Baaghi TV

Category: بلاگ

  • رویوں کا ادراک .تحریر:عینی ملک

    رویوں کا ادراک .تحریر:عینی ملک

    دو سال پہلے، جب بھی کوئی میری پوسٹ پر تضاد بھرا کمنٹ کرتا، تو میں فوراً دل برداشتہ ہو جاتی تھی۔ میرے ذہن میں بار بار یہ سوال آتا کہ آخر میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ میں خود کو مظلوم اور بےچارہ تصور کرتی، جیسے دنیا نے میرے خلاف کوئی سازش کر رکھی ہو۔ ہر منفی تبصرہ میرے دل کو گہرائی تک زخمی کر دیتا، اور میں گھنٹوں یہی سوچتی رہتی کہ شاید مجھ میں ہی کوئی کمی ہے۔

    پھر ایک وقت آیا جب میں نے ان چیزوں کو گہرائی سے دیکھنا شروع کیا۔ میں نے محسوس کیا کہ یہاں موجود ہر انسان کی سوچنے، سمجھنے اور شعور کی سطح مختلف ہے۔ کچھ لوگ اپنے حالات سے ستائے ہوئے ہیں، کچھ اپنی خوشی کا اظہار کرنا چاہتے ہیں، اور کچھ بس دوسروں کو نیچا دکھانے یا ان کی باتوں میں خامیاں نکالنے میں خوشی محسوس کرتے ہیں۔

    اسی دوران، میں نے ایک اور دلچسپ رویہ نوٹ کیا۔ بعض لوگ بے تُکی بات پر بھی واہ واہ کر کے چلے جاتے ہیں، جیسے انہوں نے کسی بات پر غور کیے بغیر ہی تعریف کرنا اپنی عادت بنا لی ہو۔ کبھی کبھی ان کی یہ تعریف مصنوعی لگتی تھی، اور کبھی یہ احساس ہوتا کہ شاید وہ محض اپنی موجودگی کا احساس دلانے کے لیے ایسا کر رہے ہیں۔

    یہ سب دیکھ کر میں نے یہ جانا کہ لوگوں کے رویے اور ان کے ردعمل اکثر ان کی اپنی شخصیت، مزاج، یا حالات کا عکس ہوتے ہیں، نہ کہ میری بات یا میری شخصیت کا۔ تب میں نے یہ فیصلہ کیا کہ میں دوسروں کے تبصروں کو اپنے دل پر لینے کے بجائے، ان پر غور کیے بغیر آگے بڑھوں گی۔

    یہ شعور حاصل کرنا میرے لیے ایک طاقتور سبق تھا۔ میں نے سیکھا کہ اپنی زندگی کی خوشی اور سکون کو دوسروں کی رائے سے مشروط نہیں کرنا چاہیے۔ اب میں جانتی ہوں کہ دنیا کی رنگا رنگی اور لوگوں کے مختلف رویے اس دنیا کی خوبصورتی ہیں، اور ہمیں بس اپنے راستے پر اعتماد اور سکون کے ساتھ چلتے رہنا چاہیے۔اور اچھے لوگوں کی رائے کو اہمیت دینا چاہیے۔

  • بنوں حملہ، قومی اتحاد اور یکجہتی وقت کی اہم ضرورت

    بنوں حملہ، قومی اتحاد اور یکجہتی وقت کی اہم ضرورت

    بنوں کے علاقے میں پیش آنے والے المناک حملے نے پورے ملک کو سوگ میں مبتلا کر دیا۔ اس دلخراش واقعے میں 12 بہادر جوان شہید ہو گئے، جو ملک و ملت کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز ہوئے۔فتنہ الخوارج کی دہشت گردانہ کاروائیاں بیرونی دشمنوں کی آشیرباد سے ہو رہی ہیں، فتنہ الخوارج کے بڑھتے حملوں کو روکنے اور انکی سازشوں کو ناکام کرنے کے لئے پھر سے آپریشن ضرب عضب ،رد الفساد کی ضرورت ہے،کسی قسم کی نرمی ان دہشت گردوں اور انکے حامیوں کے خلاف نہیں ہونی چاہئے جو ملکی سلامتی کے دشمن ہیں اور آئے روز خیبر پختونخوا و بلوچستان میں حملے کر رہے ہیں.

    بنوں میں شہید ہونے والے جوان ہمارے اصل ہیرو ہیں جنہوں نے اپنی زندگیاں مادر وطن کی حفاظت کے لیے وقف کر دی تھیں۔ ان کا عزم اور قربانی ہماری آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ ہیں۔ دشمن کی بزدلانہ کارروائیاں ہمارے بہادر سپاہیوں کے حوصلے پست نہیں کر سکتیں۔بنوں حملے میں شہید ہونے والے جوان صرف ایک ادارے کے سپاہی نہیں بلکہ پوری قوم کے سپوت ہیں۔ ان کی قربانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ملک کی حفاظت صرف افواج کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ پوری قوم کا فرض ہے۔ ہمیں متحد ہو کر ان عناصر کا مقابلہ کرنا ہوگا جو امن و امان کو تباہ کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔ہم سب پر یہ اخلاقی فرض عائد ہوتا ہے کہ ہم ان شہداء کے خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہوں، ان کے غم کو بانٹیں اور انہیں یقین دلائیں کہ ان کے پیاروں کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کو بھی چاہیے کہ وہ شہداء کے خاندانوں کو ہر ممکن امداد فراہم کریں تاکہ ان کے لیے زندگی کے مسائل آسان ہو سکیں۔

