Baaghi TV

Category: بلاگ

  • مہنگائی میں کمی کے حکومتی دعوے اور عوام کی چیخیں

    مہنگائی میں کمی کے حکومتی دعوے اور عوام کی چیخیں

    مہنگائی میں کمی کے حکومتی دعوے اور عوام کی چیخیں
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    پاکستان میں حالیہ حکومتی بیانات کے مطابق مہنگائی 63 ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہے جسے حکومت کی بہترین معاشی پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ وفاقی ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق نومبر 2024 میں کنزیومر پرائس انڈیکس (CPI) کی شرح 4.9 فیصد ریکارڈ کی گئی جو گذشتہ سال کی 29.9 فیصد اور اکتوبر 2024 کی 7.2 فیصد کے مقابلے میں نمایاں کمی کو ظاہر کرتی ہے۔ حکومتی دعوؤں کے مطابق ٹرانسپورٹ، ایندھن اور اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں کمی آئی ہے۔ وزیر خزانہ نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ میں گفتگو کرتے ہوئے مہنگائی میں کمی کو میکرو اکنامک استحکام کی علامت قرار دیا اور کہا کہ پرائس کنٹرول کمیٹیاں مؤثر طریقے سے کام کر رہی ہیں۔

    تاہم زمینی حقائق عوام کی مشکلات کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔ گھی، آٹا، چینی، اور دیگر بنیادی اشیا کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے حکومتی دعوے زیادہ تر بڑے شہروں کے ڈیٹا پر مبنی ہیں جبکہ دیہی علاقوں میں ان اشیا کی قیمتیں اب بھی عوام کی پہنچ سے باہر ہیں۔اس وقت گھی کی قیمت 500 سے 600 روپے فی کلو کے درمیان ہے جبکہ چھوٹے شہروں اور دیہاتوں میں ٹماٹر200 روپے کلو،آلو160روپے کلواور پیاز بھی 200روپے کلو تک فروخت ہورہا ہے جو کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے ایک بڑا بوجھ ہے۔

    عوامی رائے کے مطابق حکومت کے جاری کردہ اعداد و شمار اور زمینی حقائق میں بڑا تضاد موجود ہے۔ مڈل مین کے کردار اور اشیاء کی اصل قیمتوں میں فرق کی وجہ سے عوام کو حکومتی دعوؤں کے اثرات محسوس نہیں ہو رہے۔ عوام کا یہ کہنا ہے کہ حکومت کے بیانات محض اعداد و شمار پر مبنی ہیں جو حقیقت سے دور ہیں۔یوٹیلیٹی اسٹورز پر گھی، چینی، دالوں، اور دیگر اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں عوام کی قوت خرید سے باہر ہیں،بازاروں میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے عوام کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔مہنگی ادویات اور تعلیمی اخراجات نے متوسط طبقے کو مزید مشکلات میں ڈال دیا ہے۔

    عوامی رائے یہ ہے کہ حکومت عوامی مسائل کو نظرانداز کر کے صرف بین الاقوامی اداروں کی خوشنودی حاصل کرنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔وزیرِ اعظم اور ان کی ٹیم کو چاہیے کہ وہ عوامی مسائل کو عملی طور پر حل کرنے کے لیے اقدامات کریں۔ تعلیم، صحت اور روزگار کے شعبوں میں فوری اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ عوامی مشکلات میں کمی لائی جا سکے۔ صرف اعداد و شمار کے ذریعے عوام کو مطمئن کرنا ممکن نہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ مہنگائی کے خاتمے، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔

    اگر حکومت کے دعوے سچ پرمبنی ہیں تو عام آدمی کی زندگی میں بہتری کیوں نظر نہیں آتی؟ مہنگی اشیاء، صحت کی ناکافی سہولتیں،مہنگی ہوتی ادویات اور بڑھتے ہوئے تعلیمی اخراجات عوام کے لیے بڑا مسئلہ ہیں۔ لوگ اعداد و شمار نہیں بلکہ حقیقی ریلیف چاہتے ہیں۔ حکمرانوں کو عوام کے مسائل کو سمجھنے کے لیے ان کے درمیان آنا ہوگا ورنہ یہ وعدے اور دعوے صرف جھوٹ کے طور پر یاد رکھے جائیں گے۔ عوام کا صبر ختم ہو چکا ہے، اگر حکومت نے حقیقت کو نہ سمجھا تو یہ خودفریبی ان کے لیے بڑے نقصان کا باعث بن سکتی ہے،عوام کی آواز سنیں، ان کے مسائل حل کریں، ورنہ وقت کا فیصلہ اٹل ہوگا اور عوام کے غیظ و غضب سے حکمرانوں کو کوئی نہیں بچا سکے گا۔

  • خدارا!اینٹی بائیوٹکس ٹافیاں نہیں ہیں

    خدارا!اینٹی بائیوٹکس ٹافیاں نہیں ہیں

    خدارا!اینٹی بائیوٹکس ٹافیاں نہیں ہیں
    تحریر: اعجازالحق عثمانی
    آج کل پاکستان سمیت دنیا بھر میں اینٹی بائیوٹکس کا بے دریغ استعمال ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔جس کے نتیجے میں اینٹی مائکروبیل ریزسٹنس یعنی مزاحمت جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 51 فی صد افراد اینٹی بائیوٹکس از خود استعمال کرتے ہیں۔ بغیر کسی ڈاکٹر کی تجویز کے اینٹی بائیوٹکس کا استعمال کس طرح ہمارے لیے نقصان دہ ہے۔ یہ سمجھنے کے لیے، اینٹی بائیوٹکس ادویات کیا ہوتی ہیں؟ یہ جاننا ضروری ہے۔
    اینٹی بائیوٹکس وہ دوائیں ہیں جو بیکٹیریا کی افزائش کو روکنے یا انہیں مکمل طور پر ختم کرنے یعنی مارنے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ لیکن ان کا بے جا اور غیر ضروری استعمال آپ کےلیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
    اینٹی بائیوٹک ریزسٹنس یا مزاحمت کیا ہے؟
    اینٹی بائیوٹک ریزسٹنس یا مزاحمت ایک ایسی کنڈیشن ہے کہ جس میں بیکٹیریا اپنی ساخت میں تبدیلی پیدا کر لیتے ہیں جس کی وجہ سے اینٹی بائیوٹکس ان تبدیل شدہ بیکٹیریا کی ساخت پر اثر کرنا چھوڑ دیتی ہیں۔ تبدیل شدہ ساخت والے بیکٹیریا میں مزاحمت پیدا ہونے کے بعد بیکٹیریا پر اینٹی بائیوٹکس کا اثر نہیں ہوتا ہے۔

    اینٹی بائیوٹکس کے غلط استعمال کی وجوہات:
    ڈاکٹری نسخے کے بغیر استعمال:
    ہمارے ہاں اکثر لوگ ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر اینٹی بائیوٹکس استعمال کرتے ہیں۔ گھر میں کسی اور مریض کی پڑی ادویات یا (انھیں جس بھی اینٹی بائیوٹک دوائی کا نام یاد ہوتا ہے) بغیر کسی کوالیفائیڈ ڈاکٹر کی ہدایت کے خود میڈیکل سٹور سے خرید کر استعمال کرلیتے ہیں، یہ عمل صحت کے لیے نقصان دہ ہو ثابت ہو سکتا ہے۔
    ادھورا علاج:
    مریض اکثر دوائی کا کورس مکمل نہیں کرتے جس سے بیکٹیریا مضبوط ہو جاتے ہیں۔ اور اینٹی بائیوٹک ریزسٹنس یا مزاحمت پیدا ہو سکتی ہے۔
    غلط تشخیص:
    اتائی ڈاکٹر اور نان کوالیفائیڈ طبیبوں سے بچیں، ورنہ بلا ضرورت اینٹی بائیوٹکس استعمال کرنے کی وجہ سے آپ کا جسم اینٹی بائیوٹک ریزسٹنس یا مزاحمت کا شکار ہو سکتا ہے۔

