آپریشن عزم استحکام کسی ملک کے خلاف ہے نہ بے گناہ شہریوں کے خلاف ،یہ اُن کے خلاف ہے جو پاکستان کے عام شہریوں اور پاکستان کو بطور ریاست کمزور کرنا چاہتے ہیں جو پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہیں ، پاکستان کے عوام، مسلح افواج ،پولیس اور جملہ اداروں نے بے پناہ قربانیاں دے کر دہشت گردی کا خاتمہ کیا ہے ،جبکہ بھارت پاکستان کو دہشت گرد ملک قرار دلوانے میں دنیا میں افوا ہ سازی کا کام کرتا رہا ہے، ماضی کے ان تمام واقعات کی قوم اور دنیا گواہ ہے، ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پاک فوج اور جملہ اداروں نے ملکی بقا اور سلامتی کے پیش نظر بلوچستان سے ٹی ٹی پی کی دفاعی شوریٰ کے سربراہ کو بھی گرفتار کیا ہے جس کی پشت پناہی بھارت کی خفیہ ایجنسی’’ را‘‘ کررہی ہے افغانستان میں موجود بھارتی سفارتخانہ ’’ را ‘‘ کا د فترہے گرفتار کمانڈر نےکئی سنسنی خیز انکشافات کئے ہیں، ان حالات میں کیا پاک فوج اور جملہ اداے پاکستان اور بے گناہ عوام کو ان دہشت گردوں کے حوالے کردیں ؟ اس کا واحد حل ضرب عضب کی طرز پر آپریشن عزم استحکام ہے، بلوچستان سے ٹی ٹی پی کے کمانڈر کی گرفتاری اور آپریشن عزم استحکام پر پاک فوج ا ور جملہ اداروں پر زہر افشانی محبان وطن کو افسردہ کرگئی،مولانا فضل الرحمان ، محمود خان اچکزئی اور تحریک انصاف سے بھی صبر نہ ہوا انہوں نے ملکی سلامتی کو پس پشت ڈال کر زہر افشانی شروع کردی،کیا پاک فوج اور جملہ ادارے بھارت کی خفیہ ایجنسی’’ را‘‘ اور دہشت گردوں کو کھلی چھٹی دے دیں ؟ اندھوں کو بھی نظر آرہا ہے کہ آپریشن ضرب عضب کے بعد ملکی معیشت مستحکم ہوئی تھی اور اب آپریشن عزم استحکام سے بھی ملک میں امن ہوگا اور معیشت بھی مستحکم ہوگی،حیرت ہے ہماری سیاسی جماعتوں اور پارلیمنٹ ہائوس میں موجود ایسے افراد جو اقتدار کے مزے پاکستان میں لوٹتے ہیں اور جب بات ملکی بقا اور سلامتی کی آجائے تو پاکستان دشمنوں کے حق میں آواز بلند کرتے ہیں اور اپنی ہی فوج اور جملہ اداروں پر طرح طرح کے لیبل چسپاں کرتے ہیں ملکی سلامتی کے اداروں کا وقارمجروح کرتے ہیں ان نام نہاد سیاستدانوں کو کس نام سے پکاروں فیصلہ عوام کریں ؟
Category: بلاگ
-

امریکی سازش سے امریکی غلامی کا سفر- قرارداد کی مخالفت ایک ثبوت
مخصوص سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے پارلیمان کے اراکین نے بابنگ دہل یہ اقرار کر لیا ہے کہ ان کی تمام سیاسی جدوجہد کا محور صرف اور صرف صہیونی پالیسیوں اور بھارتی لابیوں کی حمایت اور اس کے اثر و رسوخ کے ذریعے اقتدار کا حصول ہے
قومی اسمبلی میں جمعۃ المبارک کو جو قرارداد پیش کی گئی اس کے اہم نکاتوں میں سے سب سے اہم نکات امریکی کانگرس سے یہ مطالبہ بھی تھا کہ وہ فلسطین اور غزہ میں اسرائیل کے بہیمانہ مظالم، بھارتی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی اور بھارت میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف جاری ریاستی تشدد کے خلاف بھی اپنا موقف اختیار کرے اور اس کی مذمت کرے
واضح رہے کہ چند روز قبل امریکی کانگرس کے بعض اراکین کی طرف سے پیش کی گئی قرارداد میں پاکستان میں منعقدہ انتخابات کی شفافیت پر سوالات اٹھائے گئے تھے اور یہ قرارداد امریکی کانگرس سے منظور کرانے میں پاکستان دشمن قوتیں بالخصوص صیہونی اور بھارتی لابی اور مخصوص سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے بیرون ملک مقیم اراکین تھے جن کے ان دونوں لابیوں سے قریبی تعلقات ہیں اور اس سلسلے میں انہیں بانی مخصوص سیاسی جماعت کی مکمل آشیرباد حاصل ہے
