Baaghi TV

Category: بلاگ

  • جب خودداری ناگوار بن جائے،تحریر:صدف ابرار

    جب خودداری ناگوار بن جائے،تحریر:صدف ابرار

    زندگی میں ایک خاموش مگر فیصلہ کن لمحہ آتا ہے جب انسان کو یہ ادراک ہو جاتا ہے کہ بعض رشتے باہمی احترام پر نہیں بلکہ محض سہولت پر قائم ہوتے ہیں۔ میں نے خود کو بارہا ایسے تعلقات میں الجھا پایا جہاں میری خلوص نیت کو تو قبول کیا گیا، مگر میری شخصیت کو نہیں۔ میری کوششوں کو سراہا نہیں گیا، صرف استعمال کیا گیا، اور میرے بڑھنے، بہتر ہونے یا آگے بڑھنے کی کبھی حوصلہ افزائی نہیں کی گئی۔ ایسے ماحول میں اچھائی کی قدر نہیں ہوتی، اسے صرف برت لیا جاتا ہے۔

    میں ہمیشہ بہتر کرنے پر یقین رکھتی ہوں،پورے خلوص سے دینے، حالات کو سنوارنے اور دیانت داری کے ساتھ موجود رہنے پر۔ مگر وقت کے ساتھ یہ واضح ہوتا گیا کہ میری آمادگی کو میری کمزوری سمجھ لیا گیا۔ جو میں نے خوش دلی سے دیا، وہ شکرگزاری کے بغیر لے لیا گیا، اور جسے میں نے اپنی حدود کے ذریعے محفوظ کیا، اسے بغاوت سمجھا گیا۔ جس لمحے میں نے اپنی خودداری پر سمجھوتہ کرنے سے انکار کیا، اسی لمحے میری موجودگی اُن لوگوں کے لیے بے معنی ہونے لگی جو کبھی مجھ پر انحصار کرتے تھے۔

    یہ شعور اچانک پیدا نہیں ہوا، بلکہ مایوسی، خاموشی اور جذباتی فاصلے کی تہوں سے گزر کر سامنے آیا۔ میں نے ایک واضح نمونہ دیکھا، جب تک میں کسی مقصد کے کام آتی رہی، میں قابلِ قبول تھی۔ جیسے ہی میں نے خود کو منوانا چاہا،انکار کیا، انصاف مانگا یا برابری کی توقع رکھی میں مشکل، دور یا غیر ضروری بنا دی گئی۔ تب مجھے ایک تلخ حقیقت کا سامنا ہوا کچھ لوگ آپ کو انسان کے طور پر نہیں چاہتے، وہ آپ کو ایک ذریعے کے طور پر چاہتے ہیں۔

    خود کو سمجھنا انسان سے تمام خوش فہمیاں چھین لیتی ہے۔ یہ سکھاتی ہے کہ ہر کھو دینے والی چیز ناکامی نہیں ہوتی، اور ہر خاتمہ سزا نہیں ہوتا۔ اُن جگہوں سے نکل آنا جو آپ کو خالی کر دیں، خود غرضی نہیں بلکہ ضرورت ہے۔ میں نے سیکھا کہ وہ رشتے جو سچائی، حدود اور نشوونما کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے، وہ قائم رہنے کے لیے بنے ہی نہیں ہوتے۔ وہ اسی لمحے ٹوٹ جاتے ہیں جب آپ خود کو سمیٹنے سے انکار کر دیتے ہیں۔

    آج میں اپنی قدر کا تعین اپنی افادیت سے نہیں کرتی۔ میری اہمیت اس بات سے نہیں جانی جا سکتی کہ میں کتنا دیتی ہوں، کتنا سنبھالتی ہوں یا کتنا برداشت کرتی ہوں۔ میں سہولت بننے کے لیے نہیں، احترام کے لیے موجود ہوں۔ اور جو لوگ میری خودداری سے خوفزدہ ہوں، وہ دراصل میری خاموشی کے عادی تھے، میری موجودگی کے نہیں۔
    یہ شعور مجھے بدل چکی ہے۔ اب میں الجھن کے بجائے وضاحت، وابستگی کے بجائے وقار، اور قبولیت کے بجائے خودکے احترام کا انتخاب کرتی ہوں۔ مجھے اب اس بات کا خوف نہیں کہ وہ لوگ مجھے غلط سمجھیں جنہوں نے ہمیشہ مجھے غلط سمجھ کر فائدہ اٹھایا۔ بعض اوقات نشوونما فاصلے مانگتی ہے، اور طاقت اکثر چھوڑ دینے میں ہوتی ہے۔
    کیونکہ اب میں یہ جان چکی ہوں ،میں کبھی زیادہ نہیں مانگ رہی تھی،میں بس غلط لوگوں سے مانگ رہی تھی۔

  • "بسنت خونی کھیل ” تحریر: عائشہ اسحاق

    "بسنت خونی کھیل ” تحریر: عائشہ اسحاق

    حکومت پنجاب کی طرف سے پتنگ بازی پر عائد پابندی ہٹا کر بسنت منانے کا اعلان نہایت نا معقول فیصلہ ہے۔ بسنت کا اسلامی تہواروں سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔ وزیراعلی پنجاب مریم نواز کا اربوں روپے بسنت جیسے تہوار پر خرچ کرنے کا اعلان نہایت غلط ھے۔ اس کے علاوہ یہ بات کیسے فراموش کی جا سکتی ہے کہ پتنگ بازی جیسا قاتل شوق بہت سے خاندانوں کے چراغ گل کر چکا ہے۔ اتنی جلدی خون میں نہائے بچے اور افراد کو فراموش کر دیا گیا۔ فضول شرائط کے ساتھ ایسے قاتل کھیل کی اجازت دینا سراسر عوام دشمنی ہے۔ کیا آپ اس حقیقت سے نا واقف ہیں کہ پاکستان میں بااثرلوگ کس طرح سے قانون اور قواعدہ شرائط کی خلاف ورزیاں کر کے دندناتے پھرتے ہیں۔

