Baaghi TV

Category: بلاگ

  • فلسطینیوں کی پکار اور ہمارا رویہ.تحریر:ارم ثناء

    فلسطینیوں کی پکار اور ہمارا رویہ.تحریر:ارم ثناء

    آج کل جو مسلمانوں کے ساتھ سلوک ہورہا ہے فلسطین، لبنان، کشمیر، برما، ہندوستان وغیرہ ممالک میں۔ کیا اب بھی مسلمانوں پر جہاد فرض نہیں ہے؟ کیا اب جو مسلم آزاد ممالک ہیں کیا ان پر جہاد فرض نہیں ہے؟ جہاد کیا ہے؟ جہاد صرف تلوار سے لڑنے کو تو نہیں کہتے جہاد کی مختلف اقسام بتائی گئی ہیں ہمیں۔ یہ جو پاکستان کی آدھی سے زیادہ عوام کہتی ہے کہ ہم کیا کر سکتے؟ یہ سب تو حکمرانوں کے ہاتھوں میں ہے۔ آپ کیوں نہیں کچھ کر سکتے؟ آپ لوگ اسرائیل کی پروڈکٹس کا بائیکاٹ تو کر سکتے ہیں نا ؟ آپ کا دل کوک یا lay’s وغیرہ کھانے کو کر رہا ہے لیکن آپ لوگ رک جائیں، نہیں ہم نے نہیں کھانا اپنے دل کو سمجھائیں کہ نہیں کھانا، خود کو کہیں کہ میں اسرائیل کی معیشت کو کیوں مضبوط کروں؟ میں کیوں فلسطین کے خون سے اپنے ہاتھوں کو رنگوں، ظاہر ہے میرے ہی دیے پیسوں سے وہ ہتھیار یا جنگ کا باقی سامان خریدتے ہیں۔ یہ ہوگا آپ کا جہاد با لنفس۔ آپ نے یہاں اپنے نفس کو روکا ہے اللہ کےلئے اللہ کے بندوں کےلئے۔

    اب جو ناول نگار ہیں جو سارا دن بیہودہ ناول لکھتے ہیں وہ لکھیں وہ اپنی قوم کو جہاد کے بارے میں بتائیں یہ ہوگا قلم سے جہاد۔ جو لوگ جسمانی طور پر مضبوط ہیں یہ جو لیڈرز ہیں یہ سب اپنی اپنی پارٹی کے لوگوں کو کہیں کہ آئیں ساتھ دیں ہمارا، ہم جہاد کریں گے جب سب پاکستان کی عوام سڑکوں پر نکلے گی تو کیوں نا حکمران مانیں گے؟ یہ ہوگا آپ کا تلوار سے جہاد۔ اب اس وقت جہاد ہم پر فرض ہے اب جو مائیں ہیں یہ اپنے بچوں کی تربیت اس طرح کریں کہ ان میں شروع سے جنون ہو اللہ کی راہ میں قربان ہونے کا،

    یاد رکھیں اگر آپ لوگ اسرائیل کی پروڈکٹس استعمال کرتے ہیں تو قیامت کے دن آپ سے بھی پوچھا جائے گا کہ کیوں اسرائیل کا ساتھ دیا؟ کیوں تم لوگوں نے اسرائیل کی معیشت کو مضبوط کیا؟ کیوں تم لوگوں نے اپنے بہن بھائیوں کا ساتھ نہیں دیا؟ کیوں تم لوگوں نے اپنا قبلہ اول آزاد کرانے کی کوشش نہیں گی؟ یہ جو پاکستان کی عوام کہتی ہے کہ عمران خان نے، بلاول بھٹو، مولانا فضل الرحمان یا حکومت نے ان کی مدد کی ہے تو یہ سب جھوٹ ہے پاکستان کی عوام کو بیوقوف بنایا جا رہا ہے۔ اگر انہوں نے ساتھ دیا ہوتا تو اب فلسطین آزاد ہوتا اگر انہوں نے ساتھ دیا ہوتا تو یہ جو فلسطین کےلئے آواز اٹھا رہے ہیں ان کو جیل میں قید نا کرتے۔

    اب مسلمانوں کو چاہیے کہ ایک ہو جائیں چھوڑ دیں پاکستانی، سعودیہ، ترکی، پنجابی، سندھی، پلوجی، اہل سنت، اہلحدیث، شعہہ، وہابی اب چھوڑ دو یہ سب فرقہ واریت کا پرچار ،اب ایک ہو جاؤ جسد واحد کی طرح اب اٹھ جاؤ۔
    آپ کو پتا ہے؟ کہ یہودی پوری دنیا میں بہت کم ہیں ان کی تعداد لاکھوں میں ہے جبکہ مسلمانوں کی تعداد اربوں میں ہے۔ یہ یہودی اپنے مسیح دجال کےلئے راہ صاف کررہے ہیں اور عیسائی حضرت عیسیٰ کےلئے۔ مسلمانوں آپ لوگ کیا کررہے ہو؟ اپنی ہی بیٹوں کو نچا کر خوش ہورہے ہو، اپنی ہی بیٹیوں کی عمر کی لڑکیوں پر تبصرے کرکے خوش ہو رہے ہو ،خدار لوٹ آؤ اسلام کی طرف، لڑکیو چھوڑ دو بے پردگی، چھوڑ دو غیر محرم کی آنکھوں کو سکون دینا ،چھوڑ دوغیر محرم کو اپنا جسم دکھانا، خدار اب اپنی نسل کو ایسے تیار کرو کہ اللہ ان کو حضرت امام مہدی کے لشکر میں شامل کردے

  • پی ٹی آئی احتجاج،کیا  حکومت صرف بڑھکیں مارنے  کیلیے ہے؟

    پی ٹی آئی احتجاج،کیا حکومت صرف بڑھکیں مارنے کیلیے ہے؟

    پاکستان میں گزشتہ چند دنوں سے احتجاجی تحریک نے سیاسی اور سماجی کشیدگی کو بڑھا دیا ہے۔پی ٹی آئی نے عمران خان کی رہائی کے لئے اسلام آباد کی جانب احتجاج کا اعلان کیا، جس کے بعد اسلام آباد اور پنجاب میں جاری ان احتجاجات نے حکومت کی حکمت عملی پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

