Baaghi TV

Category: بلاگ

  • کچھ قربانی آپ بھی دیجئے عوام کو بھی زندہ رہنے دیجئے

    کچھ قربانی آپ بھی دیجئے عوام کو بھی زندہ رہنے دیجئے

    کچھ قربانی آپ بھی دیجئے عوام کو بھی زندہ رہنے دیجئے
    ازقلم غنی محمود قصوری
    ہمارا المیہ ہے کہ ارض پاک میں ہر قسم کی قربانی عام غریب عوام کو ہی دینی پڑتی ہے صاحب اختیار اور صاحب اقتدار ہمیشہ ہی قربانی دینے کی بجائے قربانی عوام کی کرتے آئے ہیںگزشتہ دو دہائیوں سے جب سے ہم نےہوش سنبھالا اور شعور آیاہے تب سے تقریباً 4 سیاسی جماعتوں کی حکومتیں آئی ہیں جیسے کہ مسلم لیگ ق،پاکستان پیپلز پارٹی ،پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریک انصاف اب ایک بار پھر سے مسلم لیگ ن کی حکومت ہے

    میں زیادہ لمبی چوڑی بات نہیں لکھتا صرف اپنے دیکھنے کی بات لکھتا ہوں کہ ہم نے جو دیکھا اللہ تعالی اس پر حق سچ لکھنے کی توفیق عطا فرمائے
    ہم نے دو دہائیوں میں دیکھا ہے کہ جو بھی آتا گیا قرضہ لیتا گیا عوام پر نئے سے نئے ٹیکس لگاتا گیا اور اپنے اثاثے بناتا گیا،وہ الگ بات ہے کہ ہر سیاسی جماعت کا کارکن اس بات کو اتنا ہی تسلیم کرتا ہے کہ بس ہمارے لیڈر اور ہماری حکومت نے عوام کا فائدہ کیا ،باقیوں نے عوام کو ذبح کیا ہمارا لیڈر بڑا پوتر اور پاک ہے باقی سب چور ڈاکو ہیں،حالانکہ سب جانتے اور مانتے ہیں عوام کو ذبح کرنے میں سب ایک ساتھ برابر کے شریک جرم ہیں

    1958 میں آئی ایم ایف نے پہلا قرضہ پاکستان کو دیا اور ابتک پاکستان گزشتہ 69 برسوں میں قرضے کے حصول کے لئے تقریباً 21 مرتبہ آئی ایم ایف کے پاس جا چکا ہے اور پاکستان تقریباً دنیا کا پانچواں مقروض ترین اور ایشیاء کا سب سے زیادہ مقروض ملک ہے ،حیرت کی بات یہ ہے کہ ہر بار لئے گئے قرضوں سے عوام مزید غریب ہوتی جا رہی ہے اور جو بھی گورنمنٹ آئی جاتے وقت اس کے کارندے خوب پھلتے پھولتے ہیں

    قرضہ لینا کوئی بڑی بات نہیں امریکہ اور سعودی عرب جیسے ممالک بھی آئی ایم ایف کے مقروض ہیں مگر ان کے قرضوں سے عوام نے ریلیف حاصل کیا ہے مگر ہمارے ہاں ایسا ہرگز نہیں قرضہ حکمران لیتے ہیں مقروض عوام ہوتی ہے،قرضہ ملتے ہی عیاشیاں حکمران کرتے ہیں اور نئے ٹیکس عوام پر لگتے ہیں

    آپ موجودہ چند ماہ ہی دیکھ لیں جس قدر قرضہ آتا گیا ہے اسی قدر عوام پر سختیاں بڑھتی گئی ہیں،ویسے سوچنے کی بات ہے آئی ایم ایف قرض دیتے وقت عوام پر نئے سے نئے ٹیکس لگانے کی شرائط تو رکھتاہے مگر کبھی بھی حکمرانوں کا پروٹوکول ختم کرنے اور ان کی مراعات میں کمی کی شرط نہیں رکھتا

    آئی ایف ایم چاہتا ہے جس طرح مصر،لیبیا اور شام میں عوام اور حکمرانوں میں تصادم کروا کر خانہ جنگی کروائی گئی ہے ایسے ہی پاکستان میں خانہ جنگی ہو ، تاہم اللہ کا خاص کرم ہے اتنے بوجھ تلے دبی عوام کو رب تعالی اپنی خاص رحمت سے صبر بھی عطا کر رہا ہے اور تھوڑی بہت سہولیات بھی
    یہ ہم پاکستانی قوم کی رب کی طرف سے بہت بڑی آزمائش ہے

    عوام نئے ٹیکس لگوا کر مہنگائی کے بوجھ تلے دب کر بھی شکر خداوندی کرتے ہیں تاہم ہماری اشرافیہ جس میں جج،جرنیل،سیاستدان و دیگر اعلی پائے کے لوگ شامل ہیں ہمیشہ اپنی مراعات بڑھاتے رہے ہیں اور خوب عیاشیاں کرتے ہیں اپنی جاگیریں بڑھاتے ہیں، واضِح رَہے کہ ہر آنے والی گورنمنٹ نے پروٹوکول و مراعات کو ختم کرنے کا دعویٰ تو کیا ہے مگر تاریخ گواہ ہے کبھی بھی کسی ایک گورنمنٹ نے اس بات پر عمل نہیں کیا ،
    ہمارے حکمران عوام کو آئین کے تابع رہنے کی باتیں کرتے ہیں مگر سب سے زیادہ آئین کی توہین بھی یہی حکومتیں کرتی ہیں میں کسی ایک گورنمنٹ کی بات نہیں کر رہا سب پارٹیوں کی گورنمنٹس اس میں شامل ہیں

    آئین پاکستان میں 7 شیڈول چیپٹرز ہیں جنکو 12 حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور آئین پاکستان کے آرٹیکلز کی تعداد 280 ہے جن میں پہلے 40 آرٹیکلز میں عوام کے حقوق ، اصول حکمت عملی اور حکومتی ذمہ داریوں کا ذکر ہے مگر آپ غور کریں اور آئین پڑھیں تو ان میں سے کسی ایک پر بھی عمل درآمد نہیں ہوتا جیسے کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل نمبر 25 میں شہریوں میں مساوات رکھنے، تمام شہر ی قانون کی نظر میں برابر ہونے اور قانونی تحفظ کے مساوی طور پر حقدار ہونے کے حقدار ہیں مگر آپ موجودہ گورنمنٹ کو دیکھ لیں فائلر اور نان فائلر کی آڑ میں کس قدر بندر بانٹ کی گئی ہے جو پہلے سے امیر ہے اس کو رعایت اور جس بیچارے کے گھر روٹی نہیں پکتی اس پر مزید تنگی کی گئی ہے

