Baaghi TV

Category: بلاگ

  • آخری وقت بہت قیمتی ہے

    آخری وقت بہت قیمتی ہے

    آخری وقت بہت قیمتی ہے
    ازقلم غنی محمود قصوری
    انسان رب العالمین کی طرف سے ایک مخصوص وقت کے لئے دنیا میں پیدا ہو کر آتا ہے اور اپنا ٹائم پورا ہونے پر مر جاتا ہے،اس دنیا سے انسان مال و دولت تو اپنے ساتھ نہیں لیجا سکتا مگر اعمال کی صورت میں وہ جمع پونجی اس کے ساتھ ضرور جاتی ہے جو اس کو اگلے مستقل جہان میں جنت و جہنم کا مالک بناتی ہے

    اللہ رب العزت نے اپنے بندوں کو پرکھنے کے لئے اس دنیا میں بیجھا اور اسے مختلف چیزوں سے آزماتا ہے تاکہ پتہ چل سکے کون رب کا بندہ ہے اور کون شیطان کا پیروکار ہے

    اللہ رب العزت نے مقررہ وقت تک شیطان ملعون کو ایک خاص طاقت دے رکھی ہے جس سے انسانوں کی پرکھ ہوتی ہے،بعض اوقات ہم انسان کے اعمال دیکھ کر اس کے جنتی اور جہنمی ہونے کا خودساختہ فیصلہ قرار دے لیتے ہیں جو کہ درست بات نہیں،ہمیں ہر صورت شیطان سے پناہ مانگنی چائیے اور اپنی نیکیوں پر ناز و فخر نہیں کرنا چائیے بلکہ نیکی کرکے یہ محسوس کرنا چائیے کہ ہمارے پاس تو کوئی نیکی ہے ہی نہیں اور زیادہ سے زیادہ نیکیاں کرتے جائیں مگر شرط نیت کا صاف ہونا ہے دکھلاوا نہیں وگرنہ وہ ساری نیکیاں بیکار ہیں اور کسی کام نہیں آئیں گیں

    ہمیں ہر وقت شیطان سے پناہ کی خاطر نماز روزہ و ذکر الہیٰ میں مشغول رہنا چائیے تاکہ ہم حالت ایمان میں شیطان سے بچ کر اس دار فانی سے کوچ کرکے آخری مستقل گھر میں اچھا ٹھکانا یعنی جنت میں بسیرہ کر سکیں،انسان کا آخری وقت بہت قیمتی ہوتا ہے کہ جس پر انسان کا خاتمہ ہوتا ہے اسی وقت خاتمہ پر اس کا فیصلہ کیا جاتا ہے

    اِنَّ العَبْدَ لَیَعْمَلُ عَمَلَ أَھلِ النَّارِ وَ انَّہُ مِنْ أَھْلِ الْجَنَّۃِ وَیَعْمَلُ عَمَلَ أَھلِ الْجَنَّۃِ وَاِنَّہُ مِنْ أَھْلِ النَّارِ۔ الأعْمَالُ بِالْخَوَاتِیْمِ (بخاری عن سھل بن سعد رضی اللہ عنہ)، وفی روایۃ للامام احمدؒ فی المسند: وَاِنَّمَا الأعْمَالُ بِالْخَوَاتِیْمِ۔
    امام بخاریؒ کی روایت کردہ درج بالا حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ کسی بندہ کا عمل جہنمیوں کے عمل کے مطابق ہوتا ہے لیکن وہ جنتی ہوتا ہے اور کسی بندے کا عمل جنتیوں کے عمل کے مطابق ہوتا ہے لیکن وہ جہنمی ہوتا ہے اعمال کی حقیقت تو خاتمہ (کے وقت) کے اعمال ہیں، مسند احمد میں بھی یہ روایت آئی ہے اور اس کے آخری الفاظ ہیں وَاِنَّمَا الأعْمَالُ بِالْخَوَاتِیْمِیعنی اعمال کا دارومدار خاتمہ کے اوپر ہے

    ایک مشہور پرانا واقعہ پیش خدمت ہے
    بہت پرانے زمانے کی بات ہے ایک عبادت گزار کسی سلطنت میں رہتا تھا جو ہر وقت ریاضت وعبادت میں مصروف رہتا تھا اور اپنی نیکیوں پر فخر بھی کرتا تھا،اس نے سوچا اس جگہ ان لوگوں میں رہتے ہوئے زیادہ عبادت نہیں کی جا سکتی لہذہ اس نے اپنا ضرورت کا سامان پکڑا اور جنگل میں بسیرا کر لیا،بہت عرصہ اس نے ریاضت و عبادت کی اور بلآخر شیطان نے اسے بہکانے کی خاطر ایک چال چلی تاکہ اسے گمراہ کر سکے،

    شیطان نے سلطنت کی شہزادی کو جادو سے سخت بیمار کر دیا جو کہ کسی بھی علاج سے صحت مند نا ہو رہی تھی الٹا مذید بیمار ہوتی چلی جا رہی تھی
    شہزادی کے بھائی اور دیگر رشتہ دار سخت پریشان تھے اور اس کا بہت علاج کروا رہے تھے مگر سب بے سود ،ایک دن وہ شہزادی کو لے کر کہیں جا رہے تھے کہ شیطان انسانی شکل میں نمودار ہوا اور ان سے حال احوال پوچھا اور انہیں بتایا کہ اس شہزادی کا علاج فلاں جنگل میں ایک عبادت گزار نیک بندے کے پاس ہے جو دم کرے گا تو یہ شہزادی ٹھیک ہو جائے مگر شرط ہے کہ آپکو شہزادی کو اس کے ہاں چھوڑ کر آنا پڑے گا یہاں تک کہ وہ مکمل صحت مند نہیں ہو جاتی

    مگر دوسری طرف وہ عبادت گزار بھی بہت سخت مزاج ہے کسی کی مانتا ہی نہیں اگر تم اس کو قائل کر لو گے تو شہزادی ٹھیک ہو جائے گی
    شہزادوں نے اس سے کہا فکر نا کرو ہم اس سلطنت کے مالک ہیں اور اس شحض کو قائل کر لیں گے،شہزادے مطلوبہ پتہ لے کر اس شحض کے پاس پہنچے اور مدعا بیان کیا کہ ہماری بہن کو آپ کے دم سے آرام ائے گا اور آپ اسے صحت مند ہونے تک اپنے پاس رکھیں گے
    وہ شحض دم کرنے پر تو راضی ہوا مگر شہزادی کو اپنے پاس رکھنے پر راضی نہ ہوا ،کافی منت سماجت کے بعد اس نے شہزادی کو اپنے پاس رکھنے کی حامی بھر لی

    اس شحض نے شہزادی کو دم کیا وہ کچھ بہتر ہوئی تو شیطان نے اس نیک عبادت گزار شحض پر غلبہ کیا اور اسے شہزادی ساتھ بدفعلی پر مجبور کیا
    اس نے شہزادی کیساتھ بدفعلی کی تو شیطان اس کے پاس انسانی شکل میں نمودار ہوا اور اسے کہنے لگا واہ جی اب پتہ چل کہ تم تو اس جنگل میں اس لئے پناہ لئے ہوئے تھے تاکہ لوگوں سے چھپ کر حرام کاریاں کر سکو اور اپنی نیک نامی بھی بنائے رکھو سو آج تمہارا پتہ چل گیا،وہ شحص ڈر گیا اور اس کی منت سماجت کرنے لگا کہ خدا کے واسطے کسی کو کچھ مت بتانا ورنہ میں بدنام ہو جاؤں گا،اس پر شیطان نے اسے مشورہ دیا کہ میری مان اور اب اس شہزادی کو قتل کرکے لاش دفنا دے اور جب اس کے ورثاء آئیں گے تو کہنا وہ تو بیمار تھی چل بسی ،اس نے شیطان کی بات مانی اور لڑکی کو ذبح کیا اور قریبی جگہ پر دفنا دیا،شیطان نے اس دوران شہزادی کا ڈوپٹہ مٹی سے باہر نکال دیا اور اب وہ شہزادی کے بھائیوں پاس پہنچا اور بتایا کہ اب شہزادی کو واپس لے آئیں

