Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ہم ترقی پذیر کیوں؟سیاستدان جوابدہ ہیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ہم ترقی پذیر کیوں؟سیاستدان جوابدہ ہیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستانی قوم کی اکثریت اپنی فوج اور جملہ اداروں سے دیوانگی کی حد تک محبت کرتی ہے فوج کے خلاف غلیظ زبان کا استعمال اور پروپیگنڈہ کوئی نہیں بات نہیں، پہلے بھی پاک فوج کے خلاف اس طرح کے پروپیگنڈہ کئے گئے عوام کی اکثریت نے کبھی قابل توجہ نہیں سمجھا۔ یہ وہی فوج ہے جس نے ضرب عضب اور ردالفساد میں خودشہید ہو کر ملک میں انتہا پسندی کا اور دہشت گردی کا خاتمہ کیا تھا، ضرب عضب نواز شریف کے دور حکومت میں شروع ہوا فوج کے ساتھ پولیس نے بھی بھاری قربانیاں دیں جبکہ عام شہری بھی دہشت گردی کی زد میں آئے۔ یاد رکھیئے پاکستان دشمن قوتوں اور بالخصوص بھارت سے ایک فو ج ہی ہے جو پاکستان اور عوام کو بچا سکتی ہے ۔ پاک فوج ایک منظم ادارہ ہے جو مخصوص قواعدو ضو ابط کے تحت اپنے فرائض سرانجام دیتا ہے ۔

    سیاستدانوں اپنی بداعمالیوں اور بدانتظامیوں پر توجہ دیں۔ جس ملک میں سیاستدان گیس کی لوڈ شیڈنگ اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے لئے کچھ نہ کر سکے جس ملک کے سیاستدانوں کے ہی ہاتھوں تین بار نواز شریف کی حکومت کو چلتا کیا گیا وہاں کیسی سیاست اور کیسی جمہوریت ؟حقیقی آزادی اورتبدیلی کا نعرہ لگانے والے بتا سکتے ہیں کہ نواز شریف کی حکومت کے خاتمے میں اُن کا کیا کردار تھا؟ کیا وہ کردار جمہوری تھا؟ سچ تو یہ ہے کہ سیاست کے کنگ کانگ تادم تحریر ایک دوسرے سے نبرد آزما ہیں۔ عالمی دنیا میں پاکستان کی سیاست اورجمہوریت اپنی اہمیت کھو چکی ہے۔ آج ملکی معیشت کہاں کھڑی ہے ۔ اس کا ذمہ دار کون ہے ؟ عام آدمی بنیادی ضروریات زندگی سے کوسوں دور ہیں اس کا ذمہ دار کون ہے ؟

    پنجاب میں نواز شریف کی بیٹی مریم نواز نے اپنی حکومت اگر عوامی خدمت پر رُخ موڑ دیاہے تو کیا آج بھی اُن کے خلاف سازشیں نہیں ہو رہی؟ سیاستدان بتائیں ہم اگر غربت کی لکیر سے اگر نیچے گر رہے ہیں تو اس کا ذمہ دار کون ہے؟ یاد رکھیئے موجودہ صدی میں وہ ملک ترقی کریں گے جن کی آبادی تعلیم یافتہ ہوگی اور وہ جدید ٹیکنالوجی ضروریات کو سمجھ سکتی ہوگی۔وطن عزیز کے نوجوان اپنی بھرپور توجہ تعلیم پر دیں وطن عزیز کا مستقبل میں آپ دنیا کا مقابلہ کرنے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کی تعلیم حاصل کریں۔ اپنے اپنے حلقے کے نام نہاد سیاستدانوں سے سوال کریں۔ مصنوعی نعرہ لگانے والے سیاستدانوں سے سوال کریں ہم ترقی پذیر کیوں ہیں، ترقی یافتہ کیوں نہیں؟ سمجھ نہیں آتا روز محشر ہمارے سیاسی ٹائیکون کس کس چیز کا حساب دیں گے

  • آج کا مسلمان .تحریر : ارم ثناء

    آج کا مسلمان .تحریر : ارم ثناء

    افسوس! ہے کہ آج کا مسلمان اپنے فرائض سے غافل ہے۔ افسوس! ہے آج کے مسلمانوں پر، جنہوں نے دنیا کو ہی سارا کچھ سمجھ لیا ہے جنہوں نے دنیا کی زندگی کو ہی ہمیشہ کی زندگی سمجھ لیا ہے۔ ہر انسان روازنہ کسی نا کسی کی موت کی خبر سنتا ہے ، مرد حضرات جنازوں میں شرکت بھی کرتے ہیں۔ لیکن افسوس! پھر بھی ان کے دلوں پر کچھ اثر نہیں ہوتا۔ ویسے ہی ہم دوسروں کو دھوکا دیتے ہیں، ویسے ہی ہم جھوٹ بولتے ہیں، ویسے ہی ہم اللہ کی نافرمانیوں میں مشغول رہتے ہیں۔ ہمارا ملک صرف اب نام کا ہی اسلامی ملک ہے اس میں کچھ بھی اسلام کے مطابق نہیں ہورہا۔ ہر معاملے میں ہمارے اسلام نے ہماری رہنمائی کی ہے لیکن ہم نے کیا کیا ہے ہم نے اس کو چھوڑ کر انگریزوں کے نقش قدم پر چلنا شروع کردیا ہے۔ اسلام میں جمہوریت کا کوئی نظام نہیں ہے لیکن ہم نے کیا کیا خلافت کے نظام کو چھوڑ کر جمہوریت کو اپنایا۔

    ہم نے اپنے معاشرے میں بے حیائی کو فروغ دینے کےلئے چینل بنا لیے۔ ہم درحقیقت ایک بے حیاء اور بے رحم قوم بن چکے ہیں۔ ہم نے اپنے نفس کو ہی سب کچھ سمجھ لیا ہے۔ ہم نے ہمارے معاشرے میں بے حیائی کے فروغ کےلئے ٹی وی چینلز پر بہودہ ڈرامے چلانے شروع کردیے جیسے اقتدار، تیرے پن، برزخ،کروس روڈ، اے عشق جنوں وغیرہ جیسے ڈرامے ہمارے معاشرے میں سوائے بے حیائی پھیلانے کے کوئی اور سبق نہیں دے رہے۔ ہماری نوجوان نسل آج وہ کام کررہی ہے جس سے ہمارے دین نے ہم کو منع کیا ہے۔ ہمارے دین نے ہم کو جھوٹ بولنے سے منع کیا ہے، عورتوں کو بے پردہ اور بلا ضرورت گھر سے باہر نکلنے سے منع کیا ہے، مردوں اور عورتوں کو اپنی نظریں نیچی رکھنے کا حکم ہے لیکن ہم جان بوجھ کو غیر محرموں کو دیکھتے ہیں، کوئی ڈرامہ اچھا لگا تو وہ دیکھنا شروع کردیا۔ ہمیں پتا ہے کہ ڈراموں میں غیر محرم ہوتے ہیں، ہمیں پتا ہے کہ اس میں اللہ کی نافرمانی ہوتی ہے، ہمیں پتا ہے کہ اس میں ایک غیر محرم عورت ایک غیر محرم کو چھوتی ہے لیکن ہم پھر بھی ان کو سارا سارا دن دیکتھے رہتے ہیں، ہمیں چاہیے کہ ان کا بائیکاٹ کریں ان کے خلاف آواز اٹھائیں، لیکن ہم کچھ نہیں کرتے۔

    قرآن مجید میں کہا گیا ہے کہ جب غیر مسلم تم پر حملہ آور ہوں تو ان کا جواب دو، لیکن آج کی بزدل نوجوان نسل جن کے آئیڈیل عمران خان، نواز شریف، بلاول بھٹو، عمران عباس بلال عباس جیسے لوگ ہیں یہ اپنے ان آئڈیل کےلئے تو جان دے سکتے ہیں لیکن دین اسلام کےلئے نہیں، یہ لوگ ناکام محبت کے پیچھے تو خود کشی کرسکتے ہیں لیکن مسجد اقصی کو بچانے کےلئے ایک نہیں ہو سکتے۔ در اصل غیر مسلموں نے اپنے ہتھیاروں( سوشل ایپس) وغیرہ کے ذریعے ہماری ذہنی سازی ہی ایسے کی ہے کہ اب ہمیں دنیا کے علاؤہ کچھ نظر ہی نہیں آتا، ہمیں انہوں نے اپنا ذہنی غلام بن لیا ہے۔

