Baaghi TV

Category: بلاگ

  • باغی ٹی وی،کھری صحافت کا امین،تحریر: جان محمد رمضان

    باغی ٹی وی،کھری صحافت کا امین،تحریر: جان محمد رمضان

    صحافت اگر سچ کی تلاش کا نام ہے تو باغی ٹی وی اس تلاش کا وہ روشن چراغ ہے جو گزشتہ چودہ برس سے اندھیروں میں بھی روشنی بانٹ رہا ہے۔ باغی ٹی وی درحقیقت ایک فکری تحریک ہے، جو جراتِ اظہار، حق گوئی اور بے باک صحافت کی علامت بن چکی ہے۔باغی ٹی وی کی بنیاد اس عزم پر رکھی گئی کہ خبر کو خبر ہی رہنے دیا جائے، اس پر مصلحتوں کی گرد نہ جمنے دی جائے۔ سینئر صحافی اور معروف اینکر پرسن مبشر لقمان کی قیادت میں اس ادارے نے وہ مقام حاصل کیا جس کا خواب ہر میڈیا ہاؤس دیکھتا ہے مگر حاصل چند ہی کر پاتے ہیں۔ مبشر لقمان کی صحافتی بصیرت، جرات مندانہ سوالات اور دو ٹوک انداز نے باغی ٹی وی کو عوام کی آواز بنا دیا۔

    باغی ٹی وی نے ہمیشہ سچ کو ترجیح دی، چاہے اس کی قیمت تنقید ہو یا دباؤ۔ اس پلیٹ فارم نے ثابت کیا کہ حق کی راہ مشکل ضرور ہے مگر یہی راہ تاریخ میں زندہ رہتی ہے۔ چودہ برس کا یہ سفر قربانی، استقامت اور عوامی اعتماد کی داستان ہے۔آج جب باغی ٹی وی اپنے قیام کے 14 سال مکمل کر رہا ہے تو یہ اس عہد کی تجدید ہے کہ سچ کہا جائے گا، سچ دکھایا جائے گا اور سچ کے ساتھ کھڑا رہا جائے گا۔باغی ٹی وی کو خراجِ تحسین کہ اس نے صحافت کو کاروبار نہیں بلکہ ذمہ داری سمجھا۔باغی ٹی وی کو سلام کہ اس نے ہمیشہ ظالم اور ظلم کے خلاف بغاوت کرنا سکھایا۔اور باغی ٹی وی کو مبارک ہو کہ وہ چودہ برس بعد بھی اسی جرات، اسی وقار اور اسی سچ کے ساتھ کھڑا ہے۔دعا ہے باغی ٹی وی کا یہ سفر یونہی جاری رہے۔

  • باغی ٹی وی، چودہ برس، سچ کا سفر اور میرا فخر،تحریر:نورفاطمہ

    باغی ٹی وی، چودہ برس، سچ کا سفر اور میرا فخر،تحریر:نورفاطمہ

    آج کا دن میرے لیے شکر، فخر اور یادوں سے لبریز ایک مکمل داستان ہے۔ باغی ٹی وی کی 14ویں سالگرہ کا یہ موقع میرے دل میں خوشی کی ایسی لہر پیدا کر رہا ہے جسے لفظوں میں سمیٹنا آسان نہیں۔ یہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے کہ گزشتہ تین برسوں سے میں اس باوقار، متحرک اور جرأت مند ادارے کا حصہ ہوں۔ یہ سفر صرف ایک پروفیشنل کامیابی، ایک ایسا ذاتی تجربہ ہے جس نے میرے شعور، اعتماد اور کیریئر تینوں کو نئی جہت عطا کی۔

    مجھے آج بھی وہ دن یاد ہے جب میں پہلی مرتبہ باغی ٹی وی کے دفتر میں انٹرویو کے لیے داخل ہوئی تھی۔ دل میں بے شمار سوالات، آنکھوں میں خواب اور ذہن میں ہلکی سی گھبراہٹ تھی۔ مگر جیسے ہی سینئر صحافی اور باغی ٹی وی کے سی ای او، محترم مبشر لقمان صاحب سے ملاقات ہوئی، وہ تمام خدشات پل بھر میں تحلیل ہو گئے۔ ان کی شخصیت کا وقار، گفتگو کی شائستگی اور پروفیشنل انداز ایسا تھا کہ چند لمحوں میں ہی ایک گہرا اثر چھوڑ گیا۔ مختصر مگر بامعنی انٹرویو کے بعد جب ایڈیٹر باغی ٹی وی، سر ممتاز اعوان کی جانب سے یہ خوشخبری ملی کہ میری جاب کنفرم ہو چکی ہے، تو وہ لمحہ میرے لیے کسی خواب کی تعبیر سے کم نہ تھا۔ میں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ ایک دن میں اس قدر معتبر اور جرأت مند میڈیا ہاؤس کا حصہ بنوں گی۔

    میری شمولیت باغی ٹی وی کی سوشل میڈیا ٹیم میں ہوئی، جو میرے لیے باعثِ فخر بھی تھی اور ایک چیلنج بھی۔ فیس بک، ٹوئٹر (ایکس)، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر باغی ٹی وی کے لنکس اور پوسٹرز کی شیئرنگ میری بنیادی ذمہ داری تھی، جسے میں نے ہمیشہ محنت، دیانت اور لگن کے ساتھ نبھایا۔ میرے کام کو دیکھتے ہوئے جلد ہی مجھ پر مزید اعتماد کیا گیا اور سوشل میڈیا کے لیے پوسٹر ڈیزائن کرنے کی ذمہ داری بھی میرے سپرد کر دی گئی۔ اس مرحلے پر مجھے سیکھنے کے بے شمار مواقع ملے، خصوصاً سوشل میڈیا کے ہیڈ سر عبداللہ کی رہنمائی میرے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوئی۔ ان کی بصیرت، مشورے اور حوصلہ افزائی نے نہ صرف میری کارکردگی کو نکھارا بلکہ مجھے ڈیجیٹل میڈیا کی دنیا میں ایک نئی شناخت بھی عطا کی۔

