Baaghi TV

Category: بلاگ

  • مشرقِ وسطیٰ کی جلتی ہوئی آگ اور پاکستان کی خاموش حکمتِ عملی،تجزیہ : شہزاد قریشی

    مشرقِ وسطیٰ کی جلتی ہوئی آگ اور پاکستان کی خاموش حکمتِ عملی،تجزیہ : شہزاد قریشی

    مشرقِ وسطیٰ کی جلتی ہوئی آگ اور پاکستان کی خاموش حکمتِ عملی

    پاکستان ایک ایسے مقام پر کھڑا ہے جہاں ہر قدم ناپ تول کر رکھنا ضروری ہے، ایک طرف ایران اس کا ہمسایہ ہے، جس کے ساتھ طویل سرحد اور تاریخی روابط موجود ہیں، جبکہ دوسری طرف سعودی عرب اور خلیجی ممالک کے ساتھ گہرے اسٹریٹجک اور معاشی تعلقات ہیں۔ٕ، مزید برآں، امریکہ کے ساتھ بھی پاکستان کے تعلقات مکمل طور پر منقطع نہیں یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے اس بحران میں کھل کر کسی ایک فریق کا ساتھ دینے کے بجائے ایک محتاط اور متوازن پالیسی اختیار کی ہے۔

    یہ پالیسی بظاہر سادہ نظر آتی ہے، مگر حقیقت میں یہ ایک نہایت پیچیدہ حکمتِ عملی ہے، پاکستان نے بیک وقت تین محاذوں پر توازن برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے: ہمسایہ ایران کے ساتھ تعلقات کو خراب ہونے سے بچانا، خلیجی اتحادیوں کو مطمئن رکھنا، اور عالمی سطح پر خود کو ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر پیش کرنا۔ اس دوران اس نے سفارتی سطح پر کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا ہے، جو کہ ایک مثبت اشارہ ہے۔

    تاہم، اس حکمتِ عملی کے اپنے خطرات بھی ہیں۔ اگر جنگ مزید پھیلتی ہے اور خلیجی ممالک براہِ راست اس میں شامل ہو جاتے ہیں تو پاکستان کے لیے غیر جانبدار رہنا مشکل ہو سکتا ہے۔ داخلی سطح پر بھی اس کے اثرات ظاہر ہو سکتے ہیں، خاص طور پر فرقہ وارانہ تناؤ کی صورت میں۔ مزید یہ کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ پاکستان کی کمزور معیشت پر مزید بوجھ ڈال سکتا ہے۔

    ان تمام چیلنجز کے باوجود، اب تک کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان نے ایک حد تک کامیابی کے ساتھ اپنی پوزیشن کو سنبھالا ہوا ہے۔ اس کی خارجہ پالیسی میں احتیاط، توازن اور وقتی ضرورتوں کو مدنظر رکھنے کا عنصر نمایاں ہے، عسکری قیادت نے بھی کسی جذباتی یا جلد بازی پر مبنی فیصلے کے بجائے ایک محتاط رویہ اپنایا ہے، جو کہ موجودہ حالات میں دانشمندانہ معلوم ہوتا ہے۔

    اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان نے اب تک کیا کیا، بلکہ یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں وہ کیا کرے گا، اگر جنگ محدود دائرے میں رہتی ہے تو پاکستان اپنی موجودہ پالیسی کے ساتھ آگے بڑھ سکتا ہے، لیکن اگر یہ تصادم ایک بڑی عالمی صف بندی میں بدل جاتا ہے تو پھر پاکستان کو زیادہ واضح اور شاید مشکل فیصلے کرنے پڑ سکتے ہیں۔

    آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پاکستان اس وقت ایک خاموش مگر اہم کردار ادا کر رہا ہے، اس کی حکمتِ عملی بظاہر کم نمایاں ضرور ہے، مگر اس میں بقا، تواز ن اور دور اندیشی کے عناصر واضح طور پر موجود ہیں، موجودہ حالات میں شاید یہی سب سے بڑی کامیابی ہے کہ پاکستان خود کو اس آگ سے دور رکھتے ہوئے ایک ذمہ دار ریاست کا کردار ادا کر رہا ہے۔

  • ڈیجیٹل آلودگی خاموش دشمن،تحریر:مبشر حسن شاہ

    ڈیجیٹل آلودگی خاموش دشمن،تحریر:مبشر حسن شاہ

    آج کا انسان فیکٹریوں کے دھوئیں، گاڑیوں کے شور اور گندے پانی کی آلودگی سے تو کسی حد تک آگاہ ہے،اس کے حل کے لیے باقاعدہ حکومتی سطح پر تمام دنیا کاوشیں کر رہی ہے۔ مگر ایک ایسی آلودگی بھی ہے جو نہ دکھائی دیتی ہے، نہ سونگھی جا سکتی ہے اور نہ چکھی جا سکتی ہے۔ یہ پراسرار آلودگی تیزی سے پھیل چکی ہے اور انسانی صحت کے لیے زہر ہے۔ اس کے اثرات کہیں زیادہ گہرے، تیز اور سے تباہ کن ہیں۔ اس آلودگی کا نام ہے ڈیجیٹل آلودگی۔

    یہ آلودگی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب معلومات، ویڈیوز، نوٹیفکیشنز اور سوشل میڈیا فیڈز کی یلغار انسانی دماغ کی قدرتی حد سے تجاوز کر جاتی ہے۔ بظاہر یہ سب “معلومات” ہیں، مگر حقیقت میں ان کا بڑا حصہ ذہنی شور (mental noise) ہے جو سکون، توجہ اور فیصلہ سازی کو کھوکھلا کر رہا ہوتا ہے۔یہ شور انسانی اعصاب کو توڑ دیتا ہے۔ ڈپریشن اس کے پہلے اثرات میں سے ایک ہے۔ خود سوچیں کہ شدید اثرات میں کیا کچھ ہوگا

