Baaghi TV

Category: بلاگ

  • تبصرہ کتب، اسلامی قانون وراثت

    تبصرہ کتب، اسلامی قانون وراثت

    نام کتاب : اسلامی قانون وراثت
    تالیف: مولاناابونعمان بشیر احمد
    صفحات : 104
    قیمت :300روپے
    ناشر : دارالسلام انٹرنیشنل ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ ، لوئر مال ، لاہور
    برائے رابطہ : 042-37324034ن
    علم میراث کا شمار علم فرائض میں ہوتا ہے ۔جبکہ ہمارے ہاں اس اہم ترین علم ۔۔۔۔۔یعنی علم میراث کو بالکل ہی نظر انداز کردیا گیا ہے ۔ اکثر علمائے کرام بھی اس سے بے بہرہ ہیں ، حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے علم میراث کے متعلق بہت تاکید فرمائی ہے ۔ فرمان نبوی کا ترجمہ ہے ” علم وراثت سیکھو اور دوسروں کو بھی سکھاﺅ کیونکہ جلد ہی میری موت واقع ہوجائے گی ، علم فرائض بھی اٹھالیاجائے گا ، فتنے ظاہر ہوں گے یہاں تک کہ دو آدمی کسی مقررہ حصے میں اختلاف کریں گے اور کوئی آدمی ایسا نہیں پائیں گے جو ان میں فیصلہ کرسکے ۔“ اس حدیث سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ علم میراث کو سیکھنا اور سمجھنا کس قدر ضروری ہے ۔ موت اور میراث کاچولی دامن کا ساتھ ہے ۔ موت اٹل ہے تو میراث کے مسائل ومعاملات بھی ناگزیر ہیں ۔ یہ مسائل ومعاملات کس طرح حل کئے جائیں ۔۔۔۔؟ اس سے بیشتر لوگ آگاہ نہیں ہیں حالانکہ اسلام میں میراث کے تمام مسائل کے انتہائی اطمینان بخش جوابات موجود ہیں ۔عام لوگوں کی تو بات ہی کیا ۔۔۔۔؟ اکثر علمائے کرام بھی میراث کے مسائل سے آشنا نہیں ہیں ۔ اسی ضرورت کے پیش نظر دارالسلام نے ” اسلام کا قانون وراثت “ کے نام سے یہ کتاب شائع کی ہے ۔ کتاب کے مﺅلف مولانا ابونعمان بشیر احمد ہیں جبکہ شیخ الحدیث ، محدث دوراں حافظ عبدالستار الحماد نے نہ صرف موضوع کے حوالے سے گرانقدر تحقیقی مواد فراہم کیا ہے بلکہ اس کتاب کے مسودے پر نظر ثانی کی ذمہ داری بھی احسن طور پر ادا کی ہے اس طرح سے اس کتاب کی علمی اہمیت دو چند ہوگئی ہے ۔ یہ کتاب سادہ اور عام فہم اسلوب میں لکھی گئی ہے تاکہ علما ، اساتذہ کے ساتھ ساتھ طلبہ اور عام لوگ بھی اس سے مستفید ہوسکیں ۔عام طور پر اسلام کے قانون وراثت کو ایک مشکل اور پیچیدہ علم سمجھا جاتا ہے جبکہ اس کتاب میں جو عام فہم اور سادہ اسلوب اختیار کیا گیا ہے اس سے یہ بات آشکاراہوتی ہے کہ میراث کا علم ہرگز مشکل نہیں ۔ کتاب میں سوال وجواب کا انداز اختیار کیا گیا اس سے یہ کتاب مزید مفید طلب اور عام فہم ہوگئی ہے ۔ کتاب میں جہاں اسلام کے احکام میراث پر بات کی گئی ہے وہاں حقیقت بھی واضح کی گئی کہ اسلامی احکام میراث عدل وانصاف پر مبنی ہیں جو کہ تنازعات کے امکانات ختم کردیتے ہیں اور پرامن فلاحی معاشرے کی بنادیں مستحکم کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں ۔

    زیر تبصرہ کتاب ” اسلامی قانون وراثت “ کے مطالعہ سے یہ حقیقت بھی واضح ہوتی کہ اسلام تنازعاتِ ملکیت کو خوش اسلوبی سے اور انتہائی بروقت طے کرنے کی تعلیم وتربیت دیتا ہے ۔ کتاب میں درج ذیل موضوعات کو زیر بحث بنایا گیا ہے : علم میراث کی تعریف ، علم میراث کا موضوع اور غرض وغایت ، میت کا ترکہ ورثا میں کب تقسیم کیا جائے ؟وہ اسباب جن کی وجہ سے وارث وراثت سے محروم کردیا جاتا ہے ؟ مال میراث میں مقررہ حصے اور ان کی تقسیم ، میت کے وہ رشتے دار جن کے حصے وراثت میں متعین نہیں ان رشتے داروں کےلئے اسلام میں کیا احکام ہیں ۔۔۔۔۔؟ تقسیم ترکہ کا طریقہ کارکیا ہے ۔۔۔؟ محنث کا وراثت میں حصہ ۔۔۔۔؟ وہ گم شدہ شخص جس کے زندہ یا فوت ہونے کا علم نہ ہوسکے اس کےلئے احکام وراثت ۔۔۔۔؟ میت کے وہ کون سے رشتے دار ہیں جن کے حصے وراثت میں متعین نہیں ، کن صورتوں میں ورثا کے مقررہ حصوں میں کمی واقع ہوجاتی ہے ، میت کا ترکہ تقسیم ہونے سے پہلے اس کے ورثا میں سے ایک یا ایک سے زیادہ فوت ہوجائیں تو ایسی صورت میں ترکہ کی تقسیم کیسے ہوگی ۔۔۔؟وہ گمشدہ شخص جس کے زندہ یا مردہ ہونے کے بارے میں علم نہ ہوسکے تو اس کےلئے کیا احکام ہیں ، عاق نامے کی شرعی حیثیت ، یتیم پوتے کی وراثت کا مسئلہ ۔ کتاب میں میت کے تمام ورثا کے حصے نکالنے کا طریقہ کار بھی بتایا گیا ہے اسی طرح ایک تفصیلی نقشہ بھی دیا گیا ہے جس سے وراثت کے تمام مسائل اور حصوں کو سمجھنا مزید آسان ہوگیا ہے ۔ دریں اثنا ان تمام وجوہات کی بناپر یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ یہ کتاب اپنے موضوع پر لاجواب اور باکمال کتاب ہے اس کتاب کا مطالعہ ہر مرد وعورت کےلئے بے حد ضروری ہے ۔

