Baaghi TV

Category: بلاگ

  • کچھوے کی چال، واقعی چال ہے؟.تحریر:اعجازالحق عثمانی

    کچھوے کی چال، واقعی چال ہے؟.تحریر:اعجازالحق عثمانی

    پاکستان کی موٹر وے اور پنڈی و اسلام آباد اور مری کے تعلیمی ادارے بوجہ مرمت بند رہیں گے۔ یہ اعلان تو سنا دیا گیا۔ مگر بتایا نہیں گیا کہ مرمت کس کی ہورہی ہے۔ سکول اور موٹر ویز پر تو مرمتی ٹھیکے داروں نے گندگی نگاہ تک نہیں ڈالی۔ خیر چھوڑیے۔۔۔۔۔
    سنا ہے کہ قیدی آزاد ہے،اور بادشاہ فیصلے کرنے میں مفلوج۔ جسے سیاہ ست نہیں آتی تھی، اس نے ڈنگی لگا کر آنے والوں کو وخطہ ڈالا ہوا ہے۔ آزاد قیدی نے جمہوریت کے چیمپئنز کے منہ سے نہ صرف نقاب اتار ڈالا ہے۔بلکہ میدان چال میں اپنا خیمہ اتنا مضبوط کر ڈالا ہے کہ اس کے مخالفین کا سانس خود اپنی چالوں سے گھٹ رہا ہے۔
    پہلے حکومتوں کے سیاسی مخالفین اپنے مطالبات کے لیے ملک کی شاہراؤں کو بند کرتے تھے۔مگر اس بار آزاد قیدی نے تاریخ بدل ڈالی۔ جیل کے سلاخوں کے پیچھے بیٹھا وہ شخص اس قدر مقبول ہوگیا ہے کہ وہ جیل میں بیٹھ کر دھرنوں اور جلسوں کا اعلان کرتا ہے۔ اور اس کے مخالفین کو ایک روز پہلے ہی نہ صرف کچھ اہم شاہرائیں بلکہ ملک کو عملی صورت میں بند کرنا پڑ جاتا ہے۔
    24 نومبر کو بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے اڈیالہ جیل سے فائنل کال کا اعلان کیا۔ اور کارکنان کو اسلام آباد اپنی رہائی کی غرض سے ہر حال میں پہنچنے کا کہا۔ تاکہ احتجاج کرکے شہر اقتدار کو بند کیا جائے۔ اور حکومت سے مذکرات اور مطالبات منوائے جائیں۔ مگر حکومت نے اپنے سیاسی مخالف کی خواہش خود ہی پوری کر دی۔ 23 نومبر کو ملک کی اہم ترین موٹر ویز اور شاہراؤں کو حکومت نے کنٹینرز لگا کر بند کر دیا۔ اور ملک کی تقریباً 60 فی صد آبادی کو گھروں اور اپنی گلیوں میں محصور کر دیا گیا۔ دوسری جانب علی امین گنڈا پور کے پی کے کے تمام تر سرکاری وسائل استعمال کرتے ہوئے اسلام آباد کےلیے روانہ ہیں۔ وزیر اعلیٰ کے پی کے علی امین گنڈاپور کے قافلے میں سرکاری ملازم، سرکاری مشینری اور بعض اطلاعات کے مطابق پولیس فورسز کے لوگ بھی شامل ہیں۔ جو تاحال 25 نومبر شام 7 بجے اسلام آباد نہیں پہنچے۔

    کیا یہ کچھوے کی چال، آزاد قیدی کی چال تو نہیں؟۔ حکومتی رپورٹس کے مطابق احتجاج کی صورت میں ملک کی معیشت کو 190 ارب کا روزانہ نقصان ہوگا۔ بانی پی ٹی آئی تو احتجاج ہی اس لیے کر رہے ہیں کہ حکومت معاشی دباؤ میں آکر ان کے مطالبات مانے۔ مگر حکومت نے 23 نومبر کو خود ہی ملک کو بند کردیا۔ اور قیدی کی چال کو مزید کامیاب بنانے کےلیے راہ ہموار کی۔ علی امین گنڈاپور جس رفتار سے چل رہے ہیں لگتا یہی ہے کہ یہ کچھوے کی چال 27٫26 نومبر کو بھی چلے گی۔ اور یوں حکومتی حلقوں میں ٹینشن بڑھے گی۔”علی امین گنڈاپور جب لیٹ آئے گا تو ٹینشن بڑھے گا، جب علی امین گنڈاپور زیادہ لیٹ آئے گا تو زیادہ ٹینشن بڑھے گا”۔
    یوں 24 نومبر کو شروع ہونے والا احتجاج 26 نومبر کو شروع ہوگا،لیکن ختم ہونے کا وقت نہیں مقرر۔ مگر تاحال ڈوبتی معیشت کو 580 ارب کا مزید غوطہ دیا جا چکا ہے۔ اور کئی ارب کا مزید خسارہ ہوگیا،مگر قیدی کو معیشت نہیں رہائی چاہیے

  • پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا بھی "وڑ”گیا

    پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا بھی "وڑ”گیا

    پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی حکمت عملی میں دھرنوں، جلسوں، اور مظاہروں کا کردار ہمیشہ اہم رہا ہے، مگر حالیہ دنوں میں نہ صرف پی ٹی آئی احتجاجی سرگرمیاں کمزور پڑتی نظر آ رہی ہیں بلکہ سوشل میڈیا پر بھی پارٹی کا وہ اثر نظر نہیں آ رہا جو ماضی میں ہوتا تھا۔

