Baaghi TV

Category: بلاگ

  • تبصرہ کتب:ماہنامہ دعوت دین

    تبصرہ کتب:ماہنامہ دعوت دین

    ماہنامہ دعوت دین ( سیرت تاجدار ختم نبوت ایڈیشن )
    زیر تبصرہ جریدہ ’’ماہنامہ دعوت دین ‘‘ کا سیرت تاجدار ختم نبوت ﷺ پر خصوصی شمارہ ہے ۔ جیسا کہ نام سے واضح ہے ’’ ماہنامہ دعوت دین ‘‘ فرقہ واریت سے پاک تبلیغی ، اصلاحی ، تربیتی اور دعوتی میگزین ہے ۔’’ ماہنامہ دعوت دین ‘‘ کی ادارتی ٹیم تجربہ کار ، نظریاتی اور فکری لکھاریوں پر مشتمل ہے جو فرد اور معاشرے کی اصلاح کو زندگی کا مشن سمجھتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ معاشرہ کی تربیت واصلاح کیلئے فی الوقت اس طرح کے جرائد کی اشد ضرورت ہے۔ ماہنامہ دعوت دین کے ایڈیٹر محمد سہیل ہاشمی ہیں وہ اس بات کا عزم رکھتے ہیں کہ آنے والے وقت میں ’’ ماہنامہ دعوت دین معاشرہ کی اصلاح کیلئے مینارہ نور ثابت ہوگا ۔بات یہ ہے کہ فی الوقت ہمارا معاشرہ فکری انتشار کا شکار ہے ، نوجوان نسل کا رابطہ َ کتاب سے تقریباََ ختم ہوتا جار ہا ہے اور اس کی تمام تر توجہ کا مرکز سوشل میڈیا ہے ۔ ان حالات میں ایسی تربیتی اور اصلاحی کتب اور جرائد کی بے حد ضرورت ہے جو نوجوان نسل کو دین کے ساتھ جوڑیں ، انھیں مقصد ِ زندگی کو سمجھنے میں مدد فراہم کریں ، معاشرہ اور فرد کی اصلاح میں اپنا کردار ادا کریں ۔’’ مجلہ دعوت دین ‘‘ اسی سلسلہ کی کڑی ہے ۔ یہ مجلہ ظاہری اعتبار سے جتنا خوبصورت ہے معنوی اور مضامین کے اعتبار سے اس بھی کہیں زیادہ خوبصورت ،جاذب نظر اور دلکش ہے ۔ آرٹ پیپر 4کلر ٹائٹل بہت ہی خوبصورت ہے جو فوراََ ہی قاری کی توجہ اپنی طرف مبذول کرلیتا ہے ۔ جبکہ ہر شمارے میں مضامین کا انتخاب اتنا عمدہ ہوتا ہے کہ قاری انھیں پڑھے بغیر خود کو تشنہ محسوس کرتا ہے ۔ سرورق کا اندرونی صفحہ معاشرتی مسائل ومعاملات کی اصلاح وتربیت کیلئے مختص ہے۔سیاست ، حالات حاضرہ ، دین ودنیا ، روزمرہ زندگی میں پیش آمدہ مسائل کا حل قرآن وسنت کی روشنی میں ۔۔۔میگزین کے خصوصی موضوعات ہیں ۔

    میگزین کے چار صفحات قرآن مجیدکی تفسیر اوردو صفحات مستقل درس حدیث کیلئے مختص ہیں ۔دو صفحات روز مرہ زندگی میں پیش آمدہ مسائل اور استفسارت کیلئے مختص ہیں ۔ زیر تبصرہ میگزین درس قرآن اور درس حدیث کے علاوہ درج ذیل مضامین پر مشتمل ہے : دعوت دین اور سیرت خاتم النبین ﷺ ، تاجدار ختم نبوت ﷺ کی سیاست وسیرت ، ختم نبوت اور قادیانی ٹولے کے عزائم ، تحریک ختم نبوت اور ڈاکٹر بہائوالدین ، تحریک ختم نبوت میں علمائے اہلحدیث ملتان کا کردار ، غیر مسلموں کا قبول اسلام ڈرائونا خواب کیوں ۔۔۔؟ میگزین میں ’’ آئینہ مرزائیت ‘‘ کے نام سے ایک تاریخی اور معلوماتی انٹرویو بھی شامل ہے ۔یہ انٹرویو سابق سٹوڈنٹ لیڈر ڈاکٹر میاں احسان باری مرحوم کا ہے ۔ میاں احسان باری اپنے وقت کے دبنگ اور نہایت ہی بہادر طالب علم رہنما تھے ۔ ان کا تعلق ملتان سے تھا ۔ان کی ساری زندگی ختم نبوت کی چوکھٹ کی پاسداری کرتے گزری وہ پابند سلاسل بھی ہوئے لیکن کوئی سی بھی صعوبت ان کے پائے استقلال میں لغزش پیدا نہ کرسکی ۔ جاوید ہاشمی اور شیخ رشید جیسے طالب علم رہنما میاں احسان باری کو سیاست میں اپنا استاد مانتے تھے۔23مئی 1974ء کو نشتر میڈیکل کالج ملتان سے سوات جانے والے طلبہ کے قافلے میں میاں احسان باری بھی طالب علم رہنما کے طور پر شامل تھے ۔ طلبہ کے اسی قافلے کو واپسی پر ربوہ ریلوے سٹیشن پر قادیانیوں نے تشدد کا نشانہ بنایا ۔ اور پھر اسی ظلم کے نتیجہ میں قادیانی غیر مسلم اقلیت قرار پائے ۔ یہ تفصیل بتانے کا مقصد یہ ہے تاکہ قارئین جان سکیں کہ ڈاکٹر میاں احسان باری تحریک ختم نبوت کے روح رواں تھے اور اس ضمن میں رونما ہونے والے تمام حالات وواقعات کے عینی شاہد تھے۔ ڈاکٹر احسان باری کا یہ انٹرویو حرف حرف انکشاف اور معلومات افزاء ہے جو عقیدہ ختم نبوت کی چوکھٹ کی چوکیداری کرنے والوں کیلئے خاص تحفہ ہے ۔یہ چونکہ دعوتی اور اصلاحی میگزین ہے اسلئے اس کی قیمت صرف 100روپے فی شمارہ رکھی گئی ہے تا کہ ہر آدمی باآسانی اس سے استفادہ کرسکے۔ جو احباب میگزین حاصل کرنا چاہئیں وہ درج ذیل فون نمبر0305-4033965اور 0310-2334595 پر رابطہ کرسکتے ہیں

  • عوامی حقوق کی پامالی میں اشرافیہ کا کردار

    عوامی حقوق کی پامالی میں اشرافیہ کا کردار

    عوامی حقوق کی پامالی میں اشرافیہ کا کردار

    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفی بڈانی
    دو قومی نظریہ کی بنیاد اس تصور پر رکھی گئی تھی کہ مسلمان ایک علیحدہ قوم ہیں جن کا مذہب، ثقافت اور طرزِ زندگی ہندوؤں سے مختلف ہے۔ اسی بنیاد پر برصغیر کے مسلمانوں کو ایک علیحدہ ریاست کی ضرورت تھی جہاں وہ اپنی زندگی اسلامی اصولوں کے مطابق گزار سکیں اور سماجی انصاف، مساوی مواقع اور عوامی فلاح کو یقینی بنایا جا سکے۔ تاہم قیام پاکستان کے بعد جو سیاسی، سماجی اور معاشی حالات سامنے آئے وہ اس نظریے کی روح سے متصادم دکھائی دیتے ہیں۔

