Baaghi TV

Category: بلاگ

  • بھارت میں ہندوتوا کی سیاست، ہندو دھرم پر نظریاتی حملے

    بھارت میں ہندوتوا کی سیاست، ہندو دھرم پر نظریاتی حملے

    بھارت میں ہندوتوا کی سیاست، ہندو دھرم پر نظریاتی حملے
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    ہندوتوا کے نظریے کو 1920 کی دہائی میں ساورکر نے متعارف کرایا تھا اور اس کے بعد سے یہ بھارت کی سیاست میں ایک اہم قوت بن چکا ہے۔ بھارت میں ہندوتوا کا نظریہ ایک سیاسی حکمت عملی کے طور پر سامنے آیا ہے جس کا ہندو دھرم کے اصولوں سے کوئی تعلق نہیں۔ ہندوتوا کو اکثر ہندو مت سے جوڑ دیا جاتا ہے حالانکہ یہ دونوں ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہیں۔ ہندو دھرم جو دنیا کے قدیم ترین مذاہب میں شمار ہوتا ہے، تنوع، شمولیت اور عدم تشدد پر مبنی ہے جبکہ ہندوتوا ایک قوم پرستانہ سیاسی نظریہ ہے جس کا مقصد ہندو مت کی مخصوص تشریح کو فروغ دینا اور بھارت کو ہندو راشٹر بنانے کا خواب دیکھنا ہے۔

    ہندو مت کے بنیادی اصول محبت، امن، ہم آہنگی اور ہر انسان کی روحانی آزادی پر مبنی ہیں۔ اس میں مختلف آرا اور روایات کے لیے کھلی گنجائش ہے، اور اہنسا (عدم تشدد)کو زندگی کے بنیادی اصول کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اس کے برعکس ہندوتوا کی سیاست نے ہندو دھرم کو تعصب، نفرت اور عدم برداشت کی راہ پر ڈال دیا ہے۔ ہندوتوا کے پیروکار مذہب کو ایک سخت نظریاتی اصول کے تحت دیکھتے ہیں جو بھارت کی اقلیتوں خصوصا مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف شدید تعصب پر مبنی ہے۔ہندوتوا کے زیر اثر، تاریخی اور مذہبی کتب کی تشریحات کو محدود کر کے مخصوص سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد بھارت میں ایک یکساں ہندو شناخت بنانا ہے، جس سے اقلیتوں اور مختلف روایات کو حاشیے پر دھکیلنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ہندو مت کے تنوع اور برداشت کو پس پشت ڈال کر، ہندوتوا کے نظریے نے معاشرتی تفرقہ اور مذہبی کشیدگی کو ہوا دی ہے۔

    بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی)کی حکومت اور خاص طور پر نریندر مودی کے دور اقتدار میں ہندوتوا کے نظریے کو زیادہ شدت کے ساتھ فروغ دیا گیا۔ اس کی مثالیں گجرات کے فسادات، ایودھیا میں بابری مسجد کے انہدام اور رام مندر کی تعمیر کے واقعات ہیں۔ مودی حکومت نے ہندوتوا کی سیاست کو عوامی حمایت کے لیے استعمال کیا، جس سے بھارت میں اقلیتوں کے خلاف تشدد اور نفرت انگیز تقاریر میں اضافہ ہوا۔2023 کی ایک رپورٹ کے مطابق مسلمانوں کے خلاف نفرت پر مبنی تقاریر میں 62 فیصد اضافہ ہوا۔ ان واقعات میں نہ صرف مسلمانوں کی جان و مال کو نقصان پہنچایا گیا بلکہ انہیں سیاسی مفادات کے لیے استعمال بھی کیا گیا۔ سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر ہندوتوا کی سیاست نے عام شہریوں کے ذہنوں پر اثر ڈالا جس کے نتیجے میں بھارت کی سیکولر بنیادیں کمزور ہوئیں۔

    ہندوتوا کے نظریے نے بھارت میں جمہوری اقدار اور سماجی ہم آہنگی کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ مذہب کو سیاست کا اکھاڑا بنا کر حکومت نے اقلیتوں کے ساتھ منصفانہ رویہ ترک کر دیا ہے۔ گا ئورکشا، لو جہاد، اور تبدیلی مذہب کے نام پر تشدد کے واقعات روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ریاستی ادارے اور عدلیہ بھی ان واقعات میں اکثر خاموش تماشائی بنے ہوئے نظر آتے ہیں۔

    بھارت میں ہندو انتہاپسندی کے بڑھتے رجحانات نے مسلمانوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ مسلمانوں کے کاروبار، جائیدادیں اور عبادت گاہیں مسلسل نشانہ بن رہی ہیں۔ بابری مسجد کے انہدام کے بعد سے مساجد کو مندر میں تبدیل کرنے کی ایک مخصوص مہم نے مسلمانوں کو مزید حاشیے پر دھکیل دیا ہے۔مودی حکومت کے دور میں گجرات فسادات، دہلی کے حالیہ واقعات اور متعدد دیگر واقعات بھارت میں مسلمانوں پر ظلم و ستم کی مثالیں ہیں۔ اقوام متحدہ اور عالمی برادری کی تشویش کے باوجود، مودی حکومت کے اقدامات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ یہ رویہ بھارت کی جمہوریت کو جھوٹا ثابت کر رہا ہے اور اقلیتوں کی زندگیوں کو مزید مشکلات کا شکار کر رہا ہے۔

    بھارت میں ہندوتوا کی سیاست اور اس کے اثرات کا مقابلہ کرنے کے لیے تعلیم، تنقیدی مکالمے اور سیکولر قدروں کی ترویج ضروری ہے۔ ہندو دھرم کے قدیم فلسفے کو اجاگر کرنا، جس میں تنوع اور برداشت کی قدریں شامل ہیں، ہندوتوا کے نظریے کی نفرت انگیزی سے نجات کا راستہ فراہم کر سکتا ہے۔ عالمی برادری کو بھی اس معاملے پر سخت نوٹس لیتے ہوئے بھارت کے ساتھ مثر سفارتی اور اقتصادی دبا بڑھانے کی ضرورت ہے۔

  • پاکستان میں جاری عدم استحکام، سیاست اور عالمی تناظر.تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان میں جاری عدم استحکام، سیاست اور عالمی تناظر.تجزیہ:شہزاد قریشی

    ملک میں جاری عدم استحکام ،سیاسی جماعتوں کے آپس میں تنازعات ،ان تنازعات سے پاکستان بطور ریاست اور بے بس لاچار عوام ۔جمہوریت سیاسی رہنمائوں کو پکار رہی ہے اب اس میں فتوے لگانے والوں نے بھی شمولیت اختیار کرلی ہے۔ فتویٰ تو ملاوٹ شدہ خوراک ادویات فروخت کرنے والوں پر لگانا چاہئے۔ فتویٰ صفائی نصف ایمان ہے ،جو اپنی دکانوں گلی محلوں کی صفائی نہیں کرتے جس کی وجہ سے آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ مخلوق خدا کی زندگیوں سے کھیلتے ہیں ان کے خلاف فتوے جاری کرنے کی ضرورت ہے۔ مگر افسوس علمائے کرام اور مشائخ ایک حدیث پر عمل کروانے سےقاصر ہیں ’’جس نے ملاوٹ کی ، وہ ہم میں سے نہیں۔‘‘ دین اسلام کا ذمہ اگر اللہ تعالیٰ نے نہ لیا ہوتا تو آج کا مسلمان اسے کب کا گنوا چکا ہوتا ۔مسلم امہ کا ہدف دین اسلام کی سربلندی نہیں ،اپنی ذاتی نفسیات خواہشات ذاتی مفادات کے گرد گھومتا ہے مسلم امہ کا ہر کام مذمت تک محدود ہے۔

