Baaghi TV

Category: بلاگ

  • متحدہ عرب امارات کا قومی دن اور پاکستان یو اے ای تعلقات

    متحدہ عرب امارات کا قومی دن اور پاکستان یو اے ای تعلقات

    متحدہ عرب امارات کا قومی دن ہر سال 2 دسمبر کو منایا جاتا ہے۔ یہ دن نہ صرف امارات کی آزادی اور ترقی کی داستان سناتا ہے بلکہ پاکستان اور یو اے ای کے درمیان گہرے تاریخی، اقتصادی، اور ثقافتی تعلقات کی علامت بھی ہے۔ متحدہ عرب امارات کا قومی دن 2 دسمبر 1971 ، جب چھ مختلف امارات — ابوظہبی، دبئی، شارجہ، عجمان، اُم القوین اور الفجیرہ — نے ایک وفاقی یونٹ کے طور پر متحد ہو کر یو اے ای کی بنیاد رکھی۔ ان امارات میں ساتواں امارات "راس الخیمہ” بعد میں 10 فروری 1972 میں شامل ہوا۔

    یو اے ای کا قومی دن ایک یادگار موقع ہے جس پر امارات کی کامیابیوں اور ترقی کو اجاگر کیا جاتا ہے۔ اس دن کو عوامی تعطیل کے طور پر منایا جاتا ہے، جس میں مختلف تقریبات، جشن، اور رنگا رنگ پروگرامز شامل ہوتے ہیں۔ اس دن کو نہ صرف مقامی طور پر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی انتہائی اہمیت دی جاتی ہے، کیونکہ یو اے ای نے اپنے مختصر عرصے میں عالمی سطح پر اقتصادی، تجارتی، اور ثقافتی لحاظ سے غیر معمولی ترقی حاصل کی ہے۔

    پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات: ایک تاریخی پس منظر
    پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات تاریخی طور پر مضبوط اور دوستانہ رہے ہیں۔ یہ تعلقات مختلف پہلوؤں پر محیط ہیں جن میں اقتصادی تعاون، ثقافتی روابط، اور انسانی سطح پر تعاون شامل ہیں۔پاکستان اور یو اے ای کے درمیان اقتصادی تعلقات انتہائی اہم ہیں۔ یو اے ای پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور پاکستان کے لیے ایک اہم سرمایہ کاری کا ذریعہ بھی ہے۔ لاکھوں پاکستانی شہری یو اے ای میں کام کرتے ہیں اور وہاں کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس کے بدلے میں، پاکستان کو مختلف شعبوں میں اہم مالی مدد اور امداد حاصل ہوتی ہے۔یو اے ای پاکستان کو تیل کی فراہمی، تجارت، اور دیگر مالی امداد فراہم کرتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم سالانہ اربوں ڈالرز تک پہنچتا ہے، اور یہ تعلقات مسلسل ترقی کر رہے ہیں۔پاکستانی مزدوروں کی بڑی تعداد یو اے ای میں کام کر رہی ہے۔ یہ افراد تعمیراتی صنعت، ہوٹلنگ، ٹرانسپورٹ اور دیگر شعبوں میں کام کرتے ہیں۔ یو اے ای میں پاکستانیوں کی موجودگی نے دونوں ممالک کے درمیان انسانی تعلقات کو مزید مستحکم کیا ہے۔ پاکستانی تارکین وطن کی محنت و لگن نے یو اے ای کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔یو اے ای میں پاکستانی کمیونٹی کی بڑی تعداد مختلف علاقوں میں آباد ہے، اور ان کے ثقافتی، سماجی اور اقتصادی روابط دونوں ممالک کی دوستی کی ایک اور نشانی ہیں۔

    پاکستان اور یو اے ای کے درمیان دفاعی اور سفارتی تعلقات بھی انتہائی مضبوط ہیں۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہیں اور عالمی سطح پر مختلف فورمز پر ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں۔ یو اے ای نے پاکستان کے ساتھ مل کر مختلف فوجی مشقیں بھی کی ہیں اور دفاعی تعلقات کو مزید مستحکم کیا ہے۔
    پاکستان اور یو اے ای کے درمیان ثقافتی تعلقات بھی کافی گہرے ہیں۔ یو اے ای میں پاکستانی ثقافت کی ایک واضح موجودگی ہے، خاص طور پر پاکستانی کھانے، موسیقی، اور تہوار۔ ہر سال مختلف پاکستانی تہوار، جیسے عید الفطر، عید الاضحیٰ، اور یوم پاکستان یو اے ای میں بڑی دھوم دھام سے منائے جاتے ہیں۔پاکستانی فلم انڈسٹری کے مشہور اداکار اور گلوکار بھی یو اے ای میں اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں، پاکستان کی مشہور آرٹس، دستکاری اور تہذیب بھی یو اے ای میں مقبول ہے۔

    متحدہ عرب امارات کا قومی دن نہ صرف اس ملک کی آزادی اور ترقی کا جشن ہے بلکہ یہ پاکستان اور یو اے ای کے درمیان گہرے روابط کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، تجارتی، ثقافتی، اور دفاعی تعلقات مستحکم ہیں اور مستقبل میں ان تعلقات میں مزید بہتری کی امید کی جاتی ہے۔پاکستانی عوام یو اے ای کے ساتھ اپنے تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتے ہیں اور یہ یقین رکھتے ہیں کہ دونوں ممالک کی دوستی وقت کے ساتھ مزید مستحکم ہو گی۔ یو اے ای کا قومی دن پاکستانیوں کے لیے ایک ایسا موقع ہے جب وہ اپنے دوست ملک کی کامیابیوں کا جشن مناتے ہیں اور ان تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہیں۔

  • کرم ایجنسی میں اموات، کیا صوبائی حکومت کافی اقدامات کر رہی ہے؟

    کرم ایجنسی میں اموات، کیا صوبائی حکومت کافی اقدامات کر رہی ہے؟

    کرم کا علاقہ شیعہ اور سنی کمیونٹیز کے درمیان فرقہ وارانہ تشدد کی ایک طویل اور دردناک تاریخ رکھتا ہے۔ سب سے خونریز سال 2007 سے 2011 کے دوران تھے، جب 2,000 سے زائد افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
    یہ پہاڑی علاقہ جو افغانستان کے خوست، پکتیا اور ننگرہار صوبوں کے ساتھ متصل ہے، اب شدت پسند گروپوں کے لیے پناہ گاہ بن چکا ہے۔ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور داعش جیسی تنظیمیں یہاں حملے کرتی رہتی ہیں، جس سے علاقے میں مزید عدم استحکام بڑھ رہا ہے۔

