Baaghi TV

Category: بلاگ

  • نومئی کے مجرموں کو سزا،منصوبہ سازبھی بچ نہ پائیں

    نومئی کے مجرموں کو سزا،منصوبہ سازبھی بچ نہ پائیں

    9 مئی 2023 کو پاکستان میں پیش آنے والے افسوسناک واقعات نے نہ صرف ملک کی سیاسی فضا کو ملبے میں ڈبو دیا بلکہ قومی سلامتی اور ریاستی اداروں کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔ اس دن کے بعد، ایک نیا باب شروع ہوا جس میں انصاف اور قانون کی عملداری کو یقینی بنانے کے لیے ریاست نے مضبوط قدم اٹھائے۔ اب 9 مئی کے واقعات میں ملوث 25 افراد کو مختلف سزائیں سنائی گئی ہیں، جو اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ قانون کا گزرنا ہر سطح پر ضروری ہے اور ریاست کسی بھی صورت میں غیر آئینی یا غیر قانونی اقدامات کو برداشت نہیں کرے گی۔

    9 مئی 2023 کو پاکستان میں ایک ایسا سانحہ پیش آیا جس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔پی ٹی آئی کے شرپسندوں کی جانب سے عمران خان کی گرفتاری کے بعد مختلف شہر وںاور علاقوں میں جناح ہاؤس، جی ایچ کیو، پی اے ایف بیس میانوالی، اور دیگر حساس ریاستی اداروں پر حملے ہوئے۔ ان حملوں کا مقصد ریاستی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچانا، افراتفری پیدا کرنا اور حکومت کے خلاف عوام میں غم و غصہ بڑھانا تھا۔ ان واقعات نے نہ صرف ملکی سیاست کو نقصان پہنچایا بلکہ ملک کی سالمیت اور امن و امان کے نظام کو بھی شدید طور پر متاثر کیا۔آج فوجی عدالتوں نے فیصلہ سنایا،اب تک کی پیش رفت کے مطابق، 9 مئی کے دن کی دہشت گردی اور تخریب کاری میں ملوث 25 افراد کو مختلف سزائیں سنائی گئی ہیں۔ ان افراد کو جناح ہاؤس، جی ایچ کیو، پی اے ایف بیس میانوالی اور دیگر حساس مقامات پر حملوں کے سلسلے میں سزا دی گئی۔ سزائیں 2 سے 10 سال تک کی قید بامشقت پر مشتمل ہیں، جن کا مقصد نہ صرف ان مجرمان کو انصاف کے کٹہرے میں لانا تھا، بلکہ ایسے اقدامات کرنے والوں کے لیے ایک واضح پیغام بھی تھا۔یہ سزائیں اُن لوگوں کے لیے ایک مضبوط تنبیہ ہیں جو ریاستی اداروں اور آئین کو چیلنج کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے افراد کو یاد رکھنا چاہیے کہ قانون سے بالاتر کچھ نہیں۔ ریاست کا عزم ہے کہ آئین اور قانون کی حکمرانی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

    ان سزاؤں کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ یہ سیاسی پروپیگنڈے اور جھوٹ کا شکار ہونے والوں کے لیے ایک واضح تنبیہ ہیں۔ جو لوگ جذباتی یا غلط معلومات کی بنیاد پر ریاستی اداروں کے خلاف سازشوں میں ملوث ہوئے، ان کے لیے یہ ایک سبق ہے کہ آئندہ ایسی کسی بھی غیر قانونی کارروائی کا حصہ بننے سے گریز کریں۔یہ فیصلے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ ریاست ہر سطح پر قانون کی بالادستی کو یقینی بنائے گی، چاہے معاملہ کسی بھی سطح پر ہو۔ جو لوگ آئین کے خلاف قدم اٹھاتے ہیں، انہیں قانون کے دائرے میں لایا جائے گا، اور اس کے ساتھ ساتھ ریاست کی عملداری کو بھی مستحکم کیا جائے گا۔

    ایک اور اہم بات یہ ہے کہ ان سزاؤں کا سلسلہ صرف ان 25 افراد تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ ریاست کا عزم یہ ہے کہ 9 مئی کے ماسٹر مائنڈز، یعنی ان واقعات کے پیچھے موجود اصل سازشی عناصر کو بھی آئین اور قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔ یہ ریاست کا عزم ہے کہ وہ نفرت اور تقسیم پر مبنی سیاست کو ہمیشہ کے لیے ختم کرے گی۔اگرچہ سیاسی اختلافات ہر جمہوری معاشرت میں معمول کی بات ہیں، لیکن ان اختلافات کو ریاستی اداروں کے خلاف تشدد یا تخریب کاری کے ذریعے حل کرنا کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔ اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ آئین اور قانون کا احترام کیا جائے، اور جو لوگ اس کی خلاف ورزی کریں گے، انہیں سزا ملے گی۔یہ فیصلے صرف ایک عدالت کی کارروائی نہیں ہیں بلکہ ان میں ایک پیغام چھپا ہے: "قانون کا سامنا ہر کسی کو کرنا پڑے گا، خواہ وہ سیاسی طاقتور ہوں یا کمزور، عوامی رائے رکھنے والے ہوں یا حکومتی اہلکار۔” یہ ریاستی اداروں کی طاقت اور قانون کی عملداری کی علامت ہیں۔اس فیصلے سے پاکستان کے عوام کو یہ یقین دہانی ملتی ہے کہ ملک میں انصاف کا عمل جاری ہے اور ریاست آئین و قانون کی بالادستی کو ہر صورت برقرار رکھے گی۔ اس سے عوام میں یہ اعتماد بڑھے گا کہ وہ بھی قانون کی نظر میں برابر ہیں، اور ان کے حقوق کا تحفظ ہر صورت میں کیا جائے گا۔

    9 مئی کے مجرمان کے خلاف سزائیں ایک اہم سنگ میل ہیں جو اس بات کا اعلان کرتی ہیں کہ قانون کی فتح ہوئی ہے۔ یہ فیصلے نہ صرف ان افراد کے لیے جو ریاستی اداروں کے خلاف سازشوں میں ملوث تھے، بلکہ اُن تمام افراد کے لیے ایک پیغام ہیں جو آئین اور قانون کے خلاف اقدامات کرنے کی سوچ رکھتے ہیں۔ ریاست کی یہ کارروائیاں نہ صرف انصاف کی فراہمی کی علامت ہیں، بلکہ ایک مضبوط اور متحد پاکستان کے قیام کے لیے ایک اہم قدم ہیں۔یقیناً، 9 مئی کے واقعات کے بعد پاکستان میں قانون کی حکمرانی کو مزید مستحکم کیا جائے گا، اور آئندہ کسی بھی سیاسی سرگرمی کو آئین اور قانون کے دائرے میں رکھا جائے گا۔

