Baaghi TV

Category: بلاگ

  • اپنی پسند کی شادی کے لیے 8 سال تک مشکلات سے گزرنا پڑا ،محمد رضوان

    اپنی پسند کی شادی کے لیے 8 سال تک مشکلات سے گزرنا پڑا ،محمد رضوان

    لاہور: پاکستان کرکٹ ٹیم کے بلے باز محمد رضوان نے اپنی زندگی سے متعلق حیران کن اور دلچسپ انکشاف کیا ہے-

    باغی ٹی وی: محمد رضوان نے ایک انٹر ویو میں محمد رضوان کی جانب سے اپنی پسند کی شادی سے متعلق انکشاف کیا ،انہوں نے بتایا کہ انہیں اپنی پسند کی شادی کے لیے 8 سال انتظار کرنا پڑا ہے،وہ جس لڑکی سے شادی کی خواہش رکھتے تھے، اس لڑکی کے والدین مجھ سے شادی کے لیے راضی نہ تھے-

    انہوں نے بتایا کہ تاہم 8 سال کے لمبے عرصے کے دوران دعاؤں کے باعث اپنی محبت کو پانے میں کامیاب ہوگئےمحمد رضوان کا کہنا تھا کہ وہ زیادہ تفصیل تو نہیں بتائیں گے تاہم اس 8 سال کے عرصے میں انہیں شدید مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا، وہ بتاتے ہیں کہ میں اللہ سے اپنی محبت کو روز مانگنا پڑا،ہمارے ذہنوں میں چیزیں تھیں کہ اللہ سے جو مانگا جائے، یہ ہو ہی نہیں سکتا ہے کہ نہ ملے۔

    پاکستانی نژاد امریکی کاروباری شخصیت ضیا چشتی نے مقدمہ جیت لیا

    جسٹس بابر ستارکیخلاف مہم ، وزارت دفاع کی رپورٹ مسترد، دوبارہ جمع کرانے کا حکم

    تمباکو نوشی دنیا بھر میں ہائی بلڈ پریشر کے بعداموات کی دوسری بڑی وجہ

  • 1971ء کی منترہ الاپنے والوں کو منہ کی کھانی پڑے گی ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    1971ء کی منترہ الاپنے والوں کو منہ کی کھانی پڑے گی ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    اسلام آباد (رپورٹ: شہزاد قریشی) پاکستان میں نہ تو 71ء جیسے حالات ہیں اور نہ ہی 24کروڑ عوام کا ملک دیوالیہ ہوسکتا ہے۔ پاکستان ایک نیوکلیئر طاقت ہی نہیں بلکہ اسے جغرافیائی طور پر جنوبی ایشیاء اور اسلامی دنیا میں اہم مقام حاصل ہے۔ دیوالیہ ہونے کی رٹ ناکام ہوگئی اور اب 1971ء کی منترہ الاپنے والوں کو منہ کی کھانی پڑے گی ملکی معیشت اور سٹاک ایکسچینج کے عشاریئے اور مہنگائی میں کمی جیسے اشارے بتا رہے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ اور حکومت عوام کی بہتری اور پاکستان کی ترقی کے لئے اقدامات اٹھانے میں سنجیدہ ہیں اور حالات بتدریج بہتری کی طرف لوٹ رہے ہیں۔

    آئے روز سڑکوں پر ادھم مچانے میڈیا پر ایک دوسرے پر لعن طعن کرنے کی بجائے قومی اسمبلی اور سینٹ میں سنجیدہ بحث اور تجاویز کے ذریعے قومی سیاسی پارٹیوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اور عوام کو معاشی بحرانوں سے نکالنا ہوگا۔ تمام سیاسی پارٹیوں اور ان کی لیڈر شپ کو مہنگائی غربت اور سماجی ناانصافیوں میں پسے ہوئے عوام اور قومی اداروں کی مضبوطی کے لئے مل کر کام کرنا چاہئے اور وطن عزیز کی خاطر اپنے ذاتی مفادات کو قربانی دینے کی مثال قائم کرنا ہوگی کیونکہ اگر پاکستان ہے تو سیاست بھی ہے اور اقتدار اور حزب اختلاف کے استحقاق ہیں اسی لئے سب سے پہلے استحقاق پاکستان اور استحقاق عوام کو ترجیح دیں ورنہ تاریخ کسی بھی غدار کو معاف نہیں کرے گی۔

  • تمباکو نوشی مضر صحت،پر پابندی کیوں نہیں؟ تحریر: مہر اقبال انجم

    تمباکو نوشی مضر صحت،پر پابندی کیوں نہیں؟ تحریر: مہر اقبال انجم

    تمباکو نوشی مضر صحت ہے…سگریٹ کی ہر ڈبی پر یہ لکھاہوتا ہے لیکن اسکے باوجودسگریٹ خرید کرپی جاتی ہے اور اپنی صحت کا نقصان کیا جاتا ہے، سوال یہ ہے کہ جب سگریٹ مضر صحت ہے تو مضر صحت چیز کی معاشرے میں فروخت کیوں ہو رہی ہے؟ مضر صحت چیز پر حکومت پابندی کیوں نہیں لگاتی؟ کیوں ایسے قوانین نہیں بنائے جاتے کہ انسانی صحت کو نقصان پہنچانے والی چیزوں بمعہ سگریٹ پر سخت قانونی پابندیاں ہوں.لیکن جب قانون سازی کرنیوالے خود ہی سگریٹ کی تشہیر کر رہے ہوں تو ان سے کیا توقع کی جا سکتی ہے، شیخ رشید کو لے لیجیے جو کئی بار وزیر رہ چکے ہیں اب فروری کے انتخابات میں انہیں شکست ہوئی اور وہ اسمبلی نہیں پہنچ سکے انکی اکثر تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے موصوف سگار پی رہے ہوتے ہیں، ایسی تصاویر کا کیا مقصد ہے؟ تمباکو مضر صحت ہے تو اسکی اتنی تشہیر کیوں؟

    ابھی 31 مئی کو انسداد تمباکو نوشی کا عالمی دن گزرا، اس روز ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ وفاق اور تمام صوبوں میں تقریبات ہوتیں اور انسداد تمباکو نوشی کے حوالہ سے بھر پور آگاہی مہم چلائی جاتی ،لیکن وزیراعظم شہباز شریف ، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے انسداد تمباکو نوشی کے حوالہ سے صرف بیانات پر ہی اکتفا کیا ہے،اگرچہ مسلم لیگ ن ، پی ڈی ایم کی گزشتہ ڈیڑھ سالہ حکومت کے دوران تمباکو پر ٹیکس عائد کیا گیا جس سے سگریٹ کی قیمتیں بڑھیں اور فروخت میں کمی ہوئی،تاہم اب بھی بجٹ آ رہا ہے بجٹ میں حکومت کو چاہئے کہ تمباکو پر مزید ٹیکس لگایا جائے ، وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کہہ چکے ہیں کہ تمباکو انڈسٹری تین سو ارب سے زائد کا ٹیکس چوری کر رہی ہے اور ہم ادھر آئی ایم ایف کی منتیں کر رہے ہیں،ایسے میں کونسا امر مانع ہے کہ تمباکو انڈسٹری پر ٹیکس کیوں نہیں بّڑھایا جاتا، قومی خزانے کو نقصان پہنچ رہا ، تمباکو انڈسٹری من مانی کر رہی اور ٹیکس چوری کر رہی،وہ بھی اربوں کا، اگر ایک غریب سو روپے کا ٹیکس نہ دے تو کیا اسکے ساتھ بھی صرف بیان دے کر ہی سلوک کیا جاتا یا اس پر ڈنڈے کے زور پر قانون لاگو ہوتا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسی کالی بھیڑیں جو تمباکو انڈسٹری کے ساتھ ملی بھگت کر کے ٹیکس چوری میں ملوث ہیں انکو بے نقاب کر کے کاروائی کی جائے اور تمباکو پر مزید ٹیکس عائد کیا جائے.

