Baaghi TV

Category: بلاگ

  • عشق اور ہنی ٹریپ ،تحریر:  شمائل عبداللہ

    عشق اور ہنی ٹریپ ،تحریر: شمائل عبداللہ

    میں محبت پر اتنا لکھتا نہیں کیونکہ مجھے لگتا ہے محبت سے دوستی بہتر ہے! اور یہ سچ بھی ہے لیکن آج مجھے اس پر لکھنا واجب لگا کہ محبت کو بہت ہی تماشہ بنا دیا گیا ہے۔ پچھلے دنوں خلیل الرحمٰن کے ساتھ جو واقعہ ہوا اس میں سے ایک خبر سامنے یہ بھی آئی کہ خلیل کے ساتھ ہنی ٹریپ بھی ہوا تھا۔ اب ایک عام انسان اور ایک ادیب میں فرق ہوتا ہے اس کی سوچ اس کی باتیں معاشرے کیلئے ایک نمونہ ہوتی ہیں وہ ایک تاریخ ساز کام میں ملوث ہوتا ہے۔ اور خلیل کا یوں ہنی ٹریپ کا شکار ہونا سمجھ سے باہر بات ہے ان کے باتیں بھی عجیب ہیں۔
    کہیں پہ وہ کہتے ہیں لڑکی لڑکے کی دوستی نہیں ہوتی کہیں ماہرہ خان کو سب سے اچھی دوست کہتے ہیں کہیں پہ وفا کو آزمانے کی بات کرتے ہیں کہیں کہتے ہیں میں نے ایسا کچھ کہا ہی نہیں کہیں پہ رائٹر اور ایکٹر کی دوستی کو نہیں مانتے اور کہیں پہ ہمایوں سعید کو اپنا بہترین دوست کہتے ہیں ایسے رائٹرز معاشرے کو کہاں لے کر جائیں گے؟ سوچئے ذرا! میں تو ہنی ٹریپ کا شکار ہونے والے مردوں کو مرد ہی نہیں کہتا بھلا یہ کیا کہ کسی نے لڑکی کی آواز میں بات کی تو پھسل گئے۔ اے آدمزاد ہوش کر کہ تجھے خالق نے ایسا نہیں بنایا تو جس کا محافظ ہے اسی کے نام سے بدی کرتا ہے۔ اے مرد تیری مردانگی کہاں گئی؟ پھر یہ کہہ دینا ! کہ ہمیں ہنی ٹریپ کیا گیا بیہودگی ہے اور کچھ نہیں لڑکیوں کے نام سے فیک آئی ڈیز بےشمار ۔ لیکن لڑکے کے نام سے لڑکی کی ایک بھی فیک آئی ڈی نہیں تو شیطان کون؟ پھر یہ جو دو منٹ بعد ہمیں عشق ہو جاتا ہے یہ حوس ہے جو کبھی کبھی ہمیں آزمانے کو عشق کی بہروپ ہے! عشق اتنا فالتو نہیں کہ بارہا ہو یہ روح میں اترتا ہے اور روح میں جو چیز اترتی ہے ایک ہی بار اترتی ہے! خسرے کی مثال لے لیں جس طرح زندگی میں ایک بار نکلتا اسی طرح عشق ہے موت کی مثال بھی لے سکتے ہیں جیسا کہ شاعر کہتا ہے کہ:-
    یہ ہے عادت عشق کہ دل پر نہیں کرتا ترس
    یہ ہے ماجرا کہ پاگل حالت حال بگاڑ دیتا ہے
    عشق کی نگری میں معافی نہیں کسی کو
    عشق عمر نہیں دیکھتا بس اجاڑ دیتا ہے ہمیں حوس سے صاودھان رہنا! کل مجھ سے ایک شخص دو دوستوں میں رومانویت کی بات کرنے لگا کیونکہ میں نے اسے پوچھا محبت کیا ہے؟ کہنے لگا محبت کی چار قسمیں ہیں رومانوی محبت والدین کی محبت فلاں فلاں اور رومانوی محبت دو دوستوں میں ہے۔ میں نے کہا بالکل غلط یوں تو محبت کی پھر ہزار قسمیں بنا لو محبت کی دو قسمیں ہیں کی جانے والی اور ہو جانے والی اور رومانوی کیفیت قطعی محبت کا حصہ نہیں یہ جسم کی خواہش ہے جسے پورا کرنے کیلئے خدا نے نکاح کا حکم دیا ہے اور یہ کبھی دوستوں میں نہیں بلکہ محبوب اور محبوبہ میں ہوتی ہے اور یہ کسی کی بھی طرفدار نہیں ہوتی خدا کی طرح کیوں خدا محبت ہے۔ عہد عتیق میں جو کہ کتاب مقدس کا حصہ ہے اور یہودیوں کیلئے ہے لیکن رہنمائی حاصل کرنے کیلئے مسیحی بھی پڑھتے ہیں۔ اس میں ایک کتاب ہے عشقیہ نظموں پر جس کا نام ہے غزل الغزلات جو کہ اگرچہ معرفت کی باتیں لیکن چونکہ عشقیہ نظمیں ہیں تو میں پوچھتا ہوں کوئی بھی روحانی کتاب کسی بھی ناپاک چیز یا رشتے کی مثال دے سکتی ہے؟ سو ثابت یہ ہوا کہ محبت کوئی ناپاک چیز نہیں بلکہ پاک ہے جس کی منزل نکاح ہے مگر یہ بات دنیا کی سمجھ سے بالاتر ہے کیونکہ شاعر کہتا ہے کہ:-
    دل سے یہ جڑے ہیں دل اپنے کہنے کو کوئی رشتہ ہی نہیں
    اس پاکیزہ سے بندھن کو دنیا میں کوئی سمجھا ہی نہیں
    ایک مسیحی شاعر لکھتا ہے کہ:-
    تاریخ گواہ ہے مسیحیت خلاف نہیں محبت کے
    یوحنا نے بھی ملوایا تھا دو عاشقوں کو گلے
    تھی تیمتیس کی ماں یہودی اور باپ یونانی
    پھر بھلا کیوں روایت یہ یہاں گناہ کی چلے
    لیکن ہمیں دعا کے ذریعے حوس سے بچنا اور حواس سے محبت کو سمجھنا ہے اور یہ دھیان رکھنا ہے کہ دل ٹوٹ نہ جائے کیونکہ پھر یہ لاعلاج ہے اور کافر بھی بن سکتا ہے جیسا کہ مسیحی شاعر شکوہ کرتا ہے کہ:-
    عشق والے ہی قابل نفرت رہے دور بہ دور
    میرے مسیحا نے یوں تو جلائے ہیں مردے بھی
    لیکن ٹوٹے دل نمازی بھی بن سکتے ہیں مگر یہ ضروری نہیں مقدر ہے اپنا اپنا سو احتیاط کیجئے کیونکہ احتیاط علاج سے بہتر ہے اور حوس پرستوں سے بھی یہ کہہ دیجئے!
    "آپ اچھے فرشتہ صفت ٹھہرے”
    میں برا، میں خراب، جناب! اجتناب!
    کیونکہ کبھی کبھی ایک مچھلی سارا جل گندا کرتی ہے! یہاں پر بتاتا چلوں کہ رومانس اور سیکس میں بھی فرق ہے جس کو لے کر بھی ہم گمراہ زیادہ تفصیل تو میں بیان نہیں کر سکتا لیکن مختصر بتاؤں گا کہ مان لو کہ ہلکا گلابی رنگ رومانس ہے اور سرخ ترین رنگ سیکس اور ان دونوں رسموں کو نبھانے کی شرط نکاح ہے اور نکاح بھی تاعمر کا ورنہ لوگوں نے یہ رسم بھی جائز طریقے سے نبھا کر بس ترک کرنا واجب سمجھا ہے جان رکھو کہ یہ بھی گناہ ہے۔ اور خلیل صاحب نے خود اپنے ڈرامے لال عشق او ایس ٹی میں لکھتے ہیں کہ:-
    کون ہیں لوگ یہ زخم کھائے ہوئے
    دل کی میت کو سر پہ اٹھائے ہوئے
    آرزوئیں یہ کہاں بیچ کر آئے ہیں
    آج آئے ہیں پوچھو یہ کیا لائے ہیں
    اک محبت سے یہ نہ سنبھالے گئے
    اک محبت نہ ان سے سنبھالی گئی
    زندگی بس امیدوں بھری جیب تھی
    جیسے خالی ملی ویسے خالی گئی
    کیا ملا ہے محبت کے بازار سے
    آج پھرتے ہو دل کو نقد ہار کے
    یہ محبت کی دشمن کی اک چال ہے
    عشق تو لال ہے عشق تو لال ہے
    محبت کی دشمن یعنی حوس اللہ ہم سب کو اس سے بچائے رکھے (آمین)

