Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ٹرمپ کا مشرق وسطیٰ میں امن کا وعدہ، کیا یہ ممکن ہوگا؟

    ٹرمپ کا مشرق وسطیٰ میں امن کا وعدہ، کیا یہ ممکن ہوگا؟

    ٹرمپ کا مشرق وسطیٰ میں امن کا وعدہ، کیا یہ ممکن ہوگا؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    کیا ڈونلڈٹرمپ واقعی مسلم دنیا کے لیے بہتر ہیں؟ کیاڈونلڈ ٹرمپ مشرق وسطیٰ میں امن قائم کر پائیں گے ،کیا واقعی جنگ وجدل کا خاتمہ ہوجائے گا ؟یہ سوال ہر کسی کے زبان پر ہے۔ اب ڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ منتخب ہوچکے ہیں تو یہ مسلم دنیا کے لیے کس طرح کی امیدیں اور امکانات پیدا کر سکتا ہے؟ ان کے سابقہ دور حکومت میں خلیجی ممالک کی خوشیاں اور ایران کے خلاف سخت موقف نے ایک نئی تاریخ رقم کی تھی،نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلوریڈا میں وکٹری سپیچ میں جاری جنگیں ختم کرنے کا اعلان کیا اور کہا کوئی نئی جنگ شروع نہیں کریں گے۔ امریکہ کو دوبارہ عظیم بنائیں گے۔ اپنے ملک کو محفوظ بنانے کیلئے تمام اقدامات کریں گے۔ڈونلڈٹرمپ بطور صدر پیر 20 جنوری 2025 کو یو ایس کیپیٹل کمپلیکس میں اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطی میں دیرپا امن قائم کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے لیکن یہ ایک پیچیدہ اور چیلنج سے بھرپور معاملہ ہے۔نومنتخب امریکی صدرکو اس خطے کے مسائل کا سامنا ہوگا، جب وہاں شدید تنازعات اور عدم استحکام پایا جا رہا ہے۔ ان کی اسرائیل کے ساتھ قریبی تعلقات اور فلسطین کے حوالے سے ان کے متنازعہ بیانات نے دنیا بھر میں ان کی پالیسیوں پر سوالیہ نشان کھڑا کیا ہے۔

    اسرائیل اور فلسطینی حماس کے درمیان جاری جنگ جس کا آغاز 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملے سے ہوا، مشرق وسطی میں بڑھتے ہوئے تنا ئوکی تازہ ترین مثال ہے۔ اس جنگ میں اب تک ہزاروں لوگ مارے جا چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد میں عام شہریوں کی ہے ۔ غزہ کی صورتحال انسانیت کے لیے ایک چیلنج بن چکی ہے اور بین الاقوامی برادری اس تنازع کو ختم کرنے میں عملاََ ناکام دکھائی دیتی ہے۔ڈونلڈٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران بارہا اسرائیل کی حمایت میں بات کی ہے اور یہ اصرار کیا ہے کہ غزہ کی جنگ کو جلد از جلد ختم ہونا چاہیے۔ ان کے بیانات نے دنیا بھر میں کئی حلقوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ، اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور ٹرمپ کے درمیان قریبی تعلقات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ٹرمپ کی دوسری صدارت اسرائیل کو مزید حمایت فراہم کرے گی۔ ٹرمپ نے اپنی پہلی مدت میں اسرائیل کے حق میں کئی بڑے فیصلے کیے تھے، جیسے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنا اور گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل کا قبضہ کوقانونی قرار دیا۔

    اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جاری جنگی صورتحال کے ساتھ ساتھ ایران کے ساتھ اسرائیل کے کشیدہ تعلقات، لبنان میں حزب اللہ کی بڑھتی ہوئی کارروائیاں اور عراق و یمن میں ایرانی حمایت یافتہ گروہوں کی موجودگی خطے کی مشکلات میں اضافہ کرتی ہیں۔ اسرائیل کے لیے سب سے بڑا خطرہ ایران کا جوہری پروگرام ہے، جو خطے میں طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتا ہے۔ٹرمپ نے ان تمام چیلنجوں کے باوجود امن کے قیام کا وعدہ کیا ہے مگر ان کے پاس اس کی واضح حکمت عملی نظر نہیں آرہی۔ وہ بارہا اسرائیل سے کہہ چکے ہیں کہ وہ "کام ختم کریں” یعنی حماس کو شکست دیں مگر یہ واضح نہیں کہ اس کے بعد کے حالات کو کیسے سنبھالا جائے گا۔ واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ فار نیئر ایسٹ پالیسی کے ماہرین کے مطابق ٹرمپ کی پالیسیز میںشفافیت کا فقدان ہے جس سے خطے کی صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔

    ٹرمپ کے اسرائیلی وزیر اعظم سے اس قدر قریبی تعلقات ہیں کہ اپنی پہلی صدارت کے دوران ٹرمپ نے نیتن یاہو کی سخت گیر پالیسیوں کی کھل کر حمایت کی تھی خاص طور پر ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے یکطرفہ طور پر نکل گئے تھے ۔ اس کے علاوہ ٹرمپ نے فلسطینی ریاست کے قیام کے حوالے سے ایک منصوبہ پیش کیا جسے دنیا بھر میں اسرائیل کی حمایت کے طور پر دیکھا گیا۔تجزیہ کاروں کاکہنا ہے کہ نیتن یاہو کی حکومت جو اس وقت انتہائی دائیں بازو کی پالیسیوں کی حامی ہے اورٹرمپ کی دوسری صدارت کو اسرائیل کے لیے مزید فوائد کی امید کے ساتھ دیکھ رہی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی خطے کے دیگر معاملات میں ٹرمپ کی مداخلت کس حد تک مئوثر ہوگی اس پر سوالیہ نشان ہے۔

    اسرائیلی قیادت اور ٹرمپ کے درمیان قریبی تعلقات کے باوجود غزہ کی جنگ کے بعد کے حالات کے حوالے سے کوئی واضح حکمت عملی نظر نہیں آتی۔ نیتن یاہو کی حکومت اس بات پر زور دے رہی ہے کہ اگر جنگ حماس کی مکمل شکست کے بغیر ختم ہوئی تو ان کی حکومت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ اس کے برعکس بائیڈن انتظامیہ اور مغربی طاقتیں غزہ کو فلسطینی اتھارٹی کے تحت رکھنے کے حامی ہیں مگر اسرائیل نے اس خیال کو مسترد کر دیا ہے۔