افسوس ناک بات یہ ہے کہ مخصوص سیاسی جماعت کے حامیوں نے آج جس قرارداد کو پھاڑ کر ریزہ ریزہ کیا وہ قرارداد دراصل غزہ، مقبوضہ کشمیر اور بھارتی مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی مذمت میں پیش کی گئی تھی
یہاں سوال یہ ہے کہ کیا مخصوص سیاسی جماعت کا یہ رویہ واضح کرتا ہے کہ وہ صیہونی طاقتوں اور بھارتی آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے اس قرارداد کو پھاڑ رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔؟
یہاں یہ سوال بھی ذہنوں میں ابھرتا ہے کہ کیا وہ اسرائیل اور بھارت کے ساتھ کھڑے ہیں۔۔۔۔؟
افسوس ان نام نہاد مذہبی جماعتوں اور اسلام کا نعرہ بلند کرنے والی شخصیات پر بھی ہے جو آج مخصوص سیاسی جماعت کے ساتھ مل کر مظلوم مسلمانوں کے خلاف صف آرا نظر آئیں-
یہ ایک تاریخی سانحہ ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے – کیا اقتدار کی ہوس نے مخصوص سیاسی جماعت کو اندھا گونگا اور بہرا کر دیا ہے ۔۔۔۔؟
کیا ایبسولوٹلی ناٹ(Absolutely Not) کا نعرہ اب اقتدار کے حصول کے لیے ایبسولیوٹلی یس(Absolutely Yes) میں تبدیل ہو چکا ہے۔۔۔۔۔؟۔
امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی
آپریشن گولڈ سمتھ کے حوالہ سے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے ایک وی لاگ میں انکشافات کیے تھے اور کہا تھا کہ اب آپریشن گولڈ سمتھ جو ہے چڑیل کی خبر کے مطابق وہ لانج ہو گیا ہے
امریکی قرارداد پاکستان کے سیاسی حالات سے ناواقفیت پر مبنی ہے،ترجمان دفتر خارجہ
گولڈسمتھ 2.0 کے حصے کے طور پر قرارداد 901 پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش
امریکی قرارداد مسترد، وزیر خارجہ کا مقابلے میں قرارداد لانے کا اعلان
قراردار پر پاکستان نے امریکا کو اپنے تحفظات سے آگاہ کردیا ہے،ترجمان دفتر خارجہ
-

ہم زوال پذیر کیوں ، کبھی سوچا؟ تجزیہ : شہزاد قریشی
سیاسی و مذہبی جماعتیں ملکی تاریخ کا آئیے مل کر سوچیں ہم کیوں زوال پذیر ہیں ہماری معیشت کیوں سال ہا سال مستحکم نہیں ہوتی؟ اس کے اسباب کیا ہیں؟ کہاں شگاف ہے کہاں غلطیاں ہیں کون سی کل انفرادی بھی اور اجتماعی بھی ٹیڑھی ہے اور ایسا کون سا گناہ ہے سختیاں پریشانیاں ختم ہونے کو نہیں آتیں۔ کہیں ایسا تو نہیں ہم مسلمان ہونے کے دعویدار ہیں مگر اسلام کی الف پر بھی عمل نہیں کرتے؟ یاد رکھیئے پروردگار کا قانون ہے خداپاک کا قانون قرآن پاک کی صورت میں موجود ہے کہیں ہم قرآن پاک اور سیرت النبی کا مطالعہ کرنا اور اس پر عمل کرنا تو نہیں چھوڑ گئے؟ کہیں ہم موت اور اس کے بعد روز محشر میں خدا پاک کے حضور اپنے اعمال کے ساتھ کھڑا ہونا تو نہیں بھول گئے؟ دوسری جانب رخ کریں تو بابائے قوم محمد علی جناح نے مجلس قانون ساز میں اپنے پہلے خطاب میں جن قباحتوں سے باخبر کیا تھا ہم ان قباحتوں پر عمل پیرا ہیں بابائے قوم کا خطاب اچھے دنوں میں نصاب میں پڑھایا جاتا تھا اب وہ نہیں پڑھایا جاتا۔ 25کروڑ عوام کو سیاستدان اور مذہبی جماعتیں جدید ٹیکنالوجی کے دور میں بے وقوف نہیں بناسکتیں عوام کسی ایسے شخص پر اعتبار نہیں کرتے جو ریاست‘ ریاستی اداروں اور عوام کا وفادار نہ ہو اب تو پچیس کروڑ عوام کا سیاسی و مذہبی جماعتوں پر اعتماد اٹھتا ہوا نظر آرہا ہے اب تو ملک کی بے بس مجبور لاوارث اور مظلوم عوام سیاسی و مذہبی جماعتوں کو کوستے سنے گئے ہیں کہ ہمیں تو ڈوبنا ہے ڈوب جائیں گے ہمارا ایک طوفاں جب پہنچا لب ساحل تو کیا ہوگا یہ سوچو تم۔
پروردگار کے قانون سے دوری اور بابائے قوم کے فرمودات سے روگردانی ایسے میں اس کا انت اور نتیجہ کیا برآمد ہوسکتا ہے اسے جاننے کے لئے کسی عقل افلاطون کی ضرورت نہیں دیوار پر لکھا صاف نظر آرہا ہے۔
