Baaghi TV

Category: بلاگ

  • کسی  رشتے سے کب دستبردار ہونا چاہیے؟

    کسی رشتے سے کب دستبردار ہونا چاہیے؟

    کچھ رشتے پریشان کن اور تھکا دینے والے ہو سکتے ہیں، خاص طور پر جب ان کی نوعیت غیر واضح یا غیر یقینی ہو۔ یہ ابہام کسی کی فلاح و بہبود پر منفی اثر ڈال سکتا ہے اور طویل مدت میں تعلق کو برقرار رکھنا مشکل بنا سکتا ہے۔ اگر آپ متضاد اور الجھن میں محسوس کرنے سے تھک گئے ہیں، تو ایسے اقدامات ہیں جو آپ کم تناؤ کے ساتھ اپنے رشتے کو سنبھالنے کے لیے کر سکتے ہیں۔ بنیادی وجہ کی شناخت، پیاروں سے مدد حاصل کرنا، اور اپنے ساتھی کے ساتھ کھل کر بات چیت کرنا بہت اہم ہے۔ تاہم، یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ بعض اوقات، بہترین حل رشتے کو ختم کرنا ہوتا ہے۔

    پیچیدہ رشتوں میں اکثر ایسی قربانیاں دینا پڑتی ہیں جو عدم تحفظ، اضطراب، اور ڈپریشن جیسے اندرونی علامات کا باعث بن سکتی ہیں۔ یہ پہچاننا بہت ضروری ہے کہ کب کوئی رشتہ آپ کے لیے فائدہ مند نہیں رہا بہت سے لوگ وقت اور توانائی کی نمایاں سرمایہ کاری کی وجہ سے پیچیدہ رشتوں میں رہتے ہیں، لیکن یہ عزم انہیں رشتے کی زہریلی نوعیت سے اندھا کر سکتا ہے۔

    غیر فعال جارحانہ رویہ رشتوں میں ایک پیچیدہ اور نقصان دہ عنصر ہے جو سنبھالنے میں خاص طور پر مشکل ہو سکتا ہے۔ اس طرز عمل کے حامل افراد کا جب مسائل کا سامنا ہوتا ہے، تو براہ راست بات چیت سے گریز کرتے ہیں، خاموش رہتے ہیں یا بات کو ٹالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ اکثر اپنے ساتھی پر الزام لگاتے ہیں اور اپنی ذمہ داری سے انکار کرتے ہیں۔ یہ رویہ گہرائی سے جڑا ہوا ہو سکتا ہے، جو اکثر بچپن کے تجربات یا خاندانی ماحول سے پیدا ہوتا ہے، اور معاشرتی توقعات کی وجہ سے مزید مضبوط ہو جاتا ہے۔ اس لیے یہ پہچاننا ضروری ہے کہ کب کوئی رشتہ آپ کے احترام کو کم کر رہا ہے۔ اگر آپ محسوس کرتے ہیں کہ آپ کی خود احترامی مسلسل کم ہو رہی ہے، آپ اپنے آپ پر شک کرنے لگے ہیں، یا آپ کی رائے کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، تو یہ وقت ہے کہ آپ اس رشتے پر سنجیدگی سے غور کریں اور ضروری اقدامات کریں۔ اپنے آپ کو ایسے لوگوں کے قریب کریں جو کھلی بات چیت کی قدر کرتے ہیں، آپ کی بات کو اہمیت دیتے ہیں، اور آپ کے ساتھ ایمانداری سے پیش آتے ہیں۔ یاد رکھیں، آپ ایک صحت مند اور مثبت رشتے کے حقدار ہیں، اور کسی بھی ایسے زہریلے رشتے سے بہتر ہیں جو آپ کی عزت نفس کو کم کرتا ہے۔

  • پاکستان میں "آئین” پر عملدرآمد کیوں نہیں؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان میں "آئین” پر عملدرآمد کیوں نہیں؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    دنیا کی سیاسی تاریخ کا مطالعہ کریں۔ لینن آج بھی روسی ، ماوزے تنگ ہر چینی، امام خمینی ہر ایرانی ، بابائے قوم ہرپاکستانی اس کے علاوہ بھی بہت سی ایسی شخصیات دنیا کی قوموں میں زندہ ہیں اپنے کام اور کردار کی وجہ سے ۔ ان شخصیات کے ہم سفر نہ کوئی گوگی ، نہ گوگا ، نہ گوگیاں تھیں اور نہ گوگے آج کی ہماری ملکی سیاسی جماعتوں میں اس طرح کی مخلوق کثرت سے پائی جاتی ہے ۔ بلاشبہ فوجی حکمرانی کو درست قرار نہیں د یا جاسکتا مگر قومی سلامتی کے اداروں کی اہمیت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ، آج کل سیاسی گلیاروں کو جس رفتار سے دشنام طرازیاں حرف عتاب کی عذاب زدہ بارشیں ایک دوسرے پر سیاسی افراد ، سوشل میڈیا پر بغیر کسی تعطل جاری ہیں خدا کی پناہ معاشرہ اخلاقی طور پر دیوالیہ پن کا شکار ہو رہا ہے۔ اقتداراور عوامی حمایت یہ سب کچھ عارضی ہوتا ہے جو کسی کے پاس مستقل نہیں رہتا

    شداد کی جنت نہ رہی فرعون کی خدائی نہ رہی الغرض کئی حکمران جو فلک بوس محلوں میں رہتے تھے زمین بوس ہو گئے۔ بلاشبہ ملکی سیاست میں نظریات ، ضمیر اصول بے معنی الفاظ بن کر رہ گئے ہیں۔ ملکی تاریخ نظریہ ضرورت سے بھری ہے ۔ آج کل وطن عزیز میں آئین موضوع بحث ہے سپریم کورٹ کے وکیل راجہ تنویر سے اس سلسلے میں میری بات ہوئی انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے آئین پر عمل نہیں ہو رہا اگر آئین پر عمل ہو تا توایک منتخب وزیراعظم بھٹو کو پھانسی نہ دی جاتی آج بھٹو کی پھانسی کو عدالتی قتل قرار دیا گیا اسی طرح منتخب وزرائے اعظم کو آج تک وزارت عظمیٰ سے علیحدہ کردیا گیا اس کوبھی درست قرار نہیں دیا جا سکتا یہ توہین عوام ہے۔ عوامی حکومتوں کو چلتا کرناکسی طرح بھی درست نہیں تھا۔

