Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پی ٹی ایم اور بی وائی سی کے خلاف فیصلہ کن اقدامات  ضروری.تحریر:عاصمہ بنگش

    پی ٹی ایم اور بی وائی سی کے خلاف فیصلہ کن اقدامات ضروری.تحریر:عاصمہ بنگش

    حکومت کو پاکستان کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے پی ٹی ایم اور بی وائی سی کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کرنے چاہئیں

    حالیہ واقعات، خصوصاً خیبر پختونخوا میں پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے ارکان کی جانب سے مبینہ طور پر ایک پولیس گاڑی کو نذرِ آتش کرنے کا واقعہ، اسے محض ایک وقتی غصے کا اظہار سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ واقعہ، اور اس جیسے بے شمار دوسرے واقعات، پی ٹی ایم کی دشمنانہ کارروائیوں میں ایک خطرناک اضافہ کی عکاسی کرتے ہیں ایک تحریک جو حقوق کے لیے جدوجہد سے بڑھ کر انتہاپسندی کی حدود پار کر چکی ہے۔ پی ٹی ایم کے دہشت گرد نیٹ ورکس، خاص طور پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے بڑھتے ہوئے تعلقات پاکستان کی خودمختاری کے لیے براہِ راست اور سنگین خطرہ ہیں۔ حکومت کو اب صرف ان عناصر کو قابو میں رکھنے کے بجائے، ایک زیادہ جارحانہ اور جامع حکمت عملی اپنانی ہو گی تاکہ ان نیٹ ورکس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے۔

    پی ٹی ایم نے بارہا پاکستان کے قوانین کی خلاف ورزی کی ہے اور ریاست مخالف قوتوں کا سہولت کار ثابت ہوئی ہے۔ اپنے آغاز سے ہی اس تحریک نے اندرونی اور بیرونی دشمن عناصر کے ساتھ سازباز کی ہے تاکہ ملک کو غیر مستحکم کیا جا سکے۔ پی ٹی ایم کے ٹی ٹی پی سے تعلقات کے شواہد بارہا سامنے آ چکے ہیں، جن میں ٹی ٹی پی کے کارندوں کو پی ٹی ایم کے اجتماعات میں کھلم کھلا شرکت کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ یہ محض ایک حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والی تنظیم نہیں، بلکہ ایک ایسا گروہ ہے جس نے دہشت گرد عناصر کے ساتھ مل کر ملک کو توڑنے کی کوشش کی ہے۔ پی ٹی ایم پر انسداد دہشت گردی ایکٹ (اے ٹی اے) کے تحت پابندی عائد کرنے کا حکومتی اقدام نہ صرف ضروری تھا بلکہ اس میں تاخیر بھی ہو چکی تھی۔

    مزید برآں، پی ٹی ایم کے غیر ملکی دشمن ایجنسیوں، خصوصاً افغانستان کے ساتھ گہرے روابط، صورتحال کو مزید سنگین بناتے ہیں۔ افغانستان کی جانب سے پی ٹی ایم کو خفیہ حمایت حاصل ہونے کی وجہ سے اس تحریک کی بیان بازی اور اقدامات پاکستان کے بجائے افغانستان کے مفادات کی خدمت کرتے نظر آتے ہیں۔ کوئی بھی خودمختار ملک ایسی تحریک کو برداشت نہیں کر سکتا جو بیرونی طاقتوں اور دہشت گرد گروہوں کے لیے پراکسی کے طور پر کام کرے۔ پی ٹی ایم اب محض ایک مقامی مسئلہ نہیں رہا، بلکہ یہ ایک وسیع تر اور خطرناک نیٹ ورک کا حصہ ہے جو پاکستان کو اندر سے کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    اسی طرح، بلوچستان میں بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی طرف سے لاحق خطرہ بھی اتنا ہی تشویشناک ہے۔ جیسے پی ٹی ایم کے ٹی ٹی پی کے ساتھ روابط ہیں، ویسے ہی بی وائی سی کے بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے تشویشناک تعلقات سامنے آئے ہیں، جو کہ ایک بدنام زمانہ دہشت گرد تنظیم ہے اور عام شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر بے شمار حملوں کی ذمہ دار ہے۔ دونوں گروہ اپنے آپ کو "حقوق کی جدوجہد” کی زبان میں پیش کرتے ہیں، لیکن ان کے اعمال ایک اور تاریک ایجنڈے کی نشاندہی کرتے ہیں: علیحدگی، انتہاپسندی، اور تشدد۔

    ماہ رنگ بلوچ کون،دو نمبر انقلاب اور بھیانک چہرہ

    بلوچستان میں دہشتگردانہ حملے اور بھارتی میڈیا کا شرمناک کردار بے نقاب

    وقت آ گیا ہے دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ کیا جائے،وزیراعظم

    بلوچستان میں دو بھائیوں سمیت لیہ کے 4 شہری نشانہ بنے

    ماہ رنگ بلوچ کا احتجاج ،دھرنا عوام نے مسترد کر دیا

    ماہ رنگ بلوچ پیادہ،کر رہی ملک دشمنوں کے ایجنڈے کی تکمیل

    مظاہرین کے گوادر جانے کا مقصد تھا کہ سی پیک کو روک دیں،وزیراعلیٰ بلوچستان

    کسی بلیک میلنگ میں آکر قومی سلامتی داو پر نہیں لگا سکتے،وزیر داخلہ بلوچستان

    ماہ رنگ بلوچ کا مارچ ناکام: بلوچستان میں اسمگلرز مافیا کی سازش بے نقاب

    مسنگ پرسن کے نام پر بلوچ یکجہتی کمیٹی کی ملک دشمنی،ماہ رنگ بلوچ کا گھناؤنا منصوبہ

    ”بلوچ یکجہتی کونسل“ کےاحتجاجی مظاہرے کی حقیقت

    حکومت نے پی ٹی ایم پر پابندی لگا کر درست قدم اٹھایا ہے، لیکن اب اسے بی وائی سی کے خلاف بھی اسی طرح کے فیصلہ کن اقدامات کرنے ہوں گے۔ پی ٹی ایم کی طرح، بی وائی سی بھی حقوق کی جنگ کی آڑ میں دہشت گردی اور ریاست کی تقسیم کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہی ہے۔ حکومت کو یہ واضح کرنا ہو گا کہ کوئی بھی تنظیم، چاہے وہ اپنے مقصد کو کیسے بھی پیش کرے، دہشت گرد گروہوں جیسے بی ایل اے کی حمایت یا فروغ کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    پاکستان کی سلامتی اور علاقائی سالمیت داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ پی ٹی ایم اور بی وائی سی صرف مقامی مسائل کی تحریکیں نہیں ہیں، بلکہ یہ غیر ملکی عناصر کی مدد سے چلنے والے بڑے منصوبے کا حصہ ہیں، جو ملک کو غیر مستحکم کرنے کے درپے ہیں۔ ریاست کو فوری اور بھرپور طاقت کے ساتھ ان گروہوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہو گا تاکہ ان کے ایجنڈے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے سے پہلے ہی ناکام بنائے جا سکیں۔

