Baaghi TV

Category: بلاگ

  • بلوچستان پولیس کی کرپشن کہانی ،تحریر: آغاز نیاز مگسی

    بلوچستان پولیس کی کرپشن کہانی ،تحریر: آغاز نیاز مگسی

    قصے اور کہانیاں \ آغا نیاز مگسی

    بلوچستان کے محکمہ پولیس میں کرپشن کے انداز ہی نرالے ہیں ۔ ویسے اگر اس کا دیگر صوبوں سے موازنہ کیا جائے تو اخلاقیات کے لحاظ سے سندھ اور پنجاب پولیس کی نسبت بلوچستان پولیس بہت بہتر بلکہ قابل ستائش فورس ہے ۔ سندھ اور پنجاب پولیس کا عام شہریوں کے ساتھ رویہ انتہائی غیر مناسب ہوتا ہے جبکہ گرفتار یا زیر حراست ملزمان کے ساتھ ان کا رویہ غیر اخلاقی بلکہ غیر انسانی سلوک ہوتا ہے گالی گلوچ اور کرپشن تو ان کے منشور کا حصہ ہوتا ہے زیر حراست یا گرفتار ملزمان کو بدترین تشدد کے علاوہ” ہاف فرائی اور فل فرائی “کی اصطلاح کے تحت زخمی اور ہلاک کرنے کے عمل کو پولیس کے ساتھ مقابلہ قرار دینا ان کے معمول کا حصہ ہے لیکن اس کی نسبت بلوچستان پولیس کا عام شہریوں خواہ ملزمان دونوں کے ساتھ دوستانہ رویہ ہوتا ہے ہاف فرائی اور فل فرائی کا یہاں تصور ہی نہیں ہے لیکن اس کے باوجود کرپشن کے حوالے سے بلوچستان پولیس بھی کسی سے کم نہیں ہے ۔ چیک پوسٹ ، قومی شاہراہ ، اسمگلنگ اور تھانوں ، منشیات و قماربازی اور فحاشی کے اڈوں سے روزانہ یا ماہانہ بھتہ وغیرہ ان کے روز و شب کے معمولات کا حصہ ہیں ۔ قومی شاہراہ پر تعینات پولیس افسران اور اہلکاروں کی چاندی ہوتی ہے وہ دن رات پیسہ بٹورنے میں مشغول رہتے ہیں منشیات ، ایرانی پیٹرول و دیگر اشیاء اور گاڑیوں کے اسمگلرز سے ان کا لین دین ہوتا ہے ایک اندازے کے مطابق بلوچستان بھر کی قومی شاہراہوں اور چیک پوسٹوں سے پولیس کو مجوعی طور پر روزانہ کروڑوں روپے کی آمدن ہوتی ہے اور یہی صورتحال صوبے کے شہروں اور قصبات میں قائم منشیات اور قمار بازی کے اڈوں کی ہے جہاں پولیس اور مذکورہ اڈہ مالکان کے درمیان معاملات طے شدہ ہوتے ہیں جن کے خاموش معاہدے کے نتیجے میں معاشرے میں مختلف قسم کی برائیاں جنم لیتی ہیں جن کی ذمہ داری پولیس پر عائد ہوتی ہے ۔ مشیات کے کاروبار اور استعمال سے ہماری نئی نسل بری طرح متاثر ہو کر اپنے خاندان اور ملک و قوم پر بوجھ بن جاتا ہے جس سے وہ اخلاقی پستی میں داخل ہو جاتی ہے جس سے بےشمار برائیوں کو فروغ مل رہا ہوتا ہے ۔

    بلوچستان کا صوبہ کافی عرصہ سے دہشت گردی کا شکار ہے جس میں عام شہریوں کے علاوہ پولیس افسران اور اہلکاروں کی بھی بڑی تعداد نشانہ بنتی ہے جس کے نتیجے میں وہ شہید اور زخمی بن جاتے ہیں اور دہشت گردی کے اکثر واقعات سیکورٹی کے ناقص انتظامات کے باعث پیش آتے ہیں ۔ ایک اطلاع کے مطابق بلوچستان کے چار اضلاع کوئٹہ ، گوادر ، حب اور لسبیلہ 2020 سے 2600 پولیس اہلکار سرکاری ڈیوٹی دینے کے بجائے بااثر سیاسی و قبائلی شخصیات گن مین یا سیکورٹی گارڈ کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں اور تنخواہ سرکار سے وصول کر رہے ہیں ان کی تخواہوں کی مد میں سالانہ ڈھائی ارب روپے کی رقم قومی خزانے سے جاری ہوتی ہے یہ وہ اہلکار ہیں جو پہلے لیویز فورس میں تھے 2020 میں بلوچستان پولیس میں ضم کر دیئے گئے اور اس وقت سے اب تک کھاتے پہ چل رہے ہیں جن کی تنخواہوں کا بڑا حصہ ان کے افسران کی جیب میں چلا جاتا ہے لیکن اس کا نقصان بلوچستان پولیس میں نفری کی کمی کے باعث چوری ،ڈکیتی اور دہشت گردی کے واقعات کی صورت میں بلوچستان کے شہریوں کا ہوتا ہے۔ یہ تو صرف چار اضلاع کے 2600 پولیس اہلکار ہیں جو کھاتے پر چل رہے ہیں صوبے کے باقی اضلاع کی کھاتے پر چلنے والے پولیس اہلکاروں کی مجموعی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے جن میں سے نصف تعداد سیاسی و قبائلی شخصیات کے ذاتی محافظ بنے ہوئے ہیں اور نصف تعداد اپنے ذاتی کاروبار میں مشغول رہتی ہے ۔ یہ وہ صورتحال ہے جس کی وجہ سے بلوچستان پولیس کا محکمہ نفری کی کمی کا سامنا کر رہا ہے جس کی وجہ سے شہریوں کی جان و مال اور قومی املاک کا مناسب تحفظ نہیں ہو رہا ہے چناں چہ بلوچستان کو ایک ایسے چیف ایگزیکٹو کی ضروت ہے جو حقیقی معنوں میں بااختیار اور اپنے صوبے اور مخلص و دیانتدار ہو تب ہی بلوچستان پولیس میں اصلاحات ممکن ہو سکیں جس سے کرپشن میں کمی اور سیکورٹی کی صورتحال بھی بہتر ہو سکے گی ۔