    اسی طرح جو اعلیٰ افسران ہیں وہ لاکھوں روپے تنخواہ بھی لیتے ہیں اور گاڑی بنگلہ کیساتھ ملازمین اور پروٹوکول بھی لیتے ہیں جبکہ ایک درجہ چہارم کا ملازم ان افسران کی ڈانٹ ڈپٹ سہہ کر اور چند ہزار روپیہ ماہانہ تنخواہ لے کر ان سے زیادہ وقت کام بھی کرتا ہے اور اسے نا تو صحت کی سہولیات میسر ہیں نا ہی رہنے کو درمیانے درجے کی چھت ہے،مطلب ساری کی ساری قربانی عوام نے ہی دی ہے اور دینی ہے ہماری اشرافیہ صرف اور صرف قربانی مانگنتی ہے

    یاد رکھو ظالم حکمرانوں ! جہاں انصاف نہیں ہوتا وہاں رب کی رحمت نہیں آتی
    یہ جہاں تو عارضی ہے غریب لوگ تو اپنی زندگی کاٹ کر اس جہان سے چلے ہی جائیں گے اور جانا تم لوگوں نے بھی ہے سوچو وہاں کونسا ٹیکس لگا کر ریلیف لو گے؟

  • عدالت میں مخصوص ریلیف،ریاست کیلئے خطرناک،تجزیہ:شہزاد قریشی

    عدالت میں مخصوص ریلیف،ریاست کیلئے خطرناک،تجزیہ:شہزاد قریشی

    وطن عزیز کے نوجوان بچوں اور بچیوں، آپ وطن عزیز کا مستقبل ہو، آپ نے ا س مل کو آگے لے کر جانا ہے ۔ ملک کے سیاستدانوں کی اکثریت اپنے اقتدار کے لئے آپ کو استعمال کررہی ہے ۔ سوشل میڈیا سیاسی مقاصد کے لئے استعمال ہو رہا ہے ۔ سوشل میڈیا کے ذریعے بازاری زبان استعمال کی جا رہی ہے ملکی سرحدوں کے محافظوں کے خلاف گندی اور غلیظ مہم چلائی جا رہی ہے۔میری ذاتی رائے میں یہ ایک وطن عزیز کے خلاف بین الاقوامی سازش ہے سیاستدان اس سازش کا ایک باقاعدہ حصہ مبینہ طورپر ہو سکتے ہیں۔ یہ ایک منظم طریقے سے ہو رہا ہے ہماری ثقافت پر بھی حملہ ہے۔ کچھ لوگ سوشل میڈیا کے ذریعے یو ٹیوب پر چینل کھول کر بیٹھے ڈس انفارمیشن سے خوب مال کما رہے ہیں آپ کے لائیکس سے ان کی روزی میں اضافہ ہوتا ہے سوشل میڈیا پر بیٹھ کر وطن عزیز کے اداروں کو برباد کرنے کی اجازت نہیں د ی جا سکتی ۔ حدود وقیود میں رہ کر اخلاقی دائروں میں رہ کراداروں پر تنقید برائے اصلاح ضرور کریں مگر چند ڈالروں کے خاطر ملکی سلامتی کو دائو پر لگانے کی اجازت کسی کو بھی نہیں د ی جانی چاہیئے۔

    عراق،افغانستان ، شام ، لیبیا آج اگر کھنڈرات کی شکل اختیار تو اس کے پیچھے عالمی سازش تھی ان ممالک میں حوس زر اور حوس اقتدار کے ایسے لوگ جو عالمی طاقتوں سے مل کر اپنے ہی ملکوں اور قومی سلامتی کے اداروں کو کمزور کیا اور انہیں متنازعہ بنایا۔ امریکہ جیسے ملک میں سی آئی اے ، پینٹاگان اور کانگریس کے درمیان کئی پالیسیوں پر اختلافات ہوتے ہیں مگر کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ امریکہ کے قومی سلامتی کے اداروں کی بنائی پالیسی پر حاوی ہو سکے۔ ملکی سلامتی کے اداروں کو اپنی اصلاح کرنے کا پیغام دینا ہر ذی شعور پاکستانی کا حق ہے مگر تو اتر کے ساتھ گندی اور غلیظ مہم چلانا پاکستان کو کمزور کرنے کے مترادف ہے ۔

    ملکی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالیں ،جھوٹ ، فریب اور سازشوں کے انبار نظر آئیں گے۔ ملکی سیاستدانوں کا روز مرہ افوا ہ پھیلانا معمول بن چکا ہے ۔ عام آدمی اپنے بنیادی مسائل کی تلاش میں سرگرداں ہے، اب نوبت یہاں تک آچکی ہے کہ سفید پوش لوگ بھی مانگنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب سیاسی قائدین اور انکے حواری مخصوص نشستوں کے لئے نبرد آزما ہیں۔ انہیں بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ اور قیمتوں کا احساس ہی نہیں۔ یہ قومی سیاسی رہنما ہو ہی نہیں سکتے۔ انہیں صرف اپنے مفادات عزیز ہیں۔ اپنا اقتدار عزیز ہے۔ اپنے اختیارات عزیز ہیں ۔دنیا میں جب کسی ملک کے قومی اداروں کو مفلوج کردیا جائے ۔ سیاسی شخصیات ان اداروں کو اپنا تابع بنائیں ۔ عدالتوں میں مخصوص لوگوں کو ریلیف دینا شروع ہو جائے۔ کسی بھی ریاست کے لئے خطرناک ہوتا ہے۔

  • اپنے مقاصد کو کیسے حاصل کیا  جائے؟

    اپنے مقاصد کو کیسے حاصل کیا جائے؟

    بڑے اور چھوٹے، دونوں طرح کے مقاصد کا تعین اور حصول ایک پرمسرت زندگی کے لیے انتہائی اہم ہے۔ ارسطو نے 2000 سال پہلے مشہور کہا تھا، "اچھی طرح شروع کیا گیا کام نصف مکمل ہے۔” مقاصد ہمیں سمت، مقصد اور مصروفیت فراہم کرتے ہیں، جو ہماری خوشی میں نمایاں حصہ ڈالتے ہیں۔ اپنے مقاصد کی طرف سفر مشکل ہو سکتا ہے، لیکن یہی کوشش ہماری زندگیوں کو بھرپور بناتی ہے۔کسی ایسی چیز کی شناخت کر کے شروع کریں جسے آپ واقعی حاصل کرنا چاہتے ہیں، چاہے وہ بڑی ہو یا چھوٹی۔