    مسلمانوں اب بھی وقت ہے جاگ جاؤ اپنے مقصد کو پہچانو اپنا آئیڈیل حضرت محمد صلی اللہ علیہ کو بناو، اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کی تربیت دین اسلام کے مطابق کرو کیونکہ کل کو انہوں نے ایک نسل تیاری کرنی ہے، ان میں خلافت کا جذبہ پیدا کرو، ان کو اپنے حق کےلئے آواز بلند کرنے کا حوصلہ دو

  • شہباز گل کی کارِ سرکار میں مداخلت ، قومی وحدت کے لیے خطرہ؟ تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    شہباز گل کی کارِ سرکار میں مداخلت ، قومی وحدت کے لیے خطرہ؟ تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اداروں کے کردار پر تنقید یا ان کے خلاف عوامی جذبات کو بھڑکانے کی کوشش کوئی نئی بات نہیں ہے۔ لیکن حالیہ واقعات میں شہباز گل جیسے سیاسی رہنما کی جانب سے ایسے بیانات اور حرکات سامنے آئی ہیں جنہوں نے نہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں بلکہ قومی وحدت پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔اسلام آباد میں ایک حالیہ ناکام احتجاج کے دوران پنجاب پولیس کے 128 اہلکار مختلف وجوہات کی بنا پر ڈیوٹی پر حاضر نہیں ہو سکے۔ اس واقعے کے بعد افسران نے ان اہلکاروں کی لسٹیں تیار کیں اور ان سے جواب طلبی کا عمل شروع کیا۔ ڈیوٹی سے غیر حاضری ایک سنگین معاملہ ہے، خاص طور پر جب یہ معاملہ قومی سلامتی یا عوامی نظم و ضبط سے جڑا ہو۔ لیکن اس پر شہباز گل کا ردعمل ایک غیر متوقع اور متنازعہ تھا۔

    شہباز گل نے اپنی ٹویٹ میں غیر حاضر اہلکاروں کو "ہیرو” قرار دیا اور انہیں یقین دلایا کہ اگر موجودہ حکومت انہیں نکال بھی دیتی ہے تو ان کی جماعت کے اقتدار میں آنے کے بعد انہیں بحال کیا جائے گا اور انعامات سے نوازا جائے گا۔ یہ بیان نہ صرف کارِ سرکار میں مداخلت کے زمرے میں آتا ہے بلکہ ایک عوامی رہنما کی جانب سے ایک حساس معاملے پر غیر ذمہ دارانہ رویے کا عکاس بھی ہے۔شہباز گل کی یہ سیاسی بیان بازی نہیں بلکہ اداروں کو تقسیم کرنے کی کوشش ہے۔شہباز گل کا بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب ملک پہلے ہی سیاسی عدم استحکام اور معاشی بحران کا شکار ہے۔ ایسے میں ایک عوامی شخصیت کی جانب سے پولیس اہلکاروں کو بغاوت پر اکسانا ایک سنگین حرکت ہے۔ یہ عمل اداروں میں نظم و ضبط کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔قومی سلامتی کے ادارے اور قانون نافذ کرنے والی فورسز ملک کے استحکام کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر ان اداروں میں بے چینی یا تقسیم پیدا کی جائے تو اس کا نتیجہ نہ صرف حکومتی رٹ کی کمزوری بلکہ عوامی اعتماد کے فقدان کی صورت میں بھی نکل سکتا ہے۔شہباز گل کا ماضی متنازع کردار کا حامل رہا ہے

    یہ پہلا موقع نہیں ہے جب شہباز گل نے قومی اداروں کے خلاف اس قسم کے بیانات دیے ہوں۔ اس سے قبل بھی وہ پاکستان آرمی کے خلاف متنازعہ بیانات دے چکے ہیں۔ اس کے نتیجے میں انہیں بغاوت کے مقدمے گرفتار کیا گیا، اور ان کے خلاف قانونی کارروائی ہوئی۔ اس وقت انہوں نے بیماری کا بہانہ بنایا اور عدالتوں میں اپنی حالت پر آنسو بہائے۔ وھیل چیئر پر بیٹھ کر آکسیجن ماسک لگانے کا ڈرامہ کیا۔ یہ عمل اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ ایک جانب سخت بیانات دے کر اداروں کو کمزور کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تو دوسری جانب قانونی گرفت سے بچنے کے لیے مختلف حربے استعمال کرتے ہیں۔

    قانونی اور اخلاقی پہلو کے لحاظ سےقانون کے مطابق، سرکاری اہلکاروں کی ڈیوٹی سے غیر حاضری یا ان کی جانب سے احکامات کی تعمیل نہ کرنا ایک سنگین جرم ہے۔ اس پر سخت کارروائی ہونی چاہیے تاکہ دیگری اہلکاروں کے لیے ایک مثال قائم ہو۔ دوسری طرف، کسی بھی سیاسی رہنما کو یہ حق نہیں کہ وہ عوامی فورم پر ایسے بیانات دے جو قانون کی حکمرانی یا اداروں کے نظم و ضبط کو متاثر کریں۔شہباز گل کے حالیہ بیانات صریحا کارِ سرکار میں مداخلت کے زمرے میں آتے ہیں، جو ایک قابل سزا جرم ہے۔ ان کے بیانات کا مقصد بظاہر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ ہے، لیکن اس کے نتائج زیادہ سنگین اور خوفنا ک ہو سکتے ہیں۔ ایسے بیانات عوام میں اداروں کے خلاف بداعتمادی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ ان اہلکاروں کو بھی غلط پیغام دیتے ہیں جو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو اہمیت دیتے ہیں۔اداروں اور سیاسی رہنماؤں کی ذمہ داری بہت اہمیت رکھتی ہے۔پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں قومی اداروں کی مضبوطی اور یکجہتی انتہائی اہم ہے۔ سیاست دانوں اور رہنماؤں کا فرض ہے کہ وہ عوام اور اداروں کے درمیان پل کا کردار ادا کریں، نہ کہ تنازعات کو ہوا دیں۔ شہباز گل جیسے رہنماؤں کو اپنی بیان بازی پر نظرثانی کرنی چاہیے اور اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا چاہیے۔یہ حقیقت ہے کہ سیاسی اختلافات جمہوریت کا حسن ہیں، لیکن یہ اختلافات ایسے بیانات کی شکل میں نہیں ہونے چاہییں جو قومی سلامتی یا اداروں کی یکجہتی کو نقصان پہنچائیں۔ شہباز گل جیسے رہنما اگر واقعی عوامی خدمت کے جذبے سے سیاست میں ہیں، تو انہیں قومی مفاد کو ذاتی یا جماعتی مفاد پر ترجیح دینی ہوگی۔شہباز گل جیسے افراد اگر امریکہ میں بیٹھ کر امریکی اداروں کے خلاف بغاوت پر اکسانے کی کوشش کریں تو انہیں سخت قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امریکی قوانین، خاص طور پر "Sedition Act” اور دیگر قومی سلامتی کے قوانین، کسی بھی فرد کو ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال انگیزی کی اجازت نہیں دیتے۔ امریکی حکومت ایسے بیانات یا اقدامات کو ریاست کے خلاف جرم سمجھتی ہے، اور ایسے افراد پر فوری طور پر قانونی کارروائی کی جاتی ہے، چاہے وہ امریکی شہری ہوں یا غیر ملکی۔ شہباز گل جیسے بیانات کی مثال امریکہ میں ممکن نہیں کیونکہ وہاں اداروں کی خلاف ورزی پر زیرو ٹالرنس پالیسی نافذ ہے۔پاکستان میں بھی ان جیسے افراد کے لئے قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔شہباز گل کے بیانات ایک بار پھر ثابت کرتے ہیں کہ پاکستان میں سیاسی قیادت کے لیے اخلاقی تربیت اور قومی مفاد کو اولین ترجیح دینے کی ضرورت ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مضبوط بنانے اور ان کے نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے حکومت کو سخت اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ مزید یہ کہ ایسے رہنماؤں کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے جو عوامی بیانات کے ذریعے قومی اداروں کو کمزور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ شہباز گل کو یاد رکھنا چاہیے کہ قومی ادارے کسی بھی جماعت یا حکومت کے نہیں بلکہ ریاست کے ہیں، اور ان کی حفاظت اور عزت ہر پاکستانی کا فرض ہے۔پاکستان کو ایک مضبوط اور متحد قوم بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ہر شہری اور رہنما اپنی ذمہ داریوں کو سمجھے اور اپنے الفاظ و افعال کے ذریعے قومی وحدت کو مضبوط کرے، نہ کہ اسے نقصان پہنچائے۔شہباز گل کے اس طرز کے بیانات ۔ سیکورٹی اداروں کے لئے بھی ایک چیلنج ہے

