ملک میں جاری عدم استحکام،سیاسی جماعتوں کے بڑھتے ہوئے تنازعات سے پاکستان بطورر یاست اور عوام جمہوریت سیاسی رہنمائوں کو پکار رہی ہے کہ ان پر قابو پانے کا طریقہ تلاش کریں اور اپنا رُخ عوامی اور ملکی خدمت کی طرف موڑ دیں،غلط راستوں کا انتخاب احمق لوگ کیا کرتے ہیں،سیاسی قائدین عدم استحکام کو کم کرنے پر غور کریں، مشرق وسطیٰ میں آگ اور خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے، غزہ سے لبنان تک جو کچھ ہو رہاہے اس کے اثرات صرف عرب ممالک ہی نہیں ،پوری دنیا پر بھی مرتب ہو رہے ہیں، امریکہ کی خارجہ پالیسی کا محور اس وقت چین ہے، چین کو ایشیاء پر غلبہ پانے سے روکنا ہے ، دنیا میں بدلتی صورت حال کے پیش نظر پاکستان کو چوکنا رہنے کی ضرورت ہے، سڑکوں ،گلیوں پر ناچتی گاتی عوام کو شعور دینے کی ضرورت ہے، اُن سیاستدانوں کو بھی شعور دینے کی ضرورت ہے جو سڑکوں گلیوں پر ناچتی گاتی عوام کی قیادت کررہے ہیں، دنیا کے بدلتے حالات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ پُرامن ماحول میں ملک میں جاری عدم استحکام اور انتشار پر قابو پایا جائے، ملک کے اہم ترین اداروں کے درمیان ٹکرائو کا کون ذمہ دار ہے؟ اس طرح کے بڑے اداروں کے ٹکرائو سے دنیا میں وطن عزیز کا وقار مجروح ہورہا ہے جبکہ بحیثیت قوم بھی ہمارا وقار مجروح ہو رہاہے،سیاسی جماعتوں کے قائدین کو مل کر ملک سے انتشار کی سیاست اور انتشاری سرگرمیوں کے خاتمے کے لئے کردار ادا کرنا ہو گا، کیا یہ ملک و قوم کے مقدر میں لکھا جا چکا ہے کہ کبھی ہم حالت جنگ میں ہوتے ہیں لیکن نازک موڑ تو کبھی حالت انتشار آخر قومی سیاسی رہنمائوں، مذہبی جماعتوں کی بھی کوئی ذمہ داری ہے یا صرف اقتدار، اختیارات ،طاقت اور جا ہ و جلال ہی ضرورت؟ ملک میں موجودہ انتشار میں اگر عوام کے لئے اندھیرے راستوں میں کوئی روشنی کی کرن نظر آتی ہے تووہ پنجاب میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی شکل میں نظر آرہی ہے، پنجاب میرٹ ، وقت کی پابندی،پنجاب میں عوام کے لئے سفری سہولتوں کے لئے نئی بسیں سینیٹر پرویز رشید کے مطابق صوبہ بھر میں 10 ہزار نئی بسیں عوام کو دی جائیں گی،بلاشبہ میاں محمدنواز شریف نے عوام کی سفری مشکلات کو حل کرنے کے لئے موٹرز وے جیسے منصوبے دئیے تھے اور اب مریم نواز نے نئی بسیں فراہم کرکے عوام کے لئے آسانیاں پیدا کردی ہیں جو قابل ستائش ہے۔
Category: بلاگ
-

اقوام متحدہ کے 79 ویں سیشن کا سیکرٹر ی جنرل کی مایوسی سے آغاز،تجزیہ ،شہزاد قریشی
اقوام متحدہ کے سیشن کا سیکرٹر ی جنرل کی مایوسی سے آغاز، جنگیں دنیا کو تباہ کردیں گی،عالمی قوانین کا احترام کون کرے گا، بستیاں اجڑ گئیں ،کوئی بات سننے کیلئے تیار نہیں،خون کی ہولی کب بند ہوگی، امریکہ کو سانپ سونگھ گیا ،دنیا بھر کے کمزور ممالک کی نظریں سپر پاور پر
تجزیہ ،شہزاد قریشی
اقوام متحدہ کا قیام 1945ء میں ہوا،79 ویں سیشن کا آغاز اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے مایوس کن پیغام سے ہوا ،سیکرٹری جنرل نے دنیا میں جاری جنگیں روکنے میں اقوام متحدہ کی نااہلی کے بارے میں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرنیوالی ریاستوں کو حاصل استثنیٰ کی مذمت کی اور خاص طور پر غزہ اور یوکرین کی جنگوں کا حوالہ دیا، بلاشبہ اقوام متحدہ قومی سلامتی کونسل، او آئی سی اور اسی طرح دوسری عالمی تنظیموں کے سامنے دنیا کے کئی ممالک جنگوں میں تباہ ہو گئے، ہنستی بستی آبادیاں اجڑ گئیں، ملک کھنڈرات کی شکل اختیار کر گئے انسانوں کو زندہ جلا دیا گیا ،طاقتور ممالک نے کمزور ممالک میں وہ ظلم کئے جس کی تاریخ نہیں ملتی، انسانی لاشوں سے قبرستان بھر گئے۔ بچے بوڑھے عورتیں جوان ان جنگوں کا نشانہ بن گئے، سوال یہ ہے کہ کیا کبھی بین الاقوامی قوانین پر طاقتور ممالک عمل کریں گے بھی یا یہ موت کا رقص جاری رہے گا؟ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی شروع ہوتے ہی لبنان اسرائیلی بموں کی زد میں آگیا۔ بین الاقوامی قوانین کا نظام اس حد تک بگڑ چکا ہے کہ کوئی بھی چیز مذمت کا باعث نہیں بن سکتی کیا پابندیاں کیا رکاوٹیں کیا مذمتیں دنیا کے حالات اس قدر بگڑ چکے ہیں کہ اب اقوام متحدہ، قومی سلامتی ، او آئی سی ، عرب لیگ وغیرہ ایک بے جان ڈھانچے کی طرح ہیں، مشرق وسطیٰ ہمہ گیر جنگ اور دیگر ممالک کے درمیان جنگ دنیا میں تیزی سے پھیل رہی ہے بین الاقوامی تنظیمیں عالمی کشمکش میں الجھی ہوئی ہیں، دنیا میں غربت کے ساتھ ساتھ پینے کے صاف پانی، بڑھتی ہوئی بیماریاں، سیلاب سے تباہ شدہ ممالک، دنیا میں پانی کی قلت کا بڑھتا ہوا بحران، انسانی حقوق کی پامالی، موسمیاتی تبدیلی، فسادات، خواتین کے حقوق، اقوام متحدہ دنیا میں بڑھتے ہوئے ان خطرات سے کیسے نمٹے گا دنیا کی سپر پاور امریکہ اگر اپنی پالیسیوں کو تبدیل کرے تو شاید عمر رسیدہ اقوام متحدہ اپنے آپ کی تجدید کر سکتی ہے، دنیا کے ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک کی نظریں امریکہ سپرپاور پر لگی ہیں۔
