Baaghi TV

Category: بلاگ

  • راولپنڈی چوروں ،ڈاکو ؤں کے حوالے،شہری لٹنے لگے.تجزیہ: شہزاد قریشی

    راولپنڈی چوروں ،ڈاکو ؤں کے حوالے،شہری لٹنے لگے.تجزیہ: شہزاد قریشی

    پولیس حکام کی کیا مجبوری،جرائم پیشہ افراد کو کھلی چھٹی دیدی
    چند ایس پیز،اور ڈی ایس پیز کا نیٹ ورک اتنا مضبوط کیوں،کون ذمہ دار؟

    راولپنڈی شہر میں ا یک ہی دن میں 112 وارداتوں کی خبر نے ہلا کر رکھ دیا ہے ،،،، گاڑی چوری، موٹر سائیکل چوری سمیت گھروں کو لوٹ لیاگیا،،، اگر راولپنڈی جیسے حساس ترین شہر جہاں پاک فوج اورجملہ اداروں کے دفاتر موجود ہیں کا یہ حال ہے تو باقی صوبے کا کیا ہوگا؟ یہ سوال وزیراعلیٰ پنجاب ، آئی جی پنجاب ، وفاقی وزیر داخلہ ، آر پی او اور سی پی او راولپنڈی سے ہے،راولپنڈی میں قانون نافذ کرنے والے ادارے بے بس تماشا دیکھنے پر کیوں مجبور ہیں؟ مسلح ڈاکو دیدہ دلیری سے لوٹ مار مچا رہے ہیں،سوال یہ بھی ہے کہ راولپنڈی جیسے حساس ترین شہر میں اعلیٰ پولیس ، افسران کی تعیناتی میں آنکھیں بند کیوں کی گئی ہیں ؟ عوام کو چوروں ، ڈاکوئوں ، رسہ گیروں ، لینڈ مافیا کے حوالے کرنے کا کون ذمہ دار ہے؟ آئی جی پنجاب کیوں بے بس ہیں،راولپنڈی کو لے کر آئی جی پنجاب کی گڈ گورننس کے آگے کون سی دیوار ہے ؟ راولپنڈی کو دوسرا کراچی کیوں بنا دیاگیا ؟ کیا راولپنڈی لاوارث شہر ہے ؟

    گذشتہ دنوں پاک فوج کے سربراہ نے درست کہا کہ اللہ تعالی کے نزدیک سب سے بڑا جرم فساد فی الارض ہے،پاک فوج اللہ تعالی کے حکم کے مطابق فساد فی الارض کے خاتمے کے لئے جدوجہد کررہی ہے ان کی ساری تقریر سنی ایک باوقار شخص باوقار گفتگو کرتا ہے، یقینا پاک فوج اور جملہ اداروں نے قربانیاں دے کر ملک سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کا ماضی میں بھی مقابلہ کیا، مستقبل میں بھی عوام پاک فوج سے یہی توقع رکھتی ہے، ماضی میں کسی زمانے میں کراچی روشنیوں کے شہر کو اندھیروں میں تبدیل کردیا گیا تھا لیکن پاک فوج اور جملہ اداروں اور ذمہ دار پولیس افسران نے مل کر کراچی میں روشنیاں بحال کی تھیں، بلاشبہ پاک فوج اورجملہ اداروں کے ساتھ پنجاب اور دیگرصوبوں کی پولیس نے بھی امن بحال کرنے میں کردار بھی ادا کیا اور شہادتیں دیں مگر یہ کیاقہرہے کہ آج راولپنڈی میں پولیس کے وہ افسران جن میں ایس پیز ، ڈی ایس پیز کاایک مخصوص نیٹ ورک ہے، جس نے مخلوق خدا کو چوروں ، ڈاکوئوں ،لینڈ مافیا ،رسہ گیروں ، جوئے کے اڈے چلانے والوں ، اور بدمعاشوں کے حوالے کردیا ہے،آخر سی پی او اور آر پی او راولپنڈی کی وہ کونسی مجبوری اور بے بسی ہے کہ وہ اس پولیس نیٹ ورک کے آگے بے بس ہیں جبکہ آئی جی پنجاب بھی راولپنڈی کو لے کر بے بس ہیں کیا آج کے یہ پولیس افسران پاک فوج اور جملہ اداروں کے ساتھ جہاد فی الارض میں حصہ لے سکتے ہیں ؟

  • ارشد ندیم پاکستان کے لیے گولڈ میڈل لے آئے

    ارشد ندیم پاکستان کے لیے گولڈ میڈل لے آئے

    27 سالہ پاکستانی ایتھلیٹ ارشد ندیم نے پاکستان کا پہلا انفرادی اولمپک چیمپئن بن کر تاریخ میں اپنا نام لکھوادیا ہے۔ پیرس اولمپکس میں ان کی 92.97 میٹر کی شاندار جیولن تھرو نے پچھلے اولمپک ریکارڈ توڑ دیئے ہیں اور آل ٹائم گریٹز میں سے انہوں‌نے ایک مقام حاصل کیا ہے، ارشد ندیم کے اس یادگار کارنامے نے نہ صرف پاکستان کو ایتھلیٹکس میں پہلا اولمپک گولڈ میڈل ملا بلکہ تین دہائیوں میں کسی بھی کھیل میں پہلا تمغہ بھی حاصل کیا۔

    ارشد ندیم کی کامیابی کا سفر آسان نہیں تھا۔ جدید ترین تربیتی سہولیات تک رسائی نہ ہونے کے باوجود، وہ ثابت قدم رہے اور اولمپکس میں ٹریک اینڈ فیلڈ فائنل کے لیے کوالیفائی کرنے والے پہلے پاکستانی بنے۔ 2023 ورلڈ چیمپیئن شپ میں ارشدندیم کی جانب سےچاندی کا تمغہ اور ٹوکیو میں پانچویں پوزیشن پر فائز ہونا اس کی شروعات تھی،ارشد ندیم اس سے پہلے اولمپکس میں اپنے مشکل سفر کے بارے میں بات کر چکے ہیں، کہتے ہیں کہ وہ اس کھیل میں سرفہرست پہنچ گئے تھے جس کے پاس جدید ترین میدانوں یا تربیتی سہولیات تک رسائی نہیں تھی۔

    دی گارڈین کو ایک انٹرویو میں ارشد ندیم کا کہنا تھا کہ "اس دن اور دور میں، آپ کو کھلاڑیوں کو تیار کرنے کے لیے عالمی معیار کی سہولیات فراہم کرنی ہوں گی کیونکہ مقابلہ سخت سے سخت ہوتا جا رہا ہے۔ آپ انہیں یہ سہولتیں دیے بغیر دوسرا ارشد پیدا نہیں کر سکتے۔