    شہزادے وہاں پہنچے تو دریافت کرنے پر بتایا گیا کہ وہ تو بیمار زیادہ ہو گئی اور جانبر نا ہو سکی جس کے باعث میں نے اسے وہاں دفنا دیا ہے
    شہزادے کہنے لگے ٹھیک ہے اگر فوت ہو گئی ہے تو ہمیں اس کی قبر پاس لے چلو ہم اس کی تدفین شاہی رسم و رواج سے کریں گے
    وہ اسے قبر تک لیجانے میں ہچکچانے لگا تاہم اصرار پر لے گیا،قبر کشائی ہوئی تو شہزادی کی شاہ رگ کٹی ہوئی تھی جس پراسے گرفتار کر لیا گیا اور سولی پر چڑھانے لگے،جب عین آخری وقت سولی پر چڑھانے لگے تو وہ شیطان انسانی شکل میں پھر نمودار ہوا اور کہنے لگا جان بچ سکتی ہے اگر کلمہ سے انکار کر دو تویہ شہزادے تمہیں چھوڑ دیں گے

    ساری زندگی ریاضت و عبادت کرنے والے نے کہا کہ میں کلمے سے انکار کرتا ہوں اور شہزادوں کے دین پر چلنے کا اعلان کرتا ہوں میری جان بخش دو مگر شہزادے نا مانے اور اسے تختہ دار پر لٹکا دیا گیا ،شیطان کے جال میں آکر زنا بھی کر بیٹھا قتل بھی کر دیا اور آخری وقت میں ایمان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھا

    قارئین اس تاریخی قصے سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ کبھی بھی اپنی نیکیوں پر فخر و تکبر نہیں کرنا چائیے اور شیطان مردود سے ہر وقت پناہ مانگنی چاہیے اور دعا مانگنی چائیے کہ اللہ تعالیٰ ہمارا خاتمہ ایمان پر کرے آمین

  • کیا چیز آپ کو خوش کر سکتی ہے؟

    کیا چیز آپ کو خوش کر سکتی ہے؟

    یہ ایک ایسا سوال ہے جو ہر کسی کے ذہن میں گردش کرتا ہے – خوشی کیا ہے اور ہم اسے کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟ ارسطو اس خیال کا حامل ہے کہ "خوشیاں ہم پر منحصر ہوتی ہیں۔ وہ خوشی کو انسانی زندگی کا مرکزی مقصد اور ایک الگ مقصد کے طور پر دیکھتا ہے، جس کے لیے مختلف حالات کی تکمیل ضروری ہے، جس میں جسمانی اور ذہنی دونوں قسم کی تندرستی شامل ہے۔ تاہم، کیا خوشی کے لیے ضروری تمام حالات کی مقدار ہر فرد کے لیے ایک سی ہوتی ہے، چاہے وہ کسی بھی سماجی،معاشی پس منظر یا ثقافت سے تعلق رکھتا ہو؟… شاید نہیں۔

    بعض اوقات خوش رہنے کے لیے کوشش کرنا کب زیادہ چاہ کی وجہ سے لالچ میں تبدیل ہو جاتا ہے، اور اکثر یہ دوسروں کے حقوق پامال کرنے کے نتیجے میں، جیسے اس جدید دور میں، ہم بہت سی پریشانیوں کا شکار ہیں، جن میں نفسیاتی تکلیف یا صدمہ، ٹیکنالوجی کا بے جا استعمال، کام اور تعلیم کے معاشی معیارات کا دباؤ، اور ہم عمروں کے ساتھ مقابلہ بازی شامل ہیں۔ یہ سب عوامل ہماری توانائی کو کم کرتے ہیں اور خوشی کے توازن کو بگاڑ دیتے ہیں۔

    میری ذاتی رائے میں، میں البرٹ کیموس سے زیادہ متفق ہوں۔ انہوں نے ایک بار کہا تھا، "اگر آپ یہ تلاش جاری رکھتے ہیں کہ خوشی کس چیز پر مشتمل ہے تو آپ کبھی خوش نہیں ہوں گے۔ اگر آپ زندگی کے معنی تلاش کر رہے ہیں تو آپ کبھی زندہ نہیں رہیں گے۔” اگر ہم صرف اپنی روزمرہ کی زندگی کو جاری رکھتے ہیں تو توازن تلاش کرنے کے بعد خوشی خود بخود مل جائے گی۔

    ارسطو کہتا ہے کہ اگر خوشی ایک عادت یا تربیت یافتہ فیکلٹی ہوتی۔ اگر یہ سچ ہے تو دنیا کی دولت سے مالا مال تمام لوگوں کو خوش ہونا چاہیے اور جو نہیں ہیں ان کو ناخوش ہونا چاہیے۔سوال یہ ہے کہ آپ کو کس چیز سے خوشی ملتی ہے؟ یہ انفرادی سماجی و اقتصادی پس منظر سے نمٹنے والے کثیر جہتی عوامل پر منحصر ہوگا یعنی انفرادی یا نفسیاتی طور پر۔

    اگر ہم خوشی کے حصول کے لیے ایک طویل المدتی ہدف کا تعاقب کرتے ہیں، تو ہم روزانہ کی بنیاد پر حاصل کرنے کے لیے وہاں کی خوشی سے محروم رہ جاتے ہیں۔ آپ کے بچے کا پہلا قدم، آپ کے ساتھی یا اکیلے کے ساتھ سکون، کتاب پڑھنا، موسیقی سننا، آپ کے ہاتھ میں کافی کا پیالا؟ پھولوں کی مہک ،خوشی کا حصول کوئی آخری مقصد نہیں ہے۔ یہ ایک عمل ہے۔اگر ہم اپنی روزمرہ کی زندگی کو بغیر کسی پریشانی کے گزارتے ہیں تو خوشی خود بخود پیدا ہو جائے گی جب ہم ذہنی اور جسمانی توازن پیدا کر لیں گے۔’ارسطو کا کہنا ہے کہ اگر خوشی ایک عادت یا سیکھی ہوئی صلاحیت ہوتی تو پھر دنیا کے تمام امیر لوگ خوش ہوتے’

  • پنجاب میں دفعہ 144 کا نفاذ , بچوں کیخلاف مقدمات کا اندراج و حکومتی نمائندوں کا کردار

    پنجاب میں دفعہ 144 کا نفاذ , بچوں کیخلاف مقدمات کا اندراج و حکومتی نمائندوں کا کردار

    پنجاب میں دفعہ 144 کا نفاذ , بچوں کیخلاف مقدمات کا اندراج و حکومتی نمائندوں کا کردار
    تحریر:ادریس نواز چدھڑ
    پنجاب بھر میں دفعہ 144 کا نفاذ کیا گیا ۔ جس کے تحت ندی نالوں میں نہانے پر پابندی لگائی گئی اور پولیس بھی متحرک دکھائی دے رہی ہے ۔ سرگودھا میں بھی حکومتی احکامات کی مطابق سکیورٹی برانچ سمیت پولیس نے نہر میں نہانے والوں کیخلاف کارروائی کی اور متعدد مقدمات کا اندراج کیا ۔ جس میں جن بچوں کے ابھی تک شناختی کارڈ بھی نہیں بنے ان پر بھی مقدمات کا اندراج کیا گیا ۔