    بین الاقوامی سیاستدان نئے امریکی صدر ٹرمپ کو اور ان کے دنیا کے ساتھ معاملات کو دیکھ رہے ہیں وہ نئے امریکی صدر بل کلنٹن بھی نہیں بائیڈن بھی نہیں ٹرمپ ہنری کسنجر کی طرح دانشور یا جمی کارٹر کی طرح شائستہ نہیں ہو سکتے لیکن کاروبار، سرمایہ کاری کے پس منظر سے آنے والے امریکہ جیسے سرمایہ دار ملک میں ان کے فائدے میں ہے، نئے امریکی صدر ٹرمپ تجزیہ کاروں کی زبان استعمال نہیں کرتا اور تجزیہ کار سیاستدانوں کی شائستگی یا چالبازی کے لئے نہیں جانا جاتا، ٹرمپ نے اپنے سابقہ دور صدارت میں دنیا بھر کے مسلمان ممالک کی حمایت حاصل کرنے کے لئے سعودی عرب کا انتخاب کیا تھا ٹرمپ کو اس وقت امریکی سیاستدانوں کی طرف سے تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا ایک بار پھر امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات مستحکم ہوں گے ٹرمپ دعویٰ کرتے ہیں کہ روس یوکرین جنگ، غزہ، لبنان کی جنگ کو ختم کروا سکتے ہیں تو امید کی جا سکتی ہے کہ ٹرمپ مشرق وسطیٰ کو نئی شکل دیں گے معاہدوں اور پابندیوں کے ذریعے دیکھیں گے جنگوں سے نہیں دیکھیں گے۔ مشرق وسطیٰ میں امن کی صورت میں پاکستان کا کردار بہت اہم ہوگا مشرق وسطیٰ میں امن قائم کرنے کے لئے سعودی عرب سمیت دیگر عرب ممالک میں پاکستان کا کردار بہت اہم ہوگا۔ مشرق وسطیٰ کو نئی تبدیلیوں کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ یاد رہےموجودہ امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے پہلے ادوار میں دنیا میں بغیر جنگ کے حکومت کی ہے

  • وی پی این کا استعمال،مگر ذرا احتیاط سے

    وی پی این کا استعمال،مگر ذرا احتیاط سے

    وی پی این ، ایک ایسا ٹول ہے جو انٹرنیٹ پر پرائیویسی اور سیکیورٹی کو بڑھانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ انٹرنیٹ کنکشن کو انکرپٹ کرتا ہے اور اصل آئی پی ایڈریس کو چھپاتا ہے تاکہ آن لائن سرگرمیوں کا پتہ نہ چل سکے۔ ایک رپورٹ کے مطابق اب دہشت گردوں نے بھی وی پی این کا استعمال کرنا شروع کر دیا ہے تو وہیں بھارت میں ایئر لائن کو دھمکیاں دینے والے بھی وی پی این کا ہی استعمال کر رہے ہیں تا کہ ان ملزمان تک نہ پہنچا جا سکے،

    پاکستان میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پابندی لگی ،کچھ ماہ سے ایکس بغیر وی پی این کے نہیں چل رہی، اب وی پی این کے حوالہ سے اسلامی نظریاتی کونسل نے بھی اعلامیہ جاری کیا ہے اور کہا ہے کہ وی پی این کا استعمال غیر شرعی ہے، آنے والے دنوں میں غیر قانونی وی پی این بند ہو جائیں گے اور یوں ایکس تک رسائی ممکن نہیں ہو گی،

    پاکستان میں غیر اخلاقی، فحش ویب سائٹس پی ٹی اے نے بلاک کر رکھی ہیں، بہت سے افراد وی پی این کا استعمال فحش مواد تک رسائی کے لیے بھی کرتے ہیں۔ جب ایک وی پی این کے ذریعے کنکشن کرتے ہیں تو ویب سائٹس اصل مقام اور شناخت نہیں جان پاتیں، اور بغیر کسی رکاوٹ کے فحش مواد دیکھا جاتا ہے، وزارت مذہبی امور نے بھی اس ضمن میں پی ٹی اے کو خط لکھا ہے جس میں کہا ہے کہ فحش مواد تک پاکستانیوں کی رسائی روکی جائے،

    وی پی این ایک انکرپٹڈ کنکشن فراہم کرتا ہے، لیکن اگر وی پی این کا فراہم کنندہ قابل اعتبار نہیں ہے یا اس کی سروس میں کمی ہے، تو ڈیٹا کی حفاظت میں کمی آ سکتی ہے۔ کچھ وی پی این سروسز ڈیٹا کو لاگ کر سکتی ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ آن لائن سرگرمیاں ٹریک کی جا سکتی ہیں، خصوصاً جب فحش مواد جیسے حساس مواد تک رسائی حاصل کر رہے ہیں۔غیر محفوظ وی پی این سروسز کے ذریعے انٹرنیٹ پر گھومنامالویئر اور وائرس کے خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ بعض اوقات وی پی این فراہم کنندہ ڈیوائس پر مالویئر انسٹال کر سکتا ہے یا غیر محفوظ سرور کے ذریعے ڈیٹا کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔اگرچہ وی پی این پرائیویسی کو بڑھاتا ہے، لیکن فحش مواد تک رسائی یا دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے اس کا استعمال قانونی مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ کئی ممالک میں فحش مواد کی پابندیاں سخت ہیں، اور وی پی این کا استعمال ایسی مواد کو دیکھنے کے لیے قانون کے تحت مشکلات میں ڈال سکتا ہے۔

    وی پی این کا استعمال فحش مواد تک رسائی کے لیے ایک اور مسئلہ پیدا کرتا ہے، اخلاقی اور معاشرتی اثرات، فحش مواد کو آن لائن دیکھنا کچھ افراد کے لیے تفریح کا ایک ذریعہ ہو سکتا ہے، لیکن اس کے منفی اثرات بھی ہو سکتے ہیں۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ فحش مواد کی زیادہ مقدار افراد کے ذہنی اور جسمانی صحت پر منفی اثر ڈال سکتی ہے، اور یہ بھی ایک نشے کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔وی پی این کے ذریعے فحش مواد تک رسائی اس قسم کے مواد کو دیکھنے کی آزادی دیتی ہے، لیکن ذہنی اور جسمانی صحت پر اس کے اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔فحش مواد کا زیادہ استعمال نفسیاتی مسائل، جیسے کہ جنسی تشویشات، تعلقات میں مشکلات، اور خود اعتمادی میں کمی کا باعث بن سکتا ہے۔ فحش مواد کا بار بار دیکھنا انٹرنیٹ کی لت میں تبدیل ہو سکتا ہے، جو روزمرہ زندگی اور کام کرنے کی صلاحیت کو متاثر کر سکتا ہے۔