    قارئین گزشتہ دنوں سینیٹر عرفان صدیقی نے 28 جولائی 2017 ء کے بھیانک دن کا ذکر کیا انہوں نے دو تہائی اکثریت رکھنے والے وزیراعظم نواز شریف کو بیٹے سے تنخواہ نہ لینے کے جرم میں منصب سے ہٹا کرجیلوں مین ڈال دینے کا زکر کیا انہوں نے کہا کہ ترقی کی شرح 6.3 اور مہنگائی 3 فیصد تھی۔ ملک سے لوڈشیڈنگ ختم ہو چکی تھی ۔ دہشت گردی کا سر کچلا جا چکا تھا ۔آئی ایم ایف کو الوداع کہہ دیا گیا تھا تمام عالمی ادارے نے پاکستان کے شاندار مستقبل کی نوید دے رہے تھے ۔یقینا سینیٹر عرفان صدیقی کی یہ بات درست ہے۔ نواز شریف کے اس ترقی کے سفر میں اس وقت کے وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار کی بھی خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا جو رات گئے گام کیا کرتے تھے۔ نواز شریف وہ واحد وزیراعظم تھے جن کو اپنی مدت پوری نہیں کرنے دی گئی یہ بھی توہین عوام کے زمرے میں آتا ہے نواز شریف کا نعرہ ووٹ کو عزت دو صرف نواز شریف کی ذمہ داری نہیں ووٹ کی عزت ملک کے تمام اداروں پر لازم ہے۔عوام کی منتخب حکومتوں کو چلنا نہ کیا جائے عوام کا ووٹ دینے کا اعتماد اٹھ جائے گا۔آئین ہے تو جمہوریت ہے آئین ہے تو عدالتی نظام ہے۔ آئین ہے تو پارلیمنٹ ہے آئین ہے تو عوام کے حقوق ہیں۔ ملک کے موجودہ حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے آئین پر عمل کیا ۔ آئین نے جو حد مقرر کی حکومتیں اور تمام ادارے اس حد کوکراس نہ کریں ورنہ پاکستان اور عوام مسائل کے گرداب سے نہیں نکل سکیں گے۔

  • پاکستانی قوم اور بہلول

    پاکستانی قوم اور بہلول

    پاکستانی قوم اور بہلول
    تحریر:ملک ظفراقبال
    پاکستان ایک عظیم مملکت ہے اور اس مملکت میں کسی چیز کی کمی نہیں ۔نہریں دریا سمندر سب کچھ موجود ہے ۔لیکن آدھے سے زیادہ ملک پانی کی کمی کی وجہ سے بنجر زمین پر مشتمل ہے ۔ہمارے ہاں ریگستان بھی موجود ہیں اور برفانی علاقے بھی ۔اللہ کا دیا ہوا سب کچھ ہے علم ہنر ادارے یونیورسٹیاں کالج اور عوام میں بہت زیادہ نالج بھی ۔ہم ایک زرعی ملک کے باشندے ہیں اور ہمارا نہری نظام دنیا کے بہترین نظاموں میں ایک ہے مگر ہم زرعی اجناس دوسرے ملکوں سے منگواتے ہیں جن کے پاس ہم سے کم وسائل ہیں ۔

    ہمارے ملک میں گیس اور آئل کے بیشمار ذخائر ہیں مگر ہم دوسروں ملکوں سے اپنی کمی کو پورا کرنے کے لیے منگواتے ہیں اور وہ بھی عوام کا پیسہ ،اس وقت ملک کی صورتحال اس قدر متاثر کن ہے کہ عوام بجلی کے بلوں اور مہنگائی سے اس قدر پریشان ہیں کہ آئے دن خودکشیاں عوام کا مقدر بن چکی ہیں ۔سبز نمبر پلیٹ ہویا واپڈا وردی والے ہو یا سرکاری ادارے سب عوام پر بوجھ بن چکے ہیں،عوام جائے تو کہاں جائے ملک پاکستان میں عوام اپنے اپنے مقدر کو کوستی دکھائی دیتی ہے ۔

    اس وقت عوام کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہر طرف مہنگائی کا شور بجلی کے بلوں کا شور اور دوسری طرف حکومت وقت ایسے منصوبے لارہی ہے جس کا عوام الناس کو کوئی فائدہ نہیں ہے،جیسے بچوں کو دودھ دینے کے منصوبے ،آئیں سیاست دانوں کی پاکستان میں صورتحال کو ہارون الرشید کے ہدایت نامہ سے موازنہ کرتے ہیں
    ہارون الرشید نے بہلول کو ہدایت کی کہ بازار جائیں اور قصابوں کے ترازو اور جن پتھروں سے وہ گوشت تولتے ہیں وہ چیک کریں اور جن کے تول والا پتھر کم نکلے انھیں گرفتار کرکے دربار میں حاضر کریں

    بہلول بازار جاتے ہیں پہلے قصاب کا تول والا پتھر چیک کرتے ہیں تو وہ کم نکلتا ہے، قصاب سے پوچھتے ہیں کہ حالات کیسے چل رہے ہیں..؟
    قصاب کہتا ہے کہ بہت برے دن ہیں دل کرتا ہے کہ یہ گوشت کاٹنے والی چھری بدن میں گھسا دوں اور ابدی ننید سوجاوں، بہلول آگے دوسرے قصاب کے تول والے پتھر کو چیک کرتے ہیں وہ بھی کم نکلتا ہے، قصاب سے پوچھتے ہیں کہ کیا حالات ہیں گھر کے وہ کہتا ہے کہ کاش اللہ نے پیدا ہی نہ کیا ہوتا بہت ذلالت کی زندگی گزار رہا ہوں بہلول آے بڑھے اورتیسرے قصاب کے پاس پہنچے تول والا پتھر چیک کیا تو بالکل درست پایا قصاب سے پوچھا کہ زندگی کیسے گزر رہی ہے.. ؟توقصاب نے کہا کہ اللہ تعالٰی کا لاکھ لاکھ شکر ہے بہت خوش ہوں اللہ تعالٰی نے بڑا کرم کیا ہے اولاد نیک ہے، زندگی بہت اچھی گزر رہی ہے

    بہلول واپس آتے ہیں سلطان ہارون الرشید پوچھتے ہیں کہ کیا پراگرس ہے.. ؟بہلول کہتے ہیں کہ کئی قصابوں کے تول والے پتھر کم نکلے ہیں.
    سلطان نے غصے سے کہا کہ پھر انہیں گرفتار کرکے لائے کیوں نہیں، بہلول نے کہا اللہ تعالٰی انہیں خود سزا دے رہا تھا، ان پر دنیا تنگ کردی تھی تو یہاں لانے کی کیا ضرورت تھی

    آج ہمارے بھی کچھ یہی حالات ہیں ،ہم نے بھی دنیا کو اپنایا ہے اسی کی فکر ہے، حرام حلال اور آخرت کی فکر ہی نہیں ہے،اس بارے تھوڑا سوچئے گا ضرور کہ ہم کہاں کھڑے ہیں .