    اینٹی بائیوٹک ریزسٹنس یا مزاحمت کے نتائج:
    پاکستان میں سالانہ 3 لاکھ افراد اینٹی بائیوٹک ریزسٹنس رکھنے والے بیکٹیریا سے پیدا ہونے والے انفکشنز سے براہ راست موت کا شکار ہوتے ہیں۔ جبکہ 7 لاکھ کے قریب اسی وجہ سے مختلف بیماریوں کا شکار ہو کر موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔

    مگر حل کیا ہے؟:
    ذمہ دارانہ استعمال:

    اینٹی بائیوٹکس صرف ڈاکٹر کی ہدایت پر لیں۔ سلف میڈیکیشن سے گریز کریں۔
    عوامی آگاہی:
    اینٹی بائیوٹکس کے بے جا اور غلط استعمال کے نتائج اور نقصانات سے حکومتی سطح پر عوامی آگاہی مہم کی اشد ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں میڈیا چینلز کو بھی چاہیے کہ وقتاً فوقتاً آگاہی پروگرام نشر کیے جائیں۔
    قانون سازی:
    بغیر نسخے کے ہر قسم کی دوائیوں کی فروخت پر مکمل پابندی ہونی چاہیے۔ اور خلاف ورزی پر سخت سزا اور جرمانے عائد کیے جانے چاہیے۔

    "اور اپنی جانوں کو ہلاکت میں نہ ڈالو” (القرآن)
    اپنی جانوں پر ظلم نہ کیجیے ۔اور خدارا! اینٹی بائیوٹکس ٹافیاں نہیں ہیں۔ سو ان کو دوائی سمجھ کر ہی استعمال کیجیے۔ اینٹی بائیوٹکس بلاشبہ نعمت خداوندی ہیں ،احتیاط سے استعمال کریں،ان سے بیماری کو بھگائیں نہ کہ بڑھائیں۔

  • پاکستان کو عالمی دنیا کے بدلتے حالات پر توجہ کی ضرورت۔تجزیہ: شہزاد قریشی

    پاکستان کو عالمی دنیا کے بدلتے حالات پر توجہ کی ضرورت۔تجزیہ: شہزاد قریشی

    پاکستان کو داخلی انتشار سے نکل کر عالمی دنیا کی بدلتی صورت حال پرتوجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اس وقت پاکستان کوایسی قیادت کی ضرورت ہے جوپاکستان کو داخلی انتشار سے نکال کر قوم کو متحد کرسکے ۔ دنیا میں تبدیلیاں ہونے والی ہیں خاص کر امریکی نو منتخب صدرٹرمپ نے برکس کے رکن ممالک کو نشانہ بناتے ہوئے یہ واضح کیا ہے کہ ڈالر کے متبادل کرنسی کے مقابلے میں وہ خاموش رہنا پسند نہیں کریں گے امریکہ مستقبل میں برکس ممالک کے ساتھ اگر برقرار رکھے گا تو ٹیکس کے معاملے میں ان ممالک کے ساتھ جارحانہ رویہ اختیار کیا جائے گا۔ ٹرمپ برکس کے تمام رکن ممالک کے ساتھ تلخی سے اظہار کررہے ہیں ابھی تک برکس کے رکن ممالک نے ڈالر کے متبادل کے طور پر دوسری کرنسی کو متعارف کرانے کے کسی بھی فیصلے پر ابھی تک مُر نہیں لگائی۔ برکس رکن ممالک کے لئے یہ واضح پیغام ہے کہ وہ مستقبل کی پیش بندیوں کا اظہار کرتے ہوئے ڈالر کے خلاف ترچھی نگاہ بھی نہ ڈالیں۔ برکس کے رکن ممالک میں چین ، روس ، برازیل ، جنوبی افریقہ ، مصر ، ایران ،ہندوستان اور متحدہ عرف امارات بھی شامل ہیں۔ ٹرمپ کی امریکہ فرسٹ پالیسی مودی حکومت کے لئے بھی مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔ مستقبل قریب میں امریکہ بھارت اور مودی کی خود ساختہ دوستی کے کوئی اچھے اثرات مرتب نہیں ہوگے یا تو بھارت کو برکس کے رکن ممالک سے باہر آنا ہوگا یا پھر امریکہ سے اس سلسلے میں بات کرنا ہوگی جو ناممکن ہے کہ امریکہ چپ چاپ برکس کو ڈالر سے دور ہوتے برداشت کر سکے گا۔

    ۔ یہ تو آنے والا وقت بتائے گا ۔ مبصرین کے مطابق ٹرمپ کی توجہ کا مرکز پانچ وسطی ایشیائی قازستان ، کرغزستان ، تاجکستان ، ترکمانستان اور ازبکستان پر بھی ہو سکتی ہے وسطی ایسیاء امریکہ کے لئے جغرافیائی طور پر اہم ہے۔ مبصرین کے مطابق ٹرمپ کے پاس وسطٰی ایشیا میں امریکی مصروفیات کو نئی شکل دینے اور اس اہم خطے میں مضبوط امریکی موجودگی کو محفوط بنانے کا منفرد موقع ہے۔ یاد رکھیے پاکستان اس خطے کا ایک اہم ملک ہے پاکستان کی حکومت اور اپوزیشن کو صدق دل سے قومی فریضہ ادا کرنا ہوگا ۔ پاکستان کے مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے داخلی انتشار سے نکل کر ایک مضبوط معاشی اور پھر مستحکم پاکستان کی جانب سفر کرنا ہوگا۔ پاکستان کی وزارت خارجہ دنیا بھرمیں سفارتخانوں کے سفیروں کو دنیا کی بدلتی ہوئی صورت حال کے مطابق اپنی خدمات سرانجام دینی ہوگی بالخصوص وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار پر بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ عالمی دنیا کی بدلتی ہوئی صورت حال پر نظر رکھیں بین الاقوامی بدلتی ہوئی خارجہ پالیسی پر توجہ دیں۔

