Baaghi TV

Category: بلاگ

  • راجن پور میں انڈسٹریل اسٹیٹ اور ٹیکس فری زون کا قیام وقت کی ضرورت ہے

    راجن پور میں انڈسٹریل اسٹیٹ اور ٹیکس فری زون کا قیام وقت کی ضرورت ہے

    راجن پور میں انڈسٹریل اسٹیٹ اور ٹیکس فری زون کا قیام وقت کی ضرورت ہے
    تحریر: ملک خلیل الرحمٰن واسنی حاجی پورشریف
    پاکستان کے صوبہ پنجاب کا پسماندہ ترین ضلع راجن پور، جو روجھان، راجن پور اور جام پور جیسی تحصیلوں پر مشتمل ہے، اپنی جغرافیائی اہمیت اور قدرتی وسائل کے باوجود ترقی کے مواقع سے محروم ہے۔ یہاں کی 70 فیصد سے زائد آبادی زراعت پر انحصار کرتی ہے، لیکن ہر سال سیلاب کی تباہ کاریوں کے باعث مالی نقصانات اٹھاتی ہے۔ اس صورتحال میں انڈسٹریل اسٹیٹ اور ٹیکس فری انڈسٹریل زون کا قیام علاقے کی اشد ترین ضرورت بن چکا ہے۔

    صنعتی ترقی سے نہ صرف مقامی آبادی کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے بلکہ یہاں کے 25 لاکھ سے زائد افراد کا معیارِ زندگی بہتر ہو سکتا ہے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان، جو فی الحال بے روزگار ہیں، اپنی صلاحیتوں کو ملک و قوم کی خدمت میں استعمال کر سکیں گے، جبکہ خواتین کو بھی روزگار کے مواقع فراہم کیے جا سکیں گے۔ یہ منصوبہ نہ صرف مقامی ترقی کا ضامن ہوگا بلکہ قومی معیشت کو مستحکم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔

    راجن پور میں قدرتی وسائل کی کوئی کمی نہیں، لیکن ان سے فائدہ اٹھانے کے لیے مناسب حکومتی منصوبہ بندی کا فقدان رہا ہے۔ اگر حکومت اور سرمایہ کار ادارے اس علاقے کی طرف توجہ دیں تو یہ خطہ صنعتی ترقی کے لیے ایک مثالی مقام بن سکتا ہے۔ پاکستان کے دوست ممالک اور نجی سرمایہ کار کمپنیاں اس علاقے میں صنعتوں کے قیام میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

    عوامی اور سماجی حلقے بھی اس حوالے سے حکومت سے توقعات وابستہ کیے ہوئے ہیں۔ مقامی سیاسی، سماجی اور تاجر تنظیمیں اس منصوبے کو حقیقت بنانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں۔ ضلع راجن پور کے موجودہ ڈپٹی کمشنر شفقت اللّٰہ مشتاق بھی اس ضمن میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ان کے پاس یہ موقع ہے کہ وہ حکومتی حکام کو فزیبلیٹی رپورٹ پیش کر کے اس منصوبے کی اہمیت اجاگر کریں اور اسے عملی جامہ پہنانے میں مددگار ثابت ہوں۔

    اس منصوبے کے لیے عوامی حمایت بھی ضروری ہے۔ عوام نے بارہا اپنی مشکلات کا ذکر کیا ہے، خاص طور پر بے روزگاری اور روزگار کی بہتر سہولیات کے فقدان کا۔ انڈسٹریل اسٹیٹ کا قیام ان تمام مسائل کا حل ہو سکتا ہے اور ایک بڑا معاشی گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔

    صوبائی اور وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر اس منصوبے پر کام شروع کرے۔ سرمایہ کاری، مناسب پالیسیاں، اور مقامی و بین الاقوامی تعاون کے ذریعے اس منصوبے کو کامیاب بنایا جا سکتا ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف راجن پور کے عوام کی زندگیوں میں تبدیلی آئے گی بلکہ ملک کی معیشت کو بھی استحکام ملے گا۔ عوام کی نظریں اب حکومتی اقدامات پر مرکوز ہیں، اور وقت آ گیا ہے کہ ان توقعات کو پورا کیا جائے۔

  • اقتدار کی خاطر مذہبی تاویلیں،رب کو ناراض نہ کریں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    اقتدار کی خاطر مذہبی تاویلیں،رب کو ناراض نہ کریں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    دہشت گردی ،قتل و غارت گری، سماجی معمول کا درجہ اختیار کر جائیں، رشتے مٹ رہے ہوں، احساس ماند پڑ جائے، بیروزگاری، ناخواندگی عام ہو ۔۔کوئی راستہ کوئی منزل نظر نہ آئے ۔ بدعنوانی اور منافقت اخلاقیات کا درجہ اختیار کر لیں تو سیاست اور جمہوریت کیسی؟ ان حالات میں ریاست کی حالت کیا ہوگی؟ تاہم بدترین داخلی انتشار کے باوجود پاک فوج اور جملہ اداروں نے ریاست کے ساتھ ساتھ دفاع کو بھی اپنی حفاظت میں لیا ہوا ہے۔ یاد رکھیئے! ریاست کے نگہبانوں کو فساد اور انتشار کا سدباب کرنا آتا ہے ریاست کے استحکام پر کسی فرد واحد کو اہمیت حاصل نہیں ہوتی۔ ریاست کے استحکام کے لئے پاک فوج اور جملہ ادارے دیوار چین کی طرح کھڑے ہیں۔

