Baaghi TV

Category: بلاگ

  • نواز شریف ، اسحاق ڈار کا معاشی استحکام میں اہم کردار، تجزیہ : شہزاد قریشی

    نواز شریف ، اسحاق ڈار کا معاشی استحکام میں اہم کردار، تجزیہ : شہزاد قریشی

    امریکہ کے نومنتخب صدر ٹرمپ امریکی معیشت جو پہلے ہی مستحکم ہے وہ امریکی معیشت کو مزید مستحکم کرنے پر زور دیتے رہے الیکشن کے دوران وہ امریکی عوام کو مزید خوشحال بنانے روزگار کے مواقع فراہم کرنے پر زور دیتے دنیا کی سپر پاور کے صدر ٹرمپ جانتے ہیں کہ اگر امریکہ معاشی مستحکم ہوگا تو وہ دنیا پر حکمرانی کر سکیں گے۔ پاکستان میں نوازشریف کو جب بھی اقتدار ملا ان کی توجہ کا مرکزملکی معیشت ہی رہی آپ نوازشریف سے سیاسی اختلافات کر سکتے ہیں ایسا بھی نہیں کہ نوازشریف کسی ولی یا فرشتے کا نام ہے تاہم ان کی توجہ کا مرکز ملکی معیشت کے ساتھ ہے۔ بیروزگاری کے خاتمے، نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے پاکستان کے عوام کے لئے جدید سہولتیں فراہم کرنے ، جس میں موٹر ویز جدید ایئرپورٹ اور بہت سے میگا پراجیکٹ شامل ہیں موجودہ وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کا معیشت کو مستحکم کرنے میں بڑا کردار رہا۔ نوازشریف کے دور حکومت میں معیشت کو ملکی اور بین الاقوامی ماہرین اقتصادیات بھی سراہتے رہے لیکن بدقسمتی سے ان کی حکومت کے خلاف ملک کے اندر ایسی ایسی سازشیں ہوئیں ترقی کرتا پاکستان دوبار کمزور معیشت کی حذف جانے لگا اور عوام کے لئے بنیادی مسائل کھڑے ہوتے رہے۔ نوازشریف کے دور حکومت میں ایک وقت ایسا بھی آیا کہ پاکستان عالمی مالیاتی اداروں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے قریب پہنچ چکا تھا۔ پھر ہنستے بستے عوام اور پاکستان کی مضبوط ترین معیشت کو کمزور کرنے اور نوازشریف کی حکومت کیخلاف دھرنوں کاآغاز ہوا عالمی دین طاہر القادری اور عمران خان کی شکل میں جلسے جلوس دھرنے دیئے گئے اس وقت کی عدلیہ کے ججوں نے اہم کردار ادا کیا اور مستحکم معیشت کے حامل پاکستان اور عوام ایک بار پھر کھائی میں جاگرے تادم تحریر پاکستان کی معیشت مستحکم نہ ہو سکی جس کا خمیازہ پاکستان بطور ریاست اور عوام بھگت رہے ہیں موجودہ امریکی الیکشن میں معیشت سب سے اہم موضوع تھا۔ بدقسمتی سے پاکستان کی عوام کو گمراہ کردیا گیا نوازشریف کو جب جب اقتدار ملا انہوں نے اپنی توجہ معیشت پر دی آج امریکی صدر کی توجہ بھی معیشت پر ہے جنگوں پر نہیں سوال یہ ہے کہ چند لوگوں نے اپنی ذاتی خواہشات کی تکمیل کی خاطر پاکستان کے مفادات کو پس پشت کیوں ڈال دیا؟-

    (تجزیہ شہزاد قریشی)

  • اے ذوق کسی ہمدمِ دیرینہ کا ملنا۔۔۔تحریر:راحت عائشہ

    اے ذوق کسی ہمدمِ دیرینہ کا ملنا۔۔۔تحریر:راحت عائشہ

    بک فئیر کراچی ، لاہور ، اسلام آباد ہو یا کراچی آرٹس کونسل کا پروگرام ہمیں پکا یقین ہوتا ہے کوئی نہ کوئی جاننے والا تو ضرور ملے گا ہی۔۔ اور ان جگہوں پر ہی اپنے بیشتر ادبی احباب سے ملاقات ہوجاتی ہے ۔ لیکن شارجہ بک فئیر جاتے ہوئے ایسا کوئی خیال نہیں تھا کیونکہ یہاں ابھی ہمارے کوئی جاننے والے ہی نہیں ہیں۔ پھر بھی ہم نے احتیاطاً اپنی کتابوں کی منی کی چین رکھ لی تھیں کہ شاید کوئی مل ہی جائے۔
    جب ہم ایکسپو ،بک فئیر پہنچے تو گاڑیوں کی لمبی قطاریں بتا رہی تھیں کہ یہاں کوئی پارکنگ نہیں ہے۔۔ دوبارہ پلٹ کر گئے اور کافی دور گاڑی کھڑی کر کے پھر وہاں سے پیدل چلتے ہوئے سیدھے ہال نمبر سات کے اسٹال زیڈ سات پر پہنچے۔ وہاں سرمد صاحب کے ساتھ ان کے چچا اور صبا اسلم صاحبہ بھی ان کی معاونت کے لیے موجود تھیں۔ سرمد صاحب سے تو ایک ملاقات پہلے بھی ہوچکی تھی انہوں نے فوراً ہی پہچان لیا۔ اپنے اسٹال پر موجود احباب اور اپنی کتابوں سے تعارف کروایا ۔۔ اتنے میں ایک صاحب اور آئے اور کتابیں خریدنے لگے۔ ہم حسب عادت کتابوں کو دیکھنے اور ان پر زور و شور سے تبصرے فرما رہے تھے ۔ یہاں تک کہ کچھ دیر بعد ان صاحب نے خود ہی ہم سے فرمایا اچھا تو آپ کی یہ کتابیں ہیں اور آپ راحت عائشہ ہیں۔
    جی۔۔۔ ہم نے جواب دیا۔
    میرا نام عمران مشتاق ہے۔ انہوں نے بتایا اور ہم سچ مچ اچھل پڑے۔
    ہائیں۔۔۔! یہ ہماری ڈاکٹر عمران مشتاق سے ہرگز پہلی ملاقات نہیں تھی۔۔ کراچی میں بھی ملاقات ہوچکی ہے لیکن کیا کریں کہ ہم سے اکثر چہرے گڈ مڈ ہو جاتے ہیں ۔ اور پھر ڈاکٹر صاحب انگلینڈ میں ہوا کرتے تھے ۔ اب وہ بھی دبئی شفٹ ہو گئے ہیں۔ سچ مچ بہت شرمندگی ہوئی ۔ لیکن ہمیں لگا وہ بھی کافی دبلے ہوگئے ہیں اس لیے نہ پہچاننے کی ساری ذمہ داری ہم ان کے مزید اسمارٹ ہونے پر ڈال کر بری الذمہ ہونے کی اپنی سی کوشش کی۔۔۔

    ڈاکٹر صاحب کا شمار بہترین لکھنے والوں میں ہوتا ہے ۔ یوں تو وہ نفسیات کے ڈاکٹر ہیں۔ اور شاید اسی لیے وہ سوشل میڈیا سے دور رہتے ہیں۔ ان سے اچانک ملاقات پر دل باغ باغ ہوگیا ۔ ہمیں بے اختیار وہ شعر یاد آیا۔۔۔
    اے ذوق کسی ہمدمِ دیرینہ کا ملنا۔۔۔
    بہتر ہے ملاقات خضر و مسیحا سے۔۔۔
    (اگر چہ ہمیں اس کے دوسرے مصرعے پر کافی ابہام ہیں۔ آپ کیا کہتے ہیں؟ )
    ہم نے انہیں اپنی منی سی کتاب کی کی چین تحفتاً پیش کی جو انہیں بہت اچھی لگی۔۔۔ پھر ہم نے اپنی کتابوں کے ساتھ ایک یادگار تصویر بنوائی جس میں سرمد صاحب اور ڈاکٹر صاحب نے بھی ہماری کتاب پکڑی ہوئی ہے ۔
    الحمدللہ زندگی کا ایک اور اچھا ، خوبصورت اور یادگار دن

