Baaghi TV

Category: بلاگ

  • انقلاب شام مثل پاکستان

    انقلاب شام مثل پاکستان

    انقلاب شام مثل پاکستان
    از قلم: غنی محمود قصوری

    اس وقت ارضِ انبیاء مملکتِ شام مکمل طور پر بشار الاسد کے قبضے سے نکل کر اپوزیشن کے عسکری ونگز کے ہاتھوں میں چلی گئی ہے۔ اسی باعث کچھ لوگ بڑے وثوق اور جوش سے مملکتِ شام کی مثال دیتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ پاکستان میں بھی شام جیسا انقلاب آنے والا ہے۔ ان لوگوں کا خالص مقصد صرف اپنی سیاسی جماعت کو فائدہ پہنچانا ہے۔

    یہ بات بظاہر کہنے میں بہت آسان اور سادہ لگتی ہے مگر حقیقت میں ایسا ہونا اللہ کے فضل سے ناممکن ہے۔ اس موضوع پر مزید بات کرنے سے پہلے مملکتِ شام کا تعارف ضروری ہے تاکہ شام اور پاکستان کا تقابل بہتر طور پر کیا جا سکے۔

    ارضِ شام میں 80 فیصد عرب، 10 فیصد کرد اور 10 فیصد دیگر اقوام آباد ہیں۔ ان میں سے 87 فیصد مسلمان ہیں، جن میں 74 فیصد اہلِ سنت اور 13 فیصد اہلِ تشیع شامل ہیں۔ باقی 10 فیصد عیسائی اور 3 فیصد دروز مذہب کے پیروکار ہیں۔

    مملکتِ شام جسے عربی میں السوریا کہا جاتا ہے، 1920 سے 1946 تک فرانس کے قبضے میں رہا۔ بعدازاں 1961 میں بعث پارٹی کے زیرِ اقتدار آ گیا اور 8 دسمبر 2024 تک بعث پارٹی کا تسلط برقرار رہا۔ یعنی 63 سال تک صرف ایک جماعت نے حکومت کی۔

    معزول صدر بشار الاسد جو بعث پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں نے 2000 میں اپنے والد حافظ الاسد کی وفات کے بعد اقتدار سنبھالا۔بشار الاسد اور اُن کے والد اہلِ تشیع مسلک کے علوی فرقے سے تعلق رکھتے تھے اور ان کے دورِ حکومت میں اپنے مسلک کے لوگوں کو ترجیح دی گئی۔ بعث پارٹی نے طاقت کے زور پر اپنا اقتدار قائم رکھا۔

    اس عرصے میں حکومت نے مخالف مسالک کے خلاف مسلح جدوجہد کرنے والوں کا سختی سے خاتمہ کیا مگر روس اور دیگر ممالک کی حمایت کے باعث حکومت قائم رہی۔ بعث پارٹی کے دور میں شامی عوام کو نہ کوئی معاشی ترقی نصیب ہوئی اور نہ ہی ان کی زندگیوں میں فرانس کے راج کے مقابلے میں کوئی بہتری آئی۔

    بشار الاسد کے دور میں اختلافِ رائے رکھنے والوں کے خلاف قتل و غارت کا بازار گرم رہا۔ ریڈ زون جیلیں قائم کی گئیں، جہاں مخالفین کو قید کرکے موت کے گھاٹ اتارا جاتا تھا۔ اجتماعی قبریں میڈیا پر دکھائی گئیں، جہاں سینکڑوں افراد کو دفنایا گیا۔ یہ سب کچھ دیکھنا اور لکھنا تو آسان ہے، لیکن حقیقت میں یہ بہت تکلیف دہ تھا۔

    جو لوگ پاکستان میں شام جیسی صورتحال کی بات کرتے ہیں انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ مملکتِ شام میں حقوق المسالک کی لڑائی ہو رہی ہے جبکہ پاکستان میں تمام مسالک آزاد ہیں۔ پاکستان کی تین بڑی سیاسی جماعتوں مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف میں ہر مسلک کے لوگ موجود ہیں۔ مذہبی جماعتیں بھی اپنے اجتماعات اور پروگرامز میں آزاد ہیں۔

    پاکستان میں انتخابات منعقد ہوتے ہیں جن میں تمام جماعتیں حصہ لیتی ہیں۔ اس کے برعکس شام میں ایک ہی پارٹی کا تسلط تھا۔ پاکستان میں فوج اور حکومت میں بھی ہر مسلک کے لوگ اعلیٰ سے ادنیٰ عہدوں پر فائز ہیں جبکہ غیر مسلم اقلیتیں بھی اپنی عبادات اور سرکاری عہدوں میں محدود سطح پر موجود ہیں۔

    جو لوگ پاکستان میں شام جیسا انقلاب دیکھنے کے خواہاں ہیں انہیں چاہیے کہ وہ اپنے انفرادی اور مسلکی حقوق کو دیکھیں۔ پاکستان میں ہر جماعت کو آزادی حاصل ہے اور کوئی بھی سیاسی یا مذہبی جماعت کسی چیز سے محروم نہیں۔ یہاں الیکشن ہارنے والا دھاندلی کا الزام لگاتا ہے اور جیتنے پر اسی نظام کو آئیڈیل قرار دیتا ہے۔

    نتیجے کے طور پر پاکستان میں شام جیسے حالات نہ پہلے تھے نہ ہیں اور ان شاء اللہ کبھی ہوں گے بھی نہیں۔ ہاں کچھ عناصر اس قسم کی کوششیں ضرور کرتے ہیں مگر رب کے فضل سے یہ ممکن نہیں۔ اللہ بہتر جانتا ہے کہ مستقبل کیا لے کر آئے گا لیکن ماضی اور حال گواہ ہیں کہ پاکستان کی بنیادیں مضبوط ہیں اور یہاں انارکی پھیلانے کا کوئی جواز نہیں۔

  • انسانی حقوق کا عالمی دن،عملی اقدامات کی ضرورت

    انسانی حقوق کا عالمی دن،عملی اقدامات کی ضرورت

    انسانی حقوق کا عالمی دن،عملی اقدامات کی ضرورت
    تحریر:شاہد نسیم چوہدری
    آج 10 دسمبر ہے، انسانی حقوق کا عالمی دن۔ دنیا بھر میں یہ دن اقوام متحدہ کے 1948 میں منظور کیے گئے انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ اس موقع پر پاکستان سمیت دنیا بھر میں تقریریں، سیمینارز، اور واکس کا انعقاد ہوتا ہے۔ لوگ انسانی حقوق کی اہمیت پر گفتگو کرتے ہیں، ان کے تحفظ کے عزم کا اظہار کرتے ہیں اور معاشرتی انصاف کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔

    لیکن سوال یہ ہے کہ یہ حقوق عملی طور پر کب فراہم ہوں گے؟ کیا انسانی حقوق صرف تقریبات اور وعدوں تک محدود رہیں گے یا ہم کبھی انہیں حقیقت میں نافذ کرنے کے قابل ہوں گے؟

    انسانی حقوق کی موجودہ صورتحال:
    پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ تعلیم، صحت، اظہار رائے، مذہبی آزادی، خواتین اور بچوں کے حقوق اور مزدوروں کے تحفظ جیسے بنیادی مسائل تاحال حل طلب ہیں۔ عوام کی اکثریت بنیادی سہولیات سے محروم ہے، جبکہ ریاست کی جانب سے ان مسائل کو حل کرنے کے وعدے اکثر سیاسی بیانات تک محدود رہتے ہیں۔

