Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ڈاکٹر اطہر محبوب ۔۔۔یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    ڈاکٹر اطہر محبوب ۔۔۔یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    شاعر مشرق علامہ اقبال نے کیا خوب کہا تھا
    افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
    ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
    دو حاضر میں جو افراد ملت کے مقدر کا ستارہ ثابت ہوئے ان میں سے ایک پروفیسرڈاکٹر اطہر محبوب ہیں ۔ وہ ممتاز ماہر تعلیم ہیں ، مثالی منتظم اور صنعتی ماہر کے طور پر منفرد مقام رکھتے ہیں ۔ تعلیمی خدمات کے عوض تمغہ امتیاز بھی حاصل کرچکے ہیں۔ کوئی بھی انسان جو کسی شعبے سے منسلک ہو اس کی اہلیت اور قابلیت کا اندازہ اس کے کام اور کام کے نتائج سے کیا جاتا ہے ۔ ڈاکٹر اطہر محبوب کاکام اس امر کا اعلان ہے کہ وہ اپنے شعبے کے ساتھ بے حد مخلص ہیں ۔ ان کی علمی اور تدریسی مہارت کو دیکھنا ہو تو خواجہ فرید یونیورسٹی آف انجیئنرنگ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی ( رحیم یار خان ) اور اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کو دیکھا جاسکتا ہے ۔خواجہ فرید یونیورسٹی کا تو ڈاکٹر اطہر محبوب کو بانی وائس پرنسپل ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے ۔ یہ بات معلوم ہے کہ رحیم یار خان ایک پسماندہ علاقہ ہے ، جو عرصہ دراز سے تعلیم اور شعور سے محروم چلا آرہا ہے۔جب حکومت نے رحیم یار خان میں یونیورسٹی کے قیام کا فیصلہ کیا تو اس کا پہلا وائس چانسلر ڈاکٹر اطہر محبوب کو مقرر کیا گیا ۔ یونیورسٹی کا بانی وائس چانسلر بننا جہاں ایک اعزاز تھا تو وہاں ایک بہت بڑا چیلنج بھی تھا ۔ اس لیے کہ یہاں مسائل و مشکلات کے پہاڑ تھے ۔ایک ایسا ملک جہاں سرکاری کام چیونٹی کی رفتار سے رینگتے ہیں اور کسی بھی پراجیکٹ کی تعمیر پر برسوں لگ جاتے ہیں ایسے ملک میں ڈاکٹر اطہر محبوب نے کام کرنے کی ایک نئی روایت متعارف کروائی ۔ 29مئی 2014ءکو یونیورسٹی کے قیام کا ایکٹ جاری کیاگیا جبکہ چار ماہ بعد ہی ڈاکٹر اطہر محبوب نے کلاسز کا آغاز بھی کردیا ۔جب شیخ الجامعہ علم کا ایسا شیدائی ہو تو اسے علم سے محبت کرنے والے ساتھی اور شاگرد بھی مل جاتے ہیں۔ چنانچہ
    یہ دو دن میں کیا ماجرا ہوگیا
    کہ جنگل کا جنگل ہرا ہوگیا
    کے مصداق چند ہی مہینوں میں طلبہ وطالبات کی تعداد ہزاروں تک جا پہنچی ۔ کم وقت میں یونیورسٹی میں باقاعدہ تدریس کا آغاز۔۔۔۔اور ہزاروں کی تعداد میں طلبہ وطالبات ۔۔۔۔؟ یہ یقینا پاکستان کی تاریخ کا ایک منفرد واقعہ تھا ۔ اس واقعہ نے ثابت کردکھایا کہ ڈاکٹر اطہر علم کے فروغ اور کام سے لگن کا جذبہ رکھتے ہیں ۔ وہ قرون اولی کی علم دوست شخصیات کی طرح پاکستان میں تعلیمی انقلاب برپا کرنا چاہتے ہیں اور بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی طرح ” کام ۔۔۔۔۔کام ۔۔۔۔۔اور کام “ پر یقین رکھتے ہیں ۔

    پروفیسر ڈاکٹر اطہر کی علم سے محبت اور خدمت کا دوسرا شاہکار اور یادگار واقعہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور ہے ۔انھوں نے اپنے دور میں یونیورسٹی کے تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کےلئے بیشمارتاریخی اقدامات کئے ۔۔۔مثلاََ طلبہ وطالبات کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کےلئے روایتی طریقہ کار سے ہٹ کر اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ کی خدمات حاصل کی گئیں ، لائق اور ذہین طلبہ کی حوصلہ افزائی کےلئے وظائف جاری کئے گئے،ایسے مفید ڈگری پروگراموں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا جن کی معاشرے میں بہت زیادہ ڈیمانڈ ہے ، طلبہ وطالبات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر متعدد شفٹوں میں کلاسوں کا اجراء کیا گیا ، مختلف کیمپس میں ضروریات کے مطابق سہولیات میں اضافہ ہوا ، آمدو رفت کےلئے پہلے سے موجود ٹرانسپورٹ کی سہولیات میں اضافہ بھی کیا گیا ، صحت مند سرگرمیوں کے لئے کھیلوں اور دیگر ہم نصابی سرگرمیاں جاری کی گئیں ، طلبہ وطالبات کے دین کے ساتھ تعلق کو مضبوط کرنے کے لیے جامع الامام ابن کثیر سمیت یونیورسٹی کے مختلف کیمپس میں عالی شان مساجد بنائی گئیں ۔ ڈاکٹر اطہر محبوب برملا یہ بات کہا کرتے تھے میں ” اسلامیہ یونیورسٹی کو ایک اسم بامسمی تعلیمی ادارہ بنانا چاہتا ہوں ۔“
    یہ وہ اقدامات تھے جنھوں نے یونیورسٹی کے معیار تعلیم کو چار چاند لگا دیے اور اس کی مقبولیت میں بھی بے حد اضافہ ہونے لگا ۔ کلاسیں تنگی داماں کا شکوہ کرنے لگیں ۔فیکلٹیز جو پہلے صرف چھ تھیں وہ13تک جاپہنچی ۔ پہلے کل وقتی اساتذہ 400تھے پھر ایک وقت آیاجب یہ تعداد 1400تک جاپہنچی ۔ پہلے طلبہ وطالبات کی تعداد صرف 13,000تھی جو 65,000ہزار تک جاپہنچی ۔

    یہاں میں خصوصی طور پر ایک واقعہ بطور خاص قارئین کے گوش گزار کرنا چاہوں گا ۔ اس واقعہ کے راوی ڈاکٹر اکرم چوہدری ہیں جو سرگودھا یونیورسٹی کے وائس چانسلر رہ چکے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں ” میں گورنر پنجاب میاں بلیغ الرحمن کی پنجاب کی تمام جامعات کے وائس چانسلرز کے ساتھ میٹینگ میں موجود تھا۔ میں نے اپنے کانوں سے سنا گورنر پنجاب وائس چانسلرز کو مخاطب کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ آپ سب اپنی اپنی جامعات کے تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے روڈ میپ اسی طرح سے بنائیں جس طرح ڈاکٹر اطہر محبوب نے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کابنا رکھا ہے “ ۔

    یہ ہیں ڈاکٹر اطہر محبوب۔۔۔۔! اور یہ ہے۔۔۔۔ ان کی تعلیمی کاوشوں کا مختصر تذکرہ !
    حقیقت یہ ہے کہ خواجہ فرید یونیورسٹی کی طرح ڈاکٹر اطہر نے اسلامیہ یونیورسٹی کے معیار کو بہتر بنانے کے لئے بے حد محنت ہے ۔یہاں تک کہ اسلامیہ یونیورسٹی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی وجہ سے علاقے میں موجود بعض نجی تعلیمی اداروں اور مافیاز کے کاروبار مانند پڑنے لگ گئے ۔ اس کے ساتھ یہ خبریں بھی گردش کررہی تھیں کہ ڈاکٹر اطہر محبوب کو بطور وی سی مزید توسیع دی جائے گی ۔ چنانچہ ڈاکٹر اطہر محبوب کا دوسری ٹرم کےلئے راستہ روکنے کی خاطر ۔۔۔ایک بھیانک سازش تیار کی گئی ۔تاہم وہ جو کہتے ہیں جھوٹ کو دوام نہیں یہاں بھی یہی کچھ ہوا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر اس واقعہ کی تحقیقات کے لیے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے جسٹس سردار محمد ڈوگر کو بطور ٹربیونل جج نامزد کیا تو انھوں نے تحقیقات کے بعد یہ بتا دیا تھا کہ آئی یو بی ، ڈاکٹر اطہر محبوب اور انکی ٹیم کو بدنام کرنے کےلئے جو سکینڈل بنایا گیا وہ سب جھوٹ تھا اور اس میں جن افراد کو ٹارگٹ کیا گیا وہ سب شفاف کردار کے مالک ہیں ۔ڈاکٹر اطہر محبوب اور انکی ٹیم کو سازشیوں کی طرف سے لگائے گئے تمام الزامات سے بری الذمہ قرار دیا گیا ،اور انتہائی تکلیف دہ بات ہے کہ ڈاکٹر اطہر محبوب کے بعد صرف ایک سال میں یونیورسٹی ویران ھوکر رہ گئی ہے۔ طلبہ کی تعداد نہ ھونے کے برابر ہے ۔
    رکاوٹیں ہمیشہ باصلاحیت لوگوں کے راستے میں ہی کھڑی کی جاتی ہیں جیسا کہ ڈاکٹر اطہر محبوب ہیں ۔ وہ بہت باصلاحیت ہیں جبکہ اس وقت پنجاب کی بہت سی جامعات وائس چانسلرز شپ سے محروم چلی آرہی ہیں جن میں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور بھی شامل ہے ۔ اچھی بات یہ ہے کہ پنجاب حکومت نے جامعات میں وائس چانسلرز کی تعیناتی کے لیے انٹرویوز شروع کیے ہیں ۔اہلیان جنوبی پنجاب کی خواہش ہے، کہ یونیورسٹی کی گرتی ھوئی ساکھ کو بحال کرنے،اور یونیورسٹی کو نئے سرے سے آباد کرنے کے لیے دوبارہ ڈاکٹر اطہر محبوب کو اسلامیہ یونیورسٹی کا وی سی مقرر کیا جائے ۔اسلئے کہ
    یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی
    ڈاکٹر اطہر محبوب نے اس یونیورسٹی کو اپنے خون سے سینچا اور کی آبیاری کی ہے ۔ یونیورسٹی میں ان کی دوبارہ تعیناتی ان کی خدمات کا اعتراف بھی ہوگا اور یونیورسٹی کے لیے اعزاز بھی ہوگا۔ یونیورسٹی کا ہر گوشہ زبان حال سے ڈاکٹر اطہر محبوب کو کہہ رہا ہے
    پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
    جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے

  • پاکستانی معیشت میں بہتری کی نوید اور قیصر بنگالی کا استعفی: حقیقت یا فتنہ؟

    پاکستانی معیشت میں بہتری کی نوید اور قیصر بنگالی کا استعفی: حقیقت یا فتنہ؟

    آج کی ایک خوش خبری یہ ہے کہ پاکستان کی زرعی برآمدات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کے تعاون سے خوراک کی برآمدات میں رواں مالی سال کے ابتدا میں 45 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ درآمدات میں 18 فیصد کمی ہوئی ہے۔ یہ ترقی پاکستانی معیشت کے لیے ایک حوصلہ افزا قدم ہے، جس سے نہ صرف ملکی معیشت مستحکم ہو رہی ہے بلکہ زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

    تاہم، دوسری طرف ماہر معاشیات قیصر بنگالی کی جانب سے تین حکومتی کمیٹیوں سے استعفیٰ دینا سوالات کو جنم دیتا ہے۔ بنگالی صاحب کا استعفیٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت خود وزراء اور سرکاری افسران کے اخراجات میں کمی کرنے کا فیصلہ کر رہی ہے۔ اگر معیشت کی بہتری کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جا رہے ہیں تو قیصر بنگالی کا استعفیٰ ان کوششوں سے کیوں متصادم ہے؟

    یہ اقدام ایسا لگتا ہے کہ عمران خان کی ناکامی کے بعد بھی کچھ عناصر ملک میں انتشار پھیلانے کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔ بنگالی صاحب کا استعفیٰ ایسے وقت میں دینا، جب معاشی اشاریے بہتری کی جانب گامزن ہیں، سوالیہ نشان ہے۔ کیا ان کا یہ اقدام ملکی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش ہے؟ یا یہ محض ایک سیاسی چال ہے تاکہ عمران خان اور ان کے حامی اس موقع کا فائدہ اٹھا کر معاشی بہتری کو روکنے کے لیے نیا بیانیہ بنا سکیں؟

    یہ وقت ہے کہ حکومت اور عوام مل کر ملک کو ان سازشی عناصر سے ملک کو محفوظ بنائیں جو ملکی مفادات کے بجائے اپنے ذاتی اور سیاسی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔ قیصر بنگالی کا استعفیٰ ایک واضح پیغام ہے کہ حکومت کے صفحوں میں موجود کچھ عناصر ابھی بھی ملک دشمنی کے راستے پر گامزن ہیں۔ اس لئے بہتر یہی ہے کہ ایسے عناصر کو الگ کر کے حکومت کو صاف اور مؤثر بنایا جائے تاکہ ملکی ترقی کے سفر میں کوئی رکاوٹ نہ رہے۔

    امیر بالاج ٹیپو قتل کیس، احسن شاہ کے گھر سے رقم برآمد،ایک اور مبینہ ملزم گرفتار

    امیر بالاج قتل کیس، شوٹر مظفر مالشیا نہیں بلکہ طیفی بٹ کا گن مین تھا

    امیر بالاج کو قتل کرنے والی ٹیم کے سرغنہ کی شناخت

    امیر بالاج ٹیپو قتل کیس،ایک اور موبائیل فوٹیج،ایک اور ملزم سامنے آ گیا

    امیر بالاج ٹیپو قتل کیس،ایک اور حملہ آور گرفتار،تحقیقاتی ٹیم تشکیل

    امیر بالاج ٹیپو قتل کیس،اہم پیشرفت،ریکی کرنیوالا دوست گرفتار

    امیر بالاج ٹیپو قتل کیس: نامزد ملزم طیفی بٹ کی گرفتاری کیلئے انٹر پول سے رابطہ

    امیر بالاج ٹیپو قتل کیس،حملہ آور کی لاش ورثا کے حوالے

    ٹیپو ٹرکاں والا کا بیٹا امیر بالاج قتل،طیفی بٹ مقدمے میں نامزد

  • اتائیت کاعفریت، ذمہ دارکون؟

    اتائیت کاعفریت، ذمہ دارکون؟

    اتائیت کاعفریت، ذمہ دارکون؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    ڈاکٹرز ہمارے معاشرے کا وہ محسن طبقہ ہے جو صحت مند معاشرہ تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ڈاکٹر مسیحا کا درجہ رکھتے ہیں۔ لیکن اس مقدس پیشہ کو کچھ ہوس زرمیں مبتلا ڈاکٹرزکے علاوہ نیم حکیم اور اتائی داغدار کررہے ہیں،لیکن کبھی کسی نے یہ نہیں بتایا کہ اتائیت کے پھیلتے اس عفریت کے ذمہ دار کون ہیں اور یہ کیونکر اور کیسے خود روجھاڑیوں کی طرح ہر قصبے ،شہر اورگلیوں میں موجودہیں ،آئیے اس مضمون میں ہم اس مسئلے کی جڑ تک پہنچنے اوریہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس کے اصل ذمہ دار کون ہیں ؟

    ہمارے ملک میں سرکاری ہسپتالوں کی حالت اتنی خراب ہے کہ عام شہریوں کو سرکاری ہسپتالوں میں صحت کی کوئی سہولیات میسرہی نہیں ہیں،،سرکاری ہسپتالوں کے بیشترڈاکٹرہسپتالوں میں صرف بائیومیٹرک حاضری لگاکر اپنے پرائیویٹ کلینک یاہسپتالوں میں مریض چیک کرنے کیلئے چلے جاتے ہیں ،یہی ڈاکٹرزجنہیں مسیحا کہاجاتا ہے سرکارسے بھاری تنخواہیں اور نان پریکٹس الاؤنس تک لیتے ہیں لیکن سرکاری ہسپتال میں مریضوں کو چیک کرکے ان کاعلاج کرنا گناہ کبیرہ سمجھتے ہیں،سفارش کلچراور اہل ڈاکٹروں کی عدم موجودگی اتائیت کو فروغ دینے والا سب سے بڑا سبب ہے۔ جب لوگوں کو سرکاری اداروں سے بنیادی طبی سہولیات بھی میسر نہ آئیں تو وہ مجبورا اتائی ڈاکٹروں کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ یہ ایک ایسی صورتحال ہے جس سے نہ صرف فرد بلکہ پوری قوم کو نقصان پہنچتا ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

    کوالیفائیڈ ڈاکٹروں کی مہنگی فیسوں، غیر ضروری ٹیسٹوں اور کمیشن کی بنیاد پر لکھی جانے والی دواؤں نے عوام کو اتنا پریشان کر دیا ہے کہ ایک عام مریض کو ہزاروں روپے خرچ کرنے پڑتے ہیں۔ دوسری جانب اتائی ڈاکٹر دو تین سو روپے میں ہی علاج کر دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اتائی ڈاکٹروں کی طرف جاتے ہیں، اس صورتحال میں کوالیفائیڈ ڈاکٹرزبھی اتائیت پھیلانے میں براہ راست ملوث نظر آتے ہیں،کیونکہ بڑے اورکوالیفائیڈ ڈاکٹر بہت زیادہ فیس لیتے ہیں اور بہت سی دوائیاں لکھتے ہیں، اس لیے لوگ سستی دوائی کے لیے اتائی ڈاکٹروں کے پاس جاتے ہیں اور اسی وجہ سے اتائیت پھیل رہی ہے۔

    بڑے ڈاکٹر اکثر کم پڑھے لکھے افراد کو اپنے ہسپتالوں میں کام پر رکھتے ہیں اور انہیں کم تنخواہ دیتے ہیں، یہ لوگ ڈاکٹروں کے ساتھ کام کرتے ہوئے کچھ طبی علم حاصل کر لیتے ہیں اور پھر اپنی کلینک کھول لیتے ہیں، بڑے ڈاکٹر ان کی افتتاحی تقریب میں شریک ہو کر لوگوں کو بتاتے ہیں کہ یہ ان کے شاگرد ہیں اور ان پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے، اس طرح بڑے ڈاکٹر اپنے شاگردوں کا ایک نیٹ ورک بنا لیتے ہیں اور یہ شاگرد پھر لوگوں کو بڑے ڈاکٹروں کے پاس بھیجتے ہیں، اس طرح بڑے ڈاکٹر براہ راست طور پر اتائیت کو فروغ دیتے ہیں،کوالیفائیڈ ڈاکٹروں کا یہ عمل انتہائی خطرناک ہے کیونکہ ان کے شاگردوں کے پاس کافی طبی علم نہیں ہوتا اور وہ لوگوں کو غلط علاج دے سکتے ہیں، اس طرح بڑے ڈاکٹر نہ صرف اپنی آمدنی میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ لوگوں کی جانوں سے بھی کھیلتے ہیں۔