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

  • بے حیا دوا اور پیپ سمیر ٹیسٹ ، تحریر:ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

    بے حیا دوا اور پیپ سمیر ٹیسٹ ، تحریر:ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

    ڈاکٹر میرے شوہر خوش نہیں ہیں!“
    تھکا ہوا لہجہ، چالیس کے پیٹے میں خوش شکل اداس صورت خاتون —-
    سو ہم نے بات اڑانے کے لئے ہنس کے کہا،فکر نہ کیجیے، شوہروں کا یہی وطیرہ ہوتاہے، کچھ بھی کر لو بھلے جان دے دو، بھلے مانس خوش ہوتے ہی نہیں“
    وہ ہولے سے مسکرا دیں۔
    ”اب بتا دیجیے، کیوں ناراض رہتے ہیں وہ“
    وہ ڈاکٹر، پچھلے پانچ چھ ماہ سے ہم جب بھی—وہ جب بھی ——“وہ جھینپ کے رک گئیں-
    جی، جب بھی۔ کہیے؟“
    ہم نے انہیں بات مکمل کرنے کا حوصلہ دیا
    ” جی، پچھلے کچھ عرصے سے ہم جب بھی ہم بستری کرتے ہیں، ان کو محسوس ہوتا ہے کہ ان کے عضو پہ تھوڑا سا خون لگ گیا ہے۔ میرے جسم پہ بھی کچھ خون کے دھبے ہوتے ہیں، ساتھ میں درد بھی بہت ہے۔ میں بہت پریشان ہوں ڈاکٹر“
    ” پریشان نہ ہوئیے۔ آپ یہ بتائیے کہ آپ نے پہلے کبھی اپنا پیپ سمیر ( pap smear ) کروایا؟“ ہم نے پوچھا
    جی مجھے علم نہیں کہ یہ کیا ہوتا ہے؟“ وہ بولیں۔
    ” یہ ایک ٹیسٹ ہے جو رحم کے منہ یعنی سروکس ( cervix) سے لیا جاتا ہے۔ تیس برس کی عمر کے بعد ہر خاتون کو یہ ٹیسٹ کروانا چاہیے کیونکہ چھاتی کے کینسر کے بعد سب سے زیادہ شرح سروکس کے کینسر کی ہے اور اکثر اوقات کینسر ہونے کا پتہ ہی نہیں چلتا۔ یہ ٹیسٹ کینسر شروع ہونے سے پہلے ہی بتا دیتا ہے کہ سروکس کے سیل نارمل نہیں رہے، سو ضرورت ہے کہ احتیاطی تدابیر اختیار کرلی جائیں“
    ہم نے تفصیل سے انہیں سمجھایا۔
    ”یہ ٹیسٹ آپ کیسے لیں گی؟“
    وہ کچھ شش و پنج میں مبتلا تھیں۔
    ”آپ کے رحم کے منہ یعنی سروکس کا معائنہ —-پھر ایک برش کی مدد سے چھوتے ہوئے اس کی سطح سے کچھ سیلز لے کر گلاس سلائیڈ پہ منتقل — بس پھر لیبارٹری والے جانیں اور ان کا کام“
    ہم نے انہیں دلاسا دیتے ہوئے وضاحت کی۔
    ”بہت آسان سا کام ہے، آپ کو بالکل تکلیف نہیں ہو گی“
    وہ خوفزدہ نظر آتی تھیں مگر ہمارے سمجھانے بجھانے پہ معائنے کے لئے راضی ہو گئیں۔

    سروکس صحت مند حالت میں نہیں تھا، ایسے لگتا تھا کہ انہیں کافی مرتبہ وجائنل انفیکشن رہ چکی ہے۔ ہم نے پیپ سمیر لیا اور انہیں نتیجے کے ساتھ آنے کے لئے کہا۔
    کچھ دنوں بعد پیپ سمیر کی رپورٹ آ گئی اور رپورٹ خوش آئند نہیں تھی۔ کچھ ابنارمل قسم کے سیلز دیکھے گئے تھے جو متقاضی تھے کہ مزید ٹیسٹ کیے جائیں۔ اگلا مرحلہ سروکس کو ایک مائکرو سکوپ ( colposcope) نامی مشین کی مدد سے دیکھنا اور متاثرہ حصے کی بائیوپسی لینا تھا۔
    طریقہ کار پہلے جیسا ہی تھا، کاؤچ پہ مریض کو لٹا کر اندرونی اعضائے مخصوصہ کو دیکھ کر بائیوپسی لینا۔ اس عمل میں مریض کو کسی بے ہوشی کی ضرورت نہیں پڑتی اور بائیوپسی لینا زیادہ تکلیف دہ امر نہیں ہوتا۔ درد کی شکایت میں پیراسٹامول دینا ہی کافی رہتا ہے۔
    ‏Colposcopy کے ساتھ بائیوپسی لیتے ہوئے بھی سروکس صحتمند حالت میں نظر نہیں آتا تھا۔بائیوپسی کی رپورٹ نے وہی کہا جو ہمارا شک تھا یعنی سروکس کینسر سے پہلے والی سٹیج پہ پہنچ چکا تھا۔ سروکس کے سیلز کا رجحان کینسر کی طرف بڑھنے کو CIN یا carcinoma in situ کہا جاتا ہے۔
    خاتون کو رزلٹ سے آگاہ کیا گیا تو وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دیں، ڈاکٹر میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، اب کیا ہو گا؟
    ”روئیے نہیں، ابھی کینسر شروع نہیں ہوا۔ آپ خوش قسمت ہیں کہ آپ کو ہم بستری کے دوران خون آنے والی علامت شروع ہوئی اور آپ نے اس کے بعد گائناکالوجسٹ کے پاس آنے کا فیصلہ بھی کیا۔ دعائیں دیجیے اپنے شوہر کو، جنہیں خوش کرنے کے لئے آپ نے کم ازکم اس علامت پہ کان تو دھرا“
    ہم مسکرا کے بولے۔

    ”اب کیا کرنا چاہیے؟“ وہ فکرمندی سے بولیں۔
    ”دیکھیے، پہلا حل تو یہ ہے کہ ہم رحم کا منہ یعنی سروکس کے ایک حصے کو کاٹ کو نکال دیں۔ اس کے لئے دو تین طریقے اختیار کیے جاتے ہیں ( Cone biopsy اور LLETZ) ۔
    یہ آپریشن ویجائنا کے راستے کیا جائے گا اور بے ہوشی کے عالم میں ہو گا۔ لیکن اس کے بعد بھی آپ کو وقفے وقفے سے پیپ سمیر کرواتے رہنا ہو گا کہ کوئی بچا کھچا سیل کہیں کسی خرابی کا باعث تو نہیں بن رہا ”
    ”اور دوسرا حل؟“
    ”جی دوسرا حل یہ ہے کہ آپ رحم ہی آپریشن کے ذریعے نکلوا دیں۔ اس صورت میں نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری۔ ہمیشہ کے لئے رحم اور سروکس کے کینسر کے خطرے سے نجات“
    ”ڈاکٹر میرا خیال یہ ہے کہ میں دوسرے حل کے لئے زیادہ مطمئن رہوں گی“
    بصد شوق“

    یہ پیپ سمیر کی کہانی ہمارے لئے تو روزمرہ کی بات ہے لیکن آپ تک پہنچانے کا خیال یوں آیا جب ہم نے کچھ قریبی دوستوں سے پوچھا کہ کیا انہوں نے کبھی پیپ سمیر کروایا ہے اور سب کو ہی پیپ سمیر سے بے خبر پایا۔ پھر ہم نے اپنی بہنوں سے دریافت کیا تو کسی کو کچھ خبر نہ تھی۔ ہم پہ تو بجلی ہی گر پڑی، چراغ تلے اندھیرا اسی کو تو کہتے ہیں۔
    پیپ سمیر کا سہرا ایک یونانی ڈاکٹر Georgios Papanikolaou کے سر بندھتا ہے جس نے سیلز کی مدد سے کینسر کو پہچاننے کا طریقہ دریافت کیا اور اسی لئے اس ٹیسٹ کو پیپ سمیر پکارا گیا۔
    جان لیجیے کہ پیپ سمیر تیس برس کی عمر سے لے کر پینسٹھ برس کی عمر تک ہر تین برس کے وقفے سے کیا جاتا ہے۔ اگر کبھی کسی مرحلے میں کوئی ابنارمیلٹی ملجائے تو باقی مراحل کی باری آتی ہے۔
    پیپ سمیر کے ساتھ HPV وائرس کا ٹیسٹ بھی کیا جانا چاہیے کہ یہ موذی کینسر کے اسباب میں سے ایک ہے۔عورت کے جسم کو رگیدنے اور اس پہ انواع و اقسام کی مرضی منطبق کرنے کا کام عورت مارچ کے حوالے سے بخوبی کیا گیا ہے۔ مگر اس جسم کی دیکھ پرداخت کا مسئلہ چونکہ کسی اور کا نہیں، صرف عورت کا ہے سو ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہماری ہم نفس ان تکالیف سے ضرور بچ جائے جو آگہی نہ ہونے کی وجہ سے اسے آن گھیرتی ہیں۔بات نکلی ہے تو human papilloma virus کی کتھا بھی سنائے دیتے ہیں۔