  • شادی بیاہ کے معاملات اور ہمارا معاشرہ.تحریر: نصیر الدین

    شادی بیاہ کے معاملات اور ہمارا معاشرہ.تحریر: نصیر الدین

    ہر ملک اور ہر علاقے میں جہیز مختلف صورتوں میں دیا جاتا ہے۔ جو عام طور پر زیورات، کپڑوں، نقدی اور روزانہ استعمال کے برتنوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں میں جہیز کی یہ مروجہ رسم ہندو اثرات کی وجہ سے داخل ہوئی اور ایک لعنت شکل اختیار کر گئی۔ برصغیر میں تو گاڑی بائک سونا زیور اور گھر کا فرنیچر پردے قالین وغیرہ تک مانگ لیا جاتا ہے
    دلہن کے مہر کے بدلے کے طور پر بھی جہیز کے تعین کی کوشش کی جاتی ہے
    اگرغور کیا جاۓ تو جہیز کے مطالبے کو رشوت کی ایک قسم کہا جا سکتا ہے
    آج کل ہر کوئی جہیز کو لعنت قرار دیتا ہے
    حالانکہ نبی پاک صلی اللہ الہ وسلم نے بھی اپنی بیٹی کو جہیز دیا تھا نبی ص کی سنت کو لعنت کیسے قرار دیا جا سکتا ہے دراصل لعنت تو اسے ہم نے خود بنا دیا ہے محض جہالت اور لالچ کی وجہ سے،لڑکے والے خاص طور پر سامان اور کپڑوں کی لسٹیں بنا کر باقاعدہ ڈیمانڈ کرتے ہیں اور ا س بات پر ذرا سی بھی شرمندگی محسوس نہیں کرتے….اپنے چار پانچ سو دوست، رشتےدار بھی شادی میں کھانے پر ضرور بلاتے ہیں اور ان باتوں کو اپنا حق سمجھتے ہیں شادی پر وی آئی پی مہمان نوازی کی توقع کرتے ہیں وجہ یہ کہ ہم لڑکے والے ہیں، ہونا تو یہ چاہٸے کہ لڑکی والے اپنی استطاعت کے مطابق اپنی لڑکی کو کچھ نئی زندگی کی شروعات کے لۓ شادی پر دیں ،نہ کہ لڑکے کے مہمانوں کو کھلانے پلانے کے ساتھ ساتھ سازو سامان کی بھی ذمہ داری اٹھایں_نجانے لڑکے والوں کو یہ خیال کیوں نہیں آتا کہ وہ ماں باپ جنہوں نے اپنی لخت جگر بیٹی کو بیس بائیس سال تک پالا پوسا، لاکھوں روپے خرچ کر کے تعلیم و تربیت کے زیور سے آراستہ کیا اوراب وہ اپنی لاڈلی بیٹی ایک دوسرے خاندان کے حوالے کرنے کا رسک لے رہے ہیں کہ نجانے لڑکا اور اسکا خاندان آگے جا کر کیسےنکلیں ، لڑکے والوں کو ایک ایسی شخصیت مل رہی ہے جو نہ صرف انکے خاندان کی نسل کو آگے بڑھائے گی بلکہ انکا گھر بھی سنبھالے گی

    اگر لڑکے والے صرف اتنا ھی سوچ لیں تو شاید طرح طرح کے مطالبات کر کے لڑکی والوں پر بوجھ نہ ڈالیں ایسی سوچ لڑکے کی تربیت، تعلیم غیرت اور خاندانی ہونے پر منحصر ہے بےغیرت اور کم نسل لڑکے کو ایسی سوچ نہیں آتی نہ ہی شرمندگی ہوتی ہے، گو کہ رشتہ طے کرنے سے پہلے دونوں طرف سے چھان بین ہوتی ہے لیکن پھر بھی کل کا کسے پتہ………. اسلام شادی بیاہ میں لڑکی والوں پر اس قسم کی کوئی پابندی نہیں عائد کرتا کہ وہ شادی میں لڑکے کے مہمانوں کو کھانا کھلائیں اور لژکے والوں کی شرطیں پوری کرتے پھریں بلکہ لڑکے کی ذمہ داری ہے شادی اور شادی کے بعد کی ضروریات زندگی سے متعلق ہر چیز کا پہلے سے خود بندوسبت کرکے رکھے پھر شادی کرے نہ کہ لڑکی سے کپڑے، کھانا اور سامان مانگے …… شادی کی خوشی میں وہ دعوت ولیمہ کا اہتمام کرے اور تمام دوست رشتےداروں کو کھانا کھلائے شادی میں لڑکی والوں پر کھاناکھلانے کابوجھ نہ ڈالےاگر اپنے رشتے داروں کو بلانے کا بہت شوق ہے تو شادی میں بھی انکے کھانے کا بندوبست لڑکااپنی جیب سے خود ہی کرے…….لڑکے والوں کو چاہیئے اگر ان کی یا انکے لڑکے کی اتنی حیثیت نہیں ہے تو شادی کو اس وقت تک کے لئے موخر کر دیں جب تک اس قابل نہ ہو جائیں تاکہ لڑکی والوں کے آگے ننگا اوربھوکا نہ بننا پڑے شادی کے معاملات نمٹانے کا صحیح طریقہ جانننے کیلۓ اپنے بزرگوں کے ساتھ ساتھ علماۓ دین سے بھی پوچھا اور مشورہ کیا جاۓ.

    اللہ تعالی ہم سب کو شادی بیاہ کے معاملات میں سمجھداری اوردین اسلام کے اصولوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے لڑکے اور اسکے خاندان کو بے غیرت کے بجائے غیرتمند، سمجھدار اور دوسروں کا احساس کرنے والا بنائے آمین…….. اسلام نے نکاح کو جتنا آسان بنایا ہے موجودہ معاشرتی ماحول نے اسے اتنا ہی مشکل تر بنا دیا ہے ………ادھار قرضے لے کرغیر ضروی رسموں سہرا, بارات مہندی, بری, شو بازی , فنکشن, دکھاوا وغیرہ جو شادی کو مشکل تر بناتے ہیں ختم کر کے سادگی اپناٸی جاۓ مسجد میں نکاح کا اہتمام ہو اور اس کے بعد سادہ سی شادی کی دعوت تک محدود رہا جاۓ جو آج کے دور میں سمجھداری اور عزت بچانے کا بہترین طریقہ ہے

