Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پرتشدد مظاہرے،بنگلہ دیش کی حکومت کوکیا کرنا چاہئے؟

    پرتشدد مظاہرے،بنگلہ دیش کی حکومت کوکیا کرنا چاہئے؟

    پرتشدد مظاہرے،بنگلہ دیش کی حکومت کوکیا کرنا چاہئے؟

    بنگلہ دیش میں سرکاری ملازمتوں کے لیے کوٹہ سسٹم کی بحالی کے خلاف مظاہرے پرتشددہوئے اور پھیل گئے، کوٹہ سسٹم، جو پاکستان سے 1971 کی جنگ آزادی میں لڑنے والوں کے بچوں کو فائدہ دیتا ہے، تنازعہ کا باعث رہا ہے، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے،یہ مظاہرے بدقسمتی سے جان لیوا ہو گئے، جس کے نتیجے میں درجنوں ہلاکتیں ہوئیں۔

    بڑھتے ہوئے تشدد کے جواب میں، بنگلہ دیشی حکومت نے ہفتہ سے شروع ہونے والے ملک گیر کرفیو کا اعلان کیا ہے اور 170 ملین آبادی والے ملک کو مؤثر طریقے سے الگ تھلگ کرتے ہوئے ٹیلی کمیونیکیشن بلیک آؤٹ نافذ کر دیا ہے۔ دارالحکومت ڈھاکہ میں عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے جہاں طلباء اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں نے آتشزدگی اور نمایاں بدامنی کو جنم دیا ہے۔

    حکومت کی جانب سے تمام یونیورسٹیوں کو بند کرنے کے فیصلے سے، جو کہ کوٹہ مخالف مظاہروں کا مرکز بنی ہوئی ہیں،طلباکو احتجاج سے نہیں رو ک سکیں، طلبا کیمپس پر مسلسل قبضہ کر رہے ہیں۔ پولیس نے مظاہرین پر پولیس اور سرکاری عمارتوں پر حملوں سمیت املاک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچانے کا الزام لگایا ہے۔مظاہرین کے حملوں سےجن املاک کو نقصان پہنچا ان میں ریاستی نشریاتی ادارے بنگلہ دیش ٹیلی ویژن کا ڈھاکہ ہیڈکوارٹر بھی شامل ہے ،

    یہ صورتحال بنگلہ دیشی حکومت کو اپنے شہریوں کی شکایات کو دور کرنے اور ان کی حفاظت کو یقینی بنانے کی ذمہ داری لینے کی ضرورت پر زور دیتی ہے۔ احتساب بہت ضروری ہے، اور حکومت کو حالات کو سنبھالنے میں اپنی ناکامیوں کا اعتراف کرنا چاہیے۔ ریکارڈ شدہ ہلاکتوں کی تعداد 130 سے بڑھ چکی ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کشیدگی میں کمی کے لئے کردار ادا کریں اور طاقت کا سہارا لینے سے پہلے تمام غیر متشدد اقدامات کو ختم کرنا چاہیے۔ اختلاف رائے کو دبانے سے صرف اختلاف بڑھتا ہے۔ مظاہرین کے ساتھ بات چیت کرنا، ان کے تحفظات کو سمجھنا، اور ضروری قانون سازی میں تبدیلیاں کرنا ہی آگے بڑھنے کا سب سے احسن راستہ ہے۔

