Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پاکستان کے ایٹمی اثاثے، سازشیں اور بلاول کا انتباہ

    پاکستان کے ایٹمی اثاثے، سازشیں اور بلاول کا انتباہ

    پاکستان کےایٹمی اثاثے، سازشیں اور بلاول کا انتباہ
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستان کی سیاست ایک بار پھر بین الاقوامی سازشوں اور اندرونی کشمکش کے گرد گھوم رہی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گڑھی خدا بخش میں بینظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے جو نکات اٹھائے، وہ نہ صرف موجودہ حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کا عکاس ہیں بلکہ عالمی قوتوں کی پاکستان کے ایٹمی اور میزائل پروگرام پر نظریں جمانے کی کوششوں کا پردہ بھی چاک کرتے ہیں۔

    بلاول بھٹو زرداری کے خطاب کا اہم نکتہ یہ تھا کہ حالیہ امریکی پابندیاں محض ایک بہانہ ہیں، اصل نشانہ پاکستان کا ایٹمی اور میزائل پروگرام ہے۔ ان کا یہ بیان پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کے لیے ایک واضح تنبیہ ہے کہ عالمی قوتیں کسی مسلمان ملک کو ایٹمی طاقت کے طور پر قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ بلاول نے تحریک انصاف کے بانی عمران خان کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ محض ایک بہانہ ہیں جبکہ اصل مقصد پاکستان کے اسٹریٹجک اثاثے ہیں۔

    چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ملک کے خلاف تیار ہونے والی بین الاقوامی سازش کا مقابلہ کرنے کے لیے سیاست کو ایک طرف رکھ کر پاکستان اور اس کا دفاع کا سوچنا پڑے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ آج کل پاکستان کے مخالفین شہید ذوالفقارعلی بھٹو اورشہید بینظیر بھٹو کے دیئے ہوئے میزائل ٹیکنالوجی کے تحفے کو میلی آنکھ سے دیکھ رہے ہیں، ان کی خواہش ہے کسی مسلمان ملک کے پاس ایسی قوت نہ ہو اور وہ کسی بہانے سے آپ کی یہ طاقت چھننا چاہتے ہیں۔

    بلاول بھٹو نے امریکا کی جانب سے پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی پر پابندیوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کے ہوتے ہوئے ہم اپنے ایٹمی اثاثوں اور نہ ہی میزائل پروگرام پر کسی قسم کی سودے بازی نہیں ہونے دیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ مختلف ممالک ہماری اندرونی سیاست کے اوپر بیان دے رہے ہیں لیکن یہ سب کچھ بہانہ ہے اور کسی کو پاکستان کی جمہوریت کے بارے میں کوئی فکر نہیں ہے، عمران خان صرف بہانہ ہے اصل میں نشانہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام اور میزائل ٹیکنالوجی ہے۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ عمران خان کو واضح کرنا چاہیے کہ آئے روز ان کی حمایت میں بیان دینے والے وہی لوگ نہیں ہیں جو پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف ہیں؟ انہیں جواب دینا چاہیے کہ یہ بانی پی ٹی آئی کے حق میں کیوں بول رہے ہیں؟انہوں نے عمران خان اور ان کی جماعت سے مطالبہ کیا کہ وہ ان بیانات کی مذمت کریں جو پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف ہیں۔ بلاول نے پی ٹی آئی کی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسرائیل کے حق میں آواز اٹھانے والوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور یہ صورتحال عوام کے لیے سوالیہ نشان ہے۔

    یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ بلاول بھٹو زرداری نے بین الاقوامی سازشوں کا ذکر کیا ہو۔ ان کے والد آصف علی زرداری اور نانا ذوالفقار علی بھٹو بھی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے محافظ رہے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو نے ایٹمی پروگرام کو اسلامی بم کا نام دیا اور اس کی بنیاد رکھی جبکہ بے نظیر بھٹو نے میزائل ٹیکنالوجی متعارف کرائی۔ بلاول نے اپنی تقریر میں یہ واضح کر دیا کہ پیپلز پارٹی پاکستان کے ایٹمی اور میزائل پروگرام پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔

    بلاول کا یہ کہنا کہ سیاسی کٹھ پتلیاں ایٹمی اثاثوں پر سودے بازی کے لیے تیار رہتی ہیں، ایک سنگین الزام ہے جو موجودہ اور ماضی کی حکومتوں کی سمت پر سوالیہ نشان لگاتا ہے۔ ان کا یہ بیان کہ “ہم نہ سلیکٹڈ ہیں اور نہ ہی فارم 47 والے”، ایک خودمختار اور غیرجانبدار سیاسی جماعت کے دعوے کی تائید کرتا ہے۔

    پیپلز پارٹی کی حکومت سازی میں مصالحت کی پالیسی اور اجتماعی فیصلوں کی اہمیت پر زور بلاول کی سیاسی بصیرت کو اجاگر کرتا ہے۔ انہوں نے حکومت پر یکطرفہ فیصلوں کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اتفاق رائے سے کیے گئے فیصلے ہی مضبوط اور دیرپا ہوتے ہیں۔ یہ ایک ایسا اصول ہے جس پر عمل کرنے سے پاکستان کے سیاسی نظام میں استحکام آ سکتا ہے۔

    بین الاقوامی سازشوں کے حوالے سے بلاول نے کہا کہ ہمیں ایک ہونا پڑے گا اور سیاست کو ایک طرف رکھ کر پاکستان کے مفادات کو ترجیح دیناہوگی۔ یہ ایک ایسا پیغام ہے جو موجودہ سیاسی حالات میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

    پاکستان کے عوام اور سیاسی قیادت کے لیے یہ وقت اتحاد اور یکجہتی کا ہے۔ اگر ہم نے اپنی اندرونی کشمکش اور سیاسی اختلافات کو ختم نہ کیا، تو بین الاقوامی سازشیں ہمیں نقصان پہنچانے میں کامیاب ہو سکتی ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری کا خطاب اس بات کی یاد دہانی ہے کہ پاکستان کو مضبوط اور خودمختار رکھنے کے لیے ہمیں اپنی ترجیحات کو قومی مفادات کے مطابق ترتیب دینا ہوگا۔

  • کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟چوتھی قسط

    کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟چوتھی قسط

    کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟
    ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    قسط کا خلاصہ
    سرائیکی قصے، جو ماضی میں نسلوں کے شعور کو جلا بخشتے رہے، آج بھی اتنے ہی اہم ہیں۔ سرائیکی زبان و ادب کے نامور محققین کے مطابق، یہ قصے سرائیکی وسیب میں ترقی و خوشحالی کے ضامن ہیں۔ قصوں نے انسانیت کو شرافت، صداقت، اور دیانت کے اصولوں پر قائم رہنے کا درس دیا ہے۔ سرائیکی لوک قصے ہمیں یہ یقین دلاتے ہیں کہ وہ ہمیشہ انسانی زندگی کے لیے رہنمائی کا ذریعہ رہیں گے۔
    چوتھی و آخری قسط
    اب ہم قصےکتابوں،انٹر نیٹ،،فلموں،ڈراموں،تھیٹر،سینما گھروں،ویڈیو گیمز اور ریڈیو کے ذریعے نہ صرف سنتے ہیں بلکہ دیکھتےاور محسوس بھی کرتے ہیں،گویا قصے کے ہم خود زندہ جاوید کردار ہیں۔خود قصے کی دنیا میں جی رہے ہوں۔ یہ سب کچھ "فکشن” افسانوی ادب کے نام سے جانا جاتا ہے۔اس طرح قصہ گوئی کا فن آج بھی زندہ ہے۔اور نئی نئی شکل اختیار کر رہا ہے۔قصوں کی کی داستان نے انسانیت کی مشترکہ آواز کے طور پر حضرت انسان کے ارتقاء میں ایک بنیادی کلیدی کردار ادا کیا ہے۔یہ صرف تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ قصے نےانسان کی زبان،ادب،شعور، فنون لطیفہ، اخلاقی اقدار،سلیقہ،ریتروایت،علمی،روحانی،شناخت،ثقافت اور سوسائٹی،قوم و ملک کی تشکیل نو میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے اور کرتا رہےگا۔

    پہلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

    کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟
    قصولیوں کی پہلی ادبی بیٹھک ہی انسانوں کی پہلی یونیورسٹی کہلائی۔جہاں سے علوم کی فنی مہارتوں کے سیکھنے اور تعلیمی تربیت کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ماں کی گود میں بچہ سکون واطمینان قلب کا خوبصورت پہلاں مٹھاس بھری آواز میں قصے کے الفاظ ہی سنتا ہے۔قصے نے انسان کی سوچ کو پروان چڑھایا،تخلیقی صلاحیتوں کو تقویت بخشی اور تاریخ کو محفوظ کیا۔

    دوسری قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟
    مختلف زبانوں اور ثقافتوں کے تنوع سے بھریل لوک قصے ہی اپنی منفرد روایت اور پہچان رکھے ہوئےہیں۔انسانوں کےمشترکہ تجربات ومشاہدات ہم تک مختلف انداز میں قصے کی بدولت پہنچےہیں۔مثلاً، یونانی دیوتاؤں کی قصے،جہاں دیوی دیوتاؤں کو انسانوں کی طرح ہی جذبات اور کمزوریاں حاصل تھیں،ہندو متھالوجی و فلسفہ کے قصےجو روحانیت اور کائنات کے رازوں پر زیادہ زور دیتے ہیں،افریقی لوک قصے جن میں جانور اکثر انسانی کردار ادا کرتے ہیں اور اخلاقی سبق دیتے ہیں۔جاپانی تہذیب وتمدن سے جڑے لوک قصےجو فطرت اور انسان کے رشتے کو ایک مختلف تناظر میں پیش کرتے ہیں۔عبرانی و عربی زبان کے مہان کلاسیکل لوک قصے جیسا کہ "الف لیلہ ولیلہ(ایک ہزار ،ایک راتیں)” یہبادشاہوں،ملکہ،شہزادیوں،ملوک زادیوں،وزیروں،غلاموں اور سحر و جادو کے دلچسپ قصے جو ایک نئی دنیا سے روشناس کراتے ہیں۔