    chromaic

    پنجاب حکومت انسداد تمباکو نوشی کے حوالہ سے پنجاب میں متحرک ہو چکی ہے. گزشتہ دنوں تمباکو نوشی کیخلاف کام کرنیوالی غیر سرکاری تنظیم کرومیٹک کے سی ای او شارق خان، طیب رضا نے لاہور کا دورہ کیا اور پنجاب کے صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق، خواجہ عمران نذیر، وزیر تعلیم رانا سکندر و دیگر سے ملاقاتیں کیں ، بعد ازاں پنجاب کے محکمہ تعلیم و صحت کے زیر اہتمام دو الگ الگ سیمینار بھی ہوئے جن میں سی ای او کرومیٹک شارق خان نے خصوصی طور پر شرکت کی،خواجہ سلمان رفیق اور خواجہ عمران نذیر جو پنجاب میں صحت کے شعبے کے وزراء ہیں نے اعلان کیا کہ وہ تمباکونوشی کیخلاف کرومیٹک کی مہم کو نہ‌صرف سراہتے ہیں بلکہ پنجاب میں انکے ساتھ ملکر آگاہی مہم پر بھی کام کریں گے، وزیراعظم کو تمباکو پر مزید ٹیکس لگانے کی بھی سفارش کریں گے،خواجہ سلمان رفیق نے کہاکہ دنیا بھر میں تمباکو نوشی سے ہر سال 70 لاکھ افراد موت کا شکار ہوتے ہیں۔ پاکستان میں سالانہ 347 ارب روپے کی رقم تمباکو نوشی میں ضائع کرنا انتہائی افسوس ناک ہے۔ شیشہ یا تمباکو نوشی کی دیگر اقسام بھی صحت کیلئے انتہائی نقصان دہ ہیں۔ نوجوان نسل کو چاہئے کہ وہ اپنی تعلیمی اور مثبت سرگرمیوں پر توجہ دیں۔دوسرے پروگرام میں پنجاب کے تعلیمی اداروں میں تمباکو نوشی کے خلاف بھر پور مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا،پاکستان میں روزانہ بارہ سو سے زائد بچوں کا تمباکو نوشی شروع کرنا تشویشناک ہے۔ سکول کے بچوں کو تمباکو نوشی سے محفوظ بنانا انتہائی ضروری ہے اور اس حوالے سے پنجاب حکومت تمام وسائل بروئے کار لائے گی۔صوبائی وزیرتعلیم رانا سکندر حیات کی خصوصی ہدایت پر اساتذہ اور والدین کی رابطہ کاری کے لئے بنائے گئے واٹس ایپ گروپس میں تمباکو نوشی کے نقصات اور بچوں پر اس کے اثرات کے حوالے سے آگاہی پیغام کو پھیلایا جائے گا تاکہ لاہور کے سرکاری اور پرائیویٹ سکولز میں زیرتعلیم 20 لاکھ سے زائد بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے۔

    tobacco day

    تمباکو نوشی کیخلاف مہم کو قومی مہم بنا کر "تمباکو سے پاک پاکستان” کا نعرہ بلند کرنا ہو گا ، گو وزیراعظم شہباز شریف نے اس امر کا اظہار کیا ہے کہ تمباکو سے پاک پاکستان بنائیں گے،تاہم اس کے لئے عملی اقدامات کی ضرورت ہے، کرومیٹک جیسی این جی اوز محدود وسائل کی وجہ سے آگہی مہم محدود پیمانے پر چلا سکتی ہیں تاہم حکومت اس ضمن میں وسیع پیمانے پر وسائل کی وجہ سے کام کر سکتی ہے، کرومیٹک کی آگاہی مہم کی وجہ سے کئی نوجوان سگریٹ نوشی ترک کر چکے ہیں،سوشل میڈیا پر کرومیٹک کی آگاہی مہم جاری رہتی ہے تو وہیں مختلف تقریبات کا انعقاد،سالانہ پوسٹ کارڈ مقابلہ جات بھی کروائے جاتے ہیں، کرومیٹک کے سی ای او شارق خان انتہائی متحرک ہیں، قوم کو بچوں کو تمباکو سے بچانے کے لئے وزیراعظم سے لے کر اراکین اسمبلی تک انکی ملاقاتوں کا مقصدصرف ایک ہوتا ہے کہ تمباکو پر ٹیکس لگایا جائے، تا کہ قوم کے بچے، قوم کا مستقبل سگریٹ سے محفوظ ہو، سگریٹ مہنگا ہو گا تو اسکی خریداری کم ہو گی،اور یہ تجربہ ہو چکا کہ سگریٹ مہنگا ہونے کی وجہ سے اسکی خریداری میں کمی آئی ہے.کرومیٹک کی انسداد تمباکو نوشی مہم میں پنجاب حکومت کی شمولیت انتہائی خوش آئند امر ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ کرومیٹک کی آگہی مہم کے ساتھ حکومت عملی اقدامات کرے، سگریٹ نوشی کے خلاف جو قوانین بنائے گئے ہیں ان کا نفاذ یقینی بنایا جائے، سگریٹ پر ٹیکس عائد کیا جائے،تعلیمی اداروں کے نواح میں سگریٹ کی فروخت پر مکمل پابندی ہونی چاہئے، تمباکو کی ایڈورٹائزمنٹ پر پابندی ہونی چاہئے. سگریٹ پینے والوں کی معاشرے میں بھی حوصلہ شکنی کرنی چاہئے.سگریٹ پینے والا نہ صرف اپنا نقصان کر رہا ہے بلکہ ساتھ بیٹھنے والوں کا بھی نقصان کر رہا ہے. پاکستان میں تمباکو نوشی میں کمی لانے کیلئے ضروری ہے کہ قیمتوں میں اضافے کیساتھ ساتھ اس کے نقصانات کے حوالے سے خصوصی آگاہی مہم شروع کی جا ئے تاکہ عوام اس کے جان لیوا اثرات سے محفوظ رہیں اور اپنے ہاتھوں اپنی زندگیوں کا خاتمہ نہ کریں۔ پاکستان کو ٹوبیکو فری بنانے کیلئے ضروری ہے کہ سگریٹ سازی کی صنعت پر مزید بھاری ٹیکسز عائد کئے جائیں، پاکستان میں روزانہ 1200 سے زیادہ بچے تمباکو کا استعمال شروع کر رہے ہیں، اور اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں الیکٹرانک تمباکو اور نکوٹین کی مصنوعات کے پھیلاؤ کے ساتھ پاکستان کے اعداد و شمار اور بھی تشویشناک ہیں۔ تمباکو کی صنعت نوجوانوں کو ہدف بناتی ہے، تمباکو کی صنعت تمباکو کی مصنوعات کو فروغ دینے والے اشتہارات کے ذریعے گمراہ کن ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے۔انکو بھی روکنے اور ٹیکس لگانے کی ضرورت ہے.

