ سب کتنا تکلیف دہ ہوگا؟ سال نو کے یہ جشن، یہ خوشیاں ہمیں راس نہیں آئیں گی۔

    دعا ہے کہ نیا سال پوری قوم کے لیے خوشیوں کا باعث بنے، یہ گلشن مہکنے لگے اور ہم سب امن و سکون میں رہیں۔ یہ ملک امن کا گہوارا بن جائے۔ اللہ رب العزت اس ملک پر رحم فرمائے اور جینا آسان ہو جائے۔ یہ سال ہمیشہ بدلتے رہتے ہیں، لیکن نجانے ہمارے دن کیوں نہیں بدلتے؟ اب تو رہبر رہزن لگتے ہیں، مسیحا فرعون بن جاتے ہیں۔
    الٰہی تو کرم فرمائے
    خدا کرے کہ میری ارض پاک پر اترے
    وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو۔

  • نیا سال 2025، آؤ محبتیں بانٹنے کا عہد کریں

    نیا سال 2025، آؤ محبتیں بانٹنے کا عہد کریں

    نیا سال 2025، آؤ محبتیں بانٹنے کا عہد کریں
    تحریر:شاہد نسیم چوہدری
    سال 2025 کی آمد ایک نئی صبح، نئی امیدوں، اور نئے عزم کے ساتھ ہوئی ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنی زندگی کی کتاب میں ایک نیا باب شروع کریں۔ میرے لیے یہ موقع ذاتی اور قومی سطح پر اہمیت رکھتا ہے۔ میں اپنے دل کے جذبات کو لفظوں میں سمیٹتے ہوئے ان سب لوگوں کے لیے نیک تمنائیں پیش کرنا چاہتا ہوں جو میری زندگی کا حصہ ہیں اور جنہوں نے میری زندگی کو محبت، خلوص، اور خوشیوں سے بھر دیا ہے۔

    سب سے پہلے میں اپنی شریکِ حیات کا ذکر کرنا چاہوں گا، جو میری زندگی کی بنیاد ہیں۔ وہ نہ صرف میری شریکِ حیات ہیں بلکہ میری بہترین دوست، میرے خوابوں کی ساتھی، اور میرے مشکل وقت کی طاقت ہیں۔ ان کی محبت اور خلوص نے مجھے وہ اعتماد دیا ہے جس کی بدولت میں اپنی زندگی میں آگے بڑھ پایا ہوں۔

    میرے دل سے دعا ہے کہ اللہ انہیں ہمیشہ خوش رکھے، صحت مند رکھے، اور ان کی زندگی میں ہر لمحہ خوشیوں کا گزر ہو۔ ان کی دعائیں میرے لیے ہر میدان میں کامیابی کی وجہ بنی ہیں۔ ان کی محبت کا قرض کبھی ادا نہیں ہو سکتا، لیکن نئے سال پر میرا عزم ہے کہ میں انہیں مزید خوشیاں دوں اور ان کے لیے اپنی محبت اور خلوص کو مزید مضبوط بناؤں۔

    میرے بچے میری زندگی کا سب سے بڑا اثاثہ ہیں۔ ان کے ہنستے چہرے اور معصوم باتیں میرے دل کو خوشی اور سکون عطا کرتی ہیں۔ ان کی تعلیم و تربیت، بہتر مستقبل، اور خوشحال زندگی میری اولین ترجیح ہے۔
    2025 میں میری دعا ہے کہ اللہ میرے بچوں کو علم، عقل، اور نیک اعمال کی دولت سے نوازے۔ میں ان کے لیے محبت، تربیت، اور بہترین مواقع فراہم کرنے کی کوشش جاری رکھوں گا تاکہ وہ ایک بہترین انسان بن سکیں اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کریں۔

    میرے والدین میری دعاؤں کا محور ہیں۔ ان کی قربانیوں اور محبت نے مجھے آج یہاں تک پہنچایا ہے۔ ان کی دعاؤں کے بغیر میرا کوئی قدم کامیاب نہیں ہو سکتا۔ میرے بہن بھائی بھی میری زندگی کی خوشیوں کا حصہ ہیں۔ ان کے ساتھ گزرا ہوا ہر لمحہ میری زندگی کے خوبصورت ترین لمحات میں شامل ہے۔2025 میں میری دعا ہے کہ اللہ میرے والدین کو صحت اور سکون عطا کرے اور میرے بہن بھائیوں کو خوشیوں اور کامیابیوں سے نوازے۔ ان کے لیے میری محبت کبھی کم نہیں ہو سکتی اور میں ہمیشہ ان کے لیے دعاگو رہوں گا۔

