Baaghi TV

Category: بلاگ

  • دبستان بولان کا ماہانہ مشاعرہ

    دبستان بولان کا ماہانہ مشاعرہ

    پچھلے مہینے دبستان بولان اپنے سہ روزہ کل پاکستان ادبی میلے سے بہ حسن خوبی سبکدوش ہو کر نومبر سے پھر اپنے ماہانہ مشاعروں کا حسب معمول آغاز کر دیا ہے۔

    اب کے دس نومبر کو ایک محفل مشاعرہ منعقد ہوا جس میں ایک طویل غیر حاضری کے بعد سرجن ڈاکٹر اعظم بنگلزئی نے بھی شرکت کی جس کی عدم موجودگی کو دبستان بولان مسلسل محسوس کر رہا تھا اس غیر حاضری کی وجہ ان کی بیرون کوئٹہ منصبی ذمہ داریاں ہیں گویا وہ اس وقت شہر بدری کے عرصے میں زندگی گزار رہے ہیں بقول محسن بھوپالی:
    تادیر ہم بہ دیدۂ تر دیکھتے رہے
    یادیں تھیں جس میں دفن وہ گھر دیکھتے رہے
    ان کے علاوہ فارسی اور اردو کے معروف بزرگ شاعر سید جواد موسوی بھی کافی مدت کے بعد تشریف لائے تھے گویا مشاعرہ گاہ ایک ملاقات گاہ میں تبدل ہوا بقول امیر مینائی:
    امیر جمع ہیں احباب درد_دل کہہ لے
    پھر التفاتِ دلِ دوستاں رہے نہ رہے
    بہر حال مشاعرے کا آغاز تلاوت آیات پاک سے ہوا جس کی سعادت جناب قاری صادق علی نے حاصل کی جن کی دل موہ لینے والی تلاوت نے ایک وجدانی کیفیت پیدا کردی پھر انہوں نوجوانوں سے خطاب کے عنوان سے ایک خوبصورت فارسی نظم بہت خوبصورتی ترنم سے پیش کی آپ بھی بڑی مدت کے بعد رونق محفل بنے۔
    مشاعرہ کی صدارت سید جود موسوی نے کی جبکہ مہمان خاص سرجن ذاکر اعظم بنگلزئی تھے۔ نظامت کے فرائض حسب معمول دبستان کے اسٹیج سکریٹری پروفیسر اکبر ساسولی نے انجام دئیے۔ان کے علاوہ پروفیسر صدف چنگیزی، جناب شفقت عاصمی، جناب جرات علی رضی اور جناب عرفان عابد شریک مشاعرہ تھے۔

    اپووا کی تربیتی ورکشاپ،لکھاریوں کی تحسین

    یوم اقبال پر اپووا کی تقریب،تحریر:عینی ملک

    اپووا تربیتی ورکشاپ کی یادیں،تحریر: فیصل رمضان اعوان

    اپووا کی سنگ رنگی تقریب،تحریر:ریاض احمد احسان

    اپووا تربیتی ورکشاپ کے یادگار لمحات،تحریر:اورنگزیب وٹو

    اپووا کے زیر اہتمام افطار میٹ اپ کا اہتمام

    اپوواخواتین کانفرنس:حقوقِ نسواں کی توانا آواز

    مبشر لقمان سے آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات

    ایک خوبصورت اور یادگار ملاقات، گورنر ہاوس پنجاب میں،تحریر:فائزہ شہزاد

    باغی ٹی وی پر تحریریں شائع کروانے کے لئے ای میل کریں یا واٹس اپ کریں 03030204604

  • اپووا کی آٹھویں سالانہ تربیتی ورکشاپ اور ننھا لکھاری علی حیدر بھنڈر،تحریر:سجاد علی بھنڈر

    اپووا کی آٹھویں سالانہ تربیتی ورکشاپ اور ننھا لکھاری علی حیدر بھنڈر،تحریر:سجاد علی بھنڈر

    میں سرپرست اعلیٰ زبیر احمد انصاری ۔ ایم ایم علی بانی و چیئرمین اپووا ۔ صدر حافظ زاہد محمود اور آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے دیگر عہدیداران کا دل سے مشکور ہوں کہ انھوں نے میرا ایک دیرینہ خواب شرمندہ تعبیر کروایا ۔اپووا کے پلیٹ فارم پر محترم زبیر احمد انصاری اور ایم ایم علی صاحب کی گراں قدر خدمات لائق تحسین ہیں ۔میں ایک ادنیٰ سا گمنام کالم نگار ہوں اور ایک عرصے سے فیس بک پر اپووا میں شامل سینئر لکھاریوں کی تحاریر پڑھ رہا تھا اور سوچتا تھا کہ کاش میں بھی کبھی ان کی صف میں شامل ہو پاؤں گا کہ نہیں !پھر ایک دن اچانک اپووا کے فیس بُک پیج پر مجھے میرے ہی نام کا پوسٹر نظر آیا ۔
    اللّٰہ اکبر
    میری خوشی کی تو کوئی انتہا ہی نہیں تھی میں نے ایم ایم علی بھائی کو میسنجر پر سلام پیش کیا اور انھوں نے اپنا نمبر سینڈ کر دیا ۔اور یوں پہلی بار میرا رابطہ میرے محسن کے ساتھ ہوا ۔میں دل سے شکر گزار ہوں اور ایم ایم علی صاحب کے لیے ہمیشہ دعا گو ہوں سر اللّٰہ تعالیٰ آپ کو ہمیشہ شاد و آباد رکھے اور مزید عزت و تکریم سے نوازے ۔
    اب باری تھی تربیتی ورکشاپ میں جانے کی ۔ الحمدللہ علی حیدر بھنڈر میرا اکلوتا نور چشم ہے اور میں اپنی ساری زندگی کی دینی و دنیاوی جمع پونجی خرچ کر کے اسے ایک پہچان دینا چاہتا ہوں اور شہرت اور مقبولیت کے اعلیٰ مقام پر دیکھنا چاہتا ہوں ۔علم و ادب اور تہذیب و تمدن ہمیشہ میرے پسندیدہ مشاغل میں سر فہرست رہے ہیں ۔ لہذا میں علی حیدر بھنڈر میں بھی وہی گن بھرنا چاہتا ہوں ۔اسی لیے میں نے ایم ایم علی صاحب سے گزارش کی کہ مجھے علی حیدر کو ساتھ لانے کی اجازت دیں جس پر انھوں نے بخوشی اظہار مسرت فرمایا ۔

    دراصل میں علی حیدر کو کامیاب لوگوں کی کامیابی کی داستانیں ان کی اپنی زبانی سنوانا چاہتا تھا تاکہ علی حیدر کے دل میں بھی ادب سے محبت کا پودا پروان چڑھ سکے ۔لہذا ہم ایک پھولوں کا خوبصورت گلدستہ لے کر بروقت پر منزل مقصود ہیریٹیج ہوٹل جا پہنچے ۔ایم ایم علی بھائی نے کھلے بازو ہمارا استقبال کیا اور علی حیدر کے سر پر دست شفقت پھیرا ۔بس پھر ہم بھی تقریب کا حصہ بن گئے ۔ تلاوت قرآن پاک اور نعت رسول مقبول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سے آغاز ہوا اور پھر ایک ایک کرکے مقررین نے حاضرین محفل سے خطاب فرمایا ۔اپووا تربیتی ورکشاپ میں شامل سینئر صحافیوں ۔ ادیبوں ۔ شعراء کرام اور ڈراما نگاروں کے خصوصی لیکچرز پیش کیے گئے جس کی چند جھلکیاں آپ کی بصارتوں کی نذر۔