  • میں اوریو سے محبت کرتی ہوں

    میں اوریو سے محبت کرتی ہوں

    کتوں کے شائقین کے نام
    اوریو بالکل بھی اوریو بسکٹ کی طرح نہیں دکھتی۔ وہ سفید، روئیں دار، اور بادامی شکل کی خوبصورت آنکھوں والی ہے۔ اگر آپ نے ابھی تک اندازہ نہیں لگایا، تو اوریو ایک کتیا ہے۔ وہ ہمارے پاس تب آئی جب وہ صرف چند ہفتوں کی تھی۔ میرے شوہر، جو کتوں کے شوقین تھے، بہت بیمار تھے۔ ہمیں اس وقت معلوم نہیں تھا، لیکن انہیں کینسر تھا۔ یہ راولپنڈی کا واقعہ ہے،میرے بچے لاہور میں اپنی بوڑھی دادی کے ساتھ تھے۔ انہوں نے اپنے والد کے لیے گھر واپسی پر تحفہ لانے کا فیصلہ کیا۔ انہیں کیا معلوم تھا کہ ابا کبھی گھر واپس نہیں آئیں گے!!

    میرے دونوں بچوں نے اپنی جیب خرچ کو ملا کر 5000 روپے جمع کیے تھے میرے بیٹے نے اوریو کو خریدا، ۔ لیکن بدقسمتی سے، ان کے ابا راولپنڈی میں انتقال کر گئے۔ جب ہم لاہور واپس آئے، تو بچوں نے مجھے باہر لان میں آنے کو کہا۔ وہاں ایک کھلے گتے کے ڈبے سے اوریو اپنے لڑکھڑاتے پاؤں پر باہر نکلی اور فوراً اپنے پیٹ پر گر گئی۔بچے اسے رکھنا چاہتے تھے۔ ان کی آنکھوں میں منت کرنے والی نظر نے میرے دل کو چھو لیا اور مجھے ماننا پڑا۔

    جب اوریو تین سال کی تھی، تو زور کی بارش ہو رہی تھی، ایک گارڈ چھٹیوں پر جا رہا تھا، جس سے وہ بہت پیار کرتی تھی۔ اندھیرے اور بارش میں، نظروں سے اوجھل ہو کر وہ اس کے اوبر رکشا کا پیچھا کرنے کی کوشش میں باہر نکل گئی۔ وہ دو دن تک لاپتہ رہی۔ مجھے بہت صدمہ لگا۔ ہر روز میں علاقے کی گلیوں میں گھومتی، ہر کچرے کے ڈھیر کو چیک کرتی اور مایوسی سے اس کا نام پکارتی رہی ۔ آنسو بہتے ہوئے، اپنے شوہر کو کھونے کا غم دوبارہ تازہ ہو گیا ۔ میں اوریو کو دوبارہ نہ دیکھنے کا خیال برداشت نہیں کر سکتی تھی۔ لیکن کسی نہ کسی طرح اوریو گھر واپس لوٹ آئی ،

    وہ ایک شاندار واچ ڈاگ ہے۔ میرا گھر عام طور پر "پاگل کتے کا گھر”کے نام سے جانا جاتا ہے۔

    اب وہ ساڑھے نو سال کی ہے۔ چند دن پہلے اسے کھانسی ہو گئی۔ ویٹرنری ڈاکٹر نے اسے ایک انجکشن دیا اور ایک ہفتے کے لیے اینٹی بایوٹکس تجویز کیں۔ڈاکٹر نے کہا کہ اس عمر میں ایسی بیماریاں ہوتی ہیں۔اس نے میرا دل توڑ دیا، یہ سننے کے بعد میں ایک بار پھر بکھر سی گئی جیسے اوریو کے جانے سے میرے پرانے غم پھر تازہ ہو جائیں گے ۔ میں نے پوری طرح سمجھنے کے لئے ہر لفظ کی تشریح کے بارے میں سوال کر کے اس کی زندگی مشکل بنا دی۔ میں اسے بار بار بتاتی رہی، "دیکھو میرے شوہر بھی اس دنیا سے چلے گئے ہیں، وہ مجھ سے دور نہیں ہو سکتی۔” میری بیٹی کو مجھے پرسکون کرنے میں کافی وقت لگا۔
    مجھے معلوم ہے کہ یہ کیفیت صرف وہی سمجھ سکتے ہے جو یا تو جانوروں سے محبت کرتے ہے یا اپنے گھر پر کسی کتے یا کسی اور جانور کو اپنے بچے کی طرح رکھتے ہے، اسکی جدائی کا غم کتنا بڑا ہوتا ہے یہ وہی جانتے ہے،

  • سیالکوٹ :میگا لیگ انڈر 19 ون ڈے کرکٹ ٹورنامنٹ کامیچ ڈائمنڈ اکیڈمی نے جیت لیا

    سیالکوٹ :میگا لیگ انڈر 19 ون ڈے کرکٹ ٹورنامنٹ کامیچ ڈائمنڈ اکیڈمی نے جیت لیا

    سیالکوٹ ،باغی ٹی وی( بیوروچیف شاہد ریاض سے) میگا لیگ انڈر 19 ون ڈے کرکٹ ٹورنامنٹ 2024 جس کا میچ ڈائمنڈ کرکٹ اکیڈمی اسلام آباد بمقابلہ عامر وسیم کرکٹ اکیڈمی کے درمیان میچ فراز کرکٹ گراؤنڈ سیالکوٹ میں کھیلا گیا