    “کوئی پوچھے ان نگوڑوں سے، کیوں ہم سے بار بار کہتے ہو کہ ہم اپنی بچیوں کو یہ ویکسین لگوائیں۔ یہ تو بنائی ہی موئی گوریوں کے لئے گئی ہے جو چھوٹی عمر میں ہی درجنوں بوائے فرینڈ رکھ چھوڑتی ہیں۔ اگر شادی کریں بھی تو بھلا ایک شادی تک محدود کہاں رہتی ہیں۔ تو انہیں تو ضرورت ہوئی نا۔ اب ہماری بچیاں یہ بوائے فرینڈ شرینڈ کیا جانیں۔ جہاں اماں ابا بیاہیں گے، چلی جائیں گی اور وہاں سے مر کے ہی نکلیں گی۔ پھر کیا ضرورت اس ویکسین کی؟ خواہ مخواہ پیسے کا ضیاع۔ بس بی بی یہ بتا دو کہ یہ بیماری ہماری طرف کی بچیوں کو تو نہیں ہوتی نا“
    وہ خاتون ہمیں ایک تقریب میں ملی تھیں اور بات کرونا کی ویکسین سے شروع ہو کے ایک دوسری ویکسین تک آن پہنچی تھی۔ وہ اپنی بچیوں کے سکول سے بھیجی گئی معلومات پہ شاکی تھیں۔ جو بات انہیں ان کا ذہن سمجھاتا تھا، وہ ہم ماننے سے انکاری تھے اور جو ہم سمجھاتے تھے، ان کا دل شد و مد سے جھٹلاتا تھا۔
    ”جی، یہ بیماری ہماری طرف کے مرد و عورت میں بھی بہت عام ہے“ ہم نے کہا۔
    ارے وہ کیسے؟ دیکھو یہ تو ہم بستری سے ایک دوسرے کو منتقل ہوتی ہے نا“
    وہ چمک کے بولیں،
    جی ہاں“
    ”اے نوج بی بی کچھ عقل کو ہاتھ ڈالو۔ جب ہم بستری ہی میاں بیوی کے درمیان ہو گی تو کہاں سے موا ٹپکے گا وائرس؟“
    ”یہی تو مصیبت ہے کہ گھر سے باہر بھی کافی بستر پائے جاتے ہیں“
    ہم زیر لب بڑبڑائے،
    کیا کہا؟“
    ”جی، حقیقت یہی ہے کہ یہ وائرس ہم بستری سے ہی ایک دوسرے کو منتقل ہو کر بیماری پھیلاتا ہے۔ بیماری تو مرد و عورت دونوں کو ہو سکتی ہے لیکن بیماری کے نتیجے میں کینسر کا شکار عورت بنتی ہے۔ بچیوں کو ویکسین لگوانے کے لئے اس لئے کہا جاتا ہے کہ اگر وہ خود کسی غیراخلاقی گراوٹ میں مبتلا نہ بھی ہوں، تب بھی وہ کینسر کا شکار ہو سکتی ہیں اگر ان کا شوہر گھر سے باہر جنسی تعلقات سے شغف رکھتا ہو“ ہم نے چڑ کر کہا۔

    صاحب، کرونا وائرس سے اور کچھ ہوا ہو یا نہیں، ہر ذی شعور یہ ضرور سمجھ گیا ہے کہ وائرس کی ہلاکت خیزی کیا ہوتی ہے۔ ایسا ہی ایک وائرس Human papiloma virus کے نام سے پایا جاتا ہے جس کا نشانہ کرونا وائرس کی طرح گلا یا پھیپھڑے نہیں بلکہ مرد و عورت کے جنسی اعضا ہوا کرتے ہیں۔
    یہ انفیکشن مرد سے عورت، عورت سے مرد، مرد سے مرد اور عورت سے عورت کو بذریعہ جنسی تعلقات منتقل ہوتی ہے۔ بعض دفعہ وائرس کوئی علامات پیدا نہیں کرتا لیکن بہت سے مریضوں میں چھوٹی چھوٹی لحمیاتی پھنسیاں نکل آتی ہیں جنہیں وارٹس ( warts ) کہا جاتا ہے۔ مرد کے بیرونی جنسی اعضا اور عورت کے بیرونی اور اندرونی جنسی اعضا پہ ان پھنسیوں کا موجود ہونا HPV انفیکشن کا ثبوت ہے۔
    وائرس زیادہ تر جنسی کاروبار میں ملوث افراد میں پایا جاتا ہے اور وہیں سے مختلف لوگوں میں منتقل ہوتا ہے۔ HPV کی منتقلی کسی اور طریقے سے ممکن نہیں۔ لیکن لوگ اپنی تسلی کے لئے بہت سی کہانیاں گھڑ لیتے ہیں۔
    ہمیں ایک دفعہ ایک خاتون ملیں، جن کے شوہر اس وائرس کا شکار ہونے کے بعد قسمیں کھا کھا کے انہیں یقین دلانے کی کوشش کرتے تھے کہ یہ انفیکشن ہوٹل کے تولیوں کے استعمال سے ہوئی ہے۔ کچھ اور کہانیوں میں شوہروں نے دوستوں کے استعمال شدہ زیر جامے کو غلطی سے پہن لینے پہ مورد الزام ٹھہرایا۔
    جب اس طرح کی توجیہہ کے بعد کوئی ہماری رائے جاننے کی کوشش کرتا ہے توہم چپ رہے، ہم ہنس دیے، منظور تھا پردہ تیرا کی تصویر بن جایا کرتے ہیں۔
    ان وارٹس کا علاج لیزر یا بجلی کے ذریعے کیا جاتا ہے جہاں ان پھنسیوں کو جلایا جاتا ہے۔ یہ پھنسیاں ایک دفعہ جلانے سے ختم نہیں ہوتیں سو یہ عمل کئی دفعہ دہرانے کی ضرورت پڑتی ہے۔
    خواتین کو اگر یہ انفیکشن حمل کے دوران ہو جائے تو طبعی زچگی کے نتیجے میں انفیکشن نوزائیدہ کو منتقل ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔اس انفیکشن کا سب سے بڑا خطرہ خواتین میں رحم کے منہ سروکس ( cervix) کا کینسر ہے جو وائرس کی ایک خاص قسم HPV 16 اور HPV 18 کا شکار بنتی ہیں۔ کینسر کے ستر فیصد مریضوں میں سبب HPV ہی ہوتا ہے۔