    قلم کاروں ‘ لکھاریوں‘صحافیوں ‘ادیبوں اور شاعروں کی نمائندہ جماعت آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن(اپووا)کے زیر اہتمام نوآموز لکھاریوں اور شعبہ صحافت سے تعلق رکھنے والے طلبہ و طالبات کیلئے تربیتی ورکشاپ کا اہتمام کیا گیا جس میں ملک کے نامور لکھاریوں ، صحافیوں ۔ ادیبوں ۔ شاعروں ۔ ادارکاروں اور ڈاکٹرز سمیت دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شریک ہوئے۔سینئر صحافی و کالم نگار ارشاد عارف ۔معروف اینکر پرسن ریحام خان ۔ لیجنڈ اداکارہ عذرا آفتاب اور میگھا جی ۔ لیجنڈ اداکار غلام محی الدین ۔ بہترین مصنف و ادکار افتخار حسین افی ۔ موٹیویشنل سپیکر اختر عباس ۔ معروف مزاح نگار گل نوخیز اختر ۔ سینئر صحافی عنبرین فاطمہ ۔ معروف شاعر و استاد پروفیسر ناصر بشیر ۔ نامور ادیب ڈاکٹر ہارون الرشید ۔ افسانہ نگار طارق بلوچ صحرائی ۔ معروف نعت خواں الحاج اختر حسین قریشی ۔ نوجوان نسل کے معروف شاعر اتباف ابرک ۔ رپورٹر جیو نیوز دعا مرزا ۔ تجزیہ نگار نوید چوہدری ۔ معروف شاعر میجر ریٹائرڈ شہزاد نیر ۔ معروف شاعرہ مہوش لاشاری ۔ میگزین ایڈیٹر ندیم نذر ۔ عقیل انجم اعوان ۔ ریاض احمد احسان اور ندیم اختر سمیت دیگر نے شرکت کی اور نئے لکھنے والوں کو اپنی تحاریر کو جاذب اور خوبصورت بنانے کے لئے مختلف تجاویز دیں ۔ مقررین کا کہنا تھا کہ صرف لکھنا کوئی معنی نہیں رکھتا بلکہ اچھا اور بہترین لکھنا ہی آپ کو بے مثال بناتا ہے ۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ پڑھیں اور پڑھتے رہیں کیونکہ اچھا لکھاری ہوتا ہی وہی ہے جو اچھا پڑھنے والا ہو ۔ خواتین مقررین کا کہنا تھا کہ خواتین اب ہر میدان میں مردوں کے شانہ بشانہ ہیں بلکہ بعض جگہوں پر مردوں سے بھی ایک قدم آگے ہیں اور یہ ہمارے لیے فخر کی بات ہے ۔ صحافت میں بھی خواتین کو آگے آنا چاہیے ۔
    تقریب میں ملک بھر سے آئے ہوئے لکھاریوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی اور ہال اپنے وسیع ہونے کے باوجود تنگی داماں کا منظر پیش کرتا رہا ۔ دورانِ تقریب اپنے شعبے میں اعلیٰ کارکردگی دکھانے والوں کو ایوارڈ ۔ میڈل اور تعریفی اسناد سے نوازا گیا ۔ اس ورکشاپ کی ایک بڑی خوبصورتی یہ تھی کہ اس میں ’’میڈیکل کیمپ‘‘ بھی لگایا گیا تھا اور ڈاکٹرز کا ایک پورا پینل وہاں فری چیک اپ کرنے کے لیے ورکشاپ کے اختتام تک موجود رہا اور شرکاء اپنے طبعی مسائل اُن کے ساتھ ڈسکس کرتے رہے ۔ آخر میں اپووا انتظامیہ نے یہ عہد کیا کہ ان شاء اللہ آئندہ بھی ایسے کامیاب پروگرام کرواتے رہیں گے اور تنظیم کا گراف انشاءاللہ العزیز مزید اوپر جائے گا ۔تقریب کے اختتام پر شرکاء کے لیے پرتکلف ظہرانہ کا اہتمام کیا گیا تھا ۔دھند اور سموگ کی وجہ سے موسم کی خرابی کے باوجود دور دراز سے آنے والے شرکاء کا اپووا کے عہدیداران کی جانب سے خصوصی شکریہ ادا کیا گیا,اور یوں آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی آٹھویں سالانہ تربیتی ورکشاپ اختتام پذیر ہوئی ۔

    اب واپس آتے ہیں علی حیدر بھنڈر صاحب کی جانب ۔علی حیدر کی خواہش تھی کہ اس کے بابا جان بھی اسٹیج پر جائیں اور خطاب کریں ۔شیلڈز اور ایوارڈ کی تقسیم ہوئی ۔ میڈلز اور اسناد بھی تقسیم کئے گئے ۔علی حیدر یہی سوچتا رہا کہ اس کے بابا جان کے حصے میں بھی کچھ نہ کچھ تو ضرور آئے گا ۔یہی وجہ تھی کہ علی حیدر 2 بار شیلڈز والی ٹیبل پر گیا اور ایک ایک نام پڑھ کر اپنے بابا جان کا نام تلاشتہ رہا ۔علی حیدر پھر بھی پر امید تھا کہ شاید اس کی تلاش میں کوئی کمی رہ گئی ہوگی اور بابا جان کا نام اسے نظر ہی نہیں آیا ہو گا وہ تقریب کے آخری لمحات تک پر امید تھا ۔کیونکہ اس کے بابا جان اس کے لیے سب سے اچھے ہیں ۔ وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ وہ جس مقام پر آج اپنے بابا جان کے ساتھ آیا ہے اس کے بابا جان عمر میں چاہے بڑے تھے لیکن علم و ہنر اور تجربے کے لحاظ سے سب سے جونیئر تھے ۔بحرحال ایم ایم علی صاحب کی شفقت سے ملنے والے خوبصورت لفافہ میری لاج رکھ گیا اور اس میں سے ایک تعریفی سند بھی مل گئی لہذا میں نے اس سند پر ننھے لکھاری علی حیدر بھنڈر کا نام لکھا اور افتخار افی صاحب سے گزارش کی کہ ہمارے ساتھ ایک تصویر بنوا لیں ۔ افتخار افی صاحب نے ہمارا مان بڑھایا اور ایک یادگار تصویر بنوا کر شفقت فرمائی ۔
    شکریہ سر سلامت رہئے ۔

    سیالکوٹ سے آئیں فاکہہ قمر آپی نے بھی علی حیدر کے ساتھ یادگار تصویر بنوائی جو انشاء اللّٰہ اسے مستقل میں اعزاز محسوس ہو گا ۔ریاض احمد احسان صاحب نے علی حیدر کی آٹو گراف ڈائری پر سب سے پہلا آٹو گراف دیا اور خوب محبت کا اظہار کیا ۔ثناء آغا خان میری پیاری سی چھوٹی بہن نے بھی علی حیدر کو آٹو گراف دیا اور ڈائری میں نصیحت رقم کی کہ علی حیدر والدین بہت قیمتی ہیں ان سے محبت کرو اور ہمیشہ خوش رہو ۔مشہور شاعرہ مہوش لاشاری صاحبہ نے بے خیالی میں لی گئی علی کی تصویر اسٹیج پر ان کے ساتھ دیکھ کر شکوہ لکھا کہ انھیں متوجہ کیوں نہیں کیا گیا ۔ورنہ میں خود علی حیدر کے ساتھ ایک یادگار تصویر بنواتی ۔یہ واقعی ان کا بڑاپن ہے ۔ اللّٰہ تعالیٰ آپ کو ہمیشہ خوش رکھے آپی انشاء اللّٰہ میری پوری کوشش ہے کہ بہت جلد علی حیدر شاعروں اور ادیبوں کی فہرست میں شامل ہو جائے ۔

    ماشاءاللہ علی حیدر بھنڈر پلے گروپ سے ہر سال مسلسل فرسٹ پوزیشن کی شیلڈ حاصل کرتا آ رہا ہے ۔اور الحمدللہ اس کے بابا جان نے بھی ہر شعبے میں ہمیشہ نمایاں کامیابی حاصل کی ہے اور صحافی ہونے کے ناطے کسی بھی صحافی کا ڈپٹی کمشنر لاہور سے آن ریکارڈ شیلڈ حاصل کرنا بھی ایک منفرد روایت ہے ۔میں دل کی گہرائیوں سے آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلیٰ زبیر احمد انصاری ۔ بانی و چیئرمین ایم ایم علی ۔ صدر حافظ زاہد محمود اور جن بہن بھائیوں کے نام مجھے یاد نہیں ان سب کا شکر گزار ہوں ۔اللّٰہ تعالیٰ آپ سب کو ہمیشہ شاد و آباد اور مزید کامیابیوں سے سرفراز فرمائے ۔
    آمین ثم آمین یا رب العالمین

    اپووا کی تربیتی ورکشاپ،لکھاریوں کی تحسین

    یوم اقبال پر اپووا کی تقریب،تحریر:عینی ملک

    اپووا تربیتی ورکشاپ کی یادیں،تحریر: فیصل رمضان اعوان

    اپووا کی سنگ رنگی تقریب،تحریر:ریاض احمد احسان

    اپووا تربیتی ورکشاپ کے یادگار لمحات،تحریر:اورنگزیب وٹو

    اپووا کے زیر اہتمام افطار میٹ اپ کا اہتمام

    اپوواخواتین کانفرنس:حقوقِ نسواں کی توانا آواز

    مبشر لقمان سے آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات

    ایک خوبصورت اور یادگار ملاقات، گورنر ہاوس پنجاب میں،تحریر:فائزہ شہزاد

  • سبز خط اور شرمیلا لکھاری ،تحریر:مجیداحمد جائی

    سبز خط اور شرمیلا لکھاری ،تحریر:مجیداحمد جائی

    سجادجہانیہ کے بقول ادب اطفال کے ذیل میں دبستان ِملتان کا جائزہ لیا جائے تو یہاں علی عمران ممتاز اپنے نام کی طرح ایک منفرد اور ممتاز حیثیت کے حامل نظر آتے ہیں ۔ادب اطفال کو ذریعہ ِاظہار بنا کر انھوں نے ملکی سطح پر شہرت اور شناخت پائی ہے ۔علی عمران ممتاز ادب اِطفال پر تیرہ کتب اب تک تصنیف کر چکے ہیں جن میں سے دو کو صدارتی ایوارڈ سے نوازاجاچکا ہے ۔یہ امر دبستان ِملتان کے لیے نہایت خوش کن اور قابل ِفخر و اعزاز ہے ۔