    اگر وی پی این کا استعمال کرتے ہیں، تو اس بات کو یقینی بنائیں کہ منتخب کردہ وی پی این سروس کا فراہم کنندہ قابل اعتماد ہو اور اس کی سیکیورٹی پالیسیز مضبوط ہوں۔ یہ ضروری ہے کہ انٹرنیٹ کی سرگرمیوں کو محفوظ رکھیں، وی پی این کے استعمال سے پہلے ان تمام خطرات اور اخلاقی سوالات پر غور کرنا ضروری ہے۔اگر انٹرنیٹ کو محفوظ طریقے سے استعمال کرنا چاہتے ہیں، تو وی پی این کا استعمال ضروری ہو سکتا ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ اس کے منفی اثرات سے بچنے کے لیے احتیاط بھی کرنی چاہیے۔

  • موسمیاتی تغیر اور ہماری زراعت.تحریر:عقیل ملک

    موسمیاتی تغیر اور ہماری زراعت.تحریر:عقیل ملک

    ماحولیاتی تبدیلی کے زراعت خصوصاً گندم کی پیداوار پر اثرات کے حوالے سے کئی عالمی اداروں اور تحقیقاتی رپورٹس نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ کا ادارہ برائے خوراک و زراعت (FAO) اور انٹرنیشنل فوڈ پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (IFPRI) کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ موسمیاتی تبدیلیوں کا زرعی پیداوار پر نہایت منفی اثر پڑ رہا ہے۔ FAO کی 2022 کی ایک رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر گندم کی پیداوار میں کمی کی وجہ موسمیاتی تبدیلیاں اور ان سے وابستہ غیر متوقع موسمی حالات ہیں۔ اسی طرح ورلڈ بینک کی رپورٹ "کلائمیٹ چینج اینڈ ایگری کلچر” میں بھی یہ بات سامنے آئی کہ اگر ان موسمی تبدیلیوں کو کنٹرول نہ کیا گیا تو آنے والے سالوں میں گندم اور دیگر زرعی پیداوار میں 20 سے 30 فیصد کمی واقع ہو سکتی ہے۔ اس کمی کا سب سے زیادہ اثر پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک پر ہوگا جہاں زراعت مقامی معیشت اور غذائی سکیورٹی کا بنیادی ستون ہے۔

    انٹرگورنمنٹل پینل آن کلمیٹ چینج (IPCC) کی 2019 کی ایک رپورٹ میں یہ کہا گیا تھا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں جنوبی ایشیا جیسے علاقوں میں گندم کی پیداوار میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق درجہ حرارت میں ہر ایک ڈگری سیلسیس اضافے سے گندم کی پیداوار میں تقریباً 6 فیصد کمی کا امکان ہوتا ہے ۔ اس سال پاکستان میں سموگ اپنے وقت سے پہلے کئی علاقوں کا متاثر کر رہی ہے اور اس کے اثرات بھی سامنے آنا شروع ہوچکے ہیں۔ وقت پر بارشیں نہ ہونے کے سبب پانی کی کمی آج کے دور کا ایک انتہائی سنگین مسئلہ بنتا جارہا ہے اور یہ مسئلہ خاص طور پر گندم پیدا کرنے والے علاقوں میں شدت اختیار کر رہا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی، آبادی میں اضافے اور پانی کے غیر مؤثر استعمال کے نتیجے میں زیر زمین پانی کی سطح مسلسل نیچے جا رہی ہے جس سے آبپاشی کے وسائل سکڑتے جا رہے ہیں۔ پانی کی قلت کے سبب پاکستان جیسے زرعی ملک میں فصل کی پیداواری صلاحیت میں کمی واقع ہو رہی ہے۔

    اقوام متحدہ کا ادارہ برائے خوراک و زراعت (FAO) اور ورلڈ بینک کی رپورٹس میں زور دیا گیا ہے کہ پانی کے مؤثر استعمال کے لیے جدید آبپاشی کی تکنیکیں اپنانا وقت کی ضرورت ہے۔ لیکن ابھی تک تو پاکستان میں ڈرپ ایریگیشن اور اسپرنکلر سسٹم جیسی تکنیکیں کو مکمل طور پر پاکستان میں متعارف ہی نہیں کرایا جاسکا۔ پاکستان نے 2017 میں یہ سسٹم 26000 ایکڑ پر انسٹال کیا تھا جس کی وجہ سے پیداواری صلاحیت میں خاطر خواہ اضافہ دیکھا گیا تھا۔ اس کے مقابلے میں ساوتھ افریقہ اور چائنہ نے اس سسٹم کے ذریعے پیداواری صلاحیت میں خاطر خواہ اضافہ کیا ہے۔ FAO کے مطابق ڈرپ ایریگیشن سسٹم میں پانی کی بچت روایتی آبپاشی کے مقابلے میں تقریباً 30 سے 50 فیصد زیادہ ہوتی ہے جس سے نہ صرف پانی کی بچت ہوتی ہے بلکہ پیداوار میں بھی بہتری آتی ہے۔ انٹرنیشنل واٹر مینیجمنٹ انسٹی ٹیوٹ (IWMI) نے بھی اپنی تحقیق میں نشاندہی کی کہ اگر پانی کی بچت کے لئے جدید طریقے استعمال نہ کیے گئے تو گندم سمیت دیگر زرعی پیداوار پر خطرناک اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ پانی کی بچت کے لیے مؤثر حکمت عملی، جیسے پانی کی دوبارہ کارآمدی اور زمین کی نمی کو برقرار رکھنے کے طریقے اپنانے سے نہ صرف پیداوار میں استحکام لایا جا سکتا ہے بلکہ پانی کی قلت کے مسئلے کو بھی حل کیا جا سکتا ہے۔

    ایک اور مسئلے نےبھی کاشت کاروں کو پریشان کر رکھا ہے کہ افراطِ زر اور شرح سود میں اضافے کے باعث پاکستان میں بیج، کھاد اور کیڑے مار دواؤں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے جس سے چھوٹے اور متوسط درجے کے کسانوں کو شدید مالی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ زرعی اخراجات میںیہ اضافے نے نہ صرف پیداوار کی لاگت کو بڑھا رہا ہے بلکہ پیداوار کے معیار پر بھی منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ محدود مالی وسائل رکھنے والے چھوٹے کسانوں کے لئے یہ اخراجات برداشت کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں پیداوار میں کمی کا سامنا بھی کرنا پڑسکتا ہے اور گندم کی طلب کو پورا کرنے کے لئے گزشتہ برسوں کی نسبت پاکستان کے زر مبادلہ کا بیشتر حصہ دوسرے ممالک سے گندم کی خریداری پر خرچ کرنا پڑے گا۔

