Baaghi TV

Category: بلاگ

  • خدارا.. سیاسی قائدین پاکستان  پر رحم کریں .تجزیہ:شہزاد قریشی

    خدارا.. سیاسی قائدین پاکستان پر رحم کریں .تجزیہ:شہزاد قریشی

    ہماری قوم ہر دو چار سال بعد تبدیلی کے عمل سے گزرتی ہے یعنی انتخابات قوم اور سیاسی جماعتوں کے اتحاد ماضی میں دیکھے۔ تحریکیوں کا بھی دور دیکھا۔ پی این اے ، یو ڈی ایف ، ایم آرڈی ،ملی یکجہتی کونسل ،اسلامک فرنٹ ، اسلامی جمہوری اتحاد ، متحدہ شریعت محاذ ، تحریک نظام مصطفی ، تحریک تحفظ نبوت ، تحریک ناموس رسالتۖ ، تحریک ناموس صحابہ۔ قومی ہیروز کے کئی روپ دیکھے ، مارشل لاء دیکھے ،جمہوری حکومتیں دیکھیں۔ آمریت اور جمہوریت کو ساتھ ساتھ چلتے دیکھا۔ مگر ا فسوس نہ معیشت مستحکم ہو سکی اور نہ ہی علماء کرام آپ ۖ کی ایک حدیث مبارک پرعمل کروا سکے۔ جو ملاوٹ کرتا ہے وہ ہم میں سے نہیں ۔ ملک کے تمام صوبے ملاوٹ کی زد میں ،کھانے پینے سے لے کر ادویات تک سرے عام ملاوٹ ہو رہی ہے ۔ معیشت کا یہ عالم ہے کہ کاسہ گدائی ہاتھ میں لے کر دنیا میں گھوم رہے ہیں۔ ریاست سے محبت کا یہ عالم ہے کہ مسائل میں گری قوم کو بنگلہ دیش اور اب شام کی مثالیں دے کر خوف زدہ کیا جا رہاہ ے ۔غیر ملکی سرمایہ کاروں پر اس کے کیا اثرات پڑیں گے ، کیا کبھی کسی نے سوچا؟ ان افواہوں کا اثر ملک وقوم پر کیا پڑتا ہے ؟

    جہاں تک عرب ممالک کاتعلق ہے ، کشمیری مائوں ، بہنوں ،بچوں ،نوجوانوں اور بوڑھوں کا بھارتی افواج نے قتل عام کیا۔ عرب ممالک بھارت میں سرمایہ کاری بڑے پیمانے پر کر رہے ہیں۔ فلسطین میں کیا ہوا اور کیا ہو رہاہ ے۔ عرب ریاستیں جو اپنے پیسے کی بناء پر اُچھلتی ہیں۔وہ بھی غزہ کی صورت حال کو سامنے رکھاجائے تو ریت کی دیوار ثابت ہو رہی ہیں۔ امریکہ اورمغربی ممالک کی ترقی کا راز علم اور عمل ہے۔ یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ آج کا نوجوان طبقہ ان مفاد پرست سیاستدانوں کے ہاتھ میں کیسے چڑھ گئے جو سیاستدان کو جانتے تک نہیں یہ اپنے عزیزوں کے ساتھ بھی دست و گریبان ہو رہے ہیں۔ پاک فوج اور جملہ اداروں پر بہتان تراشیوں کے نشتر چلائے جا رہے ہیں ،جمہوریت کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ گھوڑے بے لگام ہو جائیں۔ سیاسی بداخلاقیاں ، بہتان تراشی،افوا سازی ، کیا عالمی دنیا میں پاکستان کے وقار کو نقصان نہیں پہنچا رہی ؟ سیاسی قائدین اس ملک پر رحم کریں ۔ اس ملک کے وقار میں اضافہ کریں۔ اپنے ذاتی مفادات ، اختیارات اور پروٹوکول کی خاطر ملکی وقار کو دائو پر لگانے سے گریز کریں

  • ہم جنس پرست امریکی سے اب پی ٹی آئی کو امیدیں

    ہم جنس پرست امریکی سے اب پی ٹی آئی کو امیدیں

    پاکستان کی سیاست میں اکثر نئے بیانیے اور تبدیلی کی باتیں کی جاتی ہیں، لیکن جب حقیقت کی گہرائی میں جایا جاتا ہے تو سامنے ایک تلخ اور بدبودار سچائی آتی ہے۔ "امریکی غلامی نا منظور” کا نعرہ لگانے والی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) آج کس قدر بدلے ہوئے حالات میں ہے، یہ ایک افسوسناک حقیقت ہے۔ پی ٹی آئی، جو کبھی خودمختاری اور غیرت کی باتیں کرتی تھی، آج اس حد تک گر چکی ہے کہ وہ اپنے ہی نعروں کا مذاق اُڑا کر انہیں دھوکہ دینے والے عناصر کے سامنے جھکنے پر مجبور ہو گئی ہے۔

    آج سے چند سال قبل، جب پی ٹی آئی نے "امریکی غلامی نہیں منظور” کے نعرے بلند کیے تھے، تو اُس وقت جماعت نے خود کو قوم کی آواز اور آزادی کا علمبردار تصور کیا تھا۔ لیکن اب یہ جماعت اپنے سابقہ دعووں اور نعروں سے مخلص نہیں رہی۔ اسے یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ آج پی ٹی آئی کی قیادت ایسی شخصیات کے دربار میں جا کر مدد کی بھیک مانگ رہی ہے، جو کبھی خود اس کے مذموم بیانیے کا حصہ تھے۔رچرڈ گرینل ایک ایسا نام ہے جو سیاست، سفارتکاری، اور متنازعہ بیانات کے لحاظ سے خاصا معروف ہے۔ وہ ایک امریکی سفارتکار ہیں، جن کا ماضی کئی سیاسی و اخلاقی معاملات میں الجھا ہوا ہے۔ گرینل کا تعلق ایک ایسے شخص سے ہے جو اپنی ذاتی زندگی کے حوالے سے بھی متنازعہ رہا ہے، اور اس کے جنسی رجحانات بھی اس کی سیاست میں ایک اہم عنصر بن چکے ہیں۔یہ وہی رچرڈ گرینل ہیں جنہوں نے ہم جنس پرستی کے عالمی پرچار میں نمایاں کردار ادا کیا اور خود کو سرٹیفائیڈ ہم جنس پرست کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا۔ گرینل نے جرمنی میں اپنی تعیناتی کے دوران نہ صرف سفارتی اصولوں کی پامالی کی بلکہ اپنی غیر اخلاقی حرکات سے بھی کئی بار شہرت پائی۔ ایسے شخص کے ساتھ سیاسی تعلقات قائم کرنا پی ٹی آئی کے لیے نہ صرف ایک اخلاقی دھچکا ہے، بلکہ اس سے اس جماعت کی خودمختاری اور آزادی کے دعووں کی قلعی بھی کھل گئی ہے۔

