Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ہم بنیان المرصوص ہیں ،تحریر:بنت حوا

    ہم بنیان المرصوص ہیں ،تحریر:بنت حوا

    یہ قوم جب بھی اٹھی ہے حصار توڑ گئی
    ہر ایک ضرب سے دشمن کا غرور توڑ گئی

    قوموں کی زندگی میں کچھ الفاظ محض الفاظ نہیں ہوتے بلکہ ایک نظریہ ایک پیغام اور ایک عہد ہوتا-ہے ایسا ہی جملہ "ہم بنیان المرصوص ہیں "جو چند الفاظ نہیں بلکہ ایک قوم کی وہ لازوال علامت ہے جو اتحاد استقامت باہمی اعتماد اور اجتماعی طاقت کے ساتھ ایک قوم کی مضبوطی کا اعلان کرتی ہے اس کی پہچان بنتی ہے "بنیان المرصوص "جس کے معنی سیسہ پلائی ہوئی مضبوط دیوار ہیں جس کی ہر اینٹ دوسری کے ساتھ اس طرح مضبوطی سے جڑی ہوتی اسے ہلانا ممکن نہ ہو یہی حقیقت انسانی معاشرے پر بھی صادق آتی ہے جب قوم متحد ہو جاتی ہے تو ہر مشکل کا مقابلہ کر کے ممکن کو ناممکن بنا دیتی ہے ایسا ہی ایک سال قبل ہوا جب بزدل دشمن نے رات کی تاریکی میں وار کیا اور اس مشن کو سندور کا نام دیا جب جارحیت اشتعال انگیزی اور طاقت کے زعم میں یہ گمان کیا کہ پاکستان پر دباو ڈال کر مرعوب کیا جا سکتالیکن سلام ہے ہماری قوم ہماری افواج پاکستان خاص طور پر ہماری فضائیہ کے جوانوں کو جو ایسی دیوار کی مانند ہوئے جو فولاد کی ہی نہیں ایمان مہارت اور غیرت ملی سے بنی ہوئی تھی سلام ہے ہماری عسکری قیادت پرجنھوں نے دنیا پر واضح کر دیا کہ امن پسند ضرور ہیں مگر خود مختاری سالمیت اور قومی وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا نہ کرتے ہیں نہ کریں گے یہ وہ وقت تھا جب پوری قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ ایک جسم اور ایک آواز بن کر کھڑی ہو گئی یہ معرکہ عسکری حکمت عملی کا مظاہرہ نہیں تھا یہ دشمن کے غرور تکبر اور عددی برتری کے زعم کے خلاف ایک واضح پیغام تھا کہ جنگیں ہتھیاروں سے نہیں بلکہ عزم ذہانت تربیت اور یقین سے جیتی جاتی ہیں اور اس قومی یکجہتی سے جس نے اس دن پاکستان کو ناقابل تسخیر بنایا کون سے اختلافات کیسے اختلافات سب پس پشت چلا گیا نظریاتی تقسیم مٹ گئی اور ایک ہی شناخت تھی "پاکستان ”

    ہمارے شاہین جب دفاع وطن کے لئے حرکت میں آئے جدید ٹیکنالوجی بھی ان کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئی
    "غرور دشمن کو جب للکار ملی
    فضا کو شاہینوں کی للکار ملی”
    یہ کامیابی پوری دنیا کے سامنے اعلان تھا پاکستان کو آزمانے والے ہر بار تاریخ کے ملبے تلے دفن ہوں گے کیونکہ یہاں کا دفاع ان ہاتھوں میں ہے جو عزم و وفا والے ہیں اپنی نیند راحت اور اپنی جان تک وطن پر قربان کرنے کو اعزاز سمجھتے ہیں

    اور یہی وہ لمحہ تھا پوری دنیا نے پاکستان کی دفاعی صلاحیت کو تسلیم کیا معرکہ حق اور بنیان المرصوص پاکستان کے عزم واتحاد دفاعی طاقت کی علامت بن چکے ہیں "ہم بنیان المرصوص ہیں ایک نظریہ حیات ہے جو ہمیں اجتماعی ذمہ داری کا شعور دیتا ہے کہ ہم ایک دوسرے کی مدد کریں باہمی اختلافات کو بردباری اور حکمت سے حل کریں کیونکہ آج کے دور میں جب دنیا مختلف چیلنجز سازشوں انتشار اورفکری خلفشار کا شکار ہے "ہم بنیان المرصوص ہیں "پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر گیا آج کل کے جوان اس تصور کے حقیقی علمبردار بن سکتے ہیں وہ اپنے کردار عمل اور علم کے ذریعے لوگوں کے دلوں سے تعصب نفرت انتشار لسانی علاقائی سیاسی اور فرقہ وارانہ تقسیم ختم کر سکتے ہیں سوشل میڈیا اور جدید ذرائع ابلاغ کے ذریعے وہ مثبت سوچ کو فروغ دے سکتے ہیں

    ہم بنیان المرصوص ہیں ہمیں سبق دیتا ہے آزمائش کے سامنے ڈٹ جانا ہے یہ ایک ایسا پیغام جو ہمیں ہماری اصل طاقت کو احساس دلاتا ہے کہ قوت تعداد کی بجائے اتحاد میں ہے
    ہم اس جذبے کو محض یادگار تقریبات تک محدود نہ رکھیں بلکہ اس کو اپنے کردار کا حصہ بنائیں کیونکہ جب تک ہم بحیثیت قوم بنیان المرصوص بن کر کھڑے ہیں کوئی طاقت ہمیں شکست نہیں دے سکتی
    دیوار وہی مضبوط ہے جو اتحاد سے ہو فولاد بھی جھک جاتا ہے جب قوم بیدار ہو
    کیونکہ جب ہم متحد ہو جائیں تو ہم بنیان المرصوص ہوتے ہیں
    سوچئے گا ضرور اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین

  • ہم بنیان المرصوص ہیں،تحریر:دانیال حسن چغتائی

    ہم بنیان المرصوص ہیں،تحریر:دانیال حسن چغتائی

    قرآنِ کریم کی سورہ الصف کی چوتھی آیت میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے:
    ’’بے شک اللہ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی راہ میں (ایسے) صف بستہ ہو کر لڑتے ہیں گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار (بنیانٌ مرصوص) ہوں۔‘‘
    بنیان المرصوص مکمل ضابطہ حیات، عسکری حکمتِ عملی اور ایمانی قوت کا نچوڑ ہے۔ جب اینٹ سے اینٹ جڑتی ہے اور درمیان میں اخلاص کا گارا لگ جاتا ہے تو عمارت کسی بھی طوفان کے سامنے سرنگوں نہیں ہوتی۔ آج کے پرفتن دور میں، معرکہ حق و باطل اپنے پورے جوبن پر ہے، امتِ مسلمہ کے لیے یہ تصور ڈھال بھی ہے اور تلوار بھی ہے ۔

    مسلمان بہت تیزی سے زوال کا شکار ہو چکے ہیں اور اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنے ایمانی نصاب قران مجید کو چھوڑ دیا ہے اور پڑھنے تک محدود کر دیا ہے۔ جب ہم اسے سمجھ کر پڑھیں گے اور زندگی میں نافذ کریں گے تو ہی یہ حالات بدل سکیں گے ۔

    تاریخِ انسانی کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ کائنات کے اسٹیج پر خیر اور شر کی جنگ روزِ اول سے جاری ہے۔ ہابیل اور قابیل سے شروع ہونے والا یہ سفر، نمرود و ابراہیمؑ، فرعون و موسیٰؑ اور ابوجہل و حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوتا ہوا آج ہم تک پہنچا ہے۔

    ہمارے بزدل دشمن بھارت نے رات کی تاریکی میں بزدلانہ حملہ کر کے ہماری نوجوان نسل کو کہ دکھا دیا کہ تاریخ میں 1965 کے جو واقعات لکھے ہوئے ہیں وہ بالکل حقیقت پر مبنی ہیں اور پھر ہماری افواج نے بھی حکمت ، بصیرت و جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کے دانت جس طرح کھٹے کیے، وہ تادیر اس کو یاد رکھے گا اور دوبارہ امید ہے کہ ایسی حماقت سے باز رہے گا۔ ہمارے سپہ سالار نے صبح کی نماز کے ادائیگی کے بعد نعرہ لگاتے ہوئے جس طرح دشمن کو جواب دیا وہ تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ کے لیے رقم ہو چکا ہے اور ساتھ ہی دشمن کو یہ بھی بتا دیا گیا کہ
    کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ
    مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی
    نیز یہ کہ مسلمان دن کی روشنی میں لڑتا ہے۔ بزدلوں کی طرح رات کی تاریکی میں حملہ نہیں کرتا۔

