Baaghi TV

Category: بلاگ

  • اسرائیل اور حزب اللہ جنگ نہیں چاہتے لیکن…

    اسرائیل اور حزب اللہ جنگ نہیں چاہتے لیکن…

    اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان حالیہ دشمنی جاری تنازعہ میں ایک قابل ذکر اضافہ کی نمائندگی کرتی ہے۔ اتوار کی صبح، اسرائیلی فوج نے ایک فضائی مہم شروع کی، جس میں تقریباً 100 لڑاکا طیارے تعینات کیے گئے تاکہ جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے اہداف پر پہلے سے حملہ کیا جا سکے۔ یہ حملہ اگر رپورٹ کردہ اعداد و شمار درست ہیں، تو یہ 2006 کی اسرائیل حزب اللہ جنگ کے بعد لبنان میں سب سے زیادہ بڑی اسرائیلی کارروائی ہے۔ یہ حملے مقامی وقت کے مطابق تقریباً 04:30 (01:30 GMT) پر ہوئے، اسرائیل نے دعویٰ کیا کہ حزب اللہ صرف 30 منٹ بعد اسرائیل کے سب سے بڑے شہر تل ابیب کو نشانہ بناتے ہوئے ایک بڑے حملے کی منصوبہ بندی کر رہی تھی،اسرائیلی حملے کے جواب میں کاروائی کرتے ہوئے حزب اللہ نے شمالی اسرائیل میں فوجی مقامات پر 300 سے زیادہ راکٹ اور میزائل داغے، جس سے پورے خطے میں فضائی حملے کے سائرن بج گئے۔ اس اقدام نے ممکنہ ہمہ گیر جنگ کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔ حزب اللہ کا کہنا ہے کہ یہ حملے 30 جولائی کو بیروت میں سینیئر کمانڈر فواد شکر کے قتل کے بدلے کا صرف پہلا مرحلہ ہے، جس کی بڑی وجہ اسرائیل سے منسوب کی جاتی ہے۔ اگلے دن تہران میں حماس کے سیاسی رہنما اسماعیل ھنیہ کے قتل سے صورتحال مزید بھڑک اٹھی، اس کا ذمہ دار بھی اسرائیل کو ہی ٹھہرایا جا رہا ہے

    غزہ کے تنازعے کو وسیع تر علاقائی جنگ میں پھیلنے سے روکنے کے لیے کئی ہفتوں سے سفارتی کوششیں جاری ہیں، لیکن اب تک یہ اقدامات جنگ بندی یا یرغمالیوں کی رہائی کا معاہدہ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اسرائیل کی فوج نے غزہ میں حماس اور لبنان میں حزب اللہ دونوں کے خلاف دو محاذوں پر جنگ میں حصہ لینے کے لیے اپنی تیاری کا اعلان کیا ہے، تاہم 150,000 راکٹوں اور بہترین تربیت یافتہ جنگجوؤں کے ہتھیاروں کی وجہ ایک زیادہ اہم چیلنج ہے۔جن میں سے بہت سے شامی تنازعے کا جنگی تجربہ رکھتے ہیں
    یہ اس تنازعہ سے کیسے نکلیں گے، وقت بتائے گا
    نوٹ: بی بی سی کی خصوصی رپورٹ سے تحقیق کی گئی ہے

  • نتاشہ کا کیا ہوگا …… تحریر:محمد نورالہدیٰ

    نتاشہ کا کیا ہوگا …… تحریر:محمد نورالہدیٰ

    کراچی میں کارساز کے مقام پر امیرزادی نتاشہ کی طوفانی رفتار لینڈ کروزر سے ہلاک ہونے والے افراد کے بعد اگرچہ ملزمہ پولیس کسٹڈی میں ہے۔ لیکن بااثر طبقات کی جانب سے وقوع پذیر ہونے والے ایسے کیسز اور واقعات کی شہرت کو مدنظر رکھتے ہوئے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ملزمہ نتاشہ وہاں کتنے سکون میں ہوگی۔ گو کہ اس کیس میں کراچی پولیس کا متاثرین کے ساتھ رویہ اور برتاؤ حیرت انگیز طور پر قابل تحسین ہے، پولیس حکام کے ساتھ ساتھ صوبے کے اہم حکومتی عہدیداروں نے بھی لواحقین کو انصاف کی یقین دہانی کروائی ہے …… لیکن ہائی پروفائل کیسز میں پولیس، قانون یا مجموعی طور پر جوڈیشل سسٹم کو بھلا کون خاطر میں لاتا ہے؟۔ ہمارے قانون کے اندر بھی ایک قانون موجود ہے جو ایسے اثر رسوخ رکھنے والوں کے تحفظ کی راہ نکالتا ہے۔ ریمنڈ ڈیوس، شاہ رخ جتوئی، مجید اچکزئی اور نجانے ایسے کتنے ہی نام ہیں جنہوں نے اپنی معاشرتی پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمارے قانون اور نظامِ انصاف کی آزادی اور شفافیت کو عیاں کیا۔