    اگرچہ میں پہلے بھی ایک سوشل میڈیا ایکٹوسٹ تھی، مگر باغی ٹی وی میں آنے کے بعد اس شعبے کو عملی طور پر سمجھنے اور برتنے کا موقع ملا۔ یہاں دن اور رات کی قید نہیں، وقت کی کوئی دیوار نہیں،صرف خبر، سچ اور ذمہ داری ہے۔ باغی ٹی وی کی ٹیم کی محنت، لگن اور مستعدی واقعی قابلِ رشک ہے۔ جب بھی کوئی اضافی ذمہ داری سامنے آئی یا کوئی مشکل مرحلہ آیا، میں نے اسے اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے دل و جان سے نبھایا، کیونکہ یہاں کام صرف نوکری نہیں بلکہ ایک مشن ہے۔محترم مبشر لقمان صاحب کے وی لاگز میں پہلے ہی شوق سے دیکھتی اور ان پر اپنی رائے کا اظہار کرتی تھی۔ مگر جب انہی کی ٹیم کا باقاعدہ حصہ بنی تو یہ لمحہ میرے لیے فخر اور سعادت کا استعارہ بن گیا۔ ان کی قیادت، بے باکی، فکری پختگی اور اصول پسندی نے مجھے ہمیشہ متاثر کیا ہے۔ ان کے ساتھ کام کرنا میرے خوابوں کی تعبیر ہے، اور میں آج بھی ان کی رہنمائی کو اپنے لیے باعثِ اعزاز سمجھتی ہوں۔

    آج، باغی ٹی وی کی 14ویں سالگرہ کے اس مبارک موقع پر، میں دل کی گہرائیوں سے محترم مبشر لقمان صاحب اور باغی ٹی وی کی پوری ٹیم کو مبارکباد پیش کرتی ہوں۔ میری دعا ہے کہ یہ ادارہ دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کرے، سچ کی آواز بن کر ہمیشہ سربلند رہے اور اپنے مشن و مقصد میں مزید کامیابیاں سمیٹے۔ آمین۔یہ سفر ابھی جاری ہے۔ جذبہ وہی ہے، عزم پہلے سے زیادہ مضبوط اور حوصلہ مزید بلند۔ باغی ٹی وی کے 14 سال مکمل ہونے پر ایک نیا ولولہ، نئی امید اور نیا عہد دل میں جاگ اٹھا ہے۔ دعا ہے کہ یہ ادارہ ہمیشہ اپنے اصولوں، نظریات اور وژن پر قائم رہتے ہوئے کامیابی کی بلند ترین چوٹیوں کو چھوتا رہے۔

  • علماء کرام کیلئے الاؤنس ،مریم نواز کا باوقار،تاریخی فیصلہ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    علماء کرام کیلئے الاؤنس ،مریم نواز کا باوقار،تاریخی فیصلہ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    علماء کرام کے لیے الاؤنس مریم نواز کا باوقار اور تاریخی فیصلہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے علماء کرام کے لیے سرکاری خزانے سے ماہانہ الاؤنس کا اعلان ایک ایسا فیصلہ ہے جسے محض ایک فلاحی اقدام کہنا اس کی اہمیت کو کم کرنا ہوگا۔ درحقیقت یہ قدم ریاست اور مذہبی طبقے کے درمیان ایک نئے، باوقار اور ذمہ دارانہ تعلق کی بنیاد رکھتا ہے جو ماضی میں کم ہی دیکھنے میں آیا۔ علماء کرام صدیوں سے پاکستانی معاشرے کی اخلاقی، دینی اور سماجی تربیت میں مرکزی کردار ادا کرتے آئے ہیں۔ مساجد میں امامت، خطابت، دینی تعلیم، نکاح، جنازہ، اصلاحِ معاشرہ اور عوامی رہنمائی جیسے فرائض انجام دینے والے یہ افراد عملاً ریاست کے غیر اعلانیہ سماجی خدمت گار رہے ہیں، مگر بدقسمتی سے ان کی معاشی مشکلات کو اکثر نظرانداز کیا جاتا رہا۔ ایسے میں مریم نواز کا یہ فیصلہ ایک دیرینہ محرومی کا ازالہ ہے۔ یہ اقدام اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ معاشرتی استحکام صرف سڑکوں، پلوں اور عمارتوں سے نہیں آتا بلکہ ان افراد سے آتا ہے جو اخلاقیات، برداشت اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دیتے ہیں۔ علماء کرام کو معاشی تحفظ دینا دراصل مساجد کے نظام کو مضبوط بنانا، دینی تعلیم کو باوقار بنانا اور انتہاپسندی کے مقابل اعتدال پسند بیانیے کو تقویت دینا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ فیصلہ کسی سیاسی نعرے یا وقتی فائدے کے بجائے ایک سوچے سمجھے وژن کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔ مریم نواز نے اس تاثر کو بھی توڑا ہے کہ جدید حکمرانی اور دینی طبقہ ایک دوسرے کے مخالف ہیں۔ یہ قدم ثابت کرتا ہے کہ ترقی، فلاح اور دینی اقدار ایک ساتھ چل سکتی ہیں۔ البتہ اس پالیسی کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ اس پر عملدرآمد شفاف، منصفانہ اور بلاامتیاز ہو۔

    اگر اس فیصلے کو سیاسی وابستگیوں سے بالاتر رکھ کر مستقل بنیادوں پر جاری رکھا گیا تو یہ نہ صرف پنجاب بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قابلِ تقلید ماڈل بن سکتا ہے۔ بلاشبہ علماء کرام کے لیے الاؤنس کا یہ اعلان مریم نواز شریف کے دورِ حکومت کا ایک نمایاں اور مثبت باب ہے، جو ریاستی ذمہ داری، سماجی شعور اور قومی اقدار کے احترام کی عکاسی کرتا ہے۔ ایسے اقدامات ہی عوام اور ریاست کے درمیان اعتماد کی مضبوط بنیاد بنتے ہیں۔ یاد رہے مریم نواز شریف کے دادا میاں محمد شریف علماء اکرام کا بے حد احترام کرتے تھے، اور دینی اداروں کو معاشرے کی اخلاقی بنیاد سمجھتے تھے، مریم نواز شریف کی جانب سے علماء اکرام کے لیے الاؤنس کا حالیہ فیصلہ دراصل اسی خاندانی روایت کا تسلسل ہے جسکی بنیاد میاں محمد شریف مرحوم نے رکھی تھی۔

  • ہیلمٹ اور غیر مہذب رویہ

    ہیلمٹ اور غیر مہذب رویہ

    ہیلمٹ اور غیر مہذب رویہ
    تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ
    کسی بھی مہذب معاشرے اور مہذب قوم کے لئے ضروری ہے کہ وہ ریاستی قوانین پر عمل درآمد کریں اور ریاست کا بھی فرض ہے وہ اپنی عوام کو بنیادی سہولیات مہیا کرے۔

