Baaghi TV

Category: بلاگ

  • آپ نے شعبہ صحافت کے لئے کیا خدمات سر انجام دی۔۔؟

    آپ نے شعبہ صحافت کے لئے کیا خدمات سر انجام دی۔۔؟

    آپ نے شعبہ صحافت کے لئے کیا خدمات سر انجام دی..؟

    تحریر:میاں عدیل اشرف

    3مئی یوم آزادی صحافت کا دن جسے عالمی طور پر پوری دنیا میں صحافت کی آزادی کے حوالے سے منایا جاتا ہے۔ میرا ان سب صحافیوں سے سوال ہے جو بڑے بڑے عہدوں پر فائز رہے اور اب بھی موجود ہیں آپ نے جب سے صحافت کو جوائن کیا اپنی ذاتی شہرت، علاقے کی بہتری اور لوگوں کے مسائل کے حل کے لیے تو کوشش کی ہو گی

    آج تک آپ نے شعبہ صحافت کی بہتری کے لیے کیا خدمات سرانجام دی جس کے تحت آپ کی شخصیت کو مستقبل میں شاندار مثال دے کر یاد کیا جائے؟؟ کیا آپ نے اپنے علاقے میں پریس کلب بنانے کی جدوجہد کی، اگر پریس کلب موجود ہے تو کیا آپ نے اس میں شامل ممبران کی دوران ڈیوٹی حفاظت کے لیے کوئی جدوجہد کی۔

    کیا آپ نے صحافیوں کے مستقبل کی بہتری کے لیے میڈیکل کی سہولت فراہم کروانے کی جدوجہد کی، صحافیوں کے بچوں کی بہتر تعلیم کے لیے کسی قسم کی کوئی ایسی سہولت فراہم کرنے کے لیے کوشش کی جس کے تحت ان کے بچوں کو مستقبل میں بہتر اور فری تعلیم مل سکے۔ جس کی بہت ضرورت ہے اور یہی خدمات ہیں جن کے ذریعے آپ کی ذات کو مستقبل میں یاد کیا جا سکتا کیونکہ کسی بھی شعبہ میں ہر اس شخص کو یاد کیا جاتا جس نے اس شعبے کے لیے کچھ ایسا کیا ہو جس سے اس شعبے سے وابستہ افراد کو فائدہ ہو رہا ہو ان افراد کو ہمیشہ اچھے الفاظ میں مثال دے کر یاد کیا جاتا ہے۔

    دوسری جانب پاکستان کے سوا تقریباً ہر ملک میں یوم آزادی صحافت کو صرف الفاظوں کی حد تک نہیں منایا جاتا بلکہ عملی طور پر ورکنگ صحافیوں کے لیے سہولیات فراہم کروانے کے لیے جدوجہد کرکےسہولیات حاصل کی جاتی ہیں۔ لیکن بد قسمتی سے پاکستان میں صحافیوں کی فلاح کے لیے ایساکچھ بھی نہیں کیا جاتا بلکہ حکومت کی جانب سے کسی نہ کسی طور پر کوئی ایسی پابندی ضرور عائد کر دی جاتی وہ آزادی سے سچ بول نہ سکیں حقیقت نہ دکھا سکیں اور سچ نہ لکھ سکیں۔

    اس میں غلطی صرف حکومت کی نہیں بلکہ ان صحافتی تنظیموں ،پریس کلب سربراہان اور ان صحافتی اداروں کی بھی ہے جو دعوے تو صحافیوں کے حقوق دلانے کے کرتے ہیں لیکن سب کچھ دیکھ کر اپنی ہی صحافتی برادری پر پابندیوں اور جبر کے خلاف بولتے نہیں بلکہ انفرادی طور پر فوائد حاصل کرتے ہیں لیکن دیگر صحافیوں کے حقوق کو پامال ہوتے دیکھتے رہتے اور خاموش رہتے ہیں۔

    صحافت کی بربادی کی سب سے بڑی وجہ بھی یہی کہ صحافی ہی اپنے آپ کو مضبوط نہیں کرنا چاہتے۔ بہت سے ایسے صحافی حضرات بلکہ پورے کے پورے پریس کلب موجود ہیں جو حکومتی اداروں کے ترجمان، منشیات فروشوں، قحبہ خانوں، ملاوٹ کرنے والوں اور دیگر جرائم میں ملوث افراد کی پشت پناہی کرنے کو صحافت سمجھتے ہیں اور جو صحافی کا اصل کام ہےاس کو کرنے سے پرہیز کرتے ہیں یہ ہیں وہ لوگ جو صحافت کی بربادی کی وجہ ہیں۔

    شعبہ صحافت کے لیے بھی ایک ضابطہ اخلاق ہونا بہت ضروری ہے، پریس کلبوں میں نظم وضبط کے ذریعے ممبران کو شامل کیا جانا ضروری۔ جس کے تحت کام کرنے والے صحافی ہی شعبہ صحافت سے وابستہ رہیں نہ کہ ہر چھابڑی فروش، قصاب، ریڑی بان، دودھ فروش، وغیرہ جعلی صحافتی کارڈز کا استعمال کرکے اپنے کاروبار کو تحفظ فراہم کریں اورشعبہ صحافت کو بدنام کرتے پھریں، بلکہ صرف پڑھے لکھےصحافی ہی ملک کی علاقےکی بہتری کے لیے کام کریں تاکہ شعبہ صحافت کا وقار بڑھے۔

    ایسا تب ہی ممکن ہے جب صحافی اپنے شعبہ کے لیے عملی طور پر کچھ کریں گے تاکہ آنے والے وقت میں ان کی صحافت کے لیے سرانجام دی گئی خدمات کو شاندار مثال کے طور پر جانا جائے۔ صحافیوں کو انفرادی طور پر نہیں بلکہ اجتماعی طور پر سوچنے کی ضرورت ہے اپنے علاقے میں شعبہ صحافت کے لیے ضابطہ اخلاق بنانے کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے اور صرف ان لوگوں کو ہی پریس کلب کی ممبر شپ دینی چاہیے جو اس کے اہل ہوں نہ کے ممبران کی تعداد بڑھانے کے لیے جرائم پیشہ افراد کو بھی اپنے ساتھ شامل کریں اور خود ہی اپنے شعبہ کو برباد کریں۔

    جن علاقوں میں پریس کلب موجود نہیں وہاں سرکاری طور پر پریس کلب ہونے چاہیے، کیونکہ پریس کلب کے بغیر صحافیوں کی کوئی عزت نہیں اس طرح صرف ان کے سر فروخت ہوتے ہیں جب پریس کلب ہوں گے وہاں ہر سال الیکشن ہوں گے تو پھر ان کے حقوق کے لیے کام بھی ہوں گے ان کو سہولیات بھی فراہم ہوں گی کیونکہ پھر عہدیدار وہی بنیں گے جو کچھ کر کے دیکھائیں گے۔

    اس لیے تمام علاقائی صحافی سب سے پہلے اپنے علاقوں میں پریس کلب بنانے کے لیے جدوجہد کریں تاکہ آپ کا مستقبل بھی بہتر بن سکے اور اپ کےشعبہ کا وقار بھی بلند رہے۔

  • سپاہی،   صحافی اور جاسوس، تحریر:  آغا نیاز مگسی

    سپاہی، صحافی اور جاسوس، تحریر: آغا نیاز مگسی

    دنیا میں جتنی بھی مخلوقات کرہء ارض پر موجود ہیں ان کے فرائض اور ذمہ داریوں کا ایک مخصوص وقت مقرر ہوتا ہے لیکن ان میں سے سپاہی، صحافی اور جاسوس وہ مخلوق ہیں جو ہمہ وقت یعنی 24 گھنٹے آن ڈیوٹی یا آن کال رہتے ہیں رات کو جب ہر کوئی آرام میں ہوتا ہے لیکن یہ تینوں آپ کو کہیں نہ کہیں ضرور نظر آئیں گے یہ زیادہ تر اپنے گھر سے باہر رہتے ہیں یعنی گھر کے ہوتے ہوئے بھی بے گھر لگتے ہیں البتہ ان تینوں کی وفاداری ہمیشہ مشکوک رہتی ہے یہ خود بھی مشکوک رہتے ہیں اور دوسروں کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ان میں سے زیادہ تر سپاہی اور صحافی ”سخاوت“ میں ایسے کہ کسی کو دعا تک بھی نہیں دیتے لیکن خود بہت کچھ کے علاوہ دعا کے بھی ہمیشہ طلبگار رہتے ہیں۔