    ”سبزخط“علی عمران ممتاز کی بچوں اور ٹین ایجرز کے لیے لکھی گئی کہانیوں پر مشتمل کتاب ہے ۔یہ پڑھنے میں کہانیاں ہیں ۔سمجھنے میں راہی کوراستادکھاتی ہیں ۔نصیحتیں کرتی یہ کہانیاں ہمیں سیرت طیبہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سنت وحدیث پر عمل پیرا ہونے کا درس دیتی ہیں ۔بچوں اور بڑوں کو کہانی کے انداز میں درس دینا بہترین حکمت عملی ہے ۔ہر کہانی کا انداز الگ ہے ۔یہی وجہ ہے کہ بچے کہانی میں مکمل طور پر دل چسپی لیتے ہیں اور متاثر ہوتے ہیں ۔

    علی عمران ممتاز ”پہلی بات“میں قلم فرسائی کرتے ہوئے کہتے ہیں ”میری کوشش رہی ہے کہ تعلیمات نبوی کی روشنی میں بچوں کو روشن راہ دکھا سکوں اور بچوں کو بتا سکوں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ،اللہ کے محبوب اور آخری نبی ہیں ۔آپ کے بعد نہ کوئی نبی ہے اور نہ ہی آئے گا۔آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور آپ کی حیات ِمبارکہ بچوں ہی نہیں بڑوں کی عملی زندگی کے لیے بہترین نمونہ ہے ۔”سبزخط“کتاب بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔

    اختر عباس،علی عمران ممتاز کے بارے میں لکھتے ہیں ”اللہ جی انسانوں کی بھیڑ میں کم کم لوگوں کو ممتاز کرتے ہیں ۔ہم نے البتہ اپنی آنکھوں سے ملتان کے ایک نوعمر لڑکے کو اللہ جی کی رحمت کے سائے میں آتے اور پھر دھیرے دھیرے علی عمران ممتاز بنتے اور لکھنے والوں میں ممتاز ہوتے ہوئے دیکھا ہے ۔اب اس کی پہچان محنت کش قاری و لکھاری کی نہیں ہے بلکہ اس کا تخلیقی کام اپنی خوب صورتی ،وسعت اور مقدار میں بھی نظر آتا ہے ۔اب وہ دو رسائل کے مدیر اعلیٰ ہونے کی کامیابی سے آسودہ ہے ۔کتنی ہی کتابیں اس کے قلم سے لکھی اور ترتیب پاگئی ہیں ۔”سبز خط“کی کہانیاں اس کے اعزازت میں اضافے کا باعث بننے والی ہیں ۔
    ریاض عادل لکھتے ہیں ”سبز خط“علی عمران ممتاز کی بچوں کے لیے کہانیوں کی نئی کتاب ہے جسے ہم سیرت کہانی یا حدیث کہانی کے زمرے میں رکھ سکتے ہیں ۔علی عمران ممتاز نے تعلیمات ِنبوی کی روشنی میں ،بچوں کو کہانیوں کی صورت میں ،سماجی بُرائیوں سے دور اور محفوظ رہنے کی تعلیم دی ہے ۔علی عمران ممتاز کی کہانیاں بچوں کو یہ باور کرانے کی ایک بھر پور کوشش ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ ہمارے لیے ایک مکمل نمونئہ حیات ہے ۔سماجی بگاڑسے بچنے کی واحد صورت یہی کہ بچوں کو جو ہمارا مستقبل ہیں ،سیرت طبیہ کے مختلف پہلوﺅں سے روشناس کروایا جائے۔

    علی عمران ممتازکی شخصیت اپنے اندر نام کی طرح تمام تر خوبیاں رکھتی ہے ۔خود میں بھی دو دہائیوں سے علی عمران ممتاز کو پڑھ اور دیکھ رہا ہوں ،مل رہا ہوں ،سمجھ رہاہوں۔کئی سفرایک ساتھ ہوئے ۔محفلیں سجیں،طبیعت کا شرمیلا یہ نوجوان اپنے اندر بے پناہ خوبیاں رکھتا ہے ۔اندازدھیما،گفتار سے گھبرانے والا ،قلم فرسائی کا شاہ سوار،لبوں پر مسکراہٹ رکھنے والا مردِقلندر ہے ۔ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرنے والا ،اللہ سے محبت کرنے والا اور اسی ذات کریمی کا ذکر کرنے والا ہے ۔اس کی کامیابی و شہرت کی یہی وجہ ہے ۔اسی کے نام سے یہ مقام پاتا ہے اور نوازا گیا ہے ۔اس کی زندگی کے کئی پہلوہیں اور ہر پہلو اپنے اندر ایک جہاں رکھتا ہے ۔
    اس کا قلم محترک اور جوان ہے ۔اسلوب ِنگارش سادہ اور رواں ہے ۔زبان آسان اور عام فہم ہے ۔یہ دلوں میں اُتر جانے کا ہنر جانتا ہے ۔یہی چیز اس کی تحریروں میں جھلکتی ہے ۔چاہے کہانی ہو یا افسانہ ،ناول ہو ناولٹ۔ملنسار اور ہنس مکھ نوجوان (جوشاید اب نہیں )ہر دل میں اپنی جگہ بنانے کا ہنر جانتا ہے ۔اسی کے قلم سے موتی بن کر نکلنے والے لفظ”سبز خط“کی صورت ہمارے سامنے ہیں۔

    ”سبز خط“مجھے دو بار پڑھنے کا اتفاق ہوا ہے ۔اس کا پروف بھی کیا ہے ۔اس کتاب میں کل چودہ (14) کہانیاں ہیں ۔ہر کہانی اپنے الگ اسلوب سے متاثر کرتی ہے ۔”سبزخط“سر ورق کہانی ہے ۔اس تخیلاتی کہانی نے رونگٹے کھڑے کر دئیے ہیں ۔ایک یتیم بچی جو قبرستان میں اپنی بڑی بہن کے ساتھ جھونپڑی میں رہتی ہے ۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خط لکھتی ہے اور اپنا حال ِ دل بیان کرتی ہے اور مدد کے لیے بلوادیتی ہے ۔خط پر واپسی کا پتا لکھنا بھول جاتی ہے ۔جب ڈاکیا وہ منفرد خط دیکھتا ہے تو گھر بیوی سے ذکر کرتا ہے ۔ان کی اولاد نہیں ہوتی ۔ڈاکیا اس بچی سے ملنا چاہتا ہے لیکن خط سے معلومات نہیں ملتی ۔اسی کش مکش میں دوسرا خط بھی مل جاتا ہے ۔جس پر واپسی کا پتا درج ہوتا ہے ۔ڈاکیا کی مشکل آسان ہو جاتی ہے اور وہ اس بچی تک پہنچ جاتے ہیں ۔آگے کیا ہوتا ہے یہ کہانی پڑھ لیجیے ۔میری طرح آپ بھی نم دیدہ ہو جائیں گے ۔
    ”سبزخط“کی چند منفرد کہانیوں کے عنوان دیکھیے ”جنت کی مٹی “۔”میں کون ہوں “،یہ انعام تمھارا ہے “نیا گھر “اور”بارہ سو ساٹھ روپے “وغیرہ ۔معروف بچوں کے لکھاری ریاض عادل ،مزاح نگار حافظ محمد مظفر محسن اور نامورکالم و کہانی کار سجاد جہانیہ نے قلم فرسائی کرکے لکھاری اور اس کے فن پر سیرحاصل گفت گو کی ہے ۔
    ”سبز خط“کا انتساب ان بچوں کے نام کیا گیا ہے جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پاک کو اپنے لیے مشعل ِراہ مانتے ہیں اور آپ کی سنت و احادیث مبارکہ پر عمل کرتے ہیں ۔کرن کرن روشنی پبلشرز نے فروری 2014ءمیں شائع کی ہے ۔سرورق معظم حسن واصفی نے تخلیق کیا ہے ۔کتاب کی قیمت سات سو روپے ہے اور کرن کرن روشنی پبلشرز سے رابطہ کرکے منگوائی جا سکتی ہے ۔سجادجہانیہ کے ساتھ اتفاق کرتے ہوئے میں بھی پُر اُمید ہوں کہ خالق ارض و سماعلی عمران ممتاز کو اس میدان میں استقامت و کامیابی سے ہم کنار کرتا ہے اور کرتا رہے گا ۔ان شاءاللہ ۔