    قوم نے طویل تین مارشل لاء دیکھے موجودہ صدی کے پیروں، نام نہاد گدی نشینوں ، ججز، وڈیروں، سیاستدانوں، نام نہاد دانشوروں، سرمایہ داروں نے ان مارشل لاء لگانے والوں کا بھرپور ساتھ دیا ،میڈیا نے بھی بھرپور ساتھ دیا الزام صرف فوج پر نہیں لگایا جا سکتا۔ میاں محمد نوازشریف کو تین بار حکومت سے علیحدہ کیا گیا اس کی ذمہ داری سیاستدانوں پر ہی آتی ہے۔ سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ ان کی اپنی جماعت میں نہ سیاست اور نہ جمہوریت ہے، پانامہ لیکس ایک غلط اور بے بنیاد مقدمہ بنا کر نوازشریف اور اسکے خاندان کو بدنام کیا گیا اس مقدمے کے پیچھے سیاستدان ہی تھے، عمران خان جو آج جمہوریت آئین کی بات کرتے تھکتے نہیں کیا وہ بتا سکتے ہیں کہ وہ ایک جمہوری حکومت کیخلاف سازش میں کیوں شامل ہوئے؟ 2018ء کے الیکشن میں انہوں نے کس طرح کامیابی حاصل کی وہ کن ملاحوں کی مدد سے اقتدار کی کرسی پر بیٹھے ،نوازشریف کا اس وقت گناہ کیا تھا؟ 2024ء کے الیکشن پر سینہ کوبی کرنے والے بتا سکتے ہیں 2018ء کا الیکشن ہی تھا؟

    یاد رکھیئے۔ پاکستان کی سیاست سیاستدانوں اورنام نہاد جمہوریت سے امریکہ سمیت عالمی دنیا آگاہ ہے سوشل میڈیا جھوٹ بولنے کی فیکٹریاں ہیں بدقسمتی سے الیکٹرانک میڈیا بھی سوشل میڈیا کا اسیر بن چکا ہے۔ کلمہ پڑھ کر جھوٹ بولتے ہیں سیاستدانوں کی اکثریت نام نہاد پیروں اور گدی نشینوں، نام نہاد عالم دین، خدا کے عذاب سے ڈرتے نہیں روز محشر خدا کی عدالت میں کس منہ سے کھڑے ہوں گے پاکستان کی سرزمین بھی خدا پاک کی ملکیت ہے اس سرزمین پر بسنے والے خدا پاک کی مخلوق ہے اپنے اقتدار اور اختیارات کی خاطر مذہبی تاویلیں دے کر خدا پاک کو ناراض نہ کریں دین اسلام پر عمل کریں

  • ایم 5 موٹروے،بڑھتے جرائم، مسافر غیر محفوظ

    ایم 5 موٹروے،بڑھتے جرائم، مسافر غیر محفوظ

    ایم 5 موٹروے،بڑھتے جرائم، مسافر غیر محفوظ
    تحریر:حبیب اللہ خان ، اوچ شریف
    ملتان،سکھر ایم 5 موٹروےپاکستان کے اہم تجارتی راستوں میں سے ایک ہے، جو مسافروں کے لیے سب سے محفوظ شاہراہ سمجھی جاتی رہی ہے۔ لیکن حالیہ دنوں میں اس پر پیش آنے والے پرتشدد واقعات نے اس کے تحفظ کے حوالے سے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ یہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ یہاں سفر کرنے والے افراد کی جان و مال کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔

    حالیہ رونما ہونے والے ایک واقعہ میں اوچ شریف کے قریب جھانگڑا ریسٹ ایریا میں ایک ٹرک ڈرائیور کو نامعلوم افراد نے گولی مار کر قتل کر دیا، جبکہ دوسرا شخص شدید زخمی ہوا۔ یہ حملہ ایک ایسے ٹرک پر ہوا جو ملتان سے کراچی جا رہا تھا۔ یہ واقعہ موٹروے پر مسلسل ہونے والی ان وارداتوں کی کڑی ہے جو پچھلے چند مہینوں میں عام ہو چکی ہیں۔

    گھوٹکی کے علاقے میں امن و امان کی صورتحال دن بہ دن خراب ہوتی جا رہی ہے۔ درجنوں شہری اغوا ہوچکے ہیں، اور اغوا کاروں نے مبینہ طور پر کروڑوں روپے تاوان کی مد میں بٹور لیے ہیں، اس کے علاوہ مسلح ڈاکوؤں نے فائرنگ کے متعدد واقعات میں کئی افراد کو زخمی کیا، جبکہ ایک قبائلی سردار کے بیٹے کی موت بھی انہی حملوں میں بتائی جاتی ہے،

    موٹروے پر ڈاکوؤں کے گروہ مسافر گاڑیوں کو روکنے کے لیے فائرنگ کرتے ہیں۔ اگر گاڑیاں رک جائیں تو ان میں موجود افراد کو لوٹ لیا جاتا ہے یا اغوا کر لیا جاتا ہے۔ اگر گاڑیاں نہ رکیں تو فائرنگ کے نتیجے میں مسافروں کی جان کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔

    2021 سے اب تک ایم 5 موٹروے پر درجنوں بڑے حملے ہو چکے ہیں، جن میں کئی گاڑیاں نشانہ بنیں، متعدد افراد زخمی ہوئے اور کئی جانیں ضائع ہوئیں۔ ان واقعات نے موٹروے پر موجود موٹروے پولیس ،سیکیورٹی چوکیوں کی ناکامی اور حفاظتی اقدامات کی کمی کو عیاں کر دیا ہے۔
    ان جرائم کے بڑھتے ہوئے واقعات نے سندھ اور پنجاب کی پولیس، موٹروے پولیس اور دیگر متعلقہ حکام کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ان متاثرہ علاقوں میں قانون نافذ کرنے والے ادارے ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں۔اگرچہ کئی آپریشنز کیے گئے ہیں لیکن ڈاکوؤں کے نیٹ ورک کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ایم 5 موٹروے کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ ان میں ہر چند کلومیٹر کے فاصلے پر اضافی پولیس چوکیوں کا قیام، جدید کیمروں اور ڈرونز کے ذریعے مکمل نگرانی کا نظام، ایک خصوصی سیکیورٹی فورس کی تعیناتی اور سخت قانونی کارروائی شامل ہیں تاکہ ڈاکوؤں اور مجرموں کا قلع قمع کیا جا سکے۔