    پی ٹی آئی نے ماضی میں سوشل میڈیا کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا۔ ان کے بیانیے کی ترویج اور مخالفین پر تنقید کے لیے یہ پلیٹ فارم مرکزی ہتھیار کے طور پر استعمال ہوا۔ یہ ایک ایسی جماعت کے طور پر ابھری جو روایتی میڈیا کی بجائے ڈیجیٹل میدان میں کامیابی کے جھنڈے گاڑنے میں مہارت رکھتی تھی۔ تاہم حالیہ دنوں میں نہ صرف زمینی احتجاج میں کمی دیکھی جا رہی ہے بلکہ سوشل میڈیا پر بھی پارٹی کا رنگ پھیکا پڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ وہ جماعت جو ٹویٹر پر ٹرینڈز بناتی تھی، فیس بک پر لاکھوں کی ریچ حاصل کرتی تھی، اور یوٹیوب پر لاکھوں ویوز جمع کرتی تھی، آج کل کمزور دکھائی دے رہی ہے۔پی ٹی آئی اب سوشل میڈیا پر وہ بیانیہ بنانے میں کامیاب نہیں ہو پا رہی جو پہلے بناتی تھی،پی ٹی آئی کی پارٹی کی اندرونی تقسیم اور اہم رہنماؤں کی گرفتاری یا خاموشی ممکنہ وجوہات ہو سکتی ہیں،حکومتی سطح پر سوشل میڈیا پر عائد کردہ ممکنہ پابندیوں کی وجہ سے بھی پی ٹی آئی سوشل میڈیا ٹیم مشکلات کا شکار ہے،انتشار اور نفرت کی سیاست کی وجہ سے عوام، خاص طور پر نوجوان، ماضی کی طرح سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کی سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے رہے جس کی وجہ سے پی ٹی آئی سوشل میڈیا پر بہت پیچھے جا چکی ہے

    پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا محاذ پر اثر کم ہونے کی وجوہات میں تنظیمی مسائل، حکومتی دباؤ، اور عوامی دلچسپی میں کمی شامل ہو سکتی ہے وہیں پی ٹی آئی رہنماؤں کے آپسی اختلافات، علیمہ، بشریٰ کی لڑائی، گنڈا پور ،بشری کی لڑائیاں اور پارٹی رہنماؤں کی ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی کی وجہ سے بھی سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کارکنان مایوس ہو چکے ہیں،کارکنان کو سمجھ نہیں آتی کہ وہ کس کے بیانئے کو لے کر چلیں،عمران خان تو جیل میں ہیں اور ان سے ملاقاتیں کرنے والے پارٹی رہنماؤں کا مؤقف الگ الگ ہوتا ہے، جس سے پی ٹی آئی کو بیانیہ بنانے میں مشکل پیش آتی ہے.

    عمران خان کی جانب سے "فائنل کال” پنجاب میں "مس کال” بن گئی

    پی ٹی آئی احتجاج،خیبر پختونخوا سے 12 سو سے زائد چھوٹی بڑی گاڑیاں،شرکا کی تعداد

    برطانیہ،عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی کا تاریخی احتجاج

    پی ٹی آئی احتجاج،قیادت بشریٰ بی بی نے سنبھال لی،کینٹینر پر چڑھ گئیں

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ تو آ گئیں، علیمہ خان منظر سے غائب

    اسلام آباد، مظاہرین پتھراؤ سے متعدد پولیس اہلکار زخمی

    24 نومبردن ختم،لاہورسے نہ قافلہ نکلا نہ کوئی بڑا مظاہرہ

    سپریم کورٹ پر حملہ کرنے والوں کو سزا مل جاتی تو نومئی نہ ہوتا، مبشرلقمان

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    خود گرفتاریاں دے رہے،پی ٹی آئی قیادت کہیں نظر نہیں آرہی،مصدق ملک

    گاڑیوں میں بیٹھیں،تیز چلیں، خان کو لئے بغیر واپس نہیں آنا، بشریٰ بی بی کا شرکا سے خطاب

  • ذہنی غلام قوم کب ہو گی آزاد.تحریر: ارم ثناء

    ذہنی غلام قوم کب ہو گی آزاد.تحریر: ارم ثناء

    ہم صرف نام کے آزاد ہیں، ورنہ ہمارے ذہن تو اب بھی غلامی میں ہیں، ہمارے اساتذہ جن کو چاہیے کہ وہ بچوں کو ایسے تیار کریں کہ وہ حق بات کرتے ہوئے ہچکچائیں نا۔ لیکن وہ بچوں کو ایسے تیار کرتے ہیں کہ وہ اپنی بات کو بھی دوسروں تک پہنچانے سے پہلے گئی مرتبہ سوچتے ہیں۔ ہماری درس گاہوں میں اگر کبھی کوئی ٹیچر غلط بات کرے اور بچے ٹیچر کو بتا دیں تو ٹیچر اس کا شکر ادا کرنے کی بجائے الٹا اس کو ڈانٹ دیتے ہیں جس سے بچے پر یہ اثر ہوتا ہے کہ وہ جس بھی جگہ پر کچھ غلط ہوتا دیکھے تو خاموش ہو جاتا ہے۔ ہمارے گھروں میں کوئی بہوئیں نہیں لانا چاہتا بلکہ وہ ایک ذہنی غلام لانا چاہتے ہیں جو بھی ان کے ساتھ غلط کرے بس اس کو خاموشی سے برداشت کر لیں۔

    میرے خیال میں بچوں کو سکول لیول پر ہی یہ سیکھانا چاہیے کہ وہ حق بات کےلئے کھڑے ہوں چاہے وہ غلط بات ٹیچر کرے یا والدین۔ جو بھی بات اسلام کے خلاف ہو اس کے خلاف کھڑے ہوجائیں۔ جس بھی جگہ پر دیکھیں کہ اللہ کی نافرمانی ہو رہی ہے آواز بلند کریں اس جگہ پر۔ بچے جب صحیح بات کریں تو ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے، بچے جب کسی بڑے کی غلطی کو نوٹ کرکے وہ آپ کی غلطی آپ کو بتائیں تو ان کا شکر ادا کریں۔

  • مودی اور سیکولر بھارت

    مودی اور سیکولر بھارت

    بھارت میں ہندو قوم پرستی نے ہمیشہ ان اہم لمحات میں زور پکڑا جب سیاسی رہنماؤں نے جو خود کو سیکولر ظاہر کرتے ہیں، انتخابات میں فائدہ اٹھانے کے لیے مذہب کا سہارا لیا۔ گزشتہ صدی کے دوران یہ رجحان اپنے عروج پر پہنچ چکا ، جس کی ایک بڑی مثال بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی ہیں، جنہوں نے سیکولرازم کو ترک کرتے ہوئے مذہب پر مبنی قومی شناخت کو ترجیح دی ہے۔

