Baaghi TV

Category: بلاگ

  • معیشت کو مستحکم کرنے میں اسحاق ڈار کا کردار،نواز شریف بھی معترف،تجزیہ : شہزاد قریشی

    معیشت کو مستحکم کرنے میں اسحاق ڈار کا کردار،نواز شریف بھی معترف،تجزیہ : شہزاد قریشی

    وطن عزیز اس وقت ایسے ایسے بحرانوں سے دوچار ہے بقول کسی شاعر کے ہر طرف آگ ہے دامن کو بچائیں کیسے ۔ سیاسی گلیاروں میں ایسی ایسی بُری خبریں سوشل میڈیا پر دکھائی اور سنائی دیتی ہیں شاید ہم اس وقت بُری چیزوں کی زد میں ہیں۔ تاہم اس بحران اور بُری خبروں میں پنجاب کی عوام کے لئے ملک کے سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور اُن کی بیٹی وزیراعلی پنجاب مریم نواز کی طرف سے بجلی کے بلوں پر دو ماہ کا ریلیف صوبہ پنجاب میں سورج کی روشنی کے طور پریہ خبر ایک ایسی قوم کو ملی جو شاید بُری خبریں سننے کی عادی ہو چکی تھی۔ موجودہ معاشی بحران میں دو ماہ کا ریلیف عوام کے لئے اندھیرے میں روشنی کے برابر ہے۔ میاں محمد نواز شریف نے معاشی بحران کا ذکر کرتےہوئے 2017 کا ذکر کیا اور اپنی حکومت کی کارکردگی معیشت کاذکر کرتے ہوئے سابق وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار کا بطور خاص نام لے کر کہا کہ انہوں نے معیشت کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ بلاشبہ حکومتیں اپنی عوام کے تحفظ اورمعاشی بدحالی کو روکنے کے لئے کوشش کرتی ہیں کوئی بھی اس پر اختلاف نہیں کرے گا۔ معاشی خطرے سے نمٹنا اولین سیاسی ترجیح ہوتی ہے ۔2017 بلاشبہ ملک معاشی مستحکم تھا سینیٹر اسحاق وزیرخزانہ نواز شریف کی قیادت میں رات گئے اپنے دفتر میں معاشی ماہرین کے ساتھ کام کرتے تھے۔

    اس عالمی دنیا کی بدلتی ہوئی صورت حال کا جائزہ لے کر سیاسی افراتفری سے باہر نکلنا ہوگا بین الاقوامی رواں سال کئی ممکنہ سیاسی دراڑیں ابھر سکتی ہیں۔ بشمول مشرقی وسطیٰ امریکہ سمیت اگر دیگر عالمی قوتوں نے غزہ تنازعے کو حل کرانے میں کردار نہ کیا تو اسرائیل اور ایران کے درمیان ایک مکمل علاقائی جنگ تبدیل ہو سکتی ہے ۔ اگر ایسا ہوا تو اس کے اثرات نہ صرف سیاست بلکہ عالمی مالیاتی منڈیوں پر بھی پڑیں گے۔ یوکرین میں جاری جنگ شمالی کوریا کا جوہری ہتھیار حاصل کرنا اس صورت میں چین یا تو امریکہ اور مغرب کے ساتھ تنائو کا بڑھتا ہوا ذریعہ ہو یا پھر ممکنہ طور پر زیادہ نتیجہ خیز شراکت داری کا آغاز ہو ۔ ان تمام بین الاقوامی سیاست کی تبدیلی کے اثرات ترقی پذیر ممالک پر بھی پڑیں گے جس میں پاکستان بھی شامل ہے۔ پاکستان کو اس وقت اپنے مفادات ملکی سلامتی اور معیشت پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ جب بھی کوئی معاشرہ یا ملک کسی بڑی تبدیلی یا غیر یقینی صورت حال سے گزرتا ہے تو سماج دشمن عناصر اس صورت حال سے فائدہ اٹھا نے کی کوشش کرتے ہیں۔

  • ماتا ہری،  جاسوس اور ڈانسر

    ماتا ہری، جاسوس اور ڈانسر

    ماتا ہری، جاسوس اور ڈانسر

    17 اگست یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بین الاقوامی شہرت یافتہ جاسوس اور خوب صورت و ماہر رقاصہ (ڈانسر) مارگریٹ ذیلی المعروف ماتا ہری 17 اگست 1876 میں نیدر لینڈ ہالینڈ میں ہیدا ہوئی۔ وہ بہت خوب صورت ، بہادر اور سیر و سیاحت کی شوقین تھی ۔ اپنے شوق کی بدولت وہ جلد ایک ماہر ڈانسر بن گئی جس کی وجہ سے اس کی شہرت ،دولت اور تعلقات میں بے پناہ اضافہ ہو گیا۔ وہ دنیا کے مختلف ممالک کی سیر و سیاحت کرتے ہوئے فرانس پہنچ گئی اور پھر یہیں کی ہو کر رہ گئی ۔ ماتا ہری کی بھرپور جسمانی کشش اور سحر انگیز رقص کی وجہ سے بڑے بڑے فوجی جرنیل ، وزرا اور ارکان پارلیمان اس کے چاہنے والے افراد کی فہرست میں شامل رہے اور یہیں سے خفیہ اداروں کے عہدے داران نے اس کو اپنے ملک کیلئے دشمن ممالک میں جاسوسی کرنے پر آمادہ کر لیا۔ ماتا ہری نے فرانس کے شہر پیرس میں رہائش اختیار کی ۔ اس دوران پہلی جنگ عظیم میں فرانس کیلئے جرمنی کی جاسوسی کرنے لگی جبکہ کچھ عرصے بعد وہ جرمنی کیلئے فرانس کی جاسوسی بھی کرنے لگ گئی ۔ اس طرح وہ دونوں ملکوں کے لیے جاسوسی کرنے لگی آخر ایک روز فرانس کی خفیہ ایجنسیوں ایک سینیئر آفیسرز نے ماتا ہری کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا ۔

    یہ پہلی عورت تھی جس نے فلمی کہانیوں کی بجائے حقیقی دنیا میں ” ڈبل ایجنٹ ” کا کردار ادا کیا۔ 15 اکتوبر 1917 میں پیرس میں جاسوسی کا جرم ثابت ہونے پر ماتا ہری کو اسکواڈ کے سامنے گولیاں مار کر موت کی نیند سلا دیا گیا لیکن ماتا ہری نے کمال بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی آنکھوں پر پٹی باندھنے نہیں دی بلکہ مسکراتے ہوئے اپنی جان دے دی ۔ اس کی لاش کو لاوارث قرار دے کر اس کا جسد خاکی ہسپتال میں میڈیکل کالج کے طلبہ کے تجربات کیلئے استعمال کیا گیا اس کی گردن کو فرانس کے میوزیم میں رکھا گیا لیکن بعد میں وہ گردن چوری ہو گئی۔ ماتا ہری کی زندگی پر 250 کے لگ بھگ ناول اور سوانح حیات لکھی گئی ہیں اس کے علاوہ اس موضوع پر دنیا کے متعدد ممالک میں فلمیں اور اسٹیج ڈرامے بھی بنائے گئے ہیں ۔

  • لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید،پاک فوج کے لیے ایک ٹیسٹ کیس

    لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید،پاک فوج کے لیے ایک ٹیسٹ کیس

    آئی ایس آئی کے سابق ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی گرفتاری پر میرا فوری ردعمل یہ تھا کہ "عمران خان کے گلے میں پھندا تنگ ہو گیا ہے”۔آئی ایس پی آر کے ابتدائی بیان میں دو اہم پہلوؤں کی نشاندہی کی گئی۔ سب سے پہلے ٹاپ سٹی سے متعلق کرپشن کے الزامات شامل تھے۔ دوسرا فیض حمید کی قبل از وقت ریٹائرمنٹ کے بعد آرمی ایکٹ کی خلاف ورزیوں کا ذکر کیا گیا۔ پریسر نے واضح طور پر کہا کہ یہ خلاف ورزیاں کی گئی ہیں، جس کی وجہ سے فیض حمید کو فوجی تحویل میں لیا گیا،فیض حمید کے خلاف فیلڈ کورٹ مارشل کی کارروائی جاری ہے۔ تیزی سے سامنے آنے والے واقعات اب اس گرفتاری کو 9 مئی 2023 کو پاک فوج کی تنصیبات پر حملوں سے جوڑتے نظر آتے ہیں۔

    یہ بات مشہور ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا پی ٹی آئی سے گہرا تعلق تھا۔ برسوں کے دوران، پانچویں نسل کی جنگ کے ذریعے، پی ٹی آئی نے معاشرے اور اپنی مسلح افواج کے درمیان تقسیم کو مزید گہرا کر دیا ہے، جس سے فوج کو نقصان پہنچا ہے۔ اس نے بہت سے دلوں میں فوج کے خلاف نفرت کا بیج بو دیا ہے،

    موجودہ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سابق وزیراعظم عمران خان کے دور میں ڈی جی آئی ایس آئی تھے۔ انہیں اس عہدے سے اچانک برطرف کر دیا گیا تھا جب انہوں نے عمران خان کے قریبی لوگوں کی کرپشن کی اطلاع دی تھی۔عمران خان ڈی جی آئی ایس کو ہٹانا نہیں چاہ رہے تھے جب فیض حمید تھے ،آرمی چیف بننے کے لیے فیض حمید کو کمانڈ کا تجربہ درکار تھا، کیونکہ ان کا نام مستقبل کے آرمی چیف کے عہدے کے لیے زیر غور تھا۔

    ایک نظریہ بتاتا ہے کہ 9 مئی کے حملے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کو بطور آرمی چیف ہٹانے کی کوشش تھی۔ فوج کی تنصیبات پر حملوں سے توقع کی جا رہی تھی کہ زبردست جواب دینے پر اکسائیں گے، شاید مجرموں پر فائرنگ بھی کر دی جائے تاہم فوج نے ایک مختلف طریقہ اختیار کیا۔ پھر بھی، اس طرح کا کھلا تشدد یا بغاوت دنیا میں کہیں بھی ناقابل قبول ہے، اور پاکستان بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔

    اس میں شامل افراد کے لیے فوائد واضح ہیں اور اس میں کسی تفصیل کی ضرورت نہیں ہے۔ 9 مئی کے نتیجے میں دو کور کمانڈرز، ایک لاہور اور ایک منگلا سے برطرف کر دیا گیا۔ یہ نظریہ کتنا درست ہے، اور ہر فریق کی شمولیت کی حد کا تعین عدالتوں کو کرنا ہے۔تاہم جو بات واضح ہے وہ یہ ہے کہ فوج کے اعلیٰ افسران اس معاملے پر متحد ہیں۔ نظریاتی طور پر، آرمی چیف اس بات پر ڈٹے ہوئے ہیں کہ معاشرے کے تانے بانے کو تباہ کرنے اور ملک کو نقصان پہنچانے والے اسٹیک ہولڈرز کے درمیان نفرت پیدا کرنے والے کسی بھی اقدام کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اس کا اطلاق نہ صرف پی ٹی آئی کے اراکین پر ہوتا ہے بلکہ معاشرے کے کسی بھی طبقے سے تعلق رکھنے والے دیگر سہولت کاروں پر بھی ہوتا ہے۔آگے چل کر مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں.

  • محمد بن سلمان کو قتل کا خدشہ،خطے کو سنگین صورتحال کا سامنا،تجزیہ:شہزاد قریشی

    محمد بن سلمان کو قتل کا خدشہ،خطے کو سنگین صورتحال کا سامنا،تجزیہ:شہزاد قریشی

    خطے کو کس سنگین صورت حال کا سامنا ہے۔ مڈ ل ایسٹ میں حالات ایسے ہو چکے ہیں کہ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ بن سلیمان نے اپنے قتل کا خدشہ ظاہر کردیا۔ امریکہ اور یورپی ممالک ،روس ،یو کرائن جنگ پر اپنی توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہیں۔ روس اور یوکرائن کے درمیان ہونے والی جنگ کے کیا نتائج نکلیں گے۔ یہ ایک سوال ہے ؟ برطانیہ کی سڑکوں پر نسلی فسادات ، ایران میں اسماعیل ہانیہ کا قتل ،بنگلہ دیش کی صورت حال ، دنیا چونکا دینے والے حالات سے گزر رہی ہے ۔ا ن تمام حالات کے اثرات معیشت پر پڑ رہے ہیں اور قریبی ممالک بھی ان حالات سے متاثر ہو رہے ہیں۔ ان تمام حالات کے پیش نظر وطن عزیز میں افواہ ساز فیکٹریاں سوشل میڈیا پر ، یوٹیوبر ، وی لاگرز ، بغیر کسی وقفے کے ایسی ایسی افواہیں پھیلا رہے ہیں جس کے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں ۔

    پورے عرب ممالک کے سامنے ، فلسطین میں خون کی ندیاں بہہ رہی ہیں۔ غزہ مین شہید ہونے والے خواتین نوجوان بچے ، بوڑھوں کے قبرستان بھر چکے ہیں۔ جنہوں نے آگے ہو کر اس قدیمی مسئلے کا حل کروانا تھا انہوں نے اپنے قتل کا خدشہ ظاہر کردیا ہے ۔ کشمیر میں سالوں سے بھارتی فوج کے ہاتھوں کشمیریوں کا خون ، اقوام متحدہ ، سلامتی کونسل ، او آئی سی اور دیگر عالمی اداروں نے کیا کیا؟ بھارت پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لئے بلوچستان میں مداخلت کررہا ہے۔ افغانستان کی سرزمین استعمال کرکے پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہے۔ وطن عزیز کی تمام سیاسی جماعتوں کو صدق دل سے جھوٹ ، بہتان فریب کی سیاست کو پس پشت ڈال کر ان بین الاقوامی حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے قومی اداروں کو مستحکم کرنے میں کردارا دا کرنا ہوگا۔ پاک فوج اورجملہ اداروں کو متنازعہ بنا کر ہم کیا قومی فریضہ سرانجام دے رہے ہیں؟ اس وقت عدلیہ کو اہم کردار اداکرنے کی ضرورت ہے ۔ملکی سیاسی جماعتوں کو خارجہ اور اندرونی مسائل کو سامنے رکھ کر ملک وقوم کے مسائل حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ موجودہ دل شکن ماحول میں قوم کی نظریں عسکری اداروں اور انصاف کا ترازو تھامنے والوں پر لگی ہیں۔