    ملتان سکھر موٹروے جو سی پیک کے اہم منصوبوں میں شامل ہے، پاکستان کی اقتصادی ترقی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ تاہم اس شاہراہ پر جرائم میں اضافے نے نہ صرف عوام کے اعتماد کو متزلزل کیا ہے بلکہ تجارتی سرگرمیوں پر بھی منفی اثر ڈالا ہے۔ حکومت کو فوری طور پر مؤثر اقدامات اٹھاتے ہوئے اس اہم شاہراہ کو محفوظ بنانا ہوگا تاکہ شہریوں کی جان و مال کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے اور ملک کی معیشت کو ممکنہ نقصانات سے بچایا جا سکے

  • تبصرہ کتب،: فتاویٰ برائے خواتین

    تبصرہ کتب،: فتاویٰ برائے خواتین

    نام کتاب : فتاویٰ برائے خواتین
    جمع وترتیب : محمد بن عبدالعزیز المسند
    صفحات : 488
    قیمت 1450روپے
    ناشر : دارالسلام انٹرنیشنل ، لوئر مال ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ لاہور
    برائے رابطہ :042-37324034
    زیر نظر کتاب” فتاویٰ برائے خواتین “ روزمرہ زندگی میں خواتین کو درپیش مختلف نوعیت کے تمام اہم مسائل اور ان کے علمی و تحقیقی جوابات کا گرانقدر مجموعہ ہے جو کہ دینی کتابوں کی اشاعت کے عالمی ادارہ دارالسلام نے شائع کیا ہے۔ یہ کتاب بتاتی ہے کہ خواتین کو شرم و حیا اور حجاب و نقاب کے تقاضے ہمیشہ ملحوظ رکھنے چاہئیں۔ بچیوں کو اسلامی تعلیمات سے اچھی طرح روشناس کرانا چاہیے۔ جب وہ جوان ہو جائیں تو ان کی شادی کرنے کے لیے غایت درجہ احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ لڑکے کے انتخاب میں اس کے اخلاق و احوال دیکھنے چاہئیں۔ یہ تحقیق ضرور کرنی چاہیے کہ جس سے بچی کی شادی کی جارہی کیا وہ نماز کا پابند ہے یا نہیں؟ کسی بے نماز سے ہرگز شادی نہیں کرنی چاہیے۔ کوئی مرد لڑکی کی عمر سے دس پندرہ سال بڑا ہو اور وہ صالح اور صحت مند بھی ہو تو لڑکی کو ایسے مرد سے شادی کرنے یا نہ کرنے کا اختیار ہے لیکن بڑی عمر پر اعتراض کا کوئی حق نہیں۔ ایک فتوے میں ایک خاتون کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ اپنے شرابی اور بدکار شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرسکتی ہے۔متعدد فتووں میں بتایا گیا ہے کہ ایامِ حیض میں نماز، روزہ اور طواف بیت اللہ جیسی عبادت کی ممانعت ہے۔شیر خوار بچہ قے کر دے تو لباس ناپاک نہیں ہوتا۔ جو عزیز رشتہ دار نماز نہیں پڑھتے ان سے حسن سلوک کی تاکید کی گئی ہے ۔ روزے میں مسواک یا ٹوتھ برش کرنے سے کوئی حرج نہیں۔ ایک فتوے میں بتایا گیا ہے کہ کوئی خاتون کتنی ہی پڑھی لکھی ہو، مردوں کی امامت کرانے کی مجاز نہیں۔ ایک خاتون گھر میں اکیلی ہے، نماز پڑھ رہی ہے، دروازے پر مہمان آگیا، اس نے گھنٹی بجائی، اب یہ خاتون کیا کرے؟ اس سوال کا دلچسپ حکیمانہ جواب دیا گیا ہے۔ جو خاتون باریک دوپٹہ اوڑھ کر نماز پڑھے، اس کےلئے کیا حکم ہے۔ کسی خاتون کے پاس زیورات ہوں یا صرف سوناہو، اُس پر ادائے زکاة کے ضروری احکام بتائے گئے ہیں۔
    کتاب میں بتایا گیا ہے کہ طیارے کے سفر میں نماز کا وقت آجائے اس دوران نماز فوت ہونے کا اندیشہ ہوتو کیا کیا جائے؟ٹیلی فون پر لائن کے دوسری طرف کوئی نامحرم مرد بول رہا ہو تو اُسے جواب دیا جائے یا نہ دیا جائے ؟ ۔ بعض بیگمات کثرتِ اولاد پسند نہیں کرتیں، کیا وہ مانع حمل گولیاں کھا سکتی ہیں یا نہیں؟ مسلمان باورچی نہیں مل رہاکیا ایسی صورت میںغیر مسلم باورچی کھانا پکانے کےلئے رکھا جاسکتا ہے یا نہیں ؟ شادی کے بعد دولھا میاں کے ساتھ ہنی مون منانے کے لیے سفر و سیاحت پر جاناکیسا ہے؟ ۔
    ایک فتوے میں بتایا گیا ہے کہ شوہر فوت ہو جائے توکیا بیوی غسل دے سکتی ہے؟ اسی طرح بیوی وفات پا جائے توکیا شوہر غسل دے سکتا ہے؟۔کتاب میں یہ بھی واضح کردیا گیا ہے کہ اللہ نہ کرے کوئی مسلمان خود کشی کرلے توکیا اسے بھی غسل دیا جائے گا اور مسنون طریقے کے مطابق تجہیز و تکفین کی جائے گی ؟ ۔ کتاب میں ایک ایسی خاتون کے شوہر کی بے حسی کی داستان سنائی گئی ہے جو اگر چہ نمازی ہے لیکن اس نے بیوی کو فراموش کررکھا ہے۔ کوئی عزیز رشتہ دار آجائے تو ان کے سامنے بیوی کا مذاق اڑاتاہے اس مسئلے کا جو دانشمندانہ حل بتایا گیا ہے وہ غافل شوہروں کی اصلاح کی بہترین تدبیر ہے۔اسی طرح بعض نیک طبع شادی شدہ نوجوان لڑکیوں کو ازدواجی امور کے سلسلے میں کچھ ایسے سوالات کے جوابات دیے گیے ہیںجو ہر شادی شدہ خاتون کو پڑھنا چاہئیں تاکہ وہ عائلی زندگی کے دوران آسانی سے نماز کا التزام، روزے کی حفاظت اور جملہ عبادات کا اہتمام کر سکیں۔ کتاب میں بعض قابل رحم بدقسمت لڑکیوں کی طرف سے دل و نگاہ کے معاملات پیش کیے گئے ہیں اور اپنی خطا کا اعتراف کرتے ہوئے تلافی کا طریقہ پوچھا گیا ہے۔ ان کے جو سبق آموز اور ایمان افروز جوابات دیے گئے ہیں وہ پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں ۔اسی طرح جو خواتین حیا کے بوجھ سے دبی رہتی ہیں، شرم اور جھجک کی وجہ سے نازک مسائل زبان پر نہیں لاتیں، یہ کتاب ان کی نارسا آوازوں کا جواب ہے۔اس کتاب کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ کسی ایک فرد واحد کی کاوش نہیں بلکہ مفتی اعظم سعودی عرب الشیخ عبدالعزیز بن باز مرحوم ، الشیخ مفتی محمد بن صالح العثمین ،الشیخ مفتی عبداللہ بن عبدالرحمن الجبرین اور دارالافتاءکمیٹی سعودی عرب کے دیگر جید علما کے جوابات پر مشتمل ہے جس سے اس کتاب کی علمی وتحقیقی افادیت کئی گنا بڑھ گئی ہے ۔کتاب کا ترجمہ مولانا جاراللہ ضیا نے کیا ہے۔ افادیت اور اہمیت کے اعتبار سے اس کتاب کا ہر گھر میں ہونا اور اس کا مطالعہ ہر مسلمان خاتون کےلئے بے حد ضروری ہے