    اہم بات یہ ہے کہ یہ ایسی چیز ہونی چاہیے جو آپ کو پرجوش کرے اور جسے آپ اس کی خاطر حاصل کرنا چاہتے ہوں، نہ کہ بیرونی توثیق کے لیے۔ اپنے مقاصد کو لکھنا انہیں حاصل کرنے کے لیے آپ کے عزم کو مضبوط بناتا ہے۔ واضح طور پر بیان کریں کہ آپ کامیابی کو کیسے پہچانیں گے اور اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ایک ٹائم لائن مقرر کریں۔ بڑے، زیادہ مبہم مقاصد کو مخصوص، چھوٹے مراحل میں تقسیم کریں۔ مثال کے طور پر، اگر آپ کا مقصد "صحت مند ہونا” ہے، تو آپ ایک چھوٹا مقصد "باقاعدگی سے دوڑنا” یا "پارک کے چکر 20 منٹ میں بغیر رکے لگانا” مقرر کر سکتے ہیں۔ ان چھوٹے مقاصد کو بھی لکھیں اور ان کے لیے بھی مقررہ تاریخیں طے کریں۔ یہ طریقہ نہ صرف بڑے مقصد کو زیادہ قابل حصول بناتا ہے بلکہ ہر چھوٹی کامیابی پر خوشی کا احساس بھی دیتا ہے۔

    اپنے مقصد کی طرف آپ کا پہلا قدم تحقیق پر مشتمل ہو سکتا ہے، جیسے آن لائن معلومات تلاش کرنا، جاننے والوں سے مشورہ لینا، یا لائبریری میں متعلقہ کتابیں تلاش کرنا۔ اگلے مراحل کی بھی اسی طرح منصوبہ بندی کریں۔مقاصد کا حصول بعض اوقات مشکل اور مایوس کن ہو سکتا ہے، جس کے لیے استقامت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر کوئی خاص مرحلہ کام نہیں کر رہا، تو متبادل طریقوں پر غور کریں جو آپ کو آگے بڑھائیں، چاہے وہ تھوڑا سا ہی کیوں نہ ہو۔ دوسروں سے مشورہ لیں، کیونکہ وہ نئے نقطہ نظر پیش کر سکتے ہیں۔ اگر آپ پھنس جاتے ہیں، تو وقفہ لیں اور اپنے ابتدائی مقصد پر دوبارہ غور کریں۔

    اگر ضروری ہو تو اس میں تبدیلی کریں اور اگلے چھوٹے قدم کے بارے میں سوچیں۔اپنے مقاصد کی طرف کام کرنا ایک متحرک عمل ہے، اور لچک پذیری ضروری ہے۔ مقاصد کو توڑ کر، احتیاط سے منصوبہ بندی کر کے، اور لچک دار رہ کر، ہم اپنی کامیابی کے امکانات اور اپنی مجموعی خوشی کو بڑھاتے ہیں۔

  • غیراخلاقی گفتگو،معاشرہ کہاں‌جا رہا؟ذمہ دار کون.تجزیہ:شہزاد قریشی

    غیراخلاقی گفتگو،معاشرہ کہاں‌جا رہا؟ذمہ دار کون.تجزیہ:شہزاد قریشی

    چیئر مین اسلامی نظریاتی کونسل نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر جاری نکاح ، طلاق ،عدت پر جاری مسائل قرآن و سنت سے ماخوذ پر شرعی حدود قیود ہیں،اس پر بحث کرنے سے منع کیا ہے۔ بلاشبہ چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل نے درست کہاہے ۔ افسوس ہم اسلامی ملک کے دعویدار ہیں ،ہم اپنی آنے والی نوجوان نسل کو کیا سبق دے رہے ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا ، پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیاپر اس طرح کے بیانات پرکیا کبھی کسی نے سوچا ہے ،معاشرے کی نوجوان بچیوں اور بچوں کو کیا سبق پڑھا رہے ہیں؟ یہ عین شرعی مسائل ہیں ۔ ان شرعی مسائل کے بارے میں مباحثہ مناسب نہیں اس طرح کی بحث سے معاشرے پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ عمر سیدہ سیاستدانوں ،بیورو کریٹ ، دانشور اور دیگر سے یہی التجا کی جا سکتی ہے کہ ایک اسلامی معاشرے میں اس طرح کی بحث کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ معاشرے میں اخلاقی جرائم میں اضافہ ہوتا ہے معاشرہ ہرلحاظ سے زوال پذیر ہوتا ہے۔ افسوس صد افسوس اس طرح کی بحث سے بے حیائی کو فروغ دینے کے مترادف ہے ۔ حد ہو گئی کہ سینکڑوں علمائے دین ، مذہبی جماعتیں اس بے حیائی کو روکنے کے لئے کوئی کردار ادا نہیں کر رہی۔ یاد رکھیئے فرمان الٰہی اور فرمان نبوی کو اپنی مرضی ،اپنی طبیعت کے مطابق ڈھالنے کا انجام بہت بُرا ہوتا ہے۔ انسان اللہ کو دھوکہ دینے میں کامیاب ہو ہی نہیں سکتا۔ دینی حلقوں کے اسٹیج سے فرضی کہانیاں بنانے والوں نے کبھی سوچا کہ ہم اس طرح کی غیر اخلاقی گفتگو جو سوشل میڈیا ، الیکٹرانک میڈیا ،پرنٹ میڈیا کی زینت بن رہی ہے اس کے اثرات معاشرے پر کیا ہونگے؟

    پارلیمنٹ ہائوس میں بیٹھے اپنی طاقت پر اترانے والوں نے کبھی اس بارے میں سوچا ہے ؟ معاشرے کو سدھارنے کی بجائے ہم معاشرے کو کدھر لے کر جا رہے ہیں؟ کیا ایک اسلامی معاشرے اورانسانیت کو پامال نہیں کررہے ۔یاد رکھیے مرنے کے بعد حساب دینا ہے ۔حساب لینے والا لے گا ۔ اپنے دل پر ہاتھ کر غور کریں کیا ہم حد کراس نہیں کررہے ۔ ایک اسلامی معاشرے میں اس طرح کی غیر اخلاقی گفتگو معاشرے کے نوجوانوں پرکیا اثرات مرتب کرتی ہے۔معاشی لحاظ سے قوم پہلے ہی زوال پذیر ہے۔ خدارا اخلاقی زوال سے قوم کو بچا لیجئے۔

  • وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف کے عوامی معیار زندگی بہتر بنانے کیلئے اقدامات

    وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف کے عوامی معیار زندگی بہتر بنانے کیلئے اقدامات

    وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف کے عوامی معیار زندگی بہتر بنانے کیلئے اقدامات
    تحریر!چوہدری خالد رسول انفارمیشن آفیسر ڈیرہ غازی خان

    عوامی خدمت کا جذبہ انسان کو عروج تک پہنچا دیتا ہے،دور حاضر میں عوامی خدمت کی بدولت لوگوں کی توجہ اور ہمدردیاں حاصل کی جاسکتیں ہیں،ان گنت مسائل کے گرداب میں مبتلا ہر فرد کسی نہ کسی ریلیف کا منتظر رہتا ہے،ظلم وستم، مہنگائی،چھیناجھپٹی،بے روزگاری،ہراسمنٹ،بے راہ روی،بدعنوانی،شتر بے مہار مسائل کے اس دور میں کسی طرف سے بھی ریلیف کا آنا تازہ ہوا کے جھونکے کے مترادف ہوتا ہے۔

    وطن عزیزپاکستان کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب کی بات کی جائے جہاں پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت ہے ، اس صوبہ کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ یہاں صوبہ کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف براجمان ہیں۔وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی صوبائی حکومت اپنے صوبہ کی عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کیلئے دن رات کوشاں ہیں،انقلابی اقدامات کی بدولت وہ شہرت کی بلندیوں تک پہنچ چکی ہیں۔ زندگی کا کوئی ایسا فیلڈ نہیں ہے جس میں وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے اصلاحاتی پیکج متعارف نہ کروایا ہو۔صوبہ کی عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی، گڈگورنینس،اداروں کی کارکردگی جانچنے کا معیار،میگا ترقیاتی منصوبے،اربوں کے اصلاحاتی پیکجز سمیت دیگر اقدامات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ وہ عوامی خدمت میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتیں۔آج ہم وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کے اقدامات کا تذکرہ کرینگے۔

    موسمی تغیرات کی بات کی جائے تو سموگ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہے،جس کے خاتمے کیلئے وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف نے سموگ فری پنجاب وژن کے قانون اور ضابطوں پر سختی سے عمل درآمد کرانے کا حکم دیا ہے،حکومت کے پہلے تین ماہ میں تمام شعبوں کو سہولیات، تکنیکی معاونت،آلات اور ٹیکنالوجی کی فراہمی کے اقدامات پر توجہ مرکوز رہی ہے،اب اگلے تین ماہ میں صنعت،زراعت،ٹریفک سمیت دیگر شعبوں میں ماحولیاتی تحفظ کے قانون اور ضابطوں پر عملدرآمد کرایا جارہا ہے،ماحولیاتی قانون کی خلاف ورزیوں پر جرمانے،سزائیں اور گرفتاریاں ہونگی،”نو پلاسٹک” پر مکمل پابندی کا ہدف پورا کیا جائیگا ،

    وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف خود تمام کی نگرانی کررہی ہیں،صوبہ میں مونجی اور دیگر فصلوں کی باقیات جلانے،صنعتوں سے زہریلے دھوئیں،آبی گزرگاہوں میں زہریلے کیمیائی مادوں کے اخراج پر سخت کارروائی ہوگی،سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب بھی انسداد سموگ کے تمام پراسس میں پیش پیش ہیں،ان کا کہنا ہے کہ سموگ کے عذاب سے نجات کیلئے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا،عوام، میڈیا اور معاشرے کے تمام طبقات کی مدد سے ہی ہماری فضا زہریلے دھوئیں اور جان لیوا بیماریوں سے پاک ہوگی،عوام کی مدد سے ہی اب تک کامیابیاں ملی ہیں اور آئندہ بھی ملیں گی۔

    وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف کے عوام کی آسانی کیلئے”دستک”پروگرام کے بدولت صوبہ بھر میں نمائندوں کی رجسٹریشن شروع ہوچکی ہے،اس پروگرام سے پنجاب بھر کے لاکھوں نوجوانوں کیلئے باعزت روزگار کے مواقع پیدا ہونگے،پروگرام کی سروسز 10سے بتدریج بڑھا کر65 تک کرنے پر کام جاری ہے،وزیر اعلی مریم نواز شریف کے دستک پروگرام سے نہ صرف سروسز گھر بیٹھے ملیں گی بلکہ کرپشن اور استحصال کا خاتمہ ہوگا، دستک نمائندوں کی اہلیت کیلئے متعلقہ پولیس سٹیشن سے کلیرنس سرٹیفکیٹ،ذاتی موٹر سائیکل اور لائسنس کا ہونا لازمی ہے،وزیر اعلیٰ پنجاب کا کہنا کہ اس پروگرام کا دائرہ کار بتدریج تمام اضلاع تک بڑھائیں گے،عوام کو دفاتر کے چکر کاٹنے کی بجائے گھر بیٹھے بٹھائے تمام سروسز میسر ہونگی،پنجاب ڈیجیٹلائزیشن کے انقلابی دور میں داخل ہوچکاہے،انفارمیشن ٹیکنالوجی،آرٹیفشل انٹیلی جنس سے عوام کی زندگیوں میں بھر پور آسانیاں لارے ہیں۔

    حکومت پنجاب نے صوبہ بھر کے مختلف ماڈل بازاروں سے مفت ہوم ڈلیوری شروع کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے جس کی وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے منظوری دیدی ہے،لوگوں کو ماڈل بازاروں سے آن لائن آرڈر کیلئے موبائل ایپ لانچ کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے،وزیراعلی مریم نوازشریف نے ماڈل بازاروں کو گرین پنجاب سولر ماڈل میں منتقل کرنیکا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہر ضلع میں ایک سال کے اندر ماڈل بازار قائم کیا جائے،ان بازاروں میں مقررہ نرخ سے کم پر سبزیاں اور پھل کی فروخت کئے جائیں،بازاروں میں اوزان و پیمائش کی مانیٹرنگ کی جائے،ماڈل بازار عام آدمی کیلئے ہیں،انہیں ہر صورت میں اچھی چیز ملنی چاہیئے۔