    1. تعلیم اور صحت کے حقوق:
    آئین پاکستان ہر شہری کو مفت تعلیم کا حق دیتا ہے لیکن ملک میں لاکھوں بچے آج بھی سکول جانے سے محروم ہیں۔ دیہی علاقوں میں سکولوں کی کمی، ناقص تعلیمی نظام اور والدین کی غربت اس مسئلے کو مزید گہرا کرتے ہیں۔ صحت کے شعبے میں بھی صورتحال مختلف نہیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں سہولیات کا فقدان، مہنگی ادویات اور طبی عملے کی کمی عوام کو معیاری صحت کی سہولت سے محروم رکھتی ہے۔

    2. خواتین اور اقلیتوں کے حقوق:
    پاکستان میں خواتین اور اقلیتیں سماجی، مذہبی، اور قانونی امتیازات کا سامنا کرتی ہیں۔ خواتین کو گھریلو تشدد، جنسی ہراسانی اور تعلیم و ملازمت کے مواقع سے محرومی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ اسی طرح اقلیتیں جنہیں آئینی طور پر برابر کے حقوق حاصل ہیں، عملی طور پر مذہبی تعصب اور تشدد کا شکار ہیں۔
    3. اظہار رائے کی آزادی
    جمہوریت میں اظہار رائے کی آزادی بنیادی حیثیت رکھتی ہے لیکن پاکستان میں صحافیوں اور سماجی کارکنوں کو سنسرشپ، دھمکیوں اور حملوں کا سامنا ہے۔ میڈیا پر دباؤ اور سوشل میڈیا کی نگرانی نے آزادی اظہار کے تصور کو محدود کر دیا ہے۔

    4. بچوں کے حقوق
    پاکستان میں بچوں کی بڑی تعداد چائلڈ لیبر، جبری مشقت اور استحصال کا شکار ہے۔ تعلیم کے حق سے محروم یہ بچے کم عمری میں ہی غربت کی چکی میں پسنے لگتے ہیں جبکہ قانون کا نفاذ اس حوالے سے ناکافی ہے۔

    انسانی حقوق کے مسائل کی وجوہات:پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی کئی وجوہات ہیں
    1. حکومتی غفلت: حکومت کی ناکامی انسانی حقوق کے مسائل کا بنیادی سبب ہے۔ پالیسیاں بنائی جاتی ہیں لیکن ان پر عملدرآمد نہیں ہوتا۔
    2. سماجی رویے:معاشرتی تعصبات اور روایات انسانی حقوق کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔
    3. معاشی مسائل: غربت، بیروزگاری، اور وسائل کی غیر مساوی تقسیم انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو فروغ دیتی ہے۔
    4. قانونی کمزوری: قوانین کی موجودگی کے باوجود ان پر عملدرآمد نہ ہونا مسائل کو بڑھاتا ہے۔

    انسانی حقوق کے نفاذ کے لیے تجاویز:انسانی حقوق کے عملی نفاذ کے لیے کئی اقدامات کیے جا سکتے ہیں
    1. قانونی اصلاحات اور عملدرآمد: حکومت کو چاہیے کہ انسانی حقوق کے قوانین پر سختی سے عملدرآمد کروائے۔ عدلیہ کو فعال کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ مظلوموں کو انصاف فراہم ہو سکے۔
    2. تعلیم اور شعور کی بیداری .عوام میں انسانی حقوق کے حوالے سے شعور بیدار کرنا ضروری ہے۔ تعلیمی اداروں، میڈیا، اور سول سوسائٹی کو اس حوالے سے اہم کردار ادا کرنا چاہیے۔
    3. سماجی رویوں میں تبدیلی .معاشرتی تعصبات اور دقیانوسی سوچ کو ختم کرنے کے لیے آگاہی مہمات شروع کی جائیں۔ یہ مہمات انسانی حقوق کی اہمیت کو اجاگر کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔
    4.معاشی مسائل کا حل.غربت کے خاتمے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے حکومت کو معاشی پالیسیوں پر توجہ دینی ہوگی۔ بیروزگاری کم کرنے اور سماجی بہبود کے پروگرامز متعارف کروانے کی ضرورت ہے۔
    5. بین الاقوامی تعاون .انسانی حقوق کے نفاذ کے لیے عالمی تنظیموں کے ساتھ تعاون بڑھایا جائے اور ان کے فراہم کردہ وسائل اور رہنمائی کا فائدہ اٹھایا جائے۔

    انسانی حقوق کا عالمی دن ہمیں اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ تمام انسان برابر ہیں اور انہیں ان کے حقوق اور آزادیوں کے ساتھ جینے کا حق ہے۔ لیکن یہ حقوق صرف تقریبات یا وعدوں تک محدود نہیں رہنے چاہئیں۔ حکومت، سول سوسائٹی اور عوام کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ انسانی حقوق کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔ یہ سفر مشکل ضرور ہے لیکن اگر نیت اور عمل مخلص ہو تو ایک منصفانہ اور مساوی معاشرے کی تشکیل ممکن ہے۔

  • کزن میرج، موروثی بیماریاں، اسلام کی روشنی میں جائزہ

    کزن میرج، موروثی بیماریاں، اسلام کی روشنی میں جائزہ

    کزن میرج، موروثی بیماریاں، اسلام کی روشنی میں جائزہ
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفیٰ بڈانی
    برطانیہ میں فرسٹ کزنز کی شادی پر پابندی کا مجوزہ بل آج دارالعوام میں پیش کیا جائے گا۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اگر یہ بل منظور ہو جاتا ہے تو برطانیہ میں فرسٹ کزنز کے درمیان شادی پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔ اس بل کا مقصد ان شادیوں سے جینیاتی بیماریوں کے خطرات کو کم کرنا ہے، کیونکہ طبی ماہرین کے مطابق کزن میرجز میں جینیاتی خرابی، جینومک ڈس آرڈر اور جینیاتی میوٹیشن کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ ان بیماریوں کی وجہ سے تھیلیسیمیا، مرگی، گونگا پن اور بہرہ پن جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

    پاکستان میں بھی کزن میرجز کا رجحان بہت زیادہ ہے، جس کی وجہ سے جینیاتی بیماریوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے ماہرین کی تحقیق کے مطابق پاکستان میں کزن میرجز کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جس سے جینیاتی بیماریوں کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی شادیوں میں جینیاتی ہم آہنگی زیادہ ہوتی ہے، جس کے باعث بیماریوں کے منتقل ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

    اسلام میں کزن میرج کو جائز سمجھا گیا ہے بشرطیکہ دونوں افراد کی رضا مندی ہو اور شریعت کے دیگر اصولوں کی پیروی کی جائے۔ تاہم اسلام میں صحت کے حوالے سے بھی اہم ہدایات دی گئی ہیں۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ "تم میں سے کسی بھی شخص کو بیماری کے بارے میں کسی دوسرے شخص کو منتقل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی” (بخاری)۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر کسی خاندان میں جینیاتی بیماریوں کا خطرہ ہو تو ایسی شادیوں سے بچنا ضروری ہو سکتا ہے تاکہ بیماریوں کا پھیلاؤ نہ ہو۔