  • رشتہ کرنے سے پہلے …تحریر:ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

    رشتہ کرنے سے پہلے …تحریر:ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

    وقت آ گیا ہے کہ …
    رشتہ کرنے سے پہلے ان نقاط پہ بات کی جائے ۔
    بیٹے یا بیٹی کی تعلیم کتنی ہے اور اسکے کیا عزائم ہیں ؟
    اگر بیٹا/ بیٹی نوکری کرتے ہیں تو کونسی ؟ کہاں ؟
    موڈ کے معاملات کیا ہیں ؟ پرجوش؟ شوخ گفتار ؟ کم گو؟
    طبعیت؛
    حساس ؟ ریزروڈ ؟ شکی ؟
    فطرت؛ ملنسار؟ ہنس مکھ؟ سڑیل ؟ مغرور؟ باعتماد ؟ احساس کمتری؟ متجسس؟
    شوق؟ کتابیں؟ فلمیں ؟ دوست
    دونوں کہاں رہیں گے ؟ علیحدہ ؟ کمبائنڈ فیملی سسٹم ؟
    اگر کوئی ایک غیر ملک میں رہتا ہے تو کیا دوسرا اس کے ساتھ جائے گا؟
    شادی کے بعد کیرئر اور مزید تعلیم حاصل کرنے کے مسائل کیسے حل کیے جائیں گے ؟
    اگر دونوں کماؤ ہیں تو کونسی ذمہ داری کس کی ہو گی ؟
    بچہ کب پیداکرنا چاہیں گے ؟ ( ہم کچھ لوگوں کو جانتے ہیں جن کے درمیان علیحدگی اس بات پہ ہوئی کہ ایک فریق بچہ پیدا نہیں کرنا چاہتا تھا )
    اگر بانجھ پن کے مسائل ہوئے تو ان سے کیسے نمٹا جائے گا ؟
    اگر کسی ایک نے دوسرے کو دھوکا دیا تب کیا حل نکالا جائے گا ؟ ( غیر ازدواجی تعلقات ، بنا بتائے دوسری شادی، رقم کا استعمال )
    اگر گھر میں لڑائی جھگڑے کے مسائل ہیں تو ان پہ فریقین کیسے بات کریں گے ؟
    کیا بیوی کو ہر بات میں شوہر کی اجازت درکار ہو گی؟
    فریقین کا اپنے اپنے خاندان کے ساتھ کس حد تک ربط ضبط ہو گا ؟
    اگر کسی ایک کو کوئی بیماری ہے تو کیا دوسرے فریق کو اس کے بارے میں علم ہے ؟ ( کچھ واقعات میں بیماری دوسرے فریق سے پوشیدہ رکھی جاتی ہے )
    والدین اور بہن بھائیوں کے مالی مسائل کی صورت میں شوہر کس حد تک ان کی مدد کرے گا ؟ سسرال کی توقعات کیا ہیں ؟
    کیافریقین جوائنٹ اکاؤنٹ کھولیں گے اور اس کو استعمال کرنے کا حق دونوں کا ہو گا ؟
    طلاق اور خلع کے معاملات کیسے حل کیے جائیں گے ؟
    شادی ایک معاہدہ ہے اور اس کا کنٹریکٹ ایسے ہی طے کریں جیسے کوئی بھی اور معاہدہ کرتے ہیں
    بیٹیوں کا مقدر خدا نے مرنا، قتل ہونا اور تباہ حال زندگی گزارنا نہیں لکھا_
    ایسا آپ کرتے ہیں
    ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