    یہ مت بھولیے کہ ان شرائط کی خلاف ورزی پر جوتے اور جرمانے بھی صرف مڈل کلاس بے وقوف پتنگ باز ؤں کہ حصے میں ہی آئیں گے۔ کیونکہ بااثرلوگ قانون کو اپنے والدین کی میراث سمجھتے ہیں۔جہاں غریب کو روٹی میسر نہیں وہاں ایسے فضول اور خونی شوق پر اربوں روپے لگانا شرمناک ہے ۔افسوس اس بات پر بھی ہے کہ ایسے نامعقول اقدامات میں ہم عوام میں سے کئی پڑھے لکھے لوگ بھی شامل حال دکھائی دیتے ہیں۔

  • منفیّت ترقی کے راستے کی رکاوٹ ،تحریر:پارس کیانی

    منفیّت ترقی کے راستے کی رکاوٹ ،تحریر:پارس کیانی

    انسان کا ذہن، فطرتاً، ایک مقناطیسی نظام کی طرح ہے۔ یہ جس سمت میں سوچتا ہے، توانائی بھی اُسی طرف جذب کرتا ہے۔ مثبت سوچ ذہن کے اندر نئے امکانات کے دروازے کھولتی ہے، جبکہ منفیّت ہر راستے پر اندھیرا بچھا دیتی ہے۔ یہی منفیّت ہے جو ترقی کے سفر کو سست کر دیتی ہے، اور اکثر اوقات انسان کو اپنی ہی ناکامی کا ذمہ دار بنا دیتی ہے۔

    منفیّت دراصل ایک ذہنی کیفیت ہے جس میں انسان ہر بات کا تاریک پہلو دیکھتا ہے۔ کسی کی کامیابی پر حسد، کسی کی خوشی پر بدگمانی، کسی کی رائے پر اعتراض، یہ سب منفیّت کی شاخیں ہیں۔ ڈاکٹر جوزف مرے کے مطابق، “Negative thinking releases stress hormones that block creative and decision-making parts of the brain.” یعنی منفی سوچ دماغ میں ایسے کیمیائی مادّے پیدا کرتی ہے جو فیصلہ سازی اور تخلیقی عمل کو مفلوج کر دیتے ہیں۔

    سائنس دانوں نے ثابت کیا ہے کہ انسان کے دماغ میں ایک حصہ "Amygdala” کہلاتا ہے، جو خوف اور غصے کے جذبات کو کنٹرول کرتا ہے۔ جب کوئی شخص منفی انداز میں سوچتا ہے تو Amygdala مسلسل متحرک رہتا ہے، جس سے دماغ پر دباؤ بڑھتا ہے، اور انسان بے وجہ بددل، مایوس اور بدگمان ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس، مثبت سوچ "Prefrontal Cortex” کو متحرک کرتی ہے، جو منصوبہ بندی، امید اور تخلیق کی صلاحیتوں کو ابھارتی ہے۔ یوں مثبت سوچ دماغ میں روشنی پھیلاتی ہے اور انسان کے عمل میں توانائی پیدا کرتی ہے۔

    لیکن افسوس کہ ہمارے معاشرے میں منفیّت کو اکثر عقل مندی سمجھ لیا جاتا ہے۔ جو شخص ہر بات پر شک کرے، ہر کام میں نقص نکالے، اسے "حقیقت پسند” کہا جاتا ہے، حالانکہ وہ دراصل زندگی کی خوبصورتی سے کٹ چکا ہوتا ہے۔ اقبال نے کہا تھا:

    "عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
    یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے ”

    منفیّت خودی کی دشمن ہے۔ یہ انسان کے اندر سے اعتماد، جرات اور جوش چھین لیتی ہے۔ ایک منفی شخص اپنے لیے خود زہرِ قاتل ثابت ہوتا ہے، کیونکہ وہ ہر کامیابی سے پہلے ناکامی کا تصور کر لیتا ہے۔ وہ دوسروں پر الزام دھر کر خود کو بری سمجھتا ہے، مگر انجام میں تنہائی، مایوسی اور حسرت اس کا مقدر بن جاتی ہے۔
    معاشرتی سطح پر دیکھیں تو منفیّت قوموں کو بھی پیچھے دھکیل دیتی ہے۔ جب لوگ ایک دوسرے کی کامیابی میں رکاوٹ بننے لگیں، جب ہر نئی سوچ کا مذاق اڑایا جائے، جب ہر اچھے ارادے کو شک کی نظر سے دیکھا جائے تو ترقی رک جاتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں نے اپنی فکری توانائی کو حسد، بدگمانی اور نفرت میں ضائع کیا، وہ دنیا کے نقشے پر پیچھے رہ گئیں۔