-

خیبر پختونخوا میںتعلیم وصحت کی صورتحال اور حکومتی ترجیحات،تحریر:کمال مصطفیٰ
خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال حکومت کی ناکامی کا استعارہ بن چکی ہے۔ کرم میں قبائلی جھڑپوں سے لے کر مالم جبہ میں پولیس افسر کی افسوسناک موت تک، جہاں ایک آئی ای ڈی دھماکے میں وہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، خیبر پختونخوا عدم استحکام سے دوچار ہے۔ صوبائی پولیس، جو کبھی ایک مضبوط ادارہ تھی، اب بے بس نظر آتی ہے، اور عوامی حفاظت کی ذمہ داری جن کے کاندھوں پر ہے وہ کہیں دکھائی نہیں دیتے۔ لیکن یہ محض ان مسائل کی سطحی علامات ہیں جو ایک گہرے بحران کی نشاندہی کرتی ہیں—ایک ایسی حکومت کا جو اپنے فرائض سے دستبردار ہو چکی ہے۔
وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کی حکومت سیاسی بقا پر زیادہ توجہ دے رہی ہے بجائے اس کے کہ وہ اپنے اختیار میں موجود سنگین مسائل کو حل کرے۔ وزیراعلیٰ اپنے صوبے سے دور رہ کر سیاسی جلسے اور پارٹی کارکنوں کو متحرک کرنے میں وقت صرف کر رہے ہیں، جبکہ صوبے میں قانون نافذ کرنے اور عوامی خدمات کی فراہمی جیسے ہر شعبے میں نظام ناکامی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ تعلیم کے شعبے کو دیکھیں، وہ بدعنوانی اور غفلت کا شکار ہے۔ ملازمتیں رشوت کے عوض فروخت ہونے کی خبریں عام ہو چکی ہیں، اور صوبائی وزیر تعلیم چھوٹے چھوٹے مسائل تک حل کرنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ نجکاری کے نام پر عوامی زمینوں اور اسکولوں کی فروخت ہو رہی ہے، جس سے عدم مساوات میں اضافہ ہو رہا ہے اور معیاری تعلیم صوبے کے غریب ترین شہریوں کی پہنچ سے مزید دور ہوتی جا رہی ہے۔ یہ بدحالی بہت گہری ہے اور خیبر پختونخوا کے بچوں کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے۔
صحت کا نظام بھی کچھ بہتر حالت میں نہیں ہے۔ اسپتالوں میں رش، ناکافی فنڈز اور ایسے پیشہ ور افراد کی کمی ہے جو یا تو مایوس ہیں یا بے اختیار۔ عوامی صحت کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کی کمی ایک جاری بحران ہے جو خاص طور پر دیہی علاقوں میں عوام کو مناسب طبی دیکھ بھال سے محروم کر رہا ہے، جہاں صحت کی خدمات پہلے ہی نایاب ہیں۔ دہشت گردی کے مسلسل خطرے اور سیاسی عدم استحکام کے وقت میں، اس لاپرواہی کی قیمت سب سے زیادہ کمزور لوگ چکاتے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں بدعنوانی ایک مستقل مسئلہ بن چکی ہے، جس نے حکومت کے ہر کونے کو متاثر کیا ہے۔ بڑے پیمانے پر تشہیر کیے گئے بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے، جسے کبھی صوبے کے لیے گیم چینجر سمجھا جاتا تھا، میں بھی بدعنوانی کے الزامات لگے ہیں۔ قومی احتساب بیورو (نیب) کی تحقیقات نے اس اور دیگر عوامی منصوبوں میں حیرت انگیز بدانتظامی کو بے نقاب کیا ہے، جن میں بہت مشہور بلین ٹری سونامی بھی شامل ہے۔ یہ واقعات محض حادثاتی نہیں ہیں بلکہ خیبر پختونخوا میں جڑ پکڑنے والی بدعنوانی اور نااہلی کی عمومی ثقافت کی عکاسی کرتے ہیں۔
ایک ایسے صوبے میں جہاں ہر شعبہ زوال کے دہانے پر ہے، یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ کب تک جاری رہے گا؟ حکومت کے بنیادی فرائض بھی نظرانداز کیے جا رہے ہیں۔ اہم افسران کی اپنے عہدے چھوڑ کر لاہور میں گنڈا پور کے سیاسی جلسوں میں شرکت کی خبریں اس بات کی واضح مثال ہیں کہ صوبے کے بڑھتے ہوئے بحرانوں کے بارے میں کتنی بے حسی پائی جاتی ہے۔ ہر خیبر پختونخوا کے شہری کے ذہن میں جو سوال ہے وہ یہ ہے کہ قیادت کہاں ہے اور وہ کب حکومت کریں گے؟ امید کی کچھ کرنیں بھی ہیں۔ نیب کی کارروائی جس نے 168.5 ارب روپے بچائے، ایک شاندار کامیابی کے طور پر سامنے آئی، لیکن چند کامیابیاں ایک ناکام حکومت کو بچا نہیں سکتیں۔ خیبر پختونخوا کے عوام کو صرف چند کامیابیوں کی نہیں بلکہ نظام کی اصلاح اور ایک ایسی حکومت کی ضرورت ہے جو ان کے مستقبل کی حقیقی معنوں میں فکر کرے۔