  • رویوں کا ادراک .تحریر:عینی ملک

    رویوں کا ادراک .تحریر:عینی ملک

    دو سال پہلے، جب بھی کوئی میری پوسٹ پر تضاد بھرا کمنٹ کرتا، تو میں فوراً دل برداشتہ ہو جاتی تھی۔ میرے ذہن میں بار بار یہ سوال آتا کہ آخر میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ میں خود کو مظلوم اور بےچارہ تصور کرتی، جیسے دنیا نے میرے خلاف کوئی سازش کر رکھی ہو۔ ہر منفی تبصرہ میرے دل کو گہرائی تک زخمی کر دیتا، اور میں گھنٹوں یہی سوچتی رہتی کہ شاید مجھ میں ہی کوئی کمی ہے۔

    پھر ایک وقت آیا جب میں نے ان چیزوں کو گہرائی سے دیکھنا شروع کیا۔ میں نے محسوس کیا کہ یہاں موجود ہر انسان کی سوچنے، سمجھنے اور شعور کی سطح مختلف ہے۔ کچھ لوگ اپنے حالات سے ستائے ہوئے ہیں، کچھ اپنی خوشی کا اظہار کرنا چاہتے ہیں، اور کچھ بس دوسروں کو نیچا دکھانے یا ان کی باتوں میں خامیاں نکالنے میں خوشی محسوس کرتے ہیں۔

    اسی دوران، میں نے ایک اور دلچسپ رویہ نوٹ کیا۔ بعض لوگ بے تُکی بات پر بھی واہ واہ کر کے چلے جاتے ہیں، جیسے انہوں نے کسی بات پر غور کیے بغیر ہی تعریف کرنا اپنی عادت بنا لی ہو۔ کبھی کبھی ان کی یہ تعریف مصنوعی لگتی تھی، اور کبھی یہ احساس ہوتا کہ شاید وہ محض اپنی موجودگی کا احساس دلانے کے لیے ایسا کر رہے ہیں۔

    یہ سب دیکھ کر میں نے یہ جانا کہ لوگوں کے رویے اور ان کے ردعمل اکثر ان کی اپنی شخصیت، مزاج، یا حالات کا عکس ہوتے ہیں، نہ کہ میری بات یا میری شخصیت کا۔ تب میں نے یہ فیصلہ کیا کہ میں دوسروں کے تبصروں کو اپنے دل پر لینے کے بجائے، ان پر غور کیے بغیر آگے بڑھوں گی۔

    یہ شعور حاصل کرنا میرے لیے ایک طاقتور سبق تھا۔ میں نے سیکھا کہ اپنی زندگی کی خوشی اور سکون کو دوسروں کی رائے سے مشروط نہیں کرنا چاہیے۔ اب میں جانتی ہوں کہ دنیا کی رنگا رنگی اور لوگوں کے مختلف رویے اس دنیا کی خوبصورتی ہیں، اور ہمیں بس اپنے راستے پر اعتماد اور سکون کے ساتھ چلتے رہنا چاہیے۔اور اچھے لوگوں کی رائے کو اہمیت دینا چاہیے۔

  • بنوں حملہ، قومی اتحاد اور یکجہتی وقت کی اہم ضرورت

    بنوں حملہ، قومی اتحاد اور یکجہتی وقت کی اہم ضرورت

    بنوں کے علاقے میں پیش آنے والے المناک حملے نے پورے ملک کو سوگ میں مبتلا کر دیا۔ اس دلخراش واقعے میں 12 بہادر جوان شہید ہو گئے، جو ملک و ملت کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز ہوئے۔فتنہ الخوارج کی دہشت گردانہ کاروائیاں بیرونی دشمنوں کی آشیرباد سے ہو رہی ہیں، فتنہ الخوارج کے بڑھتے حملوں کو روکنے اور انکی سازشوں کو ناکام کرنے کے لئے پھر سے آپریشن ضرب عضب ،رد الفساد کی ضرورت ہے،کسی قسم کی نرمی ان دہشت گردوں اور انکے حامیوں کے خلاف نہیں ہونی چاہئے جو ملکی سلامتی کے دشمن ہیں اور آئے روز خیبر پختونخوا و بلوچستان میں حملے کر رہے ہیں.

    بنوں میں شہید ہونے والے جوان ہمارے اصل ہیرو ہیں جنہوں نے اپنی زندگیاں مادر وطن کی حفاظت کے لیے وقف کر دی تھیں۔ ان کا عزم اور قربانی ہماری آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ ہیں۔ دشمن کی بزدلانہ کارروائیاں ہمارے بہادر سپاہیوں کے حوصلے پست نہیں کر سکتیں۔بنوں حملے میں شہید ہونے والے جوان صرف ایک ادارے کے سپاہی نہیں بلکہ پوری قوم کے سپوت ہیں۔ ان کی قربانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ملک کی حفاظت صرف افواج کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ پوری قوم کا فرض ہے۔ ہمیں متحد ہو کر ان عناصر کا مقابلہ کرنا ہوگا جو امن و امان کو تباہ کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔ہم سب پر یہ اخلاقی فرض عائد ہوتا ہے کہ ہم ان شہداء کے خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہوں، ان کے غم کو بانٹیں اور انہیں یقین دلائیں کہ ان کے پیاروں کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کو بھی چاہیے کہ وہ شہداء کے خاندانوں کو ہر ممکن امداد فراہم کریں تاکہ ان کے لیے زندگی کے مسائل آسان ہو سکیں۔