    FAO کی حالیہ رپورٹ کے مطابق دنیا کے ترقی پذیر ممالک میں 70 فیصد کسان چھوٹے کسانوں کی کٹیگری میں آتے ہیں جنہیں جدید زرعی وسائل تک رسائی حاصل نہیں۔ پاکستان میں زراعت، خاص طور پر گندم کی پیداوار، حکومتی پالیسیوں کی کمزوریوں کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہے۔ موسمیاتی تبدیلی، پانی کی کمی اور زرعی اخراجات میں اضافے جیسے مسائل کے باوجود حکومت کی طرف سے مؤثر مدد اور مالی امداد فراہم نہیں کی جا رہی جس سے کسانوں کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (PIDE) اور ورلڈ بینک کی رپورٹس کے مطابق حکومتی پالیسیوں میں تسلسل اور سبسڈی کی کمی نے کسانوں کی پیداواری صلاحیت کو محدود کردیا ہے۔ کسانوں کو مالی مدد سبسڈی اور جدید زرعی سہولیات تک رسائی فراہم کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ وہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا بہتر مقابلہ کر سکیں اور ملک میں غذائی خود کفالت کو یقینی بنا سکیں۔پانی کے مسئلے سے نمٹنے کے لئےحکومت نے سولر انرجی پر ٹیوب ویل چلانے کے لیے ایک پروگرام شروع کیا جو ایک اچھا اقدام ہے مگر اس پروگرام کی حقیقت یہ ہے کہ اس کے فوائد زیادہ تر بڑے کسانوں تک محدود ہیں۔ یہ کسان پہلے سے مالی طور پر مضبوط ہیں اور ٹیوب ویل کے اخراجات برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس کے برعکس چھوٹے کسان جو زراعت کے شعبے کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اس پروگرام سے مکمل طور پر محروم ہیں۔ حکومت کی طرف سے اس پروگرام میں چھوٹے کسانوں کو نظر انداز کرنا ایک امتیازی سلوک ہے جو اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ زرعی ترقی کے لیے پالیسیاں صرف بڑے زرعی سرمایہ داروں کے مفاد میں بنائی جا رہی ہیں۔ چھوٹے کسانوں کے لیے اس پروگرام تک رسائی دکھائی نہیں دے رہی۔ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اگر چھوٹے کسانوں کو نظر انداز کیا جائے گا تو زرعی ترقی کا خواب کبھی حقیقت نہیں بنے گا

  • جب کیمبل پور جل رہا تھا ،تبصرہ نگار ۔ڈاکٹر شجاع اختر اعوان

    جب کیمبل پور جل رہا تھا ،تبصرہ نگار ۔ڈاکٹر شجاع اختر اعوان

    تقسیم ہند سے پہلے جن شہروں کو محبت کے ساتھ بسایا گیا ان میں لائل پور، جیکب آباد، ایبٹ آباد، منٹگمری اور کیمبل پور جیسے شہر خوبصورت ترین شہروں میں شمار کیے جاتے ہیں
    1947 میں جب بٹوارہ ہوا تب پورا پنجاب جل اٹھا تھا یہ بات بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ کیمبل پور کی تاریخ بھی خاک اور خون سے بھری ہوئی ہے لیکن اس تاریخ پر وقت کی دھول کچھ اس طرح بیٹھ چکی تھی کہ عام آدمی کی رسائی اس خونچکاں منظر تک نہیں پہنچ سکتی تھی حال ہی میں کیمبل پور اٹک سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان محقق جناب طاہر اسیر نے اس تاریخ سے پردہ اٹھایا اور ہمارے سامنے ایک کتاب بہ عنوان جب کیمبل پور جل رہا تھا، سامنے لے آئے، یہ کتاب اپنے موضوع کے اعتبار سے اتنی منفرد اور یکتا ہے کہ اس سے پہلے تقسیم ہند پر اس خطہ خاک پر کوئی دستاویز سامنے نہیں آئی فاضل محقق نے اس دستاویز کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے .

    پہلا حصہ کیمبل پور شہر کو بسائے جانے اور اس کی خوبصوتیوں سے متعلق ہے، محقق نے بڑے احسن طریقے سے قدیم کیمبل پور شہر کے روشن خدوخال نمایاں کیے ہیں 1911 میں ہونے والی مردم شماری سے لے کر 14 ۔اگست 1947 کے بٹوارے تک کیمبل پور کے حسن میں اضافہ کرنے والے مندر چوک، منگ لدھا چوک، گیڈر چوک، کراچی ہوٹل، تولہ رام پیلس اور حویلی جگن کشور کا جہاں ذکر کیا گیا ہے وہیں پرانے شراب خانے سونامینا، قدیم درختوں، گورنمنٹ کالج کیمبل پور کے پروفیسروں، سردار پریم سنگھ، ایشرسنگھ، ایش کمار پر بھی قلم اٹھایا گیا ہے، پرانے احوال و آثار میں ہندووں کا سکول، این پی ٹی بس سٹینڈ، بھولے بسرے کوچوان، تانگوں کے مستری، کیمبل پور جنکشن، بمبی ایکسپریس اور اندرون شہر مزارات کو نہایت تحقیق کے ساتھ فاضل محقق نے صفحہ قرطاس پر بکھیر دیا ہے، اسی تاریخی دستاویز میں ہمیں بتایا گیا ہے کہ محبتوں بھری اس بستی میں تقسیم سے پہلے کتنی محبت، امن اور بھائی چارے کی فضا ہوا کرتی تھی، دیوالی، بسنت، ہولی اور دسہرا جیسے تہوار کس قدر محبتوں سے منائے جاتے تھے ، شہر کے زندہ کرداروں میں جیتا رام، بی آر سہگل، جونا سنگھ، پنڈت بھوپال چند بلبیر سنگھ اور لالا فقیر چند ایڈوکیٹ اس شہر کی رونق تھے آج ہمیں آریا سماج مندر، سیتا رام مندر، گردوارہ ڈی بلاک، گردوارہ گوبند صاحب اور وہ مرکزی گردوارہ دکھائی نہیں دیتا جو تقسیم ہند سے پہلے موجود تھا

    مختصر یہ کہ پہلا باب اس شہر کے حسن و جمال کو بیان کرتا ہے فاضل محقق نے دوسرے اور تیسرے باب میں ہندو مسلم فسادات کی لرزہ خیز داستان بیان کی ہے، ان ابواب میں لکھا گیا ہے کہ کتنی ہندو اور سکھ لڑکیوں کا اغوا ہوا، کتنی ہی بیٹیاں قتل ہو گئیں اور کیسے کیسے ہنستے بستے گھر اجڑ گئے، کس طرح محبتوں بھری بستی میں نفرت کی دیواریں کھڑی ہو گئی تھیں اور کون سوچ سکتا تھا کہ محبتیں نفرت میں بدل جائیں گی، مندروں پر حملے ہوں گے، کیمبل پور کے کنویں لاشوں سے بھر جائیں گے، یہی سچ ہے اور یہی صداقتیں ہمیں اسی کتاب میں دکھائی دیتی ہیں