    حق کا راستہ ہمیشہ دشوار گزار رہا ہے، لیکن اس کی جیت کا راز مادی وسائل میں نہیں بلکہ اس بنیان المرصوص والی کیفیت میں رہا ہے جہاں افراد اپنی انفرادی حیثیت کو ختم کر کے مقصدِ عظیم کے لیے فنا ہو جاتے ہیں۔ جب ہم کہتے ہیں کہ ہم بنیان المرصوص ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے اپنی انا، مسلک، نسل اور زبان کے بتوں کو پاش پاش کر کے حق کی بنیاد پر ایسی دیوار کھڑی کر دی ہے جس میں کوئی دراڑ ممکن نہیں اور یہی کچھ ہم نے پچھلے برس انہی دنوں میں دیکھا ۔

    کسی بھی عمارت کی مضبوطی کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ اس کے اجزا ایک دوسرے کو کتنا سہارا دیتے ہیں۔ دشمن ہمیشہ پہلا وار دیوار کی دراڑوں پر کرتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی مسلمانوں نے بنیان المرصوص کی صفت کو چھوڑا، وہ تاش کے پتوں کی طرح بکھر گئے۔ اندلس اس کی سب سے بڑی مثال ہے، جب بھائی بھائی کے خلاف غیروں سے مدد لینے لگا۔ سقوطِ بغداد میں علمی تکبر اور داخلی انتشار نے ہلاکو خان کے لیے راستے ہموار کیے۔

    آج کا معرکہ ٹینکوں اور طیاروں کا نہیں بلکہ نظریاتی یلغار کا ہے۔ دشمن ہمیں خانوں میں بانٹ کر کمزور کرنا چاہتا ہے۔ ایسے میں بنیان المرصوص ہونا یہ ہے کہ ایک مسلمان کی تکلیف دوسرے کا درد بن جائے۔ اگر جسم کے ایک حصے میں کانٹا چبھے تو تڑپ پوری آنکھ میں ہونی چاہیے۔
    ہم بنیان المرصوص اس وقت بنتے ہیں جب ہمارا کردار سچائی کی بنیاد پر استوار ہو۔ سیسہ پلائی ہوئی دیوار تب بنتی ہے جب سیسہ پگھل کر خلا کو بھر دیتا ہے۔

    ہر عمل کی بنیاد اللہ کی رضا ہو۔ صف بستہ ہونا سکھاتا ہے کہ لیڈر کے ایک اشارے پر پوری سپاہ حرکت میں آئے۔ اپنی ضرورت پر دوسرے بھائی کی ضرورت کو ترجیح دی جائے ۔
    آج کے معرکہ حق میں ہماری سرحدیں معیشت، تعلیم، میڈیا اور ہماری نوجوان نسل یہ سب محاذ ہیں۔ اگر ہمارا تاجر دیانتدار ہے، طالب علم محنتی ہے اور سپاہی نڈر ہے تو ہم بحیثیت قوم ایسی دیوار ہیں جسے ابلیسی قوتیں کبھی گرا نہیں سکتیں۔

    موجودہ عالمی حالات میں، جہاں فلسطین سے لے کر کشمیر تک اور دنیا کے ہر گوشے میں حق کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے، وہاں بنیان المرصوص کا نعرہ نئی امید بن کر ابھرتا ہے۔ یہ نعرہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم تنہا نہیں ہیں، ہم جسدِ واحد ہیں۔
    ہمارا قبلہ ایک ہے، ہماری کتاب ایک ہے اور ہمارا مقصدِ حیات ایک ہے۔ باطل کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، اس کی بنیادیں ریت کی طرح ہوتی ہیں۔ حق کے پیچھے الٰہی نصرت ہوتی ہے۔ جب ایمان والے ایک صف میں کھڑے ہو جاتے ہیں تو ابابیلوں کے لشکر اترتے ہیں اور کنکر بھی ایٹم بم سے زیادہ طاقتور ثابت ہوتے ہیں۔

    معرکہ حق میں جیت بنیان المرصوص بن کر دکھانے سے ملتی ہے۔ ہمیں اپنے اندر کی دراڑیں بھرنی ہوں گی۔ ہمیں فرقہ واریت، لسانیت اور صوبائیت کے زہر کو نکال کر محبت اور یگانگت کا امرت پینا ہوگا۔
    فرد قائم ربطِ ملت سے ہے، تنہا کچھ نہیں
    موج ہے دریا میں اور بیرونِ دریا کچھ نہیں

    ہم وہ اینٹ بنیں گے جو گرتی ہوئی دیوار کو سہارا دیتی ہے، نہ کہ وہ جو دیوار کے گرنے کا سبب بنتی ہے۔ ہم وہ سیسہ بنیں گے جو صفوں کے درمیان خلا کو ختم کر دیتا ہے۔ کیونکہ جب ہم ایک ہو جاتے ہیں تو ہم وہ دو دھاری تلوار بن جاتے ہیں جو باطل کو جڑ سے اکھاڑ پھینکتی ہے۔ ہم بنیان المرصوص ہیں۔ یہی ہماری پہچان ہے، یہی ہماری طاقت ہے اور یہی ہماری فتح کی ضمانت ہے۔

  • ہم بنیانِ مرصوص ہیں،تحریر: بینا علی

    ہم بنیانِ مرصوص ہیں،تحریر: بینا علی

    22 اپریل 2025 کو جموں و کشمیر میں سیاحوں پر ہونے والے حملے میں 26 شہری جاں بحق ہوئے۔ اس المناک واقعے کے فوراً بعد بھارت نے بغیر کسی تحقیق کے اس کا الزام پاکستان پر عائد کر دیا۔ یہ الزام تراشی محض ایک بہانہ تھی، جس کے ذریعے خطے میں ایک نئی جنگی فضا پیدا کی گئی۔ 7 مئی کو بھارت نے ایک فوجی کارروائی کا آغاز کیا، جسے آپریشن سندور کا نام دیا گیا۔ بقولِ بھارت، اس آپریشن کا مقصد پاکستان اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں موجود دہشت گردی کے ڈھانچے کو نشانہ بنانا تھا۔ مگر درحقیقت یہ کارروائی شہری آبادی، مذہبی مراکز اور دفاعی تنصیبات پر مشتمل تھی۔

    ان کے اہداف میں مریدکے مرکزِ طیبہ، بہاولپور میں جیشِ محمد کا مرکز، اور مظفرآباد کے نواحی علاقے، خصوصاً شوائی نالہ شامل تھے۔ مظفرآباد کے پہاڑوں میں گونجتی ہوئی دھماکوں کی آوازیں رات کے سکوت کو چیر گئیں۔ اسکول بند ہو گئے، امتحانات ملتوی کر دیے گئے۔میں خود مظفرآباد شہر سے تعلق رکھتی ہوں اور چشم دید گواہ ہوں جب اچانک شوائی نالہ کے علاقے میں بھارت کی جانب سے گولہ باری شروع ہوئی تو پہاڑ لرز اٹھے۔ مگر یہاں کے لوگ ثابت قدمی، ہمت اور حوصلے سے کھڑے رہے۔ وہ بے خوف ہو کر اپنے گھروں میں رہے، اور اللہ تعالیٰ سے اپنی فوج کی کامیابی کے لیے دعائیں مانگتے رہے۔ یہ منظر کسی بھی قوم کے لیے فخر کا باعث ہے۔ اس سندور کو جلد ہی بیوگی کی چادر اوڑھنا پڑی، جب 10 مئی کو اس کا جواب بنیانِ مرصوص کے نام سے دیا گیا۔ یہ نام محض ایک عسکری اصطلاح نہ تھی، بلکہ قوم کے اتحاد کا اعلان تھا۔
    "ان اللہ یحب الذین یقاتلون فی سبیلہ صفا کانھم بنیان مرصوص”
    ترجمہ:” بے شک اللہ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی راہ میں صف بستہ ہو کر اس طرح لڑتے ہیں گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔”