    بنوں میں دہشت گردوں کا بزدلانہ حملہ ہمیں اس بات کا احساس دلاتا ہے کہ قومی اتحاد اور یکجہتی وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ دشمن کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے ہمیں مذہبی، سیاسی اور معاشرتی اختلافات کو پس پشت ڈال کر ایک قوم بننا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ان شہداء کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے خاندانوں کو صبر و حوصلہ دے۔ ساتھ ہی یہ امید بھی رکھتے ہیں کہ قوم ان قربانیوں کو یاد رکھتے ہوئے ایک مضبوط اور خوشحال پاکستان کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرے گی۔شہیدوں کی قربانیوں کا یہ پیغام ہمیشہ زندہ رہے گا کہ "ہم زندہ قوم ہیں۔”

  • مقام فیض کوئی راہ میں جچا ہی نہیں

    مقام فیض کوئی راہ میں جچا ہی نہیں

    مقام فیض کوئی راہ میں جچا ہی نہیں
    جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے

    فیض احمد فیض.20 نومبر 1984: یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    فیض کی شاعرانہ قدر و قیمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کا نام غالب اور اقبال جیسے عظیم شاعروں کے ساتھ لیا جاتا ہے ان کی شاعری نے ان کی زندگی میں ہی سرحدوں، زبانوں، نظریوں اور عقیدوں کی حدیں توڑتے ہوے عالمگیر شہرت حاصل کر لی تھی جدید اردو شاعری کی بین الاقوامی شناخت انہی کی مرہون منت ہے ان کی آواز دل کو چھو لینے والے انقلابی نغموں، حسن و عشق کے دلنواز گیتوں،اور جبر و استحصال کے خلاف احتجاجی ترانوں کی شکل میں اپنے عہد کے انسان اور اس کے ضمیر کی مؤثر آواز بن کر ابھرتی ہے فیض 13/فروری 1912ء کو پنجاب کے ضلع نارووال کی اک چھوٹی سی بستی کالاقادر (اب فیض نگر) کے اک فارغ البال علمی گھرانے میں پیداہوئے ان کے والد محمد سلطان خاں بیرسٹر تھے فیض کی ابتدائی تعلیم مشرقی انداز میں شروع ہوئی اور انھوں نے قرآن کے دو پارے بھی حفظ کئے پھر عربی فارسی کے ساتھ انگریزی تعلیم پر بھی توجہ دی گئی فیض نے عربی اور انگریزی میں ایم ۔اے کی ڈگریاں حاصل کیں گورنمنٹ کالج لاہور میں دوران تعلیم فلسفہ اور انگریزی ان کے خاص مضامین تھے اس کالج میں ان کو احمد شاہ بخاری "پطرس” اور صوفی غلام مصطفی تبسم جیسے استاد اور مربی ملے تعلیم سے فارغ ہو کر 1935ء میں فیض نے امرتسر کے محمڈن اورینٹل کالج میں بطورلیکچرر ملازمت کر لی یہاں بھی انھیں اہم ادیبوں اور دانشوروں کی صحبت ملی جن میں محمد دین تاثیر، صاحبزادہ محمود الظفر اور ان کی اہلیہ رشید جہاں سجّاد ظہیراور احمد علی جیسے لوگ شامل تھے 1941ء میں فیض نے ایلس کیتھرین جارج سے شادی کر لی یہ تاثیر کی اہلیہ کی چھوٹی بہن تھیں جو 16 سال کی عمر سے برطانوی کمیونسٹ پارٹی سے وابستہ تھیں۔شادی کی سادہ تقریب سرینگر میں تاثیر کے مکان پر منعقد ہوئی نکاح شیخ عبداللہ نے پڑھایا مجاز اور جوش ملیح آبادی نے تقریب میں شرکت کی,1977ء جنرل ضیاءالحق نے بھٹو کا تختہ الٹا تو فیضٓ کے لئے پاکستان میں رہنا ناممکن ہوگیا ان کی سخت نگرانی کی جا رہی تھی اور کڑا پہرہ بٹھا دیا گیا تھا ایک دن وہ ہاتھ میں سگرٹ تھام کر گھر سے یوں نکلے جیسے چہل قدمی کے لئے جا رہے ہوں اور سیدھے بیروت پہنچ گئے اس وقت فلسطینی تنظیم آزادی کا مرکز بیروت میں تھا اور یاسر عرفات سے ان کا یارانہ تھا بیروت میں وہ سوویت امداد یافتہ رسالہ "لوٹس” کے مدیر بنا دئے گئے 1982ء میں ، خرابیٔ صحت اور لبنان جنگ کی وجہ سے فیض پاکستان واپس آ گئے وہ دمہ اور لو بلڈ پریشر کے مریض تھے 1964ء میں انھیں ادب کے نوبیل انعام کے لئے نامزد کیا گیا تھا لیکن کسی فیصلہ سے پہلے 20/نومبر 1984ء کو ان کا انتقال ہوگیا فیض مجموعی طور پر اک عام ادیب و شاعر سے بہتر زندگی گزاری وہ ہمیشہ لوگوں کی محبت میں گھرے رہے وہ جہاں جاتے لوگ ان سے دیوانہ وار پیار کرتے اپنی ادبی خدمات کے لئے فیض کو بین الاقوامی سطح پر جتنا سراہا اورنوازا گیا اس کی کوئی مثال نہیں ملتی 1962ء میں سوویت یونین نے انہیں لینن امن انعام دیا جو اس وقت کی ذوقطبی دنیا میں نوبیل انعام کا بدل تصور کیا جاتا تھا۔ اپنی موت سے کچھ عرصہ پہلے ان کو نوبیل انعام کے لئے بھی نامزد کیا گیا تھا 1976ء میں ان کو ادب کا لوٹس انعام دیا گیا 1990ء میں حکومت پاکستان نے ان کو ملک کے سب سے بڑے سویلین ایوارڈ”نشان امتیاز” سے نوازا پھر 2011ء کو ” فیض کا سال” قرار دیا فیضٓ کی تصانیف میں نقش فریادی ،دست صبا، زنداں نامہ، دست تہ سنگ،سر وادی ٔسینا، شام شہر یاراں اور میرے دل مرے مسافر کے علاوہ نثر میں میزان، صلیبیں مرے دریچے میں اور متاع لوح و قلم شامل ہیں انھوں نے دو پاکستانی فلموں جاگو سویرا اور دور ہے سکھ کا گاؤں کے لئے گیت بھی لکھے اور ہندوستانی پروڈیوسر ڈایرکٹر ایکٹر منوج کمار نے ان کی ایک غزل کو اپنی فلم "پینٹر بابو” میں 1989ء میں شامل کیا جس کو فیضٓ صاحب نے منوج کمار کو دوستی میں بطور تحفہ لکھ کردی تھیں ، فیضٓ احمد فیضٓ اور ایلس کی مشترکہ تخلیقات میں ان کی دو بیٹیاں سلیمہ اور منیزہ ہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    چند منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہم پرورش لوح و قلم کرتے رہیں گے
    جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلے
    چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ہر چارہ گر کو چارہ گری سے گریز تھا
    ورنہ ہمیں جو دکھ تھے بہت لا دوا نہ تھے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ہم سے کہتے ہیں چمن والے غریبان چمن
    تم کوئی اچھا سا رکھ لو اپنے ویرانے کا نام
    ۔۔۔۔۔۔۔
    یہ جفائے غم کا چارہ وہ نجات دل کا عالم
    ترا حسن دست عیسیٰ تری یاد روئے مریم
    ۔۔۔۔۔۔۔
    جب تجھے یاد کر لیا صبح مہک مہک اٹھی
    جب ترا غم جگا لیا رات مچل مچل گئی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اب جو کوئی پوچھے بھی تو اس سے کیا شرح حالات کریں
    دل ٹھہرے تو درد سنائیں درد تھمے تو بات کریں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    یہ عہد ترک محبت ہے کس لیے آخر
    سکون قلب ادھر بھی نہیں ادھر بھی نہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
    راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
    ۔۔۔۔۔۔۔
    مقام فیض کوئی راہ میں جچا ہی نہیں
    جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے .
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش ، ترتیب و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • ڈومیسٹک ٹورازم / گھریلو سیاحت کا فروغ، ذرائع آمدن میں اضافہ اور ضلع راجن پور کا کوہ ماڑی