    اپنی تاریخی جیت کے بعد ارشد ندیم نے فتح کی خواہش رکھنے والی قوم کے لیے بے پناہ خوشی کا پیغام پہنچایا ہے۔ ان کا جذباتی ردعمل، خوشی کے آنسو، اور مداحوں کے ساتھ دلی گلے ملنا وائرل ہو چکا ہے۔ اس کے آبائی شہر میاں چنوں میں روایتی ڈھول بجائے گئے، رقص کیا گیا اور خوشیوں کی نمائش کرنے والی جشن کی ویڈیوز نے انٹرنیٹ کو اپنے سحر میں جکڑ لیا ہے۔ اس کی ماں کے فخر کے آنسو اور اپنے بیٹے کو گلے لگانے کی آرزو نے اس لمحے کی شدت کو مزید بڑھا دیا ہے۔

    ارشد ندیم کا کارنامہ ان کی ذاتی فتح سے آگے بڑھتا ہے۔ وہ پاکستانی کھلاڑیوں کے لیے امید کی کرن بن گئے ہیں، انہوں نے ٹیلنٹ کو پروان چڑھانے کے لیے عالمی معیار کی سہولیات کی ضرورت پر زور دیا۔ امید ہے کہ آنے والی نسلیں ان کے نقش قدم پر چلیں گی۔ پاکستان ارشد ندیم کی کامیابی کی وجہ سے سرشار ہے، ان کی میراث قوم کو تحریک اور ترقی دیتی رہے گی۔

  • محب وطن جماعتیوں کو پھانسی دینے والی حسینہ کا عبرتناک انجام.تجزیہ:شہزاد قریشی

    محب وطن جماعتیوں کو پھانسی دینے والی حسینہ کا عبرتناک انجام.تجزیہ:شہزاد قریشی

    پہنچی وہیں پہ خاک.جہاں کا خمیر تھا
    اصل غدار بے نقاب،ملک کو دولخت کرنے والے اپنے آقائوں کی بانہوں میں پہنچ گئے
    بھارتی آقائوں کے سامنے اقتدار کی ہوس کیلئے غلامی کا سودا مہنگا پڑ گیا
    فوج پر الزام لگانے والے سیاسی یاد رکھیں تاریخ اور تقدیر معاف نہیں کرتی

    بھارت کی کوکھ اگرتلہ سے جنم لینے والی سازش مکتی باہنی کے بازئوں میں پلنے والے مجیب الرحمان کی بیٹی حسینہ واجد اقتدار چھوڑ کر ننگے پائوں واپس اگرتلہ بھاگ گئی پاکستان کو دولخت کرنے والا ٹولہ اپنے آقائوں کی بانہوں میں پناہ لے کر خلیج بنگال میں ڈوب گیا، 1971ء میں ہم نے پاکستان ٹوٹتے دیکھا اور آج ہم نے پاکستان سے غداری کرنے والے مجیب الرحمان اور اس کی باقیات کو عبرتناک انجام تک پہنچتے دیکھا، محب وطن پاکستانی عوام کو روحانی تسکین ہوئی اور بنگلہ دیش میں مکتی باہنی کی رانی حسینہ واجد کے ہاتھوں تختہ دار پر جھولنے والے علمائے دین جماعت اسلامی کے اکابرین اور مکتی باہنی کی آمریت کے سامنے کلمہ حق بلند کرنے والے رضاکاروں کی ارواح کو بھی تسکین ہوئی ہوگی، جنہوں نے غدار وطن مجیب الرحمان اور اس کی بیٹی کی آمریت پر شہادت کو ترجیح دی، افواج پاکستان کے شہداء اور غازیوں کو بھی سکون ملا ہوگا کہ کس طرح دشمنان پاکستان سے اگرتلہ کے ایئربیس پر 1968ء میں سازباز کر کے مجیب الرحمان کو متحدہ پاکستان کے دارالخلافے میں پٹ سن کی خوشبو آنا شروع ہوئی اور اس نے بھارت کے آقائوں کے آگے اپنی اقتدار کی ہوس کے لئے غلامی کا سودا کیا ، مشرقی پاکستان میں افواج پاکستان اور محب پاکستان کے جان و مال اور عزتوں سے خون کی ہولی کھیلی اور بھارتی پروپیگنڈے اور وسائل کے بل بوتے پر سقوط ڈھاکہ کی راہ ہموار کی اور اقتدار حاصل کیا اور پھر اس کی بیٹی نے بھی اپنے آقائوں کی آشیر باد سے دھونس دھاندلی سے ظلم سے اپنے اقتدار کو طوالت دی، آج افواج پاکستان پر لگائے جانے والے سقوط ڈھاکہ کے الزامات کو بھی قدرت نے جھوٹا قرار دے دیا،

    شہیدان ملت اور غازیان پاک فوج بھی سروخرو ہو گئے قدرت نے غداری اور محب وطن کو رات اور دن کے فرق کی طرح واضح کر دیا، افسوس ہمارے سیاستدانوں کی اکثریت پاک فوج پر الزامات لگاتی رہی اور نوجوان نسل کو گمراہ کرنے کا فریضہ سرانجام دیتی رہی، مجیب الرحمان سے حسینہ واجد کے انجام سے ان لوگوں کو سبق سیکھنا ہوگا جو اب بھی بھارتی ایجنسیوں کے جھانسے میں آکر کوڑیوں کے مول اپنے اقتدار کے خوابوں کے بدلے وطن عزیز کے خلاف اور افواج پاکستان کے خلاف سازشیں کرتے ہیں۔ یاد رکھیں تاریخ اور تقدیر کبھی کسی غدار کو معاف نہیں کرتی۔

  • کس طرح فرقہ پرست قیادت جمہوریتوں کو پٹڑی سے اتار سکتی ہے

    کس طرح فرقہ پرست قیادت جمہوریتوں کو پٹڑی سے اتار سکتی ہے

    انسانوں کا ہیرو کی پرستش کی طرف فطری رجحان ہے، جو اکثر کھیلوں کے ستاروں اور اداکاروں کی تعریف میں دیکھا جاتا ہے، جو ہماری ثقافت میں گہرا جڑا ہوا ہے۔ تاہم، یہ رجحان اس وقت خطرناک ہو جاتا ہے جب لوگ غیر اخلاقی لیڈروں کے بت بنانا شروع کر دیتے ہیں، جس سے شخصیت کے فرقے کا عروج ہوتا ہے۔ یہ رجحان صرف آمرانہ حکومتوں تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ جمہوریتوں پر تیزی سے اثر انداز ہو رہا ہے۔