  • پراکسی جنگوں کا فن

    پراکسی جنگوں کا فن

    پراکسی جنگوں پر بڑھتے ہوئے انحصار نے بڑے پیمانے پر تشویش پیدا کی ہے، خاص طور پر جب مغربی ممالک داعش کے خلاف جنگ میں براہِ راست مداخلت کے بجائے معتدل شامی باغیوں اور کرد پیشمرگہ کو ہتھیار، فنڈز، اور وسائل فراہم کر رہے ہیں۔ اسی طرح، 2014 میں روس کی جانب سے کریمیا کے الحاق نے مغربی رہنماؤں کو پریشان کیا، جنہیں خدشہ تھا کہ ماسکو علاقائی بالادستی حاصل کرنے کے لیے چالاک مگر جارحانہ حکمت عملی اختیار کر رہا ہے۔ مشرقی یوکرین میں اہم علاقوں پر قبضہ کرنے والے روسی "رضاکار”، جن کے بارے میں صدر پیوٹن کا دعویٰ تھا کہ وہ ریاست سے غیر منسلک ہیں، ان خدشات کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔

    یہ حکمت عملی سن زو کی کتاب دی آرٹ آف وار کے اصولوں کی عکاسی کرتی ہے، جو براہِ راست جنگ کے بجائے کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر جیتنے کی وکالت کرتی ہے۔ ناقدین اکثر بالواسطہ جنگ کو محض تنازعے سے گریز کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن اسے "جنگ کی منتقلی” کے طور پر بہتر سمجھا جا سکتا ہے، جہاں اثر و رسوخ بالواسطہ ذرائع سے قائم کیا جاتا ہے۔ 1929 میں لڈیل ہارٹ نے اس تصور کو متعارف کرایا اور اپنی کتاب اسٹریٹجی: این ان ڈائریکٹ اپروچ میں اسے تفصیل سے بیان کیا، جو مغرب میں عسکری نظریے کا ایک اہم موڑ تھا، جیسا کہ مؤرخ برائن ہولڈن ریڈ نے کہا۔

    پراکسی جنگوں کے ذریعے ایک ملک اپنے مفادات کا حصول بالواسطہ طور پر کر سکتا ہے، مثلاً ملیشیا یا اتحادی قومی افواج کو ہتھیار، فنڈنگ، اور حمایت فراہم کر کے، بغیر اپنی افواج کو میدان میں اتارے۔ یہ طریقہ کار روایتی تنازعوں جیسے بغاوت سے آگے بڑھ کر ایک ایسے تعلقات اور حکمت عملیوں کے جال کو جنم دیتا ہے جو اعلانیہ اور خفیہ دونوں ہو سکتے ہیں۔ پراکسی تنازعات عموماً ایسے ماحول میں ہوتے ہیں جہاں ریاستیں اور غیر ریاستی عناصر اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں بعض اوقات تو سائبر اسپیس کے ذریعے بھی ایسا کیا جاتا ہے

    تاریخی طور پر، قوموں نے مقامی بحرانوں، جیسے خانہ جنگیوں، سے فائدہ اٹھا کر،اکثر مخالف نظریات یا طاقتوں کو قابو کرنے کے لیے بڑے جغرافیائی سیاسی تغیرات کو ہوا دی ہے، کئی معاملات میں، پراکسی قوتیں ان ممالک کے لیے ایک کشش کا باعث بنتی ہیں جو فوجی بھرتی کے مسائل اور محدود دفاعی بجٹ کا سامنا کرتے ہیں۔ فوجی کارروائیوں کو آؤٹ سورس کرنے سے یہ ریاستیں بغیر کسی براہِ راست موجودگی کے اپنی طاقت کا اظہار کر سکتی ہیں۔

    امریکہ، جس نے وار آن ٹیرر کی طویل مدتی لاگت سے سبق حاصل کیا ہے، بڑے پیمانے پر، حکومت کی تبدیلی کی جنگوں میں ملوث ہونے سے گریز کرتا ہے اور پراکسی جنگوں کو ترجیح دیتا ہے۔ اس حکمت عملی سے امریکہ کی سیاسی اور عسکری نمائش کم ہو جاتی ہے اور مشرق وسطیٰ میں ماضی کی غلطیوں کو دہرانے سے بچا جاتا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ، جو ایک نئی تنہائی پسند پالیسی کی عکاس ہے، نے وسیع فوجی وعدوں سے گریز کیا، اگرچہ یہ واضح نہیں ہے کہ امریکہ اپنی خارجہ مفادات کے تحفظ کے لیے پراکسی کو ایک آلہ کے طور پر زیادہ استعمال کرے گا یا نہیں۔

    چین اور روس بھی پراکسی جنگوں کے مستقبل کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ چین، اپنی عالمی طاقت کے ابھار کے ساتھ، اس بات کا فیصلہ کرنے کا سامنا کرتا ہے کہ تجارت کے تعلقات کو نقصان پہنچائے بغیر کس طرح اثر و رسوخ کا اظہار کرے۔ روس کا نیٹو کی سرحدوں کے قریب، جیسے کریمیا میں، پراکسیوں پر انحصار، مغربی پالیسی کے لیے مسائل پیدا کرتا ہے کیونکہ بالواسطہ جارحیت کے جواب دینا پیچیدہ ہو جاتا ہے۔

    ہم ایران اور سعودی عرب کو بھی نظر انداز نہیں کر سکتے، جو اپنے اپنے برانڈ کے اسلام کے لیے عالمی اثر و رسوخ حاصل کرنے میں مصروف ہیں۔

    مجموعی طور پر، یہ پیش رفت ایک ایسی دنیا کی نشاندہی کرتی ہیں جہاں بالواسطہ، کثیر الجہتی تنازعات زیادہ عام ہوتے جا رہے ہیں، جس سے زیادہ پیچیدہ اور غیر یقینی سلامتی کے چیلنجز کا سامنا ہوتا ہے۔ دنیا بدل چکی ہے، اور یہ تبدیلی بہتری کے لیے نہیں ہے

  • شوہر اجازت نہیں دیتے …تحریر:ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

    شوہر اجازت نہیں دیتے …تحریر:ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

    شوہر اجازت نہیں دیتے ….
    آپ نہ لیں اجازت ….
    جی … وہ شوہر ہیں نا …
    تو … کیا وہ بھی ہر کام آپ سے اجازت لے کر کرتے ہیں ؟
    نہیں … نہیں تو ..
    تو کیا آپ جیل میں قیدی کی طرح رہتی ہیں جہاں دروغہ جی سے ہر بات کی اجازت لی جائے ؟
    وہ … جی … امی ابا نے یہی کہا تھا کہ شوہر کی بات ماننا …
    کیا امی ابا نے آپ کو ایک خادمہ کے طور پہ شوہر کے سپرد کیا تھا ؟ یا ان کے ساتھی کے طور پہ ؟ ساتھی اپنی مرضی سے آگاہ کرتے ہیں ، اجازت نہیں لیتے …
    اور کیا کہا تھا امی ابا نے ؟
    کبھی لڑ کر واپس مت آنا … جب بھی آنا ہنسی خوشی آنا …
    ہنسی خوشی ؟ یعنی جب آپ تکلیف میں ہوں گی تب کہاں جائیں گی ؟
    جی امی ابو نے کہا تھا کہ صبر کرنا ایک دن سب ٹھیک ہو جائے گا ۔
    کس دن ؟
    جی .. قربانی تو دینی ہی پڑتی ہے نا ۔
    اس دن جب آپ کے گوڈے گٹے جواب دے جائیں گے ، بال سفید ہو جائیں گے ، کچھ بھی کرنے کو من نہیں چاہے گا ، بحث مباحثے سے دل اوبھ جائے گا اور آپ خاموشی اختیار کر لیں گی ۔
    اس دن روح سے خالی جسم ایک چبوترے پہ کھڑا کر کے کہا جائے گا __ دیکھا آخر میں جیت عورت ہی کی ہوتی ہے ۔