    ڈومیسٹک ٹورازم / گھریلو سیاحت کا فروغ، ذرائع آمدن میں اضافہ اور ضلع راجن پور کا کوہ ماڑی

    ڈومیسٹک ٹورازم / گھریلو سیاحت کا فروغ، ذرائع آمدن میں اضافہ اور ضلع راجن پور کا کوہ ماڑی

    تحریر: ملک خلیل الرحمن واسنی، حاجی پور شریف

    ضلع راجن پور کا علاقہ پچادھ، جو کوہ سلیمان کے قبائلی دامن میں واقع ہے، پنجاب اور بلوچستان کے بارڈر کے درمیان اسلام آباد کے مری اور ڈی جی خان کے فورٹ منرو کی طرز پر قدرتی حسن اور ٹھنڈک سے بھرپور ایک تاریخی و ثقافتی مقام ہے۔ یہ خطہ ہمیشہ نظرانداز کیا جاتا رہا، حالانکہ سابق وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے 2021 میں یہاں کروڑوں روپے کے فنڈز مختص کیے تھے تاکہ کوہ ماڑی کی ترقی اور تعمیرات کی جا سکیں۔ مگر بدقسمتی سے 2024 تک یہاں کوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں ہوئی۔ پورا انفراسٹرکچر تباہ ہو چکا ہے اور علاقے میں بنیادی سہولتوں کا شدید فقدان ہے، جبکہ لوگ جدید دور کے باوجود پتھر کے دور کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

    حکومت کی جانب سے وسائل اور آمدنی میں اضافے کی بات کی جاتی ہے، مگر اگر تھوڑی سی توجہ، محنت، ایمانداری اور خلوص نیت سے کام کیا جائے تو بہت کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور حکومتی اشتراک سے نہ صرف حکومت کی آمدنی میں اضافہ ممکن ہے، بلکہ یہاں کے عوام کی زندگی اور معاشی ترقی میں بھی بڑی تبدیلی آ سکتی ہے۔ یہ علاقہ تمام قبائل کا ہے، چاہے وہ لغاری، مزاری، دریشک، گورچانی سردار ہوں یا دیگر مقامی قبائل، ترقی سب کی مشترکہ کوشش ہے، نہ کہ صرف کسی ایک قبیلے یا فرد کی۔

    سابق وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے بھی اس علاقے کی پسماندگی پر بات کی تھی، مگر ان کے دور میں کوئی عملی پیش رفت نہیں ہوئی۔ اس کے بعد سے بھی حکومتوں میں تبدیلیاں آئیں، مگر کوہ ماڑی کی حالت میں کوئی تبدیلی نہ آئی۔ حالانکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے حکومتی اتحادی، ایم پی اے تمن گورچانی، اور دیگر منتخب نمائندگان موجود ہیں، جنہوں نے اس علاقے کی ترقی کے لیے اپنی کوششیں کی ہیں۔ پھر بھی کوہ ماڑی کو تحصیل یا سیاحتی مقام کا درجہ نہیں مل سکا، نہ ہی یہاں کیڈٹ کالج کا قیام عمل میں آیا، حالانکہ پنجاب کے دیگر علاقوں میں سیاحت کے فروغ کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