    حالیہ تشدد ایک اراضی کے تنازعے سے شروع ہو کر قبائلی اور فرقہ وارانہ تنازعے میں تبدیل ہوگیا ہے، جس سے مقامی آبادی میں شدید غصہ پایا جا رہا ہے۔ محسود، ایک قبائلی سردار، نے کہا، "یقیناً علاقے میں لوگوں میں بہت غصہ اور نفرت ہے تاہم، ہمیں کرم کے علاوہ دیگر علاقوں کے قبائلی عمائدین کی مکمل حمایت حاصل ہے۔”

    اس صورتحال کے جواب میں، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے تناؤ کو کم کرنے اور اس پر قابو پانے کے لیے اقدامات کیے ہیں، جن میں ایک قبائلی جرگہ کو دوبارہ فعال کرنا شامل ہے تاکہ امن کی کوشش کی جا سکے۔ ایک نیا صوبائی ہائی وے پولیس فورس بھی قائم کیا گیا ہے تاکہ اہم نقل و حمل کے راستوں کی حفاظت کی جا سکے۔ ان اقدامات کے باوجود، ایک اعلی سطحی وفد جس میں خیبر پختونخوا کے چیف سیکرٹری ندیم اسلم چوہدری بھی شامل تھے، عارضی فائر بندی پر بات چیت کرنے میں کامیاب ہوا، لیکن اس کے بعد تشدد دوبارہ بھڑک اٹھا۔

    یہ تنازعہ تاریخی، جغرافیائی اور مذہبی پیچیدگیوں میں گہرا جڑا ہوا ہے جس کا حل ایک دن میں ممکن نہیں۔ تاہم، جیسا کہ بانی پاکستان کے ویژن تھا ریاست کی بنیادی ذمہ داری قانون اور انصاف کی بحالی ،لیکن یہاں کیا ریاست کرم میں یہ ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام ہو چکی ہے؟اس بڑھتے ہوئے بحران کے باوجود، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے دارالحکومت میں سیاسی لڑائیوں پر زیادہ توجہ مرکوز کی ہے، جس کی وجہ سے کرم کے عوام حکومت کی غفلت کا سنگین نتیجہ بھگت رہے ہیں۔

  • اقلیتوں کی آڑ میں بنگلا دیش میں بھارتی مداخلت

    اقلیتوں کی آڑ میں بنگلا دیش میں بھارتی مداخلت

    اقلیتوں کی آڑ میں بنگلا دیش میں بھارتی مداخلت
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفیٰ بڈانی
    بھارت نے بنگلا دیش میں دو ہندو راہبوں کی گرفتاری کو بنیاد بنا کر عالمی سطح پر بنگلا دیش کی عبوری حکومت کے خلاف ایک منظم سفارتی محاذ کھول دیا ہے۔ اس کارروائی کا مقصد نہ صرف بنگلا دیش کو عالمی سطح پر بدنام کرنا ہے بلکہ اپنے داخلی مسائل سے توجہ ہٹا کر خطے میں اپنی برتری قائم رکھنا بھی ہے۔ بھارت کی یہ حکمت عملی ایک جانب بنگلا دیش کے داخلی معاملات میں مداخلت کو ظاہر کرتی ہے تو دوسری جانب اقلیتوں کے تحفظ کے نام پر جھوٹا بیانیہ پیش کرنے کی کوشش ہے۔

    بھارت میں اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں کے خلاف مظالم دنیا کے سامنے ہیں۔ مساجد کو مندروں میں تبدیل کرنا، مسلمانوں کی جائیدادیں بلڈوز کرنا اور ان کے خلاف نفرت انگیز مہمات جیسے "لو جہاد”، "لینڈ جہاد” اور "ریڑھی جہاد” بھارتی سماج میں روزمرہ کا حصہ بن چکے ہیں۔ اس کے باوجود بھارت عالمی برادری کے سامنے اپنی تصویر کو اقلیتوں کے محافظ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور بنگلا دیش کی عبوری حکومت پر اقلیتوں کے خلاف امتیازی رویوں کا الزام عائد کر رہا ہے۔

    بنگلا دیش میں حالیہ دنوں میں اِسک کون (ISKCON) کے دو ہندو راہبوں کی گرفتاری اور دیگر 17 افراد کے بینک اکاؤنٹس منجمد کیے جانے کا معاملہ بھارتی میڈیا اور انتہا پسند تنظیموں کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ اِسک کون کو بنگلا دیشی عدالت نے ایک بنیاد پرست تنظیم قرار دیا ہے جس کی سرگرمیاں معاشرتی امن کے لیے خطرناک ہیں۔ تاہم بھارت میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور دیگر ہندو تنظیموں نے اس مسئلے کو بین الاقوامی سطح پر اچھالنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ بنگلا دیش کے خلاف دباؤ ڈالا جا سکے۔

    امریکا اور یورپ میں بھارت نواز لابیاں اس وقت سرگرم ہیں اور بنگلا دیش کی اقلیتوں پر مظالم کے الزامات لگا کر عالمی رائے عامہ کو گمراہ کر رہی ہیں۔ ہندو کمیونٹی کے مختلف گروپ امریکا اور یورپ میں یہ بیانیہ پیش کر رہے ہیں کہ بنگلا دیش میں اقلیتوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ گروپ عبوری حکومت کے خلاف فضا ہموار کرنے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بنگلا دیش کی عدالتوں نے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے بنیاد پرست تنظیموں کے خلاف کارروائی کی ہے۔

    بنگلا دیش کی سابق وزیرِاعظم شیخ حسینہ واجد نے اِسک کون کے رہنما چنموئے کرشنا داس اور دیگر افراد کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کے مطابق عبوری حکومت اقلیتوں کے خلاف امتیازی نوعیت کی کارروائیاں کر رہی ہے، جس سے اقلیتیں خوفزدہ ہو رہی ہیں۔ شیخ حسینہ نے اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد بنگلا دیش میں سیاسی عدم استحکام اور عبوری حکومت کے اقدامات کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