    اگر آپ کے شوہر آپ سے مطالبہ کرتے کہ ڈاکٹری چھوڑ دو، گھر بیٹھو تو آپ کیا کرتیں؟
    یہ سوال ہم سے بہت پوچھا جاتا ہے پوچھنے والوں میں وہ بھی شامل ہوتی ہیں جنہیں ان کے شوہروں نے ڈاکٹر ہونے کے باوجود گھر بٹھا دیا اور وہ بھی جو سمجھتے ہیں کہ عورت کو بیوی بن کے ہر قدم اجازت کے ساتھ اٹھانا چاہیے ۔
    ہم محفل میں ہوں تو سوال کے ساتھ ہی بیسیوں تجسس بھری نظریں ہم پہ مرکوز ہو جاتی ہیں باکل ایسے ہی جیسے کوئی جادوگر ہیٹ سے کبوتر نکالنے والا ہو!
    ہم ایک شان سے بلند قہقہہ لگاتے ہوئے کہتے ہیں ، ہم وہی کرتے جو ایک بادشاہ دوسرے بادشاہ سے کرتا ہے…
    اس جواب سے من مرضی کی بہت سی تاویلات گھڑی جا سکتی ہیں ۔
    کوشش کر دیکھیے آپ بھی !

    بے حیا دوا اور پیپ سمیر ٹیسٹ ، تحریر:ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

  • کیا واقعی مہنگائی کم ہوگئی ہے؟

    کیا واقعی مہنگائی کم ہوگئی ہے؟

    کیا واقعی مہنگائی کم ہوگئی ہے؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    اسلام آباد میں وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں وزارتِ خزانہ نے عالمی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) کے وفد کے ساتھ ملاقاتوں پر بریفنگ دی۔ اجلاس میں وزیراعظم نے دعوی کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں کے باعث ملک میں اقتصادی استحکام کی راہ ہموار ہو رہی ہے اور اس کے مثبت اثرات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق مہنگائی کی شرح 38 فیصد سے کم ہو کر 7 فیصد تک آ گئی ہے جبکہ شرحِ سود بھی 22 فیصد سے کم ہو کر 15 فیصد پر آ گئی ہے۔

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے عوام کو ریلیف دینے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ شرحِ سود میں کمی کے باعث کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ اس کے علاوہ وزیرِ اعظم نے پنجاب حکومت کی زرعی شعبے میں اصلاحات کی تعریف بھی کی۔
    لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا حکومتی دعوے زمینی حقائق سے میل کھاتے ہیں؟ آج کے دور میں عام آدمی کی زندگی شدید مہنگائی کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔ یوٹیلیٹی اسٹورز پر گھی، چینی، دالوں، واشنگ پاوڈر اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتیں عوام کی پہنچ سے دور ہیں۔ کیا وزیرِ اعظم نے کبھی خود بازار میں جا کر سبزی، گوشت یا بچوں کی اسکول کی سٹیشنری خریدی ہے؟ کیا انہوں نے عام آدمی کی طرح کسی سرکاری ہسپتال میں علاج کرایا ہے؟ یا وہاں کے مسائل کا سامنا کیا ہے؟

    وزیرِ اعظم کے یہ دعوے کہ مہنگائی کی شرح میں کمی آئی ہے جو اس وقت جھوٹے اور خالی اعداد و شمار لگتے ہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری، اور بنیادی ضروریات کی عدم فراہمی جیسے مسائل نے عوام کو اذیت ناک حالات سے دوچار کر دیا ہے۔ عوامی نمائندے اور حکومت اگر واقعی عوام کی بہتری کے خواہاں ہیں تو انہیں خالی باتوں اور بے بنیاد اعداد و شمار کے بجائے عملی اقدامات کی جانب بڑھنا ہوگا، ٹیکس چوروں اور ان کے معاونین کے خلاف سخت کارروائی کی یقین دہانی بھی حکومت کے ان وعدوں میں شامل ہے، جن کا عملی مظاہرہ عوام کی نظروں سے اوجھل رہتا ہے۔ ملکی معیشت کی مضبوطی کا دعویٰ تب ہی حقیقت کا روپ دھارے گا جب حکومت عوام کو ریلیف دینے کے عملی اقدامات کرے گی۔

    حکومت کا دعوی ہے کہ وہ آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق معاشی اصلاحات کر رہی ہے لیکن ان اقدامات کے اثرات عوام پر براہِ راست منفی پڑ رہے ہیں۔ عام تاثر یہ ہے کہ یہ معاشی پالیسیاں صرف معاشی اعداد و شمار کو بہتر بنانے کے لیے ہیں جبکہ عوام کے مسائل اور ان کی مشکلات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ اسٹاک مارکیٹ میں وقتی تیزی کو عوامی فلاح سے جوڑنا شاید حقیقت سے دور ہے کیونکہ زمینی سطح پر معیشت کی بہتری کے اثرات عوام کو محسوس نہیں ہو رہے۔

    وزیرِ اعظم نے ٹیکس چوری کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کیا اور کہا کہ ٹیکس نادہندگان کو سزا دی جائے گی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ
    آیا یہ اقدامات صرف الفاظ تک محدود رہ جائیں گے یا حقیقی عمل بھی ہوگا؟ پاکستان میں ٹیکس نظام کی اصلاح کی ضرورت ہے مگر اس کی کامیابی کے لیے بدعنوانی اور غیر منصفانہ ٹیکس نظام کو بھی ہدف بنانا ہوگا۔

    عوامی سطح پر یہ احساس شدت اختیار کر رہا ہے کہ حکومت کی پالیسیاں عوام کو ریلیف دینے میں ناکام ہو چکی ہیں۔ تعلیم، صحت اور بنیادی ضروریات کی فراہمی کا شعبہ مشکلات کا شکار ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں ناقص سہولیات، مہنگی ادویات اور تعلیمی اخراجات نے متوسط طبقے کو مزید مشکلات میں ڈال دیا ہے۔بازار میں سبزی، گوشت، بچوں کی سکول کی سٹیشنری اور دیگر اشیا کی بڑھتی ہوئی قیمتیں عوامی بے چینی کا سبب بنی ہوئی ہیں۔ وزیرِ اعظم سے سوال یہ ہے کہ کیا انہوں نے کبھی عوام کی طرح ان مسائل کا سامنا کیا ہے؟ اگر نہیں تو وہ ان کی مشکلات کو کیسے سمجھ سکیں گے؟

    وزیرِ اعظم اور ان کی ٹیم کو چاہیے کہ وہ محض اعداد و شمار کے ذریعے عوام کو خوش کرنے کے بجائے حقیقی اور ٹھوس اقدامات کریں۔ معاشی پالیسیوں کا مقصد صرف بین الاقوامی اداروں کی خوشنودی حاصل کرنا نہیں بلکہ عوام کی زندگیوں کو بہتر بنانا ہونا چاہیے۔ مہنگائی کے خاتمے، روزگار کی فراہمی اور صحت و تعلیم کے شعبوں میں اصلاحات کے ذریعے ہی عوامی مشکلات کو کم کیا جا سکتا ہے۔ بصورتِ دیگر حکومتی دعوے محض سیاسی نعروں کے سوا کچھ ثابت نہیں ہوں گے۔