-

اپنی قوت ارادی کو مضبوط بنائیں،
اپنی قوت ارادی کو مضبوط بنائیں،
قوت ارادی کا جذبہ آپ کے ارادوں کو خود کنٹرول کے ساتھ نافذ کرنے کی صلاحیت ہے۔ یہ آپ کو خواہشات کی مزاحمت کرنے اور اپنے مقاصد پر توجہ مرکوز رکھنے کے قابل بناتا ہے۔ مثال کے طور پر، سوشل میڈیا کو اسکرول کرنے یا سوتے رہنے کی لالچ سے بچنا آپ کو مختصر اور طویل مدتی دونوں مقاصد حاصل کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ جذبہ خود نظم و ضبط، عزم اور محرک پر مبنی ہے۔ مثال کے طور پر، آپ پیسے بچانے کے لیے مہنگی سرگرمیوں کو ترک کر سکتے ہیں۔ آپ مہنگی سیر و تفریح خریدنے سے گریز کرتے ہیں کیونکہ آپ کا مقصد پیسے بچانا ہے۔
آپ کا جذبہ آپ کو اپنے مقاصد کے حصول میں مستقل اور پُرعزم بناتا ہے۔ کیا آپ نے اپنی ملازمت کھو دی ہے؟ کوئی پیارا دوست؟ کیا آپ کو اپنے گھریلو بجٹ کو سنبھالنے میں مشکل پیش آرہی ہے؟ اپنے مقصد پر نگاہ رکھتے ہوئے، آپ وہ حاصل کرنے کے لیے حکمت عملیوں پر عمل کرنے کی کوشش کریں گے جو آپ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔آپ کی خواہشات کو قابلِ پیمائی ہدف تلاش کرنے، انہیں حقیقت پسندانہ بنانے اور ان کی پیروی کرنے کی قوت ارادہ رکھنے کے بارے میں ہونا چاہیے۔ کامیابی کے امکانات بڑھانے کے لیے، ایسے سخت ہدف مت بنائیں اور نہ ہی ایک غلطی کی وجہ سے پورے دن کو بے کار سمجھنے دیں۔
تاہم، مزاحمت کے طویل عرصے کے تناؤ سے آپ تھک جاتے ہیں، آپ کا خود کنٹرول ختم ہو جاتا ہے، اور آپ زیادہ بار ہار مان لیتے ہیں۔ میں ذاتی تجربے سے بات کر رہی ہوں۔ جب ایسا ہوتا ہے اور یقین ہے کہ ایسا ہوگا، تو توازن بنائیں۔ کیے گئے اقدامات پر اپنے آپ کو انعام دیں -اپنی پسندیدہ جگہ پر رات کا کھاناکھائیں، یا اپنے لیے کوئی تحفہ ، آپ کا پسندیدہ عطریا کچھ بھی خریدیں، پھر آپ دوبارہ توجہ دیں،اپنے جذبے کو برقرار رکھنے کا طریقہ سیکھنا آپ کو منفی اثرات سے بچنے اور فیصلہ سازی کی صلاحیتوں پر مثبت اثر ڈالنے میں بھی مدد دے گا۔ تاہم، کہنے سے کرنا آسان ہے! مجھے لگتا ہے، ایسا کوئی عام فارمولا نہیں ہے جو ہر کسی پر لاگو ہو۔
تاخیری تسکین کا اطلاق کرنا بھی ایک بہترین طریقہ ہے۔ آپ اپنے آپ کو روزانہ کھانے کی فراہمی سے انکار کرنا پسند کر سکتے ہیں اور اپنی مطلوبہ چیز کو بچا سکتے ہیں۔ ایک نیا لیپ ٹاپ ہو سکتا ہے؟ نیا لباس جو بالکل آپ پر جچتا ہے اور آپ کے بجٹ سے کہیں زیادہ ہے۔ آپ اسے حاصل کر سکتے ہیں – اگر آپ معمول کے مطابق اپنے آپ کو چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو روکتے ہیں۔ایسا نہیں کہ میں ایڈولف ہٹلر کا حوالہ دوں ، لیکن اس بات سے اتفاق کروں گی جب وہ کہتا ہے، "اگر آزادی میں ہتھیاروں کی کمی ہے، تو ہمیں قوت ارادی سے اس کی تلافی کرنی چاہیے۔”
-

سارے رستے جاتے جاتے اور طرف کو جا نکلے
سارے رستے جاتے جاتے اور طرف کو جا نکلے
اس کی جانب جانے کا پھر کوئی نہ رستہ یاد رہاڈاکٹر نزہت عباسی (شاعرہ بنت شاعر)
27 جون 1971: یوم پیدائش
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آغا نیاز مگسی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اردو کی نامور ادیبہ اورشاعرہ ڈاکٹر نزہت عباسی صاحبہ 27 جون 1971 میں کراچی میں پیدا ہوئیں ۔ ان کا اصل نام نزہت سلطانہ ہے ۔ محمد حسین عباسی صاحب (ظفر انجمی) ان کے والد اور وقار النساءصاحبہ ان کی والدہ محترمہ ہیں۔ وہ پانچ بہن بھائی ہیں۔ اردو ان کی مادری زبان ہے ۔ 1994 میں ڈاکٹر نزہت صاحبہ کی ظفر اقبال عباسی صاحب سے شادی ہوئی ماشاء اللہ ان کے دو بچے فاکہہ عباسی اور اعتزاز عباسی ہیں ۔