    آج، شخصیت کا فرقہ پروان چڑھ رہا ہے جب افراد اہم سماجی اور معاشی مسائل کو حل کرنے کے لیے مکمل طاقت کے ساتھ "عظیم مردوں” پر بھروسہ کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، چین کے صدر اور روس کے صدر نے خود کو "تاحیات” کے طور پر رکھا ہے۔ ان کی حکومتیں ناقابل تسخیر ہونے کی چمک پیدا کرنے کے لیے مطابقت پذیر پروپیگنڈہ مشینری کا استعمال کرتی ہیں، ہیرو کی پرستش کی ثقافت کو فروغ دیتی ہیں۔ پاکستان میں عمران خان کے ساتھ بھی ایسا ہی رجحان دیکھا جا سکتا ہے۔

    جمہوریت چاہے سرمایہ دارانہ ہو یا سوشلسٹ، اسے ایسے ماحول کی ضرورت ہوتی ہے جو رائے اور اختلاف رائے کی آزادی کو فروغ دیتا ہو۔ جمہوریت کو مؤثر طریقے سے کام کرنے کے لیے، اس کے حامیوں کو کرشماتی لیڈروں کے ارد گرد کی ہپ کے بجائے پالیسیوں اور مسائل پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے، سیاسی عمل میں فعال طور پر شامل ہونا چاہیے۔ باخبر اور تنقیدی حامی خود غرضی، انا پرستی اور جارحیت کو روکنے میں مدد کر سکتے ہیں ، قائدین کو اپنی قابلیت اور کامیابیوں کا تنقیدی جائزہ لینے کی ترغیب دینا جمہوری اصولوں کی بہتر خدمت کر سکتا ہے۔

    اس کے برعکس، اندھی اطاعت جمہوریت کے لیے ایک اہم خطرہ ہے۔ بیکار رہنماؤں کو برقرار رکھنے کی قیمت قومی تقسیم کا باعث بن سکتی ہے، پیروکاروں کے درمیان پرتشدد رویے کو بھڑکا سکتی ہے، اور آزادی اور انصاف کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ سیاسی جماعتوں اور سیاسی فرقوں میں فرق کرنا بہت ضروری ہے۔ سیاسی جماعتیں منشوروں کی بنیاد پر کام کرتی ہیں، جب کہ سیاسی فرقے اپنے رہنماؤں کو خدا کی طرح کا درجہ دیتے ہیں، دوسری جماعتوں کے خلاف نفرت پروان چڑھتے ہیں جنہیں ناقابل تلافی کرپٹ سمجھا جاتا ہے۔

    ڈاکٹر راشد ولی جنجوعہ نے جولائی 2023 میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں، ڈاکٹر اسٹیون حسن کی ایک کتاب "دی کلٹ آف ٹرمپ” کا حوالہ دیا، جو بتاتا ہے کہ کس طرح ٹرمپ جیسے فرقے کے رہنما دماغ پر قابو پانے کی تکنیک کا استعمال کرتے ہیں جو یہاں تک کہ معاشرے کے تعلیم یافتہ اور عقلی طبقوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔

    یہ عوام، پارٹیوں کے حامی ہیں جنہیں اپنے لیڈروں تک مسلسل رسائی، جانچ اور سوال کرنا چاہیے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ صحیح راستے پر چل رہے ہیں۔

  • آزادی کا دکھ یا دکھ کی آزادی؟

    آزادی کا دکھ یا دکھ کی آزادی؟

    آزادی کا دکھ یا دکھ کی آزادی؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    اگست کا مہینہ شروع ہوتے ہی سرکاری سطح پر جشن آزادی شایان شان منانے کیلئے میٹنگز اور اقدامات شروع کر دئے جاتے ہیں اور بازاروں میں بھی قومی پرچم اور رنگ برنگی جھنڈیوں اور بچوں سے لیکر بڑوں تک کے لباس اور مختلف اشیاء کے سٹال سج جاتے ہیں ،آج جب ہم اپنی آزادی کا جشن منانے جا رہے ہیں تو دیکھنا ہوگا کہ کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟ یا پھر ہم مہنگائی، بے روزگاری اور بجلی کے بل کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں؟ ہمارے نوجوان ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں اور ہمارے عوام خودکشیاں کر رہے ہیں۔ کیا یہی آزادی ہے جس کے لیے ہمارے بزرگوں نے قربانیاں دی تھیں؟آزادی کا مطلب صرف سیاسی آزادی نہیں ہوتا بلکہ اس میں معاشی آزادی بھی شامل ہے۔

    آج جب ہمارے ملک میں مہنگائی آسمان کو چھوچکی ہے اورروزانہ کی بنیاد پر مہنگائی میں اضافہ سے عام آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی کمانا بھی مشکل ہو گیا ہے،بے روزگاری کا مسئلہ بھی شدت اختیار کر رہا ہے اور ہمارے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع نہیں مل پا رہے۔ نتیجتاََ وہ مایوسی کا شکار ہو رہے ہیں اور ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں۔بھاری بھرکم بجلی کے بل بھی عوام کیلئے ایک بڑا مسئلہ بن چکے ہیں، گرمیوں میں لوگ بجلی کے بل ادا کرنے میں بہت مشکل محسوس کرتے ہیں، اور خودکشیوں کا بڑھتا ہوا رجحان بھی ایک تشویشناک صورتحال ہے۔

    آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک پاکستان ہے، اکنامک سروے 2023-2024 کے مطابق پاکستان میں تقریبا 45 لاکھ سے زائد افراد بے روزگار ہیں جن میں 15 سے 24 سال کی عمر کے نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح سب سے زیادہ ہے،بے روزگاری کی وجہ سے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع نہیں مل پا رہے اور وہ مایوسی کا شکار ہوچکے ہیں،ملک میں بیروزگاری اور مایوسی کی وجہ سے پاکستانی نوجوان غیرقانونی طریقے سے باہر جانے پر مجبورہوچکے ہیں ،غیرقانونی طریقے سے دیار غیرجانے والے نوجوان اکثروبیشترحادثات شکارہوجاتے ہیں ،ماہرین کے مطابق حکومت پاکستان نوجوانوں کے غیر قانونی طریقے سے باہر جانے کے اسباب پر توجہ ہی نہیں دے رہی ہے۔