    پی ٹی آئی کے احتجاجی مظاہرین عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کی قیادت میں ڈی چوک تک پہنچ چکے ہیں،پرتشدد احتجاج کے دوران تین رینجرز اہلکار ،دو پولیس اہلکار شہید ہوئے،حکومت نے رکاوٹیں کھڑی کیں، راستے بند کئے، کینیٹینر لگائے،اسلام آباد کو لاک ڈاؤن کیا، اس کے باوجود پی ٹی آئی مظاہرین ڈی چوک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے، احتجاجی شرپسندوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں اور ان کی جانب سے اہم مقامات تک پہنچنا اس بات کا غماز ہے کہ حکومت اور ریاست کی رٹ کو چیلنج کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں پولیس اور فوج کے جوانوں کی شہادتیں اور زخمی ہونے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔

    اسلام آباد میں جاری احتجاجی تحریک نے شہر کے متعدد علاقوں کو بند کر رکھا تھا، اور کنٹینرز کی مدد سے سڑکوں کی ناکہ بندی کی گئی تھی۔ اس کے باوجود، احتجاجی گروہ ڈی چوک تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے، جس پر حکومت کی حکمت عملی پر شدید سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ احتجاجی تحریک کے شرپسند ایک ایک انچ آگے بڑھتے رہے، اور حکومت کی جانب سے صرف بیانات اور بڑھکیں دینے کے سوا کوئی مؤثر کارروائی نظر نہیں آئی۔

    مختلف سیاسی رہنماؤں، تجزیہ کاروں اور شہریوں کا کہنا ہے کہ اس صورتحال نے حکومتی رٹ کو ایک بڑا دھچکہ پہنچایا ہے۔ سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ حکومت نے اس تماشے کے لیے کنٹینرز کیوں لگائے؟ اگر سڑکیں بند کی گئی تھیں اور راستے روکے گئے تھے، تو ان اقدامات کا کیا مقصد تھا؟ اور یہ تمام انتظامات کس لیے کیے گئے جب احتجاجی شرپسند ایک کے بعد ایک قدم آگے بڑھتے رہے؟اسلام آباد سے داخلی و خارجی راستوں کو بندش، میٹرو بند، ریلوے سٹیشن بند، ہوٹلز،گیسٹ ہاؤس بند،اس سب اقدامات کے باوجود سوال اٹھتا ہے کہ حکومت نے کیا حکمت عملی اختیار کی؟ اسی دوران، پولیس اور رینجرز کے جوانوں کی شہادت اور زخمی ہونے کے واقعات نے عوام کے ذہنوں میں مزید شکوک و شبہات پیدا کیے ہیں۔ ان تمام واقعات نے حکومت کی بے بسیت اور بے تدبیری کو اجاگر کیا ہے۔

    حکومت کی جانب سے بار بار یہ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ احتجاجی تحریک کے پیچھے "خفیہ ہاتھ” کارفرما ہیں، لیکن اب یہ بیانات بے کار ثابت ہو رہے ہیں۔ عوام کے ذہنوں میں یہ سوالات ابھرنے لگے ہیں کہ اگر حکومت اس قدر کمزور ہے کہ وہ چند کلومیٹر کے علاقے کو بھی کنٹرول نہیں کر سکتی، ایک طرف احتجاجی تحریک کی شدت بڑھتی جا رہی ہے، دوسری طرف حکومت کی طرف سے نہ کوئی موثر حکمت عملی سامنے آ رہی ہے اور نہ ہی کوئی حقیقی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ چند دنوں سے حکومت کے اعلیٰ عہدیدار محض بیانات دے رہے ہیں، جب کہ عوام کی حفاظت کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے جا رہے۔ ولیس کے جوانوں کی قربانیاں ہو رہی ہیں، دوسری طرف حکومت محض خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔اگر حکومت یاست کی رٹ کو قائم نہیں رکھ سکتی،عوام کا تحفظ فراہم نہیں کیا جا سکتا، تو ایسے میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ حکومت کا کام کیا ہے؟ کیا یہ حکومت صرف بڑھکیں مارنے اور بیانات دینے کے لیے ہے، یا پھر اسے عملی اقدامات بھی کرنے ہوں گے؟ ریاست کی طاقت کو محض شوپیس کی طرح نہیں رکھا جا سکتا، بلکہ اسے حقیقی چیلنجز کے سامنے ثابت کرنا ہوگا۔

    موجودہ حالات واقعی حکومت کی مکمل ناکامی کو ظاہر کرتے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت عملی اقدامات کرے، نہ کہ صرف بیانات دے کر حالات کو نظر انداز کرے۔9مئی کے واقعے سے بڑا واقعہ رونما ہو چکا، حکومت اب تک کیا کرتی رہی، بلوائیوں نے پاکستان کو پہلے بھی نقصان پہنچایا اب بھی پہنچا رہے ہین، بشریٰ بی بی کی قیادت میں پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کیا جا رہا ہے، ایسے میں حکومت کو سخت ردعمل ،فوری ایکشن کی ضرورت ہے اس سے پہلے کہ بہت دیر ہوجائے………