    جس ویکسین کا ہم نے شروع میں ذکر کیا وہ انہی دو قسموں سے بچنے کے لئے بنائی گئی ہے۔ سروکس کے کینسر سے بچنے کے لئے بچیوں کو یہ ویکسین گیارہ سے بارہ برس کی عمر میں لگائی جاتی ہے۔
    بچیوں کو اوائل شباب میں ویکسین لگانے کی وجہ محض یہ ہے کہ نوعمری میں ویکسین لگانے سے اس کی افادیت زیادہ ہوتی ہے اور کسی بھی واسطے سے انفیکشن منتقل ہونے کا تحفظ تمام عمر رہتا ہے۔
    ابتدا میں مسلمان خاندانوں میں اس ویکسین کے خلاف کافی مزاحمت یہ کہہ کر کی گئی کہ بحیثیت مسلمان ہمارے بچے کہاں اس نوعیت کے جنسی تعلق میں مبتلا ہوا کرتے ہیں؟ یا یہ تو بچوں اور بچیوں کو مزید شہ دینے والی بات ہے۔سوچنے والی بات محض یہ ہے کہ اگر ایسا ہی ہے تو پھر ہمارے معاشرے میں بے شمار افراد اس انفیکشن کا شکار کیوں ہوتے ہیں؟جواب سننے کے لئے ہمارا منہ نہ کھلوائیے کہ گائناکالوجسٹ کے حمام میں سب کچھ نظر بھی آ جاتا ہے اور کافی رازوں سے پردہ بھی اٹھ جاتا ہے۔ یہ ایک کڑوا گھونٹ ہے کیونکہ اس بیماری کے لئے متعدد جنسی ساتھیوں کا ہونا لازم ہے جو بیماری کو ایک سے دوسرے میں منتقل کرتے ہیں۔کون کس کو اس بیماری میں مبتلا کرتا ہے اور کہاں سے یہ لے کر آتا ہے؟ کوایک طرف رکھ کر محض یہ جان لیجیے کہ کینسر کا عذاب صرف عورت کے حصے میں آتا ہے اور بریسٹ کینسر کے بعد سب سے زیادہ شرح سروکس کے کینسر ہی کی ہے۔
    خواتین کے حصے میں آنے والے عذاب ویسے ہی کم نہیں سو ناگہانی سے نبٹنے کے لئے اپنی بیٹیوں کے لئے HPV ویکسین کا خیال برا نہیں!

  • اپووا اور میرے احساسات .تحریر:قرۃالعین خالد

    اپووا اور میرے احساسات .تحریر:قرۃالعین خالد

    9 نومبر 2024 پاک ہیرٹج ہوٹل لاہور میں سر زبیر انصاری کی زیر سرپرستی آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی جانب سے آٹھویں سالانہ ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ اپووا کے بانی و صدر ایم ایم علی، سینئیر نائب صدر حافظ زاہد اور نائب صدر سفیان صاحب اور ڈرامہ رائیٹر ثمینہ طاہر صاحبہ کی قیادت میں ایک شاندار پروگرام کا انتظام کیا گیا۔ پروگرام کی نظامت کے فرائض مدیحہ کنول صاحبہ نے بخوبی انجام دئیے۔ ملک بھر سے نامور شخصیات نے ورکشاپ کا حصہ بن کر اپووا کی مثبت سرگرمیوں کو خوب سراہا۔ نامور شخصیات کی شمولیت نے اس بات کا ثبوت دیا کہ وہ اگلی نسل سے نا امید نہیں ہیں۔ نامور شخصیات میں فلم اسٹار غلام محی الدین صاحب، فلم اسٹار میگھا، سنئیر اداکارہ عذرا آفتاب کے ساتھ ساتھ نوجوان نسل کی ابھرتی صحافی دیا مرزا، اینکر پرسن ثناء آغا خان شامل ہیں۔ ملک کے نامور شعراء کی شرکت کی وجہ سے نومولود شعراء کو بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ وہیں ہر دم عزیر سر افتخار افی صاحب کی آمد نے محفل میں چار چاند لگا دئیے۔ اپووا ایک ایسا ادارہ ہے جو اپنے سینئرز کو عزت دینے کے ساتھ ساتھ نئے آنے والے لکھاریوں کا بھی حوصلہ بڑھاتا ہے۔ اپووا نے اب تک کتنے کی افراد کی زندگی کو نئی راہ دکھائی ہے۔ دو سال پہلے مجھے کوئی نہیں جانتا تھا آج الحمدللہ! اللہ کے فضل وکرم سے اپووا کی حوصلہ افزائی کی وجہ سے مجھے آگے بڑھنے کی امنگ بھی ملی اور حوصلہ بھی ملا۔ حسن کارکردگی ایوارڈ، میگزین ٹیم ہونے کی وجہ سے میڈل اور پریس کارڈ کے لیے میں اپووا کی بے حد ممنون ہوں۔ اللہ پاک قلم کا حق ادا کرنے والا بنائے۔ اس قلم سے حق لکھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین! ایک بار پھر میں اپووا ٹیم کو اتنی شاندار مہمان نوازی اور شاندار ورکشاپ انعقاد کرنے پر مبارک باد پیش کرتی ہوں اور اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں کہ میں بھی اپووا کا حصہ ہوں۔

    اپووا کی تربیتی ورکشاپ،لکھاریوں کی تحسین

    یوم اقبال پر اپووا کی تقریب،تحریر:عینی ملک

    اپووا تربیتی ورکشاپ کی یادیں،تحریر: فیصل رمضان اعوان

    اپووا کی سنگ رنگی تقریب،تحریر:ریاض احمد احسان

    اپووا تربیتی ورکشاپ کے یادگار لمحات،تحریر:اورنگزیب وٹو

    اپووا کے زیر اہتمام افطار میٹ اپ کا اہتمام

    اپوواخواتین کانفرنس:حقوقِ نسواں کی توانا آواز

    مبشر لقمان سے آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات

    ایک خوبصورت اور یادگار ملاقات، گورنر ہاوس پنجاب میں،تحریر:فائزہ شہزاد

  • ویڈیو لیک کا خطرہ،بچاؤ کیسے؟آپ کی حفاظت آپ کے اپنے ہاتھ میں

    ویڈیو لیک کا خطرہ،بچاؤ کیسے؟آپ کی حفاظت آپ کے اپنے ہاتھ میں

    پاکستانی ٹک ٹاکرز کی نازیبا ویڈیو سوشل میڈیا پر لیک ہو رہی ہیں اور یہ سلسلہ مسلسل بڑھ رہا ہے، اب تک مناہل ملک، امشا رحمان، متھیرا،مسکان چانڈیو، گل چاہت کی نجی زندگی کی نازیبا ویڈیو لیک ہو چکی ہیں، ویڈیوز کو دیکھ کر ایسے لگ رہا ہے کہ ٹک ٹاکرز نے ویڈیو خود یا اپنی رضامندی سے بنائی ہیں تاہم وہ بعد میں لیک ہو گئیں اور سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں، ویڈیو کس نے لیک کیں اور اس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے یہ ابھی تک سامنے نہیں آ سکا.

    آج کے دور میں ڈیجیٹل میڈیا اور سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ، ویڈیو لیک ہونے کے مسائل عام ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ مسئلہ نہ صرف کسی کی پرائیویسی کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے بلکہ جذباتی، سماجی، اور قانونی مشکلات بھی پیدا کر سکتا ہے۔سوال یہ ہے کہ ویڈیو لیک سے کیسے بچا جائے، اسکے لئے ضروری ہے کہ اول تو کوئی ایسی ویڈیو بنائیں ہی نہ، جس کے لیک ہونے کا خدشہ ہو،اگر کوئی ویڈیو بنا بھی لی تو اپنی ذاتی ویڈیوز اور مواد کو ہمیشہ محفوظ جگہ پر رکھیں، جیسے کہ پاسورڈ پروٹیکٹڈ ڈیوائسز یا اینکرپٹڈ فولڈرز میں۔ کوشش کریں کہ حساس مواد کو کلاؤڈ پر اپ لوڈ نہ کریں کیونکہ کلاؤڈ ہیکنگ کے امکانات موجود رہتے ہیں۔اپنے موبائل فون، کمپیوٹر، اور دیگر ڈیوائسز کے لیے مضبوط پاسورڈز کا استعمال کریں۔ پاسورڈ میں حروف، نمبرز، اور اسپیشل کریکٹرز کا استعمال کریں تاکہ اسے اندازہ لگانا مشکل ہو۔ایسی ایپس انسٹال نہ کریں جو غیر معتبر ہوں یا جن کے بارے میں آپ کو مکمل معلومات نہ ہوں۔ بعض اوقات یہ ایپس آپ کی پرائیویسی تک رسائی حاصل کر کے آپ کے ڈیٹا کو چوری کر سکتی ہیں۔اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر صرف ان لوگوں کو دوست یا فالو کریں جن پر آپ بھروسہ کرتے ہیں۔ ذاتی ویڈیوز یا تصاویر شیئر کرنے سے پہلے یہ سوچیں کہ اگر یہ مواد پبلک ہو جائے تو اس کا کیا اثر ہو سکتا ہے۔اپنے موبائل اور کمپیوٹر کے آپریٹنگ سسٹمز اور سیکیورٹی سافٹ ویئر کو اپ ڈیٹ رکھیں تاکہ کسی بھی قسم کے سائبر حملے سے بچا جا سکے۔اگر آپ کو اپنی ویڈیوز کا بیک اپ لینا ضروری ہے تو اسے محفوظ جگہ پر کریں، جیسے کہ ایکسٹرنل ہارڈ ڈرائیوز جو انٹرنیٹ سے منسلک نہ ہوں۔ای میلز، سوشل میڈیا، یا کسی اور پلیٹ فارم پر ذاتی ویڈیوز یا حساس معلومات شیئر کرنے سے گریز کریں۔ یاد رکھیں کہ ایک بار شیئر کیے جانے کے بعد آپ کے مواد پر آپ کا کنٹرول ختم ہو سکتا ہے۔اگر ویڈیو لیک ہو جائے تو فوراً متعلقہ حکام سے رابطہ کریں۔ پاکستان میں ایف آئی اےسائبر کرائم ونگ ایسے معاملات کو حل کرنے کے لیے موجود ہے۔ایف آئی اے کو ویڈیو لیک کے حوالہ سے درخواست دی جا سکتی ہے. تھوڑی سی احتیاط اور سمجھداری بڑے نقصانات سے بچا سکتی ہے۔ یاد رکھیں، انٹرنیٹ پر موجود ہر چیز کسی نہ کسی وقت لیک ہو سکتی ہے، اس لیے اپنی ذاتی معلومات کو ہمیشہ محفوظ رکھنے کی کوشش کریں،آپ کی حفاظت آپ کے اپنے ہاتھ میں ہے