  • انتشارروکنے کیلئے فیک نیوز کا سدباب ضروری.تحریر: حنا سرور

    انتشارروکنے کیلئے فیک نیوز کا سدباب ضروری.تحریر: حنا سرور

    دنیا بھر میں جہاں ہر روز نت نئے چیلنجز جنم لیتے ہیں، وہیں ایک ایسا مسئلہ بھی سر اٹھا رہا ہے جو ہماری سماجی، سیاسی اور معاشی زندگی کو جڑوں سے ہلا رہا ہے، اور وہ ہے "فیک نیوز” یا جھوٹی خبریں۔ اس دور میں جب معلومات کا تبادلہ تیز ترین ہو گیا ہے، فیک نیوز نے ہر سطح پر فتنہ و فساد کو بڑھاوا دیا ہے، جس کا اثر نہ صرف افراد کی ذاتی زندگیوں پر پڑ رہا ہے بلکہ پوری قوم کی اجتماعی ذہن سازی اور امن و امان پر بھی سنگین نتائج مرتب ہو رہے ہیں۔

    فیک نیوز وہ جھوٹ یا غلط معلومات ہیں جو مخصوص مقاصد کے تحت پھیلائی جاتی ہیں، چاہے وہ سیاسی، سماجی، یا معاشی فوائد کے لیے ہو۔ یہ خبریں عام طور پر جذباتی، اشتعال انگیز، یا تضحیک آمیز ہوتی ہیں تاکہ لوگوں کی توجہ حاصل کی جا سکے یا کسی گروہ یا فرد کے خلاف نفرت یا تعصب پیدا کیا جا سکے۔ جب فیک نیوز پھیلتی ہے تو اس سے لوگوں میں غلط فہمیاں اور بدگمانیاں پیدا ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر، ایک جھوٹی خبر کسی خاص قوم، مذہب یا علاقے کے بارے میں شائع کی جاتی ہے جس سے نہ صرف ان افراد کا تشخص مجروح ہوتا ہے بلکہ ایک قوم کے اندر نفرت کا بیج بھی بو دیا جاتا ہے۔ اس سے سماج میں تقسیم اور انتشار بڑھتا ہے۔ فیک نیوز کا سب سے بڑا فائدہ سیاسی جماعتوں یا مفاد پرست افراد کو ہوتا ہے، جو ان جھوٹی خبروں کو مخالفین کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔ یہ خبریں کسی سیاسی رہنما کو بدنام کرنے یا عوام میں حکومتی اقدامات کے خلاف نفرت پیدا کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں، جس کے نتیجے میں سیاسی عدم استحکام پیدا ہوتا ہے۔ فیک نیوز نہ صرف معاشرتی اور سیاسی مسائل پیدا کرتی ہے، بلکہ اقتصادی سطح پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر، جھوٹی اقتصادی خبریں کمپنیوں یا کاروباروں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں، یا سرمایہ کاروں کو جھوٹی افواہوں کی بنیاد پر غلط فیصلے کرنے پر مجبور کر سکتی ہیں۔

    فیک نیوز کا سب سے برا اثر امن و امان پر پڑتا ہے۔ یہ افواہیں اور جھوٹی خبریں فساد اور تشدد کو جنم دیتی ہیں، اور لوگوں کے درمیان نفرت کو بڑھا دیتی ہیں۔ اگر اس کا فوری طور پر خاتمہ نہ کیا جائے تو معاشرتی ہم آہنگی اور امن کا قیام ممکن نہیں ہو سکتا۔ اس لیے فیک نیوز کا خاتمہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ افراد آپس میں محبت، احترام اور امن کے ساتھ رہیں۔ جب جھوٹی خبریں پھیلتی ہیں تو اصل حقائق اور معلومات چھپ جاتی ہیں، جس سے لوگوں کو فیصلے کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ فیک نیوز کا خاتمہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ لوگ صحیح، معتبر اور اصل معلومات تک رسائی حاصل کریں، جس سے ان کے فیصلے بہتر اور جاندار ہوتے ہیں۔ ہر فرد اور ادارہ کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ فیک نیوز کے پھیلاؤ کو روکے اور سچائی کا پرچار کرے۔ اگر ہم سچائی کی ترویج کرتے ہیں اور جھوٹی خبروں کا بائیکاٹ کرتے ہیں تو ہم سماج میں ایک ذمہ دار شہری کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ فیک نیوز کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے قانون کا سختی سے اطلاق ضروری ہے۔ جہاں فیک نیوز کو پھیلانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی ضرورت ہے، وہاں عوامی سطح پر شعور بھی بیدار کرنا ضروری ہے تاکہ لوگ خود فیک نیوز کا شکار نہ ہوں اور ان کو پھیلانے سے گریز کریں۔

    فیک نیوز سے بچنے کے لئے کیا کرنا چاہیے؟
    کسی بھی خبر کو شئیر کرنے سے پہلے اس کی اصل ذرائع کی تصدیق کرنا ضروری ہے۔ آج کل بہت سی ویب سائٹس، سوشل میڈیا اور موبائل ایپلیکیشنز پر خبریں باآسانی پھیلائی جاتی ہیں، لیکن ان کا ہر وقت صداقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ خبر کو صرف اس کے سرخی یا عنوان پر نہ پڑھیں، بلکہ اس کی حقیقت کو جانچیں۔ معتبر اور معروف ذرائع سے ہی خبریں حاصل کریں۔ سوشل میڈیا پر خبروں کو بغیر تحقیق کے شیئر کرنا فیک نیوز کے پھیلاؤ کا سبب بنتا ہے۔ اگر کسی خبر میں کوئی سنسنی خیز بات ہو یا وہ جذبات کو اُبھارے، تو اس کا ممکنہ طور پر جھوٹ ہونا زیادہ ہوتا ہے۔تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ وہ اپنے طلباء کو میڈیا کی سواد پر تعلیم دیں تاکہ وہ فیک نیوز کی حقیقت کو سمجھ سکیں اور اس سے بچ سکیں۔

    فیک نیوز کے پھیلاؤ کا فوری خاتمہ نہ صرف ہمارے معاشرتی، سیاسی اور اقتصادی استحکام کے لیے ضروری ہے بلکہ یہ ہماری نسلوں کے لیے ایک بہتر اور پرامن مستقبل کی ضمانت بھی ہے۔ ہمیں فیک نیوز کے خلاف مشترکہ طور پر جنگ لڑنی ہوگی، تاکہ ہم اپنے معاشرے کو ہر قسم کی فتنہ و فساد سے محفوظ رکھ سکیں۔ اس کے لیے حکومت، میڈیا، اور عوام کو یکجا ہو کر اس کا مقابلہ کرنا ہوگا۔

  • مرد کی دوسری شادی کے بعد پہلی بیوی  کیاکرے؟ تحریر:ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

    مرد کی دوسری شادی کے بعد پہلی بیوی کیاکرے؟ تحریر:ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