  • عشق اور ہنی ٹریپ ،تحریر:  شمائل عبداللہ

    عشق اور ہنی ٹریپ ،تحریر: شمائل عبداللہ

    میں محبت پر اتنا لکھتا نہیں کیونکہ مجھے لگتا ہے محبت سے دوستی بہتر ہے! اور یہ سچ بھی ہے لیکن آج مجھے اس پر لکھنا واجب لگا کہ محبت کو بہت ہی تماشہ بنا دیا گیا ہے۔ پچھلے دنوں خلیل الرحمٰن کے ساتھ جو واقعہ ہوا اس میں سے ایک خبر سامنے یہ بھی آئی کہ خلیل کے ساتھ ہنی ٹریپ بھی ہوا تھا۔ اب ایک عام انسان اور ایک ادیب میں فرق ہوتا ہے اس کی سوچ اس کی باتیں معاشرے کیلئے ایک نمونہ ہوتی ہیں وہ ایک تاریخ ساز کام میں ملوث ہوتا ہے۔ اور خلیل کا یوں ہنی ٹریپ کا شکار ہونا سمجھ سے باہر بات ہے ان کے باتیں بھی عجیب ہیں۔
    کہیں پہ وہ کہتے ہیں لڑکی لڑکے کی دوستی نہیں ہوتی کہیں ماہرہ خان کو سب سے اچھی دوست کہتے ہیں کہیں پہ وفا کو آزمانے کی بات کرتے ہیں کہیں کہتے ہیں میں نے ایسا کچھ کہا ہی نہیں کہیں پہ رائٹر اور ایکٹر کی دوستی کو نہیں مانتے اور کہیں پہ ہمایوں سعید کو اپنا بہترین دوست کہتے ہیں ایسے رائٹرز معاشرے کو کہاں لے کر جائیں گے؟ سوچئے ذرا! میں تو ہنی ٹریپ کا شکار ہونے والے مردوں کو مرد ہی نہیں کہتا بھلا یہ کیا کہ کسی نے لڑکی کی آواز میں بات کی تو پھسل گئے۔ اے آدمزاد ہوش کر کہ تجھے خالق نے ایسا نہیں بنایا تو جس کا محافظ ہے اسی کے نام سے بدی کرتا ہے۔ اے مرد تیری مردانگی کہاں گئی؟ پھر یہ کہہ دینا ! کہ ہمیں ہنی ٹریپ کیا گیا بیہودگی ہے اور کچھ نہیں لڑکیوں کے نام سے فیک آئی ڈیز بےشمار ۔ لیکن لڑکے کے نام سے لڑکی کی ایک بھی فیک آئی ڈی نہیں تو شیطان کون؟ پھر یہ جو دو منٹ بعد ہمیں عشق ہو جاتا ہے یہ حوس ہے جو کبھی کبھی ہمیں آزمانے کو عشق کی بہروپ ہے! عشق اتنا فالتو نہیں کہ بارہا ہو یہ روح میں اترتا ہے اور روح میں جو چیز اترتی ہے ایک ہی بار اترتی ہے! خسرے کی مثال لے لیں جس طرح زندگی میں ایک بار نکلتا اسی طرح عشق ہے موت کی مثال بھی لے سکتے ہیں جیسا کہ شاعر کہتا ہے کہ:-
    یہ ہے عادت عشق کہ دل پر نہیں کرتا ترس
    یہ ہے ماجرا کہ پاگل حالت حال بگاڑ دیتا ہے
    عشق کی نگری میں معافی نہیں کسی کو
    عشق عمر نہیں دیکھتا بس اجاڑ دیتا ہے ہمیں حوس سے صاودھان رہنا! کل مجھ سے ایک شخص دو دوستوں میں رومانویت کی بات کرنے لگا کیونکہ میں نے اسے پوچھا محبت کیا ہے؟ کہنے لگا محبت کی چار قسمیں ہیں رومانوی محبت والدین کی محبت فلاں فلاں اور رومانوی محبت دو دوستوں میں ہے۔ میں نے کہا بالکل غلط یوں تو محبت کی پھر ہزار قسمیں بنا لو محبت کی دو قسمیں ہیں کی جانے والی اور ہو جانے والی اور رومانوی کیفیت قطعی محبت کا حصہ نہیں یہ جسم کی خواہش ہے جسے پورا کرنے کیلئے خدا نے نکاح کا حکم دیا ہے اور یہ کبھی دوستوں میں نہیں بلکہ محبوب اور محبوبہ میں ہوتی ہے اور یہ کسی کی بھی طرفدار نہیں ہوتی خدا کی طرح کیوں خدا محبت ہے۔ عہد عتیق میں جو کہ کتاب مقدس کا حصہ ہے اور یہودیوں کیلئے ہے لیکن رہنمائی حاصل کرنے کیلئے مسیحی بھی پڑھتے ہیں۔ اس میں ایک کتاب ہے عشقیہ نظموں پر جس کا نام ہے غزل الغزلات جو کہ اگرچہ معرفت کی باتیں لیکن چونکہ عشقیہ نظمیں ہیں تو میں پوچھتا ہوں کوئی بھی روحانی کتاب کسی بھی ناپاک چیز یا رشتے کی مثال دے سکتی ہے؟ سو ثابت یہ ہوا کہ محبت کوئی ناپاک چیز نہیں بلکہ پاک ہے جس کی منزل نکاح ہے مگر یہ بات دنیا کی سمجھ سے بالاتر ہے کیونکہ شاعر کہتا ہے کہ:-
    دل سے یہ جڑے ہیں دل اپنے کہنے کو کوئی رشتہ ہی نہیں
    اس پاکیزہ سے بندھن کو دنیا میں کوئی سمجھا ہی نہیں
    ایک مسیحی شاعر لکھتا ہے کہ:-
    تاریخ گواہ ہے مسیحیت خلاف نہیں محبت کے
    یوحنا نے بھی ملوایا تھا دو عاشقوں کو گلے
    تھی تیمتیس کی ماں یہودی اور باپ یونانی
    پھر بھلا کیوں روایت یہ یہاں گناہ کی چلے
    لیکن ہمیں دعا کے ذریعے حوس سے بچنا اور حواس سے محبت کو سمجھنا ہے اور یہ دھیان رکھنا ہے کہ دل ٹوٹ نہ جائے کیونکہ پھر یہ لاعلاج ہے اور کافر بھی بن سکتا ہے جیسا کہ مسیحی شاعر شکوہ کرتا ہے کہ:-
    عشق والے ہی قابل نفرت رہے دور بہ دور
    میرے مسیحا نے یوں تو جلائے ہیں مردے بھی
    لیکن ٹوٹے دل نمازی بھی بن سکتے ہیں مگر یہ ضروری نہیں مقدر ہے اپنا اپنا سو احتیاط کیجئے کیونکہ احتیاط علاج سے بہتر ہے اور حوس پرستوں سے بھی یہ کہہ دیجئے!
    "آپ اچھے فرشتہ صفت ٹھہرے”
    میں برا، میں خراب، جناب! اجتناب!
    کیونکہ کبھی کبھی ایک مچھلی سارا جل گندا کرتی ہے! یہاں پر بتاتا چلوں کہ رومانس اور سیکس میں بھی فرق ہے جس کو لے کر بھی ہم گمراہ زیادہ تفصیل تو میں بیان نہیں کر سکتا لیکن مختصر بتاؤں گا کہ مان لو کہ ہلکا گلابی رنگ رومانس ہے اور سرخ ترین رنگ سیکس اور ان دونوں رسموں کو نبھانے کی شرط نکاح ہے اور نکاح بھی تاعمر کا ورنہ لوگوں نے یہ رسم بھی جائز طریقے سے نبھا کر بس ترک کرنا واجب سمجھا ہے جان رکھو کہ یہ بھی گناہ ہے۔ اور خلیل صاحب نے خود اپنے ڈرامے لال عشق او ایس ٹی میں لکھتے ہیں کہ:-
    کون ہیں لوگ یہ زخم کھائے ہوئے
    دل کی میت کو سر پہ اٹھائے ہوئے
    آرزوئیں یہ کہاں بیچ کر آئے ہیں
    آج آئے ہیں پوچھو یہ کیا لائے ہیں
    اک محبت سے یہ نہ سنبھالے گئے
    اک محبت نہ ان سے سنبھالی گئی
    زندگی بس امیدوں بھری جیب تھی
    جیسے خالی ملی ویسے خالی گئی
    کیا ملا ہے محبت کے بازار سے
    آج پھرتے ہو دل کو نقد ہار کے
    یہ محبت کی دشمن کی اک چال ہے
    عشق تو لال ہے عشق تو لال ہے
    محبت کی دشمن یعنی حوس اللہ ہم سب کو اس سے بچائے رکھے (آمین)