  • پاکستان میں خواتین کے خلاف تشدد: ایک مستقل بحران

    پاکستان میں خواتین کے خلاف تشدد: ایک مستقل بحران

    پاکستان میں خواتین کے خلاف تشدد ایک وسیع اور گہری جڑیں رکھنے والا مسئلہ ہے، جو کئی نسلوں سے چلی آ رہی ثقافتی اور معاشرتی بحران کی عکاسی کرتا ہے۔ کچھ شعبوں میں ترقی کے باوجود، پاکستان کی خواتین اپنی حفاظت، وقار اور بنیادی انسانی حقوق کے لیے سنگین خطرات کا سامنا کرتی ہیں، چاہے ان کا سماجی مرتبہ، تعلیم یا پیشہ کچھ بھی ہو۔اس تشدد کی جڑیں قدیم رسومات اور مرد سالارانہ اقدار میں پائی جاتی ہیں جو جدید دور تک برقرار ہیں۔ اس کی سب سے حیران کن مثال لڑکیوں کو پیدائش کے بعد قتل کرنے یا زندہ دفن کرنے کا عمل ہے۔ اگرچہ یہ عمل کم ہو گیا ہے، لیکن کچھ علاقوں میں اب بھی ہوتا ہے، جو خواتین کی زندگی کی شدید بے قدری کو ظاہر کرتا ہے۔
    عزت کے نام پر قتل، گھریلو تشدد، اور جبری شادیاں پاکستانی معاشرے میں ابھی بھی عام ہیں۔ بہت سے معاملات میں، خواتین کو جائیداد کی طرح سمجھا جاتا ہے، جن کی زندگیوں پر خاندان کے مرد افراد یا قبائلی بزرگوں کا کنٹرول ہوتا ہے۔ جرگہ نظام، جہاں مقامی کونسلیں اکثر خواتین کے حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے فیصلے کرتی ہیں، کچھ علاقوں میں اب بھی با اثر ہے۔ خواتین اور لڑکیوں کو بعض اوقات مرد رشتہ داروں کے جرائم کے معاوضے کے طور پر دیا جاتا ہے، ایک ایسا عمل جو انہیں ان کی خود مختاری اور انسانی وقار سے محروم کر دیتا ہے۔
    شادی کی مقدس رشتہ، جسے اکثر معاشرے میں سب سے مضبوط بندھن سمجھا جاتا ہے، متضاد طور پر بہت سی خواتین کے لیے انتہائی تشدد کا باعث بنتا ہے۔ بیویاں اپنے شوہروں اور سسرال والوں کے ہاتھوں جسمانی، جذباتی اور معاشی استحصال کا شکار ہوتی ہیں۔ افسوسناک واقعات میں، خواتین کو بیٹوں کی بجائے بیٹیوں کی پیدائش پر ان کے شوہروں نے قتل کر دیا، چاہے وہ جلا کر ہو یا گولی مار کر۔یہاں تک کہ پڑھی لکھی اور مالی طور پر خود مختار خواتین بھی ان خطرات سے محفوظ نہیں ہیں۔ صنفی بنیاد پر تشدد کی وسیع نوعیت تمام سماجی اور معاشی حدود کو عبور کرتی ہے، دیہی اور شہری علاقوں دونوں میں خواتین کو متاثر کرتی ہے۔
    معاشی عوامل اکثر صورتحال کو مزید خراب کر دیتے ہیں۔ ایسی رپورٹیں سامنے آئی ہیں جہاں خاندانوں نے اپنی بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیا، علاج کے اخراجات برداشت نہ کر سکنے کا بہانہ بنا کر۔ یہ نہ صرف خواتین کی زندگیوں کی کم قدر کو ظاہر کرتا ہے بلکہ ان سخت معاشی حالات کو بھی جو ایسے غیر انسانی فیصلوں کا باعث بن سکتے ہیں۔
    پاکستان کی حکومت نے خواتین کے خلاف تشدد سے نمٹنے کے لیے قوانین نافذ کیے ہیں، لیکن ان کا نفاذ کمزور رہا ہے۔ ثقافتی رویے، تعلیم کی کمی، اور معاشی عدم مساوات ترقی میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ بہت سے معاملات سماجی بدنامی، انتقام کے خوف، یا انصاف کے نظام پر عدم اعتماد کی وجہ سے رپورٹ نہیں کیے جاتے۔
    اس بحران سے نمٹنے کے لیے ایک کثیر الجہتی نقطہ نظر کی ضرورت ہے۔ تعلیم بہت اہم ہے، لڑکیوں کو با اختیار بنانے کے لیے اور لڑکوں کے رویوں کو ابتدائی عمر سے تبدیل کرنے کے لیے۔ خواتین کی معاشی ترقی ان کی کمزوری کو کم کر سکتی ہے۔ قانون کے سخت نفاذ اور عدالتی اصلاحات ضروری ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ مجرموں کو جوابدہ ٹھہرایا جائے۔ اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ خواتین کو سمجھنے اور ان کی قدر کرنے کے طریقے میں معاشرتی تبدیلی آئے۔ میڈیا، مذہبی رہنماؤں، اور کمیونٹی کے اثر و رسوخ رکھنے والے افراد کو کردار تبدیل کرنے اور صنفی مساوات کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرنا ہے۔
    بین الاقوامی تنظیمیں اور مقامی این جی اوز صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے کام کرتی رہتی ہیں، لیکن چیلنج بہت بڑا ہے۔ پاکستان میں خواتین کے خلاف تشدد کے خلاف جنگ صرف قوانین کو تبدیل کرنے کا معاملہ نہیں ہے؛ اس کے لیے گہری جڑیں جمائے ہوئے معاشرتی اقدار اور عقائد میں بنیادی تبدیلی کی ضرورت ہے۔جیسے جیسے پاکستان آگے بڑھتا ہے، اس کی خواتین کے ساتھ سلوک اس کی قومی ترقی کا ایک اہم اشاریہ ہو گا۔ خواتین کی حفاظت، وقار اور مساوات کو نہ صرف خواتین کے مسائل کے طور پر بلکہ ملک کی مجموعی ترقی اور خوشحالی کے لیے ضروری بنیادی انسانی حقوق کے طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے۔ صرف جب خواتین تشدد کے خوف سے آزاد ہو کر زندگی گزار سکیں گی تب ہی پاکستان حقیقی معنوں میں ایک ترقی یافتہ معاشرے کا دعوی کر سکے گا

  • عزت کی موت بھی ملتی نہیں غریب کو،تجزیہ:شہزاد قریشی

    عزت کی موت بھی ملتی نہیں غریب کو،تجزیہ:شہزاد قریشی

    تجزیہ ،شہزاد قریشی
    بقول شاعر ،ہر سمت ظالموں کی خدائی ہے اے خدا،
    جینے کا حق نہیں ہے کسی بدنصیب کو،
    اس عہد نامراد میں رزق حلال کیا ،
    عزت کی موت بھی ملتی نہیں غریب کو،
    سی پی او راولپنڈی کے آفس سے چند گز کے فاصلے پر تھانہ سول لائن سے لے کر گوجر خان تک لہو کےسفر کی خبروں نے ہلا کر رکھ دیا ، انسانی حقوق کی بازگشت پارلیمنٹ ہائوس سے لے کر اعلیٰ عدالتوں تک سنائی دیتی ہے مگر کیا انسانی حقوق صرف اس ملک کے جاگیرداروں، سرمایہ داروں، صنعتکاروں، اعلیٰ عہدوں پر فائز اہم شخصیات کے لئے ہیں، عام آدمی کے لئے انسانی حقوق کے قانون لاگو نہیں ہوتے؟ یہ سوال پارلیمنٹ ہائوس میں بیٹھے ارکان اسمبلی، اعلیٰ عدلیہ، سول انتظامیہ، آئی جی پنجاب، مقتدر حلقوں سے بھی ہے؟ ذیشان نامی ملزم راولپنڈی پولیس نے چوری کے مقدمے میں گرفتار کیا، دوران تفتیش راولپنڈی پولیس نے گوجرخان پولیس کے حوالے کر دیا ،مبینہ طور پر پولیس تشدد سے ملزم کی حالت غیر ہو ئی اور وہ موت کی آغوش میں چلا گیا ،مرحوم چور تھا یا نہیں سوال یہ ہے کہ پولیس کو تفتیش کرنے کا حق تو قانون دیتا ہے پولیس کو جان سے مار دینے کا حق کس نے دیا؟

    یوں تو راولپنڈی کےسی پی او سمیت کچھ ایس پی اور ڈی ایس پی حضرات کی داستانیں زبان زدعام ہیں مگر اس دلخراش واقعہ نے راولپنڈی پولیس کی نااہلی، عدم کنٹرول، ڈسپلن کے فقدان اور خود احتسابی سے چشم پوشی آشکار کر رہی ہے ،سنتا جا شرماتا جا کی غیبی آوازیں ضمیر کو جھنجھوڑ رہی ہیں، راولپنڈی کی پولیس ہمیشہ ملک کے دیگر اضلاع اور ڈویژن سے مختلف اعلیٰ اقدار اور صلاحیتوں سے مزین افسران کا گلدستہ رہی ہے، یہاں چوہدری اسرار، رائو محمد اقبال، ناصر خان درانی، ڈاکٹر شعیب سڈل، سید سعود عزیز، فخر سلطان راجہ، طلعت محمود طارق، احسن یونس جیسے افسران اور دیگر بہت سے افسران جن کے نام یاد نہیں،تعینات رہے ان لوگوں نے راولپنڈی پولیس کی ورکنگ ڈسپلن، کارکردگی، اخلاق اور مورال کو ایک بلندی سے نوازا ،ان افسران کے کارناموں سزا و جزا کی بازگشت آج بھی سنائی دیتی ہے، آج راولپنڈی میں پولیس کی ہوس زر کی داستانیں زبان زدعام ہیں لینڈ مافیا سے یارانے، جوئے کے اڈوں سمیت دیگر اخلاقی جرائم میں اضافہ راولپنڈی پولیس پر سوالیہ نشان ہے؟