    اپووا کی تربیتی ورکشاپ،لکھاریوں کی تحسین

    یوم اقبال پر اپووا کی تقریب،تحریر:عینی ملک

    اپووا تربیتی ورکشاپ کی یادیں،تحریر: فیصل رمضان اعوان

    اپووا کی سنگ رنگی تقریب،تحریر:ریاض احمد احسان

    اپووا تربیتی ورکشاپ کے یادگار لمحات،تحریر:اورنگزیب وٹو

    اپووا کے زیر اہتمام افطار میٹ اپ کا اہتمام

    اپوواخواتین کانفرنس:حقوقِ نسواں کی توانا آواز

    مبشر لقمان سے آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات

    ایک خوبصورت اور یادگار ملاقات، گورنر ہاوس پنجاب میں،تحریر:فائزہ شہزاد

  • پنجاب میں سموگ،اس کا سبب اور حل

    پنجاب میں سموگ،اس کا سبب اور حل

    صوبہ پنجاب میں سموگ ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے، جو ہر سال موسم خزاں میں شدت اختیار کرتا ہے۔ لاہور اور دیگر بڑے شہر اس کا سب سے زیادہ شکار ہوتے ہیں، جہاں اس کا اثر نہ صرف ماحولیاتی آلودگی پر پڑتا ہے بلکہ عوامی صحت بھی شدید متاثر ہوتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ سموگ کا اصل سبب کیا ہے اور اس کا حل کیا ہو سکتا ہے؟

    سموگ ایک قسم کی فضائی آلودگی ہے جو عام طور پر دھند اور مضر مادوں کے ملاپ سے پیدا ہوتی ہے۔ پنجاب میں سموگ کی سب سے بڑی وجہ مختلف عوامل ہیں جن میں سے کچھ یہ ہیں

    ٹریفک کا زیادہ رش
    لاہور، فیصل آباد اور دیگر بڑے شہروں میں ٹریفک کا دباؤ بڑھنے سے گاڑیوں سے نکلنے والے دھوئیں کی مقدار میں اضافہ ہوتا ہے، جو سموگ کا باعث بنتا ہے۔

    کھیتوں کی جلانے کی وجہ سے
    فصلوں کی باقیات کو جلانے کی عادت بھی سموگ کے پھیلنے کا ایک اہم سبب ہے۔ کھیتوں کے قریب رہنے والے کسانوں کے لئے فصلوں کو جلانا آسان طریقہ لگتا ہے، لیکن اس سے بے شمار زہریلے مادے فضاء میں پھیل جاتے ہیں۔

    صنعتوں کا دھواں
    لاہور اور اس کے اطراف میں کئی صنعتیں اور کارخانے ہیں جو دھوئیں کا اخراج کرتے ہیں۔ یہ دھواں بھی سموگ میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔

    موسمی تبدیلیاں
    پنجاب میں سردیوں کے موسم میں درجہ حرارت کی کمی اور ہوا کی رفتار میں کمی سموگ کو پھیلنے میں مدد دیتی ہے۔ سردیوں میں ہوا نیچے کی طرف رہتی ہے، جو کہ آلودہ ہوا کو زمین کے قریب روک کر سموگ کی صورت میں جمع ہونے کا باعث بنتی ہے۔

    سموگ کے اثرات
    سموگ کا اثر صرف فضائی آلودگی تک محدود نہیں ہے۔ اس کے کئی سنگین نتائج ہیں، سموگ کی وجہ سے سانس کی بیماریاں، گلے کی بیماریوں اور آنکھوں میں جلن جیسی شکایات عام ہو جاتی ہیں۔ یہ بچوں اور بزرگوں کے لئے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔سموگ کی وجہ سے دھند میں اضافہ ہو جاتا ہے جس سے روڈ حادثات اور ٹریفک کے مسائل بڑھتے ہیں۔ یہ دیکھنے کی صلاحیت میں کمی کا باعث بنتا ہے اور حادثات کا خطرہ بڑھاتا ہے۔موگ کے اثرات قدرتی ماحول پر بھی پڑتے ہیں۔ یہ زمین کے درجہ حرارت کو بڑھاتا ہے اور ماحولیاتی توازن میں خلل ڈالتا ہے۔

    سموگ کے حل کے لئے اقدامات
    سموگ کا مسئلہ پیچیدہ ضرور ہے، لیکن اس پر قابو پانے کے لیے کئی موثر اقدامات کیے جا سکتے ہیں،حکومت کو کسانوں کو متبادل طریقے فراہم کرنے ہوں گے تاکہ وہ فصلوں کی باقیات جلانے کی بجائے انہیں مختلف طریقوں سے تلف کریں۔ حکومت کو ان کسانوں کے لئے مالی مراعات یا ٹیکنالوجی فراہم کرنی چاہئے تاکہ وہ بہتر طریقے اختیار کر سکیں۔زیادہ سے زیادہ پبلک ٹرانسپورٹ سروسز شروع کر کے نجی گاڑیوں کا استعمال کم کیا جا سکتا ہے۔ یہ نہ صرف سموگ کو کم کرے گا بلکہ شہر میں ٹریفک کے دباؤ کو بھی کم کرے گا۔صنعتوں کو معیاری فلٹرز لگانے اور آلودگی کو کم کرنے کے لئے جدید ٹیکنالوجیز استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت کو سخت قوانین بنانا ہوں گے تاکہ آلودہ فضاء میں مزید اضافہ نہ ہو۔درخت ماحول کو صاف رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ حکومت کو شہروں میں زیادہ درخت لگانے کی مہم چلانی چاہیے تاکہ وہ آلودہ ہوا کو جذب کر سکیں۔عوام کو سموگ کے خطرات اور اس سے بچاؤ کے طریقوں کے بارے میں آگاہ کرنا بہت ضروری ہے۔ یہ آگاہی اسکولوں، کالجوں اور میڈیا کے ذریعے دی جا سکتی ہے۔

    سموگ کا مسئلہ ایک سنگین چیلنج ہے جس سے نمٹنے کے لئے ہم سب کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت، صنعتوں، کسانوں اور عوامی سطح پر مشترکہ کوششیں ہی اس مسئلے کو حل کرنے کی بنیاد فراہم کر سکتی ہیں۔ اگر ہم آج سے ہی اس مسئلے کے حل کی طرف توجہ دیں، تو مستقبل میں پنجاب کا ماحول زیادہ صاف اور صحت مند ہو سکتا ہے۔

  • مہربانی کا عالمی دن: دنیا کو بہتر بنانے کی ایک چھوٹی سی کوشش

    مہربانی کا عالمی دن: دنیا کو بہتر بنانے کی ایک چھوٹی سی کوشش

    دنیا میں جہاں ہر طرف مصروفیت اور مقابلہ بازی کا دور دورہ ہے، وہیں مہربانی اور انسانیت کی اہمیت بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ ہر سال 13 نومبر کو "مہربانی کا عالمی دن” منایا جاتا ہے تاکہ لوگوں میں دوسروں کے ساتھ نرمی، ہمدردی اور مدد کے جذبے کو فروغ دیا جا سکے۔

    مہربانی کا مطلب صرف کسی کو مالی طور پر مدد دینا یا کسی کی مشکل وقت میں مدد کرنا نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسا رویہ ہے جو انسانوں کے درمیان محبت، احترام اور دوستی کو بڑھاوا دیتا ہے۔ مہربانی کسی بھی چھوٹے یا بڑے عمل کی صورت میں ہو سکتی ہے، جیسے کسی کی مدد کرنا، کسی کو مسکراہٹ دینا، کسی کے درد میں شریک ہونا، یا بس کسی کے لیے اچھے الفاظ کہنا۔ مہربانی کے عالمی دن کا مقصد دنیا بھر میں انسانوں کے درمیان حسن سلوک، محبت اور تعاون کو فروغ دینا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد یہ ہے کہ ہم اپنے معاشرتی رویوں کو بہتر بنائیں، ایک دوسرے کے ساتھ حسن سلوک کریں، اور دوسروں کی مدد کے لیے تیار رہیں۔ اس دن کو منانے سے نہ صرف فرد کی زندگی میں خوشی آتی ہے، بلکہ پورے معاشرتی نظام میں محبت اور امن کی فضا بھی قائم ہوتی ہے۔