    کارساز میں باپ بیٹی کو کچلنے والی نتاشہ کی مالی حیثیت بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی۔ بڑی بڑی کمپنیوں کے اہم عہدوں پر فائز اس خاتون سے جب واقعہ سرزد ہوا تو اس کے وکلاء اور ڈاکٹرز کی جانب سے کبھی نفسیاتی، کبھی ذہنی دباؤ کا شکار، کبھی انٹرنیشنل ڈرائیونگ لائسنس ہولڈر اور کبھی کچھ اور تاویلیں گھڑ کے معاملے کی سنگینی کو کم کرنے کی کوشش کی گئی۔ بات بنتی دکھائی نہ دی تو موصوفہ کو درمیانی راستہ دینے کیلئے ایسے مزید حربے بھی استعمال کئے گئے۔ دوسری جانب نتاشہ کی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں بھی واضح ہے کہ ملزمہ کو اپنے کئے پر کوئی شرمندگی نہیں ہے اور وہ قانون کو انگلیوں پر نچانے کا یقین رکھے ہوئے ہے۔ ملزمہ کا اطمینان بھی بتا رہا ہے کہ وہ ایسا کرنے میں کامیاب رہے گی اور جلد وکٹری کا نشان بنا کر نظامِ انصاف کا منہ چڑا رہی ہوگی۔

    وکیل کا کہنا ہے کہ نتاشہ فیملی، متاثرہ فیملی کو قانونی طور پر متعین کردہ 68 لاکھ روپے دیت فی فرد کے حساب سے ادا کرنے کو تیار ہے۔ یہ بگڑے ہوئے رئیس دیت کے اسلامی قانون کا فائدہ اپنے مقاصد کیلئے کتنی آسانی سے اٹھا لیتے ہیں، اس کا اندازہ ہمیں اس طرز کے سابقہ کیسز سے بخوبی ہوجاتا ہے۔ المیہ تو یہ بھی ہے کہ ہمارے نظام عدل کے رکھوالے بھی اس طرح کے ”چھوٹے موٹے“ کیسز پر اپنا حق ادا نہیں کرتے، بلکہ عوامی مسائل کی بجائے غیر ضروری مسائل پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ ہمارے صحافی دوست نوید چوہدری نے ایسے طرزِ عمل پر کیا خوب تبصرہ کیا ہے کہ ”جس معاشرے میں زندگی لڈو کا کھیل بن جائے اور ریاست کا تمام نظام سانپ کو بچانے نکل پڑے، وہاں صرف سانپوں کا راج ہو سکتاہے“۔ ایسے واقعات میں عام تاثر یہی دیا جاتا ہے کہ لواحقین جھک گئے اورانہوں نے ملزم کو معاف کر دیا۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔ متاثرین کو سرنڈر ہونے پر مجبور کیا جاتا ہے اور نظام عدل انہیں تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہتا ہے۔ قانون بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے سے ہچکچاتا ہے۔ ایسے میں غریب کے پاس طاقتور کی بات ماننے کے علاوہ کوئی آپشن بھی نہیں بچتی۔

    نتاشہ جیسی حیثیت کے افراد کے کیسز میں بالخصوص جوڈیشل سسٹم کا کردار ہمیشہ ہی سوالیہ نشان رہا ہے۔ متاثرین کے خون کی قیمت لگانا ”بڑے لوگوں“ کا بائیں ہاتھ کا کام ہے۔ انصاف کو یہ اپنے گھر کے دربان سے زیادہ کی حیثیت نہیں دیتے۔ ایسے میں ”نتاشہ کا کیا ہوگا“، اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی ضرورت نہیں۔ البتہ اس رویے میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے کہ جب قانون کا واسطہ کسی اثر و رسوخ رکھنے والے سے پڑ جائے تو قانون معمول کے تقاضے پورے کرنے سے نجانے کیوں خوفزدہ ہو جاتا ہے۔ ہمارا نظام عدل خودمختار اور بااختیار ہو تو ہمیں یہ دن نہ دیکھنے پڑیں۔

    یہ امر بھی حقیقت پر مبنی ہے کہ ہمای بھولی بھالی قوم ہر کیس میں انصاف کی امید لگا لیتی ہے۔ موجودہ کیس پر بھی پورے پاکستان کی نظریں ہیں۔ حالانکہ ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھیں تو یہ کیس آغاز سے ہی اختتام پذیر ہو چکا ہے۔ دنیا کو دکھانے کیلئے صرف فارمیلیٹی پوری کی جا رہی ہے۔ جب نتاشہ کا میڈیا ٹرائل کچھ تھمے گا اور ہمیں دیگر عنوانات میں الجھا دیا جائے گا تو ہم بھی یہ موضوع بھول کر حالات کی رو میں بہنا شروع ہو جائیں گے اور متاثرین دل پر جبر کر کے خاموش رہنے پر مجبور ہو جائیں گے، کیونکہ ہمارے نظام میں مظلوم کی داد رسی کی کوئی شق شامل نہیں ہے۔ طاقتور اور کمزور کے درمیان تفریق کرنے والا نظام نجانے کب تبدیل ہوگا اور ہمارا نظام عدل کب درست طریقے سے اپنا کردار ادا کر پائے گا، اس سوال کا جواب تلاش کرتے کتنی نسلیں گزر گئیں اور مزید نجانے کتنی گزر جائیں گی۔
    منفی افعال ملک کی جڑیں کھوکھلی کررہے ہیں اور ہم گذشتہ 77 سال سے یہ سب برداشت کررہے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم لوگ ایک قوم ہیں یا ایک ہجوم …… کیا ہماری وقعت