    ایران کے ساتھ کشیدگی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ اور دیگر گروہوں کے ساتھ اسرائیل کے تنازعات کے باعث مشرق وسطیٰ میں تنائو بڑھ گیا ہے۔ لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ جاری کشیدگی، جس میں ہزاروں افراد بے گھر اور درجنوں ہلاک ہو چکے ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خطے کی صورتحال کتنی خراب ہے۔ ٹرمپ کے لیے سوال یہ ہے کہ کیا وہ امریکہ کے اندرونی مسائل کو ترجیح دیں گے یا خطے میں اسرائیل کی مدد کے لیے مزید اقدامات کریں گے؟

    ڈونلڈٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران بارہا یہ کہا کہ وہ ملکی معاملات پر زیادہ توجہ مرکوز کریں گے لیکن مشرق وسطیٰ کی صورتحال اس کے برعکس ہے۔ ان کے داماد جیرڈ کشنر جو مشرق وسطیٰ کے معاملات میں سرگرم کردار ادا کر چکے ہیں ایک بار پھر کلیدی حیثیت میں آ سکتے ہیں۔ ان کی اسرائیل نواز پالیسیز اورمذہبی عیسائیوں کی طرف سے حمایت بھی ان کے فیصلوں کو متاثر کر سکتی ہے۔مجموعی طور پر ٹرمپ کا مشرق وسطیٰ کے لیے کوئی بھی فیصلہ خطے کی صورتحال کو مزید بگاڑ بھی سکتا ہے اور شاید اسے بہتر بھی کر سکتا ہے مگر اس کا انحصار ان کی پالیسیوں کے واضح ہونے اور خطے کے دیگر عوامل پر ہوگا۔

  • ٹرمپ کی کامیابی اور پاکستانی دانشوروں کے لایعنی تبصرے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    ٹرمپ کی کامیابی اور پاکستانی دانشوروں کے لایعنی تبصرے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    امریکی صدارتی ا نتخابات اور ٹرمپ کی کامیابی کے بعد ہمارے الیکٹرانک میڈیا پر ہمارے دانشور اور سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں نے ایسے ایسے تبصرے شروع کردئیے ان تبصروں سے نہ تو امریکہ کو فرق پڑتا ہے نہ پاکستانی معاشرے پر ان تبصروں سے کوئی نقصان یا فائدہ ہوتا ہے جس معاشرے کو تباہ کرتے ہیں، نجومی درہم و دینار کے عوض فتویٰ فروش ، جھوٹے راوی ، غنڈے خود ساختہ حق اور سچ کے دعویدار زائچے بنانے والے خوشامدی موقع پرست سیاستدان افواہ پھیلانے والوں کی بہتات ہو ،الیکٹرانک میڈیا پر معاشرے کو سدھارنے کی باتیں کی جائیں، خوراک اور ادویات میں ملاوٹ کے خلاف جہاد کریں، مخلوق خدا کی زندگیوں سے کھیلنے والوں کے خلاف جہاد کریں۔ امریکی صدر کو کسی نجومی ، کسی زائچے بنانے والے نے کامیاب نہیں کروایا امریکہ میں موجود مخلوق خدا نے کامیاب کروایا ہے۔

    امریکہ بطور ریاست اور ٹرمپ بطور امریکی صدر کو بین الاقوامی تنازعات کا سامنا ہے ، امریکی پالیسی اُسی راستے پر چلتی رہے گی تاہم امریکی پالیسی کا انداز اور لہجہ مختلف ہو سکتا ہے۔ ٹرمپ کی جیت ایک خبر کی کہانی اور سیاسی پنڈتوں کے لئے موضوع بحث ہے کچھ زیادہ نہیں۔ ٹرمپ کی کامیابی سعودی حکمرانوں کے لئے بھی اچھی خبر ہے ٹرمپ کے ساتھ سعودی حکمرانوں کے اچھے تعلقات ہیں تاہم دیکھنا ہوگا کہ اسرائیل فلسطین ،لبنان ،ایران کے درمیان جاری جنگ کو ٹرمپ اور سعودی حکمران کیا کردار ادا کرتے ہیں ، بائیڈن کی رخصتی اورٹرمپ کی آمد دنیا میں جاری جنگی ممالک میں کیا رُخ دیتی ہے ٹرمپ کے مزاج و انداز میں کیا کوئی تبدیلی آئے گی؟تاہم پاکستان کے لئے ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی کیا ہوگی اس کے لئے چند ماہ انتظار کرنا پڑے گا

  • کیا آپ خود کو مکمل محسوس کرتے ہیں؟

    کیا آپ خود کو مکمل محسوس کرتے ہیں؟

    کیا آپ خود کو مکمل محسوس کرتے ہیں؟

    خود کو مکمل محسوس کرنا، اپنے اندر کی صلاحیتوں کو پہچاننا اور ایسی زندگی گزارنا ہے جو آپ کے مقصد کے مطابق ہو اور آپ کی حقیقت سے ہم آہنگ ہو۔ یہ سفر محض کامیابیوں یا دوسروں کی رضا کے پیچھے دوڑنا نہیں ہے، بلکہ یہ اپنے اندر خوشی اور معنی تلاش کرنے کے بارے میں ہے۔ یہ داخلی سفر آپ کے اعمال اور تجربات کو آپ کی ذاتی اقدار، خواہشات اور اہداف سے ہم آہنگ کرنے کے بارے میں ہے۔

    خودی کو سمجھنا
    جب ہم یہ سمجھنا شروع کرتے ہیں کہ حقیقت میں ہم کون ہیں، تب ہم اپنی زندگی کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں۔ ہمارے اندرونی خیالات اور احساسات ہی ہمارے بیرونی اعمال کو شکل دیتے ہیں، اس لیے یہ ضروری ہے کہ ہم اپنے جذبات اور خواہشات کو پہچانیں اور ان کے مطابق فیصلے کریں۔ اپنے آپ کو جاننا خودی کی اصل بنیاد ہے۔

    جسمانی، ذہنی، جذباتی اور روحانی تندرستی
    خود کو مکمل محسوس کرنے کے لیے جسمانی، ذہنی، جذباتی اور روحانی طور پر تندرست ہونا بہت ضروری ہے۔ جب ہم اپنی دیکھ بھال کرتے ہیں تو دوسروں کے لیے بھی ہم زیادہ بہتر طریقے سے حمایت اور محبت فراہم کر سکتے ہیں۔