نزہت عباسی شاعرہ محقق اور نقاد ہیں۔ ایک علمی اور ادبی گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں، ان کے والد محمد حسین عباسی ظفر انجمی صاحبِ دیوان شاعر تھے، ڈاکٹر نزہت عباسی زمانہ طالب علمی سے ہی نصابی اور ہم نصابی سرگرمیوں میں فعال رہیں، ابتدا بچوں کے لیے نظمیں اور کہانیاں لکھنے سے ہوئی، اسی دور میں مشاعروں میں شرکت کی، کالج اور یونیورسٹی کے مجلوں کی ادارت کی، بزم ادب کی صدر رہیں، اردو ادبیات میں پوزیشن حاصل کرنے کے بعد اسی سال تدریس کا آغاز کیا۔
2005 میں پہلا شعری مجموعہ ’سکوت‘ کے نام سے شائع ہوا اور دوسرا مجموعہ 2015 میں ’وقت کی دستک‘ کے نام سےمنظرِعام پر آچکا ہے۔ 2011 میں جناح یونیورسٹی برائے خواتین کراچی سے پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی، ان کا تحقیقی مقالہ ’اردو کے افسانوی ادب میں نسائی لب و لہجہ‘ انجمن ترقی اردو نے 2013 میں شائع کیا۔ تحقیقی و تنقیدی مقالات کا مجموعہ ’نسخہ ہائے فکر‘ 2019 میں شائع ہوا۔
ایک مقامی کالج میں شعبہ اردو کی صدر ہیں۔ ایک نجی ٹی وی چینل سے اردو افسانے پر 100 سے زیادہ پروگرام کیے ہیں، مشاعروں اور ادبی تقاریب کی نظامت کے لیے بھی مشہور ہیں، کئی ایوارڈز حاصل کر چکی ہیں، ادبی تنظیم دبستانِ غزل کی صدر ہیں جس کے تحت ہر مہینے نشست ہوتی ہے۔تصانیف
ڈاکٹر صاحبہ کی اب تک شائع ہونے والی تصانیف کی ترتیب درج ذیل ہے۔
1. اردو کے ادب میں نسائی لب و لہجہ
2 دستک
3 سکوت
4. نسخہ ہائے فکرنزہت عباسی صاحبہ کی شاعری سے انتخاب
غزل
۔۔۔۔۔۔۔۔
موج دریا کے لبوں پر تشنگی ہے کربلا
ریگ ساحل پر تڑپتی زندگی ہے کربلاصبر کی اور ضبط کی یہ منزلیں ہیں آخری
عزم اہل بیت کا کیا دیکھتی ہے کربلاحق کبھی جھکتا نہیں ہے سر بھی کٹ جائے اگر
ذہن و دل کے واسطے اک آگہی ہے کربلاکیوں سکینہ اور زینب اس قدر خاموش ہیں
دور تک صحرا میں دیکھو خامشی ہے کربلامٹ گیا ہے فرق سب فردا میں اور دیروز میں
مات دے کر رخش دوراں کو چلی ہے کربلاتا قیامت ذکر سے روشن رہے گی یہ زمیں
ظلمتوں کی شام میں اک روشنی ہے کربلااے غم شام غریباں اے شب تار الم
اہل دل کو روز و شب تڑپا رہی ہے کربلاغزل
۔۔۔۔۔۔۔۔
محبت میں کمی سی رہ گئی ہے
کہ بس اک بے بسی سی رہ گئی ہےنہ جانے کیوں ہمارے درمیاں اب
فقط اک برہمی سی رہ گئی ہےعجب یہ سانحہ گزرا ہے ہم پر
ترے غم کی خوشی سی رہ گئی ہےسمندر کتنے آنکھوں میں اتارے
تو پھر کیوں تشنگی سی رہ گئی ہےنہیں چڑھتا ہے اب یادوں کا دریا
مگر اک بیکلی سی رہ گئی ہےخلش دل میں کوئی باقی ہے اب تک
کہ آنکھوں میں نمی سی رہ گئی ہےوہی اک بات جو کہنی تھی تم سے
وہی تو ان کہی سی رہ گئی ہےغزل
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خود کو اس طرح آج شاد کریں
تم کو بھولیں تمہیں کو یاد کریںتم سے ملنا نہیں قیامت تک
فیصلہ یہ بھی آج صاد کریںرنگ کتنے ہیں تیرے چہرے کے
کس حوالے سے تجھ کو یاد کریںکر کے احسان ہم پہ ناحق ہی
ہم سے وابستہ وہ مفاد کریںآگ گھر کی انہیں بھی یاد رہے
شہر میں جو کبھی فساد کریںآج خود سے ذرا سی دیر ملیں
آج پوری چلو مراد کریںیاد میں ایک مرنے والے کی
آج محفل کا انعقاد کریں -

معاشرتی برائیاں اور ان کا حل
معاشرتی برائیاں اور ان کا حل
ازقلم ملک ظفراقبال
پاکستانی معاشرے میں معاشرتی برائیاں جنم لے چکی ہیں جس کے ہم سب ذمّہ دار ہیں مگر ذمہ داری لینے کو کوئی تیار نہیں ذمہ داری کا بوجھ گزشتہ 76 سالوں سے ہم ایک دوسرے پر ڈال کر بری الزمہ ہو جاتے ہیں اور یہ سوچ کر سکھ کا سانس لیتے ہیں کہ ہم بری الزمہ ہو چکے ہیں مگر ایسا ہرگز نہیں ۔معاشرہ ہماری پہچان ہے مگر ہم نے تو بحیثیت قوم اپنی پہچان بنائی ہی نہیں اسلئے ہمارے معاشرے میں وہ سب کچھ غائب ہو چکا ہے جس کی ضرورت ہے ۔آج ہمارے معاشرے میں ادب کا پہلو ختم ہو چکا ہے نہ چھوٹے کو بڑے کا ادب ہے اور نہ نوجوانوں کو اپنے بزرگوں کی حیا ہے۔ آئیں آج چند بنیادی معاشرتی پہلوؤں پر بات کرتے ہیں جو ہمیں قدم قدم پر نظر آتے ہیں جس سے ہم آنکھیں چراتے ہیں