    سوشل میڈیا کا بے جا استعمال اس بحران کی بنیاد ہے۔ ایک عام فرد روزانہ گھنٹوں اسکرین پر صرف کرتا ہے، جہاں اس کا دماغ بغیر وقفے کے نئے سے نئے پیغامات، تصاویر اور تحاریر وصول کرتا رہتا ہے۔ یہ مسلسل اسکرولنگ وقتی خوشی دیتی ہے، مگر تحقیق کے مطابق یہ توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت کو کمزور اور دماغ کو منتشر کر دیتی ہے۔

    اس کے ساتھ ایک اور خطرناک عنصر ڈس انفارمیشن (جان بوجھ کر پھیلائی گئی جھوٹی معلومات) اور مس انفارمیشن (غلط مگر غیر ارادی معلومات) ہے۔ سوشل میڈیا نے ان دونوں کو اس رفتار اور وسعت کے ساتھ پھیلایا ہے کہ سچ اور جھوٹ میں فرق کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ نتیجتاً ذہنی الجھن، بے اعتمادی اور سماجی تقسیم میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    ماہرین اس صورتحال کو “انفارمیشن اوورلوڈ” کہتے ہیں۔یعنی معلومات کا ایسا سیلاب جسے انسانی دماغ مؤثر طریقے سے پراسیس نہیں کر سکتا۔ اس کا نتیجہ ذہنی تھکن، بے چینی، چڑچڑاپن اور کمزور فیصلہ سازی کی صورت میں نکلتا ہے۔بات یہیں تک محدود نہیں بلکہ مختصر ویڈیوز کا جال دماغ کے ساتھ کیا کر رہا ہے یہ بھی جانئے۔ٹک ٹاک اور یوٹیوب ریلس نے اس ڈیجیٹل آلودگی کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ نیوروسائنس کے مطابق یہ مختصر ویڈیوز دماغ کے ڈوپامین سسٹم کو بار بار متحرک کرتی ہیں، جس سے فوری تسکین کی لت پیدا ہوتی ہے۔ نتیجتاً دماغ ، سنجیدہ اور گہرائی پر مبنی مواد کو برداشت کرنے کی صلاحیت کھونے لگتا ہے۔

    اس کا سب سے خطرناک پہلو "ریپیڈ کانٹینٹ سوئچنگ” ہے۔ ایک لمحہ آپ گانا دیکھ رہے ہوتے ہیں، دماغ ابھی اس کے اثرات کا تجزیہ کر رہا ہوتا ہے کہ فوراً مذہبی ریل آ جاتی ہے، پھر مزاحیہ کلپ، اس کے بعد سیاسی بحث، پھر کسی سماجی مسئلے کی جھلک، اور دوبارہ ایک گانا۔تحقیق بتاتی ہے کہ اس طرح کی تیز رفتار تبدیلیاں انسانی دماغ کے لیے تباہ کن ہیں ۔ یعنی دماغ پچھلے مواد سے مکمل طور پر باہر نہیں نکلتا کہ نیا مواد داخل ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً نہ کوئی چیز پوری طرح سمجھی جاتی ہے، نہ کوئی احساس مکمل طور پر محسوس ہوتا ہے۔یہ مسلسل ذہنی جھٹکے انسان کو گہرائی سے سوچنے کی صلاحیت سے محروم کر دیتے ہیں۔ سنجیدہ مسائل بھی تفریح بن جاتے ہیں، اور جذباتی توازن بگڑنے لگتا ہے۔ ایک وقت آتا ہے جب دکھ، سانحہ اور حقیقت بھی محض ایک اور ویڈیو محسوس ہونے لگتی ہے۔انسان مردم بیزار اور چڑچڑا ہوجاتا ہے۔ نیند کی کمی اور جسم کے نظر نہ آنے والا نقصان بھی اسی سلسلے کا حصہ ہیں ۔ڈیجیٹل آلودگی صرف دماغ تک محدود نہیں رہتی۔ مسلسل اسکرین کے استعمال سے آنکھوں پر شدید دباؤ پڑتا ہے، جسے ماہرین "ڈیجیٹل آئی اسٹرین” کہتے ہیں،جس میں آنکھوں کی خشکی، دھندلاہٹ اور سر درد شامل ہیں۔

    اسی طرح اسکرین سے نکلنے والی روشنی نیند کے قدرتی نظام کو متاثر کرتی ہے، کیونکہ جسم اور دماغ ریسٹ مانگتا ہے لیکن ہم اسے مسلسل ابھی نہیں کا سگنل دے کر اوور ورک کروارہے ہوتے ہیں۔ جس کے باعث بے خوابی، تھکن اور دن بھر کی سستی عام ہو جاتی ہے۔ایک اور خطرناک پہلو وہ ہے جسے لوگ سنجیدگی سے نہیں لیتےڈرائیونگ یا بائیک چلاتے وقت موبائل کا استعمال۔ چند سیکنڈ کی توجہ کی کمی بھی حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔ ریسرچ واضح کرتی ہے کہ ڈرائیونگ کے دوران موبائل استعمال کرنے والا شخص نشے میں ڈرائیونگ کرنے والے کے برابر خطرہ بن جاتا ہے۔جارحانہ ویڈیو گیمز بھی اسی ڈیجیٹل آلودگی کا حصہ ہیں۔ مسلسل پرتشدد مناظر دیکھنے اور کھیلنے سے دماغ میں حساسیت کم ہو سکتی ہے اور ردعمل زیادہ تیز اور غیر متوازن ہو سکتا ہے۔اس کی ایک چونکا دینے والی مثال گزشتہ سال کراچی میں سامنے آئی، جہاں ڈکیتی کے دوران ایک نوجوان نے مزاحمت کرتے ہوئے ڈاکوؤں سے اسلحہ چھین لیا اور مکمل میگزین خالی کر تے ہوئے انہیں قتل کر دیا۔ بعد ازاں انٹرویو میں جب اس سے پوچھا گیا کہ فائر کرتے وقت ہچکچاہٹ نہیں ہوئی، تو اس نے جواب دیا کہ وہ پوری رات ایک شوٹنگ گیم کھیلتا رہا تھا اور اس لمحے اسے یوں لگا جیسے وہ گیم ہی کھیل رہا ہو۔
    یہ واقعہ صرف ایک کہانی نہیں بلکہ ایک خطرناک اشارہ ہے کہ ڈیجیٹل دنیا کس حد تک حقیقی رویوں کو متاثر کر سکتی ہے۔