    iqbal anjum

    وزارت تعلیم پنجاب اور کرومیٹک کے زیر اہتمام تمباکونوشی کیخلاف خصوصی تقریب

    پاکستان میں سگریٹ انڈسٹری نے تباہی مچا دی، قومی خزانے کو اربوں کا نقصان

    انسداد تمباکو نوشی مہم کے سلسلے میں چوتھے سالانہ پوسٹ کارڈ مقابلوں کا آغاز

    تمباکو پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں 30 فیصد اضافہ کیا جائے، ملک عمران

    حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کا ماڈرن تمباکو مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ

    تمباکو نوشی کے خلاف مہم کا دائرہ وسیع کریں گے،شارق خان

  • عجیب وجہ ملاقات تھی مری اس سے

    عجیب وجہ ملاقات تھی مری اس سے

    عجیب وجہ ملاقات تھی مری اس سے
    کہ وہ بھی میری طرح شہر میں اکیلا تھا

    منصورہ احمد
    یکم جون 1958: یوم پیدائش

    آغا نیاز مگسی

    اردو کی معروف شاعرہ اور ادیبہ منصورہ احمد یکم جون 1958 کو حافظ آباد میں معروف قانون دان مرزا حبیب احمد کے گھر میں پیدا ہوئیں ۔ انہوں نے پرائمری سے انٹر تک حافظ آباد میں تعلیم حاصل کی جبکہ گریجویشن لاہور میں کیا۔ شاعری کا انہیں بچپن میں شوق تھا ۔ احمد ندیم قاسمی شاعری میں ان کے استاد تھے۔ 1998 میں انہیں ان کے شعری مجموعے "طلوع” پر اکادمی ادبیات پاکستان نے وزیراعظم ادبی ایوارڈ عطا کیا تھا۔ وہ ادبی جریدے” مونتاج” کی مدیرہ بھی تھیں۔ احمد ندیم قاسمی کی منہ بولی بیٹی تھیں. وہ 1986 سے 2006 تک ادبی جریدہ "فنون” سے وابستہ رہیں ۔ انہوں نے زندگی بھر شادی نہیں کی ۔ 8 جون 2011 کو لاہور میں وفات پاگئیں اور حافظ آباد میں آسودہ خاک ہوئیں۔

    منصورہ احمد کی شاعری سے انتخاب
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تمام شہر میں تیرہ شبی کا چرچا تھا
    یہ اور بات کہ سورج افق پہ نکلا تھا

    عجیب وجہ ملاقات تھی مری اس سے
    کہ وہ بھی میری طرح شہر میں اکیلا تھا

    میں سب سمجھتی رہی اورمسکراتی رہی
    مرا مزاج ازل سے پیمبروں سا تھا

    میں اس کو کھو کے بھی اس کو پکارتی ہی رہی
    کہ سارا ربط تو آواز کے سفر کا تھا

    میں گل پرست بھی گل سے نباہ کر نہ سکی
    شعور ذات کا کانٹا بہت نکیلا تھا

    سب احتساب میں گم تھے ہجوم یاراں میں
    خدا کی طرح مرا جرم عشق تنہا تھا

    وہ تیرے قرب کا لمحہ تھا یا کوئی الہام
    کہ اس کے لمس سے دل میں گلاب کھلتا تھا

    مجھے بھی میرے خدا کلفتوں کا اجر ملے
    تجھے زمیں پہ بڑے کرب سے اتارا تھا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کس قدر دشوار ہے ان اجنبی شہروں میں رہنا
    گھر کی چوکھٹ ڈھونڈنے میں ہجرتوں کے درد سہنا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    زندگی بانجھ سی عورت تھی کہ جس کے دل میں
    بوند کی پیاس بھی تھی آنکھ میں سیلاب بھی تھے

  • نوابزادہ خالد خان مگسی کے قافلے پر حملہ.تلخ حقائق . عبدالرزاق مگسی

    نوابزادہ خالد خان مگسی کے قافلے پر حملہ.تلخ حقائق . عبدالرزاق مگسی

    ڈیرہ مرادجمالی۔31 مئی 2024

    نوتال اور بختیار آباد کے درمیان قومی شاہراہ پر جمعرات کے روز ایم این اے نواب زادہ خالد خان مگسی پر ڈاکوؤں کی فائرنگ اور گارڈز کی جوابی فائرنگ سے ڈاکو فرار ہونے میں کامیاب ہوئے،اسی مقام پر دو گھنٹے قبل دو مسافر ویگنوں کو لوٹ لیا گیا کسی نے نوٹس نہیں لیا؟ خالد خان مگسی پر فائرنگ کا واقعہ جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی دیکھتے ہی دیکھتے بلوچستان حکومت سمیت تقریبا بااثر شخصیات نے واقعہ کی مزمت کی اور فوری ڈاکوؤں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا اور وزیر اعلی نے نوٹس لیکر نصیرآباد اور کچھی انتظامیہ سے رپورٹ بھی طلب کی گئی ہے واقعہ کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے اور ہر وہ غلط کام کی مذمت ہونے چاہیے لیکن قومی شاہراہ اور لنک سڑکوں پر جس طرح بختیار آباد، نوتال کے درمیان، بختیار آباد، بھاگ روڈ، نوتال، گنداوہ روڈ بختیار آباد اور لینڈسے (لمجی) کے درمیان، ڈنگڑا قومی شاہراہ پر اس کے علاوہ ہر دوسرے یا تیسرے دن مسلح ڈاکو مسافر بسوں ویگنوں۔ٹرکوں سمیت چھوٹے گاڑیوں اور موٹرسائیکل سواروں اور خواتین کو لوٹ لیا جاتا ہے لیکن ان غریب عوام، ڈرائیورز،اور خواتین کے لیے نہ صوبائی حکومت،نہ سرداران،و دیگر بااثر شخصیات جو نواب زادہ خالد خان مگسی کے ساتھ ہونے والے واقعہ کی طرح حرکت میں کیوں نہیں آتے کوئی وزیر نواب سردار یا بااثر شخصیات نے یک زبان ہو کر مزمت نہیں کیا لیکن بلوچستان کے سارے سردار نواب سرمایہ دار جاگیردار وزیر،مشیر پارلیمانی سیکرٹریز صوبائی و وفاقی حکومت ایک ہوگے لیکن غریب عوام کے لئے یہ اشرفیہ کبھی ایک نہیں ہونگے لیکن ووٹ غریب عوام سے لیکر اسمبلیوں میں پہنچ جانے کے بعد وزیر، مشیر و پارلیمانی سیکرٹری بن کر خوب عوامی وسائل کو دیمک کی طرح چاٹ کر صوبے اور ملک کو دیوالیہ کیا جاتا ہیں لیکن عوام اور تاجروں کو آئے روز بازاروں قومی شاہراہوں پر دن دھاڑیں اور رات کے اندھیروں میں ڈاکو لوٹ مار کرنے کے ساتھ گاڑیاں نہ روکنے پر فائرنگ کی جاتی ہے کئی مسافر اور ڈرائیورز زخمی اور ہلاک ہو جاتے ہیں ان کے لیے کوئی نواب سردار یا وزیر بیان تک دینا گوارا نہیں کرتے اس طرح نواب زادہ کےلیے حکومت سمیت تمام بااثر شخصیات ایک پلیٹ فارم پر متحدہ ہوئے اسی طرح عوام کے لئے درد محسوس کرتے ہوئے متحدہ ہوجائے تو بلوچستان امن کا گوارا بن جائے گا اسی دوہرے معیار کی وجہ سے بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال گمبھیر سے گمبھیر صورتحال اختیار کرتا جا رہا ہے اسی لیے کہا جاتا ہے کہ یہ ملک غریبوں کا نہیں بلکہ امیروں سرمایہ داروں،اور اشرفیہ کا ملک ہے