  • 14اگست1947ء اور ہماری ذمہ داری.تحریر:حنا سرور

    14اگست1947ء اور ہماری ذمہ داری.تحریر:حنا سرور

    یہ دن ہماری تاریخ میں نہایت ہی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ اسی دن اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ہندوؤں،سکھوں اور فرنگیوں سے آزادی دی اورجس کے نتیجے میں دُنیا کے نقشے پر پاکستان آزاد ریاست کی حیثیت سے ابھرا ۔ اس پاک وطن کے حصول کے لئے برصغیر کے مسلمانوں نے جو قربانیاں دیں وہ ہمیشہ تاریخ کے ماتھے کا جھومر رہیں گی۔ قیامِ پاکستان کے وقت جو دل خراش مناظر سامنے آئے آزادی کے متوالوں نے کن کن مشکلات کا سامنا کیا، کتنی ماؤں کو اپنے بیٹوں کی، کتنی بہنوں کو اپنے بھائیوں کی اور کتنی سہاگنوں کو اپنے سہاگ کی قربانی دی پڑیں، آج یہ سوچ کر بھی رونگنے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ پورے اعداد و شمارتو معلوم نہیں ،لیکن اندازہ لگایا جا تا ہے کہ 2 ملین سے زائد افراد لقمہ اجل بنے، جبکہ 10 ملین سے زائد ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے اور ایسے دل خراش واقعات پیش آئے کہ دل خون کے آنسو روتا ہے، لیکن یہ مسلمانوں کا ولولہ اور جوش و جذبہ تھا کہ انہوں نے اپنا سب کچھ لٹا کر بھی علامہ محمد اقبال ؒ کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا اور قائداعظم محمد علی جناح ؒ کی قیادت میں الگ وطن حاصل کرلیا ۔ اب یہاں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آج 76 سال کا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود اگر ہم جائزہ لیں تو کیا یہ وہی پاکستان ہے، جس کی بنیاد دو قومی نظریہ تھی، جس کی خاطر کروڑوں مسلمانوں نے لازوال قربانیاں دیں ۔ اگر ہمارا جواب نہیں میں ہے، تو اس ملک کی بنیادوں کو مضبوط کرنے کے لئے ہمیں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ وطن عزیز کی ترقی و خوشحالی کے لئے ہم سب کی قومی ذمہ داریا ں کیا ہیں، ستم تو یہ ہے کہ ہمارے ناعاقبت اندیش حکمرانوں نے اس ملک کو لوٹ کھایا ہے اور کھارہے ہیں، کسی نے اس ملک کا نہیں سوچا.کسی نے کبھی یہ سوچا کہ ہم نے ان 76سالوں میں کیا کھویا کیا پایا ہے۔ وہ واحد ریاست ہے جو محض سات سال کی مختصر مدت میں معرض وجود میں آئی تھی اس کی وجہ وہ قیادت اپنے جذبے سے اپنے نظریے سے مخلص بے لوث تھی اس وقت کی قیادت میں لوٹے کرچھے چمچے نہیں تھے وہ سیاست دان حقیقی معنوں میں عوامی نمائندے تھے اور آج کے سیاست دان جنہوں نے اپنے ذاتی مفادات، امتیازات اور ترجیحات کے لیے ملک کا وقار اور اس کی سلامتی کو داؤ پر لگا دیا ہوا ہے، ایک وہ سیاست دان تھے جنہوں نے ملکی سلامتی کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے دئیے اور ایک آج کے سیاست دان ہیں جو اپنے اقتدار کی خاطر اپنی دھرتی ماں کا سودا کرنے سے گریز نہیں کرتے، اپنے محسنوں کے کردار پر انگلیاں اٹھاتے ہیں، پاک فوج پر دشنام طرازیاں کرتے ہیں، لوگوں کے گھروں میں گھس کر ان پر تشدد کرتے ہیں۔

  • آزادی: ایک نعمت یا بوجھ؟

    آزادی: ایک نعمت یا بوجھ؟

    77 سال سے ہم 14 اگست کو یوم آزادی منا رہے ہیں لیکن کیا ہم واقعی آزادی کے اصل معنی کو سمجھتے ہیں؟ آزادی ایک بہت بڑی نعمت ہے لیکن اگر اسے نہ سمجھا جائے تو یہ ایک بہت بڑا بوجھ بن سکتی ہے۔ ہر سال، جیسے ہی 14 اگست کی رات آتی ہے، ہم ملک بھر میں جشن کی ایک عجیب اور پریشان کن شکل کا مشاہدہ کرتے ہیں، جو ہماری سمجھ بوجھ کے بارے میں سوال اٹھاتے ہیں کہ آزاد ہونے کا کیا مطلب ہے۔آدھی رات کا وقت جب لوگ، اپنے جوش میں، آسمان میں گولیاں برساتے ہیں، اس حقیقت سے غافل ہوتے ہیں کہ وہ گولیاں زمین پر کسی کی موت کا باعث بن سکتی ہیں۔ جیسے پچھلی رات آزادی کے دن کے آنے خوشی میں کراچی اور حیدرآباد میں ہوائی فائرنگ کے نتیجے میں تین افراد ہلاک اور 80 زخمی ہوئے۔ اس رات، کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ انہیں تمام اخلاقی شائستگی کو ترک کرنے کی آزادی ہے، خواتین کو ایسے گھورتے ہیں جیسے ان کے جسم کو نشانہ بنانا ان منچلوں کا ایک اہم ٹارگٹ ہو۔ کراچی کا سی ویو ہو، لاہور کا مینار پاکستان، مری کا مال روڈ، اسلام آباد کا بلیو ایریا، فیصل مسجد، یا ایف نائن پارک، یہ جگہیں ایسے لوگوں سے بھری ہوتی ہیں جو ایسا رویہ کرتے ہیں کہ گویا وہ ان جگہوں کے مالک ہیں، عوامی مقامات کا دعویٰ ایسے کرتے ہیں.جس ان کی باپ کی جاگیر ہو، سڑکوں پر دکھائے جانے والا رویہ اکثر پاگل پن کا ہوتا ہے، جہاں منشیات یا الکحل کے زیر اثر لوگ خود کو واقعی آزاد سمجھتے ہیں۔ وہ خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہوئے اسے نظر انداز کرتے ہیں۔ موٹرسائیکل سوار اپنی موٹر سائیکلوں سے سائلینسر نکال دیتے ہیں، یہ سوچتے ہیں کہ دوسرے ان کے شور سے متاثر ہوں گے، جب کہ حقیقت میں لوگ ان پر دل اور اونچی آواز میں لعنت بھیجتے ہیں۔ اسپیکرز پر اونچی آواز میں ترانے بجانے سے ان کے دل حب الوطنی کے جذبے سے بھر سکتے ہیں، لیکن اس سے دل کے مریضوں کو تکلیف پہنچتی ہے اور بہت سے دوسرے لوگوں کے سکون میں خلل پڑتا ہے۔