  • تبصرہ کتب،عشرہ مبشرہ کی زندگیوں کے سنہرے واقعات

    تبصرہ کتب،عشرہ مبشرہ کی زندگیوں کے سنہرے واقعات

    زیر تبصرہ کتاب ” عشرہ مبشرہ کی زندگیوں کے سنہرے واقعات “اپنے موضوع پر بہت ہی خوبصورت ، مفید اور جامع کتاب ہے جسے عبدالمالک مجاہد نے مرتب کیا ہے ۔یہ کتاب خاص کر بچوں ، بچیوں ، طلبہ وطالبات کےلئے مرتب کی گئی ہے تاہم اس کتاب کا مطالعہ بچوں کے ساتھ ساتھ بڑوں کےلئے بھی بے حدضروری اور مفید ہے ۔ یہ کتاب دارالسلام انٹرنیشنل نے آرٹ پیپر ، دیدہ زیب سرورق اور چہار کلر کے ساتھ شائع کی ہے ۔ کتاب کاانداز بیاں سادہ اورسلیلس ہے ۔ یوں تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم کے حالات زندگی کا مطالعہ ہر دور میں ہی ضروری رہا لیکن موجودہ دور میں اس کی ضرورت بے حد بڑھ چکی ہے ۔ یہ بات معلوم ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم وہ خوش نصیب جنھوں نے رسول مقبول ﷺ کے سایہ نبوت میں تربیت پائی ، ان میں دس اصحاب وہ تھے جنھیں آپ ﷺ نے دنیا ہی میں جنتی ہونے کی بشارت دے دی تھی ۔ اس لیے انھیں عشرہ مبشرہ کہا جاتا ہے ۔ان عظیم المر تبت صحابہ کرام میں چار تو خلفائے راشدین ہیں ، یعنی سیدنا ابوبکر ، سیدنا عمر ، سیدنا عثمان اور سیدنا علی رضوان اللہ علیھم شامل ہیں ۔ ان کے علاوہ سیدنا زبیر بن عوام ، سیدنا طلحہ بن عبید اللہ ، سیدنا عبد الرحمن بن عوف ، سیدنا سعد بن ابی وقاص ، سیدنا سعید بن زید اور سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضوان اللہ علیھم کے اسمائے گرامی عشرہ مبشرہ میں شامل ہیں ۔ یہ سب امت مسلمہ کے لیے روشنی کے مینار ہیں جن کے بارے میں وقتاََ فوقتاََ سید المر سلین ﷺ کی زبان فیض ترجمان سے نکلے ہوئے الفاظ ان کی عظمت و مرتبت ، خوبی کردار اور شان ہدایت کی عکاسی کرتے ہیں ۔

    چاروں خلفائے راشد ین کا بابرکت عہد ” خلافت ِ راشدہ “ کہلاتا ہے جو ملت اسلامیہ کے لیے سیاست و حکومت ، معیشت و عدالت اور نظام ِ مملکت کا بہترین نمونہ ہے اور تاریخ عالم میں اس کی نظیر نہیں ملتی ۔ دنیا بھر میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صداقت و عزیمت ، سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی عدالت و فراست ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی سخاوت و کرامت اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شجاعت و استقامت کی مثالیں دی جاتی ہیں ۔ خلفائے راشدین رضوان اللہ علیھم نے جو فلاحی ریاست قائم کی ، دنیا کی ڈیڑھ ہزار سالہ تاریخ میں کوئی قوم اور کوئی معاشرہ ایسی فلاحی جمہوری ریاست قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا ۔ خلفائے راشدین کے عہد ِ مسعود میں شام ، عراق ، ایران ، خراسان ، فلسطین ، مصر اور طرابلس یکے بعد دیگرے فتح ہوتے چلے گئے ۔جبکہ اصحاب عشرہ مبشرہ میں سے محاذ شا م کے فاتح سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ اور عراق و ایران کے فاتح سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ تھے ۔طلبہ و طالبات کی تعلیمی و تربیتی ضرورت کے پیش نظر انھیں عشرہ مبشرہ کی پاکیزہ زندگی سے متعارف کرانے کے لیے زیر نظر کتاب میں اس امت کی دس بہترین شخصیات کے عملی نمونے پیش کیے گئے ہیں ، تاکہ ان عظیم ہستیوں کے حسن سیرت کے آئینے میں وہ اپنی راہ ِ عمل متعین کر سکیں ۔” عشرہ مبشرہ رضی اللہ عنھم کی زندگیوں کے سنہرے واقعات “ اتنی مفید اور خوبصورت کتاب کہ جو بچوں بچیوں کو بطور گفٹ بھی دی جاسکتی ہے ۔ امید ہے کہ یہ کتاب پڑھ کر صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم کی زندگی کے روشن روشن واقعات ہماری نوجوان نسل کے لیے رہنما ثابت ہوں گے ۔ اس سے نہ صرف ہمارے بچوں بچیوں کی اسلامی تعلیمات میں اضافہ ہوگا بلکہ اپنے حال اور مستقبل کو سنوارنے میں مدد بھی ملے گی ۔ یہ کتاب ہر گھر اور ہر لائبریری کی ضرورت ہے ۔ کتاب کی قیمت 450روپے ہے ۔ یہ کتاب دارالسلام کے مرکزی شوروم لوئر مال نزد سیکرٹریٹ سٹاپ لاہور 042-35324034دارالسلام کراچی مین طارق روڈ 0321-7796677دارالسلام اسلام آباد مرکز ایف ایٹ051-2281513پر دستیاب ہے ۔