    تیسری قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

    کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟
    چائنیز وذڈم سے مالا مال قصے، جس میں ڈریگن اور اژدہاؤں کا ذکر ہے یہ طاقت،ترقی،خوشحالی اور قدرتی قوتوں کی علامت ہیں۔اہل فارس کی روحانی کرامتوں کے قصے،نیز خواجہ غلام فرید کی سرائیکی شاعری، کنفیوشس،شیخ سعدی،رفعت عباس کی تعلیمات پر مبنی حکایتیں جو ہمیں اخلاقیات اور حکمت سکھاتی ہیں۔یہ مختلف سلیقے،انداز اور نقطہ نظرہمیں کامیاب حیاتی گزارنے اور کائنات کے پر اسرار رازسمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔ قصے صرف تفریح نہیں بلکہ کسی قوم کی حقیقی معنوں میں میری سوچ کے مطابق تہذیب وتمدن، تاریخ، ثقافت کا آئینہ بھی ہوتےہیں۔جو ان کی سوچ،تربیت، عقائد،رسوم و رواج روایات اور ادب و فکری علوم کو بڑی خوبی سے بیان کرتے ہیں۔یہ مختلف انداز اور نقطہ نظر سے ہماری رہنمائی بھی کرتے ہیں۔

    مقامی سرائیکی قصوں کی روایت نے انسان کو ایک دوسرے سے جوڑنے اور دنیا کو سمجھنے کا ایک زبردست ذریعہ عطاء کیا ہے ۔قصے کیا ہمیشہ زندہ رہیں گے؟۔جی ہاں، جب تک دنیا ہے، امید ہے، محبت ہے اور اس کی رنگولی ہے قصے بھی زندہ رہیں گے ۔قصے عظیم مخلوق حیوان ناطق انسانوں ایک دوسرے سے رشتہ جوڑنے اور معاشرہ کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتے رہیں ہیں اور کرتے رہیں گے۔مگر دوسرے رخ سے انہی قصوں کی وجہ سے آپس میں جنگیں،لڑائیاں،نفرتیں اور سوسائٹی میں توڑ پھوڑ اور خون خرابا کی نوبتیں سامنے آئیں ہیں۔مگر ہمیشہ قصے کے حقیقی نتائج و تعلیمات فلسفہ امن و تربیت،کامیابی،بھلائی،فلاح انسانیت اور رشدوہدایت ہی رہے ہیں۔

    قصوں میں شر کی شکست ہی احترام آدمیت کی بقاء ہے۔قصہ مثبت اثبات و اثرات کا خوبصورت تذکرہ ہے۔نیکی و نصیحت کا باکمال ہنر قصہ گری ہے۔سرائیکی قصہ سرائیکی قوم کی اجتماعی یادداشت ہے۔اس نے ہر حملہ آور کا آدر کیا ہے۔دینی اور قومی قصے خاص طور پر اس حوالے سے مضبوط مثالیں ہیں۔سرائیکی زبان و ادب کے حکمت و دانش سے لبریز لوک قصے حقیقت،تخیلات، وہم، سچ اور جھوٹ، اچھا اور برا، محبت اور نفرت یعنی ماضی، حال اور مستقبل کے بارے سب کچھ علم و تربیت کے مخفی ظاہری راز اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہیں۔ قصوں میں انسانوں کے سماجی و اخلاقی اقدار کی عملی مثالی تصاویر موجود ہیں۔قدرت قصہ،کہانیوں،داستانوں اور افسانوں کو ایک طرف تو ہمارے لیے ایک قیمتی اثاثہ بناتی ہے اور دوسری طرف ایک پیچیدہ مسئلہ بھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے بارے میں سوالات جنم لیتے ہیں کہ انسان کے مستقبل میں ان قصوں کا کیا رول ہونا چاہئے یا ہوگا۔

    سوال یہ ہے؟کیا اب آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور ڈیجیٹل سوشل میڈیا دور میں قصوں کی اہمیت و افادیت کم ہو جائے گی؟اورکیا موجودہ انسانی صدی قصوں کی آخری صدی کہلائےگی؟اس کا فیصلہ تو آنے والا وقت ہی کرے گا ۔مگر آج بھی قصوں کی اہمیت کم نہیں ہوئی۔آج بھی ہم قصے سننا اور پڑھنا پسند کرتے ہیں اور سینما گھروں میں فلموں کی نمائش دراصل انسانی قصے کی شعوری پختگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ہالی وڈ،لولی وڈ ،بالی وڈ موجود فلم انڈسٹریز قصوں کی عملی دنیا ہے۔قصے نے نیوز یعنی نارتھ،ایسٹ،ویسٹ، ساوتھ مشرق،مغرب،شمال جنوب کی فنی مہارتوں کو سیکھنے،دیکھنے،پڑھنے اور لکھنے کے عمل کو فروغ دیا۔ہمارے بہت سے تصورات و نظریات انہی قصوں اور افسانوں کی بنیاد پر بنے ہیں اور اسی لیے قصے کو دنیا میں سب سے طاقتور اور آسان فہم میڈیم سمجھا جاتا ہے۔

    سرائیکی لوک قصہ جس نے چھ ہزار سال قدیم ماں وادی ہاکڑہ تہذیب وتمدن اور بیٹی وادی سندھ تہذیب وتمدن کے ساتھ ہم عصر و ہم پلہ میسوپوٹومپیا سمیرین اور مصری اہرامی تہذیب وتمدن کے اعلی شعور کے ساتھ دنیا کو زندگی گزارنے کا سلیقہ اور نصیحت و وصیت کا عملی کامیاب نصاب مہیا کیا ہے۔سرائیکی لوک قصوں کی وذڈم کی حفاظت کرنے والے روہی چولستان، دمان پہاڑ، تھل،راوا ،میدان،دریائی و سمندری،ہڑپہ،جلیل پور،ہڑنڈ،سوئی وہاڑ،پتن منارہ، مہرگڑھ ،موہنجوداڑو،رحمان ڈھیری،بلوٹ قلعہ، ملتان شریف، اوچ شریف سمیت سرائیکی قدیم گنویری والا شہر کےقصولیوں کی طرح دنیا کے ہر قصولی کےتحفظ و مراعات کے لیے اقوام متحدہ آثارقدیمہ ریسرچ اداروں اور حکومت پاکستان کی طرح ہرملک کی حکومت کو ہنگامی بنیادوں پر اپنے لوک ورثے کے تحفظ کیلئے اقدامات اٹھانا ہوں گے۔ورلڈ آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹس کو گنویری والا شہر پر ہاکڑہ یونیورسٹی بنانا ہوگی۔

    امن و تصوف کے روحانی قصے کی افادیت و تحفظ کی عملی ضمانت کیلئےحضرت سید جلال الدین حیدر سرخ پوش بخاری ع صوفی ازم اینڈ آرکیالوجی سائنس یونیورسٹی ورلڈ ہیرٹیج سٹی اوچ شریف میں فوری قائم کرنا ہوگی۔غزہ،دمشق،یوکرائن اور کشمیر سمیت دنیا کے ہر کونے سے جنگ ونفرت کے قصے کو ختم کرکے امن،رواداری،خوشحالی اور تصوف کے قصے کو عالم میں پھر سے عام کرنا ہوگا۔ورنہ نئی نسل اپنے قومی ورثے سے محروم رہ جائے گی۔شاید اپنی بقاء کا تحفظ بھی نہ کرسکے۔
    ختم شد

  • معذرت کے ساتھ، پاکستان سیاسی محاذ پر سیاسی یتیم ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    معذرت کے ساتھ، پاکستان سیاسی محاذ پر سیاسی یتیم ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    2024 غزہ کو لے کر دیگر اسلامی ممالک کے لئے ایک خوفناک سال رہاہے۔ پاکستان کو ان ممالک کے حالات کو مد نظر رکھ کر بالخصوص پاک فوج اور جملہ اداروں کو چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ اسلامی ممالک کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو ان ممالک میں وہ آوازیں بند ہو چکی ہیں یا کر دی گئی ہیں جن کی وجہ سے یہ ممالک محفوظ تھے، کسی زمانے میں عراق میں صدام حسین کی گرج تھی تو لیبیا میں کرنل قذافی کی للکار ،ایران میں آیت اللہ خمینی کا وقار تھا۔ سعودی عرب میں شاہ فیصل ایک فراخدل انسان تھے۔ فلسطین میں یاسرعرفات ۔آج اسلامی ممالک کے حالات اقوام عالم کے سامنے ہیں۔ پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو ، محترمہ بے نظیر بھٹو نہیں جو عالمی قوتوں کو دھمکی کا جواب دے سکیں۔ نواز شریف کی جگہ اُن کے بھائی نے لے لی ہے ۔ اسی طرح دوسری سیاسی و مذہبی جماعتوں میں وہ شخصیات ہیں جن کی آواز میں وہ طاقت نہیں جو عالمی قوتیں دب جائیں۔