    جب بٹوارہ ہو چکا تو لوگوں نے کس طرح املاک پر قبضے کیے جھوٹے فرضی کلیم داخل کروائے گئے قیمتی جائیدادیں رشوت کے ذریعہ ہتھیا لی گئیں، فقیر امیر ہو گئے اور اجڑ کے آنے والے نواب اپنی قسمت کو پیٹتے ہوئے تہی دامن رہ گئے

    اب وقت آ گیا ہے کہ ہر صاحب شعور کو اپنے ماضی کی خوبصورتی اور بدصورتی کو سامنے رکھنا ہوگا اور کھلے دل کے ساتھ حقائق تسلیم کرنا پڑیں گے میں نے اس کتاب کو ہر حوالے سے منفرد اور مستند پایا ہے ایک قیامت تھی جو اس شہر پہ گزر گئی تھی بقول احمد علی ثاقب بٹوارہ محبت کا ہو یا نفرت کا دونوں صورتوں میں قیامت خیز ہوتا ہے یہ کالم لکھتے ہوئے مجھے استاد دامن کے دو شعر یاد آ رہے ہیں

    لالی اکھاں دی صاف پئی دسدی اے
    روئے تُسی وی او روئے اسی وی آں
    انہاں آزادیاں ہتھوں برباد ہونا
    ہوئے تسی وی او ہوئے اسی وی آں

  • رشتہ کوئی بھی ہو اہم ہوتا ہے ،تحریر:شمائل عبداللہ

    رشتہ کوئی بھی ہو اہم ہوتا ہے ،تحریر:شمائل عبداللہ

    اپنا مختصر سا تعارف کروا دوں کہ میں بھی ایک مرد ہوں کوئی خواجہ سرا نہیں جو یہ باتیں لکھ رہا ہوں تلخ لگ سکتی ہیں مگر حقیقت ہیں۔میں نے کہیں پڑھا تھا "”اگر آپ کسی عورت کو اکیلا دیکھ کر بھی ہوس سے پاک ہیں پھر یا تو آپ فرشتے ہیں یا پھر خواجہ سرا”
    اس بات کا مطلب کیا ہے؟
    کیا مرد اور عورت صرف میاں بیوی ہیں؟
    کیا عورت سے ہمارا اور کوئی رشتہ نہیں؟
    پھر ماں بہن بیٹی یہ سب کیا ہیں؟
    اگر اتنی ہی ہوس چڑھی ہے اگر نہیں ضبط ہو رہا تو یہ آپشن آپ کے پاس موجود ہیں۔
    ان ناموں سے بھی غیرت کا کیا فائدہ کہ ان رشتوں کا بھی پاس کہاں رکھا گیا معاشرے میں بہت کچھ غلیظ ہو رہا ہے جو بیان سے باہر ہے۔
    افسوس کہ آج ہمیں محض حوروں کی ہوس ہے جس کی وجہ سے ہم تھوڑے بہت اچھے ہیں لیکن خدا نیتوں کو جانتا اس لئے یاد رکھو کہ:-
    ” حوروں کی ہوس رکھنے والوں کو حورے ملین گے فرشتوں سے ”
    ہم اکثر منہ بولے رشتوں کی مخالفت اسی وجہ سے کرتے ہیں۔ تو سوچئے ہم سگے رشتوں کے ساتھ کیا کر رہے ہیں؟
    کہیں نانا دوتی کیساتھ لگا ہے کہیں باپ بیٹی کے ساتھ۔
    علامہ اقبال کا شعر یاد آتا ہے کہ:-
    "یہ کوئی نہیں کہتا کہ میں خود ہوں خراب
    ہر کوئی کہہ رہا ہے زمانہ خراب ہے”
    اپنی آنکھ کا شہتیر نظر انداز کرکے ہم دوسرے کی آنکھ سے تنکا نکالنا بخوبی جانتے ہیں. یاد رکھو کہ گناہ کی سوچ ہی گناہ کرنے کے مترادف ہے گناہ کر گزرنا ضروری نہیں۔
    پھر علی زریون بھی کہتے ہیں کہ:-
    ” ازل سے لیکر اب تک عورت کو
    سوا جسم کے کیا سمجھا گیا ہے ”
    ویسے حوس کا نشانہ تو خیر سے خواجہ سرا بھی ہیں بلکہ جانور پرندے بچے ہر شے ہی کئی لوگ تو اکیلے میں بھی ۔۔۔۔ تو کیا ہر چیز پردہ کرے؟ بات کو سمجھئے گا تحریر میں پردے کی مخالفت نہیں کی گئی”
    پھر مخالفت ہے لڑکی لڑکے کی دوستی کی یعنی خود کو ٹھیک نہیں کرنا مخالفت کرنی ہے۔
    پھر یوں کرو کہ سب سے بول چال بند کردو کیونکہ” ہم جنس پرستی ” بھی عام ہے۔
    میں فیشن کے خلاف نہیں ہوں فیشن نیا انداز ہے لیکن ” ہم نے بجائے اچھی چیزوں کو فیشن بنانے کے بدی کو فیشن بنا رکھا ہے اور جو روکے وہ پرانے خیالات کا ہے”
    ” کچھ اس وجہ سے بھی ہے بدی عروج پر
    خدا کی نظر سے کسی نے دیکھا نہیں عورت کو”
    ایک جگہ لکھا تھا۔
    مرد عورت کے بیچ تیسرا شیطان ہوتا ہے کیوں؟
    کیا آپ کبھی اپنی بہنوں کیساتھ نہیں بیٹھے؟
    اور اگر ایسا ہے بھی تو ہمیں اسے حاوی نہیں کرنا مقابلہ کرنا ہے تاکہ ہم سے بھاگ جائے”
    بھلے شاہ کہتے ہیں:-
    ۔۔۔۔پہلاں من اپنے نوں پڑھ
    فر مندر مسجد وڈ
    جدوں نفس جاوے ترا مر
    فر نال شیطاناں لڑ۔۔۔۔
    یعنی سب سے بڑا شیطان ہمارے اندر ہے ہمارا ” نفس ”
    ہم کہتے فلاں لڑکی کا لباس دیکھ کر ہم نے ایسا کیا بھئی مت بھولیں آپ اشرف المخلوقات ہیں۔
    اگر سامنے والا غلط ہے تو اس کا ردعمل کرکے آپ نے خود کو حیوان بنا لیا "
    کیونکہ فوری ردعمل انہی کا کام ہے انسان کے پاس تو قوت برداشت ہے۔
    خدا نے آدم کو محافظ حوا کو مددگار بنایا ۔۔۔
    لیکن افسوس دونوں بھول گئے۔
    دوستی کے حوالہ سے بھی کئی شعراء کہتے ہیں۔
    حوس و حوانیت سے اٹھ کر دیکھو
    لڑکیوں سے اچھا دوست مل جائے تو کہنا
    پھر
    نہ دیکھ حسن کو حوس و حوانیت کی نگاہوں سے
    عورت اگر دوست نہیں تو پھر کچھ بھی نہیں
    ایک اور لائن تھی کہ:-
    "وہ مری دوست ہے میں اسے اچھا لگتا ہوں”
    یہ ہے دوستی بس اچھا لگنا بالکل ایسے جیسے بہن بھائی اور ہم نے اسے محبت سے جوڑ دیا جو بالکل الگ بات ہے۔
    ایک آخری بات یہ بھی کرنا چاہوں گا کہ ہمیں گلہ ہے کہ زمانہ محبت کو نہیں سمجھتا تو کیا ہم خود سمجھتے ہیں محبت کو؟
    …زمانہ سمجھے محبت کو یہ مسئلہ بعد کا ہے لیکن!!!
    پہلے سمجھیں تو محبت کرنے والے محبت کو…
    ہماری جہالت کہیں کہیں کہتی ہے کہ منہ بولے بہن بھائی ہو سکتے ہیں مگر لڑکی لڑکے کی دوستی نہیں یہ سب ہمارے ہی ذہن کے خرافات ہیں۔
    رشتہ کوئی بھی ہو اہم ہوتا ہے
    بس نظر و نظریہ ہی وہم ہوتا ہے