    مانا کہ شرعی اجازت ہے مرد صاحبان کو کہ جب چاہئیں لائیں دوسری ، تیسری اور چوتھی بھی ۔
    لیکن کیا یہ سب کرنا اتنا ہی آسان ہے جتنا نظر آتا ہے یا سمجھا جاتا ہے ۔ اس معاملے کو ایک ایسے لینز سے دیکھا جا سکتا ہے جو پدرسری نظام کی تہہ تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
    مرد اور عورت جب ایک گھر کی بنیاد رکھتے ہیں تو پہلا تصور یہ ہے کہ دونوں کے بیچ انسیت تو ہو گی ہی __ محبت کا نام ہم نہیں لیتے کہ محبت کے معیار پہ پورا اترنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ۔
    انسیت کے ساتھ ساتھ اس رشتے کی بنیادی اکائی یہ بھی ہے کہ دونوں اس رشتے سے مخلص ہوں ۔
    کس حد تک اور کیوں ؟
    کیونکہ وہ دونوں جس چھت کے نیچے جسمانی اور جذباتی تعلق بنا کر جن بچوں کو پیدا کرنے جا رہے ہیں ، وہ کسی بھی مشکل پیدا ہونے کے نتیجے میں متاثرین میں شامل ہوں گے اور یہ ذمہ داری ماں باپ پہ ہو گی کہ انہوں نے بچوں کی ذہنی اور جذباتی نشوونما کو متاثر کیا۔
    مخلص ہونے کا سب سے بڑا عنصر سچائی اور ایک دوسرے کے سامنے شفاف انداز سے زندگی بسر کرناہے ۔ کوئی بھی بات معمولی ہو یا سنگین ، اگر دوسرے سے چھپا کر رکھی جائے اور کچھ ایسا کیا جائے جو ساتھی کو قبول نہ ہو، ایک کو دوسرے کا مجرم بنائے گا۔ دھوکا دہی وہ زہر ہے جو اس رشتے کو نہ صرف بدصورت بناتا ہے بلکہ دونوں کی راہ بھی کھوٹی کرتا ہے ۔
    اس کو یوں سمجھیے کہ اگر دونوں میں سے کوئی ایک اپنے ساتھی کو اندھیرے میں رکھتے ہوئے کسی اور کو اپنی زندگی میں شامل کرتا ہے تو دھوکہ دہی کا ارتکاب کرنے والا ہی ذمہ دار ہے ۔
    یہاں اس بات کو مان لینا چاہئے کہ وہ شخص دھوکہ باز نہ سمجھا جاتا اگر وہ اس صورت حال کو اپنے ساتھی کے سامنے رکھتے ہوئے اسے صاف صاف بتاتا:
    سنو ، مجھے کسی اور سے محبت ہو گئی ہے۔
    سنو میں اپنی زندگی کسی اور کے ساتھ گزارنا چاہتا/ چاہتی ہوں۔
    سنو ، ہم دونوں اب مزید ایک دوسرے کے ساتھ نہیں رہ سکتے۔
    سنو ، ہمیں اس رشتے کو ختم کر دینا چاہئے۔
    زبردست بات یہ ہے کہ اس سوچ اور نظریے کو مذہب بھی قبول کرتا ہے۔ ماں کے پیٹ سے اکھٹے تو آئے نہیں کہ جدا نہ ہو سکیں۔ ویسے آج کل تو وہ بھی مشکل نہیں رہا کہ نظریاتی طور پہ مختلف لوگ اپنے خونی تعلق کو بھی نظرانداز کرتے ہوئے اپنی اپنی زندگی جیتے ہیں۔
    سو وہ دونوں جو مختلف گھروں میں پرورش پاکر قانونی طریقے سے اکھٹے ہوئے ہیں وہ اسی قانون کے ذریعے علیحدہ بھی ہو سکتے ہیں۔
    کیا ہے اس میں اچنبھے کی بات ؟
    لیکن پدرسری نظام کے لئے بات ہے اور سنگین ہے۔
    مرد پہلی بیوی کی موجودگی میں دوسری عورت کی زلف کا اسیر ہو جائے اور پہلی بیوی کو اندھیرے میں رکھے ، پدرسری نظام قطعاً خاموش رہتا ہے۔
    مرد پہلی بیوی موجود ہوتے ہوئے دوسری سے خفیہ شادی کرے اور پہلی سے جھوٹ بولتا رہے ،پدرسری نظام پھر بھی نہیں بولتا۔
    مرد جب دوسری شادی کا اعلان کرتے ہوئے یہ بتائے کہ وہ تو ایک بچے کاباپ بھی بن چکا ہے ، پدرسری نظام کے کان پہ جوں نہیں رینگتی۔
    مرد پہلی بیوی کو گھر سے باہر کرے ، لیکن طلاق دے کر آزاد نہ ہونے دے ، تب بھی یہ نظام اونگھتا رہتا ہے۔
    لیکن اس نظام کے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے جب پہلی بیوی سوال وجواب کا سلسلہ شروع کرے،
    تم نے دوسری شادی سے پہلے بتایا کیوں نہیں ؟
    ( پاکستانی قانون کے تحت آپ اس کے پابند ہیں )
    جب تمہیں کسی اور عورت سے محبت ہوئی مجھ سے جھوٹ کیوں بولا ؟
    میں بچوں اور گھر کو سنبھالتی رہی اور تم نے وہ وقت دوسری عورت کے ساتھ گزارا۔ کیوں ؟
    اب میں تمہارے ساتھ نہیں رہنا چاہتی۔
    لیجیے جناب ، عورت کے منہ سے یہ الفاظ مرد پہ برق بن کر گرتے ہیں۔ کیوں ؟ یہ عورت جو میری بیوی ہے فیصلہ کرنے کی مجاز کیوں ؟
    اتنی جرات ؟
    میں مرد ہوں اور مانا کہ کچھ تھوڑا سے جھوٹ اور تھوڑی سی دھوکہ دہی کا مرتکب ہوا ہوں لیکن اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ یہ عورت جمی جمائی گرہستی توڑ دے ۔
    مرد بچہ ہوں ، دو دو گھر با آسانی چلا سکتا ہوں پھر کیوں توڑے یہ اس رشتے کو؟ کیوں نکلنے دوں میں اسے اس پنجرے سے ؟ کیوں ہو اس کی زندگی اس کے اپنے ہاتھ میں ؟
    نہیں میں اسے علیحدہ نہیں ہونے دوں گا۔
    سنو میں تم سے محبت کرتا ہوں …
    محبت ؟ مجھ سے محبت اور وہ دوسری ؟
    ہو گئی محبت اس سے بھی … مرد کر سکتا ہے بار بار محبت …
    اور عورت … کیا وہ نہیں کر سکتی بار بار محبت … کسی اور مرد سے … تنہائی کے ان پہروں میں جب تم دوسری عورت کے ساتھ تھے …
    سنو تمھیں مجھ سے محبت نہیں۔ یہ تو تمہاری زخمی ایگو ہے جو تمہیں اکساتی ہے کہ مجھے اپنے چنگل سے باہر نہ نکلنے دو … بیک وقت دو عورتوں کو اپنے دام الفت میں پھنسا کر رکھو … وہ سب جھوٹ جن کے سہارےتم عرصہ دراز دوسری عورت کے ساتھ وقت گزارتے رہے اور پھر بیاہ رچایا ، کیا وہ جھوٹ وقت کے صفحات سے مٹ جائیں گے ؟ شکستہ آئینۂ دل کیا پہلے سا ہو جائے گا ؟
    نہیں ایسا کچھ بھی نہیں ہو گا۔
    میں وہ عورت نہیں ہوں جو برسوں پہلے تمہاری محبت کے سہارے اپنی زندگی تمہیں دینے آئی تھی۔ اس محبت کو تم نے جھوٹ اور دھوکہ دہی سے داغدار کر دیا۔ وہ داغ اب چھٹ نہیں سکتے۔
    مجھے بقیہ زندگی اپنے بچوں کے سہارے کاٹ لینے دو۔ میرا آسمان اب وہ نہیں جو تمہارا ہے۔ عورت شوہر کے بعد اگر محبت کرتی ہے تو اس شوہر کے نطفے سے پیدا ہونے والے بچوں سے۔
    لیکن بھنورا صفت مرد کو بار بار محبت کے نام پہ ایک نئی عورت کو فتح کرنا ہوتا ہے۔
    سو تمہیں تمہاری نئی فتوحات مبارک۔ میں تمہارا مفتوحہ علاقہ بننے پہ تیار نہیں۔
    پدرسری نظام غیض وغضب سے کھولتے ہوئے اپنے بال نوچ رہا ہے۔
    لیکن مسئلہ کیا محض اتنا ہی ہے؟
    کیا تعلق میں اس دراڑ کا بچوں پر کوئی اثر نہیں پڑتا ؟
    کیا دوسری عورت کے ساتھ ایک الگ گھر میں رہنے والا اور ان کی ماں کو ناانصافی کا شکار بنانے والا اپنے بچوں کا مجرم نہیں ہوتا؟
    کیا وہ ان کا پدری حق نہیں مارتا؟
    کیا پدری حق محض اخراجات پورے کرنے پر ختم ہو جاتا ہے؟
    کیا بچوں کو ماں باپ دونوں کی شفقت اور غیر مشروط قربت درکار نہیں ہوتی؟
    کیا بچوں کی ماں سے جھوٹی محبت کے اظہار سے بچوں کی ذہنی حالت ابتر نہیں ہوتی ؟
    کیا ماں کے متعلق لوگوں کی کھسر پھسر اور تنقید بچوں کو اینگزائٹی میں مبتلا نہیں کرتی ؟
    لیکن جہاں ماں محفوظ نہ ہو، اُسے ہی انسان نا سمجھا جائے، وہاں بچوں کی کیا اوقات

