Baaghi TV

Category: بلاگ

  • اپووا کی تربیتی ورکشاپ،لکھاریوں کی تحسین

    اپووا کی تربیتی ورکشاپ،لکھاریوں کی تحسین

    کالم نگاری ایک فن ہے جس میں ایک مخصوص موضوع پر گہری تحقیق اور تحریر کی مہارت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اچھے کالم نگار وہ ہوتے ہیں جو اپنے خیالات کو واضح، دلچسپ اور قاری کے دل و دماغ پر اثرانداز کرنے والی زبان میں پیش کرتے ہیں۔ اسی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے آل پاکستان رائیٹرز ویلفئر ایسوسی ایشن "اپووا” نے سالانہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا جو لاہور کےمقامی ہوٹل میں منعقد ہوئی

    تربیت ورکشاپ نے سینئر صحافی واینکر پرسن ،ٹی وی چینل کے مقبول ترین پروگرام کھرا سچ کے میزبان ،مبشر لقمان کے ہمراہ شرکت کرنی تھی، مگر کسی وجہ سے مبشر لقمان صاحب ورکشاپ میں شریک نہ ہو سکے،یوں ورکشاپ میں اکیلے پہنچے تو اپووا کے بانی صدر ایم ایم علی اور موجودہ صدر حافظ زاہد استقبال کے لئے گیٹ پر موجود تھے، جہان پاکستان کے میگزین ایڈیٹر انجم عقیل اعوان بھی میرے ساتھ ہی ورکشاپ میں پہنچے، کالم نگار فیصل رمضان اعوان مجھ سے قبل ہی پہنچ چکے تھے اور میری آمد کا انتطار کر رہے تھے، ورکشاپ جاری و ساری تھی، ایک طرف خواتین رائیٹرز اور ایک طرف مرد حضرات، یوں اپووا نے رائیٹرز کا ایک گلدستہ سجا رکھا تھا،مہمانان خاص آ اور جا رہے تھے، اپووا کی یہ تربیتی ورکشاپ کالم نگاروں کو جدید تحریری تکنیکوں، تحقیقی مہارتوں، اور تاثراتی تحریر کے بارے میں آگاہ کرنے کے لئے تھی۔ اس کا مقصد کالم نگاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ کرنا اور انہیں اس بات کی تربیت دینا تھا کہ وہ کس طرح اپنے کالمز کو مزید مؤثر اور قاری کے لیے دلچسپ بنا سکتے ہیں۔
    aini

    سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ،معروف صحافی و کالم نگار ریحام خان بھی بطور مہمان خاص ورکشاپ میں آئیں، انہوں نے خطاب کیا اور ساتھ گلہ بھی کیا کہ میں تو ورکشاپ میں کالم نگاروں سے کچھ سننے اور سیکھنے آئی تھی لیکن یہاں مجھے خود سننے کی بجائے سنانے کا موقع مل رہا ہے،ریحام خان سمیت دیگر مہمانان خاص نے ورکشاپ کے شرکا میں اعزازی شیلڈز ،انعامات تقسیم کئے،ریاض احمد احسان جو کبھی ورلڈ کالمسٹ کلب میں متحرک تھے اور ادبی برادری کے لئے ہمیشہ صف اول میں نظر آتے ہیں وہ بھی مہمانان خاص میں شامل تھے،سینئر صحافی ارشاد عارف، روزنامہ مشرق کے میگزین ایڈیٹر ندیم نذر، نوائے وقت کی سینئر صحافی امبرین فاطمہ،لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری بھی مہمانوں میں شامل تھے،ورکشاپ کے شرکا سے خطاب میں مہمانان خاص نے بتایا کہ کالم نگاری میں تحقیق کا اہم کردار ہے۔ ورکشاپ میں کالم نگاروں کو تحقیق کے جدید طریقوں اور ذرائع سے آگاہ کیا گیا تاکہ وہ اپنے کالمز میں معلوماتی اور حقائق پر مبنی مواد فراہم کرسکیں۔کالم کا مقصد صرف معلومات دینا نہیں بلکہ قاری کو محظوظ کرنا اور سوچنے پر مجبور کرنا بھی ہوتا ہے۔

    ورکشاپ کے اختتام پر کھانے کی میز پر شرکا کے درمیان آراء کا تبادلہ بھی ہوا، جس سے ہر کسی کو ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے کا موقع ملا۔ اس سے ان میں تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے میں مدد ملی۔تربیتی ورکشاپ میں پاکستان بھر سے کالم نگار، شعرا شریک تھے، اپووا کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ ہر سال تربیتی ورکشاپ باقاعدگی سے ہوتی ہے، جس کے لئے رجسٹریشن کی جاتی ہے، اہل کتاب افراد کی پذیرائی کی جاتی ہے، شعرا کی ادبی کاوشوں کی تحسین کی جاتی ہے.

    zahid

    پاکستان میں خواتین کا کردار دن بدن مختلف شعبوں میں نمایاں ہوتا جا رہا ہے، خاص طور پر میڈیا اور صحافت میں بھی اب خواتین کا حصہ بڑھتا جا رہا ہے۔ اپووا کے زیرِ اہتمام کالم نگاروں کی ورکشاپ میں خواتین صحافیوں اور کالم نگاروں نے بھی بھرپور شرکت کی جس کا مقصد خواتین کو صحافت کے شعبے میں مزید متحرک اور فعال بنانے کے لیے ان کی مہارتوں کو نکھارنا تھا،اپووا کی تربیتی ورکشاپ میں خواتین کی بھرپور شرکت نے اس بات کو ثابت کیا کہ پاکستانی خواتین اب صحافت کے میدان میں ایک طاقتور اثر ڈالنے والی قوت بن چکی ہیں۔ مختلف پس منظر اور تجربات رکھنے والی خواتین نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور ایک دوسرے سے سیکھنے کا موقع حاصل کیا۔ ورکشاپ میں مہمانان خاص نے شرکا کو اپنے تجربات سے آگاہ کیا۔ معروف کالم نگار اور صحافی، جنہوں نے اس ورکشاپ میں اظہارِ خیال کیا، کہنا تھا کہ خواتین کا صحافت میں حصہ بڑھنے سے معاشرتی مسائل اور خواتین کے حقوق کی آگاہی میں اضافہ ہوگا۔ خواتین کے کالموں میں ایک حساسیت اور گہرائی ہوتی ہے جو مردوں کے لکھے ہوئے کالموں میں اکثر نہیں ہوتی اور یہ خصوصیت ایک منفرد آواز کی شکل اختیار کرتی ہے۔
    apwwa

    آل پاکستان رائیٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی اس ورکشاپ کا انعقاد نہ صرف کالم نگاروں کے لئے مفید بلکہ اس سے یہ بات بھی واضح ہوئی کہ صحافتی دنیا میں ترقی اور تبدیلی کی رفتار کو برقرار رکھنے کے لئے مسلسل تعلیم اور تربیت کی ضرورت ہے۔ اپووا کی یہ تربیتی ورکشاپ کالم نگاروں کو نہ صرف نئے طریقے سکھاتی ہے بلکہ انہیں اپنے خیالات اور نظریات کو بہتر انداز میں پیش کرنے کی صلاحیت بھی فراہم کرتی ہے۔ یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ اس طرح کی ورکشاپس صحافت کی دنیا میں معیار کی بلندی اور تحریری مہارت کے فروغ کے لئے انتہائی اہم ہیں۔ یہ کالم نگاروں کو ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہیں تاکہ وہ اپنے کام کو نہ صرف معلوماتی بلکہ تخلیقی اور اثرانداز بھی بنا سکیں۔

    mmali

    اپووا کی شاندار اور ہمیشہ کی طرح کامیاب تربیتی ورکشاپ پر اپووا کی پوری ٹیم کو مبارکباد

    باغی ٹی وی پر تحریریں شائع کروانے کے لئے ای میل کریں یا واٹس اپ کریں
    03030204604