    بنوں میں دہشت گردوں کا بزدلانہ حملہ ہمیں اس بات کا احساس دلاتا ہے کہ قومی اتحاد اور یکجہتی وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ دشمن کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے ہمیں مذہبی، سیاسی اور معاشرتی اختلافات کو پس پشت ڈال کر ایک قوم بننا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ان شہداء کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے خاندانوں کو صبر و حوصلہ دے۔ ساتھ ہی یہ امید بھی رکھتے ہیں کہ قوم ان قربانیوں کو یاد رکھتے ہوئے ایک مضبوط اور خوشحال پاکستان کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرے گی۔شہیدوں کی قربانیوں کا یہ پیغام ہمیشہ زندہ رہے گا کہ "ہم زندہ قوم ہیں۔”

  • مقام فیض کوئی راہ میں جچا ہی نہیں

    مقام فیض کوئی راہ میں جچا ہی نہیں

    مقام فیض کوئی راہ میں جچا ہی نہیں
    جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے

    فیض احمد فیض.20 نومبر 1984: یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    فیض کی شاعرانہ قدر و قیمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کا نام غالب اور اقبال جیسے عظیم شاعروں کے ساتھ لیا جاتا ہے ان کی شاعری نے ان کی زندگی میں ہی سرحدوں، زبانوں، نظریوں اور عقیدوں کی حدیں توڑتے ہوے عالمگیر شہرت حاصل کر لی تھی جدید اردو شاعری کی بین الاقوامی شناخت انہی کی مرہون منت ہے ان کی آواز دل کو چھو لینے والے انقلابی نغموں، حسن و عشق کے دلنواز گیتوں،اور جبر و استحصال کے خلاف احتجاجی ترانوں کی شکل میں اپنے عہد کے انسان اور اس کے ضمیر کی مؤثر آواز بن کر ابھرتی ہے فیض 13/فروری 1912ء کو پنجاب کے ضلع نارووال کی اک چھوٹی سی بستی کالاقادر (اب فیض نگر) کے اک فارغ البال علمی گھرانے میں پیداہوئے ان کے والد محمد سلطان خاں بیرسٹر تھے فیض کی ابتدائی تعلیم مشرقی انداز میں شروع ہوئی اور انھوں نے قرآن کے دو پارے بھی حفظ کئے پھر عربی فارسی کے ساتھ انگریزی تعلیم پر بھی توجہ دی گئی فیض نے عربی اور انگریزی میں ایم ۔اے کی ڈگریاں حاصل کیں گورنمنٹ کالج لاہور میں دوران تعلیم فلسفہ اور انگریزی ان کے خاص مضامین تھے اس کالج میں ان کو احمد شاہ بخاری "پطرس” اور صوفی غلام مصطفی تبسم جیسے استاد اور مربی ملے تعلیم سے فارغ ہو کر 1935ء میں فیض نے امرتسر کے محمڈن اورینٹل کالج میں بطورلیکچرر ملازمت کر لی یہاں بھی انھیں اہم ادیبوں اور دانشوروں کی صحبت ملی جن میں محمد دین تاثیر، صاحبزادہ محمود الظفر اور ان کی اہلیہ رشید جہاں سجّاد ظہیراور احمد علی جیسے لوگ شامل تھے 1941ء میں فیض نے ایلس کیتھرین جارج سے شادی کر لی یہ تاثیر کی اہلیہ کی چھوٹی بہن تھیں جو 16 سال کی عمر سے برطانوی کمیونسٹ پارٹی سے وابستہ تھیں۔شادی کی سادہ تقریب سرینگر میں تاثیر کے مکان پر منعقد ہوئی نکاح شیخ عبداللہ نے پڑھایا مجاز اور جوش ملیح آبادی نے تقریب میں شرکت کی,1977ء جنرل ضیاءالحق نے بھٹو کا تختہ الٹا تو فیضٓ کے لئے پاکستان میں رہنا ناممکن ہوگیا ان کی سخت نگرانی کی جا رہی تھی اور کڑا پہرہ بٹھا دیا گیا تھا ایک دن وہ ہاتھ میں سگرٹ تھام کر گھر سے یوں نکلے جیسے چہل قدمی کے لئے جا رہے ہوں اور سیدھے بیروت پہنچ گئے اس وقت فلسطینی تنظیم آزادی کا مرکز بیروت میں تھا اور یاسر عرفات سے ان کا یارانہ تھا بیروت میں وہ سوویت امداد یافتہ رسالہ "لوٹس” کے مدیر بنا دئے گئے 1982ء میں ، خرابیٔ صحت اور لبنان جنگ کی وجہ سے فیض پاکستان واپس آ گئے وہ دمہ اور لو بلڈ پریشر کے مریض تھے 1964ء میں انھیں ادب کے نوبیل انعام کے لئے نامزد کیا گیا تھا لیکن کسی فیصلہ سے پہلے 20/نومبر 1984ء کو ان کا انتقال ہوگیا فیض مجموعی طور پر اک عام ادیب و شاعر سے بہتر زندگی گزاری وہ ہمیشہ لوگوں کی محبت میں گھرے رہے وہ جہاں جاتے لوگ ان سے دیوانہ وار پیار کرتے اپنی ادبی خدمات کے لئے فیض کو بین الاقوامی سطح پر جتنا سراہا اورنوازا گیا اس کی کوئی مثال نہیں ملتی 1962ء میں سوویت یونین نے انہیں لینن امن انعام دیا جو اس وقت کی ذوقطبی دنیا میں نوبیل انعام کا بدل تصور کیا جاتا تھا۔ اپنی موت سے کچھ عرصہ پہلے ان کو نوبیل انعام کے لئے بھی نامزد کیا گیا تھا 1976ء میں ان کو ادب کا لوٹس انعام دیا گیا 1990ء میں حکومت پاکستان نے ان کو ملک کے سب سے بڑے سویلین ایوارڈ”نشان امتیاز” سے نوازا پھر 2011ء کو ” فیض کا سال” قرار دیا فیضٓ کی تصانیف میں نقش فریادی ،دست صبا، زنداں نامہ، دست تہ سنگ،سر وادی ٔسینا، شام شہر یاراں اور میرے دل مرے مسافر کے علاوہ نثر میں میزان، صلیبیں مرے دریچے میں اور متاع لوح و قلم شامل ہیں انھوں نے دو پاکستانی فلموں جاگو سویرا اور دور ہے سکھ کا گاؤں کے لئے گیت بھی لکھے اور ہندوستانی پروڈیوسر ڈایرکٹر ایکٹر منوج کمار نے ان کی ایک غزل کو اپنی فلم "پینٹر بابو” میں 1989ء میں شامل کیا جس کو فیضٓ صاحب نے منوج کمار کو دوستی میں بطور تحفہ لکھ کردی تھیں ، فیضٓ احمد فیضٓ اور ایلس کی مشترکہ تخلیقات میں ان کی دو بیٹیاں سلیمہ اور منیزہ ہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    چند منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہم پرورش لوح و قلم کرتے رہیں گے
    جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلے
    چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ہر چارہ گر کو چارہ گری سے گریز تھا
    ورنہ ہمیں جو دکھ تھے بہت لا دوا نہ تھے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ہم سے کہتے ہیں چمن والے غریبان چمن
    تم کوئی اچھا سا رکھ لو اپنے ویرانے کا نام
    ۔۔۔۔۔۔۔
    یہ جفائے غم کا چارہ وہ نجات دل کا عالم
    ترا حسن دست عیسیٰ تری یاد روئے مریم
    ۔۔۔۔۔۔۔
    جب تجھے یاد کر لیا صبح مہک مہک اٹھی
    جب ترا غم جگا لیا رات مچل مچل گئی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اب جو کوئی پوچھے بھی تو اس سے کیا شرح حالات کریں
    دل ٹھہرے تو درد سنائیں درد تھمے تو بات کریں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    یہ عہد ترک محبت ہے کس لیے آخر
    سکون قلب ادھر بھی نہیں ادھر بھی نہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
    راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
    ۔۔۔۔۔۔۔
    مقام فیض کوئی راہ میں جچا ہی نہیں
    جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے .
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش ، ترتیب و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • ڈومیسٹک ٹورازم / گھریلو سیاحت کا فروغ، ذرائع آمدن میں اضافہ اور ضلع راجن پور کا کوہ ماڑی