    میرے دوست اور احباب میری زندگی کا ایک اہم حصہ ہیں۔ ان کے ساتھ گزرے ہوئے لمحات میری زندگی کو رنگین اور خوشگوار بناتے ہیں۔ میں ان سب کا شکر گزار ہوں جنہوں نے ہر موقع پر میرا ساتھ دیا، مجھے سمجھا، اور میرے دکھ سکھ کے ساتھی بنے۔
    2025 میں میری دعا ہے کہ میرے دوست اور رشتہ دار ہمیشہ خوشحال رہیں۔ ان کے لیے میری محبت اور خلوص کبھی کم نہیں ہوگا۔ میں امید کرتا ہوں کہ ہمارا تعلق مزید مضبوط ہوگا اور ہم ہمیشہ ایک دوسرے کے لیے سہارا بنیں گے۔

    ادب میری زندگی کا ایک اہم حصہ ہے، اور میرے ادبی ساتھی میری سوچ اور خیالات کو نکھارنے کا ذریعہ ہیں۔ ان کے ساتھ کی گئی گفتگو، تبادلہ خیال، اور ادبی نشستیں ہمیشہ مجھے تحریک دیتی ہیں۔میری دعا ہے کہ 2025 میں تمام ادبی ساتھی مزید کامیاب ہوں۔ ان کا قلم مزید طاقتور ہو، اور وہ اپنی تحریروں کے ذریعے معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے میں کامیاب ہوں۔ میں دعا کرتا ہوں کہ وہ ادب کی دنیا میں نئی بلندیوں کو چھوئیں اور اپنے کام سے لوگوں کے دل جیتیں۔

    میرا ادارہ "پہچان پاکستان نیوز” اور "ورلڈ کالمسٹ کلب” میری زندگی کے اہم ستون ہیں۔ ان کے ذریعے میں نے اپنی آواز کو لوگوں تک پہنچانے اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کا موقع پایا۔ 2025 میں میری دعا ہے کہ یہ دونوں ادارے مزید ترقی کریں اور اپنی خدمات کے ذریعے ملک و قوم کے لیے بہترین کردار ادا کریں۔ میری نیک تمنائیں ان تمام لوگوں کے ساتھ ہیں جو ان اداروں کا حصہ ہیں اور جو ان کی کامیابی کے لیے دن رات محنت کرتے ہیں۔

    پاکستان ہماری پہچان ہے، ہماری جان ہے۔ اس وطن کی محبت ہمارے دلوں میں رچی بسی ہوئی ہے۔ یہ ملک ہمیں ہر طرح کی آزادی اور مواقع فراہم کرتا ہے، اور اس کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے۔ پاک فوج ہماری سرحدوں کی محافظ ہے، ہماری آزادی کی ضامن ہے۔ ان کے بغیر ہم اپنی زندگی کے بارے میں تصور بھی نہیں کر سکتے۔ میں پاک فوج کے جوانوں کو سلام پیش کرتا ہوں جو اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے ہمارے لیے سکون اور تحفظ یقینی بناتے ہیں۔

    2025 میں میری دعا ہے کہ ہمارا ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو اور دنیا کے صفِ اول کے ممالک میں شامل ہو۔ میں دعا کرتا ہوں کہ پاک فوج ہمیشہ مضبوط اور کامیاب رہے، اور ہمارے جوان اپنی عظیم قربانیوں کے بدلے میں عزت اور محبت کے حقدار بنیں۔

    نیا سال محبت، امید، اور خلوص کے جذبات کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔ یہ وہ عناصر ہیں جو زندگی کو خوبصورت اور کامیاب بناتے ہیں۔ محبت دلوں کو جوڑتی ہے، انسانیت کو قریب لاتی ہے، اور معاشرے میں ہم آہنگی پیدا کرتی ہے۔ امید زندگی کی مشکلات کا مقابلہ کرنے کی طاقت دیتی ہے اور نئے خواب دیکھنے کی جرات پیدا کرتی ہے۔
    خلوص ہر عمل کو خوبصورت اور کامیاب بناتا ہے۔