    تعلقات کی اہمیت
    چونکہ انسان فطری طور پر سوشل (سماجی) ہے، اس لیے تعلقات اہمیت رکھتے ہیں۔ مگر ان تعلقات میں احتیاط بھی ضروری ہے۔ ایسے لوگوں سے دور رہیں جو آپ کی توانائی کو ختم کرتے ہیں، جو ہمیشہ منفی رویہ اپناتے ہیں یا آپ کی ترقی میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ اس کی بجائے، اپنے ارد گرد ایسے افراد کو جمع کریں جو آپ کو متاثر کریں اور آپ کی حوصلہ افزائی کریں۔

    کام کی اہمیت
    ہماری زندگی میں کام ایک بڑا حصہ ہوتا ہے۔ یہ ضروری ہے کہ ہم وہ کام کریں جو ہمارے جذبوں اور خواہشات کے مطابق ہو۔ اگر آپ اپنے کام سے بور ہو رہے ہیں یا آپ کو اطمینان نہیں مل رہا، تو یہ ایک اشارہ ہو سکتا ہے کہ آپ کو تبدیلی کی ضرورت ہے۔ جب آپ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ آپ کیوں ناخوش ہیں، تو آپ اپنی پسندیدہ اور اہمیت رکھنے والی ملازمت کی طرف قدم بڑھا سکتے ہیں۔

    دوسروں پر اثر
    آخرکار، جو چیز سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے وہ یہ ہے کہ آپ دوسروں پر کیسے اثر ڈالتے ہیں، اگر آپ اپنی زندگی کو اس بات پر فوکس کرتے ہیں کہ آپ لوگوں پر کیا اثر چھوڑنا چاہتے ہیں اور آپ کو کس طرح یاد رکھا جائے گا، تو آپ کو زندگی کے اصل معنی واضح ہو جاتے ہیں۔ ہر دن خود کو بہترین صورت میں‌ڈھالنے کا ایک نیا موقع ہے چاہے آپ کہیں سے بھی آغاز کر رہے ہوں۔

  • امریکی انتخابات پر سب کی نظریں.تجزیہ:شہزاد قریشی

    امریکی انتخابات پر سب کی نظریں.تجزیہ:شہزاد قریشی

    امریکہ کے موجودہ انتخابات دنیا کی تقدیر کا تعین کریں گے سلامتی اور معیشت کے ساتھ ساتھ اُن ممالک کی تقدیر کا تعین کریں گے جو بد نظمی کا شکار ہیں ،نیا وائٹ ہائوس کا ماسٹر دنیا کی اعلیٰ معیشت اور دنیا کی جدید ترین اور طاقتور فوج رکھنے والا بحری بیڑوں سمندروں کو حرکت دینے والا نئے ماسٹر کا پلان کیا ہوگا؟یقینا وہ سب سے پہلے امریکی مفادات کو تحفظ فراہم کرنے کا کردار ادا کرے گا۔ اقوام عالم امریکی انتخابات کو نظر انداز نہیں کر سکتی ۔ دنیا کے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک نیٹو کے انتظار میں ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم امریکی انتخابات کے نتائج کا شدت سے انتظار کررہے ہیں جبکہ روس کے صدر کو انتظار ہے ۔ روس اور یو کرین کی جنگ بندی کی چابی امریکہ کے ہی پاس ہے جبکہ مشرقی وسطیٰ کے رہنمائوں کی نظریں امریکی انتخابات کے نتائج پر لگی ہیں۔

    امریکہ کو اس سے فرق نہیں پڑتا کہ آپ امریکہ سے نفرت کرتے ہیں یا محبت یا امریکہ کے خاتمے کی بات کرتے ہیں۔ دنیا کی سب سے طاقتور معیشت اور طاقتور فوج اور طاقتور بحریہ پر امریکہ فخر کرتا ہے ۔ امریکہ دنیا کے کئی ممالک کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ ضمانتیں اور حل فراہم کرتا ہے۔ دنیا جنگوں اور تباہی سے بچنے کے لئے امریکہ کی طرف دیکھتی ہے ۔ کیا وائٹ ہائوس کے نئے ماسٹر امریکی داخلی سیاسی اور خارجہ پالیسی تبدیل ہو جائے گی جس سے امریکی عوام اوربین الاقوامی دنیا کو فائدہ ہوگا

  • تبصرہ کتب،تربیتی نصاب

    تبصرہ کتب،تربیتی نصاب

    نام کتاب : تربیتی نصاب ( 3جلد )
    صفحات : 192
    قیمت : مکمل سیٹ720روپے
    ناشر: دارالسلام انٹرنیشنل ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ ، لوئر مال ، لاہور
    برائے رابطہ : 042-37324034
    ہر بچہ عقائد اور اعمال کا ذہن لے کر دنیا میں آتا ہے۔ والدین اور اساتذہ کی اچھی تربیت اور ذہن سازی اس میں بلند پایہ اوصاف پروان چڑھاتی ہے جس سے وہ معاشرے کا بہترین اور کارآمد فرد بن جاتا ہے۔ اس کے برعکس غلط تربیت سے عقائد و اعمال بگڑ جاتے ہیں اور ایسا شخص معاشرے کے لیے ناسور بن جاتا ہے۔ اس لیے تعلیم کے ساتھ تربیت اتنی ہی ضروری ہے جتنا زندہ رہنے کے لیے سانس۔ ہمارے ہاں مختلف سطح پر مختلف طرح کے کثیر تعداد میں تعلیمی ادارے موجود ہیں جن میں سکولز ، کالجز ، یونیورسٹیاں بھی ہیں اور دینی تعلیم کے ادارے بھی ہیں ۔ دنیوی تعلیمی اداروں میں تو تربیت کا بالکل ہی فقدان ہے ۔ دینی تعلیم کے اداروں میں تعلیم کے ساتھ تربیت کا جذبہ تو ہے لیکن یہاں زیر تعلیم بچوں کے لیے ان کی ذہنی سطح کے مطابق تربیت کا کوئی ایسا سائنٹیفک اور رہنما نصاب کتابیں دستیاب نہیں جو مفید اسلامی معلومات، سیرت نبوی اور بزم ادب کے پروگرام پر مشتمل ہو اور بچوں کو مثالی مسلمان بنانے میں بنیادی کردار ادا کرے۔ اسی اہم ضرورت کے پیش نظر دار السلام انٹرنیشنل بچوں کے لیے تین حصوں پر مشتمل یہ کتاب تیار کی ہے جسے جید علمائے کرام اور کہنہ مشق سکالرز نے بڑی محنت سے مرتب کیا ہے۔ تین حصوں پر مشتمل یہ کتاب تعلیم و تربیت کے اہم اور مفید پہلوو¿ں کا احاطہ کرتی ہے جنھیں 8 ہفتوں کے حساب سے سمیسٹر وائز تقسیم کیا گیا ہے۔ضروری ہے کہ نئی نسل کی اسلامی خطوط پر تربیت کے لیے اس کتاب کو عام کیا جائے ، دینی اداروں سمیت سکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں رائج کیا جائے تاکہ ہمارے بچے بچیاں مفید پاکستانی بننے کے ساتھ ساتھ اچھے مسلمان بھی بن سکیں ۔