    جو جماعت کبھی خودمختاری اور غیرت کی دعویدار تھی، وہ آج اس قدر گر چکی ہے کہ وہ ایک ایسے شخص کے سامنے جھک رہی ہے جو نہ صرف ان کے نعروں کا مذاق اُڑاتا ہے، بلکہ ان کے سیاسی و اخلاقی نظریات کے بھی مخالف ہے۔ یہ حقیقت ایک تلخ حقیقت ہے کہ پی ٹی آئی، جو کبھی "امریکی غلامی نہیں منظور” کے نعرے بلند کرتی تھی، آج اپنے ہی نعرے کو نظرانداز کر کے امریکہ کے ایک متنازعہ سفارتکار سے مدد کی درخواست کر رہی ہے۔اس صورتحال سے واضح ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کی سیاست میں تبدیلی نہیں آئی بلکہ اس نے اپنے نظریات، بیانیے، اور عوامی حمایت کے ساتھ کھلواڑ کیا ہے۔ آج پی ٹی آئی کا دعویٰ "نیا پاکستان” بنانا ہے، لیکن حقیقت میں یہ ایک "سیاسی منافقت کا شاہکار” بن چکا ہے۔پاکستان کی سیاست میں ایک نیا بیانیہ اور تبدیلی کی بات کی جاتی ہے، لیکن جب ہم پی ٹی آئی کی موجودہ پوزیشن کو دیکھتے ہیں تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ جماعت نے اپنے اصولوں اور مفادات کی خاطر اپنے عوامی نعرے کو قربان کر دیا ہے۔ اب پی ٹی آئی کا نیا پاکستان "سیاسی منافقت” کا نمونہ بن چکا ہے، جہاں پر کسی بھی اصول یا نظریے کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔

    اگر پی ٹی آئی کی قیادت نے اپنے پچھلے بیانیے کو نظرانداز کر کے رچرڈ گرینل جیسے متنازعہ شخص کے ساتھ تعلقات قائم کیے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے عوام کے مفادات سے زیادہ ذاتی مفادات کی فکر کر رہی ہے۔ یہ سیاسی منافقت ہی ہے جس کی وجہ سے عوام کا اعتماد ٹوٹ رہا ہے اور وہ سوالات اٹھا رہے ہیں کہ آخرکار پی ٹی آئی کے نظریات کہاں گئے؟آج پی ٹی آئی نے جو راستہ اختیار کیا ہے، وہ صرف اس کے سیاسی مفادات کو بڑھا رہا ہے لیکن اس سے اس جماعت کی اخلاقی اور نظریاتی بنیادیں متزلزل ہو چکی ہیں۔ "امریکی غلامی نہیں منظور” کا نعرہ لگانے والی پی ٹی آئی آج امریکہ کے ایک متنازعہ سفارتکار کے سامنے جھک کر اپنی بے عزتی کروا رہی ہے۔اس صورتحال نے اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ سیاست میں اصول اور نظریات کی حقیقت محض ایک دکھاوا ہوتی ہے، جب تک کہ وہ شخص اپنے مفاد میں نہ ہوں۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ جو جماعت عوامی حمایت اور آزادی کے نعرے لگاتی ہے، وہ بھی وقت کے ساتھ اپنے اصولوں سے سمجھوتہ کر لیتی ہے، جب وہ اقتدار کے حصول کے قریب پہنچتی ہے۔

    عمران کی رہائی کا مطالبہ کرنیوالا،ہم جنس پرست رچرڈ گرینل ٹرمپ کا ایلچی مقرر

    پنجاب کو دنیابھرکےلیےتجارت اورسرمایہ کاری کا مرکز بنائیں گے،مریم نواز

    ہم جنس پرستی بارے گفتگو پر یونائیٹڈ ایئر لائن کا فلائٹ اٹینڈنٹ برطرف

    پی ٹی آئی کا ناروے کی ہم جنس پرستی کی حامی پارٹی سے رابطہ

    ڈیٹنگ ایپس،ہم جنس پرستوں کے لئے بڑا خطرہ بن گئیں

    ہم جنس پرستی کلب کے قیام کی درخواست پر ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کا ردعمل

  • یورپ کے خواب اور موت کے راستے، ذمہ دار کون؟

    یورپ کے خواب اور موت کے راستے، ذمہ دار کون؟

    یورپ کے خواب اور موت کے راستے، ذمہ دار کون؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    آج صبح جب ایک نیوز چینل کی ویب سائٹ کھولی تو صفحۂ اول پر ایک دلخراش خبر موجود تھی، جس کے مطابق یونان میں تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے سے 5 افراد ہلاک ، 40 لاپتہ ہو گئے اور اور 39 کو بچا لیا گیا ، کشتی میں سوار زیادہ تر افراد کا تعلق پاکستان سے تھاجو بہتر زندگی کے خواب دیکھتے ہوئے موت کے منہ میں چلے گئے۔ یہ حادثہ ان المناک کہانیوں کی ایک کڑی ہے جو ہر سال سینکڑوں پاکستانی خاندانوں کو غم میں مبتلا کر دیتی ہیں۔

    یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے گذشتہ سال بھی اٹلی کے قریب کشتی الٹنے کے المناک حادثے میں 30 سے زائد پاکستانی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ اس حادثے کے بعد بھی پاکستانی نوجوانوں کی بڑی تعداد خطرناک راستے اختیار کرنے سے باز نہیں آئی۔ انسانی اسمگلنگ مافیا کے جھوٹے وعدے اور بہتر مستقبل کی جھوٹی امیدیں نوجوانوں کو ایسے فیصلے کرنے پر مجبور کرتی ہیں جو ان کی زندگی کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔

    پاکستانی نوجوانوں کے غیر قانونی طور پر یورپ جانے کے رجحان کے پیچھے کئی وجوہات ہیں۔ سب سے پہلے ملک میں بے روزگاری کی شدت ہے۔ معیشت کی سست رفتاری اور روزگار کے محدود مواقع نوجوانوں کو اس بات پر مجبور کرتے ہیں کہ وہ کسی بھی طرح بہتر زندگی کی تلاش میں نکلیں۔ غربت اور معاشی بدحالی ان کے فیصلے پر مزید دباؤ ڈالتی ہیں کیونکہ خاندان کی کفالت کے لیے وہ کسی بھی خطرے کا سامنا کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔

    تعلیم اور مہارت کی کمی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ مناسب تعلیم اور ہنر کی عدم موجودگی کی وجہ سے نوجوان قانونی ذرائع سے بیرون ملک جانے میں ناکام رہتے ہیں۔ وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں کہ ہنر اور تعلیم کے بغیر کسی بھی ملک میں بہتر زندگی حاصل کرنا ایک خواب ہی رہ جاتا ہے۔

    یورپ کے بارے میں پھیلائے گئے غلط تصورات بھی اس المیہ کی ایک بڑی وجہ ہیں کیونکہ نوجوانوں کو یہ بتایا جاتا ہے کہ یورپ میں سب کچھ آسان اور پرتعیش ہے۔ اس خیالی جنت کا خواب دیکھتے ہوئے وہ انسانی اسمگلنگ مافیا کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔ یہ اسمگلرز انہیں یقین دلاتے ہیں کہ وہ محفوظ طریقے سے انہیں یورپ پہنچا دیں گے حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔

    معاشرتی دباؤ بھی ان فیصلوں کو مزید تقویت دیتا ہے۔ خاندان اور معاشرت کی جانب سے زیادہ پیسے کمانے اور معیارِ زندگی بلند کرنے کا دباؤ نوجوانوں کو ان خطرناک راستوں پر چلنے پر مجبور کرتا ہے۔ اس کے علاوہ قانونی سفری ذرائع کی مشکلات اور کرپشن نوجوانوں کو غیر قانونی ذرائع اپنانے پر مجبور کرتی ہیں۔

    ملکی نظام پر عدم اعتماد اور سماجی مساوات کی کمی بھی اس مسئلے کو گمبھیر بناتی ہیں۔ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور امیر و غریب کے درمیان فرق نوجوانوں میں مایوسی کو بڑھا دیتا ہے۔ ملک میں جاری سیاسی عدم استحکام اور امن و امان کی خراب صورتحال نوجوانوں کو یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ ان کے مسائل کا واحد حل بیرون ملک جانا ہے۔

    اس صورتحال کی شدت کا اندازہ خیبرپختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم کے حالیہ بیان سے بھی لگایا جاسکتا ہے، جس میں انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو سالوں میں 18 لاکھ پاکستانی ملک چھوڑ چکے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ حکومت کی ناکام معاشی پالیسیوں کی وجہ سے غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ صنعتی ترقی صفر فیصد ہے اور بیرونی سرمایہ کاری تاریخی طور پر کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ لوگ بہتر زندگی کی تلاش میں ملک چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

    ان وجوہات کے تدارک کے لیے حکومت کو فوری اقدامات کرنے ہوں گے۔ سب سے پہلے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے صنعتی اور تجارتی منصوبوں میں سرمایہ کاری ضروری ہے۔ معیاری تعلیم اور مہارت کے پروگراموں کا انعقاد نوجوانوں کو قانونی طریقے سے آگے بڑھنے کے لیے تیار کر سکتا ہے۔

    قانونی سفری سہولیات کو آسان اور شفاف بنانا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ نوجوانوں کو غیر قانونی ہجرت کے خطرات سے آگاہ کرنے کے لیے شعور بیدار کرنے کی مہمات چلائی جانی چاہییں۔ انسانی اسمگلنگ کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور ایسے مافیا کے خلاف ایف آئی اے کو مزید متحرک کیا جائے۔

    معاشی مساوات کو فروغ دینے کے لیے وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانا ہوگا۔ اس کے علاوہ نوجوانوں کو اپنے ملک میں ہی بہتر مواقع فراہم کرنے کے لیے سیاسی اور سماجی استحکام پر کام کرنا ہوگا۔ یہ سب اقدامات اس بات کو یقینی بنا سکتے ہیں کہ ہمارے نوجوان اپنے خوابوں کی تکمیل کے لیے اپنی جانیں خطرے میں نہ ڈالیں۔

    یہ المناک حادثے اور ان کی بڑھتی ہوئی تعداد ہماری اجتماعی ناکامی کی عکاس ہیں، یورپ کے ان پرخطر راستوں پر چلنے والے نوجوانوں کے خوابوں کے پیچھے بے روزگاری، غربت اور ناکام حکومتی پالیسیاں ہیں جبکہ انسانی اسمگلنگ مافیا ان کا فائدہ اٹھا رہا ہے۔ یہ وقت ہے کہ حکومت، معاشرہ اور خاندان مل کر اس مسئلے کو جڑ سے ختم کرنے کی کوشش کریں۔ نوجوانوں کو روزگار، تعلیم اور قانونی مواقع فراہم کیے بغیر ان کے خوابوں کو حقیقت میں بدلنا ممکن نہیں۔

    اگرحکومت نے اس مسئلے کا حل تلاش نہ کیا تو یہ المیے ہمارے معاشرتی ڈھانچے کو مزید کمزور کریں گے۔ لہٰذا یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ قوم کے نوجوانوں کے مسائل کو حل کرے اور نوجوانوں کو ان کی منزل تک پہنچنے کے لیے محفوظ اور قانونی راستے فراہم کرے۔

  • فرینڈز آف پولیس

    فرینڈز آف پولیس

    فرینڈز آف پولیس
    تحریر: ملک امان شجاع

    صوبہ پنجاب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ موجودہ صوبائی حکومت نے محکمہ پولیس اور عوام کے درمیان بہتر تعلقات کے فروغ اور پولیس قوانین کی آگاہی کے لیے "فرینڈز آف پولیس” پروگرام کا اجراء کیا ہے، جس کے تحت پڑھے لکھے نوجوانوں کو پولیس قوانین و دیگر عوامل سے متعلق جامع تربیت دی جاتی ہے تاکہ وہ معاشرے میں پنجاب پولیس کا مثبت چہرہ پیش کر سکیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب اور آئی جی پولیس پنجاب کے ویژن کو ڈی پی او اٹک ڈاکٹر سردار غیاث گل خان عملی جامہ پہناتے نظر آتے ہیں۔

    ان کی قیادت میں ڈی پی او آفس اٹک میں "فرینڈز آف پولیس” پروگرام کے تحت ٹریننگ کے متعدد سیشن مکمل ہو چکے ہیں، جن میں سینکڑوں تعلیم یافتہ نوجوانوں کو ٹریننگ کے بعد تربیتی سرٹیفکیٹ فراہم کیے گئے ہیں۔ یہ تربیت یافتہ نوجوان محکمہ پولیس کے دست و بازو بن کر مستقبل میں معاشرے کے لیے بہتر خدمات انجام دیں گے اور محکمہ پولیس کے معاون کا کردار ادا کریں گے۔