    اسلام میں صحت کو بڑی نعمت سمجھا گیا ہے اور اس کی حفاظت کا حکم دیا گیا ہے۔ اگر کسی شادی میں جینیاتی بیماریوں کا خطرہ ہو تو ایسی شادیوں سے بچنا بہتر ہو سکتا ہے تاکہ آنے والی نسلوں کی صحت پر منفی اثرات نہ ہوں۔ شریعت میں بھی اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ انسان کو اپنے جسمانی اور ذہنی صحت کا خیال رکھنا چاہیے اور اگر کسی شادی کے نتیجے میں بیماریوں کا خطرہ ہو تو اس بات کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے۔

    پاکستان اور دیگر مسلم ممالک میں جہاں کزن میرجز ایک عام بات ہے،ہم مسلمان ہیں اور ہماری زندگی کے تمام معاملات میں ہمیں کتاب و سنت سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ مغربی معاشرتی نظریات کو بغیر سوچے سمجھے اپنالیں اور ان کی مخالفت بھی اس طرح کریں جیسے وہ کسی نہ کسی بات کے خلاف ہوں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بعض مغربی ممالک میں کزن میرج پر قانونی پابندی ہے اور ان کے مطابق اس سے بیماریوں کا خطرہ ہوتا ہے۔ تاہم ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اللہ نے جو چیزیں حلال کی ہیں وہ انسانوں کے لیے نقصان دہ نہیں ہو سکتیں اور جو چیزیں حرام کی گئی ہیں وہ ہمارے لیے ہر حال میں نقصان دہ ہوتی ہیں۔

    قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ”اے نبی! ہم نے تمہارے لیے حلال کر دیں تمہاری وہ بیویاں جن کے مہر تم نے ادا کئے ہیں اور وہ عورتیں جو اللہ کی عطا کردہ لونڈیوں میں سے تمہاری ملکیت میں ہیں اور تمہاری وہ چچا زاد، پھوپھی زاد، ماموں زاد اور خالہ زاد بہنیں جنہوں نے تمہارے ساتھ ہجرت کی ہے۔ (الاحزاب: ۵۰)

    اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے کزن میرج کی زد میں جتنے بھی رشتے آتے ہیں ان کا ذکر کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ وہ تمہارے لیے حلال ہیں۔ اگر ان شادیوں میں طبی طور پر کوئی خرابی ہوتی تو اللہ اپنے نبی ﷺ کو اس سے منع کر دیتے اور امت پر بھی پابندی عائد کر دیتے۔ لیکن اسلام نے ان رشتہ داریوں کو حلال قرار دیا ہے اور جن میں اخلاقی یا روحانی مسائل ہیں ان پر پابندی عائد کی ہے۔ مثلاً رسول اللہ ﷺ نے پھوپھی اور بھتیجی، خالہ اور بھانجی کو ایک ساتھ نکاح میں رکھنا حرام قرار دیا ہے۔

    اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے: "اور یہ کہ تم دو بہنوں کو جمع نہ کرو” (النساء: 23)

    اسی طرح بیوی اور اس کی پھوپھی یا پھر بیوی اور اس کی خالہ کو ایک ہی نکاح میں جمع کرنا بھی حرام ہے۔ اس کی دلیل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ تم عورت اور اس کی پھوپھو کے مابین جمع نہ کرو اور نہ ہی عورت اور اس کی خالہ کو ایک نکاح میں جمع کرو” (متفق علیہ)

    کزن میرج کی وجہ سے جو خدشات ظاہر کیے جاتے ہیں ان کی شرعاً کوئی حیثیت نہیں۔ البتہ یہ ممکن ہے کہ بعض موروثی امراض والدین سے اولاد میں منتقل ہو جائیں لیکن یہ ضروری نہیں۔ اگر ایک نسل کسی مرض میں مبتلا رہی ہے تو اسی خاندان کی کئی نسلیں اس مرض سے محفوظ رہ سکتی ہیں۔

  • تسخیر کائنات

    تسخیر کائنات

    تسخیر کائنات
    مصنفہ :قرۃالعین خالد
    مبصر :اکبر علی شاہد
    ادبی افق پر قرۃالعین خالد کا نام پوری آب و تاب سے چمکنے لگا ہے۔ آپ کا قلم صحیح معنوں میں جہاد کر رہا ہے۔ آپ کا قلم کسی طور بھی مجاہد کی تلوار سے کم نہیں۔
    ان کی پہلی تصنیف” اضطراب سے اطمینان تک “پر پہلے تبصرہ کر چکا ہوں، اس کتاب میں قرآن کی ان آیات کا ذکر ہے جن میں مومنوں کو مخاطب کیا گیا ہے ۔ مصنفہ نے بہترین انداز میں ان آیات کا ترجمہ و تفسیر بیان کی ہے ان آیات کا موجودہ دور سے تعلق بھی سمجھایا ہے۔ میں سمجھتا ہوں اس کتاب کا ہر مومن کی لائبریری میں ہونا ضروری ہے ۔

    ان کی دوسری کتاب” تسخیر کائنات“ کالمز کا مجموعہ ہے ۔ مطالعہ کے دوران میں نے محسوس کیا یہ ان کے جذبات و احساسات کا مجموعہ ہے۔ انھوں نے جس خوبصورت انداز میں اپنے والدین کو خراج تحسین پیش کیا ہے وہ آنکھیں نم کر گیا ۔
    کتاب کا انتساب بھی انھوں نے اپنے والد محترم کے نام کیا ہے۔ لکھتی ہیں :
    بہت ہی پیارے انتہائی شفیق!
    سب سے محبت کرنے والے!
    انسان کے نام!
    خالد محمود
    میرے پیارے ابو جی! سلامت رہیں آمین

    اللہ پاک ہر بیٹی کی پہلی محبت اس کے والد کا سایہ اس کے سر پر سلامت رکھے آمین ثم آمین
    کتاب میں جناب قاسم علی شاہ، محمد ایوب صابر، نعمت اللہ ارشد گھمن، ہما مختار احمد اور ثنا آغا خان جیسے بہترین مصنفین کی رائے شامل ہے ۔ ان سب نے کتاب کو بہت سراہا ہے جو کہ کتاب کا حق ہے۔ یہ بلاشبہ ایک خوبصورت اور کردار ساز کتاب ہے۔ ہمارے معاشرے کے ہر پہلو پر تعمیری انداز میں بحث کی گئی ہے۔ رشتوں کی اہمیت و خوبصورتی پر خوب قلم چلایا گیا یے۔ مصنفہ نے کتاب میں نثر کے ساتھ ساتھ اپنی شاعری کے بھی کچھ نمونے شامل کیے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے ان کا شاعری کا ذوق بھی بہت خوب ہے۔ کتاب کے شروع میں رب کی ذات پاک پر چھوٹی سی نظم لکھی یے۔
    وہ والدین کے متعلق لکھتی ہیں :
    ؀ ان کے پیروں کے نیچے ہے جنت میری
    ان کی دعاؤں سے روشن ہیں بخت میرے

    رشتوں سے محبت کے ساتھ ساتھ انھوں نے بچوں کی تربیت پر خاصا زور دیا ہے، کتاب کی اہمیت جتائی ہے۔ سانحہ سیالکوٹ پڑھتے ہوئے یہ انکشاف ہوا کہ مصنفہ کتنا حساس دل رکھتی ہیں، ہر معاملے کو ہر رخ سے دیکھنے کی نگاہ رکھتی ہیں۔ ہر معاملے ہر واقعہ کو بیان کرتے ہوئے قرآن و حدیث کے حوالے ان کی دین سے محبت کی نشانی ہیں۔ کرونا کے تناظر پر لکھا ان کا کالم بھی پڑھنے لائق ہے۔
    ان کی تحریر” فریب “ پڑھ کر ایسا لگا جیسے دل کو کسی نے مٹھی میں بھینچ دیا گیا ہو۔
    ” آج صائمہ کو دیا گیا فریب خود اس کی جھولی میں آ گرا، فریب اپنے مالک کو تلاش کر ہی لیتا ہے ۔ “