    کتے کو جہاں وفا کی علامت سمجھا جاتا ہے وہاں نفرت کی بھی علامت سمجھا جاتا ہے کسی انسان کو کتا کہنا بہت بڑی گالی مانا جاتا ہے 1976 میں بھارت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے پریس پر سخت پابندی عائد کی تو سارے صحافی خوفزدہ ہوکر خاموش ہوگئے تو اندرا گاندھی نے کہا کہ کوئی ایک کتا تک نہیں بھونکا لیکن اس برعکس پاکستان کے صحافی بہت بہادری کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں انہوں نے مارشل لاؤں میں جیلیں کاٹیں کوڑے کھائے بیروزگار بھی ہوئے اور اب بھی خطرات کا سامنا کرتے ہوئے ہر محاذ پر لڑ رہے ہوتے ہیں سپاہی بھی ایسی ہی مشکلات اور خطرات کا شکار رہتے ہیں اس لیئے یہ ہمیشہ اپنے گھر والوں کی دعاؤں میں رہتے ہیں جبکہ سپاہی اور صحافی دونوں کی صفوں میں کالی بھیڑیں بھی موجود ہوتی ہیں اصل سپاہی اور صحافی کی پہچان بہت مشکل ہوتی ہے اس لیئے لوگ سپاہی اور صحافی سے کم کم ہی پیار کرتے ہیں بلکہ ان کے حصے میں نفرت اور بد دعائیں زیادہ آتی ہیں تاہم پولیس فورس میں ذوالفقار چیمہ عابد نوتکانی اے ڈی خواجہ خادم رند اور خیر محمد جمالی جیسے کئی بہادر اور مخلص سپاہی اور افسران بھی موجود رہے ہیں جبکہ صحافت میں بھی میر خلیل الرحمان حمید نظامی عنایت اللہ ضمیر نیازی الطاف قریشی منو بھائی ، وارث میر اور ہارون الرشید جیسے صحافی بھی موجود ہوتے ہیں اس کے باوجود بھی اگر لوگ سپاہی اور صحافی سے پیار نہیں کرتے اعتبار نہیں کرتے اور ان کو دعا نہیں دیتے تو اس لیے ایسے عناصر سے ہوشیار اور خبردار رہنے کی ضرورت ہے۔

    ہر دور میں تین قسم کی جنگیں لڑی جاتی ہیں پہلی جنگ سپاہی اسلحہ کے بل بوتے پر لڑتے ہیں دوسری جنگ ملکوں اور اقوام کے درمیان جاسوسی کے ذریعے لڑی جاتی ہے جسے جاسوسی جنگ کے علاوہ ملکوں کے درمیان سرد جنگ Cold War بھی کہا جاتا ہے اور یہ ایک خطرناک جنگ ہے جاسوسی کی جنگ میں خوبرو خواتین اور خوبصورت دوشیزاؤں کا کردار نہایت اہم ہوتا ہے وہ فرائض کے دوران اپنی عصمت کی قربانی دینے کے لیے بھی تیار رہتی ہیں ۔ دنیا میں بہت سی جاسوس خواتین موت کے گھاٹ اتاری گئی ہیں لیکن خواتین نے اپنے فرائض میں بہادری کی مثالیں قائم کی ہیں ۔

    دنیا بھر میں تیسری جنگ صحافی قلم کے ذریعے لڑتے رہے ہیں جن میں خواتین بھی شامل ہیں ۔ غزہ فلسطین کی حالیہ جنگ کے دوران اسرائیل کی بمباری سے اب تک 60 سے زائد صحافی شہید ہو چکے ہیں جن میں کچھ خواتین صحافی بھی شامل ہیں۔ عالمی ادارہ یونیسکو کی ایک سروے رپورٹ کے مطابق 2006 سے 2023 تک دنیا بھر میں 1500 کے لگ بھگ صحافی قتل کیے جا چکے ہیں ۔ پاکستان دنیا کے ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے جہاں صحافیوں کی زندگیاں محفوظ نہیں ہیں یہاں حق اور سچ کی صحافت کرنے والے مرد و خواتین کی زندگیاں داؤ پر لگی رہتی ہیں اور یہ لوگ دباؤ میں رہتے ہوئے اپنے فرائض ادا کر رہے ہیں ۔ پاکستان کے حقیقی صحافیوں کی تعداد بہت کم ہے اور یہ لوگ جیسے صحافت کے پل صراط پر چل رہے ہوتے ہیں وہ خود بھی غیر محفوظ رہتے ہیں اور ان کے خاندان کے افراد بھی غیر محفوظ زندگی گزار رہے ہوتے ہیں چنانچہ پاکستان سمیت دنیا بھر کے صحافیوں کو احتیاط اور دعاؤں کی ہمیشہ ضرورت رہتی ہے ۔

    ہوشیار، آپکی جمع پونجی پر بڑا ڈاکہ تیار،الرحمان ڈیویلپرز ،اربن سٹی کی دو نمبریاں پکڑی گئیں

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    تجوری ہائٹس کا پلاٹ گورنر سندھ کی اہلیہ کے نام پر تھا،سپریم کورٹ میں انکشاف

    چیف جسٹس کا نسلہ ٹاور کی زمین بیچ کر الاٹیز کو معاوضے کی ادائیگی کا حکم

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    ضمنی انتخابات میں مریم نواز کا جادو کیسے چلا؟ اہم انکشافات

    مریم نواز نے پولیس وردی پہنی،عثمان انور نے ساڑھی کیوں نہیں پہنی؟ مبشر لقمان کا تجزیہ

  • تبصرہ کتب، بلوغ المرام،جدید ایڈیشن

    تبصرہ کتب، بلوغ المرام،جدید ایڈیشن

    نام کتاب : بلوغ المرام/ جدید ایڈیشن( دوجلد )
    تالیف : شہاب الدین احمد ابن حجر العسقلانی
    صفحات : 1138
    ناشر  : دارالسلام انٹرنیشنل ، لوئرمال ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ ، لاہور
    برائے رابطہ : 042-37324034
    زیر نظر کتاب” بلوغ المرام من ادلة الاحکام “ ابو الفضل حافظ شہاب الدین احمد ابن حجر العسقلانی کی بے مثال کتاب ہے ۔فقہائے محدثین کے سلسلے میں ایک بہت بڑا اور معتبر نام نویں صدی ہجری کے امیر المومنین فی الحدیث شہاب الدین ابو الفضل احمد بن علی بن محمد المعروف ابن حجر العسقلانی کا ہے جنہیں معاصرین نے حافظ مشرق والمغرب کا لقب بھی دیا ہے۔ وہ بہت بڑے مفسر ، محدث ، فقیہ ، مورخ اور ماہر لغت تھے ۔ شرعی احکام کے حدیثی دلائل پر مبنی فقہ میں ان کی مایہ ناز کتاب بلوغ المرام ہے جو صدیوں سے دنیا بھر کے اسلامی حلقوں میں معروف چلی آرہی ہے ۔ یہ کتاب ضخامت میں مختصر ہے لیکن جامعیت اور افادیت کے اعتبار سے بے نظیر ہے ۔ مسائل و احکام کا یہ نہایت اہم اور گراں قدر مجموعہ علماءاور طلباءکے لیے یکساں مفید ہے ۔ اس نامور کتاب کا اردو میں نہایت خوبصورت ترجمہ قارئین کے ہاتھوں میں ہے ۔ اگرچہ اب تک اس کتاب کے سینکڑوں تراجم شائع ہوچکے ہیں لیکن یہ ترجمہ پیش رو تمام تراجم سے یکسر مختلف اور منفرد ہے ۔

    اس کی پہلی انفرادیت یہ ہے کہ یہ ترجمہ معروف سیرت نگار مولانا صفی الرحمن مبارک پوری رحمہ اللہ نے کیا ہے ۔ اس کتاب کی دیگر خصوصیات یہ ہیں کہ کم و بیش ہر حدیث کے نیچے پہلے لغوی تشریح پھر حاصل کلام کے عنوان سے شرح بھی لکھ دی گئی ہے تاکہ ہر حدیث کی وضاحت ہو جائے اور جو احکام اس حدیث سے مستنبط ہوتے ہیں ان کی تشریح اور تفہیم آسان ہو جائے۔ راویوں کے مختصر حالات زندگی بھی درج کیے گئے ہیں۔حافظ ابن حجر العسقلانی نے اس کتاب میں فقہائے محدثین کے اسلوب کا تدبر انتہائی مہارت اور خوبصورتی سے کیا ہے انہوں نے ہر مسئلے کو احادیث نبویہ کے ذریعے سے واضح کیا ہے جبکہ علماءاس کتاب کے بارے میں کہتے ہیں کہ ایک عام مسلمان احکام شریعت پر عمل کرنے کے لیے کوئی ایسی کتاب منتخب کرے جو مختصر ہو ، آسان ہو ، فقہی ابوا ب کے کے مطابق مرتب ہو ، تمام مسائل کے بارے میں مکمل رہنمائی کرتی ہو اور اس پر کسی تردد یاذہنی تحفظ کے بغیر عمل کیا جا سکتا ہو تو اس کے لیے بلوغ المرام سب سے عمدہ انتخاب ہوگا