    مسئلہ ٹیکنالوجی نہیں، بلکہ اس کا غیر متوازن اور بے شعور استعمال ہے۔ سوشل میڈیا ایک طاقتور ذریعہ ہے۔مگر حد سے زیادہ استعمال اسے زہر بنا دیتا ہے۔ اس کا حل سادہ ہے مگر آسان نہیں کیونکہ ہمارے دماغ اس کے عادی ہیں۔ فوری بہتری کے لیے اسکرین ٹائم محدود کریں۔مواد کا انتخاب شعوری بنائیں سونے سے پہلے اسکرین سے دور رہیں ۔غیر ضروری نوٹیفکیشنز بند کریں اور سب سے بڑھ کر، اپنے دماغ کو وقفہ دیں۔اپنے اردگرد موجود لوگوں اور گھر پر توجہ دیں ۔ ڈیجیٹل دنیا نے ہمیں اپنے پیاروں کے پاس رکھ کر بھی ان سے دور کر دیا ہے۔ اگر ہم نے اس ڈیجیٹل آلودگی کو سنجیدگی سے نہ لیا تو یہ صرف ایک فرد کا مسئلہ نہیں رہے گا بلکہ ایک ایسی اجتماعی بیماری بن جائے گی جو سوچنے، سمجھنے اور محسوس کرنے کی صلاحیت کو دیمک کی طرح کھا جائے گی۔خاموش خطرات ہمیشہ سب سے زیادہ مہلک ہوتے ہیں۔ ڈیجیٹل آلودگی انہی میں سے ایک ہے۔اب تک جو نقصان ہونا تھا ہو چکا لیکن اگر ہم اب بھی واپس پلٹنا چاہیں تو نہ صرف راستہ کھلا ہے بلکہ بہت دیر بھی نہیں ہوئی۔

  • جنگ کے سائے اور دنیا کا مستقبل.تجزیہ :شہزاد قریشی

    جنگ کے سائے اور دنیا کا مستقبل.تجزیہ :شہزاد قریشی

    دنیا اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں فیصلے صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ عالمی معیشت، سیاست اور انسانی بقا کے تناظر میں بھی ہو رہے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں بھڑکتی ہوئی آگ اب کسی ایک خطے تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کے شعلے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینے کے درپے ہیں۔ حالیہ بیانات، خصوصاً ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آنے والے متضاد اشارے، اس حقیقت کو مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں کہ آیا دنیا جنگ کے خاتمے کی طرف بڑھ رہی ہے یا ایک بڑے تصادم کی دہلیز پر کھڑی ہے۔

    توانائی، جو جدید دنیا کی شہ رگ ہے، اس تنازع کا سب سے پہلا اور بڑا نشانہ بن رہی ہے۔آبنائے ہرمزجیسے اہم بحری راستے خطرے میں ہوں تو اس کے اثرات صرف تیل بردار جہازوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ یہ پوری عالمی معیشت کو جھنجھوڑ دیتے ہیں۔ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، گیس کی قلت اور توانائی کی غیر یقینی صورتحال ایک ایسے عالمی بحران کو جنم دے رہی ہیں جس کے اثرات ہر ملک، ہر شہر اور ہر فرد تک پہنچ سکتے ہیں۔

    معیشت کے ایوانوں میں بے چینی واضح ہے۔ عالمی منڈیاں دباؤ کا شکار ہیں، سرمایہ کار غیر یقینی صورتحال سے خوفزدہ ہیں اور ترقی پذیر ممالک ایک نئے مالی طوفان کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ مہنگائی، جو پہلے ہی کئی خطوں میں ایک بڑا مسئلہ بن چکی تھی، اب مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔ اگر یہ جنگ طویل ہوتی ہے تو کساد بازاری کا خطرہ محض ایک خدشہ نہیں بلکہ ایک ممکنہ حقیقت بن سکتا ہے۔

    لیکن یہ بحران صرف معاشی نہیں، بلکہ گہرا سیاسی بھی ہے۔ عالمی طاقتوں کے درمیان صف بندیاں تیزی سے بدل رہی ہیں۔ اتحادی کمزور ہو رہے ہیں، نئے اتحاد تشکیل پا رہے ہیں اور دنیا ایک نئے جغرافیائی سیاسی نقشے کی طرف بڑھتی دکھائی دیتی ہے۔ اس سارے عمل میں سب سے زیادہ نقصان اس عالمی توازن کو ہو رہا ہے جو دہائیوں کی محنت سے قائم کیا گیا تھا۔

    انسانی المیہ اس سب سے بڑھ کر ہے۔ جنگیں ہمیشہ سرحدوں پر نہیں لڑی جاتیں، ان کے اثرات گھروں، شہروں اور عام انسانوں کی زندگیوں میں محسوس کیے جاتے ہیں۔ نقل مکانی، جانی نقصان اور عدم تحفظ کا احساس ایک ایسی حقیقت بن چکا ہے جس سے نظریں چرائی نہیں جا سکتیں۔

    سوال یہ نہیں کہ یہ جنگ کہاں تک جائے گی، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ دنیا اسے کہاں روکنا چاہتی ہے۔ اگر فوری اور سنجیدہ سفارتی اقدامات نہ کیے گئے تو یہ تنازع ایک ایسے عالمی بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔یہ وقت طاقت کے اظہار کا نہیں بلکہ بصیرت، تدبر اور اجتماعی دانش کا ہے۔ کیونکہ جنگ جتنی طویل ہوگی، اس کا اندھیرا بھی اتنا ہی گہرا ہوگا ، اور اس اندھیرے میں کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔

  • جمعہ کا دن اور عید دونوں کی حقیقت،تحریر:تابندہ طارق عکس

    جمعہ کا دن اور عید دونوں کی حقیقت،تحریر:تابندہ طارق عکس

    اسلام ایک ایسا مکمل ضابطہ حیات ہے جو ہر معاملے میں اعتدال سے حکمت سے اور آسانیوں کا درس دیتا ہے لیکن اس کے باوجود کئی تہواروں پر یا پھر کئی دنوں کے حوالے سے بہت سی ایسی باتیں گردش کرتی ہیں جن کا کوئی مستند حوالہ نہیں ملتا ہے نہ ہی قرآن و حدیث میں اور نہ ہی حضور نبی کریم ﷺ اور اصحابہ اکرام کی حیات مبارکہ کے مطابق کہی پر کوئی تفصیل بیان کی گئی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہمارے معاشرے میں سنی سنائی باتوں کو اتنی بار دہرایا جاتا ہے کے لوگ آنکھیں موند کر اس پر سر تسلیم خم کر کے بھروسہ کر لیتے ہیں اور اس کے برعکس حقیقت کیا ہوتی ہے اسے جانچنے کی کوشش تک نہیں کرتے ہیں۔یہ باتیں اتنی سفاک گوئی سے پیش کی جاتی ہیں کے انسانی دلوں و دماغ میں پختگی اختیار کر کے اپنی آنے والی نسلوں میں منتقل کرنا شروع کر دیتے ہیں اور وہ بھی ان من گھڑت باتوں پر اپنے یقین کی مہر ثبت کر دیتے ہیں۔ان سب باتوں میں سے ہی ایک من گھڑت بات جمعہ کا دن اور عید کے حوالے سے بھی پختگی سے سننے میں آتی ہے۔جمعہ کے دن کو مسلمانوں کے لیے عید کا دن قرار دیا گیا ہے کیوں کہ تمام اہل ایمان اس دن عید کی طرح لباس،خوشبو اور وقت مقرر پر مسجد کی طرف رواں دواں ہوتے ہیں اور یہی وجہ ہے کے اس دن کو عید کے دن سے مشابہت رکھتا ہے۔لیکن اس کے باوجود اہل اسلام نے غیر مسلموں کی باتوں کو حقیقت کا روپ دے کر ماننا شروع کر دیا ہے۔اگر جمعہ کے دن عید کا تہوار آ جائے تو یہ ملک کے حکمران کے حق میں نحوست کی علامت ہوتا ہے اور ایک ہی دن میں دو خطبات کا ہونا مناسب نہیں ہے۔اب سوال یہ ہے کیا واقعی اس میں کوئی حقیقت ہے یا پھر یہ صرف من گھڑت کہانیاں ہیں؟

    اگر اسلامی تعلیمات کا گہرا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کے عید اور جمعہ کا ایک ہی دن آنا کوئی غیر معمولی یا تشویش ناک بات نہیں ہے۔بل کہ یہ ایک فطری امر ہے جو قمری کلینڈر کی گردش کے باعث کبھی کبھار رونما ہو جاتا ہے۔تاریخ اسلام کے اگر پہلوؤں کا بغور جائزہ لیا جائے تو ایسے کئی مواقع آئے ہیں جب عید اور جمعہ ایک ہی دن ایک ساتھ رونما ہوئے ہیں اور اس میں کسی قسم کی نحوست کی پیش گوئی یا خطرے کا تصور بیان نہیں کیا گیا ہے۔احادیث مبارکہ میں اس حوالے سے واضح رہنمائی ملتی ہے کہ نبی کریم ﷺ کے زمانے میں جب عید اور جمعہ ایک ہی دن وقوع پذیر ہوتے تھے تو آپ ﷺ نے لوگوں کو سہولت فراہم کرتے ہوئے فرمایا کہ:”جو شخص عید کی نماز ادا کر لے وہ چاہے تو جمعہ کی نماز میں شرکت نہ کرے البتہ امام پر لازم ہے کے وہ جمعہ کا خطبہ اور نماز ادا کرے تاکہ جو لوگ شرکت کرنا چاہیں ان کے لیے ادا کرنے کا موقع مل سکے۔اس بات سے اندازہ ہوتا ہے اسلام میں مسلمانوں کے لیے کتنی آسانیاں پیدا کی گئی ہیں۔اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کے "دو خطبات” کا مسئلہ دراصل ایک غلط فہمی ہے۔عید اور جمعہ دونوں کی اسلام میں الگ الگ اہمیت کے حامل ہیں عید کا خطبہ ایک خوشی اور اپنے رب کے حضور شکر گزاری کا اظہار ہوتا ہے اور جمعہ کا خطبہ ہفتہ وار تربیت اور نصیحت کا ذریعہ ہوتا ہے۔اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کے یہ غیر مستند روایات کا نتیجہ ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ عوام میں پھیل گئی ہیں۔اسلام ہمیں ایسی افواہوں سے دور رہنے اور ہر بات کو دلیل اور تحقیق کی روشنی میں پرکھنے کی تعلیم دیتا ہے۔قرآن پاک سے بہترین کوئی اور مستند کتاب نہیں ہے جو اہل ایمان کو سچ اور جھوٹ کا فرق سمجھا سکے۔سنی سنائی باتوں پر عمل کرنے سے بہتر ہے قرآن پاک کو مع ترجمہ و تفسیر پڑھنے کا اپنی زندگی کا حصہ بنائیں اور روزانہ ایک آیت سمجھ کر پڑھنے سے اپنے علم و عمل میں اضافہ فرمائے اللّٰہ پاک ہمیں صحیح بات سننے اور سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یارب العالمین۔

  • سفارتی محاذ پر پاکستان کے مفادات کا تحفظ ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    سفارتی محاذ پر پاکستان کے مفادات کا تحفظ ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    موجودہ عالمی حالات، خصوصاً مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال، بین الاقوامی سیاست میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ اور طاقت کے توازن میں تیزی سے آنے والی تبدیلیاں ایک ایسے نازک مرحلے کی نشاندہی کر رہی ہیں جہاں ہر ریاست کو نہایت دانشمندی اور محتاط حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ ایسے پیچیدہ ماحول میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کا متوازن اور محتاط رہنا ایک قابلِ غور پہلو ہے۔