    منفیّت ایک خاموش زہر ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم کسی دوسرے کے بارے میں برا سوچ رہے ہیں، لیکن دراصل ہم اپنے اندر زہر گھول رہے ہوتے ہیں۔ روحانی سطح پر بھی یہی حقیقت بیان ہوئی ہے کہ انسان جو توانائی دوسروں کی طرف بھیجتا ہے، وہ کسی نہ کسی صورت میں واپس خود اس کی طرف پلٹتی ہے۔ اس لیے جب ہم نفرت، حسد یا بدگمانی پھیلاتے ہیں تو دراصل اپنی ہی فضا کو آلودہ کر رہے ہوتے ہیں۔منفیّت کے خلاف سب سے مضبوط ہتھیار شکرگزاری اور خوش فہمی ہے۔ جو شخص شکر کرنا سیکھ لیتا ہے، وہ کبھی اندھیرے میں نہیں رہتا۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے:
    "لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ”
    "اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ عطا کروں گا۔”
    یعنی مثبت رویّہ نہ صرف روحانی ترقی کا ذریعہ ہے بلکہ عملی کامیابی کا بھی راز ہے۔

    آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ منفیّت ایک ایسا بوجھ ہے جسے کندھوں پر اٹھا کر چلنے والا کبھی منزل تک نہیں پہنچ سکتا۔ جو دل میں بدگمانی، حسد یا شک رکھتا ہے، وہ اپنے لیے رکاوٹیں پیدا کرتا ہے۔ اگر ہم اپنے ذہن کو صاف رکھیں، اپنی سوچ کو روشن بنائیں، اور دوسروں کی کامیابی میں خوشی محسوس کریں تو یقیناً ترقی کا سفر آسان ہو جائے گا۔زندگی کے سفر میں سب سے بڑی جیت یہی ہے کہ ہم منفیّت کو ہرا دیں, کیونکہ منفیّت کو شکست دینا، دراصل خود کو جیتنا ہے۔

  • لا تقولوا راعنا،عمران تنہا کا نعتیہ و منقبتیہ شاعری مجموعہ،تحریر: آمنہ خواجہ

    لا تقولوا راعنا،عمران تنہا کا نعتیہ و منقبتیہ شاعری مجموعہ،تحریر: آمنہ خواجہ

    عصرِ حاضر میں جب شاعری کی دنیا میں موضوعات کی فراوانی کے باوجود روحانی ادب نسبتاً کم ہوتا جا رہا ہے، ایسے میں عمران تنہا کا نعتیہ و منقبتیہ شاعری مجموعہ ایک خوشگوار اور بامعنی اضافہ ثابت ہوتا ہے۔ یہ مجموعہ محض اشعار کا مجموعہ نہیں بلکہ دل کی زمین پر اگنے والی وہ فصل ہے جو عشقِ رسول ﷺ اور اولیائے کرام و اہلِ بیت اطہار کی عقیدت سے سیراب ہے۔
    عمران تنہا کی شاعری کی سب سے بڑی خوبی اس کی سچائی اور سادگی ہے۔ ان کے ہاں نہ تصنع ہے، نہ لفظی نمائش، بلکہ ایک دردمند دل کی دھڑکن ہے جو ہر شعر میں سنائی دیتی ہے۔ نعتیہ کلام میں جہاں احترام ادب اور محبت بنیادی شرط ہوتے ہیں، وہاں عمران تنہا اس نازک دائرے کو بڑی مہارت سے نبھاتے نظر آتے ہیں۔ ان کے اشعار میں حضور نبی کریم ﷺ سے والہانہ وابستگی بھی ہے اور عاجزی و انکسار بھی، جو قاری کے دل کو بے اختیار جھکا دیتی ہے۔

    منقبتیہ شاعری میں عمران تنہا نے اہلِ بیت صحابہ کرام اور اولیائے اللہ کی سیرت و کردار کو محض تاریخی حوالوں تک محدود نہیں رکھا بلکہ انہیں موجودہ دور کے انسان سے جوڑ دیا ہے۔ ان کی منقبتیں ہمیں یہ احساس دلاتی ہیں کہ یہ عظیم ہستیاں صرف ماضی کا روشن باب نہیں بلکہ آج بھی ہمارے فکری اخلاقی اور روحانی رہنما ہیں۔ شاعر کا کمال یہ ہے کہ وہ عقیدت کو جذباتی شور میں بدلنے کے بجائے فہم و شعور کی روشنی میں پیش کرتا ہے۔
    فنی اعتبار سے دیکھا جائے تو عمران تنہا کی شاعری بحر، وزن اور ردیف و قافیہ کے حسن سے آراستہ ہے۔ ان کی زبان شستہ رواں اور عام فہم ہے، جس کی بدولت یہ کلام خواص کے ساتھ ساتھ عوام کے دلوں تک بھی آسانی سے پہنچتا ہے۔ تشبیہات اور استعارات میں بھی ایک پاکیزگی اور وقار نظر آتا ہے جو نعتیہ و منقبتیہ شاعری کے مزاج کے عین مطابق ہے۔

    اس مجموعے کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ یہ قاری کو صرف پڑھنے پر مجبور نہیں کرتا بلکہ سوچنے، رکنے اور خود احتسابی پر آمادہ کرتا ہے۔ ہر نعت اور ہر منقبت ایک خاموش سوال کی طرح سامنے آتی ہے کہ ہم اپنے قول و فعل میں کس حد تک ان ہستیوں کی تعلیمات کو اپنائے ہوئے ہیں جن سے ہم محبت کا دعویٰ کرتے ہیں۔
    اخباری سطح پر اس مجموعے کی اہمیت اس لیے بھی دوچند ہو جاتی ہے کہ یہ ادب اور عقیدت کے اس حسین امتزاج کی نمائندگی کرتا ہے جس کی ہمارے معاشرے کو آج شدید ضرورت ہے۔ عمران تنہا کا یہ نعتیہ و منقبتیہ مجموعہ نئی نسل کو روحانی شاعری سے جوڑنے کی ایک سنجیدہ اور قابلِ قدر کوشش ہے۔