    پاکستان کا شمار بھی ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں خودکشی کے بارے میں کوئی سرکاری اعداد و شمار موجود نہیں ہیں،اعداد و شمار کے تجزیہ کے مطابق ملک میں ہر گھنٹے میں 3افراد اپنے ہی کسی عمل سے اپنی سانس کی ڈور کو توڑ لیتے ہیں، ملک میں خودکشی کے اعداد و شمار ایک سنگین تصویر پیش کر رہے ہیںایک رپورٹ کے مطابق پاکستان خودکشی کے اعتبار سے دنیا میں 16ویں نمبر پر آ چکا ہے ،تشویش ناک حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں 15سے 29 سال کی عمر کے افراد میں خودکشی موت کی چوتھی بڑی وجہ کے طور پر سامنے آئی ہے۔ عمر کا وہ گروپ جسے امید، صلاحیت اور موقع کی علامت ہونا چاہیے اس دل دہلا دینے والی حقیقت سے دو چار ہے۔

    مہنگی بجلی تمام پاکستانیوں کے لیے ناقابل برداشت ہو چکی ہے،بجلی کی زیادہ قیمت شہریوں کو غربت میں دھکیل رہی ہے اور کاروبارکو دیوالیہ کر رہی ہے، بجلی پاکستان کی صنعتوں کے لیے سب سے اہم مسئلہ ہے اور یہ براہ راست 240 ملین لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کرتی ہے، توانائی کے مسئلے پر ہمیشہ سے عوام کوبے وقوف بنایاجاتا رہاہے اور پاکستان کی اشرافیہ نے ڈیم نہیں بننے دئے اور سستی بجلی کا جھانسہ دیکر بجلی فراہم کرنے کیلئے پرائیوٹ IPP بنائیں اور پاکستان اور عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹااور تاحال لوٹ رہے ہیں ان اداروں کے مالکان حکومت میں رہے ہیں اور ہیں، عوام کیلئے بجلی کابحران پیدا کرنے والے پاکستان کے 40 خاندان ہیں کوئی ادارہ ، کوئی عدلیہ ان پر ہاتھ نہیںڈال سکتی ۔

    آزادی ایک قیمتی نعمت ہے، ہمیں اس نعمت کی قدر کرنی چاہیے لیکن یہ جشن صرف خوشیوں کا نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس میں ہمیں اپنی مشکلات اور چیلنجوں پر بھی غور کرنا چاہیے۔کیا ہم جشن منانے کے قابل ہیں؟ذرا غور کریں جس ملک میں مہنگائی، بے روزگاری، سیاسی عدم استحکام اور دیگر مسائل نے عوام کی زندگی کو اجیرن بنا دیا ہوتواس سب کے باوجود ہم آزادی کا جشن کیسے منا سکتے ہیں؟ کیا یہ آزادی کا جشن ہے یا پھر یہ دکھ کا جشن ہے؟

  • مسئلہ فلسطین و کشمیر،اقوام متحدہ و مسلم امہ کا "مجرمانہ”کردار.تجزیہ: شہزاد قریشی

    مسئلہ فلسطین و کشمیر،اقوام متحدہ و مسلم امہ کا "مجرمانہ”کردار.تجزیہ: شہزاد قریشی

    اقوام متحدہ کے وجود پر مسئلہ فلسطین اور مسئلہ کشمیر سب سے بڑا سوالیہ نشان ہیں جبکہ اس کے ساتھ ساتھ اسلامی ممالک جواب صرف نام نہاد اُمہ ہے اس پر بھی سوالیہ نشان ہے؟ اگر اقوام متحدہ کا اور مسلم اُمہ کا کوئی وجود ہوتا تو کشمیر اور فلسطین میں بے گناہ لوگوں کا قتل عام نہ ہوتا ، ان مسئلوں کا حل کرنے کاکردار کسی نے بھی کیا ۔اسلامی ممالک کے حکمران لاغر اور مفلوج ہیں۔ جبکہ اقوام متحدہ کسی مسئلے کو حل کرنا اس کے بس کی بات ہی نہیں رہی۔ دنیا کی پانچ بڑی طاقتوں کی ویٹو اور ایسے ہی ہے جیسے ان کے ہاتھوں میں کوئی پستول ہو ، جہاں ان کے مفادات سے کسی مسئلہ کا حل ٹکرائو کھاتا ہے وہاںیہ اقوام متحدہ کی کنپٹی پر یہ اوزار رکھ کر اس سے اپنی بات منواتے ہیں۔ کشمیر جیسے اور فلسطین جیسے مسائل انہی طاقتوں کے مفادات کے لئے پیدا کئے گئے تھے۔ انہی طاقتوں کی محکوم اقوام متحدہ بھلا کیسے اور کیونکر حل کروائے گی ؟ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر تنازع پر تین جنگیں ہو چکی ہیں مذاکرات کے لامتناہی دھارے اور سربراہی ملاقاتیں ہمیشہ ناکام ہی رہیں۔ مسلم حکمران ان معاملات سے لاتعلق نظر آتے ہیں۔ کشمیر اورفلسطین میں خونریزی جاری ہے۔

    ہماری پاک فوج اور قومی سلامتی کے اداروں نے سرحدوں کی حفاظت کے لئے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ سچ بات یہ ہے کہ ایٹمی قوت کا حامل ایک اسلامی ملک عالمی سیاسی کھلاڑیوں کو ہضم نہیں ہوتا پاک فوج اور جملہ ادارے اپنی سلامتی اور وقار پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرتے ۔ ہمارے فوجی وطن عزیز کے لئے اپنی جان قربان کرنے کو ہر دم تیار رہتے ہیں۔ میں اگر خط پوٹھوہار کا ہی ذکر کروں کوئی ایسا گائوں نہیں جسے کسی شہید کے مسکن ہونے کا اعزاز حاصل نہیں اور کتنے ہی مستقبل کے شہداء جو اس وقت ملک کے مختلف محاذوں پر داد شجاعت دے رہے ہیں۔

    آج کے ملکی حالات کو دیکھ کر کبھی کبھی یہ محسوس ہوتاہے کہ کوئی نہ کوئی عالمی سازش ہو رہی ہے کہ پاکستان کو اس قدر کمزور کردیا جائے کہ پاکستان بھارت کو آنکھیں نہ دکھا سکے۔ گذشتہ پنجاب پولیس نے شہداء کا دن منایا گیا ملک سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لئے انگنت قربانیاں دی ہیں پنجاب پولیس کے سینکڑوں نوجوانوں اور افسروں نے قربانیاں د ی ہیں۔ پنجاب پولیس کے سینکڑوں نوجوانوں اور افسروں نے قربانیاں د ی پاک فوج اور جملہ اداروں کے ساتھ مل کر دہشت گردی کا خاتمہ کیا پولیس کے شہید ہونے والے نوجوان بھی ہیرو ہیں۔ یہ ہمارے وہ ہیرو ہیں جنہوں نے ہمارے کل کے لئے اپنا آج قربان کردیا۔