    بھارتی میڈیا نے اس پورے معاملے کو ہندو مخالف جذبات کے طور پر پیش کیا ہے تاکہ بنگلا دیش کے خلاف عالمی رائے عامہ کو اپنے حق میں کیا جا سکے۔ بھارتی حکومت اس معاملے کو سفارتی طور پر اٹھا کر بنگلا دیش کی عبوری حکومت کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

    یہ واضح ہے کہ بھارت کی یہ مداخلت محض اقلیتوں کے تحفظ کے نام پر نہیں بلکہ ایک بڑی سفارتی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانا اور بنگلا دیش کے داخلی معاملات کو بین الاقوامی رنگ دینا ہے۔ اس حوالے سے عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ بھارت کی ان چالوں کا نوٹس لے اور خطے میں استحکام کے لیے غیر جانبدارانہ کردار ادا کرے۔

  • مساجد میں سفید پوشوں کی عزت نفس کا تحفظ ضروری ہے

    مساجد میں سفید پوشوں کی عزت نفس کا تحفظ ضروری ہے

    مساجد میں سفید پوشوں کی عزت نفس کا تحفظ ضروری ہے
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفی بڈانی
    مساجد کا تقدس اور ان کا مقام مسلم معاشرے میں انتہائی اہم ہے۔ یہ وہ مقدس جگہیں ہیں جہاں لوگ اللہ کے حضور جھکنے، سکون حاصل کرنے اور روحانیت وعبادات کیلئے جمع ہوتے ہیں۔ یہاں کی فضا کا تقدس اور نمازیوں کی عزت نفس برقرار رکھنا علمائے کرام اور دینی قیادت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ تاہم کچھ ایسے واقعات پیش آتے ہیں جو نہ صرف مساجد کی حرمت کو متاثر کرتے ہیں بلکہ لوگوں کے دلوں میں علمائے کرام کے بارے میں مایوسی بھی پیدا کرتے ہیں۔

    حال ہی میں ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں ایک نوجوان عالم دین قاری یاسین حیدر نے خطبے کے دوران ایک شخص کو ٹوکا جو ان پر نوٹ نچھاور کر رہا تھا۔ قاری صاحب نے نہایت صاف گوئی سے اس عمل کو غلط قرار دیا اور کہا کہ یہ عمل ناچنے والیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے اور علما پر ایسا کرنا ان کی عزت اور مقام کو گرا دیتا ہے۔ ان کے اس رویے کو عوام کی طرف سے خوب سراہا گیا اور یہ ثابت ہوا کہ علمائے کرام میں آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں جن کے کردار معاشرے کے لیے مشعل راہ ہیں۔

    مگر چند دن بعد ایک اور واقعہ نے عوام کے دلوں میں پیدا ہونے والے اس مثبت احساس کو دھچکا پہنچایا۔ ایک مقامی مسجد میں جمعہ کی نماز کے دوران ایک نوجوان قاری نے خطبہ روک کر نمازیوں سے چندہ مانگنے کا عمل شروع کر دیا۔ انہوں نے نمازیوں کو مالی استطاعت کے مطابق تقسیم کیا اور کہا کہ پہلے وہ لوگ آئیں جو پانچ ہزار روپے دے سکتے ہیں پھر وہ جو ایک ہزار اور پانچ سو روپے دینے والے ہیں۔ یہ عمل نہ صرف مسجد میں موجود نمازیوں کے لیے شرمندگی کا باعث بنا بلکہ ان کی عزت نفس کو بھی مجروح کیا۔

    یہ رویہ نہایت افسوس ناک ہے کیونکہ مساجد وہ جگہ ہیں جہاں لوگوں کو سکون اور روحانیت کی تلاش ہوتی ہے نہ کہ معاشرتی دبا ئویا مالی تقاضوں کا سامنا۔ نمازی اپنی استطاعت کے مطابق چندہ دینے کو تیار ہوتے ہیں جو ایک خوش آئند روایت ہے لیکن اس طرح کے اعلانات اور دبا ئونمازیوں کو بدظن کر سکتے ہیں اور مسجد کی آبادی پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔

    اسلامی تعلیمات میں صدقہ اور خیرات کو پوشیدہ رکھنے پر زور دیا گیا ہے تاکہ کسی کی عزت نفس کو مجروح نہ کیا جائے۔ ایک حدیث میں سات ایسے افراد کا ذکر ہے جنہیں قیامت کے دن اللہ تعالی اپنی رحمت کے سائے میں جگہ دے گا اور ان میں ایک وہ شخص بھی ہے جو اس قدر پوشیدہ طریقے سے صدقہ کرے کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی معلوم نہ ہو کہ دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا۔

    مساجد اور ان کی ضروریات کے لیے چندہ جمع کرنا بلاشبہ ایک اہم عمل ہے، لیکن اس کا طریقہ ایسا ہونا چاہیے جو لوگوں کو سکون دے اور ان کی عزت نفس کا تحفظ کرے۔ مساجد کے لیے چندہ جمع کرنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ لوگ اپنی خوشی اور استطاعت کے مطابق خود پیش ہوں نہ کہ ان پر مالی دبائو ڈالا جائے یا ان کی استطاعت کو عوام کے سامنے ظاہر کیا جائے۔

    علمائے کرام کو چاہیے کہ وہ مساجد کے تقدس کو برقرار رکھنے کے لیے اس بات کو یقینی بنائیں کہ کوئی ایسا عمل نہ ہو جو نمازیوں کی دل آزاری کا باعث بنے۔ دینی قیادت کا کردار صرف عبادات کی امامت تک محدود نہیں بلکہ ان کے اعمال اور کردار سے لوگوں کے دلوں میں محبت، احترام، اور اعتماد پیدا ہونا چاہیے۔ مساجد کے تقدس کو قائم رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ چندہ جمع کرنے کے ایسے طریقے اپنائے جائیں جو نمازیوں کی عزت نفس کو مجروح نہ کریں اور انہیں عبادات کے لیے مساجد میں آنے سے بدظن نہ کریں۔