    یوم اقبال پر اپووا کی تقریب،تحریر:عینی ملک

    اپووا تربیتی ورکشاپ کی یادیں،تحریر: فیصل رمضان اعوان

    اپووا کی سنگ رنگی تقریب،تحریر:ریاض احمد احسان

    اپووا تربیتی ورکشاپ کے یادگار لمحات،تحریر:اورنگزیب وٹو

    اپووا کے زیر اہتمام افطار میٹ اپ کا اہتمام

    اپوواخواتین کانفرنس:حقوقِ نسواں کی توانا آواز

    مبشر لقمان سے آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات

    ایک خوبصورت اور یادگار ملاقات، گورنر ہاوس پنجاب میں،تحریر:فائزہ شہزاد

  • وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا تاریخی کسان پیکج

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا تاریخی کسان پیکج

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا تاریخی کسان پیکج
    تحریر:محمد جنید جتوئی،ڈپٹی ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز ڈیرہ غازی خان
    پنجاب کی 48 فیصد کے قریب آبادی کا روزگار زراعت سے وابستہ ، پنجاب میں ایک کروڑ 65 لاکھ رقبہ پر اس سال گندم کاشت کرنے کا ہدف مقرر ، ڈی جی خان ڈویژن میں 22 لاکھ 94 ہزار ایکڑ رقبہ پر گندم کاشت کرانے کیلئے اقدامات ، کسانوں کو 1000 گرین ٹریکٹرز اور 1000 لینڈ لیولرز دینے کا اعلان ،پنجاب میں پانچ لاکھ کسان کارڈ دینے کا فیصلہ،64 ارب روپے مختص ، کسان کارڈ کے ذریعے بلاسود معیاری بیج،کھاد اور پیسٹی سائیڈ فراہم ،1000 زرعی گریجویٹس کیلئے انٹرن شپ پروگرام کا اجراء

    زراعت پاکستان کی معیشت کا بنیادی ستّون ہے۔ ملکی جی ڈی پی میں زراعت کا 23 فیصدحصہ ہے. اس کے علاوہ زراعت سے متعلقہ مصنوعات کا ملکی آمدنی میں حجم 80 فیصد تک ہے۔ مزید برآں زرعی شعبہ سے 42.3 فیصد آبادی کا روزگار بھی وابستہ ہےـسب سے زیادہ آبادی والا صوبہ پنجاب زرعی پیداوارکا سب سے بڑا حصہ فراہم کرتا ہے۔ پنجاب کی 48 فیصد آبادی کے روزگار کا ذریعہ بھی زراعت ہے۔ زرعی شعبہ بڑی صنعتوں مثلاً ٹیکسٹائل،چمڑے،چاول کی پروسیسنگ ،خوردنی تیل اور فوڈ پروسیسنگ کو خام مال مہیا کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔پاکستان کی کل ملکی برآمدات میں زراعت کا شعبہ تین چوتھائی ہے اور اس کا 60 فیصد حصّہ صوبہ پنجاب سے حاصل ہوتا ہے۔ کئی سالوں سے صوبہ پنجاب ملک میں جاری فوڈ سکیورٹی کے چیلنج سے نبرد آزماہے۔

    صوبہ پنجاب رقبے کے اعتبار سے دوسرا بڑا صوبہ ہے جس کا رقبہ 20.63 ملین ہیکٹر ہے جو کل ملکی اراضی کا 25.9 فیصد بنتا ہے۔ زمین کے استعمال کی حیثیت کے اعتبار مجموعی طور پر 86 فیصد علاقہ قابل رسائی ہے جبکہ 14 فیصد علاقہ کی رپورٹ میسر نہیں ہے۔ مزید 14 فیصد رقبہ زراعت کیلئے دستیاب نہیں ہے جویا تو مکمل طور پر زرخیز ہے یا انفراسٹرکچر کے زیر تسلط گردانا جاتا ہے۔ نتیجتاً صوبہ کا کل 72 فیصد رقبہ فصلات کیلئے دستیاب ہے۔ اس میں سے10.81 ملین ہیکٹر(53%) رقبہ پر فصلات کی بوائی کاکام ہوتا ہے؛ یہ وہ رقبہ جسے کم از کم سال میں ایک مرتبہ زیر کاشت لایا جاتا ہے۔ 9 فیصد اراضی کو موجودہ آبشار کے طور پر درجہ بند کیا گیا ہے۔ 8 فیصد اراضی کو تقافتی متروکہ رقبہ کے طور پر نشان زد گردانا گیا ہے جس کا مطلب ہے یہ وہ رقبہ ہے جو تین سال سے زیادہ عرصے سے قابلِ کاشت نہیں ہوتا اوراسے کاشتہ رقبہ کا ہی حصہ سمجھا جاتا ہے۔
    اعداد و شمار کے مطابق صوبہ پنجاب میں 52 لاکھ 49 ہزار800 زرعی فارمز موجود ہیں۔ یہ فارمز بہت چھوٹے کھیتوں پر مشتمل ہیں۔ 42 فیصد فارمز 1 ہیکٹر سے بھی کم رقبہ پر ہیں۔1 سے لیکر10 ہیکٹر تک فارمز مجموعی تعداد کا نصف ہیں جو کہ68.9 فیصد قطع اراضی پر مشتمل ہیں۔ 10 یا اس سے زائد رقبہ کے فارمز 22.2 فیصد رقبے پر مشتمل ہیں۔ صوبہ پنجاب کا مجموعی قابلِ کاشت رقبہ 16.68 ملین ہیکٹر ہے جس میں سے5.87 ملین ہیکٹر رقبہ کی بوائی سال میں ایک بار ہوتی ہے۔ پچھلے مالی سال کے دوران گندم 40، کپاس11.5اوردھان 12.8 فیصد رقبہ زیر کاشت لایا گیا۔ صوبہ میں لائیوسٹاک کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے چارہ 11 جبکہ مکئی اور گنے کی کاشت بالترتیب 4.2 اور4.8 فیصد رقبہ پر کی گئی۔ تیلدار اجناس،دالوں اور سبزیات کی 12 فیصد رقبہ پر کاشت ہوئی۔

    محکمہ زراعت پنجاب کا مقصد صوبے میں غذائی تحفظ یقینی بنانے کے ساتھ ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کیلئے زرعی لاگت کو موثر انداز میں جدید پیداواری ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنا ہے جس سے کاشتکار خوشحال ہوں اور اُن کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ہو سکے۔

    چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان کی زیر صدارت اہم اجلاس میں حکام کی جانب سے دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اس سال پنجاب میں ایک کروڑ 65 لاکھ رقبہ پر گندم کاشت کرنے کا ہدف مقرر کیا گیاے ہے جن میں ڈی جی خان ڈویژن میں 22 لاکھ 94 ہزار ایکڑ رقبہ،راولپنڈی ڈویژن میں 14 لاکھ 91 ہزار ایکڑ، سرگودھا 17 لاکھ 40 ہزار، فیصل آباد ڈویژن میں 18 لاکھ 87 ہزار ایکڑ، گجرات ڈویژن میں 12 لاکھ 51 ہزار ایکڑ، گجرانوالہ 11 لاکھ 53 ہزار ایکڑ، ساہیوال ڈویژن میں 9 لاکھ 20 ہزار ایکڑ، ملتان ڈویژن میں 18 لاکھ 20 ہزار، بہاولپور میں 26 لاکھ 11 ہزار ایکڑ رقبہ شامہ ہے۔چیف سیکرٹری نے گندم کی کاشت کے سلسلے میں کاشتکاروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ زراعت گندم کی بوائی کے لیے کاشتکاروں کو مکمل تعاون اور رہنمائی فراہم کرے، گندم بوائی مہم کے دوران محکمہ زراعت کے افسران اپنی تمام تر توجہ مقررہ اہداف کے حصول پر مرکوز رکھیں، زراعت کے شعبہ کی بہتری حکومت کی ترجیح ہے۔سیکرٹری زراعت کی جانب سے اجلاس میں دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ گندم بوائی کی مہم 30 نومبر جاری رہے گی اور اس کی مانیٹرنگ کے لیے صوبے، ڈویژن، ضلع اور تحصیل کی سطح پر کمیٹیاں قائم کر دی گئی ہیں، زرعی مداخل کی خریداری میں سہولت کے لیے کاشتکاروں کو کسان کارڈ مہیا کیے گئے ہیں جس کے ذریعے کاشتکار صوبے بھر میں رجسٹرڈ ڈیلرز سے گندم کی فصل کے لیے بلاسود قرضوں پر زرعی مداخل خرید سکیں گے۔

    وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کی طرف سے گندم کے کاشتکاروں کے لئے اربوں روپے کا تاریخی اور ریکارڈ انعامی پیکج پیش کیا گیاہے ”کسان خوشحال،پنجاب خوشحال” ویژن کے تحت پنجاب میں گندم کی زیادہ پیداوار کے حصول کے لئے وزیراعلی مریم نواز شریف کی طرف سے تاریخ میں پہلی مرتبہ گندم کے کاشتکاروں کے لئے ہزاروں مفت گرین ٹریکٹر اور لینڈ لیولرز دینے کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہےـ وزیراعلی مریم نواز شریف کے اعلان کے مطابق پنجاب میں ساڑھے 12 تا 25 ایکٹر رقبے پر گندم کاشت کرنے والے کسانوں کیلئے 1000لینڈ لیولرز مفت دئیے جائیں گے اور اسی طرح پنجاب بھر میں 25 ایکڑ سے زائد رقبہ پر کاشت کرنیوالے کسانوں کو 1000گرین ٹریکٹر بالکل مفت ملیں گےـ گندم کے کاشتکاروں کو گرین ٹریکٹر اور لینڈ لیولرز بذریعہ قرعہ اندازی دئیے جائیں گےـ وزیراعلی مریم نواز شریف کا کہنا ہے کہ پنجاب کے کاشتکار کو تنہا نہیں چھوڑیں گے،پورا ساتھ دیں گے۔وزیراعلی مریم نواز شریف نے مزید کہا کہ کاشتکار ہمارے بھائی ہیں، کاشتکاروں کی ترقی کے لئے تمام ممکنہ اقدامات کریں گے۔پنجاب میں کاشتکار کی خوشحالی اور زراعت کی بحالی اولین ترجیح ہے۔وزیراعلی مریم نواز شریف نے بتایا کہ گندم کی کاشت کے لئے کاشتکاروں کو پنجاب کسان کارڈ کے ذریعے بلاسود معیاری بیج،کھاد اور پیسٹی سائیڈ مہیا کی جارہی ہیں۔چند ماہ میں کاشتکاروں کے لئے ریکارڈ پراجیکٹ شروع کئے،تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ پنجاب بھر کے کسان وزیراعلی مریم نواز شریف کی مفت گرین ٹریکٹر اور لینڈ لیولرز پراجیکٹ کی تفصیلات کے لئے ایگری کلچرل ہیلپ لائن0800ـ17000پر کال کر سکتے ہیں ـگندم کے کاشتکار مفت گرین ٹریکٹر اور لینڈ لیولرزکے لئے ایگری کلچر کی ویب سائٹ اور فیس بک پر رجوع کر سکتے ہیں ـگندم کے کاشتکار متعلقہ محکمہ زراعت توسیع آفس سے بھی رابطہ کر سکتے ہیں ـ

    وزیر اعلیٰ پنجاب گرین ٹریکٹر پروگرام کی قرعہ اندازی میں کامیاب ڈیرہ غازیخان کے کاشتکاروں میں الاٹمنٹ لیٹرز کی تقسیم کی تقریب ڈی سی آفس ڈیرہ غازی خان میں منعقد ہوئی۔ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد نے خوش نصیبوں میں الاٹمنٹ لیٹر تقسیم کیے۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ سبسیڈائزڈ ٹریکٹر سکیم

    کاشتکاروں کیلئے ایک انقلابی قدم ہے،قرعہ اندازی میں کامیاب ہونیوالے خوش نصیب حکومت پنجاب کی طرف سے ملنے والے ٹریکٹروں سے فصلوں کی کاشت ودیکھ بھال کے ساتھ بہتر پیداوار حاصل کر سکیں گے ڈپٹی ڈائر یکٹر زراعت توسیع غلام محمد نے بتایا کہ کامیاب افراد انکے دفتر سے15نومبر تک اپنے الاٹمنٹ لیٹر وصول کرسکتے ہیں،انہوں نے کہا کہ خوش نصیب الاٹمنٹ لیٹر میں دی گئی ہدایات کے مطابق اپنے حصے کی رقم بمعہ رجسٹریشن فیس بنک آف پنجاب کی کسی بھی برانچ میں جمع کرواسکتے ہیں۔ڈپٹی کمشنر کے ساتھ پولیٹیکل اسسٹنٹ محمد اسد چانڈیہ اور ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت غلام محمد نے بھی خوش نصیبوں میں الاٹمنٹ لیٹر تقسیم کئے۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے پانچ لاکھ کسانوں کو کسان کارڈ دینے کا اعلان کیا جس کیلئے 64 کروڑ روپے مختص کئے گئے اور متعدد کاشکاروں کو کسان کارڈ فراہم کر دئیے گئے پنجاب بھر میں 1000 ایگریکلچر گریجویٹ کی ٹرینگ شروع کر دی گئی۔ ایگریکلچر گریجویٹ فیلڈ میں کاشتکاروں کو اچھی فصل کے لئے مشورے دیں گے۔ایگریکلچر گریجویٹس انٹرنز جیو میپنگ کے ذریعے فارمر تک رسائی کرینگے۔۔الیکٹرک اور ڈیزل ٹیوب کی سولر لائزیشن پر 50 فیصد ادائیگی حکومت پنجاب کرے گی۔

    کمشنر ڈیرہ غازی خان ڈویژن ڈاکٹر ناصر محمود بشیر نے کہا کہ حکومت پنجاب کی ”زیادہ گندم اگاؤ اور بمپر کراپ” مہم کی کامیابی کیلئے کاشتکاروں کی ہر ممکن معاونت کی جائے گی۔ڈیرہ غازی خان ڈویژن میں وقت سے قبل نہری پانی فراہم کردیا گیا۔ڈویژن کے زمینداروں کو سبسڈی پر 1313 گرین ٹریکٹرز ملیں گے۔کسان کارڈ کے ذریعے 50 کروڑ روپے سے زائد رقم تقسیم کردی گئی۔22 لاکھ 94 ہزار ایکڑ رقبہ پر گندم کی کاشت کیلئے ہر ممکن اقدامات کریں گے اس حوالے سے کمشنر آفس میں ویڈیو لنک ڈویژنل اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا۔کمشنر ڈاکٹر ناصر محمود بشیر نے کہا کہ فصلوں کو سیراب کرنے کیلئے ماہانہ کی بنیاد پر نہری پانی فراہم کیا جائے گا۔گندم کی کاشت کیلئے معیاری بیج،کھاد اور زرعی ادویات فراہم کی جائیں گی۔ایڈیشنل کمشنر طاہر امین نے کہا کہ زمینداروں کی معاونت کیلئے معیاری بیج،کھاد اور زرعی ادویات کی فراہمی بنانے کیلئے اقدامات کئے جائیں۔ضرورت کے مطابق ٹیل تک نہری پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔انہوں نے کہا کہ گندم کی زیادہ پیداوار کے حصول کیلئے ڈویژن،ضلع اور تحصیل سطح پر مانیٹرنگ کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔کاشت سے لیکر مارکیٹ میں گندم کی فروخت پر زمینداروں کی معاونت کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ڈائریکٹر زراعت توسیع مہر عابد حسین نے بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈی جی خان ڈویژن کیلئے139405 کسان کارڈ کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جن میں سے 48720 کارڈ موصول ہوگئے ہیں اور 43285 کارڈ کسانوں کو فراہم کردئیے گئے ہیں۔گرین ٹریکٹر کیلئے 21408 درخواستیں موصول ہوئیں۔قرعہ اندازی کے ذریعے 1313 ٹریکٹرز بھاری سبسڈی پر دئیے جائیں گے۔

    زراعت کی ترقی سے ہی ملک کی خوشحالی وابستہ ہے زیادہ رقبے پر گندم اور دیگر فصلیں کاشت کرکے ملک کو زرعی اجناس میں خود کفیل بنایا جاسکتا ہے۔بیرون ممالک اجناس بھیج ک کثیر زر مبادلہ کمایا جا سکتا ہے۔پاکستان بالخصوص پنجاب کی بیشتر صنعتیں زراعت سے وابستہ ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کی زراعت کو فوکس کرتے ہوئے صنعتوں کا پہیہ چلایا جائے تاکہ ملک سے بیروزگاری کم کی جاسکے۔ کسانوں کو سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ ان کے جائز مسائل حل کئے جائے۔سولر ٹیوب ویل اور ٹیوب ویل کے بجلی نرخ میں کمی کی جائے۔ کسان زیادہ رقبہ پر فصلیں کاشت کریں۔ پنجاب میں لہلہاتی فصلوں کی بجائے سیمنٹ اور سریوں کے سٹرکچر لمحہ فکریہ ہے۔ بنائے جا رہے ہیں۔ سالڈ سٹرکچرز سے نہ صرف ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ ہوا ہے بلکہ موسمیاتی تبدیلی میں بڑی حد تک بڑھی ہے۔ درجہ حرارت متعدل رکھنے کے لیے نہ صرف فصلیں کاشت کرنا ہوں گی بلکہ زیادہ رقبے پر درخت لگائے جائیں۔ ٹنل، ڈرپ اریگیشن اور دیگر جدید طریقہ کاشت اور ٹیکنالوجی سے استفادہ کیا جائے۔تو ملک میں موجود کسان خوشحال ہوں گے تو پاکستان ترقی کے زینے تیزی سے طے کرے گا۔

