Baaghi TV

Category: بلاگ

  • وزیراعلیٰ پنجاب کے انقلابی اقدام.مگر…تجزیہ: شہزاد قریشی

    وزیراعلیٰ پنجاب کے انقلابی اقدام.مگر…تجزیہ: شہزاد قریشی

    وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف نے میرٹ پر اسسٹنٹ کمشنر صاحبان کی تقرریاں کرکے سفارش اور سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد ریاستی مشینری کو عوام کی دہلیز پر ان کے مسائل حل کرنے کی جانب اہم قدم اٹھایا ہے جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ اسسٹنٹ کمشنر‘ ڈپٹی کمشنر‘ ڈویژنل کمشنر ایسے عہدے ہیں جن کا سیاست سے پاک ہونا بہت ضروری ہے اسی طرح پولیس کے محکمہ میں تھانہ سے لے کر آئی جی کے آفس تک کے افسران کو بھی اپنی پیشہ وارانہ آزادی سے کام کرنا چاہئے اور ان افسران کو سیاسی مداخلت سے بے نیاز ہو کر کام کرنا چاہئے جبکہ مقامی منتخب نمائندوں مثلاً ایم پی اے اور ایم این اے حضرات کو بھی بے جا مداخلت سے اجتناب برتنا چاہئے البتہ علاقے کی عوام کی بہتری اور فلاح کے لئے منصوبوں کی نشاندہی اور ان انتظامی افسران کی راہنمائی کے لئے مشاورت کا عمل جاری رکھنا چاہئے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب نے صوبہ کی عوام کی بہتری اور ترقی کے لئے دن رات ایک کیا ہوا ہے اور ان کی کاوشوں کے ثمرات اب نظر آنا شروع ہوگئے ہیں۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ بلا سفارش تعینات ہونے والے اسسٹنٹ کمشنر حضرات مہنگائی کے کنٹرول‘ تجاوزات کے خاتمے‘ پبلک ٹرانسپورٹ میں بین الاضلع اور مقامی روٹوں پر ٹرانسپورٹروں کی کرایوں میں اضافے سے لوٹ مار‘ جعلی ادویات اور اشیاء خوردنی میں ملاوٹ پیٹرول پمپوں میں ڈیزل پٹرول میں ملاوٹ اور ناپ تول میں کمی اور خصوصاً پٹواری مافیا کے قلع قمع کرنے میں کوشاں نظر آنا چاہئے اور غفلت لاپرواہی اور کرپشن میں ملوث پائے جانے والے افسران کے خلاف وزیراعلیٰ صاحبہ کو بھی عوامی شکایات پر نوٹس لینے اور تادیبی کارروائی کرنے کا ایک موثر نظام بھی فعال کرنا ہوگا تاکہ کرپشن فری انتظامی مشینری عوام کی خدمت میں مصرف عمل موجود ہے۔

  • جعلی مزدور  جعلی صحافی،تحریر: آغاز نیاز مگسی

    جعلی مزدور جعلی صحافی،تحریر: آغاز نیاز مگسی

    یر سال یکم مٸی کو مزدوروں کا عالمی دن اور ہر 3 مٸی کو صحافت کا عالمی دن منایا جاتا ہے ٠ اس کے علاوہ بھی مختلف موضوعات پر ہر سال عالمی دن مناٸے جاتے ہیں جن میں خواتین کا دن ، ماں کا دن ، باپ کا دن ، زمین پانی و دیگر کٸی موضوعات شامل ہیں ٠ یہ ایک بہت اچھا اور مثبت عمل اور اچھی روایت ہے ٠ ایسے دن یا ایّام کے منانے سے ان موضوعات کے حوالے سے حقاٸق جاننے اور اصلاح کرنے کے رجحان میں اضافہ ہوتا ہے ٠ جن کے ماحول اور معاشرے پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں ٠ مٸی کے مہینے میں مزدوروں ، صحافت اور ماٶں کے عالمی دن مناۓ جاتے ہیں ٠ بقول نواب اسلم رٸیسانی ڈگری ڈگری ہوتی ہے وہ اصلی ہو یا نقلی لیکن بہت اچھا ہوا کہ نواب صاحب نے بعد میں اپنے کہے پر معذرت کر لی تھی ٠ ہمارے ذہن میں بھی شاید اور اکثر یہ خیال آتا ہوگا کہ مزدور مزدور ہوتا ہے صحافی صحافی ہوتا ہے ماں ماں ہوتی ہے وہ اصلی ہو یا جعلی ٠ لیکن اصل اور نقل میں فرق کرنا لازمی بھی ہے اور انصاف کا تقاضا بھی ورنہ اصل اور نقل کو ایک سمجھنے سے انسان اور معاشرے کا بڑا نقصان ہوتا ہے اور اس میں جھوٹ اور دھوکہ دہی کو فروغ ملتا ہے ٠ جھوٹے پر اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے تمام فرشتے لعنت بھیجتے ہیں اور جھوٹ ہی تمام براٸیوں کی جڑ ہے ٠

    دھوکہ دہی کے بارے میں حدیث مبارکہ ہے کہ جس نے کسی کے ساتھ دھوکہ کیا وہ ہم میں سے نہیں ہے اور جس کے بارے میں نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان ہو تو اس انسان کی بربادی واضح ہو جاتی ہے ٠ لیکن افسوس اس وقت بھی ہوتا ہے جب تعلیم کے شعبے سے وابستہ استاد لیکچرر ہوتا ہے مگر جھوٹ بولتے ہوۓ خود کو پروفیسر کہلاتا ہے یہاں تک کہ وہ رٹاٸر بھی لیکچرر کی حیثیت سے ہوتا ہے مگر پھر بھی خود کو پروفیسر ہی لکھتا اور کہلاتا ہے ٠ جب ایک استاد ہی تمام عمر جھوٹ بولتا اور لکھتا رہے تو اس کے اس کذب اور جھوٹ کے خود اس کی ذات پر اس کے شاگردوں پر اس کے خاندان پر اور معاشرے پر کس طرح منفی اثرات مرتب ہوتے ہوں گے ؟ طب یا صحت کے شعبے سے وابستہ افراد جن میں ڈسپنسر ، میڈیکل ٹیکنیشن ، نرسنگ اردلی اور وارڈ بواۓ وغیرہ بھی خود کو ڈاکٹر کہلاۓ تو اس معاشرے اور سماج کی کیا صورتحال ہوگی ؟ ایسی دیگر کٸی مثالیں ہیں جس کی وجہ سے ہم یہ سوچنے پر مجبور ہوتے ہیں کہ اصل جج اصل وکیل اصل سیاستدان اصل ساٸنسدان اصل سپاہی اصل سپہ سالار اصل عالم و فاضل اور اصل مولوی اور مولانا و مفتی وغیرہ کی پہچان کیسے اور کس طرح ہو یہ وہ سوال اور وہ مسٸلہ ہے جس پر ہمیں سنجیدگی سے سوچنے اور غور کرنے کی ضرورت ہے ٠

    ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ اصل مزدور وہ ہے جو سردی ہو یا گرمی مشکل ہو یا آساں وہ اپنے فراٸض نیک نیتی اور پوری دیانتداری کے ساتھ سر انجام دیتا ہے اور اس کی یہ محنت عبادت بھی بنتی ہے اور حلال رزق کا باعث بھی ٠ ایسے ہی مزدور کیلیٸے مشہور حدیث مبارکہ ہے کہ ”الکاسب حبیب اللّٰہ “ یعنی محنت کرنے والا اللّٰہ کا دوست ہے ٠ یہ اس انسان اور اس مزدور کے لیے کتنا بڑا اعزاز ہے اور کتنی بڑی کامیابی ہے جس کو اللّٰہ تبارک و تعالیٰ اپنا دوست بناتا ہے ٠ گزشتہ یکم مٸی کو بلوچستان کے شہر ڈیرہ مراد جمالی میں مزدوروں کے حوالے سے مستری مزدور یونین کا ایک جلسہ منعقد ہوا ٠ اس یونین کے صدر ہارون الرشید عرف لیاقت چکھڑا نے جلسے سے اپنے خطاب میں جو باتیں کیں وہ رلادینے والی تھیں ٠ اس نے بتایا کہ بارش خدا کی رحمت ہوتی ہے لیکن ہم مزدوروں کے لیے رحمت کے بجاۓ اس لیٸے زحمت ثابت ہوتی ہے کہ اس دن ہمیں کام نہیں ملتا اور ہم خالی ہاتھ اپنے گھر واپس جاتے ہیں ٠ اور اس دن ہمیں بھوکا رہنا پڑتا ہے ٠ انہوں نے کہا کہ ہم مزدوروں کا جینا تو ویسے بھی امتحان اور سخت آزماٸش تو ہے ہی مگر مرنا اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے کہ فوت ہونے والے کی تدفین کیلیۓ کفن کی رقم بھی نہیں ہوتی اور مزدورں کو قرض یا ادھار دینے والا بھی کوٸی نہیں ہوتا ٠ لیاقت علی نے یہ بھی بتایا کہ مزدوروں کی اکثریت کو سر چھپانے کیلیۓ اپنا ذاتی مکان بھی نہیں ہوتا ٠ کرایہ کے مکان میں زندگی مزید مشکل گزرتی ہے ٠ یعنی دوسروں کے لیے گھر اور محل بنانے والے اپنے گھر سے محروم رہتے ہیں ٠ ایسی اور بھی انہوں نے درد بھری باتیں بتاٸیں جن پر الگ سے کالم لکھنے کی ضرورت ہے ٠ اسی یکم مٸی کو ایسے لوگ بھی خود کو مزدور اور مزدور رہنما کہلاتے ہیں جو انتہاٸی بد دیانت کام چور کرپٹ اور بلیک میلر ہوتے ہیں جو مزدوروں کے حقوق کا سودا کرتے ہیں ٠ ایسے سرکاری ملازم جو یونین کی آڑ میں نہ صرف خود ڈیوٹی نہیں کرتے بلکہ اپنے خاندان کے افراد کو بھی بھرتی کرا لیتے ہیں اور وہ بھی گھر بیٹھے تنخواہیں وصول کرتے ہیں ٠ خود یونین لیڈر بن کر اپنے محکمہ سے ماہانہ لاکھوں روپے کا بھتہ وصول کرتے ہیں اور اپنے ہی مزدور ملازمین کا استحصال کرتے ہیں ٠ اور دنیا کے مزدورو ایک ہو جاٶ کا نعرے لگواتے ہیں ٠ مزدور اتحاد اور مزدور مزدور بھاٸی بھاٸی کا منافقانہ نعرہ لگوا کر اپنے ذاتی مفادات حاصل کرتے ہیں ٠ یہی وہ جعلی مزدور ہیں جو اپنے محکمہ میں کرپشن بھتہ خوری اور بلیک میلنگ کا بازار گرم رکھے ہوٸے ہوتے ہیں ٠ لاکھوں اور کروڑوں کی پراپرٹی کا مالک بنتے ہیں ٠ اور یہی مزدوروں کے لیڈر اور رہبر بنے ہوٸے ہیں ٠ حالانکہ اصل مزدور تو وہ مرد و خواتین بچے اور بوڑھے ہیں جو کھیتوں سڑکوں کارخانوں ہوٹلوں ریستورانوں گیراجوں ورکشاپس اور گھروں وغیرہ میں کام کرتے ہیں ٠ تشدد کا نشانہ بنتے ہیں اور گھروں میں کام کرنے والی بچیاں اور خواتین تشدد کے ساتھ ساتھ بعض اوقات جنسی زیادتی کا نشانہ بن جاتی ہیں ٠ مگر افسوس کہ ہماری اسلامی ریاست اپنے محنت کش اور مزدور مرد و خواتین بچوں اور بوڑھوں کو عزت روزگار اور تحفظ دینے میں ناکام رہتی ہے ٠

    صحافت کے شعبے میں بھی جعلسازی اور دھوکہ دہی کا راج ہے ٠ یہ فرق کرنا بہت مشکل لگتا ہے کہ اصل صحافی کون ہے ٠ صحافت ایک بہت ہی معزز پیشہ ہے ٠ صحافی کا بڑا مقام اور مرتبہ ہے ٠ آزادی صحافت کی بات کی جاتی ہے ٠ یہ بھی طے کرنا ابھی باقی ہے کہ آزادی ہے کیا چیز آزادی کی حد کہاں سے شروع اور کہاں ختم ہوتی ہے ٠ ہمارے یہاں تو سیاستدان حضرات آزادی اور حق و سچ کی صحافت اس کو سمجھتے ہیں جس کے تحت ان کے مخالفین کے خلاف لکھا جاۓ اور خود ان کی تعریف کی جاٸے ٠ خواہ وہ خود کتنا ہی کرپٹ بدعنوان ظالم اور بد کردار ہی کیوں نہ ہو ٠ اگر صحافی اس کے بارے میں سچ لکھتا ہے تو وہ صحافی اس کی نظر میں بلیک میلر بن کر سزا کا مستحق بن جاتا ہے ٠ جبکہ سرکاری اداروں میں ہونے والی بدعنوانیوں کے بارے میں لکھنا صحافی کیلیۓ مزید مشکل بن جاتا ہے اور سیکوریٹی اداروں کے بارے میں لکھنا گویا موت کو دعوت دینا یا خودکشی کے مترادف ہوتا ہے ٠ اس لیٸے حق اور سچ لکھنے والے صحافی کیلیۓ صحافت قدم قدم پر آزماٸش اور شدید خطرات کا باعث بنتی ہے ٠ یہی وجہ ہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں صحافی مشکلات اور خطرات میں گھرے رہتے ہیں ٠ اب تک دنیا بھر میں ہزاروں مرد و خواتین صحافی حق اور سچ لکھنے پر قتل کیٸے جا چکے ہیں ٠ قید و بند اور تشدد کے واقعات تو حقیقی صحافیوں کیلیۓ آٸے روز کے معمولات میں شامل ہیں ٠ مگر یہاں بھی مزدور پروفیسر اور ڈاکٹر وغیرہ کی طرح اصل اور جعلی صحافی میں فرق پیدا کرنا بڑا اہم مسٸلہ ہے ٠ صحافت کے شعبے میں ایسے افراد گھس آۓ ہیں کہ اصل صحافی کی پہچان ہی مشکل بن گٸی ہے ٠ سوشل میڈیا میں تو یہ مسٸلہ اور بھی پیچیدہ بن گیا ہے ٠ اب تو ہر دوسرا اور تیسرا شخص صحافی بنا ہوا ہے ٠ ایسے صحافیوں کو نہ تجربہ ہے نہ مہارت اور نہ ہی تربیت ٠ ان کا مقصد معاشرے کی اصلاح و بھلاٸی اور مساٸل کی نشاندہی نہیں بلکہ ناجاٸز عزت دولت اور شہرت حاصل کرنا ان کا اصل مقصد ہوتا ہے ٠ جس کیلیۓ وہ ہر غلط کام خوشامد چاپلوسی اور جھوٹ لکھ اور بول کر نہ صرف خوش اور مطمٸن ہوتے ہیں بلکہ اپنے شرمناک کرتوتوں پر فخر بھی کرتے ہیں ٠ لوگوں پر رعب جمانے اور بلیک میل کرنے کی غرض سے اور خود کو معزز اور مشہور ثابت کرنے کیلیۓ بڑے نامور لوگوں کے ساتھ تصاویر اور سیلفیاں بنوا کر سوشل میڈیا میں پوسٹ کر کے فخر محسوس کرتے ہیں ٠ حالانکہ کسی بڑے عہدیدار کے ساتھ تصویر بنوانا احساس کمتری کا واضح ثبوت ہوتا ہے ٠ اس کے علاوہ جو اوپری سطح کے اینکر یا صحافی ہیں ان میں کچھ ایسے صاحبان اور صاحباٸیں بھی ہیں جو نیوز چینلز کے ٹاک شوز میں یا تو لوگوں کو مرغوں کی طرح لڑاتے ہیں یا پھر سوال بھی خود کرتے ہیں جواب بھی خود دیتے ہیں ٠ مہمانوں کو بولنے ہی نہیں دیتے اس لیٸے وہ بیچارے اپنا مدعا بیان ہی نہیں کر پاتے اور یہ بھی آزادی صحافت کا ایک حصہ ہے ٠ اس طرح کے لوگ ہی خود کو صحافی سمجھتے ہیں ٠ اس لیٸے آزادی صحافت سے پہلے یہ بھی سوچنا ہے کہ اصل اور جعلی صحافی کی پہچان کیسے ہو اس کے بعد ہی آزادی صحافت کے بارے میں کچھ کرنا ہوگا ٠