    اف! کتنے سچے ہیں یہ الفاظ، آئینہ دکھاتے الفاظ ۔۔۔۔
    مصنفہ کی تحریر بعنوان سٹریس (زہنی دباؤ) ہم سب کو ضرور پڑھنی چاہیے، بہت مفید تحریر ہے، جگہ کی تنگی کا احساس نہ ہوتا تو میں یہ تحریر اس تبصرے میں مکمل طور پر شامل کر دیتا۔
    کیسا حسین اتفاق ہے کہ میں یہ تبصرہ بھی سال کے آخری ماہ دسمبر میں لکھ رہا ہوں ۔ نئے سال پر ان کی نثری نظم دل کو بہت بھلی لگی۔
    ابھی سال کے آخر میں
    مجھے کچھ وعدے کرنے ہیں
    کچھ نئے سپنے بننے ہیں
    بھلا کر ماضی کی غلطیوں کو
    نئی راہوں پر چلنا ہے
    مایوسیوں کے در چھوڑ کر
    مجھے بس آگے بڑھنا ہے
    مجھے منزل کو پانا ہے
    مجھے راستہ بنانا ہے

  • اخوت کا پیغام اور ڈاکٹر امجد ثاقب کے اعزاز میں ریاض میں تقریب

    اخوت کا پیغام اور ڈاکٹر امجد ثاقب کے اعزاز میں ریاض میں تقریب

    اخوت کا پیغام اور ڈاکٹر امجد ثاقب کے اعزاز میں ریاض میں تقریب
    تحریر:کامران اشرف
    ریاض کی سرد اور مہربان شام، ہوا میں خنکی اور پاکستانی ثقافت کی خوشبو، یہ سب کچھ اس دن کو خاص بنا رہا تھا۔ سعودی عرب کے دارالحکومت میں بیرسٹر رانا بلال کی رہائش گاہ پر ایک یادگار تقریب کا انعقاد ہوا۔ یہ تقریب پاکستان کلچرل گروپ کے زیر اہتمام تھی، جس میں اخوت فاؤنڈیشن کے بانی ڈاکٹر محمد امجد ثاقب کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔

    یہ موقع پردیس میں بسنے والے پاکستانیوں کے لیے ایک نایاب لمحہ تھا، جہاں وہ ایک ایسی شخصیت کے ساتھ وقت گزار رہے تھے، جنہوں نے اپنی زندگی کا مقصد دوسروں کے دکھ درد کو کم کرنا بنایا ہے۔ تقریب کا ماحول گرمجوشی اور محبت سے لبریز تھا، جہاں ہر چہرہ وطن کے لیے محبت اور اخوت کے مشن سے جڑے ہونے کا عکاس تھا۔

    دسمبر کی ٹھنڈی شام میں مہمان دھیرے دھیرے تقریب گاہ میں پہنچ رہے تھے۔ میزبانوں نے اپنے گھر کو ایک خوبصورت پاکستانی ثقافتی انداز میں سجایا تھا۔ تقریب کا آغاز تلاوت کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد اخوت فاؤنڈیشن کا تعارف پیش کیا گیا۔

    ڈاکٹر محمد امجد ثاقب کی سادگی اور خلوص نے حاضرین کو فوری طور پر متاثر کیا۔ انہوں نے اخوت فاؤنڈیشن کے سفر، مشن اور فلسفے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا:“اخوت صرف ایک تنظیم نہیں بلکہ یہ ایک جنون ہے، ایک خواب ہے کہ پاکستان کے ہر شہری کو برابری اور خوشحالی کا موقع ملے۔”

    ڈاکٹر امجد ثاقب نے اپنے خطاب میں بتایا کہ اخوت فاؤنڈیشن نے مائیکرو فنانس کے ذریعے غریب خاندانوں کو خود کفیل بنانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔ صفر شرح سود پر قرضے فراہم کرکے یہ تنظیم نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا کر رہی ہے بلکہ عزتِ نفس کے ساتھ لوگوں کو آگے بڑھنے کا موقع بھی دے رہی ہے،پاکستانی کمیونٹی، جو پردیس میں رہتے ہوئے بھی وطن کے لیے دھڑکتے دل رکھتی ہے، اخوت کے اس مشن سے بے حد متاثر ہوئی۔ بزنس کمیونٹی کے نمایاں افراد نے اس موقع پر مالی امداد اور تعاون کی یقین دہانی کرائی، جبکہ کئی نوجوانوں نے تنظیم کے ساتھ عملی طور پر کام کرنے کی خواہش ظاہر کی۔

    تقریب میں اخوت فاؤنڈیشن کے تعلیمی اداروں پر مبنی ایک مختصر ویڈیو دکھائی گئی، جس میں بچوں کی آنکھوں میں امید اور مستقبل کے خواب جھلکتے نظر آئے۔ اس کے ساتھ اخوت کا ترانہ سنایا گیا، جس نے شرکاء کو جذباتی کر دیا۔

    پاکستان کلچرل گروپ کے جنرل سیکرٹری ظفر اللہ خان، ڈپٹی جنرل سیکرٹری مشتاق ورک، اور سوشل کمیٹی کے سربراہ رضا الرحمان نے اخوت کے مشن کو سراہا اور تقریب میں شریک ہر فرد کا شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اخوت فاؤنڈیشن جیسے ادارے ہمیں یقین دلاتے ہیں کہ پاکستان میں روشن مستقبل ممکن ہے۔

    ریاض کی شام کا لطف پاکستانی کھانوں کے بغیر ادھورا تھا۔ مہمانوں کے لیے مختلف انواع کے کھانے اور گرم چائے پیش کی گئی، جس نے تقریب کے ماحول کو مزید خوشگوار بنا دیا۔ مہمان آپس میں گپ شپ کرتے ہوئے اخوت کے مشن پر بات کر رہے تھے، اور ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ پردیس میں بھی وطن کی خوشبو ہر طرف بکھری ہوئی ہے۔

    تقریب کا اختتام اجتماعی دعا سے ہوا، جس میں پاکستان کی ترقی، خوشحالی، اور اخوت فاؤنڈیشن کے مشن کی کامیابی کے لیے دعائیں کی گئیں۔ یہ تقریب نہ صرف ایک رسمی اجتماع تھی بلکہ یہ پردیس میں رہنے والے پاکستانیوں کے دلوں میں وطن کی محبت اور اخوت کے جذبے کو مزید جلا بخشنے کا موقع تھی۔

    ڈاکٹر امجد ثاقب کے الفاظ آج بھی کانوں میں گونج رہے ہیں:
    “اگر ہم سب ایک دوسرے کے لیے جینے لگیں تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوگا۔”

    ریاض کی یہ شام ہمیشہ یاد رہے گی، جہاں محبت، امید، اور اخوت کا پیغام ہر دل میں زندہ ہو گیا۔