    وفاقی وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم نے جس انداز میں سفارتی محاذ پر پاکستان کے مفادات کا تحفظ کیا ہے، وہ بلاشبہ ایک سنجیدہ اور منظم حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہے۔ عالمی دباؤ، علاقائی کشیدگی اور بڑی طاقتوں کے مفادات کے بیچ پاکستان کو غیر ضروری تنازعات سے دور رکھتے ہوئے ایک متوازن پوزیشن پر قائم رکھنا ایک مشکل مگر اہم کامیابی ہے۔

    اسی طرح ریاستی سطح پر پاک فوج اور دیگر قومی اداروں کا کردار بھی نمایاں رہا ہے، جنہوں نے اندرونی و بیرونی چیلنجز کے باوجود ملک کے استحکام اور سلامتی کو یقینی بنانے میں اہم ذمہ داری نبھائی۔ یہ ہم آہنگی دراصل ایک مربوط قومی حکمتِ عملی کی عکاس ہے، جو کسی بھی ریاست کے لیے ایسے نازک دور میں ناگزیر ہوتی ہے۔
    اسحاق ڈار کی شخصیت کا ایک منفرد پہلو یہ بھی ہے کہ وہ بیک وقت مختلف شعبوں میں متحرک دکھائی دیتے ہیں۔ وزارتِ خزانہ کے دور میں ان کی مصروفیات، معیشت کی بہتری کے لیے ان کی کوششیں، اور اب بطور وزیر خارجہ سفارتی محاذ پر سرگرمی،یہ سب ان کی کثیرالجہتی صلاحیتوں کو ظاہر کرتا ہے۔ اگرچہ وہ پیشہ ور قانون دان نہیں، مگر قانون سازی کے عمل میں ان کی شمولیت اور سیاسی بصیرت ایک تجربہ کار سیاستدان کی پہچان ہے۔

    مزید برآں، نواز شریف کی سیاسی حکمتِ عملی کو برقرار رکھنے اور اسے آگے بڑھانے میں بھی ان کا کردار نمایاں رہا ہے۔ چارٹر آف ڈیموکریسی جیسے اہم سیاسی معاہدے میں ان کی شمولیت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ وہ نہ صرف موجودہ حالات بلکہ ماضی کے اہم موڑ پر بھی فعال کردار ادا کرتے رہے ہیں۔مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پاکستان اس وقت ایک نہایت حساس دور سے گزر رہا ہے، جہاں ہر فیصلہ مستقبل کی سمت کا تعین کر سکتا ہے۔ ایسے میں خارجہ پالیسی کی دانشمندانہ سمت، اداروں کی ہم آہنگی اور قیادت کی مسلسل کاوشیں وہ عوامل ہیں جو ملک کو استحکام کی راہ پر گامزن رکھے ہوئے ہیں۔ اگر یہ تسلسل برقرار رہا تو یقیناً آج کے یہ اقدامات مستقبل میں ایک مثبت مثال کے طور پر تاریخ کا حصہ بنیں گے۔

  • افغانستان یاد رکھے،پاکستان تسلیم شدہ ایٹمی طاقت،تجزیہ،شہزاد قریشی

    افغانستان یاد رکھے،پاکستان تسلیم شدہ ایٹمی طاقت،تجزیہ،شہزاد قریشی

    خطے میں بگڑتی صورتحال میں افغانوں کا پاکستان سے پنگا بدنیتی کی علامت
    احسان فراموش افغان اسلام آباد کی میزبانی بھول گئے،ہم ذمہ داراور زندہ قوم ہیں
    مسائل کا واحد حل ڈائیلاگ،کشیدگی امن کیلئے خطرہ،محاذ آرائی بندکی جائے
    تجزیہ:شہزاد قریشی
    خطے کی بدلتی صورتحال اور افغانستان کے لئے ایک سنجیدہ پیغام،جنوبی ایشیاءاس وقت ایک حساس مرحلے سے گزر رہا ہے، جہاں معمولی غلط فہمیاں بھی بڑے تناز عات کو جنم دے سکتی ہیں،ایسے میں افغانستان کی موجودہ پالیسیوں اور علاقائی طرزِ عمل پر سوال اٹھنا فطری ہے، خاص طور پر پاکستان کے ساتھ تعلقات کے تناظر میںیہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ پاکستان نے تاریخ کے مختلف ادوار میں افغانستان کا بھرپور ساتھ دیا، لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی سے لے کر سفارتی اور انسانی امداد تک، پاکستان نے ہمیشہ ایک ذمہ دار ہمسایہ اور برادر اسلامی ملک ہونے کا ثبوت دیا،یہی وجہ تھی کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات باہمی اعتماد اور مذہبی و ثقافتی رشتوں پر قائم رہے،تاہم حالیہ برسوں میں ابھرتی ہوئی صورتحال تشویش ناک ہے،یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین بعض ایسے عناصر کے لئے استعمال ہو رہی ہے جو پاکستان کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں،مزید برآں بھارت کے ساتھ افغانستان کی بڑھتی قربت بھی خطے میں طاقت کے توازن کو متاثر کر رہی ہے، جس کے اثرات براہِ راست پاکستان کی سلامتی سے جڑے ہوئے ہیں،افغانستان کو یہ حقیقت نظرانداز نہیں کرنی چاہیے کہ پاکستان ایک ایٹمی صلاحیت کا حامل ملک ہے جس کی دفاعی طاقت اور عسکری تیاری دنیا میں تسلیم شدہ ہے،اس تناظر میں کسی بھی قسم کی کشیدگی نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے امن کے لئے خطرہ بن سکتی ہے،دوسری جانب افغانستان کو درپیش اصل چیلنج اندرونی استحکام ہے،دہائیوں پر محیط جنگ، معاشی مشکلات اور سماجی مسائل اس بات کے متقاضی ہیں کہ وہ اپنی توجہ اپنے عوام، خصوصاً نوجوان نسل کی تعلیم، ترقی اور بہتر مستقبل پر مرکوز کرے،ایک مستحکم افغانستان ہی خطے میں پائیدار امن کی ضمانت بن سکتا ہے،