    ڈومیسٹک ٹورازم / گھریلو سیاحت کا فروغ، ذرائع آمدن میں اضافہ اور ضلع راجن پور کا کوہ ماڑی

    ڈومیسٹک ٹورازم / گھریلو سیاحت کا فروغ، ذرائع آمدن میں اضافہ اور ضلع راجن پور کا کوہ ماڑی

    تحریر: ملک خلیل الرحمن واسنی، حاجی پور شریف

    ضلع راجن پور کا علاقہ پچادھ، جو کوہ سلیمان کے قبائلی دامن میں واقع ہے، پنجاب اور بلوچستان کے بارڈر کے درمیان اسلام آباد کے مری اور ڈی جی خان کے فورٹ منرو کی طرز پر قدرتی حسن اور ٹھنڈک سے بھرپور ایک تاریخی و ثقافتی مقام ہے۔ یہ خطہ ہمیشہ نظرانداز کیا جاتا رہا، حالانکہ سابق وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے 2021 میں یہاں کروڑوں روپے کے فنڈز مختص کیے تھے تاکہ کوہ ماڑی کی ترقی اور تعمیرات کی جا سکیں۔ مگر بدقسمتی سے 2024 تک یہاں کوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں ہوئی۔ پورا انفراسٹرکچر تباہ ہو چکا ہے اور علاقے میں بنیادی سہولتوں کا شدید فقدان ہے، جبکہ لوگ جدید دور کے باوجود پتھر کے دور کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

    حکومت کی جانب سے وسائل اور آمدنی میں اضافے کی بات کی جاتی ہے، مگر اگر تھوڑی سی توجہ، محنت، ایمانداری اور خلوص نیت سے کام کیا جائے تو بہت کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور حکومتی اشتراک سے نہ صرف حکومت کی آمدنی میں اضافہ ممکن ہے، بلکہ یہاں کے عوام کی زندگی اور معاشی ترقی میں بھی بڑی تبدیلی آ سکتی ہے۔ یہ علاقہ تمام قبائل کا ہے، چاہے وہ لغاری، مزاری، دریشک، گورچانی سردار ہوں یا دیگر مقامی قبائل، ترقی سب کی مشترکہ کوشش ہے، نہ کہ صرف کسی ایک قبیلے یا فرد کی۔

    سابق وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے بھی اس علاقے کی پسماندگی پر بات کی تھی، مگر ان کے دور میں کوئی عملی پیش رفت نہیں ہوئی۔ اس کے بعد سے بھی حکومتوں میں تبدیلیاں آئیں، مگر کوہ ماڑی کی حالت میں کوئی تبدیلی نہ آئی۔ حالانکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے حکومتی اتحادی، ایم پی اے تمن گورچانی، اور دیگر منتخب نمائندگان موجود ہیں، جنہوں نے اس علاقے کی ترقی کے لیے اپنی کوششیں کی ہیں۔ پھر بھی کوہ ماڑی کو تحصیل یا سیاحتی مقام کا درجہ نہیں مل سکا، نہ ہی یہاں کیڈٹ کالج کا قیام عمل میں آیا، حالانکہ پنجاب کے دیگر علاقوں میں سیاحت کے فروغ کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