    طلبہ اور اساتذہ کی سہولت کی خاطر تینوں کتابیں سمیسٹر وائز ترتیب دی گئی ہیں ۔ہر سمیسٹر کا دورانیہ 2 ماہ ہے۔ ہر سمیسٹر میں 8 ہفتوں کے حساب سے مختلف تربیتی موضوعات تقسیم کیے گئے ہیں۔

    ہر سمیسٹر کے پہلے ہفتے میں قرآن مجید کی کچھ سورتیں حفظ کےلئے دی گئی ہیں ، دوسرے ہفتے میں مسنون دعائیں، تیسرے ہفتے میں حفظ احادیث ، چوتھے ہفتے میں بنیادی عقائد ، پانچویں ہفتے میں سیرت النبی ﷺ ، چھٹے ہفتے میں تجوید، ساتویں ہفتے میں اسلامی آداب اور آخری ہفتے میں پورے سمیسٹر کی دہرائی کے ساتھ ساتھ بچوں کو عملی سرگرمیاں شامل کتاب کی گئی ہیں ۔بچوں میں ادبی ذوق پیدا کرنے اور گفتگو کی صلاحتیں نکھارنے کےلئے ہر کتاب کے آخر میں بچوں کےلئے حمد ونعت اور مختلف موضوعات پر تقاریر بھی دی گئی ہیں ۔ ہر کتاب کے شروع میں طلبہ اور اساتذہ کےلئے مفید تجاویز اور رہنما اصول بھی دیے گئے ہیں جن کی روشنی میں ان کتابوں کو سمجھنا ، پڑھنا اور ان سے فائدہ اٹھانا بالکل ہی آسان ہوگیا ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ موجودہ پر فتن اور آزمائشوں کے دور میں تین حصوں پر مشتمل اس کتاب کا مطالعہ ہر بچے بچی کےلئے بے حد ضروری ہے ۔ اسی طرح ان کتب کا مطالعہ والدین کےلئے بھی بے حد مفید ثابت ہوگا ان شاءاللہ ۔ یہ کتاب بچوں کو عملی مسلمان بنانے، معاشرے کا مفید شہری بنانے اور ان کی اچھی تربیت میں اہم کردار ادا کرے گی

  • فرائضِ صحافت اور صحافی

    فرائضِ صحافت اور صحافی

    فرائضِ صحافت اور صحافی
    تحریر: غنی محمود قصوری
    مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ کے بعد صحافت ریاست کا چوتھا ستون ہے۔ صحافی وہ شخص ہوتا ہے جو عوام سے لے کر خواص، غریب سے لے کر امیر، اور سرکاری و غیر سرکاری اداروں تک سب کا نمائندہ اور آواز ہوتا ہے۔ لوگ اپنی آواز اور انصاف کے لیے صحافیوں کی طرف دیکھتے ہیں۔ ایک حقیقی اور ایماندار صحافی کی پہچان کسی جماعت، گروہ، قبیلے یا مسلک سے نہیں، بلکہ حق و سچ سے ہوتی ہے۔ مگر افسوس، آج زیادہ تر صحافی حضرات اپنے مسلک، جماعت یا قبیلے کی بنیاد پر جانے جاتے ہیں، گویا انہوں نے ذاتی مفادات کو اسلام اور ریاست پر ترجیح دینے کا عہد کر رکھا ہو۔

    جس طرح عام انسانوں میں غلطیاں اور کوتاہیاں ہوتی ہیں، اسی طرح اداروں اور جماعتوں میں بھی خامیاں ہوتی ہیں۔ ان خامیوں کی نشاندہی اور انہیں اعلیٰ حکام تک پہنچانا ایک صحافی کا اصل فرض ہے۔ اسی طرح جرائم پیشہ عناصر کے خلاف حق اور سچ پر مبنی آواز اٹھانا بھی ایک صحافی کی ذمہ داری ہے۔ جس طرح ایک فوجی کا مقصد اپنے قبیلے یا گروہ کی بجائے ریاست کی حفاظت ہوتا ہے، ویسے ہی ایک صحافی کا فرض بھی ریاست کا ساتھ دینا اور اندرونی و بیرونی دشمنوں کا مقابلہ کرنا ہوتا ہے۔ فوجی ہتھیار سے لڑتا ہے اور صحافی قلم سے۔

    جیسے ڈاکٹر بیماری کا علاج کرنے کے لیے جراثیم کو ختم کرتا ہے، اسی طرح ایک صحافی معاشرتی برائیوں کو بے نقاب کرتا ہے اور انتظامیہ کو خبردار کرتا ہے، جس کے بعد عدلیہ اپنا فیصلہ سناتی ہے۔ جس طرح ایک فوجی کو اپنی جان قربان کرنا پڑسکتا ہے، ویسے ہی ایک حقیقی اور ایماندار صحافی کو حق و سچ لکھنے اور بولنے کی پاداش میں اپنی جان گنوانی پڑ سکتی ہے۔ میرے علم کے مطابق، رواں سال کے 10 ماہ میں 18 صحافی حق اور سچ کا ساتھ دینے کی وجہ سے قتل کیے جا چکے ہیں۔

    جس طرح ڈاکٹر مختلف امراض میں مہارت رکھتا ہے، اسی طرح صحافی بھی مختلف شعبوں میں ماہر ہوتے ہیں، جیسے دفاع، معیشت اور جرائم۔ ایک فوجی کی طرح صحافت کا پیشہ بھی ایک جہاد ہے، اور اس پیشے سے مخلص رہنا حقیقی خدمت ہے۔ ایک صحافی، جو جرائم پیشہ افراد سے معاشرے کو بچانے کے لیے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر لڑتا ہے، کا بھی اعلیٰ مقام ہے۔

