Baaghi TV

Category: بلاگ

  • قبضہ مافیا،لینڈ مافیا کے ہاتھوں بےگناہ قتل،ذمہ دار کون،تجزیہ:شہزاد قریشی

    قبضہ مافیا،لینڈ مافیا کے ہاتھوں بےگناہ قتل،ذمہ دار کون،تجزیہ:شہزاد قریشی

    توجہ برائے عدالت عظمیٰ! عدالت عالیہ ! ذمہ داران ریاست راولپنڈی اسلام آباد اور اس کے گرد و نواح میں گزشتہ کئی سالوں سے لینڈ مافیا اور قبضہ مافیا کے ہاتھوں کئی بے گناہ لوگ قتل ہو چکے ہیں اس قتل عام میں مبینہ طورپر محکمہ مال کے اعلیٰ افسران، سول انتظامیہ، آرڈی اے راولپنڈی ، پولیس اور وہ سیاسی کردار جو لینڈ مافیا اور قبضہ مافیا کی پشت پناہی کرتے ہیں ملوث ہیں۔ راولپنڈی اور اسلام آباد کے دیہی علاقوں میں غیر قانونی ہائوسنگ سوسائٹیز کا ایک ایسا نیٹ ورک ہے جو گزشتہ کئی سالوں سے جاری ہے حیرت ہے عام آدمیوں کا قتل عام راولپنڈی اور اس کے گرد و نواح میں ہو رہا ہے اور ان قبضہ مافیا اور لینڈ مافیا کو کوئی لگام دینے والا نہیں کیا ریاستی ادارے بے بس ہیں؟

    گزشتہ دنوں راولپنڈی سے چند کلومیٹر کے فاصلے گوجرخان میں ہائوسنگ سوسائٹی کی تقریب میں اندھا دھند فائرنگ میں والدین کا واحد سہارا بیٹا قتل ہو گیا جدید اسلحہ سے فائرنگ اتنی شدید کی گئی پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جس ہائوسنگ سوسائٹی میں فائرنگ ہوئی آرڈی اے راولپنڈی اس سوسائٹی کو غیر قانونی قرار دے چکی ہے جبکہ اسی سوسائٹی کے خلاف نیب راولپنڈی میں انکوائری بھی ہو رہی ہے دو سو سے زائد افراد نے درخواستیں دے رکھی ہیں ان دو سو افراد کا سوا دو ارب روپیہ غیر قانونی لے چکی ہے۔ راولپنڈی میں اس طرح کے واقعات معمول بن چکے ہیں۔ سمجھ سے بالاتر ہے کہ جن ہائوسنگ سوسائٹیز کو آرڈی اے راولپنڈی غیرقانونی قرار دے چکی ہے وہ دن دیہاڑے ریاستی اداروں کے سامنے اربوں روپیہ کیسے حاصل نہیں کر سکتے؟

    راولپنڈی کے ریاستی اداروں پر یہ ایک سوالیہ نشان ہے راولپنڈی اسلام آباد کے دیہی علاقوں کی یہ سوسائٹیز غریب دیہاتی لوگوں کی زرعی زمینوں پر قبضے میں بھی ملوث ہیں جبکہ سرکاری زمینوں پر بھی محکمہ مال کی ملی بھگت کئے جا رہے ہیں۔ محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے ملک کا بیشتر حصہ قبضہ مافیا کے قبضے میں ہے سرکاری املاک کے ساتھ ساتھ ملک کے مظلوم عوام کی مقبوضہ ذاتی ملکیت پر بھی قبضے کئے جا رہے ہیں قبضہ مافیا ایک تناور درخت کی شکل اختیار کر گیا ہے قبضہ مافیا ایک ایسی طاقت بن چکی ہے جس کے قبضے میں کئی بااثر لوگ اس مافیا کا دم بھرتے ہیں ملک اور ریاست کے سسٹم کو ان قبضہ مافیا نے یرغمال بنا رکھا ہے ذمہ داران ریاست اگر حرکت میں نہ آئے تو ملک و قوم کو ناقابل تلافی نقصان ہو رہا ہے اور ہوگا

  • اپنے رشتے سیاست کی بھینٹ چڑھنے سے بچائیں

    اپنے رشتے سیاست کی بھینٹ چڑھنے سے بچائیں

    اپنے رشتے سیاست کی بھینٹ چڑھنے سے بچائیں
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    آج کا دور سیاست کے رنگوں میں رنگا ہوا ہے۔ ہر طرف سیاسی جماعتیں اور ان کے لیڈر اپنے ذاتی مفادات کے لیے عوام کو آپس میں لڑا رہے ہیں۔ جھوٹے وعدے، نفرت انگیز بیانات اور ذاتی حملے سیاست کا ایک عام منظر بن چکے ہیں۔ اقتدار حاصل کرنے کے لیے سیاستدان ہر حد پار کر لیتے ہیں لیکن اس سب کے پیچھے چھپے حقیقی نقصانات پر بہت کم بات کی جاتی ہے۔

    سب سے بڑا نقصان عوام کے قیمتی رشتوں کا ہوتا ہے۔ سیاست کے نام پر ہم اپنے قریبی رشتہ داروں، محلے داروں اور حتیٰ کہ اپنے گھر والوں کے ساتھ تعلقات خراب کر لیتے ہیں۔ سیاسی اختلافات کی بنا پر ہم ان لوگوں سے دور ہو جاتے ہیں جو ہمارے اپنے ہوتے ہیں۔ یہ اختلافات نفرت میں بدل جاتے ہیں اور ہم اپنے ہی لوگوں کو دشمن سمجھنے لگتے ہیں۔ دوسری طرف وہی سیاستدان، جن کے لیے ہم لڑ رہے ہوتے ہیں، اسلام آباد میں بیٹھ کر اپنی کرسیوں کی فکر کر رہے ہوتے ہیں۔

    سوشل میڈیا نے اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ فیک نیوز اور نفرت انگیز بیانات سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ یہ بیانات لوگوں کے جذبات کو بھڑکاتے ہیں اور معاشرے میں تقسیم پیدا کرتے ہیں۔ ان بیانات کے ذریعے سیاسی لیڈران اپنی چالاکیوں کو مزید مؤثر بناتے ہیں اور عوام کو تقسیم در تقسیم کر دیتے ہیں۔

    اس سیاسی کھیل کا سب سے زیادہ اثر سماجی ہم آہنگی پر پڑرہاہے۔ معاشرہ نفرتوں کا شکار ہوتاجارہا ہے، امن و سکون ختم ہو چکاہے اور لوگ ایک دوسرے کے لیے اجنبی بن چکے ہیں۔ جب کوئی قومی بحران یا عوامی مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو یہی سیاستدان کہیں نظر نہیں آتے۔ ان کا واحد مقصد اپنے اقتدار کو بچانا ہوتا ہے اور عوام کو ان کے حال پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔

    ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سیاستدانوں کے یہ کھیل وقتی ہیں لیکن ان کے اثرات دیرپا ہیں۔ ہمیں اپنی دانشمندی اور شعور سے ان مسائل کو حل کرنا ہوگا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم ذاتی تعلقات کو سیاسی اختلافات کی بھینٹ چڑھنے سے بچائیں۔ ہمیں اپنی توانائیاں مثبت سرگرمیوں میں صرف کرنی چاہئیں اور ایسی سیاست کا حصہ نہیں ببنا چاہئے جو ہمارےسماج اور خوبصورت رشتوں کو تباہ کرے۔