    بارش کی وجہ سے میچ 25 اوور فی اننگز تھا جس میں ڈائمنڈ نے ٹاس جیت کر پہلے عامر وسیم کرکٹ اکیڈمی کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی عامر وسیم اکیڈمی نے 125 رنز کا ٹارگٹ دیا ڈائمنڈ اکیڈمی نے آخری اوور میں ٹارگٹ پورا کر لیا

    ڈائمنڈ کے بلال نے ناقابل شکست 37 رنز بنائے اور ایک وکٹ لی اور مین آف دی میچ قرار SKT SPORTS کی طرف سے بیٹنگ گلوز دیے گئ انٹرنیشنل اسکورر فرخ الیاس راجہ نے انعام دیا

  • معیشت کی تباہی اور مہنگائی کا ذمہ دار کون ؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    معیشت کی تباہی اور مہنگائی کا ذمہ دار کون ؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    2016 اور2017 کے درمیان ملکی معیشت مستحکم ہو رہی تھی ۔ نواز شریف کا دور حکومت تھا۔ سینیٹر اسحاق ڈار وزیر خزانہ تھے وہ رات گئے کام کرتے ، پاکستان کو آئی ایم ایف اور دیگر مالیاتی اداروں کے شکنجے اور سود سے چھٹکارے کے قریب پہنچ چکے تھے پھر ناانصافیوں کے جھرمٹ میں چھپی ایسی آندھیاں چلیں گے ۔ ترقی کے منازل طے کرتا ہوا پاکستان ایک بار پھر گہری کھائی میں جاگرا.تادم تحریر معیشت مستحکم نہ ہو ہو سکی اورنہ ہی وطن عزیز کو عالمی مالیاتی اداروں سے چھٹکارا مل سکا ۔قرض در قرض وطن عزیز کا مقدر بنا۔

    موجودہ شہباز حکومت کے وزیر خزانہ قوم کو سچ بتائیں قرض کی ادائیگی کے لیے نئے قرض مانگے جا رہے ہیں، معیشت مستحکم نہیں عوام پر بجلی کے بلوں کو لے کر بہت زیادہ بوجھ پڑ رہا ہے لوگ خودکشیاں کررہے ہیں۔معیشت کی تباہی اور مہنگائی کا ذمہ دار کون ہے ؟ اس کا ذمہ دار سابق حکومت یا موجودہ حکومت کو ٹھہرانا سوال نہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ معاشی بُحران کیسے ختم کیا جا سکتا ہے ۔قوم کو اس سوال کا جواب حکومت بھی اور اپوزیشن بھی بتائے۔ حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے کے خلاف حدوں کو کراس کر گئے ہیں۔ان حالات میں قوم کے مسائل کیسے حل ہو سکتے ہیں ؟ شہباز حکومت ، پیپلزپارٹی ، مذہبی جماعتیں ،اپوزیشن قوم کو بتائے کہ مستقبل میں ملکی معیشت کو کس طرح مستحکم کریں گے؟سستی بجلی ،ڈیم بنانے او رمتبادل ذرائع پر کوئی منصوبہ بندی کی گئی؟ جو معاہدے آئی پی پیز سے کئے یا منصوبے لگائے ان منصوبوں سے آئی پی پیز سود سمیت منافع بٹور رہی ہے ۔ سیاسی جماعتوں کے پاس ملکی ترقی اور عوام کی خوشحالی کا کوئی منصوبہ ہو نہ ہو تاہم ملک میں انتشار پھیلانا،افواہ پھیلانا ،اپنے ہی اداروں کو کمزور بنانا ۔ یہ جانتے ہوئے کہ اداروں کو بقااور شخصیات کو فنا ہے پھر بھی اب تو خیر ہے یہ کاروبارکا روپ دھار چکا ہے۔

    وطن عزیز میں کچھ ان دنوں افوا ساز کارخانوں کی پیداوار میں اضافہ ہو چکا ہے ۔ وطن عزیز میں ایک منصوبہ بندی کے تحت عدم استحکام کا ماحول پیدا کیا جا رہا ہے ۔پاکستان دشمن طاقتیں بھارت کے ساتھ مل کر اور افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے ۔ وقت کا تقاضا متضاد بیان دے کر آپس میں اختلافات پیدا کرنے کا نہیں بلکہ قومی یکجہتی اور اتحاد کو فروغ دینے کا ہے ۔ تحریک پاکستان کے لاکھوں شہداء کی روحیں سیاسی جماعتوں سے ایسے فیصلہ کن کی منتظر ہیں جو مستقبل میں قومی عزت ووقار اور وطن عزیز کی بقا و سلامتی کا ضامن بن سکے۔

  • ڈیجیٹل دہشتگردی بھی خطرہ،ذاتی نہیں ملکی مفاد مقدم ہونا ضروری،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ڈیجیٹل دہشتگردی بھی خطرہ،ذاتی نہیں ملکی مفاد مقدم ہونا ضروری،تجزیہ:شہزاد قریشی

    تجزیہ ،شہزاد قریشی
    عالمی عدالت نے اسرائیل کو فوجی آپریشن فوری طورپر روکنے کا حکم دیا تھا، رفاہ میں فوجی آپریشن فوری روکنے کا یہ حکم 15 میں سے 13 ججوں کی غالب اکثریت کے ساتھ صادر کیاگیا تھا ،یہ حکم صرف حکم ہی رہا ،اسرائیل نے یمن میں حوثیوں کے زیر کنٹرول بحیرہ احمر کی بندرگاہ الحدیدہ کو نشانہ بنایا،اس حملے کا مقصد حوثیوں پر دبائو ڈالنا تھا کہ وہ غزہ میں فلسطینیوں کی حمایت بند کریں،اسرائیل کو اقوام متحدہ کا خوف نہ عالمی برادری کا ڈر اور نہ ہی عالمی عدالت کے فیصلے کی پروا ہ،صرف یہی نہیں بلکہ سلامتی کونسل ،اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی ، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی ،ترکی ، ایران ، پاکستان اور سعودی عرب کی مذمتی قرار دادیں، دنیا بھر بشمول اسرائیل ، امریکہ ، برطانیہ دیگر یورپی ممالک میں مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی جلوس اور ریلیاں بھی اسرائیل کا ہاتھ نہ روک سکیں، دنیا ہوش کے ناخن لے قتل عام کی پالیسی آج اگر غزہ میں نافذ ہے تو آنے والے کل کہیں اور بھی ہوسکتی ہے، کشمیر میں بھارت قتل عام میں ملوث ہے اور غزہ میں اسرائیل پر قتل عام کی پالیسی پوری انسانیت کے لئے خطرہ ہے ،اس پالیسی کو روکنا ہوگا،