    پاکستان میں ایلیٹ کلاس کی اجارہ داری نے تعلیم اور صحت جیسے عوامی حقوق کو محدود کرکے طبقاتی خلیج کو مزید بڑھا دیا ہے۔ پاکستان کا قیام صرف ایک خطہ زمین کے حصول کے لیے نہیں تھا بلکہ یہ ایک ایسی ریاست کا خواب تھا جہاں تمام شہریوں کے لیے مساوی مواقع ہوں اور معاشرتی تفریق نہ ہو۔ مگر آج کے پاکستان میں تعلیم اور صحت جیسے بنیادی شعبوں میں اشرافیہ کا غلبہ اس نظریے کی نفی کرتا ہے۔ وسائل اور مواقع پر صرف ایلیٹ طبقے کا اختیار ہے جب کہ غریب عوام کو ان سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ حکومت اور اشرافیہ کے ذاتی مفادات نے عوامی مسائل کو نظرانداز کر دیا ہے۔

    ریاستی وسائل اور پالیسیوں پر مسلسل قبضے کے باعث ریاستی اداروں کو دانستہ طور پر کمزور کیا جا رہا ہے۔ عوامی فلاح کے بجائے نجی مفادات کو ترجیح دی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے عام شہری تعلیم اور صحت جیسے بنیادی حقوق سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ پاکستان میں سرکاری تعلیمی نظام غریب طبقے کے لیے معیاری تعلیم کا ایک اہم ذریعہ تھا لیکن حالیہ برسوں میں پنجاب ایجوکیشن فانڈیشن (PEF) اور پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت تعلیمی اداروں کو نجی شعبے کے حوالے کر دیا گیا۔ اس عمل کے نتیجے میں تعلیمی معیار زوال کا شکار ہوا ہے۔ نجکاری کے بعد مڈل اور میٹرک پاس اساتذہ کو کم تنخواہوں پر بھرتی کیا گیا، جس سے تعلیم کا معیار متاثر ہوا۔ مزید برآں پرائیویٹ سکولوں کی بھاری فیسوں اور اضافی اخراجات نے غریب عوام کے بچوں کے لیے معیاری تعلیم کا حصول ناممکن بنا دیا۔

    ایک حالیہ سروے کے مطابق نجی سکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبا کی تعداد میں صرف 20% اضافہ ہوا ہے جبکہ سرکاری سکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبا کی تعداد میں 80% کمی ہوئی ہے۔ سرکاری اساتذہ کی نوکریاں بھی غیر محفوظ ہو گئی ہیں اور ان کی جگہ ناتجربہ کار عملے کو بھرتی کیا جانے لگا جس سے تعلیم کے معیار کو مزید کمزور کیا گیا۔

    تعلیم کے بعد صحت کا شعبہ بھی اشرافیہ کے ذاتی مفادات کا شکار ہو چکا ہے۔ دیہی اور بنیادی مراکز صحت (BHU) کو "آؤٹ سورس” کے نام پر نجی کمپنیوں کے حوالے کیا جا رہا ہے، جس سے عوام کے لیے طبی سہولیات مزید محدود ہو گئی ہیں۔ نجکاری کے بعد علاج کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے اور مفت علاج کی سہولت کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ دیہی علاقوں میں جہاں پہلے ہی طبی سہولیات ناکافی تھیں، نجی انتظامیہ کی آمد نے حالات کو مزید خراب کر دیا ہے۔ تربیت یافتہ طبی عملے کی کمی کے باعث صحت کے مراکز میں خدمات کا معیار متاثر ہوا ہے اور غریب مریضوں کے لیے علاج کی سہولتیں مزید مہنگی ہو گئی ہیں۔

    پاکستان میں سماجی انصاف اور مساوی مواقع کا نظریہ اشرافیہ نے مسخ کر دیا ہے۔ وسائل اور مواقع کی غیر منصفانہ تقسیم نے تعلیم اور صحت جیسے بنیادی شعبوں کو اشرافیہ کے لیے سہل اور عوام کے لیے مشکل بنا دیا ہے۔ ریاستی اداروں کی نجکاری کے ذریعے تعلیم اور صحت کے شعبوں کو منافع کا ذریعہ بنا لیا گیا ہے، جس سے عوامی حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔ حکومت اور ایلیٹ طبقہ عوام کے مسائل حل کرنے کے بجائے ذاتی مفادات اور منافع کے پیچھے بھاگ رہے ہیں جس کی وجہ سے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    پاکستان میں تعلیم اور صحت کے شعبوں کی نجکاری اور اشرافیہ کی اجارہ داری نے معاشرے میں سماجی ناانصافی کو فروغ دیا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف عوامی بدحالی کا سبب بن رہی ہے بلکہ پاکستان کے آئین میں دیئے گئے شہریوں کے بنیادی حقوق کی نفی بھی کر رہی ہے۔ اشرافیہ کی خودغرضی اور عوامی حقوق کی پامالی نے ملک کی ترقی کو رکاوٹ بنایا ہے۔ حکومت کو فوری طور پر اقدامات اٹھانے چاہئیں تاکہ عوام کو ان کے بنیادی حقوق فراہم کیے جا سکیں اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔

    عوامی حقوق کی بحالی اور انصاف کی فراہمی کے لیے ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے، جس میں تعلیم اور صحت کے شعبوں کو اصل مقصد کی طرف لوٹانے کی کوششیں شامل ہوں۔ اگر ہم واقعی ایک خوشحال اور ترقی یافتہ پاکستان کی طرف بڑھنا چاہتے ہیں تو ہمیں ہر ایک کو یکساں مواقع اور حقوق فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس نظریے کو صرف ایک سیاسی بیانیے تک محدود نہ رکھیں بلکہ اسے عملی زندگی میں لاگو کریں تاکہ پاکستان میں ہر شہری کو اس کے حقوق اور سہولیات مل سکیں۔

    اگر عوام کو ان کے بنیادی حقوق فراہم نہ کیے گئے اور تعلیم اور صحت کے شعبے کو اشرافیہ کے قبضے سے آزاد نہ کیا گیا تو سماجی تقسیم اور بدامنی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ حکومت کو فوری طور پر ان مسائل کے حل پر توجہ دینا ہوگی اور عوامی حقوق کی بحالی اور انصاف کی فراہمی کے لیے ایک جامع حکمت عملی بنانا پڑے گی۔ اس میں تعلیم اور صحت کے شعبوں کو اصل مقصد کی طرف لانا ہوگا اور اشرافیہ کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا۔

