Baaghi TV

Category: بلاگ

  • لاشوں کی سیاست،خوفناک کھیل.تحریر:وقار ستی

    لاشوں کی سیاست،خوفناک کھیل.تحریر:وقار ستی

    پاکستان کی تاریخ کئی سانحات کی گواہ ہے، لیکن کچھ سانحات ایسے ہیں جو زخم بن کر رہ جاتے ہیں، اور کچھ ایسی سازشیں جو قوم کے شعور پر حملہ کرتی ہیں۔ لاشوں کی سیاست، جسے آج کے دور کی سب سے مکروہ اور شیطانی حکمت عملی کہا جا سکتا ہے، ان ہی سازشوں میں سے ایک ہے۔ یہ سیاست کسی نظریے کی جنگ نہیں بلکہ خوفناک اور خطرناک سازش ہے، جس کا مقصد نہ صرف عوام کو گمراہ کرنا بلکہ ریاست کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنا ہے۔ 9 مئی اور 26 نومبر اس شیطانی کھیل کی دو بدترین اور واضع مثالیں ہیں، جو سیاست کے نام پر پاکستان کی سالمیت پر حملہ تھے۔

    9 مئی اور 26 نومبر کو تحریک انتشار کے نام نہاد رہنماؤں نے ایسا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جو ملک کو خانہ جنگی کی دہلیز پر لے جائے۔ ان کے منصوبے کا بنیادی مقصد تھا خون بہے، لاشیں گریں، اور اس فساد کو عالمی سطح پر پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے کے لیے استعمال کیا جائے۔ 9 مئی کو قومی املاک اور دفاعی تنصیبات پر حملے کیے گئے، جبکہ 26 نومبر کو قتل و غارت گری کے جھوٹے بیانیے کو فروغ دیا گیا۔ یہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی تھی، جس کا مقصد دنیا کو یہ دکھانا تھا کہ پاکستان ایک ناکام ریاست بن چکا ہے۔

    لاشوں کی سیاست کے اس کھیل کو ہوا دینے میں سب سے بڑا کردار ان ڈیجیٹل دہشت گردوں کا ہے، جو سوشل میڈیا پر جھوٹے بیانیے عام کرتے ہیں۔ یہ عناصر، جو بظاہر آزاد صحافت کے علمبردار بنتے ہیں، درحقیقت پاکستان کے دشمنوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔ ان کا مقصد نہ صرف عوامی شعور کو مسخ کرنا ہے بلکہ ریاستی اداروں کو کمزور کرنا بھی ہے۔ 26 نومبر کے بعد جھوٹے بیانیوں اور جعلی خبروں کا جو طوفان کھڑا کیا گیا، اس نے واضح کر دیا کہ یہ عناصر کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔

    تحریک انتشار کے رہنماؤں نے احتجاج کو پرتشدد بنانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا۔ علی امین گنڈا پور اور دیگر نے کھلے عام “مارنے اور مرنے” کی باتیں کیں، جبکہ اس مارچ سے قبل جو افغانی اسلحے سمیت گرفتار ہوئے انہوں نے ان کے ناپاک ارادوں کو بے نقاب کر دیاہے کہ یہ اسلحہ مظاہرین کے ہاتھوں قتل عام کے لیے استعمال کیا جانا تھا، تاکہ پاکستان میں بدامنی کی ایک ایسی لہر پیدا کی جا سکے جو قابو سے باہر ہو۔ سوال یہ ہے کہ کیا کسی مہذب معاشرے میں اس طرح کی دہشت گردی کو سیاست کہا جا سکتا ہے؟

    قانون نافذ کرنے والے اداروں نے نہایت پیشہ ورانہ حکمت عملی سے اس انتشار کو قابو کیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ کافی ہے؟ ان جھوٹے پراپیگنڈہ کرنے والوں، چاہے وہ سیاستدان ہوں صحافی ہوں یا سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ ہوں کو کب قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا؟ یہ عناصر پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنے کی سازش میں مصروف ہیں اور ان کے خلاف فوری اور سخت کارروائی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

    یہ جھوٹا پروپیگنڈہ صرف وقتی فساد نہیں بلکہ پاکستان کی ریاست کے لیے ایک طویل مدتی چیلنج بن سکتا ہے۔ اگر اس جھوٹ کو بے نقاب نہ کیا گیا تو یہ سازشی عناصر مستقبل میں مزید شدت سے حملہ آور ہو سکتے ہیں۔ یہ وقت ہے کہ حکومت،ریاست، عوام، اور میڈیا مل کر ان عناصر کے خلاف سخت موقف اپنائیں۔کیونکہ لاشوں کی سیاست دراصل پاکستان کی سالمیت پر ایک حملہ ہے۔ یہ کوئی معمولی سیاسی کھیل نہیں بلکہ ایک منظم عالمی سازش ہے، جس کا مقصد پاکستان کے تشخص کو نقصان پہنچانا ہے۔ قوم کو اس وقت اتحاد اور ہوشیاری کی ضرورت ہے۔ ان سازشوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا اور ان کے پس پردہ عناصر کو بے نقاب کرنا اور ذمہ دران کو سخت سزا دینا ہی پاکستان کے وقار اور استحکام کا واحد راستہ ہے۔ یہ وقت کسی نرمی یا رعایت کا نہیں بلکہ دشمنان وطن کو ہر محاذ پر شکست دینے کا ہے۔