  • دہشت گردی کے نفسیاتی اثرات

    دہشت گردی کے نفسیاتی اثرات

    دہشت گردی سے سماجی رویوں خصوصا سرکاری اداروں پر اعتماد،ہجرت کے بارے میں خیالات، اور شہری آزادی بارے گہرا اثر ہوتا ہے،دہشت گردی کی کارروائیاں شہریوں میں منفی جذبات جیسے بے چینی، غم و غصہ، کمزوری ،بے بسی کو جنم دیتی ہیں،

    دہشت گردی کا مقصد پرتشدد کارروائیوں کی وجہ سے ہونے والی فوری جسمانی تباہی اور نقصان سے بھی بڑھ کر ہے۔ دہشت گرد معاشرے کو کمزور اور غیر مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی اخلاقی اقدار، اتحاد اور انتظامی ڈھانچے کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ دہشت گردوں کا مقصد وسیع پیمانے پر ذہنی اور جذباتی تناؤ کو جنم دینا ہے، جس سے معاشرے کو عدم برداشت اور ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے۔ یہ سماجی و نفسیاتی نتیجہ ان کے مقاصد کے حصول کے لیے اہم ہے۔

    پاکستان گزشتہ کئی برسوں سے دہشت گردی سے نبرد آزما ہے، جس کے نتیجے میں اہم سماجی اور نفسیاتی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ تاہم دہشت گردی کے بعد ہونے والی بات چیت میں اکثر گہرے سماجی و نفسیاتی اثرات کو نظر انداز کیا جاتا ہے، اور پاکستانی معاشرے میں ان اثرات کو حل کرنے پر محدود توجہ دی گئی ہے۔

    سوات، جنوبی وزیرستان اور شمالی وزیرستان جیسے علاقوں میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور اس کے نتیجے میں ہونے والی فوجی کارروائیوں نے مقامی باشندوں بالخصوص خواتین اور بچوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ ان افراد کو شدید سماجی، ذہنی، جسمانی اور نفسیاتی صدمے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔مسائل کی وجہ سے بہت سے شہریوں کو اپنا گھر بار چھوڑ نا پڑا، انہوں نے نقل مکانی کی، جس سے ان کے خوف اور بے بسی کا احساس مزید بڑھ گیا ہے، نقل مکانی روزمرہ اورسماجی معاملات میں خلل ڈالتی ہے، جس سے پریشانیاں مزید بڑھ جاتی ہیں

    پاکستان معتدل اور متحرک معاشرے کے طور پر جانا جاتا ہے جو مذہبی انتہا پسندی کو مسترد کرتا ہے۔ پاکستان اعتدال پسند اسلام اور صوفی روایات کو اپناتا ہے، جو رواداری، امن اور بقائے باہمی پر زور دیتے ہیں۔ ان اقدار کی جڑیں پاکستان کی تاریخ اور ثقافت میں گہری ہیں۔ منفرد چیلنجوں کا سامنا کرنے کے باوجود، پاکستانی معاشرے نے لچک کا مظاہرہ کیا ہے اور مشکلات کا بھرپور جواب دیا ہے۔تاہم، دہشت گرد گروہوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ نے معاشرے کے معتدل طبقات کو تیزی سے پسماندہ کر دیا ہے۔ جیسے جیسے دہشت گرد میدان میں اترتے ہیں، وہ خوف اور تباہی کا ماحول پیدا کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں اعتدال پسند عوام کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔

    دہشت گردی کے سماجی و نفسیاتی اثرات سے نمٹنے کے لیے حکومت کو معاشرتی رویے پر دہشت گردی سے پیدا ہونے والے دباؤ کا مکمل جائزہ لینا چاہیے۔ اسے ڈیزاسٹر پلاننگ اور ٹاؤن اور ضلع کی سطح پر ٹراما سینٹرز کے قیام کے ساتھ جوڑا جانا چاہیے۔ نہ صرف دہشت گردی سے براہ راست متاثر ہونے والوں کو مدد کی ضرورت ہے، بلکہ پورا معاشرہ اس کے اثرات کو محسوس کرتا ہے، جس کے نتیجے میں معیشت متاثر ہوتی ہے اور اندرونی اور بیرونی سرمایہ کاری بھی رک جاتی ہے،دہشت گردی سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے مضبوط اور متحرک پالیسیاں ضروری ہیں۔ ایک جامع نقطہ نظر نفسیاتی مدد، سماجی ہم آہنگی اور اقتصادی استحکام ، پاکستان کے معاشرے پر دہشت گردی کے طویل مدتی اثرات کو کم کرنے میں مدد کرے گا۔ ان شعبوں پر توجہ مرکوز کرکے، حکومت اپنے لوگوں کو مضبوط کر سکتی ہے اور زیادہ پرامن اور مستحکم ماحول کو فروغ دے سکتی ہے۔