  • سب سے پہلے پاکستان ایجنڈہ ضروری، تجزیہ : شہزاد قریشی

    سب سے پہلے پاکستان ایجنڈہ ضروری، تجزیہ : شہزاد قریشی

    اسلام آباد (تجزیہ شہزاد قریشی) پاکستان کی مقتدرہ سیاست عوام اور میڈیا کو پاکستان سب سے پہلے رکھنا ہوگا۔ پاکستان کے مفادات، سالمیت اور بقا کو دائو پر لگا کر سیاست اور اقتدار کی دکان چمکانے والے کسی طرح بھی محب وطن نہیں، سوشل میڈیا بشمول الیکٹرانک میڈیا کو عوا م کے حقیقی مسائل اجاگر کرنے چاہئیں نہ کہ اپنی ریٹنگ کے چکر کی دوڑ میں قومی مفادات کو بالائے طاق رکھا جائے۔ پولیس کسی بھی معاشرے میں امن و امان اور عوام کی حفاظت کی ضامن ہوتی ہے اور دہشت گردی کیخلاف جنگ میں افواج پاکستان کے شانہ بشانہ دستہ اول کے طور پر پولیس نے عوام کی جانوں کی حفاظت میں پولیس نے بھی بے پناہ قربانیاں دیں اور ایک تاریخ رقم کی۔ پولیس کو عوامی تذلیل اور تمسخر کا نشانہ بنانا اور سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈہ کا ذریعہ بنانا دراصل عوام کو عدم تحفظ اور بے لگام معاشرے اور لاقانونیت کے جنگل میں دھکیلنے کے مترادف ہے، مسند اقتدار پر براجمان بعض سیاستدان نہ جانے کن آقائوں کو خوش کرنے کے لئے ٹی وی پر آکر زبان درازیوں اور بازاری جملہ بازیوں کے کرتب دکھا رہے ہیں اور نوجوانان قوم کو بے لگام آزادی کے خواب دیکھنے میں مشغول کر رہے ہیں قومی سیاستدانوں، مسند اقتدار پر براجمان شخصیات کے ہر قول و فعل حتیٰ کہ لباس اور حرکات و سکنات میں بے مثال سلیقہ نظر آنا چاہئے جو عوام اور خصوصاً نوجوان نسل کے لئے مشعل راہ ہوتی ہے لیکن ناعاقبت اندیش ہستیاں عارضی اقتدار کے نشے میں سستی شہرت کے حصول کی خاطر نوجوان نسلوں کو گمراہ کرنے پر تلی ہوئی ہیں ان کی تقلید کرنے والوں کو عراق ، یمن ، اردن ، لیبیا اور دیگر زوال کا شکار ہونے والے ممالک کی ماضی قریب کے حالات کا مطالعہ کرنا چاہئے وہ بھی ایسے ہی فتنوں اور جھوٹی آزادی کے خوابوں میں مبتلا ہو کر حقیقی آزادی سے محروم ہو گئے اور ان کی نسلیں غلامی کی زنجیروں میں جکڑی گئیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مقتدرہ، سیاست اور حکمرانوں کو مل بیٹھ کر وطن عزیز کو اس گرداب سے نکالنے کے لئے اپنی حدود کے تعین اپنے فرائض کی انجام دہی کے لئے تمام اداروں کو عوام کی خدمت اور ان کے مسائل کے حل کے لئے مخلص افسران کی تعیناتیوں کو عمل میں لانا ہوگا۔ ہر نئی حکومت نئے عہد و پیمان لے کر آتی ہے اور قومی سرمایہ کو کفایت شعاری سے استعمال کرنے کے وعدے لاتی ہے اور ان کے جانے پر دریافت ہوتا ہے کہ انہوں نے کمال ہوشیاری سے کرپشن کی جس کی زندہ مثال حالیہ گندم اسکینڈل میں تین سو ملین ڈالر کا ٹیکہ ہے، مقتدرہ اور حکمرانوں کو اس میں ملوث کرداروں کو کیفرکردار تک پہنچا کر عوام کا اعتماد بحال کرنا چاہئے۔

  • ڈی جی خان کے مافیا اور امید کی کرن

    ڈی جی خان کے مافیا اور امید کی کرن

    ڈی جی خان کے مافیا اور امید کی کرن
    تحریر:حاجی محمد سعید گندی
    مافیا منظم جرائم پیشہ گروپ کو کہا جاتا ہے، ابتدا میں مافیا اٹلی کے صقلیہ کے مجرم عناصر کو کہا جاتا تھا، انہیں "کوسا نوسترا” (Cosa Nostra) بھی کہا جاتا ہے جو انیسویں صدی کے نصف آخر میں صقلیہ میں خوب پھل پھول رہے تھے۔ بعد ازاں مافیا کی اصطلاح عام ہو گئی۔

    کئی سال پہلے تک میں نے کبھی ایساسوچا بھی نہیں تھا کہ اپنے ملک اور اپنے ہی شہر میں اس طرح کے ماحول کاسامناکرنا پڑے گا۔ڈیرہ غازیخان کے شہری اور دیہی علاقوں میں جرائم پیشہ عناصر کا راج قائم ہوچکا ہے، شہریوں کا گھروں سے نکلنا محال ہوگیا ، مسلح افراد انہیں لوٹ کر فرار ہوجاتے ہیں، اسٹریٹ کرائم بڑھ چکی ہیں ، خواتین اور بچوں کا گھر سے اکیلے نکلنا ناممکن ہوگیا ہے ، راہ چلتے موٹر سائیکل سواروں کا موبائل فون ، نقدی اور دیگر قیمتی اشیا ء چھیننا معمول بنتا جارہا ہے