  • قصہ میری یادوں کا،”دل پر گرتے آنسو”.تحریر:قرۃالعین خالد

    قصہ میری یادوں کا،”دل پر گرتے آنسو”.تحریر:قرۃالعین خالد

    صدیوں سے یہ مقولہ مشہور ہے کہ کتابیں انسان کی بہترین ساتھی ہوتی ہیں۔ کتابیں نہ صرف خلوت بلکہ جلوت کی بھی ساتھی ہوتی ہیں۔ وہ انسان کی رازداں ہوتی ہیں۔ علم کے سمندر میں غوطہ زن ہونے کے لیے کتابیں ہی تو سہارا ہوتی ہیں۔ نفسا نفسی اور خود غرضی کے اس دور میں کتابوں سے زیادہ مخلص دوست کوئی نہیں جو اپنے پڑھنے والے کی زندگی کے راز کسی سے نہیں کہتی ہوں۔ کتابیں قرطاس میں رازوں کو دفن کر کے اپنے اندر سمیٹ لیتی ہیں۔ سفر زیست کے پنے پلٹوں تو وہ دن بہت یاد آتے ہیں۔ جب زندہ دلان لاہور میں ہم سب کزنز تعلیم کی غرض سے مقیم تھے۔ ہمارا مستقل ٹھکانہ پھپھو اور نانی اماں کا گھر ہوا کرتا تھا۔ سارا دن کالج یونیورسٹیوں میں کورس کی کتابوں کے ساتھ سر کھپا کر، لاہور کی لوکل بسوں کی خاک چھان کر جب شام ہم اپنے ٹھکانے میں اکٹھے ہوتے تو ہماری زندگی کا محور و مرکز کورس کی کتب کے علاوہ بھی کچھ کتابیں ہوتی تھیں۔ کتنا حسین تھا وہ دور طالب علمی جب ہم اردو بازار جاتے تھے اور فٹ پاتھ پر لگے کتابوں کے اسٹال سے رسائل اور میگزین سستے دام میں خریدتے تھے۔ دور حاضر میں ہر شے مہنگائی کی نظر ہو گئی ہے۔ ایک ادب بچا تھا اسے بھی پیسے کی ہوس نے بے ادب کر دیا۔ میری طرح اردو بازار ہزاروں نہیں، لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں طالبات کی یادوں میں مقید ہوگا۔ جہاں فٹ پاتھ پر بیٹھ کر کتب کو خوب دیکھنا اپنی من پسند کتاب کے مل جانے پر چیخ چیخ کر خوشی کا اظہار کرنا۔ اردو بازار کی یاد تو دل میں ایسی بسی ہے جہاں نہ رنگ کا فرق تھا، نہ نسل کا، نہ کلاس کا بس سب پڑھنے کے دیوانے اپنی دیوانگی کے ہاتھوں مجبور ہو کر چلے آتے تھے۔ اردو بازار فٹ پاتھ اسٹال کی سب سے حسین یادوں میں اگر میں یاد کرو تو مجھے ہنسی آ جاتی ہے۔ دوکاندار کے سامنے معصوم سی غربت والی مسکین سی رونی صورت بناتے تھے تو دکاندار پانچ روپے میں بھی میگزین تھما دیتا تھا اور اس وقت لگتا تھا کہ ہم نے کوئی دنیا فتح کر لی ہے۔ من پسند میگزین کا حصول ہمارے لیے اس وقت کی سب سے عظیم کامیابی تھی۔ پاکستان میں مڈل کلاس طبقے کو اپنی بہت سی خواہشات کی قربانیاں دینی پڑتی ہیں لیکن اردو بازار کتب میلے تک ہر خاص و عام کتب سے محبت کرنے والے متوالے کی رسائی تھی۔ دور طالب علمی کی حسین یادوں میں ایک مثبت یاد یہ بھی ہے کہ پانچ پانچ روپے میں جو رسائل خریدے جاتے تھے پڑھنے کے بعد وہ واپس بھی ہو جاتے تھے اور ان کے بدلے ہم مزید نئے خرید لیتے تھے۔ کیا خوبصورت دور تھا گھر والوں سے چھپ کر کورس کی کتابوں میں رسائل اور میگزین رکھ کر پڑھنا۔ مجھے یاد ہے ندا (پھوپو زاد بہن) جو کتب کی دیوانی تھی اس کے بارے میں سب کہتے تھے یہ تو چلتا پھرتا انسائیکلوپیڈیا ہے۔ محدود جیب خرچ میں پانچ پانچ روپے ڈال کر چھپ کر میگزین اکٹھے کرتی تھی۔ اب مسئلہ یہ ہوتا تھا کہ اس کو گھر والوں سے چھپا کر کہاں رکھا جائے تو بستر کے گدے کے نیچے بڑی عزت سے علم کا خزانہ چھپایا جاتا تھا۔ بحیثیت مڈل کلاس طالبہ کے ہم جیسوں کے لیے اردو بازار کسی نعمت سے کم نہ تھا۔ کچھ دنوں پہلے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو گردش کرتی نظر آئی۔ ملک دشمن عناصر تو سنا تھا مگر یہ علم دشمن عناصر کہاں سے وارد ہو گئے؟ انہی علم دشمنوں نے سالوں سے سجے کتب کے اسٹال اکھاڑ پھینکے۔ یہ بات لکھتے ہوئے میرا دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ میرے ہاتھ لکھتے ہوئے کانپ رہے ہیں۔ ایسے لگتا ہے کسی نے میرا بچپن، میرا لڑکپن، میرا دور طالب علمی تیز نوکیلے اوزار سے نوچ لیا ہو۔ اس منظر کو دیکھنا اور اس کے بعد تحریر کرنا میرے لیے بہت تکلیف دہ ہے۔ جب لکھتے ہوئے میرے دل میں اتنا درد اٹھ رہا ہے تو جو سالوں سے دھوپ، چھاؤں، بارش، آندھی، طوفان اور موسموں کے تغیر کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ان سٹالز کو اپنا خون جگر پلا کر اپنی اولاد کی طرح پروان چڑھا رہے ہوں گے ان کے دل پر کیا بیت رہی ہو گی؟ کوئی ان کے دل کی تکلیف ان سے جا کر پوچھے۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ کتابیں بظاہر بے جان ہوتی ہیں لیکن قاری اور لکھاری کی نظر سے دیکھیں تو کتابوں سے زیادہ جاندار کوئی نہیں ہے۔ وہ اپنے قاری کے ساتھ ہستی ہیں، اس کے ساتھ روتی ہیں، وہ خاموشی کی زباں میں بولتی ہیں۔ اپنا مدعا بیان کرتی ہیں۔ ہاں! کتابیں خود میں جیتی جاگتی ہیں وہ سانس لیتی ہیں۔ وہ مردہ دلوں کو علم کی آبیاری سے سیراب کرنے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔ ان کو بھی درد ہوتا ہے وہ بھی قاری کا خیال رکھنا خود سے محبت کرنا محسوس کرتی ہیں۔ میری نظر میں کتابیں جان رکھتی ہیں، سانس لیتی ہیں، وہ جیتی جاگتی ہیں۔ قاری کے دلوں پر راج کرتی ہیں۔ کہانیوں کے ذریعے ہم اپنی زندگی میں کتنے ہی سپنے بنتے ہیں۔ الفاظ کیسے قاری کے دل کو مضبوطی و تقویت بخشتے ہیں یہ کوئی کتب بینی سے محبت کرنے والوں سے پوچھے۔ مجھے اپنی تکلیف کا احساس ہے، دکاندار کو اپنا غم سب سے بڑا لگ رہا ہے، طالبات اپنی جگہ حالت غم میں ہیں۔ کیا کسی نے ان کتب سے پوچھا جب انہیں بے دردی سے اچھالا گیا، جب دور پھینک دیا گیا، جب ان کی حرمت کو پامال کیا گیا تو ان کو کتنی تکلیف ہوئی؟ انہوں نے کتنا درد سہا؟ وہ جو انسان کی تنہائی کا ساتھی اور بہترین دوست ہونے کا دعوی کرتی ہیں آج ان کتب کو اپنے قاری کی محبت کا ثبوت چاہیے۔ دنیا میں ہر چیز ترقی کر رہی ہے سوشل میڈیا کا دور ہے لیکن کتاب دوستی ازل سے ہے اور ابد تک رہے گی۔ان شاءاللہ!

    کائنات کو وجود بخشنے سے پہلے رب العزت نے کتاب تقدیر لکھی جسے لوہے محفوظ میں رکھ دیا گیا۔ ہر پیغمبر کو جب نائب مقرر کیا گیا تو اپنا پیغام رب نے کتاب یا صحیفے کی صورت میں بنی نوع انسان تک پہنچایا۔ آسمانوں سے رب کا پیغام پیغمبروں کے دلوں پر کتابوں کی صورت میں نازل ہوا آخری آسمانی پیغام جو وحی کی صورت خاتم النبیین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا وہ بھی کتابی صورت میں محفوظ ہے۔ اس دور میں عرب میں کاغذ کا دستور نہ تھا پیغام الہی کو چمڑے پر، درختوں کی چھال پر، پتھروں پر محفوظ کیا جاتا تھا۔ جنگ یمامہ میں 70 سے زائد حفاظ صحابہ اکرام کی شہادت نے حضرت ابوبکر کے دل پر وحی الہی کو مصحف کی صورت میں جمع کرنے کا خیال آیا۔ حضرت زید بن ثابت رضی اللّٰہ عنہ جنہیں کاتب وحی کہا جاتا ہے انہوں نے انتھک محنت سے قرآن پاک کو مصحف کی صورت میں ترتیب دیا جو آج ہر لحاظ سے محفوظ ہے۔ کتاب سے محبت انسان کی سرشت میں شامل ہے۔ دور نبوی میں بھی جنگوں میں مجاہدین کے جذبہ شوق کو جگانے کے لیے شاعری کی جاتی تھی یعنی ہر دور میں علم کو محفوظ کرنے کے لیے قرطاس کا سہارا لینا پڑا۔ علم وحی کا ہو چاہے ادب کا ہو، فنون لطیفہ ہو یا سائنس ہو علم تو علم کا درجہ ہی رکھتا ہے۔ جس نے علم کی قدر نہیں کی پھر انہوں نے اپنی قدر و منزلت بھی کھو دی۔ آج گیجٹس کے دور میں چند معتبر اشیاء جو بچ گئی ہیں ان میں کتب بھی شامل ہیں، اور اردو بازار مہنگائی کی جنگ لڑتا اپنے قارئین کو کم داموں میں علم کی پیاس بجھانے کا موقع فراہم کرتا تھا۔