    آخرکار، دانشمندی کا تقاضا یہی ہے کہ دونوں ممالک محاذ آرائی کے بجائے سفارت کاری، مکالمے اور باہمی احترام کے ذریعے اپنے اختلافات کو حل کریں کیونکہ تاریخ نے بارہا ثابت کیا ہے کہ جنگ نہیں، بلکہ تعاون ہی خطوں کو ترقی اور استحکام کی طرف لے جاتا ہے۔

  • مبشر لقمان،جرات مندانہ صحافت، مضبوط آواز،تجزیہ:شہزاد قریشی

    مبشر لقمان،جرات مندانہ صحافت، مضبوط آواز،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستانی میڈیا کے منظرنامے میں مبشر لقمان ایک ایسا نام ہے جس نے اپنے منفرد انداز، جرات مندانہ مؤقف اور براہِ راست گفتگو کے ذریعے اپنی ایک الگ پہچان قائم کی۔ وہ ان چند اینکرز میں شمار ہوتے ہیں جو محض خبروں کی ترسیل تک محدود نہیں رہے بلکہ قومی اور بین الاقوامی معاملات پر واضح رائے دے کر عوام کو سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔

    مبشر لقمان کا صحافتی سفر کئی نشیب و فراز سے گزرا، مگر انہوں نے ہر دور میں خود کو ایک “آواز” کے طور پر منوایا۔ چاہے وہ ٹی وی اسکرین ہو یا ڈیجیٹل پلیٹ فارم، انہوں نے ہمیشہ بروقت معلومات فراہم کرنے کو اپنا فرض سمجھا۔ بطور سی ای او باغی ٹی وی، انہوں نے جدید میڈیا کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے آن لائن صحافت کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا، جہاں لمحہ بہ لمحہ خبریں اور تجزیے عوام تک پہنچائے جاتے ہیں۔

    حالیہ پاک-بھارت کشیدگی کے دوران، مبشر لقمان نے جس طرح مسلسل اپڈیٹس اور تجزیے فراہم کیے، وہ ان کی پیشہ ورانہ ذمہ داری کا واضح ثبوت ہے۔ اسی طرح مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال پر بھی ان کی نظر گہری رہی ہے، اور انہوں نے اپنے پلیٹ فارمز کے ذریعے عوام کو باخبر رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔

    صحافت محض خبر دینا نہیں، بلکہ ذمہ داری، دیانت اور الفاظ کے درست استعمال کا نام ہے۔ ایسے میں جب کسی بھی شخصیت کے بارے میں غیر مناسب یا توہین آمیز زبان استعمال کی جائے تو یہ نہ صرف اس فرد بلکہ مجموعی صحافتی اقدار کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ ناصر ادیب جیسے افراد کو بھی اس حساسیت کو مدنظر رکھنا چاہیے کہ الفاظ کا انتخاب معاشرتی فضا پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔

    مبشر لقمان کی شخصیت کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ وہ مشکل حالات میں بھی اپنی رائے کے اظہار سے پیچھے نہیں ہٹتے۔ یہی جرات انہیں عام اینکرز سے ممتاز کرتی ہے۔ ان کے مداح صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ یورپ سمیت دنیا بھر میں موجود ہیں، جو ان کی تجزیاتی صلاحیتوں اور بے باک انداز کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
    آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ اختلافِ رائے ہر معاشرے کا حسن ہے، مگر اس اختلاف کو مہذب دائرے میں رکھنا ہی اصل شعور کی علامت ہے۔ مبشر لقمان جیسے صحافیوں کی خدمات کو سراہتے ہوئے ہمیں بطور معاشرہ برداشت، احترام اور مثبت مکالمے کو فروغ دینا ہوگا،کیونکہ یہی ایک صحت مند میڈیا اور مضبوط قوم کی بنیاد ہے۔

  • مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی صورتحال اور علی لاریجانی کا قتل،تحریر:فیض رحمان

    مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی صورتحال اور علی لاریجانی کا قتل،تحریر:فیض رحمان

    حالیہ دنوں میں ایران کے سینئر اور نسبتاً اعتدال پسند رہنما علی لاریجانی کا قتل مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک انتہائی اہم اور تشویشناک موڑ ہے۔ علی لاریجانی کا شمار ان عالمی اور علاقائی رہنماؤں میں ہوتا تھا جو تنازعات کو سفارتکاری اور پرامن بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے حق میں تھے۔ ان کی شہادت نہ صرف ایرانی قوم بلکہ عالمی امن کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ اس واقعے نے خطے میں جنگ کے بادلوں کو مزید گہرا کر دیا ہے اور کئی اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔

    اسرائیلی انٹیلی جنس کی رسائی اور عزائم
    اس واقعے کا سب سے تشویشناک پہلو اسرائیل کی ایرانی سیکیورٹی نظام میں گہری رسائی ہے۔ یہ سوال انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ اسرائیل کو ایرانی قیادت تک اتنی درست اور بروقت رسائی کیسے حاصل ہے؟ یہ دراصل اسرائیل کی جدید ‘ٹیکنالوجیکل انٹیلی جنس’ اور زمینی سطح پر موجود ‘ہیومن انٹیلی جنس’ (جاسوسی نیٹ ورک) کی کامیابی کا ثبوت ہے۔ اس دراندازی نے ایرانی سیکیورٹی کی خامیوں کو بے نقاب کرتے ہوئے اس کی اعلیٰ قیادت کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔

    دوسری جانب، اس حملے سے اسرائیل کے جنگی عزائم بھی کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ یہ کارروائی واضح کرتی ہے کہ اسرائیل خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کے بجائے اسے مزید بھڑکانے اور ایک وسیع تر جنگ کی طرف دھکیلنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ تاہم، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ عالمی طاقتیں اس تنازعے کو طویل کرنے کے حق میں نہیں ہیں اور اسے جلد از جلد سمیٹنے کی خواہش مند ہیں۔