معاشرتی برائیاں وہ مسائل ہیں جو ایک معاشرے کی اخلاقی، سماجی، اور اقتصادی تندرستی کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ ان برائیوں کی نشاندہی اور ان کے حل کے لیے درج ذیل نکات پر غور کیا جا سکتا ہے:
عام معاشرتی برائیاں
1. بدعنوانی: سرکاری اور غیر سرکاری اداروں میں رشوت، بدعنوانی اور اقربا پروری۔
2. غربت۔
: عوام کی بڑی تعداد کا بنیادی ضروریات سے محروم ہونا۔
3.تعلیم کی کمی تعلیم کی ناکافی سہولیات اور معیار کی کمی۔
4. صحت کی سہولیات کی کمی صحت کے مراکز کی ناکافی تعداد اور ناقص معیار۔
5. جرائم۔ چوری، قتل، اغوا، اور دیگر جرائم۔
6. منشیات کا استعمال۔ منشیات کا استعمال اور اس کی فروخت۔
7. فرقہ واریت۔ مذہبی، نسلی، اور فرقہ وارانہ تشدد۔
8. خواتین کے حقوق کی پامالی۔ خواتین پر تشدد، ان کے حقوق کی پامالی، اور ان کا استحصال۔
9. بچوں کے حقوق کی پامالی: بچوں کا استحصال، جبری مشقت، اور تعلیم سے محرومی۔
10. ماحولیاتی آلودگی۔ فضائی، آبی، اور زمینی آلودگی۔
ان مسائل کے حل کے لئے اقدامات
1. قانون سازی اور نفاذ:
– بدعنوانی کے خلاف سخت قوانین بنائے جائیں اور ان پر مؤثر طریقے سے عمل درآمد کیا جائے۔
– جرائم اور منشیات کے استعمال کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں۔2. تعلیم کا فروغ
– معیاری اور مفت تعلیم کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔
– تعلیم کی اہمیت پر عوامی آگاہی مہم چلائی جائے۔3. اقتصادی اصلاحات
– غربت کے خاتمے کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں۔
– کم آمدنی والے طبقات کے لیے مالی امداد اور سبسڈیز دی جائیں۔4. صحت کی سہولیات
– صحت کے مراکز کی تعداد اور معیار میں بہتری لائی جائے۔
– عوام کو صحت کے بارے میں آگاہی دی جائے اور حفاظتی تدابیر اپنائی جائیں۔5. خواتین اور بچوں کے حقوق
– خواتین اور بچوں کے حقوق کی حفاظت کے لیے قوانین بنائے جائیں اور ان پر عمل درآمد کیا جائے۔
– خواتین کی تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت پر زور دیا جائے۔6. فرقہ واریت کے خلاف اقدامات
– بین المذاہب اور بین الثقافتی ہم آہنگی کو فروغ دیا جائے۔
– مذہبی اور نسلی تفریق کے خلاف تعلیمی اور آگاہی مہمات چلائی جائیں۔7. ماحولیاتی تحفظ
– آلودگی کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
– ماحول دوست ٹیکنالوجیز اور طریقوں کو فروغ دیا جائے۔عوامی شمولیت
– معاشرتی برائیوں کے خاتمے کے لیے عوام کی شمولیت ضروری ہے۔ ہر فرد کو اپنے حصے کا کردار ادا کرنا چاہیے اور برائیوں کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔ مقامی کمیونٹی اور سماجی تنظیموں کو فعال کیا جائے تاکہ وہ ان مسائل کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔یہ اقدامات معاشرتی برائیوں کے خاتمے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں اور ایک بہتر اور مضبوط معاشرہ تشکیل دینے میں معاون ہو سکتے ہیں۔
اگر ان تمام پہلوؤں کو غور سے دیکھیں تو ایک ہی بات سمجھ آتی ہے وہ کرپشن اور اداروں پر عوام کا اعتماد نہیں رہا جبکہ اداروں کا عوام کا ایک دوسرے کے ساتھ تعاون ضروری ہے اداروں میں بھی آپ ہیں اور عوام بھی آپ ہیں بس ہمیں ایک قوم بننے کی ضرورت ہے.