  • کہاں کی صحافت

    کہاں کی صحافت

    کہاں کی صحافت
    تحریر:حاجی محمدسعید گندی
    صحافت سے وابستگی کی وجہ سے روزانہ کچھ نہ کچھ لکھنا پڑتا ہےجوکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم اورمختلف قومی وریجنل اخبارات میں شائع ہوتا رہتا ہے۔ آج جی چاہا کہ اپنے شہر کی صحافت پر بات کروں ،ڈیرہ غازیخان 25 لاکھ سے زائد نفوس کی آبادی پرمشتمل شہر ہے یہاں کم و بیش پانچ سے سات پریس کلب اور درجنوں صحافی کہلانے والے معزز دوست موجودہیں۔

    حقیقت یہ ہے کہ ڈیرہ غازیخان کے اکثر صحافی پر خلوص جذبوں والے دوست ہیں لیکن کچھ لوگ ہماری صفوں میں بلیک میلر بھی ہیں جو اپنی دیہاڑی لگانے کے لیے پوری محنت کرتے ہیں وہ بھی ایمانداری کے ساتھ ۔

    ڈیرہ غازی خان ایک قدیمی شہر ہونے کی وجہ سے یہاں صحافتی سلسلہ بھی قدیم ہے۔ ڈیرہ غازیخان کی دھرتی نے نامور قلم کاراور دانشور پیداکئے ہیں اس وقت شہر وگرد نواح کے اکثر صحافیوں کی تیسری نسل اسی پیشہ سے منسلک ہےاور صحافیوں کے حوالے سے یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ یہاں بمشکل درجن بھر صحافیوں نے صحافت کی تعلیم حاصل کی ہوئی ہے ۔صحافی بننے کے لئے دوسرے ملکوں باقاعدہ قانون ہیں،ان ممالک میں لوگ کٹھن مراحل سے گزر کر صحافی بنتے ہیں

    اگر بات کریں اسلامی ملک سعودی عرب کی تو آپ سعودی شہری ہیں، صحافی بننا چاہتے ہیں تو آپ کو انتہائی سخت مراحل سے گزرنا ہوگا،سب سے پہلے آپ کی صحافت میں تعلیمی ڈگری اوراہلیت چیک ہوگی ، اس کے بعد آپ کی فصاحت، بلاغت، کتابت، اِملاء، کے ساتھ ساتھ وطن سے محبت کا معیار تک چیک کیا جاتا ہے کہ آیا یہ شخص وطن دشمن ایجنسیوں کا ایجنٹ تو نہیں ہےپھر سعودی وزارتِ اطلاعات و نشریات آپ کا تمام ڈیَٹا، ہاتھ پاؤں کے فنگر پرنٹ لےکرکمپیوٹرائزڈ کارڈ جاری کرتا ہےاتنے طویل صبر آزما مراحل کے بعد سعودی حکومت آپ کو اپنے متعلقہ اخبار / چَینل کے ساتھ کام کرنے کی باقاعدہ اجازت دے دیتی ہے۔

    اگر آپ امریکی شہری ہیں اور صحافی بننا چاہتے ہیں تو امریکی حکومت کو جرنلزم میں ماسٹر ڈگری یا اس کے مساوی ڈگری پیش کرنا ہوگی، پھر اس کے بعد مختلف قسم کے تحریری امتحانات کے بعد آپ کو گورنمنٹ آف امریکہ کارڈ جاری کرتی ہے۔جس میں سٹیٹ سے وفاداری کا حلف نامہ بھی شامل ہوتا ہے۔

    اگر آپ سکینڈے نیون کنٹریز (ناروے، سویڈن، ڈنمارک) کے شہری ہیں اور صحافی بننا چاہتے تو آپ کو سب سے پہلے صحافت میں 70فیصد مارکس کے ساتھ شعبہ صحافت کی ماسٹر ڈگری ،وزارت اطلاعات کو دکھانا ہوگی، وزارت اطلاعات جانچ پڑتال کے بعد آپ کو کسی بھی اخبار چینل کا رپورٹر بننے سے پہلے 180 دن کے تربیتی کورس پہ بھیجتی ہے جس کا خرچہ کورس کرنے والا خود اٹھاتا ہے

    اب ذراہمارے پیارے ملک پاکستان کا معیار بھی دیکھ لیں، آپ کے پاس صحافتی ڈگری نہ بھی ہو، حتی کہ آپ اَن پڑھ ہیں، ویسے ان پڑھ صحافیوں کی تعداد اس وقت بہت زیادہ ہے اور انہوں نے بڑے بڑے اخبارات کی نمائندگی بھی حاصل کی ہوئی ہے انہوں نے خبروں کیلئے پرائیوٹ منشی بھی رکھے ہوئے ہیں۔

    بہرحال آج کے دور میں پاکستان میں صحافی بننا کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے،آپ کے پاس ایک اچھا سا موبائل فون کیمرہ والا ہونا چاہئے, اور کِسی بھی برسوں سے بند پمفلٹ ٹائپ دَو وَرقی یا پی ڈی ایف اخبار کی یا ڈمی چینل کی نمائندگی جس کے لیے آپ کو دو فوٹو اور چند ہزار روپے ایڈیٹر کو بطور نذرانہ دینا ہونگے، اگلے روز آپ کا کارڈ بن کر آجائے گا،جلد مشہور ہونے کے لئے قریبی دوستوں سے مبارکباد کی پینافلیکس بنوا کے چوک چوراہوں میں لگوا دینے سے چند ماہ نہیں بلکہ چند دنوں میں سینئر صحافی تیارہوکر مارکیٹ میں آجاتا ہے

    توبات ہورہی تھی ڈیرہ غازیخان کی صحافت کی یہاں صحافیوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے ۔ان سینکڑوں صحافیوں میں سے اخبارات میں ریگولر کالم لکھنے یا لائیوٹاک شو زمیں بیٹھ کر قومی و بین الاقوامی ایشوز پر بات کرنےوالے نا ہونے کے برابر ہیں،شہر گردو نواح میں بہت اچھے صحافی بھی موجود ہیں جو لگن کے ساتھ ہر مسئلہ اجاگر کرتے رہتے ہیں ۔

    ایسے صحافی بھی موجود ہیں زیادہ ہیں جنہوں نے اپنے ذمہ یا دوسرے لفظوں میں کچھ محکموں کا ٹھیکہ لے رکھا ہے، محکمہ بلڈنگ، تھانوں, بجلی , گیس و کھالوں اورنالیوں کی کوریج و نبض شناسی شہر میں گٹر اوبل رہے ہیں متعلقہ محکمہ سے زیادہ ان صحافیوں سے بہتر کوئی نہیں جانتا

    کچھ صحافی انکی کارکردگی کو سراہتے ہیں تو کوئی انکی کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت پیش کررہے ہوتے ہیں کسی نے دبنگ تو کسی نے کرپٹ لکھا ہوتا ہے ۔اگر آپ کو کوئی مسئلہ یا کام ہوتو صحافی ڈھونڈنے کی یا کہیں دور جانے کی بالکل ضرورت نہیں یہ ڈیرہ غازی خان کے ہر گلی محلہ کالونیوں چوک چوراہوں میں صحافی با آسانی وافر تعداد میں آپکو میسر ہوں گے ۔

    زیادہ تر بے چارے بےروزگار صحافی ہیں جن کی گزر بسر دوسروں کی جیبوں سے ہوتی ہے، صحافت میں کالی بھڑیں بھی موجود ہیں جوکہ انتہائی طاقتور ہیں غلط دھندوں کی وجہ سے صحافت کا معیار روز بروز گرتا ہی جارہا ہے،آدھے درجن کے قریب مختلف ناموں سے پریس کلب بھی بنے ہوئے ہیں جبکہ ڈیرہ غازی خان شہر میں صرف ایک رجسڑڈ پریس کلب ہے جسکی اپنی عمارت بھی ہے