    حال ہی میں شفقت اللہ مشتاق ڈپٹی کمشنر ضلع راجن پور نے کوہ ماڑی کا دورہ کیا اور ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیا جو کہ ایک خوش آئند اقدام ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اگر کوہ سلیمان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا دائرہ کار مزید وسیع کیا جائے یا کوہ ماڑی ڈویلپمنٹ اتھارٹی قائم کی جائے تو یہ علاقہ بھی ترقی یافتہ علاقوں کی صف میں شامل ہو سکتا ہے۔ قدرتی حسن، آبشاروں، جھیلوں، پہاڑوں کی بلند و بالا چوٹیوں اور خوبصورت مناظرات سے مالا مال یہ علاقے گھریلو سیاحت کے لیے بہترین ہیں۔

    اگر شفقت اللہ مشتاق ڈپٹی کمشنر ضلع راجن پور ذاتی طور پر اس منصوبے میں دلچسپی لیں تو ضلع راجن پور کی محرومیوں کا ازالہ ممکن ہو سکتا ہے۔ ماڑی کیڈٹ کالج کا قیام، سیاحتی مقام کا درجہ، اور یہاں ایک بہترین سینی ٹوریم کا قیام بھی ممکن ہو سکتا ہے، جو کہ نہ صرف لوگوں کی خدمت بلکہ ایک نیک عمل بھی ہوگا۔ اس کے علاوہ، اندرون ملک اور بیرون ملک سے سیاحوں کی آمد کو بھی فروغ ملے گا، اور اس علاقے کے عوام کی معاشی حالت میں بہتری آ سکتی ہے۔ یہ اقدام ایک گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے، ان شاء اللہ
    جو کہ مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں۔

  • مردوں کے عالمی دن پر میری زندگی کے تین مردوں کو خراج تحسین۔ تحریر:عینی ملک

    مردوں کے عالمی دن پر میری زندگی کے تین مردوں کو خراج تحسین۔ تحریر:عینی ملک

    یہ سچ بات ہے مردوں کے صرف پیدا ہونے کی خوشی منائی جاتی
    اسکے بعد وہ ذمہ داریوں کے بوجھ اتارنے میں جت جاتا ہے

    دنیا میں کچھ رشتے ایسے ہوتے ہیں جو زندگی کو نہ صرف سنوار دیتے ہیں بلکہ ایک مضبوط سہارا بھی بنتے ہیں۔ مردوں کے عالمی دن پر میں ان تین اہم مردوں کو خراج تحسین پیش کرنا چاہتی ہوں جنہوں نے میری زندگی کو ایک خاص معنی دیا۔میرے بابا جان، بھائی، اور شوہر نے میری زندگی کو پرآسائیش اور خوشحال بنانے کے لیے جو محنت کی ہے، وہ الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ بابا جان نے اپنی جوانی اور آرام میری تعلیم و تربیت کے لیے وقف کر دیا، دن رات محنت کی تاکہ مجھے کسی کمی کا احساس نہ ہو۔

    میرے بھائی نے ہمیشہ اپنی خواہشات کو میری ضروریات پر ترجیح دی، میرے لیے سہولتیں پیدا کرنے کے لیے خود مشکلات اٹھائیں۔ میرے شوہر نے بھی اپنی زندگی کا ہر لمحہ اس یقین کے ساتھ محنت کرتے گزار رہے ہیں کہ مجھے ایک محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کر سکیں۔

    میرے بابا جان ، ملک محمد خالد میری زندگی کے سب سے پہلے ہیرو ہیں۔ ان کی محبت بے غرض اور ان کا سایہ ہمیشہ میری حفاظت کرتا رہا۔ انہوں نے نہ صرف مجھے زندگی کے اصول سکھائے بلکہ میری ہر مشکل وقت میں رہنمائی بھی کی۔ ان کی دعاؤں کا اثر میری کامیابیوں کی بنیاد ہے۔مولا انکی قبر میں اندھیرا نہ
    رکھنا انکی روح کو جنت میں ایک گھر عطا فرمانا الہی آمین۔

    دوسرے اہم مرد میرے بڑے بھائی نے ہمیشہ ایک دوست اور محافظ کا کردار نبھایا۔ وہ ہر وقت میرے ساتھ کھڑے رہے، چاہے معاملہ چھوٹا ہو یا بڑا۔ ان کے ساتھ گزرے لمحے میری زندگی کی سب سے حسین یادیں ہیں۔ بھائی میرے لیے ایک ایسا سہارا ہیں جس کو جب بھی ضرورت پڑے بلا جھجک آواز دے سکتی ہوں۔

    اور تیسرے میرے شوہر میری زندگی کا وہ حصہ ہیں جو میری خوشیوں اور غموں کے برابر کے شریک ہیں۔ ان کا پیار، خلوص اور رفاقت میری زندگی کا بے بیش قیمت اثاثہ ہیں۔ وہ نہ صرف میرے ہمسفر ہیں بلکہ میرے سب سے بڑے حوصلہ بڑھانے والے بھی ہیں اور مجھ پر اعتماد کرنے والے بھی ہیں

    یہ تینوں مرد میرے لیے طاقت، شفقت ، وفا، محبت اور رہنمائی کا مظہر ہیں۔ آج کے دن میں ان کا شکریہ ادا کرتی ہوں کہ انہوں نے میری زندگی کو اتنا خوبصورت بنایا۔ میری دعائیں ہمیشہ ان کے ساتھ ہیں۔