    ملک بھر کی طرح پنجاب میں امسال زیادہ بارشوں سے وسیع پیمانے پر سیلاب کی پیش گوئی ہے،وزیر اعلیٰ مریم نواز نے حفظ ما تقدم کے طور پر پنجاب بھر کے ندی نالوں اور ڈرین کی بھرپور صفائی کا حکم دیتے ہوئے اضلاع سے ڈیلی رپورٹ طلب کی ہے،سیلاب سے ممکنہ طور پر متاثرہ علاقوں میں بروقت عوام کے انخلاء،رودکوہیوں کے نالوں کے راستوں سے تجاوزات اور رکاوٹیں ہٹانے،انسانی جانوں کے ساتھ ساتھ مال مویشی کی منتقلی،ندی نالوں کی مانیٹرنگ،ارلی فلڈ وارننگ سسٹم سے مسلسل اٹیچ رہنے،متاثرہ دیہاتوں کے لوگوں کیلئے قیام و طعام کا انتظام،سیلاب کی بروقت اور مستند اطلاعات کی ترسیل یقینی بنانے کے احکامات بھی دیئے گئے ہیں۔

    وزیر اعلی پنجاب نے ”پنجاب کے پہلے انقلابی ایجوکیشن پروگرام ”پنجاب سکول ری آرگنائزیشن پروگرام کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے جس کے تحت پنجاب میں پہلا پبلک سیکٹر مونٹیسری پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،وزیراعلی پنجاب نے سرکاری سکولوں کے ایک ہزار گراؤنڈز کی 6ماہ میں تعمیر وبحالی کا ہدف مقرر کیا ہے،سرکاری سکولوں میں ہفتہ وار اورماہانہ” مقابلے”ہونگے،جنوبی پنجاب کے پسماندہ اضلاع راجن پور،لیہ،بھکر میں سی ایم پنجاب سکول نیوٹریشن پروگرام پائلٹ پراجیکٹ کا ماہ اگست سے آغاز ہوگا،وزیر اعلیٰ نے 14ہزار اے ای اوز اور ایس ایس ای کی مستقلی کا پلان طلب کرتے ہوئے پنجاب بھر میں سہولیات،ضروریات کے تعین کرنے کیلئے سکولوں کی جامع میپنگ کرنے کی ہدایت بھی کی ہے،گرین سکول پروگرام کے تحت ہر طالبعلم کم ازکم ایک پودا لگائے گا جس کی ڈیجیٹل میپنگ کی جائے گی،سرکاری سکولوں میں سپوکن انگلش،کریکٹر بلڈنگ کلاسز شروع کرنے کی تجاویز پر بھی غور کیا گیا ہے۔

    مریم نوازشریف نے پنجاب بھر میں 603نان فنکشنل سکولوں کی بحالی،سکولوں کی مانیٹرنگ کیلئے ارکان صوبائی اسمبلی کی ڈیوٹیاں تفویض کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔اساتذہ کیلئے ای ٹرانسفر آسان اور قابل عمل بنانے،میٹرک کی سطح پر ٹیکنالوجی کے 12کورسز متعارف کرانے،کم لاگت میں کلاس روم،آئی ٹی لیب،ایس ایم سی کوممکن بنانے،سکول مینجمنٹ کونسلز کو فعال اور موثر بنانے،سرکاری سکولوں میں ٹیچر میٹنگ، سہ ماہی سٹوڈنٹ رپورٹ کارڈ کیاجراء پر اتفاق کیا گیا ہے،وزیراعلی مریم نوازشریف نے سکول سسٹم کی ری ویمپنگ کیلئے جامع سکول ایجوکیشن پالیسی تیار کرنے کی ہدایت کی ہے،علاوہ ازیں مریم نواز شریف نے پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ،قائد اعظم اکیڈمی آف ایجوکیشنل ڈویلپمنٹ اور پنجاب ایگزیمینیشن کمیشن کو یکجا کر کے پیکٹا (PECTAA) قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، ورچوئل ریلیٹی روم،ٹیک روم،آرٹ روم اور دیگر ایجوکیشن کیلئے فنڈز کی کمی نہیں آنے دی جائیگی،ہر ڈسٹرکٹ میں ارلی چائلڈ ہڈ ایجوکیشن سنٹر آف ایکسیلینس بھی قائم ہوگا۔

    وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے عیدالاضحی پر ڈیرہ غازیخان کی عوام کیلئے بڑا تحفہ بھی دیا،انہوں نے ڈیرہ غازی خان ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کو کروڑوں روپے مالیت کی جدیدمشینری فراہم کی جس سے وزیراعلی پنجاب کے ویژن کے تحت اب شہروں کیساتھ ساتھ دیہاتوں کو بھی صاف ستھرا بنایا جارہا ہے،ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کو جدید مشینری کی فراہمی کاباقاعدہ افتتاح آرٹس کونسل میں کیا گیا۔ڈبلیو ایم سی کے سٹاک میں3کمپیکٹرز،ایک آرم رولر،100ہینڈ کارٹس اور400کنٹینرز کا اضافہ ہوا ہے۔کمشنر ڈاکٹر ناصر محمود بشیر اور ڈپٹی کمشنر مہر شاہد زمان لک نے جدید مشینری کی ہینڈنگ اوور کا افتتاح کیا۔

    محرم الحرام کی آمد کے پیش نظر ڈیرہ غازیخان میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ویژن قیام امن کیلئے اقدامات،روٹس کی نگرانی،سکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی،سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب،صفائی وستھرائی سمیت دیگر انتظامات کو ممکن بنایا جارہا ہے۔

    علاوہ ازیں وزیر اعلی مریم نواز شریف نے پنجاب ہونہارمیرٹ سکالر شپ پروگرام کی منظوری بھی دے دی ہے صوبہ کے ہونہار طلباؤطالبات کیلئے سکالر شپ کی تعداد چار ہزارسے بڑھا کر پچیس ہزار اور لیپ ٹاپ سکیم کے فوری اجراء کی ہدایات بھی دی ہیں ان کا کہنا ہے کہ سرکاری اور آٹھ منتخب پرائیویٹ یونیورسٹیوں سے بی ایس کرنے والے طلبہ کی سو فیصد فیس سکالرشپ سے ادا ہو گی .

    بلاشبہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا ویژن ہے کہ صوبے کا ہر علاقہ ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو،عوام کا معیار زندگی بلند ہو،ریلیف کے کاموں میں بہتری دیکھنے کو ملے،ترقیاتی کاموں میں عوامی مفادات کو اہمیت ملے،ہر فیلڈ میں عوامی رائے کا احترام کیا جائے،پبلک دفاتر لوگوں کو ریلیف فراہمی میں آگے ہوں۔

    ڈیرہ غازی خان میں کمشنر ڈاکٹر ناصر محمود بشیر ،ڈپٹی کمشنر مہر شاہد زمان لک اور ٹیم پوری طرح وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کے احکامات پر من وعن عمل درآمد کو یقینی بنا رہے ہیں، چاروں صوبوں کے سنگم پر واقع ہونے کی وجہ سے اس ضلع میں چیک پوسٹوں پر حفاظتی انتظامات سمیت سکیورٹی کو یقینی بنایا گیا ہے،انتظامیہ دن رات الرٹ ہے،ان اقدامات کی بدولت ڈیرہ غازیخان پرامن روایات کو بدستور پروان چڑھا رہا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ترقی وخوشحالی کے اس سفر میں حکومتی اقدامات کو ہر سطح پر ضرور سراہا جائے۔

  • کوئی مانے یا نہ مانے پی ٹی آئی میں پھوٹ پڑ چکی:تجزیہ ،شہزاد قریشی

    کوئی مانے یا نہ مانے پی ٹی آئی میں پھوٹ پڑ چکی:تجزیہ ،شہزاد قریشی

    کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے تحریک انصاف کے اندر افراتفری اور غیر یقینی صورتحال پیدا ہو چکی ہے، تحریک انصاف میں تقسیم در تقسیم ہونے کے اشارے مل رہے ہیں، بھٹو جب جیل میں تھے تو بڑی بڑی قدآور شخصیات نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا تھا،پیپلزپارٹی سے علیحدگی اختیار کر لی تھی کچھ ایسی صورتحال سے تحریک انصاف گزر رہی ہے،تحریک انصاف کا دور حکومت کوئی حیران کن نہیں تھا تبدیلی کا نعرہ اور احتساب کے گرد تحریک انصاف کا دور حکومت صرف اور صرف نوازشریف کے گرد گھومتا رہا ،نوازشریف ان کی بیٹی مریم نوازان کے سمدھی سینیٹر اسحاق ڈار اور دیگر کو کچلا گیا یہ احتساب نہیں بلکہ صرف ایک خاندان کے خلاف انتقام تھا،سینیٹر اسحاق ڈار کے تو ذاتی گھر پر قبضہ کر لیا گیا تحریک انصاف تسلیم کرے کہ ان کے دور حکومت میں عام آدمی کی زندگی قابل رحم ہو چکی تھی احتساب اور انتقام کے سوا کچھ نظر نہیں آتا تھا،

    تحریک انصاف کے دورمیں سفارتی سطح پر بری طرح ناکامی ہوئی، کشمیری مسلمانوں پر بھارتی ظلم کی ایسی ایسی کہانیاں ہیں جن کو سن کر کلیجہ منہ کو آتا ہے ،تحریک انصاف کے دور میں کشمیری بدترین لاک ڈائون کا شکار رہے ہیں عمران خان بھارت پر دبائو ڈلوانے میں ناکام رہے، کوئی بھی حکومت اگر عام آدمی کو زندہ رہنے کی ضمانت نہیں دے سکتی تو اسے حکومت نہیں کہا جا سکتا، آج کی مخلوط حکومت نے بھی بجٹ میں عادمی کے لئے کوئی پلان نہیں دیا غریب آدمی کے مسائل پر مٹی ڈال دی گئی ہے،گزشتہ 75 سالوں میں قوم اور پاکستان بطور ریاست وعدوں اور تقریروں پر زندہ ہیں محض سبز باغ ہیں جن کے برگ و بار پر دھول اور سیاہی کی ایک موٹی تہہ جمتے جمتے نظر کا دھوکہ بن چکی ہے راہزن رہنمائوں کا بہروپ دھار چکے ہیں،انصاف کا لفظ فقط سننے کی حد تک ہے جب کسی معاشرے میں انصاف اٹھ جاتا ہے وہ معاشرہ ایک مردہ ڈھانچے کی مثال ہوتا ہے، سیاست کی سرکس میں ملک و قوم کو ایک سے بڑھ کر ایک مداری نصیب ہوا ان مداریوں کی وجہ سے آج ملک و قو م کو یہ دن دیکھنا نصیب ہوا کہ امریکی کانگریس میں وطن عزیز کے نظام پر تحریک پیش ہوئی بلاشبہ ہم ترقی پذیر ہیں مگر کسی طاقتور ملک کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ہماری آزاد ریاست کیخلاف تحریکیں پاس کرتا پھرے،یہ دن بھی سیاسی مداریوں نے ہی قوم کو دکھایا۔ ملک کے عزت، وقار کا کچھ تو خیال کریں۔

  • غزہ پالیسی ، امریکہ اسرائیل سے علیحدگی اختیار کر رہا ؟

    غزہ پالیسی ، امریکہ اسرائیل سے علیحدگی اختیار کر رہا ؟

    امریکہ اور یورپی یونین کے تعاون سے اسرائیل کے غزہ پر مسلسل اور تباہ کن حملوں کے آٹھ ماہ گزرنے کےبعد، امریکی وزیر خارجہ نے ایک بیان دیتے ہوئے اعلان کیا کہ اسرائیل نے "شمالی کواڈرینٹ میں اپنی خودمختاری کو مؤثر طریقے سے کھو دیا ہے۔” انتھونی بلنکن نے لبنان کے ساتھ اسرائیل کی شمالی سرحد کے قریب شہروں کا حوالہ دیا، جہاں حزب اللہ کے راکٹ حملوں کی وجہ سے تقریباً ایک لاکھ افراد نے نقل مکانی ہے

    گزشتہ سات ماہ کے دوران امریکا نے اسرائیل پر مسلسل دباؤ بڑھایا ۔امریکہ نے نجی اور عوامی سطح پر اسرائیل کی مخالفت کی ، امریکہ نے خود کو اس قتل عام سے دور رکھا ہے جو عالمی غصے کو جنم دے رہا ہے۔ امریکہ نے اقوام متحدہ میں تنقیدی قراردادوں کو ویٹو کرنا بھی بند کر دیا ، اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاروں پر پابندیاں لگا دی ہیں،تاہم، اسرائیل کو ہتھیاروں اور گولہ بارود کا سب سے بڑا فراہم کنندہ ہونے کے ناطے، امریکہ خطے میں اسرائیل کے فوجی فائدے کو یقینی بنانے کے لیے سالانہ 3.8 بلین ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرتا ہے۔ مئی 2024 میں، امریکی کانگریس نے 14 بلین ڈالر کی اضافی فوجی امداد دینے کا بل منظور کیا۔ تاہم، بائیڈن انتظامیہ نے پہلی بار اسرائیل کو گولہ بارود کی ترسیل میں تاخیر کی ہے، اسرائیل کو ہزاروں گولہ بارود اور بموں کی ترسیل روک دی گئی ہے