    بنیان یعنی عمارت یا دیوار، اور مرصوص یعنی سیسہ پلائی، ایسی مضبوطی جس میں کوئی دراڑ نہ ہو۔ دشمن شاید یہ بھول گیا کہ ہم بنیان المرصوص ہیں۔ ہم وہ قوم ہیں جو اتحاد، حوصلے اور یقین کی قوت سے سیسہ پلائی دیوار بن جاتی ہے۔ ناقابلِ تسخیر، ناقابلِ شکست۔ ہم وہ ہیں جو 313 کی یاد تازہ کرتے ہیں۔ ہم وہ ہیں جو کم ہو کر بھی بھاری پڑتے ہیں۔ ہم خیبر شکن ہیں، وہ عزم رکھتے ہیں جو دروازے اکھاڑ دے۔ ہم بدر کے وارث ہیں، ہم خندق کے محافظ ہیں۔ ہم خالد بن ولید کے سپاہی ہیں، ہم طارق بن زیاد کی جرات رکھتے ہیں، ہم صلاح الدین ایوبی کی غیرت کے امین ہیں۔ مظفرآباد کے پہاڑ جب گونجے تو وہ صرف بارود کی آواز نہ تھی، بلکہ غیرتِ وطن کی صدا تھی۔ آپریشن سندور کے دوران اس خطے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، مگر وہاں کے لوگوں کے حوصلے اور دفاعی عزم نے یہ واضح کر دیا کہ یہ سرزمین جھکنے والی نہیں۔ ہر گونج کے جواب میں ایک عزم ابھرا، ہر حملے کے مقابل ایک حوصلہ کھڑا ہوا اور پھر جواب آیا، ایسا جواب جو صرف دفاع نہیں بلکہ پیغام تھا۔ سرحد کے اُس پار کی گئی جوابی کارروائی نے دشمن کو حیران کر دیا۔ یہ حکمت، مہارت اور جرات کا ایسا امتزاج تھا جس نے واضح کر دیا کہ ہم صرف اپنے حصار میں محدود نہیں، بلکہ وقت آنے پر دشمن کے میدان میں جا کر بھی اپنی طاقت کا لوہا منوا سکتے ہیں۔ 10 مئی کو فجر کے وقت شروع ہونے والا یہ مرحلہ شام تک جاری رہا۔ پاک فضائیہ نے دشمن کی فضائی برتری کو توڑا، اور زمینی افواج نے سرحدوں پر فولادی دیوار کھڑی کر دی۔ پاکستان نے 26 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں 15 ایئربیسز بھی شامل تھیں۔ رافیل جیسے جدید طیارے، جنہیں دنیا کے بہترین لڑاکا طیاروں میں شمار کیا جاتا ہے، بھی پاکستانی جانبازوں کے عزم کے سامنے بے بس ہو گئے۔ ہماری صفیں جب بنتی ہیں تو صرف لشکر نہیں بنتا، ایک دیوار بنتی ہے ۔ بنیان المرصوص! یہ دیوار صرف ہتھیاروں سے نہیں، بلکہ عوام اور افواج کے اتحاد سے بنی تھی۔ میڈیا نے قومی بیانیے کو مضبوط کیا، اور سوشل میڈیا پر ہر پاکستانی نے فوج کے لیے دعائیں اور نعرے بلند کیے۔

    جدید جنگی سازوسامان بھی اس عزم کے سامنے بے معنی ہو جاتا ہے، جب مقابل ایمان، مہارت اور حوصلے سے ہو۔ پاکستانی جانبازوں نے اپنے عمل سے یہ ثابت کیا کہ دفاعِ وطن محض ذمہ داری نہیں، یہ ایمان کا حصہ ہے۔ ہر پائلٹ، ہر سپاہی، ہر کمانڈر نے یہ ثابت کیا کہ ہمارا جذبہ دشمن سے کہیں بلند ہے۔ آخرکار عالمی ثالثی کے ذریعے شام کو سیز فائر پر اس کا اختتام ہوا۔ اس دوران دشمن کو واضح پیغام دیا گیا کہ امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ پاکستان نے ہمیشہ امن کا ہاتھ بڑھایا ہے، مگر جب جنگ مسلط کی جائے تو ہم پوری قوت سے جواب دینا جانتے ہیں۔ اس پورے مرحلے میں پاکستانی اور کشمیری عوام اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑے رہے۔ مائیں دعاؤں میں مصروف رہیں، نوجوان جذبے سے لبریز رہے، اور ہر دل ایک ہی صدا دے رہا تھا: ہم ایک ہیں، ہم متحد ہیں۔ ہر گھر میں قومی پرچم لہرایا گیا۔ یہ وہ منظر تھا جس نے دنیا کو دکھا دیا کہ پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کی عوام ہے۔
    ہم بنیانِ المرصوص ہیں

    ہم خیبر شکن ہیں، ہم سیسہ پلائی دیوار ہیں۔ ہم وہ قوم ہیں جو ٹوٹتی نہیں، جھکتی نہیں، انتشار میں بھی وطن کے نام پر متحد ہو جاتی ہے۔ یہ وطن ہماری پہچان ہے۔ اس کا دفاع ناقابلِ تسخیر ہے۔

  • ہم بنیانِ مرصوص ہیں،تحریر: ڈاکٹر مریم خالد

    ہم بنیانِ مرصوص ہیں،تحریر: ڈاکٹر مریم خالد

    10 مئی 2025 جنوبی ایشیا کی تاریخ میں ایک اہم دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا، جب خطے میں کشیدگی اپنے عروج پر تھی اور پاکستان کو ایک نازک صورتحال کا سامنا تھا۔ ایسے وقت میں پوری قوم نے جس اتحاد، یکجہتی اور عزم کا مظاہرہ کیا، وہ “ہم بنیانِ مرصوص ہیں” کی حقیقی تصویر تھا۔ یہ محض ایک نعرہ نہیں بلکہ وہ جذبہ ہے جو کسی بھی قوم کو آزمائش کی گھڑی میں ناقابلِ تسخیر بنا دیتا ہے۔

    “بنیانِ مرصوص” ایک قرآنی اصطلاح ہے جس کا مطلب ہے سیسہ پلائی ہوئی دیوار۔ ایسی مضبوط دیوار جس کی ہر اینٹ دوسری اینٹ سے اس طرح جڑی ہو کہ کوئی طاقت اسے کمزور نہ کر سکے۔ 10 مئی کے حالات نے ثابت کیا کہ جب قوم متحد ہو، جب ہر فرد اپنے ذاتی اختلافات بھلا کر قومی مفاد کو ترجیح دے، تو وہ ایک مضبوط دیوار کی مانند ہر چیلنج کے سامنے ڈٹ سکتی ہے۔

    تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ معرکے صرف ہتھیاروں سے نہیں جیتے جاتے بلکہ قوموں کے حوصلے، اتحاد اور نظریاتی قوت فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔ مئی 2025 کی کشیدہ فضا میں پاکستانی قوم نے جس صبر، استقامت اور یکجہتی کا مظاہرہ کیا، اس نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ یہ قوم آزمائش کے وقت بکھرتی نہیں بلکہ مزید مضبوط ہو جاتی ہے۔

    اس موقع پر سب سے قابلِ ذکر بات یہ تھی کہ قوم کے مختلف طبقات—طلبہ، اساتذہ، ڈاکٹرز، صحافی، مزدور، کسان اور سیاسی حلقے—سب ایک آواز بن گئے۔ اختلافات اپنی جگہ موجود تھے، لیکن قومی مفاد کے معاملے پر ہر شخص ایک ہی صف میں کھڑا دکھائی دیا۔ یہی “بنیانِ مرصوص” کی روح ہے کہ ذاتی نظریات اور مفادات سے بلند ہو کر اجتماعی مقصد کے لیے متحد ہو جانا۔

    ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا نے بھی اس دوران اہم کردار ادا کیا۔ جہاں ایک طرف افواہوں اور غلط اطلاعات کے پھیلاؤ کا خطرہ تھا، وہیں باشعور شہریوں نے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے تصدیق شدہ معلومات کو ترجیح دی۔ اس طرزِ عمل نے یہ ثابت کیا کہ جدید دور میں قومی دفاع صرف سرحدوں پر نہیں بلکہ اطلاعاتی محاذ پر بھی ہوتا ہے، اور اس محاذ پر بھی اتحاد ناگزیر ہے۔

    10 مئی کے حالات نے نوجوان نسل کو بھی ایک اہم سبق دیا۔ نوجوانوں نے مختلف پلیٹ فارمز کے ذریعے اپنے قومی شعور کا اظہار کیا اور یہ دکھایا کہ حب الوطنی صرف جذباتی نعروں کا نام نہیں بلکہ ذمہ دارانہ کردار ادا کرنے کا تقاضا کرتی ہے۔ ایک باشعور نوجوان ہی مستقبل میں قوم کو مزید مضبوط بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔

    یہ حقیقت بھی قابلِ غور ہے کہ بیرونی دباؤ اکثر اندرونی اتحاد کو مضبوط کر دیتا ہے۔ جب قوم کو احساس ہوتا ہے کہ اس کی سلامتی، آزادی اور وقار داؤ پر لگا ہے تو وہ اپنے اختلافات پسِ پشت ڈال دیتی ہے۔ مئی 2025 کے حالات میں بھی یہی منظر دیکھنے کو ملا۔ سیاسی وابستگیوں، علاقائی تقسیم اور فکری اختلافات سے بالاتر ہو کر قوم نے یکجہتی کا ثبوت دیا۔

    تاہم اصل امتحان صرف ہنگامی حالات میں اتحاد دکھانے کا نہیں بلکہ امن کے دنوں میں بھی اسی جذبے کو برقرار رکھنے کا ہے۔ اگر ہم واقعی “بنیانِ مرصوص” بننا چاہتے ہیں تو ہمیں روزمرہ زندگی میں بھی باہمی احترام، برداشت اور ذمہ داری کو فروغ دینا ہوگا۔ تعلیمی اداروں، گھروں اور سماجی حلقوں میں اتحاد و نظم کی تربیت دینا ہوگی تاکہ یہ جذبہ وقتی نہ رہے بلکہ قومی مزاج بن جائے۔

    ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ایک مضبوط قوم صرف طاقت سے نہیں بنتی بلکہ اس کی اصل قوت اس کے شہریوں کی فکری پختگی، اخلاقی استحکام اور اجتماعی شعور میں ہوتی ہے۔ اگر ہر فرد اپنی ذمہ داری دیانت داری سے ادا کرے، قانون کی پاسداری کرے، اور قومی مفاد کو مقدم رکھے تو پوری قوم واقعی ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن سکتی ہے۔

    10 مئی 2025 ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ مشکل حالات میں اتحاد ہی سب سے بڑی طاقت ہے۔ جب پوری قوم ایک مقصد کے تحت یکجا ہو جائے تو بڑے سے بڑا چیلنج بھی چھوٹا محسوس ہونے لگتا ہے۔ یہی وہ پیغام ہے جو “ہم بنیانِ مرصوص ہیں” ہمیں دیتا ہے۔

    آئیں ہم عہد کریں کہ ہم صرف آزمائش کے وقت ہی نہیں بلکہ ہر دن اس جذبے کو زندہ رکھیں گے۔ ہم اختلاف کے باوجود انتشار کا شکار نہیں ہوں گے، ہم تنوع کے باوجود متحد رہیں گے، اور ہم ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر پاکستان کی ترقی، سلامتی اور استحکام کے لیے ایک مضبوط دیوار کی مانند کھڑے رہیں گے۔
    کیونکہ جب ایک قوم “بنیانِ مرصوص” بن جاتی ہے تو کوئی طاقت اسے کمزور نہیں کر سکتی۔

  • ھم بنیان المرصوص ہیں ،تحریر۔ جان محمد رمضان

    ھم بنیان المرصوص ہیں ،تحریر۔ جان محمد رمضان

    آج بھارت سے جنگ جیتے پورا ایک سال مکمل ہوا ھے جس پر ہم فاتح بنیان المرصوص فیلڈمارشل حافظ سید عاصم منیر صاحب کو سلام پیش کرتے ہیں بنیان المرصوص (سیسہ پلائی دیوار) کی طرح عوام نے اپنی افواج کا ساتھ دیا اور افواج پاکستان کی بری فضائیہ نے بھی بنیان المرصوص کی طرح دشمن کو ناکوں چنے چبوائے اور دنیا کو باور کروایا کہ ہم بنیان المرصوص ہیں کوئی بھی کسی بھی طرح دشمن کے جھانسے میں آکر ہمیں توڑ نہیں سکتا ہمیں فخر ھے کہ ہمارا سپہ سالار حافظ سید عاصم منیر ھے جنہوں نے بروقت دشمن کی چالوں کو بھانپتے ہوئے بنیان المرصوص بن گئے اک نام نہاد سیاسی گروہ کے ذریعے دشمن نے سٹریٹ موومنٹ نکالنے کی مذموم کوشش کی جوکہ ہمارے اداروں نے ناکام بناتے ہوئے اس نام نہاد جماعت کو ٹکڑوں میں تقسیم کرکے ان کے ناپاک عزائم عوام کے سامنے رکھے تاکہ عوام بنیان المرصوص کی طرح دشمنوں کے آلہ کاروں کو بھی نست و نابود کردے
    دشمن چار گھنٹے ہماری افواج کی گرج برداشت نہ کرسکا

    بنیان المرصوص کا نتیجہ ھے کہ دنیا نے مانا کہ ہم بنیان المرصوص ہیں مجھے اپنی افواج سے محبت ھے جس کی بدولت ہم دنیا بھر میں سرخرو ہوئے ہم نے پہلی جنگیں نہیں دیکھیں کتابوں میں پڑھی ہیں مگر ھم خوش نصیب ہیں کہ ہم نے اس جنگ میں دشمن کو شکست دی جو کہ تیسری عالمی جنگ کی ابتدا تھی ہم بنیان المرصوص کے فاتح ہیں ہم اپنے بچوں کو کہانیاں سنایا کریں گے جیسے ہمارے باپ دادا ہمیں پینسٹھ کی جنگ کی کہانیاں سنایا کرتے تھے ہم انہیں بتائیں گے کہ اک جرنیل تھا جس نے ہمیں بنیان المرصوص بنایا اور فاتح بنیان المرصوص بنایا جو کہتا تھا اگر ہمیں محسوس ہوا ہم ڈوب رہے ہیں تو ہم آدھی دنیا کو دھواں کردیں گے سلام فیلڈمارشل حافظ سید عاصم منیر سلام

    ہمیں سلامتی وطن کیلئے افواج پاکستان کا ساتھ دینا ھے نا کہ کسی بھی سیاسی جماعت یا گروہ کا حصہ بننا ہم اپنی افواج کے ساتھ شانہ بشانہ بنیان المرصوص کی طرح ہیں ہم افواج ہیں ہم پاکستان ہیں ہم پاسباں ہیں اے وطن تیرے نگہبان ہم ہیں

  • ہم بنیان مرصوص ہیں،تحریر: ثناء اسلم

    ہم بنیان مرصوص ہیں،تحریر: ثناء اسلم

    "ہم بنیان المرصوص ہیں” ایک بامعنی اور ولولہ انگیز جملہ ہے جو قرآن مجید کی سورۃ الصف کی آیت نمبر 4 سے لیا گیا ہے۔ترجمہ:
    بے شک اللہ اُن لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اُس کی راہ میں صف باندھ کر لڑتے ہیں، گویا کہ وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔
    اس کا مطلب ہے "سیسہ پلائی ہوئی دیوار”۔ یہ دو عربی الفاظ پر مشتمل ہے: "بنیان” یعنی دیوار، اور "مرصوص” یعنی سیسہ سے مضبوط کی گئی۔یہ محض ایک لفظی ترکیب نہیں بلکہ اتحاد، استقامت اور ناقابلِ تسخیر طاقت کی علامت ہے۔

    اپریل 2025 میں بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں ایک حملہ پیش آیا، جس کا الزام بھارت نے پاکستان پر عائد کیا۔ پاکستان نے اس الزام کو مسترد کر دیا، مگر کشیدگی میں کمی نہ آئی۔ بالآخر 7 مئی کی رات بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں کئی مساجد کو نقصان پہنچا اور معصوم شہری شہید ہوئے، جن میں 15 بچے اور 7 خواتین شامل تھیں۔ بھارت نے دعویٰ کیا کہ یہ حملہ دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر کیا گیا، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس تھے۔

    اس سانحے کے بعد پورے ملک میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی، مگر اس کے ساتھ ساتھ عزم اور حوصلہ بھی بلند ہوا۔ پاک فوج اور عوام نے متحد ہو کر دشمن کو جواب دینے کا فیصلہ کیا۔ یہ صرف فوج کی جنگ نہیں تھی بلکہ ہر شہری نے اپنے اپنے میدان میں کردار ادا کیا۔ میڈیا، نوجوان اور سائبر ماہرین نے معلوماتی محاذ پر بھرپور حصہ لیا۔

    ابتدائی طور پر پاک فوج کی خاموشی کو دشمن نے کمزوری سمجھا، مگر درحقیقت یہ ایک حکمت عملی تھی۔ 10 مئی کی صبح فجر کے بعد پاکستان نے "آپریشن بنیان المرصوص” کے تحت بھرپور جوابی کارروائی کی۔ یہ حملہ کھلے عام اور پوری تیاری کے ساتھ کیا گیا، جس سے دنیا کو واضح پیغام ملا کہ پاکستان اپنے دفاع میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کرے گا۔