  • نواز شریف ، اسحاق ڈار کا معاشی استحکام میں اہم کردار، تجزیہ : شہزاد قریشی

    نواز شریف ، اسحاق ڈار کا معاشی استحکام میں اہم کردار، تجزیہ : شہزاد قریشی

    امریکہ کے نومنتخب صدر ٹرمپ امریکی معیشت جو پہلے ہی مستحکم ہے وہ امریکی معیشت کو مزید مستحکم کرنے پر زور دیتے رہے الیکشن کے دوران وہ امریکی عوام کو مزید خوشحال بنانے روزگار کے مواقع فراہم کرنے پر زور دیتے دنیا کی سپر پاور کے صدر ٹرمپ جانتے ہیں کہ اگر امریکہ معاشی مستحکم ہوگا تو وہ دنیا پر حکمرانی کر سکیں گے۔ پاکستان میں نوازشریف کو جب بھی اقتدار ملا ان کی توجہ کا مرکزملکی معیشت ہی رہی آپ نوازشریف سے سیاسی اختلافات کر سکتے ہیں ایسا بھی نہیں کہ نوازشریف کسی ولی یا فرشتے کا نام ہے تاہم ان کی توجہ کا مرکز ملکی معیشت کے ساتھ ہے۔ بیروزگاری کے خاتمے، نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے پاکستان کے عوام کے لئے جدید سہولتیں فراہم کرنے ، جس میں موٹر ویز جدید ایئرپورٹ اور بہت سے میگا پراجیکٹ شامل ہیں موجودہ وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کا معیشت کو مستحکم کرنے میں بڑا کردار رہا۔ نوازشریف کے دور حکومت میں معیشت کو ملکی اور بین الاقوامی ماہرین اقتصادیات بھی سراہتے رہے لیکن بدقسمتی سے ان کی حکومت کے خلاف ملک کے اندر ایسی ایسی سازشیں ہوئیں ترقی کرتا پاکستان دوبار کمزور معیشت کی حذف جانے لگا اور عوام کے لئے بنیادی مسائل کھڑے ہوتے رہے۔ نوازشریف کے دور حکومت میں ایک وقت ایسا بھی آیا کہ پاکستان عالمی مالیاتی اداروں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے قریب پہنچ چکا تھا۔ پھر ہنستے بستے عوام اور پاکستان کی مضبوط ترین معیشت کو کمزور کرنے اور نوازشریف کی حکومت کیخلاف دھرنوں کاآغاز ہوا عالمی دین طاہر القادری اور عمران خان کی شکل میں جلسے جلوس دھرنے دیئے گئے اس وقت کی عدلیہ کے ججوں نے اہم کردار ادا کیا اور مستحکم معیشت کے حامل پاکستان اور عوام ایک بار پھر کھائی میں جاگرے تادم تحریر پاکستان کی معیشت مستحکم نہ ہو سکی جس کا خمیازہ پاکستان بطور ریاست اور عوام بھگت رہے ہیں موجودہ امریکی الیکشن میں معیشت سب سے اہم موضوع تھا۔ بدقسمتی سے پاکستان کی عوام کو گمراہ کردیا گیا نوازشریف کو جب جب اقتدار ملا انہوں نے اپنی توجہ معیشت پر دی آج امریکی صدر کی توجہ بھی معیشت پر ہے جنگوں پر نہیں سوال یہ ہے کہ چند لوگوں نے اپنی ذاتی خواہشات کی تکمیل کی خاطر پاکستان کے مفادات کو پس پشت کیوں ڈال دیا؟-

    (تجزیہ شہزاد قریشی)

  • اے ذوق کسی ہمدمِ دیرینہ کا ملنا۔۔۔تحریر:راحت عائشہ

    اے ذوق کسی ہمدمِ دیرینہ کا ملنا۔۔۔تحریر:راحت عائشہ

    بک فئیر کراچی ، لاہور ، اسلام آباد ہو یا کراچی آرٹس کونسل کا پروگرام ہمیں پکا یقین ہوتا ہے کوئی نہ کوئی جاننے والا تو ضرور ملے گا ہی۔۔ اور ان جگہوں پر ہی اپنے بیشتر ادبی احباب سے ملاقات ہوجاتی ہے ۔ لیکن شارجہ بک فئیر جاتے ہوئے ایسا کوئی خیال نہیں تھا کیونکہ یہاں ابھی ہمارے کوئی جاننے والے ہی نہیں ہیں۔ پھر بھی ہم نے احتیاطاً اپنی کتابوں کی منی کی چین رکھ لی تھیں کہ شاید کوئی مل ہی جائے۔
    جب ہم ایکسپو ،بک فئیر پہنچے تو گاڑیوں کی لمبی قطاریں بتا رہی تھیں کہ یہاں کوئی پارکنگ نہیں ہے۔۔ دوبارہ پلٹ کر گئے اور کافی دور گاڑی کھڑی کر کے پھر وہاں سے پیدل چلتے ہوئے سیدھے ہال نمبر سات کے اسٹال زیڈ سات پر پہنچے۔ وہاں سرمد صاحب کے ساتھ ان کے چچا اور صبا اسلم صاحبہ بھی ان کی معاونت کے لیے موجود تھیں۔ سرمد صاحب سے تو ایک ملاقات پہلے بھی ہوچکی تھی انہوں نے فوراً ہی پہچان لیا۔ اپنے اسٹال پر موجود احباب اور اپنی کتابوں سے تعارف کروایا ۔۔ اتنے میں ایک صاحب اور آئے اور کتابیں خریدنے لگے۔ ہم حسب عادت کتابوں کو دیکھنے اور ان پر زور و شور سے تبصرے فرما رہے تھے ۔ یہاں تک کہ کچھ دیر بعد ان صاحب نے خود ہی ہم سے فرمایا اچھا تو آپ کی یہ کتابیں ہیں اور آپ راحت عائشہ ہیں۔
    جی۔۔۔ ہم نے جواب دیا۔
    میرا نام عمران مشتاق ہے۔ انہوں نے بتایا اور ہم سچ مچ اچھل پڑے۔
    ہائیں۔۔۔! یہ ہماری ڈاکٹر عمران مشتاق سے ہرگز پہلی ملاقات نہیں تھی۔۔ کراچی میں بھی ملاقات ہوچکی ہے لیکن کیا کریں کہ ہم سے اکثر چہرے گڈ مڈ ہو جاتے ہیں ۔ اور پھر ڈاکٹر صاحب انگلینڈ میں ہوا کرتے تھے ۔ اب وہ بھی دبئی شفٹ ہو گئے ہیں۔ سچ مچ بہت شرمندگی ہوئی ۔ لیکن ہمیں لگا وہ بھی کافی دبلے ہوگئے ہیں اس لیے نہ پہچاننے کی ساری ذمہ داری ہم ان کے مزید اسمارٹ ہونے پر ڈال کر بری الذمہ ہونے کی اپنی سی کوشش کی۔۔۔