  • جہیز کی کہانی .تحریر:ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

    جہیز کی کہانی .تحریر:ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

    شادی کے بعد پہلا گھر شافی ہسپتال کی چھت پہ بنانے کا ارادہ تو کر لیا__ لیکن سامنے ایک اور مشکل منہ کھولے کھڑی تھی۔
    دیکھیے صاحب اگر ہماری کہانیوں میں ہر موڑ پہ ایک اور کہانی جھانکتی ہوئی نہ ملے ہو تو کیا خاک مزا آئے !
    بہت برسوں سے ہم نے یہ سوچ رکھا تھا کہ جب بھی شادی کا موقع آیا ہم روایتی قسم کا جہیز نہیں لیں گے۔ بات طے ہونے کے بعد جب ہم نے اس بات کا اظہار کیا تو امی ابا پریشان ہو گئے ، یہ کیسے ہو سکتا ہے ہم کیسے خالی ہاتھ تمہیں بھیجیں ؟
    ہم ہر گز خالی ہاتھ نہیں ہیں__ ہمارے ہاتھوں میں ایک بھاری بھرکم ڈگری ہے جو ہر چیز پہ بھاری ہے__ ہم نے کہا ۔
    بیٹا لوگ کیا کہیں گے ؟ امی نے جواب دیا ۔
    لوگوں کی تو ہم نے کبھی پروا ہی نہیں کی __ ہم نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا ۔
    اور سسرال والے ؟ باجی متفکر تھیں ۔
    انہیں ہم کہہ دیں گے کہ ساری چیزیں ہم خود بنائیں گے۔
    اگر انہوں نے تمہیں باتیں سنائیں تو ؟ باجی بدستور مصر ۔
    ارے واہ __ ڈاکٹر بہو کو بات کرنا آسان ہے کیا ؟ ہم نے منہ بناتے ہوئے کہا ۔
    خوب بحثا بحثی ہوئی اور ہم نے کسی کی نہ چلنے دی ۔ آخر میں یہ فیصلہ ہوا کہ جو تحائف ملیں گے وہ ساتھ جائیں گے اور کچھ بنیادی چیزیں ، کم سے کم قیمت میں ۔
    ہم نے کچھ اعلان کیے جو یوں تھے :
    شادی کے لیے کوئی ہال ، میس یا ہوٹل بک نہیں ہوگا ۔ گھر کے سامنے والے گراؤنڈ میں روایتی ٹینٹ لگوا کر دیگیں پکوا لیں گے__ پہلا اعلان ۔
    اور جو تمہاری سہیلیاں وغیرہ آئیں گی … کسی نے سوال کیا ۔
    سہیلیوں نے ہماری شادی پہ ہر حال میں آنا ہے چاہے وہ جنگل میں ہو یا صحرا میں … بے نیازی عروج پہ تھی ۔
    چلیے جناب طے ہو گیا ۔
    مووی نہیں بنے گی .. ایویں ای خواہ مخواہ کا خرچہ __ دوسرا اعلان ۔
    سب کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے کہ پورے گھر میں ہماری جان نکلتی تھی اگر کسی موقعے پہ تصویر اور مووی نہ بنائی جائے ۔
    لیکن وہ تو یادگار ہو گی نا … یاددہانی کروائی گئی ۔
    لڑکے والے لے کر آئیں گے نا .. ہم نے آپ ہی آپ فرض کر لیا ۔
    زیور میں ہم چار ساڑھے چار تولے کا سیٹ لیں گے بس __ تیسرا اعلان ۔ یاد رہے کہ سونا ساڑھے تین ہزار روپے تولہ تھا ۔
    فرنیچر میں بیڈروم سیٹ بنوا لیتے ہیں … صلاح آئی ۔
    ہم نے کچھ دیر کے لئے سوچا __ لکڑی کا تو کافی مہنگا ہو جائے گا … کچھ اور کرنا چاہیے ..کیا کریں ؟ کیا کریں ؟ ارے ہاں داتا دربار کے باہر کین کا فرنیچر ملتا ہے نا وہ لے لیں گے ایک کمرے کے لیے __ چوتھا اعلان ۔
    کیا کین کا بیڈ اور ڈریسنگ ٹیبل ملتی ہے ؟ ایک اور سوال آیا ۔
    نہیں ملتی ہو گی تو آرڈر پہ بنوا لیں گے .. ناممکنات کے متعلق کیوں سوچیں ؟
    شادی کا جوڑا ؟
    بارات پہ وہ لوگ لا رہے ہیں ، ہمیں ولیمے کا بنوانا ہے ۔ کسی کا اچھا سا دیکھ کر کاپی کروا لیں گے __ پانچواں اعلان ۔
    ( اور یہ داستان ہم لکھ چکے ہیں کہ کیسے پینوراما کی ڈیزائنر شاپ سیٹھ کا جوڑا ہم نے سستے داموں انارکلی سے بنوایا )
    اچھا اب تحائف کی فہرست بنا لیتے ہیں :
    فریج – آپا
    کمبل – کوثر باجی
    ڈنر سیٹ پلاسٹک
    ٹوسٹر
    تھرموس
    وال کلاک
    چائے کی پیالیاں
    فوٹو فریم
    کچھ جوڑے کپڑے
    سونے کی انگوٹھی – فرزانہ
    سونے کی انگوٹھی – قمر
    سونے کے ٹاپس – فرحت
    امی ابا سخت فکرمند __ ایسا کیسے چلے گا ؟
    اچھا بہت سے لوگوں نے تحفتا پیسے بھی تو دیے ہیں تو چلو ٹی وی خرید دیتے ہیں ۔
    سب سے چھوٹا خریدیں تاکہ دیے گئے پیسوں میں آجائے __ سولہ انچ ٹی وی سے ہم نے آگے بڑھنے نہیں دیا ۔ اس کی قیمت تھی دس ہزار __سو نقد تحفہ دینے والوں کے نام ٹی وی ہوا۔
    امی نے چوری چوری چار رضائیاں ، دوگدے ، دو تکیے ، دو بیڈ شیٹس ، کچھ کھیس بھی رکھ دیے۔ گلگت سے ایک چھوٹا ڈنر سیٹ گھر کے لیے منگوایا گیا تھا ، وہ بھی شامل کر لیا اور ان سب کو رکھنے کے لیے ایک جستی پیٹی ۔
    لیں ہو گیا جہیز تیار __اب ہم لاہور چلتے ہیں تاکہ کین کا فرنیچر خرید سکیں ۔
    اتنی دیر میں آپ اس سے لطف اُٹھائیے

  • پاکستان میں نوجوان وکلا کے لیے پیشہ ورانہ چیلنجز  .تحریر:صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی

    پاکستان میں نوجوان وکلا کے لیے پیشہ ورانہ چیلنجز .تحریر:صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی

    پاکستان میں وکالت کا شعبہ ہمیشہ سے ایک عزت اور فخر کا ذریعہ رہا ہے، لیکن نئے وکلا کے لیے اس شعبے میں اپنی جگہ بنانا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ خاص طور پر وہ نوجوان وکیل جو اس شعبے میں حال ہی میں قدم رکھتے ہیں، انہیں بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان مسائل کی جڑیں نہ صرف پیشہ ورانہ مشکلات میں بلکہ پاکستان کے معاشی اور سماجی نظام میں بھی موجود ہیں۔

    پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں وسائل کی کمی اور معاشی حالات پیچیدہ ہیں، نوجوان وکلا کے لیے اپنی جگہ بنانا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔ یہاں سرمایہ دارانہ نظام اور سیاسی اثرورسوخ رکھنے والی اشرافیہ کی موجودگی میں، جو وسائل کے مکمل قابض ہیں، نئے آنے والے وکلا کے لیے مشکلات مزید بڑھ جاتی ہیں۔پاکستان میں وکالت کا شعبہ اکثر ایک مخصوص طبقے کے لیے محفوظ سمجھا جاتا ہے، خاص طور پر وہ نوجوان جو وکیل خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ اگر کسی نوجوان کا والد، دادا یا چچا وکیل نہ ہو، تو اس کے لیے وکالت کے میدان میں کامیابی حاصل کرنا ایک مشکل کام بن جاتا ہے۔ اس کے باوجود، اگر وہ نوجوان محنت اور لگن سے اس شعبے میں آنا چاہے تو اسے کئی رکاوٹوں کا سامنا ہوتا ہے۔ ایک طرف تو، کارپوریٹ سیکٹر میں اگر ہم دیکھیں تو اکثر کمپنیوں کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ اپنے قانونی معاملات کے لیے کسی وکیل کو بطور مشیر رکھیں، لیکن دوسری طرف، وہ وکلا جو سیاسی تعلقات رکھتے ہیں، انہیں کئی کمپنیوں کی قانونی مشاورت کا موقع ملتا ہے۔