    اس صورتحال سے نکلنے کے لیے ہم سب کو مل کر کوشش کرنی ہوگی۔ ہمیں سیاسی لیڈروں کے جھوٹے وعدوں پر یقین نہیں کرنا چاہیے۔ ہمیں سوشل میڈیا پر پھیلنے والی فیک نیوز سے بچنا چاہیے۔ ہمیں اپنے رشتوں کو اہمیت دینی چاہیے اور ان کی حفاظت کرنی چاہیے اور اپنے معاشرے کو ایک مثبت اور تعمیری سمت میں لے جانے کے لیے کام کرنا چاہیے۔

    نوجوانوں کا کردار اس میں بہت اہم ہے۔ نوجوانوں کو تعلیم یافتہ، باخبر اور سماجی مسائل کے حل میں دلچسپی رکھنے والا بنانا ہوگا۔ اگر ہماری نسل سیاسی پروپیگنڈے کا شکار ہو گئی تو ہماری معاشرتی اقدار ختم ہو سکتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ تعلیمی ادارے اور والدین دونوں اس بات پر زور دیں کہ نوجوان سیاست کو جذبات کے بجائے حقائق کی بنیاد پر سمجھیں۔

    اگر ہم نے اپنی توانائیاں صحیح سمت میں لگائیں تو نہ صرف ہماری ذاتی زندگی بہتر ہوگی بلکہ ہمارا معاشرہ بھی ترقی کرے گا۔ ہمارا مقصد ایک ایسا معاشرہ ہونا چاہیے جہاں اختلافات احترام کے ساتھ حل کیے جائیں، مسائل پر توجہ دی جائے، اور نفرتوں کے بجائے محبت اور اتحاد کا پرچار کیا جائے تاکہ ہم اپنے قیمتی رشتے سیاست کی بھینٹ چڑھنے سے بچاسکیں.

  • چورچور کہنے والا خود چور نکلا،عمران نے جو بویا وہی کاٹ رہا

    چورچور کہنے والا خود چور نکلا،عمران نے جو بویا وہی کاٹ رہا

    پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کی سیاست میں بلند و بانگ دعووں، تند و تیز زبان، اور خود کو ہر چیز سے برتر سمجھنے کی ایک طویل تاریخ ہے۔ ان کا تکبر اور رعونیت ایک ایسا پہلو تھا جس پر نہ صرف ان کے حامی بلکہ ان کے مخالفین بھی اکثر بات کرتے رہے ہیں۔ عمران خان نے ہمیشہ اپنی شخصیت کو اس قدر اہم اور منفرد سمجھا کہ سیاست میں دوسرے رہنماؤں کے ساتھ تعلقات اور بات چیت کرنے کی ضرورت کو کم ہی محسوس کیا۔عمران خان اکثر اپنے حریفوں کو کمتر سمجھتے ہوئے ان سے بات کرنے کی بجائے ان کے خلاف تنقید کرنے میں مگن رہتے تھے۔ ان کی زبان میں وہ تکبر کی ایسی جھلکیاں نظر آتی ہیں جو کبھی کبھار حد سے تجاوز کر جاتی تھیں۔

    عمران خان نے کئی مرتبہ کہا کہ وہ کبھی بھی نواز شریف، شہباز شریف، اور ان کے حامیوں سے بات نہیں کریں گے۔ وہ ہمیشہ اپنی پوزیشن کو مستحکم اور بہتر سمجھتے تھے اور اپنے مخالفین کو ’’چور‘‘ اور ’’ڈاکو‘‘ جیسے الفاظ سے یاد کرتے تھے۔ ان کے مطابق، یہ سب لوگ صرف اپنے ذاتی مفادات کے لیے کام کر رہے ہیں اور ان کے ساتھ کسی قسم کی بات چیت کرنا وقت کا ضیاع ہوگا۔عمران خان کا انداز اس قدر سخت تھا کہ وہ عام طور پر دوسرے سیاسی رہنماؤں کے لیے نہ صرف توہین آمیز الفاظ استعمال کرتے، بلکہ ان کے کردار کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بناتے۔ ایک موقع پر، عمران خان نے کہا تھا کہ "میں اور بات کروں گا، میں کسی سے بھی بات نہیں کروں گا، میں ان چوروں سے بات کیوں کروں؟” ان کا یہ تبصرہ نواز شریف اور ان کی جماعت کے خلاف تھا۔

    اسی طرح، انہوں نے شہباز شریف کو بھی اکثر نشانہ بنایا اور کہا کہ "شہباز شریف میرے ہوتے ہوئے کبھی وزیراعظم نہیں بن سکتا”۔ ان کا خیال تھا کہ وہ پاکستان کے سیاسی منظرنامے پر سب سے طاقتور شخصیت ہیں، اور ان کے مقابلے میں کسی کو جگہ نہیں مل سکتی۔عمران خان کی زبان کی شدت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ وہ مولانا فضل الرحمان کو ’’ڈیزل‘‘ کہہ کر مخاطب کرتے تھے۔ اس پر جنرل باجوہ نے انہیں مشورہ دیا کہ سیاست میں احترام باقی رہنا چاہیے، لیکن عمران خان نے اس مشورے کو ٹھکراتے ہوئے کہا کہ "اگر ڈیزل کو ڈیزل نہ کہوں تو اور کیا کہوں؟” ان کی یہ بات ایک طرف تو ان کے تکبر کی نشاندہی کرتی تھی، دوسری طرف ان کے اندر اپنے مخالفین کے لیے عدم احترام اور نفرت کا اظہار بھی کرتی تھی۔

    عمران خان نے نواز شریف کو بھی اپنی شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ "نواز شریف کا کھانا بند کر دوں گا، کمرے کا اے سی بند کر دوں گا، اور ان کی جیلیں عام قیدیوں جیسی بنا دوں گا۔” ان کا یہ انداز سیاست میں ایک نئی سطح پر تکبر اور غصے کی عکاسی کرتا تھا۔ وہ نہ صرف اپنے مخالفین کو سیاسی طور پر شکست دینا چاہتے تھے، بلکہ ان کی ذاتی زندگیوں میں مداخلت کرکے ان کے لیے مشکلات پیدا کرنے کی بھی کوشش کرتے تھے۔

    عمران خان کے یہ تمام دعوے اور سخت بیانات آج اللہ کی قدرت کے سامنے جھک چکے ہیں۔ ایک وقت تھا جب وہ خود کو غیر متزلزل اور ناقابل شکست سمجھتے تھے، لیکن آج ان کے سامنے حقیقت کچھ اور ہے۔ آج جب وہ خود سیاست کے میدان میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، تو وہ وہی باتیں اور بیانات واپس یاد کرتے ہیں جو انہوں نے اپنے مخالفین کے بارے میں کہے تھے۔عمران خان آج اڈیالہ جیل میں ہیں اور اسی شہباز شریف سے جن سے بات کرنے کو تیار نہیں تھے سے مذاکرات کی بھیک مانگ رہا ہے، عمران خان اب خود چور بھی ثابت ہو چکا ہے اور بات بھی کرنے کو تیار ہے، لیکن آگے سے عمران خان کی سننے کو کوئی تیار نہیں۔ عمران خان کی ساری تکبر اور رعونیت کا جواب اللہ کی طرف سے ایک قدرتی ردعمل کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ ان کے خلاف جو الزامات اور کرپشن کے کیسز بنے، وہ آج ان کے پیچھے ہیں۔ ان کی سیاسی طاقت جو کبھی بے پناہ تھی، اب کمزوری میں تبدیل ہو چکی ہے۔