    پی ٹی آئی مظاہرین کا ڈی چوک پر خاتون صحافی قراۃ العین شیرازی پر تشدد

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

    9 مئی سے کہیں بڑا 9 مئی ساتھ لئےخونخوار لشکر اسلام آباد پہنچا ہے،عرفان صدیقی

    پی ٹی آئی مظاہرین ڈی چوک پہنچ گئے

    آئی جی کو اختیار دے دیا اب جیسے چاہیں ان سے نمٹیں،وزیر داخلہ

    اسلام آباد،تین رینجرز اہلکار شہید،سخت کاروائی کا اعلان

    عمران کے باہر آنے تک ہم نہیں رکیں گے،بشریٰ کا خطاب

    کوئی مجھے اکیلا چھوڑ کر نہیں جائے گا، بشریٰ بی بی کا مظاہرین سے حلف

    میں جیل میں،اب فیصلے بشریٰ کریں گی،عمران خان کے پیغام سے پارٹی رہنما پریشان

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ کا مشن کامیاب، سیاست میں باضابطہ انٹری،علیمہ "آؤٹ”

    پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا بھی "وڑ”گیا

  • ہمٹی ڈمٹی سے سیکھنے کا سبق

    ہمٹی ڈمٹی سے سیکھنے کا سبق

    ہمٹی ڈمٹی بچوں کے لیے ایک قیمتی سبق ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کبھی کبھار آپ کچھ چیزیں ٹوٹنے یا گم کرنے کا سامنا کرتے ہیں، اور چاہے آپ یا کوئی اور جتنا بھی کوشش کرے، وہ چیز واپس نہیں آ سکتی یا ٹھیک نہیں ہو سکتی۔ یہاں تک کہ "بادشاہ کے تمام گھوڑے اور بادشاہ کے تمام سپاہی” بھی اُسے واپس نہیں لا سکے۔

    جب آپ خطرات مول لیتے ہیں، تو اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ آپ مسئلے کے فائدے یا نقصانات کا اچھی طرح سے جائزہ لیں۔ بغیر سوچے سمجھے، محض تیز فیصلوں پر نہ چھلانگ لگائیں۔ جو لوگ آپ کو جلدی سے مشورہ دینے کے لیے بے چین ہوں، ان کی باتوں پر نہ جائیں کیونکہ وہ یا تو آپ کی طرح بے عقل ہو سکتے ہیں، یا وہ چاہتے ہیں کہ آپ ناکامی کا سامنا کریں۔ کیا آپ نے کبھی "مفاد کے مصلحت” کا سنا ہے؟

    یہ بات اہم ہے کہ ہمٹی ڈمٹی کے معاملے میں، بادشاہ کے تمام گھوڑے اور تمام سپاہیوں نے غریب انڈے کے سر کو دوبارہ جوڑنے کی کوشش کی، لیکن زیادہ تر حالات میں بادشاہ کے گھوڑے اور سپاہی آپ پر چھلانگ لگا کر آپ کو چکنا چور کر سکتے ہیں۔شاید وہ آپ پر حقیقتاً چھلانگ نہ لگائیں، لیکن ہاں، وہ آپ کو مجازی طور پر کچل سکتے ہیں۔ اور یہ ایک نئی مصیبت بن سکتی ہے جو کبھی ختم نہیں ہو گی۔آپ کو اپنے چہرے پر دراڑ کے ساتھ زندگی گزارنی پڑے گی، ممکن ہے ناک غائب ہو اور آپ کے پاس ناکام خطرے کے نتائج کا سامنا کرنے کی ہمت نہ ہو۔لہٰذا احتیاط کریں کہ آپ اپنا ہوم ورک نہ چھوڑیں، یا دوسرے انڈے کے سر والوں کی باتوں پر کان نہ دھریں۔ سمجھ گئے؟

  • جوانوں کے بہنے والے خون کا حساب کون دے گا؟

    جوانوں کے بہنے والے خون کا حساب کون دے گا؟

    جوانوں کے بہنے والے خون کا حساب کون دے گا؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    ملک میں جاری سیاسی عدم استحکام اور انتشار نے ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے جہاں عوام کے ساتھ ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جوان بھی براہ راست خطرے میں ہیں۔ حالیہ واقعات نے اس صورتحال کی سنگینی کو مزید اجاگر کیا ہے۔ اسلام آباد میں شرپسند عناصر کی جانب سے رینجرز اہلکاروں پر گاڑی چڑھانے کے نتیجے میں چار جوان شہید ہو گئے جبکہ دو پولیس اہلکاروں کو مظاہرین کے تشدد کا نشانہ بنا کر شہید کیا گیا۔ ان واقعات میں 100 سے زائد پولیس اور رینجرز کے جوان زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے کئی کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ یہ خون خاک میں ملتا جا رہا ہے مگر سوال یہ ہے کہ ان بہادر جوانوں کے بہنے والے خون کا حساب کون دے گا؟

    حکومت کی کمزور حکمت عملی اور ریاستی رٹ کی کمی کے باعث شرپسندوں کے حوصلے بلند ہوتے جا رہے ہیں۔ سنگجانی ٹول پلازہ پر مظاہرین کی جانب سے سرکاری املاک پر قبضہ اور لوٹ مار، نسٹ یونیورسٹی میں توڑ پھوڑ اور دیگر پرتشدد کارروائیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ قانون کی بالادستی کہیں نظر نہیں آ رہی۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز ان تمام واقعات کی گواہ ہیں لیکن اس کے باوجود حکومت محض بیانات تک محدود ہے۔

    فارن فنڈنگ کیس جو کئی سالوں سے حکومتی میز پر دھرا ہوا ہے، ان موجودہ حالات کی ایک اہم وجہ ہے۔ اگر حکومت وقت پر اس کیس پر کارروائی کرتی اور ذمہ داروں کو سزا دیتی تو شاید آج ملک اس افراتفری کا شکار نہ ہوتا۔ لیکن پچھلے کئی سالوں سے تمام ثبوتوں کے باوجود اس کیس پر کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ کیا یہ حکومتی کمزوری نہیں؟

    شرپسندوں کے سری نگر ہائی وے تک پہنچنے، رکاوٹیں عبور کرنے اور ریاستی املاک کو نقصان پہنچانے جیسے واقعات ریاست کی رٹ پر سوالیہ نشان ہیں۔ یہ مظاہرین نہ صرف قومی املاک کو تباہ کر رہے ہیں بلکہ ان کے حملے ریاستی اداروں کے وقار کو بھی مجروح کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں صرف مذمتی بیانات دینا عوام کے ساتھ مذاق کے مترادف ہے۔