  • دھی تے جھلیا دھی ہوندی اے .تحریر:آصفہ عنبرین قاضی

    دھی تے جھلیا دھی ہوندی اے .تحریر:آصفہ عنبرین قاضی

    13نومبر کا دن تھا ، باپ دو دن سے بیٹی کے نمبر پر کال کر رہا تھا جو چار سال پہلے ڈسکہ کے نواحی گاؤں بیاہی گئی تھی ۔ مگر نمبر دو روز سے بند تھا ، وہ گھبرا کر بیٹی کے سسرال چلا آیا اور پوچھا زارا کہاں ہے ؟ فون کیوں بند ہے اس کا ، جبکہ زارا کا دو سال کا بیٹا گھر میں موجود تھا ، ساس اور نندوں نے بتایا دو دن پہلے رات کو کسی آشنا کے ساتھ بھاگ گئی ، موبائل بھی ساتھ لے گئی ۔ ہم تو کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے ، خاموشی سے تلاش کررہے ہیں ۔۔۔
    باپ کو یقین نہ آیا ، چار سال پہلے اس نے بہت چاؤ سے اس کا رشتہ اس کی خالہ صغری کے بیٹے قدیر سے کیا ، اور وہ دونوں بہت خوش تھے ، ہاں سگی خالہ اس سے اکثر نالاں رہتی تھی مگر وہ پھر بھی بیٹی کو نباہ اور صبر کی تلقین کرتا رہا ۔ اس نے تلاش گمشدگی کے لیے پولیس کی مدد لی ، پولیس نے سسرالیوں کے بیان لیے ، زارا کی ساس اور نندوں کو شامل تفتیش کیا گیا ، ہر ایک کے بیان میں تضاد موجود تھا ، جس پر پولیس نے ان کو گرفتار کر لیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ زارا بھاگی نہیں بلکہ 11 نومبر کی رات انہوں اس کو مار کر پھینک دیا تھا۔ اور اس کے شوہر کو بھی یہی بتایا کہ وہ کسی سے رابطے میں تھی اور گھر سے نکل گئی ، جبکہ زارا سات ماہ کی حاملہ تھی ، اس کے ساتھ ننھی جان بھی ماری گئی ۔
    جھگڑا کیا تھا؟ وہی ساس بہو کی ازلی چپقلش اور نند بھابی کا بیر ۔۔۔ زارا کی پانچ نندیں تھیں اور قدیر ان کا اکلوتا بھائی ۔۔ اور انہوں نے خود زارا کا رشتہ مانگا اور اپنے ہاتھوں سے رخصت کرکے گھر لائیں ۔ جھگڑا پیسے کا اور محبت کی تقسیم کا تھا ، ان کا خیال تھا ان کا بیٹا سارا خرچ بہو کے ہاتھ پر رکھتا ہے جبکہ وہ الگ سے ماں کو پیسے بھیجتا تھا ، مگر ان کی خواہش تھی کہ سب کچھ ماں بہنوں کو دینا چاہیے ،اور وہ خود زارا کو ماہانہ خرچ کے طور پر دیں ، انہی جھگڑوں سے تنگ آ کر قدیر اسے پچھلے سال اٹلی بھی لے گیا اور حالات بہتر ہونے پر خود کچھ ماہ پہلے سسرال چھوڑ گیا ۔ اس بار ساس اور نندوں نے سوچا کہ زارا کو واپس ہی نہ جانے دیا جائے اور قدیر کی ساری کمائی اور توجہ ہمیں ملے ، پلان کے تحت لاہور سے کسی کو بلایا ، فجر سے کچھ دیر پہلے سوئی ہوئی زارا کے منہ پر تکیہ رکھ کر سانس بند کی اور موت کے حوالے کردیا ۔۔۔ اب مسئلہ لاش کا تھا کہ وہ کہاں کریں ۔۔ اور شناخت کیسے چھپائیں تو سر کو دھڑ سے الگ کرکے چولہے پر جلایا گیا تاکہ نین نقش مسخ ہوجائیں ، پھر جسم کاٹ کر دو الگ الگ بوریوں میں ڈالا ، ایک بوری نہر میں اور ایک دور جھاڑیوں میں پھینک دی ۔ پولیس نے ان کی نشان دہی پر مختلف جگہوں سے جسم کی باقیات برآمد کر لیں ۔
    لوگ کہتے ہیں رشتہ اپنوں میں کریں ۔۔ اپنا مارے گا بھی تو چھاؤں میں ڈالے گا۔۔ یہاں تو چھاؤں میں بھی نہیں ڈالا گیا ۔۔۔ اور پھر اپنا ہو ۔۔ تو مارے ہی کیوں ؟؟
    تیری میری کی ہوندی اے
    دھی تے جھلیا دھی ہوندی اے

  • حلقہ ارباب ذوق اسلام آباد کے بینرتلے ”مایا“ پر گفتگو کا اہتمام،تحریر:گلناز کوثر

    حلقہ ارباب ذوق اسلام آباد کے بینرتلے ”مایا“ پر گفتگو کا اہتمام،تحریر:گلناز کوثر

    حلقہ ارباب ذوق اسلام آباد کے بینرتلے ”مایا“ پر گفتگو کا اہتمام کیا گیا، میرے لیے یہ شام بلاشبہ کئی شاموں پر بھاری تھی جسے میں نے بڑی احتیاط سے ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لیا ، خلیق الرحمن اور ارشد معراج جیسے دوستوں کا ساتھ قسمت کی مہربانی ہے.