  • مذمتی کالم: بنام انور مقصود ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    مذمتی کالم: بنام انور مقصود ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    پاکستان میں ادب اور فنونِ لطیفہ ہمیشہ سے ایک اہم مقام رکھتے ہیں۔ ان شعبوں میں کئی شخصیات نے اپنی ذہانت، بصیرت اور تخلیقی صلاحیتوں سے قوم کو شعور و آگہی فراہم کی ہے۔ ان میں انور مقصود جیسا نام بھی شامل ہے، جنہیں پاکستانی معاشرے میں طنز و مزاح کے حوالے سے ایک ممتاز مقام حاصل ہے۔ مگر حالیہ دنوں میں ان کی جانب سے نیوی کے فوجیوں کی شہادت پر طنزیہ الفاظ کا استعمال، خاص طور پر "ڈوب مرنا” جیسے الفاظ، نہایت افسوسناک اور غیر ذمہ دارانہ ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف ان کی شخصیت پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے بلکہ قوم کے جذبات کو بھی ٹھیس پہنچاتا ہے۔شہداء کا مقام اور قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔شہداء کسی بھی قوم کا فخر اور سرمایہ ہوتے ہیں۔ وہ لوگ جو اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر قوم کی سلامتی اور آزادی کو یقینی بناتے ہیں، ان کا احترام ہر شہری کا فرض ہے۔ پاکستان نیوی کے اہلکار سمندروں میں اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر ملک کی حفاظت کرتے ہیں۔ ان کی قربانیاں کسی بھی صورت معمولی نہیں ہیں۔ سمندر کی گہرائیوں میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنا ایک ایسا عمل ہے جو نہایت ہمت اور بہادری کا متقاضی ہوتا ہے۔ انور مقصود جیسے سینئر اور باوقار ادیب کی جانب سے ان قربانیوں کا مذاق اڑانا نہ صرف شہداء کی توہین ہے بلکہ ان کے اہل خانہ اور پوری قوم کے جذبات کو بھی مجروح کرتا ہے۔ادب اور فنونِ لطیفہ کا مقصد ہمیشہ معاشرتی شعور کو بیدار کرنا اور عوام کو مثبت پیغام دینا رہا ہے۔ انور مقصود جیسے ادیب سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنی تخلیقات اور بیانات میں نہ صرف الفاظ کا احتیاط سے استعمال کریں بلکہ ایسی حساس موضوعات پر خاص طور پر ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ طنز و مزاح کا مطلب کسی کی تضحیک یا جذبات کو مجروح کرنا نہیں بلکہ مسائل کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ اصلاح کی طرف راغب کرنا ہوتا ہے۔ مگر "ڈوب مرنا” جیسے الفاظ نہ صرف غیر اخلاقی ہیں بلکہ ان میں کسی بھی قسم کی دانشمندی یا مزاح کا پہلو بھی موجود نہیں۔اسےضعیف العمری کہیں یا غیر ذمہ داری؟۔

    کچھ لوگ انور مقصود کے اس بیان کو ان کی ضعیف العمری اور بھول چوک کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں، مگر یہ دلیل کسی بھی طرح قابل قبول نہیں۔ ضعیف العمری کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اپنے الفاظ کے اثرات کو سمجھنے کی صلاحیت کھو بیٹھے۔ اگرچہ ان کی عمر کا لحاظ کیا جا سکتا ہے، لیکن ایک عوامی شخصیت ہونے کے ناطے ان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی زبان کا احتیاط سے استعمال کریں۔ ان کے چاہنے والوں میں ہر عمر کے لوگ شامل ہیں، اور ان کے بیانات براہ راست لوگوں کے ذہنوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔قوم کے جذبات پر اس بات کا شدید اثر پڑا ہے۔پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں مسلح افواج کو عوام کی بھرپور حمایت اور محبت حاصل ہے۔ یہاں فوجیوں کو نہ صرف محافظ بلکہ قومی ہیرو کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ان کی قربانیوں کا اعتراف ہر سطح پر کیا جاتا ہے۔ ایسے میں انور مقصود جیسے معروف فنکار کی جانب سے شہداء کا مذاق اڑانے والا بیان عوامی جذبات کو شدید ٹھیس پہنچاتا ہے۔ یہ بیان نہ صرف شہداء کے خاندانوں کے لیے باعثِ اذیت ہے بلکہ قوم کی مشترکہ یکجہتی اور قربانیوں کی قدردانی کے جذبے کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔

    اس بیان پرمعافی اور اصلاح کی ضرورت ہے۔یہ وقت انور مقصود کے لیے سنجیدگی سے غور کرنے کا ہے۔ ان پر لازم ہے کہ وہ اپنے بیان پر معافی مانگیں اور اپنی غلطی کا اعتراف کریں۔ ایک معافی نہ صرف ان کے لیے عزت بحال کرنے کا سبب بن سکتی ہے بلکہ یہ ان کی جانب سے شہداء اور ان کے اہل خانہ کے لیے احترام کا اظہار بھی ہوگا۔ انور مقصود کو اپنی حیثیت اور مقام کا درست استعمال کرتے ہوئے ایسے بیانات دینے سے گریز کرنا چاہیے جو قوم کے اتحاد کو نقصان پہنچائیں۔

    پاکستانی قوم ہمیشہ سے اپنے ادیبوں، شاعروں اور فنکاروں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی آئی ہے۔ یہ شخصیات قوم کے اخلاقی رہنما بھی ہوتی ہیں، اور ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ نہ صرف سماج کے مسائل پر روشنی ڈالیں بلکہ ایسی مثال قائم کریں جو نوجوان نسل کے لیے مشعلِ راہ بن سکے۔تحدیک نفاذ اردو کی سرپرست فاطمہ قمر صاحبہ نے انور مقصود کےاس بیان کا نوٹس لیتے ہو ئے سوشل میڈیا پر لکھا کہ انور مقصود ضعیف العمری میں گھٹیا بھانڈ بن چکا ہے۔شہادت کو ڈوب مرنا کہ کر,اس نے اسلامی شعار کا مذاق اڑایا ہے۔

    بحثیت محب وطن راقم فاطمہ قمر صاحبہ کے بیان کی پرزور تائید کرتا ہے۔انور مقصود کا پڑھے لکھے خاندان سے تعلق ہونا اور فاطمہ ٹریا بجیا کا بھائی ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا۔۔۔۔ذبردست نقاد، کمال کا فنکار اور ادیب ہونا بھی کوئی معنی نہیں رکھتا۔۔۔۔۔۔جو اپنے ملک، اپنی فوج کے بارے تضحیک آمیز کلمات بول کر ۔۔۔اسے نقادی،ادیبی اور فنکاری کے کپڑے پہنائے۔۔۔۔۔۔معذرت کے ساتھ انتہائی احترام کے ساتھ ایسے ہر شخص کو ہم ۔۔۔۔اپنی جوتی کی نوک پر رکھتے ہیں۔۔۔۔