    مگر یہ لمحہ فکریہ ہے آج حکام اعلی کے لیے۔ کسی چیز کو اس کا مقام نہ دینا ظلم ہے اور ظالموں کو اللہ پسند نہیں کرتا۔ آئیے! ہم سب مل کر کتاب دوستی کے لیے آواز اٹھائیں۔ اردو بازار کتابوں سے محبت کرنے والوں کی یادوں میں بسا ہے۔ آئیں! آج اپنی یادوں کو تکلیف دہ نہیں بلکہ خوشیوں والا بنائیں۔ آئیے! آج کتابوں کو ان کا اصل مقام دلانے کے لیے آواز اٹھائیں۔ میں نے کہیں پڑھا تھا جس قوم کے جوتے شوکیس میں رکھے جائیں اور کتابیں سڑکوں پر ہوں تو اس قوم کا تو اللہ ہی حافظ ہے لیکن یہاں تو سڑکوں سے اٹھا کر کتب کو دربدر کر دیا گیا۔ یہ علم تو مومن کے سر کا تاج ہے، دل کا سکون ہے، زندگی کی راحت ہے، آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ آج اس کو سڑکوں سے بھی اٹھا دیا گیا ہے۔ مڈل کلاس طالبات کی علمی پیاس کے لیے آواز اٹھائیں ورنہ اگلی نسلوں کی علمی آبیاری ممکن نہ رہے گی۔ ڈریں اس وقت سے جب ہمیں اپنے ایمان کا حساب دینا ہو گا، اگر ہم آگے بڑھ کر برائی کو ہاتھ سے روکنے کی جرات نہیں رکھتے تو اپنی زبان سے غلط کو غلط کہنا سیکھیں اگر وہ بھی نہیں کر سکتے تو کم از کم اسے دل میں تو برا جانیں اور یہ ایمان کی سب سے کمزور حالت ہے اپنے کمزور ایمان کو بچائیے۔ حق کو حق اور باطل کو باطل کہنا سیکھیے۔ آئیے! حق کے راستے کی بارش کا پہلا قطرہ بن جائیں کیونکہ جب زمیں پر جل تھل ہو گی تو کہیں راہ حق میں ہمارا بھی حصہ ہو گا۔ ان شاءاللہ!

  • متحدہ عرب امارات کا قومی دن اور پاکستان یو اے ای تعلقات

    متحدہ عرب امارات کا قومی دن اور پاکستان یو اے ای تعلقات

    متحدہ عرب امارات کا قومی دن ہر سال 2 دسمبر کو منایا جاتا ہے۔ یہ دن نہ صرف امارات کی آزادی اور ترقی کی داستان سناتا ہے بلکہ پاکستان اور یو اے ای کے درمیان گہرے تاریخی، اقتصادی، اور ثقافتی تعلقات کی علامت بھی ہے۔ متحدہ عرب امارات کا قومی دن 2 دسمبر 1971 ، جب چھ مختلف امارات — ابوظہبی، دبئی، شارجہ، عجمان، اُم القوین اور الفجیرہ — نے ایک وفاقی یونٹ کے طور پر متحد ہو کر یو اے ای کی بنیاد رکھی۔ ان امارات میں ساتواں امارات "راس الخیمہ” بعد میں 10 فروری 1972 میں شامل ہوا۔

    یو اے ای کا قومی دن ایک یادگار موقع ہے جس پر امارات کی کامیابیوں اور ترقی کو اجاگر کیا جاتا ہے۔ اس دن کو عوامی تعطیل کے طور پر منایا جاتا ہے، جس میں مختلف تقریبات، جشن، اور رنگا رنگ پروگرامز شامل ہوتے ہیں۔ اس دن کو نہ صرف مقامی طور پر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی انتہائی اہمیت دی جاتی ہے، کیونکہ یو اے ای نے اپنے مختصر عرصے میں عالمی سطح پر اقتصادی، تجارتی، اور ثقافتی لحاظ سے غیر معمولی ترقی حاصل کی ہے۔

    پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات: ایک تاریخی پس منظر
    پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات تاریخی طور پر مضبوط اور دوستانہ رہے ہیں۔ یہ تعلقات مختلف پہلوؤں پر محیط ہیں جن میں اقتصادی تعاون، ثقافتی روابط، اور انسانی سطح پر تعاون شامل ہیں۔پاکستان اور یو اے ای کے درمیان اقتصادی تعلقات انتہائی اہم ہیں۔ یو اے ای پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور پاکستان کے لیے ایک اہم سرمایہ کاری کا ذریعہ بھی ہے۔ لاکھوں پاکستانی شہری یو اے ای میں کام کرتے ہیں اور وہاں کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس کے بدلے میں، پاکستان کو مختلف شعبوں میں اہم مالی مدد اور امداد حاصل ہوتی ہے۔یو اے ای پاکستان کو تیل کی فراہمی، تجارت، اور دیگر مالی امداد فراہم کرتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم سالانہ اربوں ڈالرز تک پہنچتا ہے، اور یہ تعلقات مسلسل ترقی کر رہے ہیں۔پاکستانی مزدوروں کی بڑی تعداد یو اے ای میں کام کر رہی ہے۔ یہ افراد تعمیراتی صنعت، ہوٹلنگ، ٹرانسپورٹ اور دیگر شعبوں میں کام کرتے ہیں۔ یو اے ای میں پاکستانیوں کی موجودگی نے دونوں ممالک کے درمیان انسانی تعلقات کو مزید مستحکم کیا ہے۔ پاکستانی تارکین وطن کی محنت و لگن نے یو اے ای کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔یو اے ای میں پاکستانی کمیونٹی کی بڑی تعداد مختلف علاقوں میں آباد ہے، اور ان کے ثقافتی، سماجی اور اقتصادی روابط دونوں ممالک کی دوستی کی ایک اور نشانی ہیں۔

    پاکستان اور یو اے ای کے درمیان دفاعی اور سفارتی تعلقات بھی انتہائی مضبوط ہیں۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہیں اور عالمی سطح پر مختلف فورمز پر ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں۔ یو اے ای نے پاکستان کے ساتھ مل کر مختلف فوجی مشقیں بھی کی ہیں اور دفاعی تعلقات کو مزید مستحکم کیا ہے۔
    پاکستان اور یو اے ای کے درمیان ثقافتی تعلقات بھی کافی گہرے ہیں۔ یو اے ای میں پاکستانی ثقافت کی ایک واضح موجودگی ہے، خاص طور پر پاکستانی کھانے، موسیقی، اور تہوار۔ ہر سال مختلف پاکستانی تہوار، جیسے عید الفطر، عید الاضحیٰ، اور یوم پاکستان یو اے ای میں بڑی دھوم دھام سے منائے جاتے ہیں۔پاکستانی فلم انڈسٹری کے مشہور اداکار اور گلوکار بھی یو اے ای میں اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں، پاکستان کی مشہور آرٹس، دستکاری اور تہذیب بھی یو اے ای میں مقبول ہے۔