    بلا شبہ عمران تنہا نے اس مجموعے کے ذریعے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اگر نیت میں خلوص اور دل میں سچی محبت ہو تو لفظ خود بخود معتبر ہو جاتے ہیں۔ یہ مجموعہ نعت و منقبت کے شائقین کے لیے ایک قیمتی تحفہ ہے اور اردو روحانی شاعری کے سفر میں ایک روشن سنگِ میل کی حیثیت رکھتاہے

  • ایک پھول دو مالی___رقیب سے حبیب تک ،تحریر: ریاض احمد احسان

    ایک پھول دو مالی___رقیب سے حبیب تک ،تحریر: ریاض احمد احسان

    محبت کے لغت نامے میں ایک لفظ "رقیب” ہے جو صدیوں سے غلط فہمی کی گرد میں اٹا پڑا ہے ہم نے اسے دشمن سمجھ لیا، مخالف مان لیا اور بدخواہ قرار دے دیا حالانکہ محبت کے باب میں رقیب دشمن،مخالف یا بدخواہ نہیں ہوتا بلکہ وہ تو محبت کے کمرے میں رکھا وہ آئینہ ہے جس میں حبیب کا چہرہ اور زیادہ واضح ہو جاتا ہے۔رقیب وہ نہیں جو بیچ میں آ کر محبت چھین لے،قبضہ جما لے یا کانٹے کی طرح آنکھ میں کھٹکنے لگے-آپ پہلے محبت کے لفظ کو سمجھیں پھر معانی و مفہوم میں اتریں تو آپ پرکُھلے گا کہ محبت کسی ایک دل کی جاگیر نہیں یہ تو وہ روشنی ہے جو ایک سے زیادہ آنکھوں میں بیک وقت اُتر سکتی ہے،ایک سے زیادہ دلوں کا قرار بن سکتی ہے.

    ہم نے محبت کو ملکیت بنا دیا ہے اسی لیے رقیب ہمیں چبھتا بھی ہے اور ڈنک بھی مارتا رہتا ہے ہم سمجھتے ہیں کہ جسے ہم نے چاہ لیا اب اس پر صرف ہمارا حق ہے حالانکہ محبت حق سے زیادہ ذمہ داری ہے، دعویٰ ہی نہیں دعا بھی ہے اگر محبت کو احساس، احترام اور خیرخواہی کا نام دے دیا جائے تو رقیب کا تصور خود بخود تحلیل ہو جاتا ہے۔محبت میں رقیب کا ہونا دراصل محبت کے دلچسب ہونے کی علامت ہے جہاں چاہت نہ ہو وہاں مقابلہ کیسا؟ جہاں دل نہ دھڑکے وہاں حسد کیسا؟ رقیب دراصل اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ جسے ہم چاہتے ہیں وہ واقعی چاہے جانے کے لائق ہے،سراہے جانے کے قابل ہے محبت میں فلسفہ ہمیں یہی تو سکھاتا ہے کہ قدر ہمیشہ اشتراک سے جنم لیتی ہے جو چیز صرف ایک آنکھ کو بھائے وہ ذاتی پسند ہو سکتی ہے لیکن جو کئی دلوں کو اپنی طرف کھینچے وہ قدر بن جاتی ہے بالکل ایسے ہی جیسے ایک خوب صورت نظم اگر صرف ایک ہی شخص کو سمجھ آئے تو وہ ذاتی تجربہ یا ذاتی واردات ہے لیکن وہی نظم اگر کئی دلوں میں اتر جائے تو وہ ادب بن جاتی ہے۔حبیب اگر بیک وقت کئی دلوں میں جگہ بنا لے تو یہ اس کی غلطی نہیں بلکہ حسن ہے اور رقیب؟ وہ تو اسی حسن کا قاری ہے، اسی نظم کا دوسرا سامع ہے،قدردان ہے.

    رقیب ہونا دراصل ہم خیالی کا دوسرا نام ہے دو دل اگر ایک ہی دل سے قرار پائیں تو اس میں دشمنی کہاں سے آ گئی؟ یہ تو ہم ذوق ہونا ہے،ہم آہنگی ہے یہ تو احساس کی یکسانیت ہے۔ رقیب وہ شخص ہے جو آپ ہی کی طرح کسی چہرے میں زندگی تلاش کر رہا ہے فرق صرف اتنا ہے کہ آپ اسے حبیب کہتے ہیں اور وہ بھی—بس راستے جدا ہیں، نیت نہیں،محبت کی سب سے حسین صفت برداشت ہے وہ محبت جو فوراً غیرت کی تلوار اٹھا لے وہ محبت تو نہیں ہوسکتی محبت کے باب میں سچا عاشق وہ ہے جو یہ جانتا ہو کہ اگر اس کا محبوب واقعی قیمتی ہے تو اس کی قدر صرف اسے ہی کیوں محسوس ہو؟