    اور تو اور پاکستان کا جھنڈا، جو ہماری محنت سے حاصل کی گئی آزادی کی علامت ہے، زمین پر پڑا ہوا نظر آتا ہے، آزادی کا جشن منانے والے اسے بغیر سوچے سمجھے روند دیتے ہے۔ یعنی وہی لوگ جو اپنے ملک سے محبت کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں وہی لوگ ہیں جو اس کی علامتوں کی بے عزتی کرتے ہیں اور تعظیم پر خوشی کا انتخاب کرتے ہیں۔بہت سی خواتین کے لیے یوم آزادی کی رات ایک بھیانک خواب بن گئی ہے۔ وہ اپنے گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کرتے ہیں کیونکہ سڑکیں شکاریوں سے بھری پڑی ہوتی ہیں، ہراساں کرنے اور نقصان پہنچانے کے منتظر ہوتی ہیں،۔ گزشتہ چند سالوں کے پریشان کن واقعات، جہاں خواتین کو عوامی مقامات پر کھلے عام ہراساں کیا گیا، یہ افسوسناک صورتحال اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ اہل خانہ اب اپنی بیٹیوں کو بتاتے ہیں کہ آزادی کا جشن منانے کے لیے رات کو باہر جانے کا خطرہ مول لینے سے بہتر ہے کہ گھر میں رہیں۔اس کے برعکس امریکہ، برطانیہ، کینیڈا اور دیگر یورپی ممالک بھی اپنے یوم آزادی مناتے ہیں۔ لوگ سڑکوں پر نکل آتے ہیں، پریڈ ہوتے ہے، میوزک ڈرامے ہوتے ہیں، اور شراب پینا بھی تہواروں کا حصہ ہے۔ تاہم، جو مختلف ہے وہ رویہ ہے۔ زیر اثر ہونے کے باوجود لوگ سجاوٹ کو برقرار رکھتے ہیں۔ رقص اور گانا کرتےہے، لیکن کوئی ہراساں نہیں ہوتا ۔ آتش بازی آسمان کو روشن کرتی ہے، لیکن آپ نے افسوسناک واقعات کے بارے میں شاذ و نادر ہی سنا ہ ہوگا کیونکہ تقریبات خوشی سے ہوتی ہیں، افراتفری نہیں۔

    پاکستان کے نوجوان ہمارا سب سے بڑا اثاثہ ہیں لیکن انہیں آزادی کے حقیقی معنی سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے مذہبی اداروں، علمائے کرام اور عوامی شخصیات کو ایسے طریقے سے منانے کی اہمیت پر زور دینے کی ضرورت ہے جس سے دوسروں کے حقوق اور تحفظ کی خلاف ورزی نہ ہو۔ امن و امان کے احترام کا فقدان ہمارے سامنے سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ بیرون ملک، ہم پاکستانیوں کو قوانین کی سختی سے پیروی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں، ان کو توڑنے کے نتائج کے خوف سے۔ لیکن ان کے اپنے ملک میں، وہ بغیر کسی احتساب کے کام کرنے میں آزاد محسوس کرتے ہیں، یہ جانتے ہوئے کہ وہ رشوت دے کر مصیبت سے باہر نکل سکتے ہیں۔یہ دیکھ کر مایوسی ہوتی ہے کہ ایک دن جس کا مقصد آزادی کا جشن منانا تھا، قانون نافذ کرنے والے ادارے پیچھے ہٹتے نظر آتے ہیں۔ لوگ کھلم کھلا قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں، یہ جانتے ہوئے کہ تھوڑی سی رشوت انہیں اپنے لاپرواہ رویے کو جاری رکھنے کی اجازت دے گی۔ احتساب کا یہ فقدان صرف افراتفری کو ہوا دیتا ہے، جس سے سڑکیں عام شہریوں کے لیے غیر محفوظ ہو جاتی ہیں جو پرامن طریقے سے جشن منانا چاہتے ہیں۔یہ ملک لاتعداد افراد کی قربانیوں سے وجود میں آیا ہے ہوئی ، اور یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم ذمہ داری سے برتاؤ کرتے ہوئے اس کا احترام کریں۔ اگر ہم آج اپنی آزادی کی اصل قدر کو سمجھنے میں ناکام رہے تو کل بہت دیر ہو جائے گی۔ آزادی ہر ایک کا حق ہے لیکن اسے اس طرح منایا جائے کہ دوسروں کو اپنے گھروں میں قید ہونے کا احساس نہ ہو.ہمارا مسئلہ صرف ان افراد تک محدود نہیں ہے جو ناشائستہ رویوں میں ملوث ہیں؛ بلکہ یہ ہمارے پورے معاشرے کا مسئلہ ہے جو ان رویوں کو چپ چاپ برداشت کرتا ہے۔ یوم آزادی کے موقع پر ہمارے ملک کا ماحول گھٹن بھرا محسوس ہوتا ہے، جو ہماری قومی شناخت کے لیے ایک سنگین خدشہ ہے۔ یہ افسوسناک ہے کہ ہم اپنی آزادی کا جشن وقار اور احترام کے ساتھ منانے کا طریقہ نہیں جانتے۔

    ہمیں اپنی آزادی کے جشن کو ایک ایسے موقع میں تبدیل کرنا چاہیے جہاں ہم اپنی کامیابیوں کا جائزہ لیں اور مستقبل کے چیلنجوں کے لیے تیار ہوں، بجائے اس کے کہ ہم اپنی گلیوں کو ہنگاموں کا شکار بنائیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے جشن منانے کے طریقوں پر نظرثانی کریں اور اپنی نوجوان نسل کو آزادی کے حقیقی معنی سے روشناس کرائیں۔ہمیں ایسے انداز میں جشن منانا سیکھنا ہوگا جو ہماری قومی وقار کو بلند کرے اور ہر شہری کے حقوق کا خیال رکھے۔ جب ہم یہ کر لیں گے، تب ہم حقیقی معنوں میں آزاد کہلائیں گے۔ اس وقت تک، ہماری تقریبات آزادی کے حقیقی مفہوم کے بارے میں ہماری غلط فہمیوں کا ایک دردناک مظہر بنی رہیں گی۔ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ آزادی صرف ایک تحفہ نہیں، بلکہ ایک ذمہ داری بھی ہے۔ ہر شہری کو اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ اس کے اعمال کا اثر پورے معاشرے پر پڑتا ہے۔ ہمیں ایسی تقریبات کی ضرورت ہے جو ہماری ثقافت، تاریخ اور اقدار کی عکاسی کریں، نہ کہ ایسی جو ہماری کمزوریوں کو ظاہر کریں۔آئیے ہم سب مل کر ایک ایسا پاکستان بنائیں جہاں آزادی کا مطلب ذمہ داری، احترام اور ترقی ہو۔ جہاں ہر شہری اپنے ملک کے لیے فخر محسوس کرے اور اس کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرے۔ یہی ہماری آزادی کا حقیقی جشن ہوگا، اور یہی ہمارے بزرگوں کے خوابوں کا پاکستان ہوگا۔