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

  • بے حیا دوا اور پیپ سمیر ٹیسٹ ، تحریر:ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

    بے حیا دوا اور پیپ سمیر ٹیسٹ ، تحریر:ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

    ڈاکٹر میرے شوہر خوش نہیں ہیں!“
    تھکا ہوا لہجہ، چالیس کے پیٹے میں خوش شکل اداس صورت خاتون —-
    سو ہم نے بات اڑانے کے لئے ہنس کے کہا،فکر نہ کیجیے، شوہروں کا یہی وطیرہ ہوتاہے، کچھ بھی کر لو بھلے جان دے دو، بھلے مانس خوش ہوتے ہی نہیں“
    وہ ہولے سے مسکرا دیں۔
    ”اب بتا دیجیے، کیوں ناراض رہتے ہیں وہ“
    وہ ڈاکٹر، پچھلے پانچ چھ ماہ سے ہم جب بھی—وہ جب بھی ——“وہ جھینپ کے رک گئیں-
    جی، جب بھی۔ کہیے؟“
    ہم نے انہیں بات مکمل کرنے کا حوصلہ دیا
    ” جی، پچھلے کچھ عرصے سے ہم جب بھی ہم بستری کرتے ہیں، ان کو محسوس ہوتا ہے کہ ان کے عضو پہ تھوڑا سا خون لگ گیا ہے۔ میرے جسم پہ بھی کچھ خون کے دھبے ہوتے ہیں، ساتھ میں درد بھی بہت ہے۔ میں بہت پریشان ہوں ڈاکٹر“
    ” پریشان نہ ہوئیے۔ آپ یہ بتائیے کہ آپ نے پہلے کبھی اپنا پیپ سمیر ( pap smear ) کروایا؟“ ہم نے پوچھا
    جی مجھے علم نہیں کہ یہ کیا ہوتا ہے؟“ وہ بولیں۔
    ” یہ ایک ٹیسٹ ہے جو رحم کے منہ یعنی سروکس ( cervix) سے لیا جاتا ہے۔ تیس برس کی عمر کے بعد ہر خاتون کو یہ ٹیسٹ کروانا چاہیے کیونکہ چھاتی کے کینسر کے بعد سب سے زیادہ شرح سروکس کے کینسر کی ہے اور اکثر اوقات کینسر ہونے کا پتہ ہی نہیں چلتا۔ یہ ٹیسٹ کینسر شروع ہونے سے پہلے ہی بتا دیتا ہے کہ سروکس کے سیل نارمل نہیں رہے، سو ضرورت ہے کہ احتیاطی تدابیر اختیار کرلی جائیں“
    ہم نے تفصیل سے انہیں سمجھایا۔
    ”یہ ٹیسٹ آپ کیسے لیں گی؟“
    وہ کچھ شش و پنج میں مبتلا تھیں۔
    ”آپ کے رحم کے منہ یعنی سروکس کا معائنہ —-پھر ایک برش کی مدد سے چھوتے ہوئے اس کی سطح سے کچھ سیلز لے کر گلاس سلائیڈ پہ منتقل — بس پھر لیبارٹری والے جانیں اور ان کا کام“
    ہم نے انہیں دلاسا دیتے ہوئے وضاحت کی۔
    ”بہت آسان سا کام ہے، آپ کو بالکل تکلیف نہیں ہو گی“
    وہ خوفزدہ نظر آتی تھیں مگر ہمارے سمجھانے بجھانے پہ معائنے کے لئے راضی ہو گئیں۔

    سروکس صحت مند حالت میں نہیں تھا، ایسے لگتا تھا کہ انہیں کافی مرتبہ وجائنل انفیکشن رہ چکی ہے۔ ہم نے پیپ سمیر لیا اور انہیں نتیجے کے ساتھ آنے کے لئے کہا۔
    کچھ دنوں بعد پیپ سمیر کی رپورٹ آ گئی اور رپورٹ خوش آئند نہیں تھی۔ کچھ ابنارمل قسم کے سیلز دیکھے گئے تھے جو متقاضی تھے کہ مزید ٹیسٹ کیے جائیں۔ اگلا مرحلہ سروکس کو ایک مائکرو سکوپ ( colposcope) نامی مشین کی مدد سے دیکھنا اور متاثرہ حصے کی بائیوپسی لینا تھا۔
    طریقہ کار پہلے جیسا ہی تھا، کاؤچ پہ مریض کو لٹا کر اندرونی اعضائے مخصوصہ کو دیکھ کر بائیوپسی لینا۔ اس عمل میں مریض کو کسی بے ہوشی کی ضرورت نہیں پڑتی اور بائیوپسی لینا زیادہ تکلیف دہ امر نہیں ہوتا۔ درد کی شکایت میں پیراسٹامول دینا ہی کافی رہتا ہے۔
    ‏Colposcopy کے ساتھ بائیوپسی لیتے ہوئے بھی سروکس صحتمند حالت میں نظر نہیں آتا تھا۔بائیوپسی کی رپورٹ نے وہی کہا جو ہمارا شک تھا یعنی سروکس کینسر سے پہلے والی سٹیج پہ پہنچ چکا تھا۔ سروکس کے سیلز کا رجحان کینسر کی طرف بڑھنے کو CIN یا carcinoma in situ کہا جاتا ہے۔
    خاتون کو رزلٹ سے آگاہ کیا گیا تو وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دیں، ڈاکٹر میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، اب کیا ہو گا؟
    ”روئیے نہیں، ابھی کینسر شروع نہیں ہوا۔ آپ خوش قسمت ہیں کہ آپ کو ہم بستری کے دوران خون آنے والی علامت شروع ہوئی اور آپ نے اس کے بعد گائناکالوجسٹ کے پاس آنے کا فیصلہ بھی کیا۔ دعائیں دیجیے اپنے شوہر کو، جنہیں خوش کرنے کے لئے آپ نے کم ازکم اس علامت پہ کان تو دھرا“
    ہم مسکرا کے بولے۔