اصل المیہ یہ ہے کہ خیبر پختونخوا کے عوام نے پی ٹی آئی سے امیدیں وابستہ کی تھیں، یہ یقین رکھتے ہوئے کہ ان کا ووٹ معنی خیز تبدیلی لا سکتا ہے۔ لیکن اب ان کے اندر دھوکے کا شدید احساس پایا جاتا ہے۔ عوام کیسے ایک ایسی حکومت پر بھروسہ کریں جو ان کی فلاح و بہبود کو اتنی بیدردی سے نظرانداز کرتی ہے؟ وہ تعلیم اور صحت میں بہتری کی امید کیسے کر سکتے ہیں جب اقتدار میں بیٹھے لوگ سیاسی ڈراموں میں مصروف ہیں اور اپنے عوام کی زندگیوں کو بہتر بنانے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے؟ خیبر پختونخوا اس سے بہتر کا حقدار ہے۔ اس کے عوام اس حکومت کے مستحق ہیں جو سنتی ہے، عوامی خدمات کو سیاسی کھیلوں پر ترجیح دیتی ہے، اور تعلیم و صحت میں موجودہ سنگین مسائل کو حل کرتی ہے۔ وہ ایسی قیادت کے حقدار ہیں جو صرف اصلاحات کے دعوے نہ کرے بلکہ ٹھوس اقدامات کرے تاکہ ہر شہری کو معیاری تعلیم اور صحت کی سہولتیں فراہم ہو سکیں۔
جب خیبر پختونخوا زوال کے دہانے پر ہے، تو سوال باقی رہتا ہے: عوام اس نظراندازی کو کب تک برداشت کریں گے اس سے پہلے کہ حالات قابو سے باہر ہو جائیں؟ حکومت کب یہ سمجھے گی کہ صوبے کا مستقبل سیاسی جلسوں میں نہیں، بلکہ اسکولوں اور اسپتالوں میں بنتا ہے؟ اگر حکومت اپنے بنیادی فرائض میں ناکام رہتی ہے، تو وہ خیبر پختونخوا کو ایک ناقابل واپسی زوال کی حالت میں چھوڑنے کا خطرہ مول لے رہی ہے
خیبر پختونخواہ بدانتظامی،کرپشن کی وجہ سے لاقانونیت کی لپیٹ میں.تحریر:ڈی جے کمال مصطفیٰ
-

وزیراعلیٰ پنجاب کا عوامی خدمت کا سفر قابل ستائش،تجزیہ:شہزاد قریشی
قومی سیاست کا دھارا عام آدمی کے مسائل کی طرف سے کسی اور طرف موڑ دیا گیا ہے۔ جمہوریت کا حسن یہی ہے اختلاف اور اتفاق رائے کا حق ہر جماعت اور ہر سیاسی رہنما کو حاصل ہو لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ سیاسی اختلافات کی بنا پر عوام کا استحصال کیا جائے ،جمہوری حکومت کا اولین فرض ہے کہ وہ عام آدمی کے بنیادی مسائل حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔ اس وقت پنجاب میں صوبے کی چیف منسٹر مریم نواز کی توجہ صوبے کے عام آدمی کے مسائل پر ہے جس کے اثرات پولیس تھانوں سے لے کر دوسرے محکمہ جات میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ اگر صوبے کے چیف سیکرٹری، سول بیوروکریسی کے سیکرٹریوں کے دفاتر اور صوبہ بھر کے کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کے دفاتر پر توجہ دیں تو وزیراعلیٰ پنجاب کی عوامی خدمت کو چار چاند لگ سکتے ہیں۔
پنجاب کی سول بیورو کریسی کا رویہ مغلیہ دور کے شہزادوں جیسا ہے ماضی کی کئی جمہوری حکومتوں کی ناکامی میں بیورو کریسی کا کردار روا ہے، بیورو کریسی کا چال چلن اگر مغلیہ دور کے شہزادوں جیسا ہوگا جمہوری نظام کیسے چلے گا ،کیسے کامیاب ہوگا ،عوامی مسائل کس طرح حل ہونگے؟۔ صوبہ پنجاب کے چیف سیکرٹری کو سول بیورو کریسی کو عوام کا حاکم نہیں خادم بنانے پر توجہ دینا ہوگی صوبے کی چیف منسٹر کے عوامی منصوبوں کو کامیاب بنانے میں کردار ادا کرنا ہوگا۔ دیگر صوبوں کےوزیراعلیٰ اور چیف سیکرٹری صاحبان اپنا رخ عام آدمی کے مسائل کو حل کرنے کی طرف موڑ دیں۔
پنجاب پولیس میں تھانہ کلچر میں تبدیلی میرٹ کی پالیسی پر عمل، جس طرح پنجاب میں ہوا ہے انہی راستوں کا دیگر صوبوں کو بھی انتخاب کرنا ہوگا۔ دنیا کی ترقی یافتہ قوموں کی ترقی کا راز میرٹ اور وقت کی پابندی ہے۔ کسی بھی قوم کی ترقی کے لئے شفاف انتظامی نظام خشت اول کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایک کامیاب ریاست بنانے کے لئے ہمیں اپنے ریاستی محکموں میں اصلاحات کا ایک مربوط نظام لانے کی ضرورت ہے ،ملک کو عقل سے عاری نااہل اور مفاد پرست منہ زور سول بیورو کریسی اور بیورو کریٹ افسران نے جکڑ رکھا ہے۔ منہ زور افسر شاہی اپنے مفادات کا تحفظ کرتی ہے یہ حکمرانوں کو اپنی چکنی چپڑی باتوں سے غلط کاموں کی ترغیب دیتے ہیں۔ بلاشبہ وزیراعلیٰ پنجاب نے عوامی خدمت کے جس سفر کا آغاز کیا ہے وہ قابل ستائش ہے تاہم سول انتظامیہ کی تنظیم نو کرنے کے لئے ہنگامی اور انقلابی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا
-

فرقہ وارانہ لیڈر کی خیالی چال