  • اساتذہ  سائنس کے مضمون کو کیسے پڑھائیں  ؟تحریر:ابوبکر ہشام

    اساتذہ سائنس کے مضمون کو کیسے پڑھائیں ؟تحریر:ابوبکر ہشام

    دور جدید میں سائنس نے بہت زیادہ ترقی کر لی ہے اور انسان کو یہ دنیا اور اس کی چیزوں کو سمجھنے میں بہت مدد دی ہے-سائنس کی اہمیت کا اندازہ ہم اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ سائنس کی ہی مدد سے ہم کائنات کے بے شمار راز جاننے کے قابل ہوئے ہیں جو کہ اس سے پہلے ناممکن تھے – اس کے علم کی مدد سے ہی ہم زمین سے دوسرے سیاروں تک پہنچ پائیں ہیں -سائنس ایک بہت ہی دلچسپ مضمون ہے جو کہ طلباء کے اندر تجسس کو ابھارتا ہے اور نت نئے خیالات کو جنم دیتا ہے- لیکن بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں سائنس کو ایک خشک مضمون تصور کیا جاتا ہے اور طلباء کی عدم دلچسپی کی سب سے بڑی وجہ بھی یہی ہے کہ وہ اسے ایک بوریت سے بھر پور مضمون سمجھتے ہیں – اس سلسلے میں استاد کا کرادر بہت اہم ہے – ایک قابل استاد کو پتہ ہونا چاہیے کہ وہ کون سے ایسے طریقے ہیں کہ جن سے طلباء میں سائنس کو پڑھنے، سیکھنے ، اور سمجھنے میں دلچسپی پیدا ہو- وہ اسے شوق ، ذوق اور توجہ سے پڑھیں تاکہ یہی طلباء کل کو مستقبل کے معمار بن سکیں -وہ سائنس کے تصورات اور قوانین کو سمجھ کر مستقبل قریب میں نت نئی ایجادات کر سکیں –

    طلباء کے اندر سائنس کے مضمون میں دلچسپی پیدا کرنے کے لئے اساتذہ کے لئے چند تجاویز درج ذیل ہیں :
    سائنس کے مضمون پر عبور حاصل کریں
    سب سے پہلے سائنس کے مضمون کو پڑھانے کے حوالے سے یہ انتہائی ضروری ہے کہ سائنس کے استاد کو اپنے مضمون پر عبور ہو – اور وہ ایک قابل اور تجربے کار استاد ہو جو کہ طلباء کو اچھے طریقے سے سائنس پڑھا نے اور سمجھانے کا فن جانتا ہو- وہ کوئی بھی سائنسی موضوع کو پڑھانے سے پہلے اس کی تیاری کرے، اس کے اوپر سوچ و بچار کرے اور بچوں کو پڑھانے کے حوالے سے لائحہ عمل بنائے – اس کی وجہ یہ ہے کہ جب تک اس مضمون کو پڑھانے والا ہی ماہر مضمون نہیں ہو گا تو وہ طلباء کو سائنس کے مختلف تصورات کیسے سمجھا پائے گا؟ اور ان میں مختلف سائنسی موضوعات بارے دلچسپی کیسے پیدا کر سکے گا؟

    کلاس کے ماحول کو دلچسپ بنائیں
    کسی بھی استاد کی سب بڑی خاصیت اس کا کلاس کے ماحول کو دلچسپ بنا نا ہے – اس حوالے سے ایک استاد یہ کر سکتا ہے کہ جب بھی وہ کلاس میں داخل ہو تو بجائے اس کے کہ وہ آتے ہی اپنا لیکچر شروع کر دے اسے چاہیئے کہ وہ سب سے پہلے بچوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے طلباء کو سلام کرے ، مسکراتے ہوئے ان سے ہلکی پھلکی گپ شپ کرے جیسا کہ ان سے پوچھا جائے کہ کل آپ کا دن کیسا رہا ؟ آپ نے کل کیا کیا ؟ اس سے بچے آپ کی طرف متوجہ ہو جائیں گے ، ان پر استاد کا ایک قسم کا خوف ختم ہو جائے گا اور انکی بوریت ختم ہو جائے گی – وہ آپ کو اپنا دوست سمجھیں گے اور جہاں مشکل پریشانی آئے گی وہ آپ سے بات کرنا پسند کریں گے –

    سبق پڑھانے سے پہلے بچوں سے مباحثہ کریں
    استاد کو چاہیئے کہ وہ کوئی بھی سبق پڑھانے سے پہلے اس کے بارے میں بچوں سے پوچھے اور انکی رائے لے کہ وہ اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں ، ان کا اس موضوع کے حوالے سے خیال ہے؟ جیسا کہ استاد سائنس کے ایک موضوع ” جاندار اور بے جان چیزوں میں فرق” کو کلاس میں پڑھانے سے پہلے اس کے بارے طلباء سے پوچھیں کہ کیا آپ کھانا کھاتے ہیں ، سوتے ہیں ، بھاگتے ہیں ، چلتے پھرتے ہیں ، سانس لیتے ہیں ؟ یقینا سب طلباء کا جواب ہاں میں ہو گا – انہیں بتائیں کہ اگر آپ یہ کر سکتے ہیں تو آپ جاندار ہیں -اسی طرح ایک کرسی کے بارے میں پوچھا جائے جو کہ کلاس میں پڑی ہو کہ کیا یہ کھانا کھاتی ہے، بھاگتی ہے، سوتی ہے ، چلتی پھرتی ہے سانس لیتی ہے ؟ یقینا سب بچوں کا جواب ناں میں ہو گا – پھر انہیں بتایا جائے کہ یہ بے جان ہے – اس دوران کوشش کی جائے کہ دورانِ ڈسکشن بچوں کی طرف اشارہ کر کے ان کا نام لے کر ان سے اس بارے میں پوچھا جائے – اس سے تمام طلباء ہوشیار اور چست ہو جائیں گے اور آپ کی طرف متوجہ ہو جائیں گے – پھر آپ انہیں بتائیں گے کہ کونسی چیز جاندار ہے اور کونسی بے جان ہے ؟ اس کے بعد سبق پڑھانا شروع کریں – آپ دیکھیں گے کہ بچے نہ صرف اس سے سبق میں دلچسپی لیں گے بلکہ ان کے اندر سائنس کے تصورات کو سمجھنے کے لئے ایک لگن اور تجسس پیدا ہو گا –

    اپنے اردگرد موجود چیزوں سے بچوں کو سائنس سیکھائیں
    بچوں کو کتابوں کی دنیا سے نکال کر اپنے آس پاس میں موجود چیزوں کی مدد سے بھی سائنس سیکھائیں -اس مقصد کے لئے انہیں کسی باغ ، ندی، پہاڑ یا جنگل کی سیر کروائی جائے – تاکہ وہ اپنے ارد گرد قدرتی ماحول میں موجود نباتات ، حیوانات، چرند، پرند، اور فطرت کے اصولوں کا بغور مشاہدہ کر سکیں اور ان کو سمجھ سکیں – یہ سب وہ چیزیں ہیں جو بچوں کے تصورات اور خیالات کو ایک نئی جہت دیں گی جس سے انہیں سائنس کے مختلف پہلوؤں پر سوچ و بچار کا موقعہ ملے گا –
    ” بچہ سماجی ماحول میں پنپتا ہے اس پر سماجی ماحول کا اثر لازمی ہے ”