    اگرچہ حکومت نے دہشت گردی کے خاتمے میں نمایاں پیش رفت کی ہے، لیکن ان تحریکوں کے پیچھے موجود ماسٹر مائنڈز کو بے اثر کرنے کے لیے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ پی ٹی ایم اور بی وائی سی کے کلیدی رہنماؤں کو جوابدہ ٹھہرانا ہوگا، اور ریاست کو اپنے تمام وسائل استعمال کرتے ہوئے انہیں انصاف کے کٹہرے میں لانا ہو گا۔ بہت زیادہ عرصے سے ان تنظیموں کو نظرانداز کیا گیا ہے، جنہوں نے اپنی انتہاپسندانہ نظریات کو فروغ دیا اور انتشار کو ہوا دی۔

    اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کسی بھی ایسے گروہ کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائے جو ملک کی خودمختاری کو کمزور کرنے کی کوشش کرے۔ پی ٹی ایم پر حالیہ پابندی ایک ضروری پہلا قدم تھا، لیکن بی وائی سی کو بھی اسی انجام کا سامنا کرنا چاہئے۔ یہ تنظیمیں، جو دشمن طاقتوں اور دہشت گرد گروہوں کی پشت پناہی سے چل رہی ہیں، کو بغیر کسی روک ٹوک کے اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ حکومت کو فوری اور فیصلہ کن اقدامات کرتے ہوئے ان نیٹ ورکس کو ختم کرنا ہو گا اور ملک کے مستقبل کا تحفظ کرنا ہو گا.

    کالعدم فتنتہ الخوارج اور پی ٹی ایم کارندے کی ہوشربا کال منظر عام

    خیبرپختونخوا حکومت کا کالعدم پی ٹی ایم کی سرگرمیوں پر سخت پابندی کا اعلان

    پی ٹی ایم کے ساتھ بیٹھنے والوں کے شناختی کارڈ بلاک ہوں گے، محسن نقوی

    پشاور ہائی کورٹ اور خیبر ڈسٹرکٹ کورٹ کے فیصلے: کالعدم پی ٹی ایم سے متعلق پٹیشنز

    کالعدم پی ٹی ایم جرگہ،ٔپولیس کا دھاوا،متعدد گرفتار

    خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین پر پی ٹی ایم کے جلسے میں شرکت کی پابندی: نوٹیفکیشن جاری

    عطا تارڑ کا پی ٹی ایم پر کالعدم تنظیموں سے روابط کا الزام

    ملک دشمن تنظیم پی ٹی ایم کی حمایت میں فتنہ الخوارج سامنے آ گیا

  • اردو شاعری کی نفاست

    اردو شاعری کی نفاست

    اردو شاعری کی نفاست

    اردو شاعری کی ایک گہری اور پیچیدہ شکل ہے، جو اپنی خوبصورتی اور گہرائی کے لیے مشہور ہے۔ اس فن میں مہارت حاصل کرنے کے لیے لگن کی ضرورت ہوتی ہے، کیونکہ یہ شاعری کی مختلف تکنیکوں کا استعمال کرتا ہے جیسے شاعری، اشارے، اور استعارہ کو ایک ایسی زبان بنانے کے لیے جو اظہار اور پُرجوش دونوں ہو۔ اکثر گہرے جذبات سے بھری ہوئی، شاعری متنوع پس منظر سے تعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ گونجتی ہے، اس کے موضوعات کو آفاقی اور لازوال بناتی ہے۔

    تفریحی یا فنکارانہ اظہار کا ذریعہ ہونے کے علاوہ، اردو شاعری کی ثقافتی اور تاریخی اہمیت ہے۔ یہ مختلف ادوار کے لوگوں کے جذبات، خیالات اور تجربات کی عکاسی کرتا ہے، ان کی زندگیوں اور جذبات کی ایک جھلک فراہم کرتی ہے۔پاکستان و بھارت کی بھرپور ثقافتی میراث کے اٹوٹ حصہ کے طور پر، یہ دنیا بھر کے شاعروں اور شاعری سے محبت کرنے والوں کو متاثر کرتا رہتا ہے۔

    اردو، فارسی اور عربی اثرات سے مالا مال ہے، اس کا ایک منفرد تال میل ہے۔ اس کی فطری موسیقیت، جس میں حروف اور حرفوں کے باہمی تعامل سے اضافہ ہوتا ہے، ایک ایسا گیت کا معیار پیدا کرتا ہے جو قارئین اور سامعین کو یکساں مسحور کرتا ہے۔ یہاں تک کہ پیچیدہ آیات بھی شاعری اور میٹر کے ہم آہنگ امتزاج کی وجہ سے طاقتور جذبات کو جنم دے سکتی ہیں، جو شاعری کو قابل رسائی لیکن گہرا بناتی ہیں۔

    علامت نگاری اردو شاعری کا ایک اور اہم پہلو ہے جو ثقافتی، تاریخی اور ادبی حوالوں سے اخذ کیا جاتا ہے۔ معنی کی یہ پرتیں متعدد تشریحات پیش کرتی ہیں، شاعری میں گہرائی کا اضافہ کرتی ہیں اور قارئین کو متن کے ساتھ بار بار مشغول ہونے کی دعوت دیتی ہیں تاکہ اس کی مکمل اہمیت کو آشکار کیا جا سکے۔

    جنوبی ایشیا کی تاریخ اور ثقافت میں گہری جڑیں، اردو شاعری خطے کی اقدار، روایات اور عقائد کے بارے میں بصیرت پیش کرتی ہے۔ اس آرٹ فارم کی صحیح معنوں میں تعریف کرنے کے لیے، کسی کو اس کی لسانی وسعت میں گہرائی تک جانا چاہئے، اس کے ثقافتی تناظر کو سمجھنا چاہیے، اور موسیقی اور منظر کشی کو انھیں گہرے جذباتی اظہار کی دنیا میں لے جانے کی اجازت دینا چاہیے۔

  • پاکستان کو کس کی نظر لگ گئی،استحکام کیسے آئے گا؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان کو کس کی نظر لگ گئی،استحکام کیسے آئے گا؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیاست سے پہلے ریاست کا استحکام سلامت رہناچاہیے،تنقید بند کی جائے
    سوشل میڈیا کے خطر ناک جراثیم کی ملکی اداروں پر تنقید کیوں،لگام کون ڈالے گا