    حال ہی میں شفقت اللہ مشتاق ڈپٹی کمشنر ضلع راجن پور نے کوہ ماڑی کا دورہ کیا اور ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیا جو کہ ایک خوش آئند اقدام ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اگر کوہ سلیمان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا دائرہ کار مزید وسیع کیا جائے یا کوہ ماڑی ڈویلپمنٹ اتھارٹی قائم کی جائے تو یہ علاقہ بھی ترقی یافتہ علاقوں کی صف میں شامل ہو سکتا ہے۔ قدرتی حسن، آبشاروں، جھیلوں، پہاڑوں کی بلند و بالا چوٹیوں اور خوبصورت مناظرات سے مالا مال یہ علاقے گھریلو سیاحت کے لیے بہترین ہیں۔

    اگر شفقت اللہ مشتاق ڈپٹی کمشنر ضلع راجن پور ذاتی طور پر اس منصوبے میں دلچسپی لیں تو ضلع راجن پور کی محرومیوں کا ازالہ ممکن ہو سکتا ہے۔ ماڑی کیڈٹ کالج کا قیام، سیاحتی مقام کا درجہ، اور یہاں ایک بہترین سینی ٹوریم کا قیام بھی ممکن ہو سکتا ہے، جو کہ نہ صرف لوگوں کی خدمت بلکہ ایک نیک عمل بھی ہوگا۔ اس کے علاوہ، اندرون ملک اور بیرون ملک سے سیاحوں کی آمد کو بھی فروغ ملے گا، اور اس علاقے کے عوام کی معاشی حالت میں بہتری آ سکتی ہے۔ یہ اقدام ایک گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے، ان شاء اللہ
    جو کہ مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں۔

  • مردوں کے عالمی دن پر میری زندگی کے تین مردوں کو خراج تحسین۔ تحریر:عینی ملک

    مردوں کے عالمی دن پر میری زندگی کے تین مردوں کو خراج تحسین۔ تحریر:عینی ملک

    یہ سچ بات ہے مردوں کے صرف پیدا ہونے کی خوشی منائی جاتی
    اسکے بعد وہ ذمہ داریوں کے بوجھ اتارنے میں جت جاتا ہے

    دنیا میں کچھ رشتے ایسے ہوتے ہیں جو زندگی کو نہ صرف سنوار دیتے ہیں بلکہ ایک مضبوط سہارا بھی بنتے ہیں۔ مردوں کے عالمی دن پر میں ان تین اہم مردوں کو خراج تحسین پیش کرنا چاہتی ہوں جنہوں نے میری زندگی کو ایک خاص معنی دیا۔میرے بابا جان، بھائی، اور شوہر نے میری زندگی کو پرآسائیش اور خوشحال بنانے کے لیے جو محنت کی ہے، وہ الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ بابا جان نے اپنی جوانی اور آرام میری تعلیم و تربیت کے لیے وقف کر دیا، دن رات محنت کی تاکہ مجھے کسی کمی کا احساس نہ ہو۔

    میرے بھائی نے ہمیشہ اپنی خواہشات کو میری ضروریات پر ترجیح دی، میرے لیے سہولتیں پیدا کرنے کے لیے خود مشکلات اٹھائیں۔ میرے شوہر نے بھی اپنی زندگی کا ہر لمحہ اس یقین کے ساتھ محنت کرتے گزار رہے ہیں کہ مجھے ایک محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کر سکیں۔

    میرے بابا جان ، ملک محمد خالد میری زندگی کے سب سے پہلے ہیرو ہیں۔ ان کی محبت بے غرض اور ان کا سایہ ہمیشہ میری حفاظت کرتا رہا۔ انہوں نے نہ صرف مجھے زندگی کے اصول سکھائے بلکہ میری ہر مشکل وقت میں رہنمائی بھی کی۔ ان کی دعاؤں کا اثر میری کامیابیوں کی بنیاد ہے۔مولا انکی قبر میں اندھیرا نہ
    رکھنا انکی روح کو جنت میں ایک گھر عطا فرمانا الہی آمین۔

    دوسرے اہم مرد میرے بڑے بھائی نے ہمیشہ ایک دوست اور محافظ کا کردار نبھایا۔ وہ ہر وقت میرے ساتھ کھڑے رہے، چاہے معاملہ چھوٹا ہو یا بڑا۔ ان کے ساتھ گزرے لمحے میری زندگی کی سب سے حسین یادیں ہیں۔ بھائی میرے لیے ایک ایسا سہارا ہیں جس کو جب بھی ضرورت پڑے بلا جھجک آواز دے سکتی ہوں۔

    اور تیسرے میرے شوہر میری زندگی کا وہ حصہ ہیں جو میری خوشیوں اور غموں کے برابر کے شریک ہیں۔ ان کا پیار، خلوص اور رفاقت میری زندگی کا بے بیش قیمت اثاثہ ہیں۔ وہ نہ صرف میرے ہمسفر ہیں بلکہ میرے سب سے بڑے حوصلہ بڑھانے والے بھی ہیں اور مجھ پر اعتماد کرنے والے بھی ہیں

    یہ تینوں مرد میرے لیے طاقت، شفقت ، وفا، محبت اور رہنمائی کا مظہر ہیں۔ آج کے دن میں ان کا شکریہ ادا کرتی ہوں کہ انہوں نے میری زندگی کو اتنا خوبصورت بنایا۔ میری دعائیں ہمیشہ ان کے ساتھ ہیں۔