    یہ مسئلہ نہ صرف دینی قیادت بلکہ پوری مسلم کمیونٹی کے لیے غور و فکر کا متقاضی ہے۔ اگر مساجد کے ماحول کو محفوظ اور پر سکون بنایا جائے تو یہ جگہیں لوگوں کے دلوں کو سکون اور روحانی سکون فراہم کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔ علمائے کرام کے لیے لازم ہے کہ وہ مساجد کے تقدس کو برقرار رکھیں اور نمازیوں کی عزت نفس کا مکمل تحفظ کریں تاکہ لوگوں کا اللہ کے گھر پر اعتماد بحال رہے۔

  • پی ٹی آئی کا تبدیلی سے تباہی تک سفر میں "بشریٰ” کا اہم کردار

    پی ٹی آئی کا تبدیلی سے تباہی تک سفر میں "بشریٰ” کا اہم کردار

    پاکستان تحریک انصاف کسی زمانے میں تبدیلی کی علامت سمجھی جاتی تھی، لیکن اب یہ پارٹی ایک نئے بحران سے دوچار ہے اور تبدیلی سے پاکستان کی تباہی کا سفر بڑی کامیابی سے طے کر لیا ہے، عمران خان سے بشریٰ بی بی کی شادی ہونے کے بعد سے ہی تبدیلی کا سفر تباہی کے راستے پر چل پڑا تھا، بشریٰ بی بی، عمران خان کی اہلیہ اور پارٹی کی غیر رسمی حکمران شخصیت ہیں، جن کے اقتدار کا دائرہ اتنا وسیع ہو چکا ہے کہ وہ نہ صرف پارٹی کے اندر، بلکہ عمران خان کی سیاست پر بھی اثر انداز ہو رہی ہیں۔عمران خان کی رہائی کے لئے ڈی چوک جانے کی ضد، اور پھر وہاں سے فرار، اسکے بعد پارٹی اجلاس میں رہنماوں کے ساتھ بدتمیزی، ہر انگلی بشریٰ بی بی کی طرف اٹھ رہی ہے کہ بشریٰ بی بی نے پارٹی کو گھر سمجھ لیا ہے

    پی ٹی آئی سیکرٹری جنرل، معروف وکیل سلمان اکرم راجہ کا پارٹی عہدے سے استعفیٰ دینا ایک بڑے جھٹکے کے طور پر سامنے آیا ہے۔ سلمان اکرم راجہ، جو پی ٹی آئی کے قانونی معاملات میں اہم کردار ادا کر چکے تھے، کو بشریٰ بی بی نے زوم میٹنگ کے دوران انتہائی غلط انداز میں مخاطب کیا جس کا بشریٰ کو حق نہیں تھا کیونکہ بشریٰ کا پی ٹی آئی کورکمیٹی سے کوئی لینا دینا نہیں تھا لیکن وہ زبردستی اجلاس میں آئیں اور نہ صرف سلمان اکرم راجہ بلکہ سب پارٹی رہنماؤں کے ساتھ بدتمیزی کی، پارٹی رہنماؤں کو بے شرم، بے غیرت تک کہا،سب نے سن لیا لیکن سلمان اکرم راجہ بولے اور بشریٰ کو کھری کھری سنائیں، آج سلمان اکرم راجہ نے عمران خان سے جیل میں ملنے کی کوشش کی لیکن ملاقات نہ ہو سکی جس کے بعد وہ پارٹی عہدے سے مستعفی ہو گئے

    عمران خان، جو کبھی اپنی جماعت کے قائد اور محسن سمجھے جاتے تھے، اب پارٹی کے معاملات میں اپنی ناکامی کے ساتھ نظر آتے ہیں۔ ان کی خاموشی، یا شاید ان کی بے بسی، یہ واضح کرتی ہے کہ وہ بشریٰ بی بی کے سامنے بے بس ہیں اور پارٹی کے اندر ان کی مضبوط گرفت کو تسلیم کرتے ہیں۔حکومت میں رہ کر بھی بشریٰ بی بی ہی درحقیقت وزیراعظم تھی، عمران خان تو ڈمی تھے، جس طرح بزدار کو ڈمی وزیراعلیٰ کہا جاتا تھا اسی طرح عمران خان ڈمی وزیراعظم اور انکا کنٹرول بشریٰ بی بی کے پاس تھا، تمام احکامات بشریٰ بی بی صادر کرتیں اور عمران خان من و عن عمل کرتے،

    پارٹی کے اندرونی حلقوں سے یہ شکایات آئی ہیں کہ بشریٰ بی بی نے پارٹی کے فیصلوں میں دخل اندازی کی ہے اور کارکنان کے ساتھ بدسلوکی کی ہے۔ ان کی بڑھتی ہوئی طاقت اور پارٹی پر مکمل کنٹرول نے پی ٹی آئی کی جڑوں کو مزید کمزور کر دیا ہے۔ ان کا یہ طرز عمل تحریک انصاف کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہے جو عمران خان نے شروع کیے تھے۔بشریٰ کو تو عمران گھریلو عورت کہتے تھے لیکن دو دن غیر مردوں کے ساتھ ایک کینٹینر پر رہنا، کارکنان سے خطاب اور انہیں پھر ڈی چوک جانے پر ابھارنا کیا یہ کسی گھریلو عورت کا کام ہو سکتا ہے، اصل میں بشریٰ بی بی پی ٹی آئی پر مکمل کنٹرول چاہتی ہیں،حقیقت یہ ہے کہ بشریٰ بی بی نے پارٹی کی اندرونی سیاست کو ایک خاندان کی جاگیر بنا لیا ہے، جس میں صرف چند مخصوص افراد کو ہی اہمیت دی جاتی ہے، باقی سب کو نظرانداز کر دیا گیا ہے۔

    پاکستان تحریک انصاف نے 2018 کے انتخابات میں "انصاف” کا نعرہ لگایا تھا۔ عمران خان نے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ پاکستان میں کرپشن اور سیاست میں تبدیلی لائیں گے۔ مگر آج، تحریک انصاف نہ صرف اپنے وعدوں سے منحرف ہو چکی ہے بلکہ یہ ایک ایسی جماعت بن چکی ہے جس میں فیصلہ سازی اور طاقت کا مرکز ایک خاندان کے ہاتھ میں ہے۔ بشریٰ بی بی کی بڑھتی ہوئی مداخلت نے پارٹی کے اندر اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ پی ٹی آئی کا "انصاف” اب صرف ایک خواب بن کر رہ گیا ہے۔

    اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا تحریک انصاف واقعی ایک عوامی تحریک تھی یا صرف ایک خاندان کی جاگیر؟ اگر ہم پارٹی کے حالیہ فیصلوں اور بشریٰ بی بی کے اثرات کو دیکھیں تو یہ سوال جائز لگتا ہے۔ پارٹی کی قیادت میں موجود افراد کو اکثر نظرانداز کیا جاتا ہے، اور ہر اہم فیصلہ بشریٰ بی بی کے مشوروں یا ان کی مرضی کے مطابق لیا جاتا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف پارٹی کے اندر دھڑے بندی کی وجہ بنی ہے، بلکہ اس سے کارکنان کا اعتماد بھی ٹوٹ رہا ہے۔

    تحریک انصاف کی موجودہ حالت ایک جھوٹے انقلاب کی موت کا اعلان کرتی ہے۔ عمران خان نے تبدیلی کے نعرے کے تحت ایک ایسا وعدہ کیا تھا جس کے بارے میں آج ہر طرف سوالات اٹھ رہے ہیں۔ تحریک انصاف کی تباہی، بشریٰ بی بی کے اقتدار کی تفصیلات اور عمران خان کی خاموشی نہ صرف ایک سیاسی المیہ ہے بلکہ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ انقلاب کے نام پر ایک طاقتور طبقے نے پارٹی کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کیا۔یقیناً، یہ تحریک انصاف کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا ہے اور اس کے مستقبل پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا پی ٹی آئی اس بحران سے نکل پائے گی یا یہ پارٹی ایک خاندان کی سلطنت بن کر رہ جائے گی؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب وقت ہی دے گا۔

    پی ٹی آئی مظاہرین کے تشدد سے متاثرہ پنجاب رینجرز کے جوانوں کے انکشافات

    سروسز بیچنے والیوں سے مجھے یہ فتوی نہیں چاہیے،سلمان اکرم راجہ کا بشریٰ کو جواب

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

  • لاشوں کی سیاست،خوفناک کھیل.تحریر:وقار ستی

    لاشوں کی سیاست،خوفناک کھیل.تحریر:وقار ستی

    پاکستان کی تاریخ کئی سانحات کی گواہ ہے، لیکن کچھ سانحات ایسے ہیں جو زخم بن کر رہ جاتے ہیں، اور کچھ ایسی سازشیں جو قوم کے شعور پر حملہ کرتی ہیں۔ لاشوں کی سیاست، جسے آج کے دور کی سب سے مکروہ اور شیطانی حکمت عملی کہا جا سکتا ہے، ان ہی سازشوں میں سے ایک ہے۔ یہ سیاست کسی نظریے کی جنگ نہیں بلکہ خوفناک اور خطرناک سازش ہے، جس کا مقصد نہ صرف عوام کو گمراہ کرنا بلکہ ریاست کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنا ہے۔ 9 مئی اور 26 نومبر اس شیطانی کھیل کی دو بدترین اور واضع مثالیں ہیں، جو سیاست کے نام پر پاکستان کی سالمیت پر حملہ تھے۔

    9 مئی اور 26 نومبر کو تحریک انتشار کے نام نہاد رہنماؤں نے ایسا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جو ملک کو خانہ جنگی کی دہلیز پر لے جائے۔ ان کے منصوبے کا بنیادی مقصد تھا خون بہے، لاشیں گریں، اور اس فساد کو عالمی سطح پر پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے کے لیے استعمال کیا جائے۔ 9 مئی کو قومی املاک اور دفاعی تنصیبات پر حملے کیے گئے، جبکہ 26 نومبر کو قتل و غارت گری کے جھوٹے بیانیے کو فروغ دیا گیا۔ یہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی تھی، جس کا مقصد دنیا کو یہ دکھانا تھا کہ پاکستان ایک ناکام ریاست بن چکا ہے۔

    لاشوں کی سیاست کے اس کھیل کو ہوا دینے میں سب سے بڑا کردار ان ڈیجیٹل دہشت گردوں کا ہے، جو سوشل میڈیا پر جھوٹے بیانیے عام کرتے ہیں۔ یہ عناصر، جو بظاہر آزاد صحافت کے علمبردار بنتے ہیں، درحقیقت پاکستان کے دشمنوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔ ان کا مقصد نہ صرف عوامی شعور کو مسخ کرنا ہے بلکہ ریاستی اداروں کو کمزور کرنا بھی ہے۔ 26 نومبر کے بعد جھوٹے بیانیوں اور جعلی خبروں کا جو طوفان کھڑا کیا گیا، اس نے واضح کر دیا کہ یہ عناصر کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔

    تحریک انتشار کے رہنماؤں نے احتجاج کو پرتشدد بنانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا۔ علی امین گنڈا پور اور دیگر نے کھلے عام “مارنے اور مرنے” کی باتیں کیں، جبکہ اس مارچ سے قبل جو افغانی اسلحے سمیت گرفتار ہوئے انہوں نے ان کے ناپاک ارادوں کو بے نقاب کر دیاہے کہ یہ اسلحہ مظاہرین کے ہاتھوں قتل عام کے لیے استعمال کیا جانا تھا، تاکہ پاکستان میں بدامنی کی ایک ایسی لہر پیدا کی جا سکے جو قابو سے باہر ہو۔ سوال یہ ہے کہ کیا کسی مہذب معاشرے میں اس طرح کی دہشت گردی کو سیاست کہا جا سکتا ہے؟

    قانون نافذ کرنے والے اداروں نے نہایت پیشہ ورانہ حکمت عملی سے اس انتشار کو قابو کیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ کافی ہے؟ ان جھوٹے پراپیگنڈہ کرنے والوں، چاہے وہ سیاستدان ہوں صحافی ہوں یا سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ ہوں کو کب قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا؟ یہ عناصر پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنے کی سازش میں مصروف ہیں اور ان کے خلاف فوری اور سخت کارروائی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