    جس حکومت کو نوجوانوں کے مستقبل میں اہم کردار ادا کرنا چاہیئے ۔ وہی حکومت بچوں کیخلاف بھی مقدمات درج کروا رہی ہے ۔

    دوسری جانب وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف حکومتی احکامات کی دھجیاں اڑاتے ہوئے اپنے بیٹے کیساتھ گرمی دور کرنے کیلئے نہر میں نہاتے دکھائی دے رہے ہیں ۔ اور شہریوں کی بڑی تعداد یہ سب دیکھ کر حیران رہ گئی۔ ان کیخلاف تو پولیس نے کوئی کارروائی نہ کی ۔ ہر قانون , اقدام و احکامات صرف غریب پر ہی لاگو ہوتا ہے ۔ بااثر کیخلاف کبھی قانون متحرک نہیں ہوتا ۔ یہ عوام کیساتھ کیسا بھونڈا مذاق ہے کہ عوام کے بچوں کیخلاف تو مقدمات درج کئے جا رہے ہیں ۔ اور انکا مستقبل تباہ کیا جا رہا ہے لیکن حکومتی نمائندے عوام کے سامنے سرعام حکومتی احکامات کی دھجیاں بکھیر رہے ہیں ۔

    لگتا ھے ہمارے ملک میں دو ریاستی قانون ہے ۔ امیر کیلئے الگ اور غریب کیلئے الگ، نہر میں نہانے پر پابندی ہونی چاہیئے۔ کیونکہ ہرسال نہروں ندی نالوں میں نہانے کے دوران ڈوبنے سےکئی قیمتی جانیں لقمہ اجل بن جاتی ہیں لیکن کیا اسکا حل بچوں کیخلاف مقدمات درج کر کے کیا جا سکتا ہے ، بچوں کے مستقبل کو تباہ کر کے حکومتی اقدامات کو پورا کرنا کہاں کا قانون ہے ۔ حکومتی نمائندے و بااثر افراد کیخلاف قانون حرکت میں کیوں نہیں آ رہا ؟، ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ ہر گاؤں میں بذریعہ اعلان عوام کو آگاہ کیا جاتا کہ حکومت نے نہر میں نہانے پر پابندی لگا رکھی ہے۔ اس لئے خلاف ورزی کرنیوالوں کیخلاف کارروائی کی جائیگی تاکہ عوام کو پتہ ہوتا اور وہ نہروں میں نہانے سے اجتناب کرتے ، دوسرا ان بچوں کے والدین کو بلا کر انہیں وارننگ دیکر چھوڑا جا سکتا تھا تاکہ دوبارہ ایسا کوئی بھی اقدام نہ کریں۔

    پولیس ہمیشہ حکومتی اقدامات پر ہی متحرک ہوتی ہے کاش منشیات فروشوں و دیگر جرائم پیشہ افراد کیخلاف بھی ایسے ہی کارروائیاں کی جاتیں تو کیا ہی بات تھی ۔ حکومت وقت کو اس بارے سوچنے کی اشد ضرورت ہے ۔ وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کو اس پر فوری نوٹس لینا چاہیئے تاکہ بچوں کے مستقبل تباہ نہ ہوں.

  • بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی

    بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی

    بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
    اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

    خالد شریف

    ممتاز شاعر،ادیب ،ایڈیٹر ، پبلشر، ماورا پریس کلب اور ماورا بک ڈپو کے مالک

    18 جون 1947: یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اردو کے ممتاز پاکستانی شاعر خالد شریف 18 جون 1947ء میں انبالہ (بھارت) میں پیدا ہوئے۔ بعدازاں خاندان کے ساتھ راولپنڈی میں آگئے۔ اسی شہر سے پرائمری اور ہائی سکول کی تعلیم حاصل کی۔ 1967ء میں گورنمنٹ کالج راولپنڈی سے ایم اے اکنامکس کرنے کے بعد انہوں نے انکم ٹیکس کا محکمہ جوائن کر لیا اور مختلف شہروں میں خدمات سر انجام دیں لیکن کتاب سے رغبت نے ان کو پبلشنگ کی طرف مائل کیا اور 1970ء میں انہوں نے اشاعتی کاروبار کا آغاز کیا۔ خالد شریف نے 1964ء میں شعر کہنا شروع کئے۔اس وقت یہ کالج کے طالب علم تھے اور کالجوں کے بین الکلیاتی مشاعروں میں حصہ لیتے تھے۔
    خالد شریف کی پہلی کتاب 1990ء میں ’’نارسائی‘‘ کے نام سے شائع ہوئی جس کے درجن سے زائد ایڈیشن آچکے ہیں۔ اس کے بعد ’’بچھڑنے سے ذرا پہلے‘‘ شائع ہوئی اور پھر’’وفاکیا ہے‘‘ اور ’’گزشتہ‘‘ شائع ہوئیں۔ ’’رت ہی بدل گئی‘‘ 2003ء میں مارکیٹ میں آئی۔ دیگر کئی کتابیں زیر طبع ہیں۔

    چند منتخب اشعار

    کاش ایسا ہو کہ اب کے بےوفائی میں کروں
    تو پھرے قریہ بہ قریہ کو بہ کو میرے لئے
    میں تو لامحدود ہوجاؤں سمندر کی طرح
    تو بہے دریا بہ دریا جو بہ جو میرے لئے

    آنکھ کس لفظ پہ بھر آئی ہے
    کون سی بات پہ دل ٹوٹا ہے

    آج کچھ رنگ دگر ہے مرے گھر کا خالدؔ
    سوچتا ہوں یہ تری یاد ہے یا خود تو ہے

    آج سے اک دوسرے کو قتل کرنا ہے ہمیں
    تو مرا پیکر نہیں ہے میں ترا سایہ نہیں

    آسماں جھانک رہا ہے خالدؔ
    چاند کمرے میں مرے اترا ہے

    بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
    اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

    خالدؔ میں بات بات پہ کہتا تھا جس کو جان
    وہ شخص آخرش مجھے بے جان کر گیا
    ناکام حسرتوں کے سوا کچھ نہیں رہا
    دنیا میں اب دکھوں کے سوا کچھ نہیں رہا