    آئیں آج ہم ہیلمٹ اور ٹریفک قوانین پر تفصیلی بحث کرتے ہیں۔ ہم روزانہ سوشل میڈیا پر ہیلمٹ اور جرمانوں کی ذکر سنتے ہیں اور کچھ تو دکھ بھری کہانی ہوتی ہیں۔ آئیں ایک جائزہ پیش کرتے ہیں۔

    پنجاب میں جب سے محترمہ وزیرِ اعلیٰ نے ٹریفک قوانین پر سختی اور ہیلمٹ کے استعمال کو لازمی قرار دیا ہے، تب سے سڑکوں پر ایک عجیب منظر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ہر چوک، ہر ناکے پر ٹریفک اہلکار، ہر موٹر سائیکل سوار مشکوک، اور ہر شہری خوف میں مبتلا دکھائی دیتا ہے۔ روزانہ مقامی اور سوشل میڈیا پر بھاری جرمانوں، موٹر سائیکلوں کی بندش، گرفتاریوں اور مبینہ رشوت کی داستانیں گردش کر رہی ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اچانک پورا صوبہ ہی قانون شکن قرار دے دیا گیا ہو۔

    یہ بات طے ہے کہ ہیلمٹ پہننا نہ صرف قانونی تقاضا ہے بلکہ انسانی جان کے تحفظ کے لیے ناگزیر بھی ہے۔ اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ سوال مگر یہ ہے کہ قانون نافذ کرنے کا طریقہ کیا ہونا چاہیے؟

    کیا قانون کا مقصد اصلاح ہے یا خوف؟
    کیا ریاست شہری کو ساتھ لے کر چلنا چاہتی ہے یا صرف جرمانوں کے ذریعے آمدن بڑھانا؟

    پاکستان موٹر وہیکل آرڈیننس اور پنجاب موٹر وہیکل رولز کے تحت موٹر سائیکل سوار کے لیے ہیلمٹ پہننا لازمی ہے اور خلاف ورزی پر جرمانہ بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن یہی قانون یہ بھی سکھاتا ہے کہ نفاذ مرحلہ وار، شفاف اور عوام دوست ہونا چاہیے۔ دنیا کے مہذب معاشروں میں قانون اچانک لاگو نہیں کیا جاتا بلکہ پہلے آگاہی دی جاتی ہے، تشہیری مہم چلائی جاتی ہے، ڈیڈ لائن دی جاتی ہے اور اس کے بعد سختی کی جاتی ہے۔

    ہم نے حالیہ برسوں میں دیکھا کہ غیر قانونی مقیم افغان باشندوں کو متعدد بار اعلانات، مہلت اور واضح ڈیڈ لائن دی گئی۔ حکومتی سطح پر میڈیا مہم چلی، پھر جا کر عمل درآمد ہوا۔ اگر پنجاب حکومت واقعی ٹریفک نظام میں انقلاب لانا چاہتی ہے تو یہی طریقہ یہاں کیوں اختیار نہیں کیا گیا؟ کیوں عوام کو پہلے سے یہ نہیں بتایا گیا کہ فلاں تاریخ تک ہیلمٹ، نمبر پلیٹ اور کاغذات مکمل کر لیں، اس کے بعد سخت کارروائی ہو گی؟

    اصل مسئلہ یہ ہے کہ قصور ہمیشہ عوام کا ہی ٹھہرا دیا جاتا ہے، جبکہ ریاستی نظام کی خامیوں پر کوئی بات نہیں کرتا۔ آج بھی ایکسائز ڈیپارٹمنٹ میں رجسٹریشن، ٹرانسفر اور نمبر پلیٹ کے معاملات غیر شفاف ہیں۔ جعلی اور فینسی نمبر پلیٹس کھلے عام استعمال ہو رہی ہیں۔ کالے شیشے، فلیشر لائٹس اور پولیس کلچر عام ہے۔ نان کسٹم گاڑیاں سڑکوں پر دوڑ رہی ہیں۔ ٹریفک سگنلز یا تو خراب ہیں یا موجود ہی نہیں۔ اسپیڈ بریکر سائنسی اصولوں کے بغیر بنے ہیں۔ اسکولوں، ہسپتالوں اور سرکاری دفاتر کے سامنے سائن بورڈز کا فقدان ہے۔

    سوال یہ ہے کہ ان سب پر عمل درآمد کون کروائے گا؟
    یا قانون صرف غریب موٹر سائیکل سوار کے ہیلمٹ تک محدود ہے؟

    ایک ذاتی تجربہ اس پورے نظام کی قلعی کھولنے کے لیے کافی ہے۔ ایک شہری کو روکا گیا۔ سوال ہوا: ہیلمٹ ہے؟ جواب: جی ہے۔ نمبر پلیٹ؟ جی ہے۔ لائسنس؟ جی ہے۔ پھر کہا گیا کہ موٹر سائیکل پر تین افراد کیوں بیٹھے ہو؟ موٹر سائیکل بند، ایف آئی آر کی دھمکی، رات حوالات میں گزارنے کا خوف۔ جان چھڑانے کے لیے پندرہ ہزار روپے طلب کیے گئے۔ اگلے دن سپرداری، پھر تھانے کے منشی کی “خدمت”۔ آخرکار موٹر سائیکل ملی۔ اب بتائیے، یہ قانون تھا یا کھلی لوٹ مار؟

    آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 4 ہر شہری کو قانون کے مطابق برتاؤ کا حق دیتا ہے اور آرٹیکل 25 مساوی سلوک کی ضمانت دیتا ہے۔ اگر قانون صرف کمزور پر لاگو ہو اور طاقتور آزاد گھومے تو یہ انصاف نہیں، مذاق ہے۔ اگر حکومت بھاری جرمانے عائد کرتی ہے تو اس کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ شہریوں کو بنیادی سفری سہولیات بھی فراہم کرے۔ بہتر پبلک ٹرانسپورٹ، واضح سائن بورڈز، درست سگنل سسٹم اور شفاف ایکسائز نظام کے بغیر سختی محض ظلم بن جاتی ہے۔