    عمران خان کا تکبر اور رعونیت ایک ایسا باب ہے جو تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کی سیاسی زندگی کے اتار چڑھاؤ اور ان کے رویے نے نہ صرف ان کے حامیوں بلکہ مخالفین کو بھی حیران کن طور پر متاثر کیا ہے۔ آج ان کے سامنے ایک نئی حقیقت ہے جس کا وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں کوئی بھی شخص اپنی تکبر اور غرور کے ساتھ ہمیشہ قائم نہیں رہ سکتا، اور اللہ کی قدرت ہر شخص کو اس کی حقیقت دکھا دیتی ہے۔

  • گوردوارہ سری دربار صاحب کرتار پور کا سفر.تحریر:عینی ملک

    گوردوارہ سری دربار صاحب کرتار پور کا سفر.تحریر:عینی ملک

    ہمارا گوردوارہ سری دربار صاحب کرتار پور جانے کا ارادہ ایک مدت سے تھا، اور آخرکار وہ دن آ گیا جب ہم نے یہ سفر کرنے کا فیصلہ کیا۔ ہم سب صبح جلدی اٹھے، تاکہ سفر کی تھکاوٹ کم ہو اور وقت پر پہنچ سکیں۔ صبح نو بجے تک ناشتہ کر کے ہم نے تیاری شروع کی اور پھر ظفروال، ناروال، اور شکرگڑھ کے راستوں سے ہوتے ہوئے گوردوارہ کرتار پور روانہ ہو گئے۔

    ظفروال، ناروال، اور شکرگڑھ کے راستوں پر سفر کرتے ہوئے سرسبز کھیت، پھلوں کے باغات، اور پرانی طرز کے گھر ہمیں دیہاتی زندگی کا گہرا منظر دکھا رہے تھے۔ یہاں کے لوگ سبزیاں شوق سے اگاتے تھے، اور چارا کاٹ کر گدھوں پر لے جا رہے تھے۔ ان کے روزمرہ کے معمولات میں سادگی اور محنت کی جھلک صاف نظر آتی تھی۔ ہم نے راستے میں امرود کے تازہ باغات بھی دیکھے، اور وہاں سے تازہ اور رس دار امرود خریدے جو سفر کی تھکاوٹ دور کرنے کے لیے بہت خوشگوار ثابت ہوئے۔

    دربار کے قریب پہنچتے ہی پنجاب پولیس کی طرف سے جگہ جگہ سکیورٹی چیکنگ کا آغاز ہو گیا۔ مختلف ناکوں پر ہمیں روکا گیا، اور شناختی کارڈ کی جانچ کی گئی۔ جہاں ہم نے اپنی گاڑی پارک کی اور میڈیسن اور بیگ بھی وہی چھوڑیں اسلئیے آپ سے گزارش ہے۔ کہ جب بھی آپکا گوردورا جانے کا اردہ ہو تو سوائے پیسوں کے ساتھ کوئی بھی قیمتی اشیا نہ لے جائیں چھری قینچی وغیرہ بھی گاڑی میں نہ ہو اور ہم نے ٹکٹس خریدے اور اندر جانے کے لئے تیار تھے، لیکن میرے نانو کے پاس شناختی کارڈ نہیں تھا، جس کی وجہ سے ہمیں خاصا دیر انتظار کرنا پڑا۔ تاہم، ان کی بزرگ حالت پر رحم کرتے ہوئے ہمیں اندر جانے کی اجازت دے دی گئی۔ یہ ایک اچھی بات تھی کہ انتظامیہ اہلکاروں نے انسانیت کو مقدم جانا۔

    اس کے بعد ہمیں ایک خصوصی گاڑی کے ذریعے گوردوارہ سری دربار صاحب کرتار پور لے جایا گیا، اور قدم رکھتے ہی یہاں کی روحانیت اور سکون سے ہم سب دل کے محظوظ ہوئے۔ گوردوارہ کی عمارت نہایت خوبصورت تھی اور اس کی صفائی دیکھ کر دل خوش ہو گیا۔ ہر طرف سفید سنگ مرمر سے بنی عمارتیں نظر آ رہی تھیں، جو ایک محل کا منظر پیش کر رہی تھیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، گوردوارہ کے ارد گرد باغات اور تصویریں بھی اس کے جمال کو مزید نکھار رہی تھیں۔ یہ جگہ نہ صرف روحانیت سے بھری ہوئی تھی، بلکہ اس کی عمارت اور مناظر بھی دل کو سکون پہنچانے والے تھے۔پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے 2019 اپنے دور حکومت میں گرودوارہ دربار صاحب کرتار پور کی نئے سرے سے تعمیر اور انڈین یاتریوں کے لیے تیار کی گئی راہدرای کا افتتاح وزیراعظم عمران خان کے حکم پر ہوا۔وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے کہا تھا کہ مجھے خوشی ہے کہ کرتارپور سرحد کھول کر سکھوں کے دل خوشیوں سے بھر دے گا اور وہی ہوا۔اس تقریب میں انڈیا کے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ، نوجوت سنگھ سدھو اور اداکار سنی دیول سمیت بڑی تعداد میں سکھ یاتری موجود تھے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا تھاکہ جب سکھ برادری کی بات ہوتی ہے تو ہم انسانیت کی بات کرتے ہیں، نفرتیں پھیلانے کی بات نہیں کرتے۔ ’ہمارے نبی پاک ص نے انسانیت کی بات کی۔‘

    گوردوارہ کے اندر پہنچ کر ہم نے لنگر خانہ کا رخ کیا، جہاں کھانے کی تیاری ہو رہی تھی۔ یہاں کی ایک خاص بات یہ تھی کہ امیر و غریب کے درمیان کوئی فرق نہیں رکھا جاتا تھا۔ ہم نے اپنے برتن اٹھائے، جو بڑی صفائی سے رکھے گئے تھے، اور کھانے کا انتظار کیا۔ لنگر خانہ میں سب کو یکساں سلوک ملتا ہے، اور یہی بات انسانیت کی اصل حقیقت کو ظاہر کرتی ہے۔ کھانے لیتے وقت روٹی دونوں ہاتھوں سے لینے کی رسم بھی تھی، جو عاجزی اور احترام کی علامت ہے۔ یہ منظر میرے دل میں ایک گہرا تاثیر چھوڑ گیا۔کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ جب ہم کوئی چیز دونوں ہاتھوں سے لیں تو تب ہمیں اپنی ” میں ” کو مار کر اپنے غرور کو اپنے پاؤں تلے روندھ کر نہایت انکساربننا پڑتا ہے۔

    کھانے کے بعد، ہم نے لنگر خانہ میں بیٹھ کر چائے پی، جو بہت لذیذ تھی۔ چائے کے دوران ہم نے اس جگہ کی روحانیت اور یہاں کے لوگوں کی محبت و بھائی چارے کا احساس ہوا۔ ایک خاص بات یہ تھی کہ یہاں سب لوگ ایک دوسرے کے ساتھ بے تکلف اور محبت سے بات کرتے تھے، چاہے وہ بھارتی ہوں یا پاکستانی، سکھ ہوں یا مسلمان۔