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

  • شور  سے دور، خاموشی کی تبدیلی کی طاقت

    شور سے دور، خاموشی کی تبدیلی کی طاقت

    ایک ایسی دنیا میں جہاں آوازوں کا غلبہ ہو، خاموشی ایک طاقتور زبان کے طور پر ابھرتی ہے جو الفاظ سے ماورا ہے۔ یہ ایک ایسی موجودگی ہے جو توجہ طلب کرتی ہے، نہ کہ خلا کو بھرنے کے لئے، خاموشی اپنی جگہ لمحہ بہ لمحہ ، زبانی بیان کرنے کی خواہش سے بے نیاز موجود ہے

    زندگی کی ہنگامہ خیز آوازوں کے درمیان، خاموشی ایک نظرانداز کردہ خزانہ بن جاتی ہے۔ پھر بھی، اہم لمحات میں، یہ سب سے زیادہ فصیح جواب کے طور پر ابھرتی ہے۔ خاموشی کی اہمیت انسانی تجربے کے وسیع جذباتی منظرنامے کی عکاسی کرتے ہوئے شخص سے شخص تک بدلتی رہتی ہے،یہ پراسرار زبان سکون، تسلی اور غور و فکر کا ذریعہ ہے۔ یہ آنسو بہنے، خیالات کھلنے، اور جذبات سامنے آنے کی اجازت دیتی ہے۔ خاموشی ایسے پیغامات پہنچا سکتی ہے جو الفاظ نہیں پہنچا سکتے، گہری سوچ کو جنم دیتے ہیں اور ارد گرد کے شور و غل کے خلاف ایک خاموش احتجاج کا ذریعہ بنتے ہیں۔

    ہمیں اکثر "آواز اٹھانے” کی تلقین کی جاتی ہے، لیکن جب زندگی کی ہنگامہ خیزی الفاظ کو بے معنی کر دیتی ہے تو کیا ہوتا ہے؟ ان لمحات میں، خاموشی گرجدار طریقے سے وہ بات بیان کرتی ہے جو الفاظ نہیں کر سکتے۔ یہ ایک پناہ گاہ بن جاتی ہے جہاں خیالات اور جذبات لسانی حدود سے آگے بڑھ جاتے ہیں۔

    خاموشی ایک طاقتور اعلان ہے، جو انسانی جذبات کی پیچیدگی کو تسلیم کرتی ہے۔ یہ مانتی ہے کہ کبھی کبھار، الفاظ ناکافی ہوتے ہیں۔ خاموشی کو اپنانے سے، ہم اپنے آپ کو یہ مواقع فراہم کرتے ہیں،
    خاموشی میں سکون کو تلاش کریں
    وہ بیان کریں جو الفاظ نہیں کر سکتے
    شور کے خلاف احتجاج کریں
    ان کہی خوبصورتی کو دریافت کریں
    ایک ایسی دنیا میں جو اکثر زبانی اظہار کو ترجیح دیتی ہے، خاموشی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ سب سے گہرے بیانات بے الفاظ ہو سکتے ہیں۔ اس کی تنوع اور گہرائی ہمیں ان کہی کی دولت کو دریافت کرنے اور خاموشی میں معنی تلاش کرنے کی دعوت دیتی ہے۔

  • بھارت میں ہندوتوا کی سیاست، ہندو دھرم پر نظریاتی حملے

    بھارت میں ہندوتوا کی سیاست، ہندو دھرم پر نظریاتی حملے

    بھارت میں ہندوتوا کی سیاست، ہندو دھرم پر نظریاتی حملے
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    ہندوتوا کے نظریے کو 1920 کی دہائی میں ساورکر نے متعارف کرایا تھا اور اس کے بعد سے یہ بھارت کی سیاست میں ایک اہم قوت بن چکا ہے۔ بھارت میں ہندوتوا کا نظریہ ایک سیاسی حکمت عملی کے طور پر سامنے آیا ہے جس کا ہندو دھرم کے اصولوں سے کوئی تعلق نہیں۔ ہندوتوا کو اکثر ہندو مت سے جوڑ دیا جاتا ہے حالانکہ یہ دونوں ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہیں۔ ہندو دھرم جو دنیا کے قدیم ترین مذاہب میں شمار ہوتا ہے، تنوع، شمولیت اور عدم تشدد پر مبنی ہے جبکہ ہندوتوا ایک قوم پرستانہ سیاسی نظریہ ہے جس کا مقصد ہندو مت کی مخصوص تشریح کو فروغ دینا اور بھارت کو ہندو راشٹر بنانے کا خواب دیکھنا ہے۔

    ہندو مت کے بنیادی اصول محبت، امن، ہم آہنگی اور ہر انسان کی روحانی آزادی پر مبنی ہیں۔ اس میں مختلف آرا اور روایات کے لیے کھلی گنجائش ہے، اور اہنسا (عدم تشدد)کو زندگی کے بنیادی اصول کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اس کے برعکس ہندوتوا کی سیاست نے ہندو دھرم کو تعصب، نفرت اور عدم برداشت کی راہ پر ڈال دیا ہے۔ ہندوتوا کے پیروکار مذہب کو ایک سخت نظریاتی اصول کے تحت دیکھتے ہیں جو بھارت کی اقلیتوں خصوصا مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف شدید تعصب پر مبنی ہے۔ہندوتوا کے زیر اثر، تاریخی اور مذہبی کتب کی تشریحات کو محدود کر کے مخصوص سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد بھارت میں ایک یکساں ہندو شناخت بنانا ہے، جس سے اقلیتوں اور مختلف روایات کو حاشیے پر دھکیلنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ہندو مت کے تنوع اور برداشت کو پس پشت ڈال کر، ہندوتوا کے نظریے نے معاشرتی تفرقہ اور مذہبی کشیدگی کو ہوا دی ہے۔

    بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی)کی حکومت اور خاص طور پر نریندر مودی کے دور اقتدار میں ہندوتوا کے نظریے کو زیادہ شدت کے ساتھ فروغ دیا گیا۔ اس کی مثالیں گجرات کے فسادات، ایودھیا میں بابری مسجد کے انہدام اور رام مندر کی تعمیر کے واقعات ہیں۔ مودی حکومت نے ہندوتوا کی سیاست کو عوامی حمایت کے لیے استعمال کیا، جس سے بھارت میں اقلیتوں کے خلاف تشدد اور نفرت انگیز تقاریر میں اضافہ ہوا۔2023 کی ایک رپورٹ کے مطابق مسلمانوں کے خلاف نفرت پر مبنی تقاریر میں 62 فیصد اضافہ ہوا۔ ان واقعات میں نہ صرف مسلمانوں کی جان و مال کو نقصان پہنچایا گیا بلکہ انہیں سیاسی مفادات کے لیے استعمال بھی کیا گیا۔ سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر ہندوتوا کی سیاست نے عام شہریوں کے ذہنوں پر اثر ڈالا جس کے نتیجے میں بھارت کی سیکولر بنیادیں کمزور ہوئیں۔