  • نواز شریف کی قیادت میں ایک اور یوم تکبیر منانے کا عزم.تجزیہ:شہزاد قریشی

    نواز شریف کی قیادت میں ایک اور یوم تکبیر منانے کا عزم.تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیاسی قوتوں اور عوام کو ریاستی اداروں پر تنقید پر اکسانے والے پاکستان سے مخلص نہیں ۔ریاستی و قومی ادارے ہی وطن عزیز کی بقا اور استحکام کے ضامن ہیں تمام سیاسی جماعتوں کو اپنے ذاتی مفادات پر قومی مفادات کو ترجیح دینا ہوگی۔ وطن عزیز کو معاشی بحرانوں سے نکالنے کے لئے کہنہ مشق سیاسی قیادت کی ضرورت ہے جو کہ میاں نوازشریف کی صورت میں ہی موجود ہے۔ تمام تر سپر پاور کے دبائو کو نظرانداز کر کے 28 مئی کو ایٹمی دھماکے کر کے پاکستان کے دفاع کوناقابل تسخیر بنانا اور بین الاقوامی پابندیوں کا سامنا کرنا، وطن عزیز میں موٹرویز کا جال بچھا کر معیشت کے پہیے کو نئی رفتار بخشی۔ نوجوانوں کے لئے آسان قرضے، پیلی ٹیکسی کی آسان قسطوں پر فراہمی کے ذریعے بیروزگاری پر قابو پانے جیسے اقدامات کے بعد میاں نوازشریف نے تکمیل پاکستان کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے لوڈشیڈنگ کے اندھیروں کو دور کیا ملک میں توانائی کے بحران کی شدت میں صنعتکار پاکستان سے اپنی ملوں کو اٹھا کر دوسرے ہمسایہ ممالک کا رخ کر رہے تھے اور مختصر عرصے میں چائنا سے معاہدے کر کے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کردیا۔

    میاں نوازشریف کی انتھک کوششوں کا سلسلہ جاری رہا اور سی پیک کے منصوبے اور گوادر سی پورٹ کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے میں پاکستان کو بیرونی قرضوں سے نجات اور ایشین ٹائیگر بنانے جیسے اقدامات کے تمام حلقے معترف ہیں۔ اگر اس وقت دھرنا سیاست کے ذریعے چینی صدر کے دورے کو منسوخ نہ کرایا جاتا تو آج پاکستان کا معاشی منظر نامہ مختلف ہوتا۔ اگر سی پیک جیسے گیم چینجر منصوبے کی راہ میں روڑے نہ اٹکائے جاتے تو آج پاکستان معاشی طور پر خودکفیل بن چکا ہوتا۔ آج بھی ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام سیاسی قوتوں کو اعلیٰ سیاسی بلوغت کا مظاہرہ کر کے میاں نوازشریف کی غیر متزلزل قیادت پر اعتماد کرتے ہوئے پاکستان کی تاریخ کے ایک اور یوم تکبیر منانے کا عزم کرنا چاہئے۔

  • ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر کو کیا ہوا؟

    ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر کو کیا ہوا؟

    ایوی ایشن کے ماہر اور ہیلی کاپٹر کے سابق پائلٹ پال بیور کا کہنا ہے کہ ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر کے حادثے کے ممکنہ عوامل میں بادل، دھند، اور کم درجہ حرارت سمیت موسم کی خراب صورتحال شامل ہے۔ ایرانی حکام نے سرکاری طور پر واقعے کی وجہ کا تعین نہیں کیا ،

    فوربز نے رپورٹ کیا کہ اگرچہ شدید موسم کی وجہ سے ممکنہ طور پر ہیلی کاپٹر کو حادثہ پیش آیا جس میں ایرانی صدر رئیسی اور وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان کی موت ہوئی،اس واقعہ میں اس بات کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہئے کہ ہیلی کاپٹر کتنا پرانا تھا؟، ایرانی صدر کا ہیلی کاپٹر بیل 212، ایک پائیدار طیارہ، لیکن غالباً 40-50 سال پرانا تھا، جسے 1979 کے انقلاب سے قبل آخری شاہ کے دور میں حاصل کیا گیا تھا جب امریکہ اور ایران کے تعلقات اچھے تھے۔ ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے متواتر سفر کے لیے استعمال ہونے والے پرانے ہیلی کاپٹروں کے بارے میں پہلے بھی خدشات ظاہر کئے جا چکے تھے، نائب صدر جو اب قائمقام صدر بن چکے ہیں محمد مخبر نے 2023 میں ایک خفیہ خط لکھا تھا جس میں ہیلی کاپٹر بارے خدشات کا اظہار کیا گیا تھا،اسوقت کے نائب صدر محمد مخبر نے اس خط میں ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے لئے روس سے 32 ملین ڈالر کے تخمینہ لاگت سے دو ایم آئی 17A2 ہیلی کاپٹرخریدنے کی تجویز دی تھی.

    ابراہیم رئیسی نے عہدہ سنبھالنے کے بعد چین کے ساتھ ایران کے تعلقات کو مضبوط کیا ہے، جس میں فروری 2023 میں بیجنگ کا دورہ بھی شامل ہے۔ ابراہیم رئیسی کو اپنے سخت گیر موقف کے لیے جانا جاتا ہے اور انہیں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے ممکنہ جانشین کے طور پر دیکھا جاتا تھا،ایرانی صدر رئیسی کی موت کے اہم سیاسی اثرات ہیں، اس حادثے میں وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان کی بھی موت ہوئی جو لبنان کی ایک اہم شخصیت اوراکثر حزب اللہ اور حماس کے اراکین سے غزہ اسرائیل تنازعات کو لے کر ملاقات کرتے تھے،

    ایرانی صدر کے ہیلی کاپٹر کے حادثہ کا سانحہ ایران میں مختلف سیاسی، سماجی اور اقتصادی مسائل پر بڑھتے ہوئے اختلاف کے درمیان پیش آیا ۔ ایرانی حکومت کو اپنے متنازعہ جوہری پروگرام اور یوکرین تنازع کے دوران روس کے ساتھ بڑھتے ہوئے فوجی تعاون کے حوالے سے بڑھتے ہوئے بین الاقوامی دباؤ کا سامنا ہے۔ ہیلی کاپٹر کا ملبہ مکمل طور پر جل گیا تھا، ایرانی حکام نے اطلاع دی کہ کچھ لاشیں ناقابل شناخت تھیں،

    ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی موت کے بعد، روس اور چین کے ساتھ ایران کے تعلقات مزید گہرے ہونے کی امید ہے، اور امکان ہے کہ ایران امریکہ کے خلاف اپنی سخت گیر پالیسیوں کو برقرار رکھے گا۔ یہ واقعہ جغرافیائی سیاسی حرکیات کے پیچیدہ حالات،ایران کے اتحاد اور اندرونی چیلنجوں کو اجاگر کرتا ہے۔

  • عوامی فنڈز کا استعمال،کرپشن سے بچاؤ ضروری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    عوامی فنڈز کا استعمال،کرپشن سے بچاؤ ضروری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے محکمہ تعمیرات اور بلدیات کو گلیات اور سڑکوں کی تعمیر سے قبل ویسٹ مینجمنٹ اور سیوریج اور واٹر سپلائی لائنوں کی ضروری مرمت کے احکامات اور کوالٹی کنٹرول کی ترجیحات کو مدنظر رکھنے جیسے اقدامات قومی سرمائے کے درست استعمال کی جانب قابل تحسین قدم ہے جس سے عوامی فنڈز کو باقاعدہ پلاننگ کے تحت استعمال کیا جائے گا۔ گزشتہ ادوار میں گلیات اور سڑکوں کی تعمیر مکمل ہوتے ہی دوسرے ہفتے میں واٹر سپلائی یا ٹیلی فون یا گیس والے بنی بنائی گلی سڑک کو اکھاڑ کر چلے جاتے تھے جس سے گلی نالی کی پے درپے تعمیر پر ترقیاتی گرانٹوں کا زیاں اور ٹھیکیدار کلچر کا فروغ دیکھنے میں آیا اور سیاسی اثر و رسوخ حتیٰ کہ بلدیات کے ملازمین نے ہی اپنے رشتے داروں کو ٹھیکیدار رجسٹر کراکے اپنے خاندانوں کی چاندیاں کیں۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ بلدیات اور تعمیرات کے محکموں کے پلاننگ شعبوں اور مقامی انتظامیہ اور عوامی نمائندے کسی پراجیکٹ پر کام شروع کرنے سے قبل نیچے موجود ٹوٹی ہوئی پائپ لائنوں کی مرمت و تبدیلی کیلئے کلیئر کریں اور ٹھیکیدار کی مانیٹرنگ پر مقامی نمائندوں کو فوکل پرسن اور اہلیان علاقہ و محلہ کے ایماندار افراد کی کمیٹی کو کوالٹی کنٹرول میں شامل کیا جائے جو کہ کنکریٹ کے میٹریل کی کوالٹی اور کام مکمل ہونے کے بعد اس کی آبیاری کو بھی ٹھیکیدار سے یقینی بنائے. آئے روز گلیوں کی اکھاڑ پچھاڑ اور اہلیان محلہ کی جانب سے خود ہی نالی یا گیس کنکشن کی کھدائی کے ذریعے یا جگہ جگہ سپیڈ بریکر بنانے کی بلا روک ٹوک روش کو بھی مقامی انتظامیہ اور پولیس اپنی کاروائی میں شامل رکھے بلدیاتی افسران اور محکمہ تعمیرات کے افسران جن میں ایس ڈی او‘ ایکس ای این‘ سب انجینئر‘ بلدیہ کے سی او اور کلرک صاحبان جس دیدہ دلیری کے ساتھ 10فیصد کمیشن کی رواجی کمائی کے عادی ہوچکے ہیں اس کے بغیر وہ ٹھیکیدار کا چیک سائن نہیں خرتے اس کرپشن کا قلع قمع بھی ہونا چاہئے تاکہ عوام کا فنڈ مکمل طور پر عوام پر ہی خرچ ہو نہ کہ افسر شاہی کے نذر نذرانوں کی نذر ہو۔

  • پھلوں کا بادشاہ آم.56واں مینگو فیسٹیول میرپورخاص

    پھلوں کا بادشاہ آم.56واں مینگو فیسٹیول میرپورخاص

    تحریر . غلام رضا کھوسو ، ڈائریکٹر اطلاعات میرپورخاص ڈویزن
    Ghulam raza khoso
    ضلع میرپورخاص جو این جی اوز اور سٹی آف مینگوز کے طور پر اپنی پہچان رکھتا ہے اور گذشتہ 55سالوں سے میرپورخاص میں ہر سال ضلعی انتظامیہ اور مینجمنٹ کمیٹی مینگو فیسٹیول کی کاوشوں سے ہر سال جون میں شہید بینظیر بھٹو ایگزہیبیشن ہال (فروٹ فارم) میرپورخاص میں آموں کی نمائش کا انعقاد کیا جاتا ہے . رواں سال بھی میرپورخاص میں 56واں مینگو فیسٹیول 31 مئی 2024 سے 2 جون 2024 تک سالانہ تین روزہ آموں کی نمائش لگائی جائے گی .اس سلسلےمیں ضلعی انتظامیہ،محکمہ زراعت اور مینجمنٹ کمیٹی کی جانب سے انتظامات کا آغاز کیا گیا ہے .

    میرپورخاص میں آموں کی نمائش کا آغاز سن 1965 سے کیا گیا تھا جس کا مقصد نہ فقط صوبے بلکہ ملک کے دور دراز علاقوں کے زمیندار کا آپس میں میل جول اور زرعی معلومات کا تبادلہ آموں کی پیداوار اور اقسام کا فروغ ہو سکے تاکہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں آموں کی پیداوار بہتر بنانے کے لیے کارآمد ہو سکے . حکومت سندھ کی جانب سے پانی کی کمی کے باعث ڈرپ ایریگیشن سسٹم کے ذریعے باغات کو پانی پہنچانے کے لیے کافی فنڈر مختص کئے گئے ہیں اور ابتدائی طور پر تجرباتی بنیادوں پر کام شروع کر دیا ہے ، اس ضمن میں حکومت کی جانب سے میرپورخاص میں سندھ ہارٹیکلچر ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں یہ سسٹم قائم کیا گیا ہے .سندھ ہارٹیکلچر ریسرچ سنٹر جو کہ گورنمنٹ فروٹ فارم کے نام سے 1904 میں قائم ہوا اس وقت اس کا نام زرعی فارم تھا اس کے بعد 1926 میں اس ادارے کو تجرباتی اسٹیشن بنایا گیا . 1958میں اس ادارےکو ترقی دے کر باغات کی تحقیق کا ادارہ بنایا گیا اس ادارے کے سب اسٹیشنز سندھ بھر کے مختلف اضلاع میں بھی قائم کئے گئے جس میں ٹماٹر کے لیے ضلع بدین، مرچوں کے لیے ضلع عمرکوٹ کے تحصیل کنری ، بیر اور پیاز کے لیے حیدرآباد ، چیکو ، کیلا، پپیتہ ، کھٹے میوات اور آموں کے لیے شہید بینظیر آباد ، کھجور کے لیے ضلع خیرپورمیرس ، امرود کے لیے ضلع لاڑکانہ میں تحقیقات کا سلسلہ جاری و ساری ہے جس میں کاشتکاروں کو تمام فائدہ مند مشوروں کے ساتھ ساتھ پیداوار بڑھانے کی اقسام دی جاتی ہے . اس ادارے کے پرانے آموں کے اقسام میں سندھڑی، الماس ، چونسہ ، طوطہ پری، الفانسو، کلیکٹر، لنگڑا ، صالح بھائی، دسہری، سوارنیکا، بیگن پالی ،گلاب خاصہ ، سرولی ،نیلم ، زافران ، انور رٹول وغیرہ جو ملکی و بیرون ممالک میں بے حد مشہور ہیں .نئی اقسام میں اس ادارے کی جانب سے کاشتکاروں میں متعارف کروائے گئے ہیں جن میں جاگیردار ، مہران ، شہنشاہ انمول وغیرہ شامل ہیں .