    ”حلقہ اربابِ ذوق اسلام آباد کا گزشتہ اجلاس 8 نومبر 2024 کو کانفرنس ہال اکادمی ادبیات پاکستان میں منعقد ہوا ۔ اس اجلاس میں برطانیہ سے تشریف لائیں منفرد لب و لہجہ کی شاعرہ محترمہ گلناز کوثر کے نظمیہ مجموعہ "مایا” کا تنقیدی و تجزیاتی مطالعہ کیا گیا۔ اس خصوصی اجلاس کی صدارت ممتاز شاعر و دانشور پروفیسر ڈاکٹر احسان اکبر نے کی۔ مہمانِ خصوصی ڈاکٹر وحید احمد بوجہ ناسازی طبیعت تشریف نہ لا سکے۔ سٹیج پر موجود دیگر مہمانِ خاص میں جناب محمد حمید شاہد، جناب ڈاکٹر ثاقب ندیم، جناب ڈاکٹر صلاح الدین درویش اور جناب ڈاکٹر ارشد معراج شامل تھے۔ نظامت کے فرائض سیکرٹری حلقہ جناب ڈاکٹر خلیق الرحمٰن نے سرانجام دیے۔ انہوں نے محترمہ پروین طاہر کا مضمون پڑھ کر سنایا جو بوجوہ تشریف نہ پاسکیں۔ اس کے بعد جن معروف علمی و ادبی شخصیات نے مایا کے حوالے سے تجزیاتی گفتگو کی ان میں جناب منیر فیاض، محترمہ ڈاکٹر فاخرہ نورین، جناب ڈاکٹر ارشد معراج، جناب ڈاکٹر صلاح الدین درویش، جناب ڈاکٹر ثاقب ندیم، جناب محمد حمید شاہد اور جناب پروفیسر ڈاکٹر احسان اکبر شامل تھے۔ اس موقع پر محترمہ گلناز کوثر صاحبہ کو علمی ادبی شخصیات نے پاکستان آمد پر خوش آمدید بھی کہا اور انہیں گلدستے اور اپنے تازہ مجموعہ کلام پیش کیے۔ تقریب بہت بھرپور اور شاندار رہی۔ تقریب میں جڑواں شہروں کے علاوہ مختلف شہروں اور بیرون ملک مقیم مقیم اہم علمی و ادبی شخصیات نے شرکت کی۔

    اپووا کی تربیتی ورکشاپ،لکھاریوں کی تحسین

    یوم اقبال پر اپووا کی تقریب،تحریر:عینی ملک

    اپووا تربیتی ورکشاپ کی یادیں،تحریر: فیصل رمضان اعوان

    اپووا کی سنگ رنگی تقریب،تحریر:ریاض احمد احسان

    اپووا تربیتی ورکشاپ کے یادگار لمحات،تحریر:اورنگزیب وٹو

    اپووا کے زیر اہتمام افطار میٹ اپ کا اہتمام

    اپوواخواتین کانفرنس:حقوقِ نسواں کی توانا آواز

    مبشر لقمان سے آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات

    ایک خوبصورت اور یادگار ملاقات، گورنر ہاوس پنجاب میں،تحریر:فائزہ شہزاد

  • موسمیاتی تبدیلی ،کوپ 29 کانفرنس،پاکستان کے لیے امید کی کرن؟

    موسمیاتی تبدیلی ،کوپ 29 کانفرنس،پاکستان کے لیے امید کی کرن؟

    موسمیاتی تبدیلی ، کوپ 29 کانفرنس،پاکستان کے لیے امید کی کرن؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    میں اپنی ای میلز چیک کر رہا تھا تو اس دوران ایمنسٹی انٹرنیشنل کی طرف سے ایک ای میل آئی، جس میں بتایا گیا کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل ماضی میں ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کے اجلاسوں میں بھی شامل رہی ہے۔ انہوں نے وہاں مختلف پروگرامز منعقد کیے اور حکومتوں سے بات چیت کرکے لوگوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی۔ اس سال بھی ایمنسٹی انٹرنیشنل اور دوسری تنظیمیں یہی کام کر رہی ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں جب فیصلے کیے جائیں، تو لوگوں کے حقوق کو بھی اہمیت دی جائے۔

    اس میل کے ذریعے مجھے اقوامِ متحدہ کے تحت موسمیاتی تبدیلی پر 29ویں کانفرنس (COP29) جو کہ 11 سے 22 نومبر 2024 تک باکو آذربائیجان میں جاری رہے گی اور پاکستان کی موسمیاتی تبدیلی سے متعلق صورتحال کے بارے میں سوچنے کا موقع ملا۔دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات سے نمٹنے کے لیے اس کانفرنس کی بہت اہمیت ہے۔ اس سال خاص طور پرکلائمیٹ چینج سے متعلق فنڈز پر توجہ دی جا رہی ہے اور اس میں وہ ممالک شامل ہیں جو موسمیاتی آفات سے سب سے زیادہ متاثر ہیں جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔

    پاکستان کو حالیہ برسوں میں شدید موسمیاتی آفات کا سامنا کرنا پڑا ہے جیسے کہ 2022 کا سیلاب ،جس میں تین کروڑ سے زیادہ افراد متاثر ہوئے اور 1700 سے زائد افراد اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس کے علاوہ شدید گرمی کی لہر، خشک سالی اور گلیشیئرز کا پگھلنا جیسے مسائل بھی بڑھتے جا رہے ہیں، جن سے نہ صرف ماحول بلکہ لوگوں کی زندگیوں پر بھی برا اثر پڑ رہا ہے۔پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کا اثر صرف ماحولیاتی بحران تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ ایک سنگین ترقیاتی اور انسانی بحران بھی بن چکا ہے۔ لاکھوں افراد ان آفات کا شکار ہو کر بے گھر ہو گئے ہیں، روزگار کے مواقع ختم ہو گئے ہیں اور صحت کے مسائل میں اضافے کی وجہ سے عوام کی حالت مزید ابتر ہو چکی ہے۔

    پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے اور جب بھی موسمیاتی آفات آتی ہیں اسے دوبارہ تعمیر وترقی کی راہ پر گامزن کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔COP29 کانفرنس میں پاکستان کو یہ امید ہے کہ عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے فنڈز کیلئے ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے۔ ترقی یافتہ ممالک نے 2009 میں وعدہ کیا تھا کہ وہ ہر سال 100 ارب ڈالر ترقی پذیر ممالک کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے اور ان کے تحفظاتی منصوبوں کے لیے فراہم کریں گے، لیکن ابھی تک یہ وعدہ پورا نہیں ہو سکا۔

    پاکستان کو اس مالی امداد کی فوری ضرورت ہے تاکہ وہ موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی صلاحیت بڑھا سکے اور زرعی اصلاحات، پانی کے انتظام اور قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کر سکے۔پاکستان کی توقعات صرف فنڈز کی فراہمی تک محدود نہیں ہیں بلکہ اس کے لیے اس مالی امداد کو حاصل کرنے کا عمل بھی آسان بنایا جانا چاہیے۔ کلائمیٹ فنڈز کے اجرا کا طریقہ کار پیچیدہ ہے اور بیوروکریسی کی تاخیر یا سخت شرائط کی وجہ سے اکثر وعدے پورے نہیں ہو پائے۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان کو یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ فنڈز کا درست اور شفاف استعمال ہواور ملنے والے فنڈز کرپشن کی بھینٹ نہ چرح جائیں بلکہ اس فنڈ کا فائدہ عوام تک پہنچ سکے۔پاکستان کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ نقصان اور تلافی کے فنڈ کے بارے میں عالمی سطح پر واضح اقدامات کیے جائیں تاکہ موسمیاتی آفات سے متاثرہ کمیونٹیز کی بحالی کی جا سکے۔ اس کے علاوہ، روایتی قرضوں اور گرانٹس کے علاوہ جدید مالیاتی طریقے جیسے کلائمیٹ بانڈز اور عوامی و نجی شراکت داریوں کو بھی زیرِ غور لانا ہوگا۔ اس سے پاکستان کو کم قیمت پر وسائل فراہم کیے جا سکتے ہیں اور اس کا قرضوں پر انحصار کم ہو سکتا ہے۔