    سی پی او سمیت راولپنڈی کے ایس پیز اور ڈی ایس پیز نے آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کی ان کاوشوں کو ٹھیس پہنچائی ہے جو وہ تھانہ اور چوکی کی سطح پر پولیس کے مورال اور عزت میں اضافے کے لئے دن رات کر رہے ہیں، راولپنڈی کے تھانوں اور علاقوں میں منشیات اور دیگر جرائم کا تقابلی جائزہ بھی شرمناک ہے، وزیراعلیٰ پنجاب اور مقتدر حلقوں کو یقیناً ضلع کی پولیس میں عمل تطہیر کے ذریعے ان داغوں کو دھونا ہوگا اگر استحکام پاکستان میں اس طرح کے افسران ہمسفر رہے تو پھر پاکستان کا خدا ہی حافظ ہے، راولپنڈی پولیس کے چند افسران نے راولپنڈی کو پولیس سٹیٹ بنا دیا ہے اور راولپنڈی کو اپنی ذاتی جاگیر تصور کررکھاہے جس میں عام آدمی کی کوئی شنوائی نہیں ہے۔

  • ملتان خورد کسی مسیحا کی تلاش میں

    ملتان خورد کسی مسیحا کی تلاش میں

    ملتان خورد کسی مسیحا کی تلاش میں
    تحریر :شوکت علی ملک
    موجودہ ملکی حالات اور مہنگائی کی بڑھتی صورتحال کے پیش نظر غریب سفید پوش طبقہ نہ صرف پس کر رہ گیا ہے بلکہ دو وقت کی روٹی کو ترس گیا ہے، مگر بدقسمتی سے ہمارے حکمرانوں کو اس غریب عوام پر ترس نہیں آرہا بلکہ اپنی عیاشیوں کےلیے غریب عوام کو مہنگائی کے مزید بوجھ تلے دبتے چلے جارہے ہیں، ایسے میں ہمارا سب کا اجتماعی فرض ہے کہ اپنی مدد آپ کے تحت غریب سفید پوش طبقے کی مدد کریں تاکہ وہ بھی عزت سے دو وقت کی روٹی کھا سکیں اور اپنی زندگی گزار سکیں۔

    اس کی واضح مثالیں ہمارے قریبی علاقوں میں بنی ویلفیئر ٹرسٹ ہیں جوکہ اپنی مدد آپ کے تحت اپنے اپنے علاقے کے لوگوں کےلیے فلاح وبہبود کا کام کررہی ہیں، جن میں "ٹمن ویلفیئر سوسائٹی” ڈاکٹر سردار شہروز خان ٹمن کی سربراہی میں بہترین کام کررہی ہے، اسی طرح کھوئیاں میں "اتحاد ویلفیئر سوسائٹی کھوئیاں” بہترین کام کررہی ہے، کوٹگلہ میں بھی ڈاکٹر آصف ایوب کی سربراہی میں ویلفیئر کا کام بہترین طریقے سے جاری ہے، اسی طرح پچنند میں بھی "پچنند ویلفیئر ٹرسٹ” اپنے لوگوں کی فلاح و بہبود کےلیے دن رات کوشاں ہے۔ جوکہ قابل تحسین ہے اور لوگوں کےلیے ایک امید کی کرن ہیں۔

    صحافت کے ایک ادنیٰ سے طالب علم کی حثیت سے میرا عاجزانہ اور دردمندانہ سوال ہے کہ کیا ملتان خورد میں ایک بھی ایسا مسیحا نہیں؟ اس کی آخر وجہ کیا ہے، کیا ہم اتنے بے حس اور خود غرض ہوچکے ہیں؟ پڑوس کے علاقوں کے ان مسیحاؤں سے ہم بھی کچھ سیکھ لیں، ہم بھی اپنے علاقے ملتان خورد کے غریب نادار اور سفید پوش طبقے کی فلاح و بہبود کےلیے کیوں نہ ایک ویلفیئر ٹرسٹ کا قیام عمل میں لاکر اپنے لوگوں کی فلاح و بہبود کا عظیم فریضہ سرانجام دے کر اپنی دنیا و آخرت کو سنوار لیں۔

    سوال تو یہ بھی ہے، ملتان خورد میں بڑے بڑے سردار، چوہدری، پھنے خان، بڑے بڑے پلازوں کے مالکان، مارکیٹوں کے مالکان، بزنس مین، پراپرٹی ٹائیکون، ٹرانسپورٹر اور نہ جانے کون کون سی مالدار ہستیاں رہائش پذیر ہیں مگر ایک میں بھی خدمت انسانیت کا جذبہ نہیں؟ کسی ایک میں بھی خوف خدا اور اپنی آخرت سنوارنے کی فکر موجود نہیں؟ آخر اتنی بے حسی کیوں ہے؟ کیا یہ مال ہم نے آخرت میں اپنے گلے کا طوق بنانے کےلیے جمع کرکے رکھا ہوا ہے؟ جبکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا تو وعدہ ہے کہ تم میری راہ میں خرچ کرو میں اس کا دوگنا لوٹا کر تمہیں واپس دوں گا۔

    میری دست بستہ گذارش ہے کہ ملتان خورد کے صاحب حثیت لوگوں سے کہ خدارا اس بارے سوچیں اور ہنگامی بنیادوں پر اس کےلیے عملی اقدامات کریں اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے لوگ خود کشیاں اور خود سوزیاں کرنے پر مجبور ہوں اور کل قیامت کے روز اس غریب اور مظلوم طبقے نے ہمارے گریباں پکڑے ہوں اور ہمارے پاس اس کا کوئی جواب موجود نہ ہو، میں امید کرتا ہوں کہ بندہ ناچیز کی اس عرضی پر نہ صرف غوروخوص کیا جائے گا بلکہ اس کےلیے عملی اقدامات بھی کیے جائیں گے۔ اللہ پاک ہم سب کو دکھی انسانیت کی خدمت کے جذبے سے سرشار فرمائے۔ آمین

  • کیا مقبولیت حکومت کرنے کے لیے کافی ہے؟”

    کیا مقبولیت حکومت کرنے کے لیے کافی ہے؟”