    2025 میں ہمیں ان تین عناصر کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔ ہمیں اپنے اردگرد محبت پھیلانی ہوگی، ایک دوسرے کے لیے امید کا باعث بننا ہوگا، اور اپنے اعمال میں خلوص کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ سال 2025 کی آمد ہمیں موقع فراہم کرتی ہے کہ ہم اپنی زندگی کو بہتر بنانے، اپنے تعلقات کو مضبوط کرنے، اور اپنے ملک کی ترقی میں حصہ ڈالنے کے لیے نئے عزم کے ساتھ آگے بڑھیں۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنی غلطیوں سے سیکھیں اور اپنی زندگی کو محبت، امید، اور خلوص سے بھرپور بنائیں۔

    میری دعا ہے کہ نیا سال سب کے لیے خوشیوں، کامیابیوں، اور سکون کا سال ثابت ہو۔ اللہ سب کو صحت، خوشحالی، اور کامیابی عطا کرے اور ہمیں اپنے وطن پاکستان کی خدمت کا موقع فراہم کرے۔ آمین!
    آؤ ہم سب محبتیں بانٹنے کا عہد کریں۔۔۔!!

  • اقتدار کی لالچ سے باہر نکل کر حقیقی ترقی کی راہ اپنانا ضروری،تجزیہ:شہزاد قریشی

    اقتدار کی لالچ سے باہر نکل کر حقیقی ترقی کی راہ اپنانا ضروری،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کو اپنا رُخ اپنے ذاتی مفاد ،اقربا پروری سے ہٹا کر عوام کی طرف موڑنا ہوگا ۔کرپشن سے پاک ہی پاکستان ترقی کر سکتا ہے ۔ عوام کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ جعلی نمود ونمائش سے باہر نکل کر خلق خدا کی خدمت کرنا ہوگی۔ عوام اورریاست کو درپیش مسائل پر توجہ دینا ہوگی۔ ملکی سیاستدانوں کو خود کی خدمت کرنے والا غیر مہذب ناقابل اعتماد مذاق سے باہر نکلنا ہو گا۔ سیاسی جماعتوں کو سیاست اور جمہوریت کے مستقبل پر غور کرنا چاہیئے۔ صف اول کی سیاسی قیادت کو ضلعی اور تحصیل سطح کے ارکان اسمبلی کو لینڈ مافیا ، منشیات اسمگلروں ،غنڈوں اور دیگر جرائم میں ملوث افراد کی پشت پناہی سے روکنا ہوگا۔ اس کے اثرات سیاسی جماعتوں پر پڑتے ہیں اور صف اول کی سیاسی قیادت اس کا خمیازہ داخلی اور خارجی سطح پر ماضی میں بھگت چکی ہے اور بھگت رہی ہے اور بھگت رہی ہے۔ نوجوانوں کی اکثریت اب ایسے سیاستدانوں ایسی قیادت کی خواہاں ہے جو حقیقت پسند ، بامعنی ، اُمید مند اور بااختیار ہو جو سیاسی قیادت خود کو اپنے شہریوں کے اعتماد کا اہل ثابت کرے گی اُسی پر اعتماد کریں گے۔ ملک اور قوم کے بہتر مستقبل کے لئے مختلف رکاوٹوں کو بہانا بنا کر اب قوم کو گمراہ نہیں کیا جا سکتا ۔ معاشی مشکلات سے ملک وقوم کو نکالنے کے اقدامات کرنا ہونگے۔

    قبضہ مافیا،لینڈ مافیا کے ہاتھوں بےگناہ قتل،ذمہ دار کون،تجزیہ:شہزاد قریشی

    عالمی دنیا میں اس کی مثالیں موجود ہیں۔ دنیا کے کئی ممالک کی مثال دی جا سکتی ہے ۔ دبئی اور سنگاپور کی مثالیں موجود ہیں۔صدق د ل سے سیاستدانوں ،بیورو کریسی ، بیورو کریٹ ،سول انتظامیہ قومی سلامتی کے ادارے مل کر اس ملک وقوم کے روشن مستقبل کی طرف توجہ دیں۔ امریکہ اور یورپی ممالک کی ترقی کا راز علم اور عمل ہے ۔ہم عمل سے کوسوں دور ہیں۔کیا ایک اسلامی مملکت کو زیب دیتا ہے کہ وہ نجومیوں اور جادو ٹونے والوں سے پوچھتی پھرے کہ ہمارا مستقبل کیا ہے ۔ کیا میں اس ملک کا وزیراعظم بن سکتا ہوں۔