    شہید ہونے والے رینجرز اور پولیس اہلکاروں کے اہل خانہ انصاف کے منتظر ہیں۔ زخمی اہلکاروں کے علاج کے لیے مناسب اقدامات نہ کرنا حکومتی بے حسی کو عیاں کرتا ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان معصوم جوانوں کے خون کا حساب لے اور ان کے قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لائے۔ اگر حکومت ان حالات کو قابو کرنے کی اہلیت نہیں رکھتی، تو اسے اپنی ناکامی قبول کرتے ہوئے مستعفی ہو جانا چاہیے۔

    آج کا پاکستان ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ عوام، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور ریاستی مشینری سب اس سوال کے گرد گھوم رہے ہیں: "جوانوں کے بہنے والے خون کا حساب کون دے گا؟” کیا حکومت ان سوالات کا جواب دینے کے لیے تیار ہے یا محض خاموش تماشائی بنی رہے گی؟ عوام کے دلوں میں اٹھنے والے یہ سوالات جواب کے منتظر ہیں اور یہ خاموشی مزید دیر تک برداشت نہیں کی جا سکتی۔

  • آئی پی ایل فرنچائز راجستھان رائلز نے 13سالہ کرکٹر کو اپنی ٹیم کے لیے خرید لیا

    آئی پی ایل فرنچائز راجستھان رائلز نے 13سالہ کرکٹر کو اپنی ٹیم کے لیے خرید لیا

    ممبئی: 13 سالہ بھارتی کرکٹر ویبھوو سوریاونشی انڈین پریمیئر لیگ ( آئی پی ایل) کا حصہ بننے والے کم عمر ترین کھلاڑی بن گئے۔

    باغی ٹی وی : انڈین پریمیئر لیگ( آئی پی ایل) سیزن 2025 کے لیے کھلاڑیوں کی بولی کی 2 روزہ تقریب گزشتہ روز سعودی عرب کے شہر جدہ میں شروع ہوئی جس میں فرنچائزز نے اپنی ٹیم میں شامل کرنے کے لیے بہترین کھلاڑیوں کو کروڑوں روپے میں خریدا۔

    فرنچائزز نے جہاں بڑے ناموں کو اپنی ٹیم کا حصہ بنایا وہیں ایک 13 سالہ بھارتی کرکٹر ویبھوو سوریاونشی بھی پہلی بار آئی پی ایل کا حصہ بن گئے۔ پیر کو سعودی عرب کے شہر جدہ میں ہونے والی آئی پی ایل کی میگا نیلامی میں راجستھان رائلز نے سوریاونشی کو ایک کروڑ 10 لاکھ بھارتی روپے میں خریدا۔جس کے بعد سوریاونشی آئی پی ایل کی تاریخ میں کسی بھی ٹیم کی جانب سے خریدے جانے والے کم عمر ترین کھلاڑی بن گئے۔

  • کچھوے کی چال، واقعی چال ہے؟.تحریر:اعجازالحق عثمانی

    کچھوے کی چال، واقعی چال ہے؟.تحریر:اعجازالحق عثمانی

    پاکستان کی موٹر وے اور پنڈی و اسلام آباد اور مری کے تعلیمی ادارے بوجہ مرمت بند رہیں گے۔ یہ اعلان تو سنا دیا گیا۔ مگر بتایا نہیں گیا کہ مرمت کس کی ہورہی ہے۔ سکول اور موٹر ویز پر تو مرمتی ٹھیکے داروں نے گندگی نگاہ تک نہیں ڈالی۔ خیر چھوڑیے۔۔۔۔۔
    سنا ہے کہ قیدی آزاد ہے،اور بادشاہ فیصلے کرنے میں مفلوج۔ جسے سیاہ ست نہیں آتی تھی، اس نے ڈنگی لگا کر آنے والوں کو وخطہ ڈالا ہوا ہے۔ آزاد قیدی نے جمہوریت کے چیمپئنز کے منہ سے نہ صرف نقاب اتار ڈالا ہے۔بلکہ میدان چال میں اپنا خیمہ اتنا مضبوط کر ڈالا ہے کہ اس کے مخالفین کا سانس خود اپنی چالوں سے گھٹ رہا ہے۔
    پہلے حکومتوں کے سیاسی مخالفین اپنے مطالبات کے لیے ملک کی شاہراؤں کو بند کرتے تھے۔مگر اس بار آزاد قیدی نے تاریخ بدل ڈالی۔ جیل کے سلاخوں کے پیچھے بیٹھا وہ شخص اس قدر مقبول ہوگیا ہے کہ وہ جیل میں بیٹھ کر دھرنوں اور جلسوں کا اعلان کرتا ہے۔ اور اس کے مخالفین کو ایک روز پہلے ہی نہ صرف کچھ اہم شاہرائیں بلکہ ملک کو عملی صورت میں بند کرنا پڑ جاتا ہے۔
    24 نومبر کو بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے اڈیالہ جیل سے فائنل کال کا اعلان کیا۔ اور کارکنان کو اسلام آباد اپنی رہائی کی غرض سے ہر حال میں پہنچنے کا کہا۔ تاکہ احتجاج کرکے شہر اقتدار کو بند کیا جائے۔ اور حکومت سے مذکرات اور مطالبات منوائے جائیں۔ مگر حکومت نے اپنے سیاسی مخالف کی خواہش خود ہی پوری کر دی۔ 23 نومبر کو ملک کی اہم ترین موٹر ویز اور شاہراؤں کو حکومت نے کنٹینرز لگا کر بند کر دیا۔ اور ملک کی تقریباً 60 فی صد آبادی کو گھروں اور اپنی گلیوں میں محصور کر دیا گیا۔ دوسری جانب علی امین گنڈا پور کے پی کے کے تمام تر سرکاری وسائل استعمال کرتے ہوئے اسلام آباد کےلیے روانہ ہیں۔ وزیر اعلیٰ کے پی کے علی امین گنڈاپور کے قافلے میں سرکاری ملازم، سرکاری مشینری اور بعض اطلاعات کے مطابق پولیس فورسز کے لوگ بھی شامل ہیں۔ جو تاحال 25 نومبر شام 7 بجے اسلام آباد نہیں پہنچے۔