ایک فرقے کے رہنما کی ایک ابتدائی حکمت عملی ہوتی ہے کہ اپنے پیروکاروں کو خاص یا مظلوم ہونے کا احساس دلائے، جبکہ باہر کے لوگوں کو گمراہ، بے راہ روی کا شکار یا بدعنوان کے طور پر پیش کیا جائے۔ اس سے فوری طور پر بیرونی اثرات کے خلاف ایک دیوار قائم ہوتی ہے، اور گروہ اندرونی طور پر مزید مضبوط ہو جاتا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جب باہر کے لوگ مذاق اڑاتے ہیں، غصے کا اظہار کرتے ہیں، یا فرقے کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں، تو اس سے فرقے کا حفاظتی دائرہ اور مضبوط ہو جاتا ہے۔ ان ردعمل سے فرقے کے رہنما کی جانب اپنے پیروکاروں کو دی گئی دنیا کے بارے میں وارننگز کو سچ مانا جاتا ہے۔
کسی بھی فرقے کے رہنما اکثر اس عمل سے بخوبی واقف ہوتے ہیں لہذا وہ غیر متوقع رویے اختیار کرنے لگتے ہیں، بڑے بڑے سازشی نظریات گھڑتے ہیں، یا بدسلوکی پر اتر آتے ہیں، جو باہر کے لوگوں کو قدرتی طور پر پریشان کرتا ہے۔ لیکن اس سےعام لوگوں کی تنقید اور غصہ یا نفرت کو مزید تقویت ملتی ہے، جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پیروکاروں کی اپنے رہنما اور گروہ سے وفاداری اور بھی مضبوط ہو جاتی ہے۔ اس طرح ایک شیطانی چکر شروع ہو جاتا ہے جس میں دونوں فریق پھنسے رہتے ہیں۔ لیکن تنگ آکر کچھ پیروکار آخر کار فرقہ چھوڑ دیتے ہیں ، جبکہ دیگر پیروکار اس کے برعکس مزید وفادار ہو جاتے ہیں، یا تو رہنما کے لیے ہمدردی کے باعث یا باہر کے لوگوں کے خلاف بڑھتی ہوئی بے اعتمادی اور نفرت کے احساس سے۔
فرقے کے اراکین اکثر اپنے رہنما کے خراب رویے کا جواز پیش کرتے ہیں، یا تو انہیں ایک مقدس شخصیت مانتے ہیں یا بیرونی عوامل کو ان پر زیادہ دباؤ ڈالنے کا الزام دیتے ہیں۔ اس طرح کا تصور رہنما کے مرکزی کردار کو مزید مستحکم کرتا ہے۔ جیسا کہ نیو مین (نیا انسان ایک یوتوپیائی تصور ہے جس میں ایک نئے مثالی انسان یا شہری کی تخلیق کی بات کی جاتی ہے، جو غیر مثالی انسانوں یا شہریوں کی جگہ لے ) نے بیان کیا، ایسی تحریکوں کے مرکز میں ایک رہنما ہوتا ہے جس کے گرد ایک قریبی اندرونی حلقہ ہوتا ہے، جو ایک خفیہ ماحول پیدا کرتا ہے اور لیڈر کی طاقت کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے۔ یہ اندرونی حلقہ جان بوجھ کر غیر مستحکم رکھا جاتا ہے تاکہ گروہ کا انحصار رہنما پر مزید گہرا ہو جائے -

وزیر اعظم آزاد کشمیر کامقبوضہ کشمیر میں انتخابات کو مسترد کرنے کا اعلان
وزیر اعظم آزاد کشمیر چودھری انوار الحق نے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے انتخابات کو "ڈھونگ” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیری قوم ایسے انتخابات کو قبول نہیں کرے گی۔ انہوں نے یہ بات ضلع سدھنوتی میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ چودھری انوار الحق نے زور دیتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر جلد آزاد ہو گا، اور یہ کہ آج کی سکون کی زندگی خاکی وردی کی قربانی کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی پاکستان کی مملکت کو خطرہ ہوا، وہاں فوجی جوانوں نے اپنی جانیں قربان کیں۔
وزیر اعظم نے مزید کہا کہ حکومت پاکستان کے تعاون سے عوام کو آٹے اور بجلی میں ریلیف فراہم کیا گیا ہے، اور ہم کسی صورت میں پاکستان کی احسان فراموشی نہیں کر سکتے۔ انہوں نے بلوچ عوام کی تحریک آزادی میں دی جانے والی خدمات کو بھی سراہا، یہ کہتے ہوئے کہ "کشمیر آزاد کرانے والے یہاں کے لوگ ہیں۔چودھری انوار الحق کا یہ بیان مقبوضہ کشمیر کی سیاسی صورتحال اور پاکستان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے اہمیت رکھتا ہے۔ -

گداگری کی آڑ میں کاروبار اور جرائم
گداگری کی آڑ میں کاروبار اور جرائم
ازقلم غنی محمود قصوری
آج کل کچھ عرصے سے بڑے شہروں میں چوک چوراہوں پر ایک عجیب منظر دیکھنے کو مل رہا ہے جہاں نقاب پوش عورتیں اپنے ساتھ چھوٹے معصوم بچوں کو لیے بھیک مانگتی ہیں۔ گاڑی یا موٹر بائیک کے اشارے پر رکتے ہی یہ عورتیں درد مندانہ انداز میں اللہ رسول کے واسطے دے کر آپ سے پیسے نکلوانے کی کوشش کرتی ہیں۔ آپ نا چاہتے ہوئے بھی انکار نہیں کر پاتے کیونکہ ایک معصوم بچہ، جو عورت کی گود میں ہوتا ہے، آپ کے دل میں ہمدردی اور ترس پیدا کر دیتا ہے۔ اس کے علاوہ چھوٹے بچے اپنے پھیلے ہاتھوں کے ساتھ بھیک مانگنے پر مجبور کرتے ہیں۔یہ ایک عام منظر بن چکا ہے کہ اکثر ان عورتوں کا حلیہ، لباس اور بات کرنے کا انداز بتاتا ہے کہ وہ پیشہ ور بھکاری ہیں، اور بعض تو فل میک اپ میں بھی نظر آتی ہیں۔ ان کی چپل، عبایا اور دیگر لوازمات برانڈڈ ہوتے ہیں، جو اس بات کی علامت ہیں کہ یہ مجبوری کے تحت بھیک مانگنے والی نہیں بلکہ منظم بھکاری ہیں۔ بیشتر عورتوں کی عمر 25 سال سے بھی کم ہوتی ہے، جو ایک منظم نیٹ ورک کا حصہ معلوم ہوتی ہیں۔