    میزائل پروگرام،پابندیاں،امریکہ پاکستانی خود مختاری کا پاس رکھے،تجزیہ:شہزاد قریشی

    غور کیجئے کیا ہم اسلامی مملکت کے دعویدار ہیں؟قرآن وحدیث کو چھوڑ کر ہم سامری جادوگر کے پیرو کار بنتے جا رہے ہیں۔ جادوگروں اور نجومیوں کے جھرمٹ میں رہنے والوں پر فوری طور پر امریکہ اور مغربی ممالک نے اعتماد کرنا چھوڑ دیا ہے۔ روس یو کرین کی جنگ میں بھارت کی دوغلی پالیسی امریکہ اور مغربی ممالک پر عیاں ہو چکی ہے ۔ روس پر پابندیوں کے باوجود بھارت مودی حکومت تیل اور برکس رکن ممالک میں شمولیت امریکہ مغربی ممالک کی نظر میں ہیں۔ ٹرمپ برکس ممالک کو صدارتی عہدے کا حلف اٹھانے سے پہلے ناراضگی کا اظہار کر چکے ہیں۔ اس سلسلے میں ٹرمپ کی امریکہ فسٹ پالیسی مودی حکومت کے لئے مشکلات پیدا کر سکتی ہے

    مریم نواز کی کاوشیں، پنجاب بدلنے لگا، تجزیہ : شہزاد قریشی

    بھارتی دہشت گردی، پاکستان کا دفاع اور ٹرمپ کی پالیسی، تجزیہ : شہزاد قریشی

    معذرت کے ساتھ، پاکستان سیاسی محاذ پر سیاسی یتیم ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    مذاکرات سے خلق خدا کو کیا حاصل ہوگا؟تجزیہ:شہزاد قریشی

  • بھارتی دہشت گردی، عالمی سطح پر بے نقاب

    بھارتی دہشت گردی، عالمی سطح پر بے نقاب

    بھارتی دہشت گردی، عالمی سطح پر بے نقاب
    تحریر: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    بھارتی حکومت کی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی اور خفیہ کارروائیوں کو عالمی سطح پر بے نقاب کیا جا رہا ہے۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی حالیہ رپورٹ نے انکشاف کیا ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی "را” نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے مختلف ممالک میں ماورائے عدالت قتل اور دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہے۔ پاکستان میں دہشت گرد تنظیموں کی حمایت اور خفیہ ایجنٹوں کے ذریعے عدم استحکام پیدا کرنے کی بھارتی کوششوں نے خطے میں امن و امان کو سنگین خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔رپورٹ کے مطابق، بھارتی خفیہ ایجنسی "را” نے پاکستان میں اجرتی قاتلوں کے ذریعے چھ افراد کو نشانہ بنایا۔ ان میں لاہور میں اپریل 2024 میں پیش آنے والا واقعہ شامل ہے، جہاں عامر سرفراز عرف تانبا کو گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔

    واشنگٹن پوسٹ کے علاوہ اپریل 2024 میں برطانوی اخبار گارڈین کی رپورٹ کے مطابق بھارتی خفیہ ایجنسی را نے 2020 سے اب تک پاکستان میں 20 افراد کے قتل کی سازشیں کیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ بھارتی انٹیلی جنس کے سلیپر سیلز پاکستان میں ان کارروائیوں میں ملوث ہیں، جنہیں بھارتی وزیراعظم مودی کے دفتر سے کنٹرول کیا جاتا ہے،ان الزامات کے باوجود بھارتی حکومت مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے، نہ تو الزامات کو تسلیم کیا گیا ہے اور نہ ہی ان کی تردید کی گئی ہے۔

    پاکستان میں بھارتی خفیہ ایجنسی "را” کی دہشت گرد سرگرمیاں کوئی نئی بات نہیں ہیں۔ بلوچستان میں دہشت گرد تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی(بی ایل اے)اور خیبرپختونخوا میں خوارج(ٹی ٹی پی) ودیگر دہشت گرد تنظیموںکے ذریعے دہشت گردی کی کارروائیوں میں "را” کا کردار متعدد بار بے نقاب ہوا ہے۔ پاکستان نے دنیا کو ان دہشت گرد سرگرمیوں کے ثبوت فراہم کیے ہیں، جن میں سب سے اہم ثبوت بلوچستان سے کلبھوشن یادیو کی گرفتاری ہے جو بھارتی نیوی کا حاضر سروس افسر ہے جو پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رکھے ہوا تھا۔