    بچوں کو سائنسی تجربات کی مدد سے عملی طور پر سمجھائیں
    سائنسی علوم اور تجربات کا چولی دامن کا ساتھ ہے – سائنس ایک ایسا مضمون ہے کہ جس کی بنیاد ہی پریکٹیکل پر ہے – استاد کو چاہیئے کہ وہ جو بھی سائنس کا موضوع پڑھائے اسے عملی طور پر تجر بات کی مدد سے سمجھانے کی کوشش کرے – تجربات کی مدد سے سائنسی علوم کو پڑھانے سے بچوں کے اندر سائنس کو سیکھنے کا جذبہ پروان چڑھتا ہے – ان کے اندر سائنسی موضوعات کو سمجھنے کا شوق پیدا ہوتا ہے – وہ سائنس اور اس کے تصورات میں گہری دلچسپی لیتے ہیں – ضروری نہیں کہ اس مقصد کے لئے معلم کو بہت مہنگے اور وسیع تر آلات چاہیئے بلکہ آسان اور کم قیمت آلات کی مدد سے بھی وہ بچوں کو سائنسی تصورات اور ان کے حقائق سمجھا سکتا ہے – اس کے لئے استاد کو پتہ ہونا چاہیئے کہ وہ کونسے ایسے تجربات ہیں جن کو آسانی سے کم وسائل میں سر انجام دیا جا سکتا ہے تاکہ اسے وسائل کی دستیابی میں کوئی مسئلہ نا ہو – اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ کم لاگت اور محدود ذرائع سے ہی بچوں کو مختلف سائنسی موضوعات سمجھائے جا سکتے ہیں –
    امریکی ماہر معاشیات رچرڈ گریگسن لکھتے ہیں کہ :
    ” سائنس کی عظیم شخصیات نے اپنا کام انتہائی آسان آلات کے ساتھ کیا ہے لہذٰا ان کے نقش قدم پر چلنا اور بغیر کسی مہنگے اور وسیع تر آلات کے سائنسی سمجھ بنانا عین ممکن ہے آخر کار طالب علم کا ذہن مطلوبہ آلات میں سب سے مہنگا اوزار ہے”
    مثال کے طور پر ایک سائنسی موضوع ” آکسڈیشن کا عمل ” کو بچوں کو عملی طور پر سمجھنے کے لئے استاد کلاس میں ایک چھوٹی سی سرگرمی کر سکتا ہے – جس کے لئے وہ ایک عدد لیموں اور ایک عدد آلو لے -اب لیموں اور آلو دونوں کو دو حصوں میں کاٹ دے اور لیموں کے ایک حصے کو آلو کے ایک حصے پر لگائیں جبکہ آلو کا دوسرا حصہ ایسے ہی رہنے دے – اب آلو کے دونوں حصوں کو باہر ہوا میں کھلا رکھ دے-ایسا کرنے سے آلو کا وہ حصہ جس پر لیموں لگایا گیا تھا وہ بلکل ویسا ہی رہے گا جبکہ دوسرا حصہ بھورے رنگ کا ہو جائے گا – پھر طلباء کو بتائے کہ آلو کے ایک حصے کے بھورے ہونے کی وجہ اس کا ہوا کے ساتھ کیمیائی تعامل ہونا ہے جو کہ آکسیڈیشن کے عمل کو ظاہر کرتا ہے- جبکہ دوسرے حصے پر لیموں لگ جانے کی وجہ سے اس کا رنگ بھورا نہیں ہو گا کیوں کہ لیموں میں سٹرک ایسڈ ہوتا ہے جو کہ ہوا اور آلو کے درمیان رکاوٹ بن جانے کی وجہ سے آکسیڈیشن کے عمل کو سست کر دیتا ہے – اس تجربے کی مدد سے بچے عملی طور پر اس عمل کو سیکھ سکیں گے –

    بچوں کو خود سے سائنسی تجربات کرنے کا کہیں
    کسی بھی سائنسی موضوع کے حوالے سے تجربہ کرواتے ہوئے استاد اس بات کا خیال رکھیں کہ اس میں طلبہ دلچسپی بھی لیں – اس کے لئے سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ ان کو خود عملی طور پر ان تجربات کو کرنے کا کہا جائے – مثلا ً اگر کلاس میں تیس بچے ہیں تو استاد پانچ سے چھ بچوں پر مشتمل کچھ گروپس بنا دے اور پھر انہیں خود سے تجربہ کرنے کو کہے – اس کے علاؤہ بچوں کو مختلف سائنسی ماڈلز بنانے کا کہا جائے اور اس سلسلے میں ان کی راہنمائی بھی کی جائے تاکہ وہ ان سائنسی ماڈلز کے ذریعے سے مختلف سائنسی موضوعات کو سمجھ سکیں اور ان کو رٹہ بازی سے نجات ملے گی – اسی طرح طلباء کو خوردبین (مائیکروسکوپ) کے ذریعے سے عام آنکھ سے نظر نہ آنے والے جانداروں کو دیکھنے کا موقع دیا جائے تاکہ انہیں پتہ چل سکے کہ یہ جاندار کیسے ہیں ؟ انکی ساخت کیسی ہے ؟ انکی کیا خصوصیات ہیں ؟ جب بچے اپنے ہاتھوں سے تجربے کریں گے تو اس سے ان میں سائنسی تصورات کو سمجھنے کے لئے ایک شوق اور لگن پیدا ہو گی – اور اس سے بھی بڑھ کر جب بچے اپنے ہاتھوں سے کئے گئے تجربات کو کامیاب ہوتا دیکھیں گے تو اس ان کے اعتماد میں مزید اِضافہ ہو گا اور وہ ہر روز کچھ نیا سیکھیں گے – روزمرہ پڑھائے جانے والے سائنسی اسباق کو جب بچے تجربات کیساتھ سمجھیں گے تو یہی بچے نہ صرف ہمہ وقت نت نئے سائنسی تصورات کو سمجھنے میں پیش پیش ہوں گے بلکہ یہ بچے کل کو سائنسدان بنیں گے اور ملک و قوم کا نام روشن کر یں گے –

    طلباء کی رائے معلوم کریں اور ان کی حوصلہ افزائی کریں
    جب استاد سبق پڑھانے کے بعد اس کے متعلق کوئی تجربہ کروائے تو اس کے بعد بچوں سے انکی رائے دریافت کرے کہ انہیں یہ سبق پڑھنے کے بعد اس کے متعلقہ تجربہ کو عملی طور پر کرنے سے کیسا لگا ؟ انہوں نے اس سے کیا سیکھا ؟ کوئی ایسی بات جو آپ کو پہلے پتہ نہ تھی ؟ کوئی نئی اور دلچسپ بات جو آپ اس کے متعلق بتا نا چاہیں ؟ اس کے بعد طلبہ کے جوابات پر ان کی حوصلہ افزائی کرے -یقیناً اس سے بچوں کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت میں خاطر خواہ اِضافہ ہو گا اور وہ سائنس کے مظمون کو دلچسپی اور شوق سے پڑھیں گے-