    تجزیہ،شہزاد قریشی
    فرانکو جرمن جوڑی کئی دہائیوں سے یورپی یونین کا کلیدی پتھر رہاہے،اس مضبوط اتحاد کے ذریعے ہی اس بلاک نے اپنا راستہ برقرار رکھا اور بڑے استحکام کے ساتھ ترقی کی، عالمی بُحران کے دوران بھی یہ شراکت داری حل تلاش کرنے اور یوپی یونین کے اداروں پر اعتماد برقرار رکھنے میں کامیاب رہی، وطن عزیز کی موجودہ معاشی اور سیاسی بحران کا بغور جائزہ لیا جائے تو 2017 تک میاں محمد نواز شریف اور سینیٹر اسحاق ڈاراپنی خدمات سرانجام دیتے رہے،اس جوڑی نے بھی پاکستان کو معاشی بحران سے نکالنے ، دفاعی لحاظ سے بھی مضبوط کرنے میں اہم کردارا دا کیا ، دنیا بدل گئی سیاسی او رمعاشی بحران نے پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا،اس جوڑی کی اہم اور غالب پوزیشن کو کمزور کرنے میں بہت سی سیاسی اور دیگر قوتوں کا ہاتھ رہا،جس کا خمیازہ پاکستان بطور ریاست اور عوام تاددم تحریر بھگت رہے ہیں، پاکستان کے معاشی مستحکم مستقبل بنانے کے لئے ایک وقت ایسا بھی آیا کہ نواز شریف کی قیادت اور ان کی معاشی ٹیم نے پاکستان کو غیر ملکی قرضوں سے نجات دلانے کے قریب تر پہنچا دیامگرنادیدہ قوتوں نے ایک ایسی سازش کی کہ ترقی کے راستوں پر چلتا پاکستان دوبارہ معاشی کھائی میں جاگرا، سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ غیر یقینی سیاسی صورت حال میں پاکستان معاشی مستحکم ہو سکے گا ؟

    بلاشبہ پی ٹی آئی ایک مقبول جماعت ہے تاہم یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ افغانستان سے امریکہ کی واپسی کے بعد عمران خان کی تبلیغ کا مرکز پختون خواہ ہی کیوں رہا؟ وہ افغانستان کی صورت میں گرفتار ہو گئے ؟ تحریک عدم اعتماد کے بعد اُن کا سارا فوکس احتجاج پر ہی کیوں رہا؟ سوشل میڈیا یوٹیوبر وطن عزیز کی مسلح افواج اور پاک فوج کو نشانہ کیوں بناتے رہے اور بنار ہے ہیں؟ بیرون ممالک میں بیٹھ کر سوشل میڈیا پر آخر عسکری اداروں کو ہی نشانے پر کیوں رکھا گیا ؟یہ جانتے ہوئے کہ شخصیات کو فنا اور اداروں کو بقا حاصل ہے،ملکی دفاعی اداروں اور اعلٰی عدلیہ کو سوشل میڈیا کے ذریعے کیوں نشانہ بنایا جا رہاہے؟ریاست کو غیر مستحکم کرنے والے خطرناک جراثیم سے محفوظ کرنا کسی کی ذمہ داری بنتی ہے،ان خطر ناک جراثیم سے ملکی اداروں،معیشت اوراستحکام کو خطرہ ہے،سیاست سے پہلے ریاست کا استحکام سلامت رہناچاہیے،آئینی اصلاحات رواں ماہ کامیاب ہوتی نظر آرہی ہیں

  • پنجاب میں لینڈ مافیا،وزیراعلیٰ پنجاب اک نظر ادھر بھی.تجزیہ:شہزاد قریشی

    پنجاب میں لینڈ مافیا،وزیراعلیٰ پنجاب اک نظر ادھر بھی.تجزیہ:شہزاد قریشی

    وطن عزیز کا کوئی بھی صوبہ ایسا نہیں جو وسائل سے مالا مال نہیں بدقسمتی سے مختلف محکموں میں ایسے افسران تعینات ہیں جن کو وطن عزیز کے مفادات سے زیادہ اپنے مفادات عزیز ہیں صوبہ پنجاب میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی میرٹ پالیسی، وقت کی پابندی، چٹ سکیم کا خاتمہ، یہ وہ اقدامات ہیں جو ترقی پذیر ممالک میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ ہم اگر معاشی زوال پذیر ہیں تو اس کی ایک وجہ رائٹ مین فار رائٹ جاب پر عمل نہ کرنا بھی شامل ہے۔ مل کر سوچنا ہوگا کہاں شگاف ہے۔ کہاں غلطیاں ہیں، کون سی کل انفرادی بھی اور اجتماعی بھی ٹیڑھی ہے۔ پنجاب حکومت کی توجہ عوامی مسائل کو حل کرنے پر لگی ہے بلاشبہ وسائل کی کمی کے باوجود وزیراعلیٰ پنجاب کے اقدامات قابل تحسین ہیں۔ اگر پنجاب کے محکموں کے اعلیٰ افسران اگر صدق دل سے وزیراعلیٰ پنجاب کے عوامی خدمت کے ہمسفر ہو جائیں تو وسائل کی کمی دور کی جاسکتی ہے پنجاب میں اربوں کا ریونیو اکٹھا کیا جا سکتا ہے۔ راولپنڈی گوجر خان سمیت محکمہ جنگلات کی ہزاروں کنال زمینوں پر لینڈ مافیا قابض ہے جنگلات کے افسران کی ملی بھگت سے پنجاب بھر میں لینڈ مافیا سرکاری زمینوں پر قابض ہے حکومت پنجاب کو خوابیدہ افسران کو جگا کر اپنی کروڑوں اربوں کی قیمتی اراضی کو واگزار کرا کے اپنی ملکیت میں لے سکتی ہے جنگلات کو بازیاب کرا کے ماحولیات کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ جبکہ پنجاب بھر میں محکمہ اوقاف کی شہروں میں قیمتی پراپرٹی جن میں دکانیں، مکانات اور پلاٹ موجود ہیں جن کا کرایہ کوڑیوں ، چند سو روپے اور ہزار روپے ماہانہ وصول کیا جاتا ہے جبکہ انہی جائیدادوں کے نزدیک عوام کی ملکیتی دکانوں، مکانوں اور پلاٹ کا کرایہ لاکھوں میں ہے۔ محکمہ اوقاف کے کارندے اپنی جیبیں گرم کرنے کے لئے وطن عزیز کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور صوبہ پنجاب کے خزانے کو بھی ضرورت اس امر کی ہے کہ صاف و شفاف بے رحمانہ احتسابی عمل کو متحرک کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب کو اپنے صوبے میں سرکاری ریونیو کو بڑھانے کے لئے محکمہ جنگلات، اوقاف، ٹی ایم اے، ضلعی کونسل اور دیگر سرکاری اراضیوں کو واگزار کرانے اور وسائل کے استعمال کے لئے حکومتی مشینری کو متحرک کرنا ہوگا تاکہ صوبہ پنجاب میں خوشحالی، خودانحصاری اور ترقی کے بے مثال وہ دور شروع ہو سکے جو میاں محمد نوازشریف کا وژن ہے