    پی ٹی آئی مظاہرین کے تشدد سے متاثرہ پنجاب رینجرز کے جوانوں کے انکشافات

    سروسز بیچنے والیوں سے مجھے یہ فتوی نہیں چاہیے،سلمان اکرم راجہ کا بشریٰ کو جواب

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

    پیسے دے کر کہا گیا دھرنے میں جا کر آگ لگانی ،گرفتار شرپسندوں کے انکشاف

  • "یہ تمنا ہے کہ آزادِ تمنا ہی رہوں” .تحریر:مسکان احزم

    "یہ تمنا ہے کہ آزادِ تمنا ہی رہوں” .تحریر:مسکان احزم

    قدر اسی چیز کی ہے جو لاحاصل ہے۔ جو چیز ہاتھ میں آجائے وہ بے مول ہوجاتی ہے۔
    انسانی چاہت کی مثلت انہی تین زاویوں سے بنتی ہے:
    "لاحاصل سے حاصل اور حاصل سے دوبارہ لاحاصل۔”
    لگتا ہے کہ بہت کچھ پالیا ہے۔ لیکن دل کی خانہ ویرانی اکساتی رہتی ہے کہ نہیں۔ جو نہیں ہے، اسی کی چاہ ہے اور اس کے بغیر یہ دامن سمجھو کہ بہت خالی ہے تو پھر چاہے دنیا بھر کی خوشیاں ڈال دو اس میں۔
    پیچھے مڑ کر دیکھوں تو اکثر سوچتی ہوں کہ کبھی میں چاہتی تھی کہ مجھے فلاں چیز مل جائے۔ تو جب وہ مل جاتی تھی تو دل میں کسی اور چیز کی خواہش جاگ جاتی تھی۔ جب وہ ملتی تھی تو پھر اگلی۔ ختم نہ ہونے والا ایک طویل سلسلہ جس کا شاید کوئی انت ہی نہیں۔
    سنا تھا کہ انسان کا پیٹ نہیں بھرتا، ہمارا تو دل بھی نہیں بھرتا۔ مجال ہے جو بس ایک تمنا پوری ہوجانے پر راضی ہوا ہو۔
    آگے سے آگے کی چاہ ٹھہراؤ نہیں آنے دیتی۔ ذرا سا پڑاؤ ڈال لیا جائے ،تو کیا برا ہے؟
    لیکن اب کوشش ہے کہ دل کی تمناؤں کو محدود کردیا جائے۔ ٹھہر لیا جائے، رک کر سانس لے لیا جائے۔ پڑاؤ ڈال کر دیکھ لیا جائے کہ جو خواہش کے علاوہ مل رہا ہے وہ کتنا بہترین ہے۔ وہ جو اللہ اپنی چاہت سے ہمیں نواز رہے ہیں، اس میں کتنی خیر ہے۔
    بس اب:
    "یہ تمنا ہے کہ آزادِ تمنا ہی رہوں”
    مسکان احزم

  • 8 فروری 2025 کو منعقد ہونیوالے عالمی مشاعرے کی تیاریوں کا جائزہ اجلاس

    8 فروری 2025 کو منعقد ہونیوالے عالمی مشاعرے کی تیاریوں کا جائزہ اجلاس

    عالمی مشاعرہ کمیٹی کا خصوصی اجلاس جہانگیر خان اسپورٹس کمپلیکس، کشمیر روڈ، کراچی میں شام 6 بجے منعقد ہوا۔ اس اجلاس کا مقصد 8 فروری 2025 کو منعقد ہونے والے عالمی مشاعرے کی تیاریوں کا جائزہ لینا، اس کی تشہیر کے لیے حکمت عملی مرتب کرنا، اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی تجاویز کو شامل کرنا تھا۔

    اجلاس میں کمیٹی کے معزز اراکین، کاروباری برادری کے نمائندوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھرپور شرکت کی۔ حاضرین نے مشاعرے کی کامیابی کے لیے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی اور اس کے انتظامات کو بہتر بنانے کے لیے مفید تجاویز بھی پیش کی گئیں ۔ شرکاء محفل نے مشاعرے کے پیغام کو زیادہ سے زیادہ افراد تک پہنچانے کے لیے ڈیجیٹل اور روایتی ذرائع ابلاغ کے مؤثر استعمال پر زور دیا۔ اس کے ساتھ مہمان شعراء کی فہرست کو جلد حتمی شکل دینے، سامعین کے لئے آرام دہ سہولتوں کی فراہمی، اور مشاعرے کے دوران اعلیٰ معیار کے آلات کے استعمال کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔ مشاعرے کی لائیو اسٹریمنگ کے ذریعے عالمی سطح پر اس کے پیغام کو پھیلانے کی تجویز کو بھی سراہا گیا۔

    کاروباری برادری کے نمائندوں جناب ایس ایم تنور، ریاض احمد (مکہ مکرمہ) جناب خالد تواب، جناب میاں زاہد، جناب حنیف گوھر، جناب نوید بخاری، جناب زبیر چھایا، جناب جنید نقی اور دیگر نے اس مشاعرے کی کامیابی کے لیے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کروائی اور اسپانسرشپ کی پیشکش بھی کی۔ اس تعاون سے مشاعرے کی تیاریوں کو مزید تقویت ملےگی ۔ اجلاس کے دوران ایک مختصر مشاعرے کا بھی انعقاد کیا گیا، جس میں شعراء نے اپنے کلام سے حاضرین کو محظوظ کیا۔ یہ مختصر مشاعرہ نہ صرف اجلاس کے شرکاء کے لیے ایک یادگار لمحہ تھا بلکہ عالمی مشاعرے کے لئے ایک خوبصورت پیش خیمہ بھی ثابت ہوا۔