    گزشتہ دنوں بھی ڈی پی او اٹک کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں "فرینڈز آف پولیس سیمینار” کا انعقاد کیا گیا، جس میں گورنمنٹ ٹیکنیکل کالج اٹک کے سٹاف، طلباء اور طالبات نے بھرپور شرکت کی۔ سینئر پروفیسر ملک ماجد خان کی قیادت میں طلبہ و طالبات نے سیمینار میں گہری دلچسپی لیتے ہوئے قانونی معاملات، پولیسنگ میں استعمال ہونے والی جدید ایپس اور ٹیکنالوجی، کمیونٹی پولیسنگ، اور پولیس کی جانب سے عوام و الناس کو دی جانے والی سہولیات کے متعلق مؤثر معلومات حاصل کیں۔

    طلبہ و طالبات کو اقلیتوں، خواتین اور ٹرانس جینڈر کے حقوق کی پاسداری کے ساتھ ساتھ ٹریفک قوانین سے آگاہی کے لیکچرز بھی دیے گئے اور سیف سٹی اٹک کا دورہ بھی کروایا گیا۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر اٹک، ڈاکٹر سردار غیاث گل خان نے تمام امیدواروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "فرینڈز آف پولیس” کا مقصد پولیسنگ کو سمجھنا اور اس سے آگاہی حاصل کرکے فائدہ اٹھانا ہے۔ آپ لوگ پولیس اور عوام کے درمیان فاصلوں کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ پولیس کے مثبت امیج کو اجاگر کرکے عوام دوست ماحول قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا جا سکتا ہے۔

    تقریب کے اختتام پر ڈی پی او اٹک نے امیدواروں کو "فرینڈز آف پولیس” کے بیجز لگائے اور ٹریننگ سرٹیفکیٹ بھی دیے۔ ڈی پی او اٹک نے اس موقع پر کہا کہ شہری اپنی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے محکمہ پولیس سے تعاون کریں تو جرائم کا مکمل خاتمہ ممکن ہے۔

  • مایوسی گناہ ہے، امید کو زندہ رکھیں

    مایوسی گناہ ہے، امید کو زندہ رکھیں

    آرمی چیف کا پیغام قوم کے نام…
    Never Ever Lose Hope (مایوسی گناہ ہے، امید کو زندہ رکھیں)
    تحریر:شاہد نسیم چوہدری
    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا یہ پیغام کہ "مایوسی گناہ ہے، امید کو زندہ رکھیں” نہ صرف موجودہ حالات میں قوم کے لیے حوصلے اور رہنمائی کا ذریعہ ہے بلکہ اسلامی تعلیمات اور ہماری قومی تاریخ کے مطابق بھی ایک اہم پیغام ہے۔ یہ پیغام قوم کے لیے روشنی کی کرن ہے، جو مشکل حالات میں اتحاد اور عزم کے ساتھ آگے بڑھنے کی تاکید کرتا ہے۔

    مایوسی ایک ایسی کیفیت ہے جو انسان کے اندر موجود قوتِ عمل کو ختم کر دیتی ہے۔ یہ نہ صرف فرد کی ذاتی زندگی پر منفی اثر ڈالتی ہے بلکہ اجتماعی طور پر پوری قوم کو کمزور کر سکتی ہے۔ جب ایک قوم کے افراد مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں تو وہ ترقی، اتحاد اور قربانی کے جذبے سے محروم ہو جاتے ہیں۔

    امید انسان کے اندر وہ طاقت پیدا کرتی ہے جو اسے مشکل سے مشکل حالات کا سامنا کرنے کی قوت عطا کرتی ہے۔ امید نہ صرف ذہنی سکون کا باعث بنتی ہے بلکہ یہ انسان کو نئے مواقع تلاش کرنے اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے پر بھی مائل کرتی ہے۔

    اسلام میں امید کو ایمان کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا "اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ہمیشہ امید رکھو اور اس کے فضل کے طالب رہو۔”

    آج کے دور میں ہم ایک ایسی دنیا میں رہ رہے ہیں جہاں ہر طرف سے منفی خبریں اور مایوسی کے پیغام سننے کو ملتے ہیں۔ لیکن ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ مایوسی اسلام میں گناہ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ کسی بھی خبر کو آگے بڑھانے سے پہلے اس کی تحقیق کریں۔

    قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
    "اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لو، ایسا نہ ہو کہ تم نادانی میں کسی قوم کو نقصان پہنچا بیٹھو اور بعد میں تمہیں اپنے کیے پر ندامت ہو۔”
    (سورہ الحجرات: 6)
    یہ آیت ہمیں ایک سبق دیتی ہے کہ افواہوں اور غیر مصدقہ خبروں سے گریز کریں اور ہمیشہ حقائق کی بنیاد پر بات کریں۔

    آرمی چیف سید عاصم منیر نے قوم کو پیغام دیتے ہوئے مزید کہا ہے کہ
    آج پاکستان کو اتحاد کی ضرورت ہے، نہ کہ سیاست اور اختلافات کے ذریعے تقسیم ہونے کی۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اختلافِ رائے ضرور ہو سکتا ہے لیکن یہ اختلاف نفرت کا باعث نہ بنے۔ ہمیں اپنی قوم کے بہتر مستقبل کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا۔

    پاکستانی عوام کو بچانے کے لیے ہمیں اپنے دلوں میں محبت اور قوم کی خدمت کا جذبہ پیدا کرنا ہوگا۔ ہر فرد اپنی ذمہ داری سمجھے اور اپنے کردار کے ذریعے ایک مضبوط اور خوشحال پاکستان کی بنیاد رکھے۔

    آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کہا ہے کہ آزادیٔ اظہار کو قواعد و ضوابط کا پابند کیے بغیر استعمال کرنا معاشرتی اخلاقیات کی گراوٹ کا باعث بن رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی مہذب اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد صرف آزادی ہی نہیں، بلکہ اس کے ساتھ ذمہ داری کا شعور بھی ہے۔

    آزادیٔ اظہار ایک قیمتی نعمت ہے لیکن اگر اسے حدود اور اصولوں کے دائرے میں نہ رکھا جائے تو یہ معاشرتی بگاڑ کا سبب بن سکتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اس آزادی کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کریں اور اسے مثبت اور تعمیری مقاصد کے لیے بروئے کار لائیں۔