  • غم کی ماری انسانیت بولتی ہے

    غم کی ماری انسانیت بولتی ہے

    غم کی ماری انسانیت بولتی ہے
    فیصل رمضان اعوان
    14دسمبر کو لاہور کی ایک خوبصورت ادبی تقریب میں عدم شرکت پرہم ایک عجیب سی الجھن اور پچھتاوے کا شکار ہیں پاکستان رائٹرز کونسل کے چیئرمین چھوٹے بھائی مرزا یسین بیگ صاحب سے کیا گیا وعدہ بھی پورا نہ ہوا ،سجادجہانیہ کی تحریروں پر مشتمل کتاب کہانی بولتی ہے کی تقریب رونمائی کو براہ راست دیکھنے سننے کا اتفاق نہ ہوسکا

    سجاد جہانیہ جیسا کہ وہ منفرد اسلوب کے لکھاری ہیں ان کی منفرد اور گزرے ہوئے بھولے بچپن کی اپنی یادیں تازہ کرنے سے بھی رہے افضل عاجز کی خوبصورت اور سبق آموز باتوں سے محرومی پر بھی دل مغموم ہے، ادبی دنیا کے ایک بڑے نام جناب اصغرندیم سید کی میٹھی گفتگو بھی نہ سن سکے ،عطاالحق قاسمی بھی اس پیاری محفل میں تشریف لائے تھے ان کی بیان کردہ نصیحتوں سے بھی مستفید نہ ہوسکے ،گل نوخیز اختر کی محبتوں بھری سچی داستانیں تک بھی نہ سن سکے

    اس سے قبل اسی ای لائبر یری کے ہال میں سجاد جہانیہ کی تصنیف” ٹاہلی والا لیٹربکس” کی تقریب رونمائی میں شرکت آج تک نہ بھلا سکے ،وہ محفل بھی بڑی شاندار تھی، لکھنے والے ان خوبصورت لوگوں میں گزری چند گھڑیاں ہم جیسے آوارہ لکھاریوں کے لئے گویا صدیوں کا پیغام ہوتی ہیں، ان سنئیرزاحباب کے ساتھ بیٹھے چند لمحے ہمیں بہت کچھ سیکھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں.

    14دسمبر کی اس ادبی بیٹھک کا حال احوال بھی لگ بھگ چارروز بعد ہوا چونکہ تقریب کا انعقاد وسط دسمبر میں کیا گیا ویسے ہمارے بچپن کے دسمبر کی یادوں نے آج تک پیچھا نہ چھوڑا، اداس شاموں اور گہری تاریک راتوں کو بھلا کیسے بھلایا جاسکتا ہے، ہم بھی خیر سے حسب معمول ہر سال دسمبر کے سحر میں گرفتار ہونے کے لئے گاؤں ضرور جاتے ہیں لیکن اس بار دسمبر کی راتوں میں چلنے والی سرد ہواؤں نے وہ موسیقی نہیں سنائی جو ہم اکثر تنہائی میں گھر کے آنگن سے دور نکل کر سنا کرتے تھے فاروق روکھڑی مرحوم کی غزل کا ایک شعر ہے
    تھیں جن کے دم سے رونقیں وہ شہروں میں جابسے
    ورنہ ہمارا گاؤں یوں ویران تو نہ تھا

    لیکن یقین کریں اس بار گاؤں ویران لگا تاحد نگاہ گندم کے کھیت ویران سرسوں کے پھولوں کی وہ ٹھنڈی ٹھنڈی خوشبوئیں نجانے کہاں لاپتا ہوگئی ہیں طویل عرصے سے بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے ہرطرف مٹی کے گردو غبار ،سرما میں جھڑیوں کا وہ نہ ختم ہونے والا سلسلہ اور گھر کے پرانے کوٹھوں کے کچے چھت سے بارش کے قطروں کی ٹپکتی وہ مسحورکن آوازیں سب نظارے نجانے کہاں کھو گئے ہیں ،حضرت انسان کی ایک دوسرے کے لئے پیدا کردہ جدید آسائشیں اور سہولتیں کہیں تو ان کا وجود ہوگا لیکن ہمارے ان گاؤں دیہاتوں میں ستے خیراں ہیں ،نہ سڑکوں کا وجود ،نہ ہی تعلیم، نہ صحت ،نہ ہی سماجی رابطوں کی جدید ٹیکنالوجی انٹرنیٹ اور نہ ہی موبائل فون کی سروس

    کہانی بولتی ہے کے مصنف محترم سجاد جہانیہ صاحب اگر ہمارے ان دور دراز علاقوں میں کبھی تشریف لے آئیں تو ہمیں امید ہے کہ وہ کہانی بولتی ہے تصنیف کے بعد” غم کی ماری انسانیت بولتی ہے” لکھیں گے لیکن بہرحال ہم 14دسمبر کی لاہور میں منعقدہ تقریب میں شرکت نہ کرنے پر اپنے آپ سے بہت ناراض ہیں کیونکہ اپنے گاؤں کوٹ گلہ ضلع تلہ گنگ کی دھول اڑاتی کچی سڑکوں کی حالت زار تعلیمی اداروں کی زبوں حالی ہمارے مستقبل کے معمار وطن ہماری نوجوان نسل کا تاریک مستقبل یہ سب دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے یقین کریں دکھ ہوتا ہے ہماری نسل اس تیز ترین دنیا کے ساتھ کیسے چل سکے گی، جہاں زندگی گزارنے کی بنیادی سہولتیں ہی ناپید ہوں، شاید ہماری ان محرومیوں کو سمجھنے والا کوئی نہ ہو لیکن یقین کریں یہ وہ کرب ناک اور اذیت ناک دکھ ہیں جن کا رونا ہم ایک عرصے سے رو رہے ہیں لیکن ہمارے ان مسائل میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے

    لاہور کی ایک پیاری محفل میں شرکت نہ کرنے اور اچانک گاؤں جانے کے تجربے نے اس بار ہمیں بہت رلایا ہے” کہانی بولتی ہے ” تاحال ہم تک نہیں پہنچ سکی، انشااللہ جلد ہی کتاب کے حصول کو ممکن بنائیں گے اس کا مطالعہ کریں گے اور اس کے بعد ہم "غم کی ماری انسانیت بولتی ہے "کی تحریر کے لئے کوششیں تیز کردیں گے .
    اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو

  • طلاق کیوں ضروری ہے ؟ تحریر:معظمہ تنویر

    طلاق کیوں ضروری ہے ؟ تحریر:معظمہ تنویر

    وہ شادی شدہ جوڑے جو باہمی عزت و احترام کے ساتھ سچے دل سے ایک دوسرے سے پیار کرتے ہیں انہوں نے واقعی اپنے گھر کو ایک چھوٹی سی جنت بنا رکھا ہے ۔لیکن بد قسمتی سے ازدواجی خوشیوں سے محروم ایسے زوجین کی افسوسناک خبریں بھی آئے دن سامنے آتی رہتی ہیں جو نفرت ،غصے اور انتقام میں ایک دوسرے کی جان تک لینے سے دریغ نہیں کرتے۔

    آخر کیوں لوگ ایسے خراب تعلق کو نبھانے کی کوشش کرتے ہیں جس کا نتیجہ قتل و غارت کی صورت میں نکلتا ہے ؟ اس ضمن میں ایسے واقعات بھی تواتر کے ساتھ رونما ہوتے رہتے ہیں جن میں شادی شدہ افراد کسی غیر کی محبت میں مبتلا ہو کر اپنے شریک حیات کو راستے سے ہٹانے کے لیے اسے موت کی وادی میں پہنچا دیتے ہیں ۔ ایسی خبریں ہماری نظروں سے گزرتی رہتی ہیں جہاں کبھی بیوی اپنے شوہر کو آشنا کی مدد سے قتل کر دیتی ہے تو کہیں شوہر اپنی محبوبہ کو پانے کے لیے بیوی کو موت کے گھاٹ اتار دیتا ہے۔۔آخر یہ کیسا جنونی بلکہ خونی عشق ہے جو نکاح جیسے مقدس بندھن کو پامال کر کے رکھ دیتا ہے۔ جو عورت کسی غیر مرد کو پانے کے لیے اپنے شوہر کو قتل کرا دیتی ہے وہ کسی اور سے کیا وفا کرے گی؟ اور جو شوہر دوسری عورت کی خاطر اپنی زوجہ کومار ڈالتا ہے وہ بھلا کیسے کسی سے پیار کر سکے گا؟ سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر کیا سوچ کر یہ بے حس لوگ اس حد تک سفاکیت کا مظاہرہ کرجاتے ہیں۔ان کے دلوں میں نہ تو خدا کا خوف ہوتا ہے اور نہ ہی قانون کا کوئی ڈر۔اگرچہ یہ ظالم افراد اپنے انجام کو ضرور پہنچتے ہیں لیکن جن معصوم لوگوں کے خون سے انہوں نے ہاتھ رنگے ہوتے ہیں ان غریبوں کا کیا قصور تھا؟ کتنا اچھا ہوتا کہ یہ جنونی لوگ انہیں بے دردی سے قتل کرنے کی بچائے راہیں جدا کر لیتے ۔

    طلاق کا راستہ اسی لیے تو موجود ہے کہ اگر زوجین میں سے کوئی ایک یا دونوں ایک دوسرے کے لیے ناپسندیدہ اور ناقابل برداشت ہو جائیں تو وہ ایک دوجے کی زندگی سے نکل جائیں ۔ایک ہی چھت تلے رپتے ہوئے چپکے چپکے اپنے شریک حیات کے لیے قتل کی سازش تیار کرنا کس قدر گھناؤنا عمل ہے ۔وقتی طور پر اچانک طیش میں آکر دوسرے فریق کو قتل کردینا بھی اس امر کا ثبوت ہے کہ اس انسانیت سوز فعل کے پیچھے ایک طویل مدت سے نفرت پل رہی تھی ۔تو پھر کیوں نہ کسی کی جان لینے سے پہلے،اس انسان سے اپنی جان چھڑا لی جائے تاکہ ہمارا معاشرہ ایسے اندوہناک واقعات سے پاک ہو سکے ۔طلاق اگرچہ ایک ناپسندیدہ عمل ہے لیکن زندگی چھن جانے سے کئی گنا بہتر ہے ۔

  • پاکستانی میزائل پروگرام،امریکی دھمکیاں،قوم یکجا

    پاکستانی میزائل پروگرام،امریکی دھمکیاں،قوم یکجا

    پاکستان کا اسٹریٹجک پروگرام ایک نہایت اہم، لازمی، اور قومی حیثیت کا حامل پروگرام ہے جو نہ صرف پاکستان کی سلامتی بلکہ اس کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔ یہ پروگرام پورے ملک کے لیے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کا دفاع ہر پاکستانی کی ذمہ داری ہے۔پاکستان کے اسٹریٹجک پروگرام کو ملک کے تمام شہریوں اور سیاسی جماعتوں کی طرف سے یکجہتی کے ساتھ حمایت حاصل ہے۔ اگرچہ پاکستان میں سیاسی اختلافات موجود ہیں، لیکن اس اسٹریٹجک پروگرام کے حوالے سے ملک بھر میں مکمل اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔ تمام سیاسی جماعتیں اور قوم ایک ہی صفحے پر ہیں کہ اس پروگرام کی حفاظت اور اس کے تسلسل کو یقینی بنانا قومی مفاد میں ہے۔ اس بات کا واضح پیغام دیا گیا ہے کہ پاکستان اپنے اسٹریٹجک مفادات پر کسی بھی طرح کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

    پاکستان کے اسٹریٹجک پروگرام میں بنیادی طور پر ملک کی دفاعی صلاحیتوں اور جوہری طاقت کے تحفظ پر زور دیا جاتا ہے۔ اس پروگرام کے تحت پاکستان اپنی خودمختاری اور سالمیت کو ہر قیمت پر محفوظ رکھنے کا عزم رکھتا ہے۔ اس بات کا بھرپور پیغام دیا گیا ہے کہ پاکستان کسی بھی بیرونی مداخلت کو برداشت نہیں کرے گا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب بھارت جیسے خطے میں موجود دیگر ممالک بھی اسی طرح کی دفاعی صلاحیتیں رکھتے ہیں۔پاکستان کا کہنا ہے کہ امریکی اقدامات اصولی نہیں ہیں اور یہ کسی نہ کسی طرح کی جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ امریکہ کے اسٹرٹیجک فیصلوں پر پاکستان کا موقف یہ ہے کہ یہ اقدامات پاکستان کے مفادات کے خلاف اور علاقائی استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔ پاکستان نے یہ واضح کیا ہے کہ اس کا اسٹریٹجک پروگرام اس کی خود مختاری اور دفاع کے لیے ہے، اور اسے بیرونی مداخلت کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