    یہ جھوٹا پروپیگنڈہ صرف وقتی فساد نہیں بلکہ پاکستان کی ریاست کے لیے ایک طویل مدتی چیلنج بن سکتا ہے۔ اگر اس جھوٹ کو بے نقاب نہ کیا گیا تو یہ سازشی عناصر مستقبل میں مزید شدت سے حملہ آور ہو سکتے ہیں۔ یہ وقت ہے کہ حکومت،ریاست، عوام، اور میڈیا مل کر ان عناصر کے خلاف سخت موقف اپنائیں۔کیونکہ لاشوں کی سیاست دراصل پاکستان کی سالمیت پر ایک حملہ ہے۔ یہ کوئی معمولی سیاسی کھیل نہیں بلکہ ایک منظم عالمی سازش ہے، جس کا مقصد پاکستان کے تشخص کو نقصان پہنچانا ہے۔ قوم کو اس وقت اتحاد اور ہوشیاری کی ضرورت ہے۔ ان سازشوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا اور ان کے پس پردہ عناصر کو بے نقاب کرنا اور ذمہ دران کو سخت سزا دینا ہی پاکستان کے وقار اور استحکام کا واحد راستہ ہے۔ یہ وقت کسی نرمی یا رعایت کا نہیں بلکہ دشمنان وطن کو ہر محاذ پر شکست دینے کا ہے۔

    پی ٹی آئی مظاہرین کے تشدد سے متاثرہ پنجاب رینجرز کے جوانوں کے انکشافات

    سروسز بیچنے والیوں سے مجھے یہ فتوی نہیں چاہیے،سلمان اکرم راجہ کا بشریٰ کو جواب

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

    پیسے دے کر کہا گیا دھرنے میں جا کر آگ لگانی ،گرفتار شرپسندوں کے انکشاف

  • "یہ تمنا ہے کہ آزادِ تمنا ہی رہوں” .تحریر:مسکان احزم

    "یہ تمنا ہے کہ آزادِ تمنا ہی رہوں” .تحریر:مسکان احزم

    قدر اسی چیز کی ہے جو لاحاصل ہے۔ جو چیز ہاتھ میں آجائے وہ بے مول ہوجاتی ہے۔
    انسانی چاہت کی مثلت انہی تین زاویوں سے بنتی ہے:
    "لاحاصل سے حاصل اور حاصل سے دوبارہ لاحاصل۔”
    لگتا ہے کہ بہت کچھ پالیا ہے۔ لیکن دل کی خانہ ویرانی اکساتی رہتی ہے کہ نہیں۔ جو نہیں ہے، اسی کی چاہ ہے اور اس کے بغیر یہ دامن سمجھو کہ بہت خالی ہے تو پھر چاہے دنیا بھر کی خوشیاں ڈال دو اس میں۔
    پیچھے مڑ کر دیکھوں تو اکثر سوچتی ہوں کہ کبھی میں چاہتی تھی کہ مجھے فلاں چیز مل جائے۔ تو جب وہ مل جاتی تھی تو دل میں کسی اور چیز کی خواہش جاگ جاتی تھی۔ جب وہ ملتی تھی تو پھر اگلی۔ ختم نہ ہونے والا ایک طویل سلسلہ جس کا شاید کوئی انت ہی نہیں۔
    سنا تھا کہ انسان کا پیٹ نہیں بھرتا، ہمارا تو دل بھی نہیں بھرتا۔ مجال ہے جو بس ایک تمنا پوری ہوجانے پر راضی ہوا ہو۔
    آگے سے آگے کی چاہ ٹھہراؤ نہیں آنے دیتی۔ ذرا سا پڑاؤ ڈال لیا جائے ،تو کیا برا ہے؟
    لیکن اب کوشش ہے کہ دل کی تمناؤں کو محدود کردیا جائے۔ ٹھہر لیا جائے، رک کر سانس لے لیا جائے۔ پڑاؤ ڈال کر دیکھ لیا جائے کہ جو خواہش کے علاوہ مل رہا ہے وہ کتنا بہترین ہے۔ وہ جو اللہ اپنی چاہت سے ہمیں نواز رہے ہیں، اس میں کتنی خیر ہے۔
    بس اب:
    "یہ تمنا ہے کہ آزادِ تمنا ہی رہوں”
    مسکان احزم

  • 8 فروری 2025 کو منعقد ہونیوالے عالمی مشاعرے کی تیاریوں کا جائزہ اجلاس

    8 فروری 2025 کو منعقد ہونیوالے عالمی مشاعرے کی تیاریوں کا جائزہ اجلاس

    عالمی مشاعرہ کمیٹی کا خصوصی اجلاس جہانگیر خان اسپورٹس کمپلیکس، کشمیر روڈ، کراچی میں شام 6 بجے منعقد ہوا۔ اس اجلاس کا مقصد 8 فروری 2025 کو منعقد ہونے والے عالمی مشاعرے کی تیاریوں کا جائزہ لینا، اس کی تشہیر کے لیے حکمت عملی مرتب کرنا، اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی تجاویز کو شامل کرنا تھا۔

    اجلاس میں کمیٹی کے معزز اراکین، کاروباری برادری کے نمائندوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھرپور شرکت کی۔ حاضرین نے مشاعرے کی کامیابی کے لیے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی اور اس کے انتظامات کو بہتر بنانے کے لیے مفید تجاویز بھی پیش کی گئیں ۔ شرکاء محفل نے مشاعرے کے پیغام کو زیادہ سے زیادہ افراد تک پہنچانے کے لیے ڈیجیٹل اور روایتی ذرائع ابلاغ کے مؤثر استعمال پر زور دیا۔ اس کے ساتھ مہمان شعراء کی فہرست کو جلد حتمی شکل دینے، سامعین کے لئے آرام دہ سہولتوں کی فراہمی، اور مشاعرے کے دوران اعلیٰ معیار کے آلات کے استعمال کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔ مشاعرے کی لائیو اسٹریمنگ کے ذریعے عالمی سطح پر اس کے پیغام کو پھیلانے کی تجویز کو بھی سراہا گیا۔