    مہربانی کے فوائد
    مہربانی صرف دوسروں کے لیے ہی فائدہ مند نہیں ہوتی، بلکہ یہ ہمارے اپنے لیے بھی بہت فائدہ مند ہے۔ جب ہم کسی کی مدد کرتے ہیں یا کسی کے ساتھ مہربانی سے پیش آتے ہیں، تو ہمیں ذہنی سکون ملتا ہے اور دل کو خوشی کا احساس ہوتا ہے۔ مہربانی ہمارے اندر سے خود غرضی اور غصے کو کم کرتی ہے، اور ہمیں خوشی کی طرف مائل کرتی ہے۔ اس کے علاوہ، یہ ہمارے رشتہ داروں اور دوستوں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بناتی ہے، اور ہم سب مل کر ایک بہتر معاشرہ قائم کر سکتے ہیں۔

    دنیا بھر میں کئی ایسے چھوٹے بڑے اقدامات ہیں جن سے مہربانی کی اہمیت کو اجاگر کیا جا رہا ہے۔ کئی انسانیت دوست ادارے اور تنظیمیں لوگوں کی مدد کے لیے دن رات کام کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ، بہت سے لوگ روزانہ کی زندگی میں چھوٹے چھوٹے کام کرتے ہیں جیسے کسی کو بس کی سیٹ دینا، کسی کو خوش دیکھ کر اس سے بات کرنا، یا بس ایک اچھا لفظ کہنا۔پاکستان میں بھی مہربانی کے بہت سے ایسے نمونے دیکھے جا سکتے ہیں جہاں لوگ اپنے وسائل اور وقت کو دوسروں کی مدد کے لیے خرچ کرتے ہیں۔ ہر سال نیکی کے مختلف منصوبوں اور سرگرمیوں کو لوگوں کی زندگیوں میں پھیلانے کی کوشش کی جاتی ہے، تاکہ معاشرتی برائیوں کو کم کیا جا سکے اور مہربانی کے پیغام کو عام کیا جا سکے۔

    ہم کس طرح مہربانی کے عالمی دن کو منا سکتے ہیں؟
    مہربانی کے عالمی دن کو منانے کے لیے ہمیں یہ ضروری نہیں کہ کوئی بڑا اقدام کریں، بلکہ چھوٹے چھوٹے کام بھی ایک بڑے فرق کا سبب بن سکتے ہیں:
    دوسروں کی مدد کریں: کسی بھی فرد کی مدد کرنا، چاہے وہ کسی کی مالی مدد ہو یا اس کی ذہنی حمایت، بہت بڑی مہربانی ہے۔
    مسکراہٹ بانٹیں: کسی کے چہرے پر مسکراہٹ لانا نہ صرف آپ کو خوشی دے گا بلکہ اس شخص کے دن کو بھی روشن کر دے گا۔
    اچھے الفاظ استعمال کریں: کسی کی تعریف کرنا، اس کی محنت کی قدر کرنا اور اس کی حوصلہ افزائی کرنا، سب مہربانی کے چھوٹے لیکن موثر طریقے ہیں۔
    خود کو بہتر بنائیں: اپنے اندر مہربانی کے جذبات پیدا کرنا اور ان پر عمل کرنا سب سے بڑی نیکی ہے۔
    مفاد عامہ کے منصوبوں میں حصہ لیں: اگر آپ کے اردگرد کوئی کمیونٹی پروگرام یا خیرات کے منصوبے چل رہے ہوں، تو ان میں حصہ لیں اور دوسروں کی زندگی میں بہتر تبدیلی لانے کی کوشش کریں۔

    مہربانی ایک ایسی زبان ہے جو سب لوگ سمجھ سکتے ہیں، چاہے وہ کسی بھی زبان یا ثقافت سے تعلق رکھتے ہوں۔ "مہربانی کے عالمی دن” کو مناتے ہوئے ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ دنیا کو بہتر بنانے کے لیے ہمیں چھوٹے چھوٹے اقدام کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک اچھا انسان بننے کے لیے ہمیں دوسروں کے ساتھ حسن سلوک اور مہربانی سے پیش آنا چاہیے، کیونکہ یہی وہ رویہ ہے جو ہمیں اپنے اندر کی انسانیت کو پہچاننے اور دنیا کو ایک خوبصورت جگہ بنانے میں مدد دیتا ہے۔

    آئیے! ہم سب مل کر اس دن کو منائیں اور دنیا میں محبت اور مہربانی کے پیغام کو پھیلائیں۔

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

  • خواب جو بکھر گئے ذرا سی لاپرواہی سے.تحریر: فیضان شیخ

    خواب جو بکھر گئے ذرا سی لاپرواہی سے.تحریر: فیضان شیخ

    زندگی کی دوڑ میں ہم اکثر اپنے خوابوں کی روشنی میں آگے بڑھتے ہیں۔ ہمیں پتہ بھی نہیں چلتا کہ کب وہ خواب ہمارے ہاتھوں سے پھسل جاتے ہیں اور حادثے کا شکار ہو جاتے ہیں۔ آج چکوال میں ہونے والے افسوسناک حادثے نے ہمیں پھر سے جھنجھوڑ دیا۔ ایک باراتیوں کی بس، جو استور سے خوشیوں کے لمحات کو لیے راولپنڈی کی طرف جا رہی تھی، تھلیچی پل کے قریب اپنے سفر کی آخری منزل پر پہنچ گئی۔ تیز موڑ کاٹتے ہوئے بس گہری کھائی میں جاگری اور دریا کے بہاؤ میں گم ہوگئی۔ اس حادثے میں ایک ہی خاندان کے کئی افراد زندگی سے محروم ہوگئے، اور کچھ لاپتہ ہیں جن کی تلاش اب بھی جاری ہے۔

    ریسکیو ٹیمیں پوری کوششوں سے جائے حادثہ پر کام کر رہی ہیں۔ اب تک کچھ نعشیں برآمد ہو چکی ہیں، مگر کئی لوگ ابھی تک لاپتہ ہیں، اور ان کے خاندان ان کی واپسی کی امید لیے بیٹھے ہیں۔ یہ حادثہ ہمارے دلوں میں سوالات پیدا کرتا ہے کہ آیا یہ سانحے ہم روک سکتے ہیں؟ کیا ہم اپنے پیاروں کی زندگیوں کی حفاظت کر سکتے ہیں؟ اور اس کا جواب ہمیں "ہاں” کی صورت میں ملتا ہے، اگر ہم سب سڑکوں پر احتیاط کے اصول اپنانے کا عہد کریں۔

    یہی اصول ہمیں بار بار روڈ سیفٹی کی اہمیت اور اس کے اصولوں کی پابندی کی ضرورت کا احساس دلاتے ہیں۔ جب ہم سڑکوں پر نکلتے ہیں، تو ہم صرف اپنی زندگی نہیں بلکہ اپنے اردگرد کے لوگوں کی زندگیاں بھی اپنے ہاتھوں میں لے کر چلتے ہیں۔ روڈ سیفٹی کے اصول، جیسے کہ رفتار کی پابندی، ڈرائیونگ کے دوران مکمل توجہ اور طویل سفر میں وقتاً فوقتاً آرام کرنا، ہمارے اور دوسروں کے تحفظ کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔

    اس شعور کو پھیلانے اور معاشرے میں روڈ سیفٹی کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے ٹی این این ڈیجیٹل کے سرپرست اعلیٰ، شیخ ناصر محمود، کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی کو روڈ سیفٹی کے پیغام کو عام کرنے کے لیے وقف کیا ہے۔ انہوں نے عوام میں یہ شعور پیدا کیا کہ گاڑی چلانا محض رفتار کا کھیل نہیں بلکہ ذمہ داری کا تقاضا ہے۔ انہوں نے نہ صرف تربیتی پروگرامز کا انعقاد کیا بلکہ لوگوں کو یہ سکھایا کہ احتیاط سے کی گئی ڈرائیونگ حادثات کو روکنے کا مؤثر ذریعہ ہے۔

    شیخ ناصر محمود کی خدمات اس بات کا عملی ثبوت ہیں کہ کس طرح ایک فرد کی کوششیں معاشرے میں بڑی تبدیلی لا سکتی ہیں۔ ان کی کاوشوں کی بدولت بے شمار لوگوں نے روڈ سیفٹی کے اصول اپنائے، اور ان کی تربیت سے کئی حادثات کو روکا جا چکا ہے۔ ان کی کوششیں ہمیں یہ یقین دلاتی ہیں کہ اگر ہم سب روڈ سیفٹی کے اصولوں کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنائیں تو ہم اپنے پیاروں کو حادثات سے بچا سکتے ہیں اور خوشیوں کے خواب بکھرنے سے روک سکتے ہیں۔