    کیا یہ کچھوے کی چال، آزاد قیدی کی چال تو نہیں؟۔ حکومتی رپورٹس کے مطابق احتجاج کی صورت میں ملک کی معیشت کو 190 ارب کا روزانہ نقصان ہوگا۔ بانی پی ٹی آئی تو احتجاج ہی اس لیے کر رہے ہیں کہ حکومت معاشی دباؤ میں آکر ان کے مطالبات مانے۔ مگر حکومت نے 23 نومبر کو خود ہی ملک کو بند کردیا۔ اور قیدی کی چال کو مزید کامیاب بنانے کےلیے راہ ہموار کی۔ علی امین گنڈاپور جس رفتار سے چل رہے ہیں لگتا یہی ہے کہ یہ کچھوے کی چال 27٫26 نومبر کو بھی چلے گی۔ اور یوں حکومتی حلقوں میں ٹینشن بڑھے گی۔”علی امین گنڈاپور جب لیٹ آئے گا تو ٹینشن بڑھے گا، جب علی امین گنڈاپور زیادہ لیٹ آئے گا تو زیادہ ٹینشن بڑھے گا”۔
    یوں 24 نومبر کو شروع ہونے والا احتجاج 26 نومبر کو شروع ہوگا،لیکن ختم ہونے کا وقت نہیں مقرر۔ مگر تاحال ڈوبتی معیشت کو 580 ارب کا مزید غوطہ دیا جا چکا ہے۔ اور کئی ارب کا مزید خسارہ ہوگیا،مگر قیدی کو معیشت نہیں رہائی چاہیے

  • پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا بھی "وڑ”گیا

    پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا بھی "وڑ”گیا

    پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی حکمت عملی میں دھرنوں، جلسوں، اور مظاہروں کا کردار ہمیشہ اہم رہا ہے، مگر حالیہ دنوں میں نہ صرف پی ٹی آئی احتجاجی سرگرمیاں کمزور پڑتی نظر آ رہی ہیں بلکہ سوشل میڈیا پر بھی پارٹی کا وہ اثر نظر نہیں آ رہا جو ماضی میں ہوتا تھا۔

    پی ٹی آئی نے ماضی میں سوشل میڈیا کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا۔ ان کے بیانیے کی ترویج اور مخالفین پر تنقید کے لیے یہ پلیٹ فارم مرکزی ہتھیار کے طور پر استعمال ہوا۔ یہ ایک ایسی جماعت کے طور پر ابھری جو روایتی میڈیا کی بجائے ڈیجیٹل میدان میں کامیابی کے جھنڈے گاڑنے میں مہارت رکھتی تھی۔ تاہم حالیہ دنوں میں نہ صرف زمینی احتجاج میں کمی دیکھی جا رہی ہے بلکہ سوشل میڈیا پر بھی پارٹی کا رنگ پھیکا پڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ وہ جماعت جو ٹویٹر پر ٹرینڈز بناتی تھی، فیس بک پر لاکھوں کی ریچ حاصل کرتی تھی، اور یوٹیوب پر لاکھوں ویوز جمع کرتی تھی، آج کل کمزور دکھائی دے رہی ہے۔پی ٹی آئی اب سوشل میڈیا پر وہ بیانیہ بنانے میں کامیاب نہیں ہو پا رہی جو پہلے بناتی تھی،پی ٹی آئی کی پارٹی کی اندرونی تقسیم اور اہم رہنماؤں کی گرفتاری یا خاموشی ممکنہ وجوہات ہو سکتی ہیں،حکومتی سطح پر سوشل میڈیا پر عائد کردہ ممکنہ پابندیوں کی وجہ سے بھی پی ٹی آئی سوشل میڈیا ٹیم مشکلات کا شکار ہے،انتشار اور نفرت کی سیاست کی وجہ سے عوام، خاص طور پر نوجوان، ماضی کی طرح سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کی سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے رہے جس کی وجہ سے پی ٹی آئی سوشل میڈیا پر بہت پیچھے جا چکی ہے

    پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا محاذ پر اثر کم ہونے کی وجوہات میں تنظیمی مسائل، حکومتی دباؤ، اور عوامی دلچسپی میں کمی شامل ہو سکتی ہے وہیں پی ٹی آئی رہنماؤں کے آپسی اختلافات، علیمہ، بشریٰ کی لڑائی، گنڈا پور ،بشری کی لڑائیاں اور پارٹی رہنماؤں کی ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی کی وجہ سے بھی سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کارکنان مایوس ہو چکے ہیں،کارکنان کو سمجھ نہیں آتی کہ وہ کس کے بیانئے کو لے کر چلیں،عمران خان تو جیل میں ہیں اور ان سے ملاقاتیں کرنے والے پارٹی رہنماؤں کا مؤقف الگ الگ ہوتا ہے، جس سے پی ٹی آئی کو بیانیہ بنانے میں مشکل پیش آتی ہے.