    جن شعرا کرام نے اپنا کلام پیش کیا ان کے نام یہ ہیں ۔
    صدف بنت اظہارِ ۔ہدایت سائر۔ ظفر بھوپالی۔طارق سبز واری۔ سلیم فوز اور ڈاکٹر شاداب احسانی شامل ہیں۔

    اجلاس میں مشاعرے کی کامیابی، ملک و قوم کی ترقی، اور ادب کے فروغ کے لئے خصوصی دعا کی گئی۔ اس موقع پر کئی معزز شخصیات نے اپنی موجودگی سے اجلاس کی رونق کو دوبالا کیا، جن میں حاجی رفیق پردیسی، فرحان الرحمان، شیخ راشد عالم، خالد جمیل شمسی، فیصل ندیم، ندیم معاز جی، عارف شیخانی، ڈاکٹر شاہ فیصل، انجینئر تنویر احمد، ندیم شیخ ایڈووکیٹ، خالد فرشوری، ظفر بھوپالی، محمود راشد۔ ہما۔بخاری اور عارف زبیری شامل ہیں۔

    یہ اجلاس عالمی مشاعرے کی تیاریوں کے لیے ایک اہم پیش رفت ثابت ہوا اور اس کے کامیاب انعقاد کے امکانات کو مزید روشن کر دیا۔ شرکاء کی دلچسپی اور تعاون سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ 8 فروری 2025 کو منعقد ہونے والا عالمی مشاعرہ ایک تاریخی اور یادگار ادبی تقریب ہوگی، جو پاکستانی ادب اور ثقافت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔
    رپورٹ ۔۔
    صدف بنت اظہار ۔
    مکتبہ حیدری پاکستان کراچی ۔

  • انتشار،فساد،پی ٹی آئی کا وطیرہ

    انتشار،فساد،پی ٹی آئی کا وطیرہ

    پاکستان کی سیاست میں ایک طرف جہاں جمہوریت کی مضبوطی کے لئے عوامی حمایت کی ضرورت ہے، وہیں دوسری طرف سیاسی جماعتوں کے کچھ ارکان اور رہنما اپنے ذاتی مفادات کی خاطر اداروں اور عوام کے ساتھ دشمنی کی فضا پیدا کرتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے مختلف مواقع پر احتجاج اور شور شرابے کا سلسلہ جاری رہا ہے، جس میں ملک میں عدم استحکام اور تشویش پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ ان احتجاجات کا مقصد حکومت پر دباؤ ڈالنا یا سیاسی مخالفین کو کمزور کرنا ہوتا ہے، لیکن ان مظاہروں میں پُرتشدد واقعات اور غیر قانونی سرگرمیاں بھی سامنے آئی ہیں۔

    حال ہی میں پی ٹی آئی کی جانب سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں فساد برپا کرنے کی کوشش کی گئی۔ پی ٹی آئی نے اپنی سیاسی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لئے جدید ترین اسلحہ سے لیس شرپسندوں کو اسلام آباد بھیجا، جہاں ان لوگوں کا مقصد صرف دھرنا دینا نہیں تھا بلکہ 2014ء کی طرح پارلیمنٹ ہاؤس پر قبضہ کرنا تھا۔ 2014ء میں بھی پی ٹی آئی کے کارکنوں نے پارلیمنٹ اور سرکاری ٹی وی پر حملہ کیا تھا، جو ایک سنگین قدم تھا اور جس نے ملکی جمہوریت کو نقصان پہنچایا تھا۔پی ٹی آئی کی سیاست میں پرتشدد احتجاج ایک معمول بن چکا ہے۔ پارٹی کے کارکنوں نے نہ صرف سڑکوں پر تشدد کی راہ اپنائی، بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر بھی حملہ کیا۔ 9 مئی 2023 کو پی ٹی آئی کے کارکنوں نے فوجی تنصیبات اور دیگر حساس مقامات پر حملے کیے، جس سے ملک میں افراتفری پھیل گئی۔ یہ حملے پاکستان کے قومی سلامتی کے اداروں کی تضحیک کرنے اور ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے کی کوشش تھے۔

    پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنوں کا یہ رویہ نہ صرف غیر جمہوری ہے بلکہ ایک ایسی سیاست کی عکاسی کرتا ہے جس میں طاقت اور تشدد کو جواز بنا کر سیاسی مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ پارلیمنٹ ہاؤس پر حملے اور سرکاری ٹی وی پر قبضے کی کوششیں اس بات کا غماز ہیں کہ پی ٹی آئی کی سیاسی حکمت عملی میں پُرتشدد طریقے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔2014ء میں پی ٹی آئی نے اسلام آباد میں دھرنا دیا تھا، جس میں پارٹی کے رہنماؤں نے پارلیمنٹ ہاؤس اور دیگر حکومت کی عمارتوں کو گھیر لیا تھا۔ یہ دھرنا طویل عرصے تک جاری رہا، جس کی وجہ سے حکومتی اداروں کے کاموں میں خلل آیا اور ملک کے آئینی نظام کو نقصان پہنچا۔ اگرچہ اس دھرنے میں پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے اپنے مطالبات کی حمایت میں عوامی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن ان کے اقدامات نے پاکستان کی جمہوری روایات اور آئین کی بالادستی کو چیلنج کیا تھا۔