    باقی ماندہ پریس کلب چوباروں، دکانوں ،ہوٹلوں یاکسی کی بیٹھک میں بنے ہوئے ہیں۔ جہاں آدھے درجن ڈمی اخبارات یا ڈمی چینل کے نام نہاد صحافی اکٹھے ہوں وہاں پریس کلب بنا کر صدر بن بیٹھتے ہیں پھر فلاں زندہ باد… فلاں زندہ باد کے نعرے لگائے جاتے ہیں

  • اسلام میں مزدور کے حقوق اور حیثیت، تحریر:حیدرعلی صدیقی

    اسلام میں مزدور کے حقوق اور حیثیت، تحریر:حیدرعلی صدیقی

    @HWriter27672

    زندگی مختلف شعبوں کا مجموعہ ہے، اور یہ شعبے ایک دوسرے سے باہم یوں جڑے ہوئے ہیں کہ ہر شعبہ جتنا بھی ترقی کا سفر طے کرے لیکن کسی نہ کسی موڑ پر وہ دوسرے شعبہ کا محتاج ضرور رہتا ہے۔ ایسے ہی ایک شعبہ مزدور طبقے کا بھی ہے، ہم میں سے کون نہیں جانتا کہ مزدور کے بغیر اسکی زندگی کیسے گزر سکتی ہے! مزدور کی ضرورت اور اہمیت کا اندازہ اس سے لگائیں کہ ہم کتنے ہی کامیاب اور کروڑ پتی کیوں نہ ہوجائے لیکن ہمارا کوئی بھی کام مزدور کے بغیر چل نہیں سکتا۔ ایک متوسط فرد سے لے کر بڑے سے بڑے افسر اور بیوروکریسی تک زندگی کے ہر شعبے سے وابستہ فرد مزدور کا محتاج ہے۔ اب بنیادی بات یہ ہے کہ مزدور طبقہ کی اس ضرورت اور اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں خود سے پوچھنا ہے کہ کیا ہم مزدوروں کے ساتھ وہ سلوک اور رویہ اختیار کرچکے ہیں جو مذہب اور انسانیت کا تقاضا ہے؟ اگر جواب نہیں میں آئے تو لامحالہ ہمیں مزدور کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

    مزدور طبقہ عام انسانوں پر مشتمل ہے، انکی تخلیق میں کوئی جسمانی اور ذہنی کمی نہیں ہے سوائے اسکے کہ مزدور لگژری زندگی سے بہت دور ہیں اور انکے بعض افراد تو خط غربت سے بھی نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ لیکن افسوس کی بات تو یہ ہے کہ جدید دنیا اور انسانی حقوق کے اداروں کے ہوتے ہوئے بھی مزدوروں کے ساتھ جو سلوک اپنایا گیا ہے، اس سے بعض اوقات گمان ہوتا ہے کہ شاید یہ انسان بھی نہیں اور نہ انھیں راحت و آرام کی زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔ مزدور کو کمتر سمجھنے اور اسکا معاشی استحصال کرنے میں ہم نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ہم میں سے ہر کوئی مزدور سے زیادہ سے زیادہ کام حاصل کرنے کا خواہش مند ہے لیکن معاوضہ بھی ہم اپنی پسند کا دیتے ہیں جس سے مزدور زندگی کی بنیادی ضروریات بھی پوری نہیں کرسکتا۔

    ہم انکی عام اجرت میں زائد وقت کا کام بھی لیتے ہوئے اسے مجبور کرتے ہیں اور انکار کی صورت میں اسے کام سے فارغ کرنے کی دھمکی دیتے ہیں۔ مزدور سے اسکی طاقت سے زیادہ کام لینا گویا ہمارے لیے فخر کی بات ہے، لیکن اجرت دیتے وقت ہمارا انداز یہ ہوتا ہے جیسے ہم اس پر احسان کررہے ہیں۔

    آج دنیا میں یوم مزدور منایا جاتا ہے، سارے سرمایہ دار چھٹی انجوائی کرتے ہیں لیکن کسی نے جاننے کی کوشش کی ہے کہ اس دن مزدور بھی چھٹی کرلیتے ہیں یا کام کرتے ہیں؟ مزدور کے ساتھ یکجہتی کےلیے چھٹی منانا اچھی بات ہے لیکن یہ جاننے کےلیے ہم نے کبھی کوشش کی کہ مزدور کو اسکے حقوق میسر ہیں بھی کہ نہیں؟
    اسلام نے مزدور و مالکان دونوں کے فرائض کو واضح طور بیان کردیا ہے اور ہر ایک کو پابند کیا ہے کہ وہ اپنے فرائض کی ادائی میں کوتاہی نہ کریں۔ اسلام نے مزدوروں کو ان کا جائز حق دیا اور مالکان کو پابند کیا کہ مزدوروں کو کم تر نہ سمجھیں، اگر مزدور سے کام لیا جائے تو اسکو اس کا حق فوراً دے دے۔

    اسلام نے مزدور کا جو تصور دیا ہے وہ اقوام عالم کےلیے مشعل راہ ہے۔ مزدور کے بابت اسلام نے جو رہنمائی کی ہے اگر اسکو عملی کیا جائے تو مزدور کا حق ضائع نہ ہوگا اور اسی طرح وہ اپنے کام کو خوب محنت اور ایمانداری سے پورا کرے گا، یوں مزدور اور مالک دونوں مطمئن رہیں گے۔ اسلام کا نقطۂ نظر یہی ہے کہ مزدور افراد تمہارے ہی ہم شکل، ہم جنس اور تمہارے بھائی ہیں، بات اتنی ہے کہ اللہﷻ نے انھیں آپ کا ماتحت بنادیا ہے، سو جو آپ کھاتے ہیں وہ انکو بھی کھلائیں! اور جو آپ پہنتے ہیں وہ انکو بھی پہنائیں! اور اس سے اسکے وقت اور طاقت سے زیادہ کام نہ لیں! اگر لینا ہے تو اسکی مدد کریں! اور زائد وقت کی مزدوری بھی دیں!

    اسلام کا مندرجہ بالا اصول کتنا زبردست اور واضح ہے! مگر کیا ہم اس کو عملی کرنے کی کوشش کریں گے؟اسلام کا حکم ہے کہ مزدور کو اسکی مزدوری اسکا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کیا جائے لیکن ہماری صورتحال کیا ہے؟ اسکا ہم سب کو بخوبی اندازہ ہے۔ حضور اکرمﷺ کے ارشاد گرامی کا مفہوم ہے کہ قیامت کے دن جن تین افراد کے خلاف میں مدعی بنوں گا ان میں ایک وہ شخص ہے جو مزدور سے کام تو پورا لے لیکن اسکی مزدوری پوری نہ دے یا کم دے یا بغیر کسی عذر کے اس میں تاخیر کرے۔
    مزدور کے ذمہ کچھ فرائض مذہبی بھی ہیں جن کو ادا کرنا اس پر لازم ہے، اسلام کے رو سے جس طرح مزدور کو اس کی اجرت کا وقت پر دینا لازم ہے اسی طرح مالکان پر یہ بھی لازم کیا گیا ہے کہ کام کے دوران فرائض و واجبات مثلاً نماز وغیرہ کا وقت آجائے، تو مزدوروں کو اس کی ادائیگی کےلیے وقت اور جگہ فراہم کی جائے۔
    غلطی سے کوئی بھی انسان مبرا نہیں ہے! مزدور سے بھی غلطی سرزد ہوسکتی ہے لیکن اسکو معاف کرنا چاہیے! حدیث کا مفہوم ہے کہ اگر مزدور ستر مرتبہ غلطی کرے تو بھی اسے معاف کریں۔

    مزدور کے متعلق اسلام نے جس طرح مالکان کےلیے ہدایات بیان کی ہے بالکل اسی طرح مزدور کےلیے بھی ہدایات بیان کی ہے۔ اسلامی نقطۂ نظر سے مزدور اس امر کا ذمہ دار ہے کہ:
    * وہ اپنا کام معاہدے کے مطابق بروقت ایمانداری اور اخلاق کے ساتھ پورا کرے۔
    * مزدور مالک کے کام کا امانت دار ہے، سو وہ اس بات کا پابند ہے کہ وہ کام اور اسکے متعلق اشیاء کا ایمانداری سے حفاظت کرے، اور اسے کام کے بعد مالک کے حوالے کرے۔ اگر کوئی چیز اتفاقاً خراب ہوجائے تو مزدور پر کوئی تاوان نہیں ہے لیکن اگر مزدور نے اسے قصداً خراب کیا تو اس چیز کا تاوان دے گا۔
    • اگر مزدور مالک کے ہدایت کے خلاف کام کرے اور اس میں کوئی نقصان پیش آئے تو مزدور اسکا تاوان ادا کرے گا۔
    * جتنے دن کےلیے کام کا معاہدہ ہوا ہے تو مزدور کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ کام پورا کیے بغیر اس کو چھوڑ دے۔