    ہندوتوا کے نظریے نے بھارت میں جمہوری اقدار اور سماجی ہم آہنگی کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ مذہب کو سیاست کا اکھاڑا بنا کر حکومت نے اقلیتوں کے ساتھ منصفانہ رویہ ترک کر دیا ہے۔ گا ئورکشا، لو جہاد، اور تبدیلی مذہب کے نام پر تشدد کے واقعات روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ریاستی ادارے اور عدلیہ بھی ان واقعات میں اکثر خاموش تماشائی بنے ہوئے نظر آتے ہیں۔

    بھارت میں ہندو انتہاپسندی کے بڑھتے رجحانات نے مسلمانوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ مسلمانوں کے کاروبار، جائیدادیں اور عبادت گاہیں مسلسل نشانہ بن رہی ہیں۔ بابری مسجد کے انہدام کے بعد سے مساجد کو مندر میں تبدیل کرنے کی ایک مخصوص مہم نے مسلمانوں کو مزید حاشیے پر دھکیل دیا ہے۔مودی حکومت کے دور میں گجرات فسادات، دہلی کے حالیہ واقعات اور متعدد دیگر واقعات بھارت میں مسلمانوں پر ظلم و ستم کی مثالیں ہیں۔ اقوام متحدہ اور عالمی برادری کی تشویش کے باوجود، مودی حکومت کے اقدامات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ یہ رویہ بھارت کی جمہوریت کو جھوٹا ثابت کر رہا ہے اور اقلیتوں کی زندگیوں کو مزید مشکلات کا شکار کر رہا ہے۔

    بھارت میں ہندوتوا کی سیاست اور اس کے اثرات کا مقابلہ کرنے کے لیے تعلیم، تنقیدی مکالمے اور سیکولر قدروں کی ترویج ضروری ہے۔ ہندو دھرم کے قدیم فلسفے کو اجاگر کرنا، جس میں تنوع اور برداشت کی قدریں شامل ہیں، ہندوتوا کے نظریے کی نفرت انگیزی سے نجات کا راستہ فراہم کر سکتا ہے۔ عالمی برادری کو بھی اس معاملے پر سخت نوٹس لیتے ہوئے بھارت کے ساتھ مثر سفارتی اور اقتصادی دبا بڑھانے کی ضرورت ہے۔

  • پاکستان میں جاری عدم استحکام، سیاست اور عالمی تناظر.تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان میں جاری عدم استحکام، سیاست اور عالمی تناظر.تجزیہ:شہزاد قریشی

    ملک میں جاری عدم استحکام ،سیاسی جماعتوں کے آپس میں تنازعات ،ان تنازعات سے پاکستان بطور ریاست اور بے بس لاچار عوام ۔جمہوریت سیاسی رہنمائوں کو پکار رہی ہے اب اس میں فتوے لگانے والوں نے بھی شمولیت اختیار کرلی ہے۔ فتویٰ تو ملاوٹ شدہ خوراک ادویات فروخت کرنے والوں پر لگانا چاہئے۔ فتویٰ صفائی نصف ایمان ہے ،جو اپنی دکانوں گلی محلوں کی صفائی نہیں کرتے جس کی وجہ سے آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ مخلوق خدا کی زندگیوں سے کھیلتے ہیں ان کے خلاف فتوے جاری کرنے کی ضرورت ہے۔ مگر افسوس علمائے کرام اور مشائخ ایک حدیث پر عمل کروانے سےقاصر ہیں ’’جس نے ملاوٹ کی ، وہ ہم میں سے نہیں۔‘‘ دین اسلام کا ذمہ اگر اللہ تعالیٰ نے نہ لیا ہوتا تو آج کا مسلمان اسے کب کا گنوا چکا ہوتا ۔مسلم امہ کا ہدف دین اسلام کی سربلندی نہیں ،اپنی ذاتی نفسیات خواہشات ذاتی مفادات کے گرد گھومتا ہے مسلم امہ کا ہر کام مذمت تک محدود ہے۔

    بین الاقوامی سیاستدان نئے امریکی صدر ٹرمپ کو اور ان کے دنیا کے ساتھ معاملات کو دیکھ رہے ہیں وہ نئے امریکی صدر بل کلنٹن بھی نہیں بائیڈن بھی نہیں ٹرمپ ہنری کسنجر کی طرح دانشور یا جمی کارٹر کی طرح شائستہ نہیں ہو سکتے لیکن کاروبار، سرمایہ کاری کے پس منظر سے آنے والے امریکہ جیسے سرمایہ دار ملک میں ان کے فائدے میں ہے، نئے امریکی صدر ٹرمپ تجزیہ کاروں کی زبان استعمال نہیں کرتا اور تجزیہ کار سیاستدانوں کی شائستگی یا چالبازی کے لئے نہیں جانا جاتا، ٹرمپ نے اپنے سابقہ دور صدارت میں دنیا بھر کے مسلمان ممالک کی حمایت حاصل کرنے کے لئے سعودی عرب کا انتخاب کیا تھا ٹرمپ کو اس وقت امریکی سیاستدانوں کی طرف سے تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا ایک بار پھر امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات مستحکم ہوں گے ٹرمپ دعویٰ کرتے ہیں کہ روس یوکرین جنگ، غزہ، لبنان کی جنگ کو ختم کروا سکتے ہیں تو امید کی جا سکتی ہے کہ ٹرمپ مشرق وسطیٰ کو نئی شکل دیں گے معاہدوں اور پابندیوں کے ذریعے دیکھیں گے جنگوں سے نہیں دیکھیں گے۔ مشرق وسطیٰ میں امن کی صورت میں پاکستان کا کردار بہت اہم ہوگا مشرق وسطیٰ میں امن قائم کرنے کے لئے سعودی عرب سمیت دیگر عرب ممالک میں پاکستان کا کردار بہت اہم ہوگا۔ مشرق وسطیٰ کو نئی تبدیلیوں کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ یاد رہےموجودہ امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے پہلے ادوار میں دنیا میں بغیر جنگ کے حکومت کی ہے

  • وی پی این کا استعمال،مگر ذرا احتیاط سے

    وی پی این کا استعمال،مگر ذرا احتیاط سے

    وی پی این ، ایک ایسا ٹول ہے جو انٹرنیٹ پر پرائیویسی اور سیکیورٹی کو بڑھانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ انٹرنیٹ کنکشن کو انکرپٹ کرتا ہے اور اصل آئی پی ایڈریس کو چھپاتا ہے تاکہ آن لائن سرگرمیوں کا پتہ نہ چل سکے۔ ایک رپورٹ کے مطابق اب دہشت گردوں نے بھی وی پی این کا استعمال کرنا شروع کر دیا ہے تو وہیں بھارت میں ایئر لائن کو دھمکیاں دینے والے بھی وی پی این کا ہی استعمال کر رہے ہیں تا کہ ان ملزمان تک نہ پہنچا جا سکے،

    پاکستان میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پابندی لگی ،کچھ ماہ سے ایکس بغیر وی پی این کے نہیں چل رہی، اب وی پی این کے حوالہ سے اسلامی نظریاتی کونسل نے بھی اعلامیہ جاری کیا ہے اور کہا ہے کہ وی پی این کا استعمال غیر شرعی ہے، آنے والے دنوں میں غیر قانونی وی پی این بند ہو جائیں گے اور یوں ایکس تک رسائی ممکن نہیں ہو گی،

    پاکستان میں غیر اخلاقی، فحش ویب سائٹس پی ٹی اے نے بلاک کر رکھی ہیں، بہت سے افراد وی پی این کا استعمال فحش مواد تک رسائی کے لیے بھی کرتے ہیں۔ جب ایک وی پی این کے ذریعے کنکشن کرتے ہیں تو ویب سائٹس اصل مقام اور شناخت نہیں جان پاتیں، اور بغیر کسی رکاوٹ کے فحش مواد دیکھا جاتا ہے، وزارت مذہبی امور نے بھی اس ضمن میں پی ٹی اے کو خط لکھا ہے جس میں کہا ہے کہ فحش مواد تک پاکستانیوں کی رسائی روکی جائے،