  • ایک ہی نعرہ ایک ہی خواب،سب سے پہلے پاکستان.تجزیہ:شہزاد قریشی

    ایک ہی نعرہ ایک ہی خواب،سب سے پہلے پاکستان.تجزیہ:شہزاد قریشی

    مریم نواز شریف نے عوامی فلاح وبہبود کیلئے کئی سکیمیں شروع کردیں
    عوام کونواز شریف کی پاکستان کے لئے خدمات کا بخوبی ادراک، یاد ہے ذرہ،ذرہ
    پی ٹی آئی احتجاجی سیاست ترک کرے،خیبر پختونخوا کے عوام کی تقدیر بدلے

    اسلام آباد (تجزیہ،شہزاد قریشی) ملکی ترقی کے راستے بند کرنے والے پاکستانی عوام کے لیڈر نہیں ہو سکتے،پاکستان بے پناہ جانی ومالی قربانیوں اور مسلمان پاک و ہند کی لازوال تحریک کے نتیجے میں بنا،نوجوانوں کو اپنے بزرگ اور عمر رسیدہ لوگوں سے پاکستان کی آزادی کے حالات وواقعات سے آگاہی لینی چاہیے،پاکستان کی قدر اُن سے پوچھیں جنہوں نے آزادی کی ہجرت میں اپنے پیاروں کی جان ومال ، گمشدگیوں کو برداشت کیا اور اپنوں کی عزتوں اور جانوں کو اپنے سامنے پا مال ہوتے دیکھا،پاکستانی قوم ایک عظیم قوم ہے اور پاکستان کی جغرافیائی اہمیت اور محل وقوع اسے خطے میں اہم بناتا ہے، پاکستان میں شنگھائی کونسل کے ممبر ممالک کی کانفرنس کا انعقاد پاکستان کے وقار اور ترقی کے ثمرات کا ضامن ہے،پاکستان میں سی پیک ٹو کی تعمیر کا مرحلہ ، ریلوے میں انقلاب ،صنعتی ترقی اور اس میں بین الاقوامی شراکت داروں کی دلچسپی ملک میں خوشحالی ، قرضوں سے نجات ، افراط زر اور مہنگائی میں کمی اور معاشی استحکام کے اشارے ہیں جن کو پاکستان کے دشمن گوارہ نہیں کر رہے،ادھر افواج پاکستان سرحدوں پر دشمنوں کو شکست دے رہی ہیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں افواج کے عظیم سپاہی جانوں کا نذرانہ دےرہے ہیں،استحکام پاکستان اور دفاع پاکستان کی جاری اس جنگ کے دوران عوامی اور قومی اتحاد میں رخنہ اندیزیاں ہرگز ناقابل برداشت ہیں اور محب وطن حلقے ایسی تعصباتی سیاست ، طبقاتی و لسانی تفریق،ریاستی اداروں سے ٹکرائو،جلائو ،گھیرائو اور بے معنی تکرار و جملے بازی،الزام طرازی کو سراسر ناپسندیگی کی نظر سے دیکھتے ہیں،

    اس وقت پنجاب میں مسلم لیگ نواز ، سندھ میں پاکستان پیپلزپارٹی،بلوچستان میں بلوچوں کی حکومت اور کے پی کے میں اقتدار پی ٹی آئی کے پاس ہے، سب صوبائی حکومتوں کو عوام کی ترقی ،خوشحالی کا سوچنا ہوگا، ایک دوسرے سے آگے بڑھنے اورخدمت کی سیاست کو اپنا معیار اور شعار بنانا چاہیے، بلاشبہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے عوام دوست ، کسان دوست ، طلباء دوست ، مزدور دوست اور غریب دوست سکیموں کا آغاز کرکے صوبے کےعوام کی خدمت میں ریکارڈ اقدامات اٹھائے ہیں،وزیراعلیٰ کے پی کے کو بھی ایسے اقدامات کرکے عوام کی محرومیاں ختم کرنی چاہیے نہ کہ آئے روز جلسوں ،جلوسوں میں سرکاری وسائل کا ضیاع کرکے عوام کی محرومیوں میں اضافہ کریں،میاں محمد نواز شریف نے گذشتہ دنوں اپنی تقریر میں حکومتی ترجیحات اور پاکستان کو ایشیا کا ٹائیگر بنانے کے لئے اٹھائے گئے جن اقدامات کا تذکرہ کیا ان میں کوئی مبالغہ نہیں، باشعور عوام کو میاں نواز شریف کی پاکستان کے لئے خدمات کا بخوبی ادراک ہے اور ان کی حکومت کو ختم کرنے والے عناصر کی ناعاقبت اندیشی پر رنج و ملال بھی ہے، مقتدر حلقے اور موجودہ وفاقی حکومت ان غلطیوں کے ازالہ کے لئے کوشاں ہیں، عوام کو چاہیے کہ وہ پاکستان مخالف قوتوں کے جھانسے میں نہ آئیں اور سب سے پہلے پاکستان کی ترجیح اپنائیں۔

  • پاکستان میں ایس سی او سربراہی اجلاس اور بھارتی وزیر خارجہ کی آمد

    پاکستان میں ایس سی او سربراہی اجلاس اور بھارتی وزیر خارجہ کی آمد

    پاکستان میں ایس سی او سربراہی اجلاس اور بھارتی وزیر خارجہ کی آمد

    شنگھائی تعاون تنظیم کی آئندہ سربراہی کانفرنس پاکستان میں ہو گی جس میں بھارتی وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر بھی شریک ہوں گے عام طور پر، بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی ایس سی او کی کونسل آف ہیڈز آف گورنمنٹ کے اجلاسوں میں شرکت نہیں کرتے، جو کہ تنظیم کا دوسرا اعلیٰ ترین فورم ہے،بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کی تقریبا دس برسوں بعد پہلی بار پاکستان آمد ہو گی،پاکستان اور بھارت دونوں ممالک اس تقریب کے دوران ضمنی ملاقاتوں کے انعقاد سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ پلوامہ حملے اور بھارت کے جموں و کشمیر تنظیم نو ایکٹ کے بعد 2019 سے پاکستان اور بھارت کے مابین دوطرفہ تجارت روک دی گئی تھی،اس کے جواب میں، بھارت نے پاکستانی درآمدات پر 200 فیصد ٹیرف لگا دیا، اور پاکستان نے بھارت کے ساتھ رسمی تجارت روک دی، البتہ غیر سرکاری تجارت جاری ہے