    آموں کے فوائد .
    پکے ہوئے اور کچے آموں میں بہت سے وٹامن پائے جاتے ہیں ، وٹامن اے ، وٹامن سی ، وٹامن ای ، انسان کو دل کی بیماریوں ، کینسر ، شوگر جیسی بیماریوں سے محفوظ رکھتے ہیں. آموں میں 66فیصد تک کیلوریز ہوتے ہیں . ہمارے ملک پاکستان میں 110مختلف اقسام کے آم پیدا ہوتے ہیں ، زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ آموں کی برآمد کو بڑھانے کے لیے نئی مارکیٹوں تک رسائی کے ساتھ ساتھ آموں کی پروسیسنگ پر بھی خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے جس سے آموں کی برآمد میں بھی اضافہ ہو سکے گا ،، ہمارے ملک میں آموں کے باغات کی کاشت شدہ ایراضی ساڑھے چارلاکھ ایکڑ ہے جبکہ ملک میں سالانہ 18 لاکھ ٹن آموں کی پیداوار ہوتی ہے اسی طرح ایک اندازے کے مطابق ضلع میرپورخاص میں 30 ھزار ایکڑ پر 120000 ٹن آموں کی پیداوار ہے .

    ضلعی انتظامیہ میرپورخاص کی جانب سے ڈویزنل کمشنر میرپورخاص ڈویزن فیصل احمد عقیلی اور ڈپٹی کمشنر میرپورخاص سونو خان چانڈیو کی سربراہی میں میرپورخاص میں 31 مئی 2024 سے 2 جون 2024 تک سالانہ تین روزہ آموں کی نمائش کا انعقاد کیا جا رہا ہے جس میں کھیلوں اور ثقافتی پروگرام کا بھی انعقاد کیا جائے گا .نمائش کو کامیاب بنانے کے لیے سب کمیٹیاں بھی تشکیل دی گئی ہیں اس کے علاوہ نمائش میں چھوٹے چھوٹے زمینداروں کو اپنے آموں کے اسٹال لگانے کے لیے شرکت کی دعوت دی گئی ہے.

    میرپورخاص میں 56ویں سالانہ تین روزہ آموں کی نمائش کا باقاعدہ افتتاح 31 جون کو شہید بینظیر بھٹو ایگزہیبیشن ہال (فروٹ فارم) میں صوبائی وزیر زراعت کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے اسی طرح دوسرے روز زرعی سیمینار اور سندھ کا روایتی کھیل ملاکھڑا کے مقابلے اور اختتامی تقریب میں شرکت کے لیے وزیر اعلی سندھ کو دعوت دی گئی ہے جہاں وہ نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے زمینداروں میں انعامات تقسیم کریں گے .

    آموں کی نمائش لگانے کا مقصد میرپورخاص کے آموں کو بین الاقوامی مارکیٹ تک رسائی کے لیے متعارف کروانے کے ساتھ ساتھ کاشتکاروں کو آپس میں میل جول کروانا ہے تاکہ آموں کی نئی اقسام کے متعلق آ گاہی اور بہتر طور پر دیکھ بھال کے متعلق آگاہی دینا ہے تاکہ عام آدمی نمائش میں رکھی آموں کے مختلف اقساموں کے متعلق معلومات حاصل کرتے ہیں بعد میں دوسرے دوست احباب کو تحفے کے طور بھیجتے ہیں ہر سال ٹیکنیکی سیشن زرعی سیمینار بھی منعقد کیا جاتا ہے تاکہ کاشتکاروں کو آموں کی نئی قسم ، پیداوار بڑھانے اور پیداوار کے نئے طریقوں کے متعلق آگاہی فراہم کرنا ہے . 56ویں آموں کی نمائش کے انعقاد کے لیے رئیس عارف خان بھرگڑی کو مینگو فیسٹیول مینجمنٹ کمیٹی کا چیئر مین جبکہ گوھرام بلوچ کو مینیجمنٹ کمیٹی کے چیئرمین کا کوآرڈینیٹر مقرر کیا گیا ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ 56واں مینگو فیسٹیول میرپورخاص گذشتہ سالوں کے مقابلے میں منفرد اور بہتر طور پر منعقد کیا جائے گا .

  • عالمی امن: ایک مضحکہ خیز تصور؟

    عالمی امن: ایک مضحکہ خیز تصور؟

    عالمی امن: ایک مضحکہ خیز تصور؟
    18ویں صدی کے آخر میں اپنے مقالے دائمی امن میں، فلسفی عمانویل کانٹ نے پائیدار عالمی امن کے حصول کے لیے ایک وژنری پروگرام کا خاکہ پیش کیا ہے۔ انہوں نے کھڑی فوجوں کو ختم کرنے، ریاستوں کو ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت سے روکنے کے اقدامات کی تجویز دی ہے ساتھ ہی کہا ہے کہ اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ قومی فنڈز کا استعمال تنازعات کو ہوا دینے کے لیے نہ ہو،فلسفی کانٹ نے عالمی مہمان نوازی کی اہمیت پر زور دیا، جہاں تمام افراد عالمی شہریوں کے حقوق سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔ اس نے دلیل دی کہ یہ اصول پائیدار امن کی بنیاد رکھ سکتے ہیں