  • مرکزی مسلم لیگ کا یوم تکبیر کارواں،تحریر:ارشاد احمد ارشد

    مرکزی مسلم لیگ کا یوم تکبیر کارواں،تحریر:ارشاد احمد ارشد

    28مئی ۔۔۔۔پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم دن ہے کہ جب بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں ایٹمی دھماکے کرکے پاکستان عالم اسلام کی پہلی ایٹمی قوت بنا ۔28مئی کو یوم تکبیر کانام دیا گیا ۔ یوم تکبیر بہت مبارک اور خوبصورت نام ہے۔ اس نام میں جوش بھی ہے جذبہ ہے ۔ جرأت بھی ہے اور ہمت بھی ہے۔تکبیر کا مطلب ہے ۔۔۔۔اللہ کی کبریائی، بڑائی اور عظمت ۔ قرون اولیٰ کے مسلمان جب تکبیر کا نعرہ بلند کرتے تو کفر کے ایوان لرز جاتے اور صنم منہ کے بل گرکے ھواللہ احد کہتے تھے ۔ آج مسلمان جھاگ کی طرح ہیں ان میں ہمت ہے اور نہ جرأت ہے اسلئے کہ دل جذبہ ایمان سے خالی ہیں ۔ جب تک دلوں میں ایمان نہیں ہوگا کوئی ہتھیار کارگر نہیں ہوسکتا ۔ کہنے کی حد تک پاکستان ایک ایٹمی ملک ہے لیکن قوم میں تکبیر جیسا جذبہ پیدا کرنے کیلئے کچھ بھی عملی اقدامات نہ کیے گئے ۔ ضرورت اس امر کی تھی قوم میں تکبیر جیسا جذبہ بھی پیدا کیا جاتا ۔اسلئے کہ اسلحہ کے ساتھ جذبہ نہ ہوتو کوئی قوم نہ تو جنگ لڑ سکتی ہے اور نہ ہی جیت سکتی ہے ۔امسال اگرچہ سرکاری سطح پر یوم تکبیر کااہتمام کیا گیا تھا ۔ اسی طرح کچھ جماعتوں نے یوم تکبیر کی تقریبات کا اہتمام کیا ہوا تھا تاہم اس طرح کے مواقع پر مرکزی مسلم لیگ ہی واحد جماعت ہے جو بکھری قوم کو مجتمع کرنے ، منزل کا تعین کرنے ، دو قومی نظریہ کا سبق یاد کروانے اور تکبیر کا جذبہ پیدا کرنے کیلئے کوشاں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سال 28مئی کے موقع پر مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام ملک بھر میں شایان شان طریقے سے ’’ یوم تکبیر ‘‘ کی تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے ۔ اس دفعہ بھی کراچی سے پشاور تک ہر شہر میں یوم تکبیر کی تقریبات کا اہتمام کیا گیا ۔ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کا دارالحکومت لاہور ہے اور لاہور کا دل مال روڈ ہے ۔دیگر شہروں کی طرح لاہور میں بھی تکبیر کارواں کا انعقاد کیا گیاجس میں ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے شرکت۔
    تکبیر کارواں سے مرکزی مسلم لیگ کے قائدین نے خطاب کیا ۔ مرکزی مسلم لیگ کے نائب صدر چوہدری محمد سرورنے کہا کہ ایٹم بم تو ہم نے بنالیا اس کے بعد ایٹمی دھماکے بھی کرلیے اور جس دن ایٹمی دھماکے کیے گئے اس دن کانام ’’ یوم تکبیر ‘‘ رکھ دیا گیا لیکن المیہ یہ ہے کہ قوم تکبیر جیسا جذبہ پیدا کرنے کیلئے کچھ نہیں کیا گیا ۔ سال میں ایک بار یوم تکبیر منالینا کافی نہیں اصل بات یہ ہے کہ قوم کو اس امر سے آگاہ کیا جائے کہ پاکستان کو ایٹم بم بنانے اور دھماکے کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی ۔۔۔۔؟ وہ عوامل جن کی وجہ سے پاکستان کو ایٹمی اسلحہ بنانا پڑا ۔۔۔۔وہ عوامل اور خطرات آج بھی اسی طرح موجود ہیں ۔ ہمارے دشمن بھارت نے صرف طریقہ کار بدلا ہے ۔دشمنی ختم نہیں کی ۔ وہ پہلے سے بھی زیادہ پاکستان میں دہشت گردی کی کاروائیاں کروارہا ہے ۔ان حالات میں جہاں پاکستان کو عسکری اعتبار سے مضبوط کرنے کی ضرورت ہے وہاں تکبیر کو جذبوں کو بھی سمجھنے اور عام کرنے کی بے حد ضرورت ہے ۔

    ہم نے یوم تکبیر منانے کا اعلان کیا تو ہمیں ملامت کی گئی ڈرایا دھمکایا گیا لیکن ہم نہ ہی ڈرے اور نہ ہی پیچھے ہٹے ہیں ۔ہم آج سے اپنی تحریک کا آغاز کررہے ہیں کہ اس وطن کو لا الہ الا اللہ کا ملک بنائیں گے۔سیاسی معاشی اعتبار سے ملک کے حالات بہت ناگفتہ بہ ہیں تاہم وطن عزیز کی صورتحال پارٹیاں یا چہرے بدلنے سے تبدیل نہیں ہوگی، اسلام پر عمل سے بدلے گی۔ ہم نے صرف ووٹ کی نہیں بلکہ نظریہ کی جنگ لڑنی ہے۔ شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے حکمران اپنوں کو پس زنداں ڈال رہے ہیں اور غیروں کے سامنے بھیگی بلی بنے ہوئے ہیں۔ ہمارا دشمن تقسیم در تقسیم کے ذریعے ہمیں تباہ کرنا چاہتا ہے۔ مرکزی مسلم لیگ پاکستان کی بقا اور سالمیت کا معرکہ سر کرے گی۔ ہم پارٹی اور دھڑے بازی کی بجائے خدمت کی سیاست کا علم لے کر نکلے ہیں ۔

    تکبیر کارواں کے ایک اہم ترین مقرر فلسطین سے آنے والے معزز مہمان الشیخ ابو عبیدہ تھے ۔ حاضرین وسامعین نے الشیخ ابوعبیدہ کا استقبال پرجوش نعروں سے کیا ۔ فلسطینی رہنما نے رقت آمیز انداز میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آٹھ ماہ سے غزہ میں جنگی جرائم اور فلسطینیوں کا قتل عام جاری ہے۔اہل غزہ نے جانیں دے کر استقامت کی انمٹ مثالیں پیش کی ہیں ۔فلسطین صرف فلسطینیوں کا نہیں یہاں قبلہ اول ہے ، فلسطین انبیاء علیھم السلام کی سرزمین ہے لیکن انبیاء علیہ السلام کی سر زمین یہودیوں کے ہاتھوں لہولہان ہے ۔ فلسطینی مسلمان غزہ کی نہیں قبلہ اول کے دفاع کی جنگ لڑرہے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ پورا عالم اسلام فلسطینیوں کے شانہ بہ شانہ کھڑا ہوجائے ۔مرکزی مسلم لیگ کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج کا دن جرأ ت، دلیری بہادی اور شجاعت کا دن ہے۔ ہم پاکستان کے دشمنوں کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہم اپنے وطن کے دفاع کے لئے زندہ وبیدار ہیں ۔پاکستان محمد بن قاسم ، طارق بن زیاد ، قتیبہ بن مسلم ، صلاح الدین ایوبی کے جانثاروں اور قبلہ اول سے محبت کرنے والوں کا وطن ہے ۔پاکستان کے غیور وجسور اور بہادر عوام کسی صورت بھی اسرائیل کو تسلیم نہیں ہونے دیں گے۔آج جو شیخ مجیب کو ہیرو ثابت کرنا چاہتے ہیں اپنا قبلہ درست کریں۔ہم ہر چور اور ڈاکو کو کہنا چاہتے ہیں کہ تمہارا وقت پورا ہوا۔اب یہ وقت پاکستان مرکزی مسلم لیگ کا ہے۔