  • 22 خاندانوں سے آئی پی پیز تک،کب تک چلے گی یہ لوٹ مار؟

    22 خاندانوں سے آئی پی پیز تک،کب تک چلے گی یہ لوٹ مار؟

    22 خاندانوں سے آئی پی پیز تک،کب تک چلے گی یہ لوٹ مار؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    14اگست1947ء کو برصغیر کی تقسیم کی بعد پاکستان معرض وجود میں آیا، اس آزادی کی جنگ میں بہت سے لوگوں نے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانے پیش کئے جوکہ پاکستان آزاد ہونے کے بعد بھی پاکستانیوں کی قربانیوں کا سلسلہ آج بھی جاری ہے، آئیے ذرا اس بات کاجائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں ہمارے اسلاف کی بیمثال قربانیوں کے نتیجے میں قائم ہونے والی عظیم مملکت پاکستان میں کیا واقعی پاکستانیوں کو حقیقی آزادی میسر ہے یاجس امید کی بنیاد پر اسلاف نے قربانیاں دی تھیں ان قربانیوں کا پھل ان کی نسلوں کاملا ؟

    سب سے پہلے ذکر کرتے جنرل ایوب خان کے دور حکومت کا جسے پاکستان کی ترقی کا سنہری دور کہاجاتا ہے اس سنہری دور میں کس طرح پاکستان کی دولت پر ہاتھ صاف کئے گئے اور کیسے کرپشن کی ابتداء ہوئی 15جون 1964 کو ممبر قومی اسمبلی اور ماہر اقتصادیات ڈاکٹر محبوب الحق نے بجٹ تقریر کے دوران انکشاف کیا کہ پاکستان( جو اس وقت متحدہ پاکستان تھامشرقی پاکستان علیحدہ نہیں ہواتھا)کی 60 سے 80 فیصد دولت پر صرف” 22 خاندان” قابض ہیں۔ ان کے مطابق 66 فیصد صنعتیں ، 79 فیصد بیمہ کمپنیاں اور 80 فیصد بینکوں کا سرمایہ صرف "بائیس خاندانوں” کے قبضے میں ہیں، محبوب الحق کے اس انکشاف کی بنیاد وزارت مالیات کے ایک اعلی افسر ظہیر الدین کی کریڈٹ کمپنی کی رپورٹ پر استوار کی گئی تھی۔ انہوں نے انکشاف کیا تھا کہ بینکوں نے عوام کی امانتوں میں سے جو روپیہ کاروباری طبقے کو ادھار دینے کے لیے مخصوص کر رکھا ہے اس میں بڑی بڑی رقوم چند خاندان کے افراد نکلوا کر لے جاتے ہیں اور نام بدل بدل کر ان سے استفادہ کرتے رہتے ہیں (بعد میں لی گئی رقوم معاف کرائی جاتی رہیں)

    ایک اور رپورٹ میں بتایا گیا کہ 22 دسمبر 1957 کو صرف 23 شخصیات ایسی تھیں، جنہیں 33 کروڑ 83 لاکھ روپے بطور قرض دیا گیا تھا۔ 31 مارچ 1959 تک ان افراد کی تعداد بڑھ کر 31 اور 31 دسمبر 1961 تک41 ہو گئی۔ ان 41 افراد کو جو رقوم بطور قرض دی گئی تھیں وہ 62کروڑ کے لگ بھگ تھی۔ 1961 میں اسی بات کو منصوبہ بندی کمیشن کے شعبہ تحقیق کے سربراہ مسٹر آر ایچ کھنڈیکر نے آگے بڑھایا اور ان کی تحقیق کی بنیاد پر 64-1963 کے بجٹ میں وزیر خزانہ مسٹر محمد شعیب نے انکشاف کیا کہ بینکوں نے جو رقم ادھار کے لیے علیحدہ کر رکھی ہے اس سے صرف 20 خاندان مستفیض ہو رہے ہیں۔

    ڈاکٹر محبوب الحق کے اس انکشاف کا ذو الفقار علی بھٹو نے بھرپور فائدہ اٹھایا اور جب انہوں نے 1968 میں صدر ایوب خان کے خلاف تحریک کا آغاز کیا تو ڈاکٹر محبوب الحق کی اس تقریر کو اپنی تحریک کا مرکزی نکتہ بنادیا۔ایوب خان کے خلاف چلنے والی تحریک کا ایک اہم نعرہ بھی یہی تھا کہ اس ملک پر بائیس خاندانوں کا قبضہ ہے۔ یہ نعرہ اس قدر مقبول تھا کہ ذو الفقار علی بھٹو جیسا بڑا زمیندار جس کی پارٹی میں مصطفی جتوئی، مخدوم طالب المولی اور مصطفی کھر جیسے لاتعداد بڑے بڑے زمیندار تھے، اس نے بھی ووٹ کی سیاست اور عوامی مقبولیت کے لیے سرمایہ داری کے خلاف پارٹی پوزیشن اس حد تک لی کہ پیپلز پارٹی کے منشور کے چار بنیادی نکات میں سے تیسرا نکتہ یہ تھا کہ سوشلزم ہماری معیشت ہے۔ ملک پر بائیس خاندانوں کا قبضہ ہے، یہ فقرہ بھٹو کی تقریروں کا جزوِلاینفق تھا۔ اور اس نعرے سے وہ اپنے جلسوں میں عوام کا لہو گرماتا تھا۔ آج نصف صدی گزرنے کے بعد اب ان بائیس خاندانوں کا دائر اثر بڑھ کر اس ملک کی ایک فیصد آبادی تک پھیل چکا ہے۔ یعنی24 کروڑ سے زائدلوگوں کی آبادی میں سے بائیس لاکھ لوگ ایسے ہیں جو اس ملک کے نوے فیصد سے زیادہ سرمائے پر قابض ہیں۔ اس کیفیت کو دنیا بھر میں "Elite Capture” یعنی اشرافیہ کی لوٹ کھسوٹ کہتے ہیں۔

    اس وقت پاکستان میں بجلی کےبھاری بلوں کے سبب عوام کی خودکشیاں معمول بن چکی ہیں ،مہنگی بجلی اور آئی پی پیز معاہدے درد سر بن گئے ، عوامی مشکلات اور ردعمل شدیدہوتاجارہاہے،پی ٹی آئی دور حکومت 2021 میں آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں کی تجدید پاور ڈویژن نے کی تھی۔پاور ڈویژن نے 2021 میں معاہدوں کی تجدید کیلئے مذاکرات کیے تھے