  • یوم اقبال پر اپووا کی تقریب،تحریر:عینی ملک

    یوم اقبال پر اپووا کی تقریب،تحریر:عینی ملک

    9نومبر یوم اقبال 2024 کو لاہور کے پاک ہیری ٹیج ہوٹل میں اپووا کی ایک شاندار تقریب منعقد کی گئی جس میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو ان کی شاندار خدمات پر ایوارڈز اور اعزازات سے نوازا گیا۔ اس تقریب کا مقصد ان افراد کی کوششوں کو سراہنا تھا جو اپنے اپنے شعبوں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

    تقریب میں مجھے بھی کئی خاص اعزاز ات حاصل ہوئے، جہاں مجھے میری ادبی خدمات پر ایوارڈ، سرٹیفیکیٹ، میڈل اور اپووا میگزین کی جانب سے خصوصی افسانہ انچارج کے کارڈسے نوازا گیا۔ اس لمحے نے میری محنت کی قدر و قیمت کو اور زیادہ بڑھا دیا، اور میں نے اس اعزاز ات کو اپنے تمام اپووا کے ساتھیوں اور اس شعبے میں کام کرنے والے تمام افراد کی محنت کا نتیجہ سمجھتی ہوں۔

    اس تقریب کی کامیابی میں مختلف پہلوؤں کا کردار تھا۔ سب سے پہلے، تقریب کے نظم و ضبط نے اس کو بے حد کامیاب بنایا۔ تقریب کا آغاز مقررہ وقت پر ہوا، اور ہر سرگرمی اور سیشن کا وقت بالکل درست تھا۔ کسی بھی قسم کی خلفشار یا تاخیر نہیں ہوئی، جس سے مہمانوں اور شرکاء کو ایک پُر سکون اور مرتب ماحول میں شرکت کا موقع ملا۔

    دوسرا اہم پہلو شخصیات کا تھا، کیونکہ اس تقریب میں شرکت کرنے والے افراد ایم ایم علی صاحب ، محمد خافظ صاحب ، سفیان علی فاروقی صاحب اور اپووا کے سر پرست زبیر احمد انصاری صاحب کی جانب سے مدعو کئے گئے مہمانان نہ صرف اپنے اپنے شعبے میں ماہر تھے بلکہ ان کی شخصیت بھی شاندار تھی۔ تقریب میں شرکت کرنے والے مختلف ماہرین اور کامیاب شخصیات سے مل کر بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ ان افراد کی باتوں میں ایک خاص جذبہ اور لگن تھی، جو اس تقریب کو اور بھی متاثر کن بنا رہا تھا۔

    شہزاد نیر صاحب اور افتحار عارف صاحب کی شاعری نے خوب سماں باندھا اور تقریب کو چار چاند لگا دئیے پھر اس کے بعد مزید مزہ تب آیا جب قرعہ اندازی میں میری مما کا نام نکل آیا جس پر میں بہت خوش ہوئی ،اسی دوران سب لکھاری نادعلی کے ساتھ تصویریں بھی بناتے رہے ان کی محبتوں کی مقرض ہوں اور انکل افتحار اور اتباف ابرک کے ساتھ تو نادعلی نے دوستی بھی کر لی ،آخری لیکن بہت اہم بات تقریب میں کھانے کے انتظام کی تھی۔ اپو وا کی جانب سے پاک ہیری ٹیج ہوٹل نے اس سلسلے میں بہترین انتظامات کیے تھے۔ کھانا نہ صرف لذیذ تھا بلکہ اس کی پیشکش اور تنوع بھی بہت شاندار تھا۔ ہر ایک کھانے کی قسم نے اپنے ذائقے اور معیار سے مہمانوں کو محظوظ کیا، اور اس نے پورے تجربے کو مزید دلکش اور یادگار بنا دیا۔

    یہ تقریب دوسری تقریبات کی طرح صرف ایک رسمی ایوارڈ تقریب نہیں تھی بلکہ ایک خوبصورت تجربہ تھا جس میں ہر عنصر نے اپنی جگہ پر شاندار کام کیا، اور میں ان سب چیزوں کی شکر گزار ہوں جو مجھے اس یادگار موقع پر حاصل ہوئیں۔

    اپووا تربیتی ورکشاپ کی یادیں،تحریر: فیصل رمضان اعوان

    اپووا کی سنگ رنگی تقریب،تحریر:ریاض احمد احسان

    اپووا تربیتی ورکشاپ کے یادگار لمحات،تحریر:اورنگزیب وٹو

    اپووا کے زیر اہتمام افطار میٹ اپ کا اہتمام

    اپوواخواتین کانفرنس:حقوقِ نسواں کی توانا آواز

    مبشر لقمان سے آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات

    ایک خوبصورت اور یادگار ملاقات، گورنر ہاوس پنجاب میں،تحریر:فائزہ شہزاد

  • اپووا تربیتی ورکشاپ کی یادیں،تحریر: فیصل رمضان اعوان

    اپووا تربیتی ورکشاپ کی یادیں،تحریر: فیصل رمضان اعوان

    لاہور کے ڈیوس روڈ پر پاک ہیری ٹیج ہوٹل میں منعقدہ آل پاکستان رائٹرزویلفئر ایسوسی ایشن کی تربیتی ورکشاپ میں شرکت کے لئے دن ساڑھے گیارہ بجے شہر کی آلود ترین سموگ کو چیرتے ہوئے ہم مقامی ہوٹل پہنچے تقریب کا آغاز ہوچکا تھا ہم بھی اپنی نشست تک پہنچ چکے تھے ،مہمانوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوچکا تھا ادبی دنیاکے چند بڑے نام بھی اس پیاری محفل کا حصہ بنے مختلف موضوعات پراہل علم اپنے علم وادب کےموتی بکھیرتے رہے چونکہ منعقدہ تربیتی ورکشاپ کا مقصد ہی نئے لکھاریوں کی حوصلہ افزائی اور ان کی تربیت شامل ہے تو ظاہر ہے علم وادب کے باذوق ترین حاضرین وہی علم کی شمع روشن کرنے والے اور اپنے قیمتی خیالات لوگوں تک پہچانے والے ہی ہال میں موجود تھے، سٹیج سے دور آخری نشستوں کے بیچ میں ہم بھی ان لوگوں میں شامل تھے اور دل ہی دل میں اپنے آپ کو ایک بڑا لکھاری سمجھ رہے تھے لیکن ہمیں اپنی خبر ہے کہ ہم لکھنے میں اتنے ماہر نہیں ہیں کہ اپنے آپ کوبڑا لکھاری کہہ سکیں لیکن خیر تقریب کو لگے چارچاندسے ہم ضرور مستفید ہوتے رہے.

    خواتین کی ایک بڑی تعداد بھی موجود تھی ہماری عورتوں میں علم وادب کا شوق قدرے زیادہ پایا جاتا ہے جس پر ہم جتنا فخر کرسکیں کم ہے ہماری یہی مائیں بہنیں بیٹیاں یقیننا علم وادب کے میدان میں نئے لوگ لارہی ہیں جو خوش آئند ہے اور ادبی دنیا کی رونقیں آباد ہیں انشااللہ یہ آباد رہیں گی ہماری خواتین سے زیادہ جان پہچان نہیں تھی ثوبیہ نیازی کی شاعری اور ان کے کالم ہم بہت محبت سے پڑھتے ہیں ثوبیہ بھی محفل میں تشریف فرما تھیں لیکن ان سے ملاقات نہ ہوسکی دیگر خواتین شعرا کالم نگار افسانہ نگار ڈرامہ نگار اور اینکرز بھی موجود تھیں اور سٹیج پر اپنے علمی وادبی تجربات سے ہمیں آگہی دیتی رہیں .