    متحدہ عرب امارات کا قومی دن نہ صرف اس ملک کی آزادی اور ترقی کا جشن ہے بلکہ یہ پاکستان اور یو اے ای کے درمیان گہرے روابط کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، تجارتی، ثقافتی، اور دفاعی تعلقات مستحکم ہیں اور مستقبل میں ان تعلقات میں مزید بہتری کی امید کی جاتی ہے۔پاکستانی عوام یو اے ای کے ساتھ اپنے تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتے ہیں اور یہ یقین رکھتے ہیں کہ دونوں ممالک کی دوستی وقت کے ساتھ مزید مستحکم ہو گی۔ یو اے ای کا قومی دن پاکستانیوں کے لیے ایک ایسا موقع ہے جب وہ اپنے دوست ملک کی کامیابیوں کا جشن مناتے ہیں اور ان تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہیں۔

  • کرم ایجنسی میں اموات، کیا صوبائی حکومت کافی اقدامات کر رہی ہے؟

    کرم ایجنسی میں اموات، کیا صوبائی حکومت کافی اقدامات کر رہی ہے؟

    کرم کا علاقہ شیعہ اور سنی کمیونٹیز کے درمیان فرقہ وارانہ تشدد کی ایک طویل اور دردناک تاریخ رکھتا ہے۔ سب سے خونریز سال 2007 سے 2011 کے دوران تھے، جب 2,000 سے زائد افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
    یہ پہاڑی علاقہ جو افغانستان کے خوست، پکتیا اور ننگرہار صوبوں کے ساتھ متصل ہے، اب شدت پسند گروپوں کے لیے پناہ گاہ بن چکا ہے۔ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور داعش جیسی تنظیمیں یہاں حملے کرتی رہتی ہیں، جس سے علاقے میں مزید عدم استحکام بڑھ رہا ہے۔

    حالیہ تشدد ایک اراضی کے تنازعے سے شروع ہو کر قبائلی اور فرقہ وارانہ تنازعے میں تبدیل ہوگیا ہے، جس سے مقامی آبادی میں شدید غصہ پایا جا رہا ہے۔ محسود، ایک قبائلی سردار، نے کہا، "یقیناً علاقے میں لوگوں میں بہت غصہ اور نفرت ہے تاہم، ہمیں کرم کے علاوہ دیگر علاقوں کے قبائلی عمائدین کی مکمل حمایت حاصل ہے۔”

    اس صورتحال کے جواب میں، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے تناؤ کو کم کرنے اور اس پر قابو پانے کے لیے اقدامات کیے ہیں، جن میں ایک قبائلی جرگہ کو دوبارہ فعال کرنا شامل ہے تاکہ امن کی کوشش کی جا سکے۔ ایک نیا صوبائی ہائی وے پولیس فورس بھی قائم کیا گیا ہے تاکہ اہم نقل و حمل کے راستوں کی حفاظت کی جا سکے۔ ان اقدامات کے باوجود، ایک اعلی سطحی وفد جس میں خیبر پختونخوا کے چیف سیکرٹری ندیم اسلم چوہدری بھی شامل تھے، عارضی فائر بندی پر بات چیت کرنے میں کامیاب ہوا، لیکن اس کے بعد تشدد دوبارہ بھڑک اٹھا۔

    یہ تنازعہ تاریخی، جغرافیائی اور مذہبی پیچیدگیوں میں گہرا جڑا ہوا ہے جس کا حل ایک دن میں ممکن نہیں۔ تاہم، جیسا کہ بانی پاکستان کے ویژن تھا ریاست کی بنیادی ذمہ داری قانون اور انصاف کی بحالی ،لیکن یہاں کیا ریاست کرم میں یہ ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام ہو چکی ہے؟اس بڑھتے ہوئے بحران کے باوجود، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے دارالحکومت میں سیاسی لڑائیوں پر زیادہ توجہ مرکوز کی ہے، جس کی وجہ سے کرم کے عوام حکومت کی غفلت کا سنگین نتیجہ بھگت رہے ہیں۔

  • اقلیتوں کی آڑ میں بنگلا دیش میں بھارتی مداخلت

    اقلیتوں کی آڑ میں بنگلا دیش میں بھارتی مداخلت

    اقلیتوں کی آڑ میں بنگلا دیش میں بھارتی مداخلت
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفیٰ بڈانی
    بھارت نے بنگلا دیش میں دو ہندو راہبوں کی گرفتاری کو بنیاد بنا کر عالمی سطح پر بنگلا دیش کی عبوری حکومت کے خلاف ایک منظم سفارتی محاذ کھول دیا ہے۔ اس کارروائی کا مقصد نہ صرف بنگلا دیش کو عالمی سطح پر بدنام کرنا ہے بلکہ اپنے داخلی مسائل سے توجہ ہٹا کر خطے میں اپنی برتری قائم رکھنا بھی ہے۔ بھارت کی یہ حکمت عملی ایک جانب بنگلا دیش کے داخلی معاملات میں مداخلت کو ظاہر کرتی ہے تو دوسری جانب اقلیتوں کے تحفظ کے نام پر جھوٹا بیانیہ پیش کرنے کی کوشش ہے۔

    بھارت میں اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں کے خلاف مظالم دنیا کے سامنے ہیں۔ مساجد کو مندروں میں تبدیل کرنا، مسلمانوں کی جائیدادیں بلڈوز کرنا اور ان کے خلاف نفرت انگیز مہمات جیسے "لو جہاد”، "لینڈ جہاد” اور "ریڑھی جہاد” بھارتی سماج میں روزمرہ کا حصہ بن چکے ہیں۔ اس کے باوجود بھارت عالمی برادری کے سامنے اپنی تصویر کو اقلیتوں کے محافظ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور بنگلا دیش کی عبوری حکومت پر اقلیتوں کے خلاف امتیازی رویوں کا الزام عائد کر رہا ہے۔

    بنگلا دیش میں حالیہ دنوں میں اِسک کون (ISKCON) کے دو ہندو راہبوں کی گرفتاری اور دیگر 17 افراد کے بینک اکاؤنٹس منجمد کیے جانے کا معاملہ بھارتی میڈیا اور انتہا پسند تنظیموں کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ اِسک کون کو بنگلا دیشی عدالت نے ایک بنیاد پرست تنظیم قرار دیا ہے جس کی سرگرمیاں معاشرتی امن کے لیے خطرناک ہیں۔ تاہم بھارت میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور دیگر ہندو تنظیموں نے اس مسئلے کو بین الاقوامی سطح پر اچھالنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ بنگلا دیش کے خلاف دباؤ ڈالا جا سکے۔

    امریکا اور یورپ میں بھارت نواز لابیاں اس وقت سرگرم ہیں اور بنگلا دیش کی اقلیتوں پر مظالم کے الزامات لگا کر عالمی رائے عامہ کو گمراہ کر رہی ہیں۔ ہندو کمیونٹی کے مختلف گروپ امریکا اور یورپ میں یہ بیانیہ پیش کر رہے ہیں کہ بنگلا دیش میں اقلیتوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ گروپ عبوری حکومت کے خلاف فضا ہموار کرنے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بنگلا دیش کی عدالتوں نے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے بنیاد پرست تنظیموں کے خلاف کارروائی کی ہے۔