    پاکستان مسلسل عالمی برادری کو خبردار کرتا رہا ہے کہ ملک میں بدامنی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے۔ تاہم مغربی ممالک خاص طور پر امریکہ اور اقوام متحدہ نے پاکستان کے فراہم کردہ ٹھوس شواہد کے باوجود بھارت کے خلاف کوئی مئوثر کارروائی نہیں کی۔ اس بے عملی نے بھارت کو مزید شہہ دی کہ وہ اپنی خفیہ کارروائیاں جاری رکھے اور دہشت گرد تنظیموں کی مدد کے ذریعے پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرے۔

    واشنگٹن پوسٹ کی 31 دسمبر 2024 کو شائع ہونے والی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بھارت نے نہ صرف پاکستان بلکہ امریکہ اور کینیڈا میں بھی اپنے خفیہ ایجنڈے کے تحت ٹارگٹ کلنگ کی کارروائیاں کی ہیں۔ کینیڈا میں بھارتی خفیہ ایجنسی "را” پر الزام ہے کہ اس نے سکھ علیحدگی پسند رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کی منصوبہ بندی کی۔ اسی طرح امریکی سرزمین پر بھی بھارتی خفیہ ایجنسی "را” کی طرف سے قاتلانہ حملے کی کوشش کی گئی جسے ایف بی آئی نے ناکام بنایا۔

    ان کارروائیوں کو انسانی حقوق اور جمہوری اقدار کے خلاف قرار دیا جاسکتا ہے۔ بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ ان خفیہ اقدامات سے نہ صرف قانون کی حکمرانی کو نقصان پہنچاہے بلکہ بین الاقوامی قوانین کی بھی سنگین خلاف ورزی ہوئی ہے،تمام شواہد اور الزامات کے پیش نظر یہ واضح ہو چکا ہے کہ بھارت اپنی خفیہ ایجنسیوں کے ذریعے دنیا بھر میں دہشت گردی اور ماورائے عدالت قتل کی کارروائیوں میں ملوث ہے۔

    اگر عالمی برادری دنیا میں واقعی امن قائم کرنے کی خواہاں ہے اور بھارت کی دہشت گردانہ سرگرمیوں سے انسانیت کو محفوظ رکھنا چاہتی ہے تو بھارت کے خلاف سخت ترین اقدامات کرنا ناگزیر ہوچکے ہیں۔ اقتصادی پابندیاں، سفارتی دباؤ اور بین الاقوامی عدالتوں میں مقدمات جیسے اقدامات کے ذریعے بھارت کو اس کی غیر قانونی اور غیر اخلاقی حرکتوں کی سزا دی جانی چاہیے۔ اس کے علاوہ عالمی اداروں کو بھارت سےسخت بازپرس کرنی چاہئے اور اسے قرار واقعی ایسی سزا دی جائے کہ مستقبل میں کوئی بھی ملک بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی جرات نہ کرے۔

  • پاک روس مضبوط ہوتے رشتے اور امریکی پابندیاں

    پاک روس مضبوط ہوتے رشتے اور امریکی پابندیاں

    پاک روس مضبوط ہوتے رشتے اور امریکی پابندیاں
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    پاکستان اور روس کے تعلقات میں حالیہ پیش رفت نے دونوں ممالک کے روابط کو ایک نئے دور میں داخل کر دیا ہے، جس سے سوال اٹھتا ہے کہ کیا امریکہ اس بڑھتے ہوئے اتحاد کو روکنے میں کامیاب ہو پائے گا؟

    روس پاکستان کے لیے ایک اہم شراکت دار بن کر ابھرا ہے جو نہ صرف اقتصادی اور تجارتی شعبوں میں مدد فراہم کر رہا ہے بلکہ پاکستان کی آزاد خارجہ پالیسی کو بھی مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ روس کی جانب سے توانائی کے شعبے میں پیش کیے جانے والے وسیع مواقع، جیسے گیس پائپ لائن منصوبے اور خام تیل کی برآمد، پاکستان کے لیے فائدہ مند ثابت ہو رہے ہیں۔ مزید برآں روس اور پاکستان کے درمیان تجارتی روابط کو مضبوط بنانے کے لیے کارگو ٹرین منصوبے جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں جو پاکستان کو عالمی تجارتی نیٹ ورک کا حصہ بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