    منعقدہ تربیتی ورکشاپ کے منتظم جناب ایم ایم علی اورحافظ زاہد محمود تھے جو بھاگ دوڑ میں تھے ان سے راہ چلتے ہوئے ملاقاتیں ہوتی رہیں خوبصورت محفل سجانے پر ہم انہیں زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور دل سے مبارکباد پیش کرتے ہیں معروف قلم کار ادیب کالم نگار اردشاد احمد عارف سے ملاقات ہوئی ہم نے ان کو بھی بتلایا کہ ہم بھی اسی میدان کے کھلاڑی ہیں اگرچہ اناڑی ہیں لیکن آپ جیسے سنیئر سے سیکھ رہے ہیں ڈرامہ نگار کالم نویس مصنف افتخار احمد عثمانی المعروف افتخار احمد افی سے خوشگوار ملاقات بھی ہمارے دن بھر کی مصروفیت میں شامل رہی مبشرلقمان صاحب بیماری کی وجہ سے تشریف نہ لاسکے تقریب میں ان کا آڈیو پیغام ممتاز اعوان صاحب لے آئے تھے جو محفل شرکا کو سنایا گیا ممتاز دن بھر ہمارے ساتھ رہے اور نئے لوگوں سے تعارف ہوتا رہا روزنامہ مشرق کے میگزین ایڈیٹر جناب ندیم نذر سے اپنا تعارف کروانا ضروری سمجھا اور انہیں بتایا کہ ہم بھی لکھتے ہیں ندیم نذر خوبصورت شخصیت کے باذوق انسان ہیں معروف شاعر ناصربشیر صاحب سے گپ شپ ہوئی گل نوخیزاختر سے مسکراہٹوں کا تبادلہ ہوا اور اپنے دوست معروف سرائیکی شاعر نغمہ نگار افضل عاجز کی غیر موجودگی کے ذکر پر کچھ دیر کے لئے ہم اداس ہوئے کیونکہ افضل عاجز تقریب میں ہمارے درمیان نہیں تھے اپوا کے زیر اہتمام یہ تقریب ہرسال منعقد کی جاتی ہے یہ آٹھویں سالانہ تربیتی ورکشاپ تھی اس سے قبل بھی ہم ان خوبصورت لوگوں کی محفل میں شامل ہوتے رہے ہیں 9 نومبرکو اس دلچسپ تقریب میں شرکت گویا ہماری خوش قسمتی تھی

    دعا ہے کہ اپوا کے منتظمین اسی شوق لگن اور محنت سے اس ورکشاپ کا سالانہ اہتمام جاری رکھیں اور ہرسال ایک نئی جدوجہد اور پوری توانائی کے ساتھ متواتر یہ سلسلہ جاری وساری رہے تاکہ نئے لوگوں کو حوصلہ ملے وہ آگے آئیں اور علم وادب کی دنیا کو یونہی آباد رکھ سکیں

    اپووا کی سنگ رنگی تقریب،تحریر:ریاض احمد احسان

    اپووا تربیتی ورکشاپ کے یادگار لمحات،تحریر:اورنگزیب وٹو

    اپووا کے زیر اہتمام افطار میٹ اپ کا اہتمام

    اپوواخواتین کانفرنس:حقوقِ نسواں کی توانا آواز

    مبشر لقمان سے آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات

    ایک خوبصورت اور یادگار ملاقات، گورنر ہاوس پنجاب میں،تحریر:فائزہ شہزاد

  • اپووا کی سنگ رنگی تقریب،تحریر:ریاض احمد احسان

    اپووا کی سنگ رنگی تقریب،تحریر:ریاض احمد احسان

    آل پاکستان رائٹرز ایسوسی ایشن درس گاہ بھی ہے،امان گاہ بھی اور علاج گاہ بھی ہے-اپووا حرف کی تخلیق سے تشہیر تک تخلیق کار کی معاون و مددگار رہی ہے-اپنے قیام سے تادم تحریر سینکڑوں تقریبات،آٹھویں سالانہ تربیتی ورکشاپ اور درجنوں سیاحتی دوروں سمیت مقتدر ایوانوں تک تخلیق کاروں کی پذیرائی کو یقینی بنانا اپوا کا خاصہ ہے-آٹھویں سالانہ تربیتی ورکشاپ کیا تھی؟ تخلیق کاروں کا ایک جھرمٹ تھا،چار سو بلکہ ہر سو حکمت و شعور کے چراغ جلانے والے مقدس نفوس تھے جو عزت مآب زبیر انصاری اور سفیر خوشبو برادرم ایم ایم علی کو خراج تحسین پیش کرتے دکھائی دے رہے تھے-تخلیق کاروں کے اظہار و بیان میں لذت تھی سو یہ تقریب حقیقی اعتبار سے واقعی ست رنگی تقریب تھی کہ فلم،ٹی وی،اسٹیج،صحافت،ادب،سیاست اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں افراد ایک خاندان کی طرح اس تقریب میں شریک تھے جبکہ وطن عزیز کے ہر بڑے شہر سے تخلیق کاروں کی خصوصی شرکت نے اس تقریب کو منفرد بھی بنائے رکھا-

    اپوا کے ایک ایک معزز رکن کے حضور انتہائی محبت سے حقیر سا تحفہ تحسین پیش ہے- امید ہے لفظوں کے یہ پھول ماحول کو معطر کرنے کی ایک کوشش قرار پائیں گے- اپوا میں موجود تخلیق کار اور انکے فالورز جانتے ہیں کہ لفظ کہنا، لفظ تحریر کرنا اور لفظ کا کرب سہنا ذرا سی بات تھوڑی ھے- حرف سے لفظ کی تخلیق کا مرحلہ اور پھر لفظ بھی وہ جو تصویر بنا رھا ھو وہی لفظ نگاہ سے دل اور دل سے روح میں اترتا ہے-ایک لفظ تخلیق ھونے سے پہلے کرب و بلا کے کتنے مرحلے طے کرتا ھے اس کا احساس صرف ماں کا منصب پانی والی خوش بخت عورت ہی جانتی ھے کہ وہ تخلیق کے عمل اور تخلیق کی اذیتوں سے پوری طرح آگاہ ہوتی ہے- کڑے دن اور مشکل راتیں،مضمون کی زمین جتنی بھی زرخیز ھو اس پر ستارے، چاند، پھول، شبنم، شفق، رنگ بلکہ رنگ کا نیرنگ، آبجو، چاندنی، شجر و ہجر، صحرا و آبشار اور سورج اگانا بہت مشکل ھوتا ھے-

    خون میں جتنی بھی شدت اور حدت ھو ہوا کا رخ تبدیل کرنے میں زمانے لگانا پڑتے ہیں- جسم کے سارے اعضاء سکّوں میں ڈھال کر خرچ کرنا پڑتے ہیں- سخن کا آغاز دل کی دھڑکن کی بے ترتیبی ، آنکھ کے آنسو، پلکوں کی جھالروں کی جھل مل، لبوں کے ترنم اور کان کی سرگوشیوں سے ھوتا ھوا روح میں اترتا دکھائی دیتا ھے-ہنر کے تخت پر جلوہ افروز ہستیاں مہر و ماہ و انجم غلام کرتی ھیں- ظلمت شب میں نور کا پرچار کرتی ھیں- بہار کا سورج شام و سحر اہل ہنر کا طواف کرتا ھے- خود فریبی کے آئنے چکنا چور ھوتے ھیں- آوازوں کے شہر آباد ھوتے ھیں— باغوں میں کوئلیں راج کرتی ہیں-آپ بھی محبت کی شاخوں پر الفت کے پھول کھلائیے تاکہ آس و امید کی کلیوں اور کونپلوں کو دلفریب عکس دکھائی دیں-برف جذبوں میں خوشبوئیں گھولیں، بجھتے تاروں کی بزم میں چاند سے باتیں کرنے کا ہنر بانٹیں، دیپک راگ مزاجوں پر مثل ملہار راگ برسنے کی کوشش کیجیئے- ہم ہر پوسٹ پر عادتاً واہ، خوب اور کمال لکھ دیتے ہیں ہمیں اس عادت کو ترک کرنا ہوگا- ہمیں کسی بھی صاحب خیال پر اترنے والے مضامین پر اپنی رائے کا اظہار کرنا گا وہ رائے بھلے ہی اختلافی ہی کیوں نہ ہو اس عمل سے آپکے اندر تخلیق کا جذبہ انگڑائیاں لے گا جو یقیناً کسی لاجواب تخلیق کی جانب پہلا قدم بنے گا- آپ اور آپ سے محبت کرنے والوں کی دم دم خیر-