    آئیے، ہم سب مل کر اپنی اخلاقی اور معاشرتی اقدار کو مضبوط کریں اور اپنی آزادیٔ اظہار کو معاشرے کی بہتری اور فلاح کے لیے استعمال کریں۔ یہی ایک مہذب اور پرامن معاشرے کی حقیقی پہچان ہے۔

    پاک فوج اپنے فرض پر پورا اُترتی ہے۔ پاک فوج قوم نے اس ملک کو مزید محفوظ بنانا ہے اور ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل کرنا ہے۔ نوجوانوں کی انتھک محنت رنگ لائے گی اور پاکستان ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہوگا۔

    پاکستان کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ہم نے ہر مشکل وقت میں اپنے حوصلے سے کامیابی حاصل کی ہے۔ 1965 کی جنگ میں، جب دشمن نے ہم پر حملہ کیا تو پوری قوم ایک سیسہ پلائی دیوار بن گئی۔ اسی طرح 2008 کے زلزلے اور 2010 کے سیلاب کے دوران عوام نے جس طرح مشکل حالات کا سامنا کیا وہ ہماری امید اور اتحاد کی بہترین مثالیں ہیں۔

    یہی امید کا جذبہ ہمیں قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں آزادی کی جدوجہد میں بھی نظر آتا ہے۔ قائداعظم نے ہمیشہ قوم کو یقین دلایا کہ مسلمان ایک عظیم قوم ہیں اور انہیں اپنی منزل حاصل کرنے سے کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔

    یہ وقت ہے کہ ہم اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں، نوجوان نسل کو تعلیم اور ترقی کی طرف راغب کریں اور اپنی قوت کو مثبت سمت میں استعمال کریں۔ آرمی چیف کے پیغام کو سمجھنے اور اپنانے کا مطلب یہ ہے کہ ہم خود کو اور اپنے ملک کو ایک بہتر مستقبل کے لیے تیار کریں۔

    مایوسی کے اندھیروں کو امید کی روشنی سے بدلیں، کیونکہ ہماری کوششیں ہی اس ملک کو کامیاب بنائیں گی۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین۔

  • جون ایلیاء کی 93 ویں سالگرہ: اردو ادب کا بے مثال شاعر

    جون ایلیاء کی 93 ویں سالگرہ: اردو ادب کا بے مثال شاعر

    آج اردو ادب کے معروف شاعر، فلسفی، اور سوانح نگار جون ایلیاء کے مداح ان کی 93 ویں سالگرہ منارہے ہیں۔

    جون ایلیاء کا اصل نام سید جون اصغر تھا، اور وہ 14 دسمبر 1931ء کو بھارت کی ریاست اتر پردیش کے شہر امروہہ میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا تعلق ایک علمی و ادبی گھرانے سے تھا، جہاں ادب و ثقافت کی عظیم روایات کا آغاز ہوا۔ ان کے والد، علامہ شفیق حسن ایلیاء، ایک بلند پایہ عالم تھے، جنہوں نے اردو، فارسی، عربی، اور عبرانی زبانوں میں مہارت حاصل کی۔ ان کے بڑے بھائی، سید محمد تقی اور رئیس امروہوی بھی اردو ادب کی دنیا کے جانے پہچانے نام تھے۔

    جون ایلیاء نے اپنے ادبی سفر کا آغاز بچپن میں کیا، اور صرف 8 سال کی عمر میں پہلا شعر کہا تھا۔ اس کے بعد وہ شاعری میں گہرائی اور لطافت کی نئی راہیں کھولتے گئے اور اپنی زندگی بھر کی تخلیقی سفر میں وہ اردو ادب کے منفرد شاعر بن گئے۔جون ایلیاء کی شاعری میں ایک خاص نوعیت کی بے باکی اور انفرادیت تھی، جس کی بدولت وہ نوجوان نسل کے پسندیدہ شاعر بنے۔ ان کی تحریروں میں فلسفے، تاریخ، منطق، اور یورپی ادب کا حسین امتزاج پایا جاتا تھا۔ ان کا اندازِ تحریر اتنا نرالا اور جاندار تھا کہ وہ اردو کے روایتی اشعار سے ہٹ کر ایک نئی شعری فضا تخلیق کرنے میں کامیاب ہوئے۔ ان کی شاعری میں انسانی جذبات، محبت، تنہائی، اور دنیا کی حقیقتوں کا گہرا عکس تھا۔

    شاعری کے مجموعے اور ادبی خدمات
    جون ایلیاء کے مشہور شعری مجموعوں میں "شاید”، "یعنی”، "لیکن”، "گمان” اور "گویا” شامل ہیں۔ ان مجموعوں نے اردو ادب کی دنیا میں ایک نیا سنگ میل قائم کیا۔ ان کی شاعری کی خصوصیت یہ تھی کہ وہ ایک طرف جہاں حقیقتوں اور تلخ حقیقتوں کی عکاسی کرتے، وہیں دوسری طرف ان کے اشعار میں فلسفہ اور گہری سوچ بھی چھپی ہوئی ہوتی تھی۔جون ایلیاء نے نہ صرف شاعری میں بلکہ سوانح نگاری، فلسفے اور ادبی تنقید میں بھی نمایاں کام کیا۔ ان کی گہری بصیرت اور وسیع علم نے انہیں ایک منفرد مقام دیا۔ انہوں نے پاکستان کے معروف کالم نگار و افسانہ نگار زاہدہ حنا سے شادی کی تھی، تاہم یہ رشتہ کامیاب نہ ہو سکا۔

    اعزازات اور یادگار خدمات
    جون ایلیاء کی ادبی خدمات کو حکومتِ پاکستان نے بھی سراہا اور 2000ء میں انہیں "صدارتی تمغۂ حسنِ کارکردگی” عطا کیا۔ ان کے کلام کی بازگشت آج بھی اردو ادب کے محافل میں سنائی دیتی ہے۔جون ایلیاء 8 نومبر 2002ء کو اس دنیا سے رخصت ہوگئے، لیکن ان کی شاعری اور افکار آج بھی زندہ ہیں۔ انہیں کراچی کے سخی حسن قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔آج ان کی 93 ویں سالگرہ کے موقع پر ان کے مداح اور اردو ادب کے شائقین ان کی یادوں کو تازہ کر رہے ہیں، اور ان کی شاعری کو پڑھ کر اور سراہ کر انہیں خراجِ تحسین پیش کر رہے ہیں۔ جون ایلیاء کا کلام آج بھی ادب کی دنیا میں ایک نشانِ منزل کی حیثیت رکھتا ہے اور اردو شاعری کے دلدادہ افراد کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔

    وزیراعلیٰ پنجاب کی چین کی ٹیکنالوجیز کمپنیوں کو آپریشن شروع کرنے کی دعوت

    اسلام آباد: ہوٹل میں لڑکی کی لاش ملنے کا کیس، ملزم علی رضا گرفتار

  • 16 دسمبر: سانحہ اے پی ایس کی دسویں برسی

    16 دسمبر: سانحہ اے پی ایس کی دسویں برسی

    16 دسمبر: سانحہ اے پی ایس کی دسویں برسی
    ضیاء الحق سرحدی، پشاور
    ziaulhaqsarhadi@gmail.com
    پاکستان کی 76 سالہ تاریخ مختلف حادثات و سانحات سے بھری ہوئی ہے، لیکن کچھ واقعات ایسے ہیں جو ہم شاید کبھی نہ بھول سکیں۔ 16 دسمبر کا دن بھی انہی واقعات میں سے ایک ہے۔ جہاں ایک طرف 1971ء میں پاکستان کے دو لخت ہونے کا غم منایا جاتا ہے، وہیں سال 2014ء میں اسی روز ایک ایسا اندوہناک واقعہ پیش آیا جس نے پوری قوم کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔

    16 دسمبر 2014ء کی صبح خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں واقع آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس) پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے عسکریت پسندوں نے حملہ کیا۔ حملہ آوروں نے طلبہ اور اساتذہ کو یرغمال بنانے کے بعد فائرنگ کرکے 140 سے زائد افراد کو شہید کر دیا۔ اس واقعے کے بعد پاک فوج نے جاری آپریشن ضرب عضب کو مزید تیز کر دیا۔

    اسی دوران اُس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے قوم سے خطاب میں 20 نکاتی نیشنل ایکشن پلان (این اے پی) کا اعلان کیا، جس پر تمام پارلیمانی جماعتوں کے اتفاق رائے کے بعد عمل درآمد شروع ہوا۔ حکومت نے سیاسی و مذہبی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر دہشت گردی کے خاتمے کے لیے فوجی عدالتیں قائم کیں اور سزائے موت پر عائد غیر اعلانیہ پابندی بھی ہٹا دی۔

    سانحہ آرمی پبلک اسکول کے بعد انصاف کے متلاشی شہدا کے لواحقین کا مطالبہ تھا کہ ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ پشاور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ نے سانحے کی عدالتی تحقیقات کا حکم دیا، جس کے تحت 2018ء میں ایک عدالتی کمیشن تشکیل دیا گیا۔ کمیشن نے 2020ء میں اپنی تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی، جو 3 ہزار صفحات پر مشتمل تھی۔

    سانحہ اے پی ایس کو دنیا کے بدترین دہشت گرد حملوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس میں 133 ننھے معصوم بچے شہید ہوئے جبکہ اسکول کی پرنسپل طاہرہ قاضی سمیت عملے کے 9 ارکان بھی جان کی بازی ہار گئے۔

    یہ سانحہ صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ پاکستان کے دل پر ایک گہرا زخم ہے، جس نے ماؤں کی گودیں اجاڑ دیں، والدین کے لخت جگر چھین لیے اور کئی بہنوں کو ہمیشہ کے لیے اپنے بھائیوں سے محروم کر دیا۔ یہ وہ دن ہے جو پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

    آرمی پبلک اسکول کے شہدا کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے نام سے صوبے کے 127 سرکاری اسکول اور پشاور کی کئی شاہراہیں منسوب کی گئیں۔ سانحہ کے مجرموں کو بھی انجام تک پہنچایا گیا، جنہیں فوجی عدالتوں نے موت کی سزا سنائی۔

    ہمیں یہ یقین ہے کہ ہمارے مسلح افواج اور موجودہ قیادت اس ملک کو دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں سے ہمیشہ محفوظ رکھیں گی۔ سانحہ اے پی ایس کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ہر سال تقریبات منعقد کی جاتی ہیں تاکہ ان کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جا سکے۔

    "اگر ہے جذبہ تعمیر زندہ تو پھر کس چیز کی ہم میں کمی ہے”!

  • پاکستانی عوام سیاسی جادو گری کا شکار

    پاکستانی عوام سیاسی جادو گری کا شکار

    پاکستانی عوام سیاسی جادو گری کا شکار
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی

    پاکستان کی سیاسی فضاء ایک بار پھر ہلچل کا شکار ہے۔ تحریک انصاف اور حکومتی جماعتوں کے درمیان مذاکرات اور الزامات کی کشمکش جاری ہے، جس سے نہ صرف سیاسی منظرنامہ مزید پیچیدہ ہوگیا ہے بلکہ عوامی مسائل کے حل کے لیے سیاست کے اصل کردار پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔

    اڈیالہ جیل میں عمران خان نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اپنی پارٹی کے رویے پر شدید مایوسی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں توقع تھی کہ ڈی چوک کے معاملے کو پارلیمنٹ اور دیگر فورمز پر بھرپور انداز میں اٹھایا جائے گا لیکن ایسا نہ ہونے کی وجہ سے ان کی اپنی جماعت کی فعالیت پر سوالات اٹھتے ہیں۔ عمران خان کا یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ وہ پارٹی کے اندرونی مسائل اور قیادت کی حکمت عملی سے مطمئن نہیں ہیں۔

    دوسری طرف سینیٹ میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے تحریک انصاف کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ عرفان صدیقی نے سوال اٹھایا کہ کیا پرامن احتجاج الجہاد اور مارو کے نعروں کے ساتھ ہو سکتا ہے؟ انہوں نے تحریک انصاف کی جانب سے سول نافرمانی کی دھمکیوں کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا۔ طلال چوہدری نے تحریک انصاف کے رویے پر مزید بات کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ان کے اقدامات نے مذاکرات کے دروازے بند کر دیے۔ شیری رحمان نے تحریک انصاف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کا وقت ختم ہو چکا ہے اور ملک کی موجودہ صورتحال میں ایسی سیاست کی کوئی جگہ نہیں۔