    آج کے حادثے کو ہمیں ایک یاد دہانی کے طور پر لینا چاہیے کہ زندگی کا ہر لمحہ نازک ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی ذمہ داری کا احساس کریں اور روڈ سیفٹی کے اصولوں کو معمولی نہ سمجھیں۔ شیخ ناصر محمود جیسے لوگوں کی کاوشوں کو سراہنا اور ان کے پیغام کو عام کرنا ہمارا فرض ہے۔ اگر ہم نے آج یہ عہد کر لیا کہ ہم سڑکوں پر احتیاط اور ذمہ داری سے سفر کریں گے، تو شاید ہم کل کئی زندگیاں محفوظ کر سکیں اور کئی خاندانوں کے خواب بکھرنے سے بچا سکیں۔

  • اپووا کی آٹھویں سالانہ تربیتی ورکشاپ کا مختصر احوال،تحریر۔مدیحہ کنول

    اپووا کی آٹھویں سالانہ تربیتی ورکشاپ کا مختصر احوال،تحریر۔مدیحہ کنول

    آل پاکستان رائٹرز ویلفئیر ایسوسی ایشن کی اٹھویں سالانہ تربیتی ورکشاپ لاہور کے مقامی ہوٹل میں نو نومبر 2024 کو منعقد ہوئی۔ ورکشاپ میں پورے ملک سے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے مردوخواتین نے بھرپور شرکت کی۔لوگ دور دراز سے اپنے پسندیدہ شعراء، ادباء، اینکر پرسنز اور ادب کی دیگر اصناف سے تعلق رکھنے والی شخصیات کے لیکچرز سننے کے لیے آئے۔ دنیائے ادب کی نامور شخصیات نے تقریب میں تشریف لا کر اس خوبصورت محفل کو چار چاند لگا دئیے۔نظامت کے فرائض راقم نے سر انجام دئیے۔تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔محترم حافظ محمد زاہد نے تلاوت قرآن پاک کی سعادت حاصل کی۔صدارتی ایوارڈ یافتہ نعت خواں الحاج اختر حسین قریشی نے نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پڑھ کر سماں باندھ دیا۔9 نومبر شاعر مشرق علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کے دن کی مناسبت سے کلام اقبال پیش کیا گیا۔ڈاکٹر کوثر اقبال صاحبہ نے ترنم سے کلام اقبال پیش کیا اور داد پائی۔

    آل پاکستان رائٹرز ویلفئیر ایسوسی ایشن کی صدر پنجاب محترمہ ریحانہ عثمانی نے اپووا کا تعارف،اغراض ومقاصد،سالانہ تربیتی ورکشاپس،لائف ٹائم اچیومینٹ ایوارڈ، اپووا کتاب ایوارڈ،سیمینارز اور تقریبات، تفریحی دورے،اپووا پبلیکیشن ،اپووا ڈائجسٹ،اپوواویب سائٹ، اپوواموبائل ایپلیکیشن،اپووا فیملی اور اپووا فنڈ کے بارے میں معلومات فراہم کیں اورحاضرین محفل کی معلومات میں اضافہ کیا۔

    پروگرام کا اگلا مرحلہ اپووا کامیابی کی کہانیاں ان ممبرزکے لیے تھا جو ادب کےمختلف شعبہ جات میں کام کر رہے تھے اپووا میں شمولیت نے ان کی مقبولیت میں اضافہ کیااور جواپووا میں بطور ممبر شامل ہوے، اپنی پہچان بنائی اور اب ادب کے مختلف شعبوں میں کامیابی سے اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس مرحلے کی صدارت اپووا کی خواتین ونگ کی صدر محترمہ ثمینہ طاہر بٹ نے کی۔سب سے پہلے اپووا کے بانی ایم ایم علی نے اپووا بنانے کا مقصد اور اس کے اغراض و مقاصد بیان کیے اس کے بعدثمینہ طاہر بٹ،ریحانہ عثمانی،سفیان علی فاروقی،سحرش خان،مہوش لاشاری،نبیلہ اکبراور مدیحہ کنول نے اپنی کامیابی کی کہانی شئیر کی۔
    اپووا سر پرست اعلی جناب زبیر احمد انصاری صاحب
    لاہور پریس کلب کے صدر جناب ارشد انصاری صاحب
    سینئر صحافی و کالم نگار جناب ارشاد عارف صاحب
    فلاحی شخصیت سیدہ بلقیس اصغر صاحبہ
    معروف اینکر پرسن ریحام خان صاحبہ
    لیجنڈ اداکارہ عذرا آفتاب صاحبہ
    اداکارہ اور گلوکارہ میگھا جی
    اینکر پرسن ثنا آغا خان
    لیجنڈ اداکار غلام محی الدین صاحب
    بہترین مصنف و ادکار افتخار حسین افی صاحب
    موٹیویشنل سپیکر اختر عباس صاحب
    معروف مزاح نگار گل نوخیز اختر صاحب
    سینئر صحافی عنبرین فاطمہ صاحبہ
    معروف شاعر و استاد پروفیسرناصر بشیر صاحب
    نامور ادیب ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم صاحب
    افسانہ نگار طارق بلوچ صحرائی صاحب
    معروف نعت خواں الحاج اختر حسین قریشی صاحب
    نوجوان نسل کے معروف شاعرمحترم اتباف ابرک صاحب
    رپورٹر جیو نیوز دعا مرزاصاحبہ
    سینئر تجزیہ نگار نوید چوہدری صاحب
    معروف شاعر میجر ریٹائرڈ شہزاد نیئر صاحب
    میگزین ایڈیٹرجناب ندیم نظر صاحب
    شاعر آغر ندیم سحرصاحب
    رائٹر،ایڈیٹرندیم اختر صاحب
    مصنف عقیل انجم اعوان
    ادبی شخصیت ریاض احمدحسان صاحب
    سمیت کئی بڑے نام اسٹیج پر جلوہ افروز رہے۔
    تمام محترم مہمانان گرامی نے باری باری ڈائس پر آکر اپنے نادر خیالات کا اظہار کیا۔ نئے لکھنے والوں کو اپنی تحاریر کو جاذب اور خوبصورت بنانے کے لئے مختلف تجاویز دیں۔مقررین کا کہنا تھا کہ اچھا لکھاری وہی ہوتا ہے جو اچھا قاری ہو ۔ اورا س کے لیے ضروری ہے کہ آپ پڑھیں اور پڑھتے رہیں۔ معاشرے کی ترقی و ترویج کے لیے قلم کے ذریعے جو کردار ادا کر سکیں ضرور کریں ۔مزید برآں کہ آپ اپنا کام کرتے رہیں کبھی نہ کبھی آپ کو اس کام کا صلہ ضرور ملتا ہے ۔ لوگ وہی دیکھتے ہیں جو وہ دیکھنا چاہتے ہیں لیکن آپ اپنے قلم سے وہ سب دکھا سکتے ہیں جو حقیقت سے قریب تر ہے ۔معاشرے کی موجودہ ابتد حالت اور امت مسلمہ کو درپیش مسائل بھی موضوع سخن رہے۔خواتین مقررین کا کہنا تھا کہ خواتین اب ہر میدان میں مردوں کے شانہ بشانہ ہیں بلکہ بعض جگہوں پر مردوں سے بھی آگے ہیں اور یہ ہمارے لیے فخر کی بات ہے۔صحافت میں بھی خواتین کو آگے آنا چاہیے۔ عورتوں کے لیے ایک ایسا ماحول پیدا کریں جہاں وہ کسی بھی خوف سے آزاد ہو کر ذہنی یکسوئی کے ساتھ اپنے قلم اور عمل سے خود کو منوا سکیں اور معاشرے پر مثبت طریقے سے اثر انداز ہو سکیں ۔

    مقررین نے سرپرست اپووا زبیر احمد انصاری،بانی اپووا ایم ایم علی،صدر حافظ محمد زاہد،سمیت دیگر عہدیدران کو ان کاوشوں ہر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان سب کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

    اپووا نے اس ورکشاپ پر بھی فلسطینی بہن بھائیوں سے اظہاریکجہتی کے لے ہال میں فلسطینی پرچم آویزاں کیے۔اس کے علاوہ شرکاء کو فلسطین سے اظہار یک جہتی کے لیے بیجز بھی دئیے گئے ۔اس بار اپووا کی طرف سے میڈیکل کیمپ کا انعقاد بھی کیا گیا تھا ۔جہاں موجود ٹیم نے لوگوں کو مفت طبی مشورے فراہم کیے ۔خراب موسمی حالات کے باعث موٹروے کی بندش کی وجہ سے مختلف شہروں سے آنے والے مہمانوں کو سفری مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا ۔ان سفری مشکلات کے باوجود ملک کے کونے کونے سے شرکاء نے ورکشاپ میں شرکت کی۔ہم آپکی آمد کے تہہ دل سے مشکور ہیں ۔