    یہ کیسا انصاف ہے کہ کالے شیشوں والی گاڑیاں، جعلی نمبر پلیٹس اور نان کسٹم گاڑیاں نظر انداز ہو جائیں، مگر ایک عام شہری صرف ہیلمٹ نہ پہننے پر کچلا جائے؟ کیا ہیلمٹ پہن کر منشیات فروش بن جانا قابلِ قبول ہے؟ کیا قانون صرف ایک شق پر ہی ختم ہو جاتا ہے؟

    ہیلمٹ واقعی زندگی بچاتا ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔ لیکن زندگی صرف سانس لینے کا نام نہیں، عزت کے ساتھ جینے کا حق بھی زندگی کا حصہ ہے۔ آج کے حالات میں یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہیلمٹ سے زیادہ ضروری چیز جیب میں بھاری رقم ہونا ہے، تاکہ ٹریفک اہلکاروں کو دے کر جان چھڑائی جا سکے۔

    قانون کا مقصد اصلاح ہونا چاہیے، خوف پھیلانا نہیں۔ اگر نیت واقعی صاف ہے تو پہلے نظام درست کیا جائے، پھر مرحلہ وار قانون نافذ کیا جائے، اور آخر میں جرمانے کیے جائیں۔ بصورتِ دیگر تاریخ گواہ ہے کہ زبردستی سے نظام قائم نہیں ہوتا، صرف نفرت جنم لیتی ہے۔
    مگر کب تک؟

  • گیس و پانی کو ترستے شہری .تحریر: قمرشہزاد

    گیس و پانی کو ترستے شہری .تحریر: قمرشہزاد

    گوجرخان ایک تاریخی اور اہم شہر ہونے کے باوجود، اس وقت متعدد سنگین مسائل کا شکار ہے۔ شہریوں کو روزمرہ زندگی میں بے شمار چیلنجز کا سامنا ہے۔ کیا گوجرخان پنجاب پاکستان کے نقشے پر موجود نہیں؟ کیا یہاں کے بسنے والے انسان نہیں بلکہ کسی دوسرے سیارے کی مخلوق ہیں؟ یہ وہ تلخ سوالات ہیں جو آج گوجرخان کے گلی کوچوں میں گشت کر رہے ہیں۔ ایک طرف متعلقہ محکموں کی مجرمانہ خاموشی ہے اور دوسری طرف مافیاز کا وہ راج، جس نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ آج 2026 میں بھی گوجرخان کے باسی ان بنیادی حقوق کے لیے ترس رہے ہیں جو ریاست کی ذمہ داری تھی۔ تحصیل گوجرخان گیس کی سرزمین ہے مگر مکینوں کیساتھ زیرو پریشر کا مذاق جاری ہے۔ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل پکار پکار کر کہتا ہے کہ جس زمین سے گیس نکلے گی، پہلا حق وہاں کے مکینوں کا ہو گا۔ مگر افسوس! تحصیل گوجرخان کی گیس دیگر بڑے شہروں کے چولہے تو جلا رہی ہے، لیکن یہاں کے مقامی باسیوں کے اپنے چولہے ٹھنڈے پڑے ہیں۔ اہلیان گوجرخان گیس کی لوڈشیڈنگ اور زیرو پریشر کے عذاب میں مبتلا ہیں۔ کیا محکمہ سوئی گیس کے حکام کو عوامی چیخیں سنائی نہیں دیتیں؟ یا پھر قانون کی کتابیں صرف لائبریریوں کی زینت بننے کے لیے ہیں؟ دوسرا سب سے بڑا مسلہ سفید زہر کا کاروبار اور فوڈ اتھارٹی کی نیم خوابی کی بدولت گوجرخان کی سڑکوں پر نیلی سفید پلاسٹک کی ڈرمیوں اور ٹینکرز میں جو سفید مائع دوڑ رہا ہے، وہ دودھ نہیں بلکہ "سفید زہر” ہے۔ کیمیکل ملا یہ زہریلا دودھ نسلوں کو اپاہج بنا رہا ہے، مگر پنجاب فوڈ اتھارٹی شاید کسی بڑے حادثے کے انتظار میں ہے۔ صرف یہی نہیں، شہر کے نام نہاد فاسٹ فوڈ پوائنٹس پر وہ گھٹیا اور جلا ہوا آئل استعمال ہو رہا ہے جو جگر کو چھلنی اور ہیپاٹائٹس کو عام کر رہا ہے۔ یہاں انسانی جانوں کی قیمت ایک برگر اور شوارمے سے بھی کم ہو چکی ہے۔ تیسرا بڑا بنیادی مسلہ سرکاری پانی کا بحران بھاری بھرکم بلز کی ادائیگی کے باوجود پیاسا ہے گوجرخان۔ واٹر سپلائی کا نظام اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے۔ شہری بوند بوند کو ترس رہے ہیں، لیکن واٹر مینجمنٹ کے دفاتر میں بیٹھے افسران کی "بند مٹھیاں” کھلنے کا نام نہیں لے رہیں۔ چوتھا اور سنگین مسلہ صحت کا شعبہ جہاں مسیحائی کے روپ میں قصائی بیٹھے ہیں۔ سب سے بڑا المیہ تو محکمہ صحت کی ناک تلے ہو رہا ہے۔ اسے ڈرگ انسپکٹر کی مبینہ ملی بھگت کہیے یا غفلت، میڈیکل اسٹورز پر ٹھیکے کی غیر معیاری ادویات سرعام فروخت ہو رہی ہیں۔ عطائی ڈاکٹرز، جو انسانی زندگی سے کھیلنا اپنا حق سمجھتے ہیں، گوجرخان کی گلی محلوں میں کلینکس سجا کر بیٹھے ہیں جہاں ایس او پیز کا نام و نشان تک نہیں۔ رہی سہی کسر نجی لیبز اور کلینکس کے ناتجربہ کار عملہ نکال کر شعبہ صحت کو چار چاند لگا رہا ہے۔ کیا تحصیل گوجرخان لاوارث تحصیل ہے؟ آخر اسکی کیا وجہ جو گوجرخان کو مسائل کی آماجگاہ بنا دیا گیا ہے؟ متعلقہ ادارے کیا کر رہے ہیں کس کام کی تنخواہ لے رہے کیا سب اچھا کی رپورٹس پیش کرنے کی تنخواہ عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے دی جاتی ہے؟ اگر کوئی خبر لگے تو ہلچل مچتی ہے، انکوائری انکوائری کا کھیل کھیلا جاتا ہے مگر مافیاز کو ہاتھ نہیں ڈالا جاتا آخر اس سب کے پیچھے کونسی پوشیدہ طاقتیں ہیں جو اتنے مسائل کے باوجود بھی ادارے اپنا کام کرنے کے بجائے اپاہج ہو چکے؟

    وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف جو اس وقت شبانہ روز محنت سے اپنے صوبے کے عوام کے بنیادی مسائل کے حل کے لیے کوشاں ہیں ان سے پرزور مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ ان تمام تر مسائل کا سختی سے نوٹس لیں اور تمام متعلقہ اداروں کے نااہل افسران کو فوری طور پر ضلع بدر کیا جائے، مزید برآں راولپنڈی انتظامیہ کو احکامات جاری کریں کہ کمشنر راولپنڈی اور دیگر حکام فوری طور پر ان مافیاز کے خلاف "گرینڈ آپریشن” کریں۔ زہریلا دودھ بیچنے والوں کو جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے ڈالا جائے اور عطائیوں کے ٹھکانوں کو ہمیشہ کے لیے سیل کیا جائے اور غیر معیاری ادویات کو فوری بند کروایا جائے۔ جبکہ وفاق گیس کے پریشر کو بحال کروانے میں اپنا کلیدی کردار ادا کرے۔

  • نیا سال، نئے ارادے اور اپووا کے پی چیپٹر،تحریر:فائزہ شہزاد

    نیا سال، نئے ارادے اور اپووا کے پی چیپٹر،تحریر:فائزہ شہزاد

    ہر سال جنوری کے مہینے میں آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا) کی نئی کابینہ تشکیل دی جاتی ہے اور نئے عہدیداران کا انتخاب عمل میں آتا ہے۔ اپووا کے پی چیپٹر کا آغاز جون 2025 میں ہوا اور محض چھ ماہ کے قلیل عرصے میں مسلسل کامیاب ادبی تقریبات کے انعقاد نے یہ ثابت کر دیا کہ اگر ارادے مضبوط ہوں تو منزلیں خود بخود آسان ہو جاتی ہیں۔ بقول مولانا رومیؒ:
    "ہمتِ مرداں مددِ خدا است”۔

    سالِ نو کی پہلی ماہانہ میٹنگ 6 جنوری 2026 کو اپووا کے پی چیپٹر کی صدر محترمہ فائزہ شہزاد کی رہائش گاہ پر منعقد ہوئی، جس میں نئے منتخب عہدیداران اور تمام ممبران نے نہایت جوش و خروش سے شرکت کی۔ تقریب کا باقاعدہ آغاز محترمہ جویریہ خان کی پُرسوز تلاوتِ قرآنِ پاک سے ہوا۔ اس کے بعد محترمہ فائزہ شہزاد نے بارگاہِ رسالت ﷺ میں ہدیۂ نعت پیش کر کے روحانی سماں باندھ دیا۔

    محترمہ فائزہ شہزاد نے تمام شرکاء کو خوش آمدید کہا اور نئے عہدیداران کو مبارکباد پیش کی۔ بعد ازاں اپووا کے پی چیپٹر کی جنرل سیکرٹری محترمہ ناز پروین نے تنظیم کی ششماہی کارکردگی پر مشتمل ایک جامع اور مفصل رپورٹ پیش کی۔ سالِ نو کے حوالے سے آئندہ سرگرمیوں، منصوبہ بندی اور نئے اہداف پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا، جس میں تمام ممبران نے بھرپور دلچسپی سے حصہ لیتے ہوئے اپنی قیمتی آراء اور تجاویز پیش کیں۔ باہمی مشاورت سے پورے سال کا متفقہ ایجنڈا ترتیب دیا گیا۔

    نہایت سرد موسم کے باوجود تقریب میں وائس پریذیڈنٹ محترمہ روبینہ معین، جنرل سیکرٹری محترمہ ناز پروین، جوائنٹ سیکرٹری محترمہ لبنیٰ نوید، میڈیا کوآرڈینیٹر محترمہ فاطمہ افضال، ڈپٹی میڈیا کوآرڈینیٹر محترمہ رانی عندلیب، سیکرٹری انفارمیشن فرزانہ منور اور اپووا ہیلتھ ایڈوائزر محترمہ ڈاکٹر سعدیہ شہزاد کے ساتھ ساتھ محترمہ نیلو فرسمیع، ڈاکٹر سیما شفیع، حنا امجد ملک، امامہ نوید، دید فاطمہ، جویریہ خان، عشا نصیر اور دیگر معزز اراکین نے شرکت کر کے تقریب کو چار چاند لگا دیے۔

    تقریب کی یادگار لمحات کو محفوظ کرنے کے فرائض محترمہ حنا ملک نے انجام دیے۔ نئے سال کی خوشی میں کیک کاٹا گیا اور آخر میں گرما گرم چائے اور پُرلطف لوازمات سے تمام حاضرین کی تواضع کی گئی۔ صدرِ اپووا پی چیپٹر کی جانب سے تمام ممبران کو خوبصورت ٹی کپ بطور تحفہ بھی پیش کیے گئے۔یہ نشست خوشگوار یادوں، باہمی محبت اور فکری ہم آہنگی کا حسین امتزاج ثابت ہوئی۔ اگرچہ نشست دو گھنٹوں کے لیے طے تھی، مگر محفل کی دلکشی نے اسے چار سے پانچ گھنٹے تک جاری رکھا۔ دل یہی کہتا رہا:
    آج جانے کی ضد نہ کرو
    یوں ہی پہلو میں بیٹھے رہو…

    تمام شرکاء دل میں بے شمار حسین یادیں سمیٹے گھروں کو لوٹ گئے۔

  • تلہ گنگ  کی خونی یہاڑیاں اور  ایثار کے جزبوں سے مالا مال لوگ،​تحریر:فیضان شیخ

    تلہ گنگ کی خونی یہاڑیاں اور ایثار کے جزبوں سے مالا مال لوگ،​تحریر:فیضان شیخ

    ​آج صبح جب بستر کی تپش میں وٹس ایپ اوپن کیا تو کسی صحافی دوست کی بھیجی گئی ایک خونریز خبر نے گویا روح تک کو لرزا دیا۔ اسکرین پر بکھری لاشوں اور زخمیوں کی تصاویر دیکھ کر دماغ سن ہو گیا اور ماضی کے وہ تمام زخم ہرے ہو گئے جو تلہ گنگ کی ان سڑکوں نے ہمیں دیے ہیں۔