    دوسری جانب گذشتہ روز پاک فوج کے ترجمان نے جہاں 9 مئی کا ذکر کیا وہیں امن عامہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صوبوں میں امن قائم رکھنا صوبوں کی ذمہ ہے،16 ہزار مدارس کا بھی ذکر کیا ان کو کون چلا رہاہے؟ یہ ایک سوالیہ نشان ہے وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر ،انہوں نے وطن عزیز میں دو قسم کی دہشت گردی کا ذکر کیا،ڈیجیٹل دہشت گرد اصل دہشت گردوں کو سپورٹ کررہے ہیں، انہوں نے عزم استحکام کا بھی تفصیلی ذکر کیا، قارئین بلاشبہ وطن عزیز میں شرانگیز اور شریر قوتیں حد سے بڑھ گئی ہیں اگر ایسی زبانوں کو لگام نہ دی گئی یہ ندیاں دریا کا روپ دھار لیں گی، ہماری یکجہتی خواب وخیال بن کر رہ جائے گی، بدقسمتی سے ہماری سیاست کی دنیا میں ایسی ہوا اور وبا چلی کہ خدا کی پناہ سیاست تو عبادت کا درجہ رکھتی ہے مگر سیاست میں مفاد پرست اور لالچی لوگوں نے اسے آلودہ کرکے رکھ دیا ہے، سیاست کا اجتماعی چہرہ گہناکر رہ گیا، استحکام پاکستان کی کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ ملک کے تمام صوبوں سے دیانتدار فرض شناس پیشہ وارانہ مہارت، بلند حوصلے کے پیکر پولیس افسران ،سول انتظامیہ اور دیگر شعبوں میں ذمہ دار افسروں کو تعینات کیا جائے جو استحکام پاکستان میں اپنا کردار ادا کریں،جن افسران کا ماضی ،حال داغدر ہے وہ کیسے استحکام پاکستان میں کردار ادا کر سکتے،، ایں خیال است و محال است

  • پاکستان میں تالی کون مارے گا۔۔؟

    پاکستان میں تالی کون مارے گا۔۔؟

    پاکستان میں تالی کون مارے گا۔۔؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    کہتے ہیں کہ افغانستان کے صدر سردار داؤد کو اطلاع ملی کہ کابل میں تانگے کا کرایہ بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔ سردار داؤد نے فورا عام لباس پہنا اور بھیس بدل کر ایک کوچوان کے پاس پہنچ کر پوچھا محترم، پل چرخی (افغانستان کے ایک مشہور علاقے کا نام ہے) تک کا کتنا کرایہ لو گے؟کوچوان نے سردار داؤد کو پہچانے بغیر جواب دیا : میں سرکاری نرخ پر کام نہیں کرتا۔صدر داؤد خان نے کہا: 20؟اس پرکوچوان نے کہا اور اوپر جاؤ۔صدرداؤد خان: 25؟،کوچوان: اور اوپر جاؤ۔صدرداؤد خان نے کہا 30؟توکوچوان نے کہا اور اوپر جاؤ۔صدرداؤدخان نے کہا 35؟جس پرکوچوان راضی ہوگیا اور کہا مارو تالی۔
    صدرداؤد خان تانگے پر سوار ہو گیا، تانگے والے نے داؤد خان کی طرف دیکھا اور پوچھا : فوجی ہو؟داؤد خان نے جواب اوپر جاؤ۔کوچوان بولا اشتہاری ہو؟داؤد خان نے کہا اور اوپر جاؤ۔کوچوان بولا جنرل ہو؟داؤد خان نے جواب میں کہا اور اوپر جاؤ۔کوچوان پھربولامارشل ہو؟داؤدخان نے پھرکہا اوپر جاؤ۔کوچوان نے حیرت سے پوچھاکہ کہیں داؤد خان تو نہیں ہو؟داؤد خان بولامارو تالی۔کوچوان کا رنگ اڑ گیا۔کوچوان نے داؤد خان سے کہا مجھے جیل بھیجو گے؟داؤد خان نے اسی طرح کوچوان کوجواب دیااور اوپر جاؤ۔کوچوان نےپھرکہاکیا جلا وطن کرو گے؟داؤد خان نے کہا اور اوپر جاؤ۔کوچوان ڈرے سہمے ہوئے لہجے میں بولا پھانسی پر چڑھاؤ گے؟ توداؤد خان نے کہا مارو تالی۔

    اب آتے ہیں اپنے اصل موضوع کی طرف خبر کے مطابق راولپنڈی میں واسا کے واٹر لیول گیج اسٹیشن پر چوری کی انوکھی واردت سامنے آگئی ، چوروں نے برساتی نالوں میں سیلاب کی پیشگی اطلاع دینے والاسسٹم چوری کر لیا ،نامعلوم چوروں نے واٹر لیول گیج اسٹیشن کے کنڈے تیز دھار آلے سے کاٹ دیے، سیلاب او ربارش کی صورتحال بتانے والا یہ سسٹم جاپان نے دیا تھا۔سسٹم چوری کے بعد سیلاب و بارش کی پیشگی اطلاع کا نظام مکمل مفلوج ہوگیا، چور سسٹم کی سولر پلیٹس، ہیوی بیٹریاں ،قیمتی کمپیوٹرز اور ڈیوائسز بھی ساتھ لے گئے۔ چوری ہونے والا سسٹم جدید خود کار سیلاب کی اطلاع دینے والا نظام تھا۔کلوز سرکٹ کیمرے کے حوالے سے بھی فوٹیج سامنے نہ آسکی، سیلاب بارش کی صورتحال کا یہ سسٹم گزشتہ 15 سال سے بہترین انداز سے کام کررہا تھا۔دوسری جانب ڈپٹی کمشنر اور کمشنر نے بھی اس بڑی چوری کے حوالے سے رپورٹس طلب کی ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ اتنا بڑا سسٹم کیسے چوری ہوگیا ،پاکستان میں عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے جب کسی معاملے کودبانا ہویا دفن کرنا ہوتو اس کی کمیٹیاں بنادی جاتی ہیں یاپھر نوٹس لیکر رپورٹ طلب کی جاتی ہے ،اس طرح چاہے جتنی بڑی چوری ہویاکرپشن کی گئی ہو رپورٹ دررپورٹ کی فائلوں میں گم کردی جاتی ہیں ،پاکستان میں ہے کوئی مائی کالال جو اس انوکھی چوری پر تالی بجائے..؟