    بچوں کو اچھی سائنسی ویب سائٹس بارے آگاہی دیں
    جہاں سکول و کالجز میں تجربات کی مدد سے بچوں کو سائنس سکھائی جائے وہی جدید دور کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک استاد طلباء کو مختلف سائنسی موضوعات و تجربات بارے اچھی سائنسی ویب سائٹس کا لنکس مہیا کرے تاکہ بچے انٹرنیٹ کی دنیا کا استعمال کر کے اپنے علم و سوچ میں اِضافہ کر کے ان سے استفادہ حاصل کر سکیں –
    ان تمام تجاویز پر عمل کر کے استاتذہ بچوں میں سائنس جیسے مضمون میں دلچسپی پیدا کر سکیں گے- طلباء سائنس اور اس کے تصورات کو شوق ، ذوق، لگن اور جذبہ کیساتھ پڑھیں گے – اور یہی طلباء مسقبل کے عظیم سائنسدان ثابت ہوں گے –

  • فوج نے احتساب دکھادیا،سیاسیوں کا کون کرے گا؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    فوج نے احتساب دکھادیا،سیاسیوں کا کون کرے گا؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    جرم کے خاتمے کیلئےپولیس ،بیوروکریسی میں بھی کڑا احتساب ناگزیر
    محض اتفاق کرسی پربھی بٹھاتا ہے اور کوڑے دان میں بھی پھینک سکتا

    تجزیہ، شہزاد قریشی
    پاک آرمی نے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ فیض حمید کے خلاف ٹھوس شواہد کی بنیاد پرانضباطی کارروائی کا آغاز کرکے قوم پر ثابت کردکھایا ہے کہ پاکستان آرمی اور مقتدر حلقے استحکام پاکستان کے راستے میں آنے والی بڑی سے بڑی رکاوٹ کو مصلحت سے بالاتر ہو کر اپنے راستے سے ہٹانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، پاک فوج میں خود احتسابی ایک بہت سخت کڑا کار عمل ہے جو ہر وقت جاری رہتا ہے اس احتسابی نظام میں کسی قسم کی کرپشن ،بے ضابطگی قوائد و ضوابط کی خلاف ورزی پر یہ نظام ایکشن میں آتا ہے اور اس میں کسی قسم کی تفریق نہیں برتی جاتی جتنا بڑاآفیسر ہوتا ہے اتنا ہی سخت احتساب ہوتا ہے اوریہ اندرونی احتساب کا عمل ہر وقت متحرک رہتا ہے اور یہ محض الزامات پر ایکشن نہیں لیتا بلکہ ٹھوس شواہد پر ایکشن میں آتا ہے، پاک فوج نے ثابت کردیا کہ استحکام پاکستان ا ور دفاع پاکستان ایک خواب نہیں، مضبوط عزم سے جنم لینے والی حقیقت ہے، فیض حمید کے خلاف کارروائی سے پاک آرمی نے عوام پر آشکار کردیا ہے کہ پاکستان کا استحکام اور مستقبل مضبوط ہاتھوں میں ہے اور مقتدر حلقے اپنے وقار ، اخلاص ، محب الوطنی پر ذرا آنچ نہیں آنے دیتے،

    قارئین پاک آرمی اور مقتدر قیادت نے تو ثابت کردیا کہ استحکام پاکستان کے سامنے کسی فرد ، عہدے ، طاقتور شخصیت کی کوئی اہمیت نہیں، اب ملکی سیاسی جماعتوں ، حکمرانوں ، بیورو کریسی ، پولیس کو بھی اپنی آنکھیں کھولنی چاہیے ، سیاسی جماعتوں میں مرکز ، ڈویژن ضلع و تحصیل ، پولیس ، بیورو کریسی میں تھانہ و پٹوارخانہ سے ضلع ڈویژن اور صوبے کی سطح پر لینڈ مافیا ، منی لانڈرنگ ، عوام سے لوٹ مار ، جواء، منشیات کے دھندوں میں ملوث بھتہ خور عناصر کو اپنے اپنے رینکس اور قطار میں گھس بیٹھیے نام نہاد سیاسی رہنمائوں اور کرپٹ افسران سے نجات حاصل کرنا ہوگی، قومی سلامتی کے اداروں کو بیورو کریسی اورپولیس پر کڑی نظر رکھنا ہوگی تاکہ استحکام پاکستان کے کاررواں میں سے رہزنوں کو نکال کر منزل کا حصول ممکن ہو ، ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کو یاد رکھنا ہوگا کہ قوموں کو مایوس کرنے والوں کو تاریخ کبھی معاف نہیں کرتی، ایک اتفاق ایک حادثہ ایوان اقتدا رمیں پہنچاتا ہے دوسرا اتفاق ایوان اقتدار سے اٹھا کر تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیتا ہے۔

    فیض حمید کی گرفتاری،مبشر لقمان نے کیا کئے تھے تہلکہ خیز انکشافات

    بریکنگ،فیض حمید گرفتار،کورٹ مارشل کی کاروائی شروع

    سابق چیف جسٹس انور کاسی کو نوٹس جاری کر دیا۔جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو بھی نوٹس جاری

     فیض آباد دھرنا کیس میں نظرثانی واپس لینے کی درخواست دائر

    فیض حمید "تو توگیا”،ایک ایک پائی کا حساب دینا پڑے گا، مبشر لقمان

  • ایران میں موساد کے قدموں کے نشانات

    ایران میں موساد کے قدموں کے نشانات

    جون 2023 میں اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد نے ایران کے اندر کیے گئے ایک خفیہ آپریشن کی تفصیلات کا انکشاف کیا ہے موساد کے مطابق، اس کے کارندوں نے حال ہی میں اسلامی انقلابی گارڈز کور کے ایک رکن سے تحقیقات کی تھی جو قبرص میں اسرائیلی شہریوں کو قتل کرنے کی سازش کر رہا تھا۔ اسرائیل نے پہلے ہی اس سازش کو ناکام بنانے میں قبرص کے کردار پر اظہار تشکر کیا تھا۔ مزید شواہد کے طور پر، موساد نے یوسف شہبازی عباسیلو کے اعترافی بیان کی ویڈیو فوٹیج جاری کی، جس میں ایک بورڈنگ پاس بھی تھا جس میں اس کے استنبول سے ایران کے سفر کی نشاندہی کی گئی تھی۔ اگر یہ صحیح ہے تو اس سے پتہ چلتا ہے کہ موساد ایران میں کتنی آسانی کے ساتھ کام کر رہی ہے، وہ نہ صرف انٹیلی جنس اکٹھا کرتی ہے بلکہ ایرانی سرزمین پر حکومت کے کارندوں کو گرفتار اور تحقیقات بھی کر رہی ہے