    بنگلا دیش کی سابق وزیرِاعظم شیخ حسینہ واجد نے اِسک کون کے رہنما چنموئے کرشنا داس اور دیگر افراد کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کے مطابق عبوری حکومت اقلیتوں کے خلاف امتیازی نوعیت کی کارروائیاں کر رہی ہے، جس سے اقلیتیں خوفزدہ ہو رہی ہیں۔ شیخ حسینہ نے اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد بنگلا دیش میں سیاسی عدم استحکام اور عبوری حکومت کے اقدامات کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

    بھارتی میڈیا نے اس پورے معاملے کو ہندو مخالف جذبات کے طور پر پیش کیا ہے تاکہ بنگلا دیش کے خلاف عالمی رائے عامہ کو اپنے حق میں کیا جا سکے۔ بھارتی حکومت اس معاملے کو سفارتی طور پر اٹھا کر بنگلا دیش کی عبوری حکومت کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

    یہ واضح ہے کہ بھارت کی یہ مداخلت محض اقلیتوں کے تحفظ کے نام پر نہیں بلکہ ایک بڑی سفارتی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانا اور بنگلا دیش کے داخلی معاملات کو بین الاقوامی رنگ دینا ہے۔ اس حوالے سے عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ بھارت کی ان چالوں کا نوٹس لے اور خطے میں استحکام کے لیے غیر جانبدارانہ کردار ادا کرے۔

  • مساجد میں سفید پوشوں کی عزت نفس کا تحفظ ضروری ہے

    مساجد میں سفید پوشوں کی عزت نفس کا تحفظ ضروری ہے

    مساجد میں سفید پوشوں کی عزت نفس کا تحفظ ضروری ہے
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفی بڈانی
    مساجد کا تقدس اور ان کا مقام مسلم معاشرے میں انتہائی اہم ہے۔ یہ وہ مقدس جگہیں ہیں جہاں لوگ اللہ کے حضور جھکنے، سکون حاصل کرنے اور روحانیت وعبادات کیلئے جمع ہوتے ہیں۔ یہاں کی فضا کا تقدس اور نمازیوں کی عزت نفس برقرار رکھنا علمائے کرام اور دینی قیادت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ تاہم کچھ ایسے واقعات پیش آتے ہیں جو نہ صرف مساجد کی حرمت کو متاثر کرتے ہیں بلکہ لوگوں کے دلوں میں علمائے کرام کے بارے میں مایوسی بھی پیدا کرتے ہیں۔

    حال ہی میں ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں ایک نوجوان عالم دین قاری یاسین حیدر نے خطبے کے دوران ایک شخص کو ٹوکا جو ان پر نوٹ نچھاور کر رہا تھا۔ قاری صاحب نے نہایت صاف گوئی سے اس عمل کو غلط قرار دیا اور کہا کہ یہ عمل ناچنے والیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے اور علما پر ایسا کرنا ان کی عزت اور مقام کو گرا دیتا ہے۔ ان کے اس رویے کو عوام کی طرف سے خوب سراہا گیا اور یہ ثابت ہوا کہ علمائے کرام میں آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں جن کے کردار معاشرے کے لیے مشعل راہ ہیں۔

    مگر چند دن بعد ایک اور واقعہ نے عوام کے دلوں میں پیدا ہونے والے اس مثبت احساس کو دھچکا پہنچایا۔ ایک مقامی مسجد میں جمعہ کی نماز کے دوران ایک نوجوان قاری نے خطبہ روک کر نمازیوں سے چندہ مانگنے کا عمل شروع کر دیا۔ انہوں نے نمازیوں کو مالی استطاعت کے مطابق تقسیم کیا اور کہا کہ پہلے وہ لوگ آئیں جو پانچ ہزار روپے دے سکتے ہیں پھر وہ جو ایک ہزار اور پانچ سو روپے دینے والے ہیں۔ یہ عمل نہ صرف مسجد میں موجود نمازیوں کے لیے شرمندگی کا باعث بنا بلکہ ان کی عزت نفس کو بھی مجروح کیا۔

    یہ رویہ نہایت افسوس ناک ہے کیونکہ مساجد وہ جگہ ہیں جہاں لوگوں کو سکون اور روحانیت کی تلاش ہوتی ہے نہ کہ معاشرتی دبا ئویا مالی تقاضوں کا سامنا۔ نمازی اپنی استطاعت کے مطابق چندہ دینے کو تیار ہوتے ہیں جو ایک خوش آئند روایت ہے لیکن اس طرح کے اعلانات اور دبا ئونمازیوں کو بدظن کر سکتے ہیں اور مسجد کی آبادی پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔

    اسلامی تعلیمات میں صدقہ اور خیرات کو پوشیدہ رکھنے پر زور دیا گیا ہے تاکہ کسی کی عزت نفس کو مجروح نہ کیا جائے۔ ایک حدیث میں سات ایسے افراد کا ذکر ہے جنہیں قیامت کے دن اللہ تعالی اپنی رحمت کے سائے میں جگہ دے گا اور ان میں ایک وہ شخص بھی ہے جو اس قدر پوشیدہ طریقے سے صدقہ کرے کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی معلوم نہ ہو کہ دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا۔

    مساجد اور ان کی ضروریات کے لیے چندہ جمع کرنا بلاشبہ ایک اہم عمل ہے، لیکن اس کا طریقہ ایسا ہونا چاہیے جو لوگوں کو سکون دے اور ان کی عزت نفس کا تحفظ کرے۔ مساجد کے لیے چندہ جمع کرنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ لوگ اپنی خوشی اور استطاعت کے مطابق خود پیش ہوں نہ کہ ان پر مالی دبائو ڈالا جائے یا ان کی استطاعت کو عوام کے سامنے ظاہر کیا جائے۔

    علمائے کرام کو چاہیے کہ وہ مساجد کے تقدس کو برقرار رکھنے کے لیے اس بات کو یقینی بنائیں کہ کوئی ایسا عمل نہ ہو جو نمازیوں کی دل آزاری کا باعث بنے۔ دینی قیادت کا کردار صرف عبادات کی امامت تک محدود نہیں بلکہ ان کے اعمال اور کردار سے لوگوں کے دلوں میں محبت، احترام، اور اعتماد پیدا ہونا چاہیے۔ مساجد کے تقدس کو قائم رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ چندہ جمع کرنے کے ایسے طریقے اپنائے جائیں جو نمازیوں کی عزت نفس کو مجروح نہ کریں اور انہیں عبادات کے لیے مساجد میں آنے سے بدظن نہ کریں۔

    یہ مسئلہ نہ صرف دینی قیادت بلکہ پوری مسلم کمیونٹی کے لیے غور و فکر کا متقاضی ہے۔ اگر مساجد کے ماحول کو محفوظ اور پر سکون بنایا جائے تو یہ جگہیں لوگوں کے دلوں کو سکون اور روحانی سکون فراہم کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔ علمائے کرام کے لیے لازم ہے کہ وہ مساجد کے تقدس کو برقرار رکھیں اور نمازیوں کی عزت نفس کا مکمل تحفظ کریں تاکہ لوگوں کا اللہ کے گھر پر اعتماد بحال رہے۔