    موجود خطرناک حالات میں عسکری قیادت کو ملکی سلامتی کے لئے تمام ممکنہ اقدامات خود ہی کرنا ہوں گے۔ اس وقت ملک کو داخلی اور خارجی دبائو سے بچا کر رکھنا سیاسی جماعتوں کے بس کی بات نہیں۔ ملک کی موجودہ سیاست کی تصویر دنیا میں کہیں نہیں ،یہ کیسے سیاستدان ہیں ایک دوسرے کو غدار اور عالمی قوتوں کے ایجنٹ قرار دیتے نہیں تھکتے۔ بلاول بھٹو نےنواز شریف کو مودی کا یار ،آج کل عمران خان کو اسرائیل کا یار کہا ۔ دنیا میں کہیں سیاسی گلیاروں میں ہوتا ہے ؟ مذہبی جماعتیں مدارس کو لے کر آمنے سامنے ہیں۔

    افغان حکومت بہت ہی احسان فراموش ثابت ہوئی ہے ۔ پاکستان کو نیکی کاصلہ بھائی چارگی سے نہیں دیا۔ ایک طرف بین الاقوامی دبائو دوسری طرف افغانستان ۔ان حالات میں ان سیاستدانوں کا ملک وقوم کی حالت پر آنکھ سے آنسو ٹپکا ہو۔ تاہم اپنے ہی قومی سلامتی کے اداروں کو بدنام کرنے کا کوئی سلیقہ ان سے سیکھے۔ یہ جانتے ہوئے کہ اداروں کوبقا اور شخصیات کو فنا ہے قوم کے نوجوانوں کو گمراہ کرنا ان کی سیاست رہ گئی ہے ۔ کمال کی سیاست اور لاجواب لیڈر شپ پاکستان میں موجود ہے۔یاد رکھیئے اس طرح کی پاکستان پر عالمی پابندیاں ماضی میں بھی لگیں ۔ ان پابندیوں کا سیاسی طور پر ذوالفقار علی بھٹو، محترمہ بے نظیر بھٹو،نواز شریف نے مقابلہ کیا تھا آج کے دور میں معذرت کے ساتھ پاکستان سیاسی محاذ پر سیاسی یتیم ہو چکا ہے

  • پروین شاکر، خوشبو بکھیرتی شاعرہ

    پروین شاکر، خوشبو بکھیرتی شاعرہ

    پروین شاکر، خوشبو بکھیرتی شاعرہ:26 دسمبر، پروین شاکر کی 30ویں برسی
    تحریر:ضیاء الحق سرحدی پشاور
    ziaulhaqsarhadi@gmail.com
    کُو بہ کُو پھیل گئی بات شناسائی کی ،اُس نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی

    پروین شاکر جس کے شعر رنگ و خوشبو بکھیرتے ہیں، ان کو بھلا کوئی کیسے بھول سکتا ہے۔ بیسویں صدی میں اردو کی ممتاز ترین شاعرہ پروین شاکر 24 نومبر 1952 کو کراچی میں سید ثاقب حسین کے گھر پیدا ہوئیں۔ ان کے والد خود بھی شاعر تھے اور ان کا تخلص شاکر تھا۔ اس نسبت سے پروین شاکر اپنے نام کے ساتھ شاکر لکھتی تھیں۔ برصغیر کی تقسیم کے بعد ان کے والد پاکستان ہجرت کر کے کراچی میں آباد ہوئے۔ پروین کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی، بعد میں رضیہ گرلز ہائی اسکول کراچی میں داخلہ لیا، جہاں سے انہوں نے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ اور پھر سرسید گرلز کالج کراچی سے آئی اے اور انگلش لٹریچر کے ساتھ بی اے آنرز کیا۔ پروین شاکر نے گریجویٹ ڈگری پہلے انگریزی لٹریچر میں اور پھر لسانیات (Linguistics) میں حاصل کی، جامعہ کراچی سے ایم اے کی ڈگری اسی عنوان کے تحت حاصل کی، پھر انہوں نے پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی حاصل کی۔ پروین شاکر نے ایم اے کی ایک ڈگری ہارورڈ یونیورسٹی امریکہ سے بھی حاصل کر رکھی تھی۔

    نوجوانی ہی سے شعر کہنے کا ہنر انہیں آ گیا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے نو سال تک استاد کی حیثیت سے کارہائے نمایاں انجام دیے۔ اس کے بعد شعبہ کسٹم، گورنمنٹ آف پاکستان میں اپنے فرائضِ منصبی بھی ادا کرتی رہیں۔ 1986 میں وہ سیکنڈ سیکریٹری، سی بی آر (موجودہ ایف بی آر) اور ڈپٹی کلکٹر کسٹم بھی مقرر کی گئیں۔ راقم عرصہ دراز سے پاکستان کسٹمز اور ایف بی آر سے منسلک ہے۔ اکثر اوقات ایف بی آر، پاکستان کسٹمز اور دیگر اداروں کے ساتھ میٹنگ کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ اسی وجہ سے راقم کی مرحومہ پروین شاکر سے کئی ملاقاتیں ہوئیں۔ اُن کے مشاعروں میں شرکت اور اُن کو قریب سے جاننے کا موقع ملا۔ وہ لطیف جذبات کو لفظوں کا پیرہن دینے والی خوشبوؤں کی شاعرہ تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں بطورِ شاعرہ شہرت کی بلندیوں تک پہنچایا۔

    پروین شاکر کو ان کی خدمات کے اعتراف میں ان کی کتاب "خوشبو” پر آدم جی ایوارڈ اور پھر پاکستان کا سب سے اعلیٰ اعزاز "پرائڈ آف پرفارمنس” سے بھی نوازا گیا۔ موسم آتے جاتے رہے، ماہ و سال گزرتے رہے، مگر ان کے چاہنے والے آج بھی ان کی شاعری سے دل لگائے بیٹھے ہیں۔ پروین شاکر نے کم عمری میں ہی شعر کہنا شروع کر دیے تھے، مگر وقت کی پنکھڑیاں چنتے چنتے، آئینہ در آئینہ خود کو ڈھونڈتی، شہرِ ذات کے تمام دروازوں کو پھلانگتی، شاعرہ کی منزل تک پہنچیں۔

    بات پروین شاکر کی نظم کی کی جائے یا غزل کی، کتابوں کا ایک بہترین گلدستہ تیار کیا جا سکتا ہے، مگر جہاں ہر ہر لفظ ان کی پذیرائی کے گن گانے میں محو ہو، وہاں میرے چند الفاظ قارئین کو کہاں مطمئن کر پائیں گے۔ انسان کے کردار اور اس کی مجموعی شخصیت کی تعمیر میں ماحول کا بڑا اثر ہوتا ہے، لیکن ایک اور اہم شے جو کسی بھی انسان کی شخصیت سازی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے اور کبھی کبھی انسان کو اس کی شخصیت مکمل ہونے کے بعد بھی کسی نئے ماحول میں کھینچ لاتی ہے اور اس کی زندگی کا دھارا ہی بدل دیتی ہے، اس کا نام ہے "کتاب”۔

    چونکہ کتاب کا ذکر چل پڑا ہے تو پروین شاکر کی چند خوبصورت کتابوں کا تذکرہ نہ کرنا اردو ادب اور شاعری سے سراسر زیادتی کے مترادف ہوگا۔ اس لئے ان کی وہ کتابیں جو شائع شدہ ہیں اور لوگوں میں کافی مقبول بھی رہی ہیں ان میں "خوشبو” (1976)، "صد برگ” (1980)، "خود کلامی” (1990)، "انکار” (1990)، "ماہ تمام” (1994) اور "کف آئینہ” سرِ فہرست ہیں۔ جب یہ کتابیں شائع ہوئیں تو پروین شاکر ایک پختہ کار شاعرہ کے روپ میں نظر آئیں، لیکن ان کی شاعری خوشبو کی طرح دنیائے ادب کو معطر رکھے گی۔

    وہ خوشبو ہے، ہواؤں میں بکھر جائے گا
    مسئلہ پھول کا ہے، پھول کدھر جائے گا

    وہ خوش فکر شاعرہ تو تھیں، لیکن خوش شکل ہونا بھی ان کی شخصیت کو چار چاند لگا گیا۔ پروین شاکر اپنے ساتھ بے شمار یادیں لے گئیں۔ پی ٹی وی کے پروگراموں، مشاعروں اور ادبی جرائد، اخبارات میں کسی شاعرہ کو زیادہ اہمیت ملی تو وہ پروین شاکر تھیں۔ شاعری میں نئی نسل کا رول ماڈل تھیں، انہوں نے دلوں پر حکمرانی کی، ایک طرح سے وہ سخن کی شہزادی تھیں، جنہوں نے اپنی زندگی میں بے شمار اعزازات پائے۔ خوبرو شاعرہ نے ایک پاکستانی ڈاکٹر نصیر علی سے شادی کی۔ ان کا ایک بیٹا، سید مراد علی بھی ہے، لیکن ان کی شادی کا یہ سفر زیادہ طویل المدت نہیں تھا اور معاملہ طلاق پر جا کر اختتام پذیر ہوا۔ پروین شاکر کی شاعری میں لذتِ انتظار کی کیفیت بھی ملتی ہے۔

    وفات کے بعد ان کی دوست پروین قادر آغا نے "پروین شاکر ٹرسٹ” قائم کیا۔ پروین شاکر اپنی ہم عصر شاعرات کشور ناہید اور فہمیدہ ریاض کی شاعری پسند کرتی تھیں اور ان کیلئے تحسین کے جذبات رکھتی تھیں۔ وہ امریکہ میں بھی رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عام امریکی بہت فراخ دل اور محبت کرنے والے لوگ ہیں۔ ہر تہذیب کے اپنے مسائل ہوتے ہیں جن کو ایک خاص تناظر میں رکھ کر ہی دیکھا جا سکتا ہے۔