  • بلوچستان دہشتگردی نے ہر محب وطن پاکستانی کو ہلا دیا.تجزیہ:شہزاد قریشی

    بلوچستان دہشتگردی نے ہر محب وطن پاکستانی کو ہلا دیا.تجزیہ:شہزاد قریشی

    گوادر پورٹ کی تعمیر پر بھارت کومروڑ اٹھ رہے،گھٹیا پن پر اترآیا
    معصوم شہریوں کا قتل عام،خوف وہراس پھیلانے کی بھونڈی سازش
    پاک فوج نے وطن عزیز کو محفوظ بنانے کے لئے اپنا کردار ہردم اداکیا

    بلوچستان میں دلخراش واقعات نے ہلا کر رکھ دیا، بلوچستان میں بدامنی پھیلانے کی وجوہات کیا ہیں؟ اصل وجہ گوادر پورٹ کی تعمیر ہے، بھارت سمیت وطن عزیز کے قریبی ہمسایہ ممالک اور کچھ بین الاقوامی طاقتیں جنہیں چین کا یہ منصوبہ ہضم نہیں ہو رہا وہ بلوچستان میں ان واقعات میں ذمہ دار ہو سکتے ہیں، دنیا کے ممالک کے درمیان نئی تجارتی منڈیوں ،سمندری زمینی فاصلوں کی کمی سستی تجارت پر سردجنگ زوروں پر ہے، چین کے مغربی علاقوں میں کوئی سمندر نہیں اورگوادر پورٹ چین کے مغربی علاقوں تک واحد راستہ ہے ، چین اور پاکستان اس سے فائدہ اٹھانے کے لئے کاشغر تا گوادر ایک اقتصادی راہداری بنانے کے منصوبہ پر عمل پیرا ہیں،چین اور پاکستان کے اس عظیم الشان منصوبے سے پاکستان مخالف قوتیں اور چندقریبی ہمسایہ ممالک کے پیٹ میں مروڑ اٹھتے ہیں اس لئے وہ بلوچستان میں دہشت گردی کے ذریعے خوف و ہراس پھیلارہے ہیں،

    میرا سوال ان نام نہاد سیاستدانوں اور نام نہاد انسانی حقوق کے علمبرداروں سے ہے کیا دنیا کا کوئی ملک اپنی سلامتی یا قومی سلامتی پر حملہ آوروں یا اس مکروہ سازش میں ملوث افراد کو اجازت دیتا ہے ؟ ضرب عضب ہویا ردالفساد اور اب استحکام پاکستان یہ سب وطن عزیز کی سلامتی اور قوم کے مفاد پر مبنی تھے اور ہیں،ان دلخراش واقعات کے پیش نظر پاک فوج اور جملہ اداروں پر بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ وطن عزیز کو محفوظ بنانے کے لئے اپنا کردار ادا کرتے رہیں، پاک فوج اور جملہ اداروں کے ساتھ ہماری قومی سیاسی جماعتوں کے قائدین پربھی اس وطن عزیز کے لئے کردارادا کرنا اولین فریضہ ہے، جس طرح اپنے وزارت عظمی کے دوران میاں محمد نواز شریف نے قوم کے اتحاد اور سلامتی کے لئے بلوچستان میں اپنا اور اپنی جماعت کا اقتدار قربان کیا بلوچستان میں عوامی حکومت بنائی گئی ان لوگوں کو حکومت دی گئی جو سرداروں میں سے نہیں تھے،

    پاکستان کے موجودہ حالات کسی ایسے سیاسی لیڈر شپ کا تقاضا کرتے ہیں جو دشمنوں کے عزائم کو روک سکتا ہے یا دشمن کی سازش کو ناکام بنا سکتا ہے، ایک مضبوط سیاسی رہنما سلامتی اور استحکام کو نافذ کرتا ہے افراتفری سے بچاتا ہے ، کسی رہنما کے لئے صرف طاقت ہی کافی نہیں ہے اہم بات یہ ہے کہ وہ اپنی طاقت کو کیسے چلاتا ہے ملک کے اور عوام کے لئے اس کا وژن کیا ہے، ایک زیرک سیاستدان اپنے ملک کے دفاع کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت کو مستحکم کرنے میں کردار ادا کرسکتا ہے۔

  • نہتے پولیس اہلکاروں کی شہادت،انتظامیہ کی کارکردگی،سنجیدگی پر سوالات،تجزیہ: شہزاد قریشی

    نہتے پولیس اہلکاروں کی شہادت،انتظامیہ کی کارکردگی،سنجیدگی پر سوالات،تجزیہ: شہزاد قریشی