اسلام نے جہاں نماز، روزہ اور دیگر فرائض کی ادائیگی پر زور دیا ہے، وہاں صدقہ و خیرات کا بھی خاص حکم دیا ہے۔ اسلام نے اہل و مستحقین کو صدقہ و خیرات کا اصل حقدار قرار دیا ہے، اور پہلا حق آپ کے قریبی رشتہ داروں، گلی محلے کے لوگوں اور خاندان والوں کا ہے۔ اگر آپ ان لوگوں کو ان کا حق ادا نہیں کرتے اور دوسروں کو صدقہ دیتے ہیں تو آپ اللہ کی رحمت کے طلبگار نہیں بن سکتے۔
آج کے دور میں گداگری نہ صرف ایک پیشہ بن چکی ہے بلکہ یہ جرائم کے ساتھ جڑ چکی ہے۔ بھکاریوں کے پیچھے موجود مافیا ان عورتوں اور بچوں کا استعمال کرتا ہے اور ان سے بھیک منگواتا ہے۔ بھیک مانگنے کے بہانے بعض عورتیں جسم فروشی جیسے غیر قانونی کاموں میں بھی ملوث پائی گئی ہیں۔ ڈکیت گینگز بھی ان عورتوں کو جاسوسی اور سہولت کاری کے لیے استعمال کرتے ہیں، جو معاشرے میں بگاڑ کا سبب بنتی ہیں۔
یہ سچ ہے کہ کچھ عورتیں مجبوری میں یہ کام کر رہی ہوں گی، مگر بہت سی خواتین کو ان کے نشے کے عادی شوہر یا والدین اس کام پر مجبور کرتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس مسئلے کا حل کیا ہے؟
پنجاب حکومت نے اس مسئلے کے حل کے لیے حال ہی میں The Punjab Vagrancy Ordinance 1958 میں ترامیم کی ہیں۔ ان ترامیم کے مطابق بچوں سے بھیک منگوانے والے مافیا کے سرغنہ کو 5 سے 7 سال قید اور 5 لاکھ سے 7 لاکھ روپے جرمانے کی سزا ہوگی۔ یہ قانون سازی ایک بہترین قدم ہے اور اس پر فوری عملدرآمد کی ضرورت ہے تاکہ پیشہ ور بھکاریوں کی حوصلہ شکنی کی جائے اور اصل مستحقین کو ان کا حق پہنچایا جائے۔
اس کے علاوہ، چوراہوں میں بھیک مانگنے والی عورتوں کو دارالامان بھیج کر تفتیش کی جائے کہ آیا ان کے ساتھ موجود بچے ان کے اپنے ہیں یا کہیں وہ اغوا شدہ تو نہیں؟ ایک عرصے سے یہ انکشاف ہو رہا ہے کہ شیر خوار بچے اغوا ہو کر بیرون ملک فروخت کیے جا رہے ہیں۔ اس مافیا کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہیے اور ان عورتوں کو ہنر سکھا کر معاشرے کا کارآمد فرد بنایا جائے، جو کہ اسلامی ریاست کی اہم ذمہ داری ہے۔

-

خواب اور ضمیر کے مطابق فیصلے
عمران خان کی حکومت میں جسٹس ثاقب نثار نے عمران خان کے قریبی دوست عبدالحفیظ پاشا کو 40 منزلہ گرینڈ حیات ہوٹل واپس بخش دیا۔ جب اس غیر قانونی فیصلے پر سوال کیا گیا تو چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنے فیصلے کے حق میں دو دلائل دئیے۔
پہلی دلیل یہ کہ ۔۔ اگر ایسے ہی غیر قانونی تعمیرات گرانی ہیں تو آدھا اسلام آباد گرانا پڑے گا۔
دوسری دلیل ۔۔ میں نے رات کو خواب دیکھا تھا اور جرمانہ بھی مجھے خواب میں دیکھایا گیا تھا۔(جیسے جنرل باجوہ کو ایکسٹینشن دینے سے پہلے یوتھیے صحافی اوریا مقبول جان نے خواب دیکھا تھا کہ باجوہ کو سپاہ سالار حضورﷺ نے بنایا ہے)
ہوٹل کی لیز پر چالیس منزلہ رہائشی ٹاورز بنانے والوں نے اربوں نہیں کھربوں چھاپ لیے۔ کہا جاتا ہے پاکستان کے اس سب سے مہنگے ٹاؤر میں عمران خان، جسٹس ثاقب نثار اور جسٹس اعجازالحسن کا بھی ایک ایک فلیٹ ہے۔
آج سپریم کورٹ کے 8 ججوں نے تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا۔ اس فیصلے میں اعتراف کیا کہ ہم نے مخصوص نشتیں اپنے ضمیر کے فیصلے پر پی ٹی آئی کو دیں۔ آئین اور قانون کی کوئی شق لاگو نہیں کی۔
فیصلے کا لب لباب یہ ہے کہ ۔۔۔
پی ٹی آئی پارلیمنٹ میں موجود نہیں،
درخواست گزار نہیں،
جیتنے والے امیدواروں نے حلف نامہ سنی اتحاد کونسل کے لیے جمع کروایا ہے،
مخصوص نشتیں بھی سنی اتحاد کونسل نے مانگی ہیں،لیکن ہم نے گمان کر لیا کہ آزاد امیدوار دراصل پی ٹی آئی کے تھے،
آزاد امیدواروں کے سنی اتحاد کونسل میں شامل ہونے کے حلف نامے جھوٹے تھے،
پی ٹی آئی نے مخصوص نشتیں نہیں مانگیں لیکن شائد دل میں مانگ رہی تھی،
لہذا ہم یہ نشتیں پی ٹی آئی کو دیتے ہیں۔یہ جسٹس ثاقب نثار کے خواب دیکھنے والے فیصلے سے ملتا جلتا فیصلہ ہے۔ آئین پاکستان اٹھائیں اور اس فیصلے کی ساری رواداد دنیا کے کسی جج کے سامنے رکھیں وہ اس کو ایک بھونڈا مذاق ہی سمجھے گا اور کچھ نہیں!!