    پاکستان کی سیاسی قیادت، عوام اور تمام ادارے اس بات پر متفق ہیں کہ پاکستان کا اسٹریٹجک پروگرام نہ صرف اس کی دفاعی صلاحیتوں کا تحفظ کرتا ہے بلکہ یہ قومی مفاد اور خودمختاری کی ضمانت بھی ہے۔ اس لیے، پاکستان ہر قسم کی بیرونی مداخلت یا اس پروگرام میں کسی بھی تبدیلی کو مسترد کرتا ہے، اور یہ پیغام پوری دنیا کو دے رہا ہے کہ پاکستان کسی بھی غیر قانونی یا ناجائز مداخلت کے سامنے نہیں جھکے گا۔

    تحریر؛مہر اقبال انجم

    baaghi blogs

  • پاکستان ایک ذمہ دار جوہری ریاست

    پاکستان ایک ذمہ دار جوہری ریاست

    پاکستان ایک ذمہ دار جوہری ریاست ہے جو خطے میں استحکام اور سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ایک قابل اعتماد کم سے کم رکاوٹ پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ اس بات کا اظہار چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر نے متعدد مواقع پر کیا ہے، جہاں انہوں نے پاکستان کی جوہری صلاحیت کی اہمیت اور اس کی پائیداری کو اجاگر کیا۔

    پاکستان کا جوہری پروگرام دفاعی مقاصد کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے اور یہ مکمل طور پر ملک کی سلامتی کو یقینی بنانے کی خاطر ہے۔ اس پروگرام کا مقصد کسی بھی بیرونی جارحیت یا خطرے کے خلاف ایک مؤثر اور متوازن دفاع فراہم کرنا ہے۔ پاکستان کی جوہری صلاحیت خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے اہم کردار ادا کرتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب جنوبی ایشیا میں دیگر جوہری طاقتیں بھی موجود ہیں۔

    پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کی پالیسی کا بنیادی مقصد دفاعی اور استحکام کو یقینی بنانا ہے۔ پاکستان کی حکمت عملی میں جوہری ہتھیاروں کو محض ایک “رکاوٹ” کے طور پر دیکھا جاتا ہے، نہ کہ جارحانہ استعمال کے لیے۔
    پاکستان میں جب بات قومی سالمیت، اسٹریٹجک اثاثوں اور میزائل پروگرام کی ہوتی ہے، تو تمام سیاسی جماعتیں یکجا ہوتی ہیں۔ اس بات کو آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے بھی اپنی تقاریر میں واضح کیا ہے کہ پاکستان کے جوہری اثاثے ملک کی قومی سلامتی کے محافظ ہیں اور اس پر تمام سیاسی قوتوں کا اتفاق ہے۔پاکستان کے جوہری پروگرام کے بارے میں تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ قومی سلامتی اور استحکام کسی بھی سیاسی وابستگی سے بالاتر ہے۔ ہر پاکستانی کے لیے ملک کی حفاظت اور سالمیت مقدس ہے، اور اس میں کسی بھی نوعیت کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

    پاکستان کی جوہری پالیسی عالمی سطح پر ایک ذمہ دار جوہری ریاست کے طور پر تسلیم کی گئی ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ اپنے جوہری ہتھیاروں کو صرف دفاعی مقاصد کے لیے رکھنے کی بات کی ہے اور اس بات کا عہد کیا ہے کہ وہ جوہری تنازعات میں ملوث نہیں ہوگا جب تک کہ کسی جارحیت کا سامنا نہ ہو۔ پاکستان کا یہ موقف عالمی برادری میں اس کے جوہری پروگرام کے بارے میں مثبت ردعمل کو جنم دیتا ہے اور اس کے دفاعی مقاصد کو تسلیم کیا جاتا ہے۔پاکستان کی عوام اپنی فوج اور دفاعی اداروں پر مکمل اعتماد رکھتے ہیں، اور یہ تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاق سے واضح ہے۔ ملک کے دفاعی ادارے قومی یکجہتی اور استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں، اور عوام کی حمایت اس بات کا مظہر ہے کہ پاکستان میں سیکیورٹی اور جوہری پروگرام کے حوالے سے ایک مشترکہ قومی عزم موجود ہے۔پاکستان کی جوہری صلاحیت نہ صرف ملک کی سلامتی کی ضامن ہے، بلکہ یہ خطے میں امن و استحکام کے لیے بھی اہمیت رکھتی ہے۔ پاکستان کی دفاعی حکمت عملی عالمی سطح پر اس کے نیک نیتی کے عزم کو ظاہر کرتی ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے دفاعی اثاثوں کو مکمل احتیاط اور ذمہ داری کے ساتھ استعمال کرے گا۔

    پاکستان کی جوہری طاقت ایک طاقتور دفاعی رکاوٹ کے طور پر خطے میں امن کی ضمانت ہے، اور اس کی قومی یکجہتی اور سلامتی ہر پاکستانی کے لیے سب سے اہم ہے۔ اس حوالے سے تمام سیاسی جماعتیں ایک ہی صف میں ہیں، اور اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ پاکستان کا دفاع اور استحکام کسی بھی قیمت پر محفوظ رکھا جائے گا۔

    baaghi blogs

  • میزائل پروگرام،پابندیاں،امریکہ پاکستانی خود مختاری کا پاس رکھے،تجزیہ:شہزاد قریشی

    میزائل پروگرام،پابندیاں،امریکہ پاکستانی خود مختاری کا پاس رکھے،تجزیہ:شہزاد قریشی

    امریکہ پاکستان کی خودمختاری کا پاس رکھنا ہوگا۔ پاکستان خطے میں واحد ملک ہے جو چار ممالک، بھارت، چین، افغانستان اور ایران کے درمیان میں موجود ہے ان چار ممالک کی زمینی سرحدیں پاکستان کے ساتھ ہیں۔ پاکستان کو اپنی سلامتی اور دفاعی پالیسی خارجہ پالیسیان چار ممالک کے موڈ اور ذہین کو مدنظر رکھ بنانا پڑتی ہے۔ ان چار ممالک میں بھارت پاکستان کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ بھارت کی تاریخ گواہ ہے کہ بھارت نے پاکستان کی ترقی و سالمیت اور خوشحالی کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی۔ امریکہ اور عالمی دنیا گواہ ہے بھارت براستہ افغانستان پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث رہا پاکستان کے پاس اس کے ثبوت بھی ہیں۔ امریکہ کو پاکستان جس نے نائن الیون سے قبل اور اسکے بعد جانی و مالی قربانیاں دیں،