-

امریکی ایوان کی قرارداد گمراہ کن
جب بھی پاکستان میں سیکیورٹی کی صورتحال بہتر ہونا شروع ہوتی ہے، معیشت بہتر ہونے لگتی ہے اور سماجی سکون پیدا ہونے لگتا ہے، پاکستان دشمن قوتیں پریشان ہوجاتی ہیں اور پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے کام کرنے لگ جاتی ہیں، پروپیگنڈہ کیا جاتا ہےا ور سازشیں کی جاتی ہیں، صیہونی اور سرمایہ دار قوتیں اپنے پیادوں کو پاکستان میں ترقی نہیں دیکھا چاہتی، پاکستان کی معاشی بہتری انکو پسند نہیں۔ بین الاقوامی میڈیا میں ایک جان بوجھ کر مہم چلائی جاتی ہے تاکہ ہمدردی کے پوائنٹس حاصل کرنے کے لیے انہیں متاثرہ فریق کے طور پر پیش کیا جا سکے۔ آپریشن گولڈسمتھ 2.0 کا ایجنڈا بعض اختلافی سیاسی حلقوں کے سیاسی فائدے کے لیے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو بدنام کرنا ہے، جو پاکستان میں صیہونی قوتوں کے ایجنٹ ہیں اور صرف اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے کام کرتے ہیں۔ واقعات کی ایک عجیب و غریب پیشرفت میں، صرف دو دھڑے سیکورٹی آپریشن عزم استحکام کے آغاز کی شدید مخالفت کر رہے ہیں، ایک پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور دوسرا تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)۔
امریکی قرارداد کا اصل مقصد عمران خان کے لئے مراعات لینا
امریکی کانگریس کی قرارداد 901 درحقیقت پاکستان کے اندرونی مسائل پر عالمی سطح پر سیاست کرکے اور اس بار آزادی اظہار اور انسانی حقوق کی آڑ میں پی ٹی آئی کے سابق چیئرمین کے لیے مراعات حاصل کرنا ہے۔ جب کہ آپریشن گولڈسمتھ 2.0 کے حصے کے طور پر قرارداد 901 پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش ہے، ملک کی معاشی واپسی مسلح افواج اور عوام کی حمایت سے اس طاقت کو ظاہر کرتی ہے۔ اس وقت قرارداد 901 کو پیش کرنا، پاکستان کی ترقی کو خطرے میں ڈالنے کی سیاسی کوشش دکھائی دیتی ہے نہ کہ اس کے عوام کی مدد کے لیے ایک حقیقی اقدام۔ پاکستان میں جمہوریت اور انسانی حقوق کے لیے مبینہ طور پر حمایت کا اظہار، قرارداد 901 درحقیقت گمراہ کن ہے۔ سول اور ملٹری قیادت کے درمیان پائیدار تعاون کے ساتھ ساتھ اپنے عوام کے غیر متزلزل جذبے کے ساتھ، پاکستان عالمی معیشت میں ایک بڑا کھلاڑی بننے کے لیے تیار ہے۔ معاشی استحکام اور ترقی کا راستہ اگرچہ مشکل ہے لیکن پاکستان کا عزم اور سٹریٹجک وژن ایک روشن مستقبل کا وعدہ کرتا ہے۔امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی
آپریشن گولڈ سمتھ کے حوالہ سے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے ایک وی لاگ میں انکشافات کیے تھے اور کہا تھا کہ اب آپریشن گولڈ سمتھ جو ہے چڑیل کی خبر کے مطابق وہ لانج ہو گیا ہے
امریکی قرارداد پاکستان کے سیاسی حالات سے ناواقفیت پر مبنی ہے،ترجمان دفتر خارجہ
-

کیا چین ایک بھی گولی استعمال کیے بغیر تائیوان پر قبضہ کر سکتا ہے؟
کیا چین ایک بھی گولی استعمال کیے بغیر تائیوان پر قبضہ کر سکتا ہے؟