    ایف پی کے لیے سنجے کتھوریا کی ایک رپورٹ کے مطابق، پاکستان بھارت کے ساتھ تجدید تجارت کے ذریعے اپنی مشکلات کا شکار معیشت کو نمایاں طور پر مستحکم کر سکتا ہے۔ اگر دونوں ممالک کے مابین تجارتی تعلقات معمول پر آ جائیں تو پاکستان کی برآمدات میں 80 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے جی ڈی پی کی نمو اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں خاطر خواہ مدد ملے گی۔ پاکستان، جس نے 2022 میں صرف 31.5 بلین ڈالر کا سامان برآمد کیا تھا، اگر بھارت کے ساتھ تجارت مکمل طور پر بحال ہو جاتی ہے تو اس کی برآمدات میں 25 بلین ڈالر کا اضافی اضافہ ہو سکتا ہے۔

    تجارت کے علاوہ، بھارت کے ساتھ مضبوط اقتصادی تعلقات، پاکستان کو دباؤ میں آنے والے معاشی مسائل، جیسے بلند افراط زر اور توانائی کی قلت سے نمٹنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ بھارت کے لیے پاکستان کے ساتھ تجارت میں توسیع کے معاشی فوائد کو مسترد نہیں کیا جانا چاہیے۔ اگرچہ کچھ تجزیہ کار ممکنہ فوائد کو کم کرتے ہیں، لیکن یہ جائزے محدود تجارتی ڈیٹا پر مبنی ہیں۔ پاکستان کی 236 ملین کی بڑی آبادی، 14 سال سے کم عمر کے ایک تہائی کے ساتھ، ایک امید افزا مارکیٹ پیش کرتی ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ، بنگلہ دیش کو بھارت کے اعلی تجارتی شراکت داروں میں سے ایک کے طور پر پیچھے چھوڑ سکتی ہے۔ موجودہ تجارتی رکاوٹوں کے باوجود، پاکستان کو ہندوستان کی برآمدات 1 بلین ڈالر سے زیادہ تک پہنچ چکی ہیں، اور بالواسطہ تجارت کافی حد تک برقرار ہے۔ دونوں ممالک کے لیے سیاحت کی آمدنی میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا جا سکتا ہے۔

    ایک اہم عنصر یہ ہے کہ کیا پاکستان کی فوج جو نمایاں اثر و رسوخ رکھتی ہے، تجارت پر مرکوز حکمت عملی کی حمایت کرے گی۔ فوج، ایک مضبوط معیشت کو فروغ دینے پر تیزی سے توجہ مرکوز کر رہی ہے، ہو سکتا ہے کہ قلیل مدتی فوائد اور طویل مدتی سیکورٹی فوائد دونوں کے لیے اس طرح کے نقطہ نظر کی حمایت کر سکے۔ جدید پاکستانی فوج ماضی کے مقابلے میں معاشی استحکام میں زیادہ سرمایہ کاری کر رہی ہے اور امکان ہے کہ وہ بیرونی مداخلت کی اجازت دیے بغیر اس مقصد کو ترجیح دے گی۔

    سوال باقی ہے:کیا سبھرامنیم جے شنکر اس موقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں؟

  • افغان مہاجرین، پاکستان کی سلامتی کے لیے چیلنج

    افغان مہاجرین، پاکستان کی سلامتی کے لیے چیلنج

    افغان مہاجرین، پاکستان کی سلامتی کے لیے چیلنج
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    پاکستان کی سرزمین ہمیشہ سے مظلوم اور بے بس لوگوں کے لیے پناہ گاہ رہی ہے۔ افغان مہاجرین بھی اسی سلسلے کی ایک مثال ہیں جنہیں پاکستان نے اپنے دل اور سرزمین پر جگہ دی، جب 1979 میں سوویت یونین کی جارحیت کے بعد افغانستان جنگ کی لپیٹ میں آگیا۔ تاہم، اب وقت آگیا ہے کہ ان مہمانوں کی موجودگی سے پیدا ہونے والے مسائل کا جائزہ لیا جائے کیونکہ یہ صورتحال معاشی، سماجی اور امن و امان کے لحاظ سے پاکستان کے لیے بہت بڑا بوجھ بن چکی ہے۔

    پاکستان میں افغانی مہاجرین کی موجودگی کے باعث جرائم کی شرح میں قابلِ ذکر اضافہ ہوا ہے۔ افغان مہاجرین کی وجہ سے مختلف قسم کے جرائم، جیسے منشیات کی اسمگلنگ، اغوا برائے تاوان اور کرائے کے قاتلوں کا نیٹ ورک مضبوط ہو چکا ہے۔ منشیات کی اسمگلنگ سب سے زیادہ پریشان کن مسئلہ ہے کیونکہ اس کے ذریعے نہ صرف ملک کی سرحدوں کو غیر محفوظ بنایا جا رہا ہے بلکہ پاکستان کی نوجوان نسل منشیات کی عادی بن رہی ہے۔ اس طرح کی سرگرمیوں نے پاکستان کی سماجی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا ہے اور عوام کی زندگی کو غیر محفوظ بنا دیا ہے۔

    اغوا برائے تاوان جیسے سنگین جرائم میں بھی افغان مہاجرین کے ملوث ہونے کی اطلاعات عام ہیں۔ ان کی موجودگی نے مجرموں کے نیٹ ورکس کو تقویت بخشی ہے جو کہ نہ صرف شہریوں کی زندگی کو خطرے میں ڈالتے ہیں بلکہ امن و امان کو بھی تباہ کر رہے ہیں۔ کرائے کے قاتلوں کی بھرتی اور ان کا استعمال بھی بڑھ چکا ہے، جس نے پاکستان کے مختلف علاقوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے مشکلات پیدا کر دی ہیں۔

    افغان مہاجرین کے مسائل میں ایک اہم عنصر طالبان کا کردار بھی ہے۔ آئے دن سرحد پار سے طالبان کی جانب سے پاکستان کے نہتے شہریوں پر فائرنگ کے واقعات پیش آتے ہیں۔ یہ کارروائیاں نہ صرف پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں بلکہ افغان مہاجرین کی موجودگی کو مزید مشکوک بناتی ہیں۔ ایسے حملوں کی وجہ سے عوام میں خوف و ہراس پھیل رہا ہے اور سرحدی علاقوں میں زندگی شدید متاثر ہو رہی ہے۔