    اس طرح کی پابندیاں امریکہ کو خود سوچنا ہوگا حالیہ پابندیوں سے دنیا کو کیا پیغام دیا ہے؟ پاکستان کی سیاسی و مذہبی جماعتیں دنیا کی بدلتی ہوئی پالیسیوں کا بغور جائزہ لے کر سیاست کریں ملکی سلامتی کے پیش نظر اپنی فوج اور جملہ اداروں کیخلاف سازشوں سے باز رہیں۔ ملکی سلامتی کے اداروں کو چوکنا رہنا ہوگا جو کچھ اسلامی ممالک میں ہو رہا ہے اس کا بغور جائزہ لیں۔ پاک فوج اور جملہ اداروں نے بڑی قربانیاں دے کر ملک و قوم کو دہشت گردی سے آزاد کرایا بحیثیت قوم ہمیں وطن عزیز کے خلاف بین الاقوامی سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہوگا۔ وطن عزیز کی سلامتی کے ضامن اداروں کے خلاف سازش کرنے والے عناصر کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ ملک کو داخلی اور خارجی دبائو سے بچا کر رکھنے والی پاک فوج اور اس کے جملہ ادارے ہی ہیں۔

    سیاسی گلیاروں میں جو اس وقت ماحول ہے کسی بھی زاویئے سے درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ پاک فوج اور اسکے جملہ ادارے دہشت گردی کا تن تنہا سامنا کر رہے ہیں امریکہ کو یہ نظر کیوں نہیں آتا پاک فوج اور جملہ ادارے داخلی سلامتی اور امن و امان کے دن رات ایک کئے ہوئے ہیں امریکہ پاکستان کی داخلی خودمختاری کو نشانہ بنانے سے گریز کرنا چاہئے۔ ملک کے وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کئی ہمسایہ ممالک کے دورے کر چکے ہیں وہ اپنے ہمسایہ ممالک کو اپنے موقف سے آگاہ کر رہے ہیں۔ امید ہے وہ امریکہ کی ٹرمپ انتظامیہ کو پاکستان پر اس طرح کی پابندیوں سے آزاد کروانے میں کامیاب ہو جائیں گے.

  • پاک فوج: تحفظ، قربانی اور قومی فخر کی داستان

    پاک فوج: تحفظ، قربانی اور قومی فخر کی داستان

    پاک فوج: تحفظ، قربانی اور قومی فخر کی داستان
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستان کی تاریخ میں پاک فوج کا کردار ہمیشہ بے مثال رہا ہے۔ چاہے جنگ ہو، دہشت گردی کے خلاف آپریشنز، قدرتی آفات یا عالمی امن مشنز، پاک فوج نے ہر موقع پر اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں امن قائم کرنے کے لیے اپنی ذمہ داریاں نبھائی ہیں۔

    2000 کے بعد کا دور پاکستان کے لیے ایک ہولناک حقیقت تھا۔ دہشت گردی کے حملوں نے ملک کو لپیٹ میں لے لیا تھا۔ بازار، تعلیمی ادارے، مساجد، اقلیتوں کی عبادت گاہیں اور ہسپتال تک محفوظ نہ تھے۔ خوف و دہشت نے عوام کی زندگی مفلوج کر دی تھی۔ ایسے میں پاک فوج نے خفیہ اداروں کے تعاون سے ایک منفرد حکمت عملی اپنائی۔ انہوں نے شہری علاقوں کو محفوظ رکھنے کی خاطر دہشت گردوں کے خلاف انتہائی مشکل اور پیچیدہ آپریشنز کیے۔ ہر گلی اور ہر محاذ پر ان جوانوں نے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر دشمن کو شکست دی۔ یہ ایک ایسی جنگ تھی جہاں دشمن چھپ کر وار کرتا تھا لیکن پاک فوج نے نہ صرف ان دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کیا بلکہ عوام کے جان و مال کی حفاظت کو بھی یقینی بنایا۔ انہی قربانیوں کے نتیجے میں ملک میں امن بحال ہوا۔

    قیام پاکستان سے لے کر آج تک پاک فوج نے ہر جنگ میں جرأت اور بہادری کی نئی تاریخ رقم کی ہے۔ 1947 کی جنگِ کشمیر، 1965 کی فتح یا 1999 کی کارگل وار، پاک فوج کے سپاہیوں نے ہمیشہ اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر سرحدوں کی حفاظت کی۔ 21ویں صدی کی دہشت گردی کے خلاف جنگ دنیا میں ایک منفرد مثال ہے، جہاں پاک فوج نے نہ صرف دشمن کو شکست دی بلکہ متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو اور عوام کی فلاح و بہبود میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

    پاک فوج کی قربانیاں صرف جنگوں تک محدود نہیں۔ 2005 کے زلزلے اور 2010 کے سیلاب کے دوران پاک فوج نے متاثرین کی بحالی اور امدادی سرگرمیوں میں بے مثال خدمات انجام دیں۔ یہی نہیں عالمی سطح پر اقوام متحدہ کے امن مشنز میں پاکستانی فوجیوں نے نمایاں کردار ادا کیا، کئی جوانوں نے اپنی جانیں قربان کر کے امن کے فروغ کے لیے اپنا حصہ ڈالا۔

    افسوس کی بات یہ ہے کہ آج سوشل میڈیا پر کچھ حلقے اپنی فوج کے خلاف پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جو پاک فوج کی قربانیوں کو فراموش کر کے منفی بیانیے کو فروغ دے رہے ہیں۔ انہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اگر پاک فوج نہ ہوتی تو آج ملک میں امن و سکون کا خواب بھی ممکن نہ ہوتا۔ یہ ادارہ ہمارا فخر ہے اور اس کے خلاف سازشیں شہدا کے خون کی توہین ہیں۔

    یہ وقت ہے کہ ہم اپنی افواج کی قربانیوں کا اعتراف کریں اور ان کے وقار کو بلند کریں۔ ہمیں اپنی فوج کے خلاف منفی بیانیے کا حصہ بننے کے بجائے ان قربانیوں کو سراہنا چاہیے جو وہ دن رات ہمارے تحفظ کے لیے دے رہی ہے۔ پاک فوج کے ہر سپاہی کی قربانی ہماری آزادی اور سکون کی ضمانت ہے۔ ہمیں عہد کرنا ہوگا کہ ہم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے اور ان کے خلاف ہونے والے ہر پروپیگنڈے کا بھرپور جواب دیں گے۔

    پاک فوج کے جوانوں کی قربانیاں ہمارے لیے امید کی کرن ہیں۔ ان کی قربانیوں کی بدولت آج ہم ایک محفوظ اور پرامن زندگی گزار رہے ہیں۔ ہمیں ان قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھنا اور ان کا احترام کرنا ہوگا۔ پاک فوج ہماری سرزمین کی محافظ ہے اور اس کا ہر جوان ہمارے وقار اور آزادی کی علامت ہے۔
    پاک فوج زندہ باد! پاکستان پائندہ باد!