    قلم کی حرمت کو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بیان کیا ہے۔ پہلی وحی میں ارشاد ہوا:
    اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِیْ خَلَقَۚ(۱) خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍۚ(۲)اِقْرَاْ وَ رَبُّكَ الْاَكْرَمُۙ(۳) الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِۙ(۴) عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْ
    ترجمہ: اپنے رب کے نام سے پڑھو جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔ پڑھو اور تمہارا رب سب سے بڑا کریم ہے جس نے قلم سے لکھنا سکھایا اور انسان کو وہ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔

    اللہ تعالیٰ سورہ قلم میں فرماتے ہیں:
    "وَ الۡقَلَمِ وَ مَا یَسۡطُرُوۡنَ ۙ” ترجمہ: "قسم ہے قلم کی اور اس کی جو کچھ وہ (فرشتے) لکھتے ہیں۔”

    جیسے ہر شعبے میں اچھے اور برے لوگ ہوتے ہیں، ویسے ہی صحافت میں بھی کچھ افراد کی وجہ سے یہ مقدس پیشہ بدنام ہوا ہے۔ آج پاکستان میں صحافت کو کاروبار بنا لیا گیا ہے۔ بعض چینل اور اخبار پیسوں کے عوض نمائندے بھرتی کرتے ہیں اور تنخواہ دینے کے بجائے پیسے لیتے ہیں۔ انگلیوں پر گنے جانے والے چند اخبارات اور چینل ہی ہیں جو اپنے نمائندوں کو کچھ معاوضہ دیتے ہیں، ورنہ زیادہ تر نمائندے خود اپنی جیب سے پیسے خرچ کرتے ہیں۔

    کچھ افراد صحافت کو بلیک میلنگ کے لیے اپناتے ہیں، مگر الحمدللہ زیادہ تر صحافی جذبہ جہاد کے تحت اس شعبے میں آتے ہیں اور لوگوں کی آواز بنتے ہیں۔ جو صحافی جماعت، فرد یا گروہ کے مفادات کی خاطر جرم کا ساتھ دیتے ہیں، ان کی خدمت میں سورہ القصص کی آیت نمبر 17 کا ترجمہ پیش ہے:
    "اے میرے پروردگار، آپ نے مجھ پر انعام کیا ہے تو آئندہ کبھی مجرموں کا مددگار نہیں بنوں گا۔”

    ایک رپورٹر اور کالم نگار کی حیثیت سے دس سال سے میں اپنی قوم کو معمولی علم کے ساتھ دعوت دیتا آیا ہوں، اور آج میری یہ دعوت اپنی صحافی برادری کے نام ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو حق سچ کا ساتھ دینے اور راہِ ہدایت پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

  • میری زندگی کی شام

    میری زندگی کی شام

    میں نے سوچا تھا کہ جب مجھے وقت ملے گا تو میں زندگی کے ساتھ ایک دہائی کی لڑائی کا ازالہ معاشرتی سرگرمیوں کے ذریعے کروں گی، میں نے یاد کیا یا، کم از کم میں نے ایسا ہی سوچا۔ اب جب مجھے وقت مل گیا ہے توبے کار کی گفتگو کے لیے بات چیت کی کوئی خواہش نہیں ہے۔ اس کے بجائے، میں اپنی تنہائی کا لطف ان کتابوں کے ساتھ اٹھاتی ہوں جو میں پڑھنا چاہتی تھی، ان لکھاریوں کے ساتھ جنہیں میں پڑھنا چاہتی تھی۔

    میں نے موراکامی کو دریافت کیا، جاپانی مصنف جو اپنی کتاب "ناروے کا بھیڑیا” کے بعد ایک مظہر بن گئے۔ میں نے مارکیٹ میں دستیاب ان کی 7 کتابیں اٹھائیں۔یہ ایک خوبصورت چیز ہے کہ آپ کے بستر کا ایک حصہ کتابوں سے بھر جائے۔ رات کو ایک یا دو بجے اٹھ کر پڑھنا۔ دن کے ابتدائی گھنٹوں کی مکمل خاموشی،اور کسی قسم کا کوئی خلل نہ ہو

    زندگی مختلف راستوں پر لوگوں کے لیے مختلف موڑ لاتی ہے، جیسا کہ ہم اپنے اپنے راستوں پر چلتے ہیں۔ ہم ایک دوسرے کے راستے میں گزرنے والے ذرات کی طرح ہیں، دوسروں سے ملنا صرف وقت کے طوفان میں کھو جانے کے لیے ہوتا ہے،ہمارے راستے کبھی بھی دوبارہ نہیں ملتے۔

    ہم اکثر اپنی دنیاوی کامیابیوں سے زیادہ نقصانات کا شکار ہوتے ہیں۔ یا کم از کم میں یہی سوچتی ہوں۔

    موروکامی کی کتاب کے کچھ الفاظ، جو میں نے ابھی ختم کی ہے، نے مجھے بار بار پڑھنے پر مجبور کر دیا، جو کہ بہت سچ ہیں: "تو اسی طرح ہم اپنی زندگی گزارتے ہیں۔ چاہے نقصان کتنا ہی گہرا اور مہلک ہو، چاہے چیز کتنی ہی اہم کیوں نہ ہو جو ہم سے چھینی گئی ہو، جو ہمارے ہاتھوں سے کھینچ لی گئی ہو،یہاں تک کہ اگر ہم بالکل بدل چکے لوگوں کی صورت میں رہ جاتے ہیں، صرف پہلے کی جلد کے ساتھ، ہم خاموشی میں اپنی زندگی اسی طرح گزارنے لگتے ہیں۔ ہم اپنے مقررہ وقت کے قریب تر آ جاتے ہیں، اسے الوداع کہتے ہوئے جیسے یہ پیچھے کی طرف چھوٹتا ہے۔”

    اہم یہ ہے کہ ہم اپنی خوشی یا اطمینان کا احساس کسی کے معیار سے نہیں بلکہ اپنے اپنے معیار سے کریں۔