    موسمیاتی تبدیلی کے مسائل کے حل کے لیے صرف مالی امداد کافی نہیں ہے بلکہ پاکستان کو جدید ٹیکنالوجی کی ضرورت بھی ہے تاکہ وہ پائیدار زراعت، پانی کے بہتر انتظام اور قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنا سکے۔ ٹیکنالوجی کی منتقلی اور ماہرین کی مدد بھی پاکستان کے لیے ضروری ہے تاکہ وہ موسمیاتی بحران کا بہتر طور پر مقابلہ کر سکے۔پاکستان کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ کلائمیٹ فنڈز کی فراہمی میں شفافیت ہو اور ان فنڈز کا استعمال عوامی فائدے کے لیے کیا جائے۔ موسمیاتی فنڈز کو درست طریقے سے استعمال کرنے کے لیے مئوثر نظام وضع کرنا بہت ضروری ہے تاکہ ان کا فائدہ واقعی متاثرہ افراد تک پہنچے۔

    پاکستان کی COP29 میں شرکت اس بات کا اشارہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات عالمی سطح پر ہیں اور کوئی بھی ملک اس بحران سے اکیلا نہیں نمٹ سکتا۔ اگر ترقی یافتہ ممالک اپنے وعدوں کو عملی طور پر پورا کریں اور اعلان کردہ فنڈز فراہم کریں اور پاکستان کے ساتھ حقیقی شراکت داری قائم کریں تو یہ کانفرنس ایک نیا موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوا اور یہ وعدے صرف الفاظ تک محدود رہ گئے تو عالمی سطح پر عدم مساوات میں اضافہ ہو سکتا ہے اور متاثرہ ممالک کو موسمیاتی تبدیلی کے شدید اثرات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پاکستان کے لیے یہ وقت وعدوں کا نہیں بلکہ عملی اقدامات کا ہے اور اس کو عالمی برادری کی حقیقی حمایت کی ضرورت ہے تاکہ وہ موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کر سکے۔

  • یہ عورتوں میں طوائف تو ڈھونڈ لیتے ہیں

    یہ عورتوں میں طوائف تو ڈھونڈ لیتے ہیں

    ڈاکٹر مینا نقوی ،یوم وفات 15 نومبر

    ہندوستان کی معروف شاورہ ڈاکٹر مینا نقوی صاحبہ کا اصل نام منیر زہرہ اور تخلص میناؔ ہے ۔ وہ نگینہ ضلع بجنور، اتر پردیش میں سیّد التجا حسین کے یہاں پیدا ہوئیں۔ ان کی دو بہنیں نصرت مہدی اور علینا عترت ہیں۔ آپ درس وتدریس کے مقدس فریضے سے وابستہ تھیں۔

    مینا نقوی کی شاعری ،عصری ادب میں جن حوالوں سے پہچانی جاتی ہے ان میں ان کی سادگی اور زندگی کی مثبت قدروں کے احترام کو ا ولیت حاصل ہے۔یہ سچ ہے کہ ان کی شاعری کا خمیر بھی دیگر شعراء کی طرح رومانی جذبات و احساسات کی آمیزش سے تیار ہوا ہے مگر ان کی شعری کائنات میں زندگی کے مسائل و مصائب اور عصری فکر و شعور کا جذبہ بھی قابلِ ذکر ہے ۔اور یہی وجہ ہے کہ ان کی تخلیقی ریاضت اور شعری تجربے نے ان کی شاعری کا کینوس وسیع کر دیا ہے۔ مینا نقوی کئی برسوں سے شاعری کر رہی تھیں اور اب تک ان کے نو ( ۹) شعری مجموعے منظرِ عام پر آچکے ہیں اور انہیں متعدد اعزازات و انعامات سے نوازا جا چکا ہے۔
    ان کی تصانیف کے نام درج ذیل ہیں :
    1-سائبان (اردو) 2-بابان…(اردو) 3-درد پت
    جھڑ کا (ہندی) 4-کرچییاں درد کی (اردو) 5-کرچیاں درد کی( ہندی) 6-جاگتی آنکھیں (اردو) 7-دھوپ چھاؤں (.ہندی) 8- منزل 9 – آئینہ

    سیدہ مینا نقوی کافی عرصے سے سرطان جیسے مہلک مرض سے نبرد آزما تھیں اور 15 نومبر 2020 کو انتقال کر گئیں

    منتخب اشعار
    یہ عورتوں میں طوائف تو ڈھونڈ لیتے ہیں
    طوائفوں میں انہیں عورتیں نہیں ملتیں

    دھوپ آئی نہیں مکان میں کیا
    ابر گہرا ہے آسمان میں کیا

    یہ مت سمجھنا فقیر ہوں میں
    انا کے حق میں کثیر ہوں میں

    جب اسے دیکھا ذرا نزدیک سے
    تب سمجھ پائے ہیں تھوڑا ٹھیک سے

    چاند کیسے کسی تارے میں سما جائے گا
    پھر بھی امید کو ضد ہے کہ وہ آ جائے گا

    محبتوں میں وفا کا حساب دے گا کون
    اندھیری شب کے لئے آفتاب دے گا کون

    پھول مہکائے تھے میں نے شادمانی کے لیے
    ہر نفس اب مر رہی ہوں زندگانی کے لیے

    مزاج اپنے کہاں آج ہیں ٹھکانے پر
    حضور آئے ہیں میرے غریب خانے پر

    آساں ہر ایک ہو گئی مشکل مرے لئے
    جس دن سے محترم ہوا قاتل مرے لئے

    کبھی زیادہ کبھی کم رہا ہے آنکھوں میں
    اک انتظار کا موسم رہا ہے آنکھوں میں

    آنکھوں میں رنگ پیار کے بھرنے لگی ہوں میں
    آئینہ سامنے ہے سنورنے لگی ہوں میں

    تیز جب گردش حالات ہوا کرتی ہے
    روشنی دن کی سیہ رات ہوا کرتی ہے

    اس برس فصل بہاراں کی طرح واپس آ
    تو مری جان ہے جاناں کی طرح واپس آ

    حالات کے دریاؤں میں خطرے کے نشاں تک
    چل پائیں گے کیا آپ مرے ساتھ وہاں تک

    جب چاندنیاں گھر کی دہلیز پہ چلتی ہیں
    آسیب زدہ روحیں سڑکوں پہ ٹہلتی ہیں

    کس طرح چبھتے ہوئے خار سے خوشبو آئے
    پھول ہوں لفظ تو اظہار سے خوشبو آئے

    غم نہیں ہے چاہے جتنی تیرگی قائم رہے
    مجھ پہ بس تیری نظر کی چاندنی قائم رہے

    جب سے ترے لہجے میں تھکن بول رہی ہے
    دل میں مرے سورج کی جلن بول رہی ہے

    ڈاکٹر مینا نقوی