    افغان مہاجرین کی موجودگی نے پاکستان کی معیشت پر بھی گہرے منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ پاکستان نے ان مہاجرین کی مہمان نوازی اور ضروریات کے لیے کئی دہائیوں سے اپنے وسائل استعمال کیے ہیں۔ تعلیم، صحت اور رہائش جیسی بنیادی سہولیات کی فراہمی میں بھی پاکستان کو مشکلات کا سامنا ہے۔ پاکستان کی معیشت پہلے ہی مشکلات کا شکار ہے اور افغان مہاجرین کی بھاری تعداد نے اس بوجھ میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

    پاکستان نے ہمیشہ انسانی ہمدردی اور بھائی چارے کے جذبے کے تحت افغان مہاجرین کو پناہ دی لیکن اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان کو اس کا صلہ جرائم اور عدم استحکام کی صورت میں مل رہا ہے؟ افغانیوں کی اکثریت اپنی معاشرتی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہے اور پاکستان میں رہتے ہوئے بھی وہ پاکستان کی قانون و ضوابط کی پاسداری کرنے میں ناکام ہیں۔ اب پاکستان کو یہ سوچنا ہوگا کہ کیا مہمان نوازی کا مزید بوجھ برداشت کیا جا سکتا ہے یا انہیں واپس اپنے ملک روانہ کرنا ہی بہتر حل ہے؟

    اب وقت آگیا ہے کہ حکومت پاکستان اس مسئلے کا سنجیدگی سے حل نکالے۔ افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے لیے مناسب منصوبہ بندی کی جائے اور بین الاقوامی برادری سے مدد حاصل کی جائے تاکہ یہ عمل پرامن اور باعزت طریقے سے مکمل ہو سکے۔ ساتھ ہی ساتھ سرحدوں کی مزید سخت نگرانی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیت کو بہتر بنایا جائے تاکہ منشیات اسمگلنگ اور دیگر جرائم کی روک تھام ممکن ہو سکے۔

    پاکستان نے افغان مہاجرین کیلئے ہمیشہ فراخدلی کا مظاہرہ کیا لیکن بدلے میںان افغانوں نے دہشت گردی، کلاشنکوف کلچر، منشیات اور بدامنی کے تحفے دئے۔ جہاں معاشرتی ڈھانچہ درہم برہم ہو چکا ہے، وہاں عوام میں بے چینی اور عدم تحفظ کا احساس بھی بڑھتا جا رہا ہے۔اب افغان مہاجرین پاکستان کی سلامتی کیلئے ایک کھلا چیلنج بن چکے ہیں ،ایسے میں یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ کیا اب بھی اس مہمان نوازی کا سلسلہ جاری رکھا جا سکتا ہے؟ پاکستانی عوام کا اپنی حکومت سے یہ سوال مزید شدت اختیار کرتا جا رہا ہے کہ کب تک ان افغان مہاجرین کو برداشت کیا جائے گا؟

  • علم کے چراغ جلانے والوں کو خراجِ تحسین

    علم کے چراغ جلانے والوں کو خراجِ تحسین

    علم کے چراغ جلانے والوں کو خراجِ تحسین
    تحریر:ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی

    اساتذہ صرف علم نہیں بلکہ اقدار، اخلاق اور شخصیت بھی سکھاتے ہیں۔ وہ بچوں کے ذہنوں کو ڈھالتے ہیں اور انہیں اچھے شہری بننے کے لیے تیار کرتے ہیں۔ اس طرح وہ ایک بہتر اور مضبوط معاشرے کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کی محنت اور لگن ہی قوموں کی ترقی کی بنیاد بنتی ہے۔ دنیا بھر میں ہر سال 5 اکتوبر کو یومِ اساتذہ منایا جاتا ہے تاکہ اس عظیم پیشے سے وابستہ افراد کی خدمات کو سراہا جائے اور ان کی اہمیت کو اجاگر کیا جا سکے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ایک اچھے استاد کا کردار معاشرے میں کس قدر اہم اور لازمی ہوتا ہے۔

    یومِ اساتذہ منانے کا بنیادی مقصد اساتذہ کی تعلیمی میدان میں بے لوث خدمات کا اعتراف کرنا ہے۔ اساتذہ وہ ستون ہیں جو علم کی بنیاد پر قوم کی عمارت کھڑی کرتے ہیں۔ ایک استاد صرف نصاب پڑھانے والا نہیں ہوتا، بلکہ وہ طلباء کی شخصیت سازی، ان کی تربیت اور انہیں اخلاقی اقدار سکھانے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔

    اس دن کو منانے کا مقصد یہ بھی ہے کہ ہم بطور معاشرہ اساتذہ کو درپیش مسائل اور چیلنجز کو سمجھیں اور ان کے حل کے لیے اقدامات کریں۔ ترقی یافتہ معاشرے اپنے اساتذہ کو عزت و احترام دیتے ہیں اور ان کی محنت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

    اساتذہ کی اہمیت محض کلاس روم تک محدود نہیں ہوتی بلکہ وہ بچوں کی زندگیوں میں دور رس اثرات چھوڑتے ہیں۔ ایک اچھا استاد طلباء کے اندر نہ صرف علم کی پیاس جگاتا ہے بلکہ ان کی رہنمائی کرتے ہوئے انہیں ایک بہتر انسان بننے کی ترغیب دیتا ہے۔ وہ انہیں خود اعتمادی، تحقیق کرنے کی عادت اور دنیا کو ایک نئی نظر سے دیکھنے کی تربیت دیتا ہے۔

    اسلام میں بھی اساتذہ کا مقام بہت بلند ہے۔ قرآن و سنت میں علم اور علم سکھانے والوں کی اہمیت کو کئی بار بیان کیا گیا ہے۔ حضرت محمد ﷺ نے فرمایا کہ "مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے”، جس سے اس پیشے کی عظمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

    اگرچہ اساتذہ کا کردار انتہائی اہم ہے لیکن انہیں مختلف چیلنجز کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ تعلیم کے میدان میں وسائل کی کمی، تنخواہوں کا مسئلہ، طلباء کے رویوں میں تبدیلی اور جدید تقاضوں کے مطابق تدریس کے نئے طریقوں کو اپنانا جیسے چیلنجز اساتذہ کو درپیش ہیں۔

    تعلیمی اداروں میں سہولیات کی کمی، نصاب میں تبدیلی اور مسلسل بڑھتے ہوئے طلباء کی تعداد کے باعث اساتذہ کو اپنی تدریسی ذمہ داریوں میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان چیلنجز کے باوجود، اساتذہ اپنی ذمہ داریوں کو انتہائی خلوص اور لگن سے نبھاتے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ انہیں معاشرے کا معمار کہا جاتا ہے۔