  • تبصرہ کتب: پراسرار حویلی

    تبصرہ کتب: پراسرار حویلی

    زیر نظر کتاب ” پراسرار حویلی “ اپنے نام کی طرح اسرار وتجسس سے بھرپور ایک کہانی ہے۔یہ بچوں کے ادب کے معروف لکھاری ڈاکٹر محمد افتخار کھوکھر کی تصنیف ہے ۔ عام طور پر تجسس اور پر اسرار واقعات سے بھر پور کہانیوں میں بچوں کی تربیت واصلاح کا فقدان ہوتا ہے۔ یا پھر اسرار وتجسس کے نقطہ نظر سے لکھی گئی کہانیاں بچوں کو جرائم کی راہ پر لے جاتی ہیں لیکن دارالسلام کو اس بات کا کریڈٹ جاتا ہے کہ اس کی شائع کردہ کتابوں میں بچوں کے لیے اسرار وتجسس بھی ہے اسلامی معلومات بھی ہوتی ہیں ، اصلاح وتربیت اور سچائی وصداقت کا بھی بھر پور اہتمام ہوتا ہے۔جیسا کہ پیش نظر کتاب ” پراسرار حویلی “ ہے۔ یہ کتاب ایک حویلی کے گرد گھومتی ہے جو کسی وقت میں آباد تھی۔ ایک باپ، دو بیٹوں اور دیگر اہل خانہ پر مشتمل ایک خاندان اس حویلی میں پیارو محبت کے ساتھ رہ رہا تھا لیکن پھر اس کے مکین ایک دوسرے کو دیکھ کر حسد کی آگ میں جلنے لگے۔ یہی حسد گھر کی خواتین کو جادو ٹونہ کرنے والے آستانوں پر لے گیا۔ پھر ایک وقت آیا جب جادو کی نحوست سے یہ خاندان بکھر گیا ، حویلی اجڑ گئی اور نشان عبرت بن گئی۔ یہاں سے تہہ در تہہ خوفناک واقعات رونما ہونے لگے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ارد گرد کا ماحول ایسے جھوٹے عاملوں سے بھرا پڑا ہے جو شیطان کے ساتھی ہیں، شیطان کی مدد سے لوگوں کو جادو میں مبتلا کرتے ہیں۔ شیطان ایسے لوگوں کی مدد کرتا ہے جو اللہ کی نافرمانی کرتے ہیں۔ صرف جاہل ہی نہیں، اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ بھی ان جعل ساز فقیروں ، نقلی پیروں اور کالے جادو کاعلم رکھنے والے عاملوں اور نجومیوں کے ہتھے چڑھ کر آخرت اور دنیا دونوں برباد کر لیتے ہیں۔ ان لوگوں کے شیطانی حربوں نے لوگوں کے دلوں کو نفرت سے بھر دیا ہے۔ گھروں سے اطمینان اور سکون رخصت ہو گئے ہیں۔ لڑائی جھگڑے اور بے رخی عام ہوگئی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس فساد کا کوئی علاج بھی ہے۔ اگر ہم غور کریں تو ہر بیماری کا علاج ، ہر مسئلے کا حل ہمیں اللہ تعالیٰ نے ضرور عطا کیا ہے۔ جادو ٹونے کا حل بھی قرآن وسنت کی صورت میں ہمارے پاس موجود ہے۔ اگر ہم قرآن وسنت کی حفاظتی تدابیر پرعمل کریں تو نہ صرف جادو اور شیطانی وسوسوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہم پر محافظ بھی مقرر کر دیے جاتے ہیں۔ پرابلم یہ ہے کہ ہم وہم کا علاج جادو کے ذریعے سے کر تے ہیں۔ جھوٹے عاملوں، جعلی پیروں اور نجومیوں کے آستانے لوگوں سے بھرے ہوئے ہیں نادان لوگ اپنے ہی رشتوں کو، اپنے ہی پیاروں کو جادو کی بھینٹ چڑھانے کے لیے چلے آتے ہیں۔ شیطان کے ساتھیوں نے دنیا میں دکھ پھیلا دیے ہیں ان دکھوں کا بس ایک ہی علاج ہے اللہ کی طرف اپنا رخ موڑا جائے۔ یہ کتاب ” پر اسرار حویلی “ ہمیں یہی پیغام دیتی ہے کہ حسد و بغض واضح تباہی و بربادی کا راستہ ہے اور اس سے بچاوصرف قرآن کی طرف رجوع میں ہے۔ کتاب میں جادو کی مختلف اقسام ، جادو اور اس کے اثرات اور جادو سے بچاﺅ کی تدابیر بیان کی گئی ہیں۔ گویا یہ کتاب محض ایک کہانی ہی نہیں بلکہ قرآن وحدیث کی روشنی میں جادو ، ٹونے سے بچاﺅ کے لیے رہنما کتاب ہے۔ اس وقت جعلی عاملوں ، پیروں ، فقیروں نے جس طرح سے معاشرے میں پنجے گاڑ رکھے ہیں اور لوگوں کے ایمان ، مال اور عزتیں برباد کررہے ہیں ان حالات میں اس کتاب کا مطالعہ بچوں کے ساتھ ساتھ بڑوں کے لیے بھی بے حد مفید ہوگا ان شاءاللہ۔ آرٹ پیپر 4کلر کے ساتھ طبع شدہ اس کتاب کی 670روپے ہے ۔ یہ کتاب دارالسلام انٹر نیشنل ، لوئر مال ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ سے حاصل کی جاسکتی ہے یا کتاب براہ راست حاصل کرنے کےلئے درج ذیل نمبر 042-37324034پر رابطہ کیا جاسکتا ہے