    مرکزی مسلم لیگ لاہور کے صدر انجنئیر عادل خلیق کا کہنا تھا کہ ابن الوقت سیاستدانوں نے اپنے اپنے مفادات کی خاطر ملک میں مایوسی کی فضا پیدا کررکھی ہے۔ ایک سازش کے تحت حالات ایسے بنائے جارہے ہیں کہ نوجوان ملک سے مایوس ہوجائیں ، ہم نے ان مفاد پرست سیاستدانوں کا بھی مقابلہ کرنا ہے اور ملک کو بھی مایوسی کے اندھیروں سے نکال کر اجالے کی طرف گامزن کرنا ہے ۔تکبیر کارواں سے ریاض احمد احسان،عمر عبداللہ ، ادریس فاروقی ، چوہدری مختار گجر،شیخ صداقت ،ڈاکٹر عمران، امین بیگ،حافظ عثمان اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ایٹمی پروگرام پر کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے سے باز رہے، معاشی استحکام کے لیے حکومت کفایت شعاری اور خود انحصاری کی پالیسی بنائے۔ ایٹمی صلاحیت کی بنیاد پر ہر بیرونی دشمنوں سے ہم محفوظ ہیں لیکن حالیہ بڑھتی ہوئی منافرت اور تقسیم تباہ کن ہے۔ مقتدرہ اور دیگر اسٹیک ہولڈرز مل کر وطن عزیز کو اس بحران سے نکالیں۔ اپنی اناؤں کو پس پشت ڈال کر وطن عزیز کے استحکام کے لیے کردار ادا کریں۔

    مرکزی مسلم لیگ کی ملک بھر میں یوم تکبیر کی تقریبات سے دلوں کو اک ولولہ تازہ ملا ہے، قوم کو حوصلہ ملا ہے اور دشمنوں کو یہ پیغام ملا ہے کہ پاکستانی قوم زندہ وبیدار ہے ، ہوشیار ہے ۔ اس میں شک نہیں قوم تو زندہ ہے مگر ستم یہ ہے کہ ہمارے حکمران خواب غفلت کا شکار ہیں ۔ بدقسمتی سے حکمرانوں کی ترجیحات میں ملک اور قوم نہیں بلکہ ان کی اپنی ذات اور اقتدار ہے ۔ حالانکہ یہ وقت سیاست نہیں ملک بچانے کا ہے اقتدار نہیں اقدار کے فروغ کا ہے ۔ اسلئے کہ ملک ہے تو ہم ہیں ۔ ضروری ہے کہ ہم میں سے ہر شخص ملک کو بچانے کیلئے اپنا کردار ادا کرے ۔
    irshad arshad

  • یوم تکبیر پر سفر اور نواز شریف کا عوامی خطاب، تجزیہ : شہزاد قریشی

    یوم تکبیر پر سفر اور نواز شریف کا عوامی خطاب، تجزیہ : شہزاد قریشی

    گذشتہ دن اپنے دیرینہ و مخلص دوست وسینیٹر اور رہنما پروفیسر عرفان صدیقی کی صحبت جمیلہ میں اسلام آباد سے لاہور یوم تکبیر کی مرکزی تقریب میں شرکت کے لئے سفر کرنے کا شرف حاصل ہو ا اور سینیٹر ناصر بٹ بھی ہمارے ہم رکاب تھے ہم خیال ہم عمر اور مہم ہمدم دوستوں کا اکٹھا سفر اور ایک ہی منزل اور ایک ہی لیڈر و عظیم لیڈر سے ملاقات کے اشتیاق نے ہمارے سفر کو انتھک اور خوشگوار بنا دیاجونہی ہماری گاڑی اسلام آباد سے لاہور کے لئے موٹر وے پر پہنچی تو کون محب وطن اور ترقی پسند ہے جس کے دل سے میاں نواز شریف کے جذبہ دل اور غنچہء شوق کی خوشبو کا اعتراف نہ اُبلتا ہوسینیٹر پروفیسر عرفان صدیقی ، سینیٹر ناصر بٹ اور میری اپنی گفتگو میں جو تجزیہ کرنے لگے کہ اگر میاں نواز شریف پشاور اسلام آباد لاہور فیصل آباد ، لواری ٹنل اور دیگر موٹر ویز نہ بناتے تو آج کا پاکستان کیسا ہوتاشیر شاہ سور ی دور کا گرینڈ ٹرنک روڈ کوہستان برہان بٹالہ پاک وطن کی وہ بسیں ہوتیں جوراولپنڈی سے فیصل آباد کا سفر 14 گھنٹے میں کرتی تھیں اور جب مسافر ان سے اترتے تھے تو انہیں اپنے گھر والے بھی نہ پہچان سکتے تھے تاجر کئی دن تک اپنے ساز وسامان کے پہنچنے کا انتظار کرتے رہتے تھے اور آئے دن گاڑیوں کے خطرناک حادثات کی خبریں اخبارات کے پہلے صفحات کی زینت بنتی تھیں اور سوال یہ بھی آیا کہ اگر نواز شریف موٹر وے نہ بناتے تو کوئی اور بناتا؟ جی بالکل نہیں کیونکہ ان کے ہم عصر ایک اور وزیرا عظم اس پر تنقید کرکے موٹر وے کی چوڑائی کم کر گئی تھیں جس کا پچھتاوا آج بھی قوم کو ہےکیا آج ہم اتنے طویل موٹر ویز بنا سکتے ہیں ؟ جی بالکل نہیں کیا آج ہم میٹرو بس اور اورنج ٹرین کے منصوبے شروع کر سکتے ہیں جی بالکل نہیں ہماری معاشی حالت ابتر ہو چکی ہے
    سینیٹر پروفیسر عرفان صدیقی نے نکتہ اٹھایا اگر میاں نواز شریف سی پیک کی تکمیل کر چکے ہوتے اور کراچی لاہورا سلام آباد تاکاشغر دو رویہ ریل ٹریک بن کر چالو ہو چکا ہوتا تو پھر پاکستان کہاں کھڑا ہوتاہم سب کا جواب تھا کہ پاکستان ایشین ٹائیگر بن چکا ہوتادنیا کے بڑ ےبڑے برانڈراپنی مصنوعات کے کارخانے پاکستان میں لگاتے اور اپنی مصنوعات کی ترسیل دوسرے دور دراز ممالک میں کررہے ہوتےبیرون ملک سے پاکستانی لیبر واپس آکر اپنے دیس میں روزی کما رہی ہوتی پاکستان کی اعلیٰ تعلیم یافتہ یوتھ ڈنکیاں لگاکر سات سمندر پار ڈوب نہ رہی ہوتی اور پاکستان کا برین ڈ رین نہ ہوتالاہور پہنچ کر حسب معمول سینیٹر پرویز رشید کی مہمانداری نصیب ہوئی تو ان کے گرد میاں نواز شریف کے مخلص دوستوں کا ہجوم دیکھ کر دل بے ساختہ کہہ اٹھابقول اقبال و فقط یہ بات کہ پیر مغاں ہے مردخلیق
    میاں نواز شریف نے یوم تکبیر کے موقع پر اپنے خطاب میں عوام کے دل موہ لئے اور یہ خطاب بلاشبہ ایک تاریخی خطاب ہے جس میں انہوں نے سات سال کے عرصہ میں جلا وطنی اور اقتدار سے زبردستی علیحدگی صادر فرمانے والے ٹولے کی نشاندہی بھی کی اور اس سے پاکستان کے ترقی کے سفر میں ناقابل تلافی رخنہ اندیزی کاتذکرہ کیاانہوں نے نشاندہی کی کہ کس طرح پاکستان کو سی پیک کی منزل سے گمراہ کرنے کے لیے انہیں لندن پلان اور ا س وقت کی عدلیہ کی ملی بھگت کا نشانہ بنایا گیا اور ایک نااہل قیادت کو پاکستان کی تقدیر سے کھیلنے کا کھلا موقع فراہم کیا گیا
    میاں نواز شریف نے موٹر ویز سے لے کر ایٹمی دھماکوں تک صنعتی انقلاب سے سی پیک ا ور لوڈ شیڈنگ کے خاتمے تک جتنے بھی اقدامات کیے کا ذکر کیا ان کارناموں کوفیض احمد فیض کے ایک قطعہ میں تخلیق کیا جا سکتا ہے
    قتل گاہوں سے چن کر ہمارے علم
    اورنکلیں گے عشاق کے قافلے
    جن کی راہ طلب میں ہمارے قدم
    مختصر کر چلے درد کے فاصلے