    ڈاکٹر صاحب کا شمار بہترین لکھنے والوں میں ہوتا ہے ۔ یوں تو وہ نفسیات کے ڈاکٹر ہیں۔ اور شاید اسی لیے وہ سوشل میڈیا سے دور رہتے ہیں۔ ان سے اچانک ملاقات پر دل باغ باغ ہوگیا ۔ ہمیں بے اختیار وہ شعر یاد آیا۔۔۔
    اے ذوق کسی ہمدمِ دیرینہ کا ملنا۔۔۔
    بہتر ہے ملاقات خضر و مسیحا سے۔۔۔
    (اگر چہ ہمیں اس کے دوسرے مصرعے پر کافی ابہام ہیں۔ آپ کیا کہتے ہیں؟ )
    ہم نے انہیں اپنی منی سی کتاب کی کی چین تحفتاً پیش کی جو انہیں بہت اچھی لگی۔۔۔ پھر ہم نے اپنی کتابوں کے ساتھ ایک یادگار تصویر بنوائی جس میں سرمد صاحب اور ڈاکٹر صاحب نے بھی ہماری کتاب پکڑی ہوئی ہے ۔
    الحمدللہ زندگی کا ایک اور اچھا ، خوبصورت اور یادگار دن

  • پراکسی جنگوں کا فن

    پراکسی جنگوں کا فن

    پراکسی جنگوں پر بڑھتے ہوئے انحصار نے بڑے پیمانے پر تشویش پیدا کی ہے، خاص طور پر جب مغربی ممالک داعش کے خلاف جنگ میں براہِ راست مداخلت کے بجائے معتدل شامی باغیوں اور کرد پیشمرگہ کو ہتھیار، فنڈز، اور وسائل فراہم کر رہے ہیں۔ اسی طرح، 2014 میں روس کی جانب سے کریمیا کے الحاق نے مغربی رہنماؤں کو پریشان کیا، جنہیں خدشہ تھا کہ ماسکو علاقائی بالادستی حاصل کرنے کے لیے چالاک مگر جارحانہ حکمت عملی اختیار کر رہا ہے۔ مشرقی یوکرین میں اہم علاقوں پر قبضہ کرنے والے روسی "رضاکار”، جن کے بارے میں صدر پیوٹن کا دعویٰ تھا کہ وہ ریاست سے غیر منسلک ہیں، ان خدشات کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔

    یہ حکمت عملی سن زو کی کتاب دی آرٹ آف وار کے اصولوں کی عکاسی کرتی ہے، جو براہِ راست جنگ کے بجائے کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر جیتنے کی وکالت کرتی ہے۔ ناقدین اکثر بالواسطہ جنگ کو محض تنازعے سے گریز کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن اسے "جنگ کی منتقلی” کے طور پر بہتر سمجھا جا سکتا ہے، جہاں اثر و رسوخ بالواسطہ ذرائع سے قائم کیا جاتا ہے۔ 1929 میں لڈیل ہارٹ نے اس تصور کو متعارف کرایا اور اپنی کتاب اسٹریٹجی: این ان ڈائریکٹ اپروچ میں اسے تفصیل سے بیان کیا، جو مغرب میں عسکری نظریے کا ایک اہم موڑ تھا، جیسا کہ مؤرخ برائن ہولڈن ریڈ نے کہا۔

    پراکسی جنگوں کے ذریعے ایک ملک اپنے مفادات کا حصول بالواسطہ طور پر کر سکتا ہے، مثلاً ملیشیا یا اتحادی قومی افواج کو ہتھیار، فنڈنگ، اور حمایت فراہم کر کے، بغیر اپنی افواج کو میدان میں اتارے۔ یہ طریقہ کار روایتی تنازعوں جیسے بغاوت سے آگے بڑھ کر ایک ایسے تعلقات اور حکمت عملیوں کے جال کو جنم دیتا ہے جو اعلانیہ اور خفیہ دونوں ہو سکتے ہیں۔ پراکسی تنازعات عموماً ایسے ماحول میں ہوتے ہیں جہاں ریاستیں اور غیر ریاستی عناصر اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں بعض اوقات تو سائبر اسپیس کے ذریعے بھی ایسا کیا جاتا ہے

    تاریخی طور پر، قوموں نے مقامی بحرانوں، جیسے خانہ جنگیوں، سے فائدہ اٹھا کر،اکثر مخالف نظریات یا طاقتوں کو قابو کرنے کے لیے بڑے جغرافیائی سیاسی تغیرات کو ہوا دی ہے، کئی معاملات میں، پراکسی قوتیں ان ممالک کے لیے ایک کشش کا باعث بنتی ہیں جو فوجی بھرتی کے مسائل اور محدود دفاعی بجٹ کا سامنا کرتے ہیں۔ فوجی کارروائیوں کو آؤٹ سورس کرنے سے یہ ریاستیں بغیر کسی براہِ راست موجودگی کے اپنی طاقت کا اظہار کر سکتی ہیں۔