    محبت میں حبیب وہ نہیں ہوتا جو مل جائے،میسر آجائے یا دسترس میں ہی رہے بلکہ حبیب وہ ہوتا ہے جو دل کا حال بہتر بنا دے جو آپ کو ظرف سکھا دے، برداشت سکھا دے،ایثار کرنے کا جذبہ آپکے اندر پیدا کردے اور یہ شعور دے کہ چاہنا قربانی کا نام ہے قبضے کا نہیں کئی بار زندگی میں ایسا ہوتا ہے کہ محبوب کسی اور کے حصے میں چلا جاتا ہے لیکن اس کے جانے کے بعد جو ٹھہراؤ، جو دانائی، جو وسعت آپ کے قلب و نگاہ میں آتی ہے وہی تو اصل ثمر ہوتا ہے یوں کوئی ایک انسان نہیں بلکہ ایک تجربہ حبیب بن جاتا ہے،ہم نے کہانیوں میں،واقعات میں اور ادب میں ہمیشہ رقیب کو ولن بنا کر پیش کیا دراصل رقیب محبت کا کمرہ امتحان ہوتا ہےرقیب کے احسانات میں ایک احسان یہ بھی ہے کہ رقیب ہمیں یہ غور و فکر کرنے کی دعوت بھی دیتا ہے کہ ہماری چاہت انا پر کھڑی ہے یا خلوص پر اگر انا ہو تو حسد جنم لیتا ہے اگر خلوص ہو تو وجود دعا میں ڈھل جاتا ہے بھلا جو شخص آپ کے محبوب کی خوشی چاہے، وہ آپکا دشمن کیسے ہو سکتا ہے،اسورج ایک ہے لیکن اس کی روشنی ہزاروں کھڑکیوں سے اندر آتی ہے کیا ایک کھڑکی دوسری کی دشمن ہے؟ نہیں، سب روشنی کے استقبال میں برابر رہا سرشار ہوتی ہیں محبوب اگر سورج ہے تو چاہنے والی کھڑکیاں ہیں۔ رقیب کوئی اور نہیں بس ایک اور کھڑکی ہے روشنی اس کی بھی وہی ہے اور آپ کی بھی.

    محبت کا اعلیٰ ترین درجہ یہ ہے کہ آپ حبیب کو آزاد چھوڑ دیں۔اس کی مسکراہٹ پر پہرا نہ بٹھائیں،اس کے انتخاب کو قید نہ کریں۔محبت اگر سمندر ہے تو رقیب ایک دریا ہے جو اسی میں آن ملتا ہے سمندر چھوٹا نہیں ہوتا،آپ دریا گناہ گار نہ ٹھہرائیں
    جس لمحے آپ یہ سوچنے لگیں کہ
    “اگر وہ میرا نہ ہوا تو کسی اور کا بھی نہ ہو”
    اسی لمحے محبت کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ آپ بس اتنا سمجھ لیں کہ محبت زندگی بانٹتی ہے، موت نہیں اگر آپ واقعی کسی کو چاہتے ہیں تو یہ بھی قبول کریں کہ شاید اس کی خوشی کسی اور راستے پر لکھی ہو یہی محبت میں ایثار ہے
    رقیب کو دشمن سمجھنے والے دراصل محبت کو کم سمجھتے ہیں۔محبت اتنی ناتواں نہیں کہ ایک تیسرے کی آمد سے بکھر جائے اگر بکھر جائے تو مان لیجیے وہ محبت نہیں تھی وہ تو فقط عادتوں کی ورزش تھی یا خود پسندی کی ایک مصنوعی شکل و صورت محبت تو وہ ہے جو رقیب کے وجود میں بھی اپنی شرافت برقرار رکھے،اپنی زبان میں تلخی نہ آنے دے اور اپنے رویّے میں وقار قائم رکھے

    یہ سب لفظوں کی قلعی نہیں نہ کسی منطق کا کرتب ہے یہ میری زندگی کی کمائی ہے، میرے زخموں کی روشنائی ہے، میرے ٹوٹنے سے جنم لینے والی دانائی ہے میں نے رقیب کو کتابوں میں نہیں اپنے دل کے آئینے میں پڑھا ہے۔میں نے اپنے نصیب کے رقیب کو پہچانا اور تسلیم کیا،اُس کے روبرو میری انا ہمیشہ خاموش رہی اور خیر خواہی بولتی چلی گئی.

    دوستو!میرا رقیب میرا حبیب ہے،میرا طبیب ہے، میرا معلّم ہے، میرا مُصلِح ہے، میرا مربّی ہے، میرا ہم ذوق ہے، میرا مرشد ہے، میرا مونس ہے، میرا محرم ہے، میرا معتبر ہے، میرا منصف ہے، میرا مفسّر ہے، میرا محافظِ وقار ہے، میرا مظہرِ برداشت ہے، میری میزانِ محبت ہے،میرا رقیب میرے مقام و مرتبے کو گھٹاتا نہیں، بڑھاتا ہے وہ میری محبت کو کمزور نہیں کامل بناتا ہے .میرا رقیب کل بھی میرا حبیب تھا،آج بھی میرا حبیب ہے اور آئندہ بھی میرا حبیب ہی رہے گا کہ ہم دونوں ایک ہی پھول کے دو مالی ہیں

    ہماری باہمی محبت کا یہ عالم ہے کہ ہم دونوں ایک دوسرے کے حق میں ہزاروں بار دستبردار ہو سکتے ہیں
    وہ شہرِ خموشاں میں جا بسا اور میں اُس کی نشانیوں کو گلے سے لگائے محبت کے مزار سے کیا عہد نبھا رہا ہوں

  • سچ کی جیت باغی ٹی وی کے 14 سال اور حرفِ حق کا اعزاز،تحریر  :  قمرشہزاد مغل

    سچ کی جیت باغی ٹی وی کے 14 سال اور حرفِ حق کا اعزاز،تحریر : قمرشہزاد مغل

    تندیِ بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
    یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے

    صحافت کے لبادے میں چھپی مصلحتوں، ایوانوں کی غلامی اور ضمیر فروش سوداگروں کے اس دور میں جہاں حق بولنا خودکشی تصور کیا جاتا ہے، وہاں کچھ نام ایسے بھی ہیں جنہوں نے مقتل میں بھی سچ بولنے کی قسم کھا رکھی ہے۔ اگر ان ناموں کی فہرست بنائی جائے تو سب سے پہلا اور معتبر نام مبشر لقمان صاحب کا آتا ہے۔ وہ شخص جس نے صحافت کو ڈرائنگ رومز کی عیاشی سے نکال کر سچائی کے اس کٹھن میدان میں لا کھڑا کیا جہاں ہر قدم پر خطرات کی بارودی سرنگیں بچھی ہیں۔ باغی ٹی وی محض ایک میڈیا پلیٹ فارم نہیں، بلکہ ایک سوچ ہے، ایک ایسی سوچ جو وقت کے فرعونوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سوال کرنا جانتی ہے۔ آج جب اس ادارے نے اپنے سفر کے 14 سال مکمل کیے ہیں صحافت کی دنیا میں سچ اور جرات مندی کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ جب کوئی فرد یا ادارہ ان اصولوں پر قائم رہتا ہے تو وہ معاشرے میں ایک خاص مقام حاصل کر لیتا ہے۔ مبشر لقمان صاحب اور ان کا ادارہ باغی ٹی وی بھی اسی راستے پر گامزن ہیں۔ حقائق کو بے باکی سے پیش کرنا اور ہر حال میں سچائی کا ساتھ دینا ان کی پہچان بن چکا ہے۔ اس کٹھن سفر میں ممتاز اعوان صاحب کا کردار بھی کسی ستون سے کم نہیں۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ انھوں نے کس طرح دن رات ایک کر کے اس ادارے کی آبیاری کی ہے۔ ان کی محنت، لگن اور مخلصانہ جدوجہد نے باغی ٹی وی کو وہ وقار بخشا ہے کہ آج یہ ادارہ حق گوئی کا استعارہ بن چکا ہے۔ یہ معروف تجزیہ نگار شہزاد قریشی اور ممتاز اعوان ہی کی بصیرت ہے جہنوں نے مجھے اس باغی کارواں کا حصہ بنایا اور سچائی کی اس جنگ میں اپنا حصہ ڈالنے کا حوصلہ دیا۔ میرے لیے یہ لمحہ کسی بڑے اعزاز سے کم نہیں کہ باغی ٹی وی اور مبشر لقمان صاحب کی جانب سے میری صحافتی خدمات کے اعتراف میں مجھے تعریفی سند سے نوازا گیا ہے۔ میرے نزدیک یہ کاغذ کا محض ایک ٹکڑا نہیں، بلکہ ایک اعلانِ جنگ ہے ان باطل قوتوں کے خلاف جو صحافت کو دبانے کی کوشش کرتی ہیں۔
    بقول شاعر!
    میں نے مانا کہ اندھیرا ہے بہت چاروں طرف
    پر دیا ایک جلانا تو مرا کام ہے نا

    جب مبشر لقمان جیسے نڈر انسان اور باغی ٹی وی جیسے معتبر ادارے کی مہر آپ کے کام پر لگ جائے، تو ذمہ داری کا بوجھ مزید بڑھ جاتا ہے۔ یہ سند اس بات کی گواہی ہے کہ ہم اس ٹیم کا حصہ ہیں جو بکنے کے لیے نہیں، بلکہ حقائق کو ننگا کرنے کے لیے میدان میں اتری ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ سچ بولنا خطرناک ہے، میں کہتا ہوں کہ سچ بولنے کی قیمت چکانا اگر جرم ہے، تو ہم یہ جرم بار بار کریں گے۔ باغی ٹی وی کی 14 سالہ تاریخ گواہ ہے کہ ہم نے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا اور نہ ہی مستقبل میں کریں گے۔ مبارکباد کے مستحق ہیں مبشر لقمان، ممتاز اعوان اور وہ پوری ٹیم جو باغی کہلانے میں فخر محسوس کرتی ہے۔ ہمیں فخر ہے کہ ہم اس ادارے کے سپاہی ہیں جہاں قلم کی نوک پر سچ ناچتا ہے اور جہاں ضمیر کی آواز پر پہرے نہیں بٹھائے جاتے۔ حق اور سچ کا یہ سفر جاری رہے گا، کیونکہ باغی ابھی زندہ ہے اور اس کی للکار ایوانوں میں گونجتی رہے گی
    شعر
    جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے
    یہ جان تو آنی جانی ہے، اس جاں کی تو کوئی بات نہیں

  • زمیندار کیوں ڈوب رہا ہے؟

    زمیندار کیوں ڈوب رہا ہے؟

    زمیندار کیوں ڈوب رہا ہے؟
    تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ
    پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں دنیا کے تمام موسموں سے نوازا ہوا ہے، مگر نعمتوں کا شکرانہ بھی تو ادا کرنا ہوتا ہے، جو بدقسمتی سے ہم ادا نہیں کر پا رہے۔

    موجودہ دور میں، جہاں دنیا تیزی سے ترقی کر رہی ہے، ہم زراعت کے حوالے سے مسلسل پیچھے کی طرف جا رہے ہیں، یعنی ہم نے تنزلی کا راستہ اختیار کر رکھا ہے۔ اس کی شرمناک مثالیں چینی کا بحران، کپاس کی پیداوار کا نہ ہونا اور گندم کو دوسرے ممالک سے منگوانا ہیں۔ یہ وہ تمام مثالیں ہیں جو ہمیں شرم سے سر جھکانے پر مجبور کر دیتی ہیں۔ آج ہم یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ آخر یہ سب کیوں ہو رہا ہے اور اس کے ذمہ دار کون ہیں۔

    یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جس ملک کی بنیاد زراعت پر رکھی گئی تھی، آج اسی ملک کا زمیندار خاموشی سے ڈوب رہا ہے۔ وہ زمیندار جو کبھی خوشحالی، خود کفالت اور وقار کی علامت سمجھا جاتا تھا، آج قرض، بے بسی اور مایوسی کی تصویر بن چکا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ زمیندار کو نقصان ہو رہا ہے، اصل سوال یہ ہے کہ وہ مسلسل کیوں ڈوب رہا ہے۔