    عمران خان کی جانب سے "فائنل کال” پنجاب میں "مس کال” بن گئی

    پی ٹی آئی احتجاج،خیبر پختونخوا سے 12 سو سے زائد چھوٹی بڑی گاڑیاں،شرکا کی تعداد

    برطانیہ،عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی کا تاریخی احتجاج

    پی ٹی آئی احتجاج،قیادت بشریٰ بی بی نے سنبھال لی،کینٹینر پر چڑھ گئیں

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ تو آ گئیں، علیمہ خان منظر سے غائب

    اسلام آباد، مظاہرین پتھراؤ سے متعدد پولیس اہلکار زخمی

    24 نومبردن ختم،لاہورسے نہ قافلہ نکلا نہ کوئی بڑا مظاہرہ

    سپریم کورٹ پر حملہ کرنے والوں کو سزا مل جاتی تو نومئی نہ ہوتا، مبشرلقمان

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    خود گرفتاریاں دے رہے،پی ٹی آئی قیادت کہیں نظر نہیں آرہی،مصدق ملک

    گاڑیوں میں بیٹھیں،تیز چلیں، خان کو لئے بغیر واپس نہیں آنا، بشریٰ بی بی کا شرکا سے خطاب

  • ذہنی غلام قوم کب ہو گی آزاد.تحریر: ارم ثناء

    ذہنی غلام قوم کب ہو گی آزاد.تحریر: ارم ثناء

    ہم صرف نام کے آزاد ہیں، ورنہ ہمارے ذہن تو اب بھی غلامی میں ہیں، ہمارے اساتذہ جن کو چاہیے کہ وہ بچوں کو ایسے تیار کریں کہ وہ حق بات کرتے ہوئے ہچکچائیں نا۔ لیکن وہ بچوں کو ایسے تیار کرتے ہیں کہ وہ اپنی بات کو بھی دوسروں تک پہنچانے سے پہلے گئی مرتبہ سوچتے ہیں۔ ہماری درس گاہوں میں اگر کبھی کوئی ٹیچر غلط بات کرے اور بچے ٹیچر کو بتا دیں تو ٹیچر اس کا شکر ادا کرنے کی بجائے الٹا اس کو ڈانٹ دیتے ہیں جس سے بچے پر یہ اثر ہوتا ہے کہ وہ جس بھی جگہ پر کچھ غلط ہوتا دیکھے تو خاموش ہو جاتا ہے۔ ہمارے گھروں میں کوئی بہوئیں نہیں لانا چاہتا بلکہ وہ ایک ذہنی غلام لانا چاہتے ہیں جو بھی ان کے ساتھ غلط کرے بس اس کو خاموشی سے برداشت کر لیں۔

    میرے خیال میں بچوں کو سکول لیول پر ہی یہ سیکھانا چاہیے کہ وہ حق بات کےلئے کھڑے ہوں چاہے وہ غلط بات ٹیچر کرے یا والدین۔ جو بھی بات اسلام کے خلاف ہو اس کے خلاف کھڑے ہوجائیں۔ جس بھی جگہ پر دیکھیں کہ اللہ کی نافرمانی ہو رہی ہے آواز بلند کریں اس جگہ پر۔ بچے جب صحیح بات کریں تو ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے، بچے جب کسی بڑے کی غلطی کو نوٹ کرکے وہ آپ کی غلطی آپ کو بتائیں تو ان کا شکر ادا کریں۔

  • مودی اور سیکولر بھارت

    مودی اور سیکولر بھارت

    بھارت میں ہندو قوم پرستی نے ہمیشہ ان اہم لمحات میں زور پکڑا جب سیاسی رہنماؤں نے جو خود کو سیکولر ظاہر کرتے ہیں، انتخابات میں فائدہ اٹھانے کے لیے مذہب کا سہارا لیا۔ گزشتہ صدی کے دوران یہ رجحان اپنے عروج پر پہنچ چکا ، جس کی ایک بڑی مثال بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی ہیں، جنہوں نے سیکولرازم کو ترک کرتے ہوئے مذہب پر مبنی قومی شناخت کو ترجیح دی ہے۔

    1923 میں ونائیک دامودر ساورکر نے ایک جارحانہ ہندو مرکزیت پر مبنی ہندوتوا کا نظریہ پیش کیا۔ ہندو دھرم کی برابری کے روحانی اصولوں سے ہٹ کر، ساورکر نے لوگوں کو "دوستوں” اور "دشمنوں” میں تقسیم کیا۔ دوست وہ تھے جو نسب اور وفاداری کے ذریعے بھارت سے جڑے تھے، جبکہ دشمن وہ تھے جنہیں غیر ملکی یا غیر وفادار سمجھا جاتا تھا۔ لگ بھگ ایک دہائی بعد، جرمن نازی نظریہ ساز کارل شمٹ نے سیاست کو اسی طرح دوستوں اور دشمنوں میں تقسیم کیا۔

    1925 میں ساورکر سے متاثر ہو کر راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) قائم کی گئی جو اس تحریک کا عسکری ونگ تھا۔ آر ایس ایس نے نوجوانوں کو عسکری تربیت دی اور ایک مثالی ہندو ماضی پر فخر کرنے کا جذبہ پیدا کیا، جس کا مقصد ایک متنازع نظریہ کو فروغ دینا تھا۔ نریندر مودی، آر ایس ایس کے نمایاں ارکان میں سے ایک ہیں اور وہ اسی تحریک سے کھل کر سامنے آئے،

    دوسری جانب، انڈین نیشنل کانگریس، مہاتما گاندھی کی قیادت میں، ایک سیکولر اور متحدہ بھارت کی حمایت کرتی رہی، جس کا مقصد برطانوی تسلط سے آزادی حاصل کرنا تھا۔ تاہم، ہندوتوا کے حامیوں نے گاندھی کے مذہبی ہم آہنگی کے پیغامات کو مسلمانوں کے لیے رعایت سمجھا۔جس کے نتیجے میں 1948 میں ساورکر کے نظریے کے پیروکار کے ہاتھوں گاندھی کا قتل ہوا۔