    کاروباری برادری کے نمائندوں جناب ایس ایم تنور، ریاض احمد (مکہ مکرمہ) جناب خالد تواب، جناب میاں زاہد، جناب حنیف گوھر، جناب نوید بخاری، جناب زبیر چھایا، جناب جنید نقی اور دیگر نے اس مشاعرے کی کامیابی کے لیے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کروائی اور اسپانسرشپ کی پیشکش بھی کی۔ اس تعاون سے مشاعرے کی تیاریوں کو مزید تقویت ملےگی ۔ اجلاس کے دوران ایک مختصر مشاعرے کا بھی انعقاد کیا گیا، جس میں شعراء نے اپنے کلام سے حاضرین کو محظوظ کیا۔ یہ مختصر مشاعرہ نہ صرف اجلاس کے شرکاء کے لیے ایک یادگار لمحہ تھا بلکہ عالمی مشاعرے کے لئے ایک خوبصورت پیش خیمہ بھی ثابت ہوا۔

    جن شعرا کرام نے اپنا کلام پیش کیا ان کے نام یہ ہیں ۔
    صدف بنت اظہارِ ۔ہدایت سائر۔ ظفر بھوپالی۔طارق سبز واری۔ سلیم فوز اور ڈاکٹر شاداب احسانی شامل ہیں۔

    اجلاس میں مشاعرے کی کامیابی، ملک و قوم کی ترقی، اور ادب کے فروغ کے لئے خصوصی دعا کی گئی۔ اس موقع پر کئی معزز شخصیات نے اپنی موجودگی سے اجلاس کی رونق کو دوبالا کیا، جن میں حاجی رفیق پردیسی، فرحان الرحمان، شیخ راشد عالم، خالد جمیل شمسی، فیصل ندیم، ندیم معاز جی، عارف شیخانی، ڈاکٹر شاہ فیصل، انجینئر تنویر احمد، ندیم شیخ ایڈووکیٹ، خالد فرشوری، ظفر بھوپالی، محمود راشد۔ ہما۔بخاری اور عارف زبیری شامل ہیں۔

    یہ اجلاس عالمی مشاعرے کی تیاریوں کے لیے ایک اہم پیش رفت ثابت ہوا اور اس کے کامیاب انعقاد کے امکانات کو مزید روشن کر دیا۔ شرکاء کی دلچسپی اور تعاون سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ 8 فروری 2025 کو منعقد ہونے والا عالمی مشاعرہ ایک تاریخی اور یادگار ادبی تقریب ہوگی، جو پاکستانی ادب اور ثقافت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔
    رپورٹ ۔۔
    صدف بنت اظہار ۔
    مکتبہ حیدری پاکستان کراچی ۔

  • انتشار،فساد،پی ٹی آئی کا وطیرہ

    انتشار،فساد،پی ٹی آئی کا وطیرہ

    پاکستان کی سیاست میں ایک طرف جہاں جمہوریت کی مضبوطی کے لئے عوامی حمایت کی ضرورت ہے، وہیں دوسری طرف سیاسی جماعتوں کے کچھ ارکان اور رہنما اپنے ذاتی مفادات کی خاطر اداروں اور عوام کے ساتھ دشمنی کی فضا پیدا کرتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے مختلف مواقع پر احتجاج اور شور شرابے کا سلسلہ جاری رہا ہے، جس میں ملک میں عدم استحکام اور تشویش پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ ان احتجاجات کا مقصد حکومت پر دباؤ ڈالنا یا سیاسی مخالفین کو کمزور کرنا ہوتا ہے، لیکن ان مظاہروں میں پُرتشدد واقعات اور غیر قانونی سرگرمیاں بھی سامنے آئی ہیں۔

    حال ہی میں پی ٹی آئی کی جانب سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں فساد برپا کرنے کی کوشش کی گئی۔ پی ٹی آئی نے اپنی سیاسی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لئے جدید ترین اسلحہ سے لیس شرپسندوں کو اسلام آباد بھیجا، جہاں ان لوگوں کا مقصد صرف دھرنا دینا نہیں تھا بلکہ 2014ء کی طرح پارلیمنٹ ہاؤس پر قبضہ کرنا تھا۔ 2014ء میں بھی پی ٹی آئی کے کارکنوں نے پارلیمنٹ اور سرکاری ٹی وی پر حملہ کیا تھا، جو ایک سنگین قدم تھا اور جس نے ملکی جمہوریت کو نقصان پہنچایا تھا۔پی ٹی آئی کی سیاست میں پرتشدد احتجاج ایک معمول بن چکا ہے۔ پارٹی کے کارکنوں نے نہ صرف سڑکوں پر تشدد کی راہ اپنائی، بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر بھی حملہ کیا۔ 9 مئی 2023 کو پی ٹی آئی کے کارکنوں نے فوجی تنصیبات اور دیگر حساس مقامات پر حملے کیے، جس سے ملک میں افراتفری پھیل گئی۔ یہ حملے پاکستان کے قومی سلامتی کے اداروں کی تضحیک کرنے اور ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے کی کوشش تھے۔

    پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنوں کا یہ رویہ نہ صرف غیر جمہوری ہے بلکہ ایک ایسی سیاست کی عکاسی کرتا ہے جس میں طاقت اور تشدد کو جواز بنا کر سیاسی مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ پارلیمنٹ ہاؤس پر حملے اور سرکاری ٹی وی پر قبضے کی کوششیں اس بات کا غماز ہیں کہ پی ٹی آئی کی سیاسی حکمت عملی میں پُرتشدد طریقے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔2014ء میں پی ٹی آئی نے اسلام آباد میں دھرنا دیا تھا، جس میں پارٹی کے رہنماؤں نے پارلیمنٹ ہاؤس اور دیگر حکومت کی عمارتوں کو گھیر لیا تھا۔ یہ دھرنا طویل عرصے تک جاری رہا، جس کی وجہ سے حکومتی اداروں کے کاموں میں خلل آیا اور ملک کے آئینی نظام کو نقصان پہنچا۔ اگرچہ اس دھرنے میں پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے اپنے مطالبات کی حمایت میں عوامی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن ان کے اقدامات نے پاکستان کی جمہوری روایات اور آئین کی بالادستی کو چیلنج کیا تھا۔