    کچے کے علاقہ میں پولیس کے نہتے اہلکاروں کی شہادت نے جہاں پوری قوم کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے وہاں وزارت داخلہ سے لے کر ضلعی پولیس انتظامیہ تک کی کارکردگی اور سنجیدگی پر سوالات کھڑے کردئیے ہیں ۔ کچے کا علاقہ جو کہ سندھ اور پنجاب پر پھیلا ہوا ہے وہاں پر ڈاکو راج کسی بھی حکومت خواہ وہ صوبائی ہو یا مرکزی، سے بالکل پوشیدہ نہیں تھا لیکن تساہل پسندی ،عہدوں سے لطف اندوزی ، فیلڈ میں ناتجربہ کار افسران کی سفارشو ں پر تعیناتیاں ، حقائق سے چشم پوشی ،کچے کے علاقے میں کچے اور ناتجربہ کار افسران کو عہدوں سے نوازنا اور سابقہ آپریشن کے تجربات کو سرد خانوں میں ڈمپ کرنا شامل ہیں۔

    آج پاکستان کو استحکام پاکستان کا جو چیلنج درپیش ہے اور اس چیلنج کو ہمارے آرمی چیف سید عاصم منیر اور وزیراعظم اور مقتدر حلقوں نے جس دلیری سے قبول کیا ہے وہ قابل ستائش ہے لیکن کچہ کے علاقے میں پولیس کے قتل عام نے تقاضہ کیاہے کہ آج جنرل نصیر اللہ بابر مرحوم جیسا وزیر داخلہ چاہیئے ۔ڈاکٹر شعیب سڈل جیسا پولیس کمانڈر اور میاں نواز شریف جیسا لیڈر چاہیئے جو اپنی ذات اور اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈال کر کراچی جیسے بدامنی کے گھمسان کو امن کا گہوارہ بنانے کا جذبہ رکھتے تھے۔ حال ہی میں سائوتھ پنجاب کے سابق آئی جی نے بھی کچہ کے علاقے میں چھوٹو گینگ کے خلاف کامیاب آپریشن کیا تھا اور عہدے سے سبکدوش ہونے سے پہلے انہوں نے ذرائع کے مطابق ایک جامع رپورٹ اس وقت کے وزیراعلی پنجاب اور وزیراعظم پاکستان جناب میاں شہباز شریف کو ( جو اب بھی وزیراعظم ہیں) ارسال کی تھی ۔ کیا ان کی سفارشات اور تجاویز کو نیکٹا میں زیر غورلایا گیا ۔ کوئی معلوم نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ استحکام پاکستان کا عزم ایک نعرے کا نام نہیں جو کہ آرمی چیف نے لگا دیا ۔

    میں نے اپنے سابقہ کالموں میں بھی لکھا ہے کہ استحکام پاکستان کے سفرمیں سفارش ،مفادات پرست ،تساہل پسند اور کرپٹ ہمسفروں کی کوئی جگہ نہیں ہے ۔ وزارت داخلہ سے ہوم ڈیپارٹمنٹ اور آئی جی سے تھانہ تک ، سفارش ، بدعنوانی ،رشوتیں دے کر عہدے خریدنے اور میرا ڈی پی او ، تیرا سی پی او والا کلچر ختم کرنا ہوگا۔ اگر ان مصلحتوں سے بالاتر ہو کر عمل نہ کیا گیا تو پھر راولپنڈی ڈویژن جیسے علاقے بھی کچے کے علاقے میں بدلتے جائیں گے اور پردہ اٹھتا جائے گا کہ فلاں ا فسر ماتحت ایس ایچ او کی سفارش پر لگا تھا اور فلاں ایس ایچ او کو ضلعی افسر نے عدالتی کارروائی سے بچانے کے لئے معطل کرکے بچا لیا تھا۔ تمام خفیہ ایجنسیوں کو متحرک ہو کر کام کرنا ہوگا ورنہ پوراپنجاب کچے کے افسروں کے ہاتھوں کچے کا علاقہ بن جائے گا۔

    اللہ کا واسطہ مجھے بچا لیں، ماچھکہ میں ڈاکوؤں کے ہاتھوں یرغمال پولیس اہلکار کی دہائی

    اطلاع دیں،ایک کروڑ انعام پائیں، خطرناک ڈاکوؤں کی تصاویر جاری

    رحیم یار خان،پولیس اہلکاروں کی شہادت پر مقدمہ درج

    کچے کے علاقے میں شہید 12 پولیس اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا

    رائفل پکڑ لو لگتا ہے آخری ٹائم ہے،حملے سے قبل پولیس اہلکاروں کی ویڈیو وائرل

    پنجاب پولیس کی جوابی کارروائی،حملے کا مرکزی ملزم بشیر شر ہلاک

  • لبنان کے خلاف جنگ اور مسائل

    لبنان کے خلاف جنگ اور مسائل

    حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازعہ لبنان میں گہرے مالی اور سیاسی عدم استحکام کے پس منظر میں سامنے آ رہا ہے۔ ملک اب بھی 2019 کی مالی تباہی کے شدید نتائج سے دوچار ہے، جس نے اس کی معیشت کو ابتر حالت میں چھوڑ دیا ۔ اس تنازعے کی وجہ سے جنگ میں بڑھنے کے امکانات کی وجہ سے لبنان کے لیے اہم خطرات لاحق ہیں، جو اس کی پہلے سے نازک صورت حال کو مزید خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