    اساتذہ کی محنت کا بہترین صلہ ان کے طلباء کی کامیابیوں میں نظر آتا ہے۔ جب ایک استاد اپنے شاگرد کو معاشرے میں کامیاب اور ذمہ دار شہری کے طور پر دیکھتا ہے تو اسے اپنی محنت کا پھل ملتا ہے۔ ایک شاگرد کی کامیابی دراصل استاد کی محنت اور لگن کا مظہر ہوتی ہے۔

    اساتذہ کی یہ محنت نہ صرف طلباء کو علم و ہنر سے آراستہ کرتی ہے بلکہ انہیں ان کے خوابوں کی تعبیر بھی دیتی ہے۔ اساتذہ کی تربیت سے ہی طلباء معاشرتی خدمت، قیادت اور تحقیق میں اپنا نام پیدا کرتے ہیں۔

    یومِ اساتذہ ہمیں اس بات کی یاد دہانی کرواتا ہے کہ اساتذہ کا احترام ہماری ذمہ داری ہے۔ ہم پر فرض ہے کہ ہم ان کی محنت کو سراہیں اور انہیں ان کی خدمات کے لیے خراج تحسین پیش کریں۔ حکومتوں اور معاشرتی اداروں کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اساتذہ کی فلاح و بہبود کے لیے مناسب اقدامات کریں اور ان کے مسائل کو حل کرنے کے لیے سنجیدگی سے غور کریں۔

    یومِ اساتذہ ہمیں موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم ان عظیم افراد کا شکریہ ادا کریں جو ہماری زندگیوں میں علم کا چراغ جلاتے ہیں۔ ایک اچھا استاد نہ صرف کتابی علم دیتا ہے بلکہ طلباء کی زندگیوں میں بصیرت اور رہنمائی کا بھی ذریعہ بنتا ہے۔ اساتذہ قوم کے معمار ہیں اور ان کی عزت و تکریم معاشرے کی ترقی کا ضامن ہے۔

  • ساگ

    ساگ

    ساگ
    تحریر:شاہدریاض
    ساگ ایک ایسی ڈش جو پنجاب کی مٹی سے جڑی ہوئی ہے۔ ایسی سبزی ہے جس کا نام سن کر ہی دیہاتی زندگی کی یادیں اور پکوانوں کی خوشبو تازہ ہو جاتی ہے۔ یہ پودے کے پتوں پر مشتمل ہوتا ہے، جو موسم سرما کے دوران خاص طور پر کھایا جاتا ہے اور دیہی علاقوں میں مکئی اور چاول کی روٹی کے ساتھ ایک لازمی حصہ ہوتا ہے۔ ساگ پنجابی ثقافت اور دیہاتی زندگی کا ایک اٹوٹ انگ ہے اور یہ نہ صرف غذائی اہمیت کا حامل ہے بلکہ تہذیبی طور پر بھی گہری جڑیں رکھتا ہے۔

    ساگ کی جڑیں ایران تک پھیلی ہوئی ہیں جہاں اسے ابتدائی طور پر دریافت کیا گیا اور "سپناغ” کے نام سے جانا گیا۔ اسی "سپناغ” سے انگریزی میں "سپائنچ” (Spinach) کا لفظ نکلا، جو پالک کی شکل میں استعمال ہوتا ہے۔ جب ساگ ایران سے نکل کر برصغیر پہنچا، تو یہاں کے موسم اور زمین نے اس کی مختلف اقسام کو فروغ دیا اور یوں یہ ہر دیہی گھر کا ایک لازمی جزو بن گیا۔

    ساگ کی کئی اقسام ہیں جن میں سے ہر ایک اپنی منفرد ذائقہ اور غذائیت کے لحاظ سے مشہور ہے،سرسوں کا ساگ سب سے زیادہ مشہور ہے جو مکئی اورچاول کی روٹی کے ساتھ کھایا جاتا ہے اور مکھن یا دیسی گھی کے ساتھ اس کا ذائقہ مزید دوبالا ہو جاتا ہے۔پالک کے ساگ میں وٹامن اے اور آئرن کی بڑی مقدار پائی جاتی ہے، جو جسم کے لیے بہت فائدہ مند ہے۔بتھوے کا ساگ ذائقے میں تھوڑا تیکھا ہوتا ہے اور اکثر سرسوں کے ساگ کے ساتھ ملایا جاتا ہے۔ میتھی کے ساگ میں خوشبو دار پتے ہوتے ہیں جو کھانوں کو ایک خاص ذائقہ دیتے ہیں۔خرفے کا ساگ یہ کم مشہور لیکن غذائیت سے بھرپور ساگ ہے جو خاص طور پر دیہاتی علاقوں میں استعمال ہوتا ہے۔

    ساگ صرف ذائقے میں لذیذ نہیں بلکہ غذائی لحاظ سے بھی نہایت اہم ہے۔ اس میں کیلشیم، آئرن، وٹامن اے، بی اور ای بڑی مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ ساگ کا استعمال جسم میں خون کی صفائی کرتا ہے اور زہریلے مادے ختم کرتا ہے۔ سرسوں کے ساگ میں تو یہاں تک کہا جاتا ہے کہ یہ گوشت کے برابر غذائیت فراہم کرتا ہے۔ اس کے پتے گندھک سے بھرپور ہوتے ہیں جو جلد اور جسمانی نظام کے لیے انتہائی فائدہ مند ہے۔

    پنجاب اور دیگر دیہی علاقوں میں ساگ کا استعمال صرف ایک کھانے تک محدود نہیں۔ یہ دیہاتی زندگی اور ثقافت کی علامت ہے۔ سردیوں کے آغاز سے ہی گھروں میں ساگ پکانے کا اہتمام ہوتا ہے اور مکئی اورچاول کی روٹی کے ساتھ اس کا ملاپ ہر گھر کی روایت ہوتی ہے۔ سردیوں کی سرد راتوں میں چولہے پر پکتا ہوا ساگ گھر میں گرمائش اور محبت کا احساس دلاتا ہے۔ ایک عام کہاوت ہے کہ "ساگ اور آگ جس گھر کو لگ جائے، وہ مشکل سے ہی بچتے ہیں”، یعنی ساگ دیہات کے لیے ایک لازمی جزو ہے۔