    پاکستان کو ایک فلاحی ریاست بنانے کے لیے بہت ضروری ہے کہ حکومت اور ایلیٹ کلاس اپنے ذاتی مفادات کو پسِ پشت ڈال کر عوامی فلاح کے لیے کام کریں۔ بصورت دیگر ملک میں سماجی تقسیم اور ناانصافی کا سلسلہ بڑھتا جائے گا اور پاکستان کا مستقبل کبھی بھی روشن اور تابناک نہیں ہوسکے گا۔

  • ہومیو پیتھک کی نادر اور نایاب کتاب برسوں بعد دوبارہ منظرعام

    ہومیو پیتھک کی نادر اور نایاب کتاب برسوں بعد دوبارہ منظرعام

    ہومیو پیتھک کی نادر اور نایاب کتاب ”ابجد ہومیو پیتھی” برسوں بعد دوبارہ منظر عام پر آ گئی۔ بالمثل معالج پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد کی طرف سے لکھی گئی مذکورہ کتاب کو اسی اور نوے کی دہائی میں خاص طور پر مقبولیت حاصل رہی ہے۔ اب ایک مرتبہ پھر اس کے ترمیم شدہ نسخہ جات ہومیو پیتھک سے کسی بھی حوالے سے وابستہ احباب کے لیے پیش کیے گئے ہیں۔ ابجد ہومیو پیتھی میں صرف علاج معالجہ ہی نہیں صحت قائم رکھنے کے اصول و ضوابط بھی درج ہیں۔ یہ کتاب اس لحاظ سے بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہے کہ اس میں پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد مرحوم کی جانب سے وہ راز بھی افشاء کیے گئے ہیں جو اطباء اپنے سینوں میں چھپا کر رکھتے ہیں۔ ابجد ہومیو پیتھی نہ صرف مبتدی معالجین کے لیے بہترین گائیڈ ہے بلکہ ہر معالج کے لیے ایک بہترین معاون کا کام بھی دے سکتی ہے۔ اس میں فن ہومیو پیتھی کے حوالے سے مکمل معلومات اور کلینک پر پیش آنے والے واقعات کا مکمل نچوڑ بیان کیا گیا ہے۔ مذکورہ کتاب حاصل کرنے کے لیے واٹس ایپ نمبر 03153242517 اور 03334289005پر رابطہ کیا جا سکتا ہے

  • عدلیہ تنازعات کی زد میں.تحریر:صفیہ چودھری

    عدلیہ تنازعات کی زد میں.تحریر:صفیہ چودھری

    پاکستان کی عدلیہ ان دنوں تنازعات کی زد میں ہے، خاص طور پر سپریم کورٹ کے دو سینئر ججز، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر کے حالیہ طرزِ عمل پر۔ ان ججز کی جانب سے عدالتی روایات اور غیر جانبداری کے اصولوں کے برخلاف رویے نے عوام میں عدلیہ کی ساکھ پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ ان کی حرکات اور بیانات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ عدالتی اتحاد اور پروفیشنل اقدار کو اہمیت نہیں دے رہے۔ ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان ججز کو عدلیہ کی بھلائی کے لیے جلد ریٹائرمنٹ لینے پر غور نہیں کرنا چاہیے؟

    جسٹس منصور علی شاہ کا متنازع رویہ
    جسٹس منصور علی شاہ کا حالیہ طرز عمل ایک خاص پریشانی کا باعث ہے۔ ان کا سابق چیف جسٹسز، جسٹس ثاقب نثار اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے الوداعی تقریبات میں شرکت نہ کرنا ایک حیرت انگیز اور اختلافی قدم ہے۔ ان تقریبات کی اہمیت محض روایتی نہیں بلکہ یہ عدلیہ میں احترام، تسلسل اور ہم آہنگی کی علامت ہوتی ہیں۔ کسی سینئر جج کا ان تقریبات میں شرکت سے گریز کرنا ان کے ادارے کے لیے احترام اور ہم آہنگی کے اصولوں کے خلاف ہے۔

    ایسی تقاریب عدلیہ کے اندر ایک دوسرے کے کام اور خدمات کا اعتراف کرنے کا موقع فراہم کرتی ہیں اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دیتی ہیں۔ جسٹس شاہ کا عدم شرکت کا فیصلہ ان کے خیالات اور ان کی ترجیحات پر ایک سوالیہ نشان ہے اور یہ تاثر دیتا ہے کہ شاید وہ اپنے آپ کو عدالتی روایت سے بالا تر سمجھتے ہیں۔ عدلیہ جیسے ادارے میں، جو پہلے ہی اندرونی اور بیرونی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے، یہ ضروری ہے کہ اس کے ممبران ہم آہنگی اور باہمی احترام کا مظاہرہ کریں۔

    جسٹس شاہ کا الزامی بیان اور اس کے اثرات
    اس سے بھی زیادہ تشویش ناک جسٹس منصور علی شاہ کا حالیہ عوامی بیان ہے، جس میں انہوں نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر عدلیہ میں انتشار پھیلانے کا الزام لگایا ہے۔ بظاہر یہ بیان ذاتی تعصب پر مبنی معلوم ہوتا ہے، نہ کہ کسی ٹھوس بنیاد پر۔ اس بیان سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ وہ اپنی عدم شرکت اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ بظاہر سرد مہری کو چھپانے کے لیے دوسروں پر بلاوجہ تنقید کر رہے ہیں۔

    عوام کو توقع ہوتی ہے کہ ان کے اعلیٰ جج صاحبان سچائی اور وقار کا مظاہرہ کریں گے اور بلا تحقیق الزامات نہیں لگائیں گے۔ کسی جج کی جانب سے اس طرح کے الزامات ادارے کے وقار پر دھبہ ثابت ہوتے ہیں اور عوام میں عدلیہ کے وقار کو مجروح کرتے ہیں۔ عوام عدلیہ سے غیر جانبداری اور اعلیٰ معیار کی توقع کرتے ہیں، نہ کہ ذاتی اختلافات کو پبلک فورمز پر لے جانے کا۔

    جسٹس منیب اختر پر سوالات
    دوسری جانب، جسٹس منیب اختر کا طرز عمل بھی مشکوک قرار دیا جا رہا ہے، خاص طور پر ان کی بعض سیاسی مفادات کے ساتھ وابستگی کی خبروں نے ان کی غیر جانبداری پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ عدلیہ کے ممبران کو اپنے اصولوں اور عدالتی فیصلوں میں عدل و انصاف اور غیر جانبداری کو برقرار رکھنا ضروری ہے، لیکن جسٹس منیب کے کچھ فیصلے اور ان کا سیاسی موضوعات میں جھکاؤ ان کے عہدے کی غیر جانبداری کے اصول کے منافی معلوم ہوتا ہے۔

    جب کسی جج کی طرف سے سیاسی جھکاؤ کا تاثر دیا جائے تو عدالتی عمل کی شفافیت مشکوک ہو جاتی ہے، اور عوام کا اعتماد کمزور ہوتا ہے۔ یہ تاثر عوام کو یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ عدلیہ کے فیصلے شاید کسی خارجی اثر کے تحت لیے جا رہے ہیں، جو عدلیہ کے وقار اور غیر جانبداری کے اصول کو مجروح کرتا ہے۔