    وہ تو گیا اب اپنی انا کو سمیٹ لے
    اے غم گسار دست دعا کو سمیٹ لے

    زخم رسنے لگا ہے پھر شاید
    یاد اس نے کیا ہے پھر شاید

    اب نہ چڑیاں ہیں نہ اخبار نہ کپ چائے کا
    ایک کرسی ہے جو دالان میں رکھی ہوئی ہے

  • مجھے بس وہ ، اسے سارا زمانہ چاہئے تھا

    مجھے بس وہ ، اسے سارا زمانہ چاہئے تھا

    مری اپنی اور اس کی آرزو میں فرق یہ تھا
    مجھے بس وہ ، اسے سارا زمانہ چاہئے تھا

    بشری اعجاز

    18 جون 1959: یوم پیدائش

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تحریر و تعارف : آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    لاہور سے تعلق رکھنے والی پاکستان کی نامور ادیبہ، شاعرہ، افسانہ نویس اور کالم نگار بشری اعجاز صاحبہ 18 جون 1959 سرگودھا کے ایک نواحی گاؤں کوٹ فضل احمد میں پیدا ہوئیں ۔ ان کا تعلق پنجاب کے ایک روایتی زمیندار گھرانے سے ہے ان کے والد صاحب کا نام میاں نوازش علی رانجھا اور خاوند محترم کا نام اعجاز احمد ہے ۔ اولاد میں انہیں ایک بیٹا اور دو بیٹیاں ہیں اور ماشاء اللہ دونوں بیٹیوں کی شادی ہو چکی ہے ان کا بیٹا اپنی والدہ محترمہ کی تقلید کرتے ہوئے شاعری میں طبع آزمائی کر رہے ہیں ۔ بشری صاحبہ کی مادری زبان پنجابی ہے اور وہ اردو اور پنجابی زبان میں شاعری کرتی ہیں ان کا شمار پاکستان کی مقبول و معروف شاعرات اور لکھاریوں میں ہوتا ہے ۔ انہوں نے شادی کے بعد شعر و شاعری اور لکھنا شروع کیا۔ شاعری کی ابتدا 1989 میں کی۔ ان کی اب تک نصف درجن کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں 1 بارہ آنے کی عورت 2 پباں بھار 3 آنکھیں دیکھتی رہتی ہیں 4 بھلیکھا اور دو سفرنامے ہیں ایک حج پر اور دوسرا بھارت کے سفر پر لکھا گیا ہے۔ بشری صاحبہ آجکل روزنامہ نئی بات میں ” تیسرا کنارہ” کے مستقل عنوان سے کالم لکھ رہی ہیں اور وہ لاہور کینٹ میں رہائش پذیر ہیں ۔ ان کی ایک غزل قارئین کی نذر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    منظروں کے درمیاں منظر بنانا چاہئے
    رہ نورد شوق کو رستہ دکھانا چاہئے

    اپنے سارے راستے اندر کی جانب موڑ کر
    منزلوں کا اک نشاں باہر بنانا چاہئے

    سوچنا یہ ہے کہ اس کی جستجو ہونے تلک
    ساتھ اپنے خود رہیں ہم یا زمانا چاہئے

    تیری میری داستاں اتنی ضروری تو نہیں
    دنیا کو کہنے کی خاطر بس فسانا چاہئے

    پھول کی پتی پہ لکھوں نظم جیسی اک دعا
    ہاتھ اٹھانے کے لیے مجھ کو بہانا چاہئے

    وصل کی کوئی نشانی ہجر کے باہم رہے
    اب کے سادہ ہاتھ پر مہندی لگانا چاہئے

    پھول خوشبو رنگ جگنو روشنی کے واسطے
    گھر کی دیواروں میں اک روزن بنانا چاہئے

    شام کو واپس پلٹتے طائروں کو دیکھ کر
    سوچتی ہوں لوٹ کر اب گھر بھی جانا چاہئے

    بشریٰ اعجاز

  • عید قربان پر ہماری چھوٹی سی نیکی . تحریر: ماشا نور

    عید قربان پر ہماری چھوٹی سی نیکی . تحریر: ماشا نور

    جہاں سے گاڑی گزرتی لوگوں کا ایک ہی سوال ہوتا ہاں بھائی کتنے کا
    جی ہاں یہاں بات قربانی کے جانور کے ہورہی ہے مسلمانوں کے اہم تہوار کی مالی استطاعت رکھنے والا ہر مسلمان اپنی طرف سے قربانی کرے گا بات کریں کراچی کی تو کہا جاتا ہے جنتا بڑا لاہور سے اس سے بڑی تو کراچی کی مویشی منڈی ہے یہ تو ہوئی مذاق کی بات "لاہور والے دل پرنا لیں ” کراچی کی مویشی منڈی میں خوب رونقین ہوتی لوگ جانور خریدنے پوری پوری فیملیز کے ساتھ جاتے بھرپور انجوائے کرنے کے بعد جانور خریدہ جاتا بچے بڑے خواتین سب ہی قربانی کے جانوروں سے محبت کرتے ہیں یہی وجہ ہے قربانی کے وقت آنکھوں میں آنسو آجاتے
    جہاں کسی جانور کی گاڑی محلے میں داخل ہوئی بچے خوب ہنگامہ ڈالتے گاڑی کے پیچھے پیچھے بھاگتے نوجواں بھی ہاتھوں میں موبائل لیے فورا ویڈیو بنانا شروع کردیتے کے کب جانور بھاگے اکثر نوجوانوں کی کوشش ہوتی جانور بھاگ جاے لڑکے شرارت میں بندھے جانور کی رسی کھول کر بھاگ جاتے آپ کو ہر سال ہی جانوروں کی گاڑی سے اترتے وقت یا قربانی کے وقت بھاگنے کی ویڈیوز نظر آتی ہونگی جن کو دیکھ کر خوب ہنسی آتی

    اس کے ساتھ ہی قصایوں کی تو جیسے چاندی تو چھوڑیں انکے ہاتھ تو جیسے چھڑے نہیں سونا لگ جاتا بڑی بھاری قیمت میں جانور گرائے جاتےجہاں اناڑی قصائی کی جیب بھرتی وہی گرم دماغ کے جانوروں سے خوب لاتیں ٹکریں بھی کھانی پڑتی بہت سے تو ہسپتال پہنچ جاتے ہیں

    ایسے میں کچھ نوجوان دوست ٹولیاں بنا کر موسمی قصائی بنے پھرتے ان کی اچھی کمائی ہوجاتی اناڑی قصائی جانور کو تکلیف تو دیتے ہیں ساتھ وہ گوشت بھی بے تکا بنا جاتے اب مالک کیا کہے کم پیسے دینے کے چکر میں خود یہ کارنامہ سر انجام دیا ورنا جہاں لاکھ کا جانور خرید سکتے وہاں دس ہزار اچھے قصائی کو دے کر جانور زبح کروایا جاسکتا ہے

    چلیں آگے بڑھتے ہیں اب باری آتی ہے خواتین کی تو کیا سنائیں آپکو ہم انکا دکھ سارا دن کچن میں گزرتا پہلے کلیجی بنائیں پھر فرمائشی پروگرام ہوگا شروع کباب ،بریانی ، پسندے، بھنا گوشت، دن میں یہ سب چل جاتا رات میں مرد حضرات چھت پر باربی کیو کا انتظام اپنے ہاتھوں میں لیتے تب کہیں خواتین کی جان آزاد ہوتی بچے تو خوب مزے کرتے گوشت کی چھوٹی چھوٹی تھیلیاں اٹھائیں دوستوں کے گھر جارہے ہوتے "آج ہماری باربی کیو پارٹی ہے” عید کے ایک ہفتے بعد تک دعوتیں چلتی رہتی کبھی میکے والے کبھی سسرال والے تو کبھی دوست یار خوب محفل جمتی ہے اپنی ان خوشیوں میں یاد رکھیں ان لوگوں کو جنکے گھر کوئی ایک گوشت کی بوٹی دینے نہیں جاتا نظروں میں رکھیں ابھی سے ایسے مستحق افراد کو جو مانگتے نہیں ویسے تو سب ہی قربانی کے گوشت کو غریبوں میں تقسیم کرتے ہیں پر اس بار کچھ خاص توجہ دیں ان خاندانوں پر جو بےروزگاری کا شکار ہیں، مہنگائی کے دور میں قربانی نہیں کر سکتے، کرنے کو تو چھوٹی سی نیکی ہے مگر اجر بہت زیادہ ہے ضروری نہیں جن رشتےداروں کے گھر قربانی ہورہی ہو وہاں گوشت دیا جائے انکی بجائے اپنے علاقے آس پڑوس دفتروں میں لوگوں کو نظروں میں رکھیں امید کرتی ہوں یہ تحریر پڑھ کر آپکے دماغ میں کچھ چہرے آئے ہونگے