    اسلام کے یہ رہنمائی کتنی واضح ہے! اس جامع اور رہنما اصولوں کو اپنائے بغیر معاشرے میں مساوات اور خوشحالی کا قیام ناممکن ہے، ان اصول کو اپنانے سے ہی مزدور کا استحصال ختم ہوگا اور مالکان کو ان کا کام پورا ملے گا۔ اب ہماری ذمہ داری یہی ہے کہ مزدور کی روایتی چھٹی منانے کے بجائے زیادہ توجہ اپنے اور مزدوروں کے حقوق اور ذمہ داریوں کو پہچاننے پر دیں اور ان حقوق اور ذمہ داریوں کے مطابق اپنے کاموں کو آگے بڑھائے۔

  • امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    دعوت ولیمہ کا کارڈ موصول ہوا،کارڈ پر والدین کا نام لکھا تھا اور والد و والدہ کے نام کے سامنے مرحوم لکھا تھا، یعنی مرحوم والدین کی طرف سے بیٹے کے ولیمہ میں شرکت کی دعوت دی جاتی ہے، ولیمہ بھی کہاں…وہ بھی "آغوش” میں، یتیم خانے میں،ولیمے کا کارڈ دیکھ کر خوشی ہوتی لیکن یہاں منظر کچھ اور تھا…آںکھوں میں آنسو …سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ ولیمے کا کارڈ….مرحوم والدین کی طرف سے دعوت…آج ہمارے انتہائی پیارے دوست سید امجد حسین بخاری کے والدین اگر حیات ہوتے تو کتنے خوش ہوتے…بخاری صاحب نے زندگی کی تین دہائیاں گزار دیں، چوتھی دہائی میں آ کر شادی کے بندھن میں بندھ گئے ..دلی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انکی نئی شروعات کو کامیابی سے ہمکنار کرے، آمین

    سید امجد حسین بخاری کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں، صحافی بننے کا جنون انہیں لاہور لے آیا، میدان صحافت میں وہ معاشرے میں ہونے والی ناانصافیوں، زیادتیوں کا مقابلہ کرنے اور حق کا علم بلند کرنے کے لئے آئے،غائبانہ تعارف تو تھا ہی لیکن گزشتہ برس لاہور سے سوات سفر ایک ساتھ کیا اور تین دن ہمسفر رہے، وہ تین دن کا سفر ایسی "یاری” میں بدلا کہ اب شاید کوئی ہفتہ ایسا نہیں گزرتا جب چائے،کھانے پر ان سے ملاقات نہ ہو، بیٹھ جائیں تو گھنٹوں بیٹھ کو گپ شپ کرتے ہیں،اور کئی بار تو چائے کے بھی تین چار دور چل جاتے ہیں، میری طرح میٹھا کم اور پتی تیز چائے پینے والے چائے کے”نشئی” بھی ہیں،ہماری ملاقات اکثر ایسے ہی ہوتی..سر چائے…اور اگلے چند منٹوں بعد ساتھ بیٹھ کر چائے پی رہے ہوتے.

    سید امجد حسین بخاری سے جب بھی ملاقات ہوئی، مسکراتے چہرے کے ساتھ…انتہائی نفیس انسان، ہمدرد،اور انتہائی شریف بھی،باصلاحیت بھی،کبھی انکو”غصے” میں نہیں دیکھا،پروقار شخصیت،عمدہ بات چیت، مشکلات کو بھی خاموشی سے سہنے والے، دوسروں کی ہمیشہ مدد میں سب سے آگے رہنا انکا شیوہ ہے،وہ جس سے بھی ملتے ہیں پہلی ملاقات میں ہی "دوستی” کا نہ ٹوٹنے والے رشتہ قائم ہو جاتا،میں حیران ہوں کہ ہاسٹل میں جب بھی انکے پاس گیا ہر بار اک نیا چہرہ، نیا دوست ملا اور یوں اپنی دوستیوں کا سلسلہ بھی سید امجد حسین بخاری کے توسط سے ہی وسیع تر ہوتا چلا گیا،وہ اپنے دوستوں کو دوست سے زیادہ بھائیوں جیسی اہمیت دیتے ہیں،انکے دل میں دوستوں کے لئے "غیر معمولی تڑپ” نظر آتی ہے،اپنی نوکری گئی لیکن پریشان نہ ہوئے البتہ دوسرے بے روزگار دوستوں کے لئے ہروقت پریشان نظر آئے،زندگی میں دوست کی اہمیت کا اندازہ مشکل میں ہی ہوتا ہے، دوست وہی ہوتا ہے جو مشکل میں جان چھڑانے کی بجائے اپنوں سے بھی آگے ہو کر مضبوط سہارا بن کر ساتھ دے، سید امجد حسین بخاری ایسے ہی دوست ہیں جن کو خود سے زیادہ دوستوں کی فکر ہی رہتی ہے، اسی فکر میں انہوں نے تین دہائیاں‌گزار دیں اور اب کہیں چوتھی دہائی میں بھی ہماری بھابھی محترمہ کو بھی "بخاری صاحب ” کا دیدار نصیب ہو گیا جس کا بڑی شدت سے سب کو انتظار تھا.

    ہمارے دوست سید امجد حسین بخاری کی شادی کیسے طے پائی؟ دوستوں کی دعائیں ہی رنگ لائیں،خصوصی طو رپر برہان کی جو ابھی بھی شادی کے انتہائی شدت سے شادی کا لڈو کھانے کے لئے بیتاب ہیں،نکاح کی تقریب لاہور میں ہوئی تو ولیمہ آغوش شیخوپورہ میں رکھا گیا، آغوش جماعت اسلامی کے رفاہی ادارے الخدمت فاؤنڈیشن کا ادارہ ہے جس میں یتیم بچوں کی کفالت کی جاتی ہے، الخدمت فاؤنڈیشن کے ملک کے کئی شہروں میں "آغوش” موجود ہیں،جہاں یتیم بچوں کی تعلیم و تربیت کا مکمل خیال رکھا جاتا ہے،خوراک، صحت کی مفت سہولیات بھی انکے لئے میسر ہیں، مخیر حضرات کے تعاون سے الخدمت فاؤنڈیشن یہ پروگرام چلا رہی ہے، ملک بھر میں قائم الخدمت کے آغوش میں ہزاروں یتیم بچے مقیم ہیں، یتیم بچوں کی کفالت بلا شبہہ نیکی کا کام ہے اور اس خدمت کا بیڑہ الخدمت نے اپنے سر اٹھایا ہوا ہے، دعوت ولیمہ میں‌شرکت کے لئے لاہور سے دوستوں مخدوم اطہر صاحب، نوید شیخ، ندیم انجم کے ہمراہ نکلے اور شیخوپورہ میں قائم آغوش پہنچ گئے، آغوش شیخوپورہ کا رقبہ سترہ ایکڑ پر مشتمل ہےیہ جگہ شیخ افضل نے یتیم بچوں کے لئے وقف کی تھی،آغوش شیخوپورہ میں یتیم بچوں کے لئے رہائش کے ساتھ ساتھ تعلیم کا انتظام بھی کیا گیا ہے، سکول بھی آغوش میں ہی موجود ہے، جہاں دینی و دنیوی تعلیم دی جاتی ہے،آغوش مرکز میں مسجد بھی بنائی گئی ہے جہاں باجماعت نماز کی ادائیگی ہوتی ہے، بچوں کی جسمانی تربیت کے لئے پلے گراؤنڈ بھی بنایا گیا ہے جہاں انہیں کھیل کی سہولیات بھی میسر ہیں،الخدمت فاؤنڈیشن سے ملنے والی معلومات کے مطابق آغوش ادارے میں پانچ سال سے لے کر چودہ سال تک کے بچے رہائش پزیر ہیں، صبح بچے نماز کے وقت اٹھتے ہیں، باجماعت نماز کی ادائیگی کے بعد ناشتا اور اسکول کی تیاری کا مرحلہ ہوتا ہے۔ بعد ازاں بچے اسکول جاتے ہیں، ہر بچے کو دوسرے روز کپڑے تبدیل کرائے جاتے ہیں، اس کے علاوہ ہر بچے کو تولیہ، صابن، ٹوتھ پیسٹ، کنگھی، تیل اور ضروریات زندگی کی دیگر اشیاء فراہم کی جاتی ہیں،اسکول کے بعد بچوں کے لیے کھانے کا انتظام کیا جاتا ہے۔ دوپہر میں کچھ وقت آرام کے بعد بچے شام کی چائے پیتے اور کھیل کود میں وقت گزارتے ہیں جس کے بعد اساتذہ انھیں ہوم ورک کراتے ہیں،دن بھر کے اوقات میں پانچ باجماعت نمازیں پڑھائی جاتی ہیں جن میں درس قرآن اور درس حدیث بھی شامل ہوتے ہیں۔ رات کھانے کے بعد بچوں کو پینے کے لیے دودھ دیا جاتا ہے،بچوں کی حفظان صحت کے لیے ایک ڈاکٹر ہمہ وقت ادارہ میں موجود رہتا ہے جو بچوں کا باقاعدگی کے ساتھ معائنہ کرتا ہے.کھانے کے لئے ابھی ہفتہ وار مینو بنایا گیا ہے جس میں بچوں کو ناشتے و کھانے میں گوشت، قیمہ، پلاؤ سمیت مختلف ڈشز دی جاتی ہیں.

    ولیمہ کی تقریب میں مہمانوں کی آمد جاری تھی، دولہا سید امجد حسین بخاری دلہن کے ہمراہ مہمانوں سے قبل ہی مہمانوں کا انتظار کر رہے تھے، دعوت ولیمہ میں ترجمان جماعت اسلامی قیصر شریف، شمس الدین امجد، فرید رزاقی، کاشف بھٹی، خالد شہزاد فاروقی، سید بدر سعید، نورالہدیٰ، احمدبن ناصر، برہان ،شہزاد روشن گیلانی و دیگر بھی شریک ہوئے، دعوت ولیمہ میں خاص مہمان آغوش کے یتیم بچے تھے، ہال میں یتیم بچوں کو دیگر مہمانوں کے ہمراہ بٹھایا گیا، دولہا سید امجد حسین بخاری کالے رنگ کے پینٹ کورٹ میں ملبوس،چہرے پر مسکراہٹ سجائے مہمانوں سے مل رہے تھے وہیں کھانا شروع ہوا تو دولہا سید امجد حسین بخاری اٹھے اور بچوں کے میز پر جا کر دلہن کے ہمراہ انکو کھانا ڈال کر دینے لگے، چکن قورمہ، بریانی کے ساتھ مہمانوں کی تواضع کی گئی، اسی دوران یتیم بچوں میں دولہا اور دلہن نے گفٹ بھی تقسیم کئے.

    عموما شادی کی تقریبات میں فضول خرچی، بے جا اخراجات اور خواہ مخواہ کی رسومات دیکھنے میں‌ملتیں لیکن یہاں ہمارے دوست کی شادی کی تقریب انتہائی سادگی سے ہوئی، آغوش میں دعوت ولیمہ دے کر سید امجد حسین بخاری نے ایک عمدہ مثال قائم کر دی،تحریک لبیک کے امیر حافظ سعد حسین رضوی کی شادی ہوئی تھی تو انہوں نے بھی اپنا ولیمہ یتیم خانے کے بچوں کے ہمراہ کیا تھا، سید امجد حسین بخاری نے بھی اپنا دعوت ولیمہ آغوش میں کر کے نہ صر ف ولیمے کے شرکا بلکہ سب کو پیغام دیا کہ اپنی خوشیوں میں انکو بھی شریک کرنا چاہئے جن کے والدین اس دنیا میں نہیں، سید امجد حسین بخاری کے والدین کی بھی رب تعالیٰ مغفرت فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، آمین.

    امجد بخاری صاحب تو اب شادی شدہ افراد کی صف میں شامل ہو گئے،اب برہان کی باری ہے، دعا ہے جلد وہ بھی اپنے مشن میں کامیاب ہوں اور جلد انہیں بھی "گھر” والی مل جائے، آمین.

    شادی کے بعد امجد بخاری نے دعوت ولیمہ کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ 28اپریل کو میری اور سیدہ نجمہ گیلانی کی جانب سے دعوت ولیمہ کی سادہ مگر پروقار تقریب سجائی گئی، ہم دونوں نے اس تقریب میں کسی وی وی آئی پی شخصیت کو نہیں بلایا بلکہ ہمارے مہمان باہمت بچے تھے۔ ولیمہ کی تقریب کسی پرتعیش ہوٹل یا شادی ہال میں سجانے کی بجائے الخدمت کے آغوش ہال میں منعقد کی گئی۔ بیگم کی خواہش پر ہم دونوں نے بچوں کا استقبال خود کیا، ویٹر بن کر انہیں کھانا سرو کیا۔ یقین جانیں بچوں کی جانب سے ملنے والی دعائیں اور نیک خواہشات ہمیں ولی کامل کی مناجات سے زیادہ سکون دے رہی تھیں۔ انکی جانب سے ہمیں قرآن کا تحفہ اور پھول لاکھوں روپے کی سلامیوں سے زیادہ قیمتی لگے۔ اس تقریب کے دو ہی مقاصد تھے، پہلا مقصد باہمت بچوں کی حوصلہ افزائی کرنا جبکہ دوسرا مقصد ان 2کروڑ سے زائد نوجوانوں کی ہمت بڑھانا جوکہ مہنگائی کے طوفان میں شادیاں کرنے سے قاصر ہیں۔ اس تقریب کے انعقاد سے اگر کوئی ایک نوجوان جوڑا بھی فصول رسومات کیخلاف کھڑا ہو جاتا ہے تو یقینا یہ میری اور نجمہ کی کامیابی ہے۔

  • مزدور کے نام پر چھٹی لیکن مزدور اج بھی کام پر۔۔

    مزدور کے نام پر چھٹی لیکن مزدور اج بھی کام پر۔۔

    مزدور کے نام پر چھٹی لیکن مزدور اج بھی کام پر۔۔
    تحریر:میاں عدیل اشرف
    ہر سال یکم مئی کو پاکستان میں مزدور کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ بد قسمتی اس دن سوائے مزدور کے سب کو چھٹی ہوتی ہے۔ اور غریب مزدور اپنی اجرت حاصل کرنے کے لیے کام پر جاتا ہے۔ جب سے پاکستان بنا ہے بہت سی حکومتیں بنتی اور ختم ہو تی رہیں لیکن غریب مزدوروں کے حالات کوئی نہیں بدل سکے۔

    آئے روز پاکستان میں مہنگائی بڑھتی جا رہی اور تمام تر اشیاء مزدور کی اجرت سے مہنگی ہو چکی ہیں۔ غریب مزدور کا اپنی اجرت میں خود کا اور بچوں کا پیٹ پالنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔ غریب مزدورں کو کوئی پوچھنے والا نہیں، بڑے بڑے کاروباری لوگ، بیوروکریٹس، آفیسرز ہر کوئی یکم مئی کو چھٹی پر ہوتے ہیں، اپنے بچوں کیساتھ سیر کرتے، مختلف کھانے پکا کے کھاتے ہیں، لیکن بد قسمتی سے جس غریب مزدور کے نام پر چھٹی کی جاتی وہ اپنی اجرت حاصل کرنے کے لیے کام کرنے جاتا ہے۔

    مزدور اگر چھٹی کرے تو وہ خود بھی بھوکا رہے گا اور اس کے بچے بھی۔ اس لیے حکومت وقت کو چاہیے مکارانہ طور پر مزدوروں کی اجرت میں اضافے کے جھوٹے دعوے کرنے کی بجائے ملک میں مہنگائی کم کریں، روز مرہ اشیاء سستی کریں، تاکہ مزدور اپنی اجرت میں باآسانی اپنا گزر بسر کر سکے، خود کا اور اپنے بچوں کا پیٹ پال سکے، اپنے بچوں کو تعلیم دلا سکے.

    مزدور بھی اپنے بچوں کو اس مقام پرپہنچا سکے جہاں وہ خود نہیں پہنچ سکا۔ جب مزدور کو اس کی اجرت کیمطابق ہر چیز مہیا ہو گی تو وہ خوشحال بھی ہو گا اور کچھ رقم بچوں کے مستقبل کے لیے بچا سکے گا۔ اور جس ملک کے مزدور خوشحال ہوں وہ ملک ترقی کے سفر میں کبھی ناکام نہیں ہوتا۔

  • شرمندگی آداب رسومات کے باعث

    شرمندگی آداب رسومات کے باعث

    شرمندگی آداب رسومات کے باعث
    ازقلم غنی محمود قصوری
    گذشتہ دن میڈیا پرایک رپورٹ آئی جس کے مطابق اس وقت پاکستان میں 1 کروڑ عورتوں کی تعداد ایسی ہے جو کہ 35 سال سے زیادہ عمر کی ہو چکی ہیں اور ان کی ابھی تک شادی نہیں ہوئی

    بطور ایک مسلمان ملک یہ بہت حیرت و تشویش والی بات ہے کہ اتنی عمر میں بھی نکاح نا ہو سکنا کس قدر غلط اور خطرناک ہے،آئیے پہلے ہم بات کرتے ہیں پاکستان کی آبادی پر

    اس وقت پاکستان کی کل آبادی تقریباً ساڑھے 24 کڑور کے قریب ہے جس میں مردوں کی تعداد 51 فیصد،عورتوں کی تعداد 48.76 فیصد اور خواجہ سراؤں کی تعداد 0.24 فیصد ہےیعنی اعداد و شمار کے مطابق 100 خواتین واسطے 105 مرد موجود ہیں

    اس وقت پاکستان کی کل آبادی کا 64 فیصد 30 سال سے کم عمر جوانوں پرمشتمل ہے ، 20 فیصد کی عمریں 15 اور 25 سال کے درمیان ہیں یعنی وہ نوجوان ہیں،اس کے باوجود 36 فیصد خواتین کنواری بیٹھی ہیں جو کہ بہت تشویش کی بات ہے

    اس کے بعد بہت زیادہ تعداد بیوہ اور طلاق یافتہ عورتوں کی ہے کہ دوسری شادی نا کرسکی کہ جن کا اسلامی و قانونی حق ہے دوسری شادی کرنا مگر ان کو ان کا حق نہیں ملتا اور وہ دوسروں پر بوجھ بن کر زندہ رہتی ہیں

    جوان مرد و عورت کے کنوارے رہنے کا نتیجہ معاشرے میں زناء کی صورت میں نکلتا ہے اور زناء ایسا قبیح فعل ہے جس سے معاشرے میں فسق و فجور کیساتھ نت نئی بیماریاں جنم لیتی ہیں اور معاشرے میں بے حیائی کیساتھ بربادی و تنزلی کا طوفان آتا ہے

    اب سوچئے کہ 1 کروڑ عورتیں جن کی شادی کی اصل عمر بھی گزر چکی وہ ہر روز کس قرب و اذیت سے گزرتی ہونگیں؟

    آج کے حالات تو ہم نے رسم و رواج کے تابع ہو کر یہ بنا لئے کہ نوجوان لڑکیوں کی شادی بہت بڑا مسئلہ بن چکا ہے جس کے باعث والدین کو نیند نہیں آتی اور سوچ سوچ کر کئی والدین خودکشی کر لیتے ہیں تو وہاں ان بڑی عمر کی خواتین سے کون شادی کرے گا؟

    در اصل ہمارے معاشرے کی بربادی کا آغاز دین سے دوری سے ہوا اور دین سے دوری کے باعث ہم نے رسم و رواج کو پروان چڑھا کر اپنے حلال کاموں کو مشکل بنا لیا جس میں سے ایک اہم ترین فرضی کام نکاح بھی ہے
    نکاح اس قدر اہم ہے کہ اس بابت حدیث رسول ہے

    "من قدر علی أن ینکح فلم ینکح فلیس منا "
    ترجمہ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:،جو شخص قدرت نکاح کے باوجود نکاح (شادی) نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں
    یعنی اس کا نبی کریم صلی اللہ علیہ اور دین اسلام سے کوئی تعلق ہی نہیں

    آج نکاح بہت مشکل ہو چکا ہے
    غریب بندہ بھی دس لاکھ تک لڑکی کی شادی کر پاتا ہے،سب سے بڑی لعنت جہیز ہے پھر اس کے بعد دیگر فضول رسم و رواج کہ جن کا دین اسلام سے دور کا بھی کوئی تعلق نہیں

    دوسرا سب سے بڑا المیہ ہماری بے جا ذاتی خواہشات ہیں
    جیسے کہ ہر لڑکے کو بہت خوبصورت،پڑھی لکھی اور جوان لڑکی چائیے اور اسی طرح ہر لڑکی کو خوبصورت ،پڑھا لکھا اور بہت پیسے والا مرد چائیے جس کے باعث زیادہ تر لڑکیاں شادی سے محروم رہ جاتی ہیں کیونکہ اکثر مردوں کو بڑی عمر میں بھی کم عمر لڑکیاں مل جاتی ہیں اور ان کا گھر بس جاتا ہے مگر اس کے برعکس بڑی عمر کی عورت کو کم عمر مرد قبول نہیں کرتا ،ہاں اگر بڑی عمر کی عورت کے پاس پیسہ ہو تو پھر وہ عورت حور لگتی ہے مطلب محبت عورت سے نہیں پیسے سے ہے

    شادی کرتے وقت بطور مسلمان ہمیں اس حدیث کی رو سے یہ حکم ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نکاح کے ذریعے دولت تلاش کرو

    جگہ ارشاد ربانی ہے کہ تم میں سے جو مرد و عورت بے نکاح ہوں ان کا نکاح کر دو اور اپنے نیک بخت غلام لونڈیوں کا بھی، اگر وہ مفلس بھی ہوں گے تو اللہ تعالی انہیں اپنے فضل سے غنی بنا دے گا ،اللہ تعالی کشادگی والا علم والا ہے، النور 32

    یعنی اسلام نے نکاح کے ذریعے سے امیر ہونے کا طریقہ بتایا اور ہم نے لالچ میں اسے پس پشت ڈال کر جہیز کی لالچ میں نکاح کو مشکل بنا لیا
    جبکہ حکم ہمیں ہے دینداری دیکھنے کا اور ہم نے حسن و جمال کیساتھ اعلی خاندان و پیسے کو حجت بنا لیا

    ہماری عادت ہے کہ ہم مارکیٹ سے کوئی چیز خریدنے جائیں تو مطلوبہ برینڈ کی چیز اگر میسر نہیں تو اس کے متبادل کوئی اور چیز خرید لیتے ہیں،اگر اس چیز میں کوئی کمی کوتاہی ہو بھی تو ہم اس چیز کو ضائع نہیں کرتے بلکہ اس سے کام لیتے ہیں اور گزارہ کرتے ہیں مگر نکاح کے معاملات میں ہمارا یہ حال ہے کہ رشتہ دیکھنے جاتے وقت ہماری ڈیمانڈز پوری نا ہو تو ہم جواب دے دیتے ہیں اور ساری زندگی اسی طرح اپنے لئے دیکھتے دکھاتے گزار دیتے ہیں مگر کسی کی بیٹی سے گزارہ نہیں کر پاتے

    اگر کوئی مرد و عورت ایسا کر بھی لے تو کچھ عرصہ بعد نوبت طلاق تک پہنچ جاتی ہے اور پھر طلاق یافتہ مرد و عورت خاص طور پر عورت زمانے کی نظروں میں بیکار ہو جاتی ہے اور بقیہ زندگی ماں باپ،بہن بھائیوں کی چوکھٹ پر بوجھ بن کر گزار دیتی ہے

    یہی ہماری اخلاقی،سماجی،اسلامی زوال کا اصل سبب ہے،دوسرا بڑا مسئلہ دوسری،تیسری اور چوتھی شادی کو جرم قرار دینا ہے

    سوچیئے اگر جو مرد قدرت و طاقت رکھتے ہیں وہ دوسری یا اس سے زیادہ شادی اسلام کی رو سے کرنا شروع کر دیں تو کیا پاکستان میں کنواری بیٹھی 1 کروڑ عورتیں بیاہی نا جائیں گیں؟
    جی بالکل مگر یہاں بھی سب سے بڑی رکاوٹ عورت کے راستے میں عورت ہے اور وہ عورت یہ ڈکٹیشن فلموں اور ڈراموں سے لیتی ہے
    اگر ہم نے نکاح کو عام کرنا ہے تو ان فضول رسموں کو ختم کرکے اسلامی طریقہ اپنانا ہو گا بصورت دیگر بن بیاہی 1 کروڑ عورتوں کی بدعائیں نا تو ہمارے گھروں میں خوشحالی آنے دینگیں نہ ہی ہمارے اعمال میں برکت ہوگی،

  • اسحاق ڈار نائب وزیراعظم بن گئے،اک تجزیہ

    اسحاق ڈار نائب وزیراعظم بن گئے،اک تجزیہ

    اسحاق ڈار نائب وزیراعظم بن گئے،اک تجزیہ

    ایک تزویراتی سیاسی اقدام کے طور پر مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے اسحاق ڈار کو نائب وزیر اعظم کا باوقار عہدہ عطا کیا ہے، جس سے انتظامیہ کے اندر ایک قابل اعتماد شخص کے طور پر ان کے کردار کو تقویت ملی ہے۔ یہ اہم تقرری پارٹی کے صدر کے طور پر نواز شریف کے دوبارہ متحرک ہونے کی عکاسی کرتی ہے، جو پارٹی کے اندرونی حلقے میں مضبوط ہونے کی نشاندہی کرتی ہے۔

    سعودی عرب میں ورلڈ اکنامک فورم کے خصوصی اجتماع میں شرکت کے دوران اسحاق ڈار کا اپنے نئے کردار میں ابتدائی قدم انہیں عالمی سطح پر لے جاتا ہے۔ یہ تبدیلی ان کے گزشتہ دور میں وزیر خزانہ کی حیثیت سے شاندار کارکردگی کے بعد آئی ، موجودہ حکومت میں اسحاق ڈار کو وزارت خارجہ دی گئی تھی، اسحاق ڈار کی اب بطور نائب وزیراعظم تقرری کے بارے میں قیاس آرائیوں سے پتہ چلتا ہے کہ یہ مسلم لیگ (ن) کے اقتدار سنبھالنے سے پہلے ہی طے ہو چکا تھا

    تاہم یہ بات قابل غور ہے کہ آئین واضح طور پر نائب وزیر اعظم کے عہدے کی وضاحت نہیں کرتا ۔ 2012 میں مسلم لیگ (ق) کے رہنما اور موجودہ پی ٹی آئی کے رہنما پرویز الٰہی 2012 میں نائب وزیراعظم کے عہدے پر رہ چکے ہیں،سیاسی مصلحت کے لیے یا پسندیدہ افراد کو نوازنے کے لیے ایسے کرداروں کی تشکیل قانونی اصولوں اور آئینی اصولوں سے متصادم ہے۔

    نائب وزیر اعظم کے کردار کو جلد متعارف کرانے کا فیصلہ شہباز شریف حکومت پر بری طرح جھلکتا ہے،جو ممکنہ طور پر ان کے اختیارات کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ آیا شہباز شریف اور اسحاق ڈار کے درمیان تناؤ پیدا ہوگا یا نہیں کیونکہ مؤخر الذکر اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے

    روایتی طور پر وزیر خزانہ کے دائرہ اختیار میں، مالیاتی معاملات کے حوالے سے ممکنہ تنازعات پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ شہباز شریف کی جانب سے اسحا ق ڈار کی جگہ پر محمد اورنگزیب کو وزارت خزانہ میں تعینات کرنے کے باوجود، اورنگزیب کی قبولیت کی شرائط خود مختاری کی خواہش کا اشارہ دیتی ہیں۔ مالی معاملات پر اسحاق ڈار کی مداخلت کے بارے میں وہ کس طرح ردعمل ظاہر کرتے ہیں اس سے انتظامیہ کے اندر کی حرکیات کا تعین ہو سکتا ہے۔

    ان پیش رفتوں کے بارے میں عوامی تاثر سازگار سے کم ہے، بہت سے لوگ انہیں اقربا پروری اور پاکستان کے اہم چیلنجوں سے نمٹنے میں سنجیدگی کی کمی کے طور پر دیکھتے ہیں،اور سیاسی چالبازی کے بجائے بنیادی تبدیلی کی خواہش کی نشاندہی کرتے ہیں۔

  • ساتواں بڑا زرعی ملک اور   ذخیرہ اندوز بھی

    ساتواں بڑا زرعی ملک اور ذخیرہ اندوز بھی

    ساتواں بڑا زرعی ملک اور ذخیرہ اندوز بھی
    از قلم غنی محمود قصوری

    ارض پاک پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور گندم پیدا کرنے والا دنیا کا ساتواں بڑا ملک بھی جبکہ پاکستان کی سب سے بڑی غذائی فصل گندم ہے اس کے علاوہ اور بھی فصلیں کاشت کی جاتی ہیں

    پاکستان کل رقبہ تقریباً 19 کروڑ 67 لاکھ 20 ہزار 290 ایکڑ ہے جس میں سے 5 کروڑ 60 لاکھ 43 ہزار 414 ایکڑ زرعی رقبہ ہے جبکہ 1 کروڑ 12 لاکھ 43 ہزار 277 ایکڑ رقبہ جنگلات پر مشتمل ہے ، زیر کاشت رقبہ تقریباً 2 کروڑ 10 لاکھ ایکڑ ہے ،ہمارے ہاں گندم زیر کاشت رقبہ کے 80 فیصد پر کاشت کی جاتی ہے

    ہمارے کل جی ڈی پی میں سے زراعت 22 فیصد ہے اور مجموعی افرادی قوت 44 فیصد شعبہ زراعت سے منسلک ہے جبکہ ہماری کل آبادی کا تقریباً 60 سے 70 فیصد حصہ زراعت کیساتھ منسلک ہے،اسی لئے زراعت پاکستان میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے

    اس وقت ارض پاک میں گندم کی کٹائی کا سیزن چل رہا ہے،کچھ علاقوں میں گندم کی مکمل کٹائی ہو چکی ہے

    گذشتہ سال گندم کی پیدوار 2 کروڑ 68 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی تھی جس میں اس سال مزید اضافے کا امکان ہے،مگر اس ساری صورتحال کے پیش نظر نا تو کسان خوش ہے نا ہی گندم خریدنے والے عام شہری جس کی ساری وجہ مس مینجمنٹ اور ذخیرہ اندوزی ہے

    ذخیرہ اندوزی تو وہی کرے گا جس کے پاس سال بھر کا گھریلوں خرچ موجود ہوتا ہے جس بیچارے غریب کسان کے پاس ایک مہینہ خرچ کے پیسے موجود نہیں وہ کیا ذخیرہ اندوزی کرے گاذخیرہ اندوزی نے ہمارے ملک کا برا حال کرکے رکھ دیا ہے،ضرورتِ زندگی کی کوئی بھی چیز ہو بلیک مارکیٹنگ مافیا متحرک ہو جاتا ہے اور مارکیٹ سے چیز غائب کرکے اپنی من مانی قیمتوں پہ فروخت کرتا ہے

    یہی صورتحال گندم کیساتھ ہے،غریب کسان بیچارے تو باہر کھیتوں سے ہی فصل بیچ دیتے ہیں تاکہ گھر کا خرچ چل سکے جب بڑے بڑے کسان گندم اپنے گوداموں میں ذخیرہ کر لیتے ہیں اور اس وقت بیچتے ہیں جب لوگ گندم نا ملنے کے باعث مہنگے داموں خریدنے پہ مجبور ہو جاتے ہیں
    حکومت وقت کی ذمہ داری ہے کہ ذخیرہ اندوزی کو رکوے اور ایسے لوگوں کو سخت سزا دے ،کیونکہ ذخیرہ اندوزی قانون پاکستان کی رو سے بھی جرم ہے اور اسلام کی رو سے بھی قابل تعزیر جرم ہے

    اسلام میں ذخیرہ اندوزی کی سخت ممانعت کا اندازہ ہم اس حدیث رسول سے لگاتے ہیں،جس نے چالیس دن تک ذخیرہ اندوزی کی وہ اللہ سے بری ہو گیا اور اللہ تعالیٰ اس سے بری ہو گیا اور کسی حویلی میں اگر ایک شخص بھوکے رات گزارے تو ان تمام (حویلی والوں) سے اللہ کا ذمہ بری ہو گیا اور وہ اللہ سے بری ہو گئے، (یعنی وہ اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق ختم کر بیٹھے)المستدرک 2165

    جبکہ ایک اور حدیث میں ہے کہ

    جو شخص مسلمانوں میں گراں فروشی کے لیے ، ان کے نرخوں میں اضافہ کی کوشش کرے تو یہ اللہ پر یہ حق ہے کہ اس کو جہنم کے بڑے گڑھے میں اوندھے منہ پھینک دے ،المستدرک 2168
    درج بالا دونوں حدیثوں سے ذخیرہ اندوزی اور گراں فروشی کی ممانعت کا اندازہ ہوتا ہے

    حکومت وقت پرفرض ہے کہ ذخیرہ اندوزی اور گراں فروشی کرنے والوں کو سخت سے سخت سزائیں دے تاکہ غریب دیہاڑی مزدور اورعام لوگ سکون کی روٹی کھا سکیں، بصورت دیگر جب باوجود محنت کے انسان سکون کی روٹی نہیں کھا سکتا تو وہ جرائم کا ارتکاب کرتا ہے

    اگر پاکستان میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانا ہے تو دیگر جرائم پر قابو پانے کے ساتھ ذخیرہ اندوزی پر زیادہ طاقت اور سختی سےقابو پانے کی ضرروت ہے.