  • تبصرہ کتب:ماہنامہ دعوت دین

    تبصرہ کتب:ماہنامہ دعوت دین

    ماہنامہ دعوت دین ( سیرت تاجدار ختم نبوت ایڈیشن )
    زیر تبصرہ جریدہ ’’ماہنامہ دعوت دین ‘‘ کا سیرت تاجدار ختم نبوت ﷺ پر خصوصی شمارہ ہے ۔ جیسا کہ نام سے واضح ہے ’’ ماہنامہ دعوت دین ‘‘ فرقہ واریت سے پاک تبلیغی ، اصلاحی ، تربیتی اور دعوتی میگزین ہے ۔’’ ماہنامہ دعوت دین ‘‘ کی ادارتی ٹیم تجربہ کار ، نظریاتی اور فکری لکھاریوں پر مشتمل ہے جو فرد اور معاشرے کی اصلاح کو زندگی کا مشن سمجھتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ معاشرہ کی تربیت واصلاح کیلئے فی الوقت اس طرح کے جرائد کی اشد ضرورت ہے۔ ماہنامہ دعوت دین کے ایڈیٹر محمد سہیل ہاشمی ہیں وہ اس بات کا عزم رکھتے ہیں کہ آنے والے وقت میں ’’ ماہنامہ دعوت دین معاشرہ کی اصلاح کیلئے مینارہ نور ثابت ہوگا ۔بات یہ ہے کہ فی الوقت ہمارا معاشرہ فکری انتشار کا شکار ہے ، نوجوان نسل کا رابطہ َ کتاب سے تقریباََ ختم ہوتا جار ہا ہے اور اس کی تمام تر توجہ کا مرکز سوشل میڈیا ہے ۔ ان حالات میں ایسی تربیتی اور اصلاحی کتب اور جرائد کی بے حد ضرورت ہے جو نوجوان نسل کو دین کے ساتھ جوڑیں ، انھیں مقصد ِ زندگی کو سمجھنے میں مدد فراہم کریں ، معاشرہ اور فرد کی اصلاح میں اپنا کردار ادا کریں ۔’’ مجلہ دعوت دین ‘‘ اسی سلسلہ کی کڑی ہے ۔ یہ مجلہ ظاہری اعتبار سے جتنا خوبصورت ہے معنوی اور مضامین کے اعتبار سے اس بھی کہیں زیادہ خوبصورت ،جاذب نظر اور دلکش ہے ۔ آرٹ پیپر 4کلر ٹائٹل بہت ہی خوبصورت ہے جو فوراََ ہی قاری کی توجہ اپنی طرف مبذول کرلیتا ہے ۔ جبکہ ہر شمارے میں مضامین کا انتخاب اتنا عمدہ ہوتا ہے کہ قاری انھیں پڑھے بغیر خود کو تشنہ محسوس کرتا ہے ۔ سرورق کا اندرونی صفحہ معاشرتی مسائل ومعاملات کی اصلاح وتربیت کیلئے مختص ہے۔سیاست ، حالات حاضرہ ، دین ودنیا ، روزمرہ زندگی میں پیش آمدہ مسائل کا حل قرآن وسنت کی روشنی میں ۔۔۔میگزین کے خصوصی موضوعات ہیں ۔

    میگزین کے چار صفحات قرآن مجیدکی تفسیر اوردو صفحات مستقل درس حدیث کیلئے مختص ہیں ۔دو صفحات روز مرہ زندگی میں پیش آمدہ مسائل اور استفسارت کیلئے مختص ہیں ۔ زیر تبصرہ میگزین درس قرآن اور درس حدیث کے علاوہ درج ذیل مضامین پر مشتمل ہے : دعوت دین اور سیرت خاتم النبین ﷺ ، تاجدار ختم نبوت ﷺ کی سیاست وسیرت ، ختم نبوت اور قادیانی ٹولے کے عزائم ، تحریک ختم نبوت اور ڈاکٹر بہائوالدین ، تحریک ختم نبوت میں علمائے اہلحدیث ملتان کا کردار ، غیر مسلموں کا قبول اسلام ڈرائونا خواب کیوں ۔۔۔؟ میگزین میں ’’ آئینہ مرزائیت ‘‘ کے نام سے ایک تاریخی اور معلوماتی انٹرویو بھی شامل ہے ۔یہ انٹرویو سابق سٹوڈنٹ لیڈر ڈاکٹر میاں احسان باری مرحوم کا ہے ۔ میاں احسان باری اپنے وقت کے دبنگ اور نہایت ہی بہادر طالب علم رہنما تھے ۔ ان کا تعلق ملتان سے تھا ۔ان کی ساری زندگی ختم نبوت کی چوکھٹ کی پاسداری کرتے گزری وہ پابند سلاسل بھی ہوئے لیکن کوئی سی بھی صعوبت ان کے پائے استقلال میں لغزش پیدا نہ کرسکی ۔ جاوید ہاشمی اور شیخ رشید جیسے طالب علم رہنما میاں احسان باری کو سیاست میں اپنا استاد مانتے تھے۔23مئی 1974ء کو نشتر میڈیکل کالج ملتان سے سوات جانے والے طلبہ کے قافلے میں میاں احسان باری بھی طالب علم رہنما کے طور پر شامل تھے ۔ طلبہ کے اسی قافلے کو واپسی پر ربوہ ریلوے سٹیشن پر قادیانیوں نے تشدد کا نشانہ بنایا ۔ اور پھر اسی ظلم کے نتیجہ میں قادیانی غیر مسلم اقلیت قرار پائے ۔ یہ تفصیل بتانے کا مقصد یہ ہے تاکہ قارئین جان سکیں کہ ڈاکٹر میاں احسان باری تحریک ختم نبوت کے روح رواں تھے اور اس ضمن میں رونما ہونے والے تمام حالات وواقعات کے عینی شاہد تھے۔ ڈاکٹر احسان باری کا یہ انٹرویو حرف حرف انکشاف اور معلومات افزاء ہے جو عقیدہ ختم نبوت کی چوکھٹ کی چوکیداری کرنے والوں کیلئے خاص تحفہ ہے ۔یہ چونکہ دعوتی اور اصلاحی میگزین ہے اسلئے اس کی قیمت صرف 100روپے فی شمارہ رکھی گئی ہے تا کہ ہر آدمی باآسانی اس سے استفادہ کرسکے۔ جو احباب میگزین حاصل کرنا چاہئیں وہ درج ذیل فون نمبر0305-4033965اور 0310-2334595 پر رابطہ کرسکتے ہیں

  • عوامی حقوق کی پامالی میں اشرافیہ کا کردار

    عوامی حقوق کی پامالی میں اشرافیہ کا کردار

    عوامی حقوق کی پامالی میں اشرافیہ کا کردار

    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفی بڈانی
    دو قومی نظریہ کی بنیاد اس تصور پر رکھی گئی تھی کہ مسلمان ایک علیحدہ قوم ہیں جن کا مذہب، ثقافت اور طرزِ زندگی ہندوؤں سے مختلف ہے۔ اسی بنیاد پر برصغیر کے مسلمانوں کو ایک علیحدہ ریاست کی ضرورت تھی جہاں وہ اپنی زندگی اسلامی اصولوں کے مطابق گزار سکیں اور سماجی انصاف، مساوی مواقع اور عوامی فلاح کو یقینی بنایا جا سکے۔ تاہم قیام پاکستان کے بعد جو سیاسی، سماجی اور معاشی حالات سامنے آئے وہ اس نظریے کی روح سے متصادم دکھائی دیتے ہیں۔

    پاکستان میں ایلیٹ کلاس کی اجارہ داری نے تعلیم اور صحت جیسے عوامی حقوق کو محدود کرکے طبقاتی خلیج کو مزید بڑھا دیا ہے۔ پاکستان کا قیام صرف ایک خطہ زمین کے حصول کے لیے نہیں تھا بلکہ یہ ایک ایسی ریاست کا خواب تھا جہاں تمام شہریوں کے لیے مساوی مواقع ہوں اور معاشرتی تفریق نہ ہو۔ مگر آج کے پاکستان میں تعلیم اور صحت جیسے بنیادی شعبوں میں اشرافیہ کا غلبہ اس نظریے کی نفی کرتا ہے۔ وسائل اور مواقع پر صرف ایلیٹ طبقے کا اختیار ہے جب کہ غریب عوام کو ان سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ حکومت اور اشرافیہ کے ذاتی مفادات نے عوامی مسائل کو نظرانداز کر دیا ہے۔