    اب، 2024ء میں، پی ٹی آئی نے دوبارہ اسلام آباد میں فساد برپا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس مرتبہ ان کے احتجاج کا مقصد وفاقی حکومت کو کمزور کرنا اور اپنی سیاسی پوزیشن کو مستحکم کرنا تھا۔ تاہم، ایسے احتجاجوں سے نہ صرف ملک کی معیشت کو نقصان پہنچا بلکہ عوام کی زندگی بھی متاثر ہوئی۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں پہلے ہی معیشتی مشکلات اور سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے، ایسے غیر قانونی اقدامات ملکی استحکام کو مزید نقصان پہنچاتے ہیں۔ایک اور تشویش کی بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی نے خیبر پختونخواہ کی حکومت کے سرکاری وسائل کا استعمال کر کے احتجاج کو مزید منظم اور طاقتور بنانے کی کوشش کی۔ خیبر پختونخواہ میں حکومت کا اقتدار رکھنے والی پی ٹی آئی نے ریاستی وسائل کا استعمال کر کے عوامی احتجاج کی شدت بڑھانے کی کوشش کی۔ اس سے نہ صرف حکومت کی انتظامیہ پر بوجھ بڑھا، بلکہ اس کے ذریعے ملک کی سیاسی فضا میں مزید تلخی پیدا ہوئی۔

    اس احتجاج کا ایک اور اہم پہلو یہ تھا کہ بانی پی ٹی آئی، عمران خان، کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی نے اپنے رہنما کی رہائی کے لیے پرتشدد احتجاج کیا۔ عمران خان پر بدعنوانی اور کرپشن کے سنگین الزامات ہیں، اور ان کے خلاف کئی مقدمات زیرِ سماعت ہیں۔ ان پر کرپشن کے الزامات کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں، اور ان کی رہائی کے لئے کیے گئے احتجاجات دراصل ان مقدمات سے بچنے کی ایک کوشش ہیں۔بانی پی ٹی آئی کے وکلاء نے ان کے خلاف چلنے والی سماعتوں میں تاخیر پیدا کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ عمران خان کے مقدمات کو طول دیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی، ان پر لندن میں ضبط شدہ رقم کو وائٹ منی میں تبدیل کرنے کا الزام بھی ہے۔ ان الزامات سے متعلق ایک اہم پہلو یہ ہے کہ پی ٹی آئی نے اس نوعیت کے معاملات کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا۔

    کسی بھی جمہوری ملک میں ایسے پرتشدد احتجاج اور سیاسی عدم استحکام کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ پاکستان میں جمہوری اداروں کی مضبوطی اور آئین کی بالادستی کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کو پرامن طریقے سے اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کرنی چاہیے۔ پی ٹی آئی کا پرتشدد احتجاج اور سیاسی مقاصد کے لئے غیر قانونی حربوں کا استعمال ایک تشویش کا باعث ہے۔ اس کے باوجود، پاکستان کے عوام اور ادارے ہمیشہ ان قوتوں کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہوئے ہیں جو ملک کے آئینی اور جمہوری اصولوں کو چیلنج کرنے کی کوشش کرتی ہیں

  • قوم منتشر،سیاستداوں کے کردار کی ضرورت.تجزیہ:شہزاد قریشی

    قوم منتشر،سیاستداوں کے کردار کی ضرورت.تجزیہ:شہزاد قریشی

    بے یقینی ، مایوسی ،فساد ،انتشار وطن عزیز کے گلشن میں کانٹے بکھیرنے کا کام جو جاری ہے ہر طرف کانٹے بکھیرے جا رہے ہیں۔ سیاسی گلیاروں میں تماش بین افراد کی تعداد میں اضافہ ہوچکا ہے ۔ بین الاقوامی دنیا میں ملک کے وقار، اس کی عزت کو داغدار کیا جا رہاہے ۔ قوم منتشر ہو چکی ہے ۔ منتشر قوم کے لئے نواز شریف، مولانا فضل الرحمان ، جماعت اسلامی ، پیپلزپارٹی میں موجود بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے ہمسفر افراد اور دیگر سنجیدہ سیاستدان اپنا کردارادا کریں ۔پی ٹی آئی کی سنجیدہ قیادت کے ساتھ مذاکرات کا راستہ تلاش کریں۔ نواز شریف خود اس وطن عزیز کی عزت اور وقار کے لئے میدان میں نکلیں ۔ قیادت کریں سیاسی راہنمائوں کے دروازے پر دستک دیں- انہیں ایک جگہ جمع کریں وطن عزیز میں ترقی کے لئے جمہوریت کو مستحکم کرنے کے لئے آئین اور قانون کی حکمرانی کے لئے ۔ ملک کے معاشی حالات کیا ہیں ؟ سب جانتے ہیں ان حالات میں ملک کسی انتشار اور فساد ،قتل وغارت کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔

    کیا تخلیق پاکستان کا مقصد یہی تھاکہ یہاں بے روزگاری ،لاقانونیت ،ناانصافی ، بدانتظامی ، منافقت ، ملاوٹ ، ناجائزمنافع خوری ، اقربا پروری ، بے اصولی ، کرپشن کو فروغ دیا جائے ؟نہیں ،نہیں پاکستان اس کے لئے نہیں بنایا گیا تھا ہرگز نہیں خدا را بابائے قوم بزرگوں ،لاکھوں شہداء کی روحوں کو اتنا نہ تڑپائو ۔ اللہ کا خوف دلوں میں پیدا کرو۔ تبدیلی اور حقیقی انقلاب اور حقیقی آزادی والی جماعت سے گزارش ہے پاکستان کا قیام بذات خود ایک بہت بڑا انقلاب تھا محض نعرہ نہیں تھا ،پوری وضاحت کے ساتھ اس انقلاب کے مقاصد تھے۔بھارت سے مسلمانوں نے ہجرت کی ،سر کٹوائے ، گھر بار چھوڑے ، یہ سب انقلابی تھے جو بابائے قوم کی صاف ستھری اور بہادر قیادت میں انقلاب لے کر آئے پاکستان کی صورت میں اس گلشن میں کانٹے بکھیرنے کی بجائے اس گلشن کو آبادرکھنے میں اپنا کردار ادا کریں۔قصر دل میں نرم گوشہ رکھنے والے ہی دلوں پر راج کرتے ہیں ۔کائنات کی خوبصورتی حسن اخلاق میں ہے۔ چنگیز خان ،ہلاکو اور ہٹلر نے توانسانیت کا خون بہایا تھا اچھے الفاظ کی خوشبو سے ہی قبائے دل میں خوبصورت پھول کِھلتے ہیں

  • فلسطینیوں کی پکار اور ہمارا رویہ.تحریر:ارم ثناء

    فلسطینیوں کی پکار اور ہمارا رویہ.تحریر:ارم ثناء

    آج کل جو مسلمانوں کے ساتھ سلوک ہورہا ہے فلسطین، لبنان، کشمیر، برما، ہندوستان وغیرہ ممالک میں۔ کیا اب بھی مسلمانوں پر جہاد فرض نہیں ہے؟ کیا اب جو مسلم آزاد ممالک ہیں کیا ان پر جہاد فرض نہیں ہے؟ جہاد کیا ہے؟ جہاد صرف تلوار سے لڑنے کو تو نہیں کہتے جہاد کی مختلف اقسام بتائی گئی ہیں ہمیں۔ یہ جو پاکستان کی آدھی سے زیادہ عوام کہتی ہے کہ ہم کیا کر سکتے؟ یہ سب تو حکمرانوں کے ہاتھوں میں ہے۔ آپ کیوں نہیں کچھ کر سکتے؟ آپ لوگ اسرائیل کی پروڈکٹس کا بائیکاٹ تو کر سکتے ہیں نا ؟ آپ کا دل کوک یا lay’s وغیرہ کھانے کو کر رہا ہے لیکن آپ لوگ رک جائیں، نہیں ہم نے نہیں کھانا اپنے دل کو سمجھائیں کہ نہیں کھانا، خود کو کہیں کہ میں اسرائیل کی معیشت کو کیوں مضبوط کروں؟ میں کیوں فلسطین کے خون سے اپنے ہاتھوں کو رنگوں، ظاہر ہے میرے ہی دیے پیسوں سے وہ ہتھیار یا جنگ کا باقی سامان خریدتے ہیں۔ یہ ہوگا آپ کا جہاد با لنفس۔ آپ نے یہاں اپنے نفس کو روکا ہے اللہ کےلئے اللہ کے بندوں کےلئے۔

    اب جو ناول نگار ہیں جو سارا دن بیہودہ ناول لکھتے ہیں وہ لکھیں وہ اپنی قوم کو جہاد کے بارے میں بتائیں یہ ہوگا قلم سے جہاد۔ جو لوگ جسمانی طور پر مضبوط ہیں یہ جو لیڈرز ہیں یہ سب اپنی اپنی پارٹی کے لوگوں کو کہیں کہ آئیں ساتھ دیں ہمارا، ہم جہاد کریں گے جب سب پاکستان کی عوام سڑکوں پر نکلے گی تو کیوں نا حکمران مانیں گے؟ یہ ہوگا آپ کا تلوار سے جہاد۔ اب اس وقت جہاد ہم پر فرض ہے اب جو مائیں ہیں یہ اپنے بچوں کی تربیت اس طرح کریں کہ ان میں شروع سے جنون ہو اللہ کی راہ میں قربان ہونے کا،

    یاد رکھیں اگر آپ لوگ اسرائیل کی پروڈکٹس استعمال کرتے ہیں تو قیامت کے دن آپ سے بھی پوچھا جائے گا کہ کیوں اسرائیل کا ساتھ دیا؟ کیوں تم لوگوں نے اسرائیل کی معیشت کو مضبوط کیا؟ کیوں تم لوگوں نے اپنے بہن بھائیوں کا ساتھ نہیں دیا؟ کیوں تم لوگوں نے اپنا قبلہ اول آزاد کرانے کی کوشش نہیں گی؟ یہ جو پاکستان کی عوام کہتی ہے کہ عمران خان نے، بلاول بھٹو، مولانا فضل الرحمان یا حکومت نے ان کی مدد کی ہے تو یہ سب جھوٹ ہے پاکستان کی عوام کو بیوقوف بنایا جا رہا ہے۔ اگر انہوں نے ساتھ دیا ہوتا تو اب فلسطین آزاد ہوتا اگر انہوں نے ساتھ دیا ہوتا تو یہ جو فلسطین کےلئے آواز اٹھا رہے ہیں ان کو جیل میں قید نا کرتے۔