    ایران کا غیر مرکزی (Decentralized) دفاعی نظام
    ان تمام تر نقصانات اور ہائی پروفائل ٹارگٹ کلنگز کے باوجود، یہ سمجھنا غلط ہوگا کہ ایران کی جنگی صلاحیت مفلوج ہو چکی ہے۔ ایران کے پاس متبادل قیادت کا ایک انتہائی مؤثر اور خودکار نظام موجود ہے۔ ان کے سیکیورٹی اور عسکری ڈھانچے میں قیادت کی کئی تہیں (Layers) بنائی گئی ہیں، جو کسی بھی اہم رہنما کی شہادت کی صورت میں فوری طور پر ان کی ذمہ داریاں سنبھال لیتی ہیں۔

    مزید برآں، ایرانی جنگی مشینری کسی ایک مرکز کی محتاج نہیں ہے۔
    ملک بھر میں تقریباً 33 آزاد یونٹس (Independent Units) موجود ہیں جو ایک طے شدہ حکمت عملی (Playbook) کے تحت ‘آٹو پائلٹ’ موڈ پر کام کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قیادت کے خلا کے باوجود ان کی جوابی کارروائی کی صلاحیت برقرار ہے۔ یہ جنگ روایتی طرز کی نہیں بلکہ ایک ‘غیر متناسب جنگ’ (Asymmetric Warfare) کی شکل اختیار کر چکی ہے، جہاں ایک علاقائی طاقت بڑی عالمی طاقتوں کے لیے دردِ سر بنی ہوئی ہے۔ اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ آبنائے ہرمز کے خطرات کے پیشِ نظر امریکی صدر کو نیٹو، یورپ اور حتیٰ کہ چین سے بھی مدد کی اپیل کرنی پڑ رہی ہے۔
    اندرونی محاذ: ایران کا اتحاد بمقابلہ امریکی تقسیم

    جنگ کے اندرونی اثرات کا جائزہ لیا جائے تو ایک حیران کن صورتحال سامنے آتی ہے۔ جنگ شروع ہونے سے قبل، ایران میں مذہبی حکومت کے خلاف شدید عوامی مظاہرے جاری تھے۔ تاہم، اس بیرونی حملے نے پوری ایرانی قوم کو بیرونی خطرے کے پیشِ نظر متحد کر دیا ہے۔ اندرونِ ملک اب حکومت کی مخالفت نہ ہونے کے برابر ہے، اور محض بیرونِ ملک مقیم تارکینِ وطن (Diaspora) کی جانب سے ہی تنقید کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔

    اس کے بالکل برعکس، اس جنگ کے سب سے بڑے حامی، یعنی امریکہ میں شدید اندرونی تقسیم پائی جاتی ہے۔ امریکی عوام کی ایک بڑی اکثریت اس جنگ کے خلاف ہے، اور یہ تقسیم اب وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ ترین ایوانوں تک پہنچ چکی ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس (JD Vance) بھی اس جنگ پر اپنے تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں۔ اس سے بھی بڑھ کر، وائٹ ہاؤس کے کاؤنٹر ٹیررزم انٹیلی جنس یونٹ کے ڈائریکٹر کا احتجاجاً استعفیٰ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ امریکی اسٹیبلشمنٹ کے اندر ایک بااثر طبقہ اس جنگ کو "امریکہ کی جنگ نہیں، بلکہ اسرائیل کی جنگ” سمجھتا ہے۔

    مختصراً یہ کہ علی لاریجانی جیسے اہم رہنماؤں کے نقصان کے باوجود، ایران کا بنیادی دفاعی اور عسکری ڈھانچہ بظاہر تباہ نہیں ہوا۔ بیرونی خطرے نے ایران کو اندرونی طور پر مستحکم کر دیا ہے، جبکہ دوسری جانب امریکہ اور اسرائیل کو شدید اندرونی اختلافات اور بڑھتے ہوئے عالمی دباؤ کا سامنا ہے۔

  • آبنائے ہرمز،اتحاد کی آزمائش یا نئی تقسیم؟تجزیہ :شہزاد قریشی

    آبنائے ہرمز،اتحاد کی آزمائش یا نئی تقسیم؟تجزیہ :شہزاد قریشی

    دنیا کی سب سے حساس بحری گزرگاہ، آبنائے ہرمز، ایک بار پھر عالمی سیاست کے مرکز میں ہے۔ اطلاعات کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانیہ اور نیٹو اتحادیوں سے اس اہم راستے کے تحفظ اور کھلے رکھنے کے لیے بھرپور تعاون نہ ملنے پر شکوہ کیا ہے۔ یہ شکوہ محض ایک بیان نہیں بلکہ مغربی اتحاد کے اندر بڑھتی ہوئی خلیج کا اشارہ بھی ہو سکتا ہے۔

    حقیقت یہ ہے کہ نیٹو کے رکن ممالک اس معاملے پر مکمل یکسو نہیں۔ کچھ یورپی ریاستیں مشرقِ وسطیٰ میں کسی بھی نئی عسکری مہم جوئی سے گریز چاہتی ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی معیشت دباؤ کا شکار ہے اور داخلی سیاسی مسائل سر اٹھا رہے ہیں۔ برطانیہ، جو تاریخی طور پر امریکہ کا قریبی اتحادی رہا ہے، اب ایک محتاط توازن قائم کرنے کی کوشش میں نظر آتا ہے—نہ مکمل لاتعلقی، نہ اندھا ساتھ۔

    یہ اختلاف دراصل ایک بڑے سوال کو جنم دیتا ہے: کیا نیٹو ایک دفاعی اتحاد کے طور پر اپنی اصل روح برقرار رکھے گا یا بدلتے عالمی حالات میں اس کے اندر ترجیحات کی نئی درجہ بندی ہوگی؟ امریکہ کی نظر میں آبنائے ہرمز کا کھلا رہنا عالمی توانائی کی فراہمی کے لیے ناگزیر ہے، مگر یورپ کے لیے یہ معاملہ صرف سلامتی نہیں بلکہ سفارتکاری اور استحکام کا بھی ہے۔