    حکومت کی جانب سے پرائیویٹ ہسپتالوں میں کام کرنے والے عملے کی مناسب جانچ پڑتال نہ ہونا، اتائیت کے پھیلا ؤمیں ایک بڑا سبب ہے۔ یہ حیران کن ہے کہ حکومت نے کبھی بھی اس بات کی فکر نہیں کی کہ شہروں کے ہسپتالوں میں جو لوگ مریضوں کا علاج کر رہے ہیں، وہ اس کے لیے اہل ہیں یا نہیں، نہ تو ان کی تعلیمی قابلیت کی جانچ ہوتی ہے اور نہ ہی ان کے پاس کوئی سرٹیفکیٹ یا ڈپلومہ ہونا ضروری ہے۔ اس طرح کی لاپروائی کی وجہ سے بہت سے نااہل لوگ ہسپتالوں میں کام کر رہے ہیں اور مریضوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں، حکومت کی جانب سے پرائیویٹ ہسپتالوں پر کوئی مناسب نگرانی نہ ہونا، اتائیت کو فروغ دینے میں براہ راست مددگار ثابت ہو رہا ہے۔

    اتائیت کے عفریت پر کیسے قابوپایا جاسکتا ہے

    حکومت کو چاہیے کہ اتائیت کے عفریت پر قابو پانے کے لیے سب سے پہلے سرکاری ہسپتالوں میں ہر شہری کو مفت اور بہتر صحت کی سہولتیں فراہم کرے، سفارش اور رشوت کے کلچر کو ختم کرے، سرکاری ہسپتالوں میں کام کرنے والے ڈاکٹروں کو اپنی نجی پریکٹس کرنے سے روکنا چاہیے، جو ڈاکٹر نجی پریکٹس کرتے پکڑے جائیں انہیں نوکری سے برطرف کر دینا چاہیے۔ تمام ڈاکٹروں کے لیے فیس کا ایک مخصوص تعین کرنا چاہیے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرنا چاہیے،جو ڈاکٹر مریضوں سے زیادہ پیسے لیتے ہیں یا غیر ضروری ٹیسٹ کرواتے ہیں ان کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے۔ دوائیوں کی کمپنیوں کے ساتھ مل کر مریضوں کو مہنگی دوائیاں لکھنے والے ڈاکٹروں کے خلاف بھی کارروائی کی جانی چاہیے۔ نجی ہسپتالوں میں کام کرنے والے عملے کی تعلیمی قابلیت کی بھی جانچ پڑتال ہونی چاہیے،

    اس کے علاوہ اتائیت کے مسئلے کا ایک حل یہ بھی ہے کہ جو لوگ باقاعدہ میڈیکل کی تعلیم حاصل کر چکے ہیں، جیسے کہ ڈسپنسر یا کلینیکل اسسٹنٹ، انہیں ان کی اہلیت کے مطابق دور دراز کے دیہی علاقوں میں لائسنس دے کر کلینکس کھولنے کی اجازت دی جائے۔ انہیں مناسب فیس لینے کی اجازت ہو، اس طرح ایک طرف تو لوگوں کو سستی اور آسان طبی سہولیات میسر آ جائیں گی اور دوسری طرف اتائیت کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔بڑے ڈاکٹروں کے پیدا کردہ اتائی شاگردوں کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔ ان لوگوں کو شناخت کرکے ان کے خلاف قانون کا پورا اطلاق کیا جانا چاہیے، سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے لوگوں کو ان سے دور رہنے کے لیے آگاہ کیا جانا چاہیے۔ عوام کو بھی اس بات کے لیے آگاہ کیا جائے کہ وہ نان کوالیفائڈ لوگوں سے علاج نہ کروائیں۔ تعلیمی اداروں میں آگاہی سیمینارز کے ذریعے لوگوں کو طبی تعلیم کے بارے میں آگاہ کیا جانا چاہیے تاکہ وہ خود بھی اس بات کو سمجھ سکیں کہ نان کوالیفائڈ لوگوں سے علاج کروانا کتنا خطرناک ہے

    اگر حکومت نے اتائیت کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھائے اور ان پر عمل درآمد بھی کیا تو یہ مسئلہ ضرور حل ہو سکتا ہے۔ لیکن صرف بلند بانگ دعوؤں اور فوٹو سیشنز سے یہ حل نہیں ہوگا، حکومت کو شفافیت اور جوابدہی کا مظاہرہ کرنا ہوگا، عوام کو بھی اس مسئلے کے حل میں شریک بنایا جانا چاہیے۔ میڈیا کو بھی اتائیت کے مسئلے کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرنا چاہیے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ اتائیت کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ اگر حکومت نے ان تمام اقدامات پرعمل کرلیا تو ہم اتائیت کے مسئلے سے جلد از جلد نجات پا سکتے ہیں اور اتائیت کے عفریت کو بھی جڑ سے اکھاڑنے میں کامیاب ہوجائیں گے،اگرحکومت نے سنجیدگی نہ دکھائی تو جس طرح پہلے اتائیت کاکوئی کچھ نہیں بگاڑسکا اب بھی اتائی اسی شان وشوکت سے اپنے کلینک چلاتے رہیں گے اور انسانیت سسکتی رہے گی.

  • مریم نواز  پنجاب کو بدلنے والی مضبوط سیاسی لیڈر،تجزیہ : شہزاد قریشی

    مریم نواز پنجاب کو بدلنے والی مضبوط سیاسی لیڈر،تجزیہ : شہزاد قریشی

    رائٹ مین فار رائٹ جاب نے اور وقت کی پابندی نے دنیا کو ترقی یافتہ بنا دیا۔ دنیا کے بہت سے ممالک میں وطن عزیز کے مقابلے میں وسائل انتہائی کم ہیں لیکن وہ ترقی کی بلندیوں کو چھو رہے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک کا تیسرا سب سے بڑا راز میرٹ پر عملدرآمد ہے ۔ ہمارے ہاں میرٹ کا قتل عام ہو رہا ہے کسی سرکاری یا غیر سرکاری دفاتروں میں بغیر سفارش اور بغیر تعلقات کسی کا کام ہونا ناممکن ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں تعلقات اور سفارشی کی بنا پر یا رشوت دینے سے کام نہیں کیے جاتے۔ کسی بھی محکمے میں تعلقات یا سفارش پر نہیں ہوتیں۔ صوبہ پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز نے ترقی یافتہ ممالک کے نقش قدم پر چلتے ہوئے پنجاب میں ایک نئے سفر کا آغاز کیا ۔ پولیس سے لے کر سول انتظامیہ اور سول بیورو کریسی کی میرٹ پر تعیناتیاں ترقی کی جانب ایک اچھا اقدام ہے جبکہ نام نہاد سفید پوشوں کی غیر قانونی زمینوں پر قبضے پنجاب میں ناجائز تجاوزات کے خلاف آپریشن کا آغاز پنجاب میں ملاوٹ شدہ ادویات اور خوراک کے خلاف اقدامات ترقی کی جانب اہم قدم ہے۔ وزیراعلی پنجاب کی حد تک عوام کو ایک ایسے نظام کی طرف لے کر جا رہی ہیں جس نظام نے دنیا کو ترقی یافتہ ممالک بنایا امید ہے کہ وطن عزیز کے دیگر صوبے اور وفاق بھی اسی طرح کے اقدامات کرکے پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ ارکان اسمبلی کو بھی اس نظام پر عملدرآمد کرانے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا یہی وہ نظام ہے جس سے قومیں ترقی کرتی ہیں عام آدمی اسی نظام سے مستفید ہوتا ہے۔ یاد رکھیئے کسی حکمران یا سیاسی رہنما کے لئے صرف طاقت ہی کافی نہیں ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ وہ اپنی طاقت کو کیسے استعمال کرتا ہے ؟ملک کے مستقبل اور لوگوں کی تقدیر کیلئے اس کا وژن کیا ہے؟ بعض اوقات تاریخ طاقتور ترین لیڈروں کو بھی پیچھے چھوڑ دیتی ہے۔ پنجاب کی وزیر اعلیٰ نے اپنے والد کے ساتھ مشکل ترین حالات کا سامنا کیا ہے وہ سیاسی گلیاروں میں ایک مضبوط سیاسی رہنما ثابت ہوئی ہیں مریم نواز نے سختیوں کے باوجود اپنی مسکراہٹوں سے مسلم لیگ (ن) کو زندہ رکھا اپنے والد نواز شریف کی طرح وہ جانتی ہیں غربت، بے روزگاری اور تعلیم عوام اور اس ملک کے لئے کتنی ضروری ہے ۔ یہی وہ راستہ ہے جس سے عام آدمی کی حالت بدلے گی۔