    آزادی کے بعد وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے بھارت کے لیے ایک سیکولر وژن کی وکالت کی، جو معاشی اور سماجی ترقی کی خواہشات پر مبنی تھا۔ لیکن نہرو کی 1964 میں وفات کے بعد، کمیونل نظریات کانگریس کے اندر اور باہر دونوں جگہ مقبول ہونے لگے۔ سیکولرازم کو ایک بڑا دھچکا 19 اپریل 1976 کو لگا، جب وزیر اعظم اندرا گاندھی کے بیٹے نے ایمرجنسی کے تحت مسلمانوں کو نشانہ بنایا۔ اس دن دہلی کی جامع مسجد کے قریب جبری نس بندیوں سے آغاز ہوا اور ترکمان گیٹ پر مسلمانوں کے انخلاء اور قتل عام پر ختم ہوا۔1976 کے ترکمان گیٹ کے تشدد کے 16 سال بعد، 1992 میں بابری مسجد کی شہادت کے واقعے نے ایک اور لہر کو جنم دیا، جس سے بھارت کے سیکولر نظریات مزید کمزور ہو گئے۔

    آج، ہندوتوا،جو ہندو دھرم کی پرامن تعلیمات سے بہت مختلف ہے، اکثر بھارت کے ایلیٹس کی خاموش حمایت کے ساتھ سیاست اور ثقافت میں سرایت کر چکا ہے، مودی، جو ایک پجاری جیسا عوامی کردار اپناتے جا رہے ہیں، کے دور میں ایک سیکولر بھارت کا خواب ایک مذہبی طور پر متعین ریاست کے عروج سے دھندلا ہوتا نظر آ رہا ہے۔

  • چھٹیاں حل نہیں ،چھٹیوں کا حل نکالئے

    چھٹیاں حل نہیں ،چھٹیوں کا حل نکالئے

    چھٹیاں حل نہیں چھٹیوں کا حل نکالئے
    ازقلم غنی محمود قصوری
    اس وقت صوبہ پنجاب کے بیشتر اضلاع شدید سموگ کی لپٹ میں ہیں جس کی بدولت سمارٹ لاک ڈاؤن ہے اور بچوں کو سکول سے چھٹیاں ہیں یہ چھٹیاں 24 نومبر تک تھیں جنہیں موسم میں بہتری کے باعث ختم کر دیا گیا ہے اور سکول لاہور ملتان کے علاوہ دیگر اضلاع میں تعلیم کیلئے سکول کھول دیئے گئے ہیں کیونکہ لاہور اور ملتان میں سموگ کی شدت زیادہ ہے اس لئے وہاں سکول بدستور بند ہیں

    ایک سال میں 365 دن ہوتے ہیں جبکہ 52 ہفتے ہوتے ہیں،اس وقت پاکستان کے سرکاری سکولوں میں ہفتہ اور اتوار کی سرکاری چھٹی ہوتی ہےیعنی ایک سال میں بچوں کو 104 چھٹیاں سرکاری ہیں اس کے علاوہ 90 دن کی چھٹیاں پنجاب میں گرمیوں کی ہوتی ہیں مذید دسمبر میں 10 چھٹیاں ہوتی ہیں اس کے علاوہ ہر ضلع میں تقریباً 1 سرکاری چھٹی سالانہ ہوتی ہے جو کہ کسی عرس، تقریب وغیرہ پر ضلعی انتظامیہ کی طرف سے دی جاتی ہے،اس سب کے علاوہ بچوں کی صحت کے لحاظ سے کم از کم دو ماہ بعد ایک بچہ بوجہ بیماری بھی چھٹی کرتا ہے،نیز اس کے علاوہ بھی معاشرتی طرز زندگی کیلئے شادی بیاہ،فوتگی و دیگر امور کے باعث بھی چھٹی کرنی پڑتی ہے

    اگر جنرل طور پر دیکھا جائے تو سرکاری سکول کے بچے 365 دنوں میں سے بغیر کسی ناغے کے 160 دن سکول جاتے ہیں اگر بیماری و دیگر چھٹیوں کو ڈال لیا جائے تو بمشکل 150 دن بنتے ہیں ان میں سے اگر بیماری و دیگر چھٹیوں کو بھی شامل کر لیا جائے تو سرکاری سکولوں کے بچے محض 150 دن ہی بمشکل سکول جاتے ہیں،جبکہ اس کے برعکس پرائیویٹ سکولوں میں ہفتہ کی صرف ایک چھٹی اتوار کو ہوتی ہے نیز سخت گرمی میں بھی باوجود گورنمنٹ کے حکم کے بچوں کو سادی کپڑوں میں سکول آنے کا پابند کیا جاتا ہے اور اسے اکیڈمی ٹائم کا نام دے کر پڑھایا جاتا ہے
    یعنی سرکاری اور پرائیویٹ سکولوں کی چھٹیوں میں زمین و آسمان سا فرق ہے.جس کے باعث بیشتر ماں باپ نا چاہتے ہوئے بھی اپنے بچوں کو پرائیویٹ سکولوں میں پڑھاتے ہیں تاکہ ان کے جگر کے ٹکڑے حصول تعلیم بغیر ناغے کے جاری رکھیں بیشتر غریب ماں باپ بھی بہت تنگدستی میں قرض اٹھا کر اور اپنے کھانے پینے کے اخراجات کم کرکے اپنے بچوں کو پرائیویٹ سکولوں میں پڑھانے پر مجبور ہیں جس کی وجہ آئے روز کی چھٹیاں ہی ہیں

    ہمارے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ ہم ہر چیز کا شارٹ کٹ اور عارضی حل نکالتے ہیں مستقبل حل نہیں نکالتے جس کے باعث مسائل کم نہیں ہوتے بلکہ بڑھتے ہیں پہلے موسم گرما و سرما کی چھٹیاں تھیں اب چند سالوں سے سموگ کی چھٹیاں الگ سے ہونے لگی ہیں

    ہم بات شروع کرتے ہیں موسم گرما کی چھٹیوں کی اگر بچوں کو 90 دن چھٹیاں کروانے کی بجائے ان دنوں صبح فجر کے بعد سکول ٹائم کو شروع کیا جائے اور ہر کلاس روم کو یو پی ایس و سولر سسٹم سے روم کولرز و ائیر کنڈیشنر سے ہوا دار کرکے ٹمپریچر لیول کنٹرول کیا جائے تو میرے خیال سے چھٹیاں کروانے کی نوبت ہی نا آئے گی،سوچا جائے تو اگر ہمارے ملک میں ایک 16 سکیل کے اکیلے آفیسر کے کمرے میں 2 ٹن کا اے سی چلتا ہے تو کیا وہاں 70 بچوں کی کلاس میں 3 ماہ ایک اے سی چلا کر بچوں کی پڑھائی کو جاری نہیں رکھا جا سکتا؟