    پروین شاکر نے انسانی جذبوں کا سچ لکھا اور اس محبت کو عورت کی زبان سے ادا کرنا آسان کر دیا۔ پروین شاکر تنہائی، جدائی، ہجر و وصال، محبوب کے تصور میں گم، چاہنے اور چاہے جانے کی آرزو اور زندگی سے آنکھ ملانے والی شاعرہ تھیں۔ پروین شاکر نے بحیثیت ایک عورت ایسے ہی محبوب کا پیکر اپنی شاعری میں تراشا جو ذہن و گمان سے ماورا نہیں۔ ایک زندہ وجود ہے اور حسیات کے امکان میں موجود رہتا ہے۔

    شاعری کے ساتھ ساتھ انہوں نے کالم نگاری بھی کی اور راقم کا اس حوالے سے بھی ان سے رابطہ رہا۔ ان کی شاعری کا بنیادی وصف جراتِ اظہار تھا۔ ان کے شعروں میں اعتماد نمایاں تھا۔ ان کی چمکتی آنکھیں ایک نئی صبح کا خواب دیکھتی تھیں۔ ان کے احساسات و جذبات کی ترجمان ان کی شاعری حسن، محبت، غم و خوشی، سچائی اور خوبصورتی کی عکاسی کرتی ہے۔ جس طرح وہ خود خوبصورت و حسین تھیں، اسی طرح ان کی شاعری دلکش اور خوبصورت ہے۔ وہ خوبصورتی کی باتیں کرتی، رنگ و خوشبو کا پیغام دیتی نظر آتی ہیں، اپنے تمام تر صادق جذبوں سمیت ان کی مقبولیت پاکستان ہی میں نہیں بلکہ پاکستان کے باہر جہاں اردو بولنے اور سمجھنے والے ہیں۔ ان کی شاعری نوجوان نسل کا کریز بن گئی۔ نوجوان نسل کے رومانی جذبات کو گہرے فنکارانہ شعور اور کلاسیکی رچاؤ کے ساتھ پیش کرنا پروین شاکر کے اسلوب کی پہچان قرار پایا۔ جذبے کی جس سچائی سے پروین شاکر نے اردو شاعری کے قارئین کے دل و دماغ کو ان گہرائیوں کو آخر حد تک متاثر کیا ہے وہ سچائی تو "خوشبو” میں ان کے ذاتی کرب کی ٹیس تھی۔

    میں سچ کہوں گی مگر پھر بھی ہار جاؤں گی
    وہ جھوٹ بولے گا اور لاجواب کر دے گا

    پروین شاکر 26 دسمبر 1994 کو اسلام آباد اپنے دفتر جانے کے لیے نکلی تھیں تو قریب ہی ایک موڑ پر بس کے ایک حادثے میں شدید زخمی ہونے کے صورت میں ہم سے روٹھ کر عدم کو سدھار گئیں۔ اللہ رب العزت اُن کے درجات بلند فرمائے۔ جس سڑک پر حادثہ ہوا اُس کا نام پروین شاکر کے نام سے منسوب کر دیا گیا ہے۔

    مر بھی جاؤں تو کہاں لوگ بھلا ہی دیں گے
    لفظ میرے، مرے ہونے کی گواہی دیں گے

  • سردار پبلی کیشن کی تیسری پنجابی ادبی کانفرنس

    سردار پبلی کیشن کی تیسری پنجابی ادبی کانفرنس

    سردار پبلی کیشن کی تیسری پنجابی ادبی کانفرنس
    تحریر: شاہد نسیم چوہدری
    فیصل آباد جو ہمیشہ سے ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے، حال ہی میں ایک اور شاندار ادبی تقریب کا میزبان بنا۔ سردار پبلی کیشن کے اشتراک سے فیصل آباد پریس کلب میں تیسری ادبی کانفرنس منعقد ہوئی۔ یہ کانفرنس نہ صرف ادب کے فروغ کا سبب بنی بلکہ پنجابی زبان کی ترویج کے حوالے سے ایک اہم قدم بھی ثابت ہوئی۔ کانفرنس دو حصوں پر مشتمل تھی۔ پہلا حصہ "ویر وے” کے موضوع پر مبنی تھا جس کی صدارت معروف ادبی شخصیت چوہدری الیاس گھمن نے کی، جبکہ دوسرا حصہ مشاعرے پر مشتمل تھا جس کی صدارت ڈاکٹر جعفر حسن مبارک نے کی، جو ادب کے میدان میں اپنی گہری بصیرت کے لیے جانے جاتے ہیں۔

    مشاعرے کا انعقاد اس کانفرنس کا ایک خاص پہلو تھا، جس میں ملک کے مختلف شہروں سے نامور شعرا نے شرکت کی۔ اس مشاعرے کی خاص بات یہ تھی کہ یہ پنجابی زبان کو مرکزیت دیتے ہوئے منعقد کیا گیا، جس میں ہر شاعر نے اپنے انداز میں پنجابی زبان و ثقافت کے رنگ بکھیرے۔ پروگرام کے دوران اسٹیج پر آصف سردار آرائیں اور لبنیٰ آرائیں نے بطور میزبان تقریب کو بہترین انداز میں پیش کیا۔

    مہمان خصوصی کے طور پر ڈاکٹر جعفر حسن مبارک کی موجودگی نے تقریب کو مزید وقار بخشا۔ ڈاکٹر جعفر حسن مبارک، جو کہ ایک نامور شاعر اور محقق ہیں، نے پنجابی زبان کی تاریخ، اس کی اہمیت اور موجودہ دور میں اس کے فروغ کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ زبان کسی بھی قوم کی شناخت ہوتی ہے، اور پنجابی ہماری ثقافتی وراثت کا ایک لازمی حصہ ہے۔

    کانفرنس کے دوران جن مشہور شعرا نے شرکت کی، ان میں شہزاد بیگ، کامران رشید، آزاد نقیبی، بشری ناز، نرگس رحمت، آصف سردار آرائیں، الیاس گھمن، امجد جاوید، انور انیق، ارشد بیلی، جاوید پنجابی، ڈاکٹر اظہر، سعید حسین ساجد، حامد رفیق، زبیر الجواد، سرور قمر قادری، شہباز علی شہباز، شمائلہ تبسم، عمران ساون، عبدالحمید، فوزیہ جاوید، کامران رشید اور لبنیٰ آرائیں شامل ہیں۔ ان تمام شعرا نے اپنے کلام کے ذریعے سامعین کو محظوظ کیا اور پنجابی زبان کے فروغ کے لیے اپنی محبت کا اظہار کیا۔ ان کے اشعار میں پنجابی ثقافت، انسانی جذبات، اور موجودہ سماجی مسائل کی عمدہ عکاسی نظر آئی۔

    تقریب کے دوران مقررین نے پنجابی زبان کی موجودہ صورتحال پر گفتگو کی اور اس کے تحفظ اور ترویج کے لیے عملی اقدامات اٹھانے پر زور دیا۔ آصف سردار آرائیں اور لبنیٰ آرائیں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمیں پنجابی زبان کو نئی نسل تک منتقل کرنے کے لیے جدید وسائل، جیسے کہ سوشل میڈیا، ایپلیکیشنز، اور پنجابی ادب کے جدید تراجم، کو اپنانا ہوگا۔

    اس تقریب کی کامیابی میں آصف سردار آرائیں اور لبنیٰ آرائیں کی محنت کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ یہ دونوں شخصیات، جو میاں بیوی ہیں، نے اس پروگرام کو کامیاب بنانے کے لیے انتھک محنت کی۔ ان کی ٹیم ورک اور پنجابی ادب سے محبت کی بدولت یہ کانفرنس ایک یادگار ایونٹ بن گئی۔

    اس کانفرنس کا سب سے بڑا پیغام یہ تھا کہ پنجابی زبان ہماری شناخت کا حصہ ہے، اور اس کی بقا و ترویج کے لیے ہمیں اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔ ہر شریک نے اپنے کلام اور گفتگو کے ذریعے یہ باور کرایا کہ پنجابی زبان صرف ایک بولی نہیں بلکہ ہماری تہذیب اور تاریخ کا عکس ہے۔

    تیسری ادبی کانفرنس نے ادب کے فروغ اور پنجابی زبان کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے ایک نئی سمت متعین کی ہے۔ ایسے پروگرام نہ صرف زبان کے فروغ کا باعث بنتے ہیں بلکہ معاشرے میں شعور اجاگر کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ آصف سردار آرائیں اور لبنیٰ آرائیں کی انتھک کوششیں قابل تعریف ہیں، اور امید کی جاتی ہے کہ وہ مستقبل میں بھی ایسی تقریبات منعقد کرکے ادب و ثقافت کی خدمت کرتے رہیں گے۔

    سردار پبلی کیشن کی جانب سے تیسری پنجابی کانفرنس کا انعقاد ادب اور ثقافت کے فروغ کی ایک قابل تحسین کوشش ہے۔ یہ کانفرنس نہ صرف پنجابی زبان و ادب کے محبت کرنے والوں کو ایک پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے بلکہ اس زبان کی ترقی اور اہمیت کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ اس کانفرنس کی روح رواں لبنیٰ آرائیں، جو سردار پبلی کیشن کی ڈائریکٹر ہیں، کی محنت اور لگن قابلِ ستائش ہے۔ لبنیٰ آرائیں نے اپنے ویژن اور عزم کے ساتھ ادب کے میدان میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ اس کانفرنس کے انعقاد میں ان کی انتھک محنت اور تنظیمی صلاحیتوں نے ایک مثالی ماحول پیدا کیا، جہاں شاعر، ادیب، اور دانشور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔

    کانفرنس کے دوران مقامی اور بین الاقوامی سطح پر مشہور پنجابی ادیبوں اور دانشوروں نے اپنے خیالات پیش کیے، جنہوں نے زبان و ثقافت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ اس کے علاوہ نوجوانوں کو بھی اپنی تخلیقی صلاحیتیں دکھانے کا موقع ملا۔

    یہ کانفرنس نہ صرف پنجابی ادب بلکہ زبان و ثقافت کے تحفظ اور ترویج کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ لبنیٰ آرائیں کی کاوشوں نے ثابت کیا کہ اگر جذبہ اور عزم ہو تو کسی بھی مقصد کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔

  • کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟تیسری قسط

    کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟تیسری قسط

    کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟
    تحریر:ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھرجلالوی
    قسط کا خلاصہ
    آج کے دور میں بھی قصے انسانی تخلیقی صلاحیتوں کو جلا بخشنے کا ذریعہ ہیں۔ قصے ہمیں سکھاتے ہیں کہ ہم مشترکہ انسانیت کے اصولوں کو اپنائیں۔ عالمی سطح پر ثقافتی میل جول میں بھی قصوں نے اہم کردار ادا کیا ہے، جیسے کہ اسلام آباد کے لوک ورثہ میلے میں سرائیکی جھمر کی پیشکش نے مختلف قوموں کو ایک دوسرے کے قریب کیا۔ قصے محض تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ علمی اور اخلاقی ورثے کی حفاظت کرتے ہیں۔

    تیسری قسط
    دادی اماں،نانی اماں،دادا جان،نانا جان تمام معزز بزرگوار ہستیاں حقیقی معنوں میں قصوں کی ابتدائی انسانی شعور گاہ ہیں۔جہاں سکون واطمینان قلب میسر آتا ہے۔ماضی میں بزرگوں کے قصوں کے ذریعے بچوں کو نہ صرف اعلی اخلاقی قدریں اور اچھے برے کی تمیز سکھائیں جاتیں تھیں بلکہ انہیں زندگی کے عملی پہلوؤں میں کامیاب حیاتی گزارنے کے طور طریقے،شکار،زراعت اور قدرتی خطرات سے بچنے کے علوم بھی سکھائے جاتے تھے۔یہ قصے بچوں کے لیے مثالی کردار پیش کرتے تھے۔جنہیں وہ اپنا آئیڈیل بناتے تھے اور ان کی شخصیت کی تشکیل نو میں اہم کردار ادا کرتے تھے۔اس طرح قصوں نے بچوں کی سماجی، اخلاقی اور عملی زندگیوں میں نمایاں کردار ادا کیا۔انہیں خاندان یا سوسائٹی کا ایک اچھا فرد بننے کے لیے تیار کیا۔

    پہلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

    کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟
    جس نسل نے اپنے آباواجداد کے قصوں کی حکمت کے خزانوں کو اپنایا تو انہوں نے نئی دنیا اور نئےجہاں تخلیق کیے۔آج بھی قصے اور افسانے انسانوں کے لیے ایک ایسا دروازہ ہیں جو انہیں حقیقت کی دنیا سے ہٹ کر ایک خواب کی نئی دنیا میں لے جاتے ہیں۔اس سے ان کی تخیلاتی قوتتیں پھلتی پھولتیں اور آگے بڑھتیں ہیں اور وہ زندگی کے مختلف پہلوؤں کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے اور پرکھنے لگتے ہیں۔قصے انسانوں کی تخیلاتی قوت اور تخلیقی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے میں مددگار ثابت ہوئے ہیں اور انسان کو نئی نئی چیزیں دریافت کرنے اور سیکھنے کی ترغیب دیتے ہیں۔

    دوسری قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

    کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟
    ان قصوں کے ذریعے انسان خوابوں کی دنیا میں سیر کرتے ہیں اور اپنی خواہشات اور امیدوں کو پورا کرنے کے لیے عملی حقیقی زندگی میں نئی راہیں تلاش کرتے اور نئے پراجیکٹس کو عملی جامہ پہنانتے ہیں۔یہ قصے ہمیں یقین دلاتے ہیں کہ ناممکن کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔مثلاً،ریڈار، چاند گاڑی،سیٹلائیٹ،ٹیلی ویژن،ریڈیو،موبائل فون،ڈائزینر مشین،میزائل،ہوائی جہاز،انٹرنیٹ،سوشل میڈیا ڈیوائسز،روبوٹ اور خلائی سفر سب سے پہلے قصوں میں ہوائی جادوئی قالین،طلسماتی شیشہ،طلسماتی تیر و تلوار،اڈن کٹولہ وغیرہ ہی تصور کیے گئے تھے۔آج یہ سب حقیقت بن چکے ہیں۔یوں قصے اور افسانے نئی دنیاؤں کی تخلیق کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔

    مستقبل میں قصے میں موجود قصولیوں کے خواب آنے والے وقت میں سائنسی ترقی و تحقیقی سفر کا نیا جہاں بنے گے۔جو انسانوں کو نئی سوچوں اور امکانات کی طرف لےکرجاہیں گے۔قصوں کی زبان ہمیں غاروں میں موجود ابتدائی انسانی ہاتھوں سے بنی اشکال سے لکھی ملیں ہیں۔خوبصورت پتھروں سے مورتیوں پر نقش نگاری قدیم انسانی قصے کے نمونےہیں۔جیسے بچہ پیدائش کے وقت بول نہیں سکتا مگر اشاروں سے اپنی التجا ماں کو پیش کرتا رہتا ہے۔اس کی ماں اس کی ضرورتیں پوری کرتی رہتی ہے۔وقت کے ساتھ ساتھ وہ بچہ بڑا ہوکر اپنے مسائل و ضروریات لکھ کر بھی اور زبان سے بول کر بتاتا ہے۔زبان بھی اسی طرح پروان چڑھتی ہے۔میری کم سن تین سالہ بیٹی زینب الطاف ڈاھر بی بی اپنی ٹوٹی پھوٹی باتوں اور اشاروں اور آوازوں کے ذریعے کبھی کبھی پنسل سے دیواروں پر نرم ہاتھوں سے لکیروں کی مدد سے شکلیں بنا کر ہم میاں بیوی تک اپنا پیغام پہنچاتی ہے۔

    آج بھی دنیا کا پہلا انسانی رسم الخط تصویری اشکالی رسم الخط کو مانا جاتا ہے۔قدیم انسان نے اپنے قصوں کے ذریعے سے اپنا کتھارسس مدعے کو شجر،پتھر اور غار کی دیواروں پر اشکال بناکر اپنےپیغام کو آج کے انسان تک سانجھا کیا۔یہ نقش و نگار نہ صرف ان کی روزمرہ کی زندگی بلکہ ان کے عقائد اور تصورات کی بھی عکاسی کرتے ہیں ۔جس کو ہم آج ٹوٹم و ٹیبوز کا علم کہتے ہیں۔قصے میں قصولی جانوروں،چرند پرند،دریا،سمندر درختوں اور بادلوں کو بھی انسانوں کی طرح بات کرتے ہوئےدکھاتےتھے۔ان کے قصوں میں جادو،دیوی و دیوتا،مافوق الفطرت عناصر اور روحانی قوتوں سے لبریز کرداروں کی ایک بھیڑ ہوتی تھی۔جو ان کے لیے قدرت کا مظہر سمجھنے کی فلم انڈسٹری تھی۔

    آج جب ہم پیچیدہ زبانوں اور جدید ٹیکنالوجی کے دور میں جی رہے ہیں تو قصہ کے طور طریقے بھی بدل چکے ہیں۔روہیلے چولستانی قصولیوں میں میدا رام ، سمارا رام، مجید مچلا، فیض مائی بھٹی، میرے ابا جی سئیں غلام مصطفٰی خان ڈاھر، مہر غلام رسول، ملک عبداللہ عرفان، طاہر غنی، ملک آصف سیال، جام غلام یاسین لاڑ جیسے عظیم الشان قصہ گو بھی وسائل کی شدید کمی کے باوجود ماڈرن طریقےسے سوشل میڈیا ذرائع سے اپنے قصوں کو عام کرنے کی بھر پور کوشش کر رہے ہیں۔

    ان قصولیوں نے قصے کا آغاز اس باکمال مہارت سے کیا ہے کہ پوری کائنات کا مالک خالق حقیقی صرف اللہ پاک ہے۔باقی سب فنا ہے۔اس کا بنیادی مقصد صرف طاغوتی طاقتوں کے تکبر و غرور کی نفی کرنا ہے۔امن و اقتصادی آسودگی، عجز و احترام کو فروغ دینا ہے۔اللہ رب العزت جلال کی شہنشاہیت کو برقرار رکھنا ہے۔"واہ واہ ہے اللہ بادشاہ ہے کاغذاں دی بیڑی ہے مکوڑا ملاح ہے،خلقت پئی چڑھدی ہے ساڈی صلاح ہے۔ہک ہا بادشاہ، بادشاہواں دا بادشاہ وی خود اللہ پاک آپ بادشاہ ہے، اوہ ہک زمینی ٹوٹے دا بادشاہ ہا۔اوندی نگری ہی”۔اصل حکمران وہ ہے جو بشریات، جمادات،حیوانات اور نباتات کی نشوونما،خیر و برکت کےلیے ہمیشہ مثبت اقدامات اٹھائے۔

    ہمارے قصولی ہمارے سرائیکی وسیب کی عالمگیر فوک وزڈم آرکیالوجی ویب سائٹس بن چکے ہیں۔سوجھل وسیبی قصولیوں کی معاشی خوشحالی کے اقدامات حکومت پاکستان سمیت اقوام متحدہ آثار قدیمہ کی اہم ذمہ داری ہے۔قومی سرائیکی لوک دانش کے اثاثے کو محفوظ کرنے کے لیے مقامی روہی چولستانی قلعہ ڈیراور، چولستان جیپ ریلی کے سنڑ مقام پر میوزیم قائم ہونا چاہیے ۔جہاں دنیا بھر کے سیاح سرائیکی خطے کی 6000چھ ہزار سالہ قدیم تہذیب وتمدن وادی ہاکڑہ سرسوتی کے ساتھ سرائیکی عباسیہ شاہی ریاست بہاولپور کی خوشحالی سے بدحالی کے قصےکی حقیقت جان سکیں۔مقامی روہیلے چولستانی قصولیوں کو مراعات دیں جائیں۔ہمیں ان کی لوک دانش کو جدید ٹیکنالوجی سسٹم سے دنیا تک آن ائیر کرانے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔۔۔۔جاری ہے.