  • 190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    تحریک انصاف اور عمران خان کے تابوت میں اگر کوئی کیل ثابت ہوگاتو وہ میری نظرمیں ایک سو نوے ملین پاونڈوالاکیس ہوگا ۔ یہ اتنا بڑا معاملہ کہ اس کے آگے پاناما اورسوئس کیسسز کچھ نہیں ۔بلکہ دونوں بہت چھوٹے ہیں ۔یا یہ کہہ لیں کچھ بھی نہیں ۔پر کیونکہ عمران خان کی میڈیااور سوشل میڈیا مینجمنٹ ہمیشہ سے اعلی رہی ہے ۔ اس لیے یہ معاملہ اتنا ہائی لائٹ نہیں ہوا ۔میں گزشتہ کئی ماہ سے اس کیس کی سماعت کو فالو کر رہاہوں ۔ مگر ہر باراسٹوری جورپورٹ ہوتی ہے کہ عمران خان نے ایک سو نوے ملین پاونڈ کی پیشی پر الیکڑک برش مانگ لیا۔ ڈیمانڈ کر دی جیو کےرپورٹرکوبلائیں ۔کبھی یہ اسٹوری لگی ہوتی ہے کہ ایکسرسائز کے لیے ڈمبل نہیں دیا گیا کبھی کان میں تکلیف تو کبھی قبض کی شکایت ۔ پراس کیس میں کیا ہوچکا ہےاور کیا ہو رہا ہے اس پر میڈیا کچھ نہیں بتا رہا تو میں اور میری ٹیم نے اس پر پوری ورکنگ کر لی ہےاور اس نتیجے پرپہنچ چکےہیں کہ یہ کیس عمران کے گلے کاپھندہ ہے۔اس کیس میں عمران کرپٹ بھی ثابت ہوتا ہےبلکہ میری نظر میں تو یہ ملک ریاض سےصاف صاف کیک بیکس لینے والا معاملہ ہے۔

    ۔اتنی بڑی کرپشن کااسکینڈل شریف خاندان یاپیپلزپارٹی کےساتھ جوڑا ہوتاتواب تک ان پارٹیوں پر پابندی لگ چکی ہوتی ۔ ان کی نسلوں کو تباہ وبربا دکرنےکےاحکامات جاری ہوچکے ہوتے ۔ ان کے تانے بانے امریکہ سمیت اسرائیل کیا خلائی مخلوق تک سے جوڑ دیے گئے ہوتے ۔ چینلز نان اسٹاٹ اس پر ٹرانسمیشن کر رہے ہوتے ۔ جبکہ سب اینکرز کے روز کا ایک ہی ٹاپک ہوتا ایک سو نوےملین پاونڈ ۔ مگر کیونکہ معاملہ عمران خان ہے اس لیے اسکو پہلے دن سے ڈاون پلے کیا گیا ۔ میں اتنا جانتاہوں کہ کوئی جج گھرسےمجبور نہ ہوا تو اس معاملے میں عمران خان لمبےاندر جائیں گے اور بڑی سزا ہوگی ۔ کیونکہ بڑے واضح اور ناقابل تردید ثبوت ہیں۔ میری یہ بات لکھ کر رکھ لیں ۔

    ۔میں اتنا یقین سے جو کہہ رہا ہوں ۔اسی کی وجہ ہے سب سے پہلے اس کیس کا پس منظر بتا دیتا ہوں ۔ نیب کے مطابق بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض نے وزیرِاعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کو القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے لیے موضع برکالا، تحصیل سوہاوہ ضلع جہلم میں واقع چار سو اٹھاون کینال، چار مرلے اوراٹھاون مربع فٹ زمین عطیہ کی جس کے بدلے میں عمران خان نے ملک ریاض کو پچاس ارب روپے کا فائدہ پہنچایا ۔اور یہ معاملہ بالکل واضح ہے صاف ہے اس میں کوئی ابہام نہیں ہے ۔ اس کی توانکوئری کی بھی ضرورت نہیں ۔ اوپن اینڈ شٹ کیس ہے۔ کیونکہ ادھر زمین ٹرانسفرکی گئی ادھر ریلیف دے دیاگیا ۔ بہرحال اکتوبر دوہزاربائیس میں نیب نے اس معاملے کی تحقیقات شروع کی ۔ نیب دستاویزات کے مطابق تین دسمبر دوہزارانیس کو عمران خان کی زیرِ صدارت کابینہ اجلاس میں ملک ریاض کو برطانیہ سے ملنے والی پچاس ارب روپے کی رقم بالواسطہ طور پر واپس منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔ رقم برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی ۔۔این سی اے۔۔کی جانب سے ملک ریاض سے منی لانڈرنگ کے الزامات پر ضبط کی گئی تھی۔ ۔ جبکہ بطور وزیر اعظم عمران خان نے چھبیس دسمبر دوہزار انیس کو کابینہ کے فیصلے کے چند ہفتوں کے اندر القادر یونیورسٹی پروجیکٹ کے لیے ٹرسٹ رجسٹر کیا ۔ جو بعد میں یونیورسٹی کے لیے ڈونر بن گیا۔ نیب کے مطابق ٹرسٹ کی رجسٹریشن سے صرف تین ہفتے پہلے عمران خان کی کابینہ نے نیشنل کرائم ایجنسی کے ذریعے پاکستان کو ملنے والی رقم واپس ملک ریاض کو بالواسطہ طور پر واپس کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ نیب راولپنڈی نے اس معاملے میں کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کا نوٹس لیتے ہوئے نیب آرڈیننس انیس سو ننانوے کے تحت پرویز خٹک، فواد چوہدری اور شیخ رشید سمیت تین دسمبر دوہزار انیس کے کابینہ اجلاس میں موجود تمام ارکان کو علیحدہ علیحدہ تاریخوں پر طلب کیا تھا۔ نوٹس میں کہا گیا تھا کہ۔اختیارات کے ناجائز استعمال، مالی فائدہ اور مجرمانہ بدیانتی کے الزامات کی انکوائری کے دوران معلوم ہوا ہے کہ بطور کابینہ ممبر آپ نے تین دسمبر دوہزار انیس کو وزیراعظم آفس میں ہونے والے کابینہ اجلاس میں شرکت کی جس میں آئٹم نمبر دوپر فیصلہ کیا۔ آئٹم نمبر دو کا عنوان تھا۔احمد علی ریاض، ان کے خاندان اور میسرز بحریہ ٹاؤن کے اکاؤنٹس کا انجماد اور پاکستان میں فنڈز کی منتقلی کا حکم نامہ۔ ایجنڈا آئٹم شہزاد اکبر نے پیش کیا تھا اور بریفنگ دینے کے ساتھ کابینہ سیکریٹری کو ہدایت کی تھی کہ ریکارڈ کو سیل کردیا جائے۔ نوٹس میں پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض کے بیٹے احمد علی ریاض کو بھی طلب کیا گیا تھا۔آجکل بھی سنا ہے شہزاد اکبر ملک ریاض کے ہی ٹکڑوں پل رہاہے ۔

    ۔ سوال یہ ہےکہ این سی اے کی رقم ملک ریاض کو کیسے واپس ملی؟ دراصل دوہزار انیس میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی نے ملک ریاض کے خلاف تحقیقات کیں اور پھر ان تحقیقات کے نتیجے میں ملک ریاض نے ایک تصفیے کے تحت ایک سو نوے ملین پاؤنڈ کی رقم این سی اے کو جمع کروائی۔ این سی اے نے بتایا تھا کہ اس تصفیے کے نتیجے میں حاصل ہونے والی ایک سونوے ملین پاؤنڈز کی رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت ہے جسے پاکستان منتقل کردیا گیا۔ تاہم پاکستان میں پہنچنے پر کابینہ کے ایک فیصلے کے تحت رقم قومی خزانے کے بجائے سپریم کورٹ کے اس اکاؤنٹ تک پہنچی جس میں ملک ریاض بحریہ ٹاؤن کراچی کے مقدمے میں سپریم کورٹ کو چار سو ساٹھ ارب روپے کی ایک تصفیے کے ذریعے قسطوں میں ادائیگی کررہے ہیں۔ اس طرح نیب کے مطابق ایک ملزم سے ضبط شدہ رقم واپس اسی کو مل گئی جبکہ یہ رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت تھی مگر اسے ملک ریاض کے ذاتی قرض کو پورا کرنے میں خرچ کیا گیا۔ اس حوالے سے دوہزارانیس میں سابق وزیرِاعظم عمران خان کی سربراہی میں کابینہ اجلاس میں ور معاملے کو حساس قرار دے کر اس حوالے سے ریکارڈ کو بھی سیل کردیا گیا تھا۔ ملک ریاض سے این سی اے نے جو معاہدہ کیا اس کی تفصیلات بھی رازداری میں رکھی گئی تھیں اور این سی اے کے بعد حکومتِ پاکستان نے بھی عوام یا میڈیا کو یہ تفصیلات نہیں بتائیں کہ ریاستِ پاکستان کا پیسہ دوبارہ کیسے ملک ریاض کے استعمال میں لایا گیا تھا۔

    ۔یہ سب کچھ مفت میں نہیں کیا گیا بدلے میں عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی نے پچاس ارب روپے کو قانونی حیثیت دینے کے عوض بحریہ ٹاؤن لمیٹڈ سے اربوں روپے اور سینکڑوں کینال مالیت کی اراضی حاصل کی۔ ۔ ان کی دونمبر ی کا عالم دیکھیں کہ ساری زندگی عمران خان اور انکی جماعت اس چیز کا پرچار کر تی رہی ہے ۔ کہ ہم نے بیرون ملک سے پاکستان کا لوٹا پیسہ واپس لانا ہے اور جب باہرکے ممالک پاکستان کا لوٹا پیسہ خود واپس کرنے لگے تو انھوں نے کہا نہیں رہنےدیں ہمیں نہیں چاہیئے ۔ میں اور میری بیوی نے بدلے میں زمین لے لی ہے۔ ایسی اسکیم تو کبھی کسی اور جماعت کے ذہن میں نہیں آئی ۔ مطلب یہ واردات ڈال کر عمران خان کرپشن کرنے والوں میں سب سے اعلی درجے پر فائز ہوگئے ہیں ۔