    انور مقصود کی جانب سے نیوی کے فوجیوں کی شہادت پر طنزیہ تبصرہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور قابل مذمت ہے۔ شہداء کی قربانیاں کسی بھی قوم کے لیے قابل احترام ہوتی ہیں، اور ان پر طنز کرنا ان کے اہل خانہ اور پوری قوم کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے مترادف ہے۔ انور مقصود جیسے معروف ادیب سے ایسے غیر حساس بیان کی توقع نہیں کی جا سکتی تھی۔ ان کے الفاظ نہ صرف شہداء کی قربانیوں کی توہین ہیں بلکہ یہ معاشرتی اخلاقیات اور ادب کے اصولوں کے بھی منافی ہیں۔ ہم ان سے توقع کرتے ہیں کہ وہ اپنے بیان پر معافی مانگیں اور اپنی حیثیت کو مثبت انداز میں استعمال کریں تاکہ قوم کو یکجہتی اور احترام کے پیغام دیں۔ شہداء ہماری عزت اور فخر ہیں، ان کی قربانیوں کا احترام ہم سب پر فرض ہے۔۔۔۔۔میں فاطمہ قمر صاحبہ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے۔۔۔انور مقصود کی باتوں کا نوٹس لیا۔۔اور باوجود اس کے کہ جناب موصوف کا تعلق بھی ہمارےقلم قبیلے سے ہے۔۔۔۔بتا دیا کہ پاکستان اور اسکی افواج پر کوئی سمجھوتہ نہیں۔۔۔۔۔۔۔ویلڈن آپا جی۔۔۔ویلڈن۔۔۔ انور مقصود جیسے فنکار کو چاہیے کہ وہ اپنی حیثیت کو مثبت انداز میں استعمال کریں اور اپنے بیانات کے ذریعے قوم میں اتحاد، محبت، اور قربانیوں کا احترام پیدا کریں۔انور مقصود کے حالیہ بیان نے قوم کے دلوں میں ایک مایوسی کی لہر دوڑا دی ہے۔ یہ واقعہ ہمیں یہ یاد دہانی کرواتا ہے کہ الفاظ کی اہمیت اور ان کے اثرات کو کبھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ مسلح افواج اور ان کے شہداء ہماری قومی یکجہتی کی بنیاد ہیں، اور ان کی قربانیوں کا احترام ہم سب پر فرض ہے۔ انور مقصود جیسے ادیب کو اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے معافی مانگنی چاہیے اور اپنے الفاظ کے اثرات کو سمجھتے ہوئے آئندہ محتاط رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ ادب اور فن کی اصل روح یہی ہے کہ وہ معاشرے میں مثبت تبدیلی لائے اور ایسی مثال قائم کرے جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہو۔

    نوٹ: آج۔کا یہ مذمتی کالم بنام انور مقصود بڑے دکھی دل کے ساتھ لکھا ہے،لیکن پاکستانی افواج کی عزت اور شہداءکے احترام پر کوئی سمجھوتہ نہیں۔۔

    shahid naseem

  • لاھور پریس کلب کا روشن ستارہ ، ارشد انصاری ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    لاھور پریس کلب کا روشن ستارہ ، ارشد انصاری ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    ارشد انصاری کا شمار پاکستان کے ان ممتاز صحافیوں میں ہوتا ہے،جنہوں نے نہ صرف صحافت کے میدان میں بے مثالی خدمات انجام دیں بلکہ پریس کلب کی فلاح و بہبود اور صحافیوں کے مسائل کے حل کے لیے بھی ناقابل فراموش کردار ادا کیا۔ ان کی زندگی کا مقصد ہمیشہ صحافیوں کے حقوق کا تحفظ، ان کی پیشہ ورانہ ترقی اور ان کے لیے بہتر سہولیات کی فراہمی رہا ہے۔ پریس کلب کے صدر ارشد انصاری ایک تجربہ کار اور متحرک صحافی ہیں جنہوں نے کلب کی بہتری اور صحافی برادری کی فلاح و بہبود کے لیے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ وہ لاہور پریس کلب کے انتخابات میں جرنلسٹ پروگریسو گروپ کے امیدوار کے طور پر دوبارہ منتخب ہوئے، جس میں انہوں نے صدارت کی سیٹ پر 984 ووٹ حاصل کیے۔ ان کی قیادت اور کام کی وجہ سے کلب کے اراکین نے ان پر ایک بار پھر اعتماد کا اظہار کیا​​​​۔ارشد انصاری کی خدمات کا دائرہ وسیع اور ہمہ جہت ہے۔ ان کے دور میں کلب میں درج ذیل نمایاں تبدیلیاں اور اصلاحات دیکھنے کو ملیں ،انتظامی اصلاحات اور سہولیات میں اضافے کے طور ،پریس کلب کی لائبریری کو جدید ای-لائبریری میں تبدیل کیا گیا، جہاں کمپیوٹرز اور کیمرے نصب کیے گئے اور دو لاکھ سے زائد ای-بکس کے ساتھ نئی کتابیں مہیا کی گئیں​​۔ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے۔کئی سالوں بعد کلب کی عمارت کی تزئین و آرائش کی گئی، اور اہم مقامات جیسے کیفے ٹیریا اور لائبریری میں ایئر کنڈیشنز نصب کیے گئے​​۔کلب کے کیفے ٹیریا کے معیار میں بہتری لائی گئی، جہاں کھانے کے معیار اور سہولیات کو اپ گریڈ کیا گیا۔رمضان کے موقع پر خصوصی محفل حسن قرأت و نعت کا اہتمام کیا گیا، اور ممبران کو عمرے کے ٹکٹس فراہم کیے گئے​​۔خواتین ممبران کے لیے خصوصی ٹورز کا اہتمام کیا گیا، جو پریس کلب کی تاریخ میں ایک نمایاں قدم ہے۔اندرون سندھ اور کراچی کے مطالعاتی دورے بھی کرائے گئے، جو صحافیوں کی پیشہ ورانہ ترقی کے لیے اہم ہیں​​۔ارشد انصاری کا دوبارہ الیکشن میں حصہ لینا ان کی قیادت کی کامیابیوں اور جاری منصوبوں کو مکمل کرنے کی خواہش کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کی سربراہی میں کلب میں کی گئی اصلاحات نے ممبران کو بہتر سہولیات فراہم کیں، اور صحافتی برادری کی حمایت حاصل کی۔ 2023 کے انتخابات میں ان کے پینل نے واضح اکثریت سے کامیابی حاصل کی، جس میں زاہد عابد نے سیکرٹری، اور دیگر عہدوں پر ان کے پینل کے امیدوار بھی کامیاب رہے​​​​۔ارشد انصاری کے لیے دوبارہ منتخب ہونے کے بعد چیلنجز بھی موجود ہیں، جیسے:صحافیوں کے لیے مزید سہولیات کی فراہمی۔ممبران کی رکنیت سے جڑے مسائل کا حل۔کلب کو مزید جدید اور مؤثر پلیٹ فارم میں تبدیل کرنا۔ارشد انصاری کی قیادت نے لاہور پریس کلب کو ایک متحرک اور جدید ادارہ بنایا ہے۔