    ریاستی وسائل اور پالیسیوں پر مسلسل قبضے کے باعث ریاستی اداروں کو دانستہ طور پر کمزور کیا جا رہا ہے۔ عوامی فلاح کے بجائے نجی مفادات کو ترجیح دی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے عام شہری تعلیم اور صحت جیسے بنیادی حقوق سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ پاکستان میں سرکاری تعلیمی نظام غریب طبقے کے لیے معیاری تعلیم کا ایک اہم ذریعہ تھا لیکن حالیہ برسوں میں پنجاب ایجوکیشن فانڈیشن (PEF) اور پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت تعلیمی اداروں کو نجی شعبے کے حوالے کر دیا گیا۔ اس عمل کے نتیجے میں تعلیمی معیار زوال کا شکار ہوا ہے۔ نجکاری کے بعد مڈل اور میٹرک پاس اساتذہ کو کم تنخواہوں پر بھرتی کیا گیا، جس سے تعلیم کا معیار متاثر ہوا۔ مزید برآں پرائیویٹ سکولوں کی بھاری فیسوں اور اضافی اخراجات نے غریب عوام کے بچوں کے لیے معیاری تعلیم کا حصول ناممکن بنا دیا۔

    ایک حالیہ سروے کے مطابق نجی سکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبا کی تعداد میں صرف 20% اضافہ ہوا ہے جبکہ سرکاری سکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبا کی تعداد میں 80% کمی ہوئی ہے۔ سرکاری اساتذہ کی نوکریاں بھی غیر محفوظ ہو گئی ہیں اور ان کی جگہ ناتجربہ کار عملے کو بھرتی کیا جانے لگا جس سے تعلیم کے معیار کو مزید کمزور کیا گیا۔

    تعلیم کے بعد صحت کا شعبہ بھی اشرافیہ کے ذاتی مفادات کا شکار ہو چکا ہے۔ دیہی اور بنیادی مراکز صحت (BHU) کو "آؤٹ سورس” کے نام پر نجی کمپنیوں کے حوالے کیا جا رہا ہے، جس سے عوام کے لیے طبی سہولیات مزید محدود ہو گئی ہیں۔ نجکاری کے بعد علاج کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے اور مفت علاج کی سہولت کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ دیہی علاقوں میں جہاں پہلے ہی طبی سہولیات ناکافی تھیں، نجی انتظامیہ کی آمد نے حالات کو مزید خراب کر دیا ہے۔ تربیت یافتہ طبی عملے کی کمی کے باعث صحت کے مراکز میں خدمات کا معیار متاثر ہوا ہے اور غریب مریضوں کے لیے علاج کی سہولتیں مزید مہنگی ہو گئی ہیں۔

    پاکستان میں سماجی انصاف اور مساوی مواقع کا نظریہ اشرافیہ نے مسخ کر دیا ہے۔ وسائل اور مواقع کی غیر منصفانہ تقسیم نے تعلیم اور صحت جیسے بنیادی شعبوں کو اشرافیہ کے لیے سہل اور عوام کے لیے مشکل بنا دیا ہے۔ ریاستی اداروں کی نجکاری کے ذریعے تعلیم اور صحت کے شعبوں کو منافع کا ذریعہ بنا لیا گیا ہے، جس سے عوامی حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔ حکومت اور ایلیٹ طبقہ عوام کے مسائل حل کرنے کے بجائے ذاتی مفادات اور منافع کے پیچھے بھاگ رہے ہیں جس کی وجہ سے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    پاکستان میں تعلیم اور صحت کے شعبوں کی نجکاری اور اشرافیہ کی اجارہ داری نے معاشرے میں سماجی ناانصافی کو فروغ دیا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف عوامی بدحالی کا سبب بن رہی ہے بلکہ پاکستان کے آئین میں دیئے گئے شہریوں کے بنیادی حقوق کی نفی بھی کر رہی ہے۔ اشرافیہ کی خودغرضی اور عوامی حقوق کی پامالی نے ملک کی ترقی کو رکاوٹ بنایا ہے۔ حکومت کو فوری طور پر اقدامات اٹھانے چاہئیں تاکہ عوام کو ان کے بنیادی حقوق فراہم کیے جا سکیں اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔

    عوامی حقوق کی بحالی اور انصاف کی فراہمی کے لیے ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے، جس میں تعلیم اور صحت کے شعبوں کو اصل مقصد کی طرف لوٹانے کی کوششیں شامل ہوں۔ اگر ہم واقعی ایک خوشحال اور ترقی یافتہ پاکستان کی طرف بڑھنا چاہتے ہیں تو ہمیں ہر ایک کو یکساں مواقع اور حقوق فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس نظریے کو صرف ایک سیاسی بیانیے تک محدود نہ رکھیں بلکہ اسے عملی زندگی میں لاگو کریں تاکہ پاکستان میں ہر شہری کو اس کے حقوق اور سہولیات مل سکیں۔

    اگر عوام کو ان کے بنیادی حقوق فراہم نہ کیے گئے اور تعلیم اور صحت کے شعبے کو اشرافیہ کے قبضے سے آزاد نہ کیا گیا تو سماجی تقسیم اور بدامنی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ حکومت کو فوری طور پر ان مسائل کے حل پر توجہ دینا ہوگی اور عوامی حقوق کی بحالی اور انصاف کی فراہمی کے لیے ایک جامع حکمت عملی بنانا پڑے گی۔ اس میں تعلیم اور صحت کے شعبوں کو اصل مقصد کی طرف لانا ہوگا اور اشرافیہ کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا۔

    پاکستان کو ایک فلاحی ریاست بنانے کے لیے بہت ضروری ہے کہ حکومت اور ایلیٹ کلاس اپنے ذاتی مفادات کو پسِ پشت ڈال کر عوامی فلاح کے لیے کام کریں۔ بصورت دیگر ملک میں سماجی تقسیم اور ناانصافی کا سلسلہ بڑھتا جائے گا اور پاکستان کا مستقبل کبھی بھی روشن اور تابناک نہیں ہوسکے گا۔