    عدلیہ کی ضرورت اور ان ججز کا کردار
    پاکستان کی عدلیہ ایک اہم موڑ پر کھڑی ہے۔ بیرونی دباؤ اور عوامی جانچ کے اس دور میں یہ نہایت ضروری ہے کہ عدلیہ کے ججز پروفیشنلزم، غیر جانبداری، اور ہم آہنگی کا مظاہرہ کریں۔ سینئر ججز، خاص طور پر جسٹس شاہ اور جسٹس اختر، جو ان اصولوں کی پاسداری نہیں کر سکتے، وہ نہ صرف ادارے بلکہ ان عوام کی بھی خدمت میں کوتاہی کر رہے ہیں جن کی وہ خدمت کا حلف اٹھاتے ہیں۔ ایسے میں ان ججز کو ایمانداری سے یہ سوال اپنے آپ سے کرنا چاہیے کہ کیا وہ اپنی ذمہ داریوں کے تقاضے پورے کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں؟ اگر نہیں، تو ان کے لیے معززانہ انداز میں ریٹائرمنٹ کا فیصلہ زیادہ بہتر ثابت ہو سکتا ہے۔

    عدلیہ کا وقار، غیر جانبداری اور باہمی احترام کی ضرورت
    عدلیہ کے وقار، غیر جانبداری اور احترام کے اصول محض اخلاقیات نہیں بلکہ عدلیہ کی طاقت کا بنیادی حصہ ہیں۔ عدلیہ کے سامنے ان اصولوں کی پاسداری ان مشکل وقتوں میں مزید ضروری ہو جاتی ہے۔ جسٹس شاہ اور جسٹس اختر کے اقدامات نے ان اصولوں پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جس کے باعث عدلیہ کے لیے غیر جانبدارانہ انداز میں اپنے کردار کو نبھانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اگر یہ سینئر ججز عزت و وقار کے ساتھ خود ریٹائر ہو جائیں تو عدلیہ ایک نیا آغاز کر سکتی ہے جس سے اس کے غیر جانبداری اور انصاف کے اصولوں کو مزید مضبوطی ملے گی۔

    وقت آ چکا ہے کہ جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر سنجیدگی سے اس بات پر غور کریں کہ ان کی موجودگی اور ان کے اقدامات ادارے کے لیے کیسا پیغام دیتے ہیں۔ عدلیہ اس وقت مؤثر انداز میں کام نہیں کر سکتی جب اس کے ممبران خود ان اصولوں کو پامال کریں جن کی عدلیہ حفاظت کرنے کے لیے موجود ہے۔ اگر یہ سینئر ججز ادارے کے وقار، اتحاد، اور احترام کو ترجیح دینے کے لیے تیار نہیں تو ان کا معززانہ انداز میں ریٹائرمنٹ کا فیصلہ ہی مناسب ہوگا۔

    یہ مشکل فیصلہ عدلیہ کے وقار، عوام کے اعتماد اور عدالتی نظام کے لیے ضروری ہے

  • زندگی کے سرمئی رنگ

    زندگی کے سرمئی رنگ

    وقت آگے بڑھتا ہے، اور دنیا مسلسل بدلتی رہتی ہے۔ لوگ آتے ہیں اور چلےجاتے ہیں، پیچھےمحض یادیں رہ جاتی ہیں جبکہ نئے چہرے خالی جگہیں بھر دیتے ہیں۔ دروازے کھلتے ہیں، کچھ بند ہو جاتے ہیں۔ روشنی کے لمحے، سائے، اور تاریکی، سب وقت کی مستقل دھڑکن کے ساتھ بہتے ہیں۔ ہر سیکنڈ جو گزرتا ہے وہ پچھلے سے مختلف ہوتا ہے۔ دوست جن کے بارے میں، میں نے کبھی سوچا تھا کہ وہ ہمیشہ میرے ساتھ رہیں گے، اپنے مقدر کی تلاش میں بہتے چلے گئے ۔ میں نے بھی تبدیلی کی کڑوی حقیقت کو چکھا ہے۔ طویل عرصے بعد ملنے والے دوست میری زندگی میں دوبارہ آ گئے ہیں، حالانکہ ہمارے درمیان جو تعلق کبھی تھا وہ اب دور، تقریباً بھوت کی مانند محسوس ہوتا ہے۔ ہماری ماضی کی بازگشت ہماری باہمی تعاملات پر چھائی رہتی ہے، جو ہمیں یاد دلاتی ہے کہ کیا ہوا کرتا تھا۔ اور جن لوگوں کو میں نے بے حسی کا مظاہرہ کرتے دیکھا، انہوں نے کبھی کبھار مجھے غیر متوقع مہربانی کی جھلک دکھائی ہے۔

    انسانی فطرت کے اس مبہم پہلو کو دیکھ کر مجھے بے چینی ہوتی ہے۔ میں اس خیال سے جدوجہد کرتی رہی ہوں کہ جو لوگ ظلم کرنے کی قابلیت رکھتے ہیں، وہ مہربانی بھی کر سکتے ہیں۔ میں اسے کیسے تسلیم کروں؟ کیا میں صرف ان کے کیے ہوئے درد کو نظر انداز کر دوں؟ یہ میرے فیصلوں کے بارے میں کیا کہتا ہے؟ میں کسی کو "اچھا” یا "برا” کب قرار دے سکتی ہوں صرف اس بنیاد پر کہ انہوں نے میرے ساتھ کیسا سلوک کیا؟ یہ ایک پھسلن والی ڈھلوان محسوس ہوتی ہے۔ یقیناً، سب سے بدترین لوگوں نے بھی کبھی نہ کبھی کچھ اچھا کیا ہوگا۔ لیکن دوسروں کا فیصلہ صرف اس بنیاد پر کرنا کہ وہ میرے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہیں، یہ محدود اور خود غرض لگتا ہے۔ اگر ہر کوئی یہی سوچ اپنائے تو دنیا بہت سخت جگہ بن جائے گی۔

    آخرکار، جیسا کہ سب کے ساتھ ہوتا ہے، میرے پاس ان سوالات کے لیے کوئی حتمی جواب نہیں ہیں۔ یقیناً، جن لوگوں نے نقصان پہنچایا، انہیں اپنے اعمال کے نتائج کا سامنا کرنا چاہیے، لیکن اس سے آگے، ہم زندگی کے سفر میں ان دلیروں کے ساتھ لڑتے ہیں۔ اور اپنے ماضی اور حال کے لوگوں کے بارے میں میں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ اب میں انہیں صرف لیبل نہیں لگا سکتی

  • غزہ پر اسرائیلی جارحیت کا ایک سال .تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود عبدالرشید اظہر

    غزہ پر اسرائیلی جارحیت کا ایک سال .تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود عبدالرشید اظہر