    ایک اور خبرکے مطابق سپریم کورٹ میں زیر التوا مقدمات کی تعداد تاریخی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ زیر التوا مقدمات 59 ہزار سے تجاوز کر گئے، 15 جولائی تک زیر التوا مقدمات کی تعداد 59064 تک پہنچ گئی، یکم سے 15 جولائی تک 1206 مقدمات دائر ہوئے لیکن صرف 481 مقدمات نمٹائے جا سکے۔گزشتہ پندرہ روز کے دوران انسانی حقوق کے کسی کیس کا فیصلہ نہیں ہوسکا، ہائیکورٹس کے فیصلوں کے خلاف 32 ہزار سے زائد اپیلیں قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے کی منتظر ہیں، زیر التوا فوجداری اپیلوں کی تعداد میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، تعداد 10 ہزار سے تجاوز کر گئی،جیلوں میں موجود افراد کی اپیلوں کی تعداد 3295 تک پہنچ گئی۔سپریم کورٹ آف پاکستان اور صوبائی ہائی کورٹس کی موسم گرما کی چھٹیوں کے نوٹیفکیشن جاری ہو چکے ہیں، جس کے مطابق عدالت عظمی میں تعطیلات 15 جولائی سے شروع ہوئیں،سکولوں کے بچوں کی طرح ججوں کو موسم گرما کی چھٹیاں جو انگریز دور کی روایت ہے،انگریزتوچلے گئے لیکن ان کی یہ روایت اسی آن بان اور شان کے ساتھ آج بھی قائم ہے ،اس پر کون تالی بجائے گا؟

    ایک اور اہم خبرجسے تمام قومی اخبارات نے شائع کیا اور نیوزچینل نے نشرکیا وہ یہ ہے کہ سابق نگران وفاقی وزیر گوہر اعجاز نے انکشاف کیا ہے کہ 4 پاور پلانٹس بجلی پیدا کیے بغیر ہزار کروڑ روپے ماہانہ لے رہے ہیں اور آئی پی پیز کو ماہانہ 150 ارب روپے کی ادائیگیاں کی گئی ہیں۔گوہر اعجاز نے آئی پی پیز کو کپیسٹی چارجز کی مد میں ہونے والی ادائیگیوں کا ڈیٹا شیئر کرتے ہوئے بیان میں کہا کہ مختلف آئی پی پیز کو جنوری 2024 سے مارچ تک 150 ارب ادا کیے گئے۔اِدھرایک سوال پیداہوتا ہے جب گوہر اعجازوفاقی وزیرتھے اور سیاہ سفید کے مالک بنے ہوئے تھے تو اس وقت انہوں نے ان آئی پی پیز کیخلاف آواز کیوں نہ اٹھائی اور اس وقت جب وہ کچھ کرسکتے تھے تو تالی کیوں نہ بجائی؟

    ایک اور رپورٹ میں بتایا گیا ہے پاکستان میں ایک ایسا شعبہ بھی موجود ہے جس نے 32 سال میں وطن عزیز کو موت کے دہانے پر پہنچا دیا، وہ ہیں آئی پی پیز بجلی پیدا کرنے والے 90 پرائیویٹ ادارے، ہم ان 90کمپنیوں سے کئے معاہدوں پر بات نہیں کریں گے کہ کیسے اور کن شرائط پر انہیں پاکستان کی شہہ رگ پر بٹھادیا گیا ؟ لیکن آپ شاید یہ نہیں جانتے کہ ان آئی پی پیزکمپنیوں کے اصل مالک کون ہیں؟ 68فیصدکمپنیاں تو حکمرانوں (شریف ، زرداری، اسٹبلشمنٹ)کی ملکیت ہیں ان کے علاوہ 8 فیصد پیپلز پارٹی رہنما 10 فیصد اسٹبلشمنٹ، 8 فیصد چین کے سرمایہ کا اور7 فیصدقطری عرب اور7 فیصد پاکستانی سرمایہ دارشامل ہیں ۔اب عوام سے ایک سوال ہے جب 68فیصدآئی پی پیزکمپنیوں کے تین مالک شریف ، زرداری، اسٹبلشمنٹ ہوں ایسا کون ہے مائی کا لال جو ان آئی پی پیز کمپنیوں کے خلاف تالی بجاسکے ،پاکستان ایسا ملک جہاں اگر کسی نے تالی بجانے کی کوشش کی تو اسے نشان عبرت بنادیا گیا ،اس لئے یہاں پاکستان میں تالی بجانے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا اور پاکستان کی سرزمین میں ایسے تالی بجانے والے حکمران ماؤں نے پیدا ہی نہیں کئے جوعوام کے دکھ درد کو محسوس کرتے ہوئے باہرنکلیں،
    لیکن تاریخ اسلام میں ایک ایسا حکمران بھی آیا تھا جس کی 24لاکھ مربع میل پر حکومت تھی جوراتوں کو اٹھ اٹھ کرپہرادیتے تھے اور لوگوں کی ضروریات کاخیال رکھتے تھے، وہ کوئی اور نہیں بلکہ مسلمانوں کے خلیفہء ثانی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی ذات تھی اور جناب عمرکہتے تھے اگر فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوکا پیاسا مر گیا تو کل قیامت کے دن عمرسے اس بارے میں پوچھاجائے گا۔