    تاہم، عالمی امن کی فزیبلٹی کو مسلسل علاقائی اور بین الاقوامی تنازعات کی وجہ سے چیلنج کیا جاتا ہے۔ ذاتی مفادات کا وجود ایک ناگزیر "ہم بمقابلہ ان” کی ذہنیت پیدا کرتا ہے، جو قوموں کو جوہری ہتھیاروں، جدید مہلک ٹیکنالوجیز، مصنوعی ذہانت اور کیمیائی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو دیکھتے ہوئے ممکنہ طور پر تباہ کن جھڑپوں کی طرف لے جاتا ہے،

    اقتصادی عدم مساوات اور وسائل کی کمی کو طویل عرصے سے تنازعات میں اہم کردار کے طور پر تسلیم کیا جاتا رہا ہے۔ عالمی امن کو فروغ دینے کے لیے ان مسائل کاحل کرنا بہت ضروری ہے۔ دولت کی تقسیم اور وسائل تک رسائی جغرافیائی سیاسی منظر نامے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہے، اس پر اثر انداز ہوتی ہے کہ آیا اس کا رجحان استحکام کی طرف ہے یا تنازعہ

    حکومتوں کی طرف سے وسیع تر مذاکرات اور کوششوں کے باوجود حقیقی امن نظر نہیں آتا۔ حکومتیں تشدد کو صرف سماجی طور پر قابل قبول حدود میں ہی کنٹرول کر سکتی ہیں۔ حقیقی امن سیاسی حالت کے بجائے شعور کی حالت ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی اور معاشی تفاوت جیسے مسائل اجتماعی کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں، عالمی امن کے لیے بلند نظر منصوبے اب پرانے اور غیر حقیقی دکھائی دیتے ہیں،عالمی امن کے حصول کے لیے ایک وقت میں تنازعات کو حل کرتے ہوئے، مزید بڑھتے ہوئے نقطہ نظر کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ جیسا کہ عالمی ہم آہنگی کے لیے عظیم الشان ڈیزائن عجیب لگتے ہیں، انفرادی تنازعات کو حل کرنے پر توجہ مرکوز کرنا ایک پرامن دنیا کی طرف زیادہ عملی راستہ ہو سکتا ہے۔

  • مراقبہ کو اپنی زندگی کے روزمرہ حصے کے طور پر شامل کرنا

    مراقبہ کو اپنی زندگی کے روزمرہ حصے کے طور پر شامل کرنا

    مراقبہ کو اپنی زندگی کے روزمرہ حصے کے طور پر شامل کرنا

    مراقبہ ایک صدیوں پرانا عمل ہے جس میں ذہنی و جذباتی سکون اور مجموعی طور پر تندرستی حاصل کرنے کے لیے دماغ پر توجہ مرکوز کرنا شامل ہے۔ مختلف روحانی روایات میں جڑے ہوئے، مراقبہ کو اس کے متعدد صحت کے فوائد کے لیے جدید، سیکولر سیاق و سباق میں بھی قبول کیا گیا ہے۔ آئیے دریافت کریں کہ آپ مراقبہ کو اپنی زندگی کا باقاعدہ حصہ کیسے بنا سکتے ہیں۔مراقبہ دماغ کو زیادہ باخبر اور حاضر رہنے کی تربیت دینے کا عمل ہے۔ یہ بیداری امن اور توازن کے احساس کو فروغ دے کر آپ کے معیار زندگی کو نمایاں طور پر بہتر بنا سکتی ہے۔ مراقبہ کی جڑیں روحانی روایات جیسے بدھ مت، ہندو مت اور تاؤ مت میں گہری ہیں۔ صدیوں کے دوران، یہ دنیا بھر میں تیار اور پھیل چکا ہے، جو ذہنی اور جسمانی صحت کو بڑھانے کا ایک مقبول ذریعہ بن گیا ہے۔
    مراقبہ کئی شکلوں میں آتا ہے، جس میں مائنڈفلنس مراقبہ میں بغیر کسی فیصلے کے موجودہ لمحے پر توجہ دینا شامل ہے۔ اس ذہنی بیداری کو برقرار رکھنے کے لیے مشق کرنے والے اکثر اپنی سانسوں، جسمانی احساسات، یا آوازوں پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ ماورائی مراقبہ میں خاموشی سے ایک مخصوص منتر کو دہرانا شامل ہے تاکہ دماغ کو گہری راحت کی حالت میں بسنے میں مدد ملے۔ گائیڈڈ مراقبہ میں ہدایات اور مدد شامل ہوتی ہے، جو اسے ابتدائی افراد کے لیے آسان بناتی ہے۔ یہ سیشن مختلف ضروریات اور ترجیحات کے مطابق ایپس اور آن لائن وسائل میں مل سکتے ہیں۔مراقبہ فوائد کی ایک وسیع رینج پیش کرتا ہے۔ یہ آرام کو فروغ دینے اور تناؤ کے ہارمونز کی پیداوار کو کم کرکے تناؤ کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے۔ باقاعدگی سے مراقبہ بلڈ پریشر کو کم کر سکتا ہے، دل کی بہتر صحت میں معاون ہے۔ یہ اضطراب اور افسردگی کی علامات کو دور کرنے میں موثر ہے، جس سے مجموعی ذہنی صحت بہتر ہوتی ہے۔ مراقبہ ارتکاز اور یادداشت کو بہتر بناتا ہے، آپ کو تیز اور توجہ مرکوز رکھنے میں مدد کرتا ہے۔ مراقبہ کی مشق جذباتی لچک پیدا کرتی ہے، جس سے آپ زندگی کے چیلنجوں کو زیادہ مؤثر طریقے سے نپٹ سکتے ہیں۔

    مراقبہ شروع کرنے میں زیادہ وقت یا خصوصی آلات کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ شروع کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اپنی مشق کو گہرا کرنے کے لیے خلفشار سے پاک ایک پرسکون، آرام دہ جگہ تلاش کریں۔ ایک ایسا وقت منتخب کریں جو آپ کے لیے بہترین ہو، چاہے وہ صبح ہو، دوپہر ہو یا شام ہو۔ مستقل مزاجی کلیدی ہے۔ گائیڈڈ مراقبہ شروع کرنے والوں کے لیے بہترین ہیں، آپ کو شروع کرنے میں مدد کے لیے ہدایات اور مدد فراہم کرتے ہیں۔مراقبہ کو اپنی زندگی کا باقاعدہ حصہ بنانے کے لیے، ان تجاویز کو آزمائیں، مراقبہ کو اپنے روزمرہ کے معمولات میں شامل کریں، چاہے یہ صرف چند منٹوں کے لیے ہو۔ مختصر سیشن کے ساتھ شروع کریں اور آہستہ آہستہ مدت میں اضافہ کریں کیونکہ آپ زیادہ آرام دہ ہو جائیں گے۔ آپ کو ٹریک پر رکھنے کے لیے گائیڈڈ مراقبہ اور یاد دہانیوں کے لیے ایپس اور آن لائن وسائل استعمال کریں۔

    ذہنی اور جسمانی صحت کو بڑھانے کے لیے مراقبہ ایک طاقتور ذریعہ ہے۔ اس کی سادگی اور رسائی اسے ہر ایک کے لیے ایک دلکش عمل بناتی ہے۔ اندرونی سکون اور بیداری کے احساس کو فروغ دے کر، مراقبہ دنیا کے بارے میں آپ کے تجربے کو گہرائی سے تبدیل کر سکتا ہے۔

  • دبئی لیکس،پاکستانی سیاستدان اور بے بس عوام، تجزیہ: شہزاد قریشی

    دبئی لیکس،پاکستانی سیاستدان اور بے بس عوام، تجزیہ: شہزاد قریشی

    تازہ ترین خبر کے مطابق دوبئی لیک سامنے آئی ہے۔ چلئے کوئی کمیٹیاں بنا دیں۔آہنی ہاتھوں سے نمٹاجائیگا۔ دوبارہ پھر کسی نواز شریف جیسے فرد واحد کو عبرت کا نشانہ بنا دیا جائے اور باقی کے افراد کو چھوڑ دیا جائے۔ نواز شریف کو پانامہ نہیں بچوں سے تنخواہ نہ لینے کی سزا دی گئی تھی۔ تاہم دوبئی لیک سے ثابت ہو چکا کہ منی لانڈرنگ کرنے والوں کے لئے تمام راستے صاف ہیں بلکہ موٹر وے کی صاف راستے ہیں کوئی رکاوٹ نہیں، ہمارے بیوروکریٹس ، دیگر اعلیٰ افسران ، سیاستدان ، اشرافیہ ، لوٹ مار، منی لانڈرنگ اور لوٹ مار کے ننگے ناچ میں مشغول ہے۔ بدقسمت ملک میں بسنے والے کروڑوں عوام کس کرب میں مبتلا ہیں اس سے ان کو کوئی سرورکار نہیں۔ بے حسی، بے پناہ مہنگائی ،بے قابو غربت ، غیر معمولی حدوں کو چھونے لگی ہے۔

    حکومت میں ہوتے ہوئے حزب اختلاف کا ڈھونگ رچایا جاتا ہے۔ اصلیت ہے مگر اس میں جوش کا پتہ نہیں،ہیرو ہیں جن کے کارنامے نہیں۔ تاریخ ہے جس میں واقعے نہیں۔ تبدیلی کی رفتار ہے جیسے اگر کوئی طاقت حرکت میں رکھنے والی ہے تو محض کیلنڈر ۔ محلاتی سازشوں اور درباری تماشوں میں محو ہیں۔ ہر بار معیشت کی طرف کوئی توجہ نہیں۔ سیاست نظر آتی نہیں رہی مفاد ذاتی سیاست کا دورہے ۔ ایمان۔ ضمیر۔ وفا جیسی چیزیں سیاستدانوں کے لئے بے معنی ہو کر رہ گئی ہیں۔ آج کا سیاستدان کل کا جس پارٹی کو گالیاں دیتا ہے پھر دوسری پارٹی بدل کر گالی د ینے والی پارٹی کے لئے تالیاں بجاتا ہے۔ سیاستدان کی وفاداری تبدیل ،ضمیر تبدیل ، معیار تبدیل، خیال تبدیل ،ان حالات میں منی لانڈرنگ ، کالا دھن سفید نہ ہو تو کیا ہو۔ جن کی اپنی کوئی منزل نہ ہو۔ وہ پاکستان اور عوام کے رہبر کیسے کہلوا سکتے ہیں۔ یاد رکھیے یہ خطہ ہی نہیں ہے یہ ساری دنیا خدا پاک کی ملکیت ہے ۔ قرآن پاک کا مطالعہ کریں ،سرکش انسانوں کی داستانیں بھری پڑی ہیں اور عبرت حاصل کرتے وقت توبہ کریں۔

  • پولیس کے خلاف عوامی مزاحمت اور اسباب

    پولیس کے خلاف عوامی مزاحمت اور اسباب

    پولیس کے خلاف عوامی مزاحمت اور اسباب
    ازقلم غنی محمود قصوری
    پولیس فورس امن و امان قائم اور قانون پر عملدرآمد کروانے کا پابند ادارہ ہے جو ملک میں امن و امان برقرار رکھنے کا ذمہ دار ہے،پولیس کا کردار معاشرے میں وہی ہوتا ہے جو کہ سکول کے اندر ایک استاد کا ہوتا ہے،استاد اپنے طالب علموں سے پیار کرتا ہے ان کی اصلاح کرتا ہے اور غلطی کرنے پر ضابطے کے مطابق سزا دے کر راہ راست پر لاتا ہے تاکہ کسی ایک کی غلطی سے پورے کلاس روم کا ماحول نہ خراب ہو جائے
    یہی کام پولیس کا ہے کہ اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے شہریوں کی حفاظت کرے اور ان کو تنگ کرنے والے دیگر جرائم پیشہ عناصر کو پکڑ کر قانون کے مطابق سزا دلوائے یعنی کہ پولیس” تحفظ "کا نام ہے مگر افسوس ہمارے ہاں ایسا بالکل نہیں بلکہ الٹ ہو چکا ہے،پولیس کا نام سنتے ہی شریف النفس شہری کے بدن میں کپکپی شروع ہو جاتی ہے

    اس کی وجہ یہ نہیں کہ ساری کی ساری پولیس فورس ہی خراب اور ناکارہ ہے بلکہ چند بے ضمیروں ،راشیوں اور جرائم پیشہ ذہنیت کے حامل پولیس والوں نے پوری پولیس فورس کو بدنام کرکے رکھ دیا ہے جس کے باعث آج پولیس اور عوام میں دوری ہو گئی ہے اور اسی بابت کچھ عرصے سے ہمیں پولیس کے زیر عتاب ہونے کی خبریں دیکھنے کو مل رہی ہیں جس میں پولیس کو مکمل طور پر بے بس دیکھا گیا ہے پاکستان کے صوبوں کے علاوہ آزاد کشمیر میں بھی یہی صورتحال ہے

    یعنی کہ جو محکمہ تحفظ کیلئے بنایا گیا اب اسے خوداپنے تحفظ کی ضرروت محسوس ہونے لگی ہے مگر یہ سب یک طرفہ نہیں اس میں بہت زیادہ قصور محکمہ پولیس کا اپنا بھی ہے جو ایک آزاد ادارہ ہوتے ہوئے چوہدری ،وڈیروں،جاگیرداروں کا غلام بن چکا ہے

    دستور دنیا ہے کہ غصہ ہمیشہ کمزور پر ہی آتا ہے سو اسی لئے پولیس بھی خوب سوچ سمجھ کر غصہ کرتی ہے جہاں کوئی تگڑا طاقتور دیکھا اپنا غصہ کنٹرول کر لیا اور قانون کے مطابق کارروائی کی بلکہ رعایت کر دی اور جہاں کوئی غریب اور کمزور دیکھا باوجود قانونی رعایت کے اپنا غصہ اس پر نکالنا آج ہمارے بیشتر پولیس ملازمین کا مشغلہ بن چکا ہے

    امیر و تگڑا کوئی جرم کر لے تو اس پر دفعات لگائی ہی نہیں جاتیں اور اگر کوئی کمزور اور غریب جرم کر بیٹھے تو پھر اس جرم کیساتھ دو چار اضافی دفعات لگا کر اسے ذلیل و خوار کیا جاتا ہے ،یہی وجہ ہے کہ پولیس کا محکمہ بدنام ہو گیا ہے اور لوگ اس سے اب نفرت کرنے لگے ہیں

    جب کوئی پولیس کے ظلم سے تنگ ہو کر عدالتوں میں یا دیگر محکموں میں جاتا ہے تو ان محکموں کی طرف سے بھی سستی کا عمل دیکھنے میں آتا ہے جس کے باعث لوگوں نے قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا شروع کیا بلکہ اب تو لوگوں نے جتھوں کی شکل میں پولیس پروار کرنا شروع کر دیئے ہیں جو کہ بہت بڑا لمحہ فکر ہیں

    پولیس کی انٹیلیجنس ایجنسیوں کے ہوتے ہوئے بھی پولیس کنٹرول سے باہر ہے بلکہ پولیس کو کنٹرول کرنے والے محکمے داد رسی کی فریاد کرنے والے کے الٹ ہی چلتے ہیں جس کے باعث اب کوئی پولیس کے خلاف درخواست دیتے ہوئےسو بار سوچتا ہے

    اگر یہ سلسلہ ایسے ہی چلتا رہا تو عوام اور پولیس میں بہت دوری ہو جائے گی جس کے نتائج بہت برے ہو سکتے ہیں،یہاں سب سے بڑی غلطی پولیس فورس کی ہے جو خود قانون کی رکھوالی ہو کر ماورائے قانون کام کرتی ہے،سوچنے کی بات اگر قانون پرعمل درآمد کروانے والا ادارہ قانون کی پاسداری خود نہیں کرتا تو کسی اور سے کیا کروائے گا؟

    آج ہماری پولیس کا پسندیدہ مشغلہ لوگوں کے گھروں میں بغیر سرچ وارنٹ کے جانا اورگھر کے ایک فرد کے قصور وار ہونے پر پورے گھرانے کے افراد کو اٹھا لینا اور زدو کوب کرنا ہے ،لوگوں کو اٹھا کر ٹارچر کرنا اور عدالتوں میں پیش نا کرنا بہت عام ہو چکا ہے

    اب عوام نے کچھ ظلم کیا اپنے طور پر پولیس پر تو سب سے پہلے آغاز بھی تو پولیس کی طرف سے ہی ہوتا ہے ،اس وقت پولیس کی طرف سے لوگوں کو ناجائز حراست میں رکھنا سب سے بڑا ظلم ہے اور پھر اس کے بعد لوگوں کے گھروں میں بغیر سرچ وارنٹ کے داخل ہونا اور گھر والوں کو مارنا پیٹا جس کی دو چار نہیں کئی ہزار ویڈیوز بطور پروف اب تک سامنے آ چکی ہیں

    دوسری بڑی وجہ پولیس ملازمین سے زیادہ ڈیوٹی لینا بھی ہے جس سے پولیس ملازمین چڑچراہٹ کا شکار ہوتے ہیں اور اپنے افسران کی عیاشیوں کو پورا کرنے کے لئے لوگوں سے رشوت لے کر افسران تک پہنچاتے ہیں

    جہاں پولیس غلط ہے وہاں پولیس کے اندر بیٹھے لوگ بھی پولیس کو غلط کرنے پر مجبور کرتے ہیں،زائد ڈیوٹی کروانا،چھٹی نا ملنا،بہت پرانے ہتھیاروں سے ڈیوٹی کروانا اور اپنے ماتحتوں کو گالیوں سے نوازنا،یہ ساری چیزیں ایک پولیس والے کو نارمل نہیں رہنے دیتیں جس کے باعث وہ اپنی ہتک کا بدلہ عام لوگوں سے لیتا ہے

    اگر ان معاملات پر قابو نہیں پایا جاتا تو پھر اللہ ہی حافظ ہے

    ان مسائل پر قابو پانے کی خاطر پولیس مددگار ریسکیو 15 کی طرح ایک ہیلپ لائن بنائی جائے جس پر شہری بغیر سرچ وارنٹ ریڈ کرنے آنے والی پولیس پارٹی کی اطلاع اس ہیلپ لائن پر دیں اور فوری موقع پر ہی کارروائی کی جائے اور بغیر عدالتی سرچ وارنٹ کے آنے والے پولیس آفیسرز کو فارغ کیا جائے،کسی کو بغیر ایف آئی آر ناجائز حراست میں رکھنے کا عمل ثابت ہونے پر نا صرف نوکری سے فارغ کیا جائے بلکہ عام شہری کی طرح اغواء کا پرچہ درج کرکے سزا دی جائے تاکہ پولیس قانون کے مطابق چلے نیز پولیس کے اندرونی معاملات بھی درست کروائے جائیں تاکہ پولیس جوانوں کو اپنے محکمے سے تحفظ کا احساس ملے

    اگر پولیس قانون کے مطابق چلے گی تو عام لوگوں کو مجبوراً قانون کے مطابق چلنا پڑے گا اور جب معاشرے میں قانون کے مطابق چلنے کا رواج ہو گا تو امن و امان قائم ہو گا جرائم میں کمی واقع ہو گی اور ملک خوشحال ہو گا

    واضع رہے کہ جج،جرنیل،صدر وزیراعظم یا کوئی بھی بڑے سے بڑے شحض کی طرف سے قانون شکنی کی جاتی ہے تو ایف آئی ار پولیس ہی درج کرتی ہےیعنی کہ جتنا مرضی تگڑا بندا ہو بات آ جا کر پولیس پر ہی ختم ہوتی ہے یعنی پولیس سب سے بڑی ہے مگر سوچنے کی بات ہے کہ اگر پولیس تگڑے کے لئے ایف آئی آر قانون کے مطابق یا اپنی مرضی کی درج کرے اور غریب کے لئے درج ہی نا کرے تو اگر کرے بھی تو مستحق دفعات نا لگائے تو پھر پولیس کیساتھ ایسا رویہ عوام کی جانب سے دیکھنے کو ملے گا

    ایف آئی آر اگر درست درج ہو گی تو عدالتیں بھی اچھے طریقے سے مقدمے کا ٹرائل کر سکیں گیں وگرنہ دیکھنے میں آتا ہے کہ ایف آئی آر اول تو درج ہوتی ہی نہیں اور اگر رشوت و سفارش سے درج کروا بھی لی جائے تو درست دفعات نہیں لگائی جاتیں جس کے باعث مقدمے کا مقصد ہی ختم ہو جاتا ہے اور انصاف نہیں ملتا، جرائم پیشہ فائدہ پاتے ہیں اور مظلوم ساری زندگی رلتے رہتے ہیں اور لوگ پولیس کے قریب ہونے کی بجائے دور بھاگتے ہیں

    معاشرے کو سدھارنے کے لئے سب سے پہلے پولیس کا سدھرنا لازم ہے سو گورنمنٹ کو اس پرانے فرسودہ سسٹم کی بجائے نئے سسٹم پر غور کرنا ہو گا تاکہ عوام کو سدھارنے کیساتھ پولیس کو بھی سدھارا جا سکے.اگر پولیس سسٹم میں بدلاؤ نہ لایا گیا تو عوامی غیظ و غضب سب کچھ بہاکرلے جائے گا.

  • تعصبات کو سمجھنا اور ان پر قابو پانا

    تعصبات کو سمجھنا اور ان پر قابو پانا

    تعصبات، خواہ لاشعوری ہوں یا جان بوجھ کر،یہ بات ہم پر بھی اثر انداز ہوتی ہے کیونکہ جب ہم دوسروں کو دیکھنے میں مشغول ہوتے ہیں، تو یہ بات فیصلہ سازی، مواصلت، اور تعاون پر خاص طور پر متنوع اور ترقی پذیر کام کی جگہوں پر کافی اثر ڈالتے ہیں۔ لہذا ابتدا میں کسی کے تعصبات ،رویے اور نتائج پر ان کے اثرات کے بارے میں خود آگاہی پیدا کرنا ہے۔بعد کے مرحلے میں ان تعصبات کو چیلنج کرنے اور ان سے پوچھ گچھ کرنے کے لیے ایک فعال نقطہ نظر کی ضرورت ہوتی ہے، ان کی درستگی اور مطابقت کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔ مختلف نقطہ نظر، تجربات، اور معلومات کی نمائش موجودہ خیالات کا مقابلہ کرنے اور اسے وسعت دینے کے ایک ذریعہ کے طور پر کام کرتی ہے۔ متفرق پس منظر اور مہارت کے حامل افراد سے مختلف ، آراء، اور بصیرت کو فعال طور پر تلاش کرنا تنوع کی وسیع تر تفہیم اور تعریف کو فروغ دیتا ہے۔اس کے بعد، اس سفر میں تعصبات کو زیادہ درست اور جامع عقائد اور اعمال سے بدلنا شامل ہے، جو ترقی کی ذہنیت کو اپنانے مسلسل سیکھنے، ارتقاء، اور اضافے کے عزم کے ذریعے سہولت فراہم کرتا ہے- آخری مرحلے میں تعصبات اور پیشرفت کی چوکس نگرانی شامل ہے، جو مخصوص، قابل پیمائش اہداف کے قیام کے ذریعے سہولت فراہم کرتا ہے۔ ان مقاصد میں متعصب ردعمل کی تعداد یا شدت کو کم کرنا، متنوع گروپوں کے ساتھ مل کر معیار اور مقدار کو بڑھانا، یا پیشہ ورانہ اور ذاتی دونوں شعبوں میں اعلیٰ نتائج حاصل کرنا شامل ہو سکتے ہیں۔

    اس کے بعد، ہمیں اپنے تعصبات کو بہتر اور زیادہ جامع عقائد سے بدلنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس کا مطلب ہے ہمیشہ سیکھنے اور بڑھنے کے لیے کھلا رہنا۔ہمیں اپنے تعصبات پر بھی نظر رکھنے کی ضرورت ہے اور ہم ان سے چھٹکارا پانے کے لیے کیا کر رہے ہیں۔ کم متعصب ہونے اور مختلف لوگوں کے ساتھ بہتر تعلق رکھنے کے لیے اہداف کا تعین ہماری پیشرفت پر نظر رکھنے میں ہماری مدد کر سکتا ہے۔تعصب کو سیکھنے اور بہتر بنانے کے مواقع کے طور پر دیکھنا بھی ضروری ہے۔ جب ہم غلطیاں کرتے ہیں یا کسی کی رائے لیتے ہیں، تو ہمیں انہیں مثبت نظر سے دیکھنا چاہیے، نہ کہ صرف ناکامیوں کے طور پر۔مقصد تعصبات کو طاقتوں میں تبدیل کرنا ہے جو کام پر بہتر کرنے اور زیادہ تخلیقی اور خوش رہنے میں ہماری مدد کرتی ہیں۔ ایسا کرنے سے، تعصبات دراصل ہمیں اپنے کام میں بہتر بنا سکتے ہیں اور ایک زیادہ جامع اور کامیاب کام کی جگہ بنا سکتے ہیں۔اس سفر کے ایک اہم پہلو میں ترقی اور تبدیلی کے طور پر تعصبات کا فائدہ اٹھانا شامل ہے۔ سیکھنے کے انمول ذرائع کے طور پر غلطیوں، ناکامیوں، اور آراء کو قبول کرنا تعصب کی تبدیلی کی صلاحیت کو واضح کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، کامیابیوں اور پہچان کو تسلیم کرنا اور منانا ترقی اور پوشیدہ صلاحیت کے ٹھوس ثبوت کے طور پر کام کرتا ہے۔