  • عورتِیں مردوں سے کیا چاہتی ہیں؟

    عورتِیں مردوں سے کیا چاہتی ہیں؟

    تحریر یاسمین آفتاب
    یہ سوال صدیوں سے زیرِ بحث رہا ہے، اور اس کا جواب پیچیدہ اور کئی عوامل پر منحصر ہے۔ تاہم، ایک بنیادی عنصر جو اکثر روابط کی کامیابی کا سبب بنتا ہے، وہ ہے باہمی احترام۔ ایک رشتے میں جہاں عزت و احترام موجود نہ ہو، اسے دوبارہ قائم کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ خواتین اس احترام کی مستحق ہیں جو مرد ایک دوسرے کو دیتے ہیں۔ بے ادبی یا فوقیت جتانے کا رویہ نہ صرف رشتے میں تلخی پیدا کرتا ہے بلکہ اسے ٹوٹنے کی راہ پر بھی لے جاتا ہے۔ ہمارے اور دنیا کے بہت سے معاشروں میں، پیشہ ور ماہر خواتین کو اکثر ان کے مرد ہم منصب کے مقابلے میں کم تر سمجھا جاتا ہے۔ دفتر کے اوقات کے بعد بھی گھر کی ذمہ داریوں کا بوجھ اکثر خواتین ہی پر ڈال دیا جاتا ہے، جبکہ مرد ساتھی یا ان کے خاندان سے مناسب مدد نہ ملنے سے خواتین کا کیریئر متاثر ہوتا ہے۔ یہ چیلنج خاص طور پر اس وقت بڑھ جاتا ہے جب خواتین خاندان بنانے کا فیصلہ کرتی ہیں۔ تاہم، خاندان اور مرد ساتھی کی طرف سے مناسب تعاون اور سمجھ سے ان مشکلات کو کم کیا جا سکتا ہے۔
    کسی بھی مضبوط رشتے کی بنیاد ایک دوسرے کے جذبات کا خیال رکھنا ہے۔ جوڑے کو نہ صرف ایک دوسرے کی جدوجہدوں کو تسلیم کرنا چاہیے بلکہ ان کی حمایت اور حوصلہ افزائی بھی کرنی چاہیے۔ ایک دوسرے کا خیال رکھنا اور پیار کرنا ایک کامیاب رشتے کی روح ہے۔ یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ جسمانی طاقت ذہانت کی علامت نہیں ہے۔ ایک صحت مند رشتے کے لیے ضروری ہے کہ دونوں فریق مل کر مسائل کا حل نکالیں اور سوچ سمجھ کر فیصلے کریں۔ کسی پر بھی اپنی مرضی مسلط کرنے کی کوشش نہ صرف رشتے کو کمزور کرتی ہے بلکہ اس میں تلخیا بھی پیدا کرتی ہے۔ سماجی کرداروں کی بنیاد پر کسی کا استحصال رشتے کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ثقافتی پس منظر اور تعصبات اس بات کو متاثر کرتے ہیں کہ ہم صنفی کرداروں کو کیسے دیکھتے ہیں۔ مردوں کو اپنے تعصبات سے آگاہ ہونا چاہیے اور اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ سماجی رویے خواتین کو کس طرح منفی طور پر متاثر کرتے ہیں۔ باپ، بھائی یا شوہر جیسے کرداروں میں مرد کی حمایت خواتین کے لیے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔جب بات قربت کی آتی ہے تو، خواتین اس بات کی تعریف کرتی ہیں جب مرد ہر چیز کو جنسی تعلقات سے جوڑ کر نہ دیکھیں۔ اچھے سلوک کو کسی غرض سے کیا گیا رویہ نہ سمجھا جائے۔ خواتین کو حقیقی تعاون اور مہربانی کی اہمیت ہوتی ہے جو جنسی توقعات سے وابستہ نہ ہو۔ احترام، سمجھ اور تعاون وہ بنیادی ستون ہیں جن کی بنیاد پر عورت ایک مرد میں تلاش کرتی ہے۔

  • یہ محبت کی کہانی نہیں مرتی لیکن

    یہ محبت کی کہانی نہیں مرتی لیکن

    یہ محبت کی کہانی نہیں مرتی لیکن
    لوگ کردار نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں

    عباس تابش

    تاریخ پیدائش:15 جون 1961ء

    اردو کے مشہور شاعر عباس تابش 15جون 1961ء کو میلسی ضلع وہاڑی میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے 1977ء میں میلسی سے میٹرک کیا اور مختلف مقامی اخبارات کے لیے کام کرنے لگے۔ 1981ء میں پرائیویٹ طور پر ایف اے کیا اور لاہور آ کر روزنامہ جنگ میں ملازمت اختیار کر لی۔ انھوں نے دوران ملازمت 1984ء میں بی اے کیا۔ 1986ء میں گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے اردو کرنے کے بعد بطور لیکچرار ملازمت کا آغاز کیا۔ آپ مختلف کالجز میں فرائض انجام دیتے رہے اور آج کل گورنمنٹ کالج گلبرگ لاہور کے شعبہ اردو کے سربراہ ہیں۔ آپ دوران تعلیم گورنمنٹ کالج لاہور میں رسالہ ’’راوی‘‘ کے ایڈیٹر رہے۔ آپ دوبئی‘ ناروے‘ آسٹریلیا، مسقط، شارجہ، برطانیہ، ہندستان، امریکا کے متعدد مشاعروں میں شرکت کر چکے ہیں۔ اردو میں ماسٹر کر رکھا ہے۔ اب تک پانچ شعری تصانیف منظر عام پر آچکی ہیں اور ایک شعری انتخاب آ چکا ہے۔ تصانیف میں1۔ تمہید 2۔ آسمان 3۔ مجھے دعاؤں میں یاد رکھنا 4۔ پروں میں شام ڈھلتی ہے 5۔ عشق آباد (کلیات) 6۔ جب تیرا ذکر غزل میں آئے (انتخاب) شامل ہیں۔ اب تک مختلف ملکی و غیر ملکی اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔ عباس تابش آج کی غزل کے نمائندہ شعرا ء میں سے ہیں۔ عباس تابش کی شاعری کا انتخاب ’’سلسلہ دلداری کا‘‘شکیل جاذب نے کیا ہے۔ دیباچہ معروف نقاد اور ڈراما نگار اصغر ندیم سید نے لکھا ہے۔ کتاب میں شامل شاعری عباس تابش کی کتابوں تمہید، آسمان، مجھے دعائوں میں یاد رکھنا، پروں میں شام ڈھلتی ہے اور رقص درویش‘‘ سے لی گئی ہے۔