    پاکستان ایک بار پھر سیاسی بحران کا شکار ہو گیا ہے ۔ اگرچہ میڈیا میں سپریم کورٹ کے فیصلے اور آنے والے منظرنامے کے بارے میں ہر قانونی نکتے پر بحث ہو رہی ہے، لیکن سب سے بنیادی اور اہم نکتہ نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ایک مقبول رہنما ہونا ریاستی معاملات کو سنبھالنے کے لیے کافی نہیں ہے۔ اس کے لیے ایک بہترین پالیسی کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ نہ صرف اپنی پارٹی کے ارکان کو ساتھ لے کر چلنے کی صلاحیت، بلکہ معاشی اہداف حاصل کرنے کے لیے دیگر سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کو بھی ساتھ لے کر چلنے کی قابلیت درکار ہوتی ہے۔سٹیٹس مین شپ ایک ایسی سیاسی قیادت ہے جو طاقت اور دانشمندی کو یکجا کر کے مشترکہ بھلائی کو یقینی بناتی ہے۔ قیادت انسانی معاونین کی رہنمائی کے ذریعے اہداف کا حصول ہے۔ ایک ایسا شخص جو اپنی ٹیم کو مخصوص مقاصد تک پہنچنے کے لیے مؤثر طریقے سے منظم کرتا ہے، ایک رہنما تصور کیا جاتا ہے۔ ایک حقیقی عظیم رہنما وقت کے ساتھ ساتھ اور مختلف حالات میں مسلسل یہ کام انجام دیتا ہے۔ہر سطح پر افقی اور عمودی طور پر تصادم میں توانائی ضائع کرنے پر توجہ دینا ایک انتہائی برے رہنما کی نشانی ہے، چاہے وہ کتنا ہی مقبول کیوں نہ ہو۔ ہمیں "اچھی عوامیت” اور "بری عوامیت” میں فرق کرنے کی ضرورت ہو سکتی ہے۔

    وزیراعظم بننے سے قبل عمران خان کا کنٹینر سیاست میں ملوث ہونا، اور وزیراعظم رہنے کے دوران، ان کی صلاحیتوں کو ایک مقبول رہنما اور سیاست دان کے طور پر کمزور ظاہر کرتا ہے۔شکوہ نام لے کر برا بھلا کہنے، دوسروں کے ساتھ ٹیم کے طور پر کام کرنے سے انکار کرنے پر ہے۔ مزید برآں،عمران خان ساڑھے تین سال میں معیشت کو بحال کرنے میں ناکام رہے اور فوج کی حمایت کھو بیٹھے۔ اس صورتحال میں، عوامی ہمدردی حاصل کرنے کا ان کے پاس واحد آپشن امریکہ مخالف جذبات کو ابھارنا تھا، جو انہوں نے مؤثر طریقے سے کیا۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ موجودہ سیٹ اپ نے کمال کر دکھایا ہے، بڑھتی ہوئی مہنگائی کے سامنے عام آدمی کی حالت انتہائی تکلیف دہ ہے۔یہ ایک بار پھر پاکستان کے لیے چیلنج کا وقت ہے۔

  • ہم کب اس ملک میں امن کےلیے اکٹھے ہوں گے؟تحریر:سید امجد حسین بخاری

    ہم کب اس ملک میں امن کےلیے اکٹھے ہوں گے؟تحریر:سید امجد حسین بخاری

    ایک ریسرچ آرٹیکل کی تیاری کے دوران 2013 کے اخبارات میں چھپے ایک جملے نے میرے رونگٹے کھڑے کردیے۔ افضل گورو کو بھارتی پارلیمان حملے کے فرضی کیس میں پھانسی کی سزا سنائی گئی، جس میں بھارتی سپریم کورٹ نے فیصلہ سنایا کہ حملے میں افضل گورو کے ملوث ہونے کی ثبوت تو نہیں ملے مگر عوام کے ضمیر کی تسکین کےلیے افضل کو پھانسی دینا ضروری ہے،عوام کے ضمیر کی خاطر ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان کو قربانی کا بکرا بنادیا گیا،اسی خبر کے دوران جیپ کے آگے بندھا کشمیری نوجوان بھی نظر آیا، میرے تصور میں مقبوضہ کشمیر میں جعلی مقابلے میں مارا جانے والا بزرگ شہری اور اس کی لاش پر بیٹھا تین برس کا نواسہ بھی آگیا۔ ان دونوں واقعات میں بھارتی میڈیا اور عوام کا کردار بھی میرے سامنے آیا۔ کیسے انہوں نے انسانی حقوق کی اس سنگین خلاف ورزی کا دنیا بھر میں دفاع کیا اور اپنی فوج کا دفاع کیا۔

    میں اس حیرت کے عالم میں دفتر پہنچتا ہوں، جہاں ٹی وی اسکرینز پر سیاستدانوں کے تبصرے، فیس بک پر تبرے سے بھری پوسٹیں اور ایکس پر بھانت بھانت کی بولیوں کے بیچ میری نگاہیں ایک خوبصورت جوان کی تصویر دیکھ کر ٹھہر سی گئیں، یہ تصویر 24 برس کے محمد اسامہ شہید کی تھی، جو ارض مقدس کے تحفظ کی خاطر اپنی مٹی پر قربان ہوگیا۔ 24 سال کی عمر میں ایک عظیم ماں کا بیٹا سبز ہلالی پرچم میں لپٹا منوں مٹی تلے ابدی نیند سوگیا۔ شہید کی ماں ریاست سے شکوہ کرتی رہی کہ کب تک مائیں اپنے بیٹوں کو اس وطن پر قربان کرتی رہیں گی۔ یہ دہشتگردی آپ ختم کیوں نہیں کرتے؟ یہ صرف کیپٹن اسامہ کی ماں کا سوال نہیں بلکہ دہشت گردی کی جنگ میں شہید ہونے والے ہر نوجوان کی ماں کا سوال ہے۔ وہ ماں جوکہ اپنے بیٹے کو سہرے میں دیکھنا چاہتی تھی، اس ماں کا لخت جگر سبز ہلالی پرچم میں لپٹا گھر آتا ہے،اس تصویر اور ماں کے جذبات کو دیکھ کر مجھے صبح کے وقت اخبارات کے تراشوں میں انڈیا سے متعلق خبریں پھر سے ذہن میں آگئیں۔ یہ دہشت گرد ہمارے نوجوانوں کو چن چن کر ما رہے ہیں، یہ دہشت گرد ماؤں سے ان کے خواب چھیننے پر متفق ہیں مگر ہم ہیں کہ اپنے بچوں کے تحفظ پر بھی اختلافات کا شکار ہیں۔