    لبنان دنیا میں پناہ گزینوں کی فی کس سب سے بڑی آبادی میں سے ایک ہے، ملک میں تقریباً 1.5 ملین شامی باشندے رہتے ہیں۔ ان پناہ گزینوں میں سے تقریباً نصف سرکاری طور پر اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین میں رجسٹرڈ ہیں۔ تقریباً 4 ملین کی مقامی آبادی کے ساتھ، پناہ گزینوں کی آمد نے لبنان کے وسائل اور بنیادی ڈھانچے پر بہت زیادہ دباؤ ڈالا ہے۔ جیسے جیسے عالمی توجہ دیگر بحرانوں کی طرف مبذول ہو رہی ہے، شامی مہاجرین کی صورتحال کے لیے بین الاقوامی امداد کم ہوتی جا رہی ہے۔ مختلف سیاسی نظریات کے باوجود، لبنانی رہنماؤں کے درمیان اس بات پر اتفاق ہے کہ شامی پناہ گزینوں کو بالآخر شام واپس جانا چاہیے۔ "جیسا کہ افغان مہاجرین کو افغانستان واپس بھیجا جا رہا”

    حال ہی میں اسرائیل کی فوج کی طرف سے حزب اللہ کے ہتھیاروں کے ذخیرے کو نشانہ بنانے کے دعوے کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہوا ۔ تاہم، لبنان کی وزارت صحت نے اطلاع دی ہے کہ حملے میں ایک رہائشی علاقے کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک خاتون اور اس کے دو بچے ہلاک اور پانچ دیگر زخمی ہوئے۔ جواب میں حزب اللہ نے اسرائیل پر جوابی راکٹ فائر کئے اور ڈرون حملے شروع کیے۔

    اکتوبر 2023 میں غزہ میں اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کے آغاز کے بعد سے،جوحماس اور دیگر فلسطینی گروپوں کے اسرائیل پر حملوں کا ردعمل تھا، تقریباً 200,000 لوگ بلیو لائن کے ساتھ بے گھر ہو چکے ہیں جو جنوبی لبنان اور شمالی اسرائیل کو الگ کرتی ہے۔ 2024 تک لبنان میں انسانی امداد کے محتاج افراد کی تعداد بڑھ کر 3.7 ملین ہو گئی تھی، جن میں بحران سے متاثرہ لبنانی، شامی، فلسطینی اور دیگر تارکین وطن شامل تھے۔ جاری تنازعہ نے لبنانی ریاست کی اپنے سیاسی، اقتصادی اور سیکورٹی چیلنجوں سے نمٹنے کی صلاحیت کو بری طرح کمزور کر دیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا اس صورتحال سے بچا جا سکتا ہے اور اگر ایسا ہے تو خطے میں امن قائم کرنے کے لیے ثالث کے طور پر کون آگے بڑھے گا؟

  • پاکستان میں تعلیمی نظام منافع بخش کاروبار کیوں؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    پاکستان میں تعلیمی نظام منافع بخش کاروبار کیوں؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    عالمی یونیورٹیوں کی اکیڈمک ریکنگ 2024 میں یورپی اور امریکی یونیورسٹیوں کا غلبہ رہا۔U) (ARW کے مطابق 2024 امریکہ کی کیمبرج میں واقعہ ہارورڈ یونیورسٹی نے مسلسل 22 سال سہر فہرست مقام حاصل کیا۔ دو اور امریکی ادارے سیٹنورڈ یونیورسٹی اور میسا چوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی ہیں ۔ رپورٹ کے مطابق امریکہ ، برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک کی یونیورسٹیوں کا غلبہ رہا۔ غلبے کی وجہ ان ممالک نے اقراء پر عمل کیا۔ ان اداروں میں پڑھانے والے پروفیسرز اپنی بھرپور توجہ اپنے اداروں پر اور پڑھنے والے بچے اور بچیوں پر دیتے ہیں۔ مسلم دنیا سمیت پاکستان کے پروفیسرز اور سکولوں کے اساتذہ کی بھرپور توجہ پرائیویٹ سکول او رکالجز پر ہوتی ہے جہاں آمدن کے ذرائع زیادہ ہوتے ہیں۔ ملک کے گلی کوچو ں میں پرائیویٹ سکولوں اور کالجوں کی بھرمار ہے جو منافع بخش کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ سرکاری سکولوں اور کالجوں میں پڑھانے والوں کی سرپرستی میں یہ کاروبار اپنے عروج پر ہے۔ جس ملک میں تعلیمی اداروں کو منافع بخش کاروبار میں تبدیل کردیا جائے اس کی عالمی ریکنگ کیا ہوگی ؟ محکمہ تعلیم کے اعلیٰ افسران بھی اس منافع بخش کاروبار میں ملوث ہیں۔