    وی پی این ایک انکرپٹڈ کنکشن فراہم کرتا ہے، لیکن اگر وی پی این کا فراہم کنندہ قابل اعتبار نہیں ہے یا اس کی سروس میں کمی ہے، تو ڈیٹا کی حفاظت میں کمی آ سکتی ہے۔ کچھ وی پی این سروسز ڈیٹا کو لاگ کر سکتی ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ آن لائن سرگرمیاں ٹریک کی جا سکتی ہیں، خصوصاً جب فحش مواد جیسے حساس مواد تک رسائی حاصل کر رہے ہیں۔غیر محفوظ وی پی این سروسز کے ذریعے انٹرنیٹ پر گھومنامالویئر اور وائرس کے خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ بعض اوقات وی پی این فراہم کنندہ ڈیوائس پر مالویئر انسٹال کر سکتا ہے یا غیر محفوظ سرور کے ذریعے ڈیٹا کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔اگرچہ وی پی این پرائیویسی کو بڑھاتا ہے، لیکن فحش مواد تک رسائی یا دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے اس کا استعمال قانونی مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ کئی ممالک میں فحش مواد کی پابندیاں سخت ہیں، اور وی پی این کا استعمال ایسی مواد کو دیکھنے کے لیے قانون کے تحت مشکلات میں ڈال سکتا ہے۔

    وی پی این کا استعمال فحش مواد تک رسائی کے لیے ایک اور مسئلہ پیدا کرتا ہے، اخلاقی اور معاشرتی اثرات، فحش مواد کو آن لائن دیکھنا کچھ افراد کے لیے تفریح کا ایک ذریعہ ہو سکتا ہے، لیکن اس کے منفی اثرات بھی ہو سکتے ہیں۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ فحش مواد کی زیادہ مقدار افراد کے ذہنی اور جسمانی صحت پر منفی اثر ڈال سکتی ہے، اور یہ بھی ایک نشے کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔وی پی این کے ذریعے فحش مواد تک رسائی اس قسم کے مواد کو دیکھنے کی آزادی دیتی ہے، لیکن ذہنی اور جسمانی صحت پر اس کے اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔فحش مواد کا زیادہ استعمال نفسیاتی مسائل، جیسے کہ جنسی تشویشات، تعلقات میں مشکلات، اور خود اعتمادی میں کمی کا باعث بن سکتا ہے۔ فحش مواد کا بار بار دیکھنا انٹرنیٹ کی لت میں تبدیل ہو سکتا ہے، جو روزمرہ زندگی اور کام کرنے کی صلاحیت کو متاثر کر سکتا ہے۔

    اگر وی پی این کا استعمال کرتے ہیں، تو اس بات کو یقینی بنائیں کہ منتخب کردہ وی پی این سروس کا فراہم کنندہ قابل اعتماد ہو اور اس کی سیکیورٹی پالیسیز مضبوط ہوں۔ یہ ضروری ہے کہ انٹرنیٹ کی سرگرمیوں کو محفوظ رکھیں، وی پی این کے استعمال سے پہلے ان تمام خطرات اور اخلاقی سوالات پر غور کرنا ضروری ہے۔اگر انٹرنیٹ کو محفوظ طریقے سے استعمال کرنا چاہتے ہیں، تو وی پی این کا استعمال ضروری ہو سکتا ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ اس کے منفی اثرات سے بچنے کے لیے احتیاط بھی کرنی چاہیے۔

  • موسمیاتی تغیر اور ہماری زراعت.تحریر:عقیل ملک

    موسمیاتی تغیر اور ہماری زراعت.تحریر:عقیل ملک

    ماحولیاتی تبدیلی کے زراعت خصوصاً گندم کی پیداوار پر اثرات کے حوالے سے کئی عالمی اداروں اور تحقیقاتی رپورٹس نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ کا ادارہ برائے خوراک و زراعت (FAO) اور انٹرنیشنل فوڈ پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (IFPRI) کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ موسمیاتی تبدیلیوں کا زرعی پیداوار پر نہایت منفی اثر پڑ رہا ہے۔ FAO کی 2022 کی ایک رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر گندم کی پیداوار میں کمی کی وجہ موسمیاتی تبدیلیاں اور ان سے وابستہ غیر متوقع موسمی حالات ہیں۔ اسی طرح ورلڈ بینک کی رپورٹ "کلائمیٹ چینج اینڈ ایگری کلچر” میں بھی یہ بات سامنے آئی کہ اگر ان موسمی تبدیلیوں کو کنٹرول نہ کیا گیا تو آنے والے سالوں میں گندم اور دیگر زرعی پیداوار میں 20 سے 30 فیصد کمی واقع ہو سکتی ہے۔ اس کمی کا سب سے زیادہ اثر پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک پر ہوگا جہاں زراعت مقامی معیشت اور غذائی سکیورٹی کا بنیادی ستون ہے۔

    انٹرگورنمنٹل پینل آن کلمیٹ چینج (IPCC) کی 2019 کی ایک رپورٹ میں یہ کہا گیا تھا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں جنوبی ایشیا جیسے علاقوں میں گندم کی پیداوار میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق درجہ حرارت میں ہر ایک ڈگری سیلسیس اضافے سے گندم کی پیداوار میں تقریباً 6 فیصد کمی کا امکان ہوتا ہے ۔ اس سال پاکستان میں سموگ اپنے وقت سے پہلے کئی علاقوں کا متاثر کر رہی ہے اور اس کے اثرات بھی سامنے آنا شروع ہوچکے ہیں۔ وقت پر بارشیں نہ ہونے کے سبب پانی کی کمی آج کے دور کا ایک انتہائی سنگین مسئلہ بنتا جارہا ہے اور یہ مسئلہ خاص طور پر گندم پیدا کرنے والے علاقوں میں شدت اختیار کر رہا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی، آبادی میں اضافے اور پانی کے غیر مؤثر استعمال کے نتیجے میں زیر زمین پانی کی سطح مسلسل نیچے جا رہی ہے جس سے آبپاشی کے وسائل سکڑتے جا رہے ہیں۔ پانی کی قلت کے سبب پاکستان جیسے زرعی ملک میں فصل کی پیداواری صلاحیت میں کمی واقع ہو رہی ہے۔

    اقوام متحدہ کا ادارہ برائے خوراک و زراعت (FAO) اور ورلڈ بینک کی رپورٹس میں زور دیا گیا ہے کہ پانی کے مؤثر استعمال کے لیے جدید آبپاشی کی تکنیکیں اپنانا وقت کی ضرورت ہے۔ لیکن ابھی تک تو پاکستان میں ڈرپ ایریگیشن اور اسپرنکلر سسٹم جیسی تکنیکیں کو مکمل طور پر پاکستان میں متعارف ہی نہیں کرایا جاسکا۔ پاکستان نے 2017 میں یہ سسٹم 26000 ایکڑ پر انسٹال کیا تھا جس کی وجہ سے پیداواری صلاحیت میں خاطر خواہ اضافہ دیکھا گیا تھا۔ اس کے مقابلے میں ساوتھ افریقہ اور چائنہ نے اس سسٹم کے ذریعے پیداواری صلاحیت میں خاطر خواہ اضافہ کیا ہے۔ FAO کے مطابق ڈرپ ایریگیشن سسٹم میں پانی کی بچت روایتی آبپاشی کے مقابلے میں تقریباً 30 سے 50 فیصد زیادہ ہوتی ہے جس سے نہ صرف پانی کی بچت ہوتی ہے بلکہ پیداوار میں بھی بہتری آتی ہے۔ انٹرنیشنل واٹر مینیجمنٹ انسٹی ٹیوٹ (IWMI) نے بھی اپنی تحقیق میں نشاندہی کی کہ اگر پانی کی بچت کے لئے جدید طریقے استعمال نہ کیے گئے تو گندم سمیت دیگر زرعی پیداوار پر خطرناک اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ پانی کی بچت کے لیے مؤثر حکمت عملی، جیسے پانی کی دوبارہ کارآمدی اور زمین کی نمی کو برقرار رکھنے کے طریقے اپنانے سے نہ صرف پیداوار میں استحکام لایا جا سکتا ہے بلکہ پانی کی قلت کے مسئلے کو بھی حل کیا جا سکتا ہے۔

    ایک اور مسئلے نےبھی کاشت کاروں کو پریشان کر رکھا ہے کہ افراطِ زر اور شرح سود میں اضافے کے باعث پاکستان میں بیج، کھاد اور کیڑے مار دواؤں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے جس سے چھوٹے اور متوسط درجے کے کسانوں کو شدید مالی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ زرعی اخراجات میںیہ اضافے نے نہ صرف پیداوار کی لاگت کو بڑھا رہا ہے بلکہ پیداوار کے معیار پر بھی منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ محدود مالی وسائل رکھنے والے چھوٹے کسانوں کے لئے یہ اخراجات برداشت کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں پیداوار میں کمی کا سامنا بھی کرنا پڑسکتا ہے اور گندم کی طلب کو پورا کرنے کے لئے گزشتہ برسوں کی نسبت پاکستان کے زر مبادلہ کا بیشتر حصہ دوسرے ممالک سے گندم کی خریداری پر خرچ کرنا پڑے گا۔