    اس آپریشن کے دوران پاکستان نے بھارت کے کئی طیارے مار گرائے اور دشمن کو بھاری نقصان پہنچایا۔ پاک فضائیہ، بری اور بحری افواج نے مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کام کرتے ہوئے دشمن کی صفوں میں کھلبلی مچا دی۔ اس کے ساتھ ساتھ عوام نے بھی غیر معمولی جذبے کا مظاہرہ کیا۔ حتیٰ کہ دشمن کی جانب سے بھیجے گئے ڈرونز کو ناکام بنانے میں بھی شہریوں نے فوج کا ساتھ دیا۔

    یہ آپریشن صرف ایک فوجی کارروائی نہیں تھا بلکہ قومی اتحاد اور ایمان کی ایک زندہ مثال بن گیا۔ 12 مئی 2025 کو اس کامیابی کو "معرکہ حق” کے طور پر منایا گیا، جبکہ بھارت کی جانب سے جنگ بندی کی درخواست اس بات کا ثبوت تھی کہ پاکستان نے اس معرکے میں برتری حاصل کی۔

    آخر میں یہ کہنا بجا ہے کہ "بنیان المرصوص” صرف ایک اصطلاح نہیں بلکہ ایک نظریہ ہے۔ یہ اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان ایک مضبوط، متحد اور ناقابلِ شکست قوم ہے۔ ایک ایسی قوم جو اپنے ایمان، اصولوں اور حب الوطنی کے سیسہ سے جڑی ہوئی ہے، اور جسے کوئی بھی دشمن اپنے ناپاک عزائم سے متزلزل نہیں کر سکتا۔
    پاکستانی وہ قوم ہیں جو بے چینی، افراتفری اور جلدبازی میں بھی وہ کام کر جاتی ہے جو کسی نے سوچا بھی نہ ہو۔ جہاں یہ امن، وطن اور قوم سے محبت کے معاملے میں ہر خوف کے ماحول میں بھی خالصتاً پاکستانی ہونے کا ثبوت دیتے ہیں۔

    جہاں "جنگ” کا نام سن کر لوگ کانپ اٹھتے ہیں، وہیں پاکستانی قوم ناممکن کو ممکن بنا کر دشمنوں کو ششدر کر دیتی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو سینے میں آگ لے کر نکلنا جانتے ہیں۔

    یہ اپنے شہیدوں کے لیے افسردہ ہونے کے بجائے ان کا نام لے کر ایسی آگ بھڑکاتے ہیں جو شعلوں میں بدل جاتی ہے۔ یہ اپنے گھروں سے نکل کر بے تاب ہو رہے ہیں۔

    پوری دنیا دیکھے گی کہ اس ارضِ پاک ایک ایسا ملک ہے جس کے باشندے لہو بہتے دیکھ کر بھی "اف” نہیں کرتے۔ بلکہ وہ دشمن کے سامنے کانپنے کے بجائے مل کر لڑنے کو تیار ہیں۔

    اپنی شہادت کا بدلہ لینے کے لیے ان کی پکار پر پوری قوم کی فوج کھڑی ہے جو ہر وقت ان کے ساتھ ہے۔ ہمارے ننھے اور معصوم بچے بھی گھروں میں کھلونے کے ٹینک اور میزائل بنانے کی کوششوں میں لگے ہیں۔ ہمارے بزرگ بھی جان دینے کو تیار ہیں۔
    مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ اس بھائی چارے کو لے کر ہم سب اس طرح دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑے ہوتے ہیں کہ دشمن کی نسلیں کانپ اُٹھیں۔

    بھائی چارے کی یہ دیوار حب الوطنی، محبت اور انسانیت کے سیمنٹ سے مزید مضبوط کر دی ہے۔ ہم نے اس جنگ کے موقع پر واقعی دشمن کو "بنیانِ مرصوص” بن کر دکھا دیا ہے۔

    ہماری یہ دیوار کبھی ٹوٹ نہیں سکتی اور دشمن ہمیشہ منہ کی کھائے گا۔ کیونکہ ہماری یہ دیوار اینٹوں سے نہیں بلکہ خالقِ کائنات کے عشق سے بنی ہے۔

    ہم اپنی طاقتوں سے زیادہ اپنے رب اور ایمان پر یقین رکھتے ہیں۔ ہماری طاقت آپس کی محبت اور بھائی چارہ ہے۔ ہم وہ قوم ہیں جو جنگ میں مرنے نہیں، بلکہ اگر جنگ ہو جائے تو جیتنے کے لیے نکلتے ہیں۔

    7 مئی سے 10 مئی تک کے اس واقعے نے دنیا کو بتا دیا کہ ہم قوم "بنیانِ مرصوص” ہے، اور ہمیشہ رہے گی۔

  • ہم بنیانِ مرصوص ہیں،تحریر: عامر عباس ناصر اعوان

    ہم بنیانِ مرصوص ہیں،تحریر: عامر عباس ناصر اعوان

    "قومیں اس وقت نہیں ٹوٹتیں جب دشمن حملہ کرتا ہے، بلکہ اس وقت ٹوٹتی ہیں جب دل ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں۔”

    رات کی سیاہی اپنے دامن کو زمین پر پھیلا چکی تھی۔ فضا میں ایک عجیب سا سکوت تھا، جیسے وقت خود رک کر کسی فیصلے کا منتظر ہو۔ اچانک ایک زور دار دھماکہ ہوا، زمین لرز اٹھی، اور ایک نوجوان سپاہی زخمی حالت میں زمین پر گر پڑا۔ اس کے سینے سے خون بہہ رہا تھا، سانسیں بوجھل ہو رہی تھیں، مگر آنکھوں میں ایک عجیب سی روشنی تھی۔
    اس نے لرزتے ہونٹوں سے آسمان کی طرف دیکھا اور آہستہ سے کہا:
    “یا اللہ… میری قوم کو کبھی بکھرنے نہ دینا…”
    یہ الفاظ کسی ایک سپاہی کے نہیں تھے، یہ پوری قوم کی روح کی آواز تھے۔ یہی وہ جذبہ ہے جسے قرآنِ مجید نے یوں بیان کیا:
    “إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا كَأَنَّهُم بُنْيَانٌ مَّرْصُوصٌ”
    (بے شک اللہ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی راہ میں اس طرح صف بستہ ہو کر کھڑے ہوتے ہیں گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں)

    “بنیانِ مرصوص” محض ایک لفظ نہیں، یہ ایک زندہ احساس ہے، ایک ایسا عہد جو دلوں کو جوڑتا ہے۔ یہ وہ کیفیت ہے جب انسان اپنی ذات سے اوپر اٹھ کر “ہم” بن جاتا ہے، جب قربانیاں مشترک ہو جاتی ہیں، اور جب ہر فرد خود کو ایک بڑی دیوار کی اینٹ سمجھنے لگتا ہے۔

    ہماری تاریخ اس جذبے کی روشن مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ وہ مائیں جنہوں نے اپنے جگر کے ٹکڑوں کو وطن کے نام کیا، وہ بہنیں جنہوں نے دعاؤں کے سائے میں اپنے بھائیوں کو رخصت کیا، اور وہ بچے جو باپ کے سائے سے محروم ہو گئے مگر سر فخر سے بلند رکھا،یہ سب بنیانِ مرصوص کی زندہ تصویریں ہیں۔
    لہو سے سینچی گئی ہے یہ مٹی کی حرمت
    یہ قرض ہم پہ ہے، اس کو سنبھالے رکھنا
    جب قیامِ پاکستان کا خواب حقیقت بنا تو یہ کسی ایک فرد کی جدوجہد نہیں تھی، بلکہ ایک متحد قوم کی قربانیوں کا نتیجہ تھا۔ وہ لوگ جو مختلف زبانیں بولتے تھے، مختلف علاقوں سے تعلق رکھتے تھے، مگر ان کے دل ایک ساتھ دھڑکتے تھے۔ یہی اتحاد ان کی اصل طاقت تھا۔
    مگر آج… دل ایک سوال سے بوجھل ہو جاتا ہے۔

    کیا ہم وہی قوم ہیں؟
    ہم نے اپنے درمیان نفرت کی دیواریں کھڑی کر لی ہیں۔ کبھی زبان کے نام پر، کبھی فرقے کے نام پر، اور کبھی ذاتی مفادات کی بنیاد پر ہم ایک دوسرے سے دور ہو گئے ہیں۔ ہم نے ایک دوسرے کو سننا چھوڑ دیا ہے، ایک دوسرے کو سمجھنا چھوڑ دیا ہے۔