    1923 میں ونائیک دامودر ساورکر نے ایک جارحانہ ہندو مرکزیت پر مبنی ہندوتوا کا نظریہ پیش کیا۔ ہندو دھرم کی برابری کے روحانی اصولوں سے ہٹ کر، ساورکر نے لوگوں کو "دوستوں” اور "دشمنوں” میں تقسیم کیا۔ دوست وہ تھے جو نسب اور وفاداری کے ذریعے بھارت سے جڑے تھے، جبکہ دشمن وہ تھے جنہیں غیر ملکی یا غیر وفادار سمجھا جاتا تھا۔ لگ بھگ ایک دہائی بعد، جرمن نازی نظریہ ساز کارل شمٹ نے سیاست کو اسی طرح دوستوں اور دشمنوں میں تقسیم کیا۔

    1925 میں ساورکر سے متاثر ہو کر راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) قائم کی گئی جو اس تحریک کا عسکری ونگ تھا۔ آر ایس ایس نے نوجوانوں کو عسکری تربیت دی اور ایک مثالی ہندو ماضی پر فخر کرنے کا جذبہ پیدا کیا، جس کا مقصد ایک متنازع نظریہ کو فروغ دینا تھا۔ نریندر مودی، آر ایس ایس کے نمایاں ارکان میں سے ایک ہیں اور وہ اسی تحریک سے کھل کر سامنے آئے،

    دوسری جانب، انڈین نیشنل کانگریس، مہاتما گاندھی کی قیادت میں، ایک سیکولر اور متحدہ بھارت کی حمایت کرتی رہی، جس کا مقصد برطانوی تسلط سے آزادی حاصل کرنا تھا۔ تاہم، ہندوتوا کے حامیوں نے گاندھی کے مذہبی ہم آہنگی کے پیغامات کو مسلمانوں کے لیے رعایت سمجھا۔جس کے نتیجے میں 1948 میں ساورکر کے نظریے کے پیروکار کے ہاتھوں گاندھی کا قتل ہوا۔

    آزادی کے بعد وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے بھارت کے لیے ایک سیکولر وژن کی وکالت کی، جو معاشی اور سماجی ترقی کی خواہشات پر مبنی تھا۔ لیکن نہرو کی 1964 میں وفات کے بعد، کمیونل نظریات کانگریس کے اندر اور باہر دونوں جگہ مقبول ہونے لگے۔ سیکولرازم کو ایک بڑا دھچکا 19 اپریل 1976 کو لگا، جب وزیر اعظم اندرا گاندھی کے بیٹے نے ایمرجنسی کے تحت مسلمانوں کو نشانہ بنایا۔ اس دن دہلی کی جامع مسجد کے قریب جبری نس بندیوں سے آغاز ہوا اور ترکمان گیٹ پر مسلمانوں کے انخلاء اور قتل عام پر ختم ہوا۔1976 کے ترکمان گیٹ کے تشدد کے 16 سال بعد، 1992 میں بابری مسجد کی شہادت کے واقعے نے ایک اور لہر کو جنم دیا، جس سے بھارت کے سیکولر نظریات مزید کمزور ہو گئے۔

    آج، ہندوتوا،جو ہندو دھرم کی پرامن تعلیمات سے بہت مختلف ہے، اکثر بھارت کے ایلیٹس کی خاموش حمایت کے ساتھ سیاست اور ثقافت میں سرایت کر چکا ہے، مودی، جو ایک پجاری جیسا عوامی کردار اپناتے جا رہے ہیں، کے دور میں ایک سیکولر بھارت کا خواب ایک مذہبی طور پر متعین ریاست کے عروج سے دھندلا ہوتا نظر آ رہا ہے۔

  • چھٹیاں حل نہیں ،چھٹیوں کا حل نکالئے

    چھٹیاں حل نہیں ،چھٹیوں کا حل نکالئے

    چھٹیاں حل نہیں چھٹیوں کا حل نکالئے
    ازقلم غنی محمود قصوری
    اس وقت صوبہ پنجاب کے بیشتر اضلاع شدید سموگ کی لپٹ میں ہیں جس کی بدولت سمارٹ لاک ڈاؤن ہے اور بچوں کو سکول سے چھٹیاں ہیں یہ چھٹیاں 24 نومبر تک تھیں جنہیں موسم میں بہتری کے باعث ختم کر دیا گیا ہے اور سکول لاہور ملتان کے علاوہ دیگر اضلاع میں تعلیم کیلئے سکول کھول دیئے گئے ہیں کیونکہ لاہور اور ملتان میں سموگ کی شدت زیادہ ہے اس لئے وہاں سکول بدستور بند ہیں

    ایک سال میں 365 دن ہوتے ہیں جبکہ 52 ہفتے ہوتے ہیں،اس وقت پاکستان کے سرکاری سکولوں میں ہفتہ اور اتوار کی سرکاری چھٹی ہوتی ہےیعنی ایک سال میں بچوں کو 104 چھٹیاں سرکاری ہیں اس کے علاوہ 90 دن کی چھٹیاں پنجاب میں گرمیوں کی ہوتی ہیں مذید دسمبر میں 10 چھٹیاں ہوتی ہیں اس کے علاوہ ہر ضلع میں تقریباً 1 سرکاری چھٹی سالانہ ہوتی ہے جو کہ کسی عرس، تقریب وغیرہ پر ضلعی انتظامیہ کی طرف سے دی جاتی ہے،اس سب کے علاوہ بچوں کی صحت کے لحاظ سے کم از کم دو ماہ بعد ایک بچہ بوجہ بیماری بھی چھٹی کرتا ہے،نیز اس کے علاوہ بھی معاشرتی طرز زندگی کیلئے شادی بیاہ،فوتگی و دیگر امور کے باعث بھی چھٹی کرنی پڑتی ہے