  • سرگودھا میں مسیحیوں پر حملہ: ہم یہاں کیسے پہنچے؟

    سرگودھا میں مسیحیوں پر حملہ: ہم یہاں کیسے پہنچے؟

    پنجاب کے شہر سرگودھا میں افسوسناک واقعہ پیش آیا، سرگودھامیں پیش آنے والا سانحہ ہجوم کے بے قابو تشدد کی ایک سنگین یاد دہانی ہے جس سے ہماری قوم کو دوچار کر رہا ہے۔ ایک مشتعل ہجوم نے ایک شخص پر توہین مذہب کا الزام لگاتے ہوئے املاک کی توڑ پھوڑ کی اور اسے قتل کرنے کی کوشش کی۔ ویڈیو ز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہیں،سوشل میڈیا فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ ایک ہجوم نے ایک شخص کو گھیرے میں لیا ہوا ہے، اس ہجوم میں نوجوان بھی شامل ہیں، وہ فرنیچر کی توڑ پھوڑ کر رہے ہیں۔ ایک اور ویڈیو میں ایک گھر کے باہر ایک بڑی آگ کو دکھایا گیا ہے۔

    اقلیتی حقوق مارچ کے ایک بیان میں اشارہ کیا گیا ہے کہ مبینہ طور پر ایک مقامی مولوی کی طرف سے بیان کے بعد مشتعل ہجوم نے ایک 70 سالہ شخص کو مار دیا ، اس کے گھر اور فیکٹری کو نذر آتش کر دیا۔ پریشان کن طور پر، ہجوم کی جانب سے حملے کی ویڈیوز میں پنجاب پولیس کے افسران کو خاموش تماشائی کے طور پر کھڑے دکھایا گیا ہے، جو حملہ آوروں کو ان کی خاموشی سے منظوری اور سہولت کاری کا مشورہ دیتے ہیں۔ سرگودھا پولیس نے واقعے میں ملوث 15 افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم، یہ جڑانوالہ کیس میں اسی طرح کی گرفتاریوں اور گرجا گھروں، عیسائیوں کے گھروں اور کمیونٹیز پر متعدد دوسرے ہجوم کے حملوں کو ذہن میں لاتا ہے۔ اہم سوال یہ ہے کہ کیا ان حملہ آوروں میں سے کسی کو سزا کا سامنا کرنا پڑا ہے؟

    بہت طویل عرصے سے، پاکستان کے توہین رسالت کے قوانین کو ذاتی انتقام اور مذہبی ایذا رسانی کے ہتھیار کے طور پر غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس حوصلہ افزائی نے ایک ایسا ماحول پیدا کیا ہے جہاں مختلف انتہا پسند دھڑے ہجومی تشدد کو بھڑکانے کے لیے مذہبی جذبات کا استحصال کرتے ہیں۔اس طرح کے تشدد کو بھڑکانے اور اس میں ملوث ہونے والوں کا احتساب ہونا چاہیے۔ پولیس اور دیگر حکام کی غیر فعال مداخلت جاری نہیں رہ سکتی۔ معصوم جانوں کے تحفظ اور قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھنے میں ناکام رہنے والوں کو ذمہ دار ٹھہرایا جانا چاہیے۔

    واقعات و سانحات کے بعد ،حکومت اور پولیس کی خاموشی، اس کے بعد خالی بیان بازی، اہم سوالات کو جنم دیتی ہے،وہ کس کو مطمئن کرنے کی کوشش کر رہے ہیں؟ عدم برداشت کو اتنی چھوٹ کیوں دی جاتی ہے؟ مذہبی اختلافات پر عدم برداشت کا غلبہ کیوں ہے؟ اس مسئلے کی جڑ 7 ستمبر 1974 تک جا سکتی ہے جب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے مذہبی علماء کی خوشنودی کے لیے احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا تھا۔ فرح ناز اصفہانی نے 2017 میں نوٹ کیا کہ مذہبی جماعتوں نے ایک متفقہ قرارداد منظور کرنے کے لیے سیکولر اپوزیشن اراکین کی حمایت حاصل کی جس میں وفاقی حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ احمدیوں کو ان کے ختم نبوت میں کفر کی وجہ سے اقلیت قرار دے۔

    نئی قانون سازی اور فوجی کارروائیوں کے ذریعے دہشت گردی اور پرتشدد انتہا پسندی کے خلاف زیرو ٹالرنس کا حکومتی نقطہ نظر درست سمت میں ایک قدم ہے۔ تاہم، مستقبل کے خطرات کو روکنے اور زیادہ جامع معاشرے کو فروغ دینے کے لیے اختراعی سیاسی، اقتصادی اور تعلیمی حکمت عملی ضروری ہے۔ انتہا پسندی کے خلاف جنگ کے لیے نہ صرف سخت قوانین اور نفاذ کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ اس طرح کے تشدد کو ہوا دینے والے بنیادی سماجی، اقتصادی اور تعلیمی مسائل کو حل کرنے کی بھی کوشش کی جاتی ہے۔ ریاست کو اس بات کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کرنا ہوں گے کہ تمام شہریوں بالخصوص اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے اور ایسے گھناؤنے فعل کا شکار ہونے والوں کو انصاف فراہم کیا جائے۔