اگر آئین اور قانون کو سائیڈ پر کر کے جج اپنی منشاء کو "ضمیر” کا نام دے کر اس کے مطابق فیصلے کرنے لگیں تو پاکستان کو تباہ ہونے سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ ایسے ہی فیصلوں کی وجہ سے پاکستانی جج دنیا کے بدترین جج اور پاکستان کی عدلیہ دنیا کی بدترین عدلیہ مانی جاتی ہے۔ ان کو اصلاح کی اشد ضرورت ہے۔ عدالتی اصلاحات کیے بغیر پاکستان میں کچھ بھی ٹھیک نہیں ہوگا۔
تحریر شاہد خان
@BloggerShahid -

خیبر پختونخواہ بدانتظامی،کرپشن کی وجہ سے لاقانونیت کی لپیٹ میں.تحریر:ڈی جے کمال مصطفیٰ
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو صوبہ خیبر پختونخوا میں حکومت کرتے ہوئے ایک دہائی سے زیادہ کا عرصہ ہو چکا ہے، مگر اس کی حکومتی نااہلی اور بدانتظامی کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ صوبہ اب بھی مختلف مسائل میں گھرا ہوا ہے۔ پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی ساری توجہ بیان بازی اور دوسرے صوبوں میں جلسے جلوسوں کے لیے سرکاری وسائل کے استعمال پر مرکوز ہے۔سب سے پہلے اگر امن و امان کا جائزہ لیا جائے تو صوبے کی قانون و ترتیب کی صورتحال بالکل تسلی بخش نہیں ہے، اور اس کی تمام تر ذمہ داری موجودہ صوبائی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ اس کی وجہ سے صوبائی پولیس اپنی ذمہ داریاں پوری طرح ادا کرنے میں ناکام نظر آتی ہے۔ آج ایک افسوسناک واقعہ سوات کے سیاحتی مقام مالم جبہ میں پیش آیا جہاں غیر ملکی سفارت کاروں کی سکیورٹی پر مامور پولیس وین ایک آئی ای ڈی کی زد میں آگئی۔ اس واقعے میں ایک پولیس اہلکار نے شہادت پائی جبکہ چار دیگر زخمی ہو گئے۔
اس واقعے کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ خیبر پختونخواہ لاقانونیت کا شکار ہے۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ اس وقت خیبرپختونخواہ میں پی ٹی آئی کی حکومت انتہائی نااہل ثابت ہو رہی ہے، اور بیڈ گورننس اور مالی کرپشن کی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔ اسی طرح وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اپنے رویے سے ایک شرپسند شخص کے طور پر سامنے آرہے ہے، جس کی واحد صلاحیت پی ٹی آئی کے بانی کے ریاستی اداروں کے خلاف بیانیے کو آگے بڑھانا ہے۔ یہ وزیراعلیٰ اس وقت صرف غیر آئینی سیاست میں مصروف ہے۔ نہ اسے ملک کی کوئی پرواہ ہے اور نہ ہی صوبے کے امن و امان کا خیال ہے۔ اسے پولیس کے اہم محکمے کی طرف توجہ دینے میں کوئی دلچسپی نہیں، نہ ہی اسے صوبے میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کا احساس ہے۔
سوات کے علاقے مالم جبہ کے افسوسناک واقعے کے علاوہ ضلع کرم میں قبائلی جھڑپوں کے نتیجے میں پانچ سے چھ افراد کی ہلاکت کی خبریں بھی آ رہی ہیں۔ ایک طرف لاقانونیت بڑھ رہی ہے تو دوسری جانب پشتون تحفظ موومنٹ بھی احتجاج کرنے کی باتیں کر رہی ہے۔ فتنہ الخوارج، غیر قانونی سرگرمیاں، اور غیر قانونی افغان باشندوں کے مسائل بھی صوبے کو درپیش ہیں، لیکن یہ سب کچھ اس لیے ہو رہا ہے کیونکہ صوبے میں حکومت کا کوئی وجود نہیں ہے، اور جب حکومت ہی نہیں تو اس کی رٹ کیسے قائم ہو سکتی ہے۔
صوبہ خیبر پختونخواہ میں وزارت داخلہ غیر متحرک ہے۔ اگر کسی وزیر کے پاس داخلہ امور کی ذمہ داری ہے تو اس کا نام تک سامنے نہیں آیا ہے۔ کئی واقعات ہو چکے ہیں، مگر ابھی تک کسی وزیر داخلہ کا کوئی وجود خیبر پختونخواہ میں نظر نہیں آیا۔ اگر وزیراعلیٰ نے خود یہ قلمدان اپنے پاس رکھا ہوا ہے تو پھر اللہ ہی اس صوبے کا حافظ ہے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا، علی امین گنڈاپور، جس کے صوبے میں سکیورٹی اہلکار، پولیس اہلکار اور عوام مجرموں کے رحم و کرم پر ہیں، وہ کبھی جلسے کامیاب کرانے کے لیے ترنول، کبھی سنگجانی، اور کبھی لاہور بھاگتا پھر رہا ہے۔ اس شخص کی نظر میں صرف پی ٹی آئی کے جلسے اور پارٹی کے بانی کی ہدایات اہم ہیں۔ نہ پہلے کبھی اس نے عوامی مفاد کے بارے میں سوچا تھا اور نہ اب ایسا کوئی ارادہ رکھتا ہے۔ جس صوبے کا وزیراعلیٰ خود دہشت گردی کرتے ہوئے کلاشنکوف اٹھا کر ٹرکوں کے شیشے توڑے، وہ دہشت گردوں کو کیسے روکے گا؟