    اگر جنرل طور پر دیکھا جائے تو سرکاری سکول کے بچے 365 دنوں میں سے بغیر کسی ناغے کے 160 دن سکول جاتے ہیں اگر بیماری و دیگر چھٹیوں کو ڈال لیا جائے تو بمشکل 150 دن بنتے ہیں ان میں سے اگر بیماری و دیگر چھٹیوں کو بھی شامل کر لیا جائے تو سرکاری سکولوں کے بچے محض 150 دن ہی بمشکل سکول جاتے ہیں،جبکہ اس کے برعکس پرائیویٹ سکولوں میں ہفتہ کی صرف ایک چھٹی اتوار کو ہوتی ہے نیز سخت گرمی میں بھی باوجود گورنمنٹ کے حکم کے بچوں کو سادی کپڑوں میں سکول آنے کا پابند کیا جاتا ہے اور اسے اکیڈمی ٹائم کا نام دے کر پڑھایا جاتا ہے
    یعنی سرکاری اور پرائیویٹ سکولوں کی چھٹیوں میں زمین و آسمان سا فرق ہے.جس کے باعث بیشتر ماں باپ نا چاہتے ہوئے بھی اپنے بچوں کو پرائیویٹ سکولوں میں پڑھاتے ہیں تاکہ ان کے جگر کے ٹکڑے حصول تعلیم بغیر ناغے کے جاری رکھیں بیشتر غریب ماں باپ بھی بہت تنگدستی میں قرض اٹھا کر اور اپنے کھانے پینے کے اخراجات کم کرکے اپنے بچوں کو پرائیویٹ سکولوں میں پڑھانے پر مجبور ہیں جس کی وجہ آئے روز کی چھٹیاں ہی ہیں

    ہمارے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ ہم ہر چیز کا شارٹ کٹ اور عارضی حل نکالتے ہیں مستقبل حل نہیں نکالتے جس کے باعث مسائل کم نہیں ہوتے بلکہ بڑھتے ہیں پہلے موسم گرما و سرما کی چھٹیاں تھیں اب چند سالوں سے سموگ کی چھٹیاں الگ سے ہونے لگی ہیں

    ہم بات شروع کرتے ہیں موسم گرما کی چھٹیوں کی اگر بچوں کو 90 دن چھٹیاں کروانے کی بجائے ان دنوں صبح فجر کے بعد سکول ٹائم کو شروع کیا جائے اور ہر کلاس روم کو یو پی ایس و سولر سسٹم سے روم کولرز و ائیر کنڈیشنر سے ہوا دار کرکے ٹمپریچر لیول کنٹرول کیا جائے تو میرے خیال سے چھٹیاں کروانے کی نوبت ہی نا آئے گی،سوچا جائے تو اگر ہمارے ملک میں ایک 16 سکیل کے اکیلے آفیسر کے کمرے میں 2 ٹن کا اے سی چلتا ہے تو کیا وہاں 70 بچوں کی کلاس میں 3 ماہ ایک اے سی چلا کر بچوں کی پڑھائی کو جاری نہیں رکھا جا سکتا؟

    اسی طرح ہفتہ میں دو چھٹیوں کی سمجھ آج دن تک کسی کو نہیں آئی کہ اس میں کیا حکمت ہے اگر اس میں اتنی ہی خیر ہے تو پھر پرائیویٹ سکولوں میں ہر ہفتے دو چھٹیاں کیوں نہیں کروائی جاتیں؟ان دنوں سموگ کی چھٹیوں کو دیکھا جائے تو سموگ سے بچاؤ کی خاطر چھٹیاں کروا کر بچے گھروں میں قطعاً سموگ سے نہیں بچتے کیونکہ ہمارے ہاں سرکاری سکول کشادہ اور ہوا دار ہیں جبکہ اس مہنگائی کے دور میں سرکاری سکولوں میں پڑھنے والے بچوں کے والدین کے پاس رہنے کو چھوٹے چھوٹے مکان ہیں جن میں درخت نا ہونے کے برابر ہیں جبکہ اس کے برعکس ہر سرکاری دفتر میں وافر مقدار میں درخت موجود ہوتے ہیں جو ماحول کو آلودہ ہونے سے بچاتے ہیں

    ہر سال سموگ سے بچاؤ کی خاطر چھٹیاں تو کی جاتی ہیں مگر سموگ کو کنٹرول کرنے کیلئے تدابیر نہیں کی جاتیں،جہاں سموگ سے بچنا ان بچوں کیلئے ضروری ہے وہاں 60 سال سے زائد عمر کے اس مزدور کے لئے بھی بچنا اتنا ہی ضروری ہے کہ جس کا لخت جگر اس کی دن رات کی کمائی سے سکول پڑھنے جاتا ہے،سموگ سے 16 سالہ میٹرک کا طالب علم تو بچنے کے طریقے جانتا ہے مگر اس کا 60 سے 70 سالہ بوڑھا اور کمزور باپ نہیں جانتا کہ کس طرح سموگ سے بچنا ہے وہ ہر چیز کی پرواہ کئے بغیر اپنے بچوں کی روزی روٹی اور تعلیم کی خاطر مزدوری کرتا ہے

    اگر ریاست کا فرض سموگ سے ان بچوں کو بچانا ہے تو پھر ان بزرگوں کو سموگ سے بچانا بھی ریاست کا فرض ہے سو اس لئے ضروری ہے کہ سموگ کی چھٹیاں کروانے کی بجائے سموگ کے بننے کے عمل کو روکا جائے،اگر دیکھا جائے تو سموگ پھیلانے میں پنجاب اربن یونٹ لاہور کی رپورٹ کے مطابق دھواں چھوڑنے والی گاڑیاں فضائی آلودگی پھیلانے میں سب سے آگے ہیں،یعنی کہ شعبہ ٹرانسپورٹ کا فضائی آلودگی پھیلانے میں 83.15 فیصد کردار ہے اسی طرح صنعتی سرگرمیاں سموگ پھیلانے میں دوسرے نمبر پر ہیں یعنی انڈسٹریز کے دھوئیں کا سموگ میں حصہ 9.07 فیصد ہے، اسی طرح فضائی آلودگی پھیلانے میں زرعی فضلہ جلانے کا کردار 3.9 فیصد ہے اورکچرا جلانے کا حصہ سموگ میں 3.6 فیصد ہے
    کمرشل عمارتوں کی سرگرمیوں کا فضائی آلودگی میں کردار 0.14 فیصد ہےاور گھریلو سرگرمیاں 0.11 فیصد فضائی آلودگی یعنی سموگ میں حصہ ڈالتی ہیں
    یعنی کہ قصہ مختصر سموگ کی چھٹیوں کو ختم کرکے سموگ کے دن شروع ہونے سے پہلے ہی ٹرانسپورٹ گاڑیوں کے دھوئیں پر کنٹرول کیا جائے
    کچرا جلانے پر پابندی لگائی جائے اور لوگوں میں نجی سواری کی بجائے مشترکہ پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے پر آگاہی دی جائے
    نیز سموگ سے بچاؤ کیلئے گھر سے باہر نکلتے فیس ماسک لازم قرار دیا جائے