    زمیندار کی سب سے بڑی مشکل بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت ہے۔ کھاد، بیج، زرعی ادویات، ڈیزل، بجلی اور ٹیوب ویل کے اخراجات دن بدن بڑھتے جا رہے ہیں۔ ایک طرف زرعی مداخل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، تو دوسری طرف زمیندار کو اپنی فصل کا مناسب معاوضہ نہیں ملتا۔ جب فصل تیار ہو جاتی ہے تو منڈی میں اسے اس کی محنت کے مطابق قیمت نہیں دی جاتی۔ آڑھتی اور مڈل مین زیادہ منافع سمیٹ لیتے ہیں، جبکہ اصل پیدا کرنے والا ہاتھ ملتا رہ جاتا ہے۔

    حکومتی سطح پر امدادی قیمتوں کے اعلانات تو ہوتے ہیں، مگر ان پر مؤثر عملدرآمد نظر نہیں آتا۔ زرعی پالیسیوں میں تسلسل کا فقدان ہے۔ ہر آنے والی حکومت نئی پالیسیاں بناتی ہے، مگر زمینی حقائق پر عملدرآمد کا کوئی واضح نظام موجود نہیں۔ زمیندار کو نہ بروقت رہنمائی ملتی ہے اور نہ ہی جدید زرعی ٹیکنالوجی تک آسان رسائی حاصل ہوتی ہے۔

    موسمیاتی تبدیلیوں نے بھی زراعت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ کبھی شدید بارشیں، کبھی قحط سالی اور کبھی غیر متوقع موسم فصلوں کو تباہ کر دیتا ہے، مگر ان نقصانات کے ازالے کے لیے کوئی مؤثر نظام موجود نہیں۔ نتیجتاً زمیندار قرض کے بوجھ تلے دب جاتا ہے۔ بینکوں، نجی ساہوکاروں اور آڑھتیوں سے لیے گئے قرضے اس کی کمر توڑ دیتے ہیں۔ ایک وقت آتا ہے کہ زمیندار اپنی زمین بیچنے پر مجبور ہو جاتا ہے، اور یوں وہ آہستہ آہستہ زراعت جیسے بنیادی شعبے سے ہی باہر ہو جاتا ہے۔

    اگر پاکستان کو واقعی ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے تو زراعت کو اولین ترجیح دینا ہو گی۔ زمیندار کو سستی کھاد، معیاری بیج، مناسب امدادی قیمت، آسان قرضے اور جدید ٹیکنالوجی فراہم کرنا ہو گی۔ جب تک زمیندار مضبوط نہیں ہوگا، ملک خود کفیل نہیں ہو سکتا۔

    کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ جب زمیندار ڈوبتا ہے تو صرف ایک فرد نہیں، پوری معیشت ڈوبتی ہے۔

  • باغی ٹی وی،مبشر لقمان اور سچ کی قیمت،تحریر:رقیہ غزل

    باغی ٹی وی،مبشر لقمان اور سچ کی قیمت،تحریر:رقیہ غزل

    جناب مبشر لقمان پاکستانی صحافت کا وہ چہرہ ہیں جنہوں نے ہمیشہ سچائی کو اپنا شعار بنایا اور ہر حال میں حق کا ساتھ دیا۔ ان کی سب سے بڑی پہچان ان کی بے باکی ہے اور ان کا ادارہ "باغی ٹی وی” (Baaghi TV) اسی سوچ کا عملی نمونہ ہے۔ وہ حقائق کو بغیر کسی لچک کے عوام کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ اگرچہ اسی کڑوی سچائی کی وجہ سے ایک طبقہ انہیں ناپسند بھی کرتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ لوگ ان کی اسی حق گوئی کی وجہ سے ان سے بے پناہ محبت کرتے ہیں۔ ان کے بارے میں اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ ان کا سب سے بڑا جرم یہی ہے کہ وہ سچ بولتے ہیں اور اسی سچ کی خاطر انہیں کئی بار بڑے نقصانات بھی اٹھانے پڑے مگر انہوں نے کبھی اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔

    ​باغی ٹی وی کے ساتھ میرا تعلق اور واسطہ خالصتاً ممتاز اعوان صاحب کی مرہونِ منت ہے۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ ممتاز اعوان صاحب اس ادارے کی ترقی کے لیے کس قدر محنت اور لگن سے کام کر رہے ہیں۔ مبشر لقمان صاحب کی جرات اور باغی ٹی وی کا منفرد انداز ہی وہ بنیادی وجہ تھی جس نے مجھے اس چینل کی طرف راغب کیا اور ممتاز اعوان صاحب نے اس تعلق کو ایک مضبوط بنیاد فراہم کی۔

    ​آج باغی ٹی وی کو 14 سال مکمل ہونے پر میں مبشر لقمان صاحب، ممتاز اعوان صاحب اور پوری ٹیم کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتی ہوں۔ میری دعا ہے کہ حق اور سچ کا یہ سفر اسی طرح کامیابی سے جاری رہے۔
    ​میں مبشر لقمان صاحب اور ممتاز اعوان صاحب کی تہہ دل سے مشکور ہوں کہ انہوں نے میری صحافتی خدمات کو سراہا ۔۔میرے لیے یہ محض کوئی معمولی سند نہیں بلکہ ایک بہت بڑا اعزاز ہے جو مجھے مبشر لقمان صاحب جیسے نڈر انسان اور باغی ٹی وی جیسے معتبر ادارے کی طرف سے ملا ہے۔ میں ممتاز اعوان صاحب کا بھی خاص طور پر شکریہ ادا کرتی ہوں جن کی وجہ سے مجھے اس وقار اور سچ کا ساتھ دینے والی ٹیم کا حصہ بننے کا موقع ملا۔