    امریکہ اب اسرائیل پر اپنا سب سے زیادہ اثر و رسوخ کیوں استعمال کر رہا ہے؟
    سب سے پہلے، امریکہ اور بہت سے مغربی ممالک کا خیال ہے کہ رفح میں حماس پر ایک مربوط حملے کے نتیجے میں بڑی شہری ہلاکتیں ہوں گی اور انسانی تباہی ہو گی۔
    دوم، امریکا کا مقصد اسرائیل کی کابینہ پر حماس کے ساتھ جنگ ​​بندی کے معاہدے کی حمایت کے لیے دباؤ ڈالنا ہے۔ لیکن حماس کے ساتھ ہمہ جہت تصادم کا مطلب کسی بھی قسم کی معاہدے کی کوششوں کو پیچھے دھکیلنا یقینی بنانا ہے۔
    آخر میں،امریکہ کی اندرونی سیاست ایک کردار ادا کرتی ہے۔ صدر بائیڈن کو ڈیموکریٹک حامیوں کی طرف سے اسرائیل کے لیے اپنی حمایت کو معتدل کرنے کے لیے کافی دباؤ کا سامنا ہے، وہ ووٹرز جو مہذب شہری ہونے کے ناطے فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کی وجہ سے ناراض ہیں۔ بہر حال، بائیڈن امریکی ووٹروں کی خواہش کو مکمل طور پر نظر انداز کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا،

    اگر امریکہ اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت میں تاخیر کرتا ہے تو برطانیہ سمیت دیگر ممالک کو بھی ایسا کرنے کے لیے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اگرچہ اس طرح کی پابندیاں عملی سے زیادہ علامتی ہوں گی، لیکن یہ اسرائیل کی سفارتی تنہائی میں حصہ ڈالیں گی۔
    امریکہ سے علیحدگی کے بعد اسرائیل خود کو سفارتی طور پر الگ تھلگ پائے گا.

  • عزم استحکام کی مخالفت کرنیوالے کس کی خدمت کر رہے ؟تجزیہ ،شہزاد قریشی

    عزم استحکام کی مخالفت کرنیوالے کس کی خدمت کر رہے ؟تجزیہ ،شہزاد قریشی

    ملکی و قومی سلامتی کے پیش نظر جب سے عزم استحکام کا ذکر ہوا ہمارے کچھ سیاستدانوں نے اپنے ہی قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف زہر اگلنا شروع کردیا ہے جسے کسی بھی زاویئے سے درست قرار نہیں دیا جا سکتا تاہم سینیٹر عرفان صدیقی کے مطابق سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے آپریشن عزم استحکام کی مکمل حمایت کا اعلان کردیا ہے، ملک و قوم کی سلامتی کے حوالے سے نوازشریف کے فیصلہ کو درست قرار دیا جا سکتا ہے دوسری طرف سوشل میڈیا اور کچھ دانشوروں کو بھی اس آپریشن عزم استحکام پر تنقید کا موقع مل گیا ہے ،دنیا بھرکے ممالک کے اپنے داخلی و خارجی ضوابط ہوتے ہیں جن کو مدنظر رکھتے ہوئے وہاں کا میڈیا ضوابط کار کے مطابق عمل کرتا ہے مگر ہمارا میڈیا معاشرتی قانونی و اخلاقی حدود پھلانگ کر بریکنگ نیوز کی دوڑ میں ملکی سلامتی کو پس پشت ڈال چکا ہے سلامتی امور اور خارجہ سطح کے معاملات اس قدر حساس ہوتے ہیں کہ اس موضوع پر بولنے اور لکھنے سے قبل سو بار سوچنا پڑتا ہے ملکی و قومی سلامتی کو مدنظر رکھ کر بولنا اور لکھنا پڑتا ہے، ملک دشمن طاقتوں نے پاکستان کو چاروں اطراف سے ہر محاذ پر گھیر رکھا ہے ایسے نازک موقع پر پاک افواج اور جملہ اداروں کی کردار کشی کرنے والے کون سی اور کس کی خدمات سرانجام دے رہے ہیں؟

    وطن عزیز میں گزشتہ چند ماہ سے دہشت گردوں کے حملے بڑھتے جا رہے ہیں بالخصوص دہشت گردوں کے نشانے پر دو صوبے ہیں بلوچستان اور کے پی کی سرحدیں افغانستان سے ملتی ہیں دہشت گرد حملہ کر کے افغانستان چلے جاتے ہیں افغانستان میں ان کی پشت پناہی بھارت کی خفیہ ایجنسی راکرتی ہے پاکستان میں چین کئی اہم منصوبوں پر کام کر رہا ہے سب سے بڑا منصوبہ سی پیک ہے جس پر کبھی کام رک جاتا ہے اور کبھی شروع ہو جاتا ہے سی پیک منصوبہ پاکستان کے لئے بڑی اہمیت رکھتا ہے چین کے بعد کئی ممالک سرمایہ کاری کرنے پر رضامند ہیں 2040ء میں چین سی پیک کےتحت ٹرین کا نیا نظام قائم کرے گا، ملک دشمنوں کو یہ منصوبہ ایک آنکھ نہیں بھاتا پاک فوج اور جملہ ادارے ہر قیمت پر اس منصوبے کا دفاع کرنے کے پابند ہیں چینی انجینئروں اور ماہرین کا دفاع بھی پاکستان نے کرنا ہے، اس منصوبے سے وطن عزیز کی معیشت مستحکم ہوگی تو عوام خوشحال ہونگے لہٰذا ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کے لئے آپریشن عزم استحکام ہی آپشن ہے کوئی دوسرا راستہ نہیں، ملک و قوم کی خدمت کا نعرہ لگانے والے سیاستدان موجودہ حالات جس سے پاکستان اور عوام دونوں سفر کر رہے ہیں آپریشن عزم استحکام کی مخالفت کر کے وہ کس کی ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں؟

  • مظہر عباس،  صحافی و کالم نگار

    مظہر عباس، صحافی و کالم نگار

    6 جولائی 1958: یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بین الاقوامی شہرت یافتہ پاکستانی صحافی ، کالم نویس ، تجزیہ و تبصرہ نگار فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کے سابق جنرل سیکریٹیری اور کراچی پریس کلب کے سابق سیکریٹری مظہر عباس 6 جولائی 1958 میں حیدر آباد سندھ میں پیدا ہوئے انہوں نے حیدر آباد اور کراچی تعلیم حاصل کی ۔ انہوں نے زمانہ طالب علمی سے ہی لکھنا شروع کر دیا تھا جس کی ابتدا انہوں نے روزنامہ نوائے وقت سے کی اس کے بعد کراچی کے ایک مشہور ایوننگ اخبار دی اسٹار میں کام شروع کیا۔ تعلیم سے فراغت کے بعد انہوں نے 1982 میں باضابطہ طور پر صحافت کا پیشہ اختیار کر لیا وہ 6 سال کراچی میں A F P کے بیورو چیف 2 سال ایکسپریس نیوز کے ڈائریکٹر افیئرز رہے ۔ مظہر عباس کافی عرصہ ڈان گروپ میں کالم اورآرٹیکل لکھتے رہے انہوں نے دی نیوز ، ایکسپریس اردو، ایکسپریس ٹریبون، ہم ٹی وی، پی ٹی وی ،دی فرائیڈے ٹائمز ، ہارلڈ نیوز لائن ، خلیج ٹائمز اور انڈیا کے آئوٹ لک میں بھی کام کیا۔ وہ 2013 سے جنگ اور جیو سے وابستہ ہیں اس کے علاوہ وہ مختلف نیوز چینلز کے ٹاک شوز میں تبصرے اور تجزیئے پیش کرتے رہتے ہیں ۔