    کارخانوں کے دھوئیں کو زگ زیگ ٹیکنالوجی سے کم آلودہ کیا جائے جس طرح بھٹہ خشت پر زگ زیگ سسٹم لازم ہے اسی طرح انڈسٹری میں بھی زگ زیگ کے بغیر انڈسٹری چلانے پر جرمانے کئے جائیں،ٹرانسپورٹ کو شمسی و بیٹری سسٹم پر منتقل کیا جائے تاکہ دھواں کم سے کم بنے
    سوچنے کی بات ہے کہ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں سموگ سے متاثرہ لوگوں کی تعداد نا ہونے کے برابر ہے جبکہ دوسرے بڑے شہر لاہور میں سب سے زیادہ حالانکہ آبادی و صنعتی لحاظ سے کراچی بہت بڑا شہر ہے اور لاہور اس سے چھوٹا تو پھر کچھ تو کمی کوتاہی ہے نا کہ بڑا شہر سموگ سے متاثر نہیں اور اس سے چھوٹا شہر متاثر ہے

    گورنمنٹ کو چائیے کہ چھٹیاں ختم کرکے چھٹیوں کا حل نکالے تاکہ بچوں کے والدین سرکاری سکولوں پر اعتماد اور یقین کریں بجائے پرائیویٹ سکولوں کے پڑھانے کے اپنے بچے سرکاری سکولوں میں پڑھائیں

  • راجن پور میں انڈسٹریل اسٹیٹ اور ٹیکس فری زون کا قیام وقت کی ضرورت ہے

    راجن پور میں انڈسٹریل اسٹیٹ اور ٹیکس فری زون کا قیام وقت کی ضرورت ہے

    راجن پور میں انڈسٹریل اسٹیٹ اور ٹیکس فری زون کا قیام وقت کی ضرورت ہے
    تحریر: ملک خلیل الرحمٰن واسنی حاجی پورشریف
    پاکستان کے صوبہ پنجاب کا پسماندہ ترین ضلع راجن پور، جو روجھان، راجن پور اور جام پور جیسی تحصیلوں پر مشتمل ہے، اپنی جغرافیائی اہمیت اور قدرتی وسائل کے باوجود ترقی کے مواقع سے محروم ہے۔ یہاں کی 70 فیصد سے زائد آبادی زراعت پر انحصار کرتی ہے، لیکن ہر سال سیلاب کی تباہ کاریوں کے باعث مالی نقصانات اٹھاتی ہے۔ اس صورتحال میں انڈسٹریل اسٹیٹ اور ٹیکس فری انڈسٹریل زون کا قیام علاقے کی اشد ترین ضرورت بن چکا ہے۔

    صنعتی ترقی سے نہ صرف مقامی آبادی کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے بلکہ یہاں کے 25 لاکھ سے زائد افراد کا معیارِ زندگی بہتر ہو سکتا ہے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان، جو فی الحال بے روزگار ہیں، اپنی صلاحیتوں کو ملک و قوم کی خدمت میں استعمال کر سکیں گے، جبکہ خواتین کو بھی روزگار کے مواقع فراہم کیے جا سکیں گے۔ یہ منصوبہ نہ صرف مقامی ترقی کا ضامن ہوگا بلکہ قومی معیشت کو مستحکم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔

    راجن پور میں قدرتی وسائل کی کوئی کمی نہیں، لیکن ان سے فائدہ اٹھانے کے لیے مناسب حکومتی منصوبہ بندی کا فقدان رہا ہے۔ اگر حکومت اور سرمایہ کار ادارے اس علاقے کی طرف توجہ دیں تو یہ خطہ صنعتی ترقی کے لیے ایک مثالی مقام بن سکتا ہے۔ پاکستان کے دوست ممالک اور نجی سرمایہ کار کمپنیاں اس علاقے میں صنعتوں کے قیام میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

    عوامی اور سماجی حلقے بھی اس حوالے سے حکومت سے توقعات وابستہ کیے ہوئے ہیں۔ مقامی سیاسی، سماجی اور تاجر تنظیمیں اس منصوبے کو حقیقت بنانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں۔ ضلع راجن پور کے موجودہ ڈپٹی کمشنر شفقت اللّٰہ مشتاق بھی اس ضمن میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ان کے پاس یہ موقع ہے کہ وہ حکومتی حکام کو فزیبلیٹی رپورٹ پیش کر کے اس منصوبے کی اہمیت اجاگر کریں اور اسے عملی جامہ پہنانے میں مددگار ثابت ہوں۔

    اس منصوبے کے لیے عوامی حمایت بھی ضروری ہے۔ عوام نے بارہا اپنی مشکلات کا ذکر کیا ہے، خاص طور پر بے روزگاری اور روزگار کی بہتر سہولیات کے فقدان کا۔ انڈسٹریل اسٹیٹ کا قیام ان تمام مسائل کا حل ہو سکتا ہے اور ایک بڑا معاشی گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔

    صوبائی اور وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر اس منصوبے پر کام شروع کرے۔ سرمایہ کاری، مناسب پالیسیاں، اور مقامی و بین الاقوامی تعاون کے ذریعے اس منصوبے کو کامیاب بنایا جا سکتا ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف راجن پور کے عوام کی زندگیوں میں تبدیلی آئے گی بلکہ ملک کی معیشت کو بھی استحکام ملے گا۔ عوام کی نظریں اب حکومتی اقدامات پر مرکوز ہیں، اور وقت آ گیا ہے کہ ان توقعات کو پورا کیا جائے۔