    سوشل میڈیا کی اس تیز رفتار دنیا میں ہم لفظوں کے تیر چلاتے ہیں، اور بھول جاتے ہیں کہ یہ تیر کسی کے دل کو زخمی کر سکتے ہیں۔ ہم اختلاف کو دشمنی سمجھ بیٹھے ہیں، حالانکہ اختلاف تو سوچ کی وسعت کی علامت ہوتا ہے، نفرت کی نہیں۔
    لیکن… ابھی سب کچھ ختم نہیں ہوا۔
    ابھی اس قوم کے دل میں وہ روشنی باقی ہے جو اسے پھر سے جوڑ سکتی ہے۔

    جب سیلاب آتا ہے تو یہی لوگ ایک دوسرے کے لیے سہارا بن جاتے ہیں۔ جب زلزلہ زمین کو ہلاتا ہے تو یہی ہاتھ ایک دوسرے کو تھام لیتے ہیں۔ جب کوئی بھوکا ہوتا ہے تو یہی لوگ اپنا نوالہ بانٹ دیتے ہیں۔ یہی وہ لمحے ہوتے ہیں جب ہم حقیقت میں بنیانِ مرصوص بن جاتے ہیں۔
    تو پھر سوال یہ ہے کہ ہم اس جذبے کو صرف مشکل وقت تک محدود کیوں رکھیں؟ کیوں نہ اسے اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں؟
    ہمیں اپنے اندر جھانکنا ہوگا۔ ہمیں اپنی انا کو توڑنا ہوگا اور دلوں کو جوڑنا ہوگا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ایک قوم کی اصل طاقت اس کا اتحاد ہوتا ہے، نہ کہ اس کے وسائل۔

    ہماری نئی نسل ہماری سب سے بڑی امید ہے۔ اگر ہم ان کے دلوں میں محبت، برداشت اور اتحاد کا بیج بو دیں، تو وہ ایک ایسا کل تعمیر کریں گے جہاں نفرت کی کوئی جگہ نہیں ہوگی۔
    آج وقت ہمیں پکار رہا ہے…
    آج تاریخ ہمیں دیکھ رہی ہے…
    آؤ ایک عہد کریں۔۔۔
    کہ ہم نفرت کو ختم کریں گے،
    کہ ہم محبت کو فروغ دیں گے،
    کہ ہم ایک دوسرے کا سہارا بنیں گے،
    اک ہوں تو بن جاتے ہیں دریا بھی سمندر
    بکھری ہوئی بوندوں کا کوئی نام نہیں ہوتا
    جب ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ کو تھام لیتا ہے، تو کمزوری طاقت میں بدل جاتی ہے۔
    جب ایک دل دوسرے دل کے لیے دھڑکتا ہے، تو فاصلے مٹ جاتے ہیں۔
    اور جب پوری قوم ایک ہو جائے… تو وہ ناقابلِ شکست بن جاتی ہے۔
    آئیے… ہم پھر سے خود کو پہچانیں۔
    آئیے… ہم پھر سے ایک ہو جائیں۔
    آئیے… ہم دنیا کو دکھا دیں کہ ہم بکھرے ہوئے نہیں، جڑے ہوئے ہیں۔
    کیونکہ ہمارا ایمان، ہماری تاریخ اور ہمارا ضمیر گواہ ہے۔۔۔
    ہم وہ قوم ہیں جو آزمائش میں نکھر جاتی ہے،
    ہم وہ دیوار ہیں جو گرتی نہیں، مضبوط ہوتی ہے،
    ہم تھے، ہم ہیں، اور ہم ہمیشہ رہیں گے۔۔۔
    ہم بنیانِ مرصوص ہیں۔

  • ہم بنیان مرصوص ہیں ،تحریر: سیدہ تہمینہ عروج

    ہم بنیان مرصوص ہیں ،تحریر: سیدہ تہمینہ عروج

    قرآن پاک میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے ،
    بےشک اللہ ان مجاہدوں کو دوست رکھتا ہے ،جو اس کی راہ میں یوں صف بستہ ہو کر جنگ کرتے ہیں کہ گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں

    قرآن مکمل حق ہے ،اس کے الہامی کلام ہونے میں کوئی شک نہیں لہذا اس کی یہ آیت بھی سچ ثابت ہوئی جب جب کفر نے حق پر حملہ کیا تو جیت حق کی ہوئی ۔ مٔئی 2025 میں ہونے والا معرکہ حق وہ معرکہ وہ جنگ جب پاکستان کے ازلی اور بزدل دشمن جس نے آج تک پاکستان کے قیام کو دل سے تسلیم نہیں کیا اپنی بزدلانہ روایت برقرار رکھتے ہوئے رات کے اندھیرے میں چھپ کر حملہ کیا تو پاک فوج کا ہر جوان بنیان مرصوص بن کر فجر کے اُجالے میں دشمن پر قہر بن کر ٹوٹا اور پھر دنیا بھر نے انڈیا کے صرف رافیل طیارے کی نہیں بلکہ اس کی نام نہاد فوجی طاقت کے دعوی اور برتری کے غرور کو آسمان سے زمین پر گرتے دیکھنا بھارت کی دفاعی طاقت کا بھرم ریت کی دیوار ثابت ہوا ،دنیا بھر میں بھارتی حکومت کو رسوائی کا سامنا کرنا پڑا ۔وہ بھارت جو پاکستان میں پراکسیز کے ذریعے قومی سلامتی کو کمزور کرنے کی سازش کر رہا تھا ۔پاکستان کو فروعی ،فرقہ وارانہ علاقائی صوبائی اور سیاسی اختلافات میں الجھا کر اپنے مذموم مقاصد کو حاصل کرنا چاہتا تھا ۔اس جنگ نے پوری قوم کو ایک کر دیا ۔خیبر سے کراچی تک ہر پاکستانی کی زبان پر ایک ہی نعرہ تھا ۔ہم بنیان مرصوص ہیں ۔اس معرکہ حق میں صرف پاک فوج ہی نہیں بلکہ پوری قوم کی دل یک زبان ہو کر دشمن کے سامنے بنیان مرصوص بن کر کھڈی ہو گئی ۔اس وقت قوم کو نہ تو یہ یاد تھا کہ اس کا تعلق کس مذہب فرقے علاقے سیاسی جماعت صوبے یا زبان سے ہے ۔یاد تھا تو صرف یہ کہ ہم صرف ایک قوم ہیں اور ہماری پہچان پاکستان ہے۔اور انڈیا نے ہمیں تر نوالہ اور اپنی زیر قبضہ ریاست سمجھتے ہوئے ہم پر حملہ کرنے کی جرات کی ہے اس کے لئے اسے ایسا سبق سکھایا جائے کہ آئندہ بھارت کبھی بھی ہماری طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی کوشش نہ کرے ۔اسے یہ معلوم ہو جائے کہ ہم ایک آزاد ریاست اور خودمختار قوم ہیں ۔۔۔ہم بنیان مرصوص ہیں

    جس سے ٹکرانے والا خود پاش پاش ہو جاتا ہے ہم امن کے داعی اور علمبردار ہیں۔اقوام متحدہ کے امن مشن میں پاک فوج کا قابل ذکر کردار اور قربانیاں اس کی مثال ہیں ۔لیکن اگر ہم پر جارحیت مسلط کی جائے تو ہم بنیان مرصوص ہیں ۔ہم مومن ہیں جو موت سے نہیں ڈرتے دوستوں کے لئے جان دیتے ہیں اس دنیا میں اپنے سبز ہلالی پرچم کو اپنے پر امن اقدامات کے ذریعے سربلند رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔اپنی سرزمین کا تحفظ کرنا جانتے ہیں جو ہمارا اولین فرض ہے ۔ہم اپنی سر زمین نہ تو دوسرے ممالک کی سلامتی کے خلاف استعمال کرتے ہیں اور نہ استعمال کرنے کی اجازت دیتے ہیں ۔ہم یہ نہیں چاہتے کہ کسی اور ملک کی سرزمین ہمارے خلاف استعمال ہو ہم حالت امن میں شبنم اور جنگ مسلط ہونے پر آگ ہیں ہم بنیان مرصوص ہیں ۔اقبال نے ہمارے لیے ہی کہا تھا
    ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
    رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن

    اس تاریخی معرکہ میں تینوں مسلح افواج نے اپنی دفاعی صلاحیت اور پروفیشنل تربیت کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہوئے دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ۔عالمی میڈیا پاکستان کی بہترین دفاعی صلاحیت اور جنگی حکمت عملی کے گن گاتا رہا جس نے چند گھنٹوں میں جنگ کا فیصلہ کرتے ہوئے انڈیا کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ۔قوم کا ہر فرد افواج کے شانہ بشانہ اپنے اپنے محاذ پر لڑی رہے تھے ۔نوجوان ہیکرز نے بھارت کی حساس دفاعی معلومات اور تنصیبات کے سسٹم کو پیک کر کے سائبر سیکیورٹی اور آی ٹی کی فیلڈ میں اپنی دھاک بٹھاتے ہوئے روایتی جنگ کے اصولوں اور طریقوں کو بدل دیا ۔اس جنگ کو فوج اور عوام نے روایتی جوش اور جذبے سے لڑا لیکن جنگ میں غیر روایتی طریقوں کو متعارف کروا کے روایتی جنگ کی تاریخ کو بدلتے ہوئے دفاعی ماہرین کو داد دینے پر مجبور کر دیا ۔دنیا بھر کی حکومتیں اپنے اپنے ملکوں میں ہونے والی غیر روایتی سرگرمیوں اور دہشت گردی کو روکنے کے لیے پاک فوج کی تربیت اور مہارت سے استفادہ حاصل کرنے کے لیے رابطے کیا اس معرکہ حق نے واقعی حق کو فتح یاب کیا۔پاک فوج اور عوام نے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کی رحمت و برکت سے دشمن کو شکست فاش دی ۔انڈیا اب کسی بھی معرکہ یا ایڈونچر سے پہلے سو بار سوچے گا اور اس معرکہ کو ہمیشہ یاد رکھے گا۔کیونکہ اسے معلوم ہے کہ یہ قوم کسی بھی مشکل گھڑی میں اندرونی اختلافات کو بھلا کر بیرونی خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک ہو جاتی ہے۔ جس قوم کا نصب العین ایمان اتحاد اور یقین محکم ہو اسے شکست دینا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے ۔دشمن ہمیں کبھی بھی الگ نہیں کر سکتا اور نہ ہی باطل حق پر غالب آ سکتا ہے ۔کیونکہ ہم زندہ قوم ہیں ۔ہم خالد کی یلغار ہیں اور طارق کی تلوار ہیں ۔ہم حیدر کرار ہیں ۔ہمیں کوی شکست نہیں دے سکتا کیونکہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہم بنیان مرصوص ہیں

  • ہم ہیں بنیانِ مرصوص،تحریر: مبشر حسن شاہ

    ہم ہیں بنیانِ مرصوص،تحریر: مبشر حسن شاہ

    اسلامی جمہوریہ پاکستان… ایک ایسا وطن جسے اللہ تعالیٰ نے بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ ان نعمتوں میں سب سے قیمتی نعمت وطن سے محبت ہے۔ یہی وہ جذبہ ہے جو ہر آزمائش میں اس قوم کو ایک لڑی میں پرو دیتا ہے۔

    جب بھی وطنِ عزیز دشمن کی نظرِ بد کا نشانہ بنا، تاریخ نے یہ منظر بارہا دیکھا کہ قوم اور فوج ایک جان، دو قالب بن گئے۔ شہداء کے لہو سے لکھی گئی داستانیں اس بات کی گواہ ہیں کہ یہ سرزمین محض مٹی نہیں ,یہ ایک سیسہ پلائی دیوار ہے، جسے کوئی طاقت توڑ نہیں سکتی۔

    یہ وطن صرف بیرونی دشمنوں کا ہی نشانہ نہیں بنا، بلکہ اندرونی سازشوں نے بھی اسے کمزور کرنے کی کوشش کی۔ ایسے میں سوال یہ تھا .کیا ہم بکھر جائیں گے… یا پھر پہلے سے زیادہ مضبوط ہو جائیں گے؟ جواب تاریخ کے اوراق پر بھی لکھا ہے اور حال کے منظر نامہ پر بھی

    جنوبی وزیرستان کی وادیوں میں جب بے گناہ شہریوں کا خون بہایا گیا، تو خاموشی نہیں چھائی بلکہ آپریشن المیزان کی صورت میں انصاف کا ترازو حرکت میں آیا۔ ظالم کے خلاف مظلوم کا پلڑا بھاری کیا گیا۔
    پھر وقت نے ایک اور کروٹ لی…

    سوات اور مالاکنڈ کی حسین وادیوں میں نام نہاد حق کے علمبرداروں نے سر اٹھایا۔ خوف کے سائے گہرے ہوئے، مگر اسی لمحے راہِ حق پر چلنے والے میدان میں اترے۔اور پھر آپریشن راہِ راست نے نہ صرف دہشت کی جڑیں کاٹیں بلکہ زندگی کو پھر سے مسکرانے کا موقع دیا۔

    دشمن، شکست پر شکست کھا کر بوکھلا چکا تھا…2008 میں باجوڑ اور جنوبی وزیرستان میں ایک بار پھر امن کا خون بہایا گیا۔ مگر اس بار جواب پہلے سے زیادہ سخت تھا۔آپریشن شیر دل نے دہشت گردی کے عفریت کو چیر کر رکھ دیا اور یہ ثابت کر دیا کہ
    "ہم جھکتے نہیں ہم بنتے ہیں بنیانِ مرصوص!”

    یہ جنگ مختصر نہ تھی
    کبھی ملاکنڈ، کبھی وزیرستان کہیں مختصر معرکے، تو کہیں طویل جدوجہد۔
    آپریشن ضربِ عضب (2014-2017) ایک ایسا باب ہے جس نے دہشت گردی کے نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑ کر رکھ دیا۔
    یہ صرف ایک آپریشن نہیں تھا ۔یہ ایک عزم تھا، ایک اعلان تھا کہ اب اس سرزمین پر خوف کا راج ختم ہوگا۔ مگر قربانیاں بھی کم نہ تھیں…
    ہر کامیابی کے پیچھے کسی ماں کا بیٹا، کسی بہن کا بھائی، کسی بچے کا باپ تھا،جو وطن پر قربان ہو گیا۔ مگر ان قربانیوں نے ایک حقیقت کو مزید واضح کیا:
    ہم واقعی بنیانِ مرصوص ہیں۔
    پھر فیصلہ ہوا کہ…
    اب صرف جنگ نہیں، مکمل رد ہوگا کیونکہ
    جب طے ہوا کہ ملک میں حد فساد ہے
    تو اسکا علاج فوج کا رد الفساد ہے
    یوں آپریشن ردالفساد (2017) کا آغاز ہوا۔یہ ملک بھر میں دہشت گردی کے بچے کھچے اثرات کو ختم کرنے کا عزم تھا۔ ایک ایسا مرحلہ جہاں امن کو مستقل بنیادوں پر قائم کرنا مقصد تھا۔
    وقت آگے بڑھا… خطرات نے بھی نئی شکلیں اختیار کیں۔
    2024 میں بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں ہونے والا آپریشن مرگ بر سرمچار اس بات کا ثبوت تھا کہ پاکستان نہ صرف اپنے اندر بلکہ اپنی سرحدوں سے باہر موجود خطرات پر بھی نظر رکھتا ہے۔
    اور پھر…

    جب بھارت نے جارحیت کی کوشش کی، تو اسے اندازہ ہوا کہ وہ صرف ایک فوج سے نہیں، بلکہ ایک قوم کی قوت ایمانی ٹکرا رہا ہے۔ ایسی قوم… جو ہر محاذ پر اپنی فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ یہی وہ لمحہ تھا جہاں تاریخ نے مہر ثبت کی:ہم صرف دعویٰ نہیں کرتے کہ ہم ثابت کرتے ہیں۔
    ہم ہیں بنیانِ مرصوص۔

    بعد ازاں عالمی سطح پر تیز رفتار واقعات کا تانتا بندھا۔ افغانستان کے بلا اشتعال حملے بڑھے تو پاکستانی فوج نے بلا تامل افغانستان کو فوری جواب دیا۔ جس زمین پر سوویت یونین ٹوٹی امریکہ ناکام رہا وہاں جب دشمن کا سامنا بنیان المرصوص سے ہوا تو چند دن میں سفید جھنڈے لہرا گئے۔ اسی دوران ایران امریکہ جنگ نے مشرق وسطی میں حالات گھمبیر کر دیے تو دنیا کو ایک اور روپ نظر آیا۔ ہم صرف جنگ کے میدان میں ہی مضبوط نہیں بلکہ ثالثی کا میدان سجانے کی بھی ہمت رکھتے ہیں اور فریقین کی حفاظت کرنا جانتے ہیں