    پاکستان کے آزاد خارجہ تعلقات کے تناظر میں روس کے ساتھ تعلقات کی یہ نئی پیش رفت نہ صرف اقتصادی استحکام بلکہ دفاعی تعاون میں بھی اہمیت رکھتی ہے۔ دونوں ممالک نے مشترکہ فوجی مشقوں اور دفاعی معاہدوں پر بھی کام کیا ہے جو ان کے رشتہ کو مزید مستحکم کرتا ہے۔

    تاہم امریکہ نے حالیہ دنوں میں پاکستان پر اقتصادی پابندیاں عائد کی ہیں، خاص طور پر اس کے میزائل پروگرام پرتاکہ پاکستان کو روس کے قریب جانے سے روکا جا سکے۔ امریکہ کے اس اقدام کا مقصد جوہری ہتھیاروں کے پھیلا ئوکو روکنا بتایا جا رہا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک ناکام کوشش معلوم ہوتی ہے جو پاکستان کی خودمختاری میں مداخلت کی غماز ہے۔

    پاکستان کی وزارت خارجہ نے ان پابندیوں کو تعصب پر مبنی اور بدقسمتی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ خطے کے استحکام کو نقصان پہنچائیں گی۔ ان پابندیوں کے باوجود پاکستان نے روس کے ساتھ اپنے اقتصادی، تجارتی اور دفاعی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے کئی اہم اقدامات کیے ہیں، جیسے نارتھ سائوتھ ٹرانسپورٹ کوریڈور میں شمولیت اور دیگر مشترکہ منصوبوں کی منصوبہ بندی۔

    پاکستانی تھنک ٹینکس اور پالیسی سازوں کو چاہیے کہ وہ پاکستان کی آزاد خارجہ پالیسی، قومی مفادات اور خطے میں روس کے کردار کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی خارجہ پالیسی تشکیل دیں اور امریکی پابندیوں کو خاطر میں نہ لائیں۔ امریکی پابندیوں کی پاکستان پر ایک طویل تاریخ ہے، اور امریکہ ہمیشہ اپنے مفادات کے لیے پاکستان کو قربانی کا بکرا بناتا آیا ہے۔ اس لیے اب ان پابندیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے پاکستان کو
    اپنے مفادات کو ترجیح دینی چاہیے اور ایسی پالیسی مرتب کرنی چاہیے جو نہ صرف موجودہ حالات بلکہ مستقبل میں آنے والے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے بھی مضبوط ہو۔

    امریکہ کا طویل مدتی مقصد ہمیشہ اپنے مخالفین کو اقتصادی پابندیوں کے ذریعے دبائو میں لانا رہا ہے، لیکن پاکستان اور روس کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات ایک واضح اشارہ ہیں کہ پاکستان اب اپنی خارجہ پالیسی میں مزید خودمختاری حاصل کرنے کی جانب گامزن ہے۔ ان پابندیوں کے باوجود پاکستان اور روس کے تعلقات کا نیا دور نہ صرف اقتصادی ترقی کے لیے بلکہ جغرافیائی استحکام کے لیے بھی اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ اس صورتحال میں سوال یہ ہے کہ آیا امریکہ اس نئے اتحاد کو روکنے میں کامیاب ہو گا یا نہیں؟

    پاکستان اور روس کے مضبوط ہوتے تعلقات خاص طور پر امریکی دبائو اور پابندیوں کے باوجود اس بات کی علامت ہیں کہ پاکستان اپنے قومی مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے ایک آزاد خارجہ پالیسی کی تشکیل میں کامیاب ہو رہا ہے۔ یہ شراکت نہ صرف خطے میں جغرافیائی استحکام کو فروغ دے سکتی ہے بلکہ عالمی طاقتوں کے توازن میں بھی ایک اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ امریکی پابندیوں کے اثرات کو کم کرنے اور اپنے اقتصادی و دفاعی شعبوں کو مستحکم کرنے کے لیے پاکستان کو روس جیسے قابل اعتماد شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کو مزید وسعت دینی ہوگی۔ موجودہ حالات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ پاکستان سفارتی سطح پر مضبوطی سے اپنے مفادات کا دفاع کرے اور مستقبل کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے ایک متوازن اور پائیدار حکمت عملی اختیار کرے۔