  • پی ٹی آئی کا تبدیلی سے تباہی تک سفر میں "بشریٰ” کا اہم کردار

    پی ٹی آئی کا تبدیلی سے تباہی تک سفر میں "بشریٰ” کا اہم کردار

    پاکستان تحریک انصاف کسی زمانے میں تبدیلی کی علامت سمجھی جاتی تھی، لیکن اب یہ پارٹی ایک نئے بحران سے دوچار ہے اور تبدیلی سے پاکستان کی تباہی کا سفر بڑی کامیابی سے طے کر لیا ہے، عمران خان سے بشریٰ بی بی کی شادی ہونے کے بعد سے ہی تبدیلی کا سفر تباہی کے راستے پر چل پڑا تھا، بشریٰ بی بی، عمران خان کی اہلیہ اور پارٹی کی غیر رسمی حکمران شخصیت ہیں، جن کے اقتدار کا دائرہ اتنا وسیع ہو چکا ہے کہ وہ نہ صرف پارٹی کے اندر، بلکہ عمران خان کی سیاست پر بھی اثر انداز ہو رہی ہیں۔عمران خان کی رہائی کے لئے ڈی چوک جانے کی ضد، اور پھر وہاں سے فرار، اسکے بعد پارٹی اجلاس میں رہنماوں کے ساتھ بدتمیزی، ہر انگلی بشریٰ بی بی کی طرف اٹھ رہی ہے کہ بشریٰ بی بی نے پارٹی کو گھر سمجھ لیا ہے

    پی ٹی آئی سیکرٹری جنرل، معروف وکیل سلمان اکرم راجہ کا پارٹی عہدے سے استعفیٰ دینا ایک بڑے جھٹکے کے طور پر سامنے آیا ہے۔ سلمان اکرم راجہ، جو پی ٹی آئی کے قانونی معاملات میں اہم کردار ادا کر چکے تھے، کو بشریٰ بی بی نے زوم میٹنگ کے دوران انتہائی غلط انداز میں مخاطب کیا جس کا بشریٰ کو حق نہیں تھا کیونکہ بشریٰ کا پی ٹی آئی کورکمیٹی سے کوئی لینا دینا نہیں تھا لیکن وہ زبردستی اجلاس میں آئیں اور نہ صرف سلمان اکرم راجہ بلکہ سب پارٹی رہنماؤں کے ساتھ بدتمیزی کی، پارٹی رہنماؤں کو بے شرم، بے غیرت تک کہا،سب نے سن لیا لیکن سلمان اکرم راجہ بولے اور بشریٰ کو کھری کھری سنائیں، آج سلمان اکرم راجہ نے عمران خان سے جیل میں ملنے کی کوشش کی لیکن ملاقات نہ ہو سکی جس کے بعد وہ پارٹی عہدے سے مستعفی ہو گئے

    عمران خان، جو کبھی اپنی جماعت کے قائد اور محسن سمجھے جاتے تھے، اب پارٹی کے معاملات میں اپنی ناکامی کے ساتھ نظر آتے ہیں۔ ان کی خاموشی، یا شاید ان کی بے بسی، یہ واضح کرتی ہے کہ وہ بشریٰ بی بی کے سامنے بے بس ہیں اور پارٹی کے اندر ان کی مضبوط گرفت کو تسلیم کرتے ہیں۔حکومت میں رہ کر بھی بشریٰ بی بی ہی درحقیقت وزیراعظم تھی، عمران خان تو ڈمی تھے، جس طرح بزدار کو ڈمی وزیراعلیٰ کہا جاتا تھا اسی طرح عمران خان ڈمی وزیراعظم اور انکا کنٹرول بشریٰ بی بی کے پاس تھا، تمام احکامات بشریٰ بی بی صادر کرتیں اور عمران خان من و عن عمل کرتے،

    پارٹی کے اندرونی حلقوں سے یہ شکایات آئی ہیں کہ بشریٰ بی بی نے پارٹی کے فیصلوں میں دخل اندازی کی ہے اور کارکنان کے ساتھ بدسلوکی کی ہے۔ ان کی بڑھتی ہوئی طاقت اور پارٹی پر مکمل کنٹرول نے پی ٹی آئی کی جڑوں کو مزید کمزور کر دیا ہے۔ ان کا یہ طرز عمل تحریک انصاف کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہے جو عمران خان نے شروع کیے تھے۔بشریٰ کو تو عمران گھریلو عورت کہتے تھے لیکن دو دن غیر مردوں کے ساتھ ایک کینٹینر پر رہنا، کارکنان سے خطاب اور انہیں پھر ڈی چوک جانے پر ابھارنا کیا یہ کسی گھریلو عورت کا کام ہو سکتا ہے، اصل میں بشریٰ بی بی پی ٹی آئی پر مکمل کنٹرول چاہتی ہیں،حقیقت یہ ہے کہ بشریٰ بی بی نے پارٹی کی اندرونی سیاست کو ایک خاندان کی جاگیر بنا لیا ہے، جس میں صرف چند مخصوص افراد کو ہی اہمیت دی جاتی ہے، باقی سب کو نظرانداز کر دیا گیا ہے۔

    پاکستان تحریک انصاف نے 2018 کے انتخابات میں "انصاف” کا نعرہ لگایا تھا۔ عمران خان نے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ پاکستان میں کرپشن اور سیاست میں تبدیلی لائیں گے۔ مگر آج، تحریک انصاف نہ صرف اپنے وعدوں سے منحرف ہو چکی ہے بلکہ یہ ایک ایسی جماعت بن چکی ہے جس میں فیصلہ سازی اور طاقت کا مرکز ایک خاندان کے ہاتھ میں ہے۔ بشریٰ بی بی کی بڑھتی ہوئی مداخلت نے پارٹی کے اندر اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ پی ٹی آئی کا "انصاف” اب صرف ایک خواب بن کر رہ گیا ہے۔

    اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا تحریک انصاف واقعی ایک عوامی تحریک تھی یا صرف ایک خاندان کی جاگیر؟ اگر ہم پارٹی کے حالیہ فیصلوں اور بشریٰ بی بی کے اثرات کو دیکھیں تو یہ سوال جائز لگتا ہے۔ پارٹی کی قیادت میں موجود افراد کو اکثر نظرانداز کیا جاتا ہے، اور ہر اہم فیصلہ بشریٰ بی بی کے مشوروں یا ان کی مرضی کے مطابق لیا جاتا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف پارٹی کے اندر دھڑے بندی کی وجہ بنی ہے، بلکہ اس سے کارکنان کا اعتماد بھی ٹوٹ رہا ہے۔

    تحریک انصاف کی موجودہ حالت ایک جھوٹے انقلاب کی موت کا اعلان کرتی ہے۔ عمران خان نے تبدیلی کے نعرے کے تحت ایک ایسا وعدہ کیا تھا جس کے بارے میں آج ہر طرف سوالات اٹھ رہے ہیں۔ تحریک انصاف کی تباہی، بشریٰ بی بی کے اقتدار کی تفصیلات اور عمران خان کی خاموشی نہ صرف ایک سیاسی المیہ ہے بلکہ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ انقلاب کے نام پر ایک طاقتور طبقے نے پارٹی کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کیا۔یقیناً، یہ تحریک انصاف کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا ہے اور اس کے مستقبل پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا پی ٹی آئی اس بحران سے نکل پائے گی یا یہ پارٹی ایک خاندان کی سلطنت بن کر رہ جائے گی؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب وقت ہی دے گا۔

    پی ٹی آئی مظاہرین کے تشدد سے متاثرہ پنجاب رینجرز کے جوانوں کے انکشافات

    سروسز بیچنے والیوں سے مجھے یہ فتوی نہیں چاہیے،سلمان اکرم راجہ کا بشریٰ کو جواب

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