    عالمی سطح پر اسے حد سمجھا گیا لیکن بنیان مرصوص کی حد اسے سے کہیں آگے تھی۔ یہ اس بنی کے امتی و آنچه در دعا طلب گردید ہیں جس کی ابتدا پر جبرائیل کی انتہا ہوئی تھی ۔ سیسہ پلائی دیوار نے ابھی مزید مضبوطی دکھانی تھی۔ دنیا میں ایسا پہلی مرتبہ ہوا کہ کسی ملک کا آرمی چیف ایکٹو وار زون میں اس شان سے گیا ہو کہ اس ملک کے روپوش و منتشر لوگ بھی سر عام باہر نکل سکیں۔ کسی بھی جنگی میدان میں ایسے جانے کے لیے لوہے کے اعصاب درکار ہوتے ہیں۔ پاکستانی فوج اور قوم نے قدم قدم پر صرف ثابت نہیں کیا بلکہ چیلنج کیا کہ اللہ کے کرم سے ہم بنیان مرصوص ہیں

  • ہم بنیان مرصوص ہیں ،تحریر:  ظفر اقبال ظفر

    ہم بنیان مرصوص ہیں ،تحریر: ظفر اقبال ظفر

    (ترجمہ)حقیقت یہ ہے کہ اللہ ان بندوں سے محبت کرتا ہے جو اس کے راستے میں اس طرح صف بنا کر لڑتے ہیں جیسے وہ سیسہ پلائی ہوئی عمارت ہوں۔محب الوطنی کا آب حیات پی کر پاک فوج کو سیسہ پلائی عمارت بنانے والے خدا کے محبوب بندوں نے گائے کا پیشاب پینے والوں کو آپریشن بنیان مرصوص میں اپنی ایمانی ودفاعی طاقت و مہارت سے زلت آمیز شکست کی دھول چٹائی۔ جب بزدل دشمن اسلام و پاکستان نے خاموشی سے وار کرکے ہمارے جذبہ جہاد میں شہادت کے طلبگار شیروں کو نشانہ بنایا تو موت کے پہرے میں جینے والے پاک فوج کے دلیروں نے اعلانیہ للکار سے دشمن کی غلط فہمی کو عبرت ناک نصیحت میں بدل دیا۔

    اقتدار کی حوس میں سیاست کی بندوق سے اپنے ہی ملک کے وجود کو داغدار کرنے والے غرور و تکبر کے نشے میں مبتلا بھارتی وزیراعظم مودی نے پاک فوج کی فاتحانہ کاروائیوں کا اعتراف کرکے اپنی عوام و فوج کو پاکستانی قابلیت سے آگاہ کیا۔گائے کے پیشاب سے اپنے ضمیروں کو بدبودار رکھنے والوں کو پاک فضائیہ کے زم زم پینے والوں نے آسمانی مدد کا نظارہ کروایا۔پاک فضائیہ نے جو میزائل داغے ان کا نام فتح تھا فتح بھی قرآن پاک کی ایک آیات کا نام ہے جس کا نزول بھی اسی ماہ ذوالقعدہ میں ہوا یہ بھی دلچسپ بات ہے کہ آپریشن بنیان مرصوص میں حملے کا جو وقت متعین کیا گیا وہ بھی قرآن کی ہدایات کے تناظر میں تھا (ترجمہ) قسم ہے اُن لشکروں کی جو صبح کے وقت تاراج کرتے ہیں۔حملہ کرتے وقت جو اللہ کی واحدانیت کے نعرے لگائے گئے ان کی شہادت بھی صحیح بخاری سے ملتی ہے قرآن و سنت کو ہمراہ لے کر دشمن پر جو فتح خدا نے دی وہ پوری دنیا میں پاکستان کی عزت و بہادری اور دفاع کا معرکہ حق بن گئی۔

    اسلام و پاکستان اپنے دشمنوں کے بارے میں بھی جذبہ انسانیت رکھتے ہیں یہی وجہ تھی کہ ہمسایہ ملک کی عام عوام کو ناحق مارنے کی بجائے ان کی بدحواس طاقت کے ہوش ٹھکانے لگائے گئے جس میں یہ سبق دینا تھا کہ بے قصور عوام کو نشانہ بنانے کی بزدلی دیکھانا پاکستان کی فوج اور عوام کا معیار نہیں ہے۔ہم انسانی قدروں پر جینے والی پُر امن قوم ہیں جنہیں دشمن بھی غیر معیاری ملا جو پاکستان کی نفرت میں اپنی ہی جلائی ہوئی سیاسی آگ میں اپنی ہی عوام کو دھکیلنے کی حماقت کر رہا ہے ہم بنیان مرصوص ہیں جو اپنے ملک و عوام کے دفاع کے ساتھ ساتھ سیاسی دشمن کے ملک و عوام کو بھی جینے کی آزادی دینے پر یقین رکھتے ہیں۔

    ہم بنیان مرصوص انسانیت کے علمبردار ہیں ہمیں وہ دنیاقبول ہی نہیں جس میں اسلام و پاکستان کے لیے عزت و خود مختیاری نہ رکھی جائے ہمارے ایٹم بم اسی مقصد کے لیے بنے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کو قیامت تک اس زمین پر قائم رہنا ہے ہم بنیان مرصوص ہیں ہمیں دنیا بھر کے انسانوں کے لیے امن و عزت کا مرکز بننا ہے۔ہمارا یہ ایمان ہے کہ اس دنیا کے خالق نے اپنی زمین پہ رہنے کا حق صرف بنیان مرصوص والوں کو دیا ہے جس کی دلیل یہ ہے احترام انسانیت ان کے ایمان کا حصہ ہے ان کا کردار دعوت اسلام کی خوبصورت و سیرت شکل پر مبنی ہے ہم بنیان مرصوص والے اسلامیت پاکستانیت انسانیت کے دفاعی ترجمان ہیں شہادت ہماری ابدی حیات کی شروعات کا پہلا مرحلہ ہے اور دشمن کے لیے دنیا وآخرت میں خاتمے کا پہلا حادثہ ہے۔

    پاکستان کا رہنے والا ہر مسلمان خدا کا سپاہی ہے اپنی مقدس دھرتی کا نگہبان ہے۔پہلگام نامی من گھڑت صورتحال سے اپنی عوام کو گمراہ کرنے والے آپریشن سندور کے تخلیق کاروں نے بغض پاکستان میں رات کے اندھیرے میں حملے کرکے پاکستان کے دن کے اُجالے میں دئیے گئے جواب سے دنیا کو حیرت انگیز دفاعی منظر دیکھنے کا موقعہ دیا۔

    یہ بنیان مرصوص والے پاکستانی مسلمان ہیں جوہندوستان کی طرح فلمی گمراہی پھیلانے والی جھوٹی منظر کشی پر یقین نہیں رکھتے مگر حقیقت ایسی دیکھاتے ہیں کہ دنیا وی سپر پاور جیسے ملک کا صدر پاکستانی قابلیت کی شہادتیں دیتا ہے۔

    بنیان مرصوص معرکہ حق پر عملی طور پر یقین رکھنے والا پاکستان دنیا میں امن وسلامتی کاوہ سفیر ہے جس نے عالمی امن کے لیے نا صرف تنائج کن انتظامات کیے بلکہ مفاہمت و مذاکرات کے زریعے دنیا بھر کے انسانوں پر خطروں کے منڈلاتے بادلوں کو خوشگوار فضاء میں بدل کر انسانی حقوق کی پاسداری کاعملی نمونہ پیش کیا۔

    بنیان مرصوص میں معرکہ حق کے فاتحین کو خدا نے اپنے گھر مکہ مکرمہ اور سردار اُمت محمدیہ ؑ کے روضہ مقدس کی حفاظت کے لیے چن کر وہ اعزاز بخشا جو کسی اور اسلامی ملک کے مقدر میں نہیں آیایہ وہ آسمانی فیصلے ہیں جونہ صرف زمین پر عمل درآمد ہورہے ہیں بلکہ خدا کے محبوب بندوں کی سرزمین کی شہادت بھی دیتے ہیں۔دنیا اس ملک کی فوج کی گنتی سے واقف ہے مگر اس سے کئی گنا بڑی ایک عوامی فوج بھی اسی سرزمین پر بستی ہے جو بغیر تنخواہ کے اسلام کے نام پر اس دھرتی کا پہرہ دیتی ہے جو ہر محاز پراپنی پاک فوج کے کندھوں سے کندھے ملا کر پہلی صفوں میں کھڑے رہتے ہیں۔اسلام کے وجود کا محبوب حصہ پاکستان ہے پاکستان کی فوج ہی عوام ہے اور عوام ہی فوج ہے۔دشمن اسلام و پاکستان کے دلوں میں خدا نے ہمارا ہی خوف بیٹھایا ہوا ہے کیونکہ ہم بنیان مرصوص ہیں