  • تبصرہ کتب،نونہالوں کے لیے سنہرے اذکار

    تبصرہ کتب،نونہالوں کے لیے سنہرے اذکار

    زیر تبصرہ کتاب”نونہالوں کے لیے سنہرے اذکار “ بطور خاص ننھے منے بچوں بچیوں کے لیے لکھی گئی ہے۔ اس کتاب کے مﺅلف عبدالمالک مجاہد ہیں۔ عبدالمالک مجاہد کا نام محتاج تعارف نہیں وہ دارالسلام انٹرنیشنل کے بانی ہیں اور لاتعداد وبے شمار کتابوں کے مصنف ہیں جن میں بڑی تعداد بچوں کی کتابوں کی ہے۔عبدالمالک مجاہد کہتے ہیں اس کتاب میں بچوں کے لیے نہایت ہی ضروری دعاﺅں کا انتخاب کیا گیا ہے۔ جو بچے بچیاں کم عمری میں ہی دعائیں اور اذکار سیکھ لیں گے اور انھیں یاد بھی کرلیں۔۔۔۔وہ دعائیں ساری زندگی ان کے کام آ ئیں گی۔دعائیں یاد کرنا اور اذکار پڑھنا سنت ہے، روحانی شفا اور مصائب وپریشانیوں سے نجات ہے۔ خود رسول اللہ ﷺ صبح وشام کے اذکار پڑھا کرتے تھے اور اپنے صحابہ کرام کو بھی اذکار یاد کرنے کی تلقین وترغیب کیا کرتے تھے۔زیر تبصرہ کتاب ’ ’نونہالوں کے لئے سنہرے اذکار “ روزہ مرہ کی اہم ترین دعاﺅں پر مشتمل ہے۔مثلاََ نیند سے بیدار ہونے کی دعا ، بیت الخلا میں داخل ہونے کی دعا ، بیت الخلا سے نکلنے کی دعا ،وضو سے پہلے کی دعا ، وضو کے بعد کی دعا ، سیرت وصورت بہتر بنانے کی دعا ، لباس پہننے کی دعا ، گھر سے نکلتے وقت کی دعا ، مسجد میں داخل ہونے کی دعا ، سلام پھیرنے کے بعد کی دعا ، مسجد سے نکلنے کی دعا ، گھر میں داخل ہوتے وقت کی دعا ، بیمار پرسی کے وقت کی دعائیں ، سیدالاستغفار ، جب بارش ہو تو کیا دعا مانگی جائے ، چاند دیکھنے کی دعا ، کھانا کھانے سے پہلے کی دعا ، کھانے سے فراغت کے بعد کی دعا ، چھینک کی دعائیں ، سواری پر بیٹھنے کی دعا ، بازار میں داخل ہونے کی دعا ، سوتے وقت کی دعا ۔

    اس کتاب کی آرٹ پیپر پر 4کلر باتصور طباعت اتنی عمدہ ، دلکش ، جاذب نظر اور خوبصورت ہے کہ جو بچہ بھی اسے دیکھ لے وہ اسے پڑھے بغیر نہیں رہ سکتااس طرح سے بچے کا دل خود بخود دعائیں یاد کرنے کی طرف راغب وآمادہ ہوگا ۔کتاب کی اہم ترین خصوصیات یہ ہیں کہ تقریباََ ہر دعا کے ساتھ ضروری ہدایات بھی درج کی گئی ہیں ۔ مثلاََ بیت الخلا میں داخل ہونے والی دعا کے ساتھ بتایا گیا ہے کہ پہلے بایاں پاﺅں اندر رکھا جائے ۔دعا واش روم میں داخل ہونے سے پہلے پڑھی جائے ۔ واش روم میں باتیں نہ کی جائیں ۔ واش روم میں قبلہ کی طرف منہ کرکے نہ بیٹھا جائے ۔ خود کو پانی سے پاک کیا جائے ۔ قضائے حاجت کے بعد واش روم صاف کرنے کے لیے پانی والا لیور ضرور دبایا جائے ۔اسی طرح دیگر دعاﺅں کے ساتھ بھی ضروری ہدایات دی گئی ہیں ۔ ہر دعا کے ساتھ حدیث کی کتاب کانام اور حدیث نمبر بھی درج کیا گیا ہے ۔ یوں اس کتاب کی اہمیت اور افادیت کئی گنا بڑھ گئی ہے ۔ کتاب کی اہمیت وافادیت کو دیکھتے ہوئے یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے اس کتاب کا ہر گھر میں اور ہر بچے کے پاس ہونا بے حد ضروری ہے ۔ اس کتاب کا مطالعہ نہ صرف بچوں بلکہ والدین کے لیے بھی بے حد مفید ہے۔ یہ بات معلوم ہے کہ اس وقت مسلم والدین کو جو بڑے بڑے مسائل درپیش ہیں ان میں سے اہم ترین مسئلہ بچوں کی تربیت کا ہے۔ والدین بچوں کی تربیت کے حوالے سے بے حد پریشان رہتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کی تعلیم وتربیت کے حوالے سے غفلت کرتے ہیں۔ بلاشبہ بچوں کی اسلامی اور اخلاقی اصولوں پر تربیت ایک اہم ترین اور سنجیدہ مسئلہ ہے۔ اس کا واحد حل یہ ہے کہ بچوں کی ابتدا ہی سے تربیت اسلامی اصولوں پر کی جائے۔نونہالوں کے لیے سنہرے اذکار سے جہاں بچوں کے لئے دعائیں یاد کرنا آسان ہے وہاں اس کتاب کے مطالعہ سے بچوں کا دین کی طرف بھی شوق بڑھے گاان شاءاللہ ۔کتاب کی قیمت 320روپے ہے یہ خوبصورت اور جاذب نظر کتاب یہ کتاب دارالسلام کے مرکزی شوروم لوئر مال نزد سیکرٹریٹ سٹاپ لاہور 042-35324034دارالسلام کراچی مین طارق روڈ 0321-7796677دارالسلام اسلام آباد مرکز ایف ایٹ051-2281513پر دستیاب ہے ۔

  • نواز شریف ،عوام کیلئے امید کی کرن. تجزیہ:شہزاد قریشی

    نواز شریف ،عوام کیلئے امید کی کرن. تجزیہ:شہزاد قریشی

    میاں نواز شریف کا سینٹ میں پارلیمانی پارٹی کے ممبران سے خطاب، پاکستان کے عوام کے لئے امید کی کرن اور سیاسی اکابرین کے لئے مشعل راہ ہے،میاں نواز شریف کے قول و فعل اور ان کے سیاسی افکار سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کبھی مایوس ہوئے نہ پاکستان کی ترقی کا مشن ترک کیا اور نہ ہی عوام کی خدمت کی ترجیحات بدلیں میاں نواز شریف نے غل غپاڑے اور شور شرابے کی نام نہاد سیاست کا راستہ کبھی نہ اپنایا. انہوں نے اپنے اقتدار کھو جانے پر کبھی پاکستان کے مفادات کے خلاف نہ تو لب کشائی کی اور نہ ہی قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرتے ہوئے بیرونی مداخلت کو دعوت دی جبکہ یہاں تو ایک حادثاتی سیاستدان یہاں تک کہہ گزرے کہ اگر انہیں اقتدار سے ہٹانا تھا تو بہتر تھا بم پھینک دیتے،

    میاں محمد نواز شریف پاکستان کی ترقی، استحکام اور معاشی آزادی کی جنگ کے مجاہد ہیں اور یہ جہاد انہوں نے اپنی صاحبزادی مریم نواز کی صورت میں آئندہ نسلوں کے لئے وقف کردیا ہے، نواز شریف کی وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ مریم نواز کو یہ تنبیہ کرنا کہ مہنگائی کے طوفان سے عوام کو ہر صورت بچایا جائے پاکستان کے عوام کےلئے دل موہ لینے والے تاثرات ہیں امید کی جاسکتی ہے کہ پاکستان کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کا خواب مسلم لیگ ن کے ہاتھوں ہی شرمندہ تعبیر ہوگا۔

    nawaz

  • زندگی کے چیلنجز پر قابو پانے کے لیے  قوتِ ارادی کا استعمال

    زندگی کے چیلنجز پر قابو پانے کے لیے قوتِ ارادی کا استعمال

    قوتِ ارادی، جسے اکثر طویل مدتی اہداف کے حصول کے لیے قلیل المدتی فتنوں کا مقابلہ کرنے کے لیے خود پر قابو کے طور پر بیان کیا جاتا ہے، زندگی کے ہمارے راستے میں آنے والے بے شمار چیلنجوں پر قابو پانے کا ایک طاقتور ذریعہ ہے۔ خواہ ذاتی، پیشہ ورانہ یا جذباتی رکاوٹیں ہوں،قوتِ ارادی کو بروئے کار لانا ہار ماننے اور کامیابی کی طرف بڑھنے کے درمیان فرق کر سکتا ہے۔

    قوت ارادی کی سائنس
    قوتِ ارادی میں دماغ کے پیچیدہ افعال شامل ہوتے ہیں جو فیصلہ سازی اور تسلسل کے کنٹرول کے لیے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ اس ذہنی طاقت کو سمجھنے اور اس سے فائدہ اٹھانے سے، افراد مشکلات کو بہتر طریقے سے حل کر سکتے ہیں اور اپنے مقاصد پر اپنی توجہ مرکوز رکھ سکتے ہیں۔

    ذاتی چیلنجز پر قابو پانا
    صحت سے متعلق مسائل، جیسے متوازن غذا کو برقرار رکھنا یا ورزش کو معمول بنانا، کے لیے اہم قوت ارادی کی ضرورت ہوتی ہے۔ خود پر قابو رکھنے والے افراد ان صحت مند عادات پر عمل کرتے ہیں جس سےبالآخر انکی جسمانی اور ذہنی صحت بہتری کی طرف جاتی ہے۔ اسی طرح، تعلیم اور کیریئر سے متعلق چیلنجز، جیسے کہ مشکل پروجیکٹ کو مکمل کرنا یا امتحانات کی تیاری، مسلسل کوشش اور ارتکاز کا مطالبہ کرتے ہیں۔ قوتِ ارادی اس ضروری توجہ کو برقرار رکھنے میں مدد کرتی ہے، جس سے کارکردگی اور کامیابی میں بہتری آتی ہے۔

    جذباتی لچک
    جذباتی طور پر، قوتِ ارادی تناؤ، اضطراب اور غم کو سنبھالنے میں اہم ہے۔ زندگی کی ناگزیر مشکلات بہت زیادہ ہو سکتی ہیں، لیکن مضبوط قوتِ ارادی کے حامل افراد ان ہنگامہ خیز وقتوں کو زیادہ آسانی کے ساتھ بھلا سکتے ہیں،کیا آپ نے اپنے شریک حیات کو کھو دیا؟ آپ کا کام؟ کیا آپ کسی ایسے رشتے میں شامل تھے جس نے آپ پر توجہ نہیں دی.منفی جذبات کا شکار ہونے کی خواہش کے خلاف مزاحمت کرتے ہوئے، افراد ایک مثبت نقطہ نظر کو برقرار رکھ سکتے ہیں اور اپنے مقاصد کے لیے کام جاری رکھ سکتے ہیں۔

    قوت ارادی کو مضبوط کرنا
    قوتِ ارادی، مشق اور نظم و ضبط کے ذریعے مضبوط کی جا سکتی ہے۔ ذہن سازی کا مراقبہ، مخصوص اور قابل حصول اہداف کا تعین، اور صحت مند طرز زندگی کو برقرار رکھنے جیسی تکنیکیں کسی کے خود پر قابو کو نمایاں طور پر بڑھا سکتی ہیں۔ یہ حکمت عملی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے درکار لچک پیدا کرنے میں مدد کرتی ہے۔

    نتیجہ
    قوتِ ارادی زندگی کے چیلنجوں پر قابو پانے کے لیے ایک اہم اثاثہ ہے۔ اس کی اہمیت کو سمجھ کر اور اسے مضبوط بنانے کے لیے حکمت عملیوں پر عمل درآمد کرنے سے، افراد غیر معمولی رکاوٹوں کو ختم کرنے اور کامیابی حاصل کرنے کی اپنی صلاحیت کو بڑھا سکتے ہیں، جس سے وہ زیادہ پرامن اور کامیاب زندگی کا باعث بن سکتے ہیں۔

  • مایوسیاں ختم، پاکستان کے لئے اچھی خبریں آنا شروع.تجزیہ:شہزا د قریشی

    مایوسیاں ختم، پاکستان کے لئے اچھی خبریں آنا شروع.تجزیہ:شہزا د قریشی

    مایوسی ہی مایوسی ۔ ہر طرف ہر جانب ہر سمت نہ کوئی سکون نہ کوئی خوشی۔سوشل میڈیا پر افوا ہ سازی ۔ ان حالات میں وزیر خارجہ اور ان کی وزارت خارجہ کی ٹیم کی طرف سے وطن عزیز کے لئے خوشی کی خبر ملی کہ پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن منتخب ہوا۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور اُن کی پوری ٹیم کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ سینیٹر اسحاق ڈار کسی ولی یا فرشتہ کا نام نہیں لیکن انہوں نے بطور وزیر خزانہ سال 2013 اور سال 1998 میاں محمد نواز شریف کی قیادت میں وطن عزیز کی غیر مستحکم معیشت کو مستحکم کرنے میں کردار ادا کیا وہ ملکی تاریخ کا حصہ ہے اور پاکستان کو 2013 میں دیوالیہ ہونے سے بچایا ۔ پھر اسی دوران سیاسی بربادیوں کے سوداگروں نے نواز شریف اور پاکستان کے خلاف سازش کا حال بُنا اور ترقی کے منازل طے کرتا پاکستان دوبارہ معاشی بحران کا شکار ہو گیا۔ جس کا خمیازہ پاکستان بطور ریاست اورعوام نے بھگتا۔ معیشت کا بحران سنگین سے سنگین تر ہوتا رہا اور آج وطن عزیز اور عوام ہر روز مہنگائی کے نئے حملوں سے گزر رہی ہے۔ نواز شریف کے دور حکومت میں بجلی اور گیس کے چند سو بل دینے والے آج ہزاروں بل دے رہے ہیں۔ ملک اور عوام کو اس وقت ایسے لیڈر کی ضرورت ہے جو ملک کے حالات عالمی معیشت کی صورتحال کے پیش نظر وطن عزیز میں بڑی سرمایہ کاری کے ساتھ ملکی وسائل پر خصوصی توجہ دے۔

    افسوس اس بات کا ہے کہ وطن عزیز میں ایک ایسے شخص پر بحث کی جا رہی ہے جو ایک بدترین آمر اور طالع آزما شیخ مجیب جس کو بابائے جمہوریت کا نام دیا جا رہاہے۔ آج کی نوجوان نسل کو گمراہ کیا جا رہا ہے ۔ تاریخ گواہ ہے شیخ مجیب الرحمن نے پاکستان دوستوں کا قتل عام کروایا اور اُن کی بیٹی حسینہ واجد کے سر پر خون سوار ہے آئے روز بے گناہوں کوپھانسیاں دی جا رہی ہیں جن کو پھانسیاں دی جا رہی ہیں وہ پاکستان کے وفادار تھے۔ شیخ مجیب الرحمن کو لیڈر اور مسیحا ماننے والے تاریخ کا مطالعہ کریں۔؟
    qureshi

  • پاکستان میں زراعت کا زوال

    پاکستان میں زراعت کا زوال

    پاکستان میں زراعت کا زوال
    تحریر:ملک ظفراقبال
    پاکستان میں زراعت کا زوال متعدد عوامل کی وجہ سے ہو رہا ہے جو ملکی معیشت اور خوراک کی فراہمی پر منفی اثر ڈال رہے ہیں،یہاں چند اہم وجوہات بیان کی جا رہی ہیں،جن کا جاننا بہت ضروری ہے ۔

    پاکستان میں زراعت کو معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کہا جاتا ہے مگر اس وقت صورتحال کچھ الٹ ہے حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں مگر ہر آنے والا دور ملک پاکستان اور عوام کے لئے ایک نئی سوچ لے کر آتا ہے جی ہاں وہ سوچ صرف اور صرف اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگوں کی خیر خواہی ۔
    ملک پاکستان پچھلے 76 سالوں سے اپنی کوئی مناسب منصوبہ بندی نہیں کر سکا ۔جسکی وجہ سے آج بھی پاکستان دنیا کے کئی ملکوں سے پیچھے رہ گیا ہے جسکی سب سے بڑی وجہ اقتدار میں نااہلوں اور وزارتوں کی بندر بانٹ ۔

    ہم نے دیکھا وزارتوں کا منصب ان لوگوں کو عطا کیا گیا جو اس کی الف ب بھی نہیں جانتے اور ان نااہل لوگوں کی وجہ سے تمام تر فیصلے بیوروکریسی کرتی آرہی ہے ۔ایک دور ایسا بھی آیا جب سائنس اینڈ ٹیکنالوجی جیسی وزارت کا قلمدان انڈر میٹرک وزیر کے ہاتھ میں تھا ملک خاک ترقی کرے گا ۔
    اہلِ اقتدار والوں کو اہل لوگوں کو وزارتوں کا منصب دینا ہو گا جو اس وزارت کی الف ب بھی جانتے ہوں

    سیاسی رسہ کشی نے ملک کو بہتر مستقبل کی طرف نہیں جانے دیا اور آج ہم پوری دنیا میں اپنا کشکول لئے پھرتے ہیں مگر امید نہیں کوئی خیر کا سکّہ اس میں ڈالے ۔دنیا کو اپنے اپنے مفادات عزیز ہوتے ہیں اور وہ ہمیشہ ہمیں اپنے مقاصد کے لیے ہمارے کشکول کو بھرتے ہیں

    آج چند بنیادی زراعت کی وجوہات پر بات چیت کرتے ہیں جو زراعت کی ترقی میں رکاوٹ ہے
    1. پانی کی کمی ۔
    پانی کی قلت پاکستان کے زراعتی زوال کا سب سے بڑا سبب ہے۔ نہری نظام کی بوسیدگی، بارشوں میں کمی، اور زیر زمین پانی کے ذخائر کی کمیابی نے زراعت کو شدید متاثر کیا ہے۔اور سب سے بڑھ کر نہری نظام میں کرپشن
    2. جدید ٹیکنالوجی کی کمی۔
    پاکستان میں زرعی پیداوار کی بہتری کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور تحقیق کا فقدان ہے۔ نئی اور جدید مشینری، بیج، اور کھادوں کی عدم دستیابی سے پیداوار کم ہو رہی ہے۔ اس میں زراعت کی فیلڈ ٹیم اپنے من پسند لوگوں کو نوازتی ہے اور سب اچھا کی رپورٹ وجہ کرپشن ۔
    3. مالی مسائل۔
    کسانوں کو زرعی قرضے حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے وہ جدید ٹیکنالوجی اور وسائل خریدنے سے قاصر ہیں۔ بینکوں اور مالیاتی اداروں کی سخت شرائط بھی اس مسئلے کو بڑھا رہی ہیں۔چھوٹا کسان کوئی خاطر خواہ سرکار سے فائدہ حاصل نہیں کر سکتا وجہ سفارش اور کرپشن
    4. موسمیاتی تبدیلی۔
    موسمیاتی تبدیلی نے بھی زراعت پر منفی اثر ڈالا ہے۔ غیر متوقع موسمی حالات، جیسے کہ زیادہ درجہ حرارت اور بے وقت بارشیں، فصلوں کی پیداوار کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔
    5. زرعی زمین کی کمی۔
    شہری آبادی میں اضافہ اور زرعی زمینوں کی غیر قانونی تقسیم نے قابل کاشت زمینوں کو کم کر دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں زرعی پیداوار میں کمی آ رہی ہے۔اور جگہ جگہ زرعی زمینوں پر حکومت کی ناقص حکمت عملی کی وجہ سے کالونیاں بنائی جا رہی ہیں
    6. حکومتی پالیسیوں کی ناکامی ۔
    حکومتی سطح پر زراعت کی ترقی کے لیے مناسب پالیسیاں اور ان پر عمل درآمد کی کمی بھی ایک اہم وجہ ہے۔ حکومت کی جانب سے مناسب سبسڈی نہ ملنے کی وجہ سے بھی کسان مشکلات کا شکار ہیں۔
    7. مارکیٹ تک رسائی
    کسانوں کو اپنی پیداوار مارکیٹ تک پہنچانے میں مشکلات کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے انہیں مناسب قیمت نہیں ملتی۔ اس سے ان کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے اور وہ زراعت سے دستبردار ہو جاتے ہیں۔اس کی بڑی وجہ سرکار کی عدم دلچسپی ۔
    8. تعلیم اور تربیت
    زرعی تعلیم اور تربیت کی کمی بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ کسان جدید زرعی تکنیکوں اور طریقوں سے ناواقف ہوتے ہیں، جس سے پیداوار کم ہوتی ہے۔

    ان عوامل کے مجموعی اثرات کی وجہ سے پاکستان میں زراعت کا زوال ہو رہا ہے۔ اس صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے فوری اور موثر اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ ملکی معیشت اور خوراک کی فراہمی مستحکم ہو سکے۔

    حکومتی اداروں کو زراعت کے حوالہ سے لانگ ٹرم منصوبہ بندی کرنا چاہیے اور چھوٹے زمینداروں کو زرعی پیداوار کے لئے قرضہ جات میں آسانیاں پیدا کرنا ہوگیں اور ساتھ ساتھ جدید زراعت کے حوالہ سے جدید تعلیم اور ایڈوانس زرعی پیداوار کے طریقوں کی طرف لانا ہوگا

    ہمارا کسان آج بھی زراعت کے شعبہ میں حکومتی اداروں کی طرف سے نامناسب رویوں کی وجہ سے دل برداشتہ ہے جو ملک پاکستان اور کسانوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے.

  • 2024 کے بھارتی عام انتخابات: بی جے پی کی سادہ اکثریت سے محرومی کے عوامل

    2024 کے بھارتی عام انتخابات: بی جے پی کی سادہ اکثریت سے محرومی کے عوامل

    2024 کے بھارتی عام انتخابات: بی جے پی کی سادہ اکثریت سے محرومی کے عوامل

    2024 کے بھارتی عام انتخابات کے نتائج آ چکے،بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی سادہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی اور اسے اہم دھچکا لگا، سیاسی، سماجی، اور اقتصادی حرکیات کے پیچیدہ تعامل کی عکاسی کرتے ہوئے کئی عوامل کی وجہ سے ایسا ہوا،

    سب سے پہلے، حکومت مخالف جذبات نے ایک اہم کردار ادا کیا۔ مودی دوبار کے لئے وزیراعظم رہ چکے ہیں، ووٹرتبدیلی کے لئے بیتاب تھے، انکے ساتھ جو وعدے کئے گئے پورے نہیں ہوئے، گورننس کے مسائل جیسے بے روزگاری، مہنگائی، اور زرعی بدحالی کی وجہ سے بھی ووٹر متاثر تھا. حکومتی کوششوں کے باوجود وبائی مرض کے معاشی نتائج نے معاش کو متاثر کرنا جاری رکھا جس کی وجہ سے درمیانی اور کم آمدنی والے گروہوں میں عدم اطمینان کا احساس پیدا ہوا۔

    دوم، اپوزیشن کے اسٹریٹجک اتحاد نے بی جے پی کی پوزیشن کو کافی حد تک کمزور کیا۔ علاقائی پارٹیاں، جو اپنی اپنی ریاستوں میں تاریخی طور پر مضبوط ہیں، نے انڈین نیشنل کانگریس اور دیگر اپوزیشن گروپوں کے ساتھ اتحاد قائم کیا۔ یہ متحدہ محاذ بی جے پی مخالف ووٹوں کو مضبوط کرنے میں کامیاب رہا، جو پہلے بکھرے ہوئے تھے، اس طرح حکمران پارٹی کے لیے ایک زبردست چیلنج بن گیا۔

    تیسرا، سماجی مسائل اور شناخت کی سیاست نے ووٹر کے رویے کو متاثر کیا۔ شہریت کے قوانین، مذہبی پولرائزیشن، اور ذات پات کی حرکیات سے متعلق تنازعات نے رائے عامہ کو ہلایا۔ بی جے پی کی پالیسیوں کو کچھ لوگوں نے تقسیم کرنے والی، اقلیتی برادریوں اور سماجی طور پر پسماندہ گروہوں کے طور پر دیکھا، اس طرح وہ اپوزیشن کو ووٹ دینے پر مجبور تھے.

    سادہ اکثریت حاصل کرنے میں بی جے پی کی ناکامی کے اثرات گہرے ہیں۔ اب بی جے پی اتحادیوں کے ساتھ ملکر مخلوط حکومت بنائے گی، جو اتحادی شراکت داروں کے درمیان مختلف ایجنڈوں کی وجہ سے پالیسی کے حوالہ سے مشکلات کا شکار ہو گی،یہ منظر نامہ فیصلہ سازی کے عمل کو سست ، اقتصادی اصلاحات اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو متاثر کر سکتا ہے۔اس سے قانون سازی کا عمل بھی متنازعہ ہو سکتا ہے، جس میں حزب اختلاف کی جماعتیں نمایاں فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ اہم قانون سازی کو پارلیمنٹ میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں ممکنہ عدم استحکام اور حکمرانی کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے بار بار مذاکرات کیے جاتے ہیں۔

    خلاصہ یہ کہ 2024 کے انتخابات میں سادہ اکثریت حاصل کرنے میں بی جے پی کی ناکامی متنوع اور متحرک جمہوریت میں سیاسی غلبہ کو برقرار رکھنے کے چیلنجوں کی نشاندہی کرتی ہے۔ اس کے نتیجے میں مخلوط حکومت، عوامی رائے کے ایک وسیع میدان کی عکاسی کرتے ہوئے، مربوط اور تیز پالیسی کے نفاذ کے حصول میں رکاوٹوں کا سامنا کر سکتی ہے۔

  • مریم نواز کی قیادت میں  پنجاب میں عملی مثبت تبدیلی.تجزیہ:شہزاد قریشی

    مریم نواز کی قیادت میں پنجاب میں عملی مثبت تبدیلی.تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیف سٹی پنجاب کے زیر اہتمام ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن کے قیام اور دستک ایپ کے ذریعے اس حد تک خواتین کی فوری رسائی بلا شبہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے جدید پنجاب وژن کی عکاسی ہے اور اس میں آئی جی پنجاب اور سیف سٹی پنجاب کے ڈی آئی جی احسن یونس کی پروفیشنل صلاحیتوں کا شاہکار ہے،خواتین اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی ، جبر ، دھمکی کی اطلاع فوری طور پر ریکارڈ کروا سکتی ہیں، اپنی نوعیت کے پہلے ورچوئل پولیس اسٹیشن برائے خواتین میں خواتین کی کال ریسو کرنے پر خواتین آپریٹرزہی تعنیات کی گئی ہیں اور خواتین کالرز کی کالز پر فوری پولیس کارروائی اور ریسکیو آپریشن عمل میں لایا جائے گا، وزیر اعلیٰ پنجاب نے جہاں صحت، تعلیم ، مواصلات ، صاف پانی کی فراہمی ،سستی روٹی، سستی اشیائےخوردنی کی فراہمی اور صوبے بھر میں جرائم کی بیخ کنی کے لئے انتظامیہ کو متحرک کیا ہے ،وہاں خواتین کو فوری پولیس امداد کی فراہمی کی جانب عملی قدم اٹھایا ہے،جس کی مثال یقینا جرمنی، فرانس ،برطانیہ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں تو دی جا سکتی ہے لیکن یہاں پہلے اس کا تصور بھی نہ تھا،

    وزیر اعلیٰ پنجاب کے ان اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پنجاب میں ایک عملی مثبت تبدیلی ہونے جا رہی ہے جو صوبے کے وسائل عوام کی حقیقی بہتری اور ترقی پر خرچ کر کے حاصل ہو گی ،گزشتہ دور میں بلا شبہ تبدیلی کا نعرہ لگایا گیا مگر حقیقی تبدیلی کے نام پر لوٹ کھسوٹ پنجاب میں میرا ڈی سی ، تمہارا ایس ایچ اوکی روش اپنا کر پنجاب کو پیچھے دھکیل دیا گیا، اب نواز شریف اور مریم نواز کی مخلصانہ قیادت کے ثمرات عوام کو ملنا شروع ہو ئے ہیں ، اس ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن کے قیام میں آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان اور ڈی آئی جی احسن یونس جنہوں نے سیف سٹی انچارج کا عہدہ سنبھالنے سےقبل راولپنڈی میں بطور سی پی او پولیس لائن سے پولیس اسٹیشن تک ہر پولیس اہلکار کو ایک نیا جذبہ دیا اور پولیس ورکنگ کو ایک جدت بخشی ، یقینا وہ اس کار خیر میں جو انہوں نے اپنا ایک کردار ادا کیا اس کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، پاکستان مسلم لیگ ن کے پنجاب بھر کے ممبران اسمبلی وزیر اعلیٰ پنجاب کی عوام دوستی کی مہم میں اپنا کردار ادا کریں ، لینڈ مافیا کی پشت پناہی ، جرائم پیشہ افراد کی پشت پناہی سے دور رہیں۔