    ​اس دلخراش منظر کو دیکھتے ہی میرے ذہن میں ہمارے پیارے ناصر محمود شیخ کی آواز گونجنے لگی۔ وہ شخص جس نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ سڑکوں کو محفوظ بنانے کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ ناصر صاحب اکثر کہتے ہیں کہ "گاڑیوں کے مالکان کو صرف وقت کی فکر ہوتی ہے، انسانی جان کی نہیں”۔ مالکان کا ڈرائیورز پر ‘ٹائم’ پر پہنچنے کا دباؤ دراصل موت کے پروانے پر دستخط کرنے کے مترادف ہے۔ خاص طور پر ان دنوں جب پنجاب کی فضاؤں پر دھند کا راج ہے، کیا ہم چار سے چھ گھنٹے کا وقفہ نہیں کر سکتے؟ کیا چند گھنٹوں کا انتظار ان قیمتی جانوں سے زیادہ قیمتی ہے؟

    ​تلہ گنگ کی جغرافیائی صورتحال بتاتی ہے کہ تلہ گنگ کی کی دو خونی پہاڑیاں ڈھوک پٹھان اور انکڑ کی پہاڑی اب انسانی زندگیوں کے لیے مقتل بن چکی ہیں۔ ماضی قریب میں کوہاٹ سے آنے والی تبلیغی جماعت کی بس کا وہ ہولناک حادثہ جس میں 18 اموات ہوئیں، آج بھی ہمارے ذہنوں میں تازہ ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور این ایچ اے (NHA) ان مقامات پر محض ‘خطرناک موڑ’ کے بورڈ لگانے کے بجائے ٹھوس حفاظتی بندوبست کرے۔ ان پہاڑیوں پر جدید ترین کیٹ آئیز، فلیشرز، اور حفاظتی دیواروں کی اشد ضرورت ہے تاکہ دھند میں راستہ بھٹکنے والے ڈرائیورز کسی بڑی کھائی میں نہ جا گریں۔

    ​جہاں یہ حادثات ہمیں غمگین کرتے ہیں، وہیں تلہ گنگ کی عوام کا ایثار دیکھ کر انسانیت پر مان بڑھ جاتا ہے۔ میں تلہ گنگ کے غیرت مند عوام اور نوجوانوں کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں جو ہر مشکل گھڑی میں فرشتے بن کر نمودار ہوتے ہیں۔ چاہے وہ کوہاٹ کے بد قسمت مسافروں کے لیے تابوت بنوانا ہو یا آج کے حادثے میں اپنے نرم گرم بستر چھوڑ کر زخمیوں کو ملبے سے نکالنا، خان سعادت خان جیسے سماجی کارکنوں اور حاجی شیخ ندیم جیسے تاجروں نے ثابت کیا کہ تلہ گنگ کے لوگ مہمان نوازی اور ہمدردی میں اپنی مثال آپ ہیں۔​اسسٹنٹ کمشنر سلیمان منشاء، ڈی ایس پی ملک عزیز اور ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر ذیشان اعوان کی ٹیم نے جس طرح اس ایمرجنسی کو سنبھالا، وہ قابلِ ستائش ہے۔ لیکن اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم حادثے کے بعد امداد فراہم کرنے کے بجائے حادثہ ہونے سے روکنے کی طرف جائیں۔

    ​حکومت سے مطالبہ ہے کہ ڈھوک پٹھان اور انکڑ کی پہاڑیوں کے ڈیزائن پر نظرِ ثانی کی جائے اور ٹرانسپورٹ مالکان کو پابند کیا جائے کہ دھند کے دوران سفر روک کر انسانی جانوں کو تحفظ دیا جائے۔ ناصر محمود شیخ کی باتیں آج پکار پکار کر کہہ رہی ہیں: "وقت بچائیں، مگر زندگی کی قیمت پر نہیں”۔

  • عہدوں کی شادیاں، ون ڈش کی خلاف وزری اور سلامی اکٹھی کرنے کا مشن ،تحریر:ملک سلمان

    عہدوں کی شادیاں، ون ڈش کی خلاف وزری اور سلامی اکٹھی کرنے کا مشن ،تحریر:ملک سلمان

    اہم عہدوں پر فائز افسران کے بچوں کی شادیوں پر اکٹھی ہونی والی چار سے پانچ ارب کی سلامیوں کے قصے ہفتوں زبان زد عام رہے۔ اس مشہوری نے افسران اور سیاستدانوں کو پیسہ اکٹھا کرنے کی نئی راہ دکھا دی۔ ایک آفیسر کی شادی کیلئے گیسٹ لسٹ بن رہی تھی تو وہ ہر ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالک، ڈویلپر اور بڑے بڑے کاروباری حضرات کے نام لکھ رہا تھا حتیٰ کہ ان کاروباری شخصیات کے بھی جن سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی صرف گڈمارننگ کے میسجز والا تعلق تھا۔ ولیمے کیلئے کراچی ٹو خیبر تمام اہم شخصیات کے نام لکھے جارہے تھے میں نے اسے کہا کہ آپ اپنے بیج میٹ کے نام کیوں نہیں لکھ رہے اس نے فوراً سے پہلے جواب دیا کہ بھوکے ہیں انہوں نے کیا دینا۔

    لاہور میں ایک (پی ایس پی) پولیس آفیسر نے اپنی شادی میں ریکارڈ یافتہ کریمینل کو اس لیے بلایا کہ اس کے بارے مشہور ہے کہ وہ سلامی میں سونے کا سیٹ دیتا ہے۔ چند دن قبل ایک اسسٹنٹ کمشنر کی شادی تھی اس کے بیج میٹ بتا رہے تھے کہ یہ اتنا مطمئن بے غیرت ہے کہ سلامی اکٹھی کرنے کیلئے پراپرٹی ڈیلرز کو پہلے صوفوں پر جبکہ بیج میٹ کو پچھلی کرسیوں پر جگہ دی۔