    تحریک انصاف کے ایک اہم رہنما شیر افضل مروت نے حالیہ سیاسی حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حکومت اور ان کی جماعت کے درمیان رابطے موجود ہیں، لیکن عوامی مسائل کے حل کی بجائے یہ رابطے ذاتی مفادات کے گرد گھومتے نظر آتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے کردار کو بلاوجہ متنازعہ بنایا جا رہا ہے حالانکہ تحریک انصاف کو ان سے کوئی خاص فائدہ نہیں پہنچا۔ ان کا کہنا تھا کہ 9 مئی کے واقعات کو کسی ایک فرد کی ذمہ داری قرار دینا غیر منصفانہ ہوگا۔

    اسی دوران قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق اور تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی۔ ایاز صادق نے تجویز پیش کی کہ جماعتیں اپنے اندرونی مسائل حل کریں تاکہ مذاکرات شفاف انداز میں آگے بڑھ سکیں۔ اسد قیصر نے اس تجویز کو اپنی جماعت میں زیر غور لانے کا وعدہ کیا۔

    تحریک انصاف کی طرف سے سول نافرمانی کی کال اور حکومتی رہنماؤں کی سخت تنقید یہ ظاہر کرتی ہے کہ مذاکرات کا عمل شفاف ہونے کے بجائے سیاسی بیان بازی کا شکار ہو رہا ہے۔ حالیہ بیانات میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کا نام باربار لیاجارہاہے جس پر حکومتی رہنماؤں کا الزام ہے کہ وہ تحریک انصاف کے سیاسی مفادات کو آگے بڑھاتے رہے۔ تحریک انصاف نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اپنی پوزیشن واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔

    پاکستان میں سیاسی کشمکش نے عوام کو ایک عجیب و غریب سیاسی جادو گری کا شکار بنا دیا ہے۔ جہاں ایک طرف ملک کی معیشت بے حد نازک حالت میں ہے وہیں دوسری طرف سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے بجائے عوامی مسائل پر بات کرنے کو تیار نہیں۔ عوام کی فلاح و بہبود کا مسئلہ پس منظر میں چلا گیا ہے اور سیاستدان اپنے ذاتی مفادات کو ترجیح دے رہے ہیں۔

    اگر سیاسی قیادت نے اپنی ترجیحات کا ازسرنو جائزہ نہ لیا تو یہ سیاسی سازشیں عوام کے مسائل حل کرنے کی بجائے مزید پیچیدہ اور سنگین ہو جائیں گی۔ اس وقت ملک کو صرف سیاسی افہام و تفہیم کی ضرورت ہے تاکہ عوامی مسائل کو ترجیح دی جا سکے۔ مذاکرات تب ہی کامیاب ہو سکتے ہیں جب دونوں فریق اپنے سخت موقف میں نرمی لائیں اور عوام کی تکالیف کو سامنے رکھیں۔ بصورت دیگر یہ سیاسی کھیل ملک کو مزید بحرانوں کی طرف دھکیل سکتا ہے۔

  • آئیے ہاتھ بڑھائیے.تحریر:قرۃالعین خالد

    آئیے ہاتھ بڑھائیے.تحریر:قرۃالعین خالد

    آئیے ہاتھ بڑھائیے
    تحریر:قرۃالعین خالد
    الحمدللہ! دارالفلاح ایک ایسا ادارہ ہے جو بے آسرا ماؤں اور بچوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ ہے۔ دارالفلاح کی بنیاد 1967 میں رکھی گئی۔1965 کی جنگ کے بعد بہت سی خواتین بیوہ ہو گئیں تو اس ادارے کی بنیاد رکھی گئی۔ پنجاب میں تقریبا چھ شہروں میں دارالفلاح اپنا کام بےحد خوش اسلوبی سے سر انجام دے رہا ہے۔ جن میں لاہور راولپنڈی ملتان بہاولپور سرگودھا اور سیالکوٹ شامل ہیں۔

    الحمدللہ رب العالمین 12 دسمبر 2024 بروز بدھ "سعدین انسٹیٹیوٹ” کی جانب سے ایک موٹیویشنل سیشن کا اہتمام کیا گیا جس کا مقصد خواتین کو زندگی کے مقصد سے آگاہ کرنا تھا۔ زندگی اور خالات سے پریشان خواتین سے بات کر کے ان کا تعلق رب سے جوڑنے کی ادنی سی کوشش کی گئی۔ ڈپٹی ڈائریکٹر میاں شاہد صاحب سے بات چیت کے دوران اندازہ ہوا کہ وہ ایک درد دل رکھنے والے انسان ہیں اور وہ ان خواتین اور بچوں کی دینی تعلیم کے لیے خاص اہتمام کرتے ہیں۔ وارڈن میم تعظیم صاحبہ بھی اس کار خیر میں اپنی ٹیم کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہیں۔

    گو کہ یہ ادارہ سوشل ویلفیئر اینڈ بیعت المال گورنمنٹ آف پنجاب کی زیرِ سرپرستی میں ہے لیکن سیالکوٹ کے رہائشی بھی درد دل رکھتے ہوئے ہمیشہ ادارے کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔ میں قرۃالعین خالد کالم نگار، مصنفہ سی ای او سعدین انسٹیٹیوٹ "مقصد حیات” پر بات کرتے ہوئے اداس چہروں پر مسکراہٹ بکھرتے دیکھ سکون قلب کے ساتھ واپس گھر آئی۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ہم سب کو ہمارا حقیقی مقصد حیات سمجھا دے آمین۔

    میں اپنی دوست شافیہ کاشف کی شکر گزار ہوں جس کے توسط سے مجھے دارالفلاح کے انتظامیہ اور وہاں کے رہائشیوں سے اتنے قریب سے ملنے کا موقع ملا۔ دارالفلاح نہ صرف بے بس ماں بچے کے لیے پناہ گاہ ہے بلکہ وہاں خواتین کو ہنر سکھانے کا مکمل انتظام بھی موجود ہے جسے سیکھ کر خواتین مستقبل میں اپنا اور اپنے بچوں کا خود خیال رکھ سکتی ہیں۔

    مخیر افراد سے گذارش ہے کہ ایسے اداروں کا خاص خیال رکھا کریں اللہ ربّ العزت سب کے رشتوں کو سلامت رکھے آمین۔ آئیے ہاتھ بڑھائیے اور اپنے حصے کی شمع روشن کریں۔