    اب ذرا تھوڑی سی نگاہ ادھر بھی ڈال لیتے ہیں کہ کس دورِ حکومت میں آئی پی پیز کے ساتھ سب سے زیادہ معاہدے کیے گئے تو مسلم لیگ ن کے 2013 سے 2018 کے دور حکومت میں سب سے زیادہ 130 بجلی بنانے والی کمپنیوں کے ساتھ معاہدے کیے گئے۔ جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں 48 کمپنیوں، پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں 35 کمپنیوں جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت میں 30 کمپنیوں کے ساتھ بجلی بنانے کے طویل معاہدے کیے گئے۔انڈیپنڈنٹ پاورپلانٹس یعنی آئی پی پیز کے ساتھ ہونے والے معاہدوں کے باعث ہر سال اربوں روپے کی ادائیگی عوام سے وصول کیے گئے بجلی کے بلوں کے ذریعے کی جاتی ہے۔ حکومت کی جانب سے نیپرا نے آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے کیے ہیں اور کچھ کمپنیوں کے ساتھ 2057 تک کے معاہدے کیے گئے ہیں یعنی آئندہ 33 سال تک ان کمپنیوں کو ادائیگیاں جاری رہیں گی۔وزارت توانائی کے مطابق، گزشتہ 10 سال یعنی 2013 سے 2024 تک کیپیسٹی پیمنٹ کی مد میں آئی پی پیز کو 8 ہزار 344 ارب روپے کی ادائیگی کی گئی۔ دستاویز کے مطابق گزشتہ مالی سال میں آئی پی پیز کو کیپیسٹی پیمنٹ کی مد میں 1300 ارب ادا کیے گئے جبکہ رواں سال 2 ہزار 10 ارب روپے ادا کرنا ہوں گے۔

    پاکستانی عوام شاید یہ نہیں جانتی کہ ان آئی پی پیزکمپنیوں کے اصل مالکان کون ہیں؟ 68فیصدکمپنیاں تو حکمرانوں(شریف ، زرداری، اسٹبلشمنٹ)کی ملکیت ہیں ان کے علاوہ 8 فیصد پیپلز پارٹی رہنما 10 فیصد اسٹبلشمنٹ، 8 فیصد چین کے سرمایہ کار اور7 فیصدقطری عرب اور7 فیصد پاکستانی سرمایہ دارشامل ہیں ۔اب عوام سے ایک سوال ہے جب 68فیصدآئی پی پیزکمپنیوں کے تین مالک شریف ، زرداری، اسٹبلشمنٹ ہوں توان سے کئے گئے معاہدوں کے خلاف کون لب کشائی کرے گا؟

    قیام پاکستان کے بعد سے اب تک جتنی بھی حکومتیں آئی ہیں چاہے وہ فوجی ہوں یا سویلین انہوں نے کوئی بھی ایسا منصوبہ شروع نہیں کیا جو عوامی مفاد میں ہو یا عوام کے دکھوں کامداواکرنے کی کوشش کی گئی ہو،جنرل ایوب خان دور کے 22 خاندانوں اور موجودہ آئی پی پیزتک ہردور میں صرف عوام کوقربانی کابکرابنایا گیا ہے اور عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کروایا گیاہے۔ 22 خاندان ملک کی معیشت پر قبضہ جما کر قیمتوں میں اضافہ، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی کا باعث بنے۔ دوسری جانب آئی پی پیز کے مہنگے معاہدوں سے بجلی کے بل آسمان کوچھوگئے، لوڈشیڈنگ کا مسئلہ پیدا کیا اور قومی خزانے پر بوجھ ڈالاگیا دونوں صورتوں میں عوام کی قربانیاں بڑھتی رہیں جبکہ چند افراد جو صرف حکمران خاندان ہیں یاپھر ان کے رشتے دار نے اپنی جیبیں بھریں.

    ملک کی دولت چند خاندانوں اور سیاسی گٹھ جوڑوں کی لوٹ مار کا شکار ہوتی رہی ہے، تاریخ گواہ ہے کہ عوام کی خاموشی نے اس ظلم کو پروان چڑھایا ہے، آئی پی پیز جیسے سیاسی گروہوں نے بھی اس میں اپنا کردار ادا کیا ہے، یہ لوٹ مار کا سلسلہ کب تک جاری رہے گا؟ سوال یہ نہیں کہ ملک کے وسائل کہاں جا رہے ہیں بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ عوام کب تک اس بے انصافی کو برداشت کرے گی؟ تبدیلی صرف نعرے سے نہیں بلکہ عملی اقدامات کا تقاضا کرتی ہے۔عوام کی خاموشی ان ظالموں کی طاقت کا باعث ہے، جب تک عوام بیدار نہیں ہوں گے، یہ لوٹ مار کا سلسلہ جاری رہے گا،ملک کے وسائل عوام کی امانت ہیں، اس امانت کی خیانت کرنے والوں کو عبرت کا نشان بنانا ہوگا، قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے،تاریخ گواہ ہے کہ ظالم ہمیشہ شکست خوردہ ہوتے ہیں، یہ لوٹ مار کا دور بھی ایک نہ ایک دن ختم ہوگا، لیکن اس کے لیے عوام کو متحد ہو کرتوانا آواز بلند کرناہوگی،ورنہ یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہے گا اور عوام یونہی سسکتی،جلتی ،کٹتی اور خودکشیاں کرکے مرتی رہے گی۔

  • اسماعیل ہنیہ کے قتل پر ایران کا ردعمل کیا ہوگا؟

    اسماعیل ہنیہ کے قتل پر ایران کا ردعمل کیا ہوگا؟

    غزہ میں حماس کے نائب سربراہ خلیل الحیا نے کہا ہے کہ حماس اور نہ ہی ایران علاقائی تنازعہ چاہتے ہیں، حالانکہ جرم بدلہ کا مطالبہ کرتا ہے۔ یہ تبصرہ حماس کے رہنما اسماعیل ھنیہ کے قتل کے بعد تہران میں ایک پریس کانفرنس کے دوران آیا۔ حماس اور ایران دونوں نے اس حملے کا الزام اسرائیل پر عائد کیا، اگرچہ اسرائیل نے باضابطہ طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ، لیکن اس نے پہلے حماس کے رہنماؤں کو ختم کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ 62 سالہ ہنیہ 7 اکتوبر کے حملوں کے بعد مارے جانے والے اعلیٰ ترین رہنما ہیں۔