    یہ پہلا نوجوان شہید نہیں ہوا بلکہ آج سے ٹھیک ایک ماہ قبل 10 جون خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں دہشت گردوں کے حملے میں 25 سالہ کیپٹن محمد فراز الیاس شہید ہوئے۔ شہید کیپٹن فراز الیاس کے نکاح کی تیاریاں مکمل تھیں لیکن بارات جانے سے ایک ہفتہ قبل شہید کی میت گھر آگئی۔ شہید کا 19 جون کو نکاح طے تھا۔ کارڈ بھی چھپ چکے تھے۔ 26 مئی کو پشاور کے علاقے حسن خیل میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے 25 برس کے کیپٹن حسین جہانگیر نے جام شہادت نوش کیا۔ حسین جہانگیر شہید کے والد کا کہنا تھا کہ میرے بیٹے کو اپنے وطن سے محبت اور پیار تھا۔ اگر میرے ہزار بیٹے بھی ہوتے تو میں وطن اور اللہ کی راہ میں انہیں قربان کردیتا۔ مجھے اپنے بیٹے کی شہادت پر مجھے فخر ہے۔ رواں برس 16 مارچ کو میر علی میں 23 سال کا کیپٹن احمد بدر دہشت گردوں کی گولیوں کا نشانہ بن کر جام شہادت نوش کرگیا۔ تلہ گنگ میں شہید بیٹے کی لاش پہنچی تو صبر و استقامت کے پہاڑ باپ نے الحمدللہ کہہ کر اپنے لخت جگر کا استقبال کیا۔

    یہ داستان اتنی طویل ہے کہ شاید اسے بیان کرتے ہوئے میری زبان گنگ ہوجائے، اور انہیں پڑھتے ہوئے آپ کی نگاہیں دھندلا جائیں۔ 21 فروری 2022 کو بلوچستان کے ضلع کوہلو میں کلیئرنس آپریشن کے دوران 26 سالہ کیپٹن سید حیدر عباس جعفری نے جام شہادت نوش کیا۔ ’’میرا حیدر شیر ہے، شیروں کی طرح لڑا ہے میرا بیٹا۔‘‘ جب کیپٹن سید حیدر عباس جعفری کو قبر میں اتارا جارہا تھا تو یہ وہ الفاظ تھے جو شہید کی ماں کے لبوں پر تھے۔ کیپٹن حیدر کی ماں کی آنکھوں میں آنسو تو تھے لیکن ان آنسوؤں میں دکھ اور غم سے کہیں زیادہ فخر جھلکتا دکھائی دیتا تھا۔ اس ماں کے چہرے پر دکھ و کرب کے اثرات تو صاف نظر آتے تھے لیکن ان کے پیچھے ایک سکون و طمانیت کا بھی احساس تھا۔ ماں کی جھکی کمر میں اردگرد کھڑے لوگوں کو ایک تفاخر نظر آرہا تھا، جو شہیدوں کی ماؤں کا خاصہ ہوتا ہے۔

    شہدا کے والدین تو اپنے بیٹوں کی شہادت پر فخر کرتے ہیں، مگر کیا ہم نے بحیثیت قوم کبھی خود سے سوال کیا کہ ہم کہاں کھڑے ہیں؟ ہم پنجابی، بلوچی، سندھی، کشمیری اور پشتون کی بحثوں میں الجھے ہیں مگر ہمارے دشمن دہشت گرد دندناتے پھر رہے ہیں۔ ہم سیاسی اختلافات میں اس قدر آگے نکل چکے ہیں کہ قومی سلامتی کے معاملات کو بھی متنازعہ بنا دیتے ہیں۔ ابھی آپریشن عزم استحکام کا فیصلہ ہوا تو ہم نے اسے چینی آپریشن کہہ کر کنفیوز کرنے کی کوشش کی،مولانا فضل الرحمان کو خیبرپختونخوا میں 40 ہزار دہشت گردوں کی موجودگی تو دکھائی دے رہی ہے مگر وہ آپریشن کی مخالفت کر رہے ہیں۔ تحریک انصاف کے رہنما غیرت و حمیت کے نعرے تو بلند کر رہے ہیں مگر انہیں وطن عزیز کے شہید ہوتے نوجوان دکھائی نہیں دیتے۔ اے این پی کی مرکزی قیادت کے گھروں سے لاشیں اٹھیں، سب سے زیادہ نشانہ اے این پی بنی، مگر یہ بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ کی ناقد ہے۔ دہشت گرد ہمیں مارنے پر متفق ہیں مگر ہم اس پر لب کیوں سیئے ہوئے ہیں۔

    دہشت گردوں کو فوجی عدالتوں سے سزا ہوتی ہے مگر وہ سپریم کورٹ میں اپیل کردیتے ہیں۔ اس وقت بھی 300 سے زائد سزا یافتہ دہشت گردوں کی اپیلیں سپریم کورٹ میں موجود ہیں۔ دہشت گردوں کو سزاؤں کے حوالے سے قانون سازی کی باتیں تو ہوتی ہیں مگر ہمارے نمائندے اس پر بھی پس و پیش سے کام لیتے ہیں۔ ہمارے بچے ہم سے چھینے جارہے ہیں مگر ہم صوبائیت اور لسانیت کی بحثوں سے نہیں نکلتے۔ صرف گزشتہ ماہ ہی وطن عزیز میں 27 دہشت گرد حملے ریکارڈ کیے گئے، ان حملوں میں سے 21 خیبرپختونخوا اور 6 بلوچستان میں رپورٹ ہوئے، جب کہ پچھلے ماہ ان حملوں کی تعداد 36 تھی۔ ان 21 حملوں میں اس وطن کے 32 بیٹے شہید ہوئے۔