    امریکہ، جس نے وار آن ٹیرر کی طویل مدتی لاگت سے سبق حاصل کیا ہے، بڑے پیمانے پر، حکومت کی تبدیلی کی جنگوں میں ملوث ہونے سے گریز کرتا ہے اور پراکسی جنگوں کو ترجیح دیتا ہے۔ اس حکمت عملی سے امریکہ کی سیاسی اور عسکری نمائش کم ہو جاتی ہے اور مشرق وسطیٰ میں ماضی کی غلطیوں کو دہرانے سے بچا جاتا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ، جو ایک نئی تنہائی پسند پالیسی کی عکاس ہے، نے وسیع فوجی وعدوں سے گریز کیا، اگرچہ یہ واضح نہیں ہے کہ امریکہ اپنی خارجہ مفادات کے تحفظ کے لیے پراکسی کو ایک آلہ کے طور پر زیادہ استعمال کرے گا یا نہیں۔

    چین اور روس بھی پراکسی جنگوں کے مستقبل کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ چین، اپنی عالمی طاقت کے ابھار کے ساتھ، اس بات کا فیصلہ کرنے کا سامنا کرتا ہے کہ تجارت کے تعلقات کو نقصان پہنچائے بغیر کس طرح اثر و رسوخ کا اظہار کرے۔ روس کا نیٹو کی سرحدوں کے قریب، جیسے کریمیا میں، پراکسیوں پر انحصار، مغربی پالیسی کے لیے مسائل پیدا کرتا ہے کیونکہ بالواسطہ جارحیت کے جواب دینا پیچیدہ ہو جاتا ہے۔

    ہم ایران اور سعودی عرب کو بھی نظر انداز نہیں کر سکتے، جو اپنے اپنے برانڈ کے اسلام کے لیے عالمی اثر و رسوخ حاصل کرنے میں مصروف ہیں۔

    مجموعی طور پر، یہ پیش رفت ایک ایسی دنیا کی نشاندہی کرتی ہیں جہاں بالواسطہ، کثیر الجہتی تنازعات زیادہ عام ہوتے جا رہے ہیں، جس سے زیادہ پیچیدہ اور غیر یقینی سلامتی کے چیلنجز کا سامنا ہوتا ہے۔ دنیا بدل چکی ہے، اور یہ تبدیلی بہتری کے لیے نہیں ہے

  • شوہر اجازت نہیں دیتے …تحریر:ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

    شوہر اجازت نہیں دیتے …تحریر:ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

    شوہر اجازت نہیں دیتے ….
    آپ نہ لیں اجازت ….
    جی … وہ شوہر ہیں نا …
    تو … کیا وہ بھی ہر کام آپ سے اجازت لے کر کرتے ہیں ؟
    نہیں … نہیں تو ..
    تو کیا آپ جیل میں قیدی کی طرح رہتی ہیں جہاں دروغہ جی سے ہر بات کی اجازت لی جائے ؟
    وہ … جی … امی ابا نے یہی کہا تھا کہ شوہر کی بات ماننا …
    کیا امی ابا نے آپ کو ایک خادمہ کے طور پہ شوہر کے سپرد کیا تھا ؟ یا ان کے ساتھی کے طور پہ ؟ ساتھی اپنی مرضی سے آگاہ کرتے ہیں ، اجازت نہیں لیتے …
    اور کیا کہا تھا امی ابا نے ؟
    کبھی لڑ کر واپس مت آنا … جب بھی آنا ہنسی خوشی آنا …
    ہنسی خوشی ؟ یعنی جب آپ تکلیف میں ہوں گی تب کہاں جائیں گی ؟
    جی امی ابو نے کہا تھا کہ صبر کرنا ایک دن سب ٹھیک ہو جائے گا ۔
    کس دن ؟
    جی .. قربانی تو دینی ہی پڑتی ہے نا ۔
    اس دن جب آپ کے گوڈے گٹے جواب دے جائیں گے ، بال سفید ہو جائیں گے ، کچھ بھی کرنے کو من نہیں چاہے گا ، بحث مباحثے سے دل اوبھ جائے گا اور آپ خاموشی اختیار کر لیں گی ۔
    اس دن روح سے خالی جسم ایک چبوترے پہ کھڑا کر کے کہا جائے گا __ دیکھا آخر میں جیت عورت ہی کی ہوتی ہے ۔

    اگر آپ کے شوہر آپ سے مطالبہ کرتے کہ ڈاکٹری چھوڑ دو، گھر بیٹھو تو آپ کیا کرتیں؟
    یہ سوال ہم سے بہت پوچھا جاتا ہے پوچھنے والوں میں وہ بھی شامل ہوتی ہیں جنہیں ان کے شوہروں نے ڈاکٹر ہونے کے باوجود گھر بٹھا دیا اور وہ بھی جو سمجھتے ہیں کہ عورت کو بیوی بن کے ہر قدم اجازت کے ساتھ اٹھانا چاہیے ۔
    ہم محفل میں ہوں تو سوال کے ساتھ ہی بیسیوں تجسس بھری نظریں ہم پہ مرکوز ہو جاتی ہیں باکل ایسے ہی جیسے کوئی جادوگر ہیٹ سے کبوتر نکالنے والا ہو!
    ہم ایک شان سے بلند قہقہہ لگاتے ہوئے کہتے ہیں ، ہم وہی کرتے جو ایک بادشاہ دوسرے بادشاہ سے کرتا ہے…
    اس جواب سے من مرضی کی بہت سی تاویلات گھڑی جا سکتی ہیں ۔
    کوشش کر دیکھیے آپ بھی !