یہ خدشات کہ کمیونسٹ پارٹی کسی دن ممکنہ طور پر طاقت کے ذریعے تائیوان پر قبضہ کر سکتی ہے، حالیہ برسوں میں چینی رہنما شی جن پنگ کے خود مختار جزیرے کے بارے میں بڑھتے ہوئے جارحانہ موقف کی وجہ سے اس بارے خدشات میں شدت سامنے آئی ہے۔ یوکرین پر روس کے حملے کی مذمت کرنے سے چین کے انکار نے ان خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔اس تناظر میں، تجزیہ کاروں اور عسکری حکمت عملیوں نے طویل عرصے سے دو اہم حکمت عملیوں پر غور کیا ہے جن کو چین استعمال کر سکتا ہے: ایک مکمل حملہ یا فوجی ناکہ بندی، سنٹر فار سٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز (CSIS) کی ایک نئی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، چین "گرے زون” کے حربے استعمال کر سکتا ہے، جس میں جنگ کی دہلیز سے بالکل نیچے کی کارروائیاں شامل ہیں،چین چائنا کوسٹ گارڈ، اس کی میری ٹائم ملیشیا، اور مختلف پولیس کو تعینات کر کے اور میری ٹائم سیفٹی ایجنسیاں تائیوان کے مکمل یا جزوی قرنطینہ کو نافذ کرنے کے لیے استعمال کر سکتا ہے، اس میں تائیوان کے 23 ملین باشندوں کے لیے بندرگاہوں اور توانائی جیسے ضروری سامان تک رسائی کو منقطع کرنا شامل ہو سکتا ہے۔
حالیہ برسوں میں، چین نے تائیوان پر دباؤ بڑھایا ہے، ان خدشات کو بڑھایا ہے کہ تناؤ کھلے تنازع کا باعث بن سکتا ہے جب کہ حملے کا خطرہ بہت زیادہ ہے، بیجنگ کے پاس براہ راست حملے کے بغیر تائیوان کو مجبور کرنے یا الحاق کرنے کے دوسرے طریقے ہیں۔ ژی جن پنگ کے دور میں، تائیوان، جو کہ ایک خوشحال آزاد منڈی کی معیشت ہے، کے بارے میں چین کی فوجی اور اقتصادی دھمکی تیزی سے واضح ہو گئی ہے۔
تائیوان پر کبھی حکومت نہ کرنے کے باوجود، حکمران کمیونسٹ پارٹی نے اس جزیرے پر دعویٰ کیا ہے اور اگر ضرورت پڑی تو طاقت کے ذریعے اس کے ساتھ "دوبارہ اتحاد” کا عزم کیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تائیوان کا ساحلی محافظ، صرف سمندر میں جانے والے دس بحری جہازوں اور تقریباً 160 چھوٹے جہازوں کے ساتھ، قرنطینہ کا مقابلہ کرنے کے لیے ناکافی ہے۔
امریکی صدر جو بائیڈن نے قانون کی ضرورت سے کہیں زیادہ مضبوط عزم کا اشارہ دیتے ہوئے بار بار کہا کہ وہ تائیوان کے دفاع کے لیے امریکی فوجی تعینات کریں گے۔ یہ مؤقف، جو کہ "اسٹریٹجک ابہام” کی پچھلی امریکی پالیسی سے ہٹتا ہے، وائٹ ہاؤس کے حکام نے کسی حد تک اعتدال کا مظاہرہ کیا ہے۔ تاہم، اگر امریکی فوجی قوتیں اس میں مداخلت کرتی ہیں جسے چین قانون نافذ کرنے والی کارروائی سمجھتا ہے، تو اسے فوجی تنازعہ شروع کرنے کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔
سنٹر فار سٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز کی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ قرنطینہ، ناکہ بندی کے برعکس، چین کو آبنائے تائیوان تک رسائی کو محدود کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ یہ بین الاقوامی قانون کے تحت مداخلت کے لیے واشنگٹن کے اہم قانونی دلائل میں سے ایک کو کمزور کر دے گا، جو کہ بین الاقوامی آبی گزرگاہ میں جہاز رانی کی آزادی کو برقرار رکھنا ہے۔
لہذا، سرخی میں جو کہا گیا، وہی ایک حتمی ہاں ہے -

آپریشن عزم استحکام،کامیابی کیلئے اتحاد ضروری،تجزیہ: شہزاد قریشی
آپریشن عزم استحکام سے سال 2013 کا منظر یاد آگیا جب وطن عزیز میں دہشت گردی اور انتہا پسندی عروج پر تھی اور بجلی کی عدم دستیابی سے ملک میں اندھیروں کا راج تھا اسی دوران میاں محمد نواز شریف نے وزارت عظمیٰ کا قلمدان سنبھالنے سے قبل اعلان کیا کہ دہشت گردی اور بجلی کے بدترین بحران کا خاتمہ ان کا ٹاپ ایجنڈا ہو گا، اقتدار سنبھالنے کے بعد نواز شریف نے سب سے پہلے اے پی سی کال کی جس میں عمران خان سمیت تمام جماعتوں نے شرکت کی، مذاکرات کا راستہ اپنایا گیا مذاکراتی ٹیم تشکیل دی گئی جس کی قیادت سینیٹر عرفان صدیقی نے کی .اس حوالے سے جب سینیٹر عرفان صدیقی سے گفتگو ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ مذاکرات کی ناکامی پر نواز شریف نے ملک سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کا اعلان کیا اورضرب عضب کا آغاز ہوا ،