    ۔ اسی وجہ سے عمران خان پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے اس حوالے سے طے پانے والے معاہدے سے متعلق حقائق چھپا کر کابینہ کو گمراہ کیا، بہرحال جب یہ کیس چلا تو ستائیس فروری دوہزار چوبیس کو احتساب عدالت اسلام آباد نے عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف ایک سو نوے ملین پاؤنڈز ریفرنس میں فردجرم عائد کی ۔ اس سے قبل چھ جنوری دوہزار چوبیس کو اسلام آباد کی احتساب عدالت نے ایک سو نوے ملین پاؤنڈز کے القادر ٹرسٹ ریفرنس میں ملک ریاض سمیت ریفرنس کے چھ شریک ملزمان ان کے بیٹے علی ریاض ملک، فرحت شہزادی(وہی گوگی جس کو کپتان نے سب سے پہلے بھگایا اور کہا تھا کہ یہ معصوم ہے )، ضیاالاسلام، شہزاد اکبر، زلفی بخاری کو اشتہاری اور مفرور قرار دیا گیا۔ ملک ریاض نے حاضری سے استثنیٰ اور وڈیو لنک کے ذریعے حاضری سے متعلق دو الگ الگ درخواستیں بھی دائر کیں لیکن دائر دونوں درخواستوں کو عدالت نے خارج کردیا تھا۔ تئیس جنوری کو عمران خان نےضمانت کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا جس کے بعد چودہ مئی کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ضمانت منظور کی ۔ تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ نیب نے اعتراف کیا کہ تحقیقات مکمل ہیں، ملزم کو مزید قید میں رکھنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا، نیب پراسیکیوٹر نے خدشہ ظاہر کیا کہ بانی پی ٹی آئی سیاسی شخصیت ہیں۔فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ نیب پراسیکیوٹر کے مطابق بانی پی ٹی آئی ریکارڈ ٹیمپرنگ یا ٹرائل پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر سکتے ہیں، تاہم نیب کے ان تحفظات کے حوالے سے ریکارڈ پر کوئی جواز موجود نہیں ہے، لہٰذا عمران خان کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست منظور کی جاتی ہے۔ اٹھائیس جون کو نیب نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی۔ درخواست میں نیب نے استدعا دی کہ سپریم کورٹ اسلام آبادہائی کورٹ کا چودہ مئی کا فیصلہ کالعدم قرار دے۔پھر سابق وزیر دفاع پرویز خٹک نے عدالت کے سامنے اپنا بیان عمران خان اور بشریٰ بی بی کی موجودگی میں ریکارڈ کروایا ۔جس پر یاد ہو تو علی امین گنڈا پور اور یوتھیوں کو بہت مرچیں لگیں تھیں ۔ بلکہ اس دن جو پرویز خٹک نےبیان دیا وہ کہیں ڈسکس نہیں ہوا ۔ پرپرویز خٹک کی نیگٹوکردارسازی چھائی رہی ۔ پرویز خٹک کا اپنے بیان میں کہنا تھا شہزاد اکبر نے کابینہ کو بتایا تھا کہ پاکستان سے غیر قانونی طور پر باہر بھجوائی گئی بڑی رقم برطانیہ میں پکڑی گئی، شہزاد اکبر نے بتایا کہ پکڑی گئی رقم پاکستان کو واپس کی جائے گی۔ سابق وفاقی وزیر نے عدالت کو بتایا کہ یہ معاملہ کابینہ کے ایجنڈے پر نہیں تھا، میٹنگ میں اضافی ایجنڈے کے طور پر سامنے لایا گیا، اضافی ایجنڈے پر مجھ سمیت دیگر کابینہ اراکین نے اعتراض کیا تھا، کابینہ میں رقم کے حوالے سے کاغذات بند لفافے میں پیش کیے گئے، اضافی ایجنڈے کی منظوری کابینہ سے لی گئی۔ پھر تیرہ جولائی کو عمران خان کے سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان نے احتساب عدالت کے جج محمد علی وڑائچ کے روبرو اپنا بیان ریکارڈ کروایا تھا سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان نے احتساب عدالت کے سامنے اپنے بیان میں کہا کہ شہزاد اکبر ایک دستخط شدہ نوٹ لے کر میرے پاس آئے، اس نوٹ پر شہزاد اکبر کے اپنے دستخط موجود تھے، نوٹ پر کابینہ سے منظوری لینے کا لکھا تھا۔ اعظم خان کے مطابق شہزاد اکبر نے بتایا کہ اس کانفیڈینشل ڈیڈ کو کابینہ میں منظوری کے لیے پیش کرنے کی وزیراعظم نے ہدایت کی ہے، شہزاد اکبر کی اس بات پر فائل کیبنٹ سیکرٹری کو بھجوا دی تاکہ معاملہ کابینہ کے سامنے پیش کیا جا سکے، میں نے وہ فائل کیبنٹ سیکرٹری کے حوالے کر دی، میں نے کابینہ میٹنگ میں ان کیمرہ اجلاس ہونے کی وجہ سے شرکت نہیں کی۔سابق پرنسپل سیکرٹری نے نیب کی جانب سے پیش کیے گئے بیان پر اپنے دستخط ہونے کی تصدیق کی ۔ اعظم خان کے بیان میں کہا گیا تھا کہ معاہدے پر ہونے والے دستخط کو میں نے پہچان لیا تھا، معاہدے کے ساتھ ایک خفیہ تحریر موجود تھی جس سے متعلق بتایا نہیں گیا۔ پھر سابق وزیر مملکت زبیدہ جلال نے احتساب عدالت میں دیے گئے بیان میں کہا کہ شہزاد اکبر کی جانب سےایک بند لفافہ اضافی ایجنڈے کے طور پیش کیا گیا، اضافی ایجنڈا کابینہ میں پیش کرنے سے قبل ضروری طریقہ کار نہیں اپنایا گیا، ضروری تھا کہ اضافی ایجنڈا کابینہ میں پیش کرنےسےقبل ممبران کو بریفنگ دی جاتی ۔ شہزاد اکبر نے زور دیا کہ معاملہ حساس ہے اسےفوری طور پر منظور کیا جائے۔ اضافی ایجنڈےکو بغیر بریفنگ پیش کرنے پر مجھ سمیت دیگر ممبران نے اعتراض کیا اور کہا کہ منظوری سے قبل اس پر بحث ہونی چاہیے، اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نےبھی کہا تھا کہ اس اضافی ایجنڈے کو منظور کرلیں، صرف اس منطق پر مجھ سمیت کابینہ ممبران نے اس اضافی ایجنڈے کی منظوری دی۔

    ۔ آج تک کی موجودہ صورتحال میں اس ریفرنس میں پینتیس گواہان پر جرح مکمل ہوچکی ہے۔اب چند روز قبل اس ریفرنس میں تفتیشی افسر ڈپٹی ڈائریکٹر نیب میاں عمر ندیم کا بیان سامنے آیا۔میاں عمر ندیم نے بیان دیا ہے کہ نیشنل کرائم ایجنسی کے کنٹری منیجر عثمان احمد کو شہزاد اکبر کی ہدایت پر خفیہ خطوط لکھے گئے، مجرمانہ سرگرمیوں کی آمدنی منجمد کرنے کیلئے نیشنل کرائم ایجنسی نے فریزنگ آرڈر حاصل کیے۔ تفتیشی افسر نے کہا ہے کہ نجی ہاؤسنگ سوسائٹی سے چار سو اٹھاون کینال چار مرلے اٹھاون مربع فٹ زمین خریدی، خریدی گئی زمین ملزم ذلفی بخاری کے ذریعے القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کو منتقل کی گئی، اراضی منتقلی کے بعد عمران خان سے ذلفی بخاری، شہزاد اکبر اور پراپرٹی ٹائیکون ملے۔ انہوں نے بیان دیا ہے کہ گیارہ جولائی دو ہزارانیس کو رقم پاکستان کی ملکیت ہونے پر عمران خان کو بدنیتی پر مبنی نوٹ لکھا گیا، بدنیتی پر مبنی نوٹ تین دسمبر دوہزار انیس کو کابینہ اجلاس میں منظوری کے لیے پیش کیا گیا، بدنیتی پر مبنی نوٹ بند لفافے میں کابینہ میں پیش کر کے اس کی منظوری پر اصرار کیا گیا۔ تفتیشی افسر کے مطابق ٹرسٹ ڈیڈ پر ضیاء المصطفیٰ نسیم نے بطور گواہ دستخط کیے، اس پر وزارت خزانہ، وزارت خارجہ اور وزارت قانون کی رائے نہیں لی گئی، ٹرسٹ ڈیڈ میں ترمیم کر کے عمران خان ، بشریٰ بی بی اور ذلفی بخاری کو شامل کیا گیا۔ پھر بشریٰ بی بی نے چوبیس مارچ دوہزار اکیس کو عطیہ اقرار نامہ پر دستخط بھی کیے، القادر ٹرسٹ کی آڑ میں دو سو چالیس کینال اراضی فرح شہزادی کے نام پر منتقل کی گئی، مگرعمران خان اور بشریٰ بی بی اراضی کی فروخت سے متعلق ثبوت دینے میں ناکام رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کو ثبوت دینے کیلئے متعدد نوٹسز کیے لیکن تعاون نہیں کیا گیا، ملزمان ریاست پاکستان کے لیے فنڈز کی منتقلی کے ثبوت پیش کرنے میں بھی مکمل ناکام رہے۔ جبکہ القادر ٹرسٹ پراپرٹی میں فرح شہزادی نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کے بطور فرنٹ پرسن کام کیا۔ اب سمجھ آیا عمران خان کو یہ گوگی معصوم کیوں لگتی تھی۔