  • مریم کی دستک: جدید سہولیات پنجاب کےعوام کی دہلیز پر

    مریم کی دستک: جدید سہولیات پنجاب کےعوام کی دہلیز پر

    مریم کی دستک: جدید سہولیات پنجاب کےعوام کی دہلیز پر
    شاہد نسیم چوہدری ٹارگٹ
    عوام کی فلاح و بہبود کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت پنجاب نے جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے ایک منفرد اور انقلابی منصوبہ "مریم کی دستک” متعارف کرایا ہے۔ یہ اقدام خاص طور پر ان شہریوں کے لیے نہایت مفید ہے جو سرکاری دفاتر کے بار بار چکر لگانے سے قاصر ہیں یا جنہیں وہاں جانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ "مریم کی دستک” کے ذریعے حکومت نے نہ صرف اپنی خدمات کو بہتر انداز میں عوام تک پہنچایا ہے بلکہ شہریوں کی زندگیوں کو سہولت بخش بھی بنایا ہے۔

    "مریم کی دستک” ایک ایسا منصوبہ ہے جو 65 سے زیادہ سرکاری خدمات کو موبائل ایپ اور ویب پورٹل کے ذریعے شہریوں کی دہلیز پر فراہم کرتا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد لوگوں کو سرکاری دفاتر میں وقت اور وسائل ضائع کرنے سے بچانا اور تمام ضروری خدمات کو ان کے گھر تک پہنچانا ہے۔یہ منصوبہ درج ذیل اہم خدمات فراہم کرتا ہے:
    1. ڈومیسائل سرٹیفکیٹ2. ایف آئی آر کی کاپیاں
    3. پیدائش کے سرٹیفکیٹس4. لرنرز ڈرائیونگ لائسنس
    5. ای-اسٹیمپنگ
    یہ خدمات عوام کے لیے نہایت کارآمد ہیں خاص طور پر ان کے لیے جو اپنے کام کے دوران وقت نہیں نکال سکتے یا جنہیں نقل و حرکت میں دشواری کا سامنا ہوتا ہے۔یہ منصوبہ خواتین اور بزرگوں کے لیے ایک بہت بڑی سہولت ہے۔ خواتین جو گھریلو کاموں یا بچوں کی دیکھ بھال میں مصروف ہوتی ہیں، اکثر سرکاری دفاتر جانے کے لیے وقت نہیں نکال پاتیں۔ بزرگ افراد، جن کے لیے لمبی قطاروں میں کھڑا ہونا یا دفتر پہنچنا مشکل ہوتا ہے، بھی اس منصوبے سے مستفید ہو رہے ہیں۔

    کام کرنے والے پیشہ ور افراد کے لیے مددگار,وہ افراد جو نوکریوں یا کاروبار کے سلسلے میں زیادہ مصروف ہوتے ہیں، اکثر سرکاری دستاویزات کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ "مریم کی دستک” نے ان کے لیے خدمات کا حصول آسان بنا دیا ہے۔ اب وہ موبائل ایپ یا ویب پورٹل کے ذریعے درخواست دے سکتے ہیں اور تمام خدمات ان کے گھر تک پہنچائی جاتی ہیں۔

    ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا انقلابی استعمال
    "مریم کی دستک” ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے عوامی خدمت کا ایک مثالی نمونہ ہے۔ موبائل ایپ اور ویب پورٹل کا استعمال حکومت کی جانب سے ایک بڑی کامیابی ہے۔ یہ نہ صرف عوام کے لیے وقت کی بچت کرتا ہے بلکہ سرکاری دفاتر میں رش کو بھی کم کرتا ہے۔

    سرکاری دفاتر کی مشکلات کا خاتمہ
    ماضی میں، سرکاری دفاتر میں طویل قطاروں، وقت کی بربادی، اور عملے کے غیر ذمہ دارانہ رویے کی شکایات عام تھیں۔ ان مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے "مریم کی دستک” متعارف کرائی گئی ہے، جو ان تمام مشکلات کو ختم کرنے میں مددگار ثابت ہوئی ہے۔

    بدعنوانی کا خاتمہ
    اس منصوبے کی ایک اور بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس نے سرکاری خدمات میں بدعنوانی کے امکانات کو ختم کیا ہے۔ اب عوام براہ راست خدمات حاصل کرتے ہیں، جس سے درمیانی افراد کی ضرورت ختم ہو گئی ہے اور بدعنوانی کی روک تھام ممکن ہوئی ہے۔

    معاشی فوائد
    "مریم کی دستک” نہ صرف عوام کے وقت کی بچت کرتی ہے بلکہ ان کے مالی وسائل کو بھی محفوظ بناتی ہے۔ سرکاری دفاتر کے چکر لگانے کے بجائے، لوگ اپنے گھروں میں رہتے ہوئے تمام ضروری خدمات حاصل کر سکتے ہیں۔

    چیلنجز اور ان کا حل
    ہر نئے منصوبے کی طرح "مریم کی دستک” کو بھی چند چیلنجز کا سامنا ہے، جنہیں حل کرنا ضروری ہے:
    1. ڈیجیٹل خواندگی
    دیہی علاقوں میں رہنے والے لوگ اکثر ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال سے ناواقف ہوتے ہیں۔ حکومت کو ان لوگوں کی تربیت پر توجہ دینی ہوگی تاکہ وہ بھی اس سہولت سے مستفید ہو سکیں۔
    2. انٹرنیٹ کی دستیابی
    دیہی اور دور دراز علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولت ناکافی ہے، جو اس منصوبے کی کامیابی میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ حکومت کو انٹرنیٹ کی رسائی کو یقینی بنانا ہوگا۔
    3. سائبر سیکیورٹی
    ڈیجیٹل سروسز کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ سائبر جرائم کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔ حکومت کو شہریوں کے ڈیٹا کی حفاظت کے لیے موثر اقدامات کرنے ہوں گے۔
    "مریم کی دستک” بلاشبہ ایک انقلابی اقدام ہے جو حکومت کی جانب سے عوامی خدمت کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔ اس منصوبے نے نہ صرف عوام کی زندگیوں کو آسان بنایا ہے بلکہ سرکاری دفاتر میں شفافیت اور عوامی اعتماد کو بھی بحال کیا ہے۔

    حکومت کو چاہیے کہ اس منصوبے کو مزید وسعت دے اور دیگر خدمات کو بھی اس نظام کا حصہ بنائے۔ مزید برآں شہریوں کو اس منصوبے کے بارے میں آگاہ کرنے کے لیے مناسب مہمات چلائی جائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔

    "مریم کی دستک” ایک ایسا ماڈل ہے جسے دوسرے صوبے اور ادارے بھی اپناتے ہوئے اپنی خدمات کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ یہ اقدام عوام اور حکومت کے درمیان اعتماد کی فضا کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ ایک مثالی ڈیجیٹل پاکستان کے خواب کی تعبیر کی جانب اہم قدم ہے۔