  • اقتدار کی خاطر مذہبی تاویلیں،رب کو ناراض نہ کریں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    اقتدار کی خاطر مذہبی تاویلیں،رب کو ناراض نہ کریں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    دہشت گردی ،قتل و غارت گری، سماجی معمول کا درجہ اختیار کر جائیں، رشتے مٹ رہے ہوں، احساس ماند پڑ جائے، بیروزگاری، ناخواندگی عام ہو ۔۔کوئی راستہ کوئی منزل نظر نہ آئے ۔ بدعنوانی اور منافقت اخلاقیات کا درجہ اختیار کر لیں تو سیاست اور جمہوریت کیسی؟ ان حالات میں ریاست کی حالت کیا ہوگی؟ تاہم بدترین داخلی انتشار کے باوجود پاک فوج اور جملہ اداروں نے ریاست کے ساتھ ساتھ دفاع کو بھی اپنی حفاظت میں لیا ہوا ہے۔ یاد رکھیئے! ریاست کے نگہبانوں کو فساد اور انتشار کا سدباب کرنا آتا ہے ریاست کے استحکام پر کسی فرد واحد کو اہمیت حاصل نہیں ہوتی۔ ریاست کے استحکام کے لئے پاک فوج اور جملہ ادارے دیوار چین کی طرح کھڑے ہیں۔

    قوم نے طویل تین مارشل لاء دیکھے موجودہ صدی کے پیروں، نام نہاد گدی نشینوں ، ججز، وڈیروں، سیاستدانوں، نام نہاد دانشوروں، سرمایہ داروں نے ان مارشل لاء لگانے والوں کا بھرپور ساتھ دیا ،میڈیا نے بھی بھرپور ساتھ دیا الزام صرف فوج پر نہیں لگایا جا سکتا۔ میاں محمد نوازشریف کو تین بار حکومت سے علیحدہ کیا گیا اس کی ذمہ داری سیاستدانوں پر ہی آتی ہے۔ سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ ان کی اپنی جماعت میں نہ سیاست اور نہ جمہوریت ہے، پانامہ لیکس ایک غلط اور بے بنیاد مقدمہ بنا کر نوازشریف اور اسکے خاندان کو بدنام کیا گیا اس مقدمے کے پیچھے سیاستدان ہی تھے، عمران خان جو آج جمہوریت آئین کی بات کرتے تھکتے نہیں کیا وہ بتا سکتے ہیں کہ وہ ایک جمہوری حکومت کیخلاف سازش میں کیوں شامل ہوئے؟ 2018ء کے الیکشن میں انہوں نے کس طرح کامیابی حاصل کی وہ کن ملاحوں کی مدد سے اقتدار کی کرسی پر بیٹھے ،نوازشریف کا اس وقت گناہ کیا تھا؟ 2024ء کے الیکشن پر سینہ کوبی کرنے والے بتا سکتے ہیں 2018ء کا الیکشن ہی تھا؟

    یاد رکھیئے۔ پاکستان کی سیاست سیاستدانوں اورنام نہاد جمہوریت سے امریکہ سمیت عالمی دنیا آگاہ ہے سوشل میڈیا جھوٹ بولنے کی فیکٹریاں ہیں بدقسمتی سے الیکٹرانک میڈیا بھی سوشل میڈیا کا اسیر بن چکا ہے۔ کلمہ پڑھ کر جھوٹ بولتے ہیں سیاستدانوں کی اکثریت نام نہاد پیروں اور گدی نشینوں، نام نہاد عالم دین، خدا کے عذاب سے ڈرتے نہیں روز محشر خدا کی عدالت میں کس منہ سے کھڑے ہوں گے پاکستان کی سرزمین بھی خدا پاک کی ملکیت ہے اس سرزمین پر بسنے والے خدا پاک کی مخلوق ہے اپنے اقتدار اور اختیارات کی خاطر مذہبی تاویلیں دے کر خدا پاک کو ناراض نہ کریں دین اسلام پر عمل کریں

  • ایم 5 موٹروے،بڑھتے جرائم، مسافر غیر محفوظ

    ایم 5 موٹروے،بڑھتے جرائم، مسافر غیر محفوظ

    ایم 5 موٹروے،بڑھتے جرائم، مسافر غیر محفوظ
    تحریر:حبیب اللہ خان ، اوچ شریف
    ملتان،سکھر ایم 5 موٹروےپاکستان کے اہم تجارتی راستوں میں سے ایک ہے، جو مسافروں کے لیے سب سے محفوظ شاہراہ سمجھی جاتی رہی ہے۔ لیکن حالیہ دنوں میں اس پر پیش آنے والے پرتشدد واقعات نے اس کے تحفظ کے حوالے سے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ یہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ یہاں سفر کرنے والے افراد کی جان و مال کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔

    حالیہ رونما ہونے والے ایک واقعہ میں اوچ شریف کے قریب جھانگڑا ریسٹ ایریا میں ایک ٹرک ڈرائیور کو نامعلوم افراد نے گولی مار کر قتل کر دیا، جبکہ دوسرا شخص شدید زخمی ہوا۔ یہ حملہ ایک ایسے ٹرک پر ہوا جو ملتان سے کراچی جا رہا تھا۔ یہ واقعہ موٹروے پر مسلسل ہونے والی ان وارداتوں کی کڑی ہے جو پچھلے چند مہینوں میں عام ہو چکی ہیں۔

    گھوٹکی کے علاقے میں امن و امان کی صورتحال دن بہ دن خراب ہوتی جا رہی ہے۔ درجنوں شہری اغوا ہوچکے ہیں، اور اغوا کاروں نے مبینہ طور پر کروڑوں روپے تاوان کی مد میں بٹور لیے ہیں، اس کے علاوہ مسلح ڈاکوؤں نے فائرنگ کے متعدد واقعات میں کئی افراد کو زخمی کیا، جبکہ ایک قبائلی سردار کے بیٹے کی موت بھی انہی حملوں میں بتائی جاتی ہے،

    موٹروے پر ڈاکوؤں کے گروہ مسافر گاڑیوں کو روکنے کے لیے فائرنگ کرتے ہیں۔ اگر گاڑیاں رک جائیں تو ان میں موجود افراد کو لوٹ لیا جاتا ہے یا اغوا کر لیا جاتا ہے۔ اگر گاڑیاں نہ رکیں تو فائرنگ کے نتیجے میں مسافروں کی جان کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔

    2021 سے اب تک ایم 5 موٹروے پر درجنوں بڑے حملے ہو چکے ہیں، جن میں کئی گاڑیاں نشانہ بنیں، متعدد افراد زخمی ہوئے اور کئی جانیں ضائع ہوئیں۔ ان واقعات نے موٹروے پر موجود موٹروے پولیس ،سیکیورٹی چوکیوں کی ناکامی اور حفاظتی اقدامات کی کمی کو عیاں کر دیا ہے۔
    ان جرائم کے بڑھتے ہوئے واقعات نے سندھ اور پنجاب کی پولیس، موٹروے پولیس اور دیگر متعلقہ حکام کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ان متاثرہ علاقوں میں قانون نافذ کرنے والے ادارے ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں۔اگرچہ کئی آپریشنز کیے گئے ہیں لیکن ڈاکوؤں کے نیٹ ورک کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ایم 5 موٹروے کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ ان میں ہر چند کلومیٹر کے فاصلے پر اضافی پولیس چوکیوں کا قیام، جدید کیمروں اور ڈرونز کے ذریعے مکمل نگرانی کا نظام، ایک خصوصی سیکیورٹی فورس کی تعیناتی اور سخت قانونی کارروائی شامل ہیں تاکہ ڈاکوؤں اور مجرموں کا قلع قمع کیا جا سکے۔

    ملتان سکھر موٹروے جو سی پیک کے اہم منصوبوں میں شامل ہے، پاکستان کی اقتصادی ترقی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ تاہم اس شاہراہ پر جرائم میں اضافے نے نہ صرف عوام کے اعتماد کو متزلزل کیا ہے بلکہ تجارتی سرگرمیوں پر بھی منفی اثر ڈالا ہے۔ حکومت کو فوری طور پر مؤثر اقدامات اٹھاتے ہوئے اس اہم شاہراہ کو محفوظ بنانا ہوگا تاکہ شہریوں کی جان و مال کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے اور ملک کی معیشت کو ممکنہ نقصانات سے بچایا جا سکے

  • تبصرہ کتب،: فتاویٰ برائے خواتین

    تبصرہ کتب،: فتاویٰ برائے خواتین

    نام کتاب : فتاویٰ برائے خواتین
    جمع وترتیب : محمد بن عبدالعزیز المسند
    صفحات : 488
    قیمت 1450روپے
    ناشر : دارالسلام انٹرنیشنل ، لوئر مال ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ لاہور
    برائے رابطہ :042-37324034
    زیر نظر کتاب” فتاویٰ برائے خواتین “ روزمرہ زندگی میں خواتین کو درپیش مختلف نوعیت کے تمام اہم مسائل اور ان کے علمی و تحقیقی جوابات کا گرانقدر مجموعہ ہے جو کہ دینی کتابوں کی اشاعت کے عالمی ادارہ دارالسلام نے شائع کیا ہے۔ یہ کتاب بتاتی ہے کہ خواتین کو شرم و حیا اور حجاب و نقاب کے تقاضے ہمیشہ ملحوظ رکھنے چاہئیں۔ بچیوں کو اسلامی تعلیمات سے اچھی طرح روشناس کرانا چاہیے۔ جب وہ جوان ہو جائیں تو ان کی شادی کرنے کے لیے غایت درجہ احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ لڑکے کے انتخاب میں اس کے اخلاق و احوال دیکھنے چاہئیں۔ یہ تحقیق ضرور کرنی چاہیے کہ جس سے بچی کی شادی کی جارہی کیا وہ نماز کا پابند ہے یا نہیں؟ کسی بے نماز سے ہرگز شادی نہیں کرنی چاہیے۔ کوئی مرد لڑکی کی عمر سے دس پندرہ سال بڑا ہو اور وہ صالح اور صحت مند بھی ہو تو لڑکی کو ایسے مرد سے شادی کرنے یا نہ کرنے کا اختیار ہے لیکن بڑی عمر پر اعتراض کا کوئی حق نہیں۔ ایک فتوے میں ایک خاتون کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ اپنے شرابی اور بدکار شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرسکتی ہے۔متعدد فتووں میں بتایا گیا ہے کہ ایامِ حیض میں نماز، روزہ اور طواف بیت اللہ جیسی عبادت کی ممانعت ہے۔شیر خوار بچہ قے کر دے تو لباس ناپاک نہیں ہوتا۔ جو عزیز رشتہ دار نماز نہیں پڑھتے ان سے حسن سلوک کی تاکید کی گئی ہے ۔ روزے میں مسواک یا ٹوتھ برش کرنے سے کوئی حرج نہیں۔ ایک فتوے میں بتایا گیا ہے کہ کوئی خاتون کتنی ہی پڑھی لکھی ہو، مردوں کی امامت کرانے کی مجاز نہیں۔ ایک خاتون گھر میں اکیلی ہے، نماز پڑھ رہی ہے، دروازے پر مہمان آگیا، اس نے گھنٹی بجائی، اب یہ خاتون کیا کرے؟ اس سوال کا دلچسپ حکیمانہ جواب دیا گیا ہے۔ جو خاتون باریک دوپٹہ اوڑھ کر نماز پڑھے، اس کےلئے کیا حکم ہے۔ کسی خاتون کے پاس زیورات ہوں یا صرف سوناہو، اُس پر ادائے زکاة کے ضروری احکام بتائے گئے ہیں۔
    کتاب میں بتایا گیا ہے کہ طیارے کے سفر میں نماز کا وقت آجائے اس دوران نماز فوت ہونے کا اندیشہ ہوتو کیا کیا جائے؟ٹیلی فون پر لائن کے دوسری طرف کوئی نامحرم مرد بول رہا ہو تو اُسے جواب دیا جائے یا نہ دیا جائے ؟ ۔ بعض بیگمات کثرتِ اولاد پسند نہیں کرتیں، کیا وہ مانع حمل گولیاں کھا سکتی ہیں یا نہیں؟ مسلمان باورچی نہیں مل رہاکیا ایسی صورت میںغیر مسلم باورچی کھانا پکانے کےلئے رکھا جاسکتا ہے یا نہیں ؟ شادی کے بعد دولھا میاں کے ساتھ ہنی مون منانے کے لیے سفر و سیاحت پر جاناکیسا ہے؟ ۔
    ایک فتوے میں بتایا گیا ہے کہ شوہر فوت ہو جائے توکیا بیوی غسل دے سکتی ہے؟ اسی طرح بیوی وفات پا جائے توکیا شوہر غسل دے سکتا ہے؟۔کتاب میں یہ بھی واضح کردیا گیا ہے کہ اللہ نہ کرے کوئی مسلمان خود کشی کرلے توکیا اسے بھی غسل دیا جائے گا اور مسنون طریقے کے مطابق تجہیز و تکفین کی جائے گی ؟ ۔ کتاب میں ایک ایسی خاتون کے شوہر کی بے حسی کی داستان سنائی گئی ہے جو اگر چہ نمازی ہے لیکن اس نے بیوی کو فراموش کررکھا ہے۔ کوئی عزیز رشتہ دار آجائے تو ان کے سامنے بیوی کا مذاق اڑاتاہے اس مسئلے کا جو دانشمندانہ حل بتایا گیا ہے وہ غافل شوہروں کی اصلاح کی بہترین تدبیر ہے۔اسی طرح بعض نیک طبع شادی شدہ نوجوان لڑکیوں کو ازدواجی امور کے سلسلے میں کچھ ایسے سوالات کے جوابات دیے گیے ہیںجو ہر شادی شدہ خاتون کو پڑھنا چاہئیں تاکہ وہ عائلی زندگی کے دوران آسانی سے نماز کا التزام، روزے کی حفاظت اور جملہ عبادات کا اہتمام کر سکیں۔ کتاب میں بعض قابل رحم بدقسمت لڑکیوں کی طرف سے دل و نگاہ کے معاملات پیش کیے گئے ہیں اور اپنی خطا کا اعتراف کرتے ہوئے تلافی کا طریقہ پوچھا گیا ہے۔ ان کے جو سبق آموز اور ایمان افروز جوابات دیے گئے ہیں وہ پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں ۔اسی طرح جو خواتین حیا کے بوجھ سے دبی رہتی ہیں، شرم اور جھجک کی وجہ سے نازک مسائل زبان پر نہیں لاتیں، یہ کتاب ان کی نارسا آوازوں کا جواب ہے۔اس کتاب کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ کسی ایک فرد واحد کی کاوش نہیں بلکہ مفتی اعظم سعودی عرب الشیخ عبدالعزیز بن باز مرحوم ، الشیخ مفتی محمد بن صالح العثمین ،الشیخ مفتی عبداللہ بن عبدالرحمن الجبرین اور دارالافتاءکمیٹی سعودی عرب کے دیگر جید علما کے جوابات پر مشتمل ہے جس سے اس کتاب کی علمی وتحقیقی افادیت کئی گنا بڑھ گئی ہے ۔کتاب کا ترجمہ مولانا جاراللہ ضیا نے کیا ہے۔ افادیت اور اہمیت کے اعتبار سے اس کتاب کا ہر گھر میں ہونا اور اس کا مطالعہ ہر مسلمان خاتون کےلئے بے حد ضروری ہے