    پاکستان میں نئے وکلا کے لیے سیکھنے کے مواقع بہت کم ہیں۔ ایک نوجوان وکیل کو ایل ایل بی مکمل کرنے کے بعد کسی تجربہ کار وکیل کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ عملی میدان میں اپنی صلاحیتوں کو آزما سکے۔ تاہم، اکثر سینئر وکلا کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ وہ نئے وکلا کو مکمل تربیت دے سکیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بہت سے سینئر وکلا پہلے ہی اپنی پریکٹس میں مصروف ہوتے ہیں اور ان کے پاس نئے وکلا کو سکھانے کا وقت نہیں ہوتا۔ اس وجہ سے اکثر نوجوان وکلا کو اپنی جگہ بنانے میں کئی سال لگ جاتے ہیں۔پاکستان میں وکلا کی سیاست بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ نئے وکلا جو بار کے انتخابات میں حصہ نہیں لیتے، انہیں اپنی جگہ بنانے میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وکلا کی سیاست میں بہت زیادہ پیسہ خرچ ہوتا ہے اور نوجوان وکلا کے لیے یہ رقم سیاست میں حصہ ڈالنا ممکن نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ سے وکلا کی سیاست میں صرف وہ لوگ کامیاب ہوتے ہیں جو پہلے سے مالی طور پر مضبوط ہوتے ہیں۔

    پاکستان میں بہت سے نوجوان وکلاء اس بات سے بے خبر ہوتے ہیں کہ وکالت کا پیشہ صرف قانون کا علم رکھنے کا نہیں بلکہ اس میں اخلاقی اصولوں کی پیروی کرنا بھی ضروری ہے۔ وکلا کے پیشے میں بے شمار چیلنجز ہوتے ہیں جن میں سے ایک بڑی چیلنج پیشہ ورانہ ساکھ کا ہے۔ بہت سے وکلا فیس کا معاملہ، کیسز کی مقدار اور دیگر مالی معاملات پر زیادہ توجہ دیتے ہیں اور اس کے نتیجے میں پیشہ ورانہ معیار میں کمی آتی ہے۔اگرچہ پاکستان میں نوجوان وکلا کو بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے، لیکن اس کے باوجود اس شعبے میں کامیابی کے لیے کئی مواقع بھی موجود ہیں۔ ان مواقع کا فائدہ اٹھا کر نوجوان وکیل اپنے لیے ایک کامیاب مستقبل بنا سکتے ہیں۔

    پاکستان کے بڑے شہروں میں جہاں پہلے سے بڑی وکیل برادری موجود ہے، وہاں نوجوان وکلا کے لیے مقابلہ بہت سخت ہے۔ لیکن دیہاتی علاقوں اور چھوٹے شہروں میں ابھی تک وکالت کے شعبے میں اتنی ترقی نہیں ہوئی۔ ایسے علاقوں میں نوجوان وکلا کے لیے اپنی جگہ بنانا نسبتاً آسان ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، دیہاتی علاقوں میں عدالتیں بھی کم ہیں اور وہاں کی عوام کو قانونی مدد کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے، جس سے نوجوان وکلا کو کام کے مواقع ملتے ہیں۔دنیا بھر میں وکالت کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھ رہا ہے اور پاکستان میں بھی یہ رجحان بڑھ رہا ہے۔ نوجوان وکلا آن لائن وکالت کے ذریعے اپنے کیسز کو موثر انداز میں حل کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، سوشل میڈیا اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر وکالت کی خدمات فراہم کرنے کے ذریعے نئے وکلا اپنے آپ کو مارکیٹ کر سکتے ہیں۔ لیکن بار کونسل کی طرف سے پابندی کے وکیل اپنی مارکیٹ نہیں کر سکتا جب کہ ہورپ امریکہ میں ایسا نہیں ہے۔

    پاکستان میں نئے وکلا کو مزید سہولت دینے کے لیے حکومت یا مختلف وکلا کی تنظیمیں اسکالرشپ اور تربیتی پروگرامز فراہم کر سکتی ہیں۔ یہ پروگرامز نہ صرف مالی مدد فراہم کرسکتی ہیں بلکہ نئے وکلا کو تربیت دینے کا بھی موقع فراہم کرسکتے ہیں۔ نوجوان وکلا اگر ان پروگرامز کا حصہ بنیں، تو ان کے لیے سیکھنے اور اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو نکھارنے کا موقع مل سکتا ہے۔اس حوالے سے پنجاب بار کونسل نے ٹریننگ پروگرام شروع کیا جو کہ خوش آ ئندہے۔پاکستان میں نوجوان وکلا کے مسائل کا حل ممکن ہے، لیکن اس کے لیے چند اہم اقدامات کی ضرورت ہے۔ نوجوان وکلا کے لیے انٹرنشپ پروگرامز کا آغاز کیا جانا چاہیے تاکہ وہ عملی میدان میں کام کرنے کا تجربہ حاصل کر سکیں۔ جیسے ہی کوئی نوجوان وکیل وکالت کے پیشے میں قدم رکھتا ہے، اس کو ایک ماہانہ سکالرشپ دی جانی چاہیے تاکہ وہ اپنے مالی مسائل سے نمٹ سکے اور اپنی تعلیم اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بہتر بنا سکے۔نوجوان وکلا کو اخلاقی اصولوں کی تربیت دی جانی چاہیے تاکہ وہ اپنے پیشے میں صرف قانونی علم پر ہی انحصار نہ کریں بلکہ اپنے کام میں ایمانداری اور پیشہ ورانہ ساکھ کو بھی برقرار رکھیں۔وکلا کی سیاست میں روپے کے استعمال اور سیاسی تعلقات کی بجائے پیشہ ورانہ معیار کو اہمیت دی جانی چاہیے تاکہ صرف اہل وکلا کو ہی اہمیت ملے۔

    پاکستان میں نوجوان وکلا کے لیے پیشہ ورانہ چیلنجز اور مواقع دونوں موجود ہیں۔ اگر ان چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے مناسب اقدامات کیے جائیں، تو یہ نوجوان وکلا نہ صرف اپنے لیے کامیاب کیریئر بنا سکتے ہیں بلکہ پورے معاشرے میں انصاف کی فراہمی میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ نوجوان وکلا کو صرف قانونی علم ہی نہیں بلکہ پیشہ ورانہ اخلاقی تربیت اور مالی مدد کی بھی ضرورت ہے تاکہ وہ اس شعبے میں اپنی جگہ بنا سکیں اور اپنے خاندانوں اور ملک کے لیے مفید ثابت ہو سکیں۔

  • معاشرتی تبدیلی کا واحد رستہ،خود احتسابی

    معاشرتی تبدیلی کا واحد رستہ،خود احتسابی

    آج کے دور میں ہم جس معاشرتی، اقتصادی اور ثقافتی بحران کا سامنا کر رہے ہیں، اس کا ایک بڑا سبب یہ ہے کہ ہم اپنے آپ کو بدلنے کی بجائے دوسروں کی غلطیوں پر انگلیاں اٹھاتے ہیں۔ ہمارے معاشرتی رویے، اخلاقی معیار، اور ریاستی ذمہ داریوں کا لحاظ نہ کرنے کا نتیجہ یہ ہے کہ ہمارا سسٹم اور معاشرہ مسلسل بدعنوانی، ناانصافی اور عدم مساوات کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اس صورت حال کا حل ایک سادہ سا اصول ہے: "سسٹم اور معاشرے کو بدلنے کے لیے پہلے خود کو بدلنا ہوگا”۔

    آج بھی ہمارے معاشرے میں جہیز کا مسئلہ انتہائی حساس اور سنگین ہے۔ لڑکوں کی طرف سے یہ بات کبھی نہیں سنی جاتی کہ انہیں جہیز نہیں چاہیے یا وہ اس نظام کی مخالفت کرتے ہیں۔ یہ ایک المیہ ہے کہ لڑکوں کو یہ بات سمجھانے کی بجائے لڑکیوں پر جہیز دینے کا دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ لڑکے اور لڑکیاں دونوں کو اس بات کا ادراک کرنا ہوگا کہ یہ ایک غلط رسم ہے جو نہ صرف معاشرتی عدم مساوات کو بڑھاتی ہے، بلکہ اخلاقی طور پر بھی غلط ہے۔

    جہاں لڑکوں کی طرف سے جہیز کے حوالے سے خاموشی ہے، وہیں لڑکیاں دوسری شادی کی افادیت پر بات کرنے سے کتراتی ہیں۔ اس حقیقت کو تسلیم کرنے کی بجائے کہ معاشرتی اور اقتصادی حالات میں تبدیلیاں آتی رہتی ہیں، ہم اس بات کو صرف افسوس کے ساتھ نظر انداز کرتے ہیں۔ لڑکیاں چاہتی ہیں کہ وہ دوسری شادی کے بارے میں کوئی تبصرہ نہ کریں، کیونکہ انہیں ڈر ہوتا ہے کہ اس سے ان کی عزت پر سوال اٹھ سکتے ہیں۔