    اسی طرح ہفتہ میں دو چھٹیوں کی سمجھ آج دن تک کسی کو نہیں آئی کہ اس میں کیا حکمت ہے اگر اس میں اتنی ہی خیر ہے تو پھر پرائیویٹ سکولوں میں ہر ہفتے دو چھٹیاں کیوں نہیں کروائی جاتیں؟ان دنوں سموگ کی چھٹیوں کو دیکھا جائے تو سموگ سے بچاؤ کی خاطر چھٹیاں کروا کر بچے گھروں میں قطعاً سموگ سے نہیں بچتے کیونکہ ہمارے ہاں سرکاری سکول کشادہ اور ہوا دار ہیں جبکہ اس مہنگائی کے دور میں سرکاری سکولوں میں پڑھنے والے بچوں کے والدین کے پاس رہنے کو چھوٹے چھوٹے مکان ہیں جن میں درخت نا ہونے کے برابر ہیں جبکہ اس کے برعکس ہر سرکاری دفتر میں وافر مقدار میں درخت موجود ہوتے ہیں جو ماحول کو آلودہ ہونے سے بچاتے ہیں

    ہر سال سموگ سے بچاؤ کی خاطر چھٹیاں تو کی جاتی ہیں مگر سموگ کو کنٹرول کرنے کیلئے تدابیر نہیں کی جاتیں،جہاں سموگ سے بچنا ان بچوں کیلئے ضروری ہے وہاں 60 سال سے زائد عمر کے اس مزدور کے لئے بھی بچنا اتنا ہی ضروری ہے کہ جس کا لخت جگر اس کی دن رات کی کمائی سے سکول پڑھنے جاتا ہے،سموگ سے 16 سالہ میٹرک کا طالب علم تو بچنے کے طریقے جانتا ہے مگر اس کا 60 سے 70 سالہ بوڑھا اور کمزور باپ نہیں جانتا کہ کس طرح سموگ سے بچنا ہے وہ ہر چیز کی پرواہ کئے بغیر اپنے بچوں کی روزی روٹی اور تعلیم کی خاطر مزدوری کرتا ہے

    اگر ریاست کا فرض سموگ سے ان بچوں کو بچانا ہے تو پھر ان بزرگوں کو سموگ سے بچانا بھی ریاست کا فرض ہے سو اس لئے ضروری ہے کہ سموگ کی چھٹیاں کروانے کی بجائے سموگ کے بننے کے عمل کو روکا جائے،اگر دیکھا جائے تو سموگ پھیلانے میں پنجاب اربن یونٹ لاہور کی رپورٹ کے مطابق دھواں چھوڑنے والی گاڑیاں فضائی آلودگی پھیلانے میں سب سے آگے ہیں،یعنی کہ شعبہ ٹرانسپورٹ کا فضائی آلودگی پھیلانے میں 83.15 فیصد کردار ہے اسی طرح صنعتی سرگرمیاں سموگ پھیلانے میں دوسرے نمبر پر ہیں یعنی انڈسٹریز کے دھوئیں کا سموگ میں حصہ 9.07 فیصد ہے، اسی طرح فضائی آلودگی پھیلانے میں زرعی فضلہ جلانے کا کردار 3.9 فیصد ہے اورکچرا جلانے کا حصہ سموگ میں 3.6 فیصد ہے
    کمرشل عمارتوں کی سرگرمیوں کا فضائی آلودگی میں کردار 0.14 فیصد ہےاور گھریلو سرگرمیاں 0.11 فیصد فضائی آلودگی یعنی سموگ میں حصہ ڈالتی ہیں
    یعنی کہ قصہ مختصر سموگ کی چھٹیوں کو ختم کرکے سموگ کے دن شروع ہونے سے پہلے ہی ٹرانسپورٹ گاڑیوں کے دھوئیں پر کنٹرول کیا جائے
    کچرا جلانے پر پابندی لگائی جائے اور لوگوں میں نجی سواری کی بجائے مشترکہ پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے پر آگاہی دی جائے
    نیز سموگ سے بچاؤ کیلئے گھر سے باہر نکلتے فیس ماسک لازم قرار دیا جائے

    کارخانوں کے دھوئیں کو زگ زیگ ٹیکنالوجی سے کم آلودہ کیا جائے جس طرح بھٹہ خشت پر زگ زیگ سسٹم لازم ہے اسی طرح انڈسٹری میں بھی زگ زیگ کے بغیر انڈسٹری چلانے پر جرمانے کئے جائیں،ٹرانسپورٹ کو شمسی و بیٹری سسٹم پر منتقل کیا جائے تاکہ دھواں کم سے کم بنے
    سوچنے کی بات ہے کہ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں سموگ سے متاثرہ لوگوں کی تعداد نا ہونے کے برابر ہے جبکہ دوسرے بڑے شہر لاہور میں سب سے زیادہ حالانکہ آبادی و صنعتی لحاظ سے کراچی بہت بڑا شہر ہے اور لاہور اس سے چھوٹا تو پھر کچھ تو کمی کوتاہی ہے نا کہ بڑا شہر سموگ سے متاثر نہیں اور اس سے چھوٹا شہر متاثر ہے

    گورنمنٹ کو چائیے کہ چھٹیاں ختم کرکے چھٹیوں کا حل نکالے تاکہ بچوں کے والدین سرکاری سکولوں پر اعتماد اور یقین کریں بجائے پرائیویٹ سکولوں کے پڑھانے کے اپنے بچے سرکاری سکولوں میں پڑھائیں