    مغرب کی حکومتیں اور ان کے حکمران ۔۔۔۔انسانیت اور جمہوریت کے جھوٹے دعویدار اور علمبردار ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ ا ن سے بڑا انسانیت کا دشمن اس وقت روئے زمین پر کوئی نہیں ۔یہ وہ درندے ہیں جن کے منہ کو انسانوں کا اور خاص کر مسلمانوں کا خون لگا ہوا ہے ۔یہ درندے دنیا میں کہیں نہ کہیں مسلمانوں کا خون بہاتے رہتے ہیں اور اس خون سے اپنی پیاس بجھاتے رہتے ہیں جس کی تازہ اور بدترین مثال غزہ ہے جس پر اسرائیل کی جارحیت کا ایک سال مکمل ہوچکا ہے ۔ایک سال کا ایک ایک لمحہ غزہ کے مسلمانوں کیلئے قیامت بن کر گزرا ہے ۔ ایک سال میں کوئی دن ایسا نہیں آیا جو غزہ کے مسلمانوں نے آرام اور سکون سے گزارا ہو اور کوئی رات ایسی نہیں گزری جس میں وہ چین کی نیند سوئے ہوں ۔

    واضح رہے کہ غزہ کی پٹی دنیا کا سب سے زیادہ گنجان آ باد علاقہ تھا جو365 مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلا ساحلی پٹی پر مشتمل 24 لاکھ افراد کا مسکن ہے، جہاں ایک مربع کلومیٹر رقبے میں ساڑھے پانچ ہزار افراد رہائش پذیر تھے ۔دنیا کا سب سے گنجان آباد یہ علاقہ اب ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے اسرائیل نے غزہ کی محدود جغرافیے کی حامل زیر محاصرہ گنجان آبادی پر جتنا بارود ایک سال کے دوران برسایا ، اس کی مثال دونوں عالمی جنگوں میں بھی نہیں ملتی ہے۔اسرائیل غزہ کی چھوٹی سی پٹی پر اب تک 85 ہزار ٹن سے بھی زیادہ بارود بموں کی شکل میں برسا چکا ہے۔ غزہ میں تاریخ انسانی کی بدترین تباہی ہوئی ہے جس کا اندازہ اقوام متحدہ کی اس رپورٹ سے کیا جاسکتا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل کے طیاروں ، ٹینکوں اور توپوں نے بمباری سے جو تباہی مچائی ، رہائشی عمارتیں ، تعلیمی ادارے ، ہسپتال ، مساجد ، دکانیں اور مارکیٹیں جتنے بڑے پیمانے پر تباہ ہوئی ہیں ان کا ملبہ اٹھانے پر 15 سال لگیں جائیں گے۔ جب کہ تباہ شدہ عمارتوں کی جگہ تعمیر نو پر 80 سال لگیں گے۔ آزاد ذرائع کے مطابق 2 لاکھ سے زائد فلسطینی موت کے گھاٹ اتار دیے گئے ہیں اور اس سے کہیں زیادہ زخموں سے چور ہیں، 20 لاکھ افراد ایسے ہیں جو مکمل طور پر گھر سے بے گھر اور در سے بے در ہوچکے ہیں ۔ان بیچاروں کے پاس معمولی چھت اور کھانے پینے کا معمولی سامان بھی دستیاب نہیں ہے ۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ان کے شب و روز کیسے گزرتے ہوں گے ؟

    ’ہیومن رائٹس واچ‘ کی روپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے غزہ میں قائم انڈونیشیا ہسپتال، ترک ہسپتال اور القدس ہسپتال کو کئی بار نشانہ بنایا۔ ہر روز اوسطاً طبی عملے کے دو ارکان یا ڈاکٹروں کو موت کے گھاٹ اتارتاجاتا رہا ۔ اب تک کم سے کم 752 ڈاکٹر و طبی عملے کے ارکان قتل اور 782 زخمی ہوئے ہیں جبکہ 128 زیر حراست ہیں۔اقوام متحدہ کے سیٹلائٹ سینٹر کے فراہم کردہ ڈیٹا اور اوپن سٹریٹ میپ کے جغرافیائی ڈیٹا بیس کے مطابق غزہ کی 80فیصد مساجد مکمل طور پر یا جزوی طور پر تباہ ہوچکی ہیں ۔سات اکتوبر 2023 سے 31 دسمبر 2023 کے دوران 117 مساجد بشمول تاریخی گرینڈ مسجد عمری اور دو گرجا گھر بھی اسرائیلی بمباری سے تباہ ہوئے۔ غزہ کے کل قابل کاشت رقبے کا 68 فیصد حصہ [102مربع کلومیٹر] اسرائیلی بمباری اور فوجی نقل وحرکت سے تباہ ہو چکا ہے۔ شمالی غزہ کی 78 فیصد زرعی زمین جبکہ رفح میں 57 فیصد زرعی رقبہ ناقابل استعمال ہو چکا ہے۔اسرائیلی بمباری سے غزہ میں سڑکوں کا 68 فیصد ]119 کلومیٹر] نیٹ ورک تباہ ہو گیا ہے۔اقوام متحدہ کے سیٹلائیٹ سینٹر کی جانب سے 18 اگست 2024 کو جاری کردہ ابتدائی ڈیٹا رپورٹ کے مطابق غزہ میں تباہ ہونے والی شاہراؤں میں 415 کلومیٹر سڑکیں مکمل تباہ جبکہ 1440 کلومیٹر پر محیط سڑکیں جزوی طور پر تباہ ہوئی ہیں، ہسپتالوں کے محاصروں اور حملوں کے دوران اسرائیلی فوج ہزاروں فلسطینیوں کو 200سے زائد اجتماعی قبروں میں پھینک چکی ہے۔غزہ جنگ کے دوران 173 صحافی بھی اسرائیلی فوج کی بمباری، ڈرون حملوں اور فائرنگ کا نشانہ بن کر زندگی سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔جبکہ لاتعداد صحافی پابند سلاسل ہیں ۔ غزہ میں سب سے بری حالت بچوں کی ہے ۔ بچے جو کہ کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں ۔ قوموں کی تعمیر وترقی اور نشوونما کا دارومدار بچوں پر ہوتا ہے ۔ جب کسی قوم کے بچے موت کے گھاٹ اتار دیے جائیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے وہ قوم صفحہ ہستی سے مٹ جاتی ہے ۔ صہیونی اسی فارمولے پر عمل پیرا ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی درندے فلسطینی بچوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ رہے اور جانوروں کی طرح ذبح کررہے ہیں ۔اس سلسلہ میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال ( یونیسیف ) کی رپورٹ انتہائی لرزہ خیز ، دلوں کو ہلادینے تڑپا دینے اور خون کے آنسو رولادینے والی ہے ۔ یونیسیف کے ترجمان جیمز ایلڈر کا کہنا ہے کہ یہ جنگ جو اسرائیل نے غزہ پر مسلط کررکھی ہے اس میں سب سے زیادہ نقصان بچوں کا ہورہا ہے ۔اس جنگ میں روزانہ ہی فلسطینی بچے اسرائیلی فوج کا نشانہ بن رہے ہیں ۔ ایک سال کے دوران ہر روز تقریباََ 40 بچے شہید کیے گئے ہیں ۔ غزہ کا مختصر سا خطہ اپنے اندر موجود لاکھوں بچوں کے لئے گویا زمین پرجہنم بنادیا گیا ہے۔ صورت حال بہتر ہونے کی بجائے دن بہ دن بد سے بدتر ہوتی چلی جارہی ہے۔ 7 اکتوبر 2023 ء کو اسرائیلی حملے کے بعد اب تک 14,100 سے زائد بچے موت کے گھاٹ اتارے جاچکے ہیں ۔ اس کا مطلب ہے کہ غزہ میں روزانہ 35 سے 40 کے درمیان بچے اور بچیاں شہید کئے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی بڑی تعداد میں لوگ مرنے کے بعد ملبے کے نیچے دب کر بھی لاپتہ ہوگئے ہیں۔ جو لوگ روزانہ فضائی حملوں اور فوجی کارروائیوں میں بچ جاتے ہیں انہیں اکثر خوفناک حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، بچوں کو بار بار تشدد اور بار بار انخلا کے احکامات سے بے گھر کیا جاتا ہے یہاں تک کہ محرومیت نے پورے غزہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ بچے اور ان کے اہلخانہ کہاں جائیں؟ وہ سکولوں اور پناہ گاہوں میں محفوظ نہیں ہیں، وہ ہسپتالوں میں محفوظ نہیں ہیں اور زیادہ بھیڑ والے کیمپوں میں بھی محفوظ نہیں ہیں۔