    ہمارے معاشرتی ڈھانچے میں ایک اور خامی یہ ہے کہ بھائی بہنوں کی وراثت پر بات کرنے سے کتراتے ہیں۔ وراثت کا حق ہر فرد کا ہوتا ہے، چاہے وہ مرد ہو یا عورت، لیکن ہمارے معاشرے میں مردوں کو یہ حق دیا جاتا ہے کہ وہ بہنوں کی وراثت میں حصہ نہ دیں۔ اس مسئلے پر بات کرنا یا اس کے حل کے لیے کوئی قدم اٹھانا ہر کسی کی نظر میں "غیر ضروری” سمجھا جاتا ہے۔

    مختلف کاروباری طبقے میں موجود افراد، خصوصاً سیٹھ لوگ، حرام کمائی سے منسلک مسائل پر بات کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ حرام کی کمائی کو چھپانے کی کوشش کرنا اور اس پر گفتگو سے بچنا ایک بہت بڑا مسئلہ ہے، کیونکہ اس سے ہمارے معاشرتی اصول اور اخلاقیات کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔

    مزدور طبقے کا کام ہمارے معاشرے میں ہمیشہ پس پشت رہتا ہے۔ جب محنت اور جدوجہد کی بات ہوتی ہے، تو زیادہ تر افراد یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا کام صرف اپنے گھریلو معاملات تک محدود ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ محنت کرنے والے ہی معاشرتی ترقی کا بنیادی ستون ہیں۔

    ایک اور مسئلہ جو ہمارے معاشرتی رویوں میں پایا جاتا ہے وہ بیویوں کی طرف سے صرف شوہر کی ذمہ داریوں پر زور دینا ہے۔ وہ چاہتی ہیں کہ شوہر صرف ان کی ضروریات پوری کرے، لیکن انہیں اس بات کا ادراک نہیں کہ شوہر کے بھی کچھ حقوق ہیں اور دونوں کے درمیان توازن ہونا ضروری ہے۔ اس کے برعکس، شوہر بھی اپنے حقوق پر زور دیتے ہیں، اور ایک دوسرے کے حقوق کا خیال نہ رکھنے کی وجہ سے رشتہ اکثر تناؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔

    ایک اور اہم پہلو شہریوں اور ریاست کے تعلقات کا ہے۔ شہری اپنی ریاستی ذمہ داریوں کو سنجیدہ نہیں لیتے، اور ریاست بھی اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہو جاتی ہے۔ ریاست صرف قوانین بنانے تک محدود ہو کر رہ جاتی ہے، جبکہ اس کے شہریوں کے حقوق کا تحفظ ایک بنیادی فرض ہے، جسے نظرانداز کیا جا رہا ہے۔

    ان تمام مسائل کی جڑ دراصل خود احتسابی میں چھپی ہوئی ہے۔ اگر ہم اپنے اندر تبدیلی لانے کی کوشش کریں اور یہ تسلیم کریں کہ معاشرتی مسائل میں ہر فرد کا کردار ہوتا ہے، تو ہم سسٹم کی تبدیلی کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کر سکتے ہیں۔ خود احتسابی کا مطلب یہ ہے کہ ہم سب اپنی غلطیوں کو تسلیم کریں اور ان پر قابو پانے کی کوشش کریں۔ اگر ہر فرد اپنے آپ کو بہتر بنانے کی کوشش کرے، تو مجموعی طور پر سسٹم اور معاشرتی ڈھانچہ بھی بہتر ہو گا۔ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ معاشرتی تبدیلی کا آغاز ہم سے ہی ہوتا ہے۔ جب تک ہم اپنی ذاتی زندگیوں میں تبدیلی نہیں لائیں گے، تب تک معاشرتی سسٹم میں تبدیلی ممکن نہیں۔ خود احتسابی کی بنیاد پر ہم اپنے رویوں، اخلاقیات اور ذمہ داریوں کو بہتر بنا سکتے ہیں، اور اس کے نتیجے میں ایک مضبوط، خوشحال اور انصاف پسند معاشرہ قائم کر سکتے ہیں۔ اس راستے پر چلنے کے لیے ہمیں اپنے اندر کی خودی کو بیدار کرنا ہوگا تاکہ ہم ایک صحت مند اور کامیاب قوم کی تشکیل میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔

  • وقت کبھی واپس نہیں آتا.تحریر:نبیلہ اکبر

    وقت کبھی واپس نہیں آتا.تحریر:نبیلہ اکبر

    دنیا میں سب سے قیمتی چیز وقت ہے، کیونکہ وقت وہ چیز ہے جو کبھی واپس نہیں آتا، جو گزرا وہ ہمیشہ کے لئے گزر گیا۔ زندگی میں سب سے قیمتی چیز وہ وقت ہوتا ہے جو ہم کسی کو دیتے ہیں، وہ لمحے جو ہم کسی کی خوشی میں شریک ہونے کے لئے وقف کرتے ہیں، وہ لمحے جو ہم کسی کی مدد کرنے یا اُس کے ساتھ گزارنے کے لئے نکالتے ہیں۔ اور وہ وقت جو ہم اپنے عزیزوں، دوستوں یا کسی دوسرے انسان کے ساتھ گزارتے ہیں، وہ وقت جو ہمارے لئے نہ صرف ایک یاد بن کر رہ جاتا ہے بلکہ ایک نشان بن کر ہمارے دل میں محفوظ ہو جاتا ہے۔

    وقت کی قیمت کا اندازہ تب ہوتا ہے جب ہمیں یہ پتا چلتا ہے کہ وہ شخص جس کے ساتھ ہم نے اپنا وقت گزارا، وہ دراصل ہمارا وقت ضائع کرنے والا نہیں، بلکہ ہمارے لئے اہم اور قیمتی ہے۔وقت ہمیشہ اسی کو دیا جاتا ہے جس کی اہمیت ہو، کیونکہ انسان ہمیشہ اپنی ترجیحات کے مطابق وقت گزارتا ہے۔ اگر آپ کسی کے لیے اہم ہیں، تو وہ شخص آپ کے ساتھ وقت گزارنے کی ہر ممکن کوشش کرے گا، چاہے وہ کتنی ہی مصروفیت میں کیوں نہ ہو۔ ہم سب کے پاس دن کے 24 گھنٹے ہیں، لیکن ہر شخص کے لئے وقت کی قدر مختلف ہوتی ہے۔ جو لوگ ہمارے لئے اہم ہوتے ہیں، وہ ہمیں وقت دیتے ہیں، اور جو ہم سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں، وہ ہمارے ساتھ وقت گزارتے ہیں۔

    اگر کوئی شخص آپ سے محبت کرتا ہے، تو وہ کبھی بھی آپ سے بات کرنے کے لئے وقت نکالنے میں عذر نہیں کرے گا۔ محبت میں وقت کی کمی نہیں ہوتی، بلکہ یہ ایک ترجیح ہوتی ہے۔ اگر کوئی شخص آپ سے محبت کرتا ہے اور وہ ہمیشہ آپ کو اپنی مصروفیات کا بہانہ دے کر آپ سے وقت نہیں گزارتا، تو پھر یہ ایک سنگین بات ہے کہ اس کی محبت میں سچائی کہاں ہے۔دیکھا گیا ہے کہ جو شخص آپ سے محبت کے بجائے وقت کی کمی کا بہانہ بناتا ہے، وہ دراصل آپ کی اہمیت کو کم سمجھتا ہے۔ ایسی صورتحال میں جب آپ کسی کے لئے اہم نہیں ہوتے، تو آپ کو اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ وہ شخص دراصل آپ کے ساتھ وقت گزارنے کی بجائے دوسری ترجیحات میں مصروف ہے۔اگر کوئی شخص آپ کے ساتھ وقت گزارنے میں دلچسپی نہیں رکھتا، تو یہ سوچنے کا وقت ہے کہ کیا واقعی وہ شخص آپ کی زندگی میں اہم ہے؟ یا وہ صرف وقت گزاری کے لئے آپ کے ساتھ ہے؟ زندگی میں ایسے لوگ کم ہی ہوتے ہیں جو اپنی مصروفیتوں کے باوجود آپ کے ساتھ وقت گزاریں اور اس وقت کو آپ کی خوشی میں بدل دیں۔

    اگر آپ سے کسی کی محبت سچی ہو، تو وہ شخص کبھی نہیں کہے گا کہ وہ آپ سے بات کرنے یا آپ کے ساتھ وقت گزارنے کے لئے مصروف ہے۔ محبت کا رشتہ وقت کی فراہمی کے بغیر قائم نہیں رہ سکتا۔ آپ کا وقت کسی کے لئے سب سے قیمتی تحفہ ہوتا ہے، اور اگر وہ شخص آپ کو اپنا وقت دے رہا ہے، تو وہ دراصل آپ کی زندگی میں اپنی اہمیت کا مظاہرہ کر رہا ہے۔یاد رکھیں، محبت اور وقت کا رشتہ بہت گہرا ہے۔ اگر کوئی آپ سے محبت کرتا ہے، تو وہ آپ کے ساتھ وقت گزارے گا، اور اگر کوئی آپ کے ساتھ وقت گزارنے سے گریز کرتا ہے، تو یہ ایک اشارہ ہے کہ وہ شاید آپ کی زندگی میں اتنی اہمیت نہیں رکھتا جتنا آپ نے سوچا تھا۔