    اب مسلمانوں کو چاہیے کہ ایک ہو جائیں چھوڑ دیں پاکستانی، سعودیہ، ترکی، پنجابی، سندھی، پلوجی، اہل سنت، اہلحدیث، شعہہ، وہابی اب چھوڑ دو یہ سب فرقہ واریت کا پرچار ،اب ایک ہو جاؤ جسد واحد کی طرح اب اٹھ جاؤ۔
    آپ کو پتا ہے؟ کہ یہودی پوری دنیا میں بہت کم ہیں ان کی تعداد لاکھوں میں ہے جبکہ مسلمانوں کی تعداد اربوں میں ہے۔ یہ یہودی اپنے مسیح دجال کےلئے راہ صاف کررہے ہیں اور عیسائی حضرت عیسیٰ کےلئے۔ مسلمانوں آپ لوگ کیا کررہے ہو؟ اپنی ہی بیٹوں کو نچا کر خوش ہورہے ہو، اپنی ہی بیٹیوں کی عمر کی لڑکیوں پر تبصرے کرکے خوش ہو رہے ہو ،خدار لوٹ آؤ اسلام کی طرف، لڑکیو چھوڑ دو بے پردگی، چھوڑ دو غیر محرم کی آنکھوں کو سکون دینا ،چھوڑ دوغیر محرم کو اپنا جسم دکھانا، خدار اب اپنی نسل کو ایسے تیار کرو کہ اللہ ان کو حضرت امام مہدی کے لشکر میں شامل کردے

  • پی ٹی آئی احتجاج،کیا  حکومت صرف بڑھکیں مارنے  کیلیے ہے؟

    پی ٹی آئی احتجاج،کیا حکومت صرف بڑھکیں مارنے کیلیے ہے؟

    پاکستان میں گزشتہ چند دنوں سے احتجاجی تحریک نے سیاسی اور سماجی کشیدگی کو بڑھا دیا ہے۔پی ٹی آئی نے عمران خان کی رہائی کے لئے اسلام آباد کی جانب احتجاج کا اعلان کیا، جس کے بعد اسلام آباد اور پنجاب میں جاری ان احتجاجات نے حکومت کی حکمت عملی پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

    پی ٹی آئی کے احتجاجی مظاہرین عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کی قیادت میں ڈی چوک تک پہنچ چکے ہیں،پرتشدد احتجاج کے دوران تین رینجرز اہلکار ،دو پولیس اہلکار شہید ہوئے،حکومت نے رکاوٹیں کھڑی کیں، راستے بند کئے، کینیٹینر لگائے،اسلام آباد کو لاک ڈاؤن کیا، اس کے باوجود پی ٹی آئی مظاہرین ڈی چوک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے، احتجاجی شرپسندوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں اور ان کی جانب سے اہم مقامات تک پہنچنا اس بات کا غماز ہے کہ حکومت اور ریاست کی رٹ کو چیلنج کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں پولیس اور فوج کے جوانوں کی شہادتیں اور زخمی ہونے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔

    اسلام آباد میں جاری احتجاجی تحریک نے شہر کے متعدد علاقوں کو بند کر رکھا تھا، اور کنٹینرز کی مدد سے سڑکوں کی ناکہ بندی کی گئی تھی۔ اس کے باوجود، احتجاجی گروہ ڈی چوک تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے، جس پر حکومت کی حکمت عملی پر شدید سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ احتجاجی تحریک کے شرپسند ایک ایک انچ آگے بڑھتے رہے، اور حکومت کی جانب سے صرف بیانات اور بڑھکیں دینے کے سوا کوئی مؤثر کارروائی نظر نہیں آئی۔

    مختلف سیاسی رہنماؤں، تجزیہ کاروں اور شہریوں کا کہنا ہے کہ اس صورتحال نے حکومتی رٹ کو ایک بڑا دھچکہ پہنچایا ہے۔ سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ حکومت نے اس تماشے کے لیے کنٹینرز کیوں لگائے؟ اگر سڑکیں بند کی گئی تھیں اور راستے روکے گئے تھے، تو ان اقدامات کا کیا مقصد تھا؟ اور یہ تمام انتظامات کس لیے کیے گئے جب احتجاجی شرپسند ایک کے بعد ایک قدم آگے بڑھتے رہے؟اسلام آباد سے داخلی و خارجی راستوں کو بندش، میٹرو بند، ریلوے سٹیشن بند، ہوٹلز،گیسٹ ہاؤس بند،اس سب اقدامات کے باوجود سوال اٹھتا ہے کہ حکومت نے کیا حکمت عملی اختیار کی؟ اسی دوران، پولیس اور رینجرز کے جوانوں کی شہادت اور زخمی ہونے کے واقعات نے عوام کے ذہنوں میں مزید شکوک و شبہات پیدا کیے ہیں۔ ان تمام واقعات نے حکومت کی بے بسیت اور بے تدبیری کو اجاگر کیا ہے۔

    حکومت کی جانب سے بار بار یہ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ احتجاجی تحریک کے پیچھے "خفیہ ہاتھ” کارفرما ہیں، لیکن اب یہ بیانات بے کار ثابت ہو رہے ہیں۔ عوام کے ذہنوں میں یہ سوالات ابھرنے لگے ہیں کہ اگر حکومت اس قدر کمزور ہے کہ وہ چند کلومیٹر کے علاقے کو بھی کنٹرول نہیں کر سکتی، ایک طرف احتجاجی تحریک کی شدت بڑھتی جا رہی ہے، دوسری طرف حکومت کی طرف سے نہ کوئی موثر حکمت عملی سامنے آ رہی ہے اور نہ ہی کوئی حقیقی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ چند دنوں سے حکومت کے اعلیٰ عہدیدار محض بیانات دے رہے ہیں، جب کہ عوام کی حفاظت کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے جا رہے۔ ولیس کے جوانوں کی قربانیاں ہو رہی ہیں، دوسری طرف حکومت محض خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔اگر حکومت یاست کی رٹ کو قائم نہیں رکھ سکتی،عوام کا تحفظ فراہم نہیں کیا جا سکتا، تو ایسے میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ حکومت کا کام کیا ہے؟ کیا یہ حکومت صرف بڑھکیں مارنے اور بیانات دینے کے لیے ہے، یا پھر اسے عملی اقدامات بھی کرنے ہوں گے؟ ریاست کی طاقت کو محض شوپیس کی طرح نہیں رکھا جا سکتا، بلکہ اسے حقیقی چیلنجز کے سامنے ثابت کرنا ہوگا۔