  • میزائل پروگرام،امریکی پابندیاں پاکستانی خود مختاری پر حملہ

    میزائل پروگرام،امریکی پابندیاں پاکستانی خود مختاری پر حملہ

    امریکہ نے حال ہی میں پاکستان کی بیلسٹک میزائل بنانے والی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کی ہیں جس پر پاکستان کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ پاکستانی حکام اور عوام نے اس اقدام کی سخت مذمت کی ہے، اور اسے پاکستان کی خودمختاری پر حملہ اور اس کے دفاعی مفادات کے خلاف ایک سازش قرار دیا ہے۔

    پاکستان ایک خودمختار ملک ہے اور اس کا حق ہے کہ وہ اپنے دفاعی ضروریات کو پورا کرے۔ بیلسٹک میزائل پروگرام جو پاکستان نے تیار کیا ہے، مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے۔ اس کا مقصد پاکستان کی سلامتی کو یقینی بنانا اور کسی بھی بیرونی خطرے سے نپٹنے کے لیے موثر دفاعی صلاحیت فراہم کرنا ہے۔ یہ اقدام پاکستان کے قومی مفاد میں ہے اور اس کا کوئی غیر قانونی پہلو نہیں ہے۔امریکہ کا یہ اقدام پاکستان کے اندرونی معاملات میں کھلی مداخلت ہے۔ امریکہ نے جب اپنے دفاعی مفادات کو یقینی بنانے کے لیے مختلف اقسام کے ہتھیار تیار کیے ہیں اور دنیا بھر میں ان کا استعمال کیا ہے، تو پاکستان کو اپنے دفاعی حقوق سے کیوں محروم کیا جا رہا ہے؟ امریکہ کے دوہرے معیار اس وقت واضح ہیں جب وہ ایک طرف اپنی فوجی طاقت بڑھاتا ہے اور دوسری طرف دوسرے خودمختار ممالک کو اپنے دفاعی پروگرامز کو روکنے کی کوشش کرتا ہے۔

    امریکہ کی جانب سے عائد کی جانے والی یہ پابندیاں پاکستان کے دفاعی شعبے پر سنگین اثرات ڈال سکتی ہیں۔ پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام میں شامل کمپنیاں عالمی سطح پر اپنا کام جاری رکھتی ہیں اور ان پابندیوں سے نہ صرف ان کمپنیوں کے کاروبار پر منفی اثرات پڑیں گے بلکہ پاکستان کی دفاعی ترقی کی رفتار بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ اس سے نہ صرف پاکستان کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوگا، بلکہ یہ عالمی سطح پر پاکستان کی خودمختاری کے بارے میں امریکہ کی طرف سے ایک واضح پیغام بھی ہے کہ وہ پاکستان کے فیصلوں کو قابو میں لانے کی کوشش کر رہا ہے۔جو پاکستانی عوام کسی صورت قبول نہیں کریں گے.

    پاکستان کی مختلف سیاسی جماعتوں نے اس اقدام کی شدید مذمت کی ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور دفاعی مفادات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔پیپلز پارٹی کی جانب سے رضا ربانی، امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان، مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے اس موقع پر اپنے موقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پوری قوم متحد ہو کر اپنے دفاعی حقوق کا تحفظ کرے گی۔ پاکستان کی افواج اور دفاعی ادارے ملک کی خودمختاری اور دفاع کے لیے جان کی قربانی دینے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔

    پاکستان نے امریکہ کے دوہرے معیار کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ امریکہ خود بڑے پیمانے پر جدید ترین ہتھیاروں کی تیاری اور استعمال میں مصروف ہے، اور وہ دنیا کے مختلف حصوں میں اپنی فوجی مداخلت جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایسے میں وہ دوسرے خودمختار ممالک کی دفاعی ترقی پر پابندیاں عائد کرنے کا حق کیسے رکھتا ہے؟ امریکہ کا یہ اقدام نہ صرف پاکستان کے لیے بلکہ دنیا بھر میں اس کے دوہرے معیار کی ایک واضح مثال بن چکا ہے۔پاکستان کے عوام اور حکومت نے اس بات پر واضح کیا ہے کہ وہ اپنے دفاعی حقوق کی حفاظت کے لیے کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ پاکستان کی حکومت اور افواج اپنے ملک کی خودمختاری اور قومی مفادات کا بھرپور دفاع کریں گے۔ پاکستان میں تمام سیاسی جماعتیں اس وقت اپنے قومی مفادات میں متحد ہیں اور اپنے دفاعی اداروں کے ساتھ کھڑی ہیں۔

    امریکہ کی جانب سے پاکستان کی بیلسٹک میزائل کمپنیوں پر عائد کی جانے والی پابندیاں ایک غیر منصفانہ اقدام ہے جو نہ صرف پاکستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہے بلکہ عالمی سطح پر امریکہ کے دوہرے معیار کی عکاسی کرتی ہیں۔ پاکستان کا بیلسٹک میزائل پروگرام مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد صرف اور صرف پاکستان کی سلامتی اور خودمختاری کا تحفظ ہے۔ پاکستان اپنے دفاعی حقوق کے لیے کسی بھی قسم کے دباؤ کو تسلیم نہیں کرے گا اور عالمی سطح پر اپنی خودمختاری کا بھرپور دفاع کرے گا۔پاکستان کی میزائل پروگرام پر امریکی پابندی سےپاکستان کی عوام کو امریکہ کی پاکستان دشمنی کھل عیاں ہوگئی ہے،اسکاجواب پاکستانیوں کوہر لیول پر دینا ہے ، اور پاکستانی دیں گے، پاکستانی قوم وطن عزیز کے دفاع کے لئے پاکستان کے عسکری ،دفاعی اداروں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے اور رہے گی.
    baaghi blogs