    امریکہ اور یورپی ممالک کے تعلیمی اداروں سے وابستہ افراد خدمت کے جذبے سے جبکہ ہمارے ہاں اپنے مفادات دیکھے جاتے ہیں پاکستان اور ریاست کے نشیمن پر بجلیاں گرانے والے صرف تعلیمی اداروں میں بیٹھے اعلی افسران ہی نہیں سیاسی گلیاروں میں بیورو کریٹس میں ،سول انتظامیہ میں ، پولیس کے اعلی افسران میں۔ محکمہ مال میں،صحت کے اداروں میں۔ اسی طرح دیگر شعبوں میں کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ عوام کی اکثریت ملاوٹ میں ملوث ہے ۔ کھانے پینے کی اشیاء میں ملاوٹ ، ادویات میں ملاوٹ ، سرکار دو عالمۖ کا حکم ہے کہ جو ملاوٹ کرتا ہے وہ ہم میں سے نہیں۔ کیا علماء ،مشائخ نے کبھی اس طرف توجہ دی ؟ انسانی زندگیوں سے کھلواڑ ہو رہاہے ۔ کھانے پینے اور ادویات میں ملاوٹ کا سورج اپنی آب و تاب کے ساتھ زندگیوں کا جھلسا رہا ہے ۔ علما، مشائخ ، عدلیہ ،بیورو کریسی ، سول انتظامیہ یا خود عوام نے غور کیا کہ ہم مخلوق خدا کے ساتھ یہ ظلم ہوتا کیو ں دیکھ رہے ہیں۔ گذشتہ 77 سالوں سے ہم انتشار اور خلفشار کا شکار ہیں آخر کیوں غور و فکر کیں ۔ ہم خدا اور اس کے رسولۖ کے نافرمان تو نہیں ؟ تعلیمی حوالے سے ایک مغربی دانشور نے کیا خوب کہا تھا:
    تعلیم و تدریس ایک بہترین پیشہ اور بدترین تجارت ہے۔

  • خیبر کراٹے سنٹر: نوجوانوں کو منشیات اور جرائم سے بچانے کا گہوارہ ہے، نذیر شینواری

    خیبر کراٹے سنٹر: نوجوانوں کو منشیات اور جرائم سے بچانے کا گہوارہ ہے، نذیر شینواری

    لنڈی کوتل(باغی ٹی وی رپورٹ)خیبر کراٹے سنٹر، نوجوانوں کو منشیات اور جرائم سے بچانے کا گہوارہ ہے، نذیر شینواری

    تفصیل کے مطابق لنڈی کوتل کے ایک بوسیدہ مکان سے شروع ہونے والا خیبر ایجوکیشن کراٹے سنٹر آج ایک ایسی مثال بن چکا ہے جس نے نہ صرف نوجوانوں کی زندگیوں کو بدل دیا بلکہ پورے علاقے کا چہرہ بدل دیا ہے۔

    گزشتہ 34 سالوں سے یہ سنٹر نوجوانوں کو منشیات اور جرائم سے دور رکھنے اور انہیں ایک صحت مند اور مثبت زندگی گزارنے کی تربیت دے رہا ہے۔ سنٹر کے بانی، حیات نذیر شینواری کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد صرف کراٹے سکھانا نہیں تھا بلکہ نوجوانوں کو ایک ایسا راستہ دکھانا تھا جہاں وہ اپنی صلاحیتوں کو نکھار سکیں۔

    سنٹر سے تربیت حاصل کرنے والے 20 ہزار سے زائد نوجوان آج کامیاب زندگی گزار رہے ہیں۔ ان میں سے بہت سے نوجوانوں نے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا نام روشن کیا ہے۔ سنٹر کے اس کامیاب سفر نے ثابت کیا ہے کہ کھیلوں کے ذریعے نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی صحت کو بھی بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

    خیبر ایجوکیشن کراٹے سنٹر کے بانی، حیات نذیر شنواری نے بتایا کہ یہ سنٹر پورے قبائلی علاقے میں کراٹے سکھانے والا پہلا سنٹر تھا۔ بہت سی مشکلات کے بعد یہ سنٹر کامیاب ہوا ہے۔ سنٹر سے تربیت حاصل کرنے والے بہت سے کھلاڑی بین الاقوامی مقابلے جیت چکے ہیں۔ حیات نذیر خود بھی ایک بار آل پاکستان کراٹے چیمپئن رہ چکے ہیں۔

    نور اسلم شنواری، جو اس سنٹر سے ہی کراٹے سیکھا ہے نے ٹوکیو میں ہونے والے ایک بڑے کراٹے مقابلے میں پاکستان کا نام روشن کیا ہے۔ اس کی بہت اچھی کارکردگی کی وجہ سے اسے بین الاقوامی مقابلے میں جج بننے کا سرٹیفیکیٹ بھی ملا ہے۔ اب کوریا میں ایک اور بڑا کراٹے مقابلہ ہونے والا ہے جس میں ہماری ٹیم کو بھی بلایا گیا ہے۔ لیکن ہماری ٹیم کے کچھ کھلاڑیوں کے پاس پیسے نہیں ہیں کہ وہ کوریا جا سکیں۔

    اس سنٹر سے تربیت حاصل کرنے والا ایک اور کھلاڑی، غنی شنواری، کوریا میں ہونے والے ایشیا کپ کا چیمپئن بن چکا ہے۔ اس سنٹر کے بہت سے کھلاڑیوں نے جاپان، کوریا، ملائشیا اور تھائی لینڈ جیسے ممالک میں ہونے والے کراٹے مقابلے میں حصہ لیا ہے۔ یہ خیبر کے لیے بہت بڑی بات ہے۔