    اس دوران ہماری ملاقات ایک بھارتی یاتری، رگجیت سنگھ سے ہوئی۔ وہ بہت خوش اخلاق اور خوش مزاج شخص تھے، انھوں نے نانو اور ماما سے اپنے انداز میں سلام لی اور پیروں کو چھو کر کہا ” پیر پینا ما جی "یہ انداز بہت احترام والا تھا اور انھوں نے میرے بیٹے نادعلی کو اپنے ساتھ گھومتے ہوئے گوردوارہ کے مختلف حصوں کا دورہ کروایا۔ رگجیت سنگھ نے ہمیں اپنی زندگی کی کچھ باتیں سنائیں۔ اس نے بتایا کہ اس نے اپنی پسند سے شادی کی، حالانکہ اس کے خاندان والے اس کے فیصلے سے متفق نہیں تھے۔ لیکن آٹھ سال کی محنت اور محبت کے بعد وہ اپنے خاندان کو قائل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔پھر اس نے اپنی بیوی اور بہنوں سے ہماری ویڈیوکال پر بات کروائی۔وہ سب بہت اخلاق کی مالک خواتین تھی۔

    رگجیت سنگھ نے انڈیا کے بارے میں بھی کچھ معلومات دیں۔ جب میری نانو نے پوچھا تو اس نے بتایا کہ انڈیا میں سونے کی قیمت تقریباً بہتر ہزار روپے فی تولہ ہے، جب کہ پاکستان میں سونا دو لاکھ روپے سے زائد فی تولہ ملتا ہے۔ اس نے یہ بھی کہا کہ انڈیا سے پاکستان آتے وقت انھیں سختی سے کہا گیا تھا کہ پاکستانیوں سے کسی بھی قسم کی خرید و فروخت نہ کریں اور اپنے سامان پر نظر رکھیں، کیونکہ انڈیا میں پاکستانیوں کے بارے میں بعض لوگ منفی تصورات رکھتے ہیں۔ لیکن وہ ہم پاکستانیوں کے بارے میں بہت اچھے خیالات رکھتے تھے اور ہمارا استقبال انتہائی محبت سے کیا تھا۔

    ہم نے گوردوارہ کے اندرونی حصے کا بھی دورہ کیا، جہاں سکھ یاتری گورو نانک کے دربار پر ماتھا ٹیکنے میں مصروف تھے۔ گوردوارہ کے دربار میں سکھ یاتری اپنے عقیدت کے ساتھ عبادت کر رہے تھے اور گورو نانک کی تعلیمات پر عمل کر رہے تھے۔ اس روحانی ماحول میں بیٹھ کر ہمیں ایک خاص سکون اور اطمینان محسوس ہوا۔

    گوردوارہ کی عمارت کا منظر بہت دلکش تھا۔ اس کی سفید سنگ مرمر کی عمارتیں ایک محل کی طرح نظر آ رہی تھیں، اور پورا منظر ایک شاندار ورثے کی عکاسی کر رہا تھا۔ ہم نے یہاں تصویریں بنائیں یہاں کا سکون اور آہستہ آہستہ گزرنے والا وقت اس بات کا غماز تھا کہ اس جگہ کی حقیقت محض ایک عمارت نہیں، بلکہ ایک روحانی مرکز ہے جہاں گورو نانک کے پیروکار اپنے دل کو سکون پہنچانے کے لیے آتے ہیں۔

    یہ سفر ہمارے لیے ایک انتہائی یادگار تجربہ تھا۔ نہ صرف ہم نے گوردوارہ کی روحانیت کو محسوس کیا، بلکہ دو مختلف ملکوں کے لوگوں کے درمیان محبت، احترام اور بھائی چارے کا حقیقی مظاہرہ بھی دیکھنے کو ملا۔ اس سفر نے ہمیں یہ سکھایا کہ انسانیت کی بنیاد محبت اور احترام پر ہے، اور یہاں کے لوگ اس بات کا زندہ نمونہ ہیں۔
    عینی ملک

  • پھر اک بک فئیر ہے اور ہم ہیں دوستو.تحریر:راحت عائشہ

    پھر اک بک فئیر ہے اور ہم ہیں دوستو.تحریر:راحت عائشہ

    انیسواں کراچی انٹرنیشنل بک فئیر اپنے اختتام کو پہنچا ۔۔ یوں سمجھیں گویا کوئی عید تھی جو اس شہر میں کتابوں سے محبت رکھنے والے منا رہے تھے۔ ہماری خوش قسمتی تھی کہ جس دن کتاب میلے کا آغاز ہوا اسی دن ہم کراچی پہنچے۔ اور اگلے ہی دن بک فئیر میں ۔۔۔۔
    وہاں ایک عید کا سا سماں تھا ۔ بچوں کے کتاب گھر پر ہماری پہلی ملاقات فرحی نعیم سے ہوئی ،فہیم عالم صاحب اور کاوش صدیقی صاحب بھی وہیں موجود تھے ۔نئی نئی کتابیں دیکھ کر ہی دل کو بہت خوشی ہوئی ۔ یہاں ہماری ملاقات کاوش صدیقی صاحب کی جل پری سے بھی ہوئی ۔۔ اٹلانٹس کے اسٹال پر فاروق صاحب کے ساتھ ساتھ کرن صدیقی ، سمیر، ، عقیل عباس جعفری ، راشد اشرف ، محمود احمد مودی صاحبان جیسی شخصیات سے ملاقات ہوئی ۔ کچھ دیر بعد محبوب الٰہی مخمور صاحب اپنی صاحب زادی زوہا کے ساتھ تشریف لائے۔ کچھ دیر بات چیت ہوئی اور پھر ہم آگے چلے۔۔

    اسی دن ہمارے چچا حاطب صدیقی کی کتاب پھولوں کی زباں کی تقریب تھی جو پہلے چار بجے ہونی تھی اور اب پانچ بجے پر چلی گئی تھی اس لیے وہ ہال میں ایڈیٹر جسارت یحییٰ بن زکریا کے ساتھ چہل قدمی فرما رہے تھے۔ یہیں فیصل شہزاد صاحب بھی نظر آئے ۔یہاں پیاری فرزین لہرا بھی تھیں، خالد دانش بھی، معاذ معاویہ صاحب نے اپنی کتاب میرال کی گڑیا کا تحفہ بھی دیا ، معروف مترجم اسد الحسینی سے بھی ملاقات ہوئی اور انہوں نے بھی اپنی ایک عربی کتاب دی۔۔۔ ایک اسٹال پر ہمیں سر سلیم مغل اپنی نواسی کنزا کے ساتھ کتابیں خریدتے دکھائی دیے۔ ننھی کنزا بھی کتابوں کی خوشبو سے لطف اندوز ہو رہی تھیں۔۔۔ان کے ساتھ بک کارنر پر پہنچے تو وہاں علی اکبر ناطق اور گگن شاہد صاحب سے ملاقات ہوئی ۔ گگن صاحب نے ہمیں چائے پینے کی دعوت بھی دی لیکن کیا کریں کہ چائے ہمیں اچھی نہیں لگتی انہیں منع کرتے ہوئے بھی تھوڑا سا افسوس ہوا۔ بچوں کے کتاب گھر پر آئے تو دو پیاری پیاری بچیوں ایمن ، حبیبہ اور ان کی امی سے ملاقات ہوئی جو ہماری کہانیوں کی قاری نکلیں۔۔ انہوں نے ہم سے آٹو گراف لیا بچیوں کی خوشی دیکھ کر سچ پوچھیں تو ہمیں شاید ان سے زیادہ خوشی ہو رہی تھی ۔ اب چچا حاطب کی تقریب کا آغاز ہورہا تھا تو ہم اوپر تقریب میں چلے گئے جہاں حفصہ فیصل سے بھی ملاقات ہوئی ۔