  • سیم جینڈر سے جنسی کشش نفسیاتی مسئلہ.تحریر:ملک ارشد

    سیم جینڈر سے جنسی کشش نفسیاتی مسئلہ.تحریر:ملک ارشد

    آج کل کے دور میں بہت سے نوجوانوں میں ہم جنسیت (سیم جینڈر سے جنسی کشش) کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ مسئلہ نہ صرف فرد کی ذہنی حالت کا عکاس ہے بلکہ ہمارے معاشرتی اور ثقافتی ماحول سے بھی گہرا تعلق رکھتا ہے۔ بعض لوگ اس رجحان کو صرف ایک "ذہنی بیماری” یا "غلط سوچ” سمجھتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ ایک پیچیدہ نفسیاتی اور سماجی مسئلہ ہے جسے مختلف زاویوں سے سمجھنا ضروری ہے۔

    ہم جنسیت کی کشش کی نفسیات میں ایک اہم پہلو "دماغی تربیت” یا "مائنڈ سیٹنگ” ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر انسان میں جنسی کشش موجود ہوتی ہے، اور یہ کشش مختلف لوگوں میں مختلف نوعیت کی ہو سکتی ہے۔ بعض اوقات، فرد کا دماغ کسی ایک جینڈر (مخالف یا ہم جنس) کے لئے زیادہ کشش محسوس کرتا ہے۔اگر ہم نفسیاتی لحاظ سے بات کریں، تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر کسی فرد نے بچپن میں غیر صحت مند ماحول میں پرورش پائی ہو یا کسی خاص نوعیت کے ذہنی دباؤ یا چیلنجز کا سامنا کیا ہو، تو اس کا دماغ اس صورتحال کو ایک خاص طریقے سے پروسیس کرتا ہے۔ ایسے حالات میں، وہ ہم جنس سے جنسی کشش محسوس کرنے لگتا ہے۔اس کو ایک طرح سے "برین فیڈنگ” یا "مائنڈ سیٹنگ” کہا جا سکتا ہے جس کے ذریعے فرد اپنے ذہن میں غیر فطری رجحانات پیدا کرتا ہے۔ یہ دراصل ایک نفسیاتی اثر ہے، جس میں بچپن میں گزرے ہوئے تجربات اور معاشرتی تربیت کا بڑا ہاتھ ہوتا ہے۔

    ہر انسان میں قدرتی طور پر دونوں جینڈر (مرد اور عورت) سے جنسی کشش محسوس کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ یہ کشش معمول کی بات ہے اور ہر فرد کے اندر کسی نہ کسی صورت میں موجود ہوتی ہے۔ تاہم، جب ہم سیم جینڈر سے جنسی کشش کی بات کرتے ہیں، تو یہ ایک مختلف نوعیت کی کشش ہوتی ہے۔یہ حقیقت ہے کہ ہم سب اپنے والدین، بہن بھائیوں، اور قریبی رشتہ داروں کے ساتھ محبت اور عزت رکھتے ہیں۔ یہ بھی ایک نوع کی "کشش” ہوتی ہے، مگر اس کشش کی نوعیت اور اس کا اظہار مختلف ہوتا ہے۔ صحت مند نفسیاتی اور سماجی تربیت ہمیں بتاتی ہے کہ ہم جنس کے افراد کے ساتھ عزت و احترام کی بنیاد پر تعلق قائم کیا جائے، نہ کہ کسی جنسی جذبے کے طور پر۔

    ہماری مذہبی تعلیمات اور اخلاقی تربیت بھی ہماری جنسی کشش کی سمت کو متعین کرتی ہیں۔ اسلام، مسیحیت، ہندومت اور دیگر مذاہب میں ہم جنسیت کو غیر فطری اور غلط سمجھا گیا ہے۔ مذہبی تعلیمات میں بتایا گیا ہے کہ مرد اور عورت کا رشتہ قدرتی اور فطری ہے، اور اسی میں انسان کی جسمانی اور روحانی سکونت ہے۔جب افراد مذہبی تربیت سے آراستہ ہوتے ہیں، تو ان کے ذہن میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ کسی بھی قسم کی ہم جنسیت کی طرف رغبت غیر فطری ہے اور اس سے بچنا چاہیے۔ یہ تربیت انسان کو اپنی جنسی کشش کو صحیح سمت میں متحرک کرنے میں مدد دیتی ہے اور اس کی زندگی میں سکون و سکونت کا باعث بنتی ہے۔

    ایک اور اہم پہلو جو سیم جینڈر سے جنسی کشش کی طرف رجحان پیدا کر سکتا ہے، وہ بچپن کے زمانے میں ہونے والے نفسیاتی ٹراما (چائلڈ ایج ٹراما) ہیں۔ اگر بچپن میں کسی فرد کو مخالف جینڈر کی طرف سے کوئی منفی تجربہ، تشویش یا جسمانی یا ذہنی اذیت کا سامنا ہوتا ہے، تو اس کا دماغ اس تجربے کو اپنی جنسی کشش کے طور پر پروسیس کر سکتا ہے۔اس کا اثر بعد کی زندگی پر پڑتا ہے، اور فرد سیم جینڈر کی طرف اپنی جنسی کشش محسوس کرنے لگتا ہے۔ اس نفسیاتی مسئلے کو حل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ چائلڈ ایج ٹراما کو درست طریقے سے علاج کیا جائے، تاکہ دماغ کے کرپٹ سگنلز دوبارہ نیچرل پیٹرن پر آ جائیں۔

    ہمیں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہر شخص کا دماغ اور تربیت مختلف ہوتی ہے۔ اگر کسی شخص کو سیم جینڈر کی طرف کشش محسوس ہوتی ہے، تو یہ اس کے ذہنی اور نفسیاتی پس منظر پر منحصر ہوتا ہے۔ یہ ہمیشہ ذہنی بیماری یا گندی سوچ نہیں ہوتی، بلکہ یہ ایک پیچیدہ نفسیاتی اور سماجی مسئلہ ہو سکتا ہے۔ہمیں اپنے ذہنوں میں یہ بات رکھنی چاہیے کہ احترام اور محبت کے جذبات ہر نوع کے رشتہ میں موجود ہوتے ہیں، چاہے وہ مخالف جینڈر ہو یا ہم جنس۔ یہ صرف تربیت اور ماحول پر منحصر ہے کہ ہم اس کشش کو کس طرح سمجھتے ہیں اور اس کا اظہار کس طرح کرتے ہیں۔