    آخرکار، وقت کی قیمت کا اندازہ ہمیں اُس وقت ہی ہوتا ہے جب ہم اسے گنوا چکے ہوتے ہیں۔ ہم اپنے قریبی لوگوں سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ ہمیں وقت دیں گے، لیکن ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ اگر ہم کسی سے وقت نہ لیں، تو پھر ہم بھی اس کی زندگی میں کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔اگر آپ کو کسی کا وقت نہیں مل رہا، تو اسے بہانہ سمجھیں اور اس شخص سے اپنے تعلقات کا دوبارہ جائزہ لیں۔ دنیا میں محبت کے رشتہ کو صرف وقت کی فراہمی سے ناپا جا سکتا ہے۔ اس لئے وقت کی قدر کریں اور وہ وقت گزاریوں میں نہ گم ہوں جو آپ کی اہمیت کو کم کریں۔یاد رکھیں، "وقت کبھی واپس نہیں آتا”، لہذا اس کا استعمال درست طریقے سے کریں۔ اپنے قریبی لوگوں کے ساتھ وقت گزاریں اور ان لوگوں کے ساتھ تعلقات استوار کریں جو آپ کی اہمیت اور وقت کو قدر دیں۔

  • محبت کے نام پر….تحریر:نورالعین

    محبت کے نام پر….تحریر:نورالعین

    محبت ایک نازک اور قیمتی جذبہ ہے جو انسان کے دل میں عمیق اثرات مرتب کرتا ہے۔ یہ ایک ایسا رشتہ ہے جو دلوں کو قریب کرتا ہے، ایک دوسرے کو سمجھنے اور سہارا دینے کی طاقت رکھتا ہے۔ لیکن جب نوجوانوں میں اس جذبے کی حقیقت اور ذمہ داری کی سمجھ نہیں ہوتی، تو یہ نہ صرف ان کی اپنی زندگیوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے، بلکہ دوسروں کی زندگیوں میں بھی مایوسی اور درد پیدا کرسکتا ہے۔

    آج کے دور میں، خصوصاً سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل کمیونیکیشن کے بڑھتے ہوئے رجحان کی وجہ سے نوجوانوں کے درمیان محبت کے جذبات اور تعلقات میں پیچیدگیاں پیدا ہو چکی ہیں۔ بہت سے نوجوان صرف احساسات کی بنا پر، یا کسی جذبے کو وقتی تسکین کے طور پر اپنے اندر ایک گہرا تعلق قائم کر لیتے ہیں۔ لیکن جب یہ تعلقات حقیقی قوتِ ارادی اور خودمختاری کے بغیر قائم ہوں، تو یہ کسی کے جذبات کے ساتھ کھیلنے کا سبب بن سکتے ہیں۔

    جب آپ زندگی میں کسی مقصد کو حاصل کرنے کے لئے خود پر یقین رکھتے ہیں اور اپنے فیصلے خود کرنے کی طاقت رکھتے ہیں، تو آپ کے اندر ایک مضبوط اور پائیدار کردار ہوتا ہے۔ نوجوانوں کو اپنی طاقتوں کو پہچاننا چاہئے اور زندگی میں کامیاب ہونے کے لئے اپنے والدین کی دعاؤں اور رہنمائی کا سہارا لینا چاہئے۔ آپ کے اندر اگر خودداری اور خودمختاری کی قوت ہے، تو آپ کسی اور کے جذبات کے ساتھ کھیلنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔اگر آپ اپنی زندگی میں کامیابی چاہتے ہیں اور کسی مقصد کو حاصل کرنے کی آرزو رکھتے ہیں، تو سب سے پہلے آپ کو اپنے اندر مضبوط ارادہ اور نیک نیتی پیدا کرنی ہوگی۔ محبت کا اظہار اور تعلقات کا آغاز سچائی اور ایمانداری سے ہونا چاہئے، نہ کہ وقتی خواہشات کی تسکین کے لئے۔

    جب آپ میں یہ احساس ہو کہ آپ کی زندگی میں نہ تو فیصلوں کی طاقت ہے، نہ کچھ کر گزرنے کا حوصلہ، اور نہ ہی آپ اپنے فیصلوں کے مطابق زندگی گزارنے کی سکت رکھتے ہیں، تو پھر کسی دوسرے شخص کو اپنے ساتھ جذباتی طور پر جوڑنا اور انہیں گمراہ کرنا ایک سنگین بات ہے۔محبت ایک حساس اور نازک جذبہ ہے، جس سے نہ صرف آپ کی زندگی متاثر ہو سکتی ہے، بلکہ دوسرے شخص کی زندگی پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ نوجوانوں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ضروری ہے، خاص طور پر جب بات محبت کے رشتہ کی ہو۔اگر آپ خود اپنی زندگی میں واضح سمت اور مقصد نہیں رکھتے، تو کسی دوسرے شخص کو اپنے ساتھ جذباتی تعلق میں اُلجھانا، اس کے لئے نہ صرف وقت کا ضیاع ہے بلکہ اس کے جذبات اور خوابوں کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔

    کامیاب اور پائیدار رشتہ وہی ہوتا ہے جو دونوں فریقوں کی باہمی سمجھ بوجھ اور احترام پر قائم ہو۔ اگر آپ اپنی زندگی میں محبت کے بارے میں سوچ رہے ہیں، تو یہ ضروری ہے کہ آپ اپنے فیصلوں کو ذمہ داری کے ساتھ کریں۔ اگر آپ ابھی تک اپنی زندگی کے اہم فیصلے خود نہیں کر پائے، اور آپ کے اندر اتنی قوت نہیں کہ آپ اپنے راستے کا تعین کریں، تو پھر محبت کا رشتہ یا جذباتی تعلق کسی کے لئے بھی نہ بنائیں۔اس کے بجائے، اپنی توانائی کو اپنے مقاصد کے حصول، تعلیم اور ذاتی ترقی میں لگائیں۔ جب آپ خود کو بہتر بنائیں گے، تو آپ کے اندر ایسا جذبہ پیدا ہوگا کہ آپ ایک نیک، سمجھدار اور پائیدار رشتہ قائم کرسکیں گے۔

    والدین کا کردار یہاں بہت اہم ہے۔ جب آپ خود اپنی زندگی کے فیصلے کرنے کی قوت رکھتے ہیں اور اپنے والدین کی دعاؤں اور رہنمائی کو اپنی زندگی کا حصہ بناتے ہیں، تو آپ کا راستہ مزید روشن ہوتا ہے۔ نوجوانوں کو اپنی والدہ اور والد کی باتوں کو سننا اور ان کے تجربات سے سیکھنا چاہیے۔ والدین وہ لوگ ہیں جو آپ کی فلاح و بہبود کے لئے ہمیشہ فکر مند رہتے ہیں اور ان کی دعائیں آپ کی زندگی کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔یہ ضروری ہے کہ ہم محبت اور عزت کے فرق کو سمجھیں۔ محبت صرف ایک جذبہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک بہت بڑی ذمہ داری اور احترام کا رشتہ ہوتا ہے۔ کسی کے جذبات سے کھیلنے کے بجائے، ہمیں ان کی عزت اور حقوق کا خیال رکھنا چاہیے۔ ایک ذمہ دار شخص اپنے رشتہ میں محبت اور عزت دونوں کو اہمیت دیتا ہے۔

    یاد رکھیں، محبت ایک خوبصورت چیز ہے، لیکن اس کا استعمال صحیح طریقے سے کرنا ضروری ہے۔ جب آپ میں قوتِ فیصلہ سازی اور زندگی کے اہم فیصلے کرنے کا حوصلہ ہو، تب ہی آپ کسی دوسرے کے دل اور جذبات کے ساتھ کھلواڑ کرنے کا سوچ سکتے ہیں۔ نوجوانوں سے درخواست ہے کہ وہ اپنی زندگی کے فیصلے بڑے غور و فکر سے کریں اور کسی دوسرے کی زندگی کو اپنی غیر ذمہ داری سے متاثر نہ کریں۔آخر کار، محبت اور رشتہ ایک خوبصورت ذمہ داری ہے، اور اس کا احترام اور درست استعمال ہی آپ کی زندگی کو کامیاب بناتا ہے۔