    اسماعیل ہنیہ کا قتل، بیروت میں حزب اللہ کے ایک سینیئر کمانڈر کو نشانہ بنائے جانے کے چند گھنٹے بعد ہوا، جس سے مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے تنازعے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ اسرائیل نے شکر کی موت کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اسے فواد شکر کا "انٹیلی جنس پر مبنی خاتمہ” قرار دیا۔

    اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے مذاکرات میں ثالثی کرنے والے قطر اور مصر نے خبردار کیا ہے کہ ہنیہ کی ہلاکت غزہ میں جنگ بندی کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم کی جنگ بندی کے خلاف مزاحمت سیاسی عزائم سے متاثر ہو سکتی ہے۔

    اس حملے کو ایرانی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی اور ہنیہ جیسے دورے پر آنے والے اتحادیوں کی حفاظت کرنے کی صلاحیت کے لیے ایک چیلنج کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ ہنیہ ایک سابق فوجیوں کے گیسٹ ہاؤس میں قیام پذیر تھا، جس نے ایلیٹ ریولوشنری گارڈز (IRGC) کی سیکیورٹی کی ذمہ داریوں اور ایران کے اندر اسرائیلی قتل کے وسیع تر اثرات کے بارے میں سوالات اٹھائے تھے۔

    حملوں کے بعد ہنگامہ آرائی کے درمیان، ایران کو ایک پیچیدہ مخمصے کا سامنا ہے۔ تہران اپنی طاقتور پراکسی حزب اللہ کو اسرائیل کے ساتھ مکمل جنگ میں اتارنے سے ہچکچا رہا ہے۔ صورتحال بدستور غیر مستحکم ہے اور عالمی برادری ایران کے اگلے اقدام کا بڑی توقعات کے ساتھ انتظار کر رہی ہے۔

  • کل اقتدار کے مزے لوٹے آج مخالفت کیوں،کچھ تو خیال کریں.تجزیہ:شہزاد قریشی

    کل اقتدار کے مزے لوٹے آج مخالفت کیوں،کچھ تو خیال کریں.تجزیہ:شہزاد قریشی

    ان رہبران قوم کی کیا پیروی کریں،،،،،(ریورس)
    فوج اور عدلیہ کے خلاف ہرزہ سرائی بند کی جائے
    نوجوان نسل کو تباہی کی دھکیلنے والے ملک کی خدمت کررہے؟
    سرحدوں کے پاسبانوں پر حملے حب الوطنی نہیں،فوج ہے تو ہم ہیں

    آئے روز مختلف مفروضے اس سے بھی زیادہ پیشن گوئیاں سوشل میڈیا پر ملتی ہیں جبکہ حقائق مختلف ہیں، ملک معاشی بحران کی زد میں ہے یہ وہ حقیقت ہے جس کا ادراک ملک کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کو بھی ہے اورایرانی صدر کا طیارہ حادثہ اور اب حماس کے رہنما اسماعیل ہانیہ کی تہران میں شہادت،بلوچستان میں وطن عزیز کی سکیورٹی پر مامور نوجوان کی شہادت اور زخمی ہونا، افغانستان کے ذریعے بھارت کا وطن عزیز کو غیر مستحکم کرنا، دیگر اسلامی ممالک میں آگ اور خون کا کھیل ان سب حالات کو دیکھتے ہوئے وطن عزیز کی حفاظت پر مامور پاک فوج اور جملہ اداروں کے خلاف سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے معاشرے میں شر پھیلا رہے، شرانگیز قوتوں کی پشت پناہی سیاسی اور مذہبی قوتیں کر رہی ہیں خدا کا قہر ایک آزاد ملک میں یہ کون سی حقیقی آزادی مانگ رہے ہیں؟ وطن عزیز کے نوجوانوں سے التجا ہے کہ سیاسی اور مذہبی جماعتوں میں اکثریت اب ایسے لوگوں کی ہے جن کی میری طرح ایک پیر قبر میں اور دوسرا کیلے کے چھلکے پر ہے ، کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے کسی کو علم نہیں، اپنے اقتدار اور اختیارات کے لئے شرانگیز اور شریر قوتیں حد سے بڑھ چکی ہیں،موجودہ بین الاقوامی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے عسکری اداروں اور انصاف کا ترازو تھامے عدلیہ کو اس وطن عزیز کے مستقبل کے لئے آگے بڑھ کرکردار ادا کرنا ہوگا، عسکری اداروں اور اعلیٰ عدلیہ کا یوں تمسخر اڑانا درست قرار نہیں دیا جا سکتا، جو سیاسی و مذہبی جماعتیں عدلیہ اور عسکری اداروں کے خلاف تقریری مہم جوئی کر کے اور سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ کر رہی ہیں، ان کے خلاف عوام میں عدم اعتماد بڑھ رہا ہے، بیہودہ رویوں کو نکیل ڈالنے کے لئے عدلیہ اور عسکری اداروں کو اور اس ملک کے نوجوان نسل کے مستقبل کے لئے حرکت میں آنا ہوگا۔، آج جن مسائل کا عوام کو سامنا ہے جس عذاب سے عوام گزر رہے ہیں ،سیاسی جماعتیں اور مذہبی جماعتیں یہ سب اقتدار میں رہے مذہبی جماعتوں نے بھی سیاسی جماعتوں کے ساتھ اقتدار کے مزے لوٹے عوام کے مسائل کا ذمہ دار کون ہے؟ بقول نامعلوم شاعر
    دھوکہ دیتے ہیں اور معزز ہیں، کیسے لوگوں کا زمانہ ہے۔
    ضمیر زر کے ترازو میں تل رہے ہیں
    کہاں کا زہد و تقویٰ کہاں علم و ہنر
    ان رہبران قوم کی کیا پیروی کریں
    جو رہبری کے نام پر سوداگری کریں

  • قوم کو خودار بنائیں بھکاری نہیں

    قوم کو خودار بنائیں بھکاری نہیں

    قوم کو خودار بنائیں بھکاری نہیں
    ازقلم غنی محمود قصوری
    ہمارے ہاں ایک بہت بڑا المیہ ہے کہ ہمارے حکمران عوام کو نا تو شعور دیتے ہیں نا ہی سہولیات بس جسطرح خود ان کو مانگنے کی عادت ہے بالکل اسی طرح عوام کو بنانے پر تلے ہوئے ہیں،دوسرا بڑا ہمارے ہاں یہ المیہ ہے کہ غریب کیلئے چند سہولیات جو دکھلاوے کے طور پر دی جاتی ہے وہ بھی سیاسی سطح پر ملتی ہیں جو حکومت میں ہوتا ہے اس کے حمایتی اس سے مستفید ہوتے ہیں باقی بیچارے منہ دیکھتے رہتے ہیں اور اپنی پارٹی کی گورنمنٹ بننے کی دعا اور تگ و دو کرتے ہیں تاکہ ان کو بھی کچھ نا کچھ مل سکے.