    سیم جینڈر سے جنسی کشش ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جسے صرف ذہنی بیماری کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ یہ نفسیاتی، سماجی اور مذہبی عوامل سے متاثر ہو سکتا ہے، اور اس کے حل کے لیے بہتر تربیت، ذہنی سکون اور مثبت ماحول کی ضرورت ہے۔ اگر کسی فرد میں اس کشش کا اظہار ہو رہا ہو، تو اس کو صحیح طریقے سے سمجھنا اور اس کا علاج کرنا ضروری ہے تاکہ وہ قدرتی، فطری اور صحت مند ذہنی حالت کی طرف واپس آ سکے۔آخرکار، ہمارے ذہنوں کو قدرتی اور صحت مند پیٹرن کے ساتھ تربیت دینا ہماری زندگی کو بہتر بنا سکتا ہے اور ہمیں سکون فراہم کر سکتا ہے۔

  • عورت کی ہر ادا خود اک تعویذ بن سکتی ہے،تحریر:مہر بشارت صدیقی

    عورت کی ہر ادا خود اک تعویذ بن سکتی ہے،تحریر:مہر بشارت صدیقی

    ہزاروں سال سے انسانوں نے مختلف طریقوں سے اپنی زندگی کے مسائل حل کرنے کی کوشش کی ہے، اور ان میں ایک بہت بڑی تعداد ان لوگوں کی ہے جو روحانی چیزوں میں سکون اور رہنمائی تلاش کرتے ہیں۔ تعویذ، جن کو ہم عموماً ایک کاغذی یا دھاگے میں لپٹے ہوئے نسخے کی صورت میں دیکھتے ہیں، ان کا مقصد کسی قسم کے روحانی یا جسمانی مسائل سے نجات پانا ہوتا ہے۔ لیکن جب ہم بات کرتے ہیں خاص طور پر عورتوں کے تعویذ لینے کی، تو ایک بہت اہم سوال سامنے آتا ہے: کیا واقعی ہمیں اس طرح کے روحانی نسخوں کی ضرورت ہے، یا پھر ہمارے اندر خود اتنی طاقت اور صلاحیت ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کو بہتر بنا سکیں؟

    یہ جو عورتیں تعویذ لینے آتی ہیں کہ "حضرت! میرے شوہر کے ساتھ کچھ مسئلہ ہے، وہ میری طرف نہیں آتا یا ہماری زندگی میں خوشی نہیں ہے”، مجھے ذاتی طور پر یہ بہت حیران کن لگتا ہے۔ یہ ایک ایسی بیوی کی تصویر ہے جو جوان، تعلیم یافتہ، اور عقل و فہم سے مالا مال ہے، پھر بھی وہ روحانی تعویذوں کی تلاش میں ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسی عورت کے اندر جو خوبیاں اور صلاحیتیں اللہ نے رکھی ہیں، ان کا فائدہ اُٹھا کر اپنے مسائل کا حل کیوں نہ نکالا جائے؟

    یاد رکھیے کہ اللہ تعالیٰ نے عورت کو بے شمار خوبیاں دی ہیں جن میں سب سے بڑی چیز اس کا فطری حسن، محبت کرنے کی صلاحیت، اور سمجھداری ہے۔ ایک نیک و فہمی عورت کی ہر ادا خود ایک تعویذ بن سکتی ہے۔ اللہ نے عورت کے اندر ایسی کشش رکھی ہے کہ وہ اپنی باتوں، انداز، اور طرزِ زندگی سے اپنے شوہر کے دل میں محبت اور تعلق پیدا کر سکتی ہے۔ مرد کی دل کی کشش کا راز بھی عورت کی ہر چھوٹی سے چھوٹی بات یا حرکت میں ہوتا ہے۔ لہٰذا، اگر کوئی عورت اپنے اندر موجود نرگسیت، محبت، اور سمجھداری کا صحیح استعمال کرے، تو وہ اپنے شوہر کو اپنی طرف مائل کر سکتی ہے۔عورت کو ان تعویذوں کی ضرورت نہیں ہے جو کاغذ پر لکھے ہوتے ہیں، بلکہ اسے اپنی باتوں، انداز اور محبت میں چھپی ہوئی طاقت کا استعمال کرنا چاہیے۔ مرد کی دل کی کشش، عورت کی باتوں میں چھپی ہوئی محبت، اور اس کی مسکراہٹ میں بسی ہوئی راحت ہی وہ تعویذ ہیں جن کی واقعی ضرورت ہوتی ہے۔

    جب شوہر تھکا ہارا گھر آتا ہے، تو گھر کا ماحول اس کے لیے سکون اور راحت کا ذریعہ بننا چاہیے۔ لیکن اگر بیوی بھی تھکی ہوئی ہو، تو ایسا ماحول قائم نہیں ہو پاتا۔ جب شوہر کام سے واپس آتا ہے، تو بیوی کا اس کا استقبال محبت سے، خوش اخلاقی سے، اور ہنستے ہوئے چہرے کے ساتھ کرنا، یہ سب ایسی چیزیں ہیں جو مرد کے دل کو سکون دیتی ہیں۔بیوی کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو فریش (تروتازہ) رکھے، اور شوہر کے سامنے محبت بھری باتیں کرے۔ اگر وہ اپنی باتوں اور انداز سے شوہر کو خوش رکھے گی، تو پھر دیکھیں کہ گھر میں کیسی خوشیاں آتی ہیں۔ مرد جب اپنی بیوی سے محبت و پیار دیکھے گا، تو وہ خود بھی ان تمام تر پریشانیوں سے آزاد ہو جائے گا جن کا وہ دن بھر سامنا کرتا ہے۔لہذا، عورت کو چاہیے کہ وہ اپنی قدرتی صلاحیتوں اور حسن کو سمجھے اور ان کا استعمال کرے۔ اللہ نے اس کے اندر اتنی طاقت رکھی ہے کہ وہ اپنے شوہر کو خوش رکھ سکتی ہے، اور اپنے گھر میں سکون اور محبت کا ماحول پیدا کر سکتی ہے۔ تعویذ لینے کی بجائے، وہ اپنے طرزِ زندگی اور رویے میں تبدیلی لائے، تاکہ وہ اپنے شوہر کے دل میں محبت اور تعلق پیدا کر سکے۔

    یاد رکھیں کہ ایک نیک و فہمی اور محبت کرنے والی بیوی کے لیے اس کی ہر حرکت، ہر بات اور ہر انداز ایک تعویذ کی مانند ہوتا ہے۔ عورت کے اندر ایسی بے پناہ طاقت ہے کہ وہ اپنے شوہر کے دل میں محبت اور سکون کا خزانہ بنا سکتی ہے۔ اس کا تعلق روحانیت اور محبت سے ہے، نہ کہ کسی کاغذی تعویذ سے۔

    baaghi blogs