    مستقبل قریب میں تین ممکنہ راستے ابھرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اول، محدود اور علامتی تعاون جس سے اتحاد بھی برقرار رہے اور براہِ راست تصادم سے بھی بچا جا سکے۔ دوم، نیٹو کے اندر واضح تقسیم، جہاں چند ممالک امریکہ کے ساتھ کھڑے ہوں اور دیگر فاصلے پر رہیں۔ سوم، ایک وسیع تر سفارتی حل جس میں علاقائی طاقتوں کو شامل کر کے کشیدگی کم کی جائے۔اس تمام صورتحال میں سب سے اہم سوال یہی ہے،کیا مغرب ایک مشترکہ حکمتِ عملی تشکیل دے پائے گا یا یہ بحران ایک نئے عالمی توازن کی بنیاد رکھے گا؟ آبنائے ہرمز محض ایک سمندری راستہ نہیں، بلکہ یہ اس بات کا امتحان ہے کہ عالمی اتحاد دباؤ میں کس حد تک متحد رہ سکتے ہیں۔

  • سیاسی مخالفت یا معلوماتی جنگ؟ سرکاری طیارہ معاملہ خبر اور پروپیگنڈے.تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیاسی مخالفت یا معلوماتی جنگ؟ سرکاری طیارہ معاملہ خبر اور پروپیگنڈے.تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیاسی مخالفت یا معلوماتی جنگ؟ سرکاری طیارہ معاملہ خبر اور پروپیگنڈے کی حدیں واضح کرنے لگا

    الزامات، وضاحتیں اور سچ کی تلاش سرکاری طیارے کی بحث نے ذمہ دارانہ صحافت کا سوال کھڑا کر دیا

    سیاسی بیانیے اور سوشل میڈیا کی گرد میں چھپتے حقائق، سرکاری طیارہ بحث نے تحقیق اور تصدیق کی اہمیت بڑھا دی

    رپورٹ شہزاد قریشی

    پروپیگنڈا، حقیقت اور ذمہ دارانہ صحافت، حالیہ دنوں میں پنجاب حکومت کی جانب سے حاصل کیے گئے ایک سرکاری طیارے کے بارے میں سوشل میڈیا پر مختلف دعوے اور الزامات گردش کر رہے ہیں۔ ان الزامات کا رخ بالخصوص وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی طرف موڑنے کی کوشش کی گئی ہے۔ تاہم جب ان دعوؤں کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے کئی باتیں یا تو سیاق و سباق سے ہٹ کر بیان کی گئی ہیں یا پھر ان کی بنیاد غیر مصدقہ اطلاعات پر ہے۔حکومت پنجاب کے مطابق جس طیارے کو سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بنایا جا رہا ہے، وہ کوئی نیا جہاز نہیں بلکہ 2019 ماڈل کا طیارہ ہے، یعنی تقریباً سات سال پرانا۔ اس کے باوجود اسے ایک بالکل نئے اور مہنگے جہاز کے طور پر پیش کرنا حقیقت کے برعکس قرار دیا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ طیارہ قواعد و ضوابط کے مطابق حاصل کیا گیا اور اس کی مکمل تکنیکی جانچ اور کارکردگی کے جائزے کا عمل بھی اسی طریقہ کار کا حصہ ہے۔

    اسی تناظر میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ طیارہ آسٹریا کے دارالحکومت ویانا تک کسی نجی یا غیر ضروری سفر کے لیے بھیجا گیا۔ تاہم حکومتی وضاحت کے مطابق یہ پرواز دراصل طیارے کی تکنیکی جانچ اور کارکردگی کی تصدیق کے لیے تھی۔ ایوی ایشن کے معمول کے ضابطوں کے مطابق اس نوعیت کی ٹیسٹ پروازوں کے اخراجات عموماً فروخت کنندہ کمپنی برداشت کرتی ہے، تاکہ طیارے کی حفاظت، کارکردگی اور معیار کا مکمل جائزہ لیا جا سکے۔مزید برآں سوشل میڈیا پر یہ الزام بھی گردش کرتا رہا کہ جنید صفدر اپنی اہلیہ کے ساتھ اسی طیارے میں ویانا گئے۔ حکومتی موقف کے مطابق یہ دعویٰ بھی بے بنیاد ہے۔

    واضح رہے کہ بیرون ملک کسی بھی شہری کے سفر کا ریکارڈ امیگریشن نظام میں موجود ہوتا ہے، جس کی باآسانی تصدیق کی جا سکتی ہے۔ اس لیے اس نوعیت کے الزامات کو حقیقت کی کسوٹی پر پرکھنا مشکل نہیں۔ اس ساری بحث کے دوران ایک اور پہلو بھی سامنے رکھا گیا ہے کہ شریف خاندان کی ایک دیرینہ روایت رہی ہے کہ وہ رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں زیادہ تر وقت خاندان کے ساتھ گزارتے ہیں۔ ماضی میں سابق وزیراعظم نواز شریف بھی اپنی سیاسی مصروفیات کے باوجود اس مہینے کو خاندانی اجتماع اور عبادات کے لیے مخصوص رکھنے کی روایت نبھاتے رہے ہیں۔ اصل سوال یہاں یہ نہیں کہ ایک طیارہ کب خریدا گیا یا وہ کہاں گیا، بلکہ یہ ہے کہ کیا سوشل میڈیا کے اس دور میں کسی بھی خبر یا دعوے کو بغیر تصدیق کے پھیلانا مناسب ہے؟ جدید دور میں اطلاعات کی رفتار بہت تیز ہو چکی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ذمہ دارانہ صحافت اور حقائق کی تصدیق کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی اختلاف کو پروپیگنڈے کی شکل دینے کے بجائے حقائق کی بنیاد پر گفتگو کی جائے۔ اگر کسی معاملے میں سوالات ہیں تو انہیں شواہد اور دستاویزات کے ساتھ اٹھایا جانا چاہیے، نہ کہ قیاس آرائیوں اور غیر مصدقہ اطلاعات کے ذریعے۔ آخرکار جمہوری معاشروں میں شفافیت، احتساب اور ذمہ دارانہ مکالمہ ہی وہ راستہ ہے جو عوامی اعتماد کو مضبوط بناتا ہے اور سیاسی مباحثے کو صحت مند رکھتا ہے.