    یہی افسران جو اپنی ذاتی شادی پر بھی غریب اور متوسط رشتہ دار اور دوستوں کو شادی پر اس لیے انوائیٹ نہیں کرتے کہ انہوں نے معمولی سلامی دینی ہے۔ دوسری طرف انہی ذہنی غریبوں کا کاروباری ماڈل یہ ہے کہ کوئی بھی افسر جب کسی اچھی پوسٹنگ پر ہوتا ہے تو وہ اپنے بہن بھائی حتی کہ کزن، بھتیجی اور بھانجے کی شادی پر بھی امیر افراد کو صرف لیے انوائٹ کرتا ہے کہ سلامی اکٹھی ہوجائے گی۔ وزیراعظم آفس، ایوان صدر، وزیراعلیٰ آفس، آئی جی اور چیف سیکرٹری آفس میں پوسٹڈ افسران سمیت اے سی، ڈی سی، کمشنر، سیکرٹری، ایس پی ،ڈی پی او، آرپی او جیسی اہم پوسٹنگ کے دوران مذکورہ افسران بہن بھائی اور دیگر رشتہ داروں کی شادی کے دعوت نامے بھی امیر دوستوں کو ہول سیل کے حساب سے بانٹتے ہیں۔ کیونکہ ان سیٹوں پر دوست اور ساتھی افسران بھی کم از کم بیس ہزار سے لیکر ایک لاکھ تک جبکہ کاروباری شخصیات دس لاکھ سے زائد کیش کے بینک چیک، لاکھوں روپے کے قیمتی جیولری سیٹ، نئی گاڑی، پلاٹوں کے الاٹمنٹ لیٹر، بیرون ملک ہنی مون اور عمرہ پیکچ گفٹ کرتے ہیں۔

    یوں شادیاں بھی پیسے اکٹھا کرنے کا ذریعہ بن چکی ہیں۔ لاکھوں روپے کی سلامی دینے والے اس انویسٹمنٹ کی ریکوری کیلئے کوئی کام لیکر جاتے ہیں تو اگر ہوجائے تو وہ ایک اور گفٹ دے آتا ہے نہ ہوتو ہر جگہ اس کی احسان فراموشی کی قصے عام کرتا ہے اس لیے افسران کو مشورہ ہے کہ آپ کے پاس کمانے کیلئے ہر روز مواقع ہوتے ہیں کم از کم شادی کے یادگار موقع کو کمائی کا اڈا بنا کر ان ذہنی غریب پراپرٹی ڈیلرز کو بلاکر ساتھی افسران اور معززین کو تو شدید رش میں خوار نہ کیا کریں۔ منشی اذہان افسر تو بن گئے لیکن اندر کی غربت کی ہاتھوں مجبور کوئی نہ کوئی ایسی چول حرکت ضرور کرتے ہیں کہ اچھی پوشاک بھی انکی اندرونی غربت کو چھپانے سے قاصر ہوتی ہے۔

    کاروباری اور عہدوں کی شادیوں کا دوسرا پہلو بھی جدید دور کا فیشن بن چکا ہے جہاں کاروباری شخصیات اپنی کاروباری ضرورت کے مطابق پولیس سروس آف پاکستان، پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس، کسٹم، ایف بی آر، آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس، ایم ایل سی اور پی ایم ایس افسران میں سے بہو اور داماد تلاش کرتے ہیں۔ سی ایس ایس کے باقی گروپس کاروباری حضرات کیلئے فائدے کا سودا نہیں ہوتا اس لیے کاروباری برادری میں انکی ڈیمانڈ نہیں ہوتی۔ بیج میٹ کے ساتھ شادیوں میں زیادہ تر محبت اور پسند کا عنصر غالب ہوتا ہے جو کہ ایک مثبت پہلو ہے کہ آپ اپنی ہم آہنگی والے جیون ساتھی کا انتخاب کرتے ہیں۔ لیکن بیوروکریسی میں بہت ساری شادیاں سانولی اور قبول صورت کے ساتھ بھی صرف اس لیے کی جاتی ہیں کہ اس کی سلیکشن پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس یا پولیس سروس آف پاکستان میں ہوگئی ہے۔ ایک تہائی سے زائد بیوروکریٹس کی شادیوں کی ناکامی کی وجہ عہدوں اور کاروبار کی وقتی کشش کے لیے کیے جانے والے جذباتی فیصلے تھے۔
    سیاست دانوں, کاروباری شخصیات اور سرکاری افسران کی شادیوں میں قانون دان اور قانون پر عملداری کروانے والے دونوں کی موجودگی میں سر عام ون ڈش کی خلاف ورزی کی جاتی ہے۔ ملٹی ڈشز کے ساتھ اپنی شان و شوکت اور قانون کی اوقات بتائی جاتی ہے۔

    ملک سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • ٹرمپ کی منفرد پالیسی،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ٹرمپ کی منفرد پالیسی،تجزیہ:شہزاد قریشی

    دنیا کو ٹرمپ کو سمجھنا ہوگا۔ عالمی سیاست ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے، اور اس موڑ پر سب سے بڑا سوال امریکہ نہیں بلکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہیں۔ دنیا اگر آج بھی یہ سمجھے کہ ٹرمپ، اوباما، کلنٹن یا جو بائیڈن کے تسلسل کا نام ہیں تو یہ ایک سنگین غلط فہمی ہوگی۔ حقیقت یہ ہے کہ ٹرمپ ایک فرد نہیں، ایک الگ طرزِ فکر، ایک مختلف سیاسی رویہ اور ایک منفرد پالیسی کا نام ہیں۔ ٹرمپ کی سیاست روایتی سفارت کاری، اخلاقی دعووں اور عالمی ذمہ داریوں سے زیادہ قومی مفاد، طاقت اور فوری فائدے کے گرد گھومتی ہے۔ ان کا مشہور نعرہ “America First” محض انتخابی جملہ نہیں بلکہ ایک مکمل نظریہ ہے، جس کے تحت دوست وہی ہے جو فائدہ دے اور معاہدہ وہی قابلِ قبول ہے جو امریکہ کو یکطرفہ برتری دے۔