  • تبصرہ کتب، مسنون حج و عمرہ

    تبصرہ کتب، مسنون حج و عمرہ

    نام کتاب : مسنون حج وعمرہ
    مصنف : حافظ صلاح الدین یوسف مرحوم
    قیمت : بڑا سائز 1000روپے ، درمیانہ سائز 425روپے ، چھوٹا سائز 200روپے
    ناشر : دارالسلام انٹرنیشنل ، لوئر مال ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ ، لاہور
    برائے رابطہ 042-37324034
    اِسلامی عبادات میں حج کی ایک خاص اہمیت وفضیلت ہے۔ اِسے اِسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں شمار کیا گیا ہے۔ قرآن مجید میں حج کو استطاعت کے ساتھ فرض قرار دیا گیا ہے۔ حج کی درست اور مسنون ادائیگی کو گناہوں کا کفارہ قرار دیا گیا ہے۔ حدیث میںحج مبرور کی جزا اور صلے میں جنت کا وعدہ کیا گیا ہے۔ اِسی طرح عمرے کی مسنون ادائیگی پر اس کی فضیلت کو یوں بیان کیا گیا ہے کہ ایک عمرہ دوسرے عمرے کے درمیان کے گناہوں کو ختم کر دیتا ہے۔ حرمِ کعبہ میں ایک مقبول نماز کا اجر دوسرے مقام کی لاکھ نمازوں سے افضل ہے۔ اسی طرح حرمِ نبوی کی ایک مقبول نماز کا اجر دوسرے مقام کی ہزار نمازوں سے افضل بتایا گیا ہے۔ حج وعمرے کی یہ اہمیت وفضیلت اور اس کے دوران میں اذکار و عبادات کی یہ قدر و منزلت صرف اِسی صورت میں ممکن ہے کہ مناسک حج کو مسنون طریق پر نبوی منہج کے عین مطابق ادا کیا جائے۔ حج کااجروثواب بے مثال ہے بیت اللہ کی زیارت اورحج وعمرہ کرنے کاارمان ہرصاحب ایمان کے دل میں انگڑائیاں لیتاہے۔دنیا کے مختلف اطراف واکناف سے لاکھوں مسلمان ہر سال حج اور عمرے کی سعادت کے لیے بھاری رقوم خرچ کر کے اپنے گھروں سے نکلتے ہیں۔جبکہ لاکھوں مسلمان ایسے ہیں کہ جوزندگی میں ایک دوبارہی اس سعادت سے مستفیدہوپاتے ہیں۔اسی مناسبت سے سبھی کی آرزوہوتی ہے کہ یہ مقدس فرض قرآن سنت کی تعلیمات کے مطابق اداہوجائے تاکہ عبادات کے بجالانے میں کوئی کمی بیشی نہ رہ جائے۔اس مقصد کے لئے ہرشخص کوایسی رہنماکتاب کی اشد ضرورت ہوتی ہے جس میں حج وعمرہ کے احکام ومسائل آسان زبان میں قرآن وحدیث سے بتائے گئے ہوں۔خاص طورپرمحترم خواتین ایسی کتاب کی جستجومیں رہتی ہیں جس میں حج وعمرہ کے دوران ان کے مخصوص مسائل کادینی حل پیش کیاگیاہو۔ ان حجاج کرام اور عمرہ ادا کرنے والے معتمرین کی ایک کثیر تعداد صرف اْردو زبان کے حوالے سے اِسلامی تعلیمات کو سیکھ سکتی ہے۔

    اْردو خواں طبقے کی اِسی ضرورت کے پیش نظر دار السلام نے مسلسل محنت اور تحقیق کے بعد حج وعمرہ کے تمام ضروری، ضمنی اور ذیلی مسائل کے موضوع پر مستند مواد کے حوالے سے ’’مسنون حج وعمرہ … فضیلت واہمیت احکام ومسائل ‘‘ کے عنوان سے تین مختصر مگر جامع کتب تیار کی ہیں۔ان کتب میں حج وعمرہ کے تمام احکام و مسائل قرآن وسنت کی روشنی میں جزئیات سمیت بہ تمام وکمال بتائے گئے ہیں۔حج وعمرہ کے دوران پڑھی جانے والی اورروزمرہ کی دیگردعائیں بھی درج کردی گئی ہیں۔مزیدبراں تمام مقدس مقامات کونہایت ہی خوبصورت تصویروں اورنقشوں کے ذریعے بخوبی اجاگرکیاگیاہے۔ان کتابوں کی خصوصیات یہ ہیں کہ ان کے تمام مندرجات صرف کتاب وسنت سے ماخوذ ہیں۔کتابوں میں بفضل اللہ تعالیٰ کسی ایک موضوع یا ضعیف حدیث کا حوالہ نہیں ملے گا، نیز تمام احادیث کی مکمل تخریج بھی کر دی گئی ہے۔ حج اور عمرے کے دوران میں پیش آنے والے تمام مسائل کی اصطلاحات کو حج وعمرے کے مناسک کی ترتیب سے پیش کیا گیا ہے۔ حج وعمرہ کی ادائیگی کے دوران پیش آمدہ مسائل کو مرحلہ وار لکھا گیا ہے۔ان کتب میں خصوصیت کے ساتھ حج و عمرہ کے دوران پیش آنے والے خواتین کے مخصوص مسائل بھی درج کردیے گئے ہیں۔حج وعمرہ کے مختلف مناسک کے دوران پڑھی جانے والی مسنون دعائوں اور اذکار کو آسان اْردو ترجمے کے ساتھ پیش کر دیا گیا ہے۔کمسنون دعائیں بھی پیش کی گئی ہیں تاکہ حرمین میں ہمارے شب و روز مسنون دعائوں اور اذکار سے مزین ہو سکیں۔یہ مستند کتب مفسر قرآن حافظ صلاح الدین یوسف اور دیگر علمائے کرام عمار فاروق سعیدی ، مولانا عبدالصمدرفیقی مرحوم ،مولاناعبدالجبار اورحافظ عبدالخالق جیسے ممتاز محققین نے ترتیب دی ہیں۔یہ کتب تین سائز میں دستیاب ہیں۔۔۔ تینوں کتابوں کی اپنی اپنی اہمیت ہے اور حجم کے اعتبار سے ان میں مسائل بیان کئے گئے ہیں۔دارالسلام ریسرچ سنٹر کی یہ کتب خودبھی پڑھئے اورعزیزواقارب کوبھی پیش کیجیے تاکہ ہرمسلمان حج وعمرہ کے فرائض مسنون طورپرآسانی اورسہولت سے اداکرسکے اورحج وعمرہ کی عبادات کے ضائع ہونے کاذرہ بھی احتمال نہ رہے۔