    ۔ یہ سب کچھ شہزاد اکبر اپنے ایماء پر تو کر نہیں سکتےتھے ۔ یقینا عمران خان کی آشیر آباد انکو حاصل تھی ۔ اسی لیے تو ان کو ، زلفی بخاری اورفرح گوگی کو ملک سے ایسے فرار کروایا جیسے مکھن سے بال ۔ کیونکہ پتہ تھا کہ یہ دونوں ان کی حکومت جانےکےبعد روکے تو ضرور گرفت میں آئیں گے اور یہ گرفت میں آئےتو پھر قانون کا ہاتھ عمران خان سمیت بشری بی بی کی گردن تک ضرور پہنچے گا ۔

  • تبصرہ کتب،اخلاق نبوی کے سنہرے واقعات

    تبصرہ کتب،اخلاق نبوی کے سنہرے واقعات

    نام کتاب ۔۔۔۔اخلاق نبوی کے سنہرے واقعات
    نام مولف۔۔۔۔عبدالمالک مجاہد
    ناشر۔۔۔۔۔۔۔دارالسلام انٹرنیشنل،انٹر نیشنل ، لوئر مال ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ ، لاہور
    قیمت : 1500روپے
    برائے رابطہ : 042-37324034

    سیر ت سرورعالم ایک سدا بہار موضوع ہے۔ ایسا موضوع جس کی خوشبو سے مسلمان کبھی سیرنہیں ہوتے۔ اللہ کے رسو ل ﷺ کی سیرت مطہرہ پر صدیوں سے لکھا جا رہا ہے اور قیامت تک لکھا جاتا رہے گا۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ اخلاق نبوی ﷺ کے سنہرے واقعات ‘‘ بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے ۔اخلاق کے معانی بے حد وسیع ہیں۔ تمام اچھی صفات کے مجموعہ کا نام اخلاق ہے۔ دنیا کے انسانوں میں پائی جانے والی تمام اعلیٰ و ارفع صفات کو جمع کیا جائے اور پھر ان کا اللہ کے رسول ﷺ کی مبارک زندگی کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو ہمیں معلوم ہو گا کہ یہ تمام صفات اللہ کے رسول ﷺ کی ذات بابرکات میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں۔یاد رکھیے! کسی بھی قوم، امت ، گروہ یا شخصیت کے بارے میں جاننا ہو کہ اس کے اخلاق کیسے ہیں، تو یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس کا برتائو اپنے ساتھیوں کے ساتھ، رشتہ داروں، دوستوں، گھر والوں، ہمسایوں اور مخالفین کے ساتھ کیساہے۔ سب سے پہلے اس کے اخلاق کے بارے میں معلوم کیا جاتا ہے۔ جہاں تک اللہ کے رسول ﷺ کی تعلق ہے تو ان کی تربیت خود اللہ تعالی نے فرمائی تھی۔ آپ کا تزکیہ اس خوبصورت انداز میں فرمایاکہ آپ ﷺ اس کائنات میں سب سے اعلیٰ اخلاق والے بن گئے۔

    یہ بات معلوم ہے کہ انبیائے کرام علیھم السلام کی زندگیوں کا ایک مشترک پہلو یہ بھی ہے کہ وہ دنیا کے عام قائدین کی طرح نہ تھے کہ لوگوں کو تو وعظ و نصیحت کر دی مگر خود اس پر عمل نہ کیا۔ انبیائے کرام سب سے پہلے اپنے کہے ہوئے پر خود عمل کرتے تھے۔ یہ وہ نفوس قدسیہ تھے جو لوگوں کو جتنا بتاتے اس سے کہیں زیادہ خود اس پر عمل کرتے تھے۔ آپ ﷺ میں بھی یہ خوبی بدرجہ اتم پائی جاتی تھی کہ آپ نے اپنی امت کو جو تعلیم دی اس پر سب سے پہلے خود عمل کرکے دکھایا۔

    سیرت نبی ﷺ کی کتابیں شائع کرنے میں دارالسلام انٹرنیشنل ایک بڑانام ہے ۔اس موضوع پردارالسلام اب تک کئی شاہکارکتابیں شائع کرچکاہے ۔دارالسلام کے مینجنگ ڈائریکٹر عبدالمالک مجاہدکہتے ہیں جب میں نے اخلاق نبوی کو مدنظر رکھتے ہوئے سیرت پاک کا مطالعہ شروع کیا اورآپ ﷺ کے اخلاق کے حوالے سے واقعات کو جمع کرنا شروع کیا تو بہت سارے واقعات ملتے چلے گئے۔ تاہم میں نے متعدد بار ایسی کتاب کی تلاش کی جس میں اخلاق نبوی ﷺ کے جملہ واقعات کو ایک جگہ جمع کیا گیا ہو ، متعدد علمائے کرام سے بھی یہی سوال کیا مگر ہر بار مجھے یہی جواب ملا کہ اخلاق کے حوالے سے واقعات تو ضرور ملتے ہیں لیکن یہ واقعات ایک ہی جگہ اکٹھے نہیں ملتے، چنانچہ اللہ کی توفیق سے میں نے نیت کی کہ اخلاق نبوی ﷺ کے سنہرے واقعات کو خود ہی ایک جگہ جمع کروں اور پھر ان واقعات کو سادہ انداز میں لکھ کر عامۃ الناس کے سامنے رکھوں اور ان سے کہوں:
    دیکھیں !یہ تھے ہمارے پیارے رسول ﷺ ۔

    زیرنظر کتاب میں اخلاق نبوی ﷺ کے ایک سو سنہرے واقعات کو جمع کیا گیا ہے۔ کتاب میں کوئی من گھڑت، موضوع، ضعیف واقعہ شامل نہیں بلکہ صرف انھی واقعات کو شامل کیاگیا ہے جو صحیح ہیں اور ان کا تذکرہ مستند کتابوں میں ہے۔ اس کتاب میں جو لکھاگیا اس کی علماء نے بھی خوب تحقیق و تخریج کی ہے ۔ زبان و بیان کی بہتری،عبارات کی تصحیح اور کتاب کی نوک پلک سنوارنے کے سلسلے میں پاکستان کے معروف محقق محسن فارانی نے اس پر کام کیا ہے ۔پاکستان کے ممتاز عالم دین پروفیسر مزمل احسن شیخ نے بھی پوری کتاب کو شروع سے آخر تک پڑھا اور بعض گراں قدر مشوروں سے نوازا،جس کتاب کاتحقیقی معیارمزیدخوبصورت ہوگیاہے۔زیرنظر کتاب کے اردوایڈیشن کی بے پناہ مقبولیت کے بعدعبدالمالک مجاہد اس بات کاعزم رکھتے ہیں کہ اس کتاب کو دنیا کی کم از کم دس زبانوں میں ترجمہ کر کے شائع کیا جائے گا تاکہ دیگر اقوام بھی اللہ کے رسول ﷺ کے اخلاق کے حوالے سے آگاہ ہوسکیں۔ اس طرح اس کتاب کو پڑھ کر بہت سے لوگ مسلمان ہوں گے اور اسلام کے بارے میں ان کی غلط فہمیاں دور ہوں گی۔ دارالسلام نے طباعت کی عمدہ روایت کوبرقراررکھتے ہوئے کتاب کو چار چاند لگا دیے ہیں ،نہایت ہی عمدہ طباعت دیدہ زیب سرورق اورعنوانات کی ترتیب ایسی خوبصورت ہے کہ دل بے اختیارکتاب کی طرف کھینچاچلاجاتاہے ۔ضروری ہے کہ ایسی عمدہ کتاب ہرگھر ،ہرلائبریری کی زینت بنے تاکہ لوگ زیادہ سے زیادہ اس سے استفادہ کرسکیں ۔

    تبصرہ کتب، اسلامی قانون وراثت

    تبصرہ کتب،عشرہ مبشرہ کی زندگیوں کے سنہرے واقعات

    تبصرہ کتب،نونہالوں کے لیے سنہرے اذکار

    تبصرہ کتب، مسنون حج و عمرہ

    تبصرہ کتب، بلوغ المرام،جدید ایڈیشن

    نام کتاب : نماز نبوی

    نام کتاب : مسنون نماز اور روز مرہ کی دعائیں

    تبصرہ کتب، زکوٰۃ ،عشراور صدقۃ الفطر

    تبصرہ کتب،واقعہ معراج اور اس کے مشاہدات

    تبصرہ کتب،بچوں کا اسلامی انسائیکلوپیڈیا

    تبصرہ کتب، خواتین کے امتیازی مسائل

    نام کتاب : جنوں اورشیطانوں کی دنیا

    نوجوان نسل کے لیے پیارے رسول ﷺ کی سنہری سیرت

    اخلاق نبوی کے سنہرے واقعات

    ”سیرت حسن وحسین رضی اللہ عنھما“

    نام کتاب : توحید کی آواز

    دارالسلام نے انگریزی ترجمہ کے ساتھ” سٹڈی دی نوبل قرآن “ شائع کردیا 

    خطاطی کی خدمت کے پانچ سال کی تکمیل، دارالسلام میں تقریب

    نام کتاب : بچوں کےلئے سنہری سیرت سے منتخب واقعات

  • تبصرہ کتب، تجلیات نبوت

    تبصرہ کتب، تجلیات نبوت

    نام کتاب : تجلیات نبوت
    مصنف مولانا صفی الرحمن مبارک پوری
    صفحات : 340
    قیمت : بڑا سائز 1600، چھوٹا سائز 1350روپے
    ناشر : دارالسلام انٹرنیشنل ، لوئر مال ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ ، لاہور
    برائے رابطہ : 042-37324034