    ہمارے ملک میں مس مینجمنٹ بہت ہے یعنی ہم انتظامی امور درست طریقے سے نہیں کر پاتے یاں پھر ایسا کہہ لیں ہم درست کرنا ہی نہیں چاہتے تاکہ جو ہمارے لیڈران کے دکھلاوے کے احسانات تلے دبے ہوئے ہیں وہ دبے ہی رہیں اور ہماری جماعتوں اور لیڈران کے نعرے لگتے ہی رہیں،ماہ جون میں وفاقی بجٹ میں بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام کے لئے 27 فیصد اضافہ کیا گیا ہے اور اس پروگرام سے استفادہ حاصل کرنے والوں کی تعداد 93 لاکھ سے بڑھا کر 1 کروڑ کر دی گئی ہے یعنی کہ ملک کی تقریباً کل آبادی 25 کروڑ میں سے 1 کروڑ لوگ 10500 روپیہ سہ ماہی بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام سے لے رہے ہیں بلحساب 116 روپیہ یومیہ فی صارف وصولی کر رہا ہے وہ الگ بات ہے کہ ان میں سے حقداروں کو بہت کم اور پہلے سے مضبوط لوگوں کو زیادہ طور پر پیسے ملتے ہیں جس کا تذکرہ اوپر ہوچکاہے

    یہاں میں ایک باتقابل ذکر ہے شاید بہت سے قارئین کوناگوارلگے مگر بطور عام پاکستانی شہری سوال ہے کہ جب ہمارے ہاں عشر و زکوٰۃ کا محکمہ موجود ہے اس ادارے کا ڈائریکٹر جنرل اور وزیر و مشیر و سارا عملہ موجود ہے تو پھر ہمیں بےنظیر انکم سپورٹ کے نام پر غریبوں کو پیسے دینے کی نوبت کیوں آئی؟کیا محکمہ عشر و زکوٰۃ غریبوں کی فلاح و بہبود اور ان کی ضروریاتِ زندگی کو دیکھ کر ان کی مدد کرنے کے لئے نہیں بنایا گیا؟کیا اس ادارے کے ملازمین کروڑوں روپیہ ماہانہ تنخواہیں نہیں لیتے؟کیا محکمہ عشر و زکوٰۃ اور بیت المال میں کرپٹ لوگ ہیں جو حقداروں تک ان کا نہیں پہنچنے دیتے؟
    بالفرض وہ محکمہ اگر درست کام نہیں کر رہا اور غرباء تک ان کا حق نہیں پہنچا رہا تو اس محکمے کو درست کرنے کی بجائے ایک اور محکمہ کیوں لایا گیا؟

    اب ایک طرف بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام کا محکمہ اور عملہ ہے تو دوسری طرف عشر و زکوٰۃ کا محمکہ و عملہ ہے، دونوں کی تنخواہیں سرکاری کھاتے سے جاتی ہیں جبکہ کام دونوں کا ایک ہی غرباء کی مدد کرنا.

    اسی طرح ہمارے صحت کارڈ پر علاج کی سہولت کا طریقہ کار ہے صحت کارڈ کے حامل افراد اپنی پسند کے ہسپتال سے جو کہ منظور ہوں گورنمنٹ سے، علاج کروانے کے اہل ہیں یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ پاکستان کے ہر ضلع میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال ہر تحصیل میں تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال ہر میونسپل کمیٹی میں رورل ہیلتھ سنٹر اور ہر یونین کونسل میں بی ایچ یو یعنی بیسک ہیلتھ یونٹ موجود ہے تو پھر ہزاروں گورنمنٹ اداروں کے ہوتے ہوئے آپ اپنی ریاست کے شہریوں کو اتنا بھی اعتماد میں نا لے سکے کہ وہ اپنے سرکاری ہسپتالوں سے علاج کروائیں یا کہ سرکاری ہسپتال اس قابل ہی نہیں کہ وہ لوگوں کا علاج کر سکیں؟

    کیا حکومت جو پیسہ عوام کے علاج کے نام پرعام پرائیویٹ ہسپتالوں کو دے رہی ہے ، کیا وہ پیسہ سرکاری ہسپتالوں پر لگا کر وہاں ہر قسم کی سہولیات مہیا نہیں کی جا سکتیں کہ ریاست پاکستان کا ہر شہری علاج معالجہ اس ہسپتال سے کروائے کہ جہاں کے ڈاکٹرز اور عملہ گورنمنٹ سے لاکھوں روپیہ تنخواہیں لے رہا ہے ،ایک طرف گورنمنٹ ان ڈاکٹروں و سٹاف کی تنخواہیں بھی ادا کرے اور دوسری طرف صحت کارڈ پر منتخب شدہ شہریوں کے علاج کی ادائیگی بھی پرائیویٹ ہسپتالوں کو کرے

    عام پاکستانی کو اس سے کوئی سرو کار نہیں کہ کونسی پارٹی نے کونسا منصوبہ شروع کیا ہے عام شہری کو عزت کے ساتھ حکومت وقت سے ریلیف چاہئے اس کے برعکس سیاسی مداری اپنے ووٹ پکے کرنے کے ڈھونگ رچاتے ہیں وگرنہ پاکستان میں ہر محکمہ موجود ہے جس کا وزیر بھی ہے مشیر بھی اور ڈائریکٹر جنرل کیساتھ ہر ضلع و تحصیل کی سطح پر بھی عملہ جن کی تنخواہیں ہم عوام کی جیبوں سے ٹیکس نکلوا کر دی جاتی ہیں

    کیا عجیب صورتحال بنا کر رکھ دی ہے کہ اشرافیہ کو ڈبل ڈبل سہولیات بھی دی گئی ہیں اور بطور سربراہ ڈبل محکمے بھی انجائے کررہے ہیں،

    کاش کہ ہماری گورنمنٹ سمجھے کہ لوگوں کو 116 روپیہ یومیہ دینے کی بجائے بلا سود قرض دیئے جائیں اور ان کو ہنر مند بنایا جائے تاکہ قوم اپنے پاؤں پر کھڑی ہوسکے اور مفت میں مال لے کر کھانے کی بجائے کمانے کا شعور آئے مگر افسوس ایسا نا تو سوچا جاتا ہے نا ہی سوچنے کے قابل چھوڑا گیا ہے.کیونکہ بھکاری حکمرانوں کو خودار قوم کسی صورت قبول نہیں ہے.