    جناب احمد ندیم قاسمی صاحب عباس تابش کے بارے میں لکھتے ہیں۔
    ’’عباس تابش کے نزدیک شعر ایک ذاتی واردات کا درجہ رکھتا ہے۔ وہ اسے کوئی نظریہ یا کوئی فلسفہ نہیں سمجھتا‘ اگر اس کے اشعار پڑھتے ہوئے آپ پر بھی وہی کیفیات وارد ہوتی چلی جائیں تو ٹھیک ہے ورنہ دوسری صورت میں عباس تابش آپ کو مجبور تامل نہیں کرے گا کہ یہ اس کا مسلک نہیں۔ وہ تو اپنی بات اپنے انداز میں کرتا چلا جاتا ہے۔ کوئی اس کے تجربے کا حصہ دار ٹھہرتا ہے تو ٹھیک ہے اور اگر کوئی اس کے تجربے کا حصہ دار نہیں بن پاتا تو بھی ٹھیک ہے کہ عباس تابش اپنی طبیعت میں نیاز رکھتے ہوئے بھی ذرا ہٹ دھرم واقع ہوا ہے۔‘‘
    ان کا ایک شعر عوام الناس میں بہت مشہور ہوا۔
    ایک مدت سے مری ماں نہیں سوئی تابشؔ
    میں نے اک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے

    معروف کالم نگار فرخ شہباز وڑائچ لکھتے ہیں کہ عباس تابش کی ہر غزل میں زندہ شعر ملتا ہے،بلاشبہ عباس تابش موجودہ غزل کا نمائندہ شاعر ہے۔ عباس تابش کا ماں جیسی عظیم ہستی پر لکھا گیا ایک شعر کئی شعرا کی کلیات پر بھاری ہے۔ عباس تابش میرے دکھ درد کے ساتھی ہیں اور مجھے ان کی شاگردی پر فخر ہے۔

    متفرق اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔
    یہ محبت کی کہانی نہیں مرتی لیکن
    لوگ کردار نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں

    ایک مدت سے مری ماں نہیں سوئی تابشؔ
    میں نے اک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے

    ہم ہیں سوکھے ہوئے تالاب پہ بیٹھے ہوئے ہنس
    جو تعلق کو نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں

    تیری روح میں سناٹا ہے اور مری آواز میں چپ
    تو اپنے انداز میں چپ ہے میں اپنے انداز میں چپ

    فقط مال و زر دیوار و در اچھا نہیں لگتا
    جہاں بچے نہیں ہوتے وہ گھر اچھا نہیں لگتا

    ہجر کو حوصلہ اور وصل کو فرصت درکار
    اک محبت کے لیے ایک جوانی کم ہے

    آنکھوں تک آ سکی نہ کبھی آنسوؤں کی لہر
    یہ قافلہ بھی نقل مکانی میں کھو گیا

    گھر پہنچتا ہے کوئی اور ہمارے جیسا
    ہم ترے شہر سے جاتے ہوئے مر جاتے ہیں

    مجھ سے تو دل بھی محبت میں نہیں خرچ ہوا
    تم تو کہتے تھے کہ اس کام میں گھر لگتا ہے

    اگر یونہی مجھے رکھا گیا اکیلے میں
    بر آمد اور کوئی اس مکان سے ہوگا

    بس ایک موڑ مری زندگی میں آیا تھا
    پھر اس کے بعد الجھتی گئی کہانی میری

    میں اپنے آپ میں گہرا اتر گیا شاید
    مرے سفر سے الگ ہو گئی روانی مری

    اک محبت ہی پہ موقوف نہیں ہے تابشؔ
    کچھ بڑے فیصلے ہو جاتے ہیں نادانی میں

    جھونکے کے ساتھ چھت گئی دستک کے ساتھ در گیا
    تازہ ہوا کے شوق میں میرا تو سارا گھر گیا

    عشق کر کے بھی کھل نہیں پایا
    تیرا میرا معاملہ کیا ہے

    مصروف ہیں کچھ اتنے کہ ہم کار محبت
    آغاز تو کر لیتے ہیں جاری نہیں رکھتے

    تری محبت میں گمرہی کا عجب نشہ تھا
    کہ تجھ تک آتے ہوئے خدا تک پہنچ گئے ہیں

    محبت ایک دم دکھ کا مداوا کر نہیں دیتی
    یہ تتلی بیٹھتی ہے زخم پر آہستہ آہستہ

    ورنہ کوئی کب گالیاں دیتا ہے کسی کو
    یہ اس کا کرم ہے کہ تجھے یاد رہا میں

    مدت کے باد خواب میں آیا تھا میرا باپ
    اور اوس نے مجھ حب الوطنی اتنا کہا خوش رہا کرو

    ابھی تو گھر میں نہ بیٹھیں کہو بزرگوں سے
    ابھی تو شہر کے بچے سلام کرتے ہیں

    تو بھی اے شخص کہاں تک مجھے برداشت کرے
    بار بار ایک ہی چہرہ نہیں دیکھا جاتا

    بولتا ہوں تو مرے ہونٹ جھلس جاتے ہیں
    اس کو یہ بات بتانے میں بڑی دیر لگی

    نہ خواب ہی سے جگایا نہ انتظار کیا
    ہم اس دفعہ بھی چلے آئے چوم کر اس کو

    میرے سینے سے ذرا کان لگا کر دیکھو
    سانس چلتی ہے کہ زنجیر زنی ہوتی ہے

    رات کمرے میں نہ تھا میرے علاوہ کوئی
    میں نے اس خوف سے خنجر نہ سرہانے رکھا

    ہم جڑے رہتے تھے آباد مکانوں کی طرح
    اب یہ باتیں ہمیں لگتی ہیں فسانوں کی طرح

    بیٹھے رہنے سے تو لو دیتے نہیں یہ جسم و جاں
    جگنوؤں کی چال چلیے روشنی بن جائیے

    پھر اس کے بعد یہ بازار دل نہیں لگنا
    خرید لیجئے صاحب غلام آخری ہے

    جس سے پوچھیں ترے بارے میں یہی کہتا ہے
    خوب صورت ہے وفادار نہیں ہو سکتا

    پہلے تو ہم چھان آئے خاک سارے شہر کی
    تب کہیں جا کر کھلا اس کا مکاں ہے سامنے

    وقت لفظوں سے بنائی ہوئی چادر جیسا
    اوڑھ لیتا ہوں تو سب خواب ہنر لگتا ہے

    پس غبار بھی اڑتا غبار اپنا تھا
    ترے بہانے ہمیں انتظار اپنا تھا

    التجائیں کر کے مانگی تھی محبت کی کسک
    بے دلی نے یوں غم نایاب واپس کر دیا

    ان آنکھوں میں کودنے والو تم کو اتنا دھیان رہے
    وہ جھیلیں پایاب ہیں لیکن ان کی تہہ پتھریلی ہے

    رات کو جب یاد آئے تیری خوشبوئے قبا
    تیرے قصے چھیڑتے ہیں رات کی رانی سے ہم

    میں جس سکون سے بیٹھا ہوں اس کنارے پر
    سکوں سے لگتا ہے میرا قیام آخری ہے

    ہمارے جیسے وہاں کس شمار میں ہوں گے
    کہ جس قطار میں مجنوں کا نام آخری ہے

    میں ہوں اس شہر میں تاخیر سے آیا ہوا شخص
    مجھ کو اک اور زمانے میں بڑی دیر لگی

    یہ زندگی کچھ بھی ہو مگر اپنے لئے تو
    کچھ بھی نہیں بچوں کی شرارت کے علاوہ

    ملتی نہیں ہے ناؤ تو درویش کی طرح
    خود میں اتر کے پار اتر جانا چاہئے

    یہ موج موج بنی کس کی شکل سی تابشؔ
    یہ کون ڈوب کے بھی لہر لہر پھیل گیا

    ہمیں تو اس لیے جائے نماز چاہئے ہے
    کہ ہم وجود سے باہر قیام کرتے ہیں

    طلسم خواب سے میرا بدن پتھر نہیں ہوتا
    مری جب آنکھ کھلتی ہے میں بستر پر نہیں ہوتا