    کچھ کھلاڑیوں کو کراٹے کرنے سے پہلے ہڈیوں کی بیماری ہوتی تھی۔ لیکن کراٹے کی ورزش کرنے سے وہ اب بہت اچھے ہو گئے ہیں۔

    یہ کھلاڑی بہت خوش ہیں کہ انہوں نے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا نام روشن کیا ہے لیکن انہیں افسوس ہے کہ پاکستانی حکومت ان کی مدد نہیں کر رہی ہے۔ اگر حکومت ان کی مدد کرے تو یہ کھلاڑی پاکستان کے لیے اور بھی بہت سے تمغے لے کر آسکتے ہیں۔

  • کارساز حادثہ،تلخ حقائق ،مبشر لقمان نے کیا حق ادا، تجزیہ: شہزاد قریشی

    کارساز حادثہ،تلخ حقائق ،مبشر لقمان نے کیا حق ادا، تجزیہ: شہزاد قریشی

    گزشتہ روز ایک اور سانحہ کارساز رونما ہو گیا اور کراچی کی ایک سڑک پر ایک غریب محنت کش اور اس کی تعلیم یافتہ بیٹی کو ایک سرمایہ دار گروپ کی خاتون نے ٹکر مار کر نہ صرف لقمہ اجل بنا ڈالا بلکہ دیگر افراد کو بھی اپنی گاڑی تلے کچل کر زخمی کر دیا اور پھر قانون نے اسے تھانے پہنچا کر ایئرکنڈیشن کمرے کی زینت بنایا ،پھر اگلے روز جیسا کہ توقع تھی عدالت میں بھی پیش نہ کی جا سکی اور دولت کی کارسازیاں منظر عام پر آتی گئیں وطن عزیز میں قانون کی بالادستی، حقوق کی برابری اور انصاف کی اعلیٰ پیمانوں کی دھجیاں توکارساز کے سانحات میں قوم سے پوشیدہ نہیں مگر اس سانحہ کارساز نے صحافت کے نام نہاد ستونوں کی کارسازی بھی آشکار کر دی اور قوم کو دکھا دیا کہ سرمایہ دار نے صحافت کی آزادی، صحافت کی اخلاقیات، صحافت کے اصولوں، صحافت کے اسباق کو بھی سانحہ کارساز سے اٹھا کر بحیرہ ہند میں غرق کر دیا ہے۔

    پاکستان کی صحافت کے نام نہاد علمبردار انگریزی میں شائع ہونے والے کراچی کے بعض اخبارات نے اپنی ناک تلے ہونے والے حادثے کی خبر کو مختصر رکھا۔ جبکہ الیکٹرانک میڈیا کابھی کچھ یہی حال رہا۔ صحافت میں یہی سکھایا اور پڑھایا جاتا ہے کہ جتنا بڑا واقعہ ہوتا ہے اتنا ہی نمایاں ہوتا ہے کچھ کراچی کے انگریزی اخبارات نے اپنی صحافت کو زندہ بھیمرکھا جبکہ معروف اینکر مبشر لقمان نے اپنے پروگرام میں اس دلخراش واقعہ کے اصل حقائق قوم کے سامنے رکھ دیئے ڈرائیونگ لائسنس کے بارے کہا گیا کہ وہ غیر ملکی لائسنس ہے امریکہ سے لے کر برطانیہ تک کسی ذہنی مریض کو لائسنس نہیں دیا جاتا ،مبینہ طور پر کراچی کے ڈاکٹروں نے اس خاتون کو ذہنی مریضہ قرار دیا ہے جو بارہ کروڑ کی گاڑی چلا رہی تھی اسے صحافیان پاکستان بلاشبہ الیکٹرانک میڈیا کے مالکان اور پرنٹ میڈیا کے مالکان کی اکثریت سرمایہ داروں کی ہو چکی ہے جن کا صحافت سے دور کا بھی واسطہ نہیں تاہم اپنی صحافت کو برقرار رکھو قصیدے بولنے اور لکھنے والے یاد رکھیں کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی بہت بڑا واقعہ کسی دن آپ کو اخبار شائع کرنے سے روک دے۔

    امیر اور غریب کا فرق نہ آئین پاکستان میں ہے اور نہ آئین جہان میں اشتہاری پارٹیوں اور سرمایہ دار رشتہ داریوں کی خبریں دبانے سے آ پکی آواز بھی دب جائے گی یاد رکھیئے ! قوم عاد جیسی طاقتور قوموں اور فرعون جیسے طاقتور بادشاہوں نے بھی جب ظلم اور زیادتی کا بازار گرم کیا تو رب ذوالجلال کا فرمان ہے کہ ’’آخر تیرے رب نے ان سب پر عذاب کا کوڑا برسایا‘‘ (سورہ الفجر)

  • اخلاقی اور عملی ذمہ داریاں

    اخلاقی اور عملی ذمہ داریاں

    اخلاقیات کے تصور سے مراد یہ طے کرنے کے لیے کہ انسانی معاشرے کے اندر مناسب طرز عمل کیا ہے۔ یہ بنیادی انسانی اقدار کے ایک سیٹ کی وضاحت کرتا ہے، یہ بتاتا ہے کہ ان اقدار کو کس طرح حاصل کیا جا سکتا ہے، اور قائم شدہ قدر کے نظام اور طریقوں کے لیے جواز فراہم کرتا ہے