    اب، 2024ء میں، پی ٹی آئی نے دوبارہ اسلام آباد میں فساد برپا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس مرتبہ ان کے احتجاج کا مقصد وفاقی حکومت کو کمزور کرنا اور اپنی سیاسی پوزیشن کو مستحکم کرنا تھا۔ تاہم، ایسے احتجاجوں سے نہ صرف ملک کی معیشت کو نقصان پہنچا بلکہ عوام کی زندگی بھی متاثر ہوئی۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں پہلے ہی معیشتی مشکلات اور سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے، ایسے غیر قانونی اقدامات ملکی استحکام کو مزید نقصان پہنچاتے ہیں۔ایک اور تشویش کی بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی نے خیبر پختونخواہ کی حکومت کے سرکاری وسائل کا استعمال کر کے احتجاج کو مزید منظم اور طاقتور بنانے کی کوشش کی۔ خیبر پختونخواہ میں حکومت کا اقتدار رکھنے والی پی ٹی آئی نے ریاستی وسائل کا استعمال کر کے عوامی احتجاج کی شدت بڑھانے کی کوشش کی۔ اس سے نہ صرف حکومت کی انتظامیہ پر بوجھ بڑھا، بلکہ اس کے ذریعے ملک کی سیاسی فضا میں مزید تلخی پیدا ہوئی۔

    اس احتجاج کا ایک اور اہم پہلو یہ تھا کہ بانی پی ٹی آئی، عمران خان، کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی نے اپنے رہنما کی رہائی کے لیے پرتشدد احتجاج کیا۔ عمران خان پر بدعنوانی اور کرپشن کے سنگین الزامات ہیں، اور ان کے خلاف کئی مقدمات زیرِ سماعت ہیں۔ ان پر کرپشن کے الزامات کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں، اور ان کی رہائی کے لئے کیے گئے احتجاجات دراصل ان مقدمات سے بچنے کی ایک کوشش ہیں۔بانی پی ٹی آئی کے وکلاء نے ان کے خلاف چلنے والی سماعتوں میں تاخیر پیدا کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ عمران خان کے مقدمات کو طول دیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی، ان پر لندن میں ضبط شدہ رقم کو وائٹ منی میں تبدیل کرنے کا الزام بھی ہے۔ ان الزامات سے متعلق ایک اہم پہلو یہ ہے کہ پی ٹی آئی نے اس نوعیت کے معاملات کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا۔

    کسی بھی جمہوری ملک میں ایسے پرتشدد احتجاج اور سیاسی عدم استحکام کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ پاکستان میں جمہوری اداروں کی مضبوطی اور آئین کی بالادستی کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کو پرامن طریقے سے اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کرنی چاہیے۔ پی ٹی آئی کا پرتشدد احتجاج اور سیاسی مقاصد کے لئے غیر قانونی حربوں کا استعمال ایک تشویش کا باعث ہے۔ اس کے باوجود، پاکستان کے عوام اور ادارے ہمیشہ ان قوتوں کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہوئے ہیں جو ملک کے آئینی اور جمہوری اصولوں کو چیلنج کرنے کی کوشش کرتی ہیں

  • قوم منتشر،سیاستداوں کے کردار کی ضرورت.تجزیہ:شہزاد قریشی

    قوم منتشر،سیاستداوں کے کردار کی ضرورت.تجزیہ:شہزاد قریشی

    بے یقینی ، مایوسی ،فساد ،انتشار وطن عزیز کے گلشن میں کانٹے بکھیرنے کا کام جو جاری ہے ہر طرف کانٹے بکھیرے جا رہے ہیں۔ سیاسی گلیاروں میں تماش بین افراد کی تعداد میں اضافہ ہوچکا ہے ۔ بین الاقوامی دنیا میں ملک کے وقار، اس کی عزت کو داغدار کیا جا رہاہے ۔ قوم منتشر ہو چکی ہے ۔ منتشر قوم کے لئے نواز شریف، مولانا فضل الرحمان ، جماعت اسلامی ، پیپلزپارٹی میں موجود بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے ہمسفر افراد اور دیگر سنجیدہ سیاستدان اپنا کردارادا کریں ۔پی ٹی آئی کی سنجیدہ قیادت کے ساتھ مذاکرات کا راستہ تلاش کریں۔ نواز شریف خود اس وطن عزیز کی عزت اور وقار کے لئے میدان میں نکلیں ۔ قیادت کریں سیاسی راہنمائوں کے دروازے پر دستک دیں- انہیں ایک جگہ جمع کریں وطن عزیز میں ترقی کے لئے جمہوریت کو مستحکم کرنے کے لئے آئین اور قانون کی حکمرانی کے لئے ۔ ملک کے معاشی حالات کیا ہیں ؟ سب جانتے ہیں ان حالات میں ملک کسی انتشار اور فساد ،قتل وغارت کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔

    کیا تخلیق پاکستان کا مقصد یہی تھاکہ یہاں بے روزگاری ،لاقانونیت ،ناانصافی ، بدانتظامی ، منافقت ، ملاوٹ ، ناجائزمنافع خوری ، اقربا پروری ، بے اصولی ، کرپشن کو فروغ دیا جائے ؟نہیں ،نہیں پاکستان اس کے لئے نہیں بنایا گیا تھا ہرگز نہیں خدا را بابائے قوم بزرگوں ،لاکھوں شہداء کی روحوں کو اتنا نہ تڑپائو ۔ اللہ کا خوف دلوں میں پیدا کرو۔ تبدیلی اور حقیقی انقلاب اور حقیقی آزادی والی جماعت سے گزارش ہے پاکستان کا قیام بذات خود ایک بہت بڑا انقلاب تھا محض نعرہ نہیں تھا ،پوری وضاحت کے ساتھ اس انقلاب کے مقاصد تھے۔بھارت سے مسلمانوں نے ہجرت کی ،سر کٹوائے ، گھر بار چھوڑے ، یہ سب انقلابی تھے جو بابائے قوم کی صاف ستھری اور بہادر قیادت میں انقلاب لے کر آئے پاکستان کی صورت میں اس گلشن میں کانٹے بکھیرنے کی بجائے اس گلشن کو آبادرکھنے میں اپنا کردار ادا کریں۔قصر دل میں نرم گوشہ رکھنے والے ہی دلوں پر راج کرتے ہیں ۔کائنات کی خوبصورتی حسن اخلاق میں ہے۔ چنگیز خان ،ہلاکو اور ہٹلر نے توانسانیت کا خون بہایا تھا اچھے الفاظ کی خوشبو سے ہی قبائے دل میں خوبصورت پھول کِھلتے ہیں