    دوران تقریب ایورڈز،میڈلز،اور سرٹیفکیٹس کی تقسیم کا سلسلہ بھی جاری رہا ۔ میدان ادب میں مختلف شعبہ جات میں کارکردگی دکھانے والے شرکاء کو سراہا جاتا رہا اور ان خوبصورت لمحات کو کیمروں میں مقید کرنے کا سلسلہ بھی جاری رہا ۔ تقریب میں اپووا میگزین کے ممبران کو ان کے پریس کارڈز بھی جاری کئے گئے اور ایک سال سے میگزین میں اچھی کارکردگی دکھانے پر میڈلز دئیے گئے ۔واضح رہے کہ اپووا میگزین آن لائن ماہانہ شمارہ ہے اور اس وقت بہت سے مفید سلسلوں کو لے کر چل رہا ہے۔ تقریب کے اختتام پر قرعہ اندازی کی گئی اور گفٹ ہیمپرز اور کیش پرائز بھی تقسیم کیے گئے۔خوبصورت تقریب کے اختتام پر شرکاء کے لئے پرتکلف بوفے لنچ کا اہتمام بھی کیا گیا تھا،جس میں چکن قورمہ، نان، بریانی،رائتہ سلاد،کولڈ ڈنکس،قلفہ،اور چائے شامل تھی۔شرکاء لنچ سے لطف اندوز ہوے اور اپنی اپنی منزل کی جانب چل دئیے۔

    ایک خوبصورت تقریب دل ودماغ پر انمٹ نقوش اور خوبصورت یادوں کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی جو مدتوں یاد رکھی جاۓ ۔ انشاءاللہ

    اپووا کی تربیتی ورکشاپ،لکھاریوں کی تحسین

    یوم اقبال پر اپووا کی تقریب،تحریر:عینی ملک

    اپووا تربیتی ورکشاپ کی یادیں،تحریر: فیصل رمضان اعوان

    اپووا کی سنگ رنگی تقریب،تحریر:ریاض احمد احسان

    اپووا تربیتی ورکشاپ کے یادگار لمحات،تحریر:اورنگزیب وٹو

    اپووا کے زیر اہتمام افطار میٹ اپ کا اہتمام

    اپوواخواتین کانفرنس:حقوقِ نسواں کی توانا آواز

    مبشر لقمان سے آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات

    ایک خوبصورت اور یادگار ملاقات، گورنر ہاوس پنجاب میں،تحریر:فائزہ شہزاد

  • دنیا کی نظریں ٹرمپ پر،کیا جنگ بندیاں ہو پائیں گی؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    دنیا کی نظریں ٹرمپ پر،کیا جنگ بندیاں ہو پائیں گی؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    آنے والے چند مہینوں میں عالمی دنیا کو امریکی صدر ٹرمپ اور اُن کی انتظامیہ کی پالیسی کا علم ہو گا کہ وہ دنیا اور بالخصوص یورپی ممالک کے لئے کیا پالیسی دیتے ہیں ،صدارتی اُمیدوار ٹرمپ کے بیانات اور امریکی صدر ٹرمپ کا کیا موقف ہوگا؟ عالمی دنیا اپنی گھڑی کی طرف دیکھ رہی ہے ۔ یہ ٹرمپ کی طاقت کاعکس ہے یا اس ملک امریکہ کی طاقت کا شاید دونوں کی طاقت کا ۔ دنیا وائٹ ہائوس کے نئے مکین کی طرف دیکھ رہی ہے کہ نیا مکین اُن کے لئے کیسا رہے گا؟انتخابی مہم کے دوران قاتلانہ حملے میں بچ گیا ،رقص کیا ،سرخ ٹائی سے خون صاف کیا اور انتخابی مہم جاری رکھی اور امریکی عوام نے بھاری اکثریت سے کامیاب کروایا۔ ٹرمپ دنیا کے معاشی سلامتی اور دیگر مسائل بحرانوں کو حل کرنے کا دعویٰ بھی کرتے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کے لئے سب سے بڑا مسئلہ روس یو کرین جنگ جبکہ اسرائیل، فلسطین ، ایران اور لبنان جنگ کا ہے۔ غزہ خون کی ایک جھیل میں تبدیل ہو چکا ہے ۔ غزہ ملبے لاشوں اور بے گھر لوگوں سے بھرا ہے ۔ کیا وائٹ ہائوس میں داخل ہونے والا نیا مکین مشرق وسطٰی میں جاری قتل عام کو روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے ؟ مشرق وسطیٰ سمیت دنیا میں جہاں جہاں بھی جنگ ہے یا جنگ کے سائے منڈلا رہے ہیں جنگ بندی تک پہنچنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔

    دنیا میں جہاں جہاں جنگ ہے ایک مضبوط امریکی کردار کی ضرورت ہے۔ ان تمام بڑی بڑی مشکلات کو اگر مد نظر رکھا جائے توکیا امریکی صدر ٹرمپ اور اُن کی انتظامیہ کو پاکستان کی کسی سیاسی جماعت یا کسی فرد واحد کی فکر لاحق ہو سکتی ہے ؟ہمارے سیاستدانوں ، مشیروں ، بیورو کریسی ، بیورو کریٹ کی عوام دوستی اور تباہ کاریوں سے کون واقف نہیں امریکہ اور مغربی ممالک کے ساتھ برابری کی سطح پر بات کرنا ایک خواب بن چکا ہے۔ سفارتی سطح پر دنیا کو باور کرانے کی ضرورت ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان جو دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑرہا ہے اس کا براہ راست تعلق خطہ اور عالمی سیاست کے استحکام کے ساتھ جڑا ہے۔ پاک فوج اور جملہ اداروں نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لئے قربانیاں دی اور دے رہی ہیں جبکہ عوام نے بھی قربانیاں دی ہیں.

  • "بھیدوں بھرا مہاکھڈ”.تحریر:اعجازالحق عثمانی

    "بھیدوں بھرا مہاکھڈ”.تحریر:اعجازالحق عثمانی

    بل کھاتا ڈھلوانی راستہ،اور راستے میں اداس چرواہوں،بے چین و مغموم پرندوں،شدید سوگوار ایستادہ درختوں کے سنگ چلنے کے بعد اچانک ایک موڑ پر منظر کھلتا ہے۔نیلے،سفید گنبد اور ایک آبادی۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ منظر اداس راستے کی افسردگی اور پژمردگی ختم کرنے کےلیے کافی تھا۔انھی گنبدوں کے قریب مندر اور گوردوارے بھی موجود تھے۔ چاروں طرف ہی مذہبی رواداری کی خوشبو محسوس کی جاسکتی تھی۔ جب بارہویں کی کھیر کسی ہندو کے گھر کھائی جاتی،اور جب ہندو بہن،مرکزی بازار میں واقع سردار جی کی دکان سے خرید کر مسلمان بھائی کو راکھی باندھتی،تو پاس بہتا خاموش سندھو (دریائے سندھ) پُرجوش ہو کر اچھل پڑتا۔صد افسوس! آج منظر یکسر بدل گیا ہے۔یہ شہر تو وہیں ہے،مگر یہ مناظر وقت کی گرد میں کہیں دب گئے ہیں۔یہاں کے ملاحوں کی بستی کے بوڑھے ملاح نے اپنی بیڑی کے چھید تو بھر لیے،مگر بستی کی تاریخ و تہذیب کے پیراہن میں لگے چھید کون رفو کرے گا؟