    اپووا تربیتی ورکشاپ کے یادگار لمحات،تحریر:اورنگزیب وٹو

    اپووا کے زیر اہتمام افطار میٹ اپ کا اہتمام

    اپوواخواتین کانفرنس:حقوقِ نسواں کی توانا آواز

    مبشر لقمان سے آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات

    ایک خوبصورت اور یادگار ملاقات، گورنر ہاوس پنجاب میں،تحریر:فائزہ شہزاد

  • اپووا تربیتی ورکشاپ کے یادگار لمحات،تحریر:اورنگزیب وٹو

    اپووا تربیتی ورکشاپ کے یادگار لمحات،تحریر:اورنگزیب وٹو

    آل پاکستان رائٹرز ویلفئیر ایسوسی ایشن کی آٹھویں سلانہ تربیتی ورکشاپ (اپووا مینجمنٹ ٹیم کے زیر اہتمام) لاہور کے مقامی ہوٹل منعقد کی گئی۔جس میں ملک بھر سے نامور لکھاریوں شاعروں ادیبوں کالم نگاروں ڈرامہ نگاروں افسانہ نگاروں وکلاء برادری اینکرز ڈاکٹرز پروفیسرز محکمہ پولیس کے افسران اور دیگر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے شرکت کی۔تقریب میں شرکاء کے لئے بہترین بیگز ایوارڈز اور مہمانوں کے لئے خصوصی ایوارڈز سے نوازا گیا۔

    سموگ رش اور روڈ بلاک کی وجہ سے کئی دوست تاخیر سے پہنچے مگر شاید کوئی ایک دوست ہی رہا ہو اتنی خوبصورت تقریب میں شرکت کے لئے میں بہت مشکور ہوں سر ایم علی صاحب کا جہنوں نے مجھے ایوارڈ کے لئے اناونس کیا اور بوس زبیر احمد انصاری صاحب کا جہنوں نے مجھے ایوارڈ دیا۔محترمہ ثمینہ طاہر بٹ صاحبہ جو ہمیں بیٹوں کی طرح سمجھتے ہیں انہوں نے اپنی کتاب سنگ ریزے اور محترمہ آپا سعدیہ ہما شیخ ایڈووکیٹ ہائیکورٹ نے اپنی کتاب بال ہما دی جو انشاءلله انمول تحفوں کی طرح مطالعہ کرکے رکھیں گے ،حافظ محمد زاہد کا خصوصی شکریہ جہنوں نے اس پروقار تقریب میں شرکت کی دعوت دی ،آپا ساجدہ چوہدری آپا سحرش خان میرے پیارے بھائی ڈاکٹر عمر شہزاد کا بھی شکریہ آپی ساجدہ چوہدری کا خصوصی شکریہ کیونکہ انکے بھائی کی اور میری شکل ملتی ہے اور وہ اکثر مجھے اپنے بھائی کے نام سے پکارتی اور یاد کرتی ہیں

    زندگی بھی گزر جاتی ہے لوگ بھی اچھی یادیں اچھے گزارے ہوۓ لمحات ہمیشہ دل و دماغ میں رہ جاتے ہیں,آخر میں بوس زبیر انصاری صاحب حافظ زاہد صاحب اور اپووا کی تمام ٹیم مینجمنٹ کا شکریہ ادا کرتے ہیں جہنوں نے کئی روز کی محنت کے بعد یہ ورکشاپ کا انعقاد کرکے اسے کامیاب بنایا۔
    شکریہ اپووا

    اپووا کے زیر اہتمام افطار میٹ اپ کا اہتمام

    اپوواخواتین کانفرنس:حقوقِ نسواں کی توانا آواز

    مبشر لقمان سے آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات

    ایک خوبصورت اور یادگار ملاقات، گورنر ہاوس پنجاب میں،تحریر:فائزہ شہزاد

  • مہنگا گھی، بے حس حکمران، عوام کہاں جائیں؟

    مہنگا گھی، بے حس حکمران، عوام کہاں جائیں؟

    مہنگا گھی، بے حس حکمران، عوام کہاں جائیں؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستان میں گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ عوام کے لیے درد سر بن چکا ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ عالمی مارکیٹ میں پام آئل کی قیمتوں میں کمی ہو رہی ہے مگر پاکستان ایساملک جہاں ان مصنوعات کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ اس تضاد کی کئی وجوہات ہیں جن میں پالیسی سازوں کی ناکام حکومتی پالیسیاں اور اقتصادی فیصلے شامل ہیں جو عوام کو شدید مشکلات سے دوچار کر رہے ہیں۔

    سب سے پہلے حکومت کی جانب سے عائد کیے جانے والے اضافی ٹیکسز اور کسٹم ڈیوٹی کو دیکھا جائے تو یہ صاف طور پر عوام کے لیے ایک بوجھ ہیں۔ حکومت نے خام مال پر اضافی ٹیکس لگایا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف ملکی پیداوار بلکہ درآمد شدہ مال کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں۔ یہ اضافہ بالآخر عوام پرمہنگائی بم بن کر پھٹا اور نتیجتاََ گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتیں آسمان تک جا پہنچیں۔ پالیسی سازوں کی اس کمزور اقتصادی حکمت عملی سے نہ صرف کاروبار کو نقصان پہنچا بلکہ عوام کے لیے بھی زندگی گزارنا مشکل بنا دیاہے۔

    اس کے علاوہ پاکستان میں پروسیسنگ اور پیکیجنگ کی قیمتوں میں اضافے کا بھی ایک بڑا ہاتھ ہے۔ حکومت کی جانب سے اس شعبے پر نظرثانی اور اصلاحات کی کمی نے ان اخراجات کو بڑھایا ہے جس کا بوجھ بھی عوام پر آ پڑا۔ مارکیٹنگ اور تقسیم کے اخراجات میں بھی اضافے کی وجہ سے قیمتیں مزید بڑھ گئی ہیں کیونکہ کمپنیاں اپنے برانڈز کی تشہیر اور فروغ کے لیے زیادہ خرچ کر رہی ہیں اور ان اضافی اخراجات کا بوجھ بھی عوام کے کندھوں پر ڈالا جا رہا ہے۔

    سب سے بڑی بات یہ ہے کہ پاکستان میں گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں میں اضافے کے پیچھے کمپنیوں کی ناجائز منافع خوری کی پالیسیاں بھی ہیں جنہیں حکومت کی کمزور نگرانی اور عدم مداخلت کا فائدہ حاصل ہے۔ یہ کمپنیاں عالمی سطح پر پام آئل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام تک نہیں پہنچنے دے رہی ہیں بلکہ اپنے منافع کو بڑھانے کے لیے قیمتیں مزید اضافہ کردیا ہے۔ حکومت نے ان کمپنیوں پر مناسب چیک اینڈ بیلنس نہیں رکھا جس کے نتیجے میں عوام کو مہنگے داموں گھی اور تیل خریدنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

    پاکستان کی موجودہ حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ معیشت میں بہتری آ رہی ہے اور مہنگائی پر قابو پایا جا رہا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ع،لی طور مارکیٹوں میں مہنگائی کے سونامی میں پس کر رہ گئی ہے۔ حکومتی دعوے صرف اعداد و شمار تک محدود ہیں جبکہ عوام کے روزمرہ کے مسائل جوں کے توں ہیں۔ حکومت نے عوامی مشکلات کو حل کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات نہیں کیے اور گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں میں اضافے پر قابو پانے کے لیے مئوثر پالیسی نہیں بنائی۔ حکومت رٹ نہ ہونے اور غلط فیصلوں کی وجہ سے قیمتیں مسلسل بڑھتی جا رہی ہیں، جس کابرا اثر عوام کی زندگی پر پڑ رہا ہے۔

    اگر حکومت واقعی چاہتی ہے کہ عوام کو ریلیف ملے تو اسے اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنا ہوگی۔بے جا ٹیکسز اور کسٹم ڈیوٹی میں کمی کرنا ضروری ہے تاکہ گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتیں کم کی جا سکیں۔ حکومت کو کمپنیوں کی منافع خوری کی پالیسیوں پر قابو پانے کے لیے سخت
    اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ عوام کو سستی اور معیاری اشیاء آسانی سے مل سکیں۔ اس کے علاوہ حکومت کو قیمتوں کے کنٹرول کے لیے فوری طور پر ئومئوثر اقدامات کرتے ہوئے آفیسران کی فوج ظفرموج کو بند کمروں سے باہر نکالنا ہوگا تاکہ عوام کی مشکلات میںخاطرخواہ کمی لائی جا سکے۔