    دے اسے بھی فروغ حسن کی بھیک
    دل بھی لگ کر قطار میں آیا

    یہ زمیں تو ہے کسی کاغذی کشتی جیسی
    بیٹھ جاتا ہوں اگر بار نہ سمجھا جائے

    مکیں جب نیند کے سائے میں سستانے لگیں تابشؔ
    سفر کرتے ہیں بستی کے مکاں آہستہ آہستہ

    کچھ تو اپنی گردنیں کج ہیں ہوا کے زور سے
    اور کچھ اپنی طبیعت میں اثر مٹی کا ہے

    موسم تمہارے ساتھ کا جانے کدھر گیا
    تم آئے اور بور نہ آیا درخت پر

    یہ تو اب عشق میں جی لگنے لگا ہے کچھ کچھ
    اس طرف پہلے پہل گھیر کے لایا گیا میں

    اس کا مطلب ہے یہاں اب کوئی آئے گا ضرور
    دم نکلنا چاہتا ہے خیر مقدم کے لیے

    نہال درد یہ دن تجھ پہ کیوں اترتا نہیں
    یہ نیل کنٹھ کہیں تجھ سے بد گماں ہی نہ ہو

    شب کی شب کوئی نہ شرمندۂ رخصت ٹھہرے
    جانے والوں کے لیے شمعیں بجھا دی جائیں

    میرا رنج مستقل بھی جیسے کم سا ہو گیا
    میں کسی کو یاد کر کے تازہ دم سا ہو گیا

    سن رہا ہوں ابھی تک میں اپنی ہی آواز کی بازگشت
    یعنی اس دشت میں زور سے بولنا بھی اکارت گیا

    خوب اتنا تھا کہ دیوار پکڑ کر نکلا
    اس سے ملنے کے لیے صورت سایہ گیا میں

  • پرامن اور خوبصورت حج انتظامات، تحریر:ڈاکٹر حافظ  مسعود عبدالرشید اظہر

    پرامن اور خوبصورت حج انتظامات، تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود عبدالرشید اظہر

    حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیھماالسلام نے جب کعبة اللہ کی تعمیر فرمائی اور حکم ربی سے حج بیت اللہ کااعلان کیاتو اس کے بعد ایک عرصہ تک یقیناانسانوں کےلئے بیت اللہ کاسفر محفوظ اور پرسکون رہا ہوگاتاہم جیسے جیسے انسانی آبادی میں اضافہ ہوتا چلاگیا لوگ آسمانی مذاہب سے دور اور خواہشات کے اسیر ہوتے چلے گئے تو حج کے راستے بھی پرخطر ہوتے چلے گئے ۔ یہاں تک جب اسلام کوہ فاران کی چوٹیوں سے ضیا فگن ہوا تواسلام نے حجاز اور سرزمین حرمین کو امن وامان کامثالی گہوارہ بنا دیا ۔ امن وامان کی یہ مقدس رداکئی صدیوں تک سرزمین حجاز پر سایہ فگن رہی اور لوگ مکمل اطمینان کے ساتھ حج وعمرہ کے مناسک بجالاتے رہے درمیان میں اگر چہ حجاج کرام کےلئے بہت مشکل وقت بھی آتے رہے ہیں ۔

    حرمین شریفین اور حجاج کرام کی خدمت کے حوالے سے خلافت عثمانیہ کا دور بھی مثالی رہاہے تاہم جب خلافت عثمانیہ کی گرفت کمزور ہوئی تو سرزمین حجاز میں ابتری پھیل گئی ، راستے پر خطر ہوگئے ، حجاز کے شہر، دیہات اورعام شاہرائیں بھی محفوظ نہ رہیں ۔ حجاج کرام ڈاکوﺅں کے ہاتھوں لٹنے اغواہونے اور قتل کئے جانے لگے ۔راستے اس قدر پرخطر تھے کہ جو سفر حج کا ارادہ کرتے وہ اپنے تمام معاملات زندگی سمیٹ کر دوست احباب رشتہ داروں سے معافی تلافی کر کے کفن باندھ کر سفر حج پر نکلا کرتے تھے اس دور میں یہ تصور عام تھا کہ سفر حج سے واپسی کی امید نہیں رکھنی چاہیے ۔جو حجاج کرام ڈاکوﺅں کے ہاتھوں لٹنے سے بچ کر بیت اللہ پہنچ جاتے وہاں بیشمارو لاتعداد مشکلات ان کا استقبال کرتیں۔حالت یہ تھی کہ حجاج کرام کو مکہ مکرمہ اور حدود حرم میں بھی تحفظ حاصل نہ تھا۔کیونکہ مکہ اور اس کے گرد ونواح میں ڈاکوﺅں اور لٹیروں کا راج تھا۔

    پھر اللہ رب العزت والجلال کو اپنے بندوں پر رحم آیااور اطراف عالم سے تشریف لانے والے اپنے مہمانوں اور بیت اللہ کے زائرین کی حفاظت کا بندوبست اس طرح سے کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک موحد، مجاہد،بہادر ،دین کے داعی، امن کے سپاہی اور انصاف پسند بندے شاہ عبدالعزیز آل سعود کو حرمین شریفین اور حجاج کرام کی خدمت کے لئے منتخب فرمایا۔شاہ عبدالعزیز آل سعود نے مکہ مکرمہ ، مدینہ منورہ اور مضافات کے تمام علاقوں میں شریعت محمدی کے نفاذ کا اعلان کیا،حدود اللہ ، نظام قصاص ودیت کا اجرا کیا اور یہ حکم صادر فرمایا کہ حجاج کرام ضیوف الرحمن کو لوٹنے، قتل کرنے والے مجرموں کیساتھ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ کے مطابق سلوک کیا جائے گا چاہئے اس کا تعلق کتنے ہی بڑے قبیلے سے کیوں نہ ہو ۔شاہ عبدالعزیز نے اس کے ساتھ یہ اعلان بھی کیا کہ آج کے بعد اگر کسی بھی شخص ، کسی بھی گروہ یا قبیلہ نے یا قبیلہ کے کسی فرد نے حجاج کرام کو لوٹنے کی کوشش کی تو اس کے ساتھ سختی سے نمٹاجائے گا جو قبیلہ ایسے فرد کو پناہ دے گا اس قبیلے کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جائے گا جو مجرموں کے ساتھ کیا جاتا ہے ۔ ۔حقیقتاََ ہوا بھی ایسے ہی حجاج کرام کو لوٹنے والے کتنے ہی ڈاکوﺅں ، لیٹروں ، رہزنوں اور قاتلوں کی بستیاں جلادی گئیں اس سے سفر حج پرامن ہوگیا ۔