  • صحرا کی گود میں زندگی

    صحرا کی گود میں زندگی

    صحرا کی گود میں زندگی
    تحریر: ملک امان شجاع
    درخت کائنات کا حسن اور زندگی کی ضرورت ہیں۔ باشعور اقوام جنگلات کی افادیت و اہمیت سے بخوبی آگاہ ہیں، یہی وجہ ہے کہ مختلف ممالک میں درخت اور جنگلات اگانے کے لیے خصوصی مہمات چلائی جاتی ہیں۔ عوامی سطح پر آگاہی کے لیے شعور بیدار کیا جاتا ہے اور بیج سے پودے اور پودوں سے درختوں کو بچوں کی طرح نگہداشت کر کے کامیاب بنایا جاتا ہے۔

    عالمی معیار کے مطابق کسی بھی ملک کے رقبے کا 25 فیصد حصہ جنگلات پر مشتمل ہونا ضروری ہے کیونکہ یہی جنگلات ماحولیاتی آلودگی سے بچاؤ کا ذریعہ ہیں۔ یہ درخت کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرکے جانداروں کو آکسیجن فراہم کرتے ہیں، زمینی کٹاؤ کو روکتے ہیں، درجہ حرارت کم کرنے میں مدد دیتے ہیں اور حرارت و دیگر ضروریات کے لیے ایندھن کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ جنگلات جنگلی حیات کی حفاظت کے ضامن ہیں، پرندوں کی آماجگاہ اور جانوروں کی پناہ گاہ ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی خوراک کا ذریعہ بھی ہیں۔ پانی کی سطح کو برقرار رکھنے میں بھی یہ مددگار ہیں۔

    تاہم تشویشناک امر یہ ہے کہ وطن عزیز پاکستان کے صرف 5 فیصد رقبے پر جنگلات موجود ہیں جبکہ عالمی معیار تک پہنچنے کے لیے ہمیں اربوں درخت لگانے کی ضرورت ہے۔ گو کہ گزشتہ حکومتوں نے ملک بھر میں شجرکاری کے لیے شعور اجاگر کرنے اور بڑی تعداد میں درخت لگانے کی کوشش کی، لیکن مطلوبہ ہدف سے ہم اب بھی کوسوں دور ہیں۔ اس مقصد کے حصول کے لیے جامع منصوبہ بندی اور مستقل جدوجہد کی ضرورت ہے۔ قوم کے ہر فرد کو آئندہ نسلوں کی بقا اور ماحولیاتی آلودگی سے پیدا ہونے والے مسائل کے خاتمے کے لیے درخت اگانے پر خصوصی توجہ دینی ہوگی۔

    پاکستان کی زرعی زمینوں کو سیم و تھور سے بچانے کے لیے بھی درختوں کی اشد ضرورت ہے۔ یہ خداوندی نعمت ہے کہ درختوں کے بیج سے تھوڑی محنت اور توجہ کے ذریعے نئے درخت اگائے جا سکتے ہیں۔ یہی عمل تھل کے صحراؤں میں اپنایا جا رہا ہے، جس کا تجربہ بہت کامیاب رہا ہے۔ تھل کے صحراؤں میں سرسبز و شاداب جنگلات زندگی کی علامت بن کر خوبصورت نظارے پیش کر رہے ہیں۔

    عام طور پر صحرا کا تصور آتے ہی ذہن میں ویران، ریتلے میدان اور نہ ختم ہونے والی وسعتوں کا نقشہ ابھرتا ہے۔ انہی صحراؤں کے بارے میں یہ کہانیاں بھی مشہور ہیں کہ یہاں بھٹکنے والے مسافر بھوک اور پیاس کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے تھے۔ ایسے افراد کی باقیات کبھی کبھار قافلوں اور شتر بانوں کو ملتی تھیں۔

    صحرائے تھل میں ماحولیاتی تبدیلی اور درختوں کی آمد کا قصہ کچھ یوں ہے کہ حکومت پاکستان نے یہاں سڑکیں اور نہریں نکالنے کے لیے بڑے پیمانے پر زمین بحق سرکار ضبط کی اور صوبائی محکمہ مال پنجاب کے حوالے کر دی۔ 1951-52 میں محکمہ جنگلات نے حکومت پنجاب سے 24,773 ایکڑ رقبہ حاصل کیا اور اس چیلنج کا سامنا کیا کہ اس ویران صحرا میں درخت اگائے جائیں۔

    محکمہ جنگلات کے اہلکاروں نے خیمہ بستیاں بسا کر، شدید گرمی اور جھلساتی دھوپ کا سامنا کرتے ہوئے درخت لگانے کا کام شروع کیا۔ دور دراز کے کنوؤں سے پانی لا کر درختوں کو سیراب کیا گیا اور مقامی لوگوں کو جنگلات کی اہمیت کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ جلد ہی محکمہ جنگلات اور مقامی آبادی کی محنت کے نتیجے میں، صحرائے تھل بیری، کیکر، جنڈی اور سرس کے درختوں سے سرسبز نظر آنے لگا۔

    ان درختوں کی بدولت آج صحرائے تھل میں پرندوں کی چہچہاہٹ اور سریلی آوازیں یہ پیغام دیتی ہیں کہ صحرا کی گود میں زندگی کا ظہور ہو چکا ہے۔ یہ کامیابی ہمیں بتاتی ہے کہ اگر ہم محنت اور منصوبہ بندی سے کام کریں تو ویران علاقوں کو بھی سرسبز و شاداب بنایا جا سکتا ہے۔

    اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتے ہیں کہ تم اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو یاد کرو اور زمین میں فساد نہ کرو۔ یہ ہمیں اس بات کی تعلیم دیتا ہے کہ اللہ کی عطا کردہ نعمتوں، جیسے درخت، پانی اور فطرت کی حفاظت کریں اور ایسی سرگرمیوں سے گریز کریں جو ماحول کو نقصان پہنچائیں یا اللہ کی مخلوق کے لیے مشکلات پیدا کریں۔

    نبی کریم ﷺ نے ایک موقع پر فرمایا کہ اگر قیامت قائم ہو رہی ہو اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں کھجور کا پودا ہو اور وہ اسے لگا سکتا ہو تو وہ ضرور لگائے۔ یہ حدیث اس بات کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے کہ درخت لگانا اور فطرت کی حفاظت کرنا ہمارے لیے کس قدر ضروری ہے، چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں۔

    قرآن و حدیث ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ زمین کی حفاظت اور اسے سرسبز و شاداب بنانا ہماری ذمہ داری ہے اور ہر چھوٹا عمل، اگر نیت خالص ہو، فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ ماحولیاتی مسائل کا حل نکالنا اور زمین کی بہتری کے لیے کام کرنا نہ صرف ہماری دنیوی بلکہ اخروی کامیابی کے لیے بھی اہم ہے۔

  • کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟دوسری قسط

    کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟دوسری قسط

    کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟
    تحریر:ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھرجلالوی
    قسط کا خلاصہ
    قصے انسانوں کے لیے ہمیشہ رہنمائی کا ذریعہ رہے ہیں۔ انبیاء کرامؑ کے قصے اور رسول اکرمﷺ کی زندگی کے واقعات انسانوں کی اخلاقی تربیت کا اہم ذریعہ ہیں۔ سرائیکی قصے صرف کہانیاں نہیں بلکہ انسانی زندگی کو ایک نیا زاویہ فراہم کرتے ہیں۔ ان کے ذریعے شعور، ثقافت اور روایتوں کی منتقلی ممکن ہوئی۔ ابتدائی ادوار میں قصہ گوئی انسانوں کے لیے اولین درسگاہ تھی، جہاں شکار، زراعت اور قدرتی خطرات سے نمٹنے کے طریقے سکھائے جاتے تھے۔ قصوں کی روح نے معاشرتی ہم آہنگی اور تعلقات میں استحکام پیدا کیا۔
    دوسری قسط
    حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت اماں حوا علیہ السلام کا جنت سے نکالے جانے کا قصہ،شیطان مردود کا انسان سے ازلی دشمنی کا قصہ آج بھی کتابوں کی زینت ہے۔قصہ دراصل انسانی شعور و عرفان کی خود رو تحفظ فراہم کردہ تخلیقی و تجزیاتی فکری صلاحیتوں کا مظہر ہے۔قصے کے گہرے رشتے نے انسان کی تاریخ کو رنگین بنا دیا ہے۔علم و دانش اور لسان و ثقافت کی افادیت و اہمیت کی شروعات قصوں کے ذریعے ممکن ہوئی۔ابتدائی مراحل سے انسان ایک دوسرے کو زندگی کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں سکھاتا رہا۔مثلاً بھوک سےلڑنے کے لیے شکار کے طریقے،پودوں کی پہچان،معدنیات وحشرات کے فوائد،موسموں کی تبدیلی،خطرناک جانوروں سے بچاؤ کے سلیقے قصوں کی بدولت بنیادیں بنیں۔یہ سب کچھ قصوں کے ذریعے نسل در نسل منتقل ہوتا رہا۔