    اگلی دن ہمیں ناجیہ شعیب صاحبہ ،فرزین لہرا، ان کی والدہ، آمنہ احسن، ایڈیٹر وی شائن نجیب حنفی صاحب ، ایڈیٹر ساتھی عبدالرحیم متقی ، سابق ایڈیٹر ساتھی اعظم طارق کوہستانی اور ساتھی کی دیگر ٹیم ممبران سے ملاقات ہوئی ۔ خوشی کی بات یہ بھی تھی کہ اس مرتبہ دسمبر کے ساتھی میں ہماری بھی ایک کہانی شامل ہے ۔
    اسما قادری سے بھی اچانک ملاقات ہوئی ۔۔ وہ کسی اور کو اپنا نام بتا رہی تھیں اور ہم نے وہیں انہیں پکڑ لیا۔۔۔

    ذوق شوق کے اسٹال پر مدیر صاحب نے ذوق شوق کا رسالہ اور ایک خوبصورت قلم کا تحفہ دیا۔۔
    اب کچھ کتابوں پر بات ہوجائے۔۔ اس مرتبہ بچوں کی اردو رنگین کتابوں میں کافی ورائٹی نظر آئی، دس بارہ صفحات پر مشتمل آرٹ پیپر پر رنگ برنگی تصویری کہانیوں کی قیمتیں پانچ چھ سو روپے تھیں جو بک فئیر میں آدھی قیمت پر دستیاب تھیں۔ ہال نمبر ایک اور ہال تین میں انگریزی ادب زیادہ تھا۔ بچوں کی انگریزی کتابیں بھی کافی معیاری قیمت پر تھیں۔ کہتے ہیں لوگ کتابیں نہیں پڑھتے لیکن یہاں تو بڑے، بچے بوڑھے سب ہی اپنی پسند کی کتابیں ڈھونڈ رہے تھے۔ کہیں اماں ابا بچوں سے پیسوں کے معاملے میں مک مکا کرتے بھی نظر آئے، میرا نہیں خیال کہ جو ان حالات میں (ایکسپو کے سامنے والی سڑک پر تعمیراتی کام کی وجہ سے ٹریفک) یہاں آئے، مہنگائی کے اس زمانے میں کتابیں خریدے اور پھر وہ پڑھے نا۔۔۔۔

    ہماری پیاری سہیلیاں صدیقی سسٹرز ہی دو دن میں ساٹھ کتابیں لے گئی ہیں۔ اور کتابیں بھی ایک سے بڑھ کر ایک ۔۔ اگر آپ کو اچھی کتابوں کے نام چاہییں تو گل رعنا صدیقی کی "دیوار "پر جھانک لیں۔۔
    عید کا اختتام ہوا۔ اب ان شاءاللہ کچھ کتابوں پر تبصرہ کتابیں پڑھنے کے بعد کرتے ہیں۔
    آپ نے بھی اس سال بک فئیر میں شرکت کی ؟ کیا آپ کو بھی ہماری طرح اس بک فئیر کا انتظار رہتا ہے ، ہاں جو کتابیں بک فئیر سے لی ہیں یا پڑھنے کے لیے جمع کر رکھی ہیں ان کے نام بھی بتا سکتے ہیں تاکہ ہمارے باقی احباب بھی مستفید ہو سکیں۔

    اے ذوق کسی ہمدمِ دیرینہ کا ملنا۔۔۔تحریر:راحت عائشہ

  • پنجاب محبت، انسانیت اور ادب کا درس دیتے شعراء کی سرزمین

    پنجاب محبت، انسانیت اور ادب کا درس دیتے شعراء کی سرزمین

    پنجاب محبت، انسانیت اور ادب کا درس دیتے شعراء کی سرزمین
    تحریر:حبیب اللہ خان
    پنجاب کی سرزمین تاریخی، ثقافتی اور روحانی خزانہ ہے، جہاں مختلف زبانوں، رنگوں اور عقائد کے لوگ ہم آہنگی سے رہتے ہیں۔ پنجاب سرائیکی، پنجابی اور اردو ادب سے تعلق رکھنے والے عظیم شعراء کی سرزمین ہے۔ اس خطے کی سرسبز وادیوں اور دریاؤں کے کنارے، جہاں قدرتی حسن کا جادو بکھرا ہوا ہے وہیں یہاں کے عظیم شعراء کی شاعری بھی عالمی ادب اور ثقافت کا حصہ بن چکی ہے۔ ان شاعروں کی تخلیقات نے محبت اور انسانیت کے پیغام کو دوام بخشا۔

    بابا فرید گنج شکر کی شاعری میں سادگی اور حقیقت پسندی کے ساتھ روحانیت کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔ ان کا پیغام واضح تھا کہ حقیقی سکون اللہ کی رضا میں ہے اور انسانیت کی خدمت عبادت کا لازمی جزو ہے۔ ان کے اشعار میں دکھ اور درد کی سچائیاں جھلکتی ہیں جو انسان کو اپنی حقیقت سے روشناس کراتی ہیں اور روحانی سکون کی جانب رہنمائی کرتی ہیں۔

    شاہ حسین مادھولال نے عشق و محبت کو اپنی شاعری کا محور بنایا۔ ان کا کلام سادگی اور اثر انگیزی کا شاہکار تھا، جو آج بھی لاہور کی گلیوں میں گونجتا ہے۔ ان کی شاعری ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ محبت کا راستہ سکون اور نفس کی تکمیل کا ذریعہ ہے۔

    سلطان باھو کی تصوف سے معمور شاعری نے پنجاب کی روحانی اقدار کو نئی جہت دی۔ ان کے کلام میں اللہ کی محبت کا جوش و جذبہ جھلکتا ہے جو انسان کو دنیاوی خواہشات سے بے نیاز ہوکر روحانی ترقی کی جانب گامزن کرتا ہے۔

    بابا بھلے شاہ اور سید وارث شاہ جیسے عظیم شعراء نے محبت اور انسانیت کے آفاقی پیغامات دیے۔ بابا بھلے شاہ کا کلام "منو میرا دل” آج بھی روح کو تازگی بخشتا ہے جبکہ سید وارث شاہ کی "ہیر رانجھا” نہ صرف محبت کی لازوال داستان ہے بلکہ سماجی و ثقافتی مسائل کی عکاس بھی ہے۔

    خواجہ غلام فرید اور میاں محمد بخش نے اپنی شاعری کے ذریعے محبت، انسانیت اور روحانیت کے پیغام کو عام کیا۔ ان کا کلام دلوں میں روشنی اور اندرونی حقیقتوں کا شعور پیدا کرتا ہے۔ ان کی تخلیقات روحانی تربیت اور سماجی ہم آہنگی کی راہ ہموار کرتی ہیں۔

    خواجہ غلام فرید کی کافیاں محبت، فطرت اور حسن کا حسین امتزاج ہیں۔ ان کے کلام میں خاص طور پر "پیلوں” جیسی کافیاں بہت مشہور ہیں، جن میں پنجاب کے دیہی کلچر اور محبت کا اظہار ہوتا ہے:

    آ چنوں رل یار ، پیلوں پکیاں نی وے

    کئی بگڑیاں کئی ساویاں پلیاں ،کئی بھوریاں کئی پھکڑیاں نیلیاں

    کئی اودیاں گل نار،کٹوئیاں رتیاں نی وے

    بار تھئی ہے رشک ارم دی،سک سڑ گئی جڑھ ڈکھ تے غم دی

    ہر جا باغ بہار،شاخاں چکھیاں نی وے

    حوراں پریاں ٹولے ٹولے،حسن دیاں ہیلاں برہوں دے جھولے

    یہ اشعار خواجہ غلام فرید کی شاعری کی گہرائی اور پنجاب اور خاص طورسرائیکی خطے کی خوبصورت منظرکشی کا عکاس ہیں جو آج بھی دلوں کو محبت اور سکون عطا کرتے ہیں۔