صوبہ خیبر پختونخواہ میں امن و امان کی بدترین صورتحال کی بنیادی وجہ کرپشن اور ہر سطح پر حکومتی بدانتظامی ہے، جس کے باعث عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ شاید ہی کوئی حکومتی شعبہ ہو جو رشوت ستانی اور بدانتظامی سے محفوظ رہا ہو۔ صوبہ خیبر پختونخوا کے تعلیمی شعبے کی حالت بھی ابتر ہو چکی ہے۔ صوبائی وزیر تعلیم کی حیثیت اتنی کم ہو چکی ہے کہ وہ چوتھے درجے کے ملازمین کے مسائل بھی حل نہیں کر سکتا، وائس چانسلر کا مسئلہ کیسے حل کرے گا؟ صوبائی وزیر تعلیم بیس لاکھ روپے میں نوکریاں فروخت کر رہا ہے۔
صوبائی وزیر تعلیم نے یونیورسٹی کی زمینیں بیچنی شروع کر دی ہیں، اور اب سرکاری اسکولوں کو نجکاری کے نام پر بیچا جا رہا ہے۔ کابینہ کے اجلاس تک اسلام آباد میں منعقد ہوتے ہیں، جہاں وزیر اور اس کے ساتھ سیکرٹری اور باقی عملہ اسلام آباد آتا ہے۔خیبر پختونخواہ میں کرپشن کا یہ عالم ہے کہ قومی احتساب بیورو کی جانب سے صوبے میں بی آر ٹی منصوبے میں بھی کرپشن کی داستانیں سامنے آئیں، جس کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔ اس سے قبل بلین ٹری منصوبے میں بھی کرپشن کی کہانیاں سامنے آئی تھیں۔
اس طرح کی صورتحال میں صوبہ کیسے چلے گا؟ گزشتہ روز یہ حال تھا کہ کسی بھی سرکاری محکمے میں کوئی موجود نہیں تھا، پشاور میں تک کوئی سرکاری افسر نہیں تھا۔ معلوم ہوا کہ سب کو لے کر وزیراعلیٰ لاہور فتح کرنے کے لیے گئے ہوئے ہیں۔ قومی احتساب بیورو خیبر پختونخوا نے آج ایک بڑی کارروائی کے ذریعے قومی خزانے کو 168.5 ارب روپے بچائے، جب انٹرنیشنل کورٹ آف آربیٹریشن سے کنٹریکٹرز کا 31.5 ارب روپے کا دعویٰ خارج کروا دیا گیا۔ بی آر ٹی پشاور کے کنٹریکٹ کے غیر قانونی ایوارڈ، سرکاری فنڈز میں خرد برد، اور جعلی پرفارمنس گارنٹی کی تحقیقات میں گھپلوں کا انکشاف ہوا، جس کے بعد نیب کی تحقیقات میں کمپنیوں کے جعلی معاہدوں کا پردہ چاک ہو گیا۔
افسوسناک امر یہ ہے کہ غیر ملکی کمپنیوں نے سرکاری ادارے کو دھوکہ دے کر کوئی کام کیے بغیر تقریباً ایک ارب روپے وصول کیے۔ نیب نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے 400 سے زائد بینک اکاؤنٹس کی چھان بین کی۔ نیب تحقیقات میں یہ بھی ثابت ہوا کہ مقامی کنٹریکٹرز نے معاہدہ حاصل کرنے کے لیے بوگس آڈٹ رپورٹس جمع کرائیں۔ نیب نے ان غیر ملکی کمپنیوں کو متعلقہ سفارت خانوں کے ذریعے شامل تفتیش کیا۔ نیب کی تحقیقات کے نتیجے میں پراجیکٹ کو اصل لاگت پر مکمل کروایا گیا اور قومی خزانے کے 9 ارب روپے بچائے گئے۔ مذکورہ بالا حقائق کے پیش نظر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسے مخدوش حالات میں خیبر پختونخوا کا وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور ہی کیوں ہونا چاہیے؟ کیا خیبر پختونخوا کے عوام کو اس بات کی سزا دی جا رہی ہے کہ انہوں نے بہتر مستقبل کے لیے انہیں ووٹ دیا؟
ایک ایسا صوبہ جہاں لاقانونیت بڑھ رہی ہے، کیا وہاں مستقل وزیر داخلہ کا ہونا ضروری نہیں؟ صوبے کے ہر شعبے میں کرپشن کی جڑیں گہری ہیں، تو پھر اس ناکام اور نااہل حکومت سے کس طرح بہتری کی توقع کی جا سکتی ہے؟
-

پی ٹی آئی لاہور جلسے کی ناکامی کی وجوہات
پی ٹی آئی لاہور جلسے کی ناکامی کی وجوہات
تحریک انصاف کا لاہور جلسہ ہفتے کی شام چھ بجے "اچانک” ختم ہو گیا، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور سمیت پی ٹی آئی کے اور کئی مرکزی رہنما شام چھ بجے تک جلسہ گاہ تک پہنچنے میں ناکام رہے،علی امین گنڈا پور صبح 11 بجے پشاور سے روانہ ہوئے اس وجہ سے انہیں جلسہ میں بروقت پہنچنے میں تاخیر ہوئی،پشاور سے لاہور کا نان سٹاپ سفر چھ گھنٹے سے زائد کا ہے لیکن جب جلوس یا قافلے کے ہمراہ ہوں تو سفر میں مزید وقت لگتا ہے، علی امین گنڈا پور کے تاخیر سے نکلنے کی وجہ سے وہ بروقت نہ پہنچے.جلسہ گاہ میں علی امین گنڈا پور کی تاخیر سے آمد کے علاوہ تحریک انصاف کے دیگر مرکزی رہنما بھی نظر نہیں آئے، عمر ایوب،جو قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف ہیں اور پارٹی کے سابق سیکرٹری جنرل بھی رہے وہ بھی نہ پہنچ سکے،اسی طرح اسد قیصر جو سابق سپیکر قومی اسمبلی رہ چکے ہیں اور حالیہ دنوں میں مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ملاقاتوں ،رابطوں میں انکا اہم کردار ہے وہ بھی جلسہ گاہ نہ پہنچ سکے،مرکزی قائدین کے جلسہ گاہ میں عدم موجودگی کی وجہ سے جلسہ میں مجموعی طور پر حاضری کم رہی،کیونکہ خیبر پختونخوا کے برعکس پنجاب پی ٹی آئی کا گڑھ نہیں، پنجاب میں پی ٹی آئی کے پاس افرادی قوت کی کمی ہے، ایسے میں ایک بڑے مجمع کی توقع کرنا غیر حقیقی تھا،