    ”اب کیا کرنا چاہیے؟“ وہ فکرمندی سے بولیں۔
    ”دیکھیے، پہلا حل تو یہ ہے کہ ہم رحم کا منہ یعنی سروکس کے ایک حصے کو کاٹ کو نکال دیں۔ اس کے لئے دو تین طریقے اختیار کیے جاتے ہیں ( Cone biopsy اور LLETZ) ۔
    یہ آپریشن ویجائنا کے راستے کیا جائے گا اور بے ہوشی کے عالم میں ہو گا۔ لیکن اس کے بعد بھی آپ کو وقفے وقفے سے پیپ سمیر کرواتے رہنا ہو گا کہ کوئی بچا کھچا سیل کہیں کسی خرابی کا باعث تو نہیں بن رہا ”
    ”اور دوسرا حل؟“
    ”جی دوسرا حل یہ ہے کہ آپ رحم ہی آپریشن کے ذریعے نکلوا دیں۔ اس صورت میں نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری۔ ہمیشہ کے لئے رحم اور سروکس کے کینسر کے خطرے سے نجات“
    ”ڈاکٹر میرا خیال یہ ہے کہ میں دوسرے حل کے لئے زیادہ مطمئن رہوں گی“
    بصد شوق“

    یہ پیپ سمیر کی کہانی ہمارے لئے تو روزمرہ کی بات ہے لیکن آپ تک پہنچانے کا خیال یوں آیا جب ہم نے کچھ قریبی دوستوں سے پوچھا کہ کیا انہوں نے کبھی پیپ سمیر کروایا ہے اور سب کو ہی پیپ سمیر سے بے خبر پایا۔ پھر ہم نے اپنی بہنوں سے دریافت کیا تو کسی کو کچھ خبر نہ تھی۔ ہم پہ تو بجلی ہی گر پڑی، چراغ تلے اندھیرا اسی کو تو کہتے ہیں۔
    پیپ سمیر کا سہرا ایک یونانی ڈاکٹر Georgios Papanikolaou کے سر بندھتا ہے جس نے سیلز کی مدد سے کینسر کو پہچاننے کا طریقہ دریافت کیا اور اسی لئے اس ٹیسٹ کو پیپ سمیر پکارا گیا۔
    جان لیجیے کہ پیپ سمیر تیس برس کی عمر سے لے کر پینسٹھ برس کی عمر تک ہر تین برس کے وقفے سے کیا جاتا ہے۔ اگر کبھی کسی مرحلے میں کوئی ابنارمیلٹی ملجائے تو باقی مراحل کی باری آتی ہے۔
    پیپ سمیر کے ساتھ HPV وائرس کا ٹیسٹ بھی کیا جانا چاہیے کہ یہ موذی کینسر کے اسباب میں سے ایک ہے۔عورت کے جسم کو رگیدنے اور اس پہ انواع و اقسام کی مرضی منطبق کرنے کا کام عورت مارچ کے حوالے سے بخوبی کیا گیا ہے۔ مگر اس جسم کی دیکھ پرداخت کا مسئلہ چونکہ کسی اور کا نہیں، صرف عورت کا ہے سو ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہماری ہم نفس ان تکالیف سے ضرور بچ جائے جو آگہی نہ ہونے کی وجہ سے اسے آن گھیرتی ہیں۔بات نکلی ہے تو human papilloma virus کی کتھا بھی سنائے دیتے ہیں۔

    “کوئی پوچھے ان نگوڑوں سے، کیوں ہم سے بار بار کہتے ہو کہ ہم اپنی بچیوں کو یہ ویکسین لگوائیں۔ یہ تو بنائی ہی موئی گوریوں کے لئے گئی ہے جو چھوٹی عمر میں ہی درجنوں بوائے فرینڈ رکھ چھوڑتی ہیں۔ اگر شادی کریں بھی تو بھلا ایک شادی تک محدود کہاں رہتی ہیں۔ تو انہیں تو ضرورت ہوئی نا۔ اب ہماری بچیاں یہ بوائے فرینڈ شرینڈ کیا جانیں۔ جہاں اماں ابا بیاہیں گے، چلی جائیں گی اور وہاں سے مر کے ہی نکلیں گی۔ پھر کیا ضرورت اس ویکسین کی؟ خواہ مخواہ پیسے کا ضیاع۔ بس بی بی یہ بتا دو کہ یہ بیماری ہماری طرف کی بچیوں کو تو نہیں ہوتی نا“
    وہ خاتون ہمیں ایک تقریب میں ملی تھیں اور بات کرونا کی ویکسین سے شروع ہو کے ایک دوسری ویکسین تک آن پہنچی تھی۔ وہ اپنی بچیوں کے سکول سے بھیجی گئی معلومات پہ شاکی تھیں۔ جو بات انہیں ان کا ذہن سمجھاتا تھا، وہ ہم ماننے سے انکاری تھے اور جو ہم سمجھاتے تھے، ان کا دل شد و مد سے جھٹلاتا تھا۔
    ”جی، یہ بیماری ہماری طرف کے مرد و عورت میں بھی بہت عام ہے“ ہم نے کہا۔
    ارے وہ کیسے؟ دیکھو یہ تو ہم بستری سے ایک دوسرے کو منتقل ہوتی ہے نا“
    وہ چمک کے بولیں،
    جی ہاں“
    ”اے نوج بی بی کچھ عقل کو ہاتھ ڈالو۔ جب ہم بستری ہی میاں بیوی کے درمیان ہو گی تو کہاں سے موا ٹپکے گا وائرس؟“
    ”یہی تو مصیبت ہے کہ گھر سے باہر بھی کافی بستر پائے جاتے ہیں“
    ہم زیر لب بڑبڑائے،
    کیا کہا؟“
    ”جی، حقیقت یہی ہے کہ یہ وائرس ہم بستری سے ہی ایک دوسرے کو منتقل ہو کر بیماری پھیلاتا ہے۔ بیماری تو مرد و عورت دونوں کو ہو سکتی ہے لیکن بیماری کے نتیجے میں کینسر کا شکار عورت بنتی ہے۔ بچیوں کو ویکسین لگوانے کے لئے اس لئے کہا جاتا ہے کہ اگر وہ خود کسی غیراخلاقی گراوٹ میں مبتلا نہ بھی ہوں، تب بھی وہ کینسر کا شکار ہو سکتی ہیں اگر ان کا شوہر گھر سے باہر جنسی تعلقات سے شغف رکھتا ہو“ ہم نے چڑ کر کہا۔

    صاحب، کرونا وائرس سے اور کچھ ہوا ہو یا نہیں، ہر ذی شعور یہ ضرور سمجھ گیا ہے کہ وائرس کی ہلاکت خیزی کیا ہوتی ہے۔ ایسا ہی ایک وائرس Human papiloma virus کے نام سے پایا جاتا ہے جس کا نشانہ کرونا وائرس کی طرح گلا یا پھیپھڑے نہیں بلکہ مرد و عورت کے جنسی اعضا ہوا کرتے ہیں۔
    یہ انفیکشن مرد سے عورت، عورت سے مرد، مرد سے مرد اور عورت سے عورت کو بذریعہ جنسی تعلقات منتقل ہوتی ہے۔ بعض دفعہ وائرس کوئی علامات پیدا نہیں کرتا لیکن بہت سے مریضوں میں چھوٹی چھوٹی لحمیاتی پھنسیاں نکل آتی ہیں جنہیں وارٹس ( warts ) کہا جاتا ہے۔ مرد کے بیرونی جنسی اعضا اور عورت کے بیرونی اور اندرونی جنسی اعضا پہ ان پھنسیوں کا موجود ہونا HPV انفیکشن کا ثبوت ہے۔
    وائرس زیادہ تر جنسی کاروبار میں ملوث افراد میں پایا جاتا ہے اور وہیں سے مختلف لوگوں میں منتقل ہوتا ہے۔ HPV کی منتقلی کسی اور طریقے سے ممکن نہیں۔ لیکن لوگ اپنی تسلی کے لئے بہت سی کہانیاں گھڑ لیتے ہیں۔
    ہمیں ایک دفعہ ایک خاتون ملیں، جن کے شوہر اس وائرس کا شکار ہونے کے بعد قسمیں کھا کھا کے انہیں یقین دلانے کی کوشش کرتے تھے کہ یہ انفیکشن ہوٹل کے تولیوں کے استعمال سے ہوئی ہے۔ کچھ اور کہانیوں میں شوہروں نے دوستوں کے استعمال شدہ زیر جامے کو غلطی سے پہن لینے پہ مورد الزام ٹھہرایا۔
    جب اس طرح کی توجیہہ کے بعد کوئی ہماری رائے جاننے کی کوشش کرتا ہے توہم چپ رہے، ہم ہنس دیے، منظور تھا پردہ تیرا کی تصویر بن جایا کرتے ہیں۔
    ان وارٹس کا علاج لیزر یا بجلی کے ذریعے کیا جاتا ہے جہاں ان پھنسیوں کو جلایا جاتا ہے۔ یہ پھنسیاں ایک دفعہ جلانے سے ختم نہیں ہوتیں سو یہ عمل کئی دفعہ دہرانے کی ضرورت پڑتی ہے۔
    خواتین کو اگر یہ انفیکشن حمل کے دوران ہو جائے تو طبعی زچگی کے نتیجے میں انفیکشن نوزائیدہ کو منتقل ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔اس انفیکشن کا سب سے بڑا خطرہ خواتین میں رحم کے منہ سروکس ( cervix) کا کینسر ہے جو وائرس کی ایک خاص قسم HPV 16 اور HPV 18 کا شکار بنتی ہیں۔ کینسر کے ستر فیصد مریضوں میں سبب HPV ہی ہوتا ہے۔

    جس ویکسین کا ہم نے شروع میں ذکر کیا وہ انہی دو قسموں سے بچنے کے لئے بنائی گئی ہے۔ سروکس کے کینسر سے بچنے کے لئے بچیوں کو یہ ویکسین گیارہ سے بارہ برس کی عمر میں لگائی جاتی ہے۔
    بچیوں کو اوائل شباب میں ویکسین لگانے کی وجہ محض یہ ہے کہ نوعمری میں ویکسین لگانے سے اس کی افادیت زیادہ ہوتی ہے اور کسی بھی واسطے سے انفیکشن منتقل ہونے کا تحفظ تمام عمر رہتا ہے۔
    ابتدا میں مسلمان خاندانوں میں اس ویکسین کے خلاف کافی مزاحمت یہ کہہ کر کی گئی کہ بحیثیت مسلمان ہمارے بچے کہاں اس نوعیت کے جنسی تعلق میں مبتلا ہوا کرتے ہیں؟ یا یہ تو بچوں اور بچیوں کو مزید شہ دینے والی بات ہے۔سوچنے والی بات محض یہ ہے کہ اگر ایسا ہی ہے تو پھر ہمارے معاشرے میں بے شمار افراد اس انفیکشن کا شکار کیوں ہوتے ہیں؟جواب سننے کے لئے ہمارا منہ نہ کھلوائیے کہ گائناکالوجسٹ کے حمام میں سب کچھ نظر بھی آ جاتا ہے اور کافی رازوں سے پردہ بھی اٹھ جاتا ہے۔ یہ ایک کڑوا گھونٹ ہے کیونکہ اس بیماری کے لئے متعدد جنسی ساتھیوں کا ہونا لازم ہے جو بیماری کو ایک سے دوسرے میں منتقل کرتے ہیں۔کون کس کو اس بیماری میں مبتلا کرتا ہے اور کہاں سے یہ لے کر آتا ہے؟ کوایک طرف رکھ کر محض یہ جان لیجیے کہ کینسر کا عذاب صرف عورت کے حصے میں آتا ہے اور بریسٹ کینسر کے بعد سب سے زیادہ شرح سروکس کے کینسر ہی کی ہے۔
    خواتین کے حصے میں آنے والے عذاب ویسے ہی کم نہیں سو ناگہانی سے نبٹنے کے لئے اپنی بیٹیوں کے لئے HPV ویکسین کا خیال برا نہیں!

  • اپووا اور میرے احساسات .تحریر:قرۃالعین خالد

    اپووا اور میرے احساسات .تحریر:قرۃالعین خالد

    9 نومبر 2024 پاک ہیرٹج ہوٹل لاہور میں سر زبیر انصاری کی زیر سرپرستی آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی جانب سے آٹھویں سالانہ ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ اپووا کے بانی و صدر ایم ایم علی، سینئیر نائب صدر حافظ زاہد اور نائب صدر سفیان صاحب اور ڈرامہ رائیٹر ثمینہ طاہر صاحبہ کی قیادت میں ایک شاندار پروگرام کا انتظام کیا گیا۔ پروگرام کی نظامت کے فرائض مدیحہ کنول صاحبہ نے بخوبی انجام دئیے۔ ملک بھر سے نامور شخصیات نے ورکشاپ کا حصہ بن کر اپووا کی مثبت سرگرمیوں کو خوب سراہا۔ نامور شخصیات کی شمولیت نے اس بات کا ثبوت دیا کہ وہ اگلی نسل سے نا امید نہیں ہیں۔ نامور شخصیات میں فلم اسٹار غلام محی الدین صاحب، فلم اسٹار میگھا، سنئیر اداکارہ عذرا آفتاب کے ساتھ ساتھ نوجوان نسل کی ابھرتی صحافی دیا مرزا، اینکر پرسن ثناء آغا خان شامل ہیں۔ ملک کے نامور شعراء کی شرکت کی وجہ سے نومولود شعراء کو بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ وہیں ہر دم عزیر سر افتخار افی صاحب کی آمد نے محفل میں چار چاند لگا دئیے۔ اپووا ایک ایسا ادارہ ہے جو اپنے سینئرز کو عزت دینے کے ساتھ ساتھ نئے آنے والے لکھاریوں کا بھی حوصلہ بڑھاتا ہے۔ اپووا نے اب تک کتنے کی افراد کی زندگی کو نئی راہ دکھائی ہے۔ دو سال پہلے مجھے کوئی نہیں جانتا تھا آج الحمدللہ! اللہ کے فضل وکرم سے اپووا کی حوصلہ افزائی کی وجہ سے مجھے آگے بڑھنے کی امنگ بھی ملی اور حوصلہ بھی ملا۔ حسن کارکردگی ایوارڈ، میگزین ٹیم ہونے کی وجہ سے میڈل اور پریس کارڈ کے لیے میں اپووا کی بے حد ممنون ہوں۔ اللہ پاک قلم کا حق ادا کرنے والا بنائے۔ اس قلم سے حق لکھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین! ایک بار پھر میں اپووا ٹیم کو اتنی شاندار مہمان نوازی اور شاندار ورکشاپ انعقاد کرنے پر مبارک باد پیش کرتی ہوں اور اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں کہ میں بھی اپووا کا حصہ ہوں۔

    اپووا کی تربیتی ورکشاپ،لکھاریوں کی تحسین

    یوم اقبال پر اپووا کی تقریب،تحریر:عینی ملک

    اپووا تربیتی ورکشاپ کی یادیں،تحریر: فیصل رمضان اعوان

    اپووا کی سنگ رنگی تقریب،تحریر:ریاض احمد احسان

    اپووا تربیتی ورکشاپ کے یادگار لمحات،تحریر:اورنگزیب وٹو

    اپووا کے زیر اہتمام افطار میٹ اپ کا اہتمام

    اپوواخواتین کانفرنس:حقوقِ نسواں کی توانا آواز

    مبشر لقمان سے آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات

    ایک خوبصورت اور یادگار ملاقات، گورنر ہاوس پنجاب میں،تحریر:فائزہ شہزاد

  • ویڈیو لیک کا خطرہ،بچاؤ کیسے؟آپ کی حفاظت آپ کے اپنے ہاتھ میں

    ویڈیو لیک کا خطرہ،بچاؤ کیسے؟آپ کی حفاظت آپ کے اپنے ہاتھ میں

    پاکستانی ٹک ٹاکرز کی نازیبا ویڈیو سوشل میڈیا پر لیک ہو رہی ہیں اور یہ سلسلہ مسلسل بڑھ رہا ہے، اب تک مناہل ملک، امشا رحمان، متھیرا،مسکان چانڈیو، گل چاہت کی نجی زندگی کی نازیبا ویڈیو لیک ہو چکی ہیں، ویڈیوز کو دیکھ کر ایسے لگ رہا ہے کہ ٹک ٹاکرز نے ویڈیو خود یا اپنی رضامندی سے بنائی ہیں تاہم وہ بعد میں لیک ہو گئیں اور سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں، ویڈیو کس نے لیک کیں اور اس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے یہ ابھی تک سامنے نہیں آ سکا.

    آج کے دور میں ڈیجیٹل میڈیا اور سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ، ویڈیو لیک ہونے کے مسائل عام ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ مسئلہ نہ صرف کسی کی پرائیویسی کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے بلکہ جذباتی، سماجی، اور قانونی مشکلات بھی پیدا کر سکتا ہے۔سوال یہ ہے کہ ویڈیو لیک سے کیسے بچا جائے، اسکے لئے ضروری ہے کہ اول تو کوئی ایسی ویڈیو بنائیں ہی نہ، جس کے لیک ہونے کا خدشہ ہو،اگر کوئی ویڈیو بنا بھی لی تو اپنی ذاتی ویڈیوز اور مواد کو ہمیشہ محفوظ جگہ پر رکھیں، جیسے کہ پاسورڈ پروٹیکٹڈ ڈیوائسز یا اینکرپٹڈ فولڈرز میں۔ کوشش کریں کہ حساس مواد کو کلاؤڈ پر اپ لوڈ نہ کریں کیونکہ کلاؤڈ ہیکنگ کے امکانات موجود رہتے ہیں۔اپنے موبائل فون، کمپیوٹر، اور دیگر ڈیوائسز کے لیے مضبوط پاسورڈز کا استعمال کریں۔ پاسورڈ میں حروف، نمبرز، اور اسپیشل کریکٹرز کا استعمال کریں تاکہ اسے اندازہ لگانا مشکل ہو۔ایسی ایپس انسٹال نہ کریں جو غیر معتبر ہوں یا جن کے بارے میں آپ کو مکمل معلومات نہ ہوں۔ بعض اوقات یہ ایپس آپ کی پرائیویسی تک رسائی حاصل کر کے آپ کے ڈیٹا کو چوری کر سکتی ہیں۔اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر صرف ان لوگوں کو دوست یا فالو کریں جن پر آپ بھروسہ کرتے ہیں۔ ذاتی ویڈیوز یا تصاویر شیئر کرنے سے پہلے یہ سوچیں کہ اگر یہ مواد پبلک ہو جائے تو اس کا کیا اثر ہو سکتا ہے۔اپنے موبائل اور کمپیوٹر کے آپریٹنگ سسٹمز اور سیکیورٹی سافٹ ویئر کو اپ ڈیٹ رکھیں تاکہ کسی بھی قسم کے سائبر حملے سے بچا جا سکے۔اگر آپ کو اپنی ویڈیوز کا بیک اپ لینا ضروری ہے تو اسے محفوظ جگہ پر کریں، جیسے کہ ایکسٹرنل ہارڈ ڈرائیوز جو انٹرنیٹ سے منسلک نہ ہوں۔ای میلز، سوشل میڈیا، یا کسی اور پلیٹ فارم پر ذاتی ویڈیوز یا حساس معلومات شیئر کرنے سے گریز کریں۔ یاد رکھیں کہ ایک بار شیئر کیے جانے کے بعد آپ کے مواد پر آپ کا کنٹرول ختم ہو سکتا ہے۔اگر ویڈیو لیک ہو جائے تو فوراً متعلقہ حکام سے رابطہ کریں۔ پاکستان میں ایف آئی اےسائبر کرائم ونگ ایسے معاملات کو حل کرنے کے لیے موجود ہے۔ایف آئی اے کو ویڈیو لیک کے حوالہ سے درخواست دی جا سکتی ہے. تھوڑی سی احتیاط اور سمجھداری بڑے نقصانات سے بچا سکتی ہے۔ یاد رکھیں، انٹرنیٹ پر موجود ہر چیز کسی نہ کسی وقت لیک ہو سکتی ہے، اس لیے اپنی ذاتی معلومات کو ہمیشہ محفوظ رکھنے کی کوشش کریں،آپ کی حفاظت آپ کے اپنے ہاتھ میں ہے

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

  • شور  سے دور، خاموشی کی تبدیلی کی طاقت

    شور سے دور، خاموشی کی تبدیلی کی طاقت

    ایک ایسی دنیا میں جہاں آوازوں کا غلبہ ہو، خاموشی ایک طاقتور زبان کے طور پر ابھرتی ہے جو الفاظ سے ماورا ہے۔ یہ ایک ایسی موجودگی ہے جو توجہ طلب کرتی ہے، نہ کہ خلا کو بھرنے کے لئے، خاموشی اپنی جگہ لمحہ بہ لمحہ ، زبانی بیان کرنے کی خواہش سے بے نیاز موجود ہے

    زندگی کی ہنگامہ خیز آوازوں کے درمیان، خاموشی ایک نظرانداز کردہ خزانہ بن جاتی ہے۔ پھر بھی، اہم لمحات میں، یہ سب سے زیادہ فصیح جواب کے طور پر ابھرتی ہے۔ خاموشی کی اہمیت انسانی تجربے کے وسیع جذباتی منظرنامے کی عکاسی کرتے ہوئے شخص سے شخص تک بدلتی رہتی ہے،یہ پراسرار زبان سکون، تسلی اور غور و فکر کا ذریعہ ہے۔ یہ آنسو بہنے، خیالات کھلنے، اور جذبات سامنے آنے کی اجازت دیتی ہے۔ خاموشی ایسے پیغامات پہنچا سکتی ہے جو الفاظ نہیں پہنچا سکتے، گہری سوچ کو جنم دیتے ہیں اور ارد گرد کے شور و غل کے خلاف ایک خاموش احتجاج کا ذریعہ بنتے ہیں۔

    ہمیں اکثر "آواز اٹھانے” کی تلقین کی جاتی ہے، لیکن جب زندگی کی ہنگامہ خیزی الفاظ کو بے معنی کر دیتی ہے تو کیا ہوتا ہے؟ ان لمحات میں، خاموشی گرجدار طریقے سے وہ بات بیان کرتی ہے جو الفاظ نہیں کر سکتے۔ یہ ایک پناہ گاہ بن جاتی ہے جہاں خیالات اور جذبات لسانی حدود سے آگے بڑھ جاتے ہیں۔

    خاموشی ایک طاقتور اعلان ہے، جو انسانی جذبات کی پیچیدگی کو تسلیم کرتی ہے۔ یہ مانتی ہے کہ کبھی کبھار، الفاظ ناکافی ہوتے ہیں۔ خاموشی کو اپنانے سے، ہم اپنے آپ کو یہ مواقع فراہم کرتے ہیں،
    خاموشی میں سکون کو تلاش کریں
    وہ بیان کریں جو الفاظ نہیں کر سکتے
    شور کے خلاف احتجاج کریں
    ان کہی خوبصورتی کو دریافت کریں
    ایک ایسی دنیا میں جو اکثر زبانی اظہار کو ترجیح دیتی ہے، خاموشی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ سب سے گہرے بیانات بے الفاظ ہو سکتے ہیں۔ اس کی تنوع اور گہرائی ہمیں ان کہی کی دولت کو دریافت کرنے اور خاموشی میں معنی تلاش کرنے کی دعوت دیتی ہے۔