    FAO کی حالیہ رپورٹ کے مطابق دنیا کے ترقی پذیر ممالک میں 70 فیصد کسان چھوٹے کسانوں کی کٹیگری میں آتے ہیں جنہیں جدید زرعی وسائل تک رسائی حاصل نہیں۔ پاکستان میں زراعت، خاص طور پر گندم کی پیداوار، حکومتی پالیسیوں کی کمزوریوں کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہے۔ موسمیاتی تبدیلی، پانی کی کمی اور زرعی اخراجات میں اضافے جیسے مسائل کے باوجود حکومت کی طرف سے مؤثر مدد اور مالی امداد فراہم نہیں کی جا رہی جس سے کسانوں کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (PIDE) اور ورلڈ بینک کی رپورٹس کے مطابق حکومتی پالیسیوں میں تسلسل اور سبسڈی کی کمی نے کسانوں کی پیداواری صلاحیت کو محدود کردیا ہے۔ کسانوں کو مالی مدد سبسڈی اور جدید زرعی سہولیات تک رسائی فراہم کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ وہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا بہتر مقابلہ کر سکیں اور ملک میں غذائی خود کفالت کو یقینی بنا سکیں۔پانی کے مسئلے سے نمٹنے کے لئےحکومت نے سولر انرجی پر ٹیوب ویل چلانے کے لیے ایک پروگرام شروع کیا جو ایک اچھا اقدام ہے مگر اس پروگرام کی حقیقت یہ ہے کہ اس کے فوائد زیادہ تر بڑے کسانوں تک محدود ہیں۔ یہ کسان پہلے سے مالی طور پر مضبوط ہیں اور ٹیوب ویل کے اخراجات برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس کے برعکس چھوٹے کسان جو زراعت کے شعبے کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اس پروگرام سے مکمل طور پر محروم ہیں۔ حکومت کی طرف سے اس پروگرام میں چھوٹے کسانوں کو نظر انداز کرنا ایک امتیازی سلوک ہے جو اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ زرعی ترقی کے لیے پالیسیاں صرف بڑے زرعی سرمایہ داروں کے مفاد میں بنائی جا رہی ہیں۔ چھوٹے کسانوں کے لیے اس پروگرام تک رسائی دکھائی نہیں دے رہی۔ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اگر چھوٹے کسانوں کو نظر انداز کیا جائے گا تو زرعی ترقی کا خواب کبھی حقیقت نہیں بنے گا

  • جب کیمبل پور جل رہا تھا ،تبصرہ نگار ۔ڈاکٹر شجاع اختر اعوان

    جب کیمبل پور جل رہا تھا ،تبصرہ نگار ۔ڈاکٹر شجاع اختر اعوان

    تقسیم ہند سے پہلے جن شہروں کو محبت کے ساتھ بسایا گیا ان میں لائل پور، جیکب آباد، ایبٹ آباد، منٹگمری اور کیمبل پور جیسے شہر خوبصورت ترین شہروں میں شمار کیے جاتے ہیں
    1947 میں جب بٹوارہ ہوا تب پورا پنجاب جل اٹھا تھا یہ بات بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ کیمبل پور کی تاریخ بھی خاک اور خون سے بھری ہوئی ہے لیکن اس تاریخ پر وقت کی دھول کچھ اس طرح بیٹھ چکی تھی کہ عام آدمی کی رسائی اس خونچکاں منظر تک نہیں پہنچ سکتی تھی حال ہی میں کیمبل پور اٹک سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان محقق جناب طاہر اسیر نے اس تاریخ سے پردہ اٹھایا اور ہمارے سامنے ایک کتاب بہ عنوان جب کیمبل پور جل رہا تھا، سامنے لے آئے، یہ کتاب اپنے موضوع کے اعتبار سے اتنی منفرد اور یکتا ہے کہ اس سے پہلے تقسیم ہند پر اس خطہ خاک پر کوئی دستاویز سامنے نہیں آئی فاضل محقق نے اس دستاویز کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے .

    پہلا حصہ کیمبل پور شہر کو بسائے جانے اور اس کی خوبصوتیوں سے متعلق ہے، محقق نے بڑے احسن طریقے سے قدیم کیمبل پور شہر کے روشن خدوخال نمایاں کیے ہیں 1911 میں ہونے والی مردم شماری سے لے کر 14 ۔اگست 1947 کے بٹوارے تک کیمبل پور کے حسن میں اضافہ کرنے والے مندر چوک، منگ لدھا چوک، گیڈر چوک، کراچی ہوٹل، تولہ رام پیلس اور حویلی جگن کشور کا جہاں ذکر کیا گیا ہے وہیں پرانے شراب خانے سونامینا، قدیم درختوں، گورنمنٹ کالج کیمبل پور کے پروفیسروں، سردار پریم سنگھ، ایشرسنگھ، ایش کمار پر بھی قلم اٹھایا گیا ہے، پرانے احوال و آثار میں ہندووں کا سکول، این پی ٹی بس سٹینڈ، بھولے بسرے کوچوان، تانگوں کے مستری، کیمبل پور جنکشن، بمبی ایکسپریس اور اندرون شہر مزارات کو نہایت تحقیق کے ساتھ فاضل محقق نے صفحہ قرطاس پر بکھیر دیا ہے، اسی تاریخی دستاویز میں ہمیں بتایا گیا ہے کہ محبتوں بھری اس بستی میں تقسیم سے پہلے کتنی محبت، امن اور بھائی چارے کی فضا ہوا کرتی تھی، دیوالی، بسنت، ہولی اور دسہرا جیسے تہوار کس قدر محبتوں سے منائے جاتے تھے ، شہر کے زندہ کرداروں میں جیتا رام، بی آر سہگل، جونا سنگھ، پنڈت بھوپال چند بلبیر سنگھ اور لالا فقیر چند ایڈوکیٹ اس شہر کی رونق تھے آج ہمیں آریا سماج مندر، سیتا رام مندر، گردوارہ ڈی بلاک، گردوارہ گوبند صاحب اور وہ مرکزی گردوارہ دکھائی نہیں دیتا جو تقسیم ہند سے پہلے موجود تھا

    مختصر یہ کہ پہلا باب اس شہر کے حسن و جمال کو بیان کرتا ہے فاضل محقق نے دوسرے اور تیسرے باب میں ہندو مسلم فسادات کی لرزہ خیز داستان بیان کی ہے، ان ابواب میں لکھا گیا ہے کہ کتنی ہندو اور سکھ لڑکیوں کا اغوا ہوا، کتنی ہی بیٹیاں قتل ہو گئیں اور کیسے کیسے ہنستے بستے گھر اجڑ گئے، کس طرح محبتوں بھری بستی میں نفرت کی دیواریں کھڑی ہو گئی تھیں اور کون سوچ سکتا تھا کہ محبتیں نفرت میں بدل جائیں گی، مندروں پر حملے ہوں گے، کیمبل پور کے کنویں لاشوں سے بھر جائیں گے، یہی سچ ہے اور یہی صداقتیں ہمیں اسی کتاب میں دکھائی دیتی ہیں

    جب بٹوارہ ہو چکا تو لوگوں نے کس طرح املاک پر قبضے کیے جھوٹے فرضی کلیم داخل کروائے گئے قیمتی جائیدادیں رشوت کے ذریعہ ہتھیا لی گئیں، فقیر امیر ہو گئے اور اجڑ کے آنے والے نواب اپنی قسمت کو پیٹتے ہوئے تہی دامن رہ گئے

    اب وقت آ گیا ہے کہ ہر صاحب شعور کو اپنے ماضی کی خوبصورتی اور بدصورتی کو سامنے رکھنا ہوگا اور کھلے دل کے ساتھ حقائق تسلیم کرنا پڑیں گے میں نے اس کتاب کو ہر حوالے سے منفرد اور مستند پایا ہے ایک قیامت تھی جو اس شہر پہ گزر گئی تھی بقول احمد علی ثاقب بٹوارہ محبت کا ہو یا نفرت کا دونوں صورتوں میں قیامت خیز ہوتا ہے یہ کالم لکھتے ہوئے مجھے استاد دامن کے دو شعر یاد آ رہے ہیں

    لالی اکھاں دی صاف پئی دسدی اے
    روئے تُسی وی او روئے اسی وی آں
    انہاں آزادیاں ہتھوں برباد ہونا
    ہوئے تسی وی او ہوئے اسی وی آں