    سیاستدانوں کے اختلافات محض عزم استحکام پر نہیں بلکہ ہر آپریشن کو متنازعہ بنایا گیا۔ لال مسجد سے سوات آپریشن تک، ضرب عضب سے عزم استحکام تلک ہر بار قوم میں اتفاق رائے نہ ہوسکا ۔ہمارے پڑوس بھارت میں چھتیس گڑھ سے خالصتان تک، منی پور سے لے کر کشمیری مجاہدین تک، بھارت کی سیکڑوں سیاسی جماعتیں، عدالتیں اور فوج سبھی میں اتفاق رائے پایا جاتا رہا۔ کشمیری مجاہد افضل گورو کو سزائے موت کےلیے قانون موجود نہیں تھا مگر بھارتی عدالت نے پھر بھی حکومت کا ساتھ دیا۔ قومی سلامتی کے معاملے پر کانگریس بی جے پی اور بی جے پی کانگریس کے ساتھ کھڑے ہوجاتے ہیں۔ مگر ہم ہیں کہ قومی سلامتی کے معاملے کو بھی الجھا دیتے ہیں،آخر کب تک ہم دہشتگردوں کے مقابلے میں اختلافات کا شکار رہیں گے؟ کب تک اس دیس کی مائیں جواں سال اموات کا نوحہ پڑھتی رہیں گی؟ آخر کب تک اس قوم کی بیٹیاں جوانی میں بیوہ ہوتی رہیں گی؟ ہم کب اس ملک میں امن کےلیے اکٹھے ہوں گے؟ آخر کب ایک دوسرے کی دستار اتارنے کا سلسلہ بند ہوگا؟ قوم کے بیٹوں کے قاتلوں کو عدالتوں سے سزائیں کب ملیں گی؟ دہشت سے ملک کو محفوظ رکھنے کےلیے سیاستدان کب اپنے سیاسی اختلافات پس پشت ڈال کر اکٹھا ہوں گے؟ آج یہ سوالات قوم کی ہر ماں، بیٹی اور باپ ہم سب سے پوچھ رہے ہیں۔ کیا آپ کے پاس ان کے سوالوں کا جواب ہے؟

  • بجلی کے بل بھریں یا…تحریر:حنا سرور

    بجلی کے بل بھریں یا…تحریر:حنا سرور

    پاکستان دنیا کا سب سے مہنگی ترین بجلی پیدا کرنے والا ملک بن گیا۔۔دس بیس ہزار سے ستر ایک لاکھ تک کمانے والا طبقہ پریشان ہے بجلی کے بل بھریں کہ بزرگ والدین کا علاج کروائیں یا بچوں کو سکول پڑھائیں۔یا پھر گھر کا راشن پانی لیں۔لوگ نفسیاتی ہورہے ہیں نوجوان بیروزگار ہے خودکشیاں کررہے ہیں بجلی کے بلوں کی وجہ سے ہر گھر میں بے سکونی ہے لڑائی جھگڑے ہیں کہ بل کون دے۔۔جو پیسے لوگ بیٹیوں کی شادیاں کرنے کے اور بچوں کی فیسیں جمع کرنے کے حج و عمرہ کرنے کے اور قربانی کے جانور خریدنے کے لیے جمع کرتے تھے وہ لوگ اب پیسے بجلی کے بل بھرنے کے لیے جمع کرتے ہیں لوگ اپنے موبائل فون بیچ رہے ہیں سونا بیچ رہے ہیں تاکہ بل بھر سکیں۔۔

    اور حکومت کی بے حسی دیکھیے پارلیمنٹ میں موجود ہر مذہبی و سیاسی ارکان کو تمام سہولیات مراعات فری ہے۔۔ان کے بیرون ملک کے ٹکٹ فری ہے ان کی سات نسلیں غریب عوام کے ٹیکس پر پلتی ہے ۔کیا ہی اچھا ہو جو بوجھ یہ عوام پر ڈال رہے ہیں خود پر ڈالیں یہ دو تین مہینے سہولیات مراعات نہ لیں تو اربوں روپیہ انھی سے نکل سکتا۔

    لاہور دا پاوا، اختر لاوا طویل لوڈ شیڈنگ اور مہنگے بجلی بلوں پر پھٹ پڑا

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    موجودہ بجٹ معیشت، عوام ،ملک کے لئے تباہ کن ثابت ہوگا،شاہد خاقان عباسی

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    جسٹس ملک شہزاد نے چیف جسٹس سے چھٹیاں مانگ لیں

    اگر کارروائی نہیں ہو رہی تو ایک شخص داد رسی کیلئے کیا کرے؟چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    عمران خان کیخلاف درخواست دینے پر جی ٹی وی نے رپورٹر کو معطل کردیا

    سوال کرنا جرم بن گیا، صحافی محسن بلال کو نوکری سے "فارغ” کروا دیا گیا

    صوبائی کابینہ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف شواہد کے تحت کارروائی کی اجازت دی

    توشہ خانہ،نئی پالیسی کے تحت تحائف کون لے سکتا؟قائمہ کمیٹی میں تفصیلات پیش

    باسکن رابنز پاکستان کو اربوں روپے جرمانے اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا سامنا

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    جعلی ڈگری،جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف ریفرنس دائر

    "بھولے بابا” کا عام آدمی سے خود ساختہ بابا بننے کا سفر ،اربوں کے اثاثے

    اصلی ولن آئی ایم ایف یا حکومت،بے حس اشرافیہ نے عوام پر بجلی گرا دی

  • شہبازسپیڈ اورخود کشیاں کرتی عوام

    شہبازسپیڈ اورخود کشیاں کرتی عوام

    شہبازسپیڈ اورخود کشیاں کرتی عوام
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    حکومت نے بجلی کے بعد عوام پررات کی تاریکی میں پٹرول بم گراتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 9.99 روپے فی لیٹر تک اضافہ کردیا۔اس اضافہ پرمرکزی تنظیم تاجران پاکستان نے حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اپنے اخراجات کم کرنے کے بجائے عوام پر مسلسل ظلم ڈھا رہی ہے۔تنظیم کے صدر کاشف چوہدری نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ عوام کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول مشکل ہو چکا ہے اور اس پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا ہے، جس سے ملک میں مہنگائی کا نیا طوفان آئے گا۔انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس کی قیمتوں کے باعث پیداواری لاگت ناقابل برداشت حد تک بڑھ چکی ہے۔ بجلی اور گیس کی موجودہ قیمتوں میں کاروبار جاری رکھنا ناممکن ہوچکا ہے

    پاکستان کے موجودہ حالات کی سنگینی اور حکومت کی ناکام پالیسیوں کے باعث عوام میں مایوسی اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے۔بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری اور گڈگورننس کے فقدان نے عوام کو شدید مشکلات میں مبتلا کر دیا ہے، جس کی وجہ سے خود کشی جیسے المناک واقعات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے،شہباز حکومت کی موجودہ دور حکومت میں اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، روزمرہ کی اشیا کی قیمتوں میں اضافے نے عوام کی قوت خرید کو ختم کر دیا ہے،آٹا، چینی، دالیں، سبزیاں اور پھل عوام کی پہنچ سے دور ہو چکے ہیں، قیمتوں میں مسلسل اضافے نے غریب اور متوسط طبقے کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔

    پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ اورموجود ہ وزیراعظم شہباز شریف جس کی پہچان تیز رفتار ترقیاتی منصوبے اور انتظامی صلاحیتوں کے حوالے سے "شہباز سپیڈ” کے نام سے ہوتی تھی،آج جب میاں شہبازشریف وزیراعظم ہیں انہی کی حکومت میں عوام سے زندہ رہنے کاحق بھی چھینا جارہا ہے ،حالیہ مہینوں میں بجلی اور پٹرول کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ نے عوام کے لئے زندگی مزید مشکل بنا دی ہے، بجلی کے نرخوں میں اضافے نے گھریلو اور صنعتی صارفین کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے، گرمیوں میں بجلی کے بل عوام کی پہنچ سے باہر ہو گئے ہیں، جس کی وجہ سے عوام شدید مالی دباؤکا شکار ہیں، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں بھی اضافہ ہوگیاہے،جس کا براہ راست اثرعوام پرپڑتا ہے کیونکہ ٹرانسپورٹیشن کے کرائے بڑھنے سے اشیائے ضروریہ سمیت چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوجاتا ہے،

    قیمتوں میں مسلسل اضافے نے غریب اور متوسط طبقے کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے،کرائے اور تعمیراتی سامان کی قیمتوں میں اضافے نے رہائش کو مزید مشکل بنا دیا ہے، مزدورطبقہ اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہوچکا ہے،بے روزگاری میں اضافہ ہوچکا ہے جس سے عوام مایوسی کی دلدل میں دھنس چکی ہے ، تعلیم یافتہ نوجوان روزگار کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں، مناسب ملازمتیں نہ ملنے کی وجہ سے پاکستان میں مایوسی شکار ہوکراپنے والدین کی جمع پونجی ،زمین اور مکان تک بیچ کر غیرممالک کی طرف بھاگنے پر مجبور ہوچکے ہیں ۔

    صنعتوں کی بندش اور پیداوارمیں کمی کی وجہ سے روزگار کے مواقع محدود ہو گئے ہیں، جس کا براہ راست اثر عوام کےمعاشی حالات پر پڑ رہا ہے،گڈگورننس کے فقدان کی وجہ سے عوام کے مسائل حل ہونے کی بجائے ان میں اضافہ ہورہا ہے، انتظامی معاملات میں شفافیت اور اقرباء پروری نے عوامی اعتماد کو مجروح کر دیا ہے، سرکاری اداروں میں بدعنوانی اور نااہلی کے واقعات عام ہیں، جس کی وجہ سے عوامی مسائل کے حل کی طرف کسی کی توجہ نہیں ہے، حکومتی فیصلوں میں شفافیت کی کمی اور احتسابی نظام کی ناکامی نے عوام کی مایوسی میں اضافہ کیا ہے، جس کی وجہ سے عوام کا اعتماد حکومت پر سے اٹھ چکا ہے،حکومت کی ناکام پالیسیوں اور بڑھتی ہوئی مشکلات کے باعث خودکشی کے واقعات میں بھی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، ملک کے مختلف حصوں سے خودکشی کے المناک واقعات کی خبریں موصول ہو رہی ہیں،مالی مشکلات کی وجہ سے خاندانی جھگڑے اور مسائل بھی بڑھ رہے ہیں، جو خودکشی کے واقعات میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں،جن میں زیادہ تر افراد مالی مشکلات، بے روزگاری، اور مہنگائی کے باعث اپنی زندگی کا خاتمہ کرنے پرمجبورہوجاتے ہیں۔

    میاں شہباز شریف کی حکومت کو عوامی مسائل کے حل میں ناکامی کی وجہ سے عوامی ردعمل بھی شدید ہو رہا ہے، عوام حکومت سے نالاں اور مایوس ہوچکی ہے، مختلف طبقات کی طرف سے حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں، جن میں مزدور، کسان، اور طلباء بھی شامل ہیں،یہ مظاہرے حکومت کی پالیسیوں کے خلاف عوامی عدم اعتماد ہیں،دوسری طرف سیاسی مخالفین بھی حکومت کی ناکامیوں کو اجاگر کر کے عوامی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،آئے روز حکومتی ترجمانوں کی بونگیوں کی وجہ سے حکومت کے خلاف عوام کا غم وغصہ مزیدبڑھ رہاہے،

    کیا یہی ہے وہ شہباز سپیڈ ہے۔؟ جس کے شہباز شریف کی حکومت نے تیز رفتار ترقیاتی منصوبے اور عوامی فلاح و بہبود کے وعدے کیے تھے،شہبازحکومت عوام کوکوئی ریلیف تو نہ دے سکی لیکن شہبازسپیڈکے پیداکردہ حالات نے عوام کوخودکشیاں کرنے پرمجبور کردیا ہے

    موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے ہم حکومت وقت کو صر ف صائب مشورہ ہی دے سکتے ہیں کہ حکومت کو فوری طورپر مؤثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے جس سے بجلی، پٹرول اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں کمی ممکن ہو، عوام کی زندگی کو آسان بنانے کے لئے شفاف اور قابل عمل پالیسیاں بنائی جائیں اور عوام کوآئی ایم ایف کے بنائے گئے بجٹ سے بھی چھٹکارادلایاجائے،ان اقدامات سے عوام کوکچھ ریلیف ملے گا تو حکومت پر عوام کا اعتمادبھی بحال ہو گا ، ورنہ "شہباز سپیڈ” کا نعرہ عوام کی نظر میں اپنی وقعت کھو چکا ہے ۔ عوامی مسائل کے حل اور معیشت کی بحالی کے لئے حکومت کی طرف سے فوری اور عملی اقدامات وقت کی آواز اوراہم ضرورت ہیں۔

  • امریکی سیاست ایک نئے مرحلے میں داخل

    امریکی سیاست ایک نئے مرحلے میں داخل

    سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر پنسلوانیا میں ہفتے کی شب حملہ ہوا، جس کے نتیجے میں ریلی میں شریک ایک شخص کی موت ہوئی جبکہ دو زخمی ہوئے، حملہ آور کو موقع پر ہی ہلاک کر دیا گیا،خبر رساں ادارے الجزیرہ کے مطابق ایف بی آئی کے ترجمان کیون روجیک کا کہنا تھا کہ حکام نے فائرنگ کرنے والے کی شناخت کر لی ہے تاہم وہ تفصیلات جاری نہیں کریں گے۔

    سابق امریکی صدر ٹرمپ پر حملے کے واقعہ نے 2024 کی صدارتی انتخابی مہم کو نمایاں طور پر متاثر کیا ہے،اس واقعہ نے امریکی سماجی ،ثقافتی اور امریکی سیاست میں سلامتی کے طویل عرصے سے موجود بھرم کو توڑ دیا، حملے میں ٹرمپ کو معمولی چوٹ آئی، نیویارک ٹائمز کے ڈگ ملز کی تصویر میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سر کے قریب سے گولی جاتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔

    1981 میں جان ہنکلے جونیئر کے ہاتھوں رونالڈ ریگن کو گولی مارنے کے بعد سے صدارتی امیدوار کے خلاف تشدد کا ایسا ڈرامائی عمل نہیں دیکھا گیا۔ امریکہ کی سیاسی گفتگو پر اس واقعے کے مستقبل کے اثرات غیر یقینی ہیں۔ اگرچہ یہ یقینی ہے کہ یہ حملہ ٹرمپ کی مقبولیت کے گراف کو کئی درجے بڑھا دے گا.

    ٹرمپ پر حملہ کے بعد قومی اتحاد کو فروغ دینے کے مطالبات کیے گئے ہیں۔ چند گھنٹوں کے اندرامریکی صدر جو بائیڈن جو نومبر میں ٹرمپ کے ممکنہ مخالف تھے، نے خطاب کرتے ہوئے کہا، "اس قسم کے تشدد کے لیے امریکہ میں کوئی جگہ نہیں ہے،ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے،قاتلانہ حملہ امریکی اقدار کے خلاف ہے ۔”

    تاہم، اس واقعہ نے تیزی سے متعصبانہ تنازعہ کو بڑھا دیاہے کچھ ریپبلکن سیاست دان اس حملے کا ذمہ دار ڈیموکریٹس کو ٹھہرا رہے ہیں۔ (ایسے میں مجھے پاکستانی سیاست کی یاد آ رہی) دریں اثنا، جمعرات کی رات ٹرمپ کے اسٹیج پر آنے پر قومی سطح پر اسپاٹ لائٹ سخت ہوگی۔ ہر آنکھ گھبراہٹ یا نافرمانی کی علامت دیکھے گی۔ پہلے سے ہی ایک بلند مٹھی کے ساتھ خون آلود لیکن منحرف ٹرمپ کی تصاویر ریلی کی علامت بننے کے لیے تیار ہیں۔ ریپبلکن پارٹی یقینی طور پر اسے بہادری اور دفاع کی علامت کے طور پر استعمال کرے گی۔

    اس غیر متوقع انتخابی سال میں ایک بات یقینی ہے کہ امریکی سیاست ایک نئے، مہلک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔

  • احسان صادق کی تعیناتی انتہائی احسن فیصلہ،تجزیہ: شہزاد قریشی

    احسان صادق کی تعیناتی انتہائی احسن فیصلہ،تجزیہ: شہزاد قریشی

    سابق آئی جی پولیس سائوتھ پنجاب احسان صادق کو اینٹی منی لانڈرنگ واینٹی ٹیررفنانسگ اتھارٹی کے پہلے ڈائریکٹر جنرل کے بطور تعیناتی کا فیصلہ انتہائی احسن اور قابل ستائش ہے ۔ جس سے ثابت ہوتاہے کہ پاکستان کے معاشی و مالی معاملات اور دہشت گردی کی سرگرمیوں کو کنٹرول کرنے کے لئے حکومت سنجیدہ اقدامات کا ارادہ رکھتی ہے اوریہ استحکام پاکستان کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ احسان صادق پاکستا ن پولیس سروس کا ایک مایہ ناز ستارہ ہیں۔ حب الوطنی ، دیانتداری فرض شناسی پیشہ وارانہ مہارت ،تقویٰ ، پرہیز گاری اور بلند حوصلے کا پیکر ہیں۔ ایف آئی اے میں بطور ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل فنانشیل کرائم فرائض سرانجام دیتے ہوئے ڈاکٹر احسان صادق نے وطن عزیز کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلوانے کے لئے جس جانفشانی اور مخصوص جذبے سے سرشار ہو کر کام کیا اس کا اعتراف اس وقت کے وزیر خارجہ نے بھی کھلے دل کے ساتھ سراہا ۔ بطور ایڈیشنل آئی جی پولیس سائوتھ پنجاب منظم کرائم میں ملوث گروہوں کے خلاف آپریشن کا آغاز کیا ۔

    استحکام پاکستان ایک فوجی آپریشن کا نام نہیں جیسا اس کو سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں پیش کیا جا رہا ہے ۔ استحکام پاکستان” رائٹ مین فار رائٹ جاب کا نام بھی ہے” استحکام پاکستان میں اعلی کردار قومی جذبے ایماندار نیک نیتی اورپ یشہ وارانہ مہارت کے حامل افسران و اہلکاروں کا اہم عہدوں پر تعیناتی حکومت اور مقتدرہ کی جانب سے ان آفیسران کی بہتر کارکردگی میں معاونت کا نام ہے ۔ بلاشبہ احسان صادق کا انتہائی حساس مشن کی تکمیل کے لئے انتخاب حکومت اور مقتدرہ کااحسن اقدام ہے ۔ یقینا ایسے اقدامات کے ثمرات قوم کو جلد ملیں گی۔ ملک کے تمام صوبوں میں بیورو کریٹ ،سول انتظامیہ ، اعلٰی پولیس افسران موجود ہیں جن کا ماضی حال داغدار نہیں، بدقسمتی سے جن کو فیلڈ میں رہ کر ملک وقوم کی خدمت کا فریضہ سرانجام دینا چاہیئے وہ ” کھڈے لائن ”لگے ہیں جو قانون کی حکمرانی دیانتداری میں اپنی مثال آپ ہیں مگر افسوس سیاسی پشت پناہی اور دیگر عوامل ان شخصیات کا راستہ روکا ہوا ہے۔ راولپنڈی ایک حساس ترین شہر ہے اس شہر سے لے کر پنجاب میں پولیس کے اعلیٰ افسران ، سول انتظامیہ کے اعلیٰ افسران کا ماضی اور حال دیکھیں تو کیا یہ استحکام پاکستان کے لئے سوالیہ نشان نہیں ؟عقاب کی نظر رکھنے والے اعلیٰ پولیس افسران کی موجودگی میں لینڈ مافیا کے ڈیروں کو آباد کرنے والوں نے پولیس کے محکمہ کو بدنام کرکے رکھ دیاہے۔استحکام پاکستان کی کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ ذمہ دار بن کرریاست پنجاب اور دیگر صوبوں میں تعینات اعلیٰ پولیس افسران اور سول بیورو کریسی کے افسران کی لسٹ منگوا کر غور و فکر کریں ایسے افسران کو تعینات کریں جو استحکام پاکستان میں اپنا کردار اعلیٰ کارکردگی کے حامل افراد کو تعینات کیا جائے۔