    قصوں کا سننا اور سنانا یہ صرف معلومات کا تبادلہ خیال نہیں تھا بلکہ قصوں کی ثقافتی روح نے آپس میں تعلقات و اتحاد کو فروغ دیا۔قصولیوں کی ابتدائی قصہ گوئی کی محفل نے انسانوں کی چھپی صلاحیتوں و خوبیوں کو نیا ترقی پذیر رخ عطاء کیا۔جب انسان روزی روٹی اور ذرائع معاش کے لیے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتا رہا تب روحانی خیال کی مشعل سے تاریک راہوں میں روشنی پھیلانے کا قصہ ہی سبب بنا۔ایک بشر سے دوسرے بشر تک روایات، عقائد، رسوم و رواج،تاریخ کو منتقل کرنےکا ذریعہ بھی بنتا رہا۔کائنات کی تخلیق کو سمجھنے کا پہلا چارٹ انسانی سوچ تھی جو قصہ کی شکل میں ابتدائی انسانوں کے پاس منتقل ہوئی۔

    پہلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟
    آج کی دنیا کی طرح فطرت کے پیچیدہ عمل کو سمجھنے کے لیے سائنسی طریقے و علوم کے ادارے نہیں تھے۔انہوں نے اپنی زندگی کے واقعات اور فطرت کی قوتوں کو سمجھنے کے لیے قصولی کے قصوں اور افسانوں کا سہارا لیا۔قصہ کی بیٹھک ہی پہلی انسانی سائنس کی لیبارٹری بنی۔ قصوں میں پرندوں پر سواری کرنا ،جادوئی قالین پر سوار ہوکر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی دراصل آج کے انسان کے لیے ہوائی جہاز، ائیر بس،ہوائی کاریں،پیرا شوٹ کی تکمیل ہے۔ بادلوں کی گرج، سورج اور چاند کی روشنی اور دیگر قدرتی مظاہر میں دیوی و دیوتاؤں کی نشانیاں بتانے والا قصولی دراصل آج کا سائنس دان ہے۔قصہ میرے نزدیک روحانیت تصوف اور سائینسیت طبعیات کی دو مضبوط ترین آنکھیں،صاف شفاف صحت مند دو کان،دو نالی والی مضبوط ناک، تجربات،ممکنات،تحقیقات،محسوسات و مشاہدات کو پرکھنے والا دل و دماغ ہے۔

    زلزلے کےجھٹکے کو قصولی نےزمین کو ہلانے والے دیہہ کا غصہ سمجھ لیا تھا، قصولی کے مطابق زمین کو ایک بڑے بیل نے اپنے سینگوں پر اٹھا رکھا ہے اور جب وہ حرکت کرتا ہے تو زلزلہ آجاتا ہے۔یہ قصے دراصل انسانی بقاء کے تحفظ کے محافظ تھے۔جن کی بدولت قدرتی آفات سے نمٹنے کی حکمت عملی و پالیسی نے جنم لیا۔قصے نے نہ صرف ان کی زندگی کو بامعنی بنا دیا تھا بلکہ انہیں اپنے اردگرد کی دنیا کو سمجھنے میں بھی مدد بھی فراہم کرتا رہا۔قصہ انسانیت کی بھلائی کے لئے کمپاس ،روبوٹ،ریڈار ثابت ہوا۔انسانی رشتوں کی خوبصورتی کو قصوں کی رفعت نے آپس میں اتحاد ویکجہتی،امن،محبت و احترام کا نیا جہاں دیا۔ ٹوٹے دلوں میں نیا خلوص بھر دیا۔ قصے صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتے بلکہ حکمت کے وہ عملی پل یا بریج ہیں جو انسانوں کو آپس میں ایک دوسرے سے جوڑتے ہیں۔آگ کے گرد بیٹھے لوگوں کی آوازیں،ہنسی خوشی و غمی کے آنسو جب قصوں میں ڈوب جاتے تھے تو ایک ہی دھڑکن بن جاتے ہیں ۔

    قصوں کی بدولت آج سات براعظموں میں ایشیا،افریقہ،شمالی امریکہ،جنوبی امریکہ،انٹارکٹکا،آسٹریلیا ،یورپ پر مشتمل تقریبا ساڑھے سات ارب کی انسانی آبادی،ساڑھے چھ ہزار مختلف زبانیں بولنے والوں،متنوع ثقافتوں اور خطے کے لوگوں کا ایک دوسرے کے درد اور معاشی ترقی کو سمجھنے اور قبول کرنے میں کامیاب مدد ملی ہے۔قصے کی طلسماتی فکری نتیجہ خیز طاقت نےسب کو ایک گلوبل ویلج میں خوشی خوشی جوڑ دیا ہے۔آج بھی اسلام آباد لوک ورثہ قومی ادارے میں غیر ملکی انسانوں کا امن بھرا سرائیکی جھمر،مقامی حسن، رقص و موسیقی ،سرسنگیت سے مزین سرائیکیت نےسندھی ،چین،افریقی،بلوچی،پنجابی،پشتو، اردو،بلتی،کشمیری،انگلش،جاپانی،امریکن اورجرمنی کو ایک ہی قصے کے کردار بنا دیئے ہیں۔

    ایک قصہ جس میں مختلف انسانی جذبات و احساسات کو سنتے تھے تو ان کے اندر ایک ہی طرح کے جذبات پیدا ہوتے تھے۔وہ ایک دوسرے کی بات سمجھتے تھے۔وہ ایک دوسرے کے غم اور خوشی میں شامل ہوتے تھے۔ قصوں نے انسانوں کو مشترکہ تجربات فراہم کیے ہیں اور انہیں محسوس کرایا ہے کہ وہ اکیلے نہیں ہیں۔انہوں نے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لایا۔سماجی ہم آہنگی کو فروغ دیا۔ثقافتی گلدستے کو مضبوط کیا۔قصوں نےمعاشرتی تبدیلی لانے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔قصوں نےاحترام آدمیت کے فلسفے کو بلندیوں پر پہنچایا۔لوگوں کوحق سچ ،عدل و انصاف،برابری،معاشی خوشحالی و معاشرتی اقدار کی اعلی قیادت اور آزادی کے لیے مشترکہ جدوجہد کرنے کی ترغیب دی ہے۔

    سرائیکی لوک قصے اب ایک مکمل بااعتماد عملی دستاویزات کی شکل اختیار کرچکے ہیں۔جن کی مدد سے سرائیکی وسیب میں ہر طرف معاشی و اخلاقی ،خوشحالی و تعمیر نو نظر آئے گی۔قصے نےصرف تفریح نہیں بلکہ ہمیں مشترکہ ثقافتی ورثہ بھی عطاء کیا ہے۔ہمیں ایک مشترکہ انسانیت کا احساس دلایا ہے۔قصے نے ہمیں سکھایا کہ ہم سب انسان جن کا خون سرخ رنگ کا ہے۔آدم کی اولاد ہونے کی وجہ سے آدمی ہیں۔سب ایک دوسرے کا احترام کریں۔کوئی کسی کے ساتھ ظلم و بربریت نہ کرے۔ہر انسان کو علمی قابلیت،صلاحیت و خوبی کی بنا پر ترقی ملے۔قصہ کا پیغام آفاقیت صرف یہ ہے کہ انسان انسان کو ہمیشہ نفع پہنچائے۔شرافت،صداقت،ایمانت اور دیانت کو عام کرے۔اتحاد،محبت و یقین محکم ویکجہتی،تنظیم کی پاسداری کرے۔

    ہم سب ایک ہی قصے کے تنوع ترقی یافتہ کردار ہیں۔آج بھی اور پھر کل جب ہم ایک مشکل وقت سے گزر رہےہوں گے تو پھر ہمارے قصے ہمیں خیر،وصیت صبروتحمل،بھلائی،امید،بہادری،نیکی،جرات،سخت محنت اور تصوف کے آفاقی فلسفہ جلال سے ہماری رہنمائی کرکے ہمیں پھر سےکامیاب بنائیں گے۔سرائیکی قصہ سرائیکی وسوں کا ہمیشہ مضبوط حوصلہ اور امن کا ہتھیار رہا ہے۔انسانی زندگی کی پہلی بنیادی درسگاہ مادرعلمی اسکول خود ماں کی گود ہوتی ہے جہاں ہمیں پہلا سبق قصے کی شکل میں سکھایا جاتا ہے۔

    سرائیکی عالمی قصہ منظوم و منثور دونوں صنفوں میں سرائیکی شعراء کرام و نثر نگار قصولیوں کے پیغام آفاقیت کا خوبصورت فلسفہ ہے۔جودنیا کے لٹریچر کو متاثر کررہا ہے۔مادری زبان میں قصے کا ابلاغ صدیوں کی روحانی و عرفانی فضیلت کی تاثیر عطا کرتا ہے۔قصہ پہلا اسکول ہے جہاں سے علم وادب، حکمت و دانش کو سیکھنے،سمجھنےاورتعلیمی تربیت کا آغاز ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے۔

  • خاندانی افراد کے بے تکے سوالات کا سامنا کیسے کیا جائے

    خاندانی افراد کے بے تکے سوالات کا سامنا کیسے کیا جائے

    جب دسترخوان سجایا جاتا ہے اور دوست و خاندان اکٹھے ہوتے ہیں، تو آپ کو پہلے ہی اندازہ ہوتا ہے کہ کون سے سوالات یا تبصرے آپ کی جانب آئیں گے۔ یہ تبصرے کھانے، آپ کے وزن، پیسوں، تعلقات، کیریئر یا بچوں کے حوالے سے ہو سکتے ہیں — جو بھی موضوع ہو، اس قسم کی صورتحال بہت سے لوگوں کے لیے نئی نہیں ہے۔