  • آپ بھی بائیکاٹ کیجئے اکیلی عوام ہی کیوں؟

    آپ بھی بائیکاٹ کیجئے اکیلی عوام ہی کیوں؟

    آپ بھی بائیکاٹ کیجئے اکیلی عوام ہی کیوں؟
    ازقلم غنی محمود قصوری

    پاکستان کا غربت میں دنیا میں 52 واں نمبر ہے جبکہ بنگلہ دیش 62 ویں اور بھارت 63 ویں نمبر پر ہیں،پاکستان میں فی کس سالانہ آمدن تقریباً 5 لاکھ روپیہ کے قریب ہےاور کل شرح خواندگی 62.2 فیصد اور اس میں سے مردوں میں شرح خواندگی 73.4 اور عورتوں میں 51.9 فیصد ہےیعنی کہ ہر اعتبار سے پاکستان ایک ترقی پذیر اور درمیانے درجے کا ملک ہے نا تو اس کا شمار غریب ممالک میں ہوتا ہے نا ہی امیر ممالک میں
    مگر ہم مغربی اور عرب ممالک کو دیکھیں تو ہم بہت پیچھے ہیں مگر اس کے باوجود جب بھی امت مسلمہ پر کوئی آفت آتی ہیں تو یہ مڈل کلاس قوم اپنی بساط کے لحاظ سے سب سے پہلے امت کیساتھ کھڑی ہوتی ہے

    میں حکومت کی بات نہیں کر رہا میں عام عوام کی بات کر رہا ہوںآپ موجودہ دور کو ہی لے لیجئے اسرائیل اور فلسطینی حماس کے مابین 7 اکتوبر 2023 سے جنگ جاری ہے جس پر پاکستانی قوم نے احتجاج کیا اور بطور احتجاج اسرائیلی پراڈکٹس کا بائیکاٹ کیا،شروع میں بائیکاٹ کچھ خاص نا ہوا تو علمائے کرام اور مذہبی جماعتوں نے عوام میں کمپین شروع کی جس کے باعث لوگوں نے اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ تیز کیا جسکا نتیجہ یہ نکلا کہ گردن میں سریا لئے ملٹی نیشنل خاص کر اسرائیلی کمپنیوں کی چیزوں کی فروخت میں نمایاں کمی واقع ہوئی تو اپنی گرتی ساکھ اور خسارا دیکھ کر اسرائیلی و ملٹی نیشنل کمپنیوں نے عوام کو لالچ دینے کے لئے چیزوں کیساتھ مختلف چیزیں دینا شروع کیں اور کچھ قیمتیں بھی کم کیں

    دوسری جانب اس بائیکاٹ سے پاکستانی کمپنیوں کی چیزوں کی فروخت میں واضع اضافہ دیکھنے کو ملا ،یہاں میں ایک چیز واضح کر دوں کہ دنیا بھر میں تین قسم کی اشیا بنتی ہیں، اول لوکل برینڈ دیسی ساختہ اشیا جو کہ گھریلوں و بہت چھوٹی سطح پر بنتی ہیں اور اکثر ناقص کوالٹی کی ہوتی ہیں مگر ان چیزوں میں سے کچھ بہتر بھی ہوتی ہیں ،دوم نیشنل لیول برینڈ کی وہ چیزیں جیسے کہ ہمارے ملک پاکستان میں ہمارے ملک کے ہی باشندوں کی انڈسٹری سے بنی پراڈکٹس ہیں جو باآسانی پورے ملک سے مل جاتی ہیں اور ان کا معیار بھی قدرے بہتر ہوتا ہے سوئم ملٹی نیشنل کمپنیاں جو کہ پوری دنیا میں دستیاب ہوتی ہیں اور اپنی کوالٹی اور معیار و مقدار کا لوہا منوا کر لوگوں کے دلوں پر راج کرتی ہیں مگر وہ الگ بات ہے کہ اس کی آڑ میں مسلمانوں میں کیا کیا زہر گھولا جاتا ہے

    جب ملٹی نیشنل کمپنیوں کو چھوڑ کر عوام نیشنل کمپنیوں پر آئی تو نیشنل برینڈز کی چاندی ہو گئی ان کی پراڈکٹس کی فروخت میں بہت اضافہ ہوا اور نفع بھی زیادہ ہو گیا

    اب چاہئے تو یہ تھا یہ نیشنل کمپنیاں لوگوں کو ریلیف دیتیں اور اپنی پراڈکٹس کا معیار بہتر کرتیں تاکہ ان کو ملٹی نیشنل کمپنیاں بننے کا موقع ملتا مگر ان کمپنیوں نے لوگوں کو مجبور جان کر محض چند ہی ماہ میں اپنی پراڈکٹس کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا اور معیار بھی کچھ کم کر دیا کیونکہ ان کو پتہ تھا اب مذہب کے نام پر لوگ ملٹی نیشنل و اسرائیلی پراڈکٹس کا بائیکاٹ کر چکے ہیں اور اب مارکیٹ میں انہی کا راج ہو گا سو انہوں نے مجبور عوام پر ایسے وار کرنے شروع کر دیئے جیسے اس مجبور قوم پر ہر گورنمنٹ کرتی آئی ہے

    میں نام نہیں لینا چاہتا تاہم آپ سب جانتے ہیں اس وقت پاکستان میں کولڈ ڈرنکس کے ریٹ میں نیشنل اور ملٹی نیشنل برینڈز کا فرق اور کوالٹی کا فرق کتنا رہ گیا ہے بلکہ ملٹی نیشنل کمپنیاں آسانی سے دستیاب ہیں جبکہ نیشنل کمپنیاں نہ تو آسانی سے دستیاب ہیں الٹا ان کے ریٹس کچھ جگہوں پر ملٹی نینشل کمپنیوں سے بھی زیادہ ہو چکے ہیں

    اسی طرح ایک واقعہ بتاتا ہوں میں ایک اسرائیلی ملٹی نیشنل ٹوٹھ پیسٹ خریدتا تھا مگر اس بائیکاٹ کے باعث میں نے ایک پاکستانی برینڈ کی ٹوٹھ پیسٹ کو ترجیح دی جس کی قیمت شروع میں 70 روپیہ تھی مگر دو ماہ کے اندر ہی اس کی قیمت 90 روپیہ ہو گئی اور اس میں وزن پورا کرنے کے لئے ہوا زیادہ بھر دی جانے لگی، اب مجبور اََمجھے ایک اور پاکستانی برینڈ منتخب کرنا پڑا مگر بے سود تھوڑے عرصے بعد بات وہیں پر آچکی ہے