    گزشتہ برس عید پر آبائی گاؤں خوشحال گڑھ جانا ہوا۔مکھڈی حلوہ تو کھانے کو نہ ملا،مگر مکھڈ کو دیکھنے کا شرف حاصل ہوگیا۔میں پہاڑوں کا مرید ہوں،اور وادیاں میری مرشد،جبکہ سفر،نہ راضی ہونے والی محبوبہ۔اسی کو راضی کرنے کےلیے مکھڈ شریف کےلیے رخت سفر باندھا۔بل کھاتے پہاڑی راستوں پر اس قدر اداسی و افسردگی تھی کہ سر سبز و شاداب درخت بھی غمکین معلوم پڑتے۔پورے راستے میں پہاڑوں کے علاؤہ چند چرواہے،ریوڑ اور طویل ویرانیاں۔۔۔۔۔۔ یہ سفر مجھے کسی ناپسندیدہ لیکچر سے بھی کہیں زیادہ بورنگ لگنے لگا۔مگر اچانک ہم ایک موڑ مڑتے ہیں،تو آنکھیں ٹھنڈی اور تھکان و اداسی زائل ہونے لگ پڑتی ہے۔نیلے نیلے گنبد اور ان کے قریب چھوٹی سی بستی دیکھ کر لگا کہ ویرانیاں اور اداسیاں ختم ہوئیں،اور آغاز بہار ہو گیا ہے۔مناظر آنکھوں میں قید کرتے آگے بڑھتے گئے،کیونکہ ہماری اصل منزل دریائے سندھ تھا۔اپنے وقتوں کے سب سے بڑے تجارتی مرکز سے آج گزرے تو یوں لگا کہ جیسے کسی شہر خموشاں سے گزر ہو رہا ہو۔یوں ہماری بہار و رونق کی امید دریائے سندھ پہنچنے سے پہلے ہی دریا برد ہوگئی۔

    تاریخ کے اوراق کہتے ہیں کہ سی پیک تراپ انٹرچینج کے قریب دریائے سندھ کے کنارے آباد یہ مکھڈ، تاریخی تجارتی مرکز ہوا کرتا تھا۔جب پٹڑیاں اور سڑکیں نہ تھیں،تب دریائی راستے استعمال کیے جاتے۔مکھڈ کے اہم ہونے کی ایک وجہ یہ تھی کہ یہ دریائے سندھ میں چلنے والے بحری بیڑوں کی آخری بندرگاہ تھی۔اور دوسری بڑی وجہ کہ افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تجارت کےلیے یہی سب سے موزوں ترین آبی بندرگاہ تھی۔کالا باغ کا نمک بھی اسی راستے سے افغانستان سے ہوتا ہوا دوسرے ممالک جاتا۔اس لیے اس دور میں یہ علاقہ بڑی تجارتی منڈی بن گیا تھا۔یہاں کے بازاروں میں قدیمی پتھروں اور لکڑی کے تختوں سے بنی موجود دکانیں آج بھی عظمت رفتہ کی قصہ خواں ہیں۔

    بند بازار کو دیکھتے ہوئے،چلتے گئے۔اب راستہ قدرے مشکل شروع ہورہا تھا۔کیونکہ ہمیں نیچے دریا کی طرف جانا تھا۔چند قدم چلنے کے بعد ایک دیو مالائی خستہ حال مندر نظر آیا۔اسی عمارت کے قریب خاموش بہتا اداس دریائے سندھ اور دریا میں تیرتی چند کشتیاں۔۔۔۔۔۔۔۔

    یہ علاقہ نہ صرف تجارتی مرکز ہوا کرتا تھا،بلکہ تہذیب و ثقافت کے بھیدوں کا مہاکھڈ بھی تھا۔ کئی گرودوارے، منادر اور ان پر بنے نقش نگار اپنی جانب متوجہ کراتے ہوئے،نوحہ کناں ہیں۔اس کی تہذیبی قدامت کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ یہ قبل از مسیح سے آباد ہے۔اور یہ بدھ مت،سکھ ازم،ہندومت اور اسلام چار تہذیبوں کا مرکز رہا ہے۔تاریخ کے مختلف ادوار میں یہ شہر مختلف سلطنتوں کا حصہ رہا۔1650 میں ایک صوفی بزرگ نوری بادشاہ یہاں آئے اور اسلام کی روشنی پھیلائی۔جن کا مزار آج بھی یہاں موجود ہے۔

    سندھو دریا کے کنارے ہم نے مچھلی پلا تو نہ کھایا،مگر مچھلیوں کے قریب جانے کےلیے کشتی میں بیٹھ گئے۔لکڑی کے بھاری بھرکم تختوں کے اوپر لگا انجن اسٹارٹ ہونے سے سندھو کا سکوت ٹوٹا،تو برا بھی لگا۔مگر سورج کی شعاعوں سے سنہری لہریں دل کو بھانے لگی۔سندھو کی اٹھتی موجوں کو چھونے کا لمس۔۔۔۔۔اور سہنری لہریں،ہمیں کشتی سے اترنے ہی نہیں دے رہی تھی۔جب سورج نے غروب ہونے کی تیاری کی،تو ہم بھی گھر طلوع ہونے کے لیے نکل پڑے

    "ایہہ پُتر روز نئیں جمدے” تحریر: اعجازالحق عثمانی

  • ٹرمپ کو یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے  حکمت عملی کی ضرورت

    ٹرمپ کو یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے حکمت عملی کی ضرورت

    ذرائع کے مطابق،نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں روس کے صدر ولادی میر پیوٹن سے یوکرین کے تنازعے پر بات کی ہے اور پیوٹن سے اس صورتحال کے مزید بڑھنے سے بچنے کی درخواست کی ہے۔ ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا کہ یورپ میں امریکہ کی فوجی موجودگی اس بات کی یاد دہانی ہے کہ امریکی اثرورسوخ اس خطے میں موجود ہے۔

    میدان جنگ میں روس کی افواج یوکرین کے مغربی "کرسک” علاقے میں پیش قدمی کر رہی ہیں، جہاں تقریباً 50,000 روسی فوجی اُس علاقے کو دوبارہ قبضے میں لینے کی کوشش کر رہے ہیں جو اگست سے روس کے ہاتھ سے نکل گیا تھا، یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کے مطابق روس کی سست مگر مسلسل پیش قدمی مشرقی یوکرین میں جاری ہے، جہاں اُس کی فوجیں ڈونباس کے صنعتی علاقے پر کنٹرول قائم کرنے کے لیے گاؤں گاؤں فتح حاصل کر رہی ہیں۔

    اس جنگ کے اقتصادی اثرات یوکرین اور روس تک محدود نہیں ہیں، بلکہ اس کا عالمی تجارت اور خوراک کی سکیورٹی پر گہرا اثر پڑ رہا ہے۔ وہ ممالک جو روس اور یوکرین پر انحصار کرتے ہیں، جیسا کہ ایندھن اور اناج کی فراہمی کے لیے، انہیں مشکلات کا سامنا ہے۔ حالانکہ امریکہ ان ممالک پر کم انحصار کرتا ہے، لیکن دوسرے ممالک پر اس کے شدید اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ مثال کے طور پر، ہیٹی میں جنگ کے آغاز کے بعد ایندھن کی قیمتیں تین گنا بڑھ گئیں، اور پہلے سے ہی معاشی طور پر کمزور ممالک جیسے یمن، ایتھوپیا اور صومالیہ خوراک کی کمی کے سنگین بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔

    امریکہ میں، جنگ کی وجہ سے مہنگائی میں جو اضافہ ہوا ہے، اس کا اثر ان صنعتوں پر پڑا ہے جو سیمی کنڈکٹرز جیسے اہم مواد پر انحصار کرتی ہیں۔ موڈی اینالٹکس کے چیف اکنامسٹ مارک زانڈی نے اس بات کو تسلیم کیا کہ یوکرین کی جنگ کی وجہ سے امریکہ کی افراط زر میں 3.5 فیصد اضافہ ہوا ہے (مئی 2021 سے مئی 2022 تک)۔ اس صورتحال کے نتیجے میں فیڈرل ریزرو نے شرح سود بڑھا دی، جو اب بھی بلند سطح پر ہے اور امریکی کاروباروں اور صارفین پر اس کے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

    یوکرین کی جنگ کا عالمی سطح پر اثر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جدید معیشتیں آپس میں کس قدر جڑی ہوئی ہیں اور عالمی سپلائی چینز کی نزاکت کتنی اہم ہے۔ آج کے دور میں مقامی جنگوں کے بھی عالمی سطح پر دور رس نتائج ہو سکتے ہیں، جو کئی ممالک کی استحکام کے لیے ضروری وسائل جیسے بنیادی اشیاء اور ہائی ٹیک اجزاء کو متاثر کرتے ہیں۔ امریکہ کے لیے، مہنگائی، سیمی کنڈکٹر کی کمی اور عالمی سطح پر خوراک کی کمی جیسے مسائل کو حل کرنا ایک پیچیدہ چیلنج ہے۔ٹرمپ کی ممکنہ حکمت عملی، خصوصاً روس پر سفارتی دباؤ ڈالنے اور متاثرہ علاقوں کو اقتصادی امداد فراہم کرنے کے حوالے سے، دنیا بھر میں اس بحران کے طویل مدتی اثرات کے حوالے سے بہت دھیان سے دیکھی جائے گی،ٹرمپ کے دوسری بار انتخابات جیتنے کے بعد اس وقت پوری دنیا کی نظریں امریکہ اور اس کے عالمی کردار پر مرکوز ہیں۔