    ارشد انصاری کی حالیہ کامیابیوں میں سے ایک سب سے اہم کارنامہ وہ فیز 2 کے حوالے سے 200 ایکڑ اراضی کی منظوری ہے جو انہوں نے صحافیوں کی ہاؤسنگ کالونی کے قیام کے لیے حاصل کی۔ یہ زمین صحافیوں کے لیے ایک بڑا تحفہ ہے جو کئی دہائیوں سے رہائشی مسائل سے دوچار تھے۔ اس منصوبے کے تحت صحافیوں کو مناسب قیمت پر پلاٹ فراہم کیے جائیں گے، جو ان کی مالی مشکلات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔صحافیوں کی ہاؤسنگ کالونی کا آغاز ارشد انصاری کے ویژن کا حصہ ہے، جس کا مقصد یہ ہے کہ ہر صحافی کو ایک محفوظ اور پرسکون رہائش فراہم کی جائے۔ یہ کالونی نہ صرف رہائشی ضروریات کو پورا کرے گی بلکہ ایک جدید طرز زندگی کے مطابق تمام بنیادی سہولیات فراہم کرے گی، جن میں تعلیمی ادارے، صحت کے مراکز، پارکس، اور دیگر سہولیات شامل ہوں گی۔ارشد انصاری کو اس ہاؤسنگ کالونی کے منصوبے کی تکمیل کے دوران کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بیوروکریٹک رکاوٹوں، مالی مسائل، اور زمین کے حصول کے پیچیدہ عمل کے باوجود انہوں نے اپنی قیادت اور عزم سے ان مسائل کو حل کیا۔ انہوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہ کر اس منصوبے کی منظوری کو یقینی بنایا۔ان کی خدمات، اختراعی اقدامات، اور ممبران کے ساتھ مؤثر رابطے نے انہیں صحافی برادری کے لیے ایک مثالی رہنما ثابت کیا ہے۔ ان کا دوبارہ الیکشن میں حصہ لینا اس بات کا عکاس ہے کہ وہ کلب کی بہتری کے لیے مسلسل پرعزم ہیں۔ ان کی کامیابی نہ صرف ان کی ذاتی کامیابی ہے بلکہ صحافیوں کے اعتماد اور کلب کے روشن مستقبل کی ضمانت بھی ہے۔ارشد انصاری کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو ان کی قیادت کی صلاحیت ہے۔ وہ ایک وژنری لیڈر ہیں جو نہ صرف مسائل کی نشاندہی کرتے ہیں بلکہ ان کے حل کے لیے عملی اقدامات بھی کرتے ہیں۔ ان کی ایمانداری، جرات، اور صحافیوں کے ساتھ ہمدردی نے انہیں صحافی برادری میں ایک خاص مقام عطا کیا ہے۔ارشد انصاری کی خدمات نہ صرف صحافیوں کے لیے ایک روشن مثال ہیں بلکہ یہ ثابت کرتی ہیں کہ جب ایک رہنما عزم اور خلوص کے ساتھ کام کرتا ہے تو وہ ناممکن کو ممکن بنا سکتا ہے۔ 200 ایکڑ اراضی کی منظوری اور ہاؤسنگ کالونی کا آغاز ان کی محنت اور صحافیوں کے حقوق کے لیے ان کی غیر معمولی جدوجہد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اسی حوالے ممبران لاھور پریس کلب نے آئندہ پریس کلب الیکشن میں ارشدانصاری کو دوبارہ صدر بنوانے کا عزم کیا ہے،کیونکہ ان کے اقدامات نہ صرف موجودہ بلکہ آنے والی نسلوں کے صحافیوں کے لیے بھی یادگار رہیں گے۔

    shahid naseem

  • عمران خان،معیشت و استحکام کیلئے خطرہ

    عمران خان،معیشت و استحکام کیلئے خطرہ

    عمران خان،معیشت و استحکام کیلئے خطرہ
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفیٰ بڈانی

    عمران خان کے حالیہ اقدامات اور بیانات نے ایک بار پھر سیاسی ماحول کو پیچیدہ اور تنازعات سے بھرپور بنا دیا ہے۔ ان کی اعلان کردہ سول نافرمانی کی تحریک جو ماضی میں ناکامی سے دوچار ہو چکی ہے، اس بات کی غماز ہے کہ وہ ذاتی اور جماعتی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دے رہے ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف عوامی اعتماد کو متزلزل کر رہا ہے بلکہ ملکی معیشت اور سیاسی استحکام پر بھی گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے۔

    عمران خان کا بیرون ملک پاکستانیوں سے یہ اپیل کہ وہ ترسیلات زر کو محدود کریں ایک غیر ذمہ دارانہ اور غیر دانشمندانہ اقدام ہے۔ پاکستان کی معیشت کا ایک بڑا حصہ ان ہی ترسیلات زر پر انحصار کرتا ہے جو بیرون ملک پاکستانی اپنے خاندانوں کے لیے بھیجتے ہیں۔ اگر یہ رقم کم ہو جائے تو معیشت مزید بحران میں پھنس سکتی ہے اور اس کے اثرات سب سے زیادہ عام شہریوں پر پڑیں گے۔ یہ حقیقت ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی اپنی فیملیز کی ضروریات کو نظرانداز کرکے کسی سیاسی نعرے کا حصہ نہیں بنیں گے۔

    عمران خان کی سیاست اکثر جذباتی نعروں اور جھوٹے وعدوں پر مبنی رہی ہے۔ ان کی سوشل میڈیا ٹیمیں جھوٹ اور مبالغہ آرائی کے ذریعے عوام کو گمراہ کرنے میں ماہر ہیں۔ جس کی حالیہ مثال پی ٹی آئی کے ایک حامی کا یہ جھوٹا دعویٰ ہے کہ 26 نومبر کو پی ٹی آئی کے 278 کارکنوں کی ہلاکت دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا قتل عام تھا جو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور فلسطین میں اسرائیلی جارحیت سے بھی بڑھ کر ہے۔ ایسے بیانات کا مقصد صرف اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنا اور عوام کو ایک نئے فریب میں مبتلا کرنا ہے۔

    سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پی ٹی آئی اپنی ناکامیوں سے سبق سیکھنے اور اپنی حکمت عملی کو بہتر بنانے کے لیے تیار ہے؟ یا وہ مسلسل جھوٹے وعدوں اور غیر حقیقت پسندانہ نعروں کے پیچھے عوام کو گمراہ کرتی رہے گی؟ عمران خان کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ان کے غیر دانشمندانہ فیصلے اور ناکام حکمت عملی نہ صرف ان کی جماعت بلکہ پورے ملک کے لیے نقصان دہ ہیں۔ماضی میں بھی ان کی سول نافرمانی کی تحریک ناکام ہوئی تھی اور اب بھی ایسی کسی کوشش کا نتیجہ مختلف نہیں ہوگا۔

    پاکستان کو اس وقت ایک مضبوط اور مستحکم قیادت کی ضرورت ہے، جو ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ملکی مفادات کو ترجیح دے۔ عمران خان اور ان کی جماعت کو چاہیے کہ وہ اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کریں اور ملک کو مزید انتشار اور عدم استحکام کی طرف دھکیلنے کے بجائے مثبت کردار ادا کریں۔بصورت دیگر ان کی سیاست کا نتیجہ ملک کے لیے مزید مشکلات اور بداعتمادی کی صورت میں نکلے گا۔

  • عائلی مشاورت

    عائلی مشاورت

    عائلی مشاورت
    تحریر:فرحانہ مختار
    بسا اوقات عائلی زندگی کی ہموار راہ گزر پہ کبھی کبھی بحث و تکرار یا اختلافات کا سامنا کرنا پڑتا جاتا ہے۔ ازواج کے مابین ایسے معاملات کبھی کبھار پیش آتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے سے الجھ پڑتے ہیں۔ احسن طریقہ تو یہ ہے کہ آپس میں معاملہ فہمی اور سمجھداری سے اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جائے۔