    ایک طرف غزہ میں اسرائیل کی بدترین جارحیت جاری ہے تو دوسری طرف دنیا کے نقشے پر57اسلامی ممالک موجود ہیں جو ہر قسم کے وسائل ،قدرتی ذخائر اور معدنیات سے مالال ہیں ۔57اسلامی ممالک کی ا فواج کی تعداد لاکھوں پر مشتمل ہے جو کہ ہر قسم کے جدید ترین اسلحہ سے لیس ہے بلکہ ان میں پاکستان ایٹمی صلاحیت کا حامل ملک بھی شامل ہے اس کے باوجود غزہ کے مسلمان بے یارومددگار ہیں اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں جبکہ تمام اسلامی ممالک سے صرف سعودی عرب ہی قدمے دامے درمے سخنے فلسطینی بھائیوں کی مدد کررہا ہے ۔

    اب چاہئے تو یہ کہ دیگر اسلامی دنیا بھی غزہ کے مسلمانوں کے ساتھ کھڑی ہوتی ان کی جانی مالی اور عسکری مدد کرتی لیکن اسلامی دنیا خاموش تماشائی ہے جبکہ اسرائیلی درندے فلسطینی مسلمانوں پر اس طرح ٹوٹ پڑے ہیں جس طرح بھوکے گدھ اپنے شکار پر حملہ آور ہوتے ہیں ۔ اس وقت غزہ میں جو کچھ ہورہا ہے ۔۔۔۔وہ جنگ نہیں بلکہ یکطرفہ قتل عام ہے ۔ اسلامی ممالک نے غزہ میں بڑھکتی ہوئی آگ کو نہ بجھایا تو عین ممکن ہے کہ آگ کے یہ بڑھکتے ہوئے شعلے ان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیں ۔
    اے چشم اشکبار ذرا دیکھ تو سہی
    یہ گھر جو جل رہا ہے کہیں تیرا ہی گھر نہ ہو

  • آؤٹ آف ٹرن چیف جسٹس.تحریر:تصدق حسین

    آؤٹ آف ٹرن چیف جسٹس.تحریر:تصدق حسین

    اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں حال ہی میں کی گئی 26 ویں آئینی ترمیم کے تحت طے طریقہ کار کے مطابق جج جسٹس یحییٰ آفریدی کی بطور چیف جسٹس آف پاکستان تعیناتی کا نوٹیفیکیشن جاری ہو چکا ہے۔جسٹس یحییٰ آفریدی سینیارٹی میں تیسرے نمبر پر تھے۔ جسٹس منصور علی شاہ سب سے سینیئر جبکہ جسٹس منیب اختر دوسرے نمبر پر سینیئر ترین جج تھے۔نئی آئینی ترمیم سے قبل تو یہ پہلے ہی سے سب کو معلوم ہوتا تھا کہ انصاف کی سب سے بڑی کرسی پر آئندہ کون بیٹھے گا کیوں کہ عدالت عظمٰی کے چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ کے بعد سینیئر ترین جج ہی آئندہ کے لیے چیف جسٹس ہوتا تھا۔

    پہلی مرتبہ 1994 میں سب سے سینیئر ترین جج کی بجائے جسٹس سجاد علی شاہ کو اس وقت کی وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی ایڈوائس پر چیف جسٹس تعینات کیا گیا تھا۔1994 میں چیف جسٹس نسیم حسن شاہ کی ریٹائرمنٹ پر جسٹس سعد سعود سپریم کورٹ میں سب سے سینیئر ترین جج تھے لیکن اس وقت سینیارٹی لسٹ میں سجاد علی شاہ تیسرے نمبر پر تھے لیکن انہیں چیف جسٹس مقرر کر دیا گیا۔بےنظیر بھٹو کو اس وقت کے صدر پاکستان فاروق لغاری نے برطرف کر دیا تھا اور جب یہ معاملہ سپریم کورٹ کے پاس گیا تو چیف جسٹس سجاد علی شاہ نے ان کی برطرفی کے صدارتی فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔چیف جسٹس سجاد علی شاہ اپنے دور میں خاصے متنازع رہے۔انہوں نے 1997 میں، اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کے دور میں جب 13ویں آئینی ترمیم کے ذریعے صدر پاکستان سے وزیراعظم اور قومی اسمبلی کو برطرف کرنے کا اختیار ختم کیا تھا تو سجاد علی شاہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بینچ نے ان کے اختیارات کو بحال کر دیا تھا۔لیکن اسی روز جسٹس سعید الزمان صدیقی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے ایک اور بینچ نے وہ فیصلہ معطل کر دیا جس سے ناصرف چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے وزیراعظم نواز شریف کی حکومت سے اختلافات کھل کر سامنے آئے بلکہ عدلیہ بھی منقسم ہو گئی۔

    انہی حالات میں منقسم عدلیہ کے بعض ججوں نے سجاد علی شاہ کو بطور چیف جسٹس ماننے سے انکار کیا اور سپریم کورٹ کی کوئٹہ میں رجسٹری نے ان کی تعیناتی پر سوالات اٹھائے اور پھر عدالت کے 10 رکنی بینچ نے ان کی بطور چیف جسٹس تعیناتی کا نوٹیفیکشن مسترد کر دیا تھا اور یوں ان کے دور کا اختتام ہوا۔