    ان سب کے علاوہ ڈیرہ غازی خان میں ایرانی تیل، نان کسٹم پیڈ اشیاء، منشیات کی سمگلنگ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ملی بھگت سے سینکڑوں غیرقانونی منی پٹرول پمپس قائم ہوچکے ہیں، احتیاطی تدابیر نہ ہونے کی وجہ سے پمپس مالکان انسانی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں، منشیات کے باآسانی دستیاب ہونے کی وجہ سے نوجوان نسل تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی ہے،

    ڈیرہ غازی خان کے تھانہ سٹی، تھانہ سول لائن، تھانہ گدائی، تھانہ بی ڈویثرن، تھانہ صدر،تھانہ سخی سروراورتھانہ شاہ صدردین ودیگرتھانہ جات کی حدود میں منشیات فروشوں کو کھلی چھٹی ہے، اس مکروہ دھندے میں کچھ پولیس کی کالی بھیڑوں کی مکمل ساجھے داری ہے، شہزاد کالونی ،اختر کالونی شہر کے وسط میں بلاکوں، ریلوے اسٹیشن کے نزدیک محبوب آباد، 3مرلہ سکیم ،چوک چورہٹہ شہر کا کوئی ایسا کونہ نہیں جہاں منشیات آسانی سے دستیاب نہ ہوں،

    اور منشیات ایسے دستیاب ہے جیسے کریانہ سٹور پر چینی ،چائے کی پتی اور دیگراشیائے ضروریہ، سب سے بڑا المیہ روڈ کے کناروں ،نہر کنارے گلی محلوں میں جھنڈ کی شکل میں نشئی حضرات دیکھے جاسکتے ہیں ،جن میں نوجوان مردوں کے ساتھ نوجوان لڑکیاں بھی اپنی نشے کی لت پوری کر رہی ہوتی ہیں، یہ منشیات یہاں تک محدود نہیں شہرکے پوش علاقوں میں بھی کوٹھیوں ،کلبوں، ہوٹلوں اور ریستورانوں تک پہنچائی جاتی ہیں۔ یہ دھندہ گذشتہ کئی سالوں سے چل رہاہے لیکن اب بام عروج پرپہنچ چکاہے، اس دھندہ میں مقامی بااثر افراد بھی شامل ہیں

    ایک رپورٹ کے مطابق یہ منشیات تعلیمی اداروں، نجی و سرکاری ہسپتالوں ،گیسٹ ہاؤسز میں بھی سپلائی کی جاتی ہیں، جس سےسٹوڈنٹس کی ایک بڑی تعداد منشیات کی طرف راغب ہورہی ہے، یہاں پولیس اور دوسرے اداروں کی کارکردگی پر بہت سے سوالات ہیں۔بظاہر تو یہی لگتا ہے کہ انکی مکمل آشیرباد سے یہ دھندہ جاری ہے

    اگرتھانوں میں تعینات پولیس ملازمین اور ان کے افسران کے موبائل فون کاڈیٹا نکالا جائے تو بہت سے پولیس میں موجودکالی بھیڑوں کے نام سامنے آجائیں گے جو نوجوانوں کو موت کے گھاٹ اتار ر ہے ہیں

    دوسری طرف آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل کے مصداق ڈیرہ غازی خان شہر و گردونواح میں ایرانی تیل کے سینکڑوں غیر قانونی ڈپو اور منی پٹرول پمپ قائم ہیں،اس کے علاوہ بڑا المیہ یہ ہے کہ ذرائع کا بتانا ہے کہ پولیس ویلفیئر پمپ جوکہ شہر وسط میں واقع ہے یہاں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر، سول ڈیفنس، کمشنر ریجنل پولیس آفیسرکے دفاترکی دیوار کے ساتھ پمپ پر ایرانی تیل با آسانی پہنچ جاتا ،جس کی ترسیل دن رات جاری رہتی ہے، سرکاری گاڑیوں کے علاوہ پرائیویٹ گاڑیاں کھٹارہ ہونے لگی ہیں اس جگہ سمیت دوسرے جگہوں پر ایرانی تیل کا پہنچنا انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے ۔

    پولیس پٹرول پمپ سے کتنے شرفاءمستفید ہوتے ہیں یہ ایک الگ داستان ہے،اس کے علاوہ سپیشل برانچ کے آفیسرز کا چپ رہنا بہت سے سوالات کو جنم دیتاہے ،سب سے اہم بات جن پولیس ملازمین کا نام ایرانی تیل سمگلنگ لسٹ میں شامل ہے ان میں سے کچھ افسران ابھی تک انہی جگہوں پر تعینات ہیں ایسے لوگوں کو سیاسی لوگوں کی آشیرباد حاصل ہے ۔

    حال ہی میں تعینات ہونے والے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر نے چارج سنبھالا ہے ان کے اردگرد انہی پرانے لوگوں کا جم گٹھا رہے گا تو روڈوں پر سمگلنگ، شہر بھر میں منشیات کی سپلائی کو روکنا مشکل نہیں بلکہ نا ممکن ہوگا۔

    یہاں آپ کو ایک واقعہ سناتا ہوں” ایک بوڑھی خاتون بس پر سوار ہوئی تو اس سے بس کنڈیکٹر نے پوچھا اماں جی آپ نے کہا جانا ہے دراہمہ، پل غازی گھاٹ، ڈڈو موڑ، چوک قریشی، بصیرہ مظفرگڑھ خاتون نے کہا میں نے تو اپنے رشتہ دار جبار کے گھر جانا ہے۔کنڈیکٹر نے کہا اماں جی مجھے کیا پتاآپ کے رشتے دار جبار کا گھر کہاں ہے؟ تو بڑی اماں نے ناراض ہو کر کہا روڈ پر اتنے سٹاپ تو توجانتا ہے ،میرے رشتہ دار جبار کو کیوں نہیں جانتا ؟ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کےگرد بھی کچھ اسی طرح کے لوگ موجود ہیں جو صرف اپنوں کو یاد رکھتے ہیں جو ان کو نوازتے ہیں ،یہی لوگ کسی شریف اورایماندار افسر کی تعیناتی میں کیڑے ہی نکالتے ہیں،

    اعلیٰ آفیسران کے بغل میں بیٹھے پالیسی میکرز منشیات، نان کسٹم پیڈاشیاء، ایرانی تیل کی سمگلنگ کو روکنے کی بجائے بارڈر ملٹری پولیس، پنجاب پولیس، کسٹم حکام کے ملازم خود سمگلنگ میں ملوث ہیں ۔جن کی باقاعدہ لسٹیں بھی سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہی ہیں،

    ڈیرہ غازیخان میں نئے تعینات ڈی پی او اور ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازیخان واحد امید کرن ہیں جو مافیا پر ہاتھ ڈال سکتے ہیں اورانہیں قانون کے کٹہرے میں بھی لاسکتے ہیں اور ضلعی سطح پرصرف یہی اعلیٰ اور بااختیارآفیسران ہیں جو سسکتی انسانیت کوبچاسکتے ہیں۔

  • ٹینشن کے حالات میں سکون برقرار رکھنا

    ٹینشن کے حالات میں سکون برقرار رکھنا

    ہمیں اپنی زندگی میں کسی نہ کسی صورت غصےکی کیفیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے چاہے وہ کام کے اوقات ہوں، خاندان یا ذاتی چیلنجز، سکون برقرار رکھنا ایک مشکل کام لگتا ہے۔ لیکن کیا ہوگا اگر میں آپ کو یہ بتاؤں کہ زندگی کے طوفانوں سے نمٹنے کا راز واقعات کو کنٹرول کرنے میں نہیں بلکہ ان کے ردعمل پر قابو پانے میں ہے؟یہ لچک (Resilience) کا اصل مطلب ہے، یہ ایک ایسا تصور ہے جس کے ساتھ میں نے بیوگی، سنگل مدر اور بیمار والدین کی دیکھ بھال کے پیچیدگیوں سے نمٹنے کے بعد گہرا تعلق بنایا ہے۔ یہ ایک ایسا سفر ہے جس نے ایک گہری سچائی کا انکشاف کیا ہے، جو چیزیں آج بہت بڑی لگتی ہیں وہ اکثر کل معمولی سی بات بن جاتی ہیں۔ روزمرہ کی پریشانیاں جو ہمارے غصے کو جنم دیتی ہیں، دراصل زندگی کے بڑے منظرنامے میں اکثر معمولی سی باتیں ہوتی ہیں۔

    آپ کو ایک ذاتی کہانی سناتی ہوں میرے گھر میں جمعرات کا دن انتہائی منصوبہ بندی کے ساتھ گزرتا ہے،اس دن ریکارڈنگز اور مہمانوں کی آمد ہوتی ہے۔ میزوں پر سجی ہوئی گھر میں بنی ہوئی لذیذ غذاؤں کے ساتھ مکمل انتظامات ہوتے ہیں۔ عام طور پر میری مہمان نوازی بھی بہت مشہور ہےلیکن ایک دن میں نے اپنے آپ کو پریشانی کے دہانے پر کھڑا پایا جب غیر متوقع حالات کی وجہ سے میری باورچی کو جانا پڑا۔ ریکارڈنگ سے چند گھنٹے پہلے سب کچھ تیار کرنے کا کام ناممکن لگ رہا تھا۔پھر، ایک لمحے میں مجھے سمجھ آگئی۔ کیا یہ تبدیلی میرے اندرونی سکون کو خطرے میں ڈالنے کے قابل ہے؟ جواب ایک واضح "نہیں” تھا۔ یہ واقعہ ایک turning point بن گیا – جبکہ زندگی کی مشکلات ناگزیر ہیں، ان پر ہمارا ردعمل ہی ان سے نمٹنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہو سکتا ہے۔ آپ ایک قریبی دوست کے بارے میں سوچیں جو رومانوی تعلقات میں ناکامی سے بہت مایوس تھا۔ سماج میں جنس کی بنیاد پر تعصب کے احساس نے اسے کافی پریشان کیا۔ ایسے پرانے سماجی تصورات مایوسی اور خود کو مورد الزام ٹھہرانے کے سلسلے کو برقرار رکھتے ہیں جب توقعات پوری نہیں ہوتیں۔ تاہم، مظلوم کا کردار ادا کرنے سے ہماری پریشانی ہی بڑھتی ہے۔سچی لچک اس بات کو تسلیم کرنے میں ہے کہ ہر مشکل ہمارے کنٹرول میں نہیں ہوتی ہے۔ غیر متوقع حالات زندگی کا حصہ ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ہم اپنا فوکس خود پر ترس کھانے سے ہٹا کر خود کو بااختیار بنانے پر لگائیں، اور اپنی حدود اور پریشان کرنے والی باتوں کو نظر انداز کریں۔

    لہذا من کی تربیت (Mindfulness) کی مشقوں جیسے مراقبہ، زندگی کے ہنگامے کے درمیان پناہ گاہ فراہم کرتی ہیں۔ غیر جانبدار مشاہدے کو لے کر ہم اپنے اندرونی دنیا میں قیمتی بصیرت حاصل کرتے ہیں، خیالات، جذبات اور رویوں کے باہمی تعلق کو سمجھتے ہیں۔ غور و فکر کے ذریعے، ہم اندرونی سکون کے پوشیدہ ذخائر کو نکالتے ہیں، اپنے آپ کو مضبوط بناتے ہیں چاہے باہر طوفان ہی کیوں نہ آئے۔سکون ایک قابلِ حصول مقصد ہے – یہ ایک رہنما چراغ ہے جو ہمیں زندگی کے طوفانوں سے گزارتا ہے، اور اندرونی امن کی راہ روشن کرتا ہے۔ جیسا کہ مصنف تان ٹوان انگ نے خوبصورت الفاظ میں کہا ہے،کائنات کی وسعتوں کے درمیان، ہمیں اپنے وجود کی عارضی نوعیت میں سکون ملتا ہے۔لہذا، اگلی بار جب زندگی آپ کو مشکل میں ڈالنے کی کوشش کرے تو ، یاد رکھیں آپ کے پاس اپنا ردعمل منتخب کرنے کا اختیار ہے۔ لچک پیدا کریں، ذہن سازی کو اپنائیں، اور سب سے بڑھ کر، اس علم میں سکون حاصل کریں جو طوفان کے درمیان بھی سکون کا منتظر ہے۔

  • روشن گھرانہ پروگرام کے تحت مفت سولر پینل حاصل کرنے کا مکمل طریقہ

    روشن گھرانہ پروگرام کے تحت مفت سولر پینل حاصل کرنے کا مکمل طریقہ

    پنجاب میں روشن گھرانہ پروگرام کے تحت مفت سولر پینل حاصل کرنے کا مکمل طریقہ کار جانیں

    پہلے مرحلے میں 50,000 خاندان ایک (KV) کلو واٹ سولر سسٹم حاصل کر سکیں گے۔اس سکیم کا پہلا مرحلہ شروع ہوچکا ہے،پہلے مرحلے میں وہ خاندان مستفید ہو سکیں گے جو گزشتہ چھ ماہ سے ماہانہ 100 یونٹ تک بجلی خرچ کر رہے ہیں، پہلے مرحلے میں صرف 50 ہزار خاندان ہی سولر سسٹم حاصل کر سکیں گے، اس لیے اگر حکومت کو سولر سسٹم حاصل کرنے کے لیے 50 ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہوتی ہیں تو پھر 50 ہزار خوش نصیبوں کو منتخب کرنے کے لیے قرعہ اندازی کی جائے گی۔

    کون سے افراد درخواست دینے کے اہل ہیں؟
    1. اسکیم سے مستفید ہونے کے لیے خاندانوں کا تعلق پنجاب سے ہونا چاہیے۔
    2. جن خاندانوں کے پاس پاکستانی شناختی کارڈ نہیں ہے وہ اس سکیم سے مستفید نہیں ہو سکیں گے۔
    3. سرکاری ملازمین اس اسکیم سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔
    4. اگر کسی خاندان کے پاس پنجاب شناختی کارڈ ہے لیکن وہ کسی دوسرے صوبے میں مقیم ہے تو وہ بھی اس سکیم سے مستفید ہو سکتے ہیں۔
    5. صرف وہی خاندان اس اسکیم سے فائدہ اٹھا سکیں گے جن کے پاس پچھلے چھ ماہ سے بجلی کا بل ہے ۔

    کون سے دستاویزات آپ کے پاس ہونے چاہیے؟
    1. آپ کے شناختی کارڈ کی کاپی۔
    2. پراپرٹی پاور دستاویزات یا جائیداد کے مالک سے اجازت نامہ۔
    3. بجلی کے حالیہ بل۔
    4. ماہانہ آمدنی کا ثبوت

    رجسٹریشن کا طریقہ کار
    1. سب سے پہلے، اپنی قریبی بینک آف پنجاب برانچ پر جائیں۔
    2. برانچ میں جانے کے بعد، وہاں کے نمائندے سے روشن گھرانہ اسکیم کا رجسٹریشن فارم حاصل کریں۔
    3. رجسٹریشن فارم حاصل کرنے کے بعد، فارم کے اندر تمام مطلوبہ معلومات پُر کریں۔
    4. فارم پر تمام ضروری معلومات کو پُر کرنے کے بعد، ضروری دستاویزات کی ہارڈ کاپیاں رجسٹریشن فارم کے ساتھ منسلک کریں۔
    5. ضروری دستاویزات کی کاپیاں منسلک کرنے کے بعد درخواست فارم واپس نمائندے کو جمع کروائیں اور آپ کی رجسٹریشن کا عمل مکمل ہو گیا ہے۔

    واضح رہے کہ ” بجلی بل سے نجات روشنی کے ساتھ“،پنجاب میں 50ہزارگھرانوں کو ون کے وی سولر سسٹم دینے کی اصولی منظوری دی گئی تھی،وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے فوری طور پر پائلٹ پراجیکٹ شرو ع کرنے اور جدید ترین ٹیکنالوجی کے حامل سولر سسٹم انسٹال کرنے کی ہدایت کی،وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے مختلف گھروں میں ون کے وی سولر سسٹم لگا کر افادیت کا جائزہ لینے کا حکم دیا۔وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی زیر صدارت خصوصی اجلاس منعقد ہوا جس میں ایک کلو واٹ کے سولر سسٹم پر ٹیکنیکل امور پربریفنگ میں بتایا گیا کہ 100یونٹ تک بجلی خرچ کرنے والے پروٹیکٹڈ صارفین اہل ہونگے۔ ون کے وی سسٹم میں، دو سولر پلٹیں،بیٹری، انورٹر،تاریں دی جائیں گی۔ ون کے وی سولر سسٹم سے پنکھے، لائٹیں، چھوٹی موٹر وغیر چلائی جا سکے گی۔ لتھیم آئرن بیٹری کے ذریعے 16گھنٹے تک بیک اپ حاصل کیا جا سکے گا۔ اجلاس میں بہترین کوالٹی کی سولر پلیٹس، انورٹر،بیٹریاں اور دیگرسامان استعمال کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ گھریلو صارفین کیلئے سولر سسٹم کا دائرہ کار بتدریج بڑھایا جائے گا۔ روشن گھرانہ پروگرام کا مقصدغریب آدمی کو مہنگی بجلی سے نجات دلانا ہے۔

    مریم نواز تو شجر کاری مہم بھی کارپٹ پر واک کرکے کرتی ہے،بیرسٹر سیف

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    مہنگائی،غربت،عید کے کپڑے مانگنے پر باپ نے بیٹی کی جان لے لی

    پسند کی شادی کیلئے شوہر،وطن ،مذہب چھوڑنے والی سیماحیدر بھارت میں بنی تشدد کا نشانہ

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

  • حاسد و ظالم کا انجام

    حاسد و ظالم کا انجام

    حاسد و ظالم کا انجام
    ازقلم غنی محمود قصوری
    ہمارے معاشرے میں حسد ایک ناسور کی شکل اختیار کر گیا ہے،حسد سے مراد کسی بھی شحض کو رب کی طرف سے دی گئی نعمت پر زوال کا طلب کرنا اور یہ سوچنا کہ یہ چیز اس سے چھن جائے اور مجھے مل جائے یہی حسد ہوتا ہے ،دیکھا جائے تو حسد رب کی تقسیم پر اعتراض بھی ہے

    حسد وہ راستہ ہے جس کے باعث انسان خود کو سب سے اعلیٰ و ارفع سمجھتا ہے اور دوسروں کو ادنیٰ و کمتر سمجھتا ہے اور دوسروں پر ظلم و ستم کرتا ہے، ان کے خلاف جھوٹی باتیں پھیلاتا ہے اور معاشرے کا امن و سکون برباد کرتا ہے یعنی کہ حاسد ہی ظالم و جابر ہوتا ہے اور تمام برائیوں کی ابتداء حسد سے شروع ہوتی ہے

    اس کرہ ارض پر سب سے پہلا قتل قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کا حسد کی بنیاد پر ہی کیا تھا

    حسد کی اسلام میں سخت ممانعت ہے اسی لئے ارشاد نبوی ہے کہ
    ایک دوسرے کے مقابلے میں بغض نہ رکھو ایک دوسرے کے مقابلے میں حسد نہ کرو ایک دوسرے کے مقابلے میں قطع تعلق نہ کرو اور اللہ کے بندے بھائی بھائی بن جاؤ
    صحیح بخاری 6065

    کیونکہ اگر کسی کو کوئی نعمت جیسے کہ حسن ،پیسہ،گھر،گاڑی،اولاد و دیگر آسائشیں ملی ہوئی ہیں تو وہ رب کی طرف سے ہی ہے کیونکہ اگر انسان کے بس میں یہ آسائشیں حاصل کرنا ہوتا تو ہر بندہ ضرور حاصل کرتا مگر یہ تو رب کی عطاء ہے جسے چاہے عطاء کرے اور جسے چاہے محروم رکھے، سو حسد نہیں بلکہ شکر کرنا چائیے کہ الہی میں بھی تیرا بندا ہوں مجھے بھی عطاء کر

    اسی حسد بارے ارشاد باری تعالی ہے

    أَمْ یحسُدُونَ النَّاسَ عَلی مَا آتَاھمُ اللہ مِن فَضْلِہ ۖ(4-النساء:54 )
    بلکہ یہ لوگوں پر اس چیز میں حسد کرتے ہیں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے عطا فرمائی ہے
    اور فرمایا :
    وَدَّ کثیرٌ مِّنْ أَهْلِ الْکتَابِ لَوْ یرُدُّونَکم مِّن بَعْدِ إِیمَانکمْ کفارًا حَسَدًا مِّنْ عِندِ أَنفُسِھم (2-البقرة:109 )

    بہت سے اہل کتاب کی خواہش ہے کہ تمہیں تمہارے ایمان کے بعد دوبارہ کافر بنا لیں اپنے نفسوں کے حسد کی وجہ سے

    ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ حاسد کسی کو اللہ کی طرف سے دی گئی نعمت پر بجائے شکر کے اس کی تباہی کا خواہش مند ہوتا ہے اور یہی سب سے بڑی خرابی ہے

    میں آج آپکو اپنے دیکھے ہوئے ایک حقیقی حاسد کی کہانی سناتا ہوں تاکہ ہم عبرت حاصل کریں

    یہ 2000 ءکی بات ہے اس شحض کے 5 بیٹے تھے اور اس کا کاروبار اچھا تھا نیز اثر و رسوخ والا بھی تھا اور پولیس کے ساتھ اچھے تعلقات بھی تھے
    یعنی کہ ہر لحاظ سے کامیاب سمجھا جانے والا شحض تھااس کا مشغلہ تھا علاقے کی بہو بیٹیوں پر جملے کسنااور شرفاء کو گالیاں دینا اور بعض اوقات مارنا بھی تاکہ لوگ اس سے ڈرتے رہیں اور وہ خود کو اعلی ثابت کرتا رہے

    شرفاء اورغریب لوگ بیچارے اس سے ڈرتے تھے اور رب سے فریاد کرتے تھے کہ الہی اس ظالم سے تو ہی بچا اور اس کا خانہ خراب فرما

    وقت گزرتا گیا اس کے بچے بڑے ہوتے گئے بجائے پڑھنے لکھنے کے انہوں نے عیاشی کرنا شروع کر دی اور سرعام لوگوں کی بہو بیٹیوں کو تنگ کرنا بھی معمول بنالیا،

    بات اس تک پہنچی تو اس نے ظنز کرتے ہوئے کہا میرے بیٹے ہںں اگر کسی کی بہو بیٹی سے بات چیت کر لیتے ہیں تو وہ عورتیں نا کریں اور اگر وہ زبردستی بات چیت کر بھی لیتے ہیں تو ان عورتوں کا کیا جاتا ہے؟ لڑکے جوان ہیں کوئی بات نہیں ایسا تو ہوتا ہی ہے

    لوگ اس سے تنگ ہوتے گئے اور آخر اس کا بڑا بیٹا نشے پر لگ گیا ،دیکھتے ہی دیکھتے اس کے پانچوں بیٹے نشے پر لگ گئے اور اس کی بڑی بیٹی جو لڑکوں سے بڑی تھی رشتے نا ملنے کے باعث گھر میں بیٹھی رہی اور اس کے بالوں میں سفیدی آ گئی

    وقت گزرتا گیا اس کی خوشحالی بدحالی میں بدلنا شروع ہو گئی اور اس کے معاون لوگ اس کا ساتھ چھوڑتے چلے گئے کیونکہ اب اس کے مالی حالات پہلے جیسے نا رہے تھے

    خدا کی کرنی ایک دن عادت سے مجبور اس نے محلے کے ایک شریف و غریب کو گالی دی تو اس شریف نے اس کی خوب دھلائی کی کیونکہ اب اس شریف کو اس کی حالت کا اندازہ ہو گیا تھا،اپنی دھلائی پر اس نے اپنی سابق زندگی کے یاروں دوستوں کو پکارا مگر کوئی نہ آیا

    وقت گزرتا گیا جن لوگوں پر وہ ظلم کرتا تھا وہ لوگ اب اس کو اس کی اوقات دکھانے لگ گئے،حتی کہ وہ بندہ اس قدر مجبور ہو گیا کہ اپنی انا کو اتار کر لوگوں سے پیسے مانگنے پر آ گیا، گھر کے حالات یہ ہو گئے کہ اس کی دوسری جوان بیٹی گھر سے بھاگ گئی کیونکہ اس سے بڑی کی شادی نہ ہو رہی تھی

    بڑا بیٹا نشے کے باعث مر گیا باقی چار کبھی کہیں نشہ کرکے پڑے رہتے تو کبھی کہیں،اب وہ بوڑھا ہو گیا تھا اور گھر میں جوان بیٹی بھی موجود تھی جس کی شادی نہ ہو سکی تھی،ایک دن ایک لڑکا آیا اسی کے سامنے اس کی بیٹی کو بٹھایا اور رفو چکر ہو گیا

    کسی محلے دار نے آواز کسی کہ جوان ہے جاتی ہے کسی کے ساتھ تو جانے دے کیا بگڑ جائے گا؟

    یہ منظر دیکھ کر وہ رونے لگا ،چیخنے چلانے لگا،ایک بیٹی پہلے ہی گھر سے بھاگ گئی تھی اب دوسری بھی بھاگ گئی،بیوی فوت ہو گئی تھی اور بڑا بیٹا نشے سے مر گیا تھا،اب باقی چار بیٹے سڑکوں پر نشہ کرکے پڑے رہتے اور گلی کے بچے ان کو ٹھڈے مارتے،وہ یہ سب منظر اپنی آنکھوں سے دیکھتا مگر اب کسی کو کچھ کہنے کے قابل نہ تھا

    وہ آج بھی زندہ ہے مگر اس کا اب صرف ایک ہی بیٹا زندہ ہے،ایک اور بیٹا نشے سے مر گیا جبکہ ایک لاپتہ ہو گیا جس کا تاحال کوئی پتہ نہیں
    وہ اب بہت بوڑھا ہو چکا ہے اور گلی میں بیٹھ کر لوگوں سے بھیک مانگتا ہے ،بچے اس کو ٹھپڑ مارتے ہیں وہ کچھ نہیں کر سکتا

    سچ کہتے ہیں ہر عروج کو زواج ہے
    اللہ تعالی ہم سب کو حسد اور ظلم سے بچے رہنے کی توفیق عطا فرمائے. آمین

  • میرے وقت  کی قدر

    میرے وقت کی قدر

    میرے وقت کی قدر
    ہماری تیز رفتار زندگیوں میں، ہم اکثر خود کو وقتی توقعات کے بھنور میں پھنسے ہوئے پاتے ہیں، ایک خاص عمر کے حساب سے تعلیم، کیریئر کی ترقی، مادی املاک کامیابی کی علامت کے طور پر حاصل کرنے کے لئے ہم موجودہ لمحے سے لطف اندوز ہونے اور کچھ انتہائی ضروری "میرے وقت” میں شامل ہونے کی اہمیت کو نظر انداز کرتے ہیں۔

    ایک قدم پیچھے ہٹتے ہوئے، میں اپنے لیے لمحات کو تراشنے کی اہمیت کی تعریف کرنے آئی ہوں۔ یہ "میرا وقت” صرف ایک عیش و آرام نہیں ،یہ فلاح و بہبود کے لیے ایک بنیادی ضرورت ہے۔ یہ ذہنی اور جسمانی طور پر اپنے آپ سے دوبارہ جڑنے کے بارے میں ہے۔ چاہے یہ ایک آرام دہ غسل ہو، ایک دلکش کتاب ہو، آرام سے ٹہلنا ہو، یا یوگا سیشن ہو، جوہر اپنے خیالات کے ساتھ موجود رہنے اور ذہن سازی کو اپنانے میں مضمر ہے۔

    یہ وقف شدہ وقت زندگی کے تقاضوں کو متحرک کرنے کے لیے درکار توانائی کو بھرنے، پھر سے جوان ہونے کی اجازت دیتا ہے۔ جیسا کہ کہاوت ہے، "آپ خالی کپ سے نہیں ڈال سکتے”؛ خود کی دیکھ بھال کو ترجیح دینا مجموعی کام کے لیے ضروری ہے۔ میرا وقت، بیرونی اثرات سے بے نیاز ہو کر خود آگاہی اور ذاتی ترقی کو فروغ دیتا ہے،

    ان لمحات کی تنہائی میں، خود شناسی اور ایماندارانہ خود تشخیص کی گنجائش ہے۔ یہ تعلقات کا جائزہ لینے کا ایک موقع ہے، اس بات کا اندازہ لگانا کہ واقعی کسی کی فلاح و بہبود کی کیا پرورش ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، یہ انفرادی مفادات کو آگے بڑھانے اور بیرونی کرداروں کے علاوہ اپنی شناخت کو دوبارہ دریافت کرنے کا موقع ہے۔
    بالآخر، میرے وقت کو ہمارے معمولات میں ضم کرنا صرف تفریح ​​کے لیے مخصوص ایک عیش و آرام کی چیز نہیں ہے۔ یہ خود کی دیکھ بھال اور ذاتی تکمیل کے لیے ایک اہم عمل ہے۔ لہذا، زندگی کی ذمہ داریوں کے افراتفری کے درمیان وقت کے انمول تحفے کو ترجیح دینا یاد رکھیں۔

  • چھتر بلوچستان کا ”کچا“علاقہ،ایس ایچ او  شہریوں کے بجائے اپنی جان بچانے کی فکر میں

    چھتر بلوچستان کا ”کچا“علاقہ،ایس ایچ او شہریوں کے بجائے اپنی جان بچانے کی فکر میں

    نصیر آباد کا کمشنر ، ڈی آئی جی، ڈی سی اور ایس ایس پی ”بندوق کے سائے میں“
    چھتر کے دو اسسٹنٹ کمشنرز اور ایک صحافی
    چھتر کا ایس ایچ او شہریوں کے بجائے اپنی جان بچانے کی فکر میں ہوتا ہے

    آغا نیاز مگسی

    ضلع نصیر آباد کا چھتر شہر عام شہریوں خواہ سرکاری افسران کے لیے نو گو ایریا بلکہ سندھ اور پنجاب کے ڈاکوؤں کے ”کچے“ کے علاقہ کی مانند ہے یہاں پر کوئی بھی محفوظ نہیں ہے ۔ گزشتہ 40 سال سے بلوچستان حکومت چھتر کے علاقہ کو محفوظ علاقہ نہیں بنا سکی اور نہ ہی یہاں پر اسسٹنٹ کمشنر کو اس کے دفتر میں بٹھا سکی ہے ما سوائے دو اسسٹنٹ کمشنرز کے ۔ 1995 میں سردارزادہ سرفراز احمد ڈومکی کو اسسٹنٹ کمشنر تعینات کیا گیا۔ وہ پہلے اسسٹنٹ کمشنر تھے جو اپنے دفتر میں بیٹھنے لگے اور اسی دور میں چھتر کی تاریخ کا واحد صحافی میں (آغا نیاز مگسی) تھا جو وہاں ڈیرہ مراد جمالی سے روزنامہ انتخاب حب \کراچی کے نامہ نگار کی حیثیت سے رپورٹنگ کرنے کے لیے گیا جہاں مجھے دیکھ کر چھتر کے مکین حیران ہو گئے میں نے سرفراز خان ڈومکی سے ملاقات کر کے وہاں کی انتظامی صورتحال کا جائزہ لیا اور اس کے بعد مجید شاہ کہیری کے ساتھ چھتر شاہ کا جائزہ لیا اور یہاں کے شہریوں کے مسائل معلوم کیے۔ چھتر کے شہریوں نے مجھے ایک مرشد کی طرح کا احترام اور پروٹوکول دیا تھا اور وہ رات میں نے وہاں قیام کیا تھا ۔ سرفراز خان ڈومکی نے اپنے والد سردار چاکر خان ڈومکی کی وفات پر اسسٹنٹ کمشنر کے عہدے سے استعفی دے دیا اور اپنے والد کی جگہ ڈومکی قبیلے کا سردار بنا ۔ سردار سرفراز خان اس وقت بلوچستان کے صوبائی وزیر بلدیات ہیں ۔ سردار سرفراز کے کافی عرصہ بعد محمد عظیم عمرانی دوسرے اسسٹنٹ کمشنر تھے جو وہاں اپنے دفترمیں بیٹھنے لگے اس کے بعد آج تک دوسرا کوئی اسسٹنٹ کمشنر چھتر میں نہیں بیٹھ سکا ہے .

    وہاں کے امن و امان کی صورتحال اور خوف کا یہ عالم ہے کہ نصیر آباد کے کمشنر،ڈپٹی کمشنر، ڈی آئی جی اور ایس ایس پی سخت سیکورٹی اور پیرا ملٹری فورس کے تعاون کے بغیر چھتر کا ”وزٹ“ تک نہیں کر سکتے ۔ چھتر کا ایس ایچ او مقرر ہونا اپنی موت کے وارنٹ پر دستخط کرنے کے مترادف ہے چناںچہ چھتر کا ایس ایچ او شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کی بجائے ہر وقت اپنی جان بچانے کی فکر میں رہتا ہے ۔ چھتر اور اس کے گرد و نواح کے شہری ایف سی \پیراملٹری فورس کی وجہ سے وہاں مقیم ہیں ورنہ چھتر کا علاقہ عام شہریوں کی آبادی سے خالی اور کچے کی طرح ڈاکوؤں کی آماجگاہ بن چکا ہوتا ۔ جس علاقے کا اسسٹنٹ کمشنر اپنے دفتر نہیں بیٹھ سکتا اور جہاں کا کمشنر، ڈی آئی جی، ڈپٹی کمشنر اور ایس ایس پی بندوق کے سائے میں کئی سال بعد ایک دو گھنٹے کا وزٹ کر کے آئے تو اس علاقہ کے مکینوں کی زندگی کس طرح گزرتی ہے اس صورتحال کو سمجھنا کوئی مشکل نہیں ہے ۔

    بلوچستان سے بگٹی قبیلے کے کچھ افراد کچے کے ڈاکوؤں سے لڑنے کے لیے گئے ہیں ان سے پوچھا جائے کہ وہ چھتر کو ڈاکوؤں سے کب خالی کرائیں گے .؟

  • نواز شریف  کی عوام دوست پالیسیاں، تجزیہ : شہزاد قریشی

    نواز شریف کی عوام دوست پالیسیاں، تجزیہ : شہزاد قریشی

    میاں محمد نواز شریف سابق وزیراعظم کا مسلم لیگ (ن) کی مسند صدارت پر دوبارہ بیٹھنا پاکستان کی سیاست میں ایک مثبت اشارہ ہے ،میاں نواز شریف کے جدید پاکستان کے وژن کے ادنیٰ سے ثبوت لاہور شہر میں اورنج ٹرین‘ میٹرو بس راولپنڈی اسلام آباد اور ملتان میں میٹر وبس، پاکستان بھر میں موٹر ویز کا جال بچھانے اور پاکستان کو ایشین ٹائیگر بنانے کے خواب کی تعبیر کی طرف سی پیک اور گوادر سی پورٹ جیسے میگا پراجیکٹ ہیں جبکہ راولپنڈی کو رنگ روڈ کے منصوبے کی منظوری اور اب اس پراجیکٹ پر عملی اقدامات ایسے منصوبے ہیں جن سے عوام کی زندگی میں سہولیات اور آسانیاں اور ترقی یافتہ انقلاب آتا ہے۔

    آج لاہور کی عوام شدید گرمی کے ایام میں ٹریفک جام کی اذیتوں سے آزاد ہو کر یورپ اور ترقی یافتہ ممالک کی طرز پر اورنج ٹرین اور میٹرو بسوں کی سہولتوں سے فائدہ مند ہورہی ہیں اور خصوصاً خواتین کو اور طالبات کو لوکل ٹرانسپورٹ میں خوار ہونے سے نجات مل چکی ہے جو کہ میاں نواز شریف کی عوام دوست پالیسیوں کے عملی ثبوت ہیں۔

    ادھر صدر پاکستان آصف علی زرداری نے پنجاب اور خیبرپختونخواہ میں عوامی گورنروں کی تقرریوں کے لئے سردار سلیم حیدر اور فیصل کریم کنڈی کی منظوری دے کر پارٹی کارکنوں کے دل جیت لئے ہیں جس سے جمہوری سیاست میں گراس روٹ سطح پر ورکروں کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔

    پاکستان پیپلز پارٹی کو پنجاب میں ورکروں اور پسے ہوئے طبقے کو آگے لانا ہوگا کیونکہ گزشتہ ادوار میں پاکستان پیپلز پارٹی پر خاندان پرور سیاسی مداریوں کے قبضے نے بینظیر بھٹو اور قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کے سیاسی فلسفے کو پامال کئے رکھا جس سے پنجاب میں پاکستان پیپلز پارٹی کو دھچکا پہنچا۔ امید کی جاتی ہے کہ چیئرمین آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری ابن الوقت ٹولے کی حوصلہ شکنی کرکے پنجاب بھر میں ورکروں کو طاقت کا سرچشمہ بنائیں گے۔

    میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری کے حقیقت پسندانہ اقدامات سے وطن عزیز میں سیاسی اور جمہوری کلچر کو فروغ ملے گا اور سیاسی طاقتوں کو پرورش کی فضا ملے گی اور عوام کو سیاسی قیادت کے ثمرات ملیں گے۔

    qureshi