    ساگ پکانے میں کافی وقت اور محنت درکار ہوتی ہے کیونکہ اس کے پتوں کو پہلے اچھی طرح دھونا، کاٹنا اور پھر پکانے کے لیے تیاری کرنا ہوتا ہے۔ ساگ کو پکاتے ہوئے اکثر خواتین اسے گھنٹوں تک ہلکی آنچ پر پکاتی ہیں تاکہ اس کا ذائقہ اور غذائیت برقرار رہے۔ اسے پکانے کا ایک خاص طریقہ یہ بھی ہے کہ اس میں مختلف قسم کے ساگ ملا کر پکایا جاتا ہے جیسے سرسوں، بتھوا، پالک اور میتھی۔ جب ساگ مکمل پک جاتا ہے تو اس پر مکھن یا دیسی گھی کا تڑکا لگایا جاتا ہے جو اس کا ذائقہ دوبالا کر دیتا ہے۔

    بچپن میں ساگ کھانے کی یادیں بہت دلچسپ ہوتی ہیں، اکثر بچوں کو ساگ کا ذائقہ پسند نہیں ہوتا اور وہ اسے کھانے سے کتراتے ہیں۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ نہ صرف ان کی پسندیدہ ڈش بن جاتی ہے بلکہ ایک روایت کا حصہ بھی بن جاتی ہے۔ بہت سے لوگ اپنی ماؤں اور دادیوں کے ہاتھ کا پکا ہوا ساگ یاد کرتے ہیں اور یہ یادیں زندگی بھر ان کے ساتھ رہتی ہیں۔

    ساگ صرف ایک غذا نہیں بلکہ اس میں ایک فلسفہ چھپا ہوا ہے۔ یہ دیہات کی سادگی، محبت اور ایک دوسرے کے ساتھ جڑے رہنے کی علامت ہے۔ ساگ کا موسم سردیوں میں آتا ہے، جب لوگ گھروں میں اکٹھے بیٹھ کر کھاتے ہیں۔ یہ میل جول اور اپنائیت کی علامت ہے۔ ساگ دیہات کی جڑوں سے جڑا ہوا ہے اور یہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ سادگی میں ہی خوبصورتی ہے۔

    اگر ساگ کو بین الاقوامی سطح پر بھی اسی اہمیت کے ساتھ تسلیم کیا جائے تو شاید یہ عالمی تعلقات میں بھی کردار ادا کر سکتا ہے۔ ایک مزاحیہ تجویز کے طور پر کہا جا سکتا ہے کہ اگر اسرائیل ساگ کو اپنی قومی ڈش قرار دے دے تو شاید مشرق وسطیٰ کے بہت سے جھگڑے ختم ہو جائیں۔

    ساگ کا ذکر محبت کے بغیر ادھورا ہے، ساگ کے رنگ سے جڑی محبتوں کی کہانیاں بھی مشہور ہیں، یہ دلوں کو جیتنے والی سبزی ہے، اور کبھی کبھی ایک ہلکی سی مسکراہٹ یا محبت بھری یاد کے ساتھ ساگ کے رنگ میں رنگے دل کو پگھلا دیتی ہے۔

    آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ساگ نہ صرف جسمانی طور پر مفید ہے بلکہ یہ ایک روحانی تجربہ بھی ہے۔ اس کی غذائیت، ذائقہ، اور دیہی زندگی سے جڑی کہانیاں اسے خاص بناتی ہیں۔ ساگ ایک ایسی ڈش ہے جو دیہات کی محبت، قربت اور ایک دوسرے کے ساتھ جڑے رہنے کا مظہر ہے۔ ساگ اور مکئی کی روٹی کا نعرہ ہر گھر میں گونجتا ہے، اور یہ نعرہ ہمیشہ گونجتا رہے گا۔

    ساگ دے نعرے وجنے ای وجنے نے!

  • مشرق وسطیٰ آگ کی لپیٹ میں

    مشرق وسطیٰ آگ کی لپیٹ میں

    یاسمین آفتاب علی

    ایران کے صدر نے اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ حزب اللہ کے ساتھ جاری تنازعے میں ایران کو مداخلت پر مجبور کر کے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کو بڑھاوا دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اس کے سنگین اور ناقابل تلافی نتائج ہو سکتے ہیں۔ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر، ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ایران کے اندر ایک محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے، جو اسرائیلی حملوں کے شدت اختیار کرنے کے بعد احتیاطی تدبیر کے طور پر لیا گیا اقدام ہے۔
    اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان ہونے والی پرتشدد جھڑپیں اسرائیل اور ایران کے درمیان ایک گہری طاقت کی جنگ کی عکاسی کرتی ہیں۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ تہران کا مقصد ایک عسکری نیٹ ورک قائم کرنا ہے جو غزہ، عراق، شام، لبنان اور یمن کو آپس میں جوڑ کر اسرائیل کے لیے ایک نئی اسٹریٹیجک حقیقت تشکیل دے۔ تاہم اسرائیل جارحانہ فوجی حکمت عملیوں کے ذریعے ان منصوبوں کا مقابلہ کر رہا ہے۔ باوجود اس کے کہ بڑے پیمانے پر تباہی اور انسانی جانوں کا نقصان ہو چکا ہے، دونوں فریقوں میں سے کوئی بھی فیصلہ کن فتح حاصل نہیں کر سکا اور جلدی اس کا امکان بھی نہیں۔ اس تباہی کا سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں نے اٹھایا ہے، جو بے گھر ہو رہے ہیں اور مصائب کا سامنا کر رہے ہیں۔
    اگرچہ ایران کے وفادار گروہوں نے عراق اور یمن سے اسرائیل پر حملے کیے ہیں، لیکن اہم جنگی علاقے غزہ اور لبنان ہی ہیں، جہاں اسرائیل حماس اور حزب اللہ سے برسرپیکار ہے۔ حزب اللہ اور حماس کو بھاری نقصان کے باوجود اسرائیل کی غزہ میں جنگ بندی پر آمادہ نہ ہونے کی وجہ سے خطہ ایک بڑے جنگ کے خطرے سے دوچار ہو سکتا ہے۔ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی جانب سے فوجی کارروائیوں کو روکنے سے انکار ان کی سیاسی بقا سے منسلک ہے، کیونکہ وہ اس جاری تنازعے کو قومی بحران کے دوران اپنی قیادت برقرار رکھنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔میرے خیال میں جنگ کمزوروں کا ہتھیار ہے۔ ایک انسان سن تزو کی کتاب *آرٹ آف وار* کی یہ بات بھلا نہیں سکتا کہ "جنگ کا اعلیٰ فن دشمن کو لڑے بغیر زیر کرنا ہے۔”

    مصنفہ ایک وکیل، معلمہ اور سیاسی تجزیہ نگار ہیں۔ انہوں نے ‘A Comparative Analysis of Media & Media Laws in Pakistan’ نامی کتاب لکھی ہے۔ ان سے yasmeenali62@gmail.com پر رابطہ کیا جا سکتا ہے