    سپریم کورٹ میں خلاف معمول ایک اور چیف جسٹس اس وقت سامنے آئے جب تین نومبر 2007 کو اس وقت کے صدر سابق جنرل پرویز مشرف نے ملک میں ایمرجنسی کا نفاذ کر کے اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو معزول کر دیا تھا۔جب ملک میں ایمرجنسی لگائی گئی تو اس وقت سپریم کورٹ کے سینیئر ترین ججوں میں عبدالحمید ڈوگر چوتھے نمبر پر تھے لیکن ایمرجنسی کے بعد دیگر سینیئر ججوں نے صدر کے عبوری حکم نامے (پی سی او) کے تحت حلف اٹھانے سے معذرت کی تھی مگر عبدالحمید ڈوگر نے پی سی او کے تحت حلف اٹھا لیا تھا اور انہیں چیف جسٹس بنا دیا گیا۔ایمرجنسی کے خاتمے پر جب آئین بحال کیا گیا تو عبدالحمید ڈوگر سمیت پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں نے دوبارہ حلف بھی اٹھایا۔چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے بطور پرویز مشرف کی طرف سے ملک میں لگائی گئی ایمرجنسی اور اس کے تحت اٹھائے گئے اقدامات کو نظریہ ضرورت تحت بھی جائز قرار دیا تھا۔ان کے دور میں بھی عدلیہ منقسم رہی اور عدلیہ کی بحال کے لئے وکلاء تنظیموں نے بھرپور مہم بھی چلائی اور پھر پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ عبدالحمید ڈوگر کی ریٹائرمنٹ پر معزول کیے گئے چیف جسٹس افتحار محمد چوہدری کو 9 مارچ 2009 کو بحال کر دیا گیا۔

    اب جبکہ سینیارٹی لسٹ پر تیسرے نمبر پر موجود جسٹس یحییٰ آفریدی کو چیف جسٹس مقرر کیا گیا ہے اور وہ 26 اکتوبر سے یہ منصب سنبھالیں گے تو ان کے لئے ایک اہم چیلنج عدلیہ کو مزید منقسم ہونے سے بچانا بھی ہو گا۔
    اگرچہ کئی وکلاء رہنما اور تنظیموں کی طرف سے جسٹس یحییٰ آفریدی بطور چیف جسٹس تعیناتی پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے اور انہوں نے اس کے خلاف تحریک چلانے کا عندیہ بھی دیا ہے لیکن اگر عدالت عظمٰی کے موجودہ ججوں کی اکثریت کی انہیں حمایت حاصل ہو جاتی ہے تو ان کے لیے اپنی ذمہ داریاں نبھانا قدرے آسان ہو گا
    tasadeq

  • باغی ٹی وی ٹیم کاشکریہ،محبتوں بھری تقریب اور ناقابلِ فراموش لمحات

    باغی ٹی وی ٹیم کاشکریہ،محبتوں بھری تقریب اور ناقابلِ فراموش لمحات

    باغی ٹی وی ٹیم کاشکریہ،محبتوں بھری تقریب اور ناقابلِ فراموش لمحات
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفی بڈانی، انچارج نمائندگان باغی ٹی وی

    22 اکتوبر کا دن باغی ٹی وی کی تاریخ کا ایک یادگار لمحہ بن گیا، جب سیالکوٹ میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد ہوا۔ اس تقریب کا مقصد باغی ٹی وی کی سیالکوٹ ٹیم کی حلف برداری تھی، جس میں شرکت کے لیے باغی ٹی وی کے سی ای او اور ممتاز صحافی،تجزیہ کاراورسینئر اینکرپرسن مبشر لقمان صاحب اور ایڈیٹر باغی ٹی وی ممتاز حیدر اعوان صاحب نے خصوصی طور پر وقت نکالا۔ ان کی موجودگی نے اس تقریب کو نہایت اہم اور یادگار بنا دیا۔

    لاہور پہنچنے سے قبل ہی باغی ٹی وی کے نمائندوں کی جانب سے محبت اور عزت افزائی کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ قصور کے ڈسٹرکٹ رپورٹر طارق نوید سندھو نے دعوت دی کہ میں قصور آؤں لیکن وقت کی کمی کے باعث معذرت کرنا پڑی۔ مگر ان کی محبت کا یہ عالم تھا کہ وہ خود لاہور پہنچ گئے اور صبح 8:30 بجے ہم سے ملاقات کی۔

    باغی ٹی وی کے ننکانہ صاحب سے نامہ نگار احسان اللہ ایاز کو جب معلوم ہوا کہ میں باغی ٹی وی کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ سیالکوٹ جا رہا ہوں تو انہوں نے محبت سے ننکانہ صاحب آنے کی دعوت دی۔ مگر وقت کی کمی کے باعث معذرت کرنا پڑی۔ لیکن ان کی محبت اور عقیدت کا یہ عالم تھا کہ وہ سیالکوٹ پہنچ گئے اور اپنی محبتوں کے پھول نچھاور کرکے دل جیت لیا۔اسی طرح گوجرانوالہ سے محمد رمضان نوشاہی بھی محبتوں کا پیغام لیے سیالکوٹ پہنچے۔ ان نمائندوں کی شرکت اور خلوص نے تقریب کو مزید خوبصورت بنا دیا اور ثابت کیا کہ باغی ٹی وی کے نمائندے ایک دوسرے کے ساتھ حقیقی رفاقت اور محبت کے رشتے میں جُڑے ہوئے ہیں۔

    جب میں، ممتاز صحافی مبشر لقمان صاحب، ممتاز حیدر اعوان اور نوید شیخ سیالکوٹ پہنچے تو وہاں موجود ٹیم نے شاندار استقبال کیا۔ سیالکوٹ کے بیورو چیف شاہد ریاض اور ان کے ساتھیوں مدثر رتو، مہر محمد مصطفیٰ، اور ملک عمران نے ہمیں خوش آمدید کہا۔ ڈھول کی تھاپ پر گل پاشی کی گئی اور قافلے کی صورت میں مبشر لقمان صاحب کو اسٹیج تک لے جایا گیا۔

    سیالکوٹ کی ٹیم نے مہمانوں کی بہترین مہمان نوازی کی اور تحائف پیش کیے۔ تقریب میں صحافتی خدمات کے اعتراف میں شیلڈز بھی دی گئیں۔ مجھے بھی عزت افزائی کا موقع دیا گیا اور جب میرا نام اسٹیج پر بلایا گیا تو یہ ایک فخر کا لمحہ تھا۔ مبشر لقمان صاحب سے شیلڈ وصول کرتے وقت انہوں نے نہایت خوبصورت الفاظ میں کہا:

    "ڈیرہ غازی خان کو یہ اعزاز مبارک ہو۔”

    یہ الفاظ میرے لیے انتہائی یادگار ہیں کیونکہ یہ نہ صرف میری ذاتی کارکردگی کا اعتراف تھا بلکہ میرے شہر ڈیرہ غازی خان اور وہاں کی صحافی برادری کے لیے بھی ایک بڑا اعزاز تھا۔

    یہ تقریب میرے لیے زندگی کے ناقابلِ فراموش لمحات میں شامل ہو گئی۔ باغی ٹی وی کی ٹیم نے جس پروٹوکول اور عزت سے نوازا، اسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ ان لمحات نے یہ احساس دلایا کہ ادارہ اپنے نمائندوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور ان کی خدمات کا اعتراف کرتا ہے۔

    اس پورے سفر اور تقریب میں جو عزت، محبت اور عقیدت ملی، اس کے لیے میں باغی ٹی وی کی پوری ٹیم کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔ یہ لمحات ہمیشہ میرے دل میں زندہ رہیں گے، اور میں صرف اتنا ہی کہہ سکتا ہوں:

    "شکریہ ٹیم باغی ٹی وی!”