    ٹرمپ کے دور میں دنیا نے دیکھا کہ دہائیوں پرانے اتحاد لمحوں میں کمزور ہو گئے، عالمی معاہدے یک قلمی فیصلوں سے ختم کر دیے گئے اور بین الاقوامی ادارے دباؤ کا شکار رہے۔ نیٹو ہو یا اقوامِ متحدہ، تجارتی معاہدے ہوں یا ماحولیاتی سمجھوتے، ٹرمپ نے ہر چیز کو سودے کی میز پر رکھ دیا۔ ان کی پالیسیوں کی سب سے نمایاں خصوصیت غیر متوقع پن ہے۔ یہی عنصر عالمی منڈیوں، سفارت خانوں اور طاقت کے ایوانوں میں بے چینی پیدا کرتا ہے۔ مگر ٹرمپ کے نزدیک یہ غیر یقینی صورتحال ہی دباؤ کا مؤثر ہتھیار ہے، جس کے ذریعے وہ مخالفین کو دفاعی پوزیشن پر لے آتے ہیں۔ دنیا خصوصاً ترقی پذیر ممالک اور مسلم دنیا کو یہ حقیقت سمجھنا ہوگی کہ ٹرمپ کے عہد میں اصولوں کی زبان کم اور مفادات کی زبان زیادہ سنی جاتی ہے۔ یہاں ہمدردی نہیں، طاقت کا توازن بولتا ہے۔ یہاں اپیلیں نہیں، سودے ہوتے ہیں۔ اس لیے عالمی قیادت کے لیے لازم ہے کہ وہ امریکہ کو نہیں بلکہ ٹرمپ کو سمجھنے کی حکمتِ عملی اختیار کرے۔ کیونکہ ٹرمپ کے امریکہ میں پالیسی مستقل نہیں، مگر مفاد مستقل ہے۔ جو اس مفاد کو پڑھ لے، وہی خود کو عالمی بساط پر محفوظ رکھ سکتا ہے۔ دنیا بدل رہی ہے، اور اس بدلتی دنیا میں سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ ٹرمپ کے ساتھ تعلقات جذبات سے نہیں، بلکہ حقیقت پسندی اور دور اندیشی سے نبھائے جائیں۔

  • دہشتگردی کے خلاف ریاستی بیانیہ، حقائق، چیلنجز اور قومی عزم،تحریر:جان محمد رمضان

    دہشتگردی کے خلاف ریاستی بیانیہ، حقائق، چیلنجز اور قومی عزم،تحریر:جان محمد رمضان

    دہشتگردی کے خلاف جنگ محض بندوق اور بارود کی لڑائی نہیں بلکہ یہ نظریات، بیانیوں اور قومی بقا کی جدوجہد کا نام ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کی حالیہ پریس کانفرنس اسی حقیقت کی آئینہ دار تھی، جس میں انہوں نے نہ صرف زمینی حقائق کو اعداد و شمار کے ساتھ قوم کے سامنے رکھا بلکہ خطے میں جاری پیچیدہ حالات پر بھی دوٹوک مؤقف اختیار کیا۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ افغان طالبان کا موجودہ بیانیہ حقائق پر مبنی نہیں۔ ان کے مطابق افغانستان کی سرزمین آج بھی دہشتگرد اور کالعدم تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہ بنی ہوئی ہے، جو نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ دوحا معاہدے میں یہ طے پایا تھا کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشتگردی کیلئے استعمال نہیں ہوگی، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس تصویر پیش کر رہے ہیں۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح الفاظ میں کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ کسی ایک ادارے یا حکومت کی نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ جنگ ہے۔ انہوں نے خوارج کو اسلام سے یکسر لاتعلق قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ عناصر “فتنہ الہندوستان” ہیں، جن کا نہ اسلام سے کوئی تعلق ہے، نہ بلوچستان اور بلوچیت سے۔ ان کا مقصد محض انتشار، خونریزی اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنا ہے۔ریاست پاکستان کا مؤقف اس حوالے سے نہایت واضح ہے کہ دہشتگردی کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ دنیا نے دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں اور اقدامات کو سراہا ہے، اور یہ اعتراف عالمی سطح پر پاکستان کے کردار کی گواہی دیتا ہے۔پریس کانفرنس میں پیش کیے گئے اعداد و شمار اس جنگ کی شدت اور وسعت کو آشکار کرتے ہیں۔ گزشتہ ایک سال کے دوران ملک بھر میں 75 ہزار 175 آپریشنز کیے گئے، جن میں خیبرپختونخوا میں 14 ہزار 658،بلوچستان میں 58 ہزار 778،ملک کے دیگر حصوں میں 1739 آپریشنز شامل ہیں۔اسی عرصے میں 27 خودکش دھماکے اور 5 ہزار 397 دہشتگردی کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ دہشتگردی کے خلاف اس جنگ میں 1235 سیکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں نے جامِ شہادت نوش کیا، جبکہ 2597 دہشتگردوں کو ہلاک کیا گیا۔ یہ اعداد قربانی، صبر اور استقامت کی طویل داستان ہیں۔

    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے یاد دلایا کہ نیشنل ایکشن پلان پر تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاقِ رائے موجود تھا، مگر سوال یہ ہے کہ اس پر مکمل اور یکساں عملدرآمد کیوں نہ ہو سکا؟ انہوں نے اس امر پر بھی توجہ دلائی کہ خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے واقعات کی شرح زیادہ کیوں ہے، جس کا جواب محض سیکیورٹی نہیں بلکہ پالیسی، حکمرانی اور سرحدی حقائق میں پنہاں ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق افغانستان اس وقت خطے میں دہشتگردی کا بیس آف آپریشن بنا ہوا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکا اور اتحادی افواج کے انخلاء میں افغان طالبان کا کوئی کردار نہیں تھا، جبکہ افغانستان میں چھوڑا گیا اسلحہ آج دہشتگردی کیلئے استعمال ہو رہا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت دہشتگردوں کو مالی معاونت اور سرپرستی فراہم کرتا رہا ہے، اور “معرکۂ حق” میں بھارت کو مؤثر جواب دینا ناگزیر ہو چکا تھا۔ ان کے مطابق معرکۂ حق اور افغانستان میں کارروائی کے بعد دہشتگردی میں وقتی اضافہ ضرور ہوا، مگر ریاست دہشتگردی کے خلاف جنگ کو بزورِ طاقت منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے پرعزم ہے۔

    پریس کانفرنس کا سب سے دوٹوک پیغام یہ تھا کہ پاکستان اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ چند ہی گھنٹوں میں افغانستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کر دیا گیا، جو اس امر کا ثبوت ہے کہ ریاستی ردِعمل نہ صرف مؤثر بلکہ بروقت بھی ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کی یہ پریس کانفرنس قوم کیلئے ایک واضح پیغام تھی دہشتگردی کے خلاف جنگ جاری ہے، ریاست متحد ہے، اور دشمن چاہے اندرونی ہو یا بیرونی، اسے کسی صورت امن سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہ جنگ قربانی مانگتی ہے، مگر اس کا انجام ایک پرامن، مستحکم اور خودمختار پاکستان ہے۔