  • باغی ٹی وی،امید کی کرن،تحریر:حافظ حمزہ سلمانی

    باغی ٹی وی،امید کی کرن،تحریر:حافظ حمزہ سلمانی

    12 جنوری وہ دن ہے جب پاکستانی میڈیا کے افق پر ایک ایسے چینل نے آنکھ کھولی، جس نے صحافت کو کاروبار نہیں بلکہ ذمہ داری سمجھا۔ باغی ٹی وی آج اپنی صحافتی جدوجہد کے 14 برس مکمل کر رہا ہے، اور یہ محض ایک عدد نہیں بلکہ سچ، حوصلے اور استقامت کی ایک طویل داستان ہے۔

    ایسے دور میں جب صحافت اکثر مفادات، اشتہارات اور دباؤ کے آگے جھکتی نظر آتی ہے، باغی ٹی وی نے ابتدا ہی سے ایک باغیانہ مگر اصولی راستہ اختیار کیا۔ یہ وہ پلیٹ فارم ہے جس نے سوال اٹھانے کی جرأت کی، طاقتور حلقوں کے سامنے سچ رکھا، اور عوام کی آواز بننے کا حق ادا کیا۔سینئر صحافی اور نڈر اینکر پرسن مبشر لقمان کی قیادت میں باغی ٹی وی نے خبر کو سنسنی نہیں بلکہ سچائی کے آئینے میں پیش کیا۔ ان کی صحافتی بصیرت اور بے لاگ انداز نے باغی ٹی وی کو محض ایک چینل نہیں بلکہ ایک فکری مزاحمت بنا دیا۔اسی طرح ممتاز اعوان جیسے باصلاحیت اور ذمہ دار ایڈیٹر کی موجودگی نے ادارتی سطح پر باغی ٹی وی کو مضبوط، متوازن اور باوقار رکھا۔

    باغی ٹی وی کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ یہاں خبر طاقت کے کہنے پر نہیں، ضمیر کے مطابق چلتی ہے۔ یہاں اختلافِ رائے کو دبایا نہیں جاتا بلکہ اسے جگہ دی جاتی ہے۔ یہاں صحافی کو ڈرایا نہیں جاتا بلکہ سچ بولنے کا حوصلہ دیا جاتا ہے۔یہ چینل اُن بے شمار نوجوان صحافیوں کے لیے امید کی کرن ہے جو اب بھی صحافت کو عبادت سمجھتے ہیں، نہ کہ سیڑھی۔ باغی ٹی وی نے ثابت کیا کہ اگر نیت صاف ہو تو محدود وسائل کے باوجود بھی بڑی بات کہی جا سکتی ہے۔

    14 برس مکمل ہونے پر باغی ٹی وی کی پوری ٹیم، قیادت، کارکنان اور ناظرین کو مبارکباد۔ دعا ہے کہ یہ پلیٹ فارم اسی طرح سچ بولتا رہے، سوال اٹھاتا رہے اور ہر دور کے فرعونوں کے سامنے کلمۂ حق کہتا رہے۔
    باغی ٹی وی زندہ رہے — کیونکہ سچ کو زندہ رہنا چاہیے۔

  • باغی ٹی وی کی 14 برس کی بہترین صحافتی خدمات،تحریر:رفعت شوکت کھرل

    باغی ٹی وی کی 14 برس کی بہترین صحافتی خدمات،تحریر:رفعت شوکت کھرل

    باغی ٹی وی کو صحافتی و سماجی کردار ادا کرنے پر مبارکباد پیش کرتی ہوں۔باغی ٹی وی کو صحافتی خدمات سر انجام دیتے ہوئے 14 برس ہو گئے ہیں۔ اس چینل کو فروغ دینے میں اہم شخصیات محترم مبشر لقمان صاحب اور ممتاز اعوان ایڈیٹر صاحب ہیں۔
    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان جو کہ باغی ٹی وی کے سی۔ای۔او ہیں، انہوں نے ذہنی و فکری صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے معاشرے میں اہم خدمات سر انجام دی ہیں۔ انہوں نے معاشرے میں ہونے والے حالات و واقعات کو اپنے قلم و فکری سوچ کے زریعے قلمبند کیا ہے۔ معاشرے میں انقلاب برپا کرنے کے لیے ذہنی مہارتوں کو نہایت خوش اسلوبی سے استعمال کیا ہے اور لکھاریوں کے لیے متحرک ثابت رہے ہیں۔ دوسری اہم شخصیت محترم ممتاز اعوان صاحب جو کہ اس چینل کے ایڈیٹر ہیں، وہ اس چینل کے لیے ریڑھ کی ہڈی کے طور پر مصروف رہے ہیں۔ وہ قدم بہ قدم عقلی و شعوری صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے تمام لکھاریوں کے لیے آسانی کا باعث بنے ہیں۔ ان کی ادبی و علمی خدمات اس بات کا ثبوت ہیں کہ باغی ٹی وی چینل ایک کامیابی کی راہ پر گامزن ہے۔

    میں باغی ٹی وی کی پوری تنظیم کو ادبی و ثقافتی اور مثبت خدمات سر انجام دینے پر مبارک باد پیش کرتی ہوں۔
    دعا ہے کہ یہ تنظیم یوں ہی کامیابی کی راہ پر گامزن رہے۔