جلسہ گاہ کے اطراف میں اور قریبی علاقوں میں کاروبار معمول کے مطابق چل رہا تھا کہیں کوئی رکاوٹ نہیں تھی،سڑکیں کھلی تھیں،اسکے باوجود پی ٹی آئی جلسہ گاہ کو بھرنے میں کامیاب نہ ہو سکی ،پی ٹی آئی اب یہ دعویٰ بھی نہیں کر سکتی کہ رکاوٹیں تھیں کیونکہ ایسا کچھ نہیں تھا، درحقیقت پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت بھی جلسہ گاہ میں حاضری دیکھ کر مایوس ہو چکی تھی، پی ٹی آئی کے مرکزی اور سرکردہ رہنماؤں کی جلسہ گاہ میں عدم موجودگی کی وجہ سے بھی کارکنان جلسہ میں نہ آئے اور عوام تو نکلی ہی نہیں،کیونکہ ورکنگ ڈے تھا اور سب اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے،پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت،جنہیں عمران خان کا زیادہ قریبی سمجھا جاتا ہے وہ جلسہ میں زیادہ فعال نہیں تھے
لاہور میں ہونے والے پی ٹی آئی جلسہ سےپارٹی کی دیرینہ کمزوری سامنے آئی، پی ٹی آئی کو کبھی بھی ایک منظم سیاسی جماعت کے طور پر تیار نہیں کیا گیا تھا بلکہ پارٹی کے اندر ون مین شو عمران خان تھا، اندرونی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ عمران خان اپنی پارٹی قیادت پر اعتماد نہیں کرتے ،یہی وجہ ہے کہ وہ پارٹی کے حوالہ سے کئے گئے کئی فیصلوں سے یوٹرن لیتے ہیں، یا پارٹی قیادت جو فیصلہ کرے عمران خان اس کو تسلیم نہیں کرتے اور اپنا سنا دیتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ پارٹی مزید کمزور ہوئی،پی ٹی آئی کی کمزوری کی وجہ پارٹی قیادت ہی ہے جو بروقت اوردرست فیصلے کرنے کی بجائے "ڈنگ ٹپاؤ” کام چلا رہے ہیں،
عمران خان خان کے پاکستان میں ’’بنگلہ دیش ماڈل‘‘ کے بار بار مطالبات بھی حقیقت سے منقطع نظر آتے ہیں۔ بنگلہ دیش کی تحریک پاکستان کے حالات کے برعکس نچلی سطح پر چل رہی تھی، پی ٹی آئی کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ قومی یا عوامی مسائل کی بجائے پارٹی کے اندرونی مسائل میں ہی الجھے ہوئے ہیں،جلسہ گاہ میں عوام کے لئے کوئی بات نہیں کی گئی،بلکہ عمران خان کی رہائی کی بات کی گئی، رہائی تو قانون کےمطابق عدالتوں نے کرنی ہے لیکن پی ٹی آئی کا فوکس عوامی مسائل ،قومی مسائل کی بجائے عمران ہے یہ وجہ بھی ہے کہ عوام پی ٹی آئی سے دور ہوتی گئی،عمران خان کے لیے اپنی حکمت عملی کا از سر نو جائزہ لینے کا بہت وقت گزر چکا ہے، پی ٹی آئی اب "کنارے” لگ چکی ہے اور بہت کچھ کھو چکی ہے، سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے اپنے وی لاگ میں پی ٹی آئی جلسے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ "عمران خان کا آغاز مینار پاکستان لاہور کے سائے تلے ہوا جس کا اختتام لاہور کی مویشی منڈی میں ہو گااب طے ہو گیا کہ پی ٹی آئی مویشی منڈیوں میں ہی بھٹکے گی تا کہ اسکی جعلی انقلاب کی بدبو سے ہمارا معاشرہ محفوظ رہ سکے”. اور حقیقت بھی یہی ہے کہ مینار پاکستان سے اٹھنے والی پی ٹی آئی کاہنہ کی مویشی منڈی میں ختم ہو چکی.
لاہور جلسہ کا وقت ختم،گنڈا پور لاہور نہ پہنچ سکے،پولیس کا ایکشن،داخلی راستے پھر بند
لاہور جلسہ ،9 مئی کے 12 اشتہاری ملزمان گرفتار
جلسہ تووڑ گیا، پہلے علی امین گنڈا پور معافی مانگے گا؟
حماد اظہر جلسہ گاہ پہنچ گئے، حکومت پر کڑی تنقید
جلسہ میں خالی کرسیاں،مریم اورنگزیب نے پی ٹی آئی کو دکھایا آئینہ
پانچ پانچ ہزار دیہاڑی پر مہاجر کیمپوں میں جلسے کیلئے لوگ لائے جا رہے،انکشاف
پی ٹی آئی لاہور جلسہ کا وقت شروع،خالی کرسیاں،قیادت نہ پہنچی
لاہور جلسہ کی اجازت نہ ملنے پر عمران خان نے "پلان بی” بتا دیا
لاہور جلسہ،پی ٹی آئی اجازت کی منتظر،علی امین گنڈاپور کی حکمت عملی تیار
اجازت دیں یا نہ دیں ہم جلسہ کریں گے،شعیب شاہین
پی ٹی آئی کا لاہور جلسہ روکنے کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست
