Baaghi TV

Category: بلاگ

  • انتشار  اور عدم استحکام کا حل کیا قومی حکومت؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    انتشار اور عدم استحکام کا حل کیا قومی حکومت؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    وطن عزیز کبھی حالت جنگ میں ہوتا ہے تو کبھی حالت انتشار میں، دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لئے پاک فوج جملہ اداروں پولیس ، عوام نے قربانیاں دی ہیں۔ حالت جنگ کا یعنی دہشت گردی کے خاتمے کے لئے تو قربانیاں دینے والوں نے دی ۔اب اس حالت انتشار کے خاتمے کے لئے سیاسی و مذہبی جماعتوں کو قربانی دینا ہوگی۔ آخر کب تک پاکستان بطور ریاست اور عوام حالت انتشار میں رہے گی ؟صدارتی نظام بھی آزما چکے۔ ٹیکنو کریٹ بھی، اب اس انتشار اور عدم استحکام کا حل کیا قومی حکومت ہے ؟ بین الاقوامی دنیا میں تبدیلیاں ہو رہی ہیں۔ امریکہ میں الیکشن ہونے جا رہے ہیں ۔ عالمی دنیا کی نظریں وائٹ ہائوس کے نئے مکین پر لگی ہیں۔ امریکہ اور یورپی ممالک روس اور یو کرائن جنگ میں بھی مصروف ہیں۔جبکہ مڈل ایسٹ کے حالات عالمی دنیا کے سامنے ہیں۔ غزہ اور اسرائیل کی جنگ کے ساتھ ساتھ اسرائیل نے لبنان اور شام میں تباہی مچا دی ہے امریکہ نے کئی چینی کمپنیوں پر پابندی لگا دی ہے جس کا اعلان امریکی ترجمان نے کیا ہے ۔ پاکستان ان تمام حالات سے آگاہ ہے۔

    وطن عزیز کے حکمران ،اپوزیشن کو بین الاقوامی سیاسی تبدیلی کو مد نظر رکھتے ہوئے اور پاکستان کے وقار اور سلامتی کے پیش نظر سیاست کرنا ہوگی ۔ خدا کی پناہ ایک اسلامی مملکت میں یہ جج آئے گا تو ہمارا فائدہ ہوگا یہ جج ہمیں نقصان دے گا کیا ہم ایسے بیانات دے کر ملک کے وقار میں اضافہ کر رہے ہیں؟ امریکہ سے لے کر یورپی ممالک اور دیگر ممالک میں عدلیہ کو لے کر کبھی اس طرح کے بیانات سُنے؟ تمام ججز قابل احترام ہیں۔ ملائی اور حلوائی کی باتوں سے باہر نکل کر دنیا کے تازہ ترین حالات کا جائزہ لیں۔ ملکی وسائل ملکی معیشت پر توجہ دیں ملکی اداروں کے درمیان ٹکرائو کروانے سے گریز کریں ۔ اپنے مفادات کو وطن عزیز کے وقار اور سلامتی پر قربان کریں۔ اگر سیاسی قائدین ملک میں جمہوریت کو مستحکم پارلیمنٹ کی بالادستی ،آئین اور قانون کی حکمرانی کے خواہش رکھتے ہیں تو اپنے آپ کو ایک مضبوط لیڈر قوم اور دنیا میں ثابت کریں۔ اس کے ساتھ ملکی معیشت کو مستحکم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ حالت انتشار کی ایک وجہ قرآن پاک سے دوری ہے۔ وطن عزیز ایک اسلامی ریاست ہے یہ اس ریاست کی شان کے خلاف ہے کہ ہم دین الٰہی سے دور رہیں ۔ سود زدہ معاشی نظام خالق کائنات سے برسرپیکارہے.

  • پاکستان میں آئینی عدالت کا قیام

    پاکستان میں آئینی عدالت کا قیام

    پاکستان میں آئینی عدالت کا قیام
    آئینی عدالت کی طرف سے آئینی معاملات کو نمٹانے کی تجویز کوئی نئی تجویز نہیں ہے۔اسے 2006 میں ہونے والے میثاق جمہوریت میں شامل کیا گیا تھا جس پر سابق وزرائے اعظم بینظیر بھٹو اور نواز شریف نے دستخط کیے تھے۔مجوزہ ترمیم کے آرٹیکل 4 میں کہا گیا ہے کہ "آئینی مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک وفاقی آئینی عدالت قائم کی جائے گی، جس میں تمام وفاقی اکائیوں کو مساوی نمائندگی دی جائے گی، جس کے اراکین سپریم کورٹ کے جج بننے کے اہل افراد ہو سکتے ہیں، آئینی عدالت کے ججز 68 سال کی عمر میں ریٹائر ہوں گے، آئینی عدالت میں سپریم کورٹ سے آنے والے جج کی مدت تین سال ہو گی ،سپریم اور ہائی کورٹس دیوانی اور فوجداری مقدمات کی باقاعدہ سماعت کریں گی۔ ججوں کی تقرری اسی طریقے سے کی جائے گی جس طرح اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی ہوتی ہے۔

    مجوزہ ترمیم کو اداروں اور سول سوسائٹی کے موجودہ پولرائزیشن میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔سپریم کورٹ میں ایک سیاسی جماعت کی طرف داری کرتے ہوئے انکے حق میں فیصلے کئے گئے، سپریم کورٹ نے 11 جولائی 2024 کو جو فیصلہ دیا اس سے ملک میں صورتحال مزید گھمبیر ہوئی،ایک ایسے فریق کے حق میں فیصلہ دے دیا گیا جو مقدمے میں فریق بھی نہیں تھا،اس طرح کے فیصلوں سے عدم استحکام کا احساس مزید گہرا ہوا

    عدالتوں کو آزاد ہونا چاہئے، میڈیا کو آزاد ہونا چاہئے اور عدلیہ اور ایگزیکٹو کے اختیارات میں مداخلت نہیں ہونی چاہئے،یہ نظریہ اس مفروضے پر مبنی ہے کہ تمام ادارے بغیر کسی تعصب کے کام کریں گے۔ تاہم، سپریم کورٹ، جیسا کہ معاشرے کے مختلف طبقات گہرے طور پر منقسم ہیں، تو کیا،وہ اپنی طرف داری کا استعمال کرتے ہوئے آزادانہ فیصلے کر سکتی ہے؟ کبھی نہیں،سٔریم کورٹ کو بھی بغیر کسی طرف داری کے آزادانہ طور پر کام کرنا چاہئے،فیصلے طرف داری نہیں قانون و آئین کے مطابق ہونے چاہئے.

    جمہوری نظام میں کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہونا چاہیے۔ فیصلے مقبولیت کی بجائے قانون کی بنیاد پر ہونے چاہئیں۔ چند جملے اس فقرے سے زیادہ کثرت سے نقل کیے گئے ہیں: "انصاف نہ صرف ہونا چاہیے، بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہئے”۔ یہ حکم لارڈ ہیورٹ نے مقرر کیا تھا، لارڈ چیف جسٹس آف انگلینڈ نے ریکس بمقابلہ سسیکس جسٹس، [1924] 1 KB 256 کیس میں یہ حکم دیا تھا

    سیاسی اور سماجی تغیرات کے کلیڈوسکوپ کو تبدیل کرنے کے لیے قوانین کی ضرورت ہے۔ قانون کے سامنے سب کا برابر ہونا ضروری ہے،

  • اوچ شریف: کپاس کی فصل پر سفید مکھی کا شدید حملہ، کاشتکار پریشانی میں مبتلا

    اوچ شریف: کپاس کی فصل پر سفید مکھی کا شدید حملہ، کاشتکار پریشانی میں مبتلا

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) جنوبی پنجاب میں کپاس کی فصل پر سفید مکھی کے حملے میں تیزی آنے سے کاشتکاروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ اس حملے کی وجہ سے سینکڑوں ایکڑ پر کاشت کی گئی کپاس کی فصلیں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں، اور کاشتکار معاشی دباؤ میں مبتلا ہیں۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ سفید مکھی کے علاوہ ناقص زرعی ادویات اور غیر معیاری سپرے بھی فصل کی بربادی کا سبب بن رہے ہیں۔

    کئی کسانوں نے بتایا کہ انہیں مناسب معلومات اور حکومتی امداد کی کمی کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے وہ درست علاج یا حفاظتی اقدامات نہیں کر پا رہے۔ فصلوں کی حالت مزید بگڑتی جا رہی ہے، اور کسانوں کی پریشانی بڑھ رہی ہے۔ کاشتکاروں نے الزام لگایا کہ محکمہ زراعت کی جانب سے غیر معیاری ادویات کی فروخت کے حوالے سے کی گئی شکایات کو نظرانداز کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے ان کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    کاشتکاروں نے مطالبہ کیا ہے کہ محکمہ زراعت فوری مداخلت کرے اور کسانوں کو مناسب مشاورت اور رہنمائی فراہم کرے تاکہ وہ اپنی فصلوں کو بچانے کے لیے موثر سپرے اور دیگر حفاظتی اقدامات کر سکیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے فوری اقدامات نہیں کیے تو انہیں بھاری مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑے گا، جو ان کی معیشت کو برباد کر سکتا ہے۔

    کاشتکاروں نے حکومت سے فوری طور پر مسائل کو سنجیدگی سے لینے اور مناسب حل فراہم کرنے کی امید ظاہر کی ہے، تاکہ وہ اپنی محنت سے حاصل ہونے والی فصل کو بچا سکیں اور معاشی تباہی سے محفوظ رہ سکیں۔

  • آئینی ترامیم کا تماشا،لیڈرشپ کا فقدان،ن لیگ کا المیہ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    آئینی ترامیم کا تماشا،لیڈرشپ کا فقدان،ن لیگ کا المیہ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پارلیمنٹ میں آئینی ترمیم کو لے کر دو دن جو کچھ ہوتا رہا، قوم سمیت عالمی دنیا پاکستان نہیں پاکستانی سیاستدانوں کا تماشا دیکھتی رہی۔ سیاسی قافلوں کے قائدین ہی جب ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم نہ کریں تو پھر آئینی ترمیم کیسی؟ وفاقی حکومت میں اتحادی اور آئینی عہدے رکھنے والی جماعت کے قائدین ہی ایک دوسرے کی سیاسی کامیابی کو برداشت کرنے کا حوصلہ نہ رکھتے ہوں تو پھر پارلیمنٹ میں آئینی ترمیم کیسی؟ سب لیڈر شپ کا فقدان ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو سیاسی لیڈر تھے محترمہ بینظیر بھٹو سیاسی لیڈر تھیں پیپلزپارٹی کی موجودہ قیادت کرنے والے لیڈر نہیں، سیاستدانوں میں اسی طرح مسلم لیگ (ن) کے وزیراعظم سیاستدان ہیں لیڈر نہیں (ن) کے لیڈر نوازشریف ہیں۔ یہ نوازشریف کی سیاسی بصیرت اور لیڈر شپ ہی تھی جس نے ایٹمی دھماکے کرنے کے بعد واجپائی کو مینار پاکستان پر کھڑا کر دیا تھا یہ وہ وقت تھا جب پاکستان اور بھارت دونوں نے ایٹمی دھماکے کئے تو عالمی دنیا میں آوازیں آنا شروع ہو گئیں کہ دونوں ممالک کے درمیان ایٹمی جنگ کا خطرہ ہے۔ یہ نوازشریف کی سیاسی بصیرت ہی تھی جب پی ٹی آئی نے 126 دن دھرنا دیا تو پی ٹی آئی لیڈر شپ سمیت کسی کارکن پر نہ لاٹھی چارج ہوا نہ آنسو گیس گرفتاریاں نہ مقدمات کا اندراج لیکن پی ٹی آئی کی لیڈر شپ کا نشانہ تادم تحریر نوازشریف اور ان کی بیٹی مریم نواز ہی ہیں جبکہ پی ٹی آئی کی لیڈر شپ کو یہ بھی معلوم ہے کہ آئی پی پیز نہ تو نوازشریف، نہ ان کے دونوں بیٹے اور نہ ہی دونوں بیٹیوں کا تعلق اور نہ ہی ان کی ملکیت ہیں۔

    مسلم لیگ (ن) کا المیہ یہ ہے کہ ان کے پاس اس وقت کو ئی ترجمان نہیں وفاقی وزراء کی لائن ہے مگر مسخروں کی تعداد کچھ زیادہ ہی ہے سوشل میڈیا نہ ہونے کے برابر ہے۔ بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو کی اس ملک اور قوم کے لئے خدمات آج کی نوجوان نسل کو علم ہی نہیں اور نہ ہی پیپلزپارٹی نے اس سلسلے میں کوئی اقدامات کئے نوازشریف وزارت اعلیٰ سے لے کر وزارت عظمیٰ تک اور ایٹمی دھماکوں تک اس ملک کے لئے جو خدمات ہیں ان خدمات کو پس پشت ڈال کر مسلم لیگ (ن) نے مقبولیت میں اضافہ نہیں کیا (ن) کا ہر وفاقی وزیر اپنی جماعت اور نوازشریف کی ملک و قوم کے لئے خدمات بیان کرنے سے قاصر نظر آتا ہے جس کا خمیازہ (ن) لیگ بطور جماعت بھگت رہی ہے۔

    پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت سے لے کر ایک کارکن سوشل میڈیا عمران خان سے شروع ہو کر عمران خان پر ہی اپنی بات ختم کرتا ہے۔ وطن عزیز کا موجودہ بحران اور انتشار کا حل ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کرنے میں ہے اس وقت مسئلہ سیاسی قوتوں اور اداروں کے ٹکرائو کا نہیں مسائل میں گھری عوام کا بھی ایک مقدمہ ہے۔ طرز سیاست کو بدلنا ہوگا۔ عوامی مفادات اور ملکی مفادات کو سامنے رکھ کر فیصلے کرنا ہونگے

    آئینی ترامیم کی منظوری میں ناکامی، حکومت کا مولانا فضل الرحمان سے مزید مشاورت کا فیصلہ، رانا ثناء اللہ

    میڈیا میں شائع ہونے والا ڈرافٹ اصل نہیں ہے۔

    تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے آئینی ترمیم کے مسودے پر کوئی رضامندی ظاہر نہیں کی

    آئینی ترامیم جمہوریت پر حملہ،سیاسی جماعتوں کو شرم آنی چاہیے،علی امین گنڈا پور

    آئینی عدالتیں عالمی ضرورت ہیں، انوکھا کام نہیں کر رہے: بیرسٹر عقیل ملک

    آئینی ترمیم کی ناکام کوشش: حکومت اور اتحادیوں میں اختلافات نمایاں، بیر سٹر علی ظفر

    پیپلز پارٹی اور مولانا فضل الرحمان کی آئینی ترمیم پر بات چیت جاری ہے،خورشید شاہ

    سپریم کورٹ میں مجوزہ آئینی ترامیم کو کالعدم قرار دینے کی درخواست دائر

    آئینی ترامیم میں کیا ہے؟مسودہ باغی ٹی وی نے حاصل کر لیا

  • پاکستان میں سیاسی ومعاشی بحران،غیر یقینی صورتحال،حل کیا؟

    پاکستان میں سیاسی ومعاشی بحران،غیر یقینی صورتحال،حل کیا؟

    پاکستان کا سیاسی منظر نامہ حالیہ دنوں میں ہنگامہ خیز ہو چکا ہے، مجوزہ آئینی پیکج کی وجہ سے نہ صرف حکومتی اتحادی بلکہ اپوزیشن میں اختلافات دیکھنے میں آئے، آئینی ترامیم جو آئینی ابہام کو حل کرنے کی کوشش کے طور پر سامنے لائی گئیں اس سے معاملہ حل ہونے کی بجائے مزید سیاسی تقسیم ہوئی ، ڈان نیوز کے مطابق، آئینی ترمیم کو فی الحال روکا گیا ہے،وفاقی وزیر قانون نے تجویز دی ہے کہ اس میں دیگر جماعتوں کے تاثرات کی بنیاد پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ آئینی ترامیم نے سیاسی اختلاف کو مزید ہوا دی ہے، خاص طور پر سپریم کورٹ کا 11 جولائی 2024 کا ایک تاریخی فیصلہ ،جس میں کئی مسائل ہیں، یہ فیصلہ اس فریق کے حق میں ہو گیا جو کیس میں فریق ہی نہیں تھا، اس فیصلے کی وجہ سے پاکستان میں سیاسی عدم استحکام بڑھ گیا،

    پاکستان کو سیاسی چیلنجز کے ساتھ ساتھ شدید معاشی مسائل بھی درپیش ہیں۔ گزشتہ 30 برسوں کے دوران، ملک نے محنت کی پیداواری صلاحیت میں سب سے کم شرح نمو ریکارڈ کی گئی ہے، جو معاشی صحت اور معیار زندگی کا ایک اہم اشارہ ہے۔پاکستانی معیشت قرضوں میں جکڑی ہوئی ہے، ایک ایسا قرضوں کا چکر ہے جو ختم نہیں ہو رہا،کیونکہ پالیسی ساز بار بار ڈیفالٹ سے بچنے کے لیے قلیل مدتی قرضوں کو محفوظ کرتے ہیں۔ یہ بیل آؤٹ ایک "اخلاقی خطرہ” پیدا کرتے ہیں جہاں حکومت ضروری معاشی اصلاحات میں تاخیر کرتے ہوئے پوری قیمت برداشت کیے بغیر خطرات مول لینا جاری رکھتی ہے۔جس کے نتیجے میں پاکستان قرضوں کے جال میں پھنس گیا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جنوری 2024 تک، اگلے سال کے لیے بیرونی قرضوں کی سروسنگ تقریباً 29 بلین ڈالر ہوگی جو کہ ملک کی متوقع ڈالر کی آمدنی کے 45 فیصد کے برابر ہے۔ اس کے باوجود حکومت بامعنی پالیسی تبدیلیاں نافذ کرنے یا اخراجات کو کم کرنے میں ناکام رہی ہے جس سے مہنگائی اور ٹیکسوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس معاشی اور سیاسی عدم استحکام کے درمیان ملک کا مستقبل غیر یقینی ہے۔
    ایسی غیریقینی صورتحال میں کیا کوئی حل نظر آتا ہے؟

  • ہم پاکستانی کب بنیں گے؟ تجزیہ :شہزاد قریشی

    ہم پاکستانی کب بنیں گے؟ تجزیہ :شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    امریکی انتخابات عالمی دنیا کی اس وقت توجہ کا مرکز ہیں ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کی نظریں وائٹ ہائوس کے نئے مکین پر لگی ہیں۔ امریکہ سپُرپاور ہے امریکی صدارتی امیدواروں کی توجہ امریکی عوام ، معیشت ، خارجہ پالیسی ، جدید سے جدید ٹیکنالوجی ، موسمیاتی تبدیلی ،دفاع اور نیٹو، عالمی صحت اور وبائی امراض کی روک تھام ، امیگریشن بارڈر سیکورٹی ، اسرائیل غزہ اور مشرقی وسطی ، روس یو کرین جنگ، تجارت ، موضوع ہیں۔

    ہماری پارلیمنٹ کا موضوع آئینی تبدیلی ، جلسے ،جلوس ،دھرنے کمیٹیاں ، ایک دوسرے کے خلاف انتقامی کارروائیاں ، ملازمت میں توسیع ، بحیثیت قوم ہم قوم اورپاکستانی نہیں کوئی بلوچی ، کوئی سندھی ، کوئی کے پی کے ، کوئی پنجابی کی صدائیں بلند کرتا نظر آرہا ہے کہیں سے بھی میں پاکستانی ہوں کی صدائیں بلند ہوتی نظر نہیں آرہی۔ عالمی دنیا کو ایک طرف رکھیں ۔ ہمارے قریب ترین ممالک ایران کسی اپلائی سے سوال کریں وہ اپنا تعارف ایرانی بتانے پر فخر محسوس کرتا ہے ۔ افغانستان افغانی جبکہ ہمارے ہاں اب تو نوبت یہاں تک آپہنچی کہ ایک صوبہ کی حکومت نے خارجہ پالیسی کو بھی اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے ۔ کے پی کے کی حکومت افغانستان سے مذاکرات کا اعلان کرتی ہے۔ لگتاہے ہم مخلوق خدا ضرور ہیں مگر ایک قوم نہیں۔ ہم خدا کی زمین پر حکمرانی کرتے ہیں مگر طرز حکمرانی خداکے حکم کو نظر انداز کرتے ہیں۔ سیاسی جماعتیں جس پارلیمنٹ میں بیٹھی ہیں۔یہ 1970 کے اُن سیاستدانوں کو ضرور یاد کریں کیا اُن سیاستدانوں کا ملک وقوم کو لے کر کردار یہ تھا؟

    حکمرانوں کولیکر اپوزیشن اور اپوزیشن کو لیکر مذہبی جماعتوں تک نے مسخرے پن کی حدود کو کراس کردیا ہے۔یہ ریاست اور ملکی خزانے پر بوجھ ہیں۔ ملکی اداروں پی آئی اے اور دیگر اداروں کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا گیا۔ ملکی وسائل سے توجہ ہٹا دی گئی ہے ۔ خدا کی پناہ عالمی دنیا میں یہ آواز کہیں سے نہیں آتی کہ یہ جج میرا یہ جج تیرا ،عدلیہ جیسے ادارے اور ملکی سلامتی جیسے اداروں کو جلسے،جلوسوں ،چوراہوں ، گلی کوچوں اور سوشل میڈیا پر موضوع بحث بنا لیا گیاہے ۔یہ جانتے ہوئے کہ وطن عزیز اور عوام کو معاشی بُحران کا سامنا ہے پارلیمنٹ میں بہت سے نام نہاد رہنما ہیں کسی نے معاشی بُحران کا حل پیش نہیں کیا آج کی سیاست ،آج کی جمہوریت ، آج کی پارلیمنٹ ،ایک افسوسناک عکاس ہے۔ کسی کی توجہ معاشی بُحران نہیں ذاتی بُحران ہیں۔ پارلیمنٹ ہائوس میں لیڈر شپ کا فقدان ہے۔ موجودہ حالات میں وطن عزیز میں جمہوریت کا مستقبل تاریک نظر آتا ہے۔
    دل تباہ تو ہی کچھ بتا ہمیں
    چمن پہ کیوں خزاں کا رنگ چھا گیا

  • بھارت :خواتین کی فروخت کا بازار، شیو پوری گاؤں میں ‘ڈھڈیچا’ روایت کا انکشاف

    بھارت :خواتین کی فروخت کا بازار، شیو پوری گاؤں میں ‘ڈھڈیچا’ روایت کا انکشاف

    باغی ٹی وی :بھارت میں مدھیہ پردیش کے شیو پوری گاؤں میں ایک قدیم اور متنازع روایت ’ڈھڈیچا‘ اب بھارت کے عالمی سطح پر انسانی حقوق کے مسائل میں ایک نیا سوال اٹھا رہی ہے۔ اس روایت کے تحت، خواتین کو بازار میں اشیاء کی طرح خریدا اور بیچا جاتا ہے، جس سے ان کی بنیادی انسانی حقوق کی پامالی کا معاملہ سامنے آیا ہے۔

    خواتین کو کرائے پر دینے کا طریقہ کار
    ڈھڈیچا روایت کے تحت، شیو پوری کے بازار میں دور دراز علاقوں سے آئے مرد اپنی پسند کی خواتین کو دیکھ کر ان کی قیمت مقرر کرتے ہیں۔ قیمت طے کرنے کے بعد، وہ رقم ادا کرکے خواتین کو اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ کرائے پر دینے کی مدت اور شرائط معاہدے میں واضح کی جاتی ہیں، جو خواتین کو ایک سال یا چند مہینوں کے لیے کرائے پر لینے کی اجازت دیتی ہیں۔

    خواتین کی فروخت کرنے والے اور خریدار
    اس بازار میں زیادہ تر غریب خاندان کی خواتین کو فروخت کے لیے پیش کرتے ہیں۔ خریدار مختلف مقاصد کے لیے خواتین خریدتے ہیں؛ کچھ خواتین کو بزرگوں کی خدمت کے لیے خریدا جاتا ہے، جبکہ دیگر خواتین کو بیوی کے طور پر کرائے پر لیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ خواتین کو ’ڈیل‘ سے انکار کرنے کا حق بھی دیا گیا ہے، حالانکہ عملی طور پر یہ حق کتنا مؤثر ہے، اس پر سوالات اٹھتے ہیں۔

    قیمتیں اور کنٹریکٹ کی تفصیلات
    خواتین کی قیمتیں مختلف ہوتی ہیں اور ان کے لیے اسٹامپ پیپر کی قیمت صرف 10 روپے سے شروع ہوتی ہے۔ کنٹریکٹ کے تحت قیمت 15 ہزار روپے سے لے کر چند لاکھ روپے تک ہو سکتی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، کنواری خواتین کی قیمت شادی شدہ خواتین سے زیادہ ہوتی ہے۔

    عالمی تنقید اور حقوق انسانی کی پامالی
    اس روایت کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد، عالمی سطح پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ بھارت میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے، اس روایت کے خاتمے کے لیے اقدامات اٹھانے کی اپیل کی گئی ہے۔

    ڈھڈیچا روایت ایک واضح اشارہ ہے کہ بھارت میں خواتین کے حقوق اور تحفظ کی صورتحال میں بہتری کی ضرورت ہے، اور یہ کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے موثر قانون سازی اور سماجی اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔

  • اہلیت کا دوہرا  معیار

    اہلیت کا دوہرا معیار

    اہلیت کا دوہرا معیار
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفی بڈانی
    ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ معاشرتی نظام میں اعلی عہدوں پر فائز افراد کو عام لوگوں کے مقابلے میں زیادہ قابل اور اہل سمجھا جاتا ہے۔ کیا یہ صرف ایک فریب ہے یا اس کے پیچھے کوئی گہرا سبب بھی پوشیدہ ہے؟ عام طور پرکسی وزیر،مشیر، ایم این اے، ایم پی اے یا ان کے قریبی ساتھیوں کو زیادہ قابل اور اہل سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح اسسٹنٹ کمشنر، ڈی ایس پی، ایس ایچ او اور دیگر اعلیٰ حکام بھی عمدہ اخلاق اور قابلیت کے حامل سمجھے جاتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ عام لوگوں یا متوسط طبقے میں یہ خوبیاں کیوں کم دکھائی دیتی ہیں؟ کیا یہ ہمارا معاشرتی المیہ ہے یا تعلیم اور تربیت کی کمی کا؟ آئیے اس مسئلے کو تھوڑا سا دیکھتے ہیں کہ ایسا کیوں ہے ؟ ۔

    ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ہمارے معاشرے میں ایسے بہت سے افراد موجود ہیں جو مشکل حالات میں بھی اپنی زندگیاں گزار رہے ہیں اور دوسروں کی مدد کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو ہمارے معاشرت کی اصل بنیاد ہیں۔ ہمیں ان لوگوں کی خدمات کی قدر کرنی چاہیے اور ان کی کوششوں کو تسلیم کرنا چاہیے۔ یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا صرف عہدے کی وجہ سے کوئی شخص قابلِ تحسین ہو سکتا ہے؟ کیا یہ ممکن نہیں کہ کوئی شخص اہم عہدے پر فائز ہو اور پھر بدعنوان اور کرپٹ بھی ہو،کیا وہ قابل رشک کردار کاحامل ہوگا؟ اس دوغلے پن سے ہمیں باہرنکلنا ہوگا.

    ہمارے معاشرتی نظام میں ایک ایسی ثقافت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے جہاں ہر فرد کو اس کی صلاحیتوں اور کامیابیوں کی بنیاد پر سراہا جائے۔ عہدوں اور پوزیشنز کی بنیاد پر لوگوں کا اندازہ لگانا غلط فہمی ہے۔ یہ کہنا کہ صرف حکومتی ملازم ہی قابلِ ہوتے ہیں یہ ایک سطحی اورغلامانہ ذہنیت والی سوچ کا نتیجہ ہے، ہمیں معاشرے میں ہر فرد کو اس کی صلاحیتوں اور کامیابیوں کی بنیاد پر قدر کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے۔

    یہاں تک تو یہ بات ٹھیک ہو سکتی ہے کہ اعلیٰ عہدوں پر فائز افراد کو اعلیٰ تعلیم اور تربیت حاصل ہوتی ہےجہاں انہوں نے مختلف مہارتیں سیکھی ہوتی ہیں۔ انہیں مختلف لوگوں سے بات کرنے کا موقع ملتا ہے جو ان کی شخصیت کو نکھارتا ہے۔ یہ سب عوامل انہیں زیادہ قابل اور اہل بنا دیتے ہیں۔تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ بہت سے عام لوگ بھی انتہائی قابل اور اہل ہوتے ہیں۔ ان کے پاس بھی متعدد مہارتیں اور معاشرتی علم ہوتاہے اور وہ بھی بہت کچھ سمجھتے اور کرسکتے ہیں مگر انہیں وہ مواقع نہیں دیئے جاتے یا نہیں ملتے جو اعلیٰ عہدوں پر فائز افراد کو حاصل ہوتے ہیں۔ انہیں اعلیٰ تعلیم یا مختلف لوگوں سے بات کرنے کا موقع کم ملتا ہے، جو ان کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتا ہے۔

    علاوہ ازیں معاشرتی تعصب اور امتیاز بھی ایک بڑا مسئلہ ہے عام آدمی کو اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے اور ان کی صلاحیتوں کو مناسب سراہا نہیں جاتااورانہیں حقیرجانا جاتا ہے جس کی وجہ سے ان کی ترقی میں بڑی رکاوٹیں آتی ہیں۔

    اس کا ایک حل یہ ہے کہ ہمیں معاشرے میں موجود تعصب اور امتیاز کو ختم کرنے کیلئے افسرشاہی اور پاکستان کی آزادی کے وقت گوروں کے چھوڑے ہوئے غلام ابن غلام جو اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں ان کی آنکھوں پر چڑھی نفرت اوررعونت کی عینک اتارنا پڑےگی اور کوشش کرنا ہوگی اور ہر فرد کو برابر کے مواقع فراہم ہوں ،تعلیم کے مواقعوں کو بڑھانا ہوگا اور ہر فرد کو اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کا موقع دینا ہوگا۔ اس طرح ہم ایک ایسے معاشرے کی تعمیر کر سکتے ہیں جہاں ہر فرد کو اپنی صلاحیتوں کے مطابق ترقی کے مواقع مل سکیں۔

    ہمیں اس سلگتے ہوئے اہم مسئلے کا حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم ایک ایسا معاشرہ بنا سکیں جہاں اہلیت کاایک ہی معیار ہو،کیا ہم ایک ایسا معاشرہ نہیں بنا سکتے جہاں ہر فرد کو اپنی صلاحیتوں کے مطابق پروان چڑھنے کا موقع ملے؟ یہ سوال ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔آخرکب تک یہ دوہرامعیارچلتا رہے گا؟

  • وقت تمام زخموں کو بھر دیتا ہے ، کیا ایسا ہوتا ہے؟

    وقت تمام زخموں کو بھر دیتا ہے ، کیا ایسا ہوتا ہے؟

    وقت تمام زخموں کو بھر دیتا ہے ، کیا ایسا ہوتا ہے؟
    پرانی کہاوت "وقت تمام زخموں کو مندمل کرتا ہے” یا "بس کچھ وقت دو” واقعی ایسا ہے یا نہیں؟جذباتی زخموں سے بھرنے کے لیے یہ جان لیں کہ وقت حل نہیں ہے۔ جذباتی شفایابی ایک بہت زیادہ پیچیدہ عمل ہے جس میں صرف وقت گزرنے سے زیادہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ زخم جو ہمارے جذبات میں گہرائی سے جڑے ہوئے ہیں، جیسا کہ کسی پیارے کا کھو جانا وقت کے گزرنے سے مندمل نہیں ہو سکتا۔ جسمانی زخموں کے برعکس جذباتی زخم پیچیدہ ہوتے ہیں۔کوئی آپ پر مرتاہے۔ یہ آپ کا باپ، آپ کا شوہر، بیوی،کوئی بھی ہو سکتا ہے۔ ہمارے پدرسری معاشرے میں شوہر کی موت کے بعد مالی مسائل پیدا ہو جاتے ہیں، بیواؤں کو اکثر اپنے غم پر کارروائی کرنے کا وقت نہیں ملتا ہے اس سے پہلے کہ حقیقت ان کے چہرے سے ٹکرا جائے۔ کچن کیسے چلے گا؟ بچوں کی تعلیم کے اخراجات کیسے پورے ہوں گے، جذباتی غم بے خبر ہو جاتا ہے۔

    آپ کے شوہر کی موت پر آپ کی "سماجی حیثیت” ختم ہو گئی ہے۔ خاص طور پر اگر آپ گھریلو خاتون ہیں۔
    نئی حقیقتیں سخت اور بہت اچانک ہیں۔ بچے، اپنی عمر کے لحاظ سے صدمے سے گزرتے ہیں۔یہ بہت بڑا خلا ہے اورمختلف سطحوں پر تعلیم، شادی و دیگر امور پر ان کے مستقبل سے سمجھوتہ کیا جاتا ہے۔