    2002 میں انہوں نے وال اسٹریٹ جرنل کے سائوتھ ایشیا کے بیورو چیف امریکی صحافی ڈینیل پرل کے اغوا اور قتل کی خبر سے دنیا کو آگاہ کیا۔ وہ پی ٹی وی سے بھی وابستہ رہے ۔ مظہر عباس کو 2007 میں بہترین صحافت کی خدمات کے عوض انٹر نیشنل پریس فار فریڈم کے انعام سےنوازا گیا یہ ایوارڈ بین الاقوامی سطح کے 5 صحافیوں کو دیا گیا جن میں مظہر عباس بھی شامل ہیں یہ انعام ان صحافیوں کو دیا جاتا ہے جنہوں نے آزادی صحافت کو برقرار رکھنے کیلئے حملوں ،اغوا،دھمکیوں اور قید و بند کا سامنا کیا ۔2009 میں انہیں Missouri, Medal of Honer کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔

    اپنی 40 سالہ صحافت میں انہوں نے 5000 سے زائد کالم اور مضامین وغیرہ لکھے ہیں جبکہ 400 سے زائد ٹی وی شوز کا حصہ بنے۔ مظہر عباس کے 3 بھائی ہیں، ظفر عباس ڈان کے مدیر ہیں اطہر عباس سابق ڈی جی آئی ایس پی آر اور اظہر عباس جیو نیوز سے وابستہ ہیں ۔ مظہر عباس کی اہلیہ محترمہ ارم عباس کا 24 دسمبر 2020 میں کراچی میں انتقال ہوا ۔اولاد میں ان کی 2 بیٹیاں ہیں ۔ مظہر عباس اس وقت کراچی میں مقیم ہیں ۔

  • غریب کش بجٹ،مہنگائی ،عوام کہاں جائے؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    غریب کش بجٹ،مہنگائی ،عوام کہاں جائے؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    پی ٹی آئی کے دور حکومت سے لے کر موجودہ مخلوط حکومت تک غریب عوام مہنگائی کی وجہ سے چلا اٹھے ہیں، ان کی حکومتوں کے دور میں ان کے نمائندے ٹاک شوز میں مہنگائی کو اپنے پوائنٹ سکورنگ کے لئے استعمال کرتے ہیں، ان کی باتوں میں درد اور تکلیف نہیں ہے جس کی اذیت کا شکار عام انسان ہو رہے ہیں،مہنگائی کے وار سیاست پر براجمان دولت مندوں کے لئے محض بحث برائے بحث کے دلائل ہیں، عام آدمی مہنگائی کے تابڑ توڑ حملوں سے زخمی ہو رہے ان کے زخموں پر مرہم رکھنے والا کوئی نہیں، عام آدمی کی زندگی پہلے ہی اجیرن تھی اب بجلی کے بل دیکھ کر اذیت ناک عذاب میں کراہنے لگی ہے ،موجودہ بجٹ کوغریب کش بجٹ قرار دیا جا سکتا ہے غریب دوست بجٹ قرار نہیں دیا جا سکتا،موجودہ بجٹ محض اعداد و شمار کے ہیرپھیر اور نئے ٹیکسوں کے گورکھ دھندہ کے سواکچھ نہیں،

    سیاسی مخالفین کا مقابلہ کرنےکے لئے سینیٹر عرفان صدیقی اور سینیٹر پرویز رشید پارٹی متحرک
    پی ٹی آئی کے دور حکومت میں بھی عام آدمی کا یہی حال تھا اور آج کی مخلوط حکومت میں وہی پرانا جال ہے کھلاڑی تبدیل ہو ئے ہیں، میری عمر کے لوگوں کو اچھی طرح یاد ہوگا 1985ء میں نوازشریف نے تعمیر پاکستان کا نعرہ لگایا تھا ،پنجاب اور مرکز میں بلاتفریق عوام کی خدمت کی گئی کھیت سے منڈیوں تک سڑکوں کی تعمیر دیہات میں سرکاری سکولوں اور کالجوں کی تعمیر ترقی کے وہ سنگ میل تھے جنہوں نے عوام کی زندگی میں مثبت تبدیلی لائی، پھر نواشریف کے وزارت عظمیٰ کے دور میں ملک میں صنعتی پیداوار، نوجوانوں کو آسان قرضے ، پیلی ٹیکسی اور کسانوں کو ٹریکٹر دیئے، نوازشریف کے ہم رکاب آج کے وزیر خارجہ سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار تھے آج صوبہ پنجاب میں نوازشریف کی بیٹی نے بطور وزیراعلیٰ عوام کی حقیقی خدمت کا بیڑا اٹھارکھاہے پنجاب کی حد تک صوبے کیےعوام کے لئے بھاگ دوڑ میں مصروف نظر آرہی ہیں، سیاسی مخالفین کا مقابلہ کرنےکے لئے اس وقت سینیٹر عرفان صدیقی اور سینیٹر پرویز رشید پارٹی قیادت کے اقدامات کو عوام تک پہنچا نے اور مخالفین کے پروپیگنڈے کا مقابلہ کر رہے ہیں، مسلم لیگ ن کے نام نہاد اکابرین وزیروں،مشیروں کے جھنڈے گاڑیوں پر سجا کر عوام سے دور ہو گئے بلکہ اپنی جماعت کا دفاع کرنے سے بھی قاصر نظر آتے ہیں، نوازشریف کا ماضی حال مستقبل وطن عزیز کی ترقی کے لئے وقف ہے ان کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر ان کے بدترین مخالفین بھی اعتراف کر رہے ہیں آخر کیا مصلحت حائل ہے کہ ان کے ٹکٹ پر ایوانوں میں براجمان ہونے والے نام نہاد رہنما خاموش ہیں؟