    مگرکیا کیجئےکہ شیطان کو سب سے زیادہ کوفت میاں بیوی کے مقدس رشتے میں قائم اُنسیت اور عزت و تکریم سے ہوتی ہے۔ اس لئے وہ وار کرتا رہتا ہے اور اسی لئے بسا اوقات ازواج کی آپس میں گفتگو معاملات کو مزید الجھا دیتی ہے۔ ایسے میں دونوں فریقین مسائل کے حل کے لیے اپنے علاوہ کسی غیر جانب دار شخص سے معاملات کو سلجھانے کے لئے کبھی کبھار مشاورت کی راہ اختیار کرتے ہیں۔ مشاورت دین میں پسندیدہ عمل ہے لیکن اس کے لئے شخص انتہائی سمجھداری سے منتخب کریں۔

    سورت النساء کے مطابق دونوں فریقین کے خاندان سے ایک ایک شخص صلح کے لئے منتخب کیا جائے۔ اگر اس سے بھی اختلافات دور نہ ہوں یا دونوں فریقین کے والدین یا بہن بھائیوں کے لئے غیر جانبدار ہونا قدرے مشکل ہو تو کوئی دیندار، سمجھدار اور معاملہ فہم رشتہ دار مشاورت یا صلح کے لئے منتخب کرنا بہتر ہے۔

    کہیں پڑھا تھا کہ لوگ رحمانی بھی ہو سکتے ہیں اور شیطانی بھی۔ اللہ کے نیک بندے دوسروں کو مثبت سوچ کے ساتھ بہترین رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ ان کا مقصد معاملات کو سلجھانا اور فریقین کا گھر بچانا ہوتا ہے۔

    دوسری جانب کچھ منافقین صفت، منفی سوچ کے حامل افراد ایسے بھی ہوتے ہیں جو ہمیشہ منفی بات کریں گے اور معاملات سلجھانے کی بجائے اُلجھا دیں گے۔ بعض اوقات رشتہ دار اور عزیز و اقارب میں سے جس شخص سے مشاورت کی جائے وہ بظاہر تو معاملہ فہم اور سمجھدار معلوم ہو لیکن غالب گماں ہے کہ اس کا مشورہ کسی بھی قسم کےبُغض، حسد یا منافقت پرمبنی ہو۔ وہ بظاہر معاملہ سلجھانے کی اداکاری کرے گا لیکن اس کا اصل مقصد معاملہ کو بگاڑنا ہو سکتا ہے۔ ایسے شخص سے احتیاط ضروری ہے۔

    میاں بیوی کا رشتہ انتہائی اہم ہے جن کے ذمے مسلمان نسل کی قرآن و سنت کے مطابق پرورش کرنا ہے۔ اس اہم تعلق میں اگر کبھی آپس کے معاملات بگڑ جائیں تو مشاورت کے لئے ہر دوست، عزیز، محلے دار یا رشتہ دار سے مشاورت نامناسب عمل ہے۔
    عائلی مشاورت کے لئے بہترین اشخاص علماء دین اور مفتیانِ کرام ہیں جو کسی بھی معاملے کا دین اور شریعت کے مطابق حل فراہم کریں گے۔ ان کا اولین مقصد شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے فریقین کی اصلاح اور صلح و صفائی ہو گا۔

    آخری بات!اللہ تعالی نے آپ دونوں کو اس مقدس رشتے میں باندھا ہے۔ ایک دوسرے کی شخصیت کو تمام اچھائیوں اور برائیوں سمیت قبول کرنا ہی عقلمندی ہے۔ معاملات کو آپس میں افہام و تفہیم سے حل کرنا بہتر ہے کیونکہ معاملات اگر بگڑ جائیں تو بات کمرے سے نکل کر گھر، گھر سے نکل کر زبان زدِ عام ہو جاتی ہے۔ ایسے میں مزید تنازعات جنم لیتے ہیں اور فریقین کا صلح کرنا دشوار ہوتا چلا جاتا ہے۔

    انا کو پسِ پشت ڈال کر ایک دوسرے کو صبر وتحمل سے سننے کی عادت ڈالیں تو بہت سے معاملات میں بگاڑ پیدا ہی نہ ہو گا۔

  • امرود، صحت بخش زندگی کا قدرتی خزانہ

    امرود، صحت بخش زندگی کا قدرتی خزانہ

    امرود، صحت بخش زندگی کا قدرتی خزانہ
    تحریر :ڈاکٹرغلام مصطفے بڈانی
    امرودجوایک ایسا پھل ہے جو قدرت کا انمول تحفہ ہے جسے صحت کا خزانہ کہا جا سکتا ہے۔ یہ دو اقسام میں پایا جاتا ہے، ایک سفید گودے والا اور دوسرا سرخ گودے والا۔ کچا امرود سبز جبکہ پکا ہوا زردی مائل سفید اور خوشبودار ہوتا ہے۔ اس کے بے شمار فوائد ہیں جن میں نظامِ ہاضمہ کی بہتری، دل اور دماغ کی تقویت شامل ہیں۔ کچا امرود قابض ہوتا ہے جبکہ پکا ہوا قبض ختم کرنے میں مددگار ہے۔ یہ دل کو مضبوط کرتا، ذہنی دباؤ کو کم کرتا اور بھوک بڑھانے میں مدد دیتا ہے۔ زکام، کھانسی اور بواسیر کے لیے بھی امرود نہایت مفید ہے۔

    امرود وٹامن اے، سی، کیلشیم، آئرن اور فاسفورس سے بھرپور ہوتا ہے جو جسمانی صحت کو مضبوط بناتے ہیں۔ اس کے پتوں اور چھال کا استعمال مختلف بیماریوں کے علاج میں کیا جاتا ہے۔ امرود کے پتوں کا جوشاندہ مسوڑھوں کی بیماریوں، دانتوں کے درد اور ہیضے کے علاج کے لیے مفید ہے۔ اس کے پتوں کا لیپ جلی ہوئی جلد پر لگانے سے جلن کم ہوتی ہے اور زخم جلد بھر جاتے ہیں۔ امرود کے پھولوں کا رس پتے کی پتھری ختم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے، بشرطیکہ مرض زیادہ نہ بڑھا ہو۔

    امرود معدے کی تیزابیت ختم کرنے، پیٹ کے اپھارے کو کم کرنے اور جگر کے افعال کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ کمزور معدے کے لیے امرود کا شربت بھی بنایا جا سکتا ہے، جو نظامِ ہاضمہ کو مضبوط کرتا ہے۔ اس کے علاوہ امرود کے بیج آنتوں سے زہریلے مادے نکالنے میں مدد دیتے ہیں اور دائمی قبض کے علاج میں مؤثر ہیں۔

    زکام اور کھانسی کے علاج کے لیے کچے امرود کو گرم راکھ میں پکا کر کھانا مفید ہے جبکہ نرم کونپلوں کا جوشاندہ نزلہ ختم کرتا ہے۔ امرود پیاس کی شدت کم کرتا اور جسم کو توانائی فراہم کرتا ہے۔ امرود کا متواتر استعمال خون صاف کرتا، بلغم کو ختم کرتا اور منہ میں پانی آنے کی شکایت کو دور کرتا ہے۔ تاہم امرود کھانے کے فوراً بعد پانی پینے سے گریز کریں تاکہ اس کے فوائد زیادہ مؤثر ہوں۔

    یہ حیرت انگیز پھل اپنی غذائیت اور طبی فوائد کے باعث ایک قدرتی دوا ہے۔ اپنی روزمرہ خوراک میں امرود کو شامل کریں اور صحت مند زندگی کا لطف اٹھائیں۔