  • ایک مضبوط عورت کی کہانی

    ایک مضبوط عورت کی کہانی

    ایک مضبوط عورت کی کہانی

    دس سال پہلے جب میرے شوہر کا انتقال ہوا انکے بعد میں بالکل اکیلی ہو گئی، اور بہت ساری زمہ داریاں میرے کند ھوں پہ آنے والی تھی، لیکن میں ان خوش قسمت عورتوں میں سے تھی جن کی قسمت میں ایک خیال رکھنے والا اور ذمہ دار دیور تھا ۔ اس نے یقینی بنایا کہ میرے مرحوم شوہر کے (جو اس کے ساتھ کاروبار میں شریک تھے) تمام واجبات پورے کیے جائیں۔ مجھے مالی مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑا جن کا اکثر خواتین کو سامنا کرنا پڑتا ہے۔لیکن پھر بھی کئی مسائل تھے۔ ہمارا بیٹا صرف چودہ سال کا تھا اور اچانک سے اسکے بہت سے’ دوست’ نمودار ہو گئے۔ یہ "دوست” پنجابی روایت کے مطابق سمجھتے تھے کہ اب یہ بچہ خاندان کا سربراہ ہے اور روایات کے مطابق مالی ذمہ داری اسی کی ہے۔ ہر کوئی اس سے اپنا مطلب نکالنا چاہتا تھا۔ لیکن بدقسمتی سے، ماں یعنی میرے آڑے آنے سے ان کے منصوبے ناکام ہو گئے۔ میں ان کی قانونی سرپرست تھی اور ان کے ساتھ ایک مضبوط رشتہ بنانا ایک طویل عمل تھا کیونکہ وہ ہمیشہ ان والد سے زیادہ قریب تھا جو ہم سے جدا ہو چکے تھے۔ یہ "دوست” ہمارے درمیان جتنا ممکن ہو سکے غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہے تاکہ اپنا مطلب حاصل کر سکیں۔ یہ ایک لمبی لڑائی تھی جس نے واقعی میرے اعصاب خراب کر دیے۔ آخرکار، وہ لوگ آہستہ آہستہ دور ہو گئے۔

    میری زندگی بالکل بدل گئی تھی۔ ہر وہ طریقے سے جس طرح بدل سکتی تھی۔ میری 84 سالہ بیمار ماں کے علاوہ کوئی قریبی رشتہ دار نہ ہونے کی وجہ سے مجھے مختلف مردوں کی طرف سے پیش قدمیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ مجھے احساس ہوا کہ شوہر کے بغیر مجھے صرف ایک ایسی عورت کے طور پر دیکھا جاتا ہے جس سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے، چاہے میری ساکھ کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو۔ جب میں نے یہ بات اپنے ایک پرانے دوست سے شیئر کی تو اس نے آہستہ سے کہا، "ياسمین، پنجاب میں یہی تلخ حقیقت ہے کہ ایک عورت کسی کی زوجیت میں نہ ہو ، اکثر لوگ اسے اپنی بنانا چاہتے ہیں۔” ظاہر ہے، قانونی طور پر نہیں۔

    یہ کہنا غلط ہو گا کہ مجھے رشتے کی پیشکش نہیں ملیں – وہ تو بالکل عزت والی بات ہے، لیکن مجھے ابھی اپنے خاندان کے لیے بہت سارے جنگ لڑنے تھیں، اور اسی لڑائی میں کہیں نہ کہیں میں نے اپنی خوشی، اپنا نرم مزاج اور زندگی سے محبت کھو دی۔ سنجیدہ ہونا میری دوسری فطرت بن گیا۔ ایک بات کا میں نے اپنے مرحوم شوہر سے وعدہ کیا تھا، چاہے کچھ بھی ہو جائے، جو کوئی بھی میرے گھر کی طرف دیکھے گا، وہ تباہ ہو جائے گا۔ میں نے وہی کیا جو کرنا ضروری تھا۔میری بیٹی، جو اپنے بھائی سے چار سال بڑی ہے، اپنے والد کے انتقال کے وقت لاء کالج میں داخل ہوئی تھی۔ اس نے مجھ سے کہا تھا کہ وہ اپنے والد کا نام روشن کرے گی اور اس نے ایسا ہی کیا۔ وہ لندن یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری میں دنیا بھر کے 180 ممالک میں سرفہرست رہیں، اور انفرادی مضمون میں بھی دنیا بھر میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ آج کم عمری میں ہی وہ ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں سینئر لیگل ایسوسی ایٹ ہیں۔وہی وہ واحد تھی جو میرے روحانی ساتھی کو کھونے کے غم کو سمجھ سکتی تھی۔ ہمارے کردار بدل گئے۔ وہ میری نگہداشت کرنے والی بن گئیں۔ ان کی موجودگی مجھے اپنے شوہر کی موجودگی جیسا احساس دلاتی تھی، وہی پیار، وہی بے لوث قربانی، انہوں نے مجھے ہر چیز رکھنا،
    اس پوری جدوجہد میں ، میں نے اپنے بہت سارے دوست کھو کر تنہائی کو گلے لگا لیا، کیونکہ مجھے اپنے بچوں اور گھر کے لئے ہی کرنا تھا جو بھی کرنا تھا ،