    آپ کے پیارے کی موت کے چند ہفتوں کے بعد،تعزیت کا سلسلہ، اس کے بعد لوگ اپنی زندگی میں واپس چلے جاتے ہیں۔ حالات معمول پر آ ئے اور سوگوار خاندان کے علاوہ سب کے لیے وقت ساکت کھڑا ہے۔
    آپ دیکھتے ہیں کہ زندگی گزر رہی ہے۔ خوش لوگ، چہرے، آپ ان چیزوں سے تعلق روک سکتے ہیں جو انہیں خوش کرتی ہیں۔ زندگی کے بارے میں آپ کا نقطہ نظر ڈرامائی طور پر بدل جاتا ہے۔ جن چیزوں کو آپ نے اہم سمجھا وہ غائب ہو جاتے ہیں۔

    حل نہ ہونے والے صدمات اضطراب، افسردگی کا باعث بنتے ہیں، یہاں تک کہ آپ کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ایک ایسے ملک میں جہاں جذباتی صدمے ترجیح کے کم درجے پر ہوتے ہیں، پیسے خرچ کرتے وقت مدد حاصل کرنا ایک مہنگا آپشن ہو سکتا ہے۔ عام طور پر، اسے ایک نان ایشو کے طور پر نظر انداز کیا جاتا ہے اور، "وقت تمام زخموں کو بھر دیتا ہے”۔ ایسا نہیں ہوتا۔

  • سیا ست کا کھیل نہیں دستور خدمت ضروری۔تجزیہ : شہزاد قریشی

    سیا ست کا کھیل نہیں دستور خدمت ضروری۔تجزیہ : شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    اگر آپ سیاستدان ہیں تو سیاست کریں جمہوریت کو مستحکم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں جن مسائل کا سامنا جمہور کو ہے ان کو حل کریں۔ آئین قانون کی حکمرانی پارلیمنٹ کی بالادستی کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔وطن عزیز کی مظلوم غربت، بیروزگاری، مہنگائی کی ماری عوام کو اپنی سیاست چمکانے کے لئے ریاستی اداروں کیخلاف بھڑکانے سے گریز کریں ان ریاستی اداروں کی وجہ سے ریاست چل رہی ہے سیاست کرنے کے لئے ایک مستحکم ریاست کا وجود ضروری ہے۔ جوش خطابت میں ہمارے سیاستدانوں کی اکثریت پٹڑی سے اتر جاتی ہے۔ پارلیمنٹ ہائوس پچیس کروڑ عوام کی نمائندگی کی جگہ ہے پولیس کا پارلیمنٹ ہائوس کے اندر داخل ہو کر ارکان پارلیمنٹ کو گرفتار کرنا درست قرار نہیں دیا جا سکتا تاہم اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کا کردار قابل تحسین ہے ایاز صادق کا تعلق مسلم لیگ (ن) سے ہے نوازشریف کی تربیت کے اثرات ایاز صادق میں نظر آئے جبکہ وزیراعلیٰ کے پی کے میں عمران خان کی سیاسی تربیت نظر آئی بلکہ پوری قوم نے دیکھی۔ اس وقت ملکی سیاسی درجہ حرارت اپنے عروج پر ہے اس کی بنیادی وجہ سیاسی گلیاروں میں لیڈر شپ کا فقدان ہے لیڈر شپ کے فقدان کے ساتھ سیاسی جماعتوں میں درباری مزاج کے حامل افراد کی اکثریت موجود ہے حکمرانوں سمیت سیاسی اور مذہبی جماعتو ں میں درباری کثرت سے پائے جاتے ہیں۔

    اس وقت واحد صوبہ پنجاب ہی نظر آرہا ہے جہاں عوامی مسائل کو حل کرنے بھرپور توجہ دینے کی کوشش جاری ہے سول بیورو کریسی انتظامیہ پولیس کو روزانہ کی بنیاد پر وزیراعلیٰ پنجاب ہدایت دیتی دیکھی جا سکتی ہیں باقی کے صوبوں میں سیاست جاری ہے جبکہ پنجاب میں عوامی مسائل حل کرنے پر بھرپور توجہ دی جا رہی ہے وزیراعلیٰ پنجاب کی پشت پر میاں محمد نوازشریف کی تربیت اور رہنمائی اور ان کی ٹیم کی معاونت اور تجربہ شامل ہے۔ صوبہ پنجاب میں محکمہ تعلیم ہو یا محکمہ صحت ،زراعت ہو یا جنگلات ،انتظامیہ ہو یا پولیس وزیراعلیٰ کی قیادت کا احساس اور خدمت کی جھلک ملتی ہے وزیراعلیٰ کا آفس عوامی خدمت کا مرکز بنا ہے دیگر صوبہ کے چیف ایگزیکٹو صاحبان کے لئے قابل تقلید ہونا چاہئے۔ سیاست سیاست کا کھیل ختم کر کے الخدمت الخدمت کا دستور اپنانا ہوگا تاکہ استحکام پاکستان کا سفر جاری رہے۔