    یہ انکشاف چونکا دینے والا اور حیران کن ہے،
    جیسا کہ یہ ناممکن لگتا ہے، یہ پہلی بار نہیں ہوا کہ موساد نے اس طرح کی کارروائی کرنے کا دعوی کیا ،درحقیقت گزشتہ اٹھارہ ماہ میں یہ تیسرا واقعہ ہے۔ 2024 میں اسماعیل ہنیہ چوتھے نمبر پر تھے جنہیں قتل کیا گیا، حالانکہ اسرائیل نے ابھی تک اس قتل کی ذمہ داری قبول نہیں کی،موساد آسانی کے ساتھ ایرانی سرزمین پر کام کر رہی ہے ، ایجنسی نے ایرانی سیکیورٹی کے متعدد سطحوں میں دراندازی کی ہے، موساد نے انٹیلی جنس جمع کرنے کے علاوہ ٹارگٹ سٹرائیکس بھی کی ہیں۔ ایک قابل ذکر مثال نومبر 2020 میں ایران کے معروف ایٹمی سائنسدان محسن فخر زادہ کا قتل ہے۔ انہیں اے آئی کی مدد سے ریموٹ کنٹرول مشین گن کا استعمال کرتے ہوئے قتل کیا گیا۔ ایران کے وزیر انٹیلی جنس محمود علوی نے کہا کہ انہوں نے دو ماہ قبل ہی سیکیورٹی فورسز کو فخر زادہ کو اسی مقام پر نشانہ بنانے کے لیے ایک قاتلانہ سازش کے بارے میں خبردار کیا تھا جہاں وہ بالآخر مارے گئے تھے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ مجرم اسلامی انقلابی گارڈز کور کا ایک اعلیٰ درجہ کا رکن ہو سکتا ہے، جو انتباہ کو نظر انداز کرنے اور پہلے سے طے شدہ وقت اور جگہ پر منصوبہ پر عمل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق ایرانی حکومت پاسداران انقلاب کی ساکھ کے تحفظ کے لیے ایسے افراد کے نام اور دیگر معاملات کو ظاہر نہیں کرتی.

  • شیخ حسینہ واجد کا "لو میرج”

    شیخ حسینہ واجد کا "لو میرج”

    سندھی دوست سید واجد شاہ سے شادی کی.بلوچ سردار ، عطاء اللہ مینگل نے شیخ حسینہ اور واجد شاہ کا نکاح پڑھایا.شادی کی تقریب میں سردار عطاء اللہ مینگل ، مخدوم امین فہیم اور پیر علی محمد راشدی مہمان خصوصی کی حیثیت سے شریک ہوئے

    تحریر و تحقیق : آغا نیاز مگسی

    دنیا کا سب سے زیادہ عرصہ وزیر اعظم کے عہدے پر فائز رہنے والی بنگلہ دیش کی خاتون وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد 28 ستمبر 1947 کو تنگیپورہ بنگال متحدہ پاکستان میں شیخ مجیب الرحمن اور فضیلت النساء کے گھر میں پیدا ہوئیں ۔ ایف ایس سی مکمل کرنے کے بعد انہوں نے ڈھاکہ یونیورسٹی میں داخلہ لیا جہاں ان کی دادو سندھ سے تعلق رکھنے والے سائنس کے طالب علم سید واجد علی شاہ سے دوستی ہوئی اور کچھ عرصہ بعد ان کی یہ دوستی پیار میں بدل گئی ۔ جب دل کی بیتابیاں بڑھنے لگیں تو ایک دوسرے سے ایک پل بھی دوری انہیں گوارا نہیں ہو رہی تھی تب شیخ حسینہ نے شاہ صاحب سے شادی کرنے کا تقاضا کیا ان کی رضامندی پر شیخ حسینہ نے اپنے والد شیخ مجیب الرحمان سے بات کی شیخ مجیب نے سید واجد شاہ کے والد سے رابطہ کیا اور پھر دونوں کے والدین کی رضامندی سے شادی کی تاریخ مقرر کی گئی ۔ 17 نومبر 1967 میں ڈھاکہ میں ان کی شادی کی مختصر تقریب منعقد ہوئی جس میں سندھ کی نامور روحانی اور علمی و ادبی شخصیات مخدوم امین فہیم ، پیر علی محمد راشدی اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیت سردار عطاء اللہ خان مینگل بطور مہمانان خصوصی شریک ہوئے ۔ شرکائے تقریب کی باہمی مشاورت سے بلوچ نوجوان سردار عطاء اللہ مینگل نے 20 سالہ دوشیزہ شیخ حسینہ اور سید واجد علی شاہ کا نکاح پڑھایا نکاح کے بعد شیخ حسینہ نے اپنے نام کے ساتھ واجد کا لاحقہ لگا دیا اور وہ اس طرح شیخ حسینہ واجدبن گئیں ۔ سید واجد شاہ سے انہیں دوبچے پیدا ہوئے جن میں بیٹا سجیب واجد اور بیٹی صائمہ واجد ہیں ۔

    15 اگست 1975 کو بنگلہ دیش کے بانی صدر اور عوامی لیگ کے سربراہ شیخ مجیب الرحمن اور اس کےاہل خانہ کو ان کے گھر میں داخل ہو کر کو قتل کر دیا گیا تاہم شیخ حسینہ اور اس کی بہن شیخ ریحانہ اس رات اپنے گھر سے باہر تھیں اس لیے یہ دونوں زندہ بچ گئیں ۔ اپنے والدشیخ مجیب الرحمان کےقتل کے بعد وہ اور ان کی بہن ریحانہ ہندوستان چلی گئیں وہاں انہیں سیاسی پناہ دی گئی ۔ شیخ مجیب کے قتل کے بعدجنرل حسین محمد ارشاد نے اقتدار پر قبضہ کر لیا ۔ 1981 میں شیخ حسینہ نے بنگلہ دیش واپس آ کر اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کیا ۔ وہ 3 بار عوامی لیگ کی صدر کی حیثیت سے ملک میں اپوزیشن لیڈر بنیں اور چار مرتبہ بنگلہ دیش کی وزیر اعظم بنیں ۔ ان کے دور میں ملک کی معیشت مسستحکم ہوئی جس کی اہم وجہ ڈاکٹر محمد یونس کی سماجی خدمات تھیں شیخ حسینہ واجد ایک بدترین ڈکٹیٹر حکمران ثابت ہوئیں اپنے سیاسی مخالفین کو قتل کرانا پھانسی چڑھانا اور جیل میں ڈالنا ان کا مشغلہ بن گیا یہاں تک کہ ڈاکٹر یونس پر بھی مقدمات بنائے گئے جن کی تعداد 100 سے بھی زائد تھی ڈاکٹر یونس کو مجبور ہو کر ملک چھوڑنا پڑا ۔ جب 5 اگست 2024 کو طلبہ تحریک عروج پر پہنچ گئی طلبہ کے مشتعل ہجوم نے شیخ حسینہ واجد کو قتل کرنے کی غرض سے وزیر اعظم ہاؤس کا رخ کیا تو آرمی چیف وقار الزمان کی مدد سے وہ اپنی بہن ریحانہ کے ساتھ ہیلی کاپٹر میں فرار ہو کر ایک بار پھر موت کے منہ میں جانے سے بچ کر ہندوستان پہنچ گئیں جبکہ شیخ حسینہ کے محبوب شوہر اور اٹامک انرجی سائنسدان سید واجد شاہ 9 مئی 2009 میں وفات پا چکے تھے ۔