  • رشتہ کرنے سے پہلے …تحریر:ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

    رشتہ کرنے سے پہلے …تحریر:ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

    وقت آ گیا ہے کہ …
    رشتہ کرنے سے پہلے ان نقاط پہ بات کی جائے ۔
    بیٹے یا بیٹی کی تعلیم کتنی ہے اور اسکے کیا عزائم ہیں ؟
    اگر بیٹا/ بیٹی نوکری کرتے ہیں تو کونسی ؟ کہاں ؟
    موڈ کے معاملات کیا ہیں ؟ پرجوش؟ شوخ گفتار ؟ کم گو؟
    طبعیت؛
    حساس ؟ ریزروڈ ؟ شکی ؟
    فطرت؛ ملنسار؟ ہنس مکھ؟ سڑیل ؟ مغرور؟ باعتماد ؟ احساس کمتری؟ متجسس؟
    شوق؟ کتابیں؟ فلمیں ؟ دوست
    دونوں کہاں رہیں گے ؟ علیحدہ ؟ کمبائنڈ فیملی سسٹم ؟
    اگر کوئی ایک غیر ملک میں رہتا ہے تو کیا دوسرا اس کے ساتھ جائے گا؟
    شادی کے بعد کیرئر اور مزید تعلیم حاصل کرنے کے مسائل کیسے حل کیے جائیں گے ؟
    اگر دونوں کماؤ ہیں تو کونسی ذمہ داری کس کی ہو گی ؟
    بچہ کب پیداکرنا چاہیں گے ؟ ( ہم کچھ لوگوں کو جانتے ہیں جن کے درمیان علیحدگی اس بات پہ ہوئی کہ ایک فریق بچہ پیدا نہیں کرنا چاہتا تھا )
    اگر بانجھ پن کے مسائل ہوئے تو ان سے کیسے نمٹا جائے گا ؟
    اگر کسی ایک نے دوسرے کو دھوکا دیا تب کیا حل نکالا جائے گا ؟ ( غیر ازدواجی تعلقات ، بنا بتائے دوسری شادی، رقم کا استعمال )
    اگر گھر میں لڑائی جھگڑے کے مسائل ہیں تو ان پہ فریقین کیسے بات کریں گے ؟
    کیا بیوی کو ہر بات میں شوہر کی اجازت درکار ہو گی؟
    فریقین کا اپنے اپنے خاندان کے ساتھ کس حد تک ربط ضبط ہو گا ؟
    اگر کسی ایک کو کوئی بیماری ہے تو کیا دوسرے فریق کو اس کے بارے میں علم ہے ؟ ( کچھ واقعات میں بیماری دوسرے فریق سے پوشیدہ رکھی جاتی ہے )
    والدین اور بہن بھائیوں کے مالی مسائل کی صورت میں شوہر کس حد تک ان کی مدد کرے گا ؟ سسرال کی توقعات کیا ہیں ؟
    کیافریقین جوائنٹ اکاؤنٹ کھولیں گے اور اس کو استعمال کرنے کا حق دونوں کا ہو گا ؟
    طلاق اور خلع کے معاملات کیسے حل کیے جائیں گے ؟
    شادی ایک معاہدہ ہے اور اس کا کنٹریکٹ ایسے ہی طے کریں جیسے کوئی بھی اور معاہدہ کرتے ہیں
    بیٹیوں کا مقدر خدا نے مرنا، قتل ہونا اور تباہ حال زندگی گزارنا نہیں لکھا_
    ایسا آپ کرتے ہیں
    ڈاکٹر طاہرہ کاظمی