    معاصر شاعر واصف علی واصف نے اپنی شاعری میں نفسیات، معاشرتی مسائل اور روحانی ترقی کو اجاگر کیا۔ ان کے اشعار انسان کو اپنی ذات کی گہرائیوں کو سمجھنے اور زندگی کو نئے زاویے سے دیکھنے کی دعوت دیتے ہیں۔

    پنجاب کے ان عظیم شعراء کی میراث محبت، انسانیت اور روحانیت کا درس دیتی ہے۔ ان کی شاعری نہ صرف ادب کا سرمایہ ہے بلکہ زندگی کے حقیقی مقصد کو سمجھنے کا ذریعہ بھی ہے۔ ان کے پیغامات آنے والی نسلوں کے لیے روشنی کا مینار ہیں جو ہمیں اپنی اصل حقیقت سے جڑنے اور اعلیٰ مقاصد کی جانب بڑھنے کی ترغیب دیتے ہیں۔

    پنجاب کے یہ عظیم شعراء اپنی شاعری کے ذریعے انسانیت، محبت اور روحانیت کے آفاقی پیغام کو پھیلاتے رہے ہیں۔ ان کے کلام میں زبانوں اور ثقافتوں کا ایک حسین امتزاج ملتا ہے، جو پنجابی، سرائیکی اور اردو ادب کو ایک ہی رنگ میں سمو دیتا ہے۔ ان کا کلام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ادب اور شاعری کا مقصد انسان کو اس کی حقیقت، محبت اور اپنے رب کے قرب کی طرف لے جانا ہے۔ یہ پیغام آج بھی اتنا ہی تازہ اور موثر ہے جتنا کہ صدیوں پہلےتھا .

  • ایک صدی کا قصہ، ایم سی اسکول کی پروقار تقریب

    ایک صدی کا قصہ، ایم سی اسکول کی پروقار تقریب

    ایک صدی کا قصہ، ایم سی اسکول کی پروقار تقریب
    رپورٹ: ملک امان شجاع
    کیمبل پور (اٹک) میں واقع برصغیر پاک و ہند کی معروف علمی درسگاہ، گورنمنٹ ایم سی بوائز ہائی اسکول (سابق ایم سی مڈل اسکول کیمبل پور) نے 1924 سے 2024 تک ایک صدی مکمل ہونے پر ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا۔ اس یادگار تقریب میں اسکول کے سابق طلباء نے خصوصی طور پر شرکت کی۔

    تقریب میں شریک نمایاں شخصیات میں ملائیشیا میں پاکستان کے سابق سفیر لیفٹیننٹ جنرل طاہر محمود قاضی، سابق وفاقی وزیر ملک امین اسلم، ریٹائرڈ اسسٹنٹ کمشنر راجہ زاہد، اور دیگر شامل تھے۔ ان معزز شخصیات کو اس عظیم درسگاہ میں بنیادی تعلیم حاصل کرنے کا اعزاز حاصل رہا ہے۔

    سابق طلباء نے اپنے خطاب میں ماضی کی یادیں تازہ کیں۔ ان مقررین میں سابق ڈائریکٹر محکمہ صحت راولپنڈی ڈاکٹر خالد محمود خان، پروفیسر سید عاطف بخاری، ضلعی صدر مسلم لیگ (ن) محمد سلیم شہزاد، سابق وائس چیئرمین بلدیہ ملک طاہر اعوان، رہنما مسلم لیگ (ن) حاجی محمد اکرم خان، اور دیگر شامل تھے۔

    اسکول کے طلباء نے مختلف ٹیبلو اور پروگرام پیش کیے، جنہیں حاضرین نے خوب سراہا۔ خاتون ٹیچر میڈم سعدیہ کی زیر نگرانی طلباء نے برصغیر میں تعلیم کے عروج و زوال پر مبنی ڈیڑھ سو سالہ تاریخ اور اسکول کی صد سالہ تاریخ پر خاکہ پیش کیا، جس نے حاضرین کو متاثر کیا۔ محکمہ تعلیم کے افسران، اساتذہ، سول سوسائٹی، میڈیا نمائندگان، اور طلباء کے والدین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

    اس تقریب میں اسکول کے سابق طلباء کی خدمات کو سراہا گیا، جنہوں نے ملک اور بیرون ملک مختلف شعبوں میں اپنی قابلیت کا لوہا منوایا۔ ان میں شامل ہیں: احمد ندیم قاسمی (شاعر و ادیب)، سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل جاوید اشرف قاضی، سابق گورنر سندھ لیفٹیننٹ جنرل معین الدین حیدر، سابق وزیر و رکن قومی اسمبلی ملک محمد اسلم خان، سابق ایئر مارشل شفیق حیدر، معروف نعت گو شاعر انوار فیروز مرحوم، اور کئی دیگر نمایاں شخصیات۔

    پرنسپل محمد عارف نے صد سالہ تقریب کے انعقاد پر سابق طلباء کا شکریہ ادا کیا اور اسکول کی تعلیمی کامیابیوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ گورنمنٹ اسکولز میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء کو اپنی جیب سے ایک لاکھ روپے انعام دیں گے۔

    اسکول میں جدید آئی ٹی لیب اور جمناسٹک کی سہولت موجود ہے۔ پنجاب کے واحد باسکٹ بال گراؤنڈ کی تعمیر اپنی مدد آپ کے تحت مکمل کی گئی ہے۔ اسکول کے طلباء نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں۔

    برطانوی دور میں 1924 میں یہ ادارہ قائم ہوا اور وقت کے ساتھ مختلف ارتقائی مراحل سے گزرتا ہوا ایک معیاری درسگاہ بن گیا۔ اس کی پرانی عمارت ایک نایاب تاریخی ورثہ تھی، جو نئی عمارت کی تعمیر کے دوران منہدم کر دی گئی۔

    تقریب کے اختتام پر شرکاء کے اعزاز میں ظہرانہ دیا گیا اور نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلباء کو انعامات دیے گئے۔ لیفٹیننٹ جنرل طاہر محمود قاضی نے اعلان کیا کہ وہ ہر سال اعلیٰ کارکردگی کے حامل طلباء کو ٹرافی دیں گے۔

  • سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور،ایک المناک یاد اور عزم کا عہد

    سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور،ایک المناک یاد اور عزم کا عہد

    سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور،ایک المناک یاد اور عزم کا عہد
    تحریر:شاہد نسیم چوہدری
    16 دسمبر 2014 کی صبح، پشاور کی سرزمین نے ایک ایسا دردناک سانحہ دیکھا، جس کی گونج نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں محسوس کی گئی۔ آرمی پبلک سکول جو بچوں کے خوابوں اور مستقبل کی تعمیر کا مرکز تھا، اس دن دہشتگردی کا نشانہ بنا۔ اس اندوہناک واقعے نے پاکستان کی تاریخ میں ایک ایسا باب رقم کیا جو ہمیشہ دلوں کو دہلا دینے اور آنکھوں کو نم کرنے والا رہے گا۔

    پاکستان ایک طویل عرصے سے دہشتگردی کا شکار رہا ہے۔ 2000 کی دہائی سے دہشتگردوں نے نہ صرف ریاستی اداروں بلکہ عوام خصوصاً معصوم بچوں کو بھی نشانہ بنایا۔ سانحہ آرمی پبلک اسکول دہشتگردوں کی ایک بزدلانہ کارروائی تھی، جس کا مقصد ملک کے مستقبل کو تاریک کرنا تھا۔

    اس دن سات دہشتگردوں نے اسکول پر حملہ کیا۔ تقریباً نو گھنٹوں تک جاری رہنے والے اس قیامت خیز واقعے میں 132 معصوم طلباء اور 17 اساتذہ و عملے کے ارکان شہید ہوئے۔ سانحہ کی سب سے المناک بات یہ تھی کہ معصوم بچے جو صرف علم حاصل کرنے کے لیے سکول آئے تھے، بے دردی سے شہید کر دیے گئے۔ ان کا خون پورے معاشرے کو جھنجوڑ کر رکھ گیا۔

    سانحہ کے بعد شہید ہونے والے بچوں کے والدین نے صبر، حوصلے اور عزم کا مظاہرہ کیا جو ناقابل فراموش ہے۔ ان والدین نے اپنے غم کو طاقت میں بدل کر قوم کو یاد دلایا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ جاری رکھنی ہوگی۔ بہت سے والدین نے اپنی زندگی اس مشن کے لیے وقف کر دی کہ معصوم جانیں دوبارہ ضائع نہ ہوں۔

    اس سانحے نے واضح کر دیا کہ دہشتگردوں کا اصل ہدف تعلیم ہے۔ وہ جانتے تھے کہ تعلیم یافتہ نسل ہی وہ ہتھیار ہے جو انہیں شکست دے سکتی ہے۔ آرمی پبلک اسکول کے بچوں نے علم حاصل کرنے کی قیمت اپنی جانوں سے چکائی لیکن ان کی قربانی نے اس بات کو یقینی بنایا کہ تعلیم کے چراغ کبھی بجھنے نہ پائیں گے۔

    سانحہ آرمی پبلک اسکول کے بعد پوری قوم نے ایک عزم کیا کہ دہشتگردی کے خلاف یکجہتی سے لڑا جائے گا۔ اس واقعے کے بعد قومی ایکشن پلان تشکیل دیا گیا، جس کے تحت فوجی آپریشنز، انٹیلیجنس شیئرنگ اور دہشتگرد تنظیموں کے خلاف سخت اقدامات کیے گئے۔

    تعلیم کے تحفظ، قومی ہم آہنگی اور دہشتگردی کے خلاف یکجہتی کے لیے اس واقعے سے کئی سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ سانحہ ایک ایسا زخم ہے جو کبھی نہیں بھر سکے گا لیکن یہ زخم ہمیں یاد دلاتا رہے گا کہ ہمیں اپنے بچوں کے خون کا قرض چکانا ہے۔ یہ قرض اس وقت چکایا جا سکتا ہے جب ہم پاکستان کو ایک ایسا ملک بنا دیں جہاں نہ صرف تعلیم کا حصول ممکن ہو بلکہ ہر بچے کی زندگی اور خواب محفوظ ہوں۔

    ان معصوم شہداء کے لیے ہمارا سب سے بڑا خراج تحسین یہ ہوگا کہ ہم اپنے وطن کو دہشتگردی سے پاک کر کے ان کے خوابوں کو حقیقت میں بدلیں۔ ان بچوں کی قربانی ہمیں تعلیم، امن اور تحفظ کے قیام کا پابند کرتی ہے۔ یہ سانحہ ہمیشہ قوم کو دہشتگردی کے خلاف متحد رہنے کی یاد دلاتا رہے گا۔

  • میرا تن من نیلو نیل ! تحریر:ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

    میرا تن من نیلو نیل ! تحریر:ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

    مغل پورہ لاہور میں قتل ہونے والی انیقہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آچکی ہے ۔ سر سے پاؤں تک جسم مضروب ہے ۔ پڑھ کر دل دہل جاتا ہے کہ مرنے سے پہلے ہی انیقہ کا جسم بری طرح ٹوٹ پھوٹ چکا تھا ۔
    چکوال میں مرنے والی پروین کا جسم ضربات کی شدت سے نیلا اور پانی میں رہنے کی وجہ سے پھول چکا تھا ۔
    بھائی کے ہاتھوں تکیہ منہ پہ رکھ کر مرنے والی ارم کی زبان پھول کر منہ سے باہر نکل آئی تھی ۔
    ڈاکٹر سدرہ کا بھیجا کھوپڑی میں گولی لگنے کی وجہ سے سوراخ سے باہر بہہ نکلا تھا ۔
    ڈسکہ میں سسرال کے ہاتھوں مرنے والی زارا کا سر کہیں تھا ، ہاتھ اور پاؤں کہیں ۔ ہر ٹکڑا چھرے سے کاٹ کر علیحدہ کیا گیا تھا ۔
    ملتان میں پنکھے سے لٹکائی جانے والی بیٹی کا جسم تو مضروب تھا ہی گلا بھی دوپٹے کے نشان سے نیلا پڑ چکا تھا ۔
    گجرات میں ڈنڈے کی شدید ضربات سے حاملہ بیوی کی سب ہڈیاں چکنا چور تھیں ۔ وجہ بیوی کے پیٹ میں بچی کا موجود ہونا تھا ۔

    یہ کچھ عورتیں ہیں جن کا قتل منظر عام پہ آیا ۔ نہ جانے ان جیسی کتنی گمنام رہتے ہوئے لحد میں اتر گئیں اور کوئی جان ہی نہ سکا کہ ان کے جسم کہاں کہاں سے لہولہان ہوئے ۔
    پھر ہم سے سوال پوچھا جاتا ہے کہ ایک آدھ کیس ہو جاتا ہے اور آپ تمام مرد برادری کو ذمہ دار کیوں ٹھہراتی ہیں ؟ کیا نیک فطرت مردوں کا کال پڑ گیا ؟
    ہم تلخ ہنسی ہنستے ہوئے کہتے ہیں ، بےشک سب مرد ایسے نہیں ہوتے مگر ہر بار ایک مرد ہی تو ہوتا ہے ۔
    لیکن ہمارا بھی ایک سوال ہے ؟
    ہمیں پوچھنا ہے سب مردوں سے کہ گھریلو تشدد کے سلسلے میں وہ لکیر کے کس طرف کھڑے ہیں ؟ مخالفت ؟ موافقت ؟
    اگر آپ گھریلو تشدد کے مخالفین میں سے ہیں تو آپ اس کے خاتمے کے لیے کیا سوچتے ہیں ؟ آپ کا کردار اس میں کیا ہونا چاہیے ؟
    اور اگر آپ گھریلو تشدد کے حق میں ہیں تو کیا کبھی تجربہ کرنا چاہیں گے کہ جسم پہ ایک بھی ضرب لگے تو جسم کا کیا حال ہوتا ہے ؟ آپ اس کو جسٹفائی کیسے کرتے ہیں ؟ اگر آپ کی بیٹی اور بہن اس کا شکار بنیں تب آپ کا ردعمل کیا ہو گا ؟ کیا آپ کو دوسرے انسانوں پہ ہوتا ظلم مضطرب نہیں کرتا ؟
    اور اگر آپ نہ مخالف ہیں نہ موافق اور اس قضیے سے لاتعلق رہتے ہوئے ایک طرف ہو کر زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو تب آپ منافقین میں گنے جائیں گے کیونکہ ہر زندہ روح کی ایک رائے ، کردار اور فرض ہوتا ہے جو معاشرے کی بقا کے لیے ضروری ہوتا ہے ۔
    آپ کو جاننا چاہیے کہ یہ مسلہ مرد و عورت کا ہے ہی نہیں ، یہ طاقت اور اس کے استعمال سے حاصل ہونے والی اتھارٹی کی بھوک ہے جو اپنے سے کمزور کو گھائل کر کے اپنے دانت تیز کرتی ہے ۔ معاشرے میں عورت کمزور ترین طبقہ ہے جس کے گرد شکنجہ کسنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی ۔ عورت کا قتل معاشرے کے گدلے جوہڑ میں کچھ دن کے لیے ارتعاش پیدا کرتا ہے اور پھر خاموشی چھا جاتی ہے جب تک ایک اور نہ ماری جائے ۔
    انصاف کی تلاش میں ورثا عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں ۔ تاریخ پہ تاریخ پڑتی ہے ، ضمانتیں ہوتی ہیں اور فائلیں شب وروز کی گرد
    دبتی چلی جاتیں ہیں ۔ نہ قانون بدلتا ہے نہ لوگ بدلتے ہیں اور نہ ہی ریاست عورتوں کے سر پہ دست شفقت رکھنے کو تیار ہوتی ہے ۔
    حل کیا ہے ؟
    معاشرے کا ہر فرد اس کے متعلق نہ صرف آگہی رکھے بلکہ اس کو انتہائی برا سمجھتے ہوئے اس کے خلاف آواز اُٹھائے ۔ آوازوں کا قافلہ بنے جو نہ صرف دھرتی کو ہلائے بلکہ آسمان میں بھی شگاف ڈال دے ۔ یہ وقت کی ضرورت ہے ، انسانیت کا تقاضا ہے کہ عدم سے آنے والی روحوں کو کسی خانے میں تقسیم نہ کیا جائے اور طاقتور جسم ، کمزور جسم کو ملیامیٹ کرنے کی خواہش سے باز رہے ۔
    دنیا تب ہی گلزار ہو گی !

  • "ہمسفر کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کریں”تحریر:آمنہ

    "ہمسفر کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کریں”تحریر:آمنہ

    ہمارے قریبی ہیں ٖ میاں بیوی میں تعلقات اچھے نہیں تھے ٖ ناراضگی اتنی تھی کہ سالوں تک بچوں نے باپ کی شکل نا دیکھی ٖ وہ ماں کے پاس رہے ٖتقریباً پندرہ سال بعد باپ کے انتقال کی خبر آئی ٖ تب بچے جنازے پر گئے
    میرے ذہن سے بات ہی نہیں نکل رہی کہ باپ کو سالوں بعد اس طرح دیکھ کر بچوں کے دل پر کیا گزری ہوگی ٖ ملاقات ہوئی بھی تو وہ باپ سے بات نا کر سکے ٖ اسے گلے نا لگا سکے ٖ یہ کمی اور خالی پن اب ساری زندگی ان کے دل میں رہے گا وہ اس آخری چہرے کو کبھی بھول نہیں پائیں گے ٖ شاید اس وقت انہیں احساس ہوا ہوگا کہ ہمارا کیا نقصان ہوا ہے ٖ
    کیا ہوا ٖ کس کا قصور تھا ٖ کون وجہ بنا ٖ وہ ساری باتیں تو اب ختم ہوگئی نا ٖ
    میاں بیوی کا رشتہ بچوں کے بعد صرف ان دونوں کا نہیں رہتا ٖ اس میں بہتری یا بگاڑ بچوں میں برابر تقسیم ہوتا ہے ٖ آپس میں جتنے مرضی اختلافات ہوں ٖ بچوں کے ذہنوں میں گندگی نہیں بھرنی چاہیے ٖ ماں باپ جیسا رشتہ بچوں کی زندگی میں بہ
    ت اہمیت رکھتا ہے ٖ دونوں میں سے کسی ایک کو بھی یہ حق نہیں ہوتا کہ وہ بچوں کو اس سے محروم کرے ٖ
    آپ کے لڑائی جھگڑوں میں آپ ٖ بچوں کا بچپن ٖ انکی معصومیت چھین لیتے ہیں ٖ پھر انا اور ضد کی خاطر بچوں کے ذہنوں کو تار تار کر دیتے ہیں ٖ انکی شخصیت میں کبھی نا بھرنے والا خلا چھوڑ دیتے ہیں ٖ
    اسلئے چاہے مرد ہو یا عورت ہمسفر کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کریں ٖ
    ہمارا رشتہ سسٹم بھی عجیب ہے ٖ پورا خاندان رشتہ دیکھنے چلا جاتا ہے ٖ لیکن جن دو لوگوں نے آپس میں زندگی گزارنی ہوتی ہے انہیں موقع ہی نہیں ملتا کہ بات کر سکیں ٖ
    بیشک یہ نصیب کی بات ہے ٖ لیکن پھر بھی اس رسک کو کافی حد تک کم کیا جاسکتا ہے ٖ بیٹھ کر ایک دوسرے کے مزاج کی بات کر لی جائے ٖ عادات کا بتا لیا جائے ٖ خیالات کا اظہار کر لیا جائے ٖ
    صبر ٖ برداشت ٖ ساتھ اور وفا پر بات کر لی جائے ٖ تا کہ اندازہ ہوجائے سامنے والا انسان کس طبیعت کا مالک ہے اور ہم اس طبیعت کے ساتھ چل سکتے ہیں یا نہیں ٖ مکمل کوئی بھی نہیں ہوتا لیکن کس حد تک کمپرومائز کرنا پڑے گا ٖ اندازہ ہوجائے گا ( یہ بھی اس صورت میں ہی ممکن ہے جب سامنے والی اپنی اصلی شخصیت کو سامنے رکھے)
    رہی بات محبتوں میں ہوئی شادی کی ٖ کہ وہ بھی تو ناکام ہوتی ہیں ٖ
    تو میں اس حق میں ہوں کہ اگر آپ کو کسی سے محبت ہے تب بھی اختلافات کی گنجائش رکھیں ٖ اس بات کو بھی ذہن میں رکھیں کہ سب کچھ اچھا اچھا ہی نہیں ملے گا ٖ اگر کبھی سمجھانا ہوگا تو کسی وقت سمجھنا بھی پڑے گا ٖ کوئی بات منوانی ہے تو کبھی ماننی بھی پڑے گی ٖ کبھی معذرت بھی کرنی پڑ سکتی ہے
    ٖ وقت کے اتار چڑھاؤ میں آپ کو تحمل مزاجی سے کام لینا ہوگا ٖ محبت کا یہ مطلب نہیں ہے کہ مشکل وقت نہیں آئے گا ٖ تب آپ دونوں ایک الگ رشتے میں ہوں گے ٖ آپ کو اپنی ذات ٖ ایک دوسرے کے علاوہ ایک دوسرے کے رشتوں کو بھی دیکھنا ہوگا ٖ
    زندگی پھولوں کی سیج نہیں ہے ٖ کہیں کانٹوں سے بھی سامنا ہوسکتا ہے ٖ
    یہ محض چار دن نہیں پوری زندگی کی بات ہے ٖ
    اللہ پاک سے دعا کیا کریں وہ آپ کا نصیب کسی ظرف والے شخص سے جوڑیں ٖ کسی ایسے انسان کا ساتھ ہو جسکی قربت میں آپ زندگی کی دھوپ چھاؤں سکون سے گزار سکیں ٖ کوئی ایسا انسان جو آپ کے بچوں کا اچھا باپ یا اچھی ماں بن سکے ٖ
    ایسا جو حقیقی معنوں میں آپ کا گھر ہو ٖآمین