قارئین، پاک فوج اور جملہ اداروں نے لاتعداد قربانیاں دے کر امن بحال کیا نوازشریف کی سیاسی اور معاشی بصیرت کے بل بوتے پر ملک سے اندھیرے چھٹ گئے ، سینیٹر اسحاق ڈار جو اُس وقت وزیر خزانہ تھے انکی کمال حکمت عملی اور دن رات محنت سے ملک میں معاشی استحکام بحال ہوا اور صنعتی ترقی کا آغاز ہوگیا سی پیک سے قوم میں اُمید کی کرن جاگی ، آج پھر ملک اُسی دوراہے پر کھڑا ہے ،عزم استحکام وطن عزیز سے دہشت گردی کے اُبھرتے ہوئے منحوس سائے ، معاشی بدحالی ، توانائی کا بحران اور دیگر مسائل اُسی وقت حل ہوں گے جب ملک میں امن ہو گا، وطن عزیز کے ان کھیلانوں میں امن کی ہریالی اُگانے کا بیڑا ایک بار پھر ضرب عضب کی طرح پاک فوج اور جملہ اداروں نے اٹھایا ہے تو اس میں بحث او ر دھوراں دھار تقریریں کیسی ؟ کیا پارلیمنٹ میں دہشت گردوں کے پروموٹرز اور سپورٹرز بیٹھے ہیں؟ سادہ لوح عوام کو بے وقوف بنایا جا رہا ہے ، ماضی میں دہشت گردی کے حوالے سے افواج پاکستان ، پولیس اور عوام نے لازوال جانی و مالی قربانیاں دی ہیں جس پر ایک عالم گواہ ہے، ملک کے عظیم تر مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے اپوزیشن کو ملک وقوم کی بقاء کے لئے آپریشن عزم استحکام کا بھرپور ساتھ دینا ہوگا، ملک سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کا خاتمہ ملک وقوم کے اولین مفاد میں ہے آخر کب تک ہم لاشیں اٹھاتے رہیں گے؟
-

معیشت کی بحالی،حکومتی اقدامات پر اعتماد کی علامت.تجزیہ:شہزاد قریشی
اسلام آباد ( رپورٹ،شہزاد قریشی) پاکستان اسٹاک ایکسچینج کےہنڈرڈ انڈیکس کا 80 ہزار کی نفسیاتی حد عبور کرنا ملکی تاریخ میں معیشت کی بحالی کی جانب مضبوط حکومتی اقدامات پر اعتماد کی علامت ہے اور دیوالیہ دیوالیہ کی رٹ لگا کر ملکی معیشت کو نقصان پہنچانے والوں کے منہ پر ایک طمانچہ ہے ، ادھر گرڈ سٹیشنوں کا گھیرائو کرنے والوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں ایسی غیر سنجیدہ حرکات سے وہ ملک وقوم کی کوئی خدمت نہیں سرانجام دے رہے بلکہ عوام ان اوچھے ہتھکنڈوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں، بلاشبہ پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی جارحانہ بلندی نہ صرف حکومتی پالیسیوں پر اعتماد کی علامت ہے بلکہ حکومت پاکستان کی درست سمت سفر کی عکاس ہے،
ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام وفاق کی اکائیوں یعنی صوبائی حکومتوں اور ریاستی و حکومتی اداروں کو یک جان ہو کر پورے اخلاص کے ساتھ میاں محمد نواز شریف کے ترقی کے روڈ میپ کی منزل کی جانب سفر جاری رکھ کر وطن عزیز کو مضبوط سے مضبوط بنانے کا عزم کرنا ہوگا، میاں محمد نواز شریف کے ترقی کے وژن کو اگر ٹھیس نہ پہنچائی جاتی تو آج پاکستان نہ صرف ایشین ٹائیگر بن چکا ہوتا بلکہ جی 20 کی صف میں کھڑا ہوتا، اب وقت آن پہنچا ہے کہ سیاسی اختلاف کو بالائے طاق رکھ کر میاں محمد نواز شریف کے وژن کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے تاکہ ملک معاشی طور مستحکم ہو اور عوام کو مہنگائی ،پاکستان کو آئی ایم ایف کے چنگل سے نجات مل سکے