    اگر حکومتی پالیسیوں میں فوری طور پر تبدیلیاں نہ کی گئیں تو عوام کو اس مہنگائی کے طوفان سے نجات ملنا مشکل ہو جائے گا۔جب تک حکومت اس بحران کے حل کے لیے سنجیدہ اور مئوثر اقدامات نہیں کرے گی تو اس وقت تک عوام کی زندگیوں میں کوئی بہتری ممکن نہیںپائے گی۔ یہ حقیقت ہے کہ پالیسی سازوں کی ناقص حکومتی پالیسیاں اور منافع خوری کے مسائل عوام کے لیے سنگین چیلنج بن چکے ہیں اور اگر فوری طور پر ان پر قابو نہ پایا گیا تو مہنگائی کا یہ بحران مزید بڑھ سکتا ہے۔

  • آنسو کیوں نہیں آتے؟

    آنسو کیوں نہیں آتے؟

    کچھ لوگوں کے لیے، زندگی کا ساتھی ملنا ایک تحفہ محسوس ہوتا ہے، ایک ایسا رشتہ جو زندگی کو مکمل بناتا ہے۔ لیکن جب زندگی ناقابل برداشت چیلنجز پیش کرتی ہے، تو یہ گہرے رشتہ اور بھی زیادہ تکلیف دہ بن جاتے ہیں۔ ابتدا میں غم دل و دماغ کو مکمل طور پر گھیر لیتا ہے، لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا ہے، یہ آہستہ آہستہ پس منظر میں چلا جاتا ہے اور اپنی موجودگی کو خاموش اور باریک انداز میں ہمارے زندگی کا حصہ بنا لیتا ہے۔ ہم خود کو بدل لیتے ہیں، ہمارا دماغ، ہمارا دل اور ہم سیکھتے ہیں کہ غم کو نئے طریقے سے جھیلنا ہے۔ لیکن غم کبھی ختم نہیں ہوتا؛ وہ بدلتا ہے۔

    لیکن اس تبدیلی کے بعد کچھ اور بھی ہوتا ہے، ایک ایسا ادھورا، بے امید درد جو کسی بھی مستقبل کی امید کو دھندلا دیتا ہے۔ آپ کوشش کرتے ہیں، واقعی کرتے ہیں۔ آپ خود کو دوبارہ زندگی میں شامل کرنے کی کوشش کرتے ہیں: باہر جانا، لوگوں سے ملنا، خوشی کی تلاش کرنا۔ آپ ہر ممکن کوشش کرتے ہیں، سماجی سرگرمیوں سے لے کر سکون کے لمحوں تک، کچھ بھی جو خوشی دوبارہ پیدا کر سکے۔ لیکن پھر بھی، وہ "منجمد آنسو” آپ کے سینے میں پتھر کی طرح پڑے رہتے ہیں، سب کچھ سن کر دیتے ہیں، ہنسی کے گرم احساس کو چھین لیتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے کچھ بہت ضروری چیز آپ سے چھین لی گئی ہو، ایک ایسا حصہ جو کوئی بھی کوشش واپس نہیں لا سکتی۔

    یہ صرف طویل غم نہیں ہے۔ یہ اس کے بعد کا غم ہے— وہ غم جب آپ یہ سمجھتے ہیں کہ نقصان کے بعد زندگی تبدیل ہو گئی ہے، خالی ہو گئی ہے۔ مسلسل خالی پن ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے آپ خود سے، دوسروں سے اور دنیا سے کٹ گئے ہوں۔ یہ سنسانی آپ کی توانائی کو چوس لیتی ہے اور معمولی کاموں کو بھی مشکل بنا دیتی ہے، آپ اپنے وجود سے سوال کرنے لگتے ہیں۔ کبھی کبھار، یہ خلا تھکا دینے والی زندگی کی حالات کی وجہ سے آتا ہے، اور ایسا لگتا ہے جیسے آپ خود سے بہت دور جا چکے ہوں، اور اب آپ اپنے آپ کو دوبارہ مکمل طور پر جڑنے میں کامیاب نہیں ہو پا رہے۔

    کیا اس کا کوئی حل نہیں؟

  • شاعر مشرق اور آج کا نوجوان.تحریر:ریحانہ جدون

    شاعر مشرق اور آج کا نوجوان.تحریر:ریحانہ جدون

    علامہ اقبال، جنہیں "شاعر مشرق” کے لقب سے نوازا گیا، نہ صرف ایک عظیم شاعر تھے بلکہ ایک فلاسفر اور مفکر بھی تھے۔ ان کی شاعری میں ایک ایسی گہری بصیرت اور دلوں کو متحرک کرنے والی قوت تھی جو آج بھی نوجوانوں کو متاثر کرتی ہے۔ ان کا پیغام ہمیشہ سے یہی رہا کہ انسان کو اپنے آپ کو پہچاننا چاہیے اور اپنی تقدیر خود لکھنی چاہیے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا آج کا نوجوان اقبال کے پیغام کو سمجھتا ہے اور ان کی شاعری کو اپنے معاشرتی، سیاسی اور ذاتی زندگی میں کس طرح ڈھالتا ہے؟

    علامہ اقبال کی شاعری میں جو جوش اور جذبہ تھا، وہ آج بھی نوجوانوں کے لئے ایک قیمتی خزانہ ہے۔ اقبال نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ نوجوانوں کو اپنے عزم و ارادے کو مضبوط کرنا چاہیے اور اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لئے محنت کرنی چاہیے۔ ان کی مشہور نظم "خُدی کو کر بلند اتنا” اسی پیغام کا عکاس ہے۔آج کا نوجوان اگرچہ اپنے دور کے مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، مگر اس کے پاس وسائل اور مواقع بھی بے شمار ہیں۔ انٹرنیٹ، سوشل میڈیا، اور جدید ٹیکنالوجی نے نوجوانوں کے لئے نئے دروازے کھولے ہیں، لیکن ان سب کے ساتھ ساتھ، اگر اس نوجوان کی شخصیت میں اقبال کی طرح کی بلندی نہ ہو، تو وہ ان وسائل کا صحیح استعمال نہیں کر پائے گا۔

    اقبال نے ہمیشہ "خودی” کے تصور پر زور دیا۔ ان کے نزدیک "خودی” انسان کی اندرونی طاقت ہے، جو اسے مشکلات کا مقابلہ کرنے کی جرات اور حوصلہ دیتی ہے۔ آج کے نوجوانوں میں یہ خودی کی کمی ہوتی جا رہی ہے۔ معاشرتی دباؤ، مقابلہ بازی، اور خود کو ثابت کرنے کی خواہش کی وجہ سے نوجوان اکثر اپنے حقیقی مقصد سے بھٹک جاتے ہیں۔اقبال کا پیغام تھا کہ انسان جب تک اپنے آپ کو نہیں پہچانے گا، اس کی زندگی کا مقصد بھی غیر واضح رہے گا۔ وہ ہمیشہ اپنی شاعری میں اس بات پر زور دیتے رہے کہ انسان کو اپنی تقدیر کے بارے میں آگاہی حاصل کرنی چاہیے اور اپنے اندر کی قوت کو پہچان کر اسے دنیا میں نمایاں کرنا چاہیے۔

    آج کا نوجوان اقبال کی شاعری کو کسی حد تک سمجھتا ہے، مگر اس کے لئے ان کے پیغام کو عملی زندگی میں لانا ایک چیلنج بن چکا ہے۔ اقبال کا خواب تھا کہ مسلمانوں کی اجتماعی قوت ایک نئی تحریک پیدا کرے، لیکن کیا آج کے نوجوان ان خیالات کو حقیقت کا روپ دے پا رہے ہیں؟ یہ سوال بہت اہم ہے۔آج کا نوجوان کئی مرتبہ معاشرتی دباؤ، تعلیم، روزگار، اور ذاتی مسائل کے شکار ہو جاتا ہے۔ ایسے حالات میں اقبال کی "خودی” کا پیغام اور اس کے مطابق اپنی تقدیر خود بنانے کا نظریہ ایک ترغیب فراہم کر سکتا ہے۔ اقبال کی شاعری نوجوانوں کو یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ کامیابی صرف محنت اور عزم سے آتی ہے، اور اگر انسان خودی کو بلند کرنے میں کامیاب ہو جائے تو دنیا کی کوئی بھی طاقت اسے روکھ نہیں سکتی۔