    موجودہ حالات واقعی حکومت کی مکمل ناکامی کو ظاہر کرتے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت عملی اقدامات کرے، نہ کہ صرف بیانات دے کر حالات کو نظر انداز کرے۔9مئی کے واقعے سے بڑا واقعہ رونما ہو چکا، حکومت اب تک کیا کرتی رہی، بلوائیوں نے پاکستان کو پہلے بھی نقصان پہنچایا اب بھی پہنچا رہے ہین، بشریٰ بی بی کی قیادت میں پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کیا جا رہا ہے، ایسے میں حکومت کو سخت ردعمل ،فوری ایکشن کی ضرورت ہے اس سے پہلے کہ بہت دیر ہوجائے………

    پی ٹی آئی مظاہرین کا ڈی چوک پر خاتون صحافی قراۃ العین شیرازی پر تشدد

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

    9 مئی سے کہیں بڑا 9 مئی ساتھ لئےخونخوار لشکر اسلام آباد پہنچا ہے،عرفان صدیقی

    پی ٹی آئی مظاہرین ڈی چوک پہنچ گئے

    آئی جی کو اختیار دے دیا اب جیسے چاہیں ان سے نمٹیں،وزیر داخلہ

    اسلام آباد،تین رینجرز اہلکار شہید،سخت کاروائی کا اعلان

    عمران کے باہر آنے تک ہم نہیں رکیں گے،بشریٰ کا خطاب

    کوئی مجھے اکیلا چھوڑ کر نہیں جائے گا، بشریٰ بی بی کا مظاہرین سے حلف

    میں جیل میں،اب فیصلے بشریٰ کریں گی،عمران خان کے پیغام سے پارٹی رہنما پریشان

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ کا مشن کامیاب، سیاست میں باضابطہ انٹری،علیمہ "آؤٹ”

    پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا بھی "وڑ”گیا

  • ہمٹی ڈمٹی سے سیکھنے کا سبق

    ہمٹی ڈمٹی سے سیکھنے کا سبق

    ہمٹی ڈمٹی بچوں کے لیے ایک قیمتی سبق ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کبھی کبھار آپ کچھ چیزیں ٹوٹنے یا گم کرنے کا سامنا کرتے ہیں، اور چاہے آپ یا کوئی اور جتنا بھی کوشش کرے، وہ چیز واپس نہیں آ سکتی یا ٹھیک نہیں ہو سکتی۔ یہاں تک کہ "بادشاہ کے تمام گھوڑے اور بادشاہ کے تمام سپاہی” بھی اُسے واپس نہیں لا سکے۔

    جب آپ خطرات مول لیتے ہیں، تو اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ آپ مسئلے کے فائدے یا نقصانات کا اچھی طرح سے جائزہ لیں۔ بغیر سوچے سمجھے، محض تیز فیصلوں پر نہ چھلانگ لگائیں۔ جو لوگ آپ کو جلدی سے مشورہ دینے کے لیے بے چین ہوں، ان کی باتوں پر نہ جائیں کیونکہ وہ یا تو آپ کی طرح بے عقل ہو سکتے ہیں، یا وہ چاہتے ہیں کہ آپ ناکامی کا سامنا کریں۔ کیا آپ نے کبھی "مفاد کے مصلحت” کا سنا ہے؟

    یہ بات اہم ہے کہ ہمٹی ڈمٹی کے معاملے میں، بادشاہ کے تمام گھوڑے اور تمام سپاہیوں نے غریب انڈے کے سر کو دوبارہ جوڑنے کی کوشش کی، لیکن زیادہ تر حالات میں بادشاہ کے گھوڑے اور سپاہی آپ پر چھلانگ لگا کر آپ کو چکنا چور کر سکتے ہیں۔شاید وہ آپ پر حقیقتاً چھلانگ نہ لگائیں، لیکن ہاں، وہ آپ کو مجازی طور پر کچل سکتے ہیں۔ اور یہ ایک نئی مصیبت بن سکتی ہے جو کبھی ختم نہیں ہو گی۔آپ کو اپنے چہرے پر دراڑ کے ساتھ زندگی گزارنی پڑے گی، ممکن ہے ناک غائب ہو اور آپ کے پاس ناکام خطرے کے نتائج کا سامنا کرنے کی ہمت نہ ہو۔لہٰذا احتیاط کریں کہ آپ اپنا ہوم ورک نہ چھوڑیں، یا دوسرے انڈے کے سر والوں کی باتوں پر کان نہ دھریں۔ سمجھ گئے؟