    بات کریں ایمانداری کی تو قصور اس میں اپنی ملکی ساختہ پراڈکٹس کو خریدنے والی عوام کا ہے کہ اس ملکی ساختہ پراڈکٹس کو بنانے والے لوگوں کا؟
    عوام تو امت مسلمہ سے اظہار یکجہتی کی خاطر اعلی ملٹی نینشل برینڈز کو چھوڑ چکی مگر اب نیشنل ساختہ برینڈز نے اپنی ہی عوام کی مجبوری سے فائدہ اٹھا کر قیمتیں زیادہ اور معیار و مقدار کو ناقص کر دیا جس کا نتیجہ آہستہ آہستہ یہ نکل رہا کہ عوام پھر سے انہی ملٹی نیشنل برینڈز کی جانب واپس پلٹنے لگی ہے

    بات کریں ان نیشنل برینڈز کے مالکان کی تو وہ لوگ کوئی عام عوام نہیں وہ تو خاص لوگ بلکہ بیشتر تو حکمران لوگ ہیں چاہے وہ موجودہ گورنمنٹ کے ہیں یا سابقہ گورنمنٹس کے ،عوام کے بس میں تو جو تھا عوام نے کیا اب سوچنے کی بات ہے امت سے اظہار یکجہتی کی خاطر ساری قربانی کیا عوام نے ہی دینی ہے ہمارے جاگیردار اور ایلیٹ کلاس طبقے کو صرف موقع سے فائدہ اٹھانا ہی آتا ہے یعنی انہوں نے امت کی خاطر کوئی قربانی نہیں دینی؟

    یہ ان نیشنل برینڈز پراڈکٹس کے مالکان سے سوال ہے کہ کیا آپ ایمانداری سے ترقی کرکے ملٹی نیشنل برینڈز نہیں بننا چاہتے مطلب آپ مرغی کھانا پسند کرتے ہیں انڈہ نہیں؟

    اللہ کے بندو سوچو کچھ سوچو اس امت کا بھی اور عام عوام کا بھی کاروبار ضرور کرو مگر طریقہ ملٹی نیشنل کمپنیوں سے ہی سیکھ لو حالانکہ ان بے دینوں نے سارا طریقہ اسلام کا بتایا ہوا اپنایا ہے.

  • حکمران خوشحال ،عوام بے حال ،یہ ہے پیارا پاکستان ۔تجزیہ: شہزاد قریشی

    حکمران خوشحال ،عوام بے حال ،یہ ہے پیارا پاکستان ۔تجزیہ: شہزاد قریشی

    ملک وسائل سے مالامال،ہم کشکول لئے کب تک پھرتے رہیں گے
    عیاشیاں کرنے والے سیاستدانوں کے کارناموں سے دشمن خوش!
    ہر معاملے میں پاک فوج پر تنقید،دانشور سیاسیوں نے قائد کو بھی شرمادیا
    تجزیہ: شہزاد قریشی
    محسن کشی اور احسان فراموشی دیکھنی ہو تو وطن عزیز میں دیکھی جاسکتی ہے۔ آج کے پاکستان کی حالت دیکھ کر اندازہ کرنا مشکل نہیں کہ ہمارے سیاسی گلیاروں میں سیاست کرنے والے اقتدار اختیارات پروٹوکول عیاشیاں کرنے والے سیاستدانوں کی کمال مہربانی سے دشمنان وطن کے ممالک میں شادیانے بج رہے ہیں۔ ملکی سیاست اور جمہوریت کی منڈی میں جو سودے ہورہے ہیں یا کئے جارہے ہیں عوام کی اکثریت ان سے بے خبر ہے۔ سیاسی چالبازیاں عروج پر ہیں۔ ملکی و قومی سلامتی کیا ہے اس سے بے خبر ہو کر سیاستدان اپنے مفادات کے لئے اپنے ذاتی مخبروں کے ذریعے شاید اسٹیبلشمنٹ بھی اور عوام بھی ان کی اس شطرنجی سیاست سے بے خبر ہیں۔ آج ملک میں جو کچھ ہورہا ہے یا کیا جارہا ہے ماضی حال کو دیکھتے ہوئے ملکی سلامتی کے اداروں کو الرٹ رہنے کی ضرورت ہے۔ ہر معاملے میں پاک فوج اور جملہ اداروں کو ملوث کرنا ملکی سلامتی کے پیش نظر درست قرار نہیں دیا جاسکتا۔ سیاسی گلیاروں میں بابائے قوم کے پاکستان کے ساتھ کون سا کھیل کھیلا جارہا ہے؟

    وطن عزیز کو اس وقت معاشی صورت حال کے ساتھ بہت سے گھمبیر مسائل کا سامنا ہے مورخ لکھے گا کہ جب پاکستان کی معیشت غیر مستحکم تھی’ 25کروڑ عوام اپنے بنیادی مسائل کا رونا رو رہی تھی سیاسی جماعتیں اور ان کے قائدین اپنے ذاتی مفادات کا تحفظ کرتے نظر آرہے تھے۔ اس سے زیادہ بے حسی کا مظاہرہ اور کیا ہوسکتا ہے۔ سیاسی گلیاروں میں جو انداز سیاست اپنایا جارہا ہے سا سے تصادم کی فضا ہموار ہورہی ہے۔ بھارت سمیت عالمی قوتیں وطن عزیز کو غیر مستحکم کرنے کی سازش کررہی ہیں۔ 25کروڑ عوام پاک فوج اور جملہ اداروں کو انتہائی الرٹ رہنے کی ضرورت ہے صوبہ بلوچستان اور خیبرپختون خواہ کو غیر مستحکم کرنے کا ایک نہ دکھائی دینے والا عالمی منصوبہ ہوسکتا ہے۔ دہشت گردی دوبارہ سر اٹھا رہی ہے پاک فوج اور جملہ ادارے ملک و قوم کے لئے دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے شہید ہورہے ہیں۔ استحکام پاکستان پر بھرپور توجہ دی جائے قدرت نے پاکستان کو بہت نعمتوں سے نوازا ہے غضب یہ ہے کہ ہم قدرت کی ان نوازشات سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔ ہمارے ہاں دیانت لفظ صرف کتابوں اور زبانوں پر نظر آتا ہے عملی نہیں۔ عمل ہی وہ واحد راستہ ہے جس پر چل کر ترقی ممکن ہے۔
    ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