    اخلاقی ذمہ داری اس تصور سے متعلق ہے کہ افراد اپنے اعمال کے لیے جوابدہ ہیں اور انہیں اخلاقی ضابطے کی پابندی کرنی چاہیے، اس میں کسی شخص کی جوابدہی، اور کس حد تک اعمال کو ان سے منسوب کیا جا سکتا ہے اس کا اندازہ لگانا شامل ہے۔

    قابل ذکر بات یہ ہے کہ کانٹ ان میں فرق کرتا ہے جسے وہ کامل اور نامکمل فرائض قرار دیتا ہے۔ کامل فرائض مخصوص ذمہ داریاں ہیں جن کو بغیر کسی استثناء کے پورا کیا جانا چاہیے، جب تک کہ دیگر اخلاقی ذمہ داریوں سے کوئی متصادم نہ ہو۔ یہ فرائض اخلاقی تقاضوں کے طور پر کام کرتے ہیں۔ اس کے برعکس، نامکمل فرائض، چاہے وہ اپنی ذات کے لیے ہوں یا دوسروں کے لیے، ان میں عمومی اصول شامل ہوتے ہیں جن کے لیے فیصلہ سازی میں سماجی اثرات سمیت سیاق و سباق کے عوامل پر غور کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

    جب ہم عملی ذمہ داریوں کی بات کرتے ہیں، تو ہم نظریہ کے بجائے حقیقی دنیا کے اطلاق میں ذمہ داریوں کا حوالہ دیتے ہیں۔ اس میں ایک ایسے فرد کی نشاندہی کرنا شامل ہے جو کسی عمل یا بے عملی اور اس کے بعد ہونے والے نتائج کے لیے براہ راست ذمہ دار ہے۔
    کیا اخلاقی ذمہ داریاں اور عملی ذمہ داریاں ایک دوسرے سے متصادم ہو سکتی ہیں؟ بالکل، کانٹ کہتا ہے [میٹا فزکس آف مورلز اک 6:224]:
    "فرائض کا تصادم ان کے درمیان ایک رشتہ ہوگا جس میں ان میں سے ایک دوسرے کو مکمل یا جزوری طور پر منسوخ کردے گا لیکن چونکہ فرض اور ذمہ داری ایسے تصورات ہیں جو بعض اعمال کی معروضی عملی ضرورت کو ظاہر کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے مخالف دو قاعدے بیک وقت ضروری نہیں ہو سکتے، اگر ایک قاعدہ کے مطابق عمل کرنا فرض ہے تو اس کے مطابق عمل کرنا، مخالف قاعدہ فرض نہیں ہے بلکہ فرض کے خلاف بھی ہے، لہذا فرائض اور ذمہ داریوں کا ٹکراؤ ناقابل فہم ہے۔

    کئی بار، ہم سب کو دو مختلف سمتوں میں کھینچا جاتا ہے۔ اگرچہ ہم جانتے ہیں کہ اخلاقی فرض کیا ہے، ہم اکثر عملی ذمہ داری کا ساتھ دیتے ہیں کیونکہ یہ عملی ہے۔ کئی بار ہمارے اخلاقی فرض میں ناکامی کا احساس ہمیں راتوں کو بیدار رکھ سکتا ہے .اخلاقی ذمہ داری کو بدل کر عملی انتخاب کی قربانی دینا "غیر عملی، احمقانہ یا جذباتی” سمجھا جا سکتا ہے، لیکن یہ ہے؟

  • بالاکوٹ: مہانڈری میں پہاڑ سرکنے سے بستی خطرے میں، سیلاب کی تباہیوں کا سلسلہ جاری

    بالاکوٹ: مہانڈری میں پہاڑ سرکنے سے بستی خطرے میں، سیلاب کی تباہیوں کا سلسلہ جاری

    بالاکوٹ(باغی ٹی وی رپورٹ) مہانڈری میں پہاڑ سرکنے سے بستی خطرے میں، سیلاب کی تباہیوں کا سلسلہ جاری

    بالاکوٹ کے علاقے مہانڈری میں پہاڑ سرکنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے جس سے مقامی بستی کے لوگ شدید خوفزدہ ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پہاڑ کے اوپر واقع مکانوں میں دراڑیں پڑ چکی ہیں اور پہاڑ سرکنے کے بعد علاقہ مکینوں کو اپنی جانیں بچانے کے لیے نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پہاڑ دریائے کنہار میں گر گیا تو اس سے ایک بڑی جھیل بننے کا خطرہ ہے جو کہ مزید تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔

    یہ یاد رہے کہ مہانڈری میں 19 روز قبل آنے والے سیلاب سے ایک بڑی جھیل بن گئی تھی جس کا بند توڑنا ممکن نہیں ہو سکا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ زیر زمین پانی جمع ہونے کی وجہ سے پہاڑ سرکنے کا یہ خطرہ پیدا ہوا ہے۔