    بے حیا دوا اور پیپ سمیر ٹیسٹ ، تحریر:ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

  • کیا واقعی مہنگائی کم ہوگئی ہے؟

    کیا واقعی مہنگائی کم ہوگئی ہے؟

    کیا واقعی مہنگائی کم ہوگئی ہے؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    اسلام آباد میں وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں وزارتِ خزانہ نے عالمی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) کے وفد کے ساتھ ملاقاتوں پر بریفنگ دی۔ اجلاس میں وزیراعظم نے دعوی کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں کے باعث ملک میں اقتصادی استحکام کی راہ ہموار ہو رہی ہے اور اس کے مثبت اثرات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق مہنگائی کی شرح 38 فیصد سے کم ہو کر 7 فیصد تک آ گئی ہے جبکہ شرحِ سود بھی 22 فیصد سے کم ہو کر 15 فیصد پر آ گئی ہے۔

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے عوام کو ریلیف دینے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ شرحِ سود میں کمی کے باعث کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ اس کے علاوہ وزیرِ اعظم نے پنجاب حکومت کی زرعی شعبے میں اصلاحات کی تعریف بھی کی۔
    لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا حکومتی دعوے زمینی حقائق سے میل کھاتے ہیں؟ آج کے دور میں عام آدمی کی زندگی شدید مہنگائی کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔ یوٹیلیٹی اسٹورز پر گھی، چینی، دالوں، واشنگ پاوڈر اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتیں عوام کی پہنچ سے دور ہیں۔ کیا وزیرِ اعظم نے کبھی خود بازار میں جا کر سبزی، گوشت یا بچوں کی اسکول کی سٹیشنری خریدی ہے؟ کیا انہوں نے عام آدمی کی طرح کسی سرکاری ہسپتال میں علاج کرایا ہے؟ یا وہاں کے مسائل کا سامنا کیا ہے؟

    وزیرِ اعظم کے یہ دعوے کہ مہنگائی کی شرح میں کمی آئی ہے جو اس وقت جھوٹے اور خالی اعداد و شمار لگتے ہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری، اور بنیادی ضروریات کی عدم فراہمی جیسے مسائل نے عوام کو اذیت ناک حالات سے دوچار کر دیا ہے۔ عوامی نمائندے اور حکومت اگر واقعی عوام کی بہتری کے خواہاں ہیں تو انہیں خالی باتوں اور بے بنیاد اعداد و شمار کے بجائے عملی اقدامات کی جانب بڑھنا ہوگا، ٹیکس چوروں اور ان کے معاونین کے خلاف سخت کارروائی کی یقین دہانی بھی حکومت کے ان وعدوں میں شامل ہے، جن کا عملی مظاہرہ عوام کی نظروں سے اوجھل رہتا ہے۔ ملکی معیشت کی مضبوطی کا دعویٰ تب ہی حقیقت کا روپ دھارے گا جب حکومت عوام کو ریلیف دینے کے عملی اقدامات کرے گی۔

    حکومت کا دعوی ہے کہ وہ آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق معاشی اصلاحات کر رہی ہے لیکن ان اقدامات کے اثرات عوام پر براہِ راست منفی پڑ رہے ہیں۔ عام تاثر یہ ہے کہ یہ معاشی پالیسیاں صرف معاشی اعداد و شمار کو بہتر بنانے کے لیے ہیں جبکہ عوام کے مسائل اور ان کی مشکلات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ اسٹاک مارکیٹ میں وقتی تیزی کو عوامی فلاح سے جوڑنا شاید حقیقت سے دور ہے کیونکہ زمینی سطح پر معیشت کی بہتری کے اثرات عوام کو محسوس نہیں ہو رہے۔

    وزیرِ اعظم نے ٹیکس چوری کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کیا اور کہا کہ ٹیکس نادہندگان کو سزا دی جائے گی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ
    آیا یہ اقدامات صرف الفاظ تک محدود رہ جائیں گے یا حقیقی عمل بھی ہوگا؟ پاکستان میں ٹیکس نظام کی اصلاح کی ضرورت ہے مگر اس کی کامیابی کے لیے بدعنوانی اور غیر منصفانہ ٹیکس نظام کو بھی ہدف بنانا ہوگا۔

    عوامی سطح پر یہ احساس شدت اختیار کر رہا ہے کہ حکومت کی پالیسیاں عوام کو ریلیف دینے میں ناکام ہو چکی ہیں۔ تعلیم، صحت اور بنیادی ضروریات کی فراہمی کا شعبہ مشکلات کا شکار ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں ناقص سہولیات، مہنگی ادویات اور تعلیمی اخراجات نے متوسط طبقے کو مزید مشکلات میں ڈال دیا ہے۔بازار میں سبزی، گوشت، بچوں کی سکول کی سٹیشنری اور دیگر اشیا کی بڑھتی ہوئی قیمتیں عوامی بے چینی کا سبب بنی ہوئی ہیں۔ وزیرِ اعظم سے سوال یہ ہے کہ کیا انہوں نے کبھی عوام کی طرح ان مسائل کا سامنا کیا ہے؟ اگر نہیں تو وہ ان کی مشکلات کو کیسے سمجھ سکیں گے؟

    وزیرِ اعظم اور ان کی ٹیم کو چاہیے کہ وہ محض اعداد و شمار کے ذریعے عوام کو خوش کرنے کے بجائے حقیقی اور ٹھوس اقدامات کریں۔ معاشی پالیسیوں کا مقصد صرف بین الاقوامی اداروں کی خوشنودی حاصل کرنا نہیں بلکہ عوام کی زندگیوں کو بہتر بنانا ہونا چاہیے۔ مہنگائی کے خاتمے، روزگار کی فراہمی اور صحت و تعلیم کے شعبوں میں اصلاحات کے ذریعے ہی عوامی مشکلات کو کم کیا جا سکتا ہے۔ بصورتِ دیگر حکومتی دعوے محض سیاسی نعروں کے سوا کچھ ثابت نہیں ہوں گے۔