    شاہ عبدالعزیز مرحوم کی وفات کے بعدان کی اولاد اور جانشین اپنے والدکے نقش قدم پرچلتے ہوئے آج تک ان سنہری روایات کو قائم رکھے ہوئے ہیں۔اب حج انتظامات کو مزید بہتر بنانے اور حجاج کرام کو ان کے ملکوں میں سہولیات فراہم کرنے کےلئے خادم الحرمین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان کی ہدایت پر روڈ ٹو مکہ جیسے عظیم الشان اور تاریخ ساز پراجیکٹ شروع کردیا گیا ہے ۔ روڈٹومکہ کے تحت پاکستان سمیت پانچ مسلم اکثریتی ممالک کے عازمین حج کے امیگریشن کے مراحل ان کے اپنے ملک کے ہوائی اڈوں ہی پر مکمل کیے جارہے ہیں۔پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے ائیرپورٹ کراچی ائیرپورٹ ، جبکہ لاہور ائیرپورٹ سے اگلے سال شروع ہوجائے گا ۔ اسی طرح انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ کے سوئیکارنو ائیرپورٹ ، ملائشیا کے دارلحکومت پتراجایا ائیرپورٹ ، بنگلہ دیش کے ڈھاکہ ائیرپورٹ اور تیونس کے ائیرپورٹ سے روڈ ٹومکہ کاآغاز کردیا گیا ہے ۔اس سہولت کافائدہ یہ ہوگاکہ سعودی عرب میں آمد سے قبل ہی حجاج کے سعودی عرب میں داخلے اور دیگر انتظامات کو حتمی شکل دے دی جائے گی تا کہ انھیں سعودی عرب میں کسی بھی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے اور وہ بلارکاوٹ اپنی قیام گاہوں پرمنتقل ہوسکیں ۔ پاکستان میں یہ سہولت لاہور ائیرپورٹ اور کراچی ائیرپورٹ پر بھی فراہم کرنے کےلئے منصوبہ بندی کی جارہی ہے ۔ اس سے یقینا حجاج کرام اور معتمرین کو بہت زیادہ سہولت دستیاب ہوگی ۔

    حقیقت یہ ہے کہ آل سعود نے مملکت سعودی عرب کے وسائل کا ایک بڑا حصہ حرمین شریفین ،مشاعر مقدسہ اور حجاج کرام کے لئے وقف کیا، سعودی وزارت حج اور دیگر محکمے سال بھر خوب سے خوب تر کی تلاش میں جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے حجا ج کرام کی خدمت اور سہولےا ت کی فراہمی کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔آج حجاج کرام اور زائرین حرمین شریفین کے آرام وراحت اور پرسکون و پرامن طریقہ سے مناسک حج کی ادائیگی کے لئے جو وسیع تراور خوبصورت انتظامات کئے گئے ہیں ان کو دیکھتے ہوئے ہم پورے وثوق سے کہہ سکتے ہیںکہ ہر انصاف پسند شخص حرمین شریفین کے خوبصورت، وسیع تر انتظامات اور آل سعود کی حجاج کرام اور معتمرین کے لئے خدمات میں کوئی کمی یا کوتاہی کی شکایت نہیں کرسکتا ۔الحمد للہ نہ ہی آج تک کسی سلیم الفطرت شخص کو ایسا کرتے دیکھا یا سنا ہے ۔

    البتہ کچھ عناصر کو سعودی حکومت کے حج انتظامات پسند نہیں آتے ۔ وہ حج انتظامات کے خلاف پروپگنڈہ شروع کردیتے ہیں اورحج انتظامات عالمی کمیٹی کے سپرد کرنے کے راگ الاپنا شروع کردیتے ہیں ۔ یہ عناصر پہلے بھی ناکام تھے اور آئندہ بھی ناکام ہی رہیں گے ۔امت مسلمہ کا ہر سلیم الفطرت فرد وہ کسی بھی خطہ زمین یا کسی بھی نسل یا قوم سے تعلق رکھتا ہووہ حرمین شریفن کی تعمیر وترقی ، حجاج کرام اور معتمرین کی خدمت کے لئے سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود ، انکے جانشین شہزادہ محمد بن سلمان اور دیگر سعودی حکام جو حرمین شریفین اور زائرین حرمین شریفین کی خدمت کے لئے دن رات کوشاں رہتے ہیںکے ممنون ہیں اور انکی خدمات پر مکمل اطمینان کا اظہار کرتے ہیں ۔بے مثال عدیم النظیر حج انتظامات ، حرمین شریفین کی تعمیر وترقی، حجاج بیت اللہ کے آرام وسکون اور خدمت کے لئے اپنے تمام تر وسائل اور صلاحیتیں وقف کرنے پر امت مسلمہ کی طرف سے ہم خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز، ان کے جانشین شہزادہ محمد بن سلمان، سعودی وزارت حج اور دیگر سعودی حکام کے صدق دل سے شکر گزار ہیں اور انکی خدمات کو تحسین کی نظرسے دیکھتے ہیں اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سمیت تمام سعودی حکام کی حفاظت فرمائے ،اور انہیں توفیق مزید سے نوازے آمین یا رب العالمین۔
    hafi masood ahar

  • ایران کا اگلا صدر کون ہوگا؟

    ایران کا اگلا صدر کون ہوگا؟

    ایران میں 28 جون کو صدارتی انتخابات ہو رہے ہیں، ایران کی گارڈین کونسل نے چھ امیدواروں کی منظوری دی ہے جس میں سے تین سخت گیر،دو عملی قدامت پسند، اور ایک اصلاح پسند ہے، توقع کی جاتی ہے کہ روایت پسند ووٹ پہلے پانچ امیدواروں میں تقسیم ہو جائیں گے، اگر ووٹر ٹرن آؤٹ زیادہ رہا تو اصلاح پسندوں کو ممکنہ طور پر موقع ملے گا

    ایرانی صدارتی امیدواروں میں سرکردہ امیدوار محمد باقر قالیباف ہیں، جو پاسداران انقلاب کے سابق جنرل، پولیس چیف، اور تہران کے میئر کے طور پر مضبوط پس منظر کے حامل ہیں۔ اس وقت پارلیمنٹ کے عملی قدامت پسند اسپیکر اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے رشتہ دار قالیباف حکومت کے اندر ایک نمایاں شخصیت ہیں۔ایک اور قابل ذکر امیدوار سعید جلیلی ہیں، جو خامنہ ای اور طاقتور اسلامی انقلابی گارڈ کور ے قریبی تعلقات رکھنے والے سخت گیر ہیں۔ اگرچہ قالیباف کو زیادہ اعتدال پسند سمجھا جاتا ہے، تا ہم جلیلی کا سخت گیر موقف انہیں ایک اہم دعویدار بناتا ہے۔

    زیادہ تر امیدوار سپریم لیڈر خامنہ ای کے ساتھ ایک سخت گیر اسلامی نظریہ رکھتے ہیں۔ تاہم تبریز سے رکن پارلیمنٹ مسعود پیزشکیان ایک اعتدال پسند کے طور پر نمایاں ہیں۔ پیزیشکیان، جو کہ نسلی طور پر آذری ہیں، سخت گیر لوگوں کی مخالفت کرنے والوں سے ووٹ حاصل کر سکتے ہیں، خاص طور پر شمال مشرق میں جہاں بہت سے ترکی بولنے والے آذری باشندے رہتے ہیں۔انکے پس منظر کے مطابق وہ ایک سرجن، سیاست دان، اور علاقائی خودمختاری کے حامی ہیں .ولی نصر نے ایک حالیہ ٹویٹ میں پیزشکیان کے منفرد پروفائل پر روشنی ڈالی، اس کے آذری ،کرد ورثے، دونوں زبانوں میں روانی، اور ان کے اصلاحی موقف کو نوٹ کیا۔

    ایرانی صدارتی انتخابات میں نتائج کے باوجود توقع کی جاتی ہے کہ ایرانی پالیسی کی مجموعی سمت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی، کیونکہ اسلامی جمہوریہ صدارتی فاتح سے قطع نظر اپنی قائم کردہ رفتار کو جاری رکھے ہوئے ہے۔