    اقبال کی شاعری ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہر نوجوان کو اپنے اندر جھانک کر اپنی کمزوریوں کو پہچاننا چاہیے اور ان کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ آج کے دور میں جہاں فنی، سائنسی اور فکری جدتیں آ رہی ہیں، وہیں نوجوانوں کو اپنی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے ان نئی تبدیلیوں کو اپنانا ضروری ہے۔ اس میں اقبال کی شاعری ایک رہنمائی کا کام کر سکتی ہے۔

    آج کے نوجوان کے لئے اقبال کا پیغام واضح ہے:
    "خُدی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
    خُدا بندے سے خود پُوچھے، بتا، تیری رضا کیا ہے؟”

    شاعر مشرق، علامہ اقبال کی شاعری نہ صرف ایک عہد کا آئینہ ہے، بلکہ آج کے نوجوانوں کے لئے ایک قیمتی ہدایت ہے۔ اگر ہم اقبال کی تعلیمات پر عمل کریں، تو نہ صرف اپنی زندگی میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں بلکہ ایک بہتر معاشرتی اور سیاسی نظام کی تشکیل میں بھی اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اقبال کا پیغام ہمیشہ نوجوانوں کے لئے یہ ہے کہ "خود پر یقین رکھو”، "محنت کرو”، اور "دنیا کو بدلنے کے لئے اپنے آپ کو بدلنا ضروری ہے”۔یاد رکھیں، اقبال کی شاعری آج بھی ہمارے لئے ایک روشن راہ دکھاتی ہے۔ اس راہ کو اختیار کر کے ہم اپنے خوابوں کو حقیقت بنا سکتے ہیں، اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی قوم اور اپنے ملک کو بھی فلاح کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔

  • قاتل سموگ، ذمہ دار کون؟

    قاتل سموگ، ذمہ دار کون؟

    قاتل سموگ، ذمہ دار کون؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    پاکستان میں سموگ کا مسئلہ ایک سنگین صورت اختیار کر چکا ہے، جو ہر سال شہریوں کی صحت پر منفی اثرات ڈال رہا ہے۔ سموگ کے پھیلاؤ میں کئی عوامل شامل ہیں، جن میں کسانوں کا کردار سب سے زیادہ اہم ہے۔ کسانوں کی جانب سے دھان کی پرالی جلانا، صنعتی فضلہ، بھٹوں سے نکلنے والی آلودگی اور شہروں میں گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں سموگ کی شدت میں اضافہ کرتے ہیں، جس کے باعث فضائی آلودگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔

    گذشتہ کچھ سالوں میں کسانوں نے دھان کی فصل کی کٹائی کے دوران تھریشر مشینوں کا استعمال بڑھا دیا ہے۔ اس سے فصل کی گہائی کا عمل تیز ہو گیا ہے مگر اس کے ساتھ ہی پرالی جلانے کا مسئلہ بھی سامنے آیا ہے۔ زیادہ تر کسان پرالی کو آگ لگا کر ختم کرتے ہیں کیونکہ ان کے پاس اس کو ٹھکانے لگانے کے دوسرے سستے اور آسان طریقے نہیں ہیں۔ پرالی جلانے سے زہریلی گیسیں اور دھواں فضا میں پھیلتا ہے، جو سموگ کی شدت کو بڑھاتا ہے۔ اسی طرح کھیتوں میں مڈھوں کو جلانے کا عمل بھی آلودگی میں اضافہ کرتا ہے۔کسانوں کا یہ عمل اس وجہ سے ہوتا ہے کہ انہیں اس بات کا مکمل علم نہیں ہوتا کہ پرالی جلانے سے فضائی آلودگی بڑھتی ہے اور سموگ کی شدت میں اضافہ ہوتا ہے۔ دوسری جانب کسانوں کے پاس وہ وسائل نہیں ہیں جو انہیں پرالی کو بامقصد استعمال میں لانے کے لیے درکار ہیں۔ جدید مشینری اور کھاد بنانے کے طریقے مہنگے ہیں اور چھوٹے کسان ان اخراجات کا بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں ہوتے۔ اس وجہ سے وہ پرالی کو جلانے کو ہی آسان اور سستا طریقہ سمجھتے ہیں۔

    سموگ کے پھیلاؤ میں انڈسٹریوں کا بھی اہم کردار ہے۔ بہت سی صنعتوں سے فضائی آلودگی کے اخراج کی روک تھام کے لیے بنائے گئے قوانین پر عمل نہیں کیا جاتا۔ انڈسٹریوں سے نکلنے والا دھواں اور زہریلی گیسیں فضا کو آلودہ کرتی ہیں جس سے سموگ کی شدت بڑھ جاتی ہے۔ انڈسٹریل یونٹس میں فضلے کو مئوثر طریقے سے ٹھکانے لگانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے، جو اکثر غیرمئوثریا مہنگی ہوتی ہے۔

    سموگ پھیلانے میں اینٹوں کے بھٹوں کو نظربھی انداز نہیں کیا جاسکتا ، جدیدٹیکنالوجی پر منتقل نہ ہونے والے اور خاص طور پر اینٹیں بنانے والے وہ بھٹے جو عام طور پر لکڑی یا کوئلے کی بجائے ربڑ، گندے کپڑے اور کچرا جلانے کے لیے استعمال کرتے ہیں، فضا میں انتہائی خطرناک آلودگی چھوڑتے ہیں۔ یہ بھٹے فضائی آلودگی کے لیے اہم ذرائع بنتے ہیں کیونکہ ان میں جلنے والا فضلہ زہریلی گیسوں کے اخراج کا باعث بنتا ہے، جس سے سموگ میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں فضا میں کاربن مونو آکسائیڈ، نائٹروجن آکسائیڈ اور دیگر زہریلی گیسیں شامل ہو جاتی ہیں جو نہ صرف ماحول کو آلودہ کرتی ہیں بلکہ انسانوں کی صحت کے لیے بھی خطرناک ہیں۔

    شہری علاقوں میں گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں بھی سموگ کا ایک بڑا سبب ہے۔ غیر معیاری ایندھن کا استعمال اور پرانی گاڑیاں سموگ کی شدت میں اضافہ کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ شہر کی سڑکوں پر ٹریفک کا دبا ؤبھی گاڑیوں سے نکلنے والی گیسوں کی مقدار کو بڑھا دیتا ہے جو آلودگی کے مسائل کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے، سموگ کے اثرات نہ صرف ماحول بلکہ انسانی صحت پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ اس کی وجہ سے سانس کی بیماریوں، پھیپھڑوں کے مسائل، دمہ، آنکھوں میں جلن اور دل کے امراض میں اضافہ ہو رہا ہے۔ خاص طور پر بچے، بزرگ اور وہ لوگ جو پہلے سے کسی بیماری کا شکار ہیں، سموگ سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔

    سموگ کے مسئلے کے حل کے لیے حکومت کو چاہیے کہ وہ کسانوں کو پرالی کے بہتر استعمال کی تربیت دے اور انہیں مالی معاونت فراہم کرے تاکہ وہ اس مسئلے کا مستقل حل تلاش کر سکیں۔ اس کے علاوہ انڈسٹریز میں فضائی آلودگی کی روک تھام کے لیے قوانین پر سختی سے عملدرآمد کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی بھٹوں پر نگرانی بڑھا کر اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ وہ صرف معیاری ایندھن کا استعمال کریں تاکہ فضائی آلودگی کو کم کیا جا سکے۔ شہروں میں گاڑیوں کے معائنہ اور دیکھ بھال کے نظام کو مئوثر بنانا ضروری ہے تاکہ گاڑیوں سے نکلنے والی آلودگی کو کم کیا جا سکے۔

    اگر حکومتی سطح پر سموگ پیدا کرنے والے عوامل پر کنٹرول کرنے کے لیے کوئی واضح پالیسی یا حکمت عملی نہ بنائی گئی تو شہری یونہی سموگ کے زہر سے متاثر ہو کر خطرناک بیماریوں کا شکار ہوتے رہیں گے۔ سموگ کا یہ عفریت بڑھتا جائے گا اور اس کا اثر عوام کی زندگیوں پر مزید منفی پڑے گا۔ ان تمام مسائل کے پھیلا ؤکی واحد اور بنیادی ذمہ دار حکومت ہی ہے، جس کی غفلت اور کمزورپالیسیوں کے باعث یہ سنگین بحران جنم لے چکا ہے۔ اگر حکومت نے اس مسئلے کی طرف فوری توجہ نہ دی اور عملی اقدامات نہ اٹھائے تو یہ بحران پورے ملک کی صحت اور ماحول کو اپنی لپیٹ لے کر ایک بہت بڑا خطرہ بن جائے گا۔