  • ڈینگی کا وار ، محکمہ صحت پنجاب کی کارکردگی،مریم کو افسران کا دھوکہ،تجزیہ: شہزاد قریشی

    ڈینگی کا وار ، محکمہ صحت پنجاب کی کارکردگی،مریم کو افسران کا دھوکہ،تجزیہ: شہزاد قریشی

    ترقی یافتہ اقوام کی ترقی کا راز میرٹ ،وقت کی پابندی ،رائٹ مین فار رائٹ جاب ہے ۔بلاشبہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ان راستوں کا انتخاب کر کے صوبے پنجاب میں انقلاب برپا کر دیا ہے لیکن یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے پنجاب کی سول بیورو کریسی کن راستوں پر چل پڑی ہے چیف سیکرٹری پنجاب سمیت صوبائی سیکرٹریوں نے اپنے الگ راستوں کا انتخاب کر لیا ہے، ڈینگی کو لے کر سول بیورو کریسی اور پنجاب کی انتظامیہ جو اقدامات کر رہی ہے وہ نہ صرف وزیراعلیٰ پنجاب بلکہ عوام سے کھلے مذاق کے مترادف ہے۔ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں وبائی امراض یا دیگر امراض قابو پانے کی تمام تر ذمہ داری محکمہ صحت کے افسران اور فیلڈ سٹاف کی ہوتی ہے اور وہ کامیابی سے مستعدی سے ان امراض پر قابو پاتے ہیں۔ مگر ڈینگی کو لے کر پنجاب بھر کی سول انتظامیہ کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز کے دفاتر تمام محکموں کے ضلعی سربراہان کی بے سود میٹنگز اور فوٹو سیشن کاوشوں نے کیا ڈینگی کے بے قابو جن پر کنٹرول کر لیا ہے ہفتے میں چار پانچ دن ڈینگی کی میٹنگ سے دیگر محکموں کی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے دیگر محکموں کے افسران عام آدمی کو میسر نہیں ہوتے بلکہ ان روزانہ کی میٹنگز سے خود کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز، عوام اور ان کے مسائل کے حل سے بہت دور ہو چکے ہیں۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ محکمہ صحت کے افسران کو مکمل ذمہ داریاں ایک ہی بار سونپ کر فیلڈ سٹاف سے کارکردگی مانگی جائے اور دیگر محکموں کو اپنے اپنے دائرہ کار میں پرفارم کرنے کا موقع دیا جائے نہ کہ تعلیم، بلڈنگ، سماجی بہبود اور دیگر محکمے اپنے اپنے فوکل پرسن کے ذریعے فوٹو سیشن کی تصاویر بھیج کر ڈینگی کی سب اچھا کی رپورٹ صوبائی حکومت کو ارسال کریں پنجاب کے ہسپتالوں کے وارڈز ڈینگی مریضوں سے بھرے پڑے ہیں عملی طور پر نہ تو مکمل سپرے کیا جا رہا ہے اور نہ ہی گندے و صاف پانی کے گڑھوں کو ختم کیا جا رہا ہے قد آدم سے بلند گھاس بوٹیاں ڈینگی مچھروں کی آماجگاہ بنی ہوئی ہیں، صفائی کے ایس او پیز تو ضلعی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے جبکہ ہسپتالوں میں بھی صفائی کا انتظام نہیں نظر آرہا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ محکمہ صحت کے افسران بشمول سیکرٹری صحت وزیر صحت کو فیلڈ میں نکل کر انسپکشن کر کے وزیراعلیٰ پنجاب کو ضلعی افسران انتظامیہ و صحت کی کارکردگی کی رپورٹ پیش کریں

  • ترمیم ترمیم کے کھیل میں سیاست دھندلا گئی ، قوم حیران- تجزیہ : شہزاد قریشی

    ترمیم ترمیم کے کھیل میں سیاست دھندلا گئی ، قوم حیران- تجزیہ : شہزاد قریشی

    ترمیم ترمیم کے کھیل میں سیاست دھندلا گئی،قوم حیران
    ایک دوسرے پر سبقت کی کوشش،25کروڑ عوام کی کسی کو فکر نہیں
    پنجاب میں وزیر اعلیٰ کے فلاحی اقدامات کو سبوتاژ کرنے کی سازش
    دو اور دو چار ہوتے ہیں،سیاستدانوں کا آئین پر حساب کتاب کمزورکیوں ؟
    تجزیہ،شہزاد قریشی

    سیاست کی دنیا میں دھند بڑھتی ہی جا رہی،باران رحمت کاانتظار،قوم حیران،کسی کو پچیس کروڑ عوام کی فکر نہیں،پنجاب میں عوام کی اس دھند زدہ سیاست میں فکر نظر آرہی،پنجاب میں وزیراعلیٰ مریم نواز کے عوامی خدمت کے ایجنڈے پر نوجوانوں کے ذریعے حملہ کیا گیا،من گھڑت کہانی بنا کر ترقی کرتے پنجاب کو عالمی سطح پر بدنام کیا گیا،ایسے تماشوں کا وزیراعلیٰ پنجاب کو مزید انتظار کرنے اور ان تماشوں کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار رہنا ہوگا کیونکہ تماش بینوں کا کام صرف تماش بینی ہوتا ہے،اسلام آباد میں آئین کو لے کر سیاسی تماشے ہو رہے ہیں آئین کو ڈھال بنا کر سیاسی و مذہبی جماعتیں کون سا کھیل کھیلنے میں اور ایک دوسرے سے جیتنے میں مصروف ہیں جبکہ آئین تو دو اور دو کی طرح بالکل آسان ہے آئینی سوال کو مشکل ترین بنا دیا گیا،سب کو معلوم ہے آئین کیا ہے اکثریت کیا ہے معلوم نہیں ہمارے سیاستدانوں کا آئین کو لے کر حساب کتاب کیوں کمزور ہے؟ تاہم بات سمجھ سے بالاتر ہے کون کس کے ساتھ کیا گیم کھیل رہا ہے،امریکی سیاستدان الیکشن میں مصروف ہیں،دنیا کی نظریں امریکی انتخابات پر لگی ہیں ڈونلڈ ٹرمپ یا کملا ہیرس ،وائٹ ہائوس کانیا مکین کون ہوگا امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ٹرمپ کی کامیابی یقینی ہو سکتی ہے امریکی عوام کی اکثریت کوئی معاوضہ لئے بغیر ٹرمپ کی انتخابی مہم چلا رہی، اگر ٹرمپ کامیاب ہو گئے تو ان کی بھرپور توجہ معیشت پر ہوگی،امریکہ کے صدر جوبائیڈن نے اپنی صدارت کا آخری دورہ یورپ کا کر لیا ہے، یورپی یونین کی چند ریاستیں ٹرمپ کی دوسری صدارت کا خیر مقدم کریں گی۔
    تجزیہ