    ڈاکٹر روزین کیپانا ہوڈج، جو ایک ماہر نفسیات ہیں، کے مطابق، تعطیلات ہمیشہ خوشی کا موقع نہیں ہوتیں — اکثر اس لیے کیونکہ ہم متوقع تنازعے یا نامناسب سوالات کے بارے میں سوچتے ہیں۔ لیکن خاموش رہنے یا غصے میں آ کر رد عمل ظاہر کرنے کی بجائے، وہ سفارش کرتی ہیں کہ حدود مقرر کریں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ حدود مقرر کرنا لڑائی کا آغاز نہیں ہوتا، بلکہ یہ اپنے احساسات اور ضروریات کو دوسرے تک پہنچانے کا ایک مؤثر طریقہ ہے۔ کیمی اورنج، جو یوٹاہ کی ایک حدود کی کوچ ہیں، کے مطابق، حدود مقرر کرنا مشکل ہو سکتا ہے اور اس کے لیے تھوڑی تیاری کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ آپ رد عمل کی بجائے اپنے احساسات کا تحفظ کر سکیں۔

    اپنے جذبات کی حفاظت کے لیے تیاری کیسے کریں؟
    1. پہلے سے اپنی ضروریات کا تعین کریں:
    ماہر تھراپسٹ جینیفر رولن، جو روک ویل، میری لینڈ میں ایٹنگ ڈس آرڈر سینٹر کی بانی ہیں، کہتی ہیں کہ سب سے پہلا قدم یہ ہے کہ آپ اپنی ضروریات کے بارے میں سوچیں۔ تعطیلات سے قبل یہ طے کریں کہ آپ کو کون سے سوالات یا تبصرے پریشان کن محسوس ہو سکتے ہیں۔”یہ فیصلہ کریں کہ یہ وہ تبصرے ہیں جو مجھے پریشان کرتے ہیں، اور میں ان کا جواب کس طرح دوں گا۔”

    محفوظ موضوعات کی فہرست تیار کریں:
    ڈاکٹر کیپانا ہوڈج تجویز کرتی ہیں کہ آپ ایک فہرست تیار کریں جس میں وہ موضوعات شامل ہوں جو آپ کے لیے محفوظ ہیں۔ اگر بات چیت کسی حساس موضوع کی طرف مڑ جائے، تو آپ ان موضوعات پر بات کر کے ماحول کو نرم کر سکتے ہیں۔

    نرمی سے "میں” کے جملے استعمال کریں:
    مثلاً، "میں اس موضوع پر بات نہیں کر سکتا/کرتی کیونکہ یہ مجھے غیر آرام دہ محسوس کراتا ہے” — اس طرح آپ کا جواب کم الزام دہ اور زیادہ فہم و تدبر پر مبنی ہوگا۔

    مذاق بھی کر سکتے ہیں:
    ڈاکٹر کیپانا ہوڈج تجویز کرتی ہیں کہ آپ تھوڑی ہنسی مذاق کے ساتھ ماحول کو ہلکا کر سکتے ہیں۔ مثلاً، آپ ایک "بنگو بورڈ” بنا سکتے ہیں جس پر وہ تمام تبصرے لکھیں جو آپ توقع کرتے ہیں کہ لوگ کریں گے اور پھر ان پر ہنسی مذاق کے ساتھ نشان لگا سکتے ہیں۔

    "کیا تم نے وزن بڑھا لیا؟”
    رولن کے مطابق، وزن یا کھانے کے بارے میں تبصرے اکثر پریشان کن ہوتے ہیں، چاہے وہ تنقید ہو یا خوش دلی سے کیے گئے ہوں۔”یہ ضروری ہے کہ آپ اس بات کو سمجھیں کہ جو تبصرے لوگ کھانے اور وزن کے بارے میں کرتے ہیں، وہ زیادہ تر ان کی اپنی خودی اور خوراک کے بارے میں فکروں کی عکاسی کرتے ہیں۔” آپ اس پر جواب دے سکتے ہیں، "مجھے اندازہ ہے کہ آپ اپنی ڈائیٹ کے بارے میں پرجوش ہیں، لیکن میں ابھی میں وزن کم کرنے کی کوشش کر رہا ہوں اس لیے میں نہیں چاہوں گا/گی کہ ہم اس پر بات کریں۔”

    "تم اب تک اکیلے کیوں ہو؟”
    اورنج کے مطابق، اگر کوئی شخص آپ کے ذاتی تعلقات کے بارے میں سوال کرے تو آپ انہیں دو موقع دے سکتے ہیں۔ پہلے موقع پر آپ بات کو ہنسی مذاق میں تبدیل کر سکتے ہیں، اور دوسرے موقع پر آپ براہ راست جواب دے سکتے ہیں جیسے: "جب میں اس بارے میں فیصلہ کر لوں گا/گی، تو آپ کو بتا دوں گا/گی۔”

    "تم شادی کب کر رہے ہو؟”
    شادی یا بچوں کے حوالے سے سوالات بھی اکثر دباؤ بڑھا دیتے ہیں، لیکن زیادہ تر یہ سوالات محبت اور خوشی کے جذبات سے آتے ہیں۔ اورنج تجویز کرتی ہیں کہ آپ ان سوالات کو ہنسی مذاق سے ٹال سکتے ہیں، جیسے: "مجھے خوشی ہے کہ آپ کو محبت کے بارے میں اتنی پرجوشی ہے، مجھے یاد ہے، آپ اور انکل گیری کیسے ملے تھے؟”

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آپ تعطیلات کے دوران خاندان کے افراد کے ناپسندیدہ یا بے تکے سوالات کا سامنا کرتے ہیں، تو اہم بات یہ ہے کہ آپ خود کو پرسکون رکھتے ہوئے اپنے جذبات اور حدود کو واضح طور پر بیان کریں۔ اس طرح نہ صرف آپ اپنے جذبات کی حفاظت کر سکتے ہیں، بلکہ آپ خاندان کے افراد کے ساتھ ایک زیادہ پرسکون اور خوشگوار وقت گزارنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔

    سائرہ یوسف کی چاکلیٹس چوری کرنے کی ویڈیو کا معمہ حل ہو گیا

    یشما گل کی شادی سے متعلق پوسٹ سوشل میڈیا پر وائرل

  • مذاکرات سے خلق خدا کو کیا حاصل ہوگا؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    مذاکرات سے خلق خدا کو کیا حاصل ہوگا؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان سیاستدانوں نے بنایا تھا ماضی کے وہ سیاستدان اپنی ذات کی نہیں قوم کے لئے سیاست کرتے تھے ۔موجودہ سیاست پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے۔ پچیس کروڑ عوام یعنی خلق خدا ایک نیا تماشا دیکھ رہی ہے، ایک بار پھر مذاکرات ہو رہے ہیں ایک مذاکراتی ٹیم اپوزیشن سے مذاکرات کر رہی ہے، دوسری مذاکراتی ٹیم پنجاب میں اختیارات ، پروٹوکول ، وزارت مانگ رہی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو ان مذاکرات سے خلق خدا کو کیا حاصل ہوگا؟ سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات سیاسی جماعتیں اس کو جمہوریت کا حسن قرار دیتی ہیں مگر یہ کیسا حسن ہے جس حسن کے فائدے ان سیاسی جماعتوں کو ہی ہوتے ہیں۔ ریاست اور خلق خدا کوسوں دور ہوتی ہے۔ دومذاکراتی ٹیموں میں ایک مذاکراتی ٹیم مریم نواز پر سیاسی خودکش حملہ ہی قرار دیا جا سکتا ہے بطور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے مسلم لیگ (ن) کی مقبولیت میں دوبارہ اضافہ کیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی صف او ل کی قیادت کو کب ہوش آئے گا مسلم لیگ (ن) سیاسی دفتروں سے اٹھنے والی محلاتی سازشوں کا شکار کیوں بن جاتی ہے؟ مریم نواز بطور وزیراعلیٰ ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے پنجاب کی خلق خدا کے لئے ترقیاتی کاموں کاایک نہ رکنے والا سلسلہ جاری ہے حکومت پنجاب کی بھرپور توجہ عوامی فلاح پر مرکوز ہے پیپلزپارٹی کو پنجاب میں اختیارات کے بجائے صوبہ سندھ پر توجہ دینی چاہئے۔

    ویسے بھی ملک دہشت گردی کی جنگ سے نمٹنے کے لئے عملاً جنگ کر رہا ہے داخلی محاذ پر سیاسی گرداب، ٹکرائو، محاذ آرائی اور الجھائو کی سیاست کو درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ملک میں دہشت گردی کے حملوں اور پاک فوج کے جوانوں کی شہادتیں دیکھ کر زندہ بچ جانے والے پاک فوج کے جوانوں کو جو قابل فخر ہیں خدا ان مجاہدوں کو سلامت رکھے یہی وہ مجاہد ہیں جو ملک و قوم کے محافظ ہیں ملک و قوم کی عزت اور فخر ہیں خدا پاکستان کو ٹویٹی سیاست سے محفوظ رکھے ملک کی سیاست کے معیار بدل گئے۔ سیاست کے آداب بدل گئے ملک کی سیاست ایسے لوگوں کے پاس چلی گئی سیاست کیا سے کیا ہو گئی سیاستدانوں کی سیاست کو دیکھ کر ملک میں جمہوریت کی پری بھی مکھڑا چھپا رہی ہے