  • جوانوں کے بہنے والے خون کا حساب کون دے گا؟

    جوانوں کے بہنے والے خون کا حساب کون دے گا؟

    جوانوں کے بہنے والے خون کا حساب کون دے گا؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    ملک میں جاری سیاسی عدم استحکام اور انتشار نے ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے جہاں عوام کے ساتھ ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جوان بھی براہ راست خطرے میں ہیں۔ حالیہ واقعات نے اس صورتحال کی سنگینی کو مزید اجاگر کیا ہے۔ اسلام آباد میں شرپسند عناصر کی جانب سے رینجرز اہلکاروں پر گاڑی چڑھانے کے نتیجے میں چار جوان شہید ہو گئے جبکہ دو پولیس اہلکاروں کو مظاہرین کے تشدد کا نشانہ بنا کر شہید کیا گیا۔ ان واقعات میں 100 سے زائد پولیس اور رینجرز کے جوان زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے کئی کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ یہ خون خاک میں ملتا جا رہا ہے مگر سوال یہ ہے کہ ان بہادر جوانوں کے بہنے والے خون کا حساب کون دے گا؟

    حکومت کی کمزور حکمت عملی اور ریاستی رٹ کی کمی کے باعث شرپسندوں کے حوصلے بلند ہوتے جا رہے ہیں۔ سنگجانی ٹول پلازہ پر مظاہرین کی جانب سے سرکاری املاک پر قبضہ اور لوٹ مار، نسٹ یونیورسٹی میں توڑ پھوڑ اور دیگر پرتشدد کارروائیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ قانون کی بالادستی کہیں نظر نہیں آ رہی۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز ان تمام واقعات کی گواہ ہیں لیکن اس کے باوجود حکومت محض بیانات تک محدود ہے۔

    فارن فنڈنگ کیس جو کئی سالوں سے حکومتی میز پر دھرا ہوا ہے، ان موجودہ حالات کی ایک اہم وجہ ہے۔ اگر حکومت وقت پر اس کیس پر کارروائی کرتی اور ذمہ داروں کو سزا دیتی تو شاید آج ملک اس افراتفری کا شکار نہ ہوتا۔ لیکن پچھلے کئی سالوں سے تمام ثبوتوں کے باوجود اس کیس پر کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ کیا یہ حکومتی کمزوری نہیں؟

    شرپسندوں کے سری نگر ہائی وے تک پہنچنے، رکاوٹیں عبور کرنے اور ریاستی املاک کو نقصان پہنچانے جیسے واقعات ریاست کی رٹ پر سوالیہ نشان ہیں۔ یہ مظاہرین نہ صرف قومی املاک کو تباہ کر رہے ہیں بلکہ ان کے حملے ریاستی اداروں کے وقار کو بھی مجروح کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں صرف مذمتی بیانات دینا عوام کے ساتھ مذاق کے مترادف ہے۔

    شہید ہونے والے رینجرز اور پولیس اہلکاروں کے اہل خانہ انصاف کے منتظر ہیں۔ زخمی اہلکاروں کے علاج کے لیے مناسب اقدامات نہ کرنا حکومتی بے حسی کو عیاں کرتا ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان معصوم جوانوں کے خون کا حساب لے اور ان کے قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لائے۔ اگر حکومت ان حالات کو قابو کرنے کی اہلیت نہیں رکھتی، تو اسے اپنی ناکامی قبول کرتے ہوئے مستعفی ہو جانا چاہیے۔

    آج کا پاکستان ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ عوام، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور ریاستی مشینری سب اس سوال کے گرد گھوم رہے ہیں: "جوانوں کے بہنے والے خون کا حساب کون دے گا؟” کیا حکومت ان سوالات کا جواب دینے کے لیے تیار ہے یا محض خاموش تماشائی بنی رہے گی؟ عوام کے دلوں میں اٹھنے والے یہ سوالات جواب کے منتظر ہیں اور یہ خاموشی مزید دیر تک برداشت نہیں کی جا سکتی۔

  • آئی پی ایل فرنچائز راجستھان رائلز نے 13سالہ کرکٹر کو اپنی ٹیم کے لیے خرید لیا

    آئی پی ایل فرنچائز راجستھان رائلز نے 13سالہ کرکٹر کو اپنی ٹیم کے لیے خرید لیا

    ممبئی: 13 سالہ بھارتی کرکٹر ویبھوو سوریاونشی انڈین پریمیئر لیگ ( آئی پی ایل) کا حصہ بننے والے کم عمر ترین کھلاڑی بن گئے۔

    باغی ٹی وی : انڈین پریمیئر لیگ( آئی پی ایل) سیزن 2025 کے لیے کھلاڑیوں کی بولی کی 2 روزہ تقریب گزشتہ روز سعودی عرب کے شہر جدہ میں شروع ہوئی جس میں فرنچائزز نے اپنی ٹیم میں شامل کرنے کے لیے بہترین کھلاڑیوں کو کروڑوں روپے میں خریدا۔

    فرنچائزز نے جہاں بڑے ناموں کو اپنی ٹیم کا حصہ بنایا وہیں ایک 13 سالہ بھارتی کرکٹر ویبھوو سوریاونشی بھی پہلی بار آئی پی ایل کا حصہ بن گئے۔ پیر کو سعودی عرب کے شہر جدہ میں ہونے والی آئی پی ایل کی میگا نیلامی میں راجستھان رائلز نے سوریاونشی کو ایک کروڑ 10 لاکھ بھارتی روپے میں خریدا۔جس کے بعد سوریاونشی آئی پی ایل کی تاریخ میں کسی بھی ٹیم کی جانب سے خریدے جانے والے کم عمر ترین کھلاڑی بن گئے۔