    پیش نظر کتاب ’’ تجلیات نبوت ‘‘ دارالسلام کی خوبصورت ترین کتابوں سے ایک ہے ۔ اس کتاب کے تعارف میں اتنا ہی لکھ دینا کافی ہے کہ اس کے مصنف ممتاز محقق ، عالم اسلام کے معروف عالم دین اور سیرت نگار مولانا صفی الرحمن مبارک پوری ہیں جو کہ ’’ الرحیق المختوم ‘‘ جیسی کتاب کے بھی مصنف ہیں ۔سیرتِ طیبہ کا موضوع اتنا متنوع ہے کہ ہر وہ مسلمان جو قلم اٹھانے کی سکت رکھتا ہو، اس موضوع پر حسبِ استطاعت لکھنا اپنی سعادت سمجھتا ہے۔ اسی طرح ہر ناشر سیرتِ رسولﷺ پر کتب شائع کرنا اپنے لیے سعادت سمجھتا ہے اور اسے خوب سے خوب تر شائع کرنے کا اہتمام کرتا ہے۔دارالسلام اب تک عربی ،انگریزی اور دیگر بہت سے زبانوں میں88سے زائد کتب ِ سیرتِ رسولﷺ شائع کر چکا ہے، تاہم نوجوان نسل کو تفاصیل میں لے جائے بغیر سیرتِ طیبہ سے آگاہ کرنے کی اشد ضرورت محسوس کرتے ہوئے عصرِ حاضر کے عظیم سیرت نگار مولانا صفی الرحمن مبارک پوری رحمہ اللہ سے درخواست کی گئی کہ عربی زبان میں نوجوانوں اور بطورِ خاص میٹرک تک کے طلبہ کے لیے ایک مختصر مگر جامع کتاب لکھیں جو عام فہم اور صحیح واقعات پر مبنی ہو اور اس کا انداز اتنا دلکش ہو کہ نوجوانوں کے دلوں میں رسول اللہﷺ کی محبت اور سیرت نقش ہو جائے۔ انھوں نے اس التماس کو شرفِ قبولیت بخشا اور تھوڑے ہی عرصہ بعد ’’روضۃ الأنوار في سیرۃ النبي المختار‘‘ کے نام سے کتاب کا مسودہ تیار کر دیا۔کتاب شائع ہوئی تو سعودی عرب کے تعلیمی اداروں نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ بہت سے افراداوراداروں نے اسے مفت تقسیم کیا، کچھ اسکولوں نے اسے اپنے نصاب میں داخل کر لیا۔زیرنظرکتاب’’ تجلیات نبوت‘‘اسی کااردوترجمہ ہے۔فاضل مصنف نے کمال ہنرمندی سے ’’تجلیاتِ نبوت‘‘ میںسیرت کے تمام تر وقائع کو ایک ایسی نئی ترتیب اور تازہ اسلوب کے ساتھ پیش کیا ہے کہ اس کے مطالعے سے دل و دماغ پر ایک پاکیزہ نقش قائم ہوتا ہے۔زیر تبصرہ ایڈیشن سکولوں ، کالجوں اور دینی مدارس کے طلبہ وطالبات کی سہولت اور ذہنی استعداد کو مد نظر رکھ کر تیار گیا ہے ۔ ہر عنوان کے آخر میں مختصر سوالات ، معروضی سوالات دیے گئے ہیں مقصد یہ ہے کہ پڑھنے والا کماحقہ اس کتاب سے مستفید ہوسکے اور ہر عنوان اسے کے ذہن نشین ہوجائے ۔ امید ہے کہ یہ کاوش قارئین کو پسند آئے گی ۔ ان شاء اللہ

    تبصرہ کتب، اسلامی قانون وراثت

    تبصرہ کتب،عشرہ مبشرہ کی زندگیوں کے سنہرے واقعات

    تبصرہ کتب،نونہالوں کے لیے سنہرے اذکار

    تبصرہ کتب، مسنون حج و عمرہ

    تبصرہ کتب، بلوغ المرام،جدید ایڈیشن

    نام کتاب : نماز نبوی

    نام کتاب : مسنون نماز اور روز مرہ کی دعائیں

    تبصرہ کتب، زکوٰۃ ،عشراور صدقۃ الفطر

    تبصرہ کتب،واقعہ معراج اور اس کے مشاہدات

    تبصرہ کتب،بچوں کا اسلامی انسائیکلوپیڈیا

    تبصرہ کتب، خواتین کے امتیازی مسائل

    نام کتاب : جنوں اورشیطانوں کی دنیا

    نوجوان نسل کے لیے پیارے رسول ﷺ کی سنہری سیرت

    اخلاق نبوی کے سنہرے واقعات

    ”سیرت حسن وحسین رضی اللہ عنھما“

    نام کتاب : توحید کی آواز

    دارالسلام نے انگریزی ترجمہ کے ساتھ” سٹڈی دی نوبل قرآن “ شائع کردیا 

    خطاطی کی خدمت کے پانچ سال کی تکمیل، دارالسلام میں تقریب

    نام کتاب : بچوں کےلئے سنہری سیرت سے منتخب واقعات

  • نواز شریف سیاسی جماعتوں میں ثالثی کا کردار ادا کر سکتے،تجزیہ:شہزاد قریشی

    نواز شریف سیاسی جماعتوں میں ثالثی کا کردار ادا کر سکتے،تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیاسی گلیاروں میں عجب بے معنی شور ہے۔ مشکلات میں گھرے عوام اور پاکستان کو اس مقام پر لاکھڑا کیا ہے جہاں سیاسی غبارہ وقت سے پہلے پھٹ جائے تو خطرات میں اضافہ ہوتا ہے۔ پیپلزپارٹی ہو یا مسلم لیگ (ن) ہو یا دیگر سیاسی و مذہبی جماعتیں یا تحریک انصاف۔ پیپلزپارٹی کسی زمانے میں بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی قیادت میں قومی جماعت ہوا کرتی تھی اب صوبائی جماعت بن کر رہ گئی ہے۔ مسلم لیگ (ن) نوازشریف کی قیادت میں قومی جماعت ہوا کرتی اب نوازشریف کی لندن اور بار بار جلاوطنی اور شہبازشریف اور ان کے ہمنوا ساتھیوں نے اس جماعت کو صوبے تک محدود کر دیا ہے جس طرح پیپلزپارٹی کی موجودہ قیادت نے پیپلزپارٹی کو صوبےتک محدود کردیا ہے اسی طرح شہبازشریف کی مفاہمتی سیاست نے ن لیگ کو بھی صوبے تک محدود کر دیا ہے کوئی بھی سیاسی جماعت اپنے بطور سیاسی جماعت کو قومی جماعت نہیں کہہ سکتی۔

    نوازشریف کی طرز سیاست نظام اور ڈھانچوں کو ایک ترقی یافتہ جمہوریت کے اصولوں آئین اور قانون کے تحت استوار کرنے کی کوشش تھی۔ ن لیگ میں حوس اقتدار کے ماروں نے وہ گل کھلائے کہ جمہوریت کی پری بھی شرما گئی ۔نوازشریف کو کبھی عدالتوں کے ذریعے اور کبھی ہائی جیکر بنا کر اقتدار سے الگ کر دیا گیا ۔کبھی اٹک قلعہ تو کبھی ہوائی جہاز کی سیٹوں کے ساتھ باندھ کر کراچی پہنچا دیا گیا۔ بھٹو جیسے عالمی لیڈر اور محترمہ بے نظیر کی پیپلزپارٹی کا حال یہ کر دیا گیا اب وہ پنجاب میں اختیارات کی بھیک مانگنے پر مجبور ہو گئی ہے اس وقت آئینی عہدے رکھنے کے باوجود اور ایک صوبے میں حکومت ہونے کے باوجود پیپلزپارٹی کے پاس صوبہ پنجاب میں کوئی ووٹ بنک نہیں ۔صوبہ پنجاب میں تازہ ترین حالات میں مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف دونوں کی مقبولیت ہے۔ سیاسی گلیاروں میں چمچہ گیری، چاپلوسی اور جی حضوری اور واہ ہی واہ کرنے والوں اور اپنے ہی سیاسی قائدین کی مخبری کرنے والوں کا اضافہ ہو چکا ہے۔ بقول شاعر؎
    مجروع قافلے کی مرے داستاں یہ ہے
    رہبر نے ملکر لوٹ لیا راہزن کے ساتھ

    سیاسی جماعتیں اپنی ناکام پالیسیوں ناکام سیاست کا بدلہ قومی اداروں سے لے رہے ہیں سوال یہ ہے کہ ذرا سوچئے ہم کن راہوں کو چل نکلے ہیں ہمارا کیا بنے گا؟ ملک اور اس کے اداروں کی ناقدری نہ کریں ، رک جائیں۔ غیروں کی سازشوں کا آلہ کار نہ بنیں وطن عزیز تو اپنا ہے ہمارے سیاسی جھگڑے ختم کیوں نہیں ہوتے۔ نوازشریف اس پورے پاکستان کے سب سے پرانے اور زیرک سیاستدان ہیں سیاسی جماعتوں میں ثالثی کا کردار اداکر سکتے ہیں۔ نوازشریف بلاشبہ ماضی کے سیاسی زخموں سے بھرے پڑے ہیں بہت دھوکے بھی کھائے ہیں ایک مضبوط سیاسی رہنما بھی ہیں۔

  • اسرائیل اور حزب اللہ جنگ نہیں چاہتے لیکن…

    اسرائیل اور حزب اللہ جنگ نہیں چاہتے لیکن…

    اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان حالیہ دشمنی جاری تنازعہ میں ایک قابل ذکر اضافہ کی نمائندگی کرتی ہے۔ اتوار کی صبح، اسرائیلی فوج نے ایک فضائی مہم شروع کی، جس میں تقریباً 100 لڑاکا طیارے تعینات کیے گئے تاکہ جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے اہداف پر پہلے سے حملہ کیا جا سکے۔ یہ حملہ اگر رپورٹ کردہ اعداد و شمار درست ہیں، تو یہ 2006 کی اسرائیل حزب اللہ جنگ کے بعد لبنان میں سب سے زیادہ بڑی اسرائیلی کارروائی ہے۔ یہ حملے مقامی وقت کے مطابق تقریباً 04:30 (01:30 GMT) پر ہوئے، اسرائیل نے دعویٰ کیا کہ حزب اللہ صرف 30 منٹ بعد اسرائیل کے سب سے بڑے شہر تل ابیب کو نشانہ بناتے ہوئے ایک بڑے حملے کی منصوبہ بندی کر رہی تھی،اسرائیلی حملے کے جواب میں کاروائی کرتے ہوئے حزب اللہ نے شمالی اسرائیل میں فوجی مقامات پر 300 سے زیادہ راکٹ اور میزائل داغے، جس سے پورے خطے میں فضائی حملے کے سائرن بج گئے۔ اس اقدام نے ممکنہ ہمہ گیر جنگ کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔ حزب اللہ کا کہنا ہے کہ یہ حملے 30 جولائی کو بیروت میں سینیئر کمانڈر فواد شکر کے قتل کے بدلے کا صرف پہلا مرحلہ ہے، جس کی بڑی وجہ اسرائیل سے منسوب کی جاتی ہے۔ اگلے دن تہران میں حماس کے سیاسی رہنما اسماعیل ھنیہ کے قتل سے صورتحال مزید بھڑک اٹھی، اس کا ذمہ دار بھی اسرائیل کو ہی ٹھہرایا جا رہا ہے

    غزہ کے تنازعے کو وسیع تر علاقائی جنگ میں پھیلنے سے روکنے کے لیے کئی ہفتوں سے سفارتی کوششیں جاری ہیں، لیکن اب تک یہ اقدامات جنگ بندی یا یرغمالیوں کی رہائی کا معاہدہ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اسرائیل کی فوج نے غزہ میں حماس اور لبنان میں حزب اللہ دونوں کے خلاف دو محاذوں پر جنگ میں حصہ لینے کے لیے اپنی تیاری کا اعلان کیا ہے، تاہم 150,000 راکٹوں اور بہترین تربیت یافتہ جنگجوؤں کے ہتھیاروں کی وجہ ایک زیادہ اہم چیلنج ہے۔جن میں سے بہت سے شامی تنازعے کا جنگی تجربہ رکھتے ہیں
    یہ اس تنازعہ سے کیسے نکلیں گے، وقت بتائے گا
    نوٹ: بی بی سی کی خصوصی رپورٹ سے تحقیق کی گئی ہے

  • نتاشہ کا کیا ہوگا …… تحریر:محمد نورالہدیٰ

    نتاشہ کا کیا ہوگا …… تحریر:محمد نورالہدیٰ

    کراچی میں کارساز کے مقام پر امیرزادی نتاشہ کی طوفانی رفتار لینڈ کروزر سے ہلاک ہونے والے افراد کے بعد اگرچہ ملزمہ پولیس کسٹڈی میں ہے۔ لیکن بااثر طبقات کی جانب سے وقوع پذیر ہونے والے ایسے کیسز اور واقعات کی شہرت کو مدنظر رکھتے ہوئے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ملزمہ نتاشہ وہاں کتنے سکون میں ہوگی۔ گو کہ اس کیس میں کراچی پولیس کا متاثرین کے ساتھ رویہ اور برتاؤ حیرت انگیز طور پر قابل تحسین ہے، پولیس حکام کے ساتھ ساتھ صوبے کے اہم حکومتی عہدیداروں نے بھی لواحقین کو انصاف کی یقین دہانی کروائی ہے …… لیکن ہائی پروفائل کیسز میں پولیس، قانون یا مجموعی طور پر جوڈیشل سسٹم کو بھلا کون خاطر میں لاتا ہے؟۔ ہمارے قانون کے اندر بھی ایک قانون موجود ہے جو ایسے اثر رسوخ رکھنے والوں کے تحفظ کی راہ نکالتا ہے۔ ریمنڈ ڈیوس، شاہ رخ جتوئی، مجید اچکزئی اور نجانے ایسے کتنے ہی نام ہیں جنہوں نے اپنی معاشرتی پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمارے قانون اور نظامِ انصاف کی آزادی اور شفافیت کو عیاں کیا۔

    کارساز میں باپ بیٹی کو کچلنے والی نتاشہ کی مالی حیثیت بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی۔ بڑی بڑی کمپنیوں کے اہم عہدوں پر فائز اس خاتون سے جب واقعہ سرزد ہوا تو اس کے وکلاء اور ڈاکٹرز کی جانب سے کبھی نفسیاتی، کبھی ذہنی دباؤ کا شکار، کبھی انٹرنیشنل ڈرائیونگ لائسنس ہولڈر اور کبھی کچھ اور تاویلیں گھڑ کے معاملے کی سنگینی کو کم کرنے کی کوشش کی گئی۔ بات بنتی دکھائی نہ دی تو موصوفہ کو درمیانی راستہ دینے کیلئے ایسے مزید حربے بھی استعمال کئے گئے۔ دوسری جانب نتاشہ کی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں بھی واضح ہے کہ ملزمہ کو اپنے کئے پر کوئی شرمندگی نہیں ہے اور وہ قانون کو انگلیوں پر نچانے کا یقین رکھے ہوئے ہے۔ ملزمہ کا اطمینان بھی بتا رہا ہے کہ وہ ایسا کرنے میں کامیاب رہے گی اور جلد وکٹری کا نشان بنا کر نظامِ انصاف کا منہ چڑا رہی ہوگی۔

    وکیل کا کہنا ہے کہ نتاشہ فیملی، متاثرہ فیملی کو قانونی طور پر متعین کردہ 68 لاکھ روپے دیت فی فرد کے حساب سے ادا کرنے کو تیار ہے۔ یہ بگڑے ہوئے رئیس دیت کے اسلامی قانون کا فائدہ اپنے مقاصد کیلئے کتنی آسانی سے اٹھا لیتے ہیں، اس کا اندازہ ہمیں اس طرز کے سابقہ کیسز سے بخوبی ہوجاتا ہے۔ المیہ تو یہ بھی ہے کہ ہمارے نظام عدل کے رکھوالے بھی اس طرح کے ”چھوٹے موٹے“ کیسز پر اپنا حق ادا نہیں کرتے، بلکہ عوامی مسائل کی بجائے غیر ضروری مسائل پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ ہمارے صحافی دوست نوید چوہدری نے ایسے طرزِ عمل پر کیا خوب تبصرہ کیا ہے کہ ”جس معاشرے میں زندگی لڈو کا کھیل بن جائے اور ریاست کا تمام نظام سانپ کو بچانے نکل پڑے، وہاں صرف سانپوں کا راج ہو سکتاہے“۔ ایسے واقعات میں عام تاثر یہی دیا جاتا ہے کہ لواحقین جھک گئے اورانہوں نے ملزم کو معاف کر دیا۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔ متاثرین کو سرنڈر ہونے پر مجبور کیا جاتا ہے اور نظام عدل انہیں تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہتا ہے۔ قانون بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے سے ہچکچاتا ہے۔ ایسے میں غریب کے پاس طاقتور کی بات ماننے کے علاوہ کوئی آپشن بھی نہیں بچتی۔

    نتاشہ جیسی حیثیت کے افراد کے کیسز میں بالخصوص جوڈیشل سسٹم کا کردار ہمیشہ ہی سوالیہ نشان رہا ہے۔ متاثرین کے خون کی قیمت لگانا ”بڑے لوگوں“ کا بائیں ہاتھ کا کام ہے۔ انصاف کو یہ اپنے گھر کے دربان سے زیادہ کی حیثیت نہیں دیتے۔ ایسے میں ”نتاشہ کا کیا ہوگا“، اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی ضرورت نہیں۔ البتہ اس رویے میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے کہ جب قانون کا واسطہ کسی اثر و رسوخ رکھنے والے سے پڑ جائے تو قانون معمول کے تقاضے پورے کرنے سے نجانے کیوں خوفزدہ ہو جاتا ہے۔ ہمارا نظام عدل خودمختار اور بااختیار ہو تو ہمیں یہ دن نہ دیکھنے پڑیں۔

    یہ امر بھی حقیقت پر مبنی ہے کہ ہمای بھولی بھالی قوم ہر کیس میں انصاف کی امید لگا لیتی ہے۔ موجودہ کیس پر بھی پورے پاکستان کی نظریں ہیں۔ حالانکہ ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھیں تو یہ کیس آغاز سے ہی اختتام پذیر ہو چکا ہے۔ دنیا کو دکھانے کیلئے صرف فارمیلیٹی پوری کی جا رہی ہے۔ جب نتاشہ کا میڈیا ٹرائل کچھ تھمے گا اور ہمیں دیگر عنوانات میں الجھا دیا جائے گا تو ہم بھی یہ موضوع بھول کر حالات کی رو میں بہنا شروع ہو جائیں گے اور متاثرین دل پر جبر کر کے خاموش رہنے پر مجبور ہو جائیں گے، کیونکہ ہمارے نظام میں مظلوم کی داد رسی کی کوئی شق شامل نہیں ہے۔ طاقتور اور کمزور کے درمیان تفریق کرنے والا نظام نجانے کب تبدیل ہوگا اور ہمارا نظام عدل کب درست طریقے سے اپنا کردار ادا کر پائے گا، اس سوال کا جواب تلاش کرتے کتنی نسلیں گزر گئیں اور مزید نجانے کتنی گزر جائیں گی۔
    منفی افعال ملک کی جڑیں کھوکھلی کررہے ہیں اور ہم گذشتہ 77 سال سے یہ سب برداشت کررہے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